Saturday, July 2, 2016

سرسید احمد خان کا سیرت و کردار Sir Syed Ahmed khan ki Seerat o Kirdar Urdu zuban me


سر سید احمد خان

سرسید کا نام و نسب:
آپ کا اصل نام احمد خان تھا ،آپ نقوی سید تھے ،آپ کو انیسویں صدی میں مسلمان ھند کا ایک عظیم رہنما شمار کیا جاتا ہے ،آپ کی ولادت 1817ء میں دہلی میں ہوئی ۔

خاندانی پس منظر :
سرسید کے والد میرتقی قلعہ دہلی کے وظیفہ خوار اور درباریوں میں سے تھے ،سرسید کے نانا خواجہ فرید الدین احمد بہادر کچھ عرصے تک ایسٹ انڈیا کمپنی کے سفیر بھی رہے ،سرسید بھی بچپن ہی سے اپنے والد کے ہمراہ بادشاہ کے دربار میں جایا کر تے تھے ۔

سرسید کی تعلیم و تربیت :
سرسید کی تعلیم و تربیت ماں کی زیر نگرانی ہوئی ،سرسید کی استعداد فارسی زبان میں بہت اچھی اور عربی میں متوسط درجے کی تھی ۔

سرسید اور شعر و شاعری :
سرسید کو کچھ عرصہ تک شعر و شاعری سے بھی لگائو رہا ،لیکن دیگر مصروفیات کی بنا پر سرسید شاعری کی طرف خصوصی توجہ نہ دے سکے ،البتہ اپنے زمانے کے نامور ادباء و شعراء سے آپ کی خوب صحبتیں رہیں۔

کچھ ملازمتیں اور عہدے :
آپ آگرے کے کمشنر کے دفتر میں نائب منشی رہے ،پھر منصفی کا امتحان دیا ،اور منصف مقرر ہو گئے ،پھر ترقی کرتے کرتے ،چھوٹی عدالت کے جج بھی  مقرر ہو گئے ۔


سفر انگلستان :
1869 میں آپ نے  انگلستان کا سفر کیا ،اور وہاں سے خو ب متاثر ہو کر آئے ۔

سرسید کی تین حیثیتیں:
سرسید کی زندگی پر تین حیثیتوں سے نظر ڈالی جا سکتی ہے :
بحیثیث سیاسی  لیڈر
بحیثیت مصنف
بحیثیث مذہبی رہنما

سرسید بطور لیڈر :
سرسید کا ایک اہم کارنامہ ان کی تعلیمی تحریک کو سمجھا جاتا ہے ،کہا جاتا ہے کہ ہنگامہ "غدر" (1857کی جنگ آزادی )کے بعد مسلمانوں پر جو جو مصیبتیں آئی ،سرسید نے ہر موقع پراپنے انداز میں مسلمانوں کا دفا ع کر نے کی کوشش کی ،سرسید جب لندن گئے ،تو وہاں کےانگریزی طریقہ تعلیم وتربیت اور طر ز معاشرت سے بہت متاثر ہوئے ،چنانچہ انھوں نے وہی سےا یک تحریر محسن الملک کے پاس بھیجی ،جس کا عنوان یہ تھا "التماس بخدمت اہل اسلام وحکام ہند درباب ترقی مسلمانان ہند "مگر اس معاملے میں اصل کام ان کی واپسی پر ہی ہوا ۔

خیالات کی اشاعت اور چندہ :
سرسید نے اپنے خیالات کی اشاعت کے لیے "تھذیب الاخلاق "جاری کیا ،اور بعد میں ایک کمیٹی "خواستگار  ترقی تعلیم مسلمانان "قائم کر کےاور تعلیم کے موضوع پر مضامین لکھوا کر ایک درس گاہ کی سکیم تیار کی ،اور ایک دوسری کیمٹی "خزینۃ البضاعۃ "کے نام سے چندہ جمع کر نے کیلئے بنائی ۔

علاقہ مدرسہ ،کالج:
بالآخر مئی 1875 میں علی گڑھ کے مقام پر ایک ابتدائی مدرسے کا افتتاح ہوا،اور مولوی سمیع اللہ خان کی نگرانی میں اسی سال تعلیم کا آغاز بھی ہو گیا ،دوسال کے بعد جنوری 1877 میں "لارڈلٹن "نے علی گڑھ کالج کا سنگ بنیاد رکھا ،یکم جنوری 1878 میں کالج کے درجے قائم ہوئے ،پھر سرسید کی زندگی میں اور سرسید کی زندگی کے بعد اعلی تعلیم کے اکثر شعبے قائم ہوتے گئے ۔

سرسید انگلستان سے بہت متاثر تھے :
سرسید اس کالج کو انگلستان کی درس گاہوں کے نمونے پر قائم کرنا چاہتے تھے ،وہ یہاں پڑھنے والوں کی تربیت بھی انگریزی طریقے پر ہی کرنا چاہتے تھے ،اسی مقصد کے حصول کے لیے انھوں نے کالج کےساتھ ایک ہاسٹل بنایا ،جس کا نام" انگلش ہاسٹل" رکھا ،جو چھوٹے بچوں کے لیے مخصوص تھا ،جس کی نگران ایک انگریز خاتون" مس بیک" تھیں ۔

علی گڑھ یونیورسٹی :
یہی درس گاہ 1920 میں کالج سے یونیورسٹی میں بدل گئی ۔

علی گڑھ کالج اور سیاست :
علی گڑھ کہنے کو تو ایک کالج تھا ،مگر عملا یہ مسلمانوں کا ایک اہم سیاسی مرکز تھا ۔

سرسید کی تعلیمی تحریک کی مخالفت کیوں ہوئی :
کیونکہ سرسید اپنے کالج کے ذریعے کچھ خاص قسم کے لوگ تیار کرنا چاہتے تھے ،اس لیے اس وقت کے بہت سے مذہبی و دنیاوی لوگوں نے آپ کی شدید مخالفت کی ۔
آپ کے مخالفین میں اکبر آلہ آبادی بھی شامل تھے ۔

علی گڑھ تحریک کے اولین علم بردار :
علی گڑھ تحریک کے اولین علم بردار سرسید اور ان کے رفقائے خاص حالی ،شبلی ،ذکاء اللہ ،نذیر احمد ،چراغ علی ،محسن الملک ،وقار الملک ،سید محمود ،مولوی سمیع اللہ خان ،مولوی اسماعیل خان وغیرہ شامل تھے ۔

سرسید بطور مصنف :

سرسید کی تصنیفی زندگی کو بھی تین ادوارمیں تقسیم کیا جاسکتا ہے ۔
پہلاد ور :
ابتداء سے 1857تک
دوسراد ور:
1857سے 1869تک (یعنی سفر انگلستان تک )
تیسرا دور :
1869 سے 1898 تک

سرسید کی چند کتب :
جام ِجم :تیمور سے بہادر شاہ ظفر تک ،تنتالیس بادشاہوں کا مختصر حال
جلاء القلوب بذکر المحبوب :
مجالس مولود(یعنی میلاد النبی ) میں پڑھنے کیلئے صحیح روایات پر مبنی سیرت رسول ﷺ
راہ سنت و بدعت :
بدعت کے رد میں ایک کتاب
تقلید کے رد میں بھی سرسید نے ایک کتاب لکھی تھی ۔
تحفہ اثناء عشریہ :کے ایک باب کا اردو ترجمہ بھی  کیاتھا ۔
کیمائے سعادت :امام غزالی کی کتاب کے چند اوراق کا اردو ترجمہ بھی کیا تھا ۔
ریاضی پر بھی چند رسالے لکھے تھے
قول متین در ابطال حرکت زمین :
زمین کی حرکت کے باطل ہونے پر ایک رسالہ
بقول بعض :ان تصانیف پر عموما شاہ عبد العزیز اور سید احمد رائے بریلی کا اثر کار فرما تھا ۔
(عرف عام میں جسے وہابی اثر کہتے ہیں )

سرسیدنےاخبارات میں بھی مضامین لکھتے تھے

سید الاخبار :
سرسید کے بھائی سید محمد خان نے 1837 میں اردو کا دوسرا اخبار "سید الاخبار " جاری کیا تھا ،جس میں سرسید بھی مضامین لکھتے تھے  ۔

دوسرے دور کی کتب :
تاریخ سرکشی بجنور :
اس میں 1857سے 1858 تک کے واقعات ہیں
اسباب بغاوت ہند :
لائل محمڈنز آف انڈیا :
اس دور کی تصانیف میں سرسید مسلمانوں اور عیسائیوں میں تعلق خوشگوار کرنا چاہتے تھے
تحقیق لفظ نصاری :
احکام طعام اہل کتاب :
حتی کہ اس دور میں سرسید نے بائبل کی تفسیر بھی لکھ دی
تبین  الکلام :

سرسید کی تصنیفات کا تیسرا دور :

خطبات احمد یہ :
تفسیر القرآن :
ازالۃ الغین :
تفسیر السموات :
سرسید کی ذکر کردہ کتب و رسائل کے علاوہ بھی چند تصنیفات ہیں
ہم سرسید کی کتابوں کا تعارف کرواتے ،مگر اس کے لیے ہمیں آپ کا بہت وقت چاہیے ہوگا ،آپ میں سے کچھ لوگ اتنا وقت نہیں دے سکیں گے ،لھذا ہم اس مضمون میں آپ کو سرسید کی صرف ایک کتاب کا تعارف کروائیں ،اور یہ بتائیں گے کہ سرسید کے نظریات آخری عمر میں کس حد تک بدل چکےتھے ۔

سرسید بطور مذہبی رہنما :
سرسید نے اپنی کتب و رسائل میں مذہبی موضوعات پر بہت کچھ لکھا ہے۔یوں تو سرسید وہابی تحریک سے بھی خاصے متاثر تھے ،لیکن ملکہ وکٹوریہ کےزمانے میں آپ نے انگلستان کے جدید افکار اور خیالات کو مکمل طور پر قبول کر لیا تھا ،خصوصا آپ عقل اور نیچر (فطرت ) کے نظریے سے بہت متاثر تھے ،اس لیے آپ کو "نیچری "بھی کہا جاتا ہے ،آخری عمر میں آپ کے خیالات بالکل ہی سلف کےعقائد سے مختلف ہو چکے تھے ،اسی لیے اس وقت کے علماء نے آپ سے شدید اختلاف کیا ۔

سرسید کے دو اصول :
سرسید کی تصنیفات کے گہرے مطالعے سے بہت سی باتیں سامنے آتی ہیں ،جس میں ان کی رائے ساری امت سے مختلف ہے ،ہم آپ کی آسانی کے لیے دو اصول بیان کر دیتے ہیں ،اگر آپ ان دو اصولوں کو مدنظر رکھ کر کسی کتاب کا مطالعہ کریں ،یا کسی عالم کی تقریر سنیں ،تو آپ کو معلوم ہو جائے گا ،کہ یہ شخص اسی نظریے کا ہے یا نہیں ۔

پہلا اصول :
مذہب کو ہر صورت میں عقل و فطرت  کے مطابق ثابت  کرو۔
توجہ طلب :
اگر سرسید کوئی بات عقل کے مطابق ثابت نہ کر سکے ،تو انھوں  نے بڑی خوبصورتی سےچند تاویلوں کے ساتھ  اس بات کا انکار کر دیا ۔

عقل وفطرت کی وجہ سے سرسید  نے درج ذیل باتوں کا انکار کیا :

الف :فرشتوں کے وجود کا
ب:معجزات انبیاء کا
ج:جنات کے وجود کا
ح:حضرت عیسی کی بغیر باپ کے پیدائش کا
خ:وحی جبرئیل کا
د:جنت و جہنم کا
ر:شیطان کے جسمانی وجود کا
ل:عذاب قبر کا

دوسرا اصول :
جو حالات آج کل ہیں ،دین اسلام کو اس کے مطابق بنا کر پیش کر و ۔

توجہ طلب :
سرسید نے اسلام میں جو بات ایسی دیکھی ،جس کو اُس دور کے لوگ( خصوصا انگریز)پسند  نہیں کرتے تھے ،سرسید نے اس سے انکار کر دیا ،اور ایک خوبصورت سی تاویل پیش کر دی ۔

اس ہی اصول کی وجہ سے سرسیداورآپ کے متبعین نے درج ذیل باتیں کہہ دی :
الف :آج کل کے یہود و نصاری کافر نہیں ہیں ،کیونکہ انھوں نے رسول اللہ ﷺ کا زمانہ نہیں پایا ،نہ ہی حضور کے معجزات دیکھے ہیں ۔
ب:تھذیب تو نصاری نے ایجاد کی ،رسول اللہ ﷺ کے دور میں بہت سے افعال غیر مھذب تھے ،(جیسے ہاتھ سے کھانا کھاناوغیرہ جو کہ سنت ہے ۔ )(معاذ اللہ )

ج:غلام و باندی بنانا ظلم صریح ہے ،یہ جانوروں جیسا کام ہے (حالانکہ اسلام ،تورات و بائبل سب مذاہب میں غلام و باندی بنانے کا تصور موجود ہے )
اس وقت  ساری دنیا میں ایک معاہدہ ہے ،کہ ہم جنگی قیدیوں کو  غلام ا ور باندی نہیں بنا ئیں گے ،جس دن وہ معاہدہ ختم ہوا ،پھر سے غلام و باندی بنانےکا آغاز ہو جائے گا۔

کیونکہ جدید لوگ اسے پسند نہیں کرتے تھے ،اس لیے سرسید نے اسکا انکار کر دیا ۔
ہم نے دین خود نہیں بنایا ،بلکہ اللہ رسول نے جو احکام ارشاد فرمائے ،ہماری مجبوری ہے کہ ہمیں ان کے سامنے سر تسلیم خم کرنا پڑتا ہے ۔غلام و لونڈی بنانے کا حکم بھی اللہ کا ہے ،اس کی بے پناہ حکمتیں ہیں ۔

غلام و لونڈی بنانے میں بڑی حکمتیں ہیں :
صرف ایک حکمت پر ہی غور کریں ،تو آپ بھی  مان لیں گے ،ہاں بے شک یہ اللہ کا دیا ہوا جنگی قانون ہے ۔
آج جس ملک کے پاس طاقت ہوتی ہے  ،وہ کمزور ملکوں پر چڑھائی کر دیتا  ہے ،اور انھیں تباہ و برباد کر دیتا ہے ،کیونکہ اسے کوئی ڈر ہی نہیں ہوتا ۔
اگر غلام و لونڈی کا قانون ابھی باقی ہوتا ،تو ہر طاقتور ملک کے سربراہ کوبھی اور اس کے ہر ہر فوجی کو بھی  یہ ڈر ہوتا کہ اگر دوران جنگ میری بہن ،بیٹی یا ماں کسی دوسرے کےقبضے میں چلی گئی ،تو وہ اس کی لونڈی بن جائے گی ،اور لونڈی سے بغیر نکاح کے بھی ہم بستری جائز ہوتی ہے ۔
اور اگر کوئی مرد دوسری قوم کے ہاتھ چڑھ گیا ،تووہ عمر بھر کے لیے غلام بن کر زندگی گزارے گا ،چاہے وہ اس سے مزدوری کروائیں ،چاہے اس سے گھر کی گندگی صاف کروائیں ۔
یہ ایسا ڈر تھا  ،جس سے تما م عالم خوف زدہ رہتا تھا ،اور کمزور قومیں بھی محفوظ رہتی تھی ،جبکہ آج کل جس ملک  کے پاس طاقت ہے ،اس کو کسی کا ڈر نہیں ،جو چاہے کرے ،مدمقابل کمزور ممالک جنگ میں تو اس کا کچھ ہی  نہیں بیگاڑ سکتے ۔
البتہ اسلام نے غلاموں کو حقوق دیے ہیں ،ان کے ساتھ حسن سلوک کی تلقین کی ہے ،ان کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھانےکو کہا ہے ۔
اسلام نے تو غلاموں کو بادشاہ بنایا ہے ،ہندوستان کے سلاطین اس کے گواہ ہیں ،قطب الدین ایبک ،شمس الدین ایلتمش وغیرھم ۔
د:سرسید نے ہر وہ بات لکھی ،جس کو انگریز پسند کرتے تھے ۔

 وفات:
سرسید نے 1898 میں وفات پائی ،اور مدرسۃ العلوم ،علی گڑھ کی مسجد کے احاطے میں دفن ہوئے ۔
توجہ طلب :
اس زمانے میں سکول ،کالج کو بھی مدرسہ ہی کہا جاتا تھا ۔اقبال کے شاعری میں جہاں مدرسہ کا لفظ ہے اکثر مقامات پر جدید تعلیم ہی مراد ہے ۔

سرسید مصلح مذہبی :
لوگ سرسید کو مصلح مذہبی  (یعنی مذہب کی اصلاح کرنے والا)لکھتے ہیں ،مگر ہم سرسید کو مصلح مذہبی نہیں سمجھتے ۔
وہ توٹھیک سے  مذہبی بھی نہیں تھے
ہمارے دور میں جو شخص بھی اسلاف سے بالکل مختلف بات کہے ،لوگ اسے مصلح کہنے لگتے ہیں

سرسید بڑے آدمی تھے :
یقینا سرسید بڑے آدمی تھے ،اور بڑے لوگوں کی غلطیاں بھی بڑی ہوتی ہیں ،سرسید کی وجہ سے یہ نظریات آگ کی طرح پھیل گئے ،کیونکہ ہر سکول و کالج کی نصابی کتاب میں سرسید کے لیے تعریفی جملے موجود ہیں ،مگر کسی نصابی کتاب میں ان کی غلطیوں کا ذکر نہیں ہے۔

سرسید کے مستقبل میں بھی بہت سے ارادے تھے :
سرسید کہتے تھے :اگر اللہ نے مجھے زندگی دی تو میں ثابت کروں گا ،کہ قرآن ،تورات ،انجیل سب ایک ہی تھے ،مگر شکر ہے اللہ نے انھیں زندگی نہیں دی اور وہ فوت ہو گئے ۔

سرسید کی رائے تقلید ائمہ اربعہ کے بارے میں :
اسلام کو جس قدر نقصان تقلید نے دیا کسی نے نہیں دیا ۔

سرسید کے نزدیک وہابیوں کی تین قسمیں :
سرسید کہتے تھے :میں نے وہابیوں کی تین قسمیں کی ہیں
صرف وہابی
وہابی اور کریلا
وہابی کریلا اور نیم چڑھا
مزید کہتے ہیں :میں نے ہی مولوی نذیر حسین صاحب(غیر مقلدین کے امام ) کو وہابی  کریلا اور نیم چڑھا بنایا ہے ،میں نے ہی ان سے عصر کی نماز میں رفع یدین شروع کر وایا تھا ،پہلے وہ رفع یدین نہیں کرتے تھے ۔

سرسید کی علماء کے بارے میں رائے :
سرسید کہتے تھے :میں زندہ مولویوں کا جانی دشمن ہوں ،اور فوت شدہ میں سے سوائے چند ایک کے سب سے رنجیدہ ہو ۔
علی گڑھ کا کتا:
علی گڑھ میں کتے کو باندھ کر ٹھڈے مارے جاتے تھے ،جب وہ بھونکتا ،تو کہتے چپ کر مولوی ۔
توجہ طلب :
اس سب کچھ کے بعد بھی وہ روشن خیال ہیں ،اور مولوی تنگ نظر ۔افسوس

سرسید اور مولانا قاسم نانوتوی :
مگر سرسید نے دیوبند کے مولانا قاسم نانوتوی کی بہت تعریفیں کی ہیں


سرسید یا علی گڑھ کی تحریک سے متاثر لوگ :
الف:شبلی نعمانی:
یہ مدرسۃ العلوم ،علی گڑھ (یعنی علی گڑھ کالج )کے پروفیسر تھے ۔
یہ  بھی سرسید سے پڑھے تھے ،اسی لیے وہ کہتے تھے،مجھے اس بات کا کوئی خوف نہیں ہے کہ تمام (پچھلے )مورخین اور اصحاب سیر (سیرت لکھنے والے ) میرے حریف مخالف ہیں ۔
ب :صدر ایوب خان:
یہ  بھی علی گڑھ سے پڑھے تھے
پ:صدر پرویز مشرف:
ان  کے والد علی گڑھ میں سرسید سے پڑھے تھے
ت:مولانا فراحی صاحب :
یہ شبلی نعمانی کےرشتہ دار تھے
ٹ:امین احسن اصلاحی صاحب:
یہ حدیث کا انکار کرتے تھے ،یہ لکھتے ہیں ،میں امام زہری کا جانی دشمن ہو،وہ میرے زمانے میں ہوتے تو میں انھیں قتل کروادیتا ،(یاد رہے امام زہری حدیث کے بہت بڑے امام تھے  ،انھوں نے نو صحابہ کرام کی زیارت کی ہے )
امین احسن اصلاحی صاحب کو پروپز مشرف نے اسلامی نظریاتی کونسل میں رکھا تھا ۔
ث:ڈاکٹر اسرار احمد :
ج:مولانا سید مودودی :
ان کے علی گڑھ سے تعلقات تھے ،یہ بھی معجزات کا انکار کرتے ہیں
چ:غلام احمد پرویز:
یہ صدر ایوب کے پیرو مرشد تھے
ح :جاوید غامدی صاحب :
یہ امین احسن اصلاحی کے شاگرد ہیں ،یہ موسیقی کو بھی جائز سمجھتے ہیں ،ان کے نزدیک قانون بنانے میں حدیث کا کچھ دخل نہیں ،اسی لیے اکثر مقامات پر یہ صرف یہ کہہ دیتے ہیں ،کہ یہ بات قرآن سے ثابت نہیں ۔یہ نہیں بتاتے کہ حدیث میں اس کا ذکر آیا ہے ۔
بہت سی باتوں پر یہ پوری امت سے الگ موقف رکھتے ہیں ۔

سرسید اور انگریزکی وفاداری  :
کیونکہ سرسید کے والد بھی ایک درباری وظیفہ خوار  تھے ،سرسید پر بھی اس کا کافی اثر تھا ،سرسید1857 کی جنگ آزادی کے متعلق لکھتے ہیں :
جن مسلمانوں نے ہماری سرکار کی نمک حرامی اوربدخواہی کی ،میں ان کا طرف دار نہیں ہوں ،میں ان سے بہت زیادہ ناراض ہوں ،اور حد سے زیادہ برا جانتا ہوں ۔
مزید ایک مقام پر لکھتے ہیں :
میرا ارادہ تھا کہ میں اس کتاب میں اپنا حال نہ لکھوں ،کیونکہ میں اپنی ناچیز اور  مسکین خدمتوں کو اس لائق نہیں جانتا ،کہ ان کو گورنمنٹ کی خیر خواہی میں پیش کروں ،علاوہ اس کے جو گورنمنٹ نے میرے ساتھ سلوک کیا ،وہ درحقیقت میری مسکین خدمت کے مقابلے میں بہت زیادہ ہے ،اور جب میں اپنی گورنمنٹ کے انعام و اکرام کو دیکھتا ہوں ،اور پھر اپنی ناچیز خدمتوں پر خیال کرتاہوں ،تو نہایت شرمندہ ہوتا ہوں ،اور کہتا ہوں ،کہ ہماری گورنمنٹ نے اس سے زیادہ مجھ پر احسان کیا ہے ،جس کے میں لائق تھا ۔لیکن مصنف کے لیے ضروری ہے کہ اپنے حال کو لوگوں پر ظاہر کرے ،کہ اس نے اس ہنگامے (یعنی 1857 کی جنگ آزادی )میں کس طرح اپنی دلی محبت گورنمنٹ کی خیر خواہی میں صرف کی ہے ۔
سرسید مزید لکھتے ہیں :
1854 میں جب میں نے ایک کتاب تاریخ دہلی کی پرانی عمارتوں اور اگلی عملداریوں کی لکھی ،تو اس میں سلسلہ سلطنت خاندان مغلیہ 1803 سے منقطع کیا ،یعنی جب سے نیک سپہ سالا ر انگلشیہ نے دہلی کو فتح کیا ،اس سے یقین ہو سکتا ہے کہ اس ہنگامے سے پہلے میری نیت یہی تھی ،کہ تمام اہل ہند جان لیں ،کہ اب سلطنت خاندان مغلیہ کی ختم ہو گئی ہے ،اور ہندوستان کی بادشاہت شاہان انگلستان کی ہے ،اس لیے تمام رعایا کو اپنے بادشاہ اور گورنمنٹ انگلشیہ کی خیر خواہی اور اس کی محبت پید ا کرنی چاہیے ۔
سرسید مزید لکھتے ہیں :
جب غدر ہوا ،تو میں دن رات صاحب کی کوٹھی پر حاضر رہتا تھا ،رات کو کوٹھی کا پیرا دیتا تھا ،اور حکام کی اور میم صاحبہ اور بچوں کی حفاظت جان کا خاص اپنے ذمہ اہتمام لیا ،ہم کو یاد نہیں ،کہ دن رات میں کسی وقت ہمارے بد ن سے ہتھیار اترے ہوں ۔
سرسید مزید لکھتے ہیں :
ہماری طرف حکم آیا کہ سرکار (انگریز ) کی طرف سے ضلع بجنور کا انتظام کرو ،اس وقت بھی ہم اپنی جان کا بچنا باغیوں کے ہاتھ سے ہر گز نہیں جانتے تھے ،مگر ہم نے انتظام ضلع کا  اٹھایا ،اور سرکار کے نام سے تمام ضلع میں منادی کی ،اور اشتہارات سرکار کے نام سے جاری کیے ،اور انتظام ضلع کا سرکار کی جانب سے کیا ۔
اور ضلع بجنور کے زمینداروں کو اپنے ساتھ لے کر باغیوں سے مقابلہ کیا ،جب ہماری شکست ہوئی تو ہم بھاگے اور چاند پور کے مقام پر باغیوں کے ہاتھ گھر گئے ،ہماری زندگی باقی تھی کہ بہت بڑا صدمہ اٹھا کر وہاں سے نکلے اور میرٹھ پہنچے ۔اور پھر 25 اپریل 1857 کو بفتح و فیروزی بجنور میں داخل ہوئے ،

اس کے عوض میں سرکار نے میری بڑی قدر دانی کی ،عہدہ صدر الصدوری پر ترقی کی اور علاوہ اس کے دو سو روپے ماہواری پنشن مجھ کو اور میرے بڑے بیٹے کو عنایت فرمائے ،اور خلعت پانچ پارچہ اور تین رقم جواھر اور ایک شمشیر عمدہ قیمتی ہزار روپیہ کا ،اور ھزار روپیہ نقد واسطے مدد خر چ کے مرحمت فرمایا ۔

سرسید کے متعلق اس وقت جو رپورٹ تیار ہوئی :اس میں ایک جملہ یہ بھی تھا ،
"باغی مسلمان ان سے بباعث خیر خواہی سرکار کے بہت نفرت رکھتے تھے "


مزیدسرسید  ایک مقام پر لکھتے ہیں :
پس حقیقت میں تمام دنیا کے مسلمانوں پر انگریزوں اور فرنچوں کا مگر بالتخصیص انگریزوں کا اس قدر احسان ہے ،کہ جب تک مسلمانی سلطنت قائم ہے ،بلکہ جب تک مسلمان دنیا میں ہیں ،اس کے شکر اور مراسم احسان مندی کو ادا نہیں کر سکیں گے ۔

سرسیدکی ذہنیت کا اندازہ آپ اس بات سے بخوبی لگا سکتے ہیں :
مولانا شبلی نعمانی جب مدرسۃ العلوم ،علی گڑھ میں پروفیسر تھے ،اس وقت انھوں نے امیر المومنین فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کی سوانح عمری لکھنے کا ارادہ فرمایا :"الفاروق " کے نام سے اس کا اعلان بھی اپنی ایک کتاب کے دیباچہ میں کر دیا ۔
مدرسۃ العلوم علی گڑھ کی مصلحتوں کے پیش نظر سرسید نہیں چاہتے تھے ،کہ مولا نا شبلی "الفاروق "لکھیں ،کیونکہ اس سے کالج کے شیعہ ھوا خواھوں اور ہمدردوں کے ناراض ہوجانے کا اندیشہ تھا ،لیکن جب  شبلی اپنے ارادے سے باز نہ آئے ،تو سرسید نے نواب عماد الملک سید حسین بلگرامی (جو شیعہ تھے )کو خط لکھا ،اور کہا کہ آپ شبلی نعمانی کو اس کتاب سے رکنے کا مشورہ دیں ،کیونکہ کالج کی مصلحتیں اس بات کی مقتضی نہیں ہیں ،کہ اس کے ایک پروفیسر کے قلم سے ایسی فرقہ وارانہ کتاب نکلے ،اس وقت کالج کے ھمدردوں ،معاونوں اور سرپرستوں میں سے سب سے زیادہ قابل تعظیم یہی بزرگ تھے ،اور سرسید کو یقین تھا ،کیونکہ نواب صاحب شیعہ ہیں ،اس لیے یہ کتاب علی گڑھ کالج سے ان کی بد مزگی اور بیزاری اور بے التفاتی بلکہ بے تعلقی کا موجب ہوگی ۔اس وجہ سے سرسید کا اصرار تھا کہ یہ کتاب نہ لکھی جائے
مزید سرسید لکھتے ہیں
"ھیروز آف اسلام "کے سلسلے میں حضرت عمر کی لائف کا لکھانا ،ایک بڑا نازک کام ہے ،ممکن ہے کہ ان کی لائف اس طرح پر لکھی جائے ،جو انسانوں کے لیے باعث رحمت ہو ،یا اس طرح پر لکھی جاوے کہ باعث آفت ہو ۔
مزید سرسید لکھتے ہیں :
مگر ہم مولوی شبلی کی اس رائے کو کہ بزرگان دین کو بھی "ھیروز آف اسلام " میں داخل کر کے ان کی لائف لکھیں،ھر گز پسند نہیں کرتے ،اور نہ ان سے متفق ہیں ،وہ لوگ "فادرز آف اسلام " ہیں نہ "ھیروز آف اسلام "۔
وضاحت :
عیسائی اپنے پادری کو" فادَر "کہتے ہیں ۔


وما علینا الا البلاغ
والسلام
احسان اللہ

30-جون -2016

Sir Syed Ahmed Khan ,Books of Sir syed AHmed Khan ,Sir Syed ahmed khan k aqaid ,Sir Syed AHmed khan ki Seerat ,Sir Syed AHmed khan ki zindagi ,sir SYed AHmed khan ki Hayat ,urdu zuban me,
Sir Syed Ahmed Khan ,Books of Sir syed AHmed Khan ,Sir Syed ahmed khan k aqaid ,Sir Syed AHmed khan ki Seerat ,Sir Syed AHmed khan ki zindagi ,sir SYed AHmed khan ki Hayat ,urdu zuban me Sir Syed Ahmed Khan ,Books of Sir syed AHmed Khan ,Sir Syed ahmed khan k aqaid ,Sir Syed AHmed khan ki Seerat ,Sir Syed AHmed khan ki zindagi ,sir SYed AHmed khan ki Hayat ,urdu zuban me Sir Syed Ahmed Khan ,Books of Sir syed AHmed Khan ,Sir Syed ahmed khan k aqaid ,Sir Syed AHmed khan ki Seerat ,Sir Syed AHmed khan ki zindagi ,sir SYed AHmed khan ki Hayat ,urdu zuban me Sir Syed Ahmed Khan ,Books of Sir syed AHmed Khan ,Sir Syed ahmed khan k aqaid ,Sir Syed AHmed khan ki Seerat ,Sir Syed AHmed khan ki zindagi ,sir SYed AHmed khan ki Hayat ,urdu zuban me  

No comments:

Post a Comment

Join us on

Must click on Like Button

Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...