Sunday, April 30, 2017

جس عمل پر فوت ھوگا ،اسی پر اٹھایا جائے گا

ہر وقت گناہ سے بچنا چاہیے،کیا خبر کس لمحے موت آجائے .
کیونکہ
نبی کریم علیہ السلام نے فرمایا:
"يُبْعَثُ كُلُّ عَبْدٍ عَلَى مَا مَاتَ عَلَيْهِ "
آدمی جس عمل پر فوت ھوتا ھے ،قیامت کے دن اسی عمل پر اٹھایا جائے گا.
"صحیح مسلم"

اور کوشش کریں
کوئی لمحہ بھی گناہ میں نہ گزرے ،بلکہ اپنے تمام اوقات نیکیوں میں گزاریں
اور یہ سلسلہ موت تک جاری رکھیں
کیونکہ
نبی کریم علیہ السلام نے فرمایا:
"انما الاعمال بالخواتیم"
اعمال کا دارومدار خاتمے پر ھے .

ساتھ ساتھ ہمیشہ اللہ تعالی سے دعا مانگتے رھیں کہ
اللہ تعالی ایمان پر خاتمہ فرمائے .
تحریر: احسان اللہ کیانی
#islam #hadees #amal #death #khtema

جب عذاب الھی نازل ھوتا ھے تو

کسی قوم پر عذاب الھی :
نبی کریم علیہ السلام نے فرمایا:
جب اللہ کا عذاب کسی قوم پر نازل ھوتا ھے
تو اس میں موجود تمام نیک و بد لوگوں کو پہنچتا ھے
پھر قیامت میں انھیں انکے اعمال کے مطابق جزا دی جائے گی .

"إِذَا أَنْزَلَ اللَّهُ بِقَوْمٍ عَذَابًا أَصَابَ الْعَذَابُ مَنْ كَانَ فِيهِمْ، ثُمَّ بُعِثُوا عَلَى أَعْمَالِهِمْ"

"بخاری ،مسلم"

توجہ طلب:
اس لیے ھمیں چاھیے کہ ھم ھر برائی سے لوگوں کو منع کرتے رھیں.
#islam #hadees #azab #naik #fasiq #bukhari #muslim #qayamt

امت محمدیہ پر صالحین کی موجودگی میں عذاب

صالحین اور عذاب:
نبی کریم علیہ السلام سے پوچھا گیا
"أَفَنُهْلَكُ وَفِينَا الصَّالِحُونَ؟"
کیا صالحین کی موجودگی میں بھی ھمیں ھلاک کر دیا جائے گا.
آپ علیہ السلام نے فرمایا:
" نَعَمْ، إِذَا كَثُرَ الْخَبَثُ»
جی ھاں
جب خبث زیادہ ھو جائے گا .
"بخاری و مسلم"

توجہ طلب:
خبث سے مراد
فسق ،فجور ،شرک وغیرہ ھے.
#islam #azab #bukhari #muslim #naik

فاسق کی امامت

فاسق کی امامت:
فاسق دو طرح کے ھوتے ھیں
اول: فاسق غیر مُعْلِن
دوم: فاسق معلن

دونوں ہی کی امامت مکروہ ھے
البتہ یہ فرق ھے

فاسق غیر معلن کی امامت مکروہ تنزیھی ھے
جبکہ فاسق معلن کی امامت مکروہ تحریمی ھے

فاسق کو امام نھیں بنانا چاھیے،
لیکن اگر وہ امام مقرر کر دیا جائے،تو اسکے پیچھے نماز کراھت کے ساتھ ھو جائے گا .

محیط برھانی میں ھے
فاسق اور بدعتی کے پیچھے نماز پڑھنے والا جماعت کا ثواب پالیتا ھے .
"من صلی خلف فاسق او مبتدع نال فضل الجماعۃ "

رد المحتار میں ھے
فاسق اور بدعتی کے پیچھے نماز پڑھنا ،اکیلے نماز پڑھنے سے بھتر ھے .
"افاد ان الصلوۃ خلفھما اولی من الانفراد"

نوٹ:
البتہ جس بدعتی کی بدعت حدِ کفر تک پہنچی ھو ،اسکے پیچھے نماز جائز نھیں.
واللہ اعلم بالصواب

تحریر: احسان اللہ کیانی
#namaz #islam #fatwa #fiqh #bidati #fasiq  #imamat

رونا اور ہنسنا شریعت کی نظر میں

ہنسنا اور رونا:
زیادہ ہنسنا غفلت اور مردہ دلی کی علامت ھے
جبکہ
زیادہ رونا خشیت اور زندہ دلی کی علامت ھے
اسی لیے
اللہ تعالی نے ھمیں حکم دیا ھے
قرآن کریم میں ھے:
"{فَلْيَضْحَكُوا قَلِيلًا وَلْيَبْكُوا كَثِيرًا}"
پس انہیں چاہیئے کہ وہ تھوڑا ہنسیں اور زیادہ روئیں.
[التوبة: ٨٢]
#islam #quran #rona #weeping #funny #shugli

زیادہ ھنسنا نھیں چاھیے

تم بھت زیادہ روتے:
نبی کریم علیہ السلام نے فرمایا:
اللہ کی قسم!
اگر تم اس (حساب اور عذاب کی شدت کو ) جانتے، جو میں جانتا ھوں
تو تم بھت زیادہ روتے
اور بھت کم ہنستے

"وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْ تَعْلَمُونَ مَا أَعْلَمُ، لَبَكَيْتُمْ كَثِيرًا وَلَضَحِكْتُمْ قَلِيلًا"
"رواہ البخاری"
#islam #hadees #azab #ansoo #hisab #rona

Friday, April 28, 2017

کامیابی توبہ میں ھے :قرآن کریم

کامیابی توبہ میں ھے:
قرآن کریم:
اے ایمان والو!
سب اللہ کی بارگاہ میں توبہ کرو
تاکہ تم کامیاب ھو جاؤ.
"{وَتُوبُوا إِلَى اللَّهِ جَمِيعًا أَيُّهَا الْمُؤْمِنُونَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ}"
[النور: ٣١]

#islam #quran #Allah #Tauba #kamyabi

سیکولر اور لبرل لوگوں کی صحبت سے بچیں

فورا اٹھ جائیں:
جب کوئی شخص اسلام یا قرآن کا مذاق اڑا رھا ھو،تو اگر آپ اسے روک سکتے ھیں،تو روکیں ،
ورنہ فورا اس کے پاس سے اٹھ جائیں.
کیونکہ ایسے اوقات میں ان پر اللہ کی لعنت نازل ھوتی ھے ،جس کیوجہ سے ان لوگوں کا ایمان سلب کر لیا جاتا ھے ،
یا ان کا خاتمہ ایمان پر نھیں ھوتا.

قرآن کریم میں ھے:
"اور جب تم ایسے لوگوں کو دیکھو جو ہماری آیتوں میں (کج بحثی اور استہزاء میں) مشغول ہوں
تو تم ان سے کنارہ کش ہوجایا کرو
یہاں تک کہ وہ کسی دوسری بات میں مشغول ہوجائیں
اور اگر شیطان تمہیں (یہ بات) بھلا دے
تو یاد آنے کے بعد تم (کبھی بھی) ظالم قوم کے ساتھ نہ بیٹھا کرو.

"وَ اِذَا  رَاَیۡتَ الَّذِیۡنَ  یَخُوۡضُوۡنَ فِیۡۤ  اٰیٰتِنَا فَاَعۡرِضۡ عَنۡہُمۡ حَتّٰی یَخُوۡضُوۡا فِیۡ حَدِیۡثٍ غَیۡرِہٖ ؕ وَ اِمَّا یُنۡسِیَنَّکَ الشَّیۡطٰنُ  فَلَا تَقۡعُدۡ بَعۡدَ  الذِّکۡرٰی  مَعَ الۡقَوۡمِ  الظّٰلِمِیۡنَ"
"الانعام:68"

#Quran #islam #mazaq #Toheen #secular #speech #lecture #books #websites #friends

چین میں محمد اور فاطمہ وغیرہ نام رکھنے پر پابندی

چین میں محمد ،فاطمہ وغیرہ نام  رکھنے  پر پابندی لگا دی گئی ھے .
پتا ھے کیوں دھشت گردی روکنے کے لیے
صرف یھی نھیں بلکہ بھت سے دیگر نام رکھنے پر بھی پابندی لگا دی گئی ھے
یہ خبر دل پر ھاتھ رکھ کر پڑھیے
اور افسوس کیجیے

خبر:

چین کے نیم خود مختار علاقے سینکیانگ  میں مسلمانوں  پر محمد نام رکھنے کی پابندی لگا دی گئی ہے ۔

اس سرکاری فیصلے کا مقصد  انتہا پسندی کی روک تھام کرنا  اور جس نے بھی اپنے نام کے ساتھ محمد لگایا  اس کا اندراج  شناختی کارڈ پر نہیں ہوگا۔

اس کے علاوہ دیگر نام بھی ممنوعہ فہرست میں شامل کیے گئے ہیں جن میں ،
عائشہ،فاطمہ،خدیجہ،مجاہد،جہاد،طالب،امام،مسلمہ ،مجاہد،سمیہ ،نصر اللہ،ترک ناز،ترک ذات،حاجی،عرفات،مدینہ،شمس الدین،سیف اللہ،عبدالعزیز،اسد اللہ اور مخلصہ
بھی شامل ہیں ۔

#China #pakistan #muhammad #ayesha #fatima #islam #terrorist #terrorism

سوال کی اھمیت

سوال:
نبی کریم علیہ السلام بھی صحابہ کرام سے سوال پوچھا کرتے تھے
کبھی اس کا مقصد ان کی پوری توجہ حاصل کرنا ھوتا تھا .
کبھی سامعین کی ذھنی سطح چیک کرنا ھوتا تھا .
اور کبھی دیگر حکمتیں ھوتی تھیں.

حدیث شریف میں ھے:
درختوں میں ایک درخت ایسا ہے کہ اس کے پتے نہیں جھڑتے
اور مسلمان کی مثال اسی درخت کی سی ہے۔
بتاؤ وہ کون سا درخت ہے؟
یہ سن کر لوگوں کا خیال جنگل کے درختوں کی طرف دوڑا۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنھما نے کہا:
میرے دل میں آیا کہ
وہ کھجور کا درخت ہے۔
مگر میں اپنی (کم عمری کی) شرم سے نہ بولا۔
آخر صحابہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہی سے پوچھا کہ وہ کون سا درخت ہے؟
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
وہ کھجور کا درخت ہے۔

‏  "إن من الشجر شجرة لا يسقط ورقها ،‏‏‏‏ وإنها مثل المسلم ،‏‏‏‏ فحدثوني ما هي ‏..؟؟
‏ فوقع الناس في شجر البوادي‏.‏ قال عبد الله ووقع في نفسي أنها النخلة ،‏‏‏‏ فاستحييت ثم قالوا حدثنا ما هي يا رسول الله قال هي النخلة"

"صحیح بخاری ،کتاب العلم"

اسلامی ممالک کے اتحاد کا فائدہ

جب تک مسلم ممالک متحد نھیں ھوں گے،دشمن کا مقابلہ نھیں کر سکتے.
اگر ھم نے دشمن کا مقابلہ کرنا ھے ،
تو ھمیں متحد ھونا ھو گا .
ھر قیمت پر متحد ھونا ھو گا.
#Etehad #ummat #khilafat #caliphate #caliph #Turkey #pakistan #Erdogan

Tuesday, April 25, 2017

خواب کی شرعی حیثیت ،خواب کا مطلقا انکار کفر ھے

خواب کا مطلقًا انکار کفر ہے:
تحریر: کاپی شدہ
یہ بات ذہن نشین کرلی جائے کہ مطلقًا خواب کا انکار کر دینا کہ سرے سے خواب یا رویائے صالحہ کا کوئی وجود ہی نہیں ہوتا یا یہ گمان کرنا کہ یہ محض جھوٹ اور من گھڑت ہے یہ جہالت، لا علمی ہے ،کیونکہ خواب کے وجود اور تصور کا صراحتًا انکار کر دینا کفر ہے۔ اس لئے کہ خواب کا وجود قرآن کریم سے ثابت ہے اور خود سنت نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ثابت ہے۔

ارشاد باری تعالیٰ ہے :

الَّذِينَ آمَنُواْ وَكَانُواْ يَتَّقُونَO لَهُمُ الْبُشْرَى فِي الْحَياةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ.

يونس، 10 : 63، 64

’’(وہ) ایسے لوگ ہیں جو ایمان لائے اور (ہمیشہ) تقویٰ شعار رہےo ان کے لئے دنیا کی زندگی میں (بھی عزت و مقبولیت کی) بشارت ہے اور آخرت میں (بھی مغفرت و شفاعت کی/ یا دنیا میں بھی نیک خوابوں کی صورت میں پاکیزہ روحانی مشاہدات ہیں اور آخرت میں بھی حُسنِ مطلق کے جلوے اور دیدار)۔‘‘

قرآن مجید کی تمام تفاسیر میں ہے کہ بشارت سے مراد وہ نیک خواب ہیں جو اللہ رب العزت ایمان والوں کو عطا کرتا ہے۔

امام ابن جریر رحمۃ اللہ علیہ طبری سے لے کر علامہ آلوسی رحمۃ اللہ علیہ تک تمام مفسرین نے پوری تصریحات کے ساتھ اس امر کی تائید کی ہے۔ علامہ آلوسی رحمۃ اللہ علیہ روح المعانی میں، امام ابن جریر رحمۃ اللہ علیہ تفسیر طبری میں، قاضی ثناء اللہ رحمۃ اللہ علیہ پانی پتی تفسیر مظہری میں، امام رازی رحمۃ اللہ علیہ تفسیر کبیر میں یا آپ تفسیر کی کوئی بھی کتاب اٹھا کر دیکھ لیں آئمہ تفسیر نے صراحت کے ساتھ یہ بات درج کی ہے کہ اس قرآنی آیت کے تحت درج ’’بشری‘‘ سے مراد وہ نیک خواب ہیں جو ایمان والے دیکھتے ہیں۔ سورہ یوسف میں حضرت یوسف علیہ السلام کے بارے میں ارشاد ہوتا ہے :

وَكَذَلِكَ يَجْتَبِيكَ رَبُّكَ وَيُعَلِّمُكَ مِن تَأْوِيلِ الْأَحَادِيثِ.

يوسف، 12 : 6

’’اسی طرح تمہارا رب تمہیں (بزرگی کے لئے) منتخب فرما لے گا اور تمہیں باتوں کے انجام تک پہنچنا (یعنی خوابوں کی تعبیر کا علم) سکھائے گا۔‘‘

اللہ تعالیٰ نے حضرت یوسف علیہ السلام کو بہت سے کمالات اور معجزات عطا فرمائے، ان میں خوابوں کی تعبیر کا علم اور فن بطور خاص عطا فرمایا۔ اس کا ذکر سورہ یوسف میں مذکور ہے۔ مثلاً بادشاہ مصر اور قیدیوں کے خواب حضرت یوسف علیہ السلام کے سامنے بیان ہوئے۔ آپ نے ان کی تعبیر بیان فرمائی اور اس تعبیر کے مطابق آئندہ واقعات رونما ہوئے۔ قرآن مجید دوٹوک انداز میں خوابوں کے وجود کی صداقت کا بیان کر رہا ہے کہ تعبیر کا فن اللہ پاک نے اپنے نبی کو عطا کیا۔ خواب کے وجود کا انکار کہ یہ محض وہم ہے، یہ من گھڑت چیز ہے، یہ باطل ہے اور رویائے صالحہ کا کوئی وجود نہیں، خود قرآن مجید کی آیت کا انکار ہے۔ امام ابن سیرین رحمۃ اللہ علیہ، علامہ عبدالغنی نابلسی رحمۃ اللہ علیہ نے تعبیر الرویا کے باب میں ایک حدیث پاک نقل کی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :

من لم يومن بالرويا الصالحه لم يومن باﷲ ولا باليوم الآخرة.

نابلسي، تعطير الانام في تعبير المنام : 3

’’جو شخص نیک خوابوں پر ایمان نہیں رکھتا وہ اللہ اور آخرت پر ایمان نہیں رکھتا۔‘‘

امام ابو الحسن اشعری رحمۃ اللہ علیہ جو دنیائے اہل سنت کے امام ہیں۔ انہوں نے اپنے عقائد میں درج کیا ہے کہ خواب کا مطلقاً انکار کرنے سے انسان کافر ہو جاتا ہے۔

نبوت و رسالت ختم، بشارات جاری ہیں :

حدیث نبوی میں رویا صالحہ کا ذکر صراحتاً موجود ہے، بلکہ حدیث مبارکہ کی کتابوں میں خوابوں کے حوالے سے عنوانات، ابواب اور فصلیں قائم کی گئی ہیں۔ بخاری و مسلم کی متفق علیہ احادیث ہیں۔ صحیح بخاری اور صحیح مسلم جن کا دنیا میں کسی مسلک کا کوئی عالم انکار نہیں کر سکتا ان میں حضرت سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :

لم يبق من النبوة الا المبشرات

بخاري، الصحيح، کتاب التعبير، باب المبشرات، 6 : 2564، رقم : 6589

’’اب نبوت باقی نہیں رہی (ہاں اس کا فیض) مبشرات کی صورت میں باقی ہے۔‘‘

صحابہ کرام رضی اللہ عنھم نے عرض کیا وما المبشرات؟ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مبشرات سے کیا مراد ہے؟ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : الرویا الصالحہ (مبشرات سے مراد نیک خواب ہیں)۔ گویا اب قیامت تک کوئی نبوت کا دعویٰ نہیں کر سکتا جو کرے گا وہ کافر و مرتد ہو گا۔ نبوت فیضان مبشرات کی صورت میں قیامت تک جاری و ساری رہے گا۔

دوسرے مقام پر حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا :

ان الرسالة والنبوة قد انقطعت فلا رسول بعدی ولا نبي قال فشق ذلک علي الناس فقال لکن المبشرات.

ترمذي، السنن، کتاب الرؤيا عن رسول الله صلي الله عليه وآله وسلم، باب ذهبت النبوة وبقيت المبشرات، 4 : 533، رقم : 2272

’’میرے بعد نبوت و رسالت کا سلسلہ منقطع ہو گیا ہے، اب کوئی رسول آ سکتا ہے نہ کوئی نبی لیکن میرے بعد مبشرات اور بشارتیں ہوں گی۔‘‘

صحابہ کرام رضی اللہ عنھم نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وہ مبشرات کیا ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا وہ نیک خواب جو اہل ایمان کو آتے ہیں۔‘‘

سنن ابن ماجہ میں ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا :

ايها الناس لم يبق من مبشرات النبوة الا الرويا الصالحه يراها المسلم او تري له.

ابن ماجه، السنن، کتاب تعبير الرويا، باب الرويا الصالحه يراها المسلم او تري له، 3 : 1283، رقم : 3899

’’اے لوگو! مبشرات نبوت میں ماسوائے نیک خوابوں کے جو کسی مومن کو دکھائی دیتے ہیں کچھ بھی باقی نہیں رہا، گویا اب نبوت من کل الوجود ختم کر دی گئی ہے۔ نبوت کے سارے دروازے بند کر دئیے گئے ہیں لیکن ایک چیز جو اللہ نے میری امت کے لیے بطور نعمت باقی رکھی ہے وہ اہل ایمان کو دکھائے جانے والے نیک خواب و مبشرات ہیں۔‘‘

سنن ابن ماجہ میں دوسرے مقام پر ام کرز الکعبیہ رضی اﷲ عنہا بیان کرتی ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا :

ذهبت النبوة وبقيت المبشرات

ابن ماجه، السنن، کتاب تعبير الرويا، باب الرويا الصالحه يراها المسلم او تري له، 2 : 1283، رقم : 3896

’’نبوت ختم ہو گئی لیکن مبشرات باقی ہیں۔‘‘

صحیح بخاری میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا :

الرويا الصالحه من اﷲ

بخاري، الصحيح، کتاب بدء الخلق، باب صفة ابليس و جنوده، 2 : 1198، رقم : 3118

’’نیک خواب اللہ رب العزت کی طرف سے ہوتے ہیں۔‘‘

اللہ تعالیٰ نے نیک خواب و مبشرات کو مسلمانوں کی ہدایت کا ایک ذریعہ و سبب بنایا ہے، اللہ رب العزت نے اپنے نیک و مقرب بندوں پر حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے امتیوں کی ہدایت کے لیے خوابوں اور بشارات کا دروازہ کھلا رکھا ہے۔ پہلے ہدایت انبیاء پر وحی کی صورت میں فرشتے لاتے تھے، اللہ کا وہ کلام کامل و اکمل اور قطعی و حتمی ہدایت ہوتا تھا۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد وحی کا دروازہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے بند کر دیا گیا۔ لیکن حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ارشاد کے مطابق اب خوابوں اور بشارات کا سلسلہ قیامت تک جاری رہے گا۔ ترمذی شریف میں حضرت ابو سعید خدری رحمۃ اللہ علیہ روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :

اصدق الرويا بالاسحار

ترمذي، السنن، کتاب الرويا عن رسول الله، باب قوله لهم البشري في الحياة الدنيا، 4 : 534، رقم : 2274

’’وہ خواب جو سحری کے وقت رات کے پچھلے پھر آتے ہیں وہ دیگر خوابوں کے مقابلے میں زیادہ سچے ہوتے ہیں۔‘‘

مقام افسوس ہے کہ کلمہ گو ہونے کا دعویٰ کرنے والے نیک خوابوں اور بشارات کا مذاق اڑائیں جبکہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خود رویا صالحہ اور بشارات کا اثبات فرمائیں۔

ذاتی مخالفت، بغض و عناد اور حسد اپنی جگہ لیکن اس کی آڑ لے کر اپنے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فرمان کا مذاق تو نہ اڑایا جائے۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عطا کردہ تصور کی تضحیک تو نہ کی جائے۔

اچھے خواب پر شکر اور برے پر پناہ طلبی :

صحیح مسلم میں ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ

فان راي رويا حسنة فليبشر

مسلم، الصحيح، کتاب الرويا، : 1772، رقم : 2261

’’جو کوئی اچھا، نیک خواب دیکھے تو اس پر خوش ہو۔‘‘

سنن ابن ماجہ میں تاجدار کائنات صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :

تم میں سے کوئی اگر اچھا اور پسندیدہ خواب دیکھے تو جس سے مناسب سمجھے بیان کرے۔ ایک اور حدیث میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :

’’جو شخص کوئی برا خواب دیکھے وہ اس کے شر سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگے۔‘‘

سنن ابی داؤد میں حضرت قتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :

ثم ليتعوذ من شرها

ابو داود، السنن، کتاب الادب، باب ماجاء في الرويا، 4 : 305، رقم : 5021

’’(جو کوئی برا خواب دیکھے) تو اس کے شر سے اللہ کے حضور پناہ مانگے۔‘‘

سنن ابن ماجہ میں ہے کہ ایک صحابی رضی اللہ عنہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ اقدس میں حاضر ہوئے۔ عرض کی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں خواب دیکھتا ہوں تو ڈر جاتا ہوں، کیا کروں؟ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے کچھ کلمات بتائے کہ اگر برا خواب دیکھو اور ڈرو تو یہ کلمات پڑھ لیا کرو، اللہ پاک اس کے شر اور خوف سے تمہیں پناہ دے گا۔

اگر خواب کا کوئی وجود نہ ہوتا اور اس کے اچھے برے اثرات مرتب نہ ہوتے تو حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم برے خواب کے شر سے پناہ مانگنے کی تلقین نہ فرماتے۔

بیوہ اور مساکین کے لیے محنت کا ثواب

بیوہ و مساکین کے لیے محنت:
حدیث شریف میں ھے:
بیوہ عورتوں اور مسکینوں کے لیے محنت و کوشش کرنے والا اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے کے مانند ہے، اور اس شخص کے مانند ہے جو رات بھر قیام کرتا، اور دن کو روزہ رکھتا ہے ۔
"السَّاعِي عَلَى الْأَرْمَلَةِ وَالْمِسْكِينِ كَالْمُجَاهِدِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَكَالَّذِي يَقُومُ اللَّيْلَ وَيَصُومُ النَّهَارَ "

"سنن ابن ماجہ"

توجہ طلب:
یہ بھی اسی اسلام کی تعلیم ھے ،جس نے جھاد کا حکم دیا.

ابلیس کی مجلس شوری: کلام اقبال

جمھوریت:
ابلیس کی مجلس شوری :
کلام اقبال:
ھم نے خود شاہی کو پہنایا ہے جمہوری لباس
جب ذرا آدم ہوا ہے خود شناس و خود نگر

کاروبار شہریاری کی حقیقت اور ہے
یہ وجود میر و سلطاں پر نہیں ہے منحصر

مجلس ملت ہو یا پرویز کا دربار ہو
ہے وہ سلطاں، غیر کی کھیتی پہ ہو جس کی نظر

تو نے کیا دیکھا نہیں مغرب کا جمہوری نظام
چہرہ روشن، اندروں چنگیز سے تاریک تر

علامہ اقبال کی طرف منسوب اشعار : نعرہ تکبیر بھی فتنہ

یہ اقبال کے اشعار نھیں ھیں،ان کی طرف منسوب کیے گئے ھیں.
اگر کوئی صاحب سمجھتے ھیں کہ یہ اقبال ھی کے اشعار ھیں .تو دلیل دیں .....اقبال کی کس کتاب میں ھیں ...اور کس مقام پر ھیں .

اللہ سے کرے دور ، تو تعلیم بھی فتنہ
املاک بھی اولاد بھی جاگیر بھی فتنہ

ناحق کے لیے اٹھے تو شمشیر بھی فتنہ
شمشیر ہی کیا نعرہ تکبیر بھی فتنہ

دعا کی فضیلت پر ایک حدیث

اللہ سے دعا:
حدیث شریف :
جو اللہ سے دعا نھیں کرتا ،اللہ اس سے ناراض ھوتا ھے
"مَنْ لَمْ يَسْأَلِ اللَّهَ يَغْضَبْ عَلَيْهِ"
"سنن ترمذی"

صلہ رحمی اور حسن سلوک کا زیادہ حقدار کون ھے..؟؟

زیادہ حقدار کون ھے..؟؟
لوگوں کے ساتھ نیکی،صلہ رحمی اور حسن سلوک کے معاملے میں یہ ترتیب ضرور ذھن میں رکھنی چاھیے:
نبی کریم علیہ السلام نے اس حدیث شریف میں ان لوگوں کا بالترتیب ذکر کیا ھے .
جو صلہ رحمی اور حسن سلوک کے زیادہ حق دار ھیں .
ھم حدیث شریف کے ترجمہ سے پھلے اس ترتیب کو آسان الفاظ میں ذکر کر دیتے ھیں
تاکہ سمجھنے میں آسانی ھو  .
حسن سلوک ،نیکی اور صلہ رحمی کی سب سے زیادہ حقدار ماں ھے .
اسی وجہ سے نبی کریم علیہ السلام نے اس کے حق کو سب سے پھلے ذکر کیا اور وہ بھی تین مرتبہ .
پھر باپ سب سے زیادہ حقدار ھے .
پھر سب سے قریبی رشتہ دار ..پھر اس کے بعد قریبی ...پھر اس کے بعد درجہ بدرجہ دوسرے رشتہ دار

اب ھم حدیث شریف بمع ترجمہ ذکر کرتے ھیں:
حدیث شریف:
"‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏مَنْ أَبَرُّ ؟ قَالَ:‏‏‏‏    أُمَّكَ   ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قُلْتُ:‏‏‏‏ ثُمَّ مَنْ ؟ قَالَ:‏‏‏‏    أُمَّكَ   ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قُلْتُ:‏‏‏‏ ثُمَّ مَنْ ؟ قَالَ:‏‏‏‏    أُمَّكَ   ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قُلْتُ:‏‏‏‏ ثُمَّ مَنْ ؟ قَالَ:‏‏‏‏    ثُمَّ أَبَاكَ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ الْأَقْرَبَ، ‏‏‏‏‏‏فَالْأَقْرَبَ "
ترجمہ:
یا رسول اللہ !
میں کس کے ساتھ سب سے زیادہ نیک سلوک اور صلہ رحمی کروں؟
آپ نے فرمایا:
”اپنی ماں کے ساتھ“

میں نے عرض کیا:
پھر کس کے ساتھ؟
فرمایا:
”اپنی ماں کے ساتھ“

میں نے عرض کیا:
پھر کس کے ساتھ؟
فرمایا:
”اپنی ماں کے ساتھ“

میں نے عرض کیا:
پھر کس کے ساتھ؟
فرمایا:
”پھر اپنے باپ کے ساتھ

پھر سب سے قریبی رشتہ داروں کے ساتھ
پھر اس کے بعد  قریبی رشتہ داروں کے ساتھ
پھر اس کے بعد  درجہ بدرجہ

"سنن ترمذی"

نوٹ:
ھمارا یہ حدیث شریف ذکر کرنے کا مقصد ان لوگوں کو  سمجھانا تھا
جو دور کے رشتہ داروں کے ساتھ تو نیکیاں کرتے ھیں ،لیکن اپنے والدین کو دکھ اور تکلیفیں  پہنچاتے ھیں .
یا انھیں بالکل اھمیت نھیں دیتے.

واقعہ معراج کا مختصر خلاصہ

میں نے بھت عرصہ پھلے واقعہ معراج کا مختصر خلاصہ لکھا تھا......جب میں اسلام آباد کے ...ایک مدرسہ ....جامعہ قمر الاسلام ...میں ...ابتدائی درجوں میں... پڑھتا تھا....آپ بھی پڑھ کر بتائیں ...کیسا لکھا تھا .

معراج النبی کے متعلق شاہ ولی اللہ محدث دھلوی کی رائے

معراج النبی
شاہ ولی اللہ کی نظر میں

وہ سرور کشور رسالت جو عرش پر جلوہ گر ہوئے تھے

معراج النبی کے حوالے سے ایک بھترین کلام :
شاعر: مولانا احمد رضا خان بریلوی صاحب
وہ سرور کشور رسالت جو عرش پر جلوہ گر ہوئے تھے
نئے نرالے طرب کے ساماں عرب کے مہمان کے لئے تھے

بہار ہے شادیاں مبارک چمن کو آبادیاں مبارک
ملک فلک اپنی اپنی لے میں یہ گھر عنا دل کا بولتے تھے

وہاں فلک پر یہاں زمیں میں رچی تھی شادی مچی تھی دھومیں
ادھر سے انوار ہنستے آتے ادھر سے نفحات اٹھ رہے تھے

یہ چھوٹ پڑتی تھی ان کے رخ کی کہ عرش تک چاندنی تھی چھٹکی
وہ رات کیا جگمگا رہی تھی جگہ جگہ نصب آئینے تھے

نئی دلہن کی پھبن میں کعبہ نکھر کے سنورا سنور کے نکھرا
حجر کے صدقے کمر کے اک تل میں رنگ لاکھوں بناؤ کے تھے

نظر میں دولہا کے پیارے جلوے حیا سے محراب سر جھکائے
سیاہ پردے کے منہ پہ آنچل تجلی ذات بحت کے تھے

خوشی کے بادل امڈ کے آئے دلوں کے طاؤس رنگ لائے
وہ نغمہٴ نعت کا سماں تھا حرم کو خود وجد آگئے تھے

یہ جھوما میزاب زر کا جھومر کہ آرہا کان پر ڈھلک کر
پھوہار برسی تو موتی جھڑ کی حطیم کی گود میں بھرے تھے

دلہن کی خوشبو سے مست کپڑے نسیم گستاخ آنچلوں سے
غلاف مشکیں جو اڑ رہا تھا غزال نافے بسا رہے تھے

پہاڑیوں کا وہ حسن تزیین وہ اونچی چوٹی وہ نازو تمکین
صبا سے سبزہ میں لہریں آئیں دوپٹے دھانی چنے ہوئے تھے

نہا کے نہروں نے وہ چمکتا لباس آب رواں کا پہنا
کہ موجیں چھڑیاں تھیں دھار لچکا حباب تاباں کے تھل ٹکے تھے

پرانا پر داغ ملگجا تھا اٹھا دیا فرش چاندنی کا
ہجوم تار نگہ سے کوسوں قدم قدم فرش باولے تھے

غبار بن کر نثار جائیں کہاں اب اس رہ گزر کو پائیں
ہمارے دل حوریوں کی آنکھیں فرشتوں کے پر جہاں بچھے تھے

خدا ہی دے صبر جان پرغم دکھاؤں کیونکر تجھے وہ عالم
جب ان کو جھرمٹ میں لے کے قدسی جناں کا دولہا بنا رہے تھے

اتار کر ان کے رخ کا صدقہ وہ نور کا بٹ رہا تھا باڑا
کہ چاند سورج مچل مچل کر جبیں کی خیرات مانگتے تھے

وہی تو اب تک چھلک رہا ہے وہی تو جو بن ٹپک رہا ہے
نہانے میں جو گرا تھا پانی کٹورے تاروں نے بھر لئے تھے

بچا جو تلوؤں کا ان کے دھوون بنا وہ جنت کا رنگ وروغن
جنہوں نے دولہا کا پائی اترن وہ پھول گلزار نور کے تھے

خبر یہ تحویل مہر کی تھی کہ رت سہانی گھڑی پھرے گی
وہاں کی پوشاک زیب تن کی یہاں کا جوڑا بڑھا چکے تھے

تجلی حق کا سہرا سر پر صلوٰۃ و تسلیم کی نچھاور
دو رویہ قدسی پرے جما کر کھڑے سلامی کے واسطے تھے

جو ہم بھی واں ہوتے خاک گلشن لپٹ کے قدموں سے لیتے اترن
مگر کریں کیا نصیب میں تو یہ نامرادی کے دن لکھے تھے

ابھی نہ آتے تھے پشت زیں تک کہ سر ہوئی مغفرت کی شلک
صدا شفاعت نے دی مبارک گناہ مستانہ جھومتے تھے

عجب نہ تھا رخش کا چمکنا غزال دم خوردہ سا بھڑکنا
شعاعیں بکے اڑا رہی تھی تڑپتے آنکھوں پہ صاعقے تھے

ہجوم امید ہے گھٹاؤ مرادیں دے کر انہیں ہٹاؤ
ادب کی باگیں لئے بڑھاؤ ملائکہ میں یہ غلغلے تھے

اٹھی جو گرد رہ منور وہ نور برسا کہ راستے بھر
گھرے تھے بادل بھرے تھے جل تھل امنڈ کے جنگل ابل رہے تھے

ستم کیا کیسی مت کٹی تھی قمر وہ خاک ان کے رہ گذر کی
اٹھا نہ لایا کہ ملتے ملتے یہ داخ سب دیکھنا مٹے تھے

براق کے نقش سم کے صدقے وہ گل کھلائے کہ سارے رستے
مہکتے گلبن مہکتے گلشن ہرے بھرے لہلہا رہے تھے

نماز اقصیٰ میں تھا یہی سر عیاں ہوں معنی اول آخر
کہ دست بستہ ہیں پیچھے حاضر جو سلطنت آگے کر گئے تھے

یہ ان کی آمد کا دبدبہ تھا نکھار ہر شے کا ہو رہا تھا
نجوم و افلاک جام و مینا اجالتے تھے کھنگالتے تھے

نقب الٹے وہ مہر انور جلال رخسار گرمیوں پر
فلک کو ہیبت سے تپ چڑھی تھی تپکتے انجم کے آبلے تھے

یہ جوشش نور کا اثر تھا کہ آب گوہر کمر کمر تھا
صفائے راہ سے پھسل پھسل کر ستارے قدموں پہ لوٹے تھے

پڑھا یہ لہرا کے بحر وحدت کہ دھل گیا نام رنگ کثرت
فلک کے ٹیلوں کی کیا حقیقت یہ عرش و کرسی دو بلبلے تھے

وہ ظل رحمت وہ رخ کے جلوے کہ تارے چھپتے نہ کھلنے پاتے
سنہری زربفت اودی اطلس یہ تھان سب دھوپ چھاؤں کے تھے

چلا وہ سرو چماں خراماں نہ رک سکا سدرہ سے بھی داماں
پلک جھپکتی رہی وہ کب کے سب این و آں سے گزر چکے تھے

جھلک سے اک قدسیوں پر آئی ہوا بھی دامن کی پھر نہ پائی
سواری دولہا کی دور پہنچی برات میں ہوش ہی گئے تھے

تھکے تھے روح الامین کے بازو چھٹا وہ دامن کہاں وہ پہلو
رکاب چھوٹی امید ٹوٹی نگاہ حسرت کے ولولے تھے

روش کی گرمی کو جس نے سوچا دماغ سے اک بھبو کا پھوٹا
خرد کے جنگل میں پھول چمکا دہر دہر پیڑ جل رہے تھے

جلو میں مرغ عقل اڑے تھے عجب برے حالوں گرتے پڑتے
وہ سدرہ ہی پر رہے تھے تھک کر چڑھا تھا دم تیور آگئے تھے

قوی تھے مرغان وہم کے پر اڑے تو اڑنے کو اور دم بھر
اٹھائی سینے کی ایسی ٹھوکر کہ خون اندیشہ تھوکتے تھے

سنا یہ اتنے میں عرش حق نے کہا مبارک ہوں تاج والے
وہی قدم خیر سے پھر آئے جو پہلے تاج شرف تیرے تھے

یہ سن کے بے خود پکار اٹھا نثار جاؤں کہاں ہیں آقا
پھر ان کے تلوؤں کا پاؤں بوسہ یہ میری آنکھوں کے دن پھرے تھے

جھکا تھا مجرے کو عرش اعلیٰ گرے تھے سجدے میں بزم بالا
یہ آنکھیں قدموں سے مل رہا تھا وہ گرد قربان ہورہے تھے

ضیائیں کچھ عرش پر یہ آئیں کہ ساری قندیلیں جھلملائیں
حضور خورشید کیا چمکتے چراغ منہ اپنا دیکھتے تھے

یہی سماں تھا کہ پیک رحمت خبر یہ لایا کہ چلئے حضرت
تمہاری خاطر کشادہ ہیں جو کلیم پر بند راستے تھے

بڑھ اے محمد قریں ہو احمد‘ قریب آ سرور ممجد
نثار جاؤں یہ کیا ندا تھی یہ کیا سماں تھا یہ کیا مزے تھے

تبارک اللہ شان تیری تجھی کو زیبا ہے بے نیازی
کہیں تو وہ جوش لن ترانی کہیں تقاضے وصال کے تھے

خرد سے کہہ دو کہ سر جھکالے گماں سے گزرے گزرنے والے
پڑے ہیں یاں خود جہت کو لالے کسے بتائے کدھر گئے تھے

سراغ این و متی کہاں تھا نشان کیف و الیٰ کہاں تھا
نہ کوئی راہی نہ کوئی ساتھی نہ سنگ منزل نہ مرحلے تھے

ادھر سے پیہم تقاضے آنا ادھر تھا مشکل قدم بڑھانا
جلال و ہیبت کا سامنا تھا جمال و رحمت ابھارتے تھے

بڑھے تو لیکن جھجکتے ڈرتے حیا سے جھکتے ادب سے رکتے
جو قرب انہیں کی روش پہ رکھتے تو لاکھوں منزل کے فاصلے تھے

پر ان کا بڑھنا تو نام کو تھا حقیقتہً فعل تھا ادھر کا
تنزلوں میں ترقی افزا دنا تدلیٰ کے سلسلے تھے

ہوا یہ آخر کہ ایک بجرا تموج بحر ہو میں ابھرا
دنا کی گودی میں ان کو لے کر فنا کے لنگر اٹھادیئے تھے

کسے ملے گھاٹ کا کنارہ کدھر سے گزرا کہاں اتارا
بھرا جو مثل نظر طرارا وہ اپنی آنکھوں سے خود چھپے تھے

اٹھے جو قصر دنیٰ کے پردے کوئی خبر دے تو کیا خبر دے
وہاں تو جاہی نہیں دوئی کی نہ کہہ کہ وہ ہی نہ تھے ارے تھے

وہ باغ کچھ ایسا رنگ لایا کہ غنچہ و گل کا فرق اٹھایا
گرہ میں کلیوں کے باغ پھولے گلوں کے تکمے لگے ہوئے تھے

محیط و مرکز میں فرق مشکل رہے نہ فاصل خطوط واصل
کمانیں حیرت میں سر جھکائے عجیب چکر میں دائرے تھے

حجاب اٹھنے میں لاکھوں پردے ہر ایک پردے میں لاکھوں جلوے
عجب گھڑی تھی کہ وصل فرقت جنم کے بچھڑے گلے ملے تھے

زبانیں سوکھی دکھا کے موجیں تڑپ رہی تھیں کہ پانی پائیں
بھنور کو یہ ضعف تشنگی تھا کہ حلقے آنکھوں میں پڑگئے تھے

وہی ہے اول وہی ہے آخر وہی ہے باطن وہی ہے ظاہر
اسی کے جلوے اسی سے ملنے اسی سے اس کی طرف گئے تھے

کمان امکاں کے جھوٹے نقطو تم اول آخر کے پھیر میں ہو
محیط کی چال سے تو پوچھو کدھر سے آئے کدھر گئے تھے

ادھر سے تھیں نذر شہ نمازیں ادھر سے انعام خسروی میں
سلام ورحمت کے ہار گندہ کر گلوئے پر نور میں پڑے تھے

زبان کو انتظار گفتن تو گوش کو حسرت شنیدن
یہاں جو کہنا تھا کہہ لیا تھا جو بات سننی تھی سن چکے تھے

وہ برج بطحا کا ماہ پارا بہشت کی سیر کو سدھارا
چمک پہ تھا خلد کا ستارا کہ اس قمر کے قدم گئے تھے

سرور مقدم کے روشنی تھی کہ تابشوں سے مہ عرب کی
جناں کے گلشن تھے جھاڑ فرشی جو پھول تھے سب کنول بنے تھے

طرب کی نازش کہ ہاں لچکئے ادب وہ بندش کہ ہل نہ سکئے
یہ جوش ضدین تھا کہ پودے کشاکش ارہ کے تلے تھے

خدا کی قدرت کہ چاند حق کے کروڑوں منزل میں جلوہ کرکے
ابھی نہ تاروں کی چھاؤں بدلی کہ نور کے تڑکے آلئے تھے

نبئ رحمت شفیع امت رضا پہ للہ ہو عنایت
اسے بھی ان خلعتوں سے حصہ جو خاص رحمت کے واں بٹے تھے

ثنائے سرکار ہے وظیفہ قبول سرکار ہے تمنا
نہ شاعری کی ہوس نہ پروا ردی تھی کیا کیسے قافیئے تھے
از امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ
#Mehraj #Qaseeda #AlaHazrat #imamAhmedRaza

Translate in your Language

LinkWithin

Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...

Join us on