صلہ رحمی اور حسن سلوک کا زیادہ حقدار کون ھے..؟؟

زیادہ حقدار کون ھے..؟؟
لوگوں کے ساتھ نیکی،صلہ رحمی اور حسن سلوک کے معاملے میں یہ ترتیب ضرور ذھن میں رکھنی چاھیے:
نبی کریم علیہ السلام نے اس حدیث شریف میں ان لوگوں کا بالترتیب ذکر کیا ھے .
جو صلہ رحمی اور حسن سلوک کے زیادہ حق دار ھیں .
ھم حدیث شریف کے ترجمہ سے پھلے اس ترتیب کو آسان الفاظ میں ذکر کر دیتے ھیں
تاکہ سمجھنے میں آسانی ھو  .
حسن سلوک ،نیکی اور صلہ رحمی کی سب سے زیادہ حقدار ماں ھے .
اسی وجہ سے نبی کریم علیہ السلام نے اس کے حق کو سب سے پھلے ذکر کیا اور وہ بھی تین مرتبہ .
پھر باپ سب سے زیادہ حقدار ھے .
پھر سب سے قریبی رشتہ دار ..پھر اس کے بعد قریبی ...پھر اس کے بعد درجہ بدرجہ دوسرے رشتہ دار

اب ھم حدیث شریف بمع ترجمہ ذکر کرتے ھیں:
حدیث شریف:
"‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏مَنْ أَبَرُّ ؟ قَالَ:‏‏‏‏    أُمَّكَ   ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قُلْتُ:‏‏‏‏ ثُمَّ مَنْ ؟ قَالَ:‏‏‏‏    أُمَّكَ   ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قُلْتُ:‏‏‏‏ ثُمَّ مَنْ ؟ قَالَ:‏‏‏‏    أُمَّكَ   ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قُلْتُ:‏‏‏‏ ثُمَّ مَنْ ؟ قَالَ:‏‏‏‏    ثُمَّ أَبَاكَ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ الْأَقْرَبَ، ‏‏‏‏‏‏فَالْأَقْرَبَ "
ترجمہ:
یا رسول اللہ !
میں کس کے ساتھ سب سے زیادہ نیک سلوک اور صلہ رحمی کروں؟
آپ نے فرمایا:
”اپنی ماں کے ساتھ“

میں نے عرض کیا:
پھر کس کے ساتھ؟
فرمایا:
”اپنی ماں کے ساتھ“

میں نے عرض کیا:
پھر کس کے ساتھ؟
فرمایا:
”اپنی ماں کے ساتھ“

میں نے عرض کیا:
پھر کس کے ساتھ؟
فرمایا:
”پھر اپنے باپ کے ساتھ

پھر سب سے قریبی رشتہ داروں کے ساتھ
پھر اس کے بعد  قریبی رشتہ داروں کے ساتھ
پھر اس کے بعد  درجہ بدرجہ

"سنن ترمذی"

نوٹ:
ھمارا یہ حدیث شریف ذکر کرنے کا مقصد ان لوگوں کو  سمجھانا تھا
جو دور کے رشتہ داروں کے ساتھ تو نیکیاں کرتے ھیں ،لیکن اپنے والدین کو دکھ اور تکلیفیں  پہنچاتے ھیں .
یا انھیں بالکل اھمیت نھیں دیتے.