مال خرچ کرنے کی ترتیب یہ ھونی چاھیے:

خرچ کرنے کی ترتیب یہ ھونی چاھیے:
نبی کریم علیہ السلام نے اس حدیث مبارکہ میں خرچ کرنے کی ترتیب بیان فرمائی ھے .
ھم اس حدیث کا ترجمہ کرنے سے قبل آسان الفاظ میں اس ترتیب کو بیان کر دیتے ھیں.
تاکہ عام لوگوں کو سمجھنے میں آسانی ھو .
مسلمان کے خرچ کی ترتیب یہ ھونی چاھیے:
پھلے والدہ پر خرچ کرے.
پھر والد پر .
پھر اپنے نفس پر اور گھر کے ان لوگوں پر خرچ کرے ،جن کا نان ،نفقہ اس پر واجب ھے ،جیسے بیوی ،بچے وغیرہ
پھر باقی محتاج رشتہ داروں پر خرچ کرے.
پھر نفلی صدقات و خیرات میں خرچ کرے.

اب ھم حدیث شریف بمع ترجمہ آپ کے سامنے پیش کرتے ھیں .
حدیث شریف:
"أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِخَمْسَةِ دَنَانِيرَ؟
أَفْضَلُهَا دِينَارٌ أَنْفَقْتَهُ عَلَى وَالِدَتِكَ
وَدِينَارٌ أَنْفَقْتَهُ عَلَى وَالِدِكَ
وَدِينَارٌ أَنْفَقْتَهُ عَلَى نَفْسِكَ وَعِيَالِكَ
وَدِينَارٌ أَنْفَقْتَهُ عَلَى ذِي قَرَابَتِكَ
وَأَخَسُّهَا وَأَقَلُّهَا أَجْرًا، دِينَارٌ أَنْفَقْتَهُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ"

کیا میں تمھیں پانچ دیناروں کے متعلق نہ بتاؤں.؟؟
ان میں سے افضل وہ دینار ھے ،جو تم اپنی والدہ پر خرچ کرو.
اور وہ دینار ھے،جو تم اپنے والد پر خرچ کرو .
اور وہ دینار ھے ،جو تم اپنی جان اور اپنے خاندان پر خرچ کرو .
اور وہ دینار ھے ،جو تم اپنے قرابت داروں پر خرچ کرو .
سب سے کم اجر والا وہ دینار ھے ،جو تم اللہ کی راہ میں خرچ کرو .

"البر و الصلۃ،علامہ ابن الجوزی،ج1،ص82"

نوٹ:
پھلے جن پر خرچ کرنا ضروری ھے ،ان پر خرچ کیا جائے ،پھر اللہ کی راہ میں دیا جائے .
ایسا نہ ھو کہ
بیوی ،بچے بھوک سے مر رھے ھوں،اور گھر کا سربراہ اولڈ ھاوس بنا رھا ھو  .
البتہ جس شخص پر زکوۃ واجب ھے ،اسے زکوۃ دینی ھو گی،اگرچہ وہ کنجوسی کی وجہ سے اپنے گھر والوں پر خرچ نہ کرتا ھو .