Friday, March 31, 2017

سیکولرز کی سائنس اور جراثیم کی میتیں

سیکولرز کی سائنس:

سائنس کہتی ہے کہ پانی ابالنے سے جراثیم مر جاتے ہیں

پر سائنس کو یہ نہیں پتہ کہ جراثیم کے مرنے کے بعد ان کی dead bodies تو پانی میں ہی رہ جاتی ہیں 😋😋😋
haha  .
stupid science

ترکی کے وزیر ایک عام آدمی کا جوتا پالش کرتے ھوئے

نشاں یہی ہے زمانے میں زندہ قوموں کا:
ترک وزیر سڑک پر ایک بوڑھے کے جوتے پالش کرتے ھوئے.
#Erdogan #Turkey

اپریل فول کی تاریخی اور شرعی حیثیت

اپریل فول کی تاریخی اور شرعی حیثیت
تحریر : کاپی شدہ
اسلام ایک آفاقی مذہب ہے۔ اس نے زندگی کے تمام شعبہ جات کے لیے اپنے ماننے والوں کو بہترین اور عمدہ اصول وقوانین پیش کیے ہیں۔ اخلاقی زندگی ہو یا سیاسی، معاشرتی ہو یا اجتماعی اور سماجی ہر قسم کی زندگی کے ہر گوشہ کے لیے اسلام کی جامع ہدایات موجود ہیں اور اسی مذہب میں ہماری نجات مضمر ہے۔
مگر آج ہمیں یورپ اور یہودونصاریٰ کی تقلید کا شوق ہے اور مغربی تہذیب کے ہم دلدادہ ہیں۔ یورپی تہذیب وتمدن اور طرزِ معاشرت نے مسلمانوں کی زندگی کے مختلف شعبوں کو اپنے رنگ میں رنگ دیا ہے۔ مسلمانوں کی زندگی میں انگریزی تہذیب کے بعض ایسے اثرات بھی داخل ہوگئے ہیں، جن کی اصلیت وماہیت پر مطلع ہونے کے بعد ان کو اختیار کرنا انسانیت کے قطعاً خلاف ہے؛ مگر افسوس کہ آج مسلمانوں کا ایک بڑا طبقہ ان اثرات پر مضبوطی سے کاربند ہے؛ حالاں کہ قوموں کا اپنی تہذیب وتمدن کو کھودینا اور دوسروں کے طریقہٴ رہائش کو اختیار کرلینا ان کے زوال اور خاتمہ کا سبب ہوا کرتا ہے۔ مذہبِ اسلام کا تو اپنے متبعین سے یہ مطالبہ ہے : ”یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُواْ ادْخُلُواْ فِیْ السِّلْمِ کَآفَّةً وَلاَ تَتَّبِعُواْ خُطُوَاتِ الشَّیْْطَانِ إِنَّہُ لَکُمْ عَدُوٌّ مُّبِیْنٌ“ (البقرہ آیت۲۰۸) ترجمہ: اے ایمان والو! اسلام میں پورے پورے داخل ہوجاؤ اور شیطان کے قدم پر مت چلو، یقینا وہ تمہارا کھلا ہوا دشمن ہے۔ (بیان القرآن)
یہود ونصاریٰ کی جو رسومات ہمارے معاشرہ میں رائج ہوتی جارہی ہیں، انھیں میں سے ایک رسم ”اپریل فول“ منانے کی رسم بھی ہے۔ اس رسم کے تحت یکم اپریل کی تاریخ میں جھوٹ بول کر کسی کو دھوکا دینا، مذاق کے نام پر بے وقوف بنانا اور اذیت دینا نہ صرف جائز سمجھا جاتا ہے؛ بلکہ اسے ایک کمال قرار دیا جاتا ہے۔ جو شخص جتنی صفائی اور چابک دستی سے دوسروں کو جتنا بڑا دھوکا دے دے، اُتنا ہی اُس کو ذہین، قابلِ تعریف اور یکم اپریل کی تاریخ سے صحیح فائدہ اٹھانے والا سمجھا جاتا ہے۔ یہ رسم اخلاقی، شرعی اور تاریخی ہر اعتبار سے خلافِ مروت، خلافِ تہذیب اور انتہائی شرمناک ہے۔ نیز عقل ونقل کے بھی خلاف ہے۔
اس رسم بد کی دو حیثیتیں ہیں: (۱) تاریخی۔ (۲) شرعی۔
اپریل فول کی تاریخی حیثیت
اس رسم کی ابتداء کیسے ہوئی؟ اس بارے میں موٴرخین کے بیانات مختلف ہیں۔ ہم یہاں ان میں سے تین اقوال پیش کرتے ہیں؛ تاکہ یہ معلوم ہوجائے کہ عقل وخرد کے دعوے داروں نے اس رسم کو اپنانے میں کیسی بے عقلی اور حماقت کا ثبوت دیا ہے۔
(۱) بعض مصنّفین کا کہنا ہے کہ فرانس میں سترہویں صدی سے پہلے سال کا آغاز جنوری کے بجائے اپریل سے ہوا کرتا تھا، اس مہینے کو رومی لوگ اپنی دیوی ”وینس“ (Venus) کی طرف منسوب کرکے مقدس سمجھا کرتے تھے، تو چوں کہ سال کا یہ پہلا دن ہوتا تھا؛ اس لیے خوشی میں اس دن کو جشن کے طور پر منایا کرتے تھے اور اظہارِ خوشی کے لیے آپس میں ہنسی مذاق بھی کیا کرتے تھے، تو یہی چیز رفتہ رفتہ ترقی کرکے اپریل فول کی شکل اختیار کرگئی۔
(۲)انسائیکلوپیڈیا آف برٹانیکا میں اس رسم کی ایک اور وجہ بیان کی گئی ہے کہ اکیس مارچ سے موسم میں تبدیلیاں آنی شروع ہوجاتی ہیں، ان تبدیلیوں کو بعض لوگوں نے اس طرح تعبیر کیا کہ (معاذ اللہ) قدرت ہمارے ساتھ اس طرح مذاق کرکے ہمیں بے وقوف بنارہی ہے؛ لہٰذا لوگوں نے بھی اس زمانے میں ایک دوسرے کو بے وقوف بنانا شروع کردیا۔ (انسائیکلوپیڈیا آف برٹانیکا ۱/۴۹۶ بحوالہ ”ذکروفکر“ ص۶۷، مفتی تقی عثمانی مدظلہ)
(۳)ایک تیسری وجہ انیسویں صدی عیسوی کی معروف انسائیکلوپیڈیا ”لاروس“ نے بیان کی ہے اور اسی کو صحیح قرار دیا ہے، جس کا حاصل یہ ہے کہ جب یہودیوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو گرفتار کرلیا اور رومیوں کی عدالت میں پیش کیا تو رومیوں اور یہودیوں کی طرف سے حضرت عیسیٰ علیہ الصلاة والسلام کو تمسخر اور استہزاء کا نشانہ بنایاگیا، ان کو پہلے یہودی سرداروں اور فقیہوں کی عدالت میں پیش کیاگیا، پھر وہ انھیں پیلاطُس کی عدالت میں فیصلہ کے لیے لے گئے، پھر پیلاطس نے ان کو ہیرودیس کی عدالت میں بھیج دیا اور بالآخر ہیرودیس نے دوبارہ فیصلہ کے لیے ان کو پیلاطس ہی کی عدالت میں بھیج دیا۔ لُوقا کی انجیل میں اس واقعہ کو اس طرح نقل کیاگیا ہے:
”اور جو آدمی یسوع کو پکڑے ہوئے تھے اس کو ٹھٹھوں میں اُڑاتے اور مارتے تھے اور اس کی آنکھیں بند کرکے اس سے پوچھتے تھے کہ نبوت سے بتا تجھے کس نے مارا؟ اور انھوں نے طعنہ سے اور بھی بہت سی باتیں اس کے خلاف کہیں۔“ (انجیل لوقا، ب۲۲، آیت ۶۳-۶۵، ص۲۲۷)
اور انجیل لوقاہی میں ہیرودیس کا پیلاطُس کے پاس واپس بھیجنا ان الفاظ سے منقول ہے:
”پھر ہیرودیس نے اپنے سپاہیوں سمیت اُسے ذلیل کیا اور ٹھٹھوں میں اڑایا اور چمک دار پوشاک پہناکر اس کو پیلاطس کے پاس واپس بھیجا۔“ (انجیل لوقا، ب۲۳، آیت۱۱، ص۲۲۸)
لاروس کا کہنا ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام کو ایک عدالت سے دوسری عدالت میں بھیجنے کا مقصد بھی ان کے ساتھ مذاق کرنا اور انھیں تکلیف پہنچا تھا؛ چونکہ یہ واقعہ یکم اپریل کو پیش آیا تھا، اس لیے اپریل فول کی رسم درحقیقت اسی شرمناک واقعے کی یادگار ہے۔ (ذکروفکر ص۶۷-۶۸)
اگر یہ بات درست ہے تو غالب گمان یہی ہے کہ یہ رسم یہودیوں نے جاری کی ہوگی اور اس کا منشاء حضرت عیسیٰ علیٰ نبیّنا وعلیہ الصلاة والسلام کی تضحیک ہوگی؛ لیکن یہ بات حیرت ناک ہے کہ جو رسم یہودیوں نے (معاذ اللہ) حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ہنسی اڑانے کے لیے جاری کی اس کو عیسائیوں نے کس طرح قبول کرلیا؛ بلکہ خود اس کے رواج دینے میں شریک ہوگئے؛ جبکہ وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو نہ صرف رسول؛ بلکہ ابن اللہ کا درجہ دیتے ہیں۔ قرینِ قیاس یہ ہے کہ یہ ان کی دینی بدذوقی یا بے ذوقی کی تصویر ہے۔ جس طرح صلیب، کہ ان کے عقیدہ کے مطابق اس پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو سولی دی گئی ہے، تو ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ اس کی شکل سے بھی ان کو نفرت ہوتی؛ لیکن ان پر خدا کی مار یہ ہے کہ اس پر انھوں نے اس طرح تقدس کا غازہ چڑھایا کہ وہ ان کے نزدیک مقدس شے بن کر ان کے مقدس مقامات کی زینت بن گئی۔ بس اسی طرح اپریل فول کے سلسلہ میں بھی انھوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے دشمنوں کی نقّالی شروع کردی۔ اللّٰہم احفظنا منہ․ اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ عیسائی اس رسم کی اصلیت سے ہی واقف نہ ہوں اور انھوں نے بے سوچے سمجھے اس پر عمل شروع کردیا ہو۔ واللہ اعلم
اپریل فول کی شرعی حیثیت
مندرجہ بالا تفصیل سے یہ بات معلوم ہوگئی کہ تاریخی اعتبار سے یہ رسم بد قطعاً اس قابل نہیں کہ اس کو اپنایا جائے؛ کیونکہ اس کا رشتہ یا تو کسی توہم پرستی سے جڑا ہوا ہے، جیساکہ پہلی صورت میں، یا کسی گستاخانہ نظریے اور واقعے سے جڑا ہوا ہے؛ جیساکہ دوسری اور تیسری صورت میں۔ اس کے علاوہ یہ رسم اس لیے بھی قابلِ ترک ہے کہ یہ مندرجہ ذیل کئی گناہوں کا مجموعہ ہے:
(۱) مشابہت کفار ویہود ونصاریٰ
(۲)جھوٹا اور ناحق مذاق
(۳)جھوٹ بولنا
(۴)دھوکہ دینا
(۵)دوسرے کواذیت پہنچانا
ان میں سے ہر ایک پر الگ الگ عنوانات کے تحت مختصر کلام کیا جاتا ہے؛ تاکہ یہ بات معلوم ہوجائے کہ احادیثِ شریفہ میں ان گناہوں پر کتنی سخت وعیدیں وارد ہوئی ہیں۔
کفار اور یہودونصاریٰ کی مشابہت
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہود ونصاریٰ اور کفار ومشرکین کی مشابہت اور بودوباش اختیار کرنے سے سختی کے ساتھ منع فرمایا ہے، مثلاً: آقا  صلی اللہ علیہ وسلم نے داڑھی رکھنے کا اور مشرکین ومجوس کی مخالفت کرنے کا حکم دیا ہے۔ اسی طرح یہود کی مشابہت سے بچنے کے لیے دسویں محرم کے ساتھ نویں تاریخ کو روزہ رکھنے کا بھی حکم فرمایا۔ غرض کہ ہر موقع پر آپ  صلی اللہ علیہ وسلم نے غیرقوموں کے طریقہٴ زندگی کو اپنانے سے منع فرمایا ہے۔ اور ان الفاظ میں وعید فرمائی ہے کہ: ”من تشبّہ بقوم فہو منہم“ (مشکوٰة شریف ۲/۳۷۵) یعنی جو شخص کسی قوم سے مشابہت اور ان کے طور طریقے کو اختیار کرے گا اس کا شمار انہی میں ہوگا؛ مگر افسوس کہ غیرقوموں کا طریقہ ہی آج ہمیں پسند ہے۔
حالانکہ ہمیشہ ان لوگوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اذیت دی ہے، آپ کی حیات میں بھی اور وفات ظاہری کے بعد بھی۔ نیز ہمیشہ ان کی کوششیں دین اسلام اور مسلمانوں کو نیست و نابود کرنے پر صرف ہوتی ہیں؛ مگر ہم مسلمان ذرا اس بات پر غور نہیں کرتے اور انھیں کے طور طریقوں میں مگن رہتے ہیں اور اپنے عمل سے اپنے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کو تکلیف دیتے ہیں۔
ایک عبرت ناک واقعہ
حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی صاحب تھانوی قدس سرّہ کے مواعظ میں کسی جگہ ایک واقعہ منقول ہے کہ ایک پیر صاحب غیرمسلموں کے تہوار ”ہولی“ کے دن پان کھاتے ہوئے اپنے مریدین کے ساتھ جارہے تھے، پورا راستہ ہولی کے رنگ سے رنگا ہوا تھا۔ رنگی ہوئی سڑک پر ایک گدھا کھڑا ہوا عجیب سا معلوم ہورہا تھا، پیر صاحب نے از راہِ مذاق پان کی پیک یہ کہتے ہوئے گدھے پر تھوک دی کہ ”تجھ کو کسی نے نہیں رنگا، میں ہی رنگ دیتا ہوں“۔ القصہ پیر صاحب کی وفات کے بعد کسی مرید نے ان کو خواب میں دیکھا کہ عذاب میں مبتلا ہیں، پوچھنے پر فرمایا کہ ہولی کے دن کے واقعہ کی پکڑہوگئی۔ خدا کی پناہ!
جھوٹا اور ناحق مذاق
اسلام نے خوش طبعی، مذاق اور بذلہ سنجی کی اجازت دی ہے۔ بارہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب کے ساتھ مذاق فرمایا ہے؛ لیکن آپ کا مذاق جھوٹا اور تکلیف دہ نہیں ہوتا تھا۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ صحابہٴ کرام نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ
یا رسول اللّٰہ انّک تداعبنا، قال: انّی لا اقول الاّ حقًّا (ترمذی شریف:۲/۲۰)
ترجمہ: اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) آپ تو ہمارے ساتھ دل لگی فرماتے ہیں؟ آپ نے ارشاد فرمایا کہ (میں دل لگی ضرور کرتا ہوں مگر) سچی اور حق بات کے علاوہ کچھ نہیں بولتا۔
حضرت عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے مذاق میں دوسرے شخص کا جوتا غائب کردیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس واقعہ کا علم ہوا، تو آپ نے ارشاد فرمایا:
لا تُرَوِّعُوْا الْمُسْلِمَ فَاِنَّ رَوْعَةَ المسلم ظلم عظیم (الترغیب والترہیب۳/۴۸۴)
ترجمہ: کسی مسلمیان کو مت ڈراؤ (نہ حقیقت میں نہ مذاق میں) کیونکہ کسی مسلمان کو ڈرانا بہت بڑا ظلم ہے۔
امام غزالی تحریر فرماتے ہیں کہ مزاح ومذاق پانچ شرطوں کے ساتھ جائز؛ بلکہ حسنِ اخلاق میں داخل ہے اور ان میں سے کوئی ایک شرط مفقود ہوجائے تو پھر مذاق ممنوع اور ناجائز ہے۔
(۱) مذاق تھوڑا یعنی بقدرِ ضرورت ہو
(۲) اس کا عادی نہ بن جائے
(۳)حق اور سچی بات کہے
(۴)اس سے وقار اور ہیبت کے ختم ہونے کا اندیشہ نہ ہو
(۵)مذاق کسی کی اذیّت کا باعث نہ ہو (احیاء العلوم اردو ۳/۳۲۴-۳۲۶)
سفیان بن عیینہ سے کسی نے کہا کہ مذاق بھی ایک آفت ہے، انھوں نے فرمایا کہ نہیں؛ بلکہ سنت ہے؛ مگر اس شخص کے حق میں جو اس کے مواقع جانتا ہو اور اچھا مذاق کرسکتا ہو۔ (خصائل نبوی، ص۱۵۳)
بہرحال حاصل یہ ہے کہ جھوٹے اور تکلیف دہ مذاق کی شریعت اسلامیہ میں کوئی گنجائش نہیں؛ بلکہ اس طرح کا مذاق مذموم ہے۔
جھوٹ بولنا
اس رسم ”اپریل فول“ میں سب سے بڑا گناہ جھوٹ ہے؛ جبکہ جھوٹ بولنا دنیا و آخرت میں سخت نقصان اور محرومی کا سبب ہے۔ نیز اللہ رب العالمین اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ناراضگی کا باعث ہے۔
قرآن کریم میں جھوٹ بولنے والوں پر لعنت کی گئی ہے۔ ارشاد مبارک ہے:
فنجعل لعنة اللّٰہ علی الکاذبین (آل عمران آیت ۶۱)
ترجمہ: پس لعنت کریں اللہ تعالیٰ کی ان لوگوں پر جو کہ جھوٹے ہیں۔
نیز احادیث شریفہ میں بھی مختلف انداز سے اس بدترین وذلیل ترین گناہ کی قباحت وشناعت بیان کی گئی ہے۔
حدیث ۱: حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
اذا کَذَبَ العبدُ تَبَاعَدَ عنہ المَلَکُ مِیلاً من نَتَنٍ ما جاء بہ (ترمذی شریف۲/۱۹)
ترجمہ: جب آدمی جھوٹ بولتا ہے تو اس کلمہ کی بدبو کی وجہ سے جو اس نے بولا ہے رحمت کا فرشتہ اس سے ایک میل دور چلا جاتا ہے۔
حدیث ۲: ایک حدیث شریف میں آپ نے جھوٹ کو ایمان کے منافی عمل قرار دیا، حضرت صفوان بن سُلیم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیاگیا کہ
أیکون الموٴمن جَبانا؟ قال: نعم، فقیل لہ أیکون الموٴمن بخیلا؟ قال: نعم، فقیل لہ أیکون الموٴمن کذّابا؟ قال: لا․ (موطا امام مالک ص۳۸۸)
ترجمہ:کیا موٴمن بزدل ہوسکتا ہے؟ آپ نے ارشاد فرمایا: ہاں، (مسلمان میں یہ کمزوری ہوسکتی ہے) پھر عرض کیاگیا کہ کیامسلمان بخیل ہوسکتا ہے؟ آپ نے ارشاد فرمایا: ہاں (مسلمان میں یہ کمزوری بھی ہوسکتی ہے) پھر عرض کیاگیا کیا مسلمان جھوٹا ہوسکتا ہے؟ آپ نے جواب عنایت فرمایا کہ نہیں، (یعنی ایمان کے ساتھ بے باکانہ جھوٹ کی عادت جمع نہیں ہوسکتی اور ایمان جھوٹ کو برداشت نہیں کرسکتا)۔
حدیث ۳: حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ آپ نے فجر کی نماز کے بعد اپنا خواب لوگوں سے بیان فرمایاکہ آج رات میں نے یہ خواب دیکھا کہ دو آدمی (فرشتے) میرے پاس آئے اور میرا ہاتھ پکڑ کر ارضِ مقدس کی طرف لے گئے تو وہاں دو آدمیوں کو دیکھا، ایک بیٹھا ہے اور دوسرا کھڑا ہوا ہے، کھڑا ہوا شخص بیٹھے ہوئے آدمی کے کلّے کو لوہے کی زنبور سے گدّی تک چیرتا ہے، پھر دوسرے کلّے کو اسی طرح کاٹتا ہے۔ اتنے میں پہلا کلاّ ٹھیک ہوجاتا ہے اور برابر اس کے ساتھ یہ عمل جاری ہے۔ میرے پوچھنے پر انھوں نے بتایا کہ:
اَمَّا الَّذِیْ رَأَیْتَہ یُشَقُّ شِدْقُہ فَکَذَّابٌ یُحَدِّثُ بِالْکَذِبَةِ فَتُحْمَلُ عَنْہُ حَتّٰی تَبْلُغَ الْاٰفَاقَ فَیُصْنَعُ بِہ اِلٰی یَوْمِ الْقِیٰمَةِ․ (بخاری شریف ۱/۱۸۵-۲/۹۰۰-۲/۱۰۴۳)
ترجمہ: بہرحال وہ شخص جس کو آپ نے دیکھا کہ اس کے کلّے چیرے جارہے ہیں، وہ ایسا بڑا جھوٹا ہے جس نے ایسا جھوٹ بولا کہ وہ اس سے نقل ہوکر دنیا جہاں میں پہنچ گیا؛ لہٰذا اس کے ساتھ قیامت تک یہی معاملہ کیا جاتا رہے گا۔
حدیث ۴: رسول اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم  نے ایک حدیث میں جھوٹ بولنے کو بڑی خیانت قرار دیا ہے۔ حضرت سفیان ابن اسید حضرمی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
کَبُرَتْ خِیَانَةً أَنْ تُحَدِّثَ اَخَاکَ حَدِیْثًا ہُوَ لَکَ بِہ مُصَدِّقٌ وَاَنْتَ بِہ کَاذِبٌ․ (مشکوٰة شریف ۲/۴۱۳)
ترجمہ: یہ بڑی خیانت ہے کہ تو اپنے بھائی سے ایسی گفتگو کرے جس میں وہ تجھے سچا سمجھتا ہو حالانکہ تو اس سے جھوٹ بول رہا ہو۔
حدیث ۵: اسی طرح ایک حدیث شریف میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جھوٹ بولنے سے بچنے پر (اگرچہ مذاق سے ہی ہو) جنت کی ضمانت لی ہے۔ حضرت ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
اَنَا زَعِیْمٌ بِبَیْتٍ فِیْ وَسَطِ الجَنَّةِ لِمَنْ تَرَکَ الکِذْبَ وَاِنْ کَانَ مَازِحًا․ (الترغیب والترہیب ۳/۵۸۹)
ترجمہ: میں اس شخص کے لیے جنت کے بیچ میں گھر کی کفالت لیتاہوں جو جھوٹ کو چھوڑدے، اگرچہ مذاق ہی میں کیوں نہ ہو۔
حدیث ۶: حضرت بہز بن حکیم اپنے والد معاویہ کے واسطہ سے اپنے دادا حیدہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
وَیْلٌ لِّلَّذِیْ یُحَدِّث بِالْحَدِیْثِ لِیُضْحِکَ بِہ الْقَومَ فَیَکْذِبُ ویل لہ ویل لہ․ (ترمذی شریف ۲/۵۵، ابوداؤد ۲/۶۸۱)
ترجمہ: جو شخص لوگوں کو ہنسانے کے لیے جھوٹ بولے اس کے لیے بربادی ہو، بربادی ہو، بربادی ہو۔
مطلب یہ ہے کہ صرف لطف صحبت اور ہنسنے ہنسانے کے لیے جھوٹ بولنا بھی ممنوع ہے۔ آج کل لوگ نت نئے چٹکلے تیار کرتے ہیں اور محض اس لیے جھوٹ بولتے ہیں تاکہ لوگ ہنسیں، انھیں آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد یاد رکھنا چاہیے اور اس برے فعل سے باز آنا چاہیے۔
دھوکہ دینا
اپریل فول کی رسم بد میں چوتھا گناہ، مکروفریب ہے؛ حالانکہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم اس گناہ پر سخت الفاظ سے وعید بیان فرمائی ہے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
مَنْ غَشَّنَا فَلَیْسَ مِنَّا․(مسلم شریف ۱/۷۰) جو شخص ہم کو (مسلمانوں کو) دھوکا دے اس کا ہم سے کوئی تعلق نہیں۔
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
الموٴمنون بَعضُہم لِبَعْضٍ نَصَحَةٌ وَادُّون، وَانْ بَعُدَتْ منازلہم وَاَبْدَانُہُمْ وَالفَجَرَةُ بعضہم لبعضٍ غَشَشَةٌ مُتَخَاوِنُوْنَ وَاِنْ اقْتَرَبَتْ مَنَازِلُہُمْ وَاَبْدَالُہُمْ․ (الترغیب والترہیب ۲/۵۷۵)
ترجمہ: موٴمنین آپس میں ایک دوسرے کے خیرخواہ اور محبت کرنے والے ہوتے ہیں اگرچہ ان کے مکانات اور جسم ایک دوسرے سے دور ہوں اور نافرمان لوگ آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ دھوکے باز اور خائن ہوتے ہیں، اگر ان کے گھر اور جسم قریب قریب ہوں۔
مطلب یہ ہے کہ ایک دوسرے کے ساتھ دھوکہ بازی اللہ تعالیٰ سے بغاوت کرنے والوں اور نافرمانوں کا عمل ہے، موٴمنین کا عمل تو ایک دوسرے کے ساتھ خیرخواہی کرنا ہے۔ لہٰذا کسی بھی ایمان والے کو دوسروں کے ساتھ دھوکے کا معاملہ نہیں کرنا چاہیے۔
ایک عبرت ناک واقعہ
      عبدالحمید بن محمود معولی کہتے ہیں کہ میں حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی مجلس میں حاضر تھا، کچھ لوگ آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ ہم حج کے ارادہ سے نکلے ہیں جب ہم ذات الصفاح (ایک مقام کا نام) پہنچے تو ہمارے ایک ساتھی کا انتقال ہوگیا، ہم نے اس کی تجہیز وتکفین کی، پھر قبر کھودنے کا ارادہ کیا، جب ہم قبر کھود چکے تو ہم نے دیکھا کہ ایک بڑے کالے ناگ نے پوری قبر کو گھیر رکھا ہے، اس کے بعد ہم نے دوسری جگہ قبر کھودی تو وہاں بھی وہی سانپ موجود تھا۔ اب ہم میّت کو ویسے ہی چھوڑ کر آپ کی خدمت میں آئے ہیں کہ ہم ایسی صورتِ حال میں کیا کریں؟ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ یہ سانپ اس کا وہ بد عمل ہے جس کا وہ عادی تھا، جاؤ اس کو اسی قبر میں دفن کردو، اللہ کی قسم اگر تم اس کے لیے پوری زمین کھود ڈالوگے پھر بھی وہ سانپ اس کی قبر میں پاؤگے۔ بہرحال اسے اسی طرح دفن کردیاگیا۔ سفر سے واپسی پر لوگوں نے اس کی بیوی سے اس کا عمل پوچھا، تو اس نے بتایا کہ اس کا یہ معمول تھا کہ وہ غلہ کا تاجر تھا اور روزانہ بوری میں سے گھر کا خرچ نکال کر اس میں اسی مقدار کا بھس ملادیتا تھا۔ (گویا کہ دھوکہ سے بھس کو اصل غلہ کی قیمت پر فروخت کرتا تھا)۔ (شرح الصدور للسیوطی، ص۱۷۴)
دوسرے کو تکلیف دینا
ایک حدیث شریف میں صحیح اور کامل مسلمان اس کو قرار دیاگیا ہے جو کسی مسلمان بھائی کو تکلیف نہ دے؛ بلکہ ہمارا مذہب اسلام تو یہ تعلیم دیتا ہے کہ ایک موٴمن کے ہاتھ وغیرہ سے پوری دنیا کے انسان (مسلم ہو یا غیرمسلم) محفوظ ہونے چاہئیں؛ بلکہ جانوروں کو تکلیف دینا بھی انتہائی مذموم، بدترین اور شدید ترین گناہ؛ بلکہ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے دوری کا سبب ہے۔ چنانچہ صحیح بخاری میں حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ سے اور صحیح مسلم میں حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
اَلْمُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُوْنَ مِنْ لِسَانِہ وَیَدِہ․ (بخاری شریف۱/۶، مسلم شریف۱/۴۸)
ترجمہ: کامل مسلمان وہ شخص ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔
اسی طرح حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ:
اَلْمُوٴْمِنُ مَنْ أَمِنَہُ النَّاسُ عَلٰی دِمَائِہِمْ وَأَمْوَالِہِمْ․ (ترمذی شریف۲/۹۰)
ترجمہ: کامل موٴمن وہ شخص ہے جس سے تمام لوگ اپنے خونوں اور مالوں پر مامون و بے خوف وخطر رہیں۔
حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
مَلْعُوْنٌ مَنْ ضَارَّ مُوٴْمِنًا أوْ مَکَرَ بِہ (ترمذی شریف ۲/۱۵)
ترجمہ: وہ شخص اللہ تعالیٰ کی رحمت سے دور ہے جو کسی موٴمن کو نقصان پہنچائے یا اس کے ساتھ چال بازی کا معاملہ کرے۔
مندرجہ بالا تفصیل کا حاصل یہ ہے کہ ”اپریل فول“ بہت سارے بدترین گناہوں کا مجموعہ ہے؛ لہٰذا اب ہم مسلمانوں کو خود فیصلہ کرلینا چاہیے کہ آیا یہ رسمِ بد اس لائق ہے کہ مسلمان معاشرہ میں اپناکر اس کو فروغ دیا جائے؟ اللہ تعالیٰ تمام مسلمانوں کو اس طرح کی تمام برائیوں سے محفوظ فرمائے اور دین کی صحیح سمجھ عطا فرمائے، آمین یا رب العالمین!

مذھبی تحریر لکھتے وقت یہ احتیاطیں ضرور کریں

احتیاط:
عوام کو چاھیے جب بھی کسی دینی موضوع پر کوئی بات لکھیں ،تو کسی معتبر اسلامی کتاب سے دیکھ کر ھی لکھیں .
اور اس پر بھی اپنی طرف سے کوئی نوٹ یا وضاحت وغیرہ ھر گز نہ لکھیں .کیونکہ بعض اوقات بھت بڑی غلطیاں ھو جاتی ھیں .اور ثواب کے بجائے انسان سخت گناہ گار ھوتا ھے .

گناھوں والے خیالات کب آتے ھیں

خیالات:
عموما فرصت میں گناھوں والے خیالات آتے ھیں، خود کو مصروف رکھیں،بھت سے گناھوں سے بچ جائیں گے.

پاکستان نے اکتالیس ملکی فوجی اتحاد میں شمولیت کی تصدیق کر دی

پاکستان نے اکتالیس ملکی فوجی اتحاد میں شمولیت کی تصدیق کر دی .
31 march 2017
Dunya newspaper

Thursday, March 30, 2017

فتنہ گر قوم برطانیہ

اگر کسی دوسرے ملک میں بغاوت کروانا، ایک گٹھیا اور قابل مذمت جرم ھے ،تو یہ جرم سو سال پھلے برطانیہ لارنس آف عربیہ کے ذریعے  سلطنت عثمانیہ میں کر چکا ھے .
گٹھیا قوم برطانیہ
فتنہ گر قوم برطانیہ

مسلمانوں کے ٹکڑے کرنے والے مولوی

مولوی لارنس:
سو سال قبل عربی زبان بولنے والا اور مقامی لباس پہننے والا لارنس تھا
اور آج جبّے والے، داڑھیوں والے  مولویوں اور عالموں کے بھیس میں لارنس  موجود ہیں
اور وہی کام کر رہے ہیں جو سو سال قبل کے لارنس نے کیا  تھا .
صدر رجب طیب ایردوان

توجہ طلب:
یعنی مسلمانوں کو ٹکڑے ٹکڑے کر رھے ھیں

کلام اقبال لا الہ الا اللہ

لا الہ الا اللہ
خودی کا سر نہاں لا الہ الا اللہ
خودی ہے تیغ، فساں لا الہ الا اللہ

یہ دور اپنے براہیم کی تلاش میں ہے
صنم کدہ ہے جہاں، لا الہ الا اللہ

کیا ہے تو نے متاع غرور کا سودا
فریب سود و زیاں ، لا الہ الا اللہ

یہ مال و دولت دنیا، یہ رشتہ و پیوند
بتان وہم و گماں، لا الہ الا اللہ

خرد ہوئی ہے زمان و مکاں کی زناری
نہ ہے زماں نہ مکاں، لا الہ الا اللہ

یہ نغمہ فصل گل و لالہ کا نہیں پابند
بہار ہو کہ خزاں، لا الہ الا اللہ

اگرچہ بت ہیں جماعت کی آستینوں میں
مجھے ہے حکم اذاں، لا الہ الا اللہ

علامہ اقبال

Kalam e iqbal khudi ka sir e neha

معیشت کی تنگی کی وجہ قرآن کی زبانی

دنیاوی معاش کی تنگی کی وجہ:
قرآن کریم میں ھے:
اور جس نے میرے ذکر (یعنی میری یاد اور نصیحت) سے روگردانی کی، تو اس کے لئے دنیاوی معاش (بھی) تنگ کردیا جائے گا
اور ہم اسے قیامت کے دن (بھی) اندھا اٹھائیں گے.

"وَ مَنۡ اَعۡرَضَ عَنۡ ذِکۡرِیۡ فَاِنَّ لَہٗ مَعِیۡشَۃً ضَنۡکًا وَّ نَحۡشُرُہٗ یَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ  اَعۡمٰی "
"طہ:124"
#islam #Quran #Economic

اتحاد امت کے دشمن

اتحاد:
ھر وہ شخص مسلمانوں کا خیر خواہ نھیں ھے ،جو اتحاد امت کی راہ میں رکاوٹ ھے .
Etehad e Ummat k Dushman

جنات کے متعلق اسلامی عقائد

جنات کے متعلق عقائد:
یہ آگ سے پیدا کیے گئے ہیں۔
اِن میں بھی بعض کو یہ طاقت دی گئی ہے کہ جو شکل چاہیں بنا جائیں
  اِن کی عمریں بہت طویل ہوتی ہیں
اِن کے شریروں کو شیطان کہتے ہیں
یہ سب انسان کی طرح ذی عقل اور ارواح و اجسام والے ہیں
اِن میں توالد و تناسل ہوتا ہے
کھاتے، پیتے، جیتے، مرتے ہیں۔
اِن میں مسلمان بھی ہیں اور کافر بھی
مگر اِن کے کفّار انسان کی بہ نسبت بہت زیادہ ہیں .
اور اِن میں کے مسلمان نیک بھی ہیں اور فاسق بھی، سُنّی بھی ہیں، بد مذہب بھی
اور اِن میں فاسقوں کی تعداد بہ نسبت انسان کے زائد ہے۔  اِن کے وجود کا انکار یا بدی کی قوت کا نا م جن یا شیطان رکھنا کفر ہے
" بھار شریعت "
  #Islam #Aqeeda

مشورہ کرنے کا فائدہ

مشورہ:
نبی کریم علیہ السلام نے فرمایا:
«لَنْ يَهْلِكَ رَجُلٌ بَعْدَ مَشُورَةٍ»
آدمی ھر گز مشورے کے بعد ھلاک نھیں ھو گا.
کتاب :  "الادب"
مولف : "امام ابن ابی شیبہ"

توجہ طلب:
ھر کام سے پھلے مشورے کی عادت بنا لیں،
دینی معاملات میں نیک علماء کرام سے مشورہ لیں.
دنیاوی معاملات میں اھل علم اور عقلمند لوگوں سے مشورہ لیں .

کسی تحریک کے ٹکڑے کرنے کا آسان طریقہ

کسی تحریک کے ٹکڑے کرنے کا آسان طریقہ یہ ھے ،کہ اس میں چند بریلوی علماء کو شامل کر دیا جائے.
Barelvi  Maslak ki her Tehreek k Tukray

سوال:بریلوی مسلک میں جھالت کے ذمہ دار کون ھیں ..؟

بریلوی مسلک میں جھالت کے ذمہ دار کون ھیں ..؟
بریلوی پیر ....بریلوی علماء...بریلوی نعت خواں

سوال: کیا شوھر سے پھلے بھی عورت کے پاؤں تلے جنت ھوتی ھے ..؟؟

سوال: کیا شوھر سے پھلے بھی عورت کے پاؤں تلے جنت ھوتی ھے ..؟؟

پچاسی فیصد گستاخانہ مواد ھٹا لیا گیا ھے .بقول چوھدری نثار

چوھدری نثار کے بقول پچاسی فیصد گستاخانہ مواد ھٹا دیا گیا ھے ...کیا سچ بھی یھی ھے ..؟؟

ڈاکٹر طاھر القادری صاحب بیمار ھیں آج کل

ڈاکٹر طاھر القادری صاحب بیمار ھیں ....دل مانے تو ان کے لیے دعا کر دیں ....ھم تو ھر مسلمان کے لیے دعا گو ھیں ...اللہ سب کی بیماریوں کو دور فرمائے .

Date :30 March 2017

سوشل میڈیا کا ایک فائدہ

سوشل میڈیا کا ایک فائدہ:
سوشل میڈیا نے ہر فرد کی تخلیقی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے میں نہایت اہم کردار ادا کیا ہے۔

اس کی خوبیوں میں سے ایک سٹیزن جرنلزم کو فروغ دینا ہے یعنی اس نے ہر فرد کو نہ صرف صحافی بنا دیا ہے
بلکہ اسے ادارتی و مالکانہ حقوق بھی عطا کر دیے ہیں۔

اس نے بہت خوبصورت لکھنے والوں کی ایک کھیپ پیدا کی ہے اور اسے لوگوں کے سامنے متعارف کروایا ہے۔

قلم کار تجربہ کار ہو یا اس نے اس دشت میں تازہ قدم رکھا ہو، سب کو قاری کی ضرورت ہے کہ قاری نہ ہو تو تخلیق کا مقصد فوت ہوجاتا ہے۔
سوشل میڈیا نے یہ کمی بھی دور کر دی ہے اور اب ہر لکھاری کے لیے ہزاروں قارئین دستیاب ہیں۔
یہ تو ایک فائدہ تھا ..نقصانات کیا کیا ھیں ...یہ آپ بتا دیں


Social Media ka aik faida 

پاکستانی عدل و انصاف کی واضح مثال چار سو اناسی ارپ کی کرپشن

چار سو اناسی ارب کی کرپشن کے باوجود ڈاکٹر عاصم کی ضمانت منظور
سندھ ھائیکورٹ کا حکم
عدلیہ کا شکر گزار ھوں .ڈاکٹر عاصم

30 march 2017
newspaper .

گورے کالے سب مسلمان بھائی بھائی ھیں . #طیب_اردگان

گورے کالے سب مسلمان بھائی بھائی ھیں .
#طیب_اردگان
Turkey and  Tayyab Erdogan

امریکہ میں مسلمان گھر پر حملہ قرآن کریم کی بے حرمتی

وہ تمھارے سخت دشمن ھیں ....جبکہ تم انھیں دوست سمجھتے ھو .....یہ خبر غور سے پڑھیں .

امریکہ میں مسلمان خاندان کے گھر پر حملہ، قرآن کی بے حرمتی اور دیواروں پر اسلام مخالف نعرے لکھ دیے .
American muslisms
Terrorist America

فسادی ممالک کے نام ھالینڈ ،برطانیہ،امریکہ

چند فسادی ممالک کے نام
ھالینڈ ،برطانیہ،امریکا اور کینیڈا

بریلوی مسلک کی ناکامی کی سب سے بڑی وجہ

جب تک کسی جماعت کے پاس متفقہ منشور نھیں ھوتا ،وہ متحد ھو کر کام نھیں کر سکتی .
بد قسمتی سے بریلوی مسلک کے پاس کوئی متفقہ منشور نھیں ھے .

Wednesday, March 29, 2017

ان کا میڈیا اور ھمارا میڈیا :کالم نگار مفتی منیب الرحمن صاحب

کالم:
ان کا میڈیا اور ھمارا میڈیا :
کالم نگار :
مفتی منیب الرحمن صاحب
اخبار:
روزنامہ دنیا
Mufti Muneeb ur Rehman urdu coulmn
un ka media or hamara media

چار سو اناسی ارب کی کرپشن کے مقدمات میں ڈاکٹر عاصم کی ضمانت منظور

چار سو اناسی ارب کی کرپشن کے مقدمات میں ڈاکٹر عاصم کی ضمانت منظور
سندھ ھائیکورٹ کا حکم

عدلیہ کا شکر گزار ھوں .
ڈاکٹر عاصم

30 march 2017
Express newspaper

جنات کے متعلق اسلامی عقیدہ

جنات کے متعلق عقائد:
یہ آگ سے پیدا کیے گئے ہیں۔
اِن میں بھی بعض کو یہ طاقت دی گئی ہے کہ جو شکل چاہیں بنا جائیں
  اِن کی عمریں بہت طویل ہوتی ہیں
اِن کے شریروں کو شیطان کہتے ہیں
یہ سب انسان کی طرح ذی عقل اور ارواح و اجسام والے ہیں
اِن میں توالد و تناسل ہوتا ہے
کھاتے، پیتے، جیتے، مرتے ہیں۔
اِن میں مسلمان بھی ہیں اور کافر بھی
مگر اِن کے کفّار انسان کی بہ نسبت بہت زیادہ ہیں .
اور اِن میں کے مسلمان نیک بھی ہیں اور فاسق بھی، سُنّی بھی ہیں، بد مذہب بھی
اور اِن میں فاسقوں کی تعداد بہ نسبت انسان کے زائد ہے۔  اِن کے وجود کا انکار یا بدی کی قوت کا نا م جن یا شیطان رکھنا کفر ہے
" بھار شریعت "
  #Islam #Aqeeda

قرآنی دعا

ھدایت کے بعد بھی دعا:
قرآن کریم میں ھے:
"رَبَّنَا لَا تُزِغۡ قُلُوۡبَنَا بَعۡدَ  اِذۡ ہَدَیۡتَنَا وَ ہَبۡ لَنَا مِنۡ لَّدُنۡکَ رَحۡمَۃً ۚ اِنَّکَ اَنۡتَ الۡوَہَّابُ "
اے ہمارے رب! ہمیں ہدایت دینے کے بعد ہمارے دل ٹیڑھے نہ کر
اور ہمیں اپنے پاس سے رحمت عطا فرما، یقیناً تو ہی بہت بڑی عطا دینے والا ہے.
"آل عمران:8"
#Duwa #islam #Quran

مدرسہ اور رجب طیب اردگان

مدرسہ اور طیب اردگان :
مدرسہ کا پڑھا ہوا صدر مملکت!
گزشتہ دنوں مدرسے کی ایک بڑی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ترکی کے صدر جناب رجب طیب اردگان صاحب نے فرمایا: جب بچپن میں، میں مدرسے میں پڑھنے جاتا تو ہمارے علاقے کے کئی لوگ مجھ سے کہا کرتے کہ بیٹے! کیوں اپنا مستقبل خراب کررہے ہو؟ کیا تمہیں بڑے ہوکر مُردے نہلانے کی نوکری کرنی ہے؟ مدرسے میں پڑھنے والے کو غسّال کے علاوہ کوئی روزگار مل سکتا ہے؟ لہذا کسی اچھے اسکول میں داخلہ لے لو اور اپنا مستقبل سنوارنے کی فکر کرو۔
اس قسم کی نصیحت کرنے والوں میں زیادہ تر بوڑھے ہوتے اور میحں بڑے ادب سے ان کی باتیں سنتا اور مسکراتے ہوئے اپنی کتابیں بغل میں دبائے مدرسۃ امام الخطیب کی طرف گامزن ہوتا۔ فرمایا کہ میرے والد پھل فروش تھے۔ ان کے مالی حالات اس بات کے متحمل نہیں تھے کہ وہ مجھے کسی اسکول میں ڈالتے، ہمارے گھر میں بعض اوقات سالن کے بجائے خربوزے کے ساتھ روٹی کھائی جاتی۔ پھر والد کی دین سے والہانہ محبت تھی کہ مجھے حفظ قرآن کی کلاس میں ڈال دیا تھا۔
پھر وقت گولی کی رفتار سے چلتا رہا اور میں نے استنبول کے اسی مدرسے سے 1973ء میں اپنی تعلیم مکمل کی۔ قرآن مجید تجوید کے ساتھ حفظ کیا۔ گو کہ بعد میں یونیورسٹی سے بھی پڑھا۔ میں نے ترکی کی معروف مرمرہ یونیورسٹی میں داخلہ لیا اور اکنامکس اینڈ ایڈمنسٹریٹو سائنس میں ماسٹر کیا۔ مگر ابتدائی تعلیم مدرسے سے ہی حاصل کی تھی۔ اب جب بھی مجھے ان بزرگوں کی نصیحتیں یاد آتی ہیں اور خود پر کریم رب کی رحمتوں کی بارش دیکھتا ہوں تو بے اختیار آنکھیں چھلک پڑتی ہیں۔ یہ کہہ کر اردگان نے حاضرین کو بھی اشک بار کر دیا۔
واضح رہے کہ مسلم حکمرانوں میں اردگان پورے عالم اسلام میں مقبول ترین لیڈر ہیں۔ ٹیوٹر میں سب سے زیادہ فالورز انہی کے ہیں اور ان میں بھی ستر فیصد عرب ہیں۔ اسرائیل کو منہ توڑ جواب دینے کے بعد عرب دنیا میں انہیں ''البطل'' (ہیرو) کا خطاب مل چکا ہے۔
یاد رہے اس وقت دنیا میں سب سے زیادہ بچے ترکی کے دینی مدارس میں زیر تعلیم ہیں۔ 2015ء کے اوائل میں جاری اعدادوشمار کے مطابق ان طلبہ کی تعداد 40 لاکھ سے تجاوز کر چکی تھی۔ تاہم وہاں کے مدارس کا نظام تعلیم بھی مکمل جدید خطوط پر استوار ہے۔ (رپورٹ، الجزیرہ)
تحریر : کاپی شدہ

لارنس آف عربیہ کا مختصر تعارف

لارنس آف عربیہ کا مختصر تعارف:
لارنس آف عربیہ برطانوی افواج کا ایک معروف افسر تھا، جسے پہلی جنگ عظیم کے دوران سلطنت عثمانیہ کے زیر نگیں عرب علاقوں میں بغاوت کو منظم کرنے کے باعث عالمی شہرت ملی۔

اس بغاوت کے نتیجے میں جنگ عظیم کے بعد عرب علاقے سلطنت عثمانیہ کی دسترس سے نکل گئے۔

اسلامی خلافت کے خاتمے کے لیے عربوں میں قوم پرستی کے جذبات جگا کر انہیں ترکوں کے خلاف متحد کرنے کے باعث انہیں "لارنس آف عربیہ" (Lawrence of Arabia) بھی کہا جاتا ہے۔

لارنس جدہ(موجودہ سعودی عرب) کے نواح میں 1917
1915 ء کے آخری عشرے میں
جب ترک مجاہدوں نے انگریز حملہ آوروں کو ناکوں چنے چبوائے
اور مارچ 1916ء کو دریائے دجلہ کے کنارے ترک کرنل خلیل پاشا نے برطانیہ کی دس ہزار سپاہ کو عبرتناک شکست دی.

تو انگریزوں کو یہ احساس ہو گیا کہ وہ مسلمانوں کا میدان جنگ میں مقابلہ نہیں کرسکتے ۔
لارڈ کرزن نے ہوگرتھ کے ذریعے " تقسیم کرو اور حکومت کرو" کے مشن پر عمل کرنے کی ہدایت کی ،

لارنس نے عربی لباس بھی پہننا شروع کیا وہ عربی زبان اچھی خاصی جانتا تھا لہٰذا لارنس آف عربیہ کے نام سے مشہور ہوا ۔

ستمبر 1911ء میں اس نے بصرہ کے ہوٹل میں جاسوسی کا ادارہ قائم کیا اور دو عرب نوجوانوں کو بھی اپنے ساتھ شامل کیا ۔
ایک امریکن جاسوس یہودی لڑکی بھی اسکے ساتھ مل گئی، جس نے اسکی بڑی مدد کی۔ وہ انتہائی خوبصورت تھی۔ اس نے عربی نوجوانوں پر دام حسن ڈال کر ترکوں کی بیخ کنی شروع کردی ۔
  لارنس بڑا عقلمند اور جہان دیدہ تھا۔

وہ بصرہ کی مسجد میں گیا اور مسلمان ہونے کا اعلان کیا۔ عربی لباس پہن کر عرب صحرا نشینوں میں گھل مل گیا۔ لارنس نے بدوؤں میں دو لاکھ پونڈ ہر ماہ تقسیم کرنا شروع کردیے،
اس نے " پونڈ" پانی کی طرح بہا کر عربوں کو اپنا مداح بنا لیا۔وہ اس کو اپنا محسن اور مربی سمجھنے لگے
اور ان کی مدد سے لارنس نے گورنر مکہ حسین ہاشمی تک رسائی حاصل کر لی
اور اپنی چرب زبانی اور مکارانہ چالوں سے حسین ہاشمی کو گمراہ کرنے میں زیادہ دقت پیش نہ آئی۔
پاسبان حرم کو شیشے میں اتارنے کے بعد لارنس نے اپنی پوری توجہ حسین ہاشمی کے بیٹوں عبداللہ، علی، فیصل اور زید پر مرکوز کی۔
انکو باور کرایا کہ سيد زاده ہو کر دوسروں کی ماتحتی میں زندگی گزارنا ذلت آمیز ہے ۔
ابتداء میں تو چاروں نے لارنس کی بات پر زیادہ توجہ نہ دی مگر اپنے باپ کے پیہم اصرار پر اور لارنس کی چکنی چپڑی باتوں کے باعث ان کے دلوں میں آہستہ آہستہ ترکوں کے خلاف نفرت پیدا ہو گئی
اور پھر ایک دن انہوں نے اپنے مکان کی کھڑکی سے ترکوں پر گولیاں برسانا شروع کر دیں ۔اس طرح ترکوں کے خلاف عربوں کی بغاوت کا آغاز کروا کر لارنس بڑا خوش ہوا اور لندن اطلاع دی کہ کھیل شروع ہوگیا ہے۔

توجہ طلب:
1-عیسائی دھوکہ دینے کے لیے بظاھر مسلمان بھی ھو جاتے ھیں.
2-عیسائی مسلمانوں کو تقسیم کرنے کے لیے ایسے لوگ بھیجتے رھتے ھیں.
3-سوچنے کی بات یہ ھے  کہ ایسی گٹھیا حرکتیں ایک مھذب  قوم کر سکتی ھے ...؟؟
اگر وہ کر سکتی ھے ،تو ھمیں بھی کرنی چاھیے

Tuesday, March 28, 2017

آج اسلام کو ضرورت ھے

اسلام:
آج اسلام کو آپ کے وقت اور آپکی صلاحیتوں کی ضرورت ھے .
#islam

اھل علم میدان میں آجائیں

اب بھی وقت ھے اھل علم اپنی خاموشی توڑ کر میدان میں آجائیں.
#اسلام

راستہ بدل لیں:

تبدیلی:
مدتوں جس راہ پر چل کر بھی منزل نہ ملے ،وہ راستہ ھی بدل لینا چاھیے .
#Tabdeeli

Monday, March 27, 2017

نبی کریم علیہ السلام کے متعلق امام غزالی کا تحریر کردہ عقیدہ

نبی کریم علیہ السلام کے متعلق امام غزالی کا تحریر کردہ عقیدہ:
امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ھیں:
بے شک اللہ تعالی نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
کو  جو امی اور قریشی ھیں
تمام عرب و عجم اور جن و انس کی طرف مبعوث فرمایا ھے .
اللہ تعالی نے آپ کی شریعت کے ذریعے تمام  شریعتوں کو منسوخ کر دیا ھے.
مگر سوائے ان بعض امور کے جن کو شریعت اسلامیہ نے باقی رکھا .
اور اللہ تعالی نے آپ کو تمام انبیاء پر فضیلت دی .
اور آپ کو سید البشر  یعنی تمام بشر کا سردار بنایا .

وَأَنه بعث النَّبِي الْأُمِّي الْقرشِي مُحَمَّدًا صلى الله عَلَيْهِ وَسلم برسالته إِلَى كَافَّة الْعَرَب والعجم وَالْجِنّ وَالْإِنْس
فنسخ بِشَرِيعَتِهِ الشَّرَائِع إِلَّا مَا قَرَّرَهُ مِنْهَا
وفضله على سَائِر الْأَنْبِيَاء
وَجعله سيد الْبشر
 
"قواعد العقائد"

توجہ طلب:
امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ تمام مکاتب فکر کے نزدیک معتبر شخصیت ھیں.
#Aqeeda

آج بھی لارنس موجود ھیں

سو سال قبل عربی زبان بولنے والا اور مقامی لباس پہننے والا لارنس تھا اور آج جبّے والے، داڑھیوں والے  مولویوں اور عالموں کے بھیس میں لارنس  موجود ہیں اور وہی کام کر رہے ہیں جو سو سال قبل کے لارنس نے کیا:
صدر رجب طیب ایردوان

کامیابی کا راز

کامیابی:
تین باتیں طے کر کے تمام توانائیاں اس پر صرف کردیں،جلد کامیابی آپ کے قدم چومے گی.
اول : کیا کرنا ھے ..؟
دوم: کیوں کرنا ھے ..؟
سوم: کیسے کرنا ھے ..؟
#Kamyabi

یورپ دھشت گردی اور دھشت گردوں کے ساتھ ھے ترک رھنما

یورپ دھشت گردی اور دھشت گردوں کے ساتھ  ایک ھی پلڑے میں ھے .
چاوش اولو
ترک رھنما

دوران مباحثہ و مناظرہ نازیبا الفاظ کا استعمال

آداب مباحثہ:
سخت لھجہ اور نا زیبا الفاظ کا استعمال آپ کے دلائل کے انبار کو بے وزن کر دیتا ھے.

Follow me on Fb 

Facebook.com/Ehsan.ullah.kiyani

#Daleel #islam #Tehzeeb #Adab

Sunday, March 26, 2017

فضائل صحابہ کی ترتیب یہ ھے ،ابوبکر ،عمر ،عثمان،علی رضوان اللہ علیھم

فضائلِ صحابہ کے متعلق عقیدہ:
امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ھیں:
انبیائے کرام کے بعد لوگوں میں سب سے افضل حضرت ابوبکر صدیق ھیں .
ان کے بعد حضرت عمر فاروق ھیں .
ان کے بعد حضرت عثمان ذوالنورین ھیں.
ان کے بعد حضرت علی بن ابی طالب ھیں.
رضوان اللہ علیھم اجمعین.

"أفضل الناس بعد النبيين عليهم الصلاة والسلام
أبو بكر الصديق
ثم عمر بن الخطاب الفاروق
ثم عثمان بن عفان ذو النورين
ثم علي بن أبي طالب المرتضى
رضوان الله عليهم أجمعين"

"الفقہ الاکبر"

توجہ طلب:
امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ تابعین میں سے ھیں.

Follow me on Fb 

Facebook.com/Ehsan.ullah.kiyani

#islam #Aqeeda #sahaba

Translate in your Language

LinkWithin

Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...

Join us on