Saturday, July 2, 2016

بیس رکعت تراویح احادیث کی روشنی میں (یونی کوڈ اردو میں)20 Rakat Taraveeh Ahadees ki Roshni me


بسم اللہ والحمد للہ والصلوۃ والسلام علی رسول اللہ
تمہید :۔۔۔۔۔۔
آج کل لوگ اپنی سستی کی وجہ سے شارٹ کٹ تلاش کرتے ہیں ،پہلے لوگ بیس بیس سال تک علم حاصل کرتے تھے ،علم فقہ ،اصول فقہ ،علم الکلام ،فلسفہ ،حدیث ،اصول حدیث ،تفسیر ،اصول تفسیر ،بلاغت ،معانی سب کچھ پڑھنے کے بعد یہ سمجھتے تھے کہ اب ہم دین پڑھنے کے قابل ہو گئے ہیں ۔
    لیکن اب لوگ صرف قرآن کا ترجمہ پڑھ کر کے خود کو عالم سمجھنا شروع کر دیتے ہیں ،حالانکہ قرآن میں بے شمار آیات ہیں جو منسوخ ہو چکی ہیں ،اور منسوخ پر عمل کر نا حرام ہے
آپ اگر ایسے لوگوں سے کسی معاملہ پر بات کریں تو وہ پہلے چند شرائط لگائیں گے صرف قرآن سے مسئلہ بتائیں ،یا قرآن اور بخاری شریف سے مسئلہ ثابت کریں ،اس کی وجہ یہ ہوتی ہیں کہ انھوں نے صرف یہی دو کتابیں پڑھی ہوتی ہیں ،باقی کتابیں تو بعض اوقات دیکھی بھی نہیں ہوتی
آٹھ رکعت تراویح کا بھی معاملہ ایسا ہی ہے ،بخاری شریف کی ایک حدیث پڑھ کر فتوی دے دیا کہ آٹھ رکعت تراویح پڑھنا سنت ،اور بیس رکعت پڑھنا بدعت اور پڑھنے والا گنہگار ہو گا
معاذ اللہ جو عمل خود حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کیا ،صحابہ کرام رضی اللہ عنھم نے کیا اسے بدعت کہنا خود گمراہی ہے

سوال :۔۔۔۔۔۔کتنی تراویح پڑھنا سنت ہے ،بیس یا آٹھ ،تھجدو تراویح میں فرق ہے یا نہیں ، احادیث کی روشنی میں بتائیں ؟؟
جواب :۔۔۔۔۔۔نماز تراویح بیس رکعت ہی سنت موکدہ ہے ،اس سے کم پڑھنے والا تارک سنت ہے ،
    شارح بخاری علامہ ابن حجر عسقلانی فرماتے ہیں
انہ صلی بالناس عشرین رکعۃ لیلتین
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں کو دو دن (جماعت کے ساتھ ) بیس رکعت تراویح پڑھائی
(تلخیص الحبیر )
حدیث میں ہے:
سننت لکم قیامہ
میں نے رمضان کا قیام تمہارے لیے سنت قرار دیا
(ابن ماجہ ،شعب الایمان )
آپ نے تراویح کو سننت قرار دیا صحابہ کرام و تابعین کا اسی پر عمل کرتے تھے ،فقہاء کرام نے بھی اپنی کتابو ں میں اسے سنت موکدہ لکھا
    خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی بیس رکعت تراویح اور وتر پڑھتے تھے ،حدیث میں ہے
ان النبی کان یصلی فی رمضان عشرین رکعۃ سوی الوتر
(فتح الباری ،میزان الاعتدال ،تھذیب الکمال ،مصنف ابن ابی شیبہ)
    صحابہ کرام نے اپنے دور میں بیس رکعت ہی جماعت کے ساتھ پڑھی حدیث میں ہے :
کان الناس یقومون فی زمان عمر بن الخطاب فی رمضان بثلاث وعشرین رکعۃ
لوگ فاروق اعظم کے دور میں بیس رکعت تراویح اور تین وتر پڑھتے تھے
(ترمذی ،فتح الباری ،شعب الایمان ،موطا امام مالک ،التمھید ،نیل الاوطار)
حضرت علی المرتضی بھی بیس رکعت تراویح پڑھاتے تھے
انہ کان یومھم فی شھر رمضان بعشرین رکعۃ ویوتربثلاث
(مصنف ابن ابی شیبہ ،سنن الکبری )
حضرت ابی بن کعب صحابی رسول بھی بیس رکعت تراویح پڑھاتے تھے
کان ابی بن کعب یصلی بالناس فی رمضان بالمدینۃ عشرین رکعۃ ویوتربثلاث
(مصنف ابن ابی شیبہ )
    امام شافعی اور جلیل القدرامام حضرت سفیان ثوری ،حضرت عبد اللہ بن مبارک کا بھی یہی قول ہے
(ترمذی )
امام شافعی فرماتے ہیں :
میں نے مکہ میںاہل علم کوبیس رکعت ہی نماز تراویح پڑھتے پایا
ھکذا ادرکت ببلدنا بمکۃ یصلون عشرین رکعۃ
(ترمذی )
    آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ،صحابہ ،تابعین کا عمل دیکھ لیا ،ایک مسلمان کے لیے اس سے بڑھ کر اور کچھ نہیں ۔
آخر میں یہ دو اقوال بھی دیکھ لیں علامہ ابن تیمیہ اور محمد بن عبد الوہاب نجدی
    علامہ ابن تیمیہ جن کی بات وہ جلدی مان لیں گے، لکھتے ہیں :
ابی بن کعب سے ثابت ہے کہ وہ بیس رکعت تراویح ا ور تین وتر پڑھاتے ہیں
کثیر علماء نے اسے ہی سنت کہا ہے
کیوں کہ یہ مہاجرین و انصار صحابہ کرام کے درمیان قائم ہوئی
ولم ینکرہ منکر
او ر کسی صحابی نے اس کا انکار نہیں کیا
(مجمومہ فتاوی ابن تیمیہ )
اگر صحابہ کرام کے نزدیک تراویح بیس رکعت نہ ہوتی تو وہ ضرور اس کا انکار کرتے
اب آخر میں ہم محمد بن عبد الوہاب نجدی کا بھی قول نقل کردیتے ہیں
کانت صلاتھم عشرین رکعۃ
ان کی تراویح بیس رکعت تھی
(مجموعہ فتاوی نجدیہ )
یادر کھیںتراویح ترویحہ کی جمع ہے، ترویحہ چار رکعت کو کہتے ہیں اگر تراویح آٹھ رکعت ہوتی تو اسے ترویحتان کہتے ،کیونکہ یہ یہ تثنیہ ہوگا ، عربی میں دو کو تثنیہ کہتے ہیں ،جمع کم از کم تین کو کہتے ہیں
    بخاری شریف کی حدیث جس میں آٹھ رکعت کا ذکر ہے ،اس سے لوگوں کو مغالطہ ہوا ہے ،اگر یہ لوگ اس کی شرح پڑھتے تو ابن حجر عسقلانی اور شاہ عبد العزیر محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ اس حدیث سے تھجد مراد ہے
    خدا کا واسطہ اس امت میں اختلاف اور تفرقہ نہ پیدا کریں ،پوری امت بیس رکعت پڑھتی چلی آئی ہے امت کو اسی پر قائم رہنے دیں ۔
    یاد رکھیںنماز تراویح وتھجد میں فرق ہے ، تھجد وہ نماز ہے جو سونے کے بعد پڑھی جائے
حدیث شریف میں ہے
( انما التھجد الصلوۃ بعد رقدۃ )
تھجد وہ نماز ہے جو سونے کے بعد بیدار ہو کر پڑھی جائے
(طبرانی کبیر )
حالانکہ تراویح تو عشاء کے فورا بعد پڑھ لی جاتی ہے
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تھجد رات میں کب پڑھتے تھے
حدیث میں ہے:کان یقوم اذا سمع الصارخ
آپ تھجد کے لیے اس وقت بیدار ہوتے جب مرغ اذان دیتا ہے
(بخاری ،مسلم )  
ہم نے صرف احادیث مبارکہ ہی سے مسئلہ کو بیان کیا جو اس کے بارے میں تفصیلی معلومات چاہتا ہو،وہ فقہاء کرام کی کتابوں کا مطالعہ کرے
    طالب دعا : مولوی احسان اللہ



Taraveeh 20 Rakat Ahadees ki Roshni me ,Taraveeh 20 Rakat ,20 Rakat Taraveeh ,Hadees e pak in urdu ,hadees urdu in unicode ,unicode islamic blog in urdu ,Hadith in urdu ,urdu unicode ,Hadees in uni code urdu ,Fatawa in unicode urdu ,fiqh e Hnafi aur hadees ,Hadees e Rasool ,Bukhari muslim ,Tirmazi ,Tabrani ,Taraveeh 20 Rakat Ahadees ki Roshni me ,Taraveeh 20 Rakat ,20 Rakat Taraveeh ,Hadees e pak in urdu ,hadees urdu in unicode ,unicode islamic blog in urdu ,Hadith in urdu ,urdu unicode ,Hadees in uni code urdu ,Fatawa in unicode urdu ,fiqh e Hnafi aur hadees ,Hadees e Rasool ,Bukhari muslim ,Tirmazi ,Tabrani ,Taraveeh 20 Rakat Ahadees ki Roshni me ,Taraveeh 20 Rakat ,20 Rakat Taraveeh ,Hadees e pak in urdu ,hadees urdu in unicode ,unicode islamic blog in urdu ,Hadith in urdu ,urdu unicode ,Hadees in uni code urdu ,Fatawa in unicode urdu ,fiqh e Hnafi aur hadees ,Hadees e Rasool ,Bukhari muslim ,Tirmazi ,Tabrani ,Taraveeh 20 Rakat Ahadees ki Roshni me ,Taraveeh 20 Rakat ,20 Rakat Taraveeh ,Hadees e pak in urdu ,hadees urdu in unicode ,unicode islamic blog in urdu ,Hadith in urdu ,urdu unicode ,Hadees in uni code urdu ,Fatawa in unicode urdu ,fiqh e Hnafi aur hadees ,Hadees e Rasool ,Bukhari muslim ,Tirmazi ,Tabrani ,Taraveeh 20 Rakat Ahadees ki Roshni me ,Taraveeh 20 Rakat ,20 Rakat Taraveeh ,Hadees e pak in urdu ,hadees urdu in unicode ,unicode islamic blog in urdu ,Hadith in urdu ,urdu unicode ,Hadees in uni code urdu ,Fatawa in unicode urdu ,fiqh e Hnafi aur hadees ,Hadees e Rasool ,Bukhari muslim ,Tirmazi ,Tabrani ,
 

No comments:

Post a Comment

Join us on

Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...