سوال کی اھمیت

سوال:
نبی کریم علیہ السلام بھی صحابہ کرام سے سوال پوچھا کرتے تھے
کبھی اس کا مقصد ان کی پوری توجہ حاصل کرنا ھوتا تھا .
کبھی سامعین کی ذھنی سطح چیک کرنا ھوتا تھا .
اور کبھی دیگر حکمتیں ھوتی تھیں.

حدیث شریف میں ھے:
درختوں میں ایک درخت ایسا ہے کہ اس کے پتے نہیں جھڑتے
اور مسلمان کی مثال اسی درخت کی سی ہے۔
بتاؤ وہ کون سا درخت ہے؟
یہ سن کر لوگوں کا خیال جنگل کے درختوں کی طرف دوڑا۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنھما نے کہا:
میرے دل میں آیا کہ
وہ کھجور کا درخت ہے۔
مگر میں اپنی (کم عمری کی) شرم سے نہ بولا۔
آخر صحابہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہی سے پوچھا کہ وہ کون سا درخت ہے؟
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
وہ کھجور کا درخت ہے۔

‏  "إن من الشجر شجرة لا يسقط ورقها ،‏‏‏‏ وإنها مثل المسلم ،‏‏‏‏ فحدثوني ما هي ‏..؟؟
‏ فوقع الناس في شجر البوادي‏.‏ قال عبد الله ووقع في نفسي أنها النخلة ،‏‏‏‏ فاستحييت ثم قالوا حدثنا ما هي يا رسول الله قال هي النخلة"

"صحیح بخاری ،کتاب العلم"