لارنس آف عربیہ کا مختصر تعارف

لارنس آف عربیہ کا مختصر تعارف:
لارنس آف عربیہ برطانوی افواج کا ایک معروف افسر تھا، جسے پہلی جنگ عظیم کے دوران سلطنت عثمانیہ کے زیر نگیں عرب علاقوں میں بغاوت کو منظم کرنے کے باعث عالمی شہرت ملی۔

اس بغاوت کے نتیجے میں جنگ عظیم کے بعد عرب علاقے سلطنت عثمانیہ کی دسترس سے نکل گئے۔

اسلامی خلافت کے خاتمے کے لیے عربوں میں قوم پرستی کے جذبات جگا کر انہیں ترکوں کے خلاف متحد کرنے کے باعث انہیں "لارنس آف عربیہ" (Lawrence of Arabia) بھی کہا جاتا ہے۔

لارنس جدہ(موجودہ سعودی عرب) کے نواح میں 1917
1915 ء کے آخری عشرے میں
جب ترک مجاہدوں نے انگریز حملہ آوروں کو ناکوں چنے چبوائے
اور مارچ 1916ء کو دریائے دجلہ کے کنارے ترک کرنل خلیل پاشا نے برطانیہ کی دس ہزار سپاہ کو عبرتناک شکست دی.

تو انگریزوں کو یہ احساس ہو گیا کہ وہ مسلمانوں کا میدان جنگ میں مقابلہ نہیں کرسکتے ۔
لارڈ کرزن نے ہوگرتھ کے ذریعے " تقسیم کرو اور حکومت کرو" کے مشن پر عمل کرنے کی ہدایت کی ،

لارنس نے عربی لباس بھی پہننا شروع کیا وہ عربی زبان اچھی خاصی جانتا تھا لہٰذا لارنس آف عربیہ کے نام سے مشہور ہوا ۔

ستمبر 1911ء میں اس نے بصرہ کے ہوٹل میں جاسوسی کا ادارہ قائم کیا اور دو عرب نوجوانوں کو بھی اپنے ساتھ شامل کیا ۔
ایک امریکن جاسوس یہودی لڑکی بھی اسکے ساتھ مل گئی، جس نے اسکی بڑی مدد کی۔ وہ انتہائی خوبصورت تھی۔ اس نے عربی نوجوانوں پر دام حسن ڈال کر ترکوں کی بیخ کنی شروع کردی ۔
  لارنس بڑا عقلمند اور جہان دیدہ تھا۔

وہ بصرہ کی مسجد میں گیا اور مسلمان ہونے کا اعلان کیا۔ عربی لباس پہن کر عرب صحرا نشینوں میں گھل مل گیا۔ لارنس نے بدوؤں میں دو لاکھ پونڈ ہر ماہ تقسیم کرنا شروع کردیے،
اس نے " پونڈ" پانی کی طرح بہا کر عربوں کو اپنا مداح بنا لیا۔وہ اس کو اپنا محسن اور مربی سمجھنے لگے
اور ان کی مدد سے لارنس نے گورنر مکہ حسین ہاشمی تک رسائی حاصل کر لی
اور اپنی چرب زبانی اور مکارانہ چالوں سے حسین ہاشمی کو گمراہ کرنے میں زیادہ دقت پیش نہ آئی۔
پاسبان حرم کو شیشے میں اتارنے کے بعد لارنس نے اپنی پوری توجہ حسین ہاشمی کے بیٹوں عبداللہ، علی، فیصل اور زید پر مرکوز کی۔
انکو باور کرایا کہ سيد زاده ہو کر دوسروں کی ماتحتی میں زندگی گزارنا ذلت آمیز ہے ۔
ابتداء میں تو چاروں نے لارنس کی بات پر زیادہ توجہ نہ دی مگر اپنے باپ کے پیہم اصرار پر اور لارنس کی چکنی چپڑی باتوں کے باعث ان کے دلوں میں آہستہ آہستہ ترکوں کے خلاف نفرت پیدا ہو گئی
اور پھر ایک دن انہوں نے اپنے مکان کی کھڑکی سے ترکوں پر گولیاں برسانا شروع کر دیں ۔اس طرح ترکوں کے خلاف عربوں کی بغاوت کا آغاز کروا کر لارنس بڑا خوش ہوا اور لندن اطلاع دی کہ کھیل شروع ہوگیا ہے۔

توجہ طلب:
1-عیسائی دھوکہ دینے کے لیے بظاھر مسلمان بھی ھو جاتے ھیں.
2-عیسائی مسلمانوں کو تقسیم کرنے کے لیے ایسے لوگ بھیجتے رھتے ھیں.
3-سوچنے کی بات یہ ھے  کہ ایسی گٹھیا حرکتیں ایک مھذب  قوم کر سکتی ھے ...؟؟
اگر وہ کر سکتی ھے ،تو ھمیں بھی کرنی چاھیے