حجاز کو حجاز کھنے کی وجہ :

ملک عرب اور حجاز :
یہ ملک کے مغربی حصہ میں بحر احمر(بحیرہ قلزم)کے ساحل کے قریب واقع ہے ۔ حجاز سے ملے ہوئے ساحل سمندر کو جو نشیب میں واقع ہے ''تہامہ''یا ''غور'' (پست زمین)کہتے اور حجاز سے مشرق کی جانب جو ملک کا حصہ ہے وہ ''نجد'' (بلند زمین)
کہلاتا ہے۔ ''حجاز''چونکہ ''تہامہ ''اور''نجد''کے درمیان حاجز اور حائل ہے ا سی لئے ملک کے اس حصہ کو ''حجاز ''کہنے لگے ۔ (دول العرب والاسلام )
حجاز کے مندرجہ ذیل مقاما ت تاریخ اسلام میں بہت زیادہ مشہور ہیں۔
مکہ مکرمہ ، مدینہ منورہ ، بدر ، احد ، خیبر، فدک، حنین، طائف ، تبوک ، غدیر خم، وغیرہ ۔
حضرت شعیب علیہ السلام کا شہر ''مدین ''تبوک کے محاذ میں بحراحمر کے ساحل پر واقع ہے۔
مقام ''حجر ''میں جووادی القریٰ ہے وہاں اب تک عذاب سے قوم ثمود کی الٹ پلٹ کردی جانے والی بستیوں کے آثار پائے جاتے ہیں۔ ''طائف '' حجاز میں سب سے زیادہ سرد اورسرسبز مقام ہے اوریہاں کے میوے بہت مشہور ہیں۔