تازہ ترین
کام جاری ہے...
Sunday, April 2, 2017

سرگودھا کے ایک مزار پر اندھی عقیدت اور جھالت کی بدترین مثال

April 02, 2017

سرگودھا ( روزنامہ دنیا ) سانحہ سرگودھا کے مرکزی ملزم عبدالوحید کے مریدین کا کہنا ہے کہ درگاہ میں مختلف نوعیت کا نشہ سر عام کیا جاتا ہے اور مرکزی ملزم سمیت اس کے تمام ساتھی اکثر و بیشتر نشے میں رہتے اور اسی حالت میں لوگوں کو گمراہ کرتے ، اس کے ساتھ ساتھ مریضوں کا غیر فطری طریقے سے علاج معالجہ کیا جاتا تھا ، متعدد مرتبہ یہاں سے مردو خواتین کو برہنہ حالت میں نکلتے ہوئے دیکھا گیا ، زیادہ تر مریدین علی محمد مرحوم سے عقیدت رکھتے تھے جس کی وفات کے بعد اس کی درگاہ پر ہونیوالی سرگرمیوں کے باعث یہاں آنیوالوں کی تعداد تیزی سے کم ہو رہی تھی ۔ پولیس ٹیم نے جب ملزمان کو طیش میں دیکھ کر پکڑنے کی کوشش کی تو انہوں نے سخت مزاحمت کرتے ہوئے اہلکاروں کو بھی مبینہ طور پر مارنے کی کوشش کی ۔ ان پولیس اہلکاروں کا کہنا تھا کہ ملزمان مکمل طور پر آپے سے باہر تھے اور ان کے سروں پر خون سوار تھا جنہوں نے ایک اہلکار کی وردی پھاڑنے کی بھی کوشش کی ، جس پر مزید نفری طلب کر کے ملزمان کو قابو کرنے کے ساتھ ساتھ کلہاڑی اور ڈنڈے وغیرہ بھی قبضے میں لے لئے ۔ قانون نافذ کرنیوالے ادارے اور پولیس مشترکہ طور پر پوچھ گچھ میں مصروف ہیں ۔ تخریب کاری کے تناظر میں بھی واقعہ کی چھان بین کرتے ہوئے پتا لگایا جا رہا ہے کہ ملزمان کا کسی کالعدم تنظیم سے تو تعلق نہیں ، اسی طرح گرفتار ملزمان سے تعلق رکھنے والے افراد سے بھی پوچھ گچھ شروع کر دی گئی ، مکینوں کا کہنا ہے کہ یہ دربار چونکہ آبادی سے ذرا ہٹ کر ہے ، صرف دم درود اور علاج کرانے والے ہی اس جانب رخ کرتے ہیں ، جس کی وجہ سے لوگوں کی اکثریت کو یہاں ہونیوالی سرگرمیوں کا علم نہیں جبکہ قریبی رہائشی افراد کا کہنا ہے کہ عام طور پر ڈھول کی تھاپ کے ساتھ ساتھ مرد و خواتین کی چیخ و پکار سنائی دیتی جس کی وجہ سے اطراف کے لوگ بالخصوص خواتین اور بچے سہم جاتے ، یہی نہیں یہاں تشدد کے ذریعے بھی مریضوں کا علاج معالجہ کیا جاتا تھا ۔ -

0 تبصرے:

Post a Comment

اس کے متعلق آپکی کیا رائے ہے ۔۔؟؟
کمنٹ بوکس میں لکھ دیں ،تاکہ دیگر لوگ بھی اسے پڑھ سکیں

اردو میں تبصرہ پوسٹ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کر دیں۔


 
فوٹر کھولیں‌/بند کریں