عالم کی تعریف ،عالم دین کسے کھتے ہیں ،عالم دین کون ہوتا ہے؟



عالم دین کون ہوتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔؟
علامہ غلام رسول سعیدی صاحب لکھتے ہیں :
عالم دین وہ شخص ہے جس کو اللہ تعالی کی ذات اور صفات کا علم ہو
اور اس کو علم ہو کہ کن چیزوں سے اللہ تعالی کی تنزیہ واجب ہے
اسی طرح اس کو انبیاء علیھم السلام اور ان کے مراتب اور ان کی صفات کا علم ہو
اور اس کو علم ہو کہ مکلف پر کیا چیزیں فرض ہیں اور کیا چیزیں واجب ہیں
اور اس کو سنن اور مستحبات اور مباحات کا علم ہو
اس کو معلوم ہو کیا چیزیں حرام ہیں اور کیا مکروہ تحریمی اور کیا مکروہ تنزیہی ہیں اور کیا خلاف ِ اولی ہیں
اور وہ علم کلام اور عقائد ،علم تفسیر ،علم حدیث اور علم فقہ و اصول فقہ پر عبور رکھتا ہو
علم صرف ،علم نحو ،علم معانی اور علم بیان کا ماہر ہو
اور وہ بہ قدر ضرورت مفرادات لغت کا حافظ ہو
اور اس میں اتنی صلاحیت ہو کہ اس سے دین کے جس مسئلہ کا بھی سوال کیا جائے وہ اس کا جواب دے سکے ،خواہ وہ جواب اس کو مستحضر ہو یا وہ کتب متعلقہ سے از خود اس کو تلاش کر سکے ۔
اور جو شخص ان صفات کا حامل نہیں ہے ،وہ عالم دین کہلانے کا مستحق نہیں ہیں
کیونکہ اگر اس کو صرف اور نحو پر عبور نہیں ہے تووہ احادیث کی عربی عبارت صحیح نہیں پڑھ سکتا اور اگر عبارت غلط پڑھے گا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف اس قول کو منسوب کرے گا ،جو آپ نے نہیں فرمایا
اور اگر وہ بہ قدر ضرورت مفرادات لغت کا حافظ نہیں ہے اور علم معانی اور بیان پر دسترس نہیں رکھتا ،تو وہ قرآن مجید کی آیات اور احادیث کا صحیح ترجمہ نہیں کر سکتا
اور اگر اس کو علم کلام اور علم تفسیر اور حدیث پر عبور نہیں ہے ،تو وہ عقائد کو صحیح بیان نہیں کر سکتا ہے،اور نہ صحیح عقائد پر دلائل قائم کر سکتا ہے ،اور نہ باطل فرقوں کا رد کر سکتا ہے
اور اگر فقہ پر عبور نہیں ہے ،تو وہ حلال اور حرام کے احکام کو جان سکتا ہے نہ بیان کر سکتا ہے
سو ایسا شخص عالم دین کس طرح ہو گا ،اور اس پر عالم دین کا اطلاق کرنا جائز نہیں ہے ۔
(تفسیر تیبان القرآن ،ج٩،ص ٨٤)