تازہ ترین
کام جاری ہے...
Saturday, April 15, 2017

مشال خان یا مشعال خان کے کیس کی حقیقت

April 15, 2017

مشال خان کی حقیقت
روزنامہ اوصاف
15 اپریل
قتل ہونے والا مشال خان خود کو خدا کہتا تھا ، اور رسول کریم ؐ کو نعوز باللہ ۔۔۔
یونیورسٹی کے سٹوڈنٹ نے حقیقت کھول دی

اسلام آباد (روز نامہ اوصاف) محمد شبیر جو کہ یونیورسٹی کا طالب علم ہے حقیقت قتل کے واقعہ کی حقیقت بیان کرتے ہوئے کہتا ہے کہ ولی خان یونیورسٹری مردان میں قتل ہونے والے طالب علم مشال خان ولد اقبال شاعر صوابی کا رہنے والا تھا اور اسکا تعلق یوسفزئی قبیلے سے تھا-!
مقتول ولی خان یونیورسٹری میں جنرزلزم اور ماس کمیونیکیشن کا طالب علم تھا---! جبکہ اس نے پشاور سے پری انجیرئنگ میں انٹر بھی کر رکھا تھا
اور سیول انجیرئنگ کی تعلیم کیلئے روس میں بھی اسکا قیام رہ چکا ہے-!
یہ مقتول کی بنیادی معلومات ہیں
اور حقائق یہ ہیں کہ جب اس قتل کی خبر بریک ہوئی کہ ایک نہتے شخص کو درجنوں طلباء نے بے دردی سے قتل کردیا تو مجھے بہت رنج ہوا۔
اسکے فورا بعد نام نہاد دانشوران،لبرلوں، لبرل مولویوں،قوم پرستوں، سیکولرز اور ملحدین نے مقتول کی وکالت شروع کردی۔!" مقتول نظریاتی طور پر انتہائی متعصب قوم پرست اور کمیونسٹ تھا۔
مذھب سے اسکا لگاو روس میں تعلیم کے دوران ہی ختم ہو گیا تھا۔
اکثر اسلام کے خلاف گستاخانہ ریمارکس پاس کرتا تھا جب کہ اسلام پسند طلباء کو چڑانے کیلئے خدا کی ذات کا انکار کرتا
اور کئی بار خود کو "خدا" بھی کہہ چکا تھا۔
یونیورسٹری میں چرس اور شراب نوشی کیلئے مقتول مشہور تھا
اور اسکے باپ نے اس کی بے مذہبی و بے راہ روی سے تنگ آکر اسے گھر سے نکال دیا تھا جبکہ وہ چھپ چھپ کر ماں سے ملنے جاتا تھا۔
اسکے باوجود اس کے پاس ہر وقت 40 سے 50 ہزار کیش رہتا تھا،جبکہ مقتول کوئی نوکری نہیں کرتا تھااور گھر سے اسکا خرچہ بند تھا۔
مشال جنرلزم ڈیپارٹمنٹ کے 2 ساتھی طلباء عبداللہ اور زبیر کی ساتھ مل کر اسلام و محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف بدترین گستاخی کی
جس پر طلباء نے یونیورسٹری انتظامیہ کو اس واقعے کی شکایت کی ،جس نے جمعرات مورخہ 13 اپریل کو نوٹفیکیشن کے ذریعے ان تینوں طلباء پر لگائے گئے
الزام کی تحقیقات کیلئے کمیٹی تشکیل دینے کا اعلان کیا اور اس کمیٹی کے فیصلے کے آنے تک تینوں کے یونیورسٹری میں داخلے پر پابندی لگا دی۔
مگر مشال اور اسکا ساتھی عبداللہ طلباء تنظیم PSF کے مقامی عہدے دار کی شہہ پاکر نوٹفکیشن جاری ہونے کے کچھ ہی دیر بعد طلباء کو چڑانے یونیورسٹری پہنچ گئے
اور PSF کے کارکن طلباء کے ساتھ مل کر ہوٹنگ کرنے لگے جس پر پہلے سے مشتعل طلباء نے انکو گھیر لیا۔
اس دوران PSF کے کارکنان کھسک گئے اور پھر جو ہوا وہ سب نے دیکھا"۔
اسلام پسندوں نے پہلے قانونی کارروائی کی لیکن کوئی نتیجہ نہ نکلا۔ یہ گستاخ رسول، گستاخ اسلام اور وطن دشمن تھا ۔
سزا دینا عدالتوں کا کام ہے لیکن اگر عدالتیں اپنا کام کرتیں تو لوگ قانون ہاتھ میںنہ لیتے ۔

0 تبصرے:

Post a Comment

اردو میں تبصرہ پوسٹ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کر دیں۔


Translate in your Language

LinkWithin

Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...
 
فوٹر کھولیں‌/بند کریں