کتاب سیرت مصطفی لکھنے کا سبب مولانا عبد المصطفی اعظمی صاحب کی زبانی :

سیر ت المصطفی کتاب کی تالیف کی وجہ :
مولانا عبد المصطفی اعظمی صاحب اپنی کتاب سیرت المصطفی کے شروع میں لکھتے ہیں :
سبب ِتالیف:
اولاً: توخود ایک مدت دراز سے یہ نیک تمنا میرے دل کی گہرائیوں میں موجزن رہتی تھی کہ میں اپنے قلم سے حضور رحمت عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی حیات طیبہ اورآپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی مقدس زندگی پرکوئی کتاب لکھ کر ان بزرگان ملت کا کفش بردار بن جاؤں جنہوں نے سیرت نبویہ کی تصنیف وتالیف میں اپنی عمروں کا سرمایہ صرف کر کے ایسی تجارت آخر ت کی کہ اس کے نفع میں انہیں ''رضی اللہ عنہم ورضوا عنہ'' کی دولت دارین کا خزانہ مل گیا۔ (یعنی اللہ تعالیٰ ان سے خوش ہوگیا اور وہ اللہ تعالیٰ سے خوش ہوگئے ۔)
پھر مزید برآں میری تصنیفات کے قدردانوں نے بھی باربار تقاضا کیا کہ سیرت مبارکہ کے مقدس موضوع پر بھی کچھ نہ کچھ آپ ضرور لکھ دیں اوران کرم فرماؤں کا یہ مخلصانہ اصرار اس حد تک میرے سر پر سوارہوگیا کہ میں اس سے انکارو فرار کی تاب نہ لاسکا۔
پھر ''سمندنازپہ اک اورتازیانہ ہوا''کہ اغیار نے بار بار یہ طعنہ مارا کہ علمائے اہل سنت محبت رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کا دعویٰ تو کرتے ہیں مگر اردوزبان میں سیرت نبویہ کے موضوع پر ان لوگوں نے بہت ہی کم لکھا ،برخلاف اس کے ملک کی دوسری جماعتوں کے قلمکاروں نے اس موضوع پر اس قدر زیادہ لکھا کہ اردو کتابوں کی مارکیٹ میں سیرت کی بہت کتابیں مل رہی ہیں جو سب انہی لوگوں کے زور قلم کی رہین منت ہیں۔
یہ ہیں وہ اسباب ومحرکات جن سے متاثر ہوکر اپنی نااہلی اورعلمی سرمایہ سے افلاس کے باوجود مجھے قلم اٹھانا پڑااور کثرت کاروہجوم افکار کے محشر ستاں میں اپنی گوناگوں مصروفیات کے باوجود چند اوراق کا یہ مجموعہ پیش کرنا پڑا۔
اس کتاب کو میں نے حتی الامکان اپنی طاقت بھر جاذب قلب ونظر اورجامع ہونے کے ساتھ مختصر بنانے کی کوشش کی ہے اب یہ فیصلہ ناظرین کرام کی نگاہ نقدونظر کا دست نگر ہے کہ میں اپنی کوششوں میں کسی حد تک کامیاب ہوا یا نہیں ؟
سبق :
افسوس آج بھی ہماری کتب کی تعداد دیگر سے بہت ہی کم ہے ،انٹرنیٹ پر تو ہماری کتب نہ ہونے کے برابر ہیں ۔