Friday, July 15, 2016

Syed Ahmed Shaheed aur Shah ismail Saheed k Halat e Zindagi


بسم اللہ الرحمن الرحیم
سید احمد شہید اور شاہ اسماعیل شہید :۔۔۔۔۔۔
پہلے یہ جان لیجیے کہ یہ حضرات کہاں پیدا ہوئے ،اور ان کا وطن کونسا تھا؟

دونوں حضرات ہندوستان میں پیدا ہوئے :۔۔۔۔۔۔
یہ دونوں حضرات ہندوستان میںپیدا ہوئے ،سید احمد صاحب بریلی میں پید اہوئے ،اورشاہ اسماعیل شہید صاحب دہلی میں پیدا ہوئے،اسی لیے انھیں اسماعیل دہلوی بھی کہتے ہیں ، ان دونوں حضرات کا وطن ہندوستان تھا ۔

اب ہم آپ کے سامنے ہندوستان کی مختصر تاریخ پیش کرتے ہیں ،تاکہ آپ کو حالات کو سمجھنے میںآسانی ہو ۔

ہندوستان کی مختصر تاریخ:۔۔۔۔۔۔
٧١٢ء میں سند ھ میںمحمد بن قاسم کے حملے سے ٩٠ سال قبل ہند میں اسلام پھیل چکا تھا ،اس کی تفصیل میں نہیں جاتے ،مختصربات یہ ہے کہ ہند وستان پر مسلمانوں نے ایک ہزار برس کی طویل حکومت کی ،مسلمان اعلی عہدوں پر فائز تھے ،سب کچھ مسلمانوں کے ہاتھوں میں تھا ،پھر ١٦٠٠ء میں ایسٹ انڈیا کمپنی ہندوستان آئی،اور اپنی عیاری ومکاری سے مختلف ریاستوں پر قابض ہو گئی ،پھر ١٧٦٥ء میں انھیں تمام دیوانی حقوق مل گئے ،جس سے کمپنی مزید مستحکم ہوگئی،مگر اس وقت بھی مسلمان اعلی عہدوں پر فائز تھے،اورسرکاری زبان بھی فارسی ہی تھی، لیکن ١٧٨٣ء میں بہت سے عہدے انگریزوں کیلئے مختص کر دیے گئے ،پھر کچھ عرصے بعد یہ کہا گیا ،کہ ہر شخص اپنی ملکیت کے کاغذات چیک کروائے ،اس بہانے بھی بے شمار مسلمانوں کی جائیدادیں ضبط کر لی گئی،پھر ١٨٣٧ء میں مسلمانوں کو ملازمتوںسے ہٹانے کیلئے فارسی کی جگہ انگریزی اور دیگر صوبائی زبانوں(آڑیہ،بنگالی،مراٹھی) میںدفتری کام شروع کر دیا گیا ،جس سے ہزاروں مسلمانوں کو ملازمت سے ہاتھ دھوناپڑے ،پھر اسلامی ضابطہ فوجداری کی جگہ تعزیرات ہند کے نفاذ نے تو رہی سہی مسلمانوں کی حالت بھی ختم کر دی ،انگر یز ہر بارمسلمانوں کی بربادی کا نیا منصوبہ لے کر آتے تھے،پھریہ بھی ستم تھا ،کہ انگریز برتن ،کپڑا ،گھوڑے وغیرہ انگلستان سے لاتے تھے ،اور ملک کی تمام پیداور کو خرید کر ،غلے کی قیمت اور سپلائی پر اجارہ داری قائم کر لیتے تھے ،تاکہ مخلوق خدا ان کی محتاج ہو جائے ،ایک بات بڑی قابل توجہ ہے،یاد رکھیں! دوسرے مذہب کے باشندوں پر حکومت کر نا کافی مشکل ہوتا ہے ،اس لیے انگریز نے مذہبی جذبے کو ختم کرنے کیلئے مختلف منصوبے بنائے ،مسلمانوں کو خنزیراور ہندؤں کو گائے کی چربی والے کارتوس دیے جاتے تھے،جو منہ سے کاٹنے پڑتے تھے،مسلمانوں کے ختنہ پر پابندی عائد کر دی گئی،اس کے علاوہ جو ظلم کے پہاڑ انھوں نے ہندوستانیوںاور بالخصوص مسلمانوں پر ڈھائے ،اس کی مثال نہیں ملتی ،زندہ مسلمانوں کو سور کی چربی میں سلوا کر گرم تیل میں پھینکوا دیا ،فتح پور مسجد سے لے کر قلعہ کے دروازے تک درختوں کی شاخوں پر مسلمانوں کی لاشوں کو لٹکا دیا ،علماء ،سرداروں اور نوابوں کی جائیدادیں ضبط کر کے انھیں تختہ دار پر لٹکا دیا گیا۔

علماء نے فتوی جہاد صادر کیے :۔۔۔۔۔۔
ایسے حالات نے مسلمانوں کے دلوں میں انگریز حکومت کے خلاف نفرت و کراہیت کے جذبات اورتیز کر دیا، علامہ فضل حق خیر آبادی اوردیگر علماء اسلام نے انگر یز حکومت کے خلاف فتوی جہاد صادر کیے،یوں توانگریز حکومت کے ہندوستان میں تسلط کے بعد ہی مسلمان ان کے خلاف بر سرپیکارتھے ،مگردن بدن اسکی شدت میں اضافہ ہو رہا تھا ۔

انگریز حکومت کا مسلمانوں سے سوتیلا رویہ :۔۔۔۔۔۔
انگریز حکومت کا مسلمانوں سے یہ سوتیلا رویہ صرف اس لیے تھا کہ وہ اپنے مذہبی امور پر سمجھوتہ کرنے کو تیار نہ تھے ،انگریز حکومت کے اعلی عہدیدار یہ محسوس کر چکے تھے ،کہ مسلمان انکی حکومت کیلئے سب سے بڑا خطرہ ہیں ،کیونکہ
١٧٥٧ء کی جنگ پلاسی اور١٧٥٩ء کی جنگ میسور کی قیادت بھی مسلمانوں ہی نے کی تھی ،اس لیے انھوں نے مسلمانوں میں سے ہی کچھ مذہبی لوگ اپنے ساتھ ملا لیے ،جو ایجنٹ کے طور پر ان کا کام کرتے تھے ،ان ایجنٹوں نے ایسے حالات میں مختلف اختلافی موضوعات پر کتابیں لکھی ،جس سے فرقہ واریت کو ہواملی، ،اور انکی قوت ٹوٹنے لگی ،ان ہی ایجنٹوں نے انگر یزی فوج کے راستے کی سنگلاخ چٹانوں میں شگاف ڈالے ،اور انگریز فوج کے لیے راستے صاف کیے،ہم ان لوگوں کا تذکرہ بھی ضرور کریں گے۔

اس دور میں سید احمد شہید اور شاہ اسماعیل شہید نے نمایاں کردار ادا کیا ،اللہ تعالی ان حضرات کو اس کی جزادے۔
آمین

سید احمد شہید کامختصر تعارف :۔۔۔۔۔۔
١٧٨٦ء میں پیدا ہوئے ،١٨٢١ء میں حج کیلئے گئے ،تین سال وہی قیام کیا ،١٨٢٤ء میںواپس آئے اور جہاد کی تیاری شروع کر دی ،وہاں تین سال میں ایسا کیا ہوا ،کہ واپس آتے ہیں جہاد کی تیاری شروع کر دی،اس دور میں حجاز میں کیا ہورہا تھا ،ان باتوں کو سمجھنے کیلئے،حجاز کے سیاسی پس منظر کو دیکھنا ضروری ہے،مگر ہم اپنی تحریر کو مختصر سے مختصر رکھنا چاہتے ہیں،اس لیے ہم اس کا ذکر نہیں کرتے ،١٨٣١ء میں سکھوں کے ہاتھوں قتل ہوئے ۔

ہم سید صاحب کی انگریز دشمنی اور جہاد کو آپ کے سامنے پیش کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔

سید صاحب کا انگریز کے خلاف اعلان جنگ : ۔۔۔۔۔۔
سید احمد صاحب نے کس جرات اور بہادری سے انگریز حکومت کے خلاف اعلان جنگ کر رکھا تھا ،ان ہی کے الفاظ میں ملاحظہ فرمائیں :
علامہ غلام رسول سعیدی صاحب لکھتے ہیں :سید صاحب نے (خود )یہ اعلان کررکھاتھا ،کہ سرکار انگریز سے ہمارا مقابلہ نہیں ،اورنہ ہمیں اس سے کچھ مخاصمت ہے (مقالات سعیدی ،ص
٤٨٨)
ناقابل تردید حوالہ جات دیکھنے کیلئے'' مقالات سعیدی ''ملاحظہ فرمائیں ،یہ کتاب ایک جلد میں فرید بک سٹال ،لاہور نے شائع کی ہے ۔

شاہ اسماعیل شہید کا انگریز کے خلاف اعلان جنگ :۔۔۔۔۔۔
آپ نے سید احمد شہید صاحب کا اعلان ملاحظہ فرمایا :اب ذرا شاہ اسماعیل شہید صاحب کا اعلان بھی ملاحظہ فرمائیں ۔
علامہ غلام رسول سعیدی لکھتے ہیں
مولوی اسماعیل صاحب نے اعلان کر رکھا تھا ،کہ انگریزی سرکا ر پر نہ جہاد مذہبی طورپر واجب ہے ،نہ ہمیں ان سے کچھ مخاصمت ہے (مقالات سعیدی ،ص
٤٩٣)

آ پ نے غور کیا ،شاہ اسماعیل شہید صاحب نے اعلان کیا تھا ،ہمیں انگریز سے کچھ مخاصمت نہیں ،ہو سکتا ہے ،مخاصمت کا لفظ کچھ لوگوں کو سمجھ نہ آیا ہو،تو لیجیے ہم مخاصمت کا معنی بتاتے ہیں:دشمنی ،مخالفت ،عداوت (فیروز اللغات )

نواب صدیق حسن کی شہادت :۔۔۔۔۔۔
نواب صدیق حسن صاحب لکھتے ہیں :حضرت شہید کا جہاد انگریزوں کے خلاف نہیں تھا (مقالات سعیدی ،ص
٤٩٨)

پھر ان کا جہاد کن کے خلاف تھا ،ان کے قریب کے زمانہ کے سرسید احمد خان کی زبانی سنیے:

سرسید احمد خان کی شہادت :۔۔۔۔۔۔
سرسید احمد خان لکھتے ہیں :
شاہ اسماعیل دہلوی ایک مرتبہ کلکتہ میں سکھوں پر جہاد کا وعظ فرما رہے تھے ،کہ اثنائے وعظ میں کسی شخص نے ان سے دریافت کیا ،کہ تم انگریزوں پر جہاد کرنے کا وعظ کیوں نہیں کرتے ،وہ بھی تو کافر ہیں ؟
اس کے جواب میں مولوی محمد اسماعیل نے فرمایا :انگریزوں کے عہد میں ہمیںکچھ اذیت نہیں ہوتی ،اور چونکہ ہم ان کی رعایا ہیں ،اس لیے ہم پر اپنے مذہب کی رو سے یہ بات فرض ہے کہ انگریزوں سے جہاد کر نے میں ہم شریک نہ ہو (مقالات سعیدی ،
٤٩٣)

سرسید احمد خان صاحب کے بیان سے واضح ہو گیا ،کہ ان کا جہاد انگریزوں کے خلاف نہیں تھا ،البتہ سرسید احمد خان کے
١١٧ سال بعد لوگوں نے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ،کہ ان کا جہاد انگریزوں کے خلاف تھا ۔

انگریز کے خلاف جہاد کا پختہ ثبوت :۔۔۔۔۔۔
سرسید احمد خان لکھتے ہیں :
ایک اور بڑا پختہ ثبوت اس بات کا کہ حضرت سید احمد اور آپ کے مجاہدین کی نیت یا ارادہ یا خیال ہر گز نہ تھا ،کہ انگریزوں سے جہاد کیا جائے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔(وہ یہ ہے کہ
١٨٥٧ء کی جنگ آزادی میں )سید احمد شہید کے گروہ کا ایک شخص بھی شریک نہ ہوا (مقالات سعیدی ،ص ٥٠٠)
یہ تو سر سید کی شہادت تھی ۔اب ہم سید احمد شہید کا اپنا خط پیش کرتے ہیں

وفات سے سال قبل سید احمد صاحب کا خط : ۔۔۔۔۔۔
سیداحمد صاحب کی وفات سے ایک سال پہلے کا خط ملاحظہ فرمائیں :
ہم صرف لمبے بال رکھنے والے سکھوں سے مقابلہ کا ارادہ رکھتے ہیں ،نہ کہ کلمہ گویان اسلام سے ،نہ سرکار انگریزی سے (مقالات سعیدی ،ص
٥٣٩)
فائدہ :۔۔۔۔۔۔
ان کا جہاد انگریز کے خلاف نہیں تھا ،بلکہ سکھوں اور سرحد کے مسلمان پٹھانوں کے خلاف تھا ،کیونکہ یہی دو سخت جنگجو تھے ،اور انگریز فوجوں کی راہ میں رکاوٹ تھے ، اور یہ دو حضرات ان فوجوں کا راستہ صاف کرنے پر مامور تھے ،جب ہی تو دہلی میں مشترکہ دشمن انگریز کو چھوڑکر دو ہزار میل دور سکھوں اور پٹھانوں سے لڑنے چلے گئے ۔

مزید کچھ باتیں قابل توجہ ہیں
انگریز کے وفادار :۔۔۔۔۔۔
انگریز کو ان کی وفاداری پر کس قدر بھروسہ تھا کہ ان کے جہاد کے چندہ جمع کرنے پر بھی پابندی نہیں لگائی

علامہ سعیدی لکھتے ہیں :انگر یزی سلطنت میں چندہ جمع ہوکر برابر مجاہدین کو پہنچتا رہا (مقالا ت سعیدی ،ص
٤٩٥)

اور یہ جہاد مسلمانوں کے لیے نہیں ،بلکہ صرف انگریز کیلئے تھا ،جب ہی توان ہی کے حکم سے شروع اور ختم ہوا ،اور اسلحہ بھی ان ہی کا استعمال ہوا ۔

انگریز کا سکھوں سے معاہدہ ہواتو:۔۔۔۔۔۔
علامہ سعیدی لکھتے ہیں
جب سید احمد کے جہاد سے سکھوں کا زور ٹوٹ گیا ،تو
١٨٤٨ء میں سکھوں اور انگریزوں کے درمیان معاہدہ ہو گیا ،تو انگریز نے مجاہدین کو جہاد سے روک دیا (مقالات سعیدی ،ص ٤٩٦)جو ہی انگریز کا حکم موصول ہوا ،سید صاحب اور اسماعیل شہید صاحب نے یک لخت جہاد موقوف کر دیا (مقالا ت سعیدی ،ص ٤٩٦)


جنگ بند کی تو کس نے دعوت کی ،کس نے انعام دیا ،خود ملاحظہ فرمائیں :

جہاد کے بعد ہتھیار کہا ں گئے :۔۔۔۔۔۔
علامہ سعیدی لکھتے ہیں :مجاہدین نے لڑائی بند کردی ،ہتھیار سرکار کے پاس جمع کروا دیے ،اور قیمت وصول کر لی ،انگریزوں سے شاندار استقبال کیا او رخوب دعوتیں کیں (مقالات سعیدی ،ص
٤٩٦)

ہم نے جان بوجھ کر مقالات سعیدی کا حوالہ دیا ،تاکہ عوام اس کتاب کی طرف رجوع کرے ،اگر ہم دوسروں کی کتب کے حوالے دیتے ،تو لوگ ان کی کتابیں پڑھتے ،اور ان کے طلسم میں آجاتے،ساتھ مذکورہ کتاب میں اصل حوالہ جات بھی ہیں ان پر وار د ہونے والے تمام شکوک و شبہات کے جوابات بھی ہیں ۔

شاہ اسماعیل شہید اور احمد رضا بریلوی :۔۔۔۔۔۔
ہم نے کافی تذکرہ سید احمد صاحب کا کر دیا ، اسماعیل دہلوی صاحب نے اس دور میں مسلمانوں میںافتراق اور انتشار پیدا کرنے کیلئے ،چند فتنہ انگیز کتابیں لکھیں ،جس سے مسلمان ٹکڑوں میں بٹ گئے ،یہ ہندوستان کے مسلمانوں میں فرقہ واریت عام کرنے والی پہلی کتاب تھی ،کمال کی بات یہ ہے کہ اسماعیل دہلوی صاحب کی وفات کے
٢٦ سال بعد امام احمد رضا خان صاحب پیدا ہوئے ،انھوں نے اسماعیل دہلوی صاحب کی کتابوں کے جوابات دیے ،اور اسماعیل دہلوی صاحب کیلئے جو حکم شرعی بنتا تھا ،وہ بیان فرمایا ،لیکن مشہور یہ کیا گیا کہ احمد رضا بریلوی نے مسلمانوں کو فرقوں میں تقسیم کر دیا ،پھر اسی پر بس نہیں کی ،بلکہ کہا وہ انگریز کے ایجنٹ بھی تھے ۔

انگریز کا ایجنٹ احمد رضا بریلوی :۔۔۔۔۔۔
ہم صرف دو باتیں آپ کے سامنے پیش کرتے ہیں ،جو صاحب انصاف کیلئے کافی ہیں
ہفت روزہ الفتح میں ہے :
(اعلی حضرت )وہ انگریز اور انکی حکومت کے اس قدر کٹر دشمن تھے ،کہ(خط کے) لفافے پر ہمیشہ الٹا ٹکٹ لگاتے تھے ،اور برملاکہتے تھے ،میں نے جارج پنجم کا سر نیچا کر دیا ،انہوں نے زندگی بھر انگریزوں کی حکمرانی کو تسلیم نہیں کیا ( ہفت روزہ الفتح ،
٢١مئی ١٩٧٦،ص١٧ )

میں انگریز حکومت کو ہی تسلیم نہیں کرتا :۔۔۔۔۔۔
انگریز عدالت نے انھیں طلب کیا ،مگر انھوں نے تو ہین عدالت کے باوجود حاضری نہ دی ،اور کہا میں انگریز حکومت کو ہی تسلیم نہیں کرتا ،اس کے عدل و انصاف کو کیسے تسلیم کر لوں (ہفت روزہ ،الفتح ،
٢١مئی ،١٩٧٦)

ہم چاہنے والوں کیلئے ایک اور بات لکھ دیتے ہیں

ساری حکومت سے بھی میرا ایمان نہیں خرید سکتا :۔۔۔۔۔۔
مدیر ''الحبیب ''لکھتے ہیں
ایک مرتبہ انگریز کمشنر نے
٣٥ مربع زمین کی پیش کش کی ،مگر اس مرد قلندر نے کہا ،انگریز اپنی تمام حکومت بھی دے دے ،تو میرا ایمان نہیں خرید سکتا (ماہنامہ ،الحبیب ،اکتوبر ،١٩٧٠)
طالب دعا غلام نبیؐ
GhulameNabi786.Blogspot.com
2-
june-2016


دونوں حضرات کی وفات :۔۔۔۔۔۔
سید احمد شہید
١٨٣١ء میں سکھوں کے ہاتھوں قتل ہوئے ،اور شاہ اسماعیل شہید کی وفات تقریبا ١٨٢٥ء میں معرکہ بالاکوٹ میں قتل ہوئے ۔





 

No comments:

Post a Comment

Join us on

Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...