Saturday, July 2, 2016

سلطنت عثمانیہ کا دور عروج Saltanat e usmania ka Door e Urooj Unicode urdu me




بسم اللہ الرحمن الرحیم

آج آپ کو سلطنت عثمانیہ کا مختصر سا تعارف کرواتے ہیں
سلطنت عثمانیہ 1223سے 1924تک قائم رہی ۔
سلطنت عثمانیہ عالم اسلام کی سب سے عظیم اور طویل ترین سلطنت تھی، اس نے ساڑھے چھ سو سال تک دنیا کے وسیع رقبے پر حکومت کی ،اس سلطنت کی وسعت کا اندازہ اس بات  سے لگایا جا سکتا ہے ،کہ یہ سلطنت  ایشیاء ،یورپ اور افریقہ تین براعظموں پر محیط تھی ،یہ عالم اسلام کی واحد سلطنت تھی ،جس نے براعظم یورپ میں عظیم ترین فتوحات کیں ۔
سلطنت عثمانیہ کہنے کی وجہ :
اس سلطنت کا باقاعدہ آغاز "عثمان خان " سے ہوا تھا ،اسی  لیے اس کو "سلطنت عثمانیہ "کہتے ہیں ۔
عثمان خان :
عثمان خان بڑا عقلمندحکمران تھا ،یہ سادہ زندگی کا مالک ،عادل اور انصاف کرنے والا تھا ،اس نے کبھی دولت جمع نہیں کی ،مال غنیمت میں سے یتیموں اور غریبوں کا حصہ ضرور نکالتا تھا ،وہ فیاض ،رحم دل اور مہمان نواز تھا ۔
آر خان :
عثمان خان کے بعد اس کے بیٹے آر خان بادشاہ بنا ،اس نے  دنیا کی پہلی باقاعدہ فوج بنائی ،یہ پیدل فوج تھی ،مگر اسکی ایسی تربیت کی گئی تھی ،کہ کوئی فوج اس کے سامنے جمع کر لڑ نہیں سکتی تھی ،ترکوں کی تمام تر فتوحات میں اس فوج کا  بڑا ہاتھ تھا ۔
آرخان کے زمانے میں مسلمانوں نے مشرقی یورپ میں قدم رکھا ،اسی زمانے میں عثمانیوں نے اپنا پہلا سکہ جاری کیا ۔جب آر خان کا انتقال ہوا،تو اس وقت عثمانی سلطنت کا رقبہ عثمان خان کے زمانہ سے تین گنازیادہ ہو گیاتھا ۔
مراد اول :
آر خان کے بعد اس کا بیٹا مراد اول آیا ،یہ قابلیت میں باپ دادا کی طرح تھا ،مگر فتوحات وملک گیری میں ان سے بھی بڑھ کر تھا ۔اس کے زمانے میں عثمانی سلطنت کا رقبہ آر خان کے زمانہ سے پانچ گنا زیادہ ہو گیا تھا ۔یعنی ایک لاکھ مربع میل ۔
بایزید :
مراد کے بعد اس کا بیٹا بایزید حکمران ہوا،اس نے پہلی مرتبہ سلطان کا لقب اختیار کیا ،یہ باپ کی طرح بے پناہ فوجی صلاحیت کا حامل تھا ،مگر اس کو اسکی ایک عیسائی بیوی نے شراب کی عادت ڈال دی تھی ،یہ پہلا عثمانی حکمران تھا ،جس نے شراب پی ۔
توجہ طلب :
اسی لیے علماء کرام منع فرماتے ہیں ،کہ مسلمانوں کو عیسائی اور یھودی مرد و عورت سے نکاح نہیں کر نا چاہیے ۔
اگرچہ بایزید کو اپنی بیوی کی وجہ سے شراب کی لَت پڑگئی تھی ،لیکن میدان جنگ میں وہ شیر کی طرح جاتا تھا ،اپنے تیز حملوں کی وجہ سے اسے یلدرم (یعنی بجلی )کہا جاتا تھا ۔
بایزید نے نکولس کے میدان جنگ میں یورپ کی متحدہ فوجوں کو شکست دی،اور سلطنت کو دور دور تک پھیلا دیا ،بایزید یورپ کی طرف بڑھنے کا ارادہ کر رہاتھا ،کہ سمر قند کے بادشاہ امیر تیمور نے اس کے ملک پر حملہ کر دیا ،بایزید کو بدترین شکت ہوئی ۔
محمد اول :
بایزید کی شکست کے بعد ایسا معلوم ہوتا تھا ،کہ اب عثمانی سلطنت ختم ہو جائے گی ،لیکن اس کے لڑکے محمد اول نے چندہی  سال میں کھوئی ہوئی سلطنت پھر سے حاصل کر لی،محمد اول بے حد کشادہ دل اور منصف مزاج ،اور وعدہ کا پابند تھا ۔
مراد دوم :
محمد اول کے بعد اس اس کا لڑکا مراد دوم تخت نشین ہوا،مراد دوم شریفانہ اوصاف میں اپنے آبا ء و اجداد سے بھی آگے بڑھ گیا تھا ۔
محمد فاتح :
مراد کے بعد اس کا لڑکا محمد فاتح تخت نشین ہوا،محمد فاتح کارناموں میں سب پر بازی لے گیا ،اس کا سب سے بڑا کارنامہ قسطنطنیہ (موجود ہ استنبول ) کی فتح ہے ،قسطنطنیہ کو فتح کر نے کی کوششیں حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے دور میں ہی شروع ہو چکی تھی ،لیکن یہ  عظیم کارنامہ سلطان محمد فاتح ترکی کی قسمت میں لکھا  تھا ،سلطان محمد فاتح ترکی نے 54دن اس شہر کا محاصرہ کیا ،اور بالاخر 29مئی 1453 کو اس عظیم شہر کو فتح کر لیا ،اور گیارہ سو سال پرانی رومی سلطنت کو ہمیشہ کیلئے ختم کر دیا ۔
سلطان محمد فاتح پہلا حکمران تھا ،جس نے بحری قوت کو بڑی ترقی دی ،سلطنت کے دونوں حصوں کے درمیان کیونکہ سمند رتھا،اس لئےبحری قوت کے بغیر سلطنت کو قائم رکھنا بڑا مشکل تھا ،سلطان نے اپنا بحری بیڑا بھی بنوایا تھا ،جس کی وجہ سے ترکوں نے کئی جزیرے بھی فتح کیے ۔
بایزید ثانی :
محمد فاتح کے بعد اسکا بیٹا بایزید ثانی حکمران بنا ،اس کے دور میں سلطنت میں کوئی قابل ذکر اضافہ نہیں ہوا ۔
سلیم اول :
بایزید ثانی کے بعد اس کا لڑکا سلیم اول حکمران بنا ،سلیم اول نے یو رپ کے بجائے ،مشرق کا رخ کیا ۔اور بہت فتوحات کیں ،اس کے دور میں عثمانی ترک بےشک دنیا کی سب سے بڑی طاقت بن چکے تھے ۔
سلیمان اعظم :
سلیم اول کے بعد س کا لڑکا سلیمان بادشاہ ہوا ،اس دور میں عثمانی سلطنت نقطہ عروج پر پہنچ گئی ،عثمانی سلاطین میں سے وہ سب سے بڑا اور سب سے باعظمت حکمران تھا ۔
اس کے بعد سلطنت عثمانیہ کا دور زوال شروع ہو گیا ،دور زوال 1566سے 1924 پر مشتمل ہے ۔
سلیم ثانی:
سلیمان کے بعد اس کا لڑکا سلیم تخت نشین ہوا ،یہ سراسر نا اہل ،بزدل اور عیش و عشرت کا دلدادہ تھا ،یہ پہلا عثمانی سلطان تھا جو بنفس نفیس جنگ میں جانے سے کتراتا تھا ۔
توجہ طلب :
جب والدین آسمان شہرت کی بلندیوں پر پہنچ جاتے ہیں ،تو عموما اولاد کی تربیت پر توجہ نہیں دیتے ،اور پھر ایسے نا اہل پیدا ہوتے ہیں ،جو والدین کا نام خاک میں ملا دیتے ہیں ،
یاد رہے بزدل لوگ  کبھی دنیا پر حکومت نہیں کر سکتے ،الحمدللہ مسلمان دلیر ہیں ،،لیکن انھیں مختلف طریقوں سے بزدل بنا یا جا رہا ہے ،یہ پرامن پروپیگنڈہ کے ذریعے ۔
سلطنت عثمانیہ کے زوال کی وجوہات پر اگر غور کیا جائے ، تو چند باتیں سامنے آتی ہیں
(1)نااہل حکمران
(2)یورپی قوموں کی بیداری
(3)یورپی قوموں کا اتحاد
توجہ طلب :
یہ بھی یا در ہے ،کہ جب سلطنت عثمانیہ کمزور ہو ئی،تو روس ،آسٹریا ،برطانیہ ،اٹلی ،اور متعدد یورپی ممالک نے مسلسل حملے شروع کر دیے ۔یہ سلطنت جو اندرونی طور پر بہت  کمزور ہو چکی تھی ،اتنے ممالک سے نہیں لڑ سکتی تھی ،کاش مسلمان ممالک بھی ایسے ہی متحد ہو جائیں ۔
(4)1876میں ترقی پسند تحریکیں اٹھنا شروع ہو گئیں ،جن کی معاونت یورپی حکومتوں کی طرف سے کی گئی ۔
پھردو مارچ 1924 کو ترکی کی مجلس ملی کبیر نے ایک فرمان کے ذریعے منصب خلافت کو منسوخ کر دیا ،اور خلیفہ کو معزول کر دیا ،20 اپریل 1931 کے آئین کے بعد ترکی ایک جمہوری سلطنت بن گیا ،مصطفی کمال پاشا اس کے اولین صدر منتخت ہوئے ،حکمرانوں نے ملک کو سیکو لرازم پر لگا دیا ،جس کے بعد مذہبی تعلیم ممنوع قرادی دی گئی ،صوفیاء کی خانقاہوں کو بند کر دیا گیا ،عربی رسم الخط کو حکما ترک کیا گیا ۔
انا للہ وانا الیہ راجعون




Saltanat e Usmania ,Ottoman Empires ,History of Turkey in urdu,islamic History in urdu ,Turkey ki Tareekh urdu me ,
Saltanat e Usmania ,Ottoman Empires ,History of Turkey in urdu,islamic History in urdu ,Turkey ki Tareekh urdu me ,Saltanat e Usmania ,Ottoman Empires ,History of Turkey in urdu,islamic History in urdu ,Turkey ki Tareekh urdu me ,Saltanat e Usmania ,Ottoman Empires ,History of Turkey in urdu,islamic History in urdu ,Turkey ki Tareekh urdu me ,Saltanat e Usmania ,Ottoman Empires ,History of Turkey in urdu,islamic History in urdu ,Turkey ki Tareekh urdu me ,Saltanat e Usmania ,Ottoman Empires ,History of Turkey in urdu,islamic History in urdu ,Turkey ki Tareekh urdu me ,Saltanat e Usmania ,Ottoman Empires ,History of Turkey in urdu,islamic History in urdu ,Turkey ki Tareekh urdu me ,

No comments:

Post a Comment

Join us on

Must click on Like Button

Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...