تازہ ترین
کام جاری ہے...
Saturday, March 25, 2017

ترکی کا ریفرینڈم اور صدارتی نظام

March 25, 2017

ترکی کا ریفرینڈم اور صدارتی نظام:
تحریر: رضا علی عابدی
پورے یورپ میں پھیلے ہوئے ترک باشندے بھی ووٹ ڈالیں گے، وہ وہاں اپنے جلسے جلوس کرنا چاہتے ہیں۔اب مشکل یہ ہے کہ اُن یورپی ملکوں کی حکومتوں کو یہ جلسے جلوس منظور نہیں۔
ترکی کے اندر اردوان کے حق میں ہونے والے مظاہروں سے تو یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اس نئے آئین کو بھاری حمایت حاصل ہے
کیونکہ اس سے ملک کا وہ آئین جدید ہو جائے گا ،جو 1980ء کی بغاوت کے بعد فوج نے اپنی من مانی کرکے بنایا اور نافذ کیا تھا۔
اس نئے دستور کے تحت ترکی کی پارلیمانی جمہوریہ صدارتی نظام میں تبدیل ہو جائے گی۔
ملک میں وزیر اعظم کا کوئی کردار نہیں رہے گا۔
اس کی جگہ نائب صدر کا نیا عہدہ قائم ہو گا۔
نئے نظام میں ملک کا صدر ہی عاملہ کا سربراہ ہو گا، وہی مملکت کا سربراہ بھی ہو گا اور اس کی سیاسی جماعت سے وابستگی بھی برقرار رہے گی۔

نئے آئین میں صدر کو بھاری اختیارات حاصل ہوں گے،
وہی وزیر مقرر کرے گا، ملک کا بجٹ تیار کرے گا،
اعلیٰ ججوں کی بڑی تعداد کو وہی منتخب کرے گا اور بعض قوانین وہ فرمان جاری کر کے نافذ کرسکے گا۔
ملک میں ہنگامی حالت نافذ کرنے یا پارلیمان کو برطرف کرنے کا اختیار صرف اسی کو حاصل ہوگا۔
پارلیمان کا وہ اختیار ختم ہو جائے گا جس کے ذریعے وہ وزیروں کا احتساب کر سکتی ہے، البتہ اپنے ارکان کی اکثریت کے ذریعے صدر کے خلاف مواخذے کی کارروائی شروع کر سکے گی یا اس کے خلاف تفتیش کا حکم دے سکے گی۔ مگر اس کے لئے دو تہائی کی اکثریت درکار ہوگی۔
ملک کی پارلیمان میں ارکان کی تعداد پانچ سو پچاس سے بڑھا کر چھ سو کر دی جائے گی۔
صدارتی اور پارلیمانی انتخابات ہر پانچویں سال ایک ہی دن ہوا کریں گے۔
صدر صرف دو بار منتخب ہو سکے گا۔
موجودہ حکومت کا یہ کہنا ہے کہ ان اصلاحات سے فیصلہ سازی تیزی سے ہوسکے گی اور ماضی میں بھانت بھانت کے پارلیمانی اتحاد بنا بنا کر جو پیچیدگیاں کھڑی کی جاتی تھیں، ان سے نجات ملے گی۔
حکومت کا کہنا ہے کہ موجودہ نظام ملک کی ترقی کو روک رہا ہے۔
اس نے یہاں تک کہا ہے کہ اس تبدیلی سے انتہا پسندوں کے وہ حملے بھی بند ہو جائیں گے جن میں پچھلے ڈیڑھ برس کے دوران پانچ سو سے زیادہ افراد مارے گئے ہیں.

توجہ طلب:
یہ تحریر پڑھنے کے بعد چند باتیں ذھن میں آتی ھیں .
یورپ طیب اردگان کے حق میں جلسے کرنے کی اجازت کیوں نھیں دے رھا ..؟؟
یورپ نے اب آزادی اظھار پر پابندی کیوں لگائی


 Follow me on Fb 
Facebook.com/Ehsan.ullah.kiyani

0 تبصرے:

Post a Comment

اس کے متعلق آپکی کیا رائے ہے ۔۔؟؟
کمنٹ بوکس میں لکھ دیں ،تاکہ دیگر لوگ بھی اسے پڑھ سکیں

اردو میں تبصرہ پوسٹ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کر دیں۔


 
فوٹر کھولیں‌/بند کریں