Saturday, July 2, 2016

دنیا کی محبت کی مذمت پر چالیس احادیث اور انکی شرح (یونی کوڈ اردو میں )40 Ahadees aur un ki Sharha unicode urdu me Dunya ki mohabat per


بسم اللہ الرحمن الرحیم
الحمد ﷲوالصلوۃ والسلام علی رسول اﷲوآل واصحاب رسول اﷲ۔امابعد!
اس رسالہ میں
٤٠ احادیث مبارکہ جمع کی گئی ہیں جو دل میں رقت پیدا کرنے والی ہیں ،ان کی شرح کے لیے میرے سامنے یہ تین شروحات رہی ہیں ،ملا علی قاری کی مرقاۃ المفاتیح ،علامہ طیبی کی الکاشف عن حقائق السنن ،مفتی احمد یا ر نعیمی رحمۃ اﷲ علیھم کی مراۃ المناجیح۔اکثر ان کا خلاصہ ذکر کیا ہے تاکہ عوام کی زبان میںہی یہ باتیں ان تک پہنچیں ،ابتداء چند احادیث میں زیادہ دینی مدارس کے طلباء کے لیے لکھا ہے بعد میں سب ہی کے لیے مفید باتیں لکھی ہیں دنیا کی محبت ہی تمام پریشانیوں کی وجہ ہے اس لیے اس کا نام کَشَّافُ الغُمَم مِنْ اَحَادِیْثِ النَبِی المُحْتَشَمْ ْؐ(غموں کو دور کرنے والی حضور نبی محتشم کی احادیث )
اللہ تعالی اسے اُمتِ مصطفی ؐ کے لیے نفع بخش بنائے میرے لیے ،میرے والدین اور میرے اساتذہ کے لیے اسے صدقہ جاریہ بنائے ۔آمین۔
(
١)عن ابن عباس رضی اﷲعنھما قال :قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ ؐ نِعْمَتَانِ مَغْبُوْنٌ فِیْھِمَا کَثِیْرٌ مِنَ النَّاسِ الصِحَّۃُ والفِرَاغ ُ
(رواہ البخاری )
حضرت ابن عباس رضی اﷲ عنھما روایت فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ ؐ نے ارشاد فرمایا :دو نعمتیں ایسی ہیں جن کی اہمیت سے اکثر لوگ غافل ہیں
١۔صحت ،٢۔فراغت
فوائد :۔
غَبَنَ الرَجُلُ :کا مطلب ہوتا ہے آدمی کے سامنے سے ایسے گزرجانا کہ نہ وہ دیکھے نہ اسے علم ہو ۔
لوگ بھی ان دو کے معاملے میں ایسے ہی ہیں کہ صحت کے ساتھ وقت گزرتا جا رہا ہے اور انھیں اس کا احساس ہی نہیں ۔
١۔لوگوں کو صحت کی قدر نہیں حالانکہ صحت مند آدمی جیسے عبادت کر سکتا ہے کمزور یا بیمار آدمی کبھی ویسی عبادت نہیں کر سکتا ۔کیونکہ عبادت کے لیے علم کا ہونا ضروری ہے اور جوان آدمی تو علم حاصل کرنے کے لیے آٹھ سال درس نظامی پھر دو سال مفتی کورس کے لیے دے سکتا ہے ،مگر بڑی عمر کے شخص کے لیے اتنا وقت نکالا مشکل ہوتا ہے ۔الا ماشاء اللہ (یعنی جسے اللہ چاہے اس کے لیے مشکل نہیں ہوتا ) بہت سے ایسے لوگ ہیں جو بڑی عمر میں دین کی طرف آئے اور اللہ تعالی نے ان سے بہت سااپنے دین کا کام لیا ۔اللہ تعالی ہمیں بھی قبول فرمائے ۔
٢۔اکثرلوگ اپنی عمر فضولیات میں گزار دیتے ہیں اور پھر آخر ی عمر میں نادم ہوتے ہیں ،کہ کاش عمر کا یہ طویل عرصہ ہم نے اللہ کی عبادت اور اس کوراضی کرنے کے لیے خرچ کیا ہوتا ۔اگر یہ ندامت موت سے پہلے ہو گئی تو پھر بھی کچھ نہ کچھ فائدہ ہو ہی جائے گا، اگر مرنے کے بعد قیامت میں ندامت ہوئی تو وہاں اس ندامت کا کوئی فائدہ نہیں ہو گا
جیسے کہ اﷲتعالی نے فرمایا :
'' ذَالِکَ یَوْمُ التّغَابُنْ ''(ترجمہ:وہ ہار اور نقصان ظاہر ہونے کا دن ہے )
(
٦٤،التغابن ،٩)
رسول اللہ ؐ نے ارشاد فرمایا :
لیس یتحسر اھل الجنۃ الا علی ساعۃ مرت بھم و لم یذکروااللہ فیھا
اہل جنت صر ف اس وقت پر حسرت کریں گے جو انھوں نے اللہ کے ذکر کے بغیر گزارا ہو گا ۔
٣۔انسان صحت مند بھی ہو اور فکر معاش سے بھی خالی ہو تو یہ وقت ہر گز ضائع نہ کرے ،بلکہ اپنا تمام وقت عبادات اور دین کے کاموں میں خرچ کرے ۔میرے خیال میں جب انسان پڑھ رہا ہوتا ہے تو اس کے پاس بہت ساوقت بھی ہوتا ہے اور معاشی پریشانی بھی نہیں ہوتی
کیونکہ اس وقت اس کے ماں باپ اس پر مال خرچ کرتے ہیں ۔لھذا دینی مدارس کے طلباء کرام کو چاہیے کہ وہ اس وقت میں بہت کچھ لکھ لیں ،مثلا جو کتاب بھی پڑھیں اس کی شرح لکھ دیں ورنہ کم از کم اس پر حاشیہ تو ضرور لکھ دیں ۔یا اس کتاب اور حواشی کا ترجمہ کردیں تو یہ اردو میں شرح تیار ہو جائے گی ۔اس طرح وہ درس نظامی کے دوران ہی اتنا کچھ لکھ لیں گے کہ وہ ایک اچھے مصنف بن چکے ہوں گے اور اس طرح ان کا دل بھی پڑھائی میں لگے گا ۔کیونکہ انھیں معلوم ہو گا کہ جو آج ہم لکھ رہے ہیں کل لوگوں کے سامنے آجائے گی اور میرے لیے صدقہ جاریہ ہو گا۔
٤۔عام لوگ جو باقاعدہ مدرسے میں نہیں پڑھتے انھیں بھی چاہیے کہ وہ ضروری علم حاصل کریں ،اور اس کا سب سے آسان طریقہ یہ ہے کہ ہر بات وہ مستند علما ء کرام سے پوچھ پوچھ کر کریں ۔انشا ء اللہ ان کے پاس بھی بہت سا علم جمع ہو جائے گا ۔
٥۔روزانہ کا معمول بنائیں کہ میں نے اتنی مرتبہ کلمہ شریف،یس شریف ،درود شریف ،وغیرہ پڑھنا ہے ۔
٦۔اس کے علاوہ جب باہر نکلیں تو لوگوں کو نیکی کی باتیں بتائیں اور ان کی اصلاح کی کوشش کریں اس کی بہت فضیلت ہے مگر یادرکھیں ہرگز عقائد کی باتوں پر بحث نہ کریں ،کیونکہ اس میں تھوڑی سی غلطی سے بھی ایمان سے خارج ہونے کا خطرہ ہے ۔آپ نماز ،روزہ ،وضو ،غسل،کے مسائل پر بحث کریں ،یا اس پر بحث کریں کہ مسلمانوں کی حالت کو کیسے بہتر کیا جاسکتا ہے اور کیسے مسلمان ساری دنیا پر غالب آسکتے ہیں ۔
٧۔اپنا وقت ضائع کرنے کے بجائے علماء کرام کے بیانات سنیںیا ان کی لکھی ہوئی اصلاحی کتب پڑھیں اور اگر ان کی مجلس نصیب ہو تو یہ بہت اچھا ہے ،ورنہ مفتیان کرام کو خطوط لکھ کر ان سے دینی مسائل پوچھتے رہیں ،اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا :فاسئلو ااھل الذکر ان کنتم لا تعلمون (علم والوں سے سوال کرو اگر تمھیں کسی بات کا علم نہیں ہے ) ۔
٨۔انسان جو مال کاروبا ر میں لگاتا ہے اس کو راس المال کہتے ہیںاور ہر انسان چاہتا ہے کہ اسے اس کے راس المال کے علاوہ کچھ نفع بھی ملے ۔مسلمان کا راس المال صحت اور فراغت ہیں اسے چاہیے کہ انھیں درست طریقے سے استعمال کرے تاکہ وہ خسارے سے بچے اور دنیا اور آخرت میں راس المال سے نفع حاصل کرے ۔
امیر اہلسنت رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں (اگر جواب الجواب ہی لکھتے رہیں گے تو آپ کا وقت ضائع ہو گا )اور آپ کرنے کے کام سے محروم ہو کر نہ کرنے کے کام میں جا پڑیں گے
(علم و حکمت کے
١٢٥مدنی پھول ،ص ٨٧،مطبوعہ مکتبۃ المدینہ کراچی )
حضرت کے اس جملے سے حاصل ہونے والے فوائد :۔
یعنی آدمی جب نہ کرنے والے کام کرنے مشغول ہوتا ہے تو کرنے والے کاموں سے محروم ہو جاتا ہے ۔مثلا ایک طالب علم جب کھیل کود ،یا اپنی وضع کو سنوارنے میں لگا رہے گا ،یا مال جمع کرنے میں لگا رہے گا تو یقینا وہ کسی علمی مقام کو حاصل نہیں کر سکے گا ۔
اگر ایک آخرت کا مسافر اپنی دنیا کو جمع کرنے میں لگ جائے گا تو یقینا وہ اپنی آخرت کی منزل کو نہیں پا سکے گا ۔
اگر ایک مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا عاشق ان کے طریقوں کو چھوڑ دے گا تو پھر غیروں کے طریقوں کو اپنا لے گا ۔
ہمیں یہ دیکھنا چاہیے کہ اس وقت ہمارا کرنے کا کام ہے کیا ۔۔؟؟جب معلوم ہو جائے پھر اس پر ہی ساری توانائیاں خرچ کریں ۔
حضرت سری سقطی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت جرجانی رحمۃ اللہ علیہ کو ستو پھانکتے دیکھا تو سوال کیا کہ آپ روٹی کیوں کھاتے ۔؟؟انھوں نے جواب دیا کہ ـــ ''میں نے روٹی کھانے اور ستو پھانک کر گزارہ کرنے میں
٩٠تسبیحات کا فرق پایا ہے (یعنی جتنی دیر میں روٹی چبائی جاتی ہے ،میں نے ستوپھانک کر اتنی دیر میں ٩٠تسبیحات پڑھ لیتا ہوں )چنانچہ چالیس سال ہو گئے ،میں نے روٹی نہیں چبائی ۔اللہ تعالی ہمیںبھی ان دو نعمتوں کی قدر عطافرمائے ۔(آمین )
(
٢)عن المُسْتَوْرِدِ بْنِ شَدَّادٍ قال :سَمِعْتُ رسُولَ اللہِ ؐیَقُوْلُ : وَاللہِ مَا الدُنّیَا فِیْ الاخِرَۃِ اِلاَّمِثْلُ مَا یَجْعَلُ احدُکُمْ اِصبعَہ فِی الیَم فلْیَنْطُرْ بِمَ یَرْجِعُ(رواہ مسلم )
رسول اللہ ؐ نے فرمایا اللہ کی قسم دنیا آخرت کے مقابلے میں اتنی بھی نہیں جتنا تم میں سے کوئی ایک اپنی انگلی سمندر میں ڈالے اور پھر دیکھے کہ وہ انگلی کتنا پانی لے کر لوٹتی ہے
فوائد :۔
١۔واللہ : اللہ کی قسم اٹھا کر بات کی تاکہ حکم اور متحقق ہو جائے ۔
٢۔مثال دے کر سمجھانے سے بات خوب سمجھ میں آتی ہے میری گزارش ہے دین کے طلباء کرام سے کہ وہ ابھی سے اس پر مستقل محنت شروع کردیں تاکہ انھیں عام لوگوں کوآسان انداز میں سمجھانا آجائے ۔اگر آپ عام لوگوں کے سامنے بھی منطق ،فلسفہ ،بلاغت ،وغیرہ کی باتیں کریں گے تو وہ آپ کی باتیں نہیں سمجھ سکیں گے ۔اگر آپ اس مثال پر غور کریں تو آپ کو معلوم ہوگا کہ یہ مثال ایک معصوم بچہ بھی آسانی سے سمجھ سکتا ہے اور اسی سال کا بوڑھا بھی آسانی سے سمجھ سکتا ہے ۔اللہ تعالی ہمیں تبلیغ دین کی حکمتیں نصیب فرمائے ۔
٣۔دنیا کی نعمتیں محدود ہیں مثلا جوانی ہے تو فقط بیس سال کے لیے اس کے بعد ختم ،صحت ہے تو ذیادہ سے ذیادہ ٥٠ سال تک اس کے بعد کوئی نہ کوئی درد ساتھ رہتا ہی ہے ،اس لیے ان عارضی لذتوں کو ترک کریں اور ہمیشہ کی لذتوں کی فکر کریں ۔
٤۔جنت کی نعمتیں ہمیشہ کی ہیں نہ وہاں دکھ ،نہ پر یشانی ،نہ کبھی جوانی ختم ہو گی ،نہ کبھی بڑھاپا آئے گا ،نہ ہی وہاں پیشاب کریں گے،نہ ہی پا خانہ کریں گے ،صحابہ کرام نے پوچھا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پھر جو ہم کھائیں گے اس کا کیا ہو گا۔۔۔۔۔۔؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :خوشبودار پسینہ آئے گا جیسے کستوری ہوتی ہے اور خوشبودار ڈکار آئیں گے ،اور کھانا ہضم ہوجائے گا۔اس لیے دنیا کی فکر چھوڑیںجنت کی فکر کریں ۔
٥۔دنیا کی نعمتیں مل بھی جائیں پھر بھی بہت سی پریشانی ساتھ ہی رہتی ہیں مثلا اگر کسی کے پاس مال ہے مگر صحت نہیں تو وہ پریشان ہے ،اگر کسی کے پاس مال اور صحت ہے مگر اولاد نہیں تو وہ پریشان ہے ،اگر کسی کے پاس مال ،صحت اور اولاد بھی ہے ،مگر اولاد نا فرمان ہے تو وہ پریشان ہے ،اگر کسی کے پاس مال ،صحت ،فرمانبردار اولاد ہے مگر اس کا رنگ سیاہ کالا ہے تو وہ پریشان ہے ،یا اگر سب کچھ ہے مگر سر گنجا ہے ،یا آنکھیں بھینگی ہیں ،یا قد چھوٹا ہے ،یا زبان اٹکتی ہے،غرض کہ کوئی نہ کوئی پریشانی رہتی ہی ہے اس لیے اس دنیا کو منزل بنا نا ہی نہیں چاہیے بلکہ آخرت ہی کو منزل بنانا چاہیے جس میں کوئی پریشانی نہیں بلکہ سکون ہی سکون ہے ۔
٦۔دنیا کی نعمتیں نہ ملیں تو پریشان نہیں ہونا چاہیے بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ جملہ یاد کرنا چاہیے :
لَا عَیْشَ اِلَّا عَیْشَ الاَخرَۃ
(زندگی تو فقط آخرت ہی کی ہے )
٧۔اس زندگی کے لیے محنت کریں جس میں ہمیشہ رہنا ہے وہاں موت کو ذبح کردیا جائے گا اور اعلان کیا جائے گا اے اہل جنت ہمیشہ رہو اور اے اہل جھنم ہمیشہ رہو ۔اب کسی پر کبھی موت نہیں آئے گی ۔کیا ہم نے اس زندگی کے لیے کچھ تیار کیا یا فقط یہی دنیا ہی جمع کرنے میں لگے ہیں ۔
یااللہ ہمیں آخرت کی تیاری کی توفیق عطافرما ،اور ہمیں جھنم کے عذاب سے بچا ۔(آمین )
(
٣)عن جَابِرٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ اَنَّ رَسُوْلَ اللہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مَرَّ بِجَدْیٍ اَسَکَّ مَیِّتٍ قَالَ :اَیُّکُمْ یُحِبُّ اَنَّ ھَذا لَہ ، بِدِرْھَمٍ ،فقَالُوْا :مَانُحِبُّ اَنَّہ لَنَا بِشِیءٍ قَالَ :وَاللہِ لَلدُنیَا اَھونُ عَلی اللہِ مِن ھَذا عَلَیْکُمْ (رواہ مسلم )
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک چھوٹے کانوں والی مردہ بکری کے پاس سے گزرے اور فرمایا تم میں سے کون پسند کرے گا کہ یہ وہ ایک درھم میں خریدے ، سب نے عرض کی، ہم اس کو کسی معمولی سی چیز کے عوض بھی خریدنا پسند نہیں کرتے ، رسول اللہ ؐ نے فرمایا : اللہ کی قسم !دنیا اللہ کے نزدیک اس سے بھی ذیادہ حقیر ہے جتنی یہ تمہارے نزدیک حقیر ہے ۔
فوائد:۔
اَسَکَّّ :بتشدید الکاف ای صغیر الاذن اوعدیمھا اور مقطوعھا
اَسَکَّ:چھوٹے کانوں والی یا جس کے کان نہ ہو یا جس کے کان کٹے ہوئے ہوں ۔
١۔اللہ کے نزدیک جب دنیا ایک مردہ بکری سے بھی زیادہ ذلیل و حقیر ہے تو ہم کیوں اسی دنیا کو منزل سمجھ بیٹھے ہیں ۔ہم بھی فقط اس کو اتنی ہی اہمیت دیں جتنی ایک حقیر و ذلیل چیز کو دی جاتی ہے۔
٢۔اگر چہ کسی شخص کو دنیا کی تمام لذتیں میسر ہوں تو بھی یہ اتنی ہی حقیر ہے اور اگر کسی کو اس کی لذتیں نہیں ملی تو پریشان نہیں ہونا چاہیے کہ ہمیں اس حقیر وذلیل دنیا کی عارضی لذتیں نہیں ملی ،بلکہ پریشان اس بات پر ہونا چاہیے کہ میری آخرت کی تیاری میں کچھ کمی آگئی ہے ۔جیسے میں نے آج نماز کیوں نہیں پڑھی ،یا آج میں نے قرآن کریم کی چند آیات مع تفسیر کیوں نہیں پڑھی۔
٣۔آج ہمیں ضرورت ہے کہ ہم لوگوں میں دنیا سے بے رغبتی پیدا کریں خصوصا طلباء ،علماء میںاور تمام دینی لوگوں میں کیونکہ بعض عارفین فرماتے ہیں دنیا پر ست کو ہزاروں مرشد بھی ہدایت نہیں دے سکتے کیونکہ وہ اگر دین کا کام بھی کرے گا، تو بھی ہزاروں فاسد خواہشات اس میں شامل ہوگی اوراگر دنیا سے بے رغبت شخص دنیا کا کام بھی کرے گا تو اس کو مطمع نظر آخرت ہی ہوگی ۔
(
٤)وَعَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: الدُّنْیَا سِجْنُ المؤمنِ وجنَّۃُ الکافرِ . رَوَاہُ مُسلم
حضرت ابوھریرۃ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ ؐ نے فرمایا :دنیا مومن کا قید خانہ اور کافر کی جنت ہے ۔
فوائد :۔
١۔یہ دنیااس لیے مومن کے لیے جیل ہے کیونکہ مومن کے لیے آخرت میں ہمیشہ رہنے والی نعمتیں ،جنت ،حوریں ،محلا ت وغیرہ ہیں اور دنیا میں تو اس کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں یہاں کی خوشی عارضی اور غم دائمی ، یہاں چند سال کاتوانا جسم ،پھر بڑھاپے کی جھکی کمر ،چند دن کا لوگوں کا ہجوم، پھر رُلادینے والی بڑھاپے کی تنہائی، میں نے خود جوانی میں بہت مظبوط لوگوں کو بھی بڑھاپے میں روتے دیکھا اللہ تعالی اس رونے سے بچائے اور ہمیں اپنی محبت میں رونا نصیب فرمائے ، اور اس دنیا کی قید کو اپنے اطاعت میں گزارنے کی توفیق عطا فرمائے تاکہ ہمارے لیے جنت ہوجس میں ہر قسم کی قید سے آذاد ہوں گے ۔
٢۔اس لیے بھی مومن کے لیے دنیا قید خانہ ہے کیونکہ دنیا میں اس پر پابندیاں ہی پابندیاں ہیں ،شراب نہ پیو ،حرام سے بچو،زنا نہ کرو،کسی غیر محرم عورت کی طرف نہ دیکھو،اپنی نفس کی پیروی نہ کرو ،ہر بات میں شریعت کی پابندی کرو ،وغیرہ وغیرہ۔
٣۔کافر کے لیے دنیا جنت اس لیے ہے کہ وہ جو چاہتا ہے کرتا ہے زنا،شراب ،سود ،جوا،حرام ،وغیرہ کسی چیز کی پرواہ نہیں کرتا جو چاہتا ہے کرتا ہے او ر مال بھی اس وقت ان کے پاس زیادہ ہے ۔مگر اس پر پریشان نہیں ہونا چاہیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ان کے لیے دنیا ہے تمہارے لیے آخرت ہے ۔
٤۔فضیل بن عیاض رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :جس نے دنیا کی شھوات و لذات کو چھوڑا وہ جیل میں ہے اور جس نے ان لذات کو نہیں چھوڑا اس کے لیے یہ دنیا کہاں جیل ہے ۔؟
٥۔جب حضرت داود طائی رحمۃ اللہ علیہ فوت ہوئے توہاتف غیبی سے آوازآئی :
اطلق داؤد من السجن (داؤد طائی جیل سے آزاد ہو گے )
٦۔جب کوئی اپنے محبوب سے دور ہو ،اور اس کی ملاقات کا صرف ایک ہی راستہ ہواس کی موت تو ہر ایک محب ضرور یہ چاہے گا کہ اسے آج ہی موت آجائے اور محبوب کا دیدار ہو جائے رسول اللہ ؐ نے فرمایا :تم ضرور اپنے رب کو دیکھوگے جیسے تم اس چودھویں رات کے چاند کو دیکھ رہے ہو۔اسی لیے اولیاء اللہ دنیا میں قید خانہ کی طرح ہی رہتے ہیں۔
ایک بزرگ نے فرمایا :یا اللہ مجھے قیامت میں یہ عذاب نہ دینا کہ مجھے تو اپنے دیدار سے محروم کردے ،ذراسوچیں توکہ کسی محبوب کا چہرہ پھیر لینا کتنا درد ناک ہوتا ہے۔ ایک بار ایک صحابی، رسول اللہ ؐ کے پاس آئے تو آپ ؐ نے اپنا چہرہ پھیر لیا اس صحابی کی تو جیسے جان ہی نکل گئی ہوں کہ جس محبوب کے لیے میں نے جان کی بھی پرواہ نہ کی اور جہاد پر جانے کے لیے جسم پر تلوار لٹکا کر آیا اسی نے مجھ سے چہرہ پھیر لیا ۔
صحابہ جب کوئی ایسا کام کرتے جو رسول اللہ ؐ کو نا پسند ہوتا تو آپ کے چہرے سے صحابہ پہچان لیتے اور عرض کرتے میرے ماں باپ آپ پر قربان حکم فرمائیں ہم کیا کریں ۔یا اللہ ہمیں اپنی محبت نصیب فرماتاکہ ہمیں تیرے دیدار کا شوق ہواور ہم اس دنیا کو قید خانے کی طرح گزاریں ۔
(
٥)وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: إِنَّ اللَّہَ لَا یَظْلِمُ مُؤْمِنًا حَسَنَۃً یُعْطَی بِہَا فِی الدُّنْیَا وَیُجْزَی بِہَا فِی الْآخِرَۃِ وَأَمَّا الْکَافِرُ فَیُطْعَمُ بِحَسَنَاتِ مَا عَمِلَ بِہَا لِلَّہِ فِی الدُّنْیَا حَتَّی إِذَا أَفْضَی إِلَی الْآخِرَۃِ لَمْ یَکُنْ لَہُ حَسَنَۃ یجزی بہَا . رَوَاہُ مُسلم
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ؐ نے فرمایا :اللہ تعالی مومن پر کسی بھی نیکی میں ظلم نہیں فرماتا ،اس نیکی کے سبب اسے دنیا میں بھی عطا کیا جاتا ہے اور آخرت میں بھی اسے اس کی جزادی جائے گی ،اور کافر تو ان نیکیوں ہی کی وجہ سے کھلایا جاتا ہے ،جو وہ اللہ کے لیے کرتا ہے ،یہاں تک کہ جب وہ اللہ تعالی کے پاس پہنچتا ہے تو اس کے پاس کوئی نیکی نہیں ہوتی جس کی اسے جزادی جائے ۔
فوائد:۔
١۔اللہ تعالی مومن کے ساتھ فضل کا معاملہ فرماتا ہے دنیا میں بھی اپنے فضل سے اسے دیتا ہے ،اور آخرت میں اسے اس کی اعمال کی حقیقی جزادے گا ۔اور کافر کو اس کے اعمال کا بدلہ دنیا ہی میں دے دیتا ہے تاکہ اس کے ساتھ ظلم نہ ہو کیونکہ اس نے بعض نیک کام تو کیے ہیںفقیر کو کھانا کھلایا ،یتیم کی مدد کی ،وغیرہ وغیرہ ان کی صحت کے لیے اسلام شرط نہیں جیسے کے مرقات شرح مشکوۃ میں ہے ۔آخرت میں کافر کے لیے کچھ بھی نہیں ۔
ۤۤۤآج کل کے اچھے کاموں کو اسی پر قیاس کر لیں جو غیر مسلم کرتے ہیں ۔
٢۔مومن کو دنیا میں جو عطا کیا جاتا ہے رزق میں وسعت ،بلاؤں سے حفاظت وغیرہ البتہ مومن کو سب کچھ ہی دنیا میں نہیں مل سکتا جیسے کے آج ہماری خواہش ہے ۔جیسے اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا :۔فَلَنُحْیِیَنَّہ' حَیَاۃً طِیِّبَۃً (النحل :٩٧)(ترجمہ:ہم ضروراسے پاکیزہ زندگی کے ساتھ زندہ رکھیں گے )
٣۔کیسی شرمندگی ہوگی کافر کو قیامت میں جب وہ یہ گمان کیے کھڑا ہوگا کہ میں نے تو بہت سے اچھے کام کیے مگر وہ اس دن اس کے نامہ اعمال میں ہوں گے ہی نہیں مگر اس کے گناہ تو اس کے نامہ اعمال میں ہوں گے ہی یا اللہ تیرا لاکھ بار شکر ہے تو نے ہمیں ایمان کی دولت عطا فرمائی
الحمد ﷲ والعظمۃ ﷲ والھیبۃ ﷲ والقدرۃ ﷲ والکبریاء ﷲ
یا اللہ ہمیں ایمان پر ہی موت عطا فرمانا خدارا بھائیوں اس ایمان کی دولت کی قدر کروں کہی ایسا نہ ہو کہ یہ دولت مرتے وقت ہم سے چھین لی جائے جو لوگ اسلام کی باتوں پر مذاق کرتے ہیں خوف ہے کہ ان کے ساتھ یہ معاملہ ہو جائے ۔
٤۔دین کی طلب رکھنے والوں کے لیے تو اللہ کا اعلان ہے
(مَنْ کَانَ یُرِیدُ حَرْثَ الْآخِرَۃِ نَزِدْ لَہُ فِی حَرْثِہِ وَمَنْ کَانَ یُرِیدُ حَرْثَ الدُّنْیَا نُؤْتِہِ مِنْہَا وَمَا لَہُ فِی الْآخِرَۃِ مِنْ نَصِیبٍ) (الشوری: 20)(ترجمہ:جو شخص آخرت کی کھیتی کا طالب ہوتا ہے ہم اس کی کھیتی میں مزید اضافہ کردیتے ہیں اور جو دنیا کی کھیتی کا طالب ہوتا ہے نُؤْتِہِ مِنْہَاہم اس میں سے کچھ اسے دے دیتے ہیں اور اس کے لیے آخرت میں کچھ حصہ نہیں رہتا)
اس لیے دین کی لیے ہی اپنی تمام توانائیاں خرچ کریں اگر دنیا کے لیے تمام کوششیں بھی کریں گے تو اللہ نے ارشاد فرمایانُؤْتِہِ مِنْہَا ہم اسے اس میں سے بعض دیں گے
عربی زبان میں حرف ''مِنْ '' کی بہت سی قسمیں ہیں ان سے سے ایک بعضیہ ہے یہاں وہی ہے ۔خدارا تھوڑی سی محنت کر کے چند قواعد عربی کے ہی جان لیں تاکہ کچھ قرآن تو سمجھ آناشروع ہوجائے ۔
(
٦)وَعَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ - رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: " حُجِبَتِ النَّارُ بِالشَّہَوَاتِ، وَحُجِبَتِ الْجَنَّۃُ بِالْمَکَارِہِ " مُتَّفَقٌ عَلَیْہِ. إِلَّا أَنْ عِنْدَ مُسْلِمٍ: (حُفَّتْ) بَدَلَ (حُجِبَتْ) .
حضرت ابوھریرۃ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ؐ نے فرمایا :جھنم کو شھوات سے گھیر دیا گیا ہے اور جنت کو تکالیف سے گھیر دیا گیا ہے ۔
فوائد:۔
١۔متفَق علیہ حدیث اس حدیث کو کہتے ہیں جس کی صحت پر امام بخاری اور مسلم نے اتفاق کیا اور دونوں نے اسے اپنی کتاب میں درج کیا ۔یہ معنا متفق علیہ ہے بخاری شریف میں (حُجِبَتْ) کے لفظ ہیں اور مسلم شریف میں (حُفَّتْ)کے لفظ ہیں ۔
٢۔یعنی جو بھی جھنم میں جائے گا وہ ضروران شھوات میں مبتلاہو گا جن کو اللہ تعالی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حرام قرار دیا ہے ۔جیسے شراب پینا ،زنا کرنا ،وغیرہ
٣۔جو شھوات مباح ہیں وہ اس میں داخل نہیں ہیں ۔
٤۔آپ یوں سمجھیں جیسے جنت اور دوذخ کے سامنے ایک دیوا رہے۔
جنت کے سامنے جو دیوار ہے اس کا نام مکارم ہے یعنی عبادات میں محنت کرنا اور ہمیشہ کرتے رہنا اور گناہوں سے بچنا ۔جو اس دیوار کی ایک ایک اینٹ روزانہ اپنے ذمے سے ہٹا تا رہے گا تو اس کی موت تک یہ پوری دیوار ہٹ چکی ہوگی اور وہ جنت میں چلا جائے گا ۔
دوذخ کے سامنے جو دیوار ہے اس کا نام شھوا ت ہے یعنی شراب پینا ،زنا کرنا ،غیبت کرنا وغیرہ جو اس دیور میں سے ایک شراب ،زنا یا غیبت والی اینٹ لے کر استعمال کرے گا تو ایک وقت آئے گا کہ یہ دیوار باکل ختم ہو جائے گی اور یہ سیدھا دوذخ میں چلاجائےگا ۔اللہ تعالی ہمیں جنت عطا فرمائے اور جھنم سے بچائے ۔
٥۔جھنم میں عذاب تو بہت سے ہیں ایک عذاب یہ بھی ہے کہ اللہ تعالی ان کا کلام ہی نہیں سنے گا آپ سوچیں ایک انسان اپنا عذر پیش کرنا چارہا ہو،یا کوئی اور بات کہنا چاہتا ہو اور دوسرا اس کی بات ہی نہ سنے تو اسے کتنا غصہ آتا ہے ۔یہ بات فقط سمجھانے کے لیے کہی ورنہ اللہ تعالی کی تو شان ہی ارفع و اعلی ہے ۔
٦۔باربار احادیث میں جنت کا شوق دلایا جاتا ہے وہ ہے ہی ایسی کمال ہمیں بھی اس کا شوق دلانا چاہیے ،جنت میں حوریں سے ہم بستری بھی ہوگی صحابہ نے عرض کی یارسول اللہ ؐ کیا ہم جنت میں اپنی عورتوں کے پاس جائیں گے فرمایا ان الرجل لیصل فی الیوم الی مائۃ عذراء (ایک جنتی ایک دن میں ١٠٠ کنواری لڑکیوں کے پاس جائے گا )آپ خود سوچیں کیسی حسین زندگی ہے وہاں کی وہاں ابھری ہوئی چھاتیوں والی ہم عمر لڑکیاں ،ساتھ چھلکتے جام ،
إِنَّ لِلْمُتَّقِینَ مَفَازًا حَدَائِقَ وَأَعْنَابًا وَکَوَاعِبَ أَتْرَابًا وَکَأْسًا دِہَاقًا
(ترجمہ :بے شک پرہیز گاروں کے لیے کامیابی ہے،ان کے لیے باغات اور انگور ہوں گے ،اور جوان سال ہم عمر دوشیزائیں ہوں گی اور شراب طھور کے چھلکتے جام )(النبائ:
٣٤۔٣٠)
ہر طرف سے ہم پر سلام ہوگا لطف تو یہ کہ رب رحیم بھی خود سلام کہے گا ۔
سَلَامٌ قَوْلًا مِنْ رَبٍّ رَحِیمٍ
(فرمایا جائے گا سلام ہو تم پر(تمہارے) رب رحیم کی طرف )(یس :
٥٨)
ملائکہ سلام کہیں گے
وَالْمَلَائِکَۃُ یَدْخُلُونَ عَلَیْہِمْ مِنْ کُلِّ بَابٍ سَلَامٌ عَلَیْکُمْ بِمَا صَبَرْتُمْ
ّ(ترجمہ:اورفرشتے ہر دروازے سے ان کے پاس آئیں گے اور کہیں گے تم پر سلام ہو اس لیے کہ تم دنیا میں صبر کرتے رہے )
ۤآج دنیا میں کوئی مشھور آدمی ہمیں سلام کر دے تو ہم فورا تصویر بنا لیتے ہیں تاکہ دوستوں کو دکھائیں گے کہ اس نے مجھے سلام کیا تھا کیا اللہ تعالی کے سلام کے لیے ہم یہ تھوڑی سے دنیا کی لذتیں بھی ترک نہیں کرسکتے ،صرف اس لیے اپنا بچہ عالم نہیں بناتے کہ کل کھائے گا کہاں سے ،افسوس ۔۔۔۔
اللہ تعالی ہمیں جنت کا شوق اور جھنم کا خوف عطا فرمائے ۔
(
٧)وَعَنْہُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: تَعِسَ عَبْدُ الدِّینَارِ وَعَبْدُ الدِّرْہَمِ وَعَبْدُ الْخَمِیصَۃِ إِنْ أُعْطِیَ رَضِیَ وَإِنْ لَمْ یُعْطَ سَخِطَ تَعِسَ وَانْتَکَسَ وَإِذَا شِیکَ فَلَا انْتُقِشَ. طُوبَی لِعَبْدٍ أَخَذَ بِعِنَانِ فَرَسِہِ فِی سَبِیلِ اللَّہِ أَشْعَثُ رَأْسُہُ مُغْبَرَّۃٌ قَدَمَاہُ إِنْ کَانَ فِی الْحِرَاسَۃِ کَانَ فِی الْحِرَاسَۃِ وَإِنْ کَانَ فِی السَّاقَۃ کَانَ فِی السَّاقَۃ وَإِن اسْتَأْذَنَ لَمْ یُؤْذَنْ لَہُ وَإِنْ شَفَعَ لَمْ یشفع . رَوَاہُ البُخَارِیّ
حضرت ابوھریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ ؐ نے ارشاد فرمایا :۔دینارکا غلام درہم کا غلام ،اچھے کپڑے کا غلام ہلاک ہو جائے ۔ اگر اسے عطا کیا جائے تو راضی ہوتا ہے اور اگر نہ عطا کیا جائے تو ناراض ہوتا ہے ،تباہ وبرباد ہوجائے جب کانٹا لگے تو نہ نکلے ،خوشخبری ہو اس شخص کے لیے جو اللہ کی راہ میں اپنے گھوڑے کی لگام پکڑے ہوئے ہو اس کے بال پراگندہ ہوں،اس کے قدم خاک آلود ہوں ،اگر پہرے میں ہو تو پہرے میں رہے اور اگر لشکر کے پیچھے ہو تو لشکر کے پیچھے رہے ،اگر وہ اجازت مانگے تو اجازت نہ دی جائے ،اگر وہ شفاعت کرے تو قبول نہ کی جائے ۔
فوائد :۔
١۔بہت ہی برا ہے ایسا شخص جو روپے ،پیسے کو ہی اپنا آقا سمجھ لیں حالانکہ ایک مسلمان کو تو اللہ اور رسول اللہ ؐ کا غلام ہونا چاہیے ۔
٢۔اچھے کپڑے پہنے کی خواہش سے مال کی طلب بڑھے گی ،ایک دن سفید ،کالا،نیلا،وغیرہ وغیرہ بہت سے کپڑے خریدنے پڑیں گے ،اس لیے سنت کو اپنا لیں اور ہمیشہ ہی سفید لباس پہنیں اگر آپ کے پاس صرف چار جوڑے بھی ہوں تو زندگی گزرجائے گی ،اور جو منع ہیں وہ تو پہننے کی خواہش ہی نہیں ہونی چاہیے جیسے کپڑا اگر ریشمی ہو تو وہ مرد کے لیے جائز نہیں ،جو اس دنیا میں ریشم پہنے گا آخرت محروم ہوجائے گا ۔
٣۔دنیا قد رضرورت کی ہویہ مذموم نہیں بلکہ جوقدر ضرورت سے ذیادہ ہو وہ مذموم ہے۔
٤۔جب کوئی شخص روپے پیسے کے لیے بہت ذیادہ محنت کرتا ہے پھر اس وہ سب کچھ پیسے ہی کو سمجھ لیتا ہے ماں ،باپ ،بہن ،بھائی ،دین ،مذہب سب بھول جاتا ہے ، اگر پیسہ ملے تو خوش ورنہ ناراض ۔
٥۔رسول اللہ ؐ نے فرمایا :اسے کانٹا چبے تو نہ نکالا جائے ،یعنی وہ تباہ وبرباد ہو جائے یا وہ اکیلا رہ جائے کہ کوئی اس کی مدد کرنے والا نہ ہو ،یا ہوسکتا ہے اس سے مراد یہ ہو کہ وہ اکیلا رہ جاتا ہے ۔
٦۔وہ مجاہد بہترین ہے جسے اگر کہا جائے کہ رات کو چوکیداری کرو تو وہ ساری رات جاگتا رہتا ہے اور ایک لمحہ کی بھی غفلت نہیں کرتا ، تاکہ مسلمانوں کی جان و مال کی حفاظت ہو اور اگر اسے لشکر کے پیچھے رہنے کے لیے کہا جائے تو بھی خوب بہادری کے ساتھ پیچھے رہتا ہے اس سے نہیں ڈرتا کہ میں پیچھے رہ جاؤ گا ۔اس کے مال کی کمی کی وجہ سے اسے کوئی گھر نہیں بلاتا ، بہت غریبی کے باعث اس کی کوئی سفارش ہی قبول نہیں کرتا ،اس غریب کے پاس اور کچھ نہیں فقط اللہ تعالی ہی جانتا ہے کہ اس کا دل کیسا اس کی محبت سے بھر ا ہوا ہے اور اخلاص کی دولت اسے کس قدر ذیادہ عطا کی گئی ہے ۔
لوگ اس کی شفاعت قبول نہیں کرتے مگر اللہ تعالی کے نزدیک تو ایسا شخص بہت بڑا شفیع ہوگا۔اللہ تعالی ہمیں بھی اپنے ان بندوں میں شامل فرمائے اور شہادت کی موت نصیب فرمائے ۔(آمین )
(
٨)وَعَنْ عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسلم: فَوَاللَّہِ لَا الْفَقْرُ أَخْشَی عَلَیْکُمْ وَلَکِنْ أَخْشَی عَلَیْکُمْ أَنْ تُبْسَطَ عَلَیْکُمُ الدُّنْیَا کَمَا بُسِطَتْ عَلَی مَنْ کَانَ قَبْلَکُمْ فَتَنَافَسُوہَا کَمَا تَنَافَسُوہَا وتہلککم کَمَا أہلکتہم . مُتَّفق عَلَیْہِ
حضرت عمرو بن عوف رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ ؐ نے ارشادفرمایا :اللہ کی قسم مجھے تم پر فقر کا خوف نہیں لیکن مجھے تم پر خوف ہے کہ دنیا تم پر پھیلا دی جائے گی جیسے کہ تم سے پہلے لوگوں پر پھیلا دی گئی تھی ، پھر تم بھی اس میں رغبت کرنے لگو جیسے تم سے پہلے لوگوں نے اس میں رغبت کی ، اور وہ تمھیں بھی ایسے ہلاک کردے جیسے تم سے پہلے لوگوں کو ہلاک کیا ۔
فوائد :۔
١۔مسلمان کا زوال غریبی سے نہیں ہوتا بلکہ اس کا زوال دنیا کی زیب و زینت سے ہوتا ہے اکثر جو لوگ دین سے دور ہوتے ہیں وہ مال ہی کی وجہ سے ہوتے ہیں
٢۔غریبی میں جو کچھ ملتا ہے وہ امیری میں کہا ، غریب لوگ مالداروں سے کئی سو سال پہلے جنت میں جائیں گے ،غریبوں کو رسول اللہ ؐ نے خوشخبری دی کہ دین تم میں رہے گا ۔ آقاعلیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا دین غریبوں سے ہی شروع ہوا تھا پھر یہ غریبوں میں ہی آجائے گا ۔آج اگر آپ دیکھیں تو تقریبا تمام حافظ ،عالم ،مفتی ،غریبوں میں ہی ہیں ۔مالداروں کے پاس یہ عظمتیں کہا کہ وہ انبیاء کے وارث بنیں ۔
٣۔ایک بزرگ نے ایک نوجوان کو دیکھا اس کی ظاہر ی حالت بہت خراب تھی ،ان بزرگوں نے اس نوجوان میں کچھ معرفت کے آثار دیکھے تو اس کے قریب ہوئے اور کچھ روپے اس کے ہاتھ میں پکڑا دیے او ر اس نوجوان کو کہا اس سے اپنی حالت بہتر کرلینا ۔اس نوجوان نے کہا میں یہ حالت ہر گز نہیں بدلوں گا مجھے جو اس حالت میں ملتا ہے وہ پھر نہیں ملے گا ۔
٤۔غریبوں کے دل اکثر دکھی ہوتے ہیں حضرت موسی نے اللہ تعالی سے عرض کی یا اللہ تجھے کہا تلاش کرو ں ، اللہ تعالی نے فرمایا :مجھے ٹوٹے دل والوں کے پاس تلاش کرو ۔
٥۔اگر ایک دین کا طالب علم جو خوب غریب ہو وہ اللہ تعالی کی محبت پر بیان کریں اور لوگوں کو بتائے کہ اللہ تعالی کے لیے انسان یہ یہ قربانیاں دے سکتا ہے تو یہ کہتے کہتے ہی اس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگیں گے کیونکہ ان میں سے بے شمار قربانیاں وہ خود دے چکا ہے ۔
٦۔مدارس کے طلبا ء اکثر بہت غریب ہوتے ہیں ،ان کی قربانیوں کو کوئی فراموش نہیں کرسکتا ، میں نے ایک لڑکا دیکھا جس کا باپ فوت ہوچکا تھا ،اس کے گھر سے اسے کچھ بھی نہیں ملتا ، اس کے پاس کپڑے دھونے کا صابن بھی نہیں تھا اس نے یوں ہی کپڑے بالٹی میں ڈالے اور چھت پر ڈال دے پھر وہی کپڑے پہن لیے ۔کچھ کے پاس نہانے کا صابن نہیں ہوتا ،بلکہ میرے ایک دوست دو عیدوں پر لگاتا ر گھر نہیں گیا میں نے اس نے پوچھا کیوں نہیں گھر جارہے تو اس نے بتایا میرے پاس کرایہ ہی نہیں ہے اور میرا گھر بہت دور ہے ۔ایک بیمارہوگیا کہی دن یوں ہی لیٹا رہا میں نے پوچھا تو کہا کہ گھر جانا چاہتا ہوں مگر پیسے نہیں ہیں ، انھیں اللہ کی محبت کے سوا کس نے روکا ہے کہ تین سال حفظ پھر آٹھ سال درس نظامی اور دو سال تخصس کے لیے دیں ، پھر ہر طرف سے طعنہ کے مولوی بنے گا تو کھائے گا کہاں سے ،ظلم تو یہ کہ بعض اوقات تو مدرسوں والے بھی کہہ دیتے ہیں ہم تمھیں کھلاتے ہیں کاش ان طلباء کو کوئی اللہ تعالی کی محبت سکھاتا مگر ۔۔۔۔۔۔
اقبال نے کیا خوب کہا تھا
ہوتے ہیں مساجد میں صف آراں تو غریب
زعمت روزہ جو کرتے ہیں گوارا تو غریب
نام لیتا ہے کوئی ہمارا تو غریب
پردہ کرتا ہے کوئی تمہارا تو غریب
زندہ ہے ملت بیضاء غرباء کے دم سے
(
٩)وَعَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: اللَّہُمَّ اجْعَلْ رِزْقَ آلِ مُحَمَّدٍ قُوتًا وَفِی رِوَایَۃٍ کفافا . مُتَّفق عَلَیْہِ
حضرت ابوھریرۃ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ بے شک رسول اللہ ؐ نے فرمایا :اے ال محمد کا رزق بقد رکفایت کردے ۔
فوائد :۔
١۔آل سے مراد اہل بیت یا آقا علیہ الصلوۃ والسلام کی اتباع کرنے والے ہوتے ہیں
یہاں اس سے مراد امت محمدیہ کے خاص لوگ مراد ہے جیسے کے مرقاۃ شرح المشکاۃ میں ہے المراد بالآل خَوَاصُّ أُمَّتِہِ مِنْ أَرْبَابِ الْکَمَالِ(آل سے مراد آپ کے امت کے خواص ہیں جو ارباب کمال میں سے ہیں )یعنی بہت اعلی درجے کے متقی ان کے پاس بقدرکفایت ہی رزق ہوتا ہے ۔
٢۔رسول اللہ ؐ نے خود دعا فرمائی :اللَّہُمَّ مَنْ آمَنَ بِی وَصَدَّقَنِی وَعَلِمَ أَنَّ مَا جِئْتُ بِہِ ہُوَ الْحَقُّ مِنْ عِنْدِکَ فَأَقْلِلْ مَالَہُ وَوَلَدَہُ وَحَبِّبَ إِلَیْہِ لِقَاء َکَ وَعَجِّلْ لَہُ الْقَضَاء َ۔رواہ ابن ماجہ والطبرانی(اے اللہ جو مجھ پر ایمان لائے اور میری تصدیق کرے اور جانے کہ جو میں لایا ہووہ تیرے نزدیک حق ہے تو اس کا مال اور اولاد کم کردے اور اس کے نزدیک اپنی ملاقات پسندیدہ فرمادے اور اس کی موت جلدی آجائے )
٣۔رسول اللہ ؐ نے فرمایا :قَلِیلٌ یَکْفِیکَ خَیْرٌ مِنْ کَثِیرٍ یُطْغِیکَ(اتنا قلیل جو تیری بنیادی ضرورتوں کو پورا کردے اس کثیر سے بہتر ہے جو تجھے نافرمان کردے )
٤۔لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ چند لوگ اس ہی کے سہارے کھا رہے ہیں اور یہ بھی اب کمانا چھوڑدے رسول اللہ ؐ نے فرمایا :کَفَی بِالْمَرْء ِ إِثْمًا أَنْ یُضَیِّعَ مَنْ یَقُوتُ(آدمی کے گناہ گار ہونے کے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ وہ جس کا رزق اس کے ذمے ہے اسے کھلانا چھوڑ دے )
٥۔بقد ر کفایت کی کوئی مقدار معین نہیں ہر شخص کے اعتبار سے مقدار مختلف ہے۔
(
١٠)وَعَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَمْرٍو - رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ( قَدْ أَفْلَحَ مَنْ أَسْلَمَ وَرُزِقَ کَفَافًا، وَقَنَّعَہُ اللَّہُ بِمَا آتَاہُ ) . رَوَاہُ مُسْلِمٌ.
حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنھما فرماتے ہیں رسول اللہ ؐ نے فرمایا :وہ کامیاب ہوگیا جو اسلام لایا اور اسے بقدر کفایت رزق عطاکیا گیا اور اللہ تعالی نے اسے اس بقدر کفایت رزق پر قناعت کی توفیق عطا فرمائی ۔
فوائد :۔
١۔جیسے ایمان ،تقوی ،بقد ر ضرورت رزق ،اور اس پر صبر یہ چار نعمتیں مل گی اس پر اللہ کا بڑا فضل و کرم ہے وہ کامیاب ہوگیا ۔
٢۔قناعت کا معنی یہ کہ جتنا رزق ملا اسی پر قناعت کرتا ہے زیادہ طلب ہی نہیں کرتا اسے معلوم ہے کہ جو مقدر میں لکھا ہے اس سے زیادہ نہیں مل سکتا ۔
اللہ تعالی ہمیں یہ چار نعمتیں نصیب فرمائے ۔
(
١١)وَعَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: " یَقُولُ الْعَبْدُ: مَالِی مَالِی. وَإِن مَالہ مِنْ مَالِہِ ثَلَاثٌ: مَا أَکَلَ فَأَفْنَی أَوْ لَبِسَ فَأَبْلَی أَوْ أَعْطَی فَاقْتَنَی. وَمَا سِوَی ذَلِک فَہُوَ ذاہبٌ وتارکہُ للنَّاس ". رَوَاہُ مُسلم
حضرت ابوھریرۃ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ؐ نے فرمایا :بندہ کہتا ہے میرا مال میرامال ، حالانکہ اس کا مال صرف تین میں سے ایک ہے
١۔جو کھا کر ختم کردے ، ٢۔پہن کر بوسیدہ کردے ۔ ٣۔ یا دے تو جمع کرد ے ۔جوان کے علاوہ ہے وہ تو جانے والا ہے اور وہ اسے لوگوں کے لیے چھوڑنے والا ہے ۔
فوائد:۔
١۔اس حدیث میں لفظ العبد ہے یعنی غلام ،غلام جو کچھ بھی کمائے وہ اس کی ملک نہیں بلکہ اس کے مالک ہی کی ملک ہوتا ہے یہ تعجب کی بات ہے کہ ہم اللہ کے غلام ہیںپر پھر بھی کہتے ہیں میرا مال میرا مال بلکہ یہ کہنا چاہیے کہ یہ اللہ کا دیا ہوا مال ہے ۔
٢۔یعنی وہ شخص تکبر سے کہتا ہے میرا مال میرامال جیسے آج کل بھی کچھ لوگ کہتے ہیں میرا گھر ،میری گاڑی ،میرا پلاٹ ،وغیرہ وغیرہ ۔تمہارے پاس کیا ہے لوگوں لو ذلیل کرتے ہوئے حالانکہ وہ یہ نہیں جانتے کہ بلاوجہ شرعی حقارت مسلم حرام ہے ۔
٣۔انسان جو مال کھا لے ختم ،جو مال کپڑے پر لگائے اسے پہنے وہ پرانا ہوجاتا ہے البتہ جو اللہ تعالی کی راہ میں خرچ کرتا ہے وہ ہمیشہ باقی رہتا ہے اس لیے زیادہ سے زیادہ اللہ تعالی کی راہ میں خرچ کرنا چاہیے ۔
٤۔باقی مال یہی رہ جائے گا اور بندہ مر جائے گا اگر آگے کچھ پہنچا لیا تو ٹھیک ورنہ آخرت میں کچھ پاس نہیں ہوگا ۔
(
١٢)وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: " یَتْبَعُ الْمَیِّتَ ثَلَاثَۃٌ: فَیَرْجِعُ اثْنَانِ وَیَبْقَی مَعَہُ وَاحِدٌ یَتْبَعُہُ أَہْلُہُ وَمَالُہُ وَعَمَلُہُ فَیَرْجِعُ أَہْلُہُ وَمَالُہُ وَیَبْقَی عملہ ". مُتَّفق عَلَیْہِ
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ؐ نے فرمایا میت کی پیروی تین چیزیں کرتی ہیں ان میں سے دو لوٹ آتی ہیں ایک ساتھ رہ جاتی ہے ۔اہل ،مال اور عمل پیروی کرتے ہیں اہل و مال واپس لوٹ آتے ہیں اور صرف اس کے عمل اس کے ساتھ رہ جاتے ہیں ۔
فوائد :۔
١۔رشتہ دار دفنانے جاتے ہیں ،مال ساتھ جاتا ہے جس کے ذریعے کفن ،دفن ہوتا ہے اوردفن کرنے کے بعد ،صرف عمل ہی ساتھ رہ جاتا ہے یاد رکھیں کبھی مال و رشتہ داروں کے لیے اپنے عمل کو خراب نہ کریں کیونکہ یہ دونوں تو وہاں ساتھ نہیں دیں گے بلکہ وہاں تو عمل ہی کام آئیں گے ۔
٢۔عمل قبر میں ساتھ ہوگا اگر وہ اچھا ہے تو پھر قبر جنت کے باغوں میں سے ایک باغ ورنہ دوزخ کے گھڑوں میں سے ایک گھڑا ۔
(
١٣)وَعَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مَسْعُودٍ - رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: أَیُّکُمْ مَالُ وَارِثِہِ أَحَبُّ إِلَیْہِ مِنْ مَالِہِ؟ قَالُوا: یَا رَسُولَ اللَّہِ! مَا مَنَّا أَحَدٌ إِلَّا مَالُہُ أَحَبُّ إِلَیْہِ مِنْ مَالِ وَارِثِہِ. قَالَ: (فَإِنَّ مَالَہُ مَا قَدَّمَ وَمَالَ وَارِثِہِ مَا أَخَّرَ . رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ.
حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں رسول اللہ ؐ نے فرمایا :۔تم میں سے کون ہے جسے اپنے مال سے زیادہ اپنے وارث کا مال پسند ہو ، صحابہ نے عرض کی ہم سب کو اپنے وارث کے مال سے اپنا مال زیادہ محبوب ہے بے شک تمہارا مال وہی ہے جو تم نے آگے بھیج دیا اور جو پیچھے رہ گیا وہ تو وارثوں کا مال ہے ۔
فوائد :۔
١۔اس لیے ہر شخص کو چاہیے کہ وہ اپنے مال میں زیادتی کرے اور زیادہ سے زیادہ صدقہ و خیرات کرے اپنے اہل و عیال پرعبادت کی نیت سے خرچ کرے تاکہ اس کا مال زیادہ سے زیادہ آخرت میں جمع ہوجائے ۔
٢۔وارثوں کے لیے چھوڑنے کا کم ہی انسان کو فائدہ ہوتا ہے اکثر ایسے ہوتا ہے کہ باپ کی محنتوں سے کمائی ہوئی دولت اولاد عیاشیوں میں اُڑادیتی ہے ۔
٣۔جو ایک پیسہ بھی ہم خرچ کریں گے ہمیں وہاں ملے گا اللہ تعالی فرماتا ہے :(وَمَا تُقَدِّمُوا لِأَنْفُسِکُمْ مِنْ خَیْرٍ تَجِدُوہُ عِنْدَ اللَّہِ)(البقرہ ١١٠)
(ترجمہ:اور جو تم نیکیوں میں سے آگے بھیج رہے ہو اللہ پاس اسے پا لوگے ۔)
٤۔وہ تو اسی دن معلوم ہوگا اللہ تعالی فرماتا ہے :عَلِمَتْ نَفْسٌ مَا قَدَّمَتْ وَأَخَّرَتْ(الانفطار :٥)
(ترجمہ :ہر جان جان لے گی تو اس نے آگے بھیجا اور جو پیچھے چھوڑا )
(
١٤)وَعَنْ مُطَرِّفٍ، عَنْ أَبِیہِ - رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ - قَالَ: أَتَیْتُ النَّبِیَّ - صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ - وَہُوَ یَقْرَأُ (أَلْہَاکُمُ التَّکَاثُرُ) (التکاثر: 1) قَالَ: (یَقُولُ ابْنُ آدَمَ: مَالِی، مَالِی. قَالَ: (وَہَلْ لَکَ یَا ابْنَ آدَمَ! إِلَّا مَا أَکَلْتَ فَأَفْنَیْتَ، أَوْ لَبِسْتَ فَأَبْلَیْتَ، أَوْ تَصَدَّقْتَ فَأَمْضَیْتَ ؟) رَوَاہُ مُسْلِمٌ.
حضرت مطرف اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ وہ فرماتے ہیں میں حضور نبی اکرم ؐ کی خدمت میں حاضر ہوا وہ پڑھ رہے تھے (أَلْہَاکُمُ التَّکَاثُرُ) (التکاثر
١)اور فرمایا ابن آدم کہتا ہے میرا مال میرامال ،اورفرمایااے آدمی تیرے لیے صرف
وہ ہے جو تو نے کھا کر ختم کردیا یا پہن کر پرانا کردیا یا صدقہ کرکے اس باقی رہنے دیا ۔
فوائد :۔
١۔قَالَ تَعَالَی: (مَا عِنْدَکُمْ یَنْفَدُ وَمَا عِنْدَ اللَّہِ بَاقٍ) (النحل: ٩٦)
(ترجمہ:جو تمہارے پاس ہے وہ فنا ہو جائے گا اور جو اﷲکے پاس ہے باقی رہے گا )
٢۔وَقَالَ عَزَّ وَجَلَّ: (مَنْ ذَا الَّذِی یُقْرِضُ اللَّہَ قَرْضًا حَسَنًا فَیُضَاعِفَہُ لَہُ وَلَہُ أَجْرٌ کَرِیمٌ) (الحدید:١١)
(ترجمہ:کون شخص ہے جو اللہ تعالی کو قرض حسنہ کے طور پر قرض دے ،وہ اسے کے لیے اس قرض کو کئی گنا بڑھاتا رہے اور اس کے لیے اجر کریم ہے۔)
(
١٥)وَعَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: لَیْسَ الْغِنَی عَنْ کَثْرَۃِ الْعَرَضِ وَلَکِنَّ الْغِنَی غِنَی النَّفس مُتَّفق عَلَیْہِ.
حضرت ابوھریرۃ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ؐ نے فرمایا :
امیری بہت زیادہ زمین کا مالک ہونے سے نہیں ہوتی بلکہ امیری و نفس کی امیر ہونے سے ہے ۔
فائدہ :۔
١۔غنی حقیقی تو وہ نفس کا اس پر قناعت کرنا ہے جو اسے اس کے مولی نے عطا فرمایا ہے اور مزید طلب دنیا کی لالچ سے بچنا ہے ۔مرقاۃ کا یہ جملہ یاد رکھنے کے قابل ہے فَمَنْ کَانَ قَلْبُہُ حَرِیصًا عَلَی جَمْعِ الْمَالِ، فَہُوَ فَقِیرٌ فِی حَقِیقَۃِ الْحَالِ جس کا دل مال جمع کرنے کا لالچی ہو وہ تو بے چارہ حقیقت میں فقیر ہے ۔
٢۔جس کا دل قناعت کرنے والا ہو اور جو اللہ تعالی نے اسے عطا فرمایا اس پر صبر و شکر کرنے والا ہو اسے تو کسی مالدار کی تعریفیں کرنے کی حاجت ہی نہیں جو اسے اللہ تعالی نے دیا وہ اسی پر راضی ہے اس سے بڑھ کر کون غنی ہے جو اللہ کے دیے پر راضی ہو ۔
اللہ تعالی ہمیں قناعت کی دولت نصیب فرمائے اور صرف اپنا محتاج رکھے کسی نے کیا خوب کہا ہے
ھی الدنیا اقل من القلیل وعاشقھا اذل من الذلیل
یہ دنیا قلیل سے بھی زیادہ قلیل ہے اور اس کا عاشق ذلیل سے بھی زیادہ ذلیل ہے
٣۔دل کا غنی تو گزارے کی روزی سے زیادہ طلب نہیں کرتا ،وہ اپنے آپ کو دنیا کی طلب میں نہیں تھکاتا یہاں تک کہ اس کی موت آجاتی ہے اور دنیا میں قلیل رزق پر ہی گزارا کرتا ہے اور آخرت میں ثواب عظیم حاصل کرتا ہے ۔
٤۔حدیث شریف میں ہے الْقَنَاعَۃُ کَنْزٌ لَا یَفْنَی (قناعت ایسا خزانہ ہے جو فنا نہیں ہوتا )
٥۔قَالَ الطِّیبِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ: وَیُمْکِنُ أَنْ یُرَادَ بِغِنَی النَّفْسِ حُصُولُ الْکِمَالَاتِ الْعِلْمِیَّۃِ وَالْعَمَلِیَّۃِ
علامہ طیبی رحمۃ اللہ علیہ الکاشف عن حقائق السنن میں فرماتے ہیںمیں کہتا ہوں ممکن ہے غنی نفس سے مراد کمالات علمیہ و عملیہ کا حصول ہو ۔
(
١٦)عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ - رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ( مَنْ یَأْخُذُ عَنِّی ہَؤُلَاء ِ الْکَلِمَاتِ فَیَعْمَلُ بِہِنَّ أَوْ یُعَلِّمُ مَنْ یَعْمَلُ بِہِنَّ؟) قُلْتُ: أَنَا یَا رَسُولَ اللَّہِ! فَأَخَذَ یَدِی فَعَدَّ خَمْسًا، فَقَالَ: (اتَّقِ الْمَحَارِمَ تَکُنْ أَعْبَدَ النَّاسِ، وَارْضَ بِمَا قَسَمَ اللَّہُ لَکَ تَکُنْ أَغْنَی النَّاسِ، وَأَحْسِنْ إِلَی جَارِکَ تَکُنْ مُؤْمِنًا، وَأَحِبَّ لِلنَّاسِ مَا تُحِبُّ
لِنَفْسِکَ تَکُنْ مُسْلِمًا، وَلَا تُکْثِرِ الضَّحِکَ ; فَإِنَّ کَثْرَۃَ الضَّحِکَ
تُمِیتُ الْقَلْبَ ) . رَوَاہُ أَحْمَدُ، وَالتِّرْمِذِیُّ
حضرت ابوھریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ؐ نے ارشاد فرمایا :کون ہے جو مجھ سے یہ چند کلمات لے لے خود ان پر عمل کرے یا کسی ایسے کو سکھا دے جو ان پر عمل کرے ،حضرت ابوھریرہ رضی اللہ عنہ نے فرماتے ہیں میں نے عرض کی یارسو ل اللہ (صلی اللہ علیک وسلم ) میں ہوں (جو یہ کلمات آپ سے لوں گا )پھر انھوں نے میرا ہاتھ پکڑلیا اور پانچ چیزیں گنوائی ،
ا۔حرام چیزوں سے بچو، لوگوں میں سب سے بڑے عبادت گزار بن جاؤگے۔
٢۔جو اللہ تعالی نے آپ کے مقدر میں لکھا ہے اس پر راضی ہو جائے لوگوں میں سب سے زیادہ غنی ہوجاؤ گے ۔
٣۔اور اپنے پڑوسی سے اچھا سلوک کرو تو کامل مومن ہو جاؤ گے ۔
٤۔لوگوں کے لیے بھی وہی پسند کرو جو اپنے لیے پسند کرتے ہوتب تم کامل مسلمان ہوجاؤ گے ۔
٥۔زیادہ ہنسنے سے بچو کیونکہ یہ دل کو مردہ کر دیتا ہے ۔
فوائد :۔
١۔جو خود کسی بات پر عمل نہیں کرسکتا اسے بھی چاہیے کہ وہ کم از کم دوسروں کو تو بتائے تاکہ وہ تو عمل کر سکیں ۔
٢۔بے عمل طلباء و علماء کو بھی چاہیے کہ کم ازکم وہ تقوی والی باتیں لوگوں کو تو بتائیں تاکہ وہ تو متقی ہوجائیں پھر ان کی دعاؤں سے انشاء اللہ وہ بھی بدل جائیں گے مشھور واقعہ ہے کہ کسی نیک بزرگ نے کسی گناہ گار شخص کو اپنی تبلیغ و نیک صحبت سے نیک کردیا ،بعد میں وہ بزرگ نیک نہ رہے تو وہ شخص جو پہلے گناہ گار تھا اب نیک و متقی تھا اس نے ان کو بڑا فائدہ پہنچایا ۔
٣۔اگر آپ کی وجہ سے کوئی شخص نیک ہوگا تو یقینا وہ نیک ہونے کے بعد جب بھی دعا کرے گا آپ کے لیے بھی کرے گا کہ یا اللہ جس نے مجھے تیری راہ پر چلا دیا اس پر رحم فرما انشاء اللہ اس کی دعا ؤں سے آپ کے دل کی دنیا بھی بدل جائے گی ۔
٤۔حرام سے بچنے سے مراد یہ ہے کہ تمام ان چیزوں سے بچے جن سے شریعت نے بچنے کا حکم دیا ہے اور ہر گز وہ کام ترک نہ کرے جن کے کرنے کا شریعت نے حکم دیا ہے ۔کیونکہ فرائض کا ترک کرنا حرام ،اور گناہ وغیرہ کرنا حرام ،
٥۔سب سے بڑا عبادت گزار وہ ہے جو اپنے فرائض کی پابندی کرے جیسے مرقاۃ میں ہے إِذْ لَا عِبَادَۃَ أَفْضَلُ مِنَ الْخُرُوجِ عَنْ عُہْدَۃِ الْفَرَائِضِ،(کیونکہ کوئی عبادت بھی فرائض کی ادائیگی سے افضل نہیں ہے )آج عوام نے فرائض چھوڑ دیے اور نوافل اور مستحب کاموں پر پورا ضرور لگادیا ہے ، جس کے ذمے قضا نمازیں ہیں وہ انھیں نہیں ادا کرتا بلکہ علم حاصل کرنے میں لگا ہے یا بہت بڑی بڑی نفلی عبادات میں لگاہے ۔یا اس کے ذمے زکوۃ ہے یا لوگوں کے حقوق ہے اوروہ زکوۃ اد انہیں کرتا بلکہ مدارس اور مساجد بناتا رہتا ہے گھر والوں بیوی بچوں کے حقوق ادا نہیں کرتا فقراء کو کھانا کھلاتا ہے (یہ مرقات میں جو ہے اس کا خلاصہ ہے )
٦۔وَقَالَ السَّیِّدُ عَبْدُ الْقَادِرِ الْجِبلِیُّ : اعْلَمْ أَنَّ الْقَسْمَ لَا یَفُوتُکَ بِتَرْکَ الطَّلَبِ، وَمَا لَیْسَ بِقَسْمٍ لَا تَنَالُہُ بِحِرْصِکَ فِی الطَّلَبِ، وَالْجَدِّ وَالِاجْتِہَادِ،
سید عبد القادر جبلی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں جان لو ! کہ جو تمہارے مقدر میں ہے وہ تمہارے طلب نہ کرنے سے فوت نہیں ہوگا ،اور جو تمہارے مقدر میں نہیں وہ طلب میں حرص اور کوشش اور محنت سے تمھیں نہیں مل سکتا ۔
٧۔پڑوسیوں سے اچھا سلوک پر ایک حدیث میں ہے لَا یُؤْمِنُ أَحَدُکُمْ حَتَّی یَأْمَنَ جَارُہُ بَوَائِقَہُ(کوئی اس وقت تک کامل ایمان والا نہیں ہوسکتا جب تک اس کا پڑوسی اس کے شر سے محفوظ نہ ہو ) اگرچہ پڑوسی برا بھی کرے تو بھی اس سے اچھا سلوک کرو ۔
٨۔جوا پنے لیے پسند کرتے ہیں وہی دوسرے کے لیے پسند کریں کافر کے لیے پسند کریں کہ یہ مسلمان ہو جائے فاسق کے لیے پسند کریں کہ یہ توبہ کر لے۔حدیث شریف میں ہے لَا یُؤْمِنُ أَحَدُکُمْ حَتَّی یُحِبَّ لِأَخِیہِ مَا یُحِبُّہُ لِنَفْسِہِ(کوئی اس وقت تک کامل ایمان والا نہیں ہوسکتا یہاں تک کہ اپنے بھائی کے لیے بھی وہی پسند کرے جو اپنے لیے پسند کرتا ہے )
٩۔زیادہ ہنسنے سے دل مردہ ہوتا ہے یعنی پھر تقوی کی باتیں اثر نہیں کرتی اللہ تعالی کی محبت و خوف سے آنسو نہیں آتے۔
(
١٧)وَعَنْہُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّہِ - صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ اللَّہَ یَقُولُ: ابْنَ آدَمَ! تَفْرَّغْ لِعِبَادَتِی أَمْلَأْ صَدْرَکَ غِنًی وَأَسِدَّ فَقْرَکَ، وَإِنْ لَا تَفْعَلْ مَلَأْتُ یَدَکَ شُغُلًا وَلَمْ أَسِدَّ فَقْرَکَ ) . رَوَاہُ أَحْمَدُ، وَابْنُ مَاجَہْ.
حضرت ابو ھریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ؐ نے فرمایا :اے ابن آدم میری عبادت کے لیے فارغ ہو جا میں تیرے دل کو غنا سے بھر دو ں گا ، اور تیری غریبی دور کر دوں گا ، اور اگر تو یہ نہ کرے گا تو تیرے ہاتھ کام کاج سے بھر دوں گا ۔اور تیری فقیری کو ختم نہیں کروں گا ۔
فوائد:۔
١۔اے انسان تو آدم علیہ السلام کی اولاد ہے اور وہ توبہت بڑے عبادت گزار تھے تو بھی اب توبہ کر اور اللہ تعالی کے عبادت کے لیے اپنے دل کو خالی کر لے تاکہ تجھے دوران عبادت وہ دنیاوی خیالات نہ آئیں ۔
٢۔جب تو ایسا کرے گا تو میں اللہ تعالی تیرے دل کو علوم و معارف سے بھر دے گا اور تیرے دل اس کے سوا ہر ایک سے غنی ہو جائے گا ۔
٣۔ایسا کرے گا تو اللہ تعالی تیری ضروریات کو خود ہی پورا کردے گا تجھے لوگوں کے پاس نہیں جانا پڑے گا نہ ہی تجھے لوگوں کی محتاجی ہوگی ۔
٤۔اگرتو ایسا نہیں کرے گایعنی اگر دنیا سے اعراض نہیں کرے گا اور اللہ تعالی کے عبادت کے لیے وقت نہیں نکالے گا تو اللہ تعالی تیرے لیے اتنے کام پیدا کردے گا کہ تو ایک سے فارغ ہو گا دوسرا کرے گا پھر تیسرا پر تیرا بنے گا کچھ نہیں ،جیسے آج کل کام کے لیے کبھی کراچی ،کبھی لاہور ہر جگہ پھر پھر کر بھی کچھ نہیں بنتا ۔اللہ تعالی ہمیں اپنی راہ کا مسافر رکھے ۔
(
١٨)وَعَنْ جَابِرٍ - رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ - قَالَ: ذُکِرَ رَجُلٌ عِنْدَ رَسُولِ اللَّہِ - صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ - بِعِبَادَۃٍ وَاجْتِہَادٍ، وَذُکِرَ آخَرُ بِرِعَّۃٍ، فَقَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: (لَا تَعْدِلْ بِالرِّعَّۃِ) . (یَعْنِی الْوَرَعَ ) رَوَاہُ التِّرْمِذِیُّ.
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ؐ کے سامنے ایک شخص کا ذکر کیا گیا جو عبادت اور خوب اعمال صالحہ کی کوشش کرتا تھا ،اور دوسرے شخص کا ذکر کیا گیا جو گناہوں سے بچتا تھا ،حضور نبی اکرم ؐ نے فرمایا فقط عبادت تقوی کے برابر نہیں ہو سکتی ۔
فوائد :۔
١۔دو اشخاص کا ذکر کیا گیا ایک بہت عبادت کرتا تھا مگر گناہوں سے بچتا نہیں تھا دوسرا عبادت تو بہت زیادہ نہیں کرتا تھا صرف فرائض ،واجبات ،سنتوں کو پورا کرتا تھا مگر ہمیشہ گناہوں سے بچتا تھا اس کے لیے رسول اللہ ؐ نہ فرمایا گناہوں سے بچنا افضل ہے صرف عبادت کرنا تو بہت آسان ہے
٢۔گناہ کو چھوڑنا مشکل ہے اس لیے اس پر خوب محنت کریں تاکہ گناہ چھوڑنے کی عادت ہوجائے اللہ تعالی ہمیں تقوی کی یہ عظیم نعمت عطا فرمائے ۔
٣۔مرقات میں ہے:
فَإِنَّ الْوَرَعَ أَفْضَلُ مِنْ کُلِّ خَصْلَۃٍ
(بے شک گناہوں سے بچنا ہر خصلت سے زیادہ افضل ہے )
(
١٩)وَعَنْ عَمْرِو بْنِ مَیْمُونٍ الْأَوْدِیِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّہِ - صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ - لِرَجُلٍ وَہُوَ یَعِظُہُ: " اغْتَنِمْ خَمْسًا قَبْلَ خَمْسٍ: شَبَابَکَ قَبْلَ ہَرَمِکَ، وَصِحَّتَکَ قَبْلَ سَقَمِکَ، وَغِنَاکَ قَبْلَ فَقْرِکَ، وَفَرَاغَکَ قَبْلَ شُغْلِکَ، وَحَیَاتَکَ قَبْلَ مَوْتِکَ " رَوَاہُ التِّرْمِذِیُّ مُرْسَلًا.
حضرت عمروبن میمون الاودی روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ؐ نے ایک شخص کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا :پانچ چیزوں کو پانچ سے پہلے غنیمت جان ۔
١۔بڑھاپے سے پہلے جوانی کو ۔٢۔بیماری سے پہلے صحت کو ۔٣۔فقر سے پہلے غنا کو ۔٤۔مصروفیت سے پہلے فراغت کو ۔٥۔زندگی کو موت سے پہلے ۔
فوائد :۔
١۔ابھی جو تمہارے حالت ہے اسے مستقبل میں آنے والی حالت سے پہلے ہی غنیمت جان لو ،اور اللہ تعالی کی عبادت و رضا مندی میں اسے صرف کرو ۔
٢۔جوانی میں خوب عبادت کرنے کی قوت ہوتی ہے جبکہ بڑھاپے میں تو اکثر نماز بھی کھڑے ہو کر نہیں پڑھی جاتی ۔آج کل تو بعض نوجوان بھی بیٹھ کر نوافل پڑھتے ہیں اس طرح ثواب آدھا ہو جاتا ہے انھیں چاہیے کہ کھڑے ہو کر ہی پڑھیں ۔
٣۔اگر کوئی شخص بوڑھا ہے مگر صحت مند ہے تو اسے غنیمت جانے یہ نہ ہو کل بیمار ہو جائے۔
٤۔جب اللہ تعالی نے تمھیں اس قدر مال دیا ہے کہ اس میں سے صدقہ ،خیرات نکا ل سکتے ہو تو اسے غنیمت جانو ،یہ نہ ہو کہ کل چند پیسے بھی ہاتھ میں نہ رہیں۔
٥۔اگر تم بوڑھے ہو اور بیمار بھی اور تمہارے پاس مال بھی نہیں تو پھر بھی اس وقت کو غنیمت جانو ،کہ ابھی ذکر وغیرہ کے ذریعے تم بہت سی نیکیاں کر سکتے ہو اگر مر جاؤ تو نیکیوں کو سلسلہ ختم ہوجائے گا رسول اللہ ؐ نے فرمایا :مومن کی زندگی خیر ہی ہے اگر مصیبت آئے تو صبر پر ثواب ملتا ہے اگر نعمت ملے تو شکر کرنے پر ثواب ملتا ہے ۔
ضروری بات :۔
نیکی کا صرف یہ مطلب نہیں کہ ہر وقت نوافل پڑھتا رہے یا ذکر کرتا رہے بلکہ ہر وہ کام جو اللہ کی رضا کے لیے ہو نیکی ہے اس پر ثواب ملے گا ۔
ماں باپ کی خدمت اگر اللہ تعالی کے حکم کی وجہ سے ہو ،بیوی سے حسن سلوک سنت کی نیت سے ہو ،بچوں کی پرورش اچھا مسلمان بنانے کی نیت سے ہو ،کاروبار یا نوکری گھر والوں کو حلال کھلانے کی نیت سے ہو ،تو یہ بھی نیکی ہی ہے ،اکثر بھائی کہتے ہیں کہ ہم کیسے عبادت کے لیے وقت نکالے گھر والوں کو کھلانا بھی ہے ۔یاد رکھیں مسلمان کی نیت ہی سے اسے ثواب ملتا ہے جیسی نیت ویسی ہی جزا کوئی بھی اچھا کام اگر عبادت کی نیت سے کرے تو ثواب ملے گا ۔
(
٢٠)وَعَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ - رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ - عَنِ النَّبِیِّ - صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ - قَالَ: " مَا یَنْتَظِرُ أَحَدُکُمْ إِلَّا غِنًی مُطْغِیًا، أَوْ فَقْرًا مُنْسِیًا، أَوْ مَرَضًا مُفْسِدًا، أَوْ ہَرَمًا مُفْسِدًا، أَوْ مَوْتًا مُجْہِزًا، أَوِ الدَّجَّالَ، فَالدَّجَّالُ شَرٌّ غَائِبٌ یُنْتَظَرُ، أَوِ السَّاعَۃَ، وَالسَّاعَۃُ أَدْہَی وَأَمَرُّ " رَوَاہُ التِّرْمِذِیُّ وَالنَّسَائِیُّ.
حضرت ابو ھریرہ رضی اللہ عنہ حضور نبی اکرم ؐ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ؐ نے فرمایا :تم میں سے ہر ایک سرکش کر دینے والے غنا ،یا عبادت کو بھی بھولا دینے والے فقر ،یا مرض مفسد یا بے عقل کردینے والے بڑھاپے کا ،یا اچانک موت کا ،یا دجال کاجو غالب شر ہے جس کا انتظار کیا جارہا ہے ۔یا قیامت کا اور قیامت بڑی ڈرانے والے اور خوفناک ہے ۔
فوائد :۔
١۔یہ بات رسول اللہ ؐ نے توبیخ کے لیے فرمائی کہ کب اپنے رب کی عبادت کرو گے، ابھی بدن کی قوت تمہارے پاس ہے کل نہیں ہو گی تو کیسے عبادت کرو گے ،ابھی فرصت ہے اور تم عبادت نہیں کررہے کل بہت سی مصروفیات کے ساتھ کیسے عبادت کرو گے ۔
٢۔" إِلَّا غِنًی مُطْغِیًا " أَیْ: جَاعِلُکَ طَاغِیًا عَاصِیًا مُجَاوِزًا لِلْحَدِّ
مرقات میں ہے( غنی مطغیا یعنی وہ غنی جو تجھے سرکش ،عاصی اور شریعت کی حدود کو پار کرنے والا )عموما مال سرکش کردیتا ہے اور اللہ تعالی سے باغی کردیتا ہے۔
٣۔مرض بعض اوقات اتنا شدید ہوتا کہ جسم میں بالکل طاقت نہیں رہتی اس میں عبادت کرنا بہت ہی مشکل ہوتا ہے ۔
٤۔بہت ہی زیادہ فقیری ہوکہ بالکل کھانے ،پینے کے لیے ہی کچھ نہ ہوتو وہ بھی اللہ تعالی کی فرمان برداری کو بھولا دیتی ہے ۔
٥۔مفند :(إِنِّی لَأَجِدُ رِیحَ یُوسُفَ لَوْلَا أَنْ تُفَنِّدُونِ) (یوسف:٩٤)
(ترجمہ:(حضرت یوسف علیہ السلام کے والد نے فرمایا تھا )بے شک میں یوسف کی خوشبو پارہا ہوں اگر تم مجھے بڑھاپے کی وجہ سے بہکا ہوا خیال نہ کرو ۔)
٦۔جب بالکل عقل ہی کام نہیں کرے گی تو کیا کروگے تو عبادا ت میں بھی کثرت سے غلطیاں کروگے ۔
٧۔خلاصہ یہ کہ ہر شخص کسی نہ کسی چیز کے انتظار میں ہے کہ یہ ہو جائے پھر عبادت کیا کرو گا ۔جیسے داڑھی رکھنے کے لیے بعض نوجوان کہتے ہیں شادی کے بعد رکھیں گے ،عام لوگ کہتے ہیں سرکاری نوکری مل جائے پھر اللہ اللہ کیا کریں گے ۔جیسے طلباء کہتے ہیں دورہ حدیث شریف کے بعدخارجی مطالعہ کریں گے ۔
بس چاہیے کہ کسی چیز کا انتظار نہ کریں بلکہ جو وقت ہے اس میں دین کا کام کرتے جائیں ۔
(
٢١)وَعَنْہُ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ - صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ - قَالَ: " أَلَا إِنَّ الدُّنْیَا مَلْعُونَۃٌ مَلْعُونٌ مَا فِیہَا، إِلَّا ذِکْرُ اللَّہِ وَمَا وَالَاہُ، وَعَالِمٌ أَوْ مُتَعَلِّمٌ "
. رَوَاہُ التِّرْمِذِیُّ، وَابْنُ مَاجَہْ.
حضرت ابو ھریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ بے شک رسول اللہ ؐ نے فرمایا :
دنیا لعنتی چیز ہے جو اس میں ہے وہ لعنتی ہے ،سوائے اللہ تعالی کے ذکر کے اور جو اس کے قریب کر دے یا عالم اور دین کا طالب علم ۔
فوائد :۔
١۔(اِنَّ الدُّنْیَا مَلْعُونَۃٌ ") أَیْ: مَبْعُودَۃٌ مِنَ اللَّہِ لِکَوْنِہَا مُبْعَدَۃً عَنِ اللَّہِ " مَلْعُونٌ مَا فِیہَا " أَیْ: مِمَّا یَشْغَلُ عَنِ اللَّہ
(بے شک دنیا لعنتی ہے)یعنی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
٢۔جو اللہ تعالی کے قریب کر دیں وہ ملعون نہیں ہیں یعنی نیک اعمال اور افعال قرب
٣۔(علامہ طیبی رحمۃ اللہ علیہ الکاشف عن حقائق السنن میںا س حدیث کے تحت لکھتے ہیں ۔فَلَیْسَتْ وَسَائِلُ الْعِبَادَاتِ مِنَ الدُّنْیَا کَأَکْلِ الْخُبْزِ مَثَلًا لِلتَّقَوِّی عَلَیْہَا، وَإِلَیْہِ الْإِشَارَۃُ لِقَوْلِہِ: الدُّنْیَا مَزْرَعَۃُ الْآخِرَۃِ، وَقَوْلُہُ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: " الدُّنْیَا مَلْعُونَۃٌ وَمَلْعُونٌ مَا فِیہَا إِلَّا مَا کَانَ لِلَّہِ مِنْہَا
دنیا میں عبادات کے وسائل مثلا روٹی کھانا ۔۔۔۔۔۔۔
وغیرہ مذموم نہیں اسی طرف رسول اللہ ؐ نے اپنے قول میں اشارہ فرمایا :دنیا آخرت کی کھیتی ہے اور اپنے قول میں دنیا ملعون ہے اور جو اس میں ہے وہ ملعون ہے سوائے اس کے جو اس میں اللہ کے لیے ہے ۔
٤۔اس کی شرح میں مرقات و شرح طیبی میں ہے أَنَّ الْمَعْنَی بِالْعَالِمِ وَالْمُتَعَلِّمِ الْعُلَمَاء ُ بِاللَّہِ الْجَامِعُونَ بَیْنَ الْعِلْمِ وَالْعَمَلِ، فَیُخْرِجُ مِنْہُ الْجُہَلَاء َ وَالْعَالِمَ الَّذِی لَمْ یَعْمَلُ بِعِلْمِہِ، وَمَنْ تَعَلَّمَ عِلْمَ الْفُضُولِ وَمَا لَا یَتَعَلَّقُ بِالدِّینِ
علماء اور متعلم س مراد ایسے اللہ والے علماء ہیں جو علم و عمل کے جامع ہو پس اس سے جاہل لوگوں اور ایسے علماء کو اس فضیلت سے نکال دیا جو اپنے علم پر عمل نہیں کرتے ،اور جو لوگ فضول علوم حاصل کرتے ہیں اور جو ایسا علم سیکھتے ہیں جو دین اسلام کے متعلق نہیں ۔
٥۔ایک حدیث میں ہے الدُّنْیَا مَلْعُونَۃٌ مَلْعُونٌ مَا فِیہَا إِلَّا أَمْرًا بِمَعْرُوفٍ أَوْ نَہْیًا عَنْ مُنْکَرٍ أَوْ ذِکْرَ اللَّہِ
دنیا اور جو اس میں ہے وہ لعنتی ہے سوائے نیکی کا حکم دینے والے کے اور برائی سے روکنے والے کے اور اللہ کے ذکر کے ۔
(
٢٢)وَعَنْ سَہْلِ بْنِ سَعْدٍ - رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: " لَوْ کَانَتِ الدُّنْیَا تَعْدِلُ عِنْدَ اللَّہِ جَنَاحَ بَعُوضَۃٍ مَا سَقَی کَافِرًا مِنْہَا شَرْبَۃَ مَاء ٍ " رَوَاہُ أَحْمَدُ، وَالتِّرْمِذِیُّ، وَابْنُ مَاجَہْ.
حضرت سھل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ؐ نے فرمایا :اگر دنیا کی اہمیت اللہ کی بارگاہ میں مچھر کے پر کے برابر بھی ہوتی تو اس دنیا میں کافر کو ایک گونٹ پانی بھی نہ پلاتا ۔
فوائد :۔
١۔دنیا کی قلت و حقارت کی وجہ سے مچھر کے پر کی مثال دی ۔یعنی اگر ذرا سی بھی اہمیت ہوتی ۔
٢۔(" شَرْبَۃَ مَاء ٍ ") أَیْ: یَمْنَعُ الْکَافِرَ مِنْہَا أَدْنَی تَمَتُّعٍ، فَإِنَّ الْکَافِرَ عَدُوُّ اللَّہِ، وَالْعَدُوُّ لَا یُعْطِی شَیْئًا مِمَّا لَہُ قَدْرٌ عِنْدَ الْمُعْطِی فَمِنْ حَقَارَتِہَا عِنْدَہُ لَا یُعْطِیہَا لِأَوْلِیَائِہِ، کَمَا أَشَارَ إِلَیْہِ حَدِیثُ: " إِنَّ اللَّہَ یَحْمِی عَبْدَہُ الْمُؤْمِنَ عَنِ الدُّنْیَا، کَمَا یَحْمِی أَحَدُکُمُ الْمَرِیضَ عَنِ الْمَاء ِ "، وَحَدِیثُ: " مَا زُوِیَتِ الدُّنْیَا عَنْ أَحَدٍ إِلَّا کَانَتْ خِیَرَۃً لَہُ "
پانی کا گھونٹ یعنی اللہ تعالی کافر کو دنیا سے تھوڑا سا بھی نفع نہ اٹھانے دیتا کیونکہ کافر اللہ تعالی کا دشمن ہے اوردینے والا دشمن کو کبھی قابل قدرشی نہیں دیتا اور دنیا اتنی حقیر ہے اس لیے یہ دنیا اپنے اولیاء کو نہیں دیتا ۔آج کل کے نام نہاد اولیاء ہونے کا دعوی کرنے والوں پر مجھے حیرت ہے وہ تو روپے ،پیسے پر مرتے ہیںاللہ تعالی ان کے شر سے مسلمانوں کو بچائے ۔
٣۔وَقَالَ - صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ - لِعُمَرَ: " أَمَا تَرْضَی أَنْ یَکُونَ لَہُمُ الدُّنْیَا وَلَنَا الْآخِرَۃُ
رسول اللہ ؐ نے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے ارشاد فرمایا :کیا تم اسی بات پر خوش نہیں کہ ان کفار کے لیے دنیا ہو اور ہمارے لیے آخرت ہو ۔
٤۔قَالَ تَعَالَی: (وَمَا عِنْدَ اللَّہِ خَیْرٌ لِلْأَبْرَارِ) (آل عمران: ١٩٨)(ترجمہ :اور جو کچھ اﷲتعالی کے پاس ہے وہ نیک لوگوں کے لیے بہت ہی اچھا ہے )
(وَرِزْقُ رَبِّکَ خَیْرٌ وَأَبْقَی) (طہ:
١٣١)
اللہ تعالی فرماتا ہے :(ترجمہ:اور آپ کے رب کا رزق بہتر اور باقی رہنے والا ہے)
(
٢٣)وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ - رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: " لَا تَتَّخِذُوا الضَّیْعَۃَ فَتَرْغَبُوا فِی الدُّنْیَا ". رَوَاہُ التِّرْمِذِیُّ، وَالْبَیْہَقِیُّ فِی (شُعَبِ الْإِیمَانِ) .
حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ؐ نے فرمایا :باغات کو اختیار نہ کرو ورنہ تم دنیا میں رغبت کرنے والا بن جاؤ گے۔
فوائد :۔
١۔وَقَالَ الطِّیبِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ: الْمَعْنَی لَا تَتَوَغَّلُوا فِی اتِّخَاذِ الضَّیْعَۃِ فَتُلْہُوَا بِہَا عَنْ ذِکْرِ اللَّہِ. علامہ طیبی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں :باغات ،زمینیں بنانے میں بہت محنت نہ کرو ورنہ وہ تمھیں اللہ کے ذکر سے غافل کر دیں گی ،اللہ تعالی نے اپنے نور کے حامل لوگوں کے بارے میں ارشاد فرمایا :
قَالَ تَعَالَی: (رِجَالٌ لَا تُلْہِیہِمْ تِجَارَۃٌ وَلَا بَیْعٌ عَنْ ذِکْرِ اللَّہِ) (النور:
٣٧)(ترجمہ:ایسے آدمی جنھیں تجارت اوربیع بھی اللہ کے ذکر سے غافل نہیں کرتی ) ۔
(
٢٤)وَعَنْ أَبِی مُوسَی - رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: " مَنْ أَحَبَّ دُنْیَاہُ أَضَرَّ بِآخِرَتِہِ، وَمَنْ أَحَبَّ آخِرَتَہُ أَضَرَّ بِدُنْیَاہُ، فَآثِرُوا مَا یَبْقَی عَلَی مَا یَفْنَی ". رَوَاہُ أَحْمَدُ، وَالْبَیْہَقِیُّ فِی (شُعَبِ الْإِیمَانِ) .
حضرت ابو موسی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ؐ نے فرمایا :۔جو اپنی دنیا سے محبت کرتا ہے وہ اپنی آخرت کو نقصان پہنچا لیتا ہے اور جو اپنی آخرت سے محبت کرتا ہے وہ اپنی دنیا کو نقصان پہنچا لیتا ہے پس تم باقی رہنے والی آخرت کو اس فناہونے والی دنیا پر ترجیح دو ۔
فوائد :۔
١۔جو شخص دنیا سے ایسی محبت کرے تو اللہ تعالی کی محبت پر بھی غالب آجائے تو وہ آخرت کو نقصان پہنچائے گا اسے آخرت میں وہ درجہ نہیں ملے گا۔کیونکہ اس کا ظاہر و باطن دنیا میں مشغول ہوگا تو اپنے مولی کی عبادت اور آخرت کی فکر کے لیے وقت ہی نہیں ملے گا۔
٢۔دنیا اور آخر ت ایک دوسرے کی ضد یں ہیں یہ ان دونوں کی محبت ایک دل میں نہیں جمع ہوسکتی ۔
٣۔اسی لیے رسول اللہ ؐ نے فرمایا :أَجْوَعُکُمْ فِی الدُّنْیَا أَشْبَعُکُمْ فِی الْعُقْبَی، وَرُبَّ کَاسِیَۃٍ فِی الدُّنْیَا عَارِیَۃٌ فِی الْأُخْرَی ". وَقَالَ تَعَالَی فِی حَقِّ السَّاعَۃِ (خَافِضَۃٌ رَافِعَۃٌ) (الواقعۃ: ٣)
دنیا میں زیادہ بھوکا رہنے والا آخرت میں شکم سیر ہوگا ،اور اکثر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اور اللہ تعالی نے آخرت کے بارے میں فرمایا :(وہ قیامت کسی کو اونچا کردینے والی اور کسی کو نیچا کر دینے والی ہے )
٤۔وَرَوَی الْخَطِیبُ فِی الْجَامِعِ، عَنْ أَنَسٍ مَرْفُوعً
" خَیْرُکُمْ مَنْ لَمْ یَتْرُکْ آخِرَتَہُ لِدُنْیَاہُ وَلَا دُنْیَاہُ لِآخِرَتِہِ وَلَمْ یَکُنْ کَلًّا عَلَی النَّاسِ "
خطیب بغدادی نے جامع میں حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مرفوعا روایت کیا تم میں سے بہتر وہ ہے جو اپنی دنیا کی وجہ سے آخرت کو ترک نہ کرے اور نہ ہی اپنی آخرت کے لیے جائز دنیا کو بھی چھوڑ دے اور لوگوں کے سہارے پر نہ رہ جائے ۔
(
٢٥)وَعَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ - رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ عَنِ النَّبِیِّ - صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ - قَالَ: " لُعِنَ عَبْدُ الدِّینَارِ وَلُعِنَ عَبْدُ الدِّرْہَمِ ". رَوَاہُ التِّرْمِذِیُّ.
حضرت ابو ھریرہ رضی اللہ عنہ حضور نبی اکرم ؐ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ْؐ نے فرمایا :لعنتی ہے دینار کا بندہ اور لعنتی ہے درہم کا بندہ
فوائد :۔
١۔یعنی مسلمان کو تو ہر کام اللہ تعالی کی رضا کے لیے کرنا چاہیے پر روپے ،پیسے کا غلام سب کام پیسے ہی کے لیے کرتا ہے ۔
(
٢٦)وَعَنْ کَعْبِ بْنِ مَالِکٍ - رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: " مَا ذِئْبَانِ جَائِعَانِ أُرْسِلَا فِی غَنَمٍ بِأَفْسَدَ لَہَا مِنْ حِرْصِ الْمَرْء ِ عَلَی الْمَالِ وَالشَّرَفِ لِدِینِہِ " رَوَاہُ التِّرْمِذِیُّ، وَالدَّارِمِیُّ.
حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ؐ نے فرمایا :دو بھوکے بھیڑیے جنھیں بکریوں کے ریوڑ میں بھیج دیا جائے وہ اس ریوڑ میں اتنا نقصان نہیں پہنچاتے ،جتنی مال و عزت کی لالچ مسلمان کے دین کو نقصان پہنچاتی ہے ۔
فوائد :۔
١۔بھیڑیے تو ہوتے ہیں خونخوار ہیں اگر بھوکے ہو تو کتنے خونخوار ہوں گے ۔
٢۔کثیر مال کی خواہش اس لیے منع ہے کیونکہ وہ شھوات پوری کرنے کا ذریعہ ہے جو گناہ کرنا چاہے آسانی سے کر لیتا ہے ۔
٣۔انسان کا دین بکریوں کی طرح نازک ہے مال و عزت کی حرص بھیڑیوں سے بھی زیادہ اس دین کونقصان پہنچاتی ہے ۔
(
٢٧)وَعَنْ خَبَّابٍ - رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ - عَنْ رَسُولِ اللَّہِ - صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ - قَالَ: " مَا أَنْفَقَ مُؤْمِنٌ مِنْ نَفَقَۃٍ إِلَّا أُجِرَ فِیہَا، إِلَّا نَفَقَتَہُ فِی ہَذَا التُّرَابِ " رَوَاہُ التِّرْمِذِیُّ، وَابْنُ مَاجَہْ.
حضرت خباب رضی اللہ عنہ حضور نبی اکرم ؐ سے روایت فرماتے ہیں کہ آپ ؐ نے فرمایا :مومن جو بھی مال خرچ کرتا ہے اسے اس پر ثواب دیا جاتا ہے سوائے اس خرچ کے جو وہ اس مٹی پر کرتا ہے ۔
فوائد :۔
١۔" (فِی ہَذَا التُّرَابِ ") أَیِ: الْبِنَاء ِ فَوْقَ الْحَاجَۃِ وَہَذَا لِلتَّحْقِیرِ، وَقِیلَ: التُّرَابُ کِنَایَۃٌ عَنِ الْبَدَنِ وَمَا یَحْصُلُ لَہُ مِنَ اللَّذَّۃِ الزَّائِدَۃِ عَلَی قَدْرِ الضَّرُورَۃِ الدِّینِیَّۃِ وَالدُّنْیَوِیَّۃِ.
فی ہذا التراب یعنی عمارت جو ضرورت سے زیادہ ہواور یہ تحقیر کے لیے فرمایا :اور کہا گیا ہے کہ مٹی بدن انسانی سے کنایہ ہے اور جو لذت زائدہ اسے دنیاوی و دینی ضرورت سے زائد حاصل ہوتی ہے۔
(
٢٨)وَعَنْ أَنَسٍ - رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: " النَّفَقَۃُ کُلُّہَا فِی سَبِیلِ اللَّہِ إِلَّا الْبِنَاء َ فَلَا خَیْرَ فِیہِ ". رَوَاہُ التِّرْمِذِیُّ، وَقَالَ: ہَذَا حَدِیثٌ غَرِیبٌ.
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ؐ نے فرمایا :تما م خرچ اللہ کی راہ کی میں (ہوسکتا )ہے سوائے (ضرورت سے زائد )جو عمارت ہو کیونکہ اس میں کوئی خیر نہیں ہے ۔
فوائد :۔
١۔یعنی جس بھی چیز میں نیکی کے ارادے سے مال خرچ کیا جائے توفی سبیل اللہ خرچ ہوگیا اس پر ثواب ملے گا سوائے یہ کہ ضرورت سے زائد عمارت بنا دی جائے کیونکہ اس میں کوئی دین کا فائدہ نہیں عموما دیکھا گیا کہ لوگ مدرسے بہت بڑے بنا لیتے ہیں مگر پڑھائی اتنی بڑی نہیں کرواتے انھیں سوچنا چاہیے ۔
٢۔بڑی عمارات بنانے میں اسراف ہے اور اللہ تعالی اسراف کرنے والوں کو پسند نہیں فرماتا ،
٣۔بعض لوگ ہر نیکی کا کام ہی جو زیادہ بڑے پیمانے پر کیا جائے اسے اسراف کہہ دیتے ہیں مرقات میں ہے وَأَمَّا النَّفَقَۃُ فَلَا یُتَصَوَّرُ فِیہَا السَّرَفُ لِأَنَّہَا مِنْ بَابِ الْإِطْعَامِ وَالْإِنْعَامِ، وَکُلٌّ مِنْہُمَا خَیْرٌ، سَوَاء ٌ وَقَعَ الْمُسْتَحِقُّ أَوْ غَیْرُہُ مِنَ الْأَنَامِ،
جو نفقہ جس میں میں اسراف کا تصور ہی نہیں کیا جا سکتا وہ کھانا کھلانا اور انعام کرنا یہ دونوں کام تو سراپا خیر ہیں ،برابر ہے انعام و کھانا لوگوں میں سے مستحق کو ملے یا غیر مستحق کو ۔
(
٢٩)وَعَنْ أَبِی ہَاشِمِ بْنِ عُتْبَۃَ - رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ - قَالَ: عَہِدَ إِلَیَّ رَسُولُ اللَّہِ - صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ - قَالَ: " إِنَّمَا یَکْفِیکَ مِنْ جَمْعِ الْمَالِ خَادِمٌ وَمَرْکَبٌ فِی سَبِیلِ اللَّہِ " رَوَاہُ أَحْمَدُ، وَالتِّرْمِذِیُّ وَالنَّسَائِیُّ، وَابْنُ مَاجَہْ
حضرت ابو ہاشم بن عتبہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :رسول اللہ ؐ نے مجھے وصیت فرمائی تجھے تمام مال میں سے ایک خادم اور ایک اللہ تعالی کے راستے میں سفر کے لیے سواری کافی ہے ۔
فوائد :۔
١۔خادم جس کی تمھیں صرف میں ضرورت ہوتی ہے اور ساری جس پر تم جھاد ،حج اور علم دین کے لیے سفر کر لو ۔
(
٣٠)وَعَنْ عُثْمَانَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَنَّ النَّبِیَّ - صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ - قَالَ: " لَیْسَ لِابْنِ آدَمَ حَقٌّ فِی سِوَی ہَذِہِ الْخِصَالِ: بَیْتٌ یَسْکُنُہُ، وَثَوْبٌ یُوَارِی بِہِ عَوْرَتَہُ، وَجِلْفُ الْخُبْزِ وَالْمَاء ِ ". رَوَاہُ التِّرْمِذِیُّ.
حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بے شک حضور نبی اکرم ؐ نے فرمایا :ابن آدم کا ان خصال کے علاوہ حق (یعنی حاجت ) نہیں ہے ایسا گھر جس میں رہ سکے ،اتنا کپڑا جس سے شرم گاہ کو چھپا سکے اورروٹی (بغیر سالن کے )اور پانی ۔
فوائد :۔
١۔یعنی اگر یہ حلال طریقے سے کماکر بنا لے تو ان کو حساب نہیں ہو گا ،اتنا گھر کہ سردی ،گرمی سے بچ سکے چاہے ذاتی ہو چاہے کرائے کا ،اتنا کپڑ ا جس سے شرم گاہ چھپ جائے چاہے نیا ہو یا پرانا ہو ،سستا ہو یا مہنگا ہو ۔صرف سوکھی روٹی اور پانی ۔
(
٣١)وَعَنْ سَہْلِ بْنِ سَعْدٍ - رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ - قَالَ: جَاء َ رَجُلٌ فَقَالَ: یَا رَسُولَ اللَّہِ! دُلَّنِی عَلَی عَمَلٍ إِذَا أَنَا عَمِلْتُہُ أَحَبَّنِی اللَّہُ وَأَحَبَّنِی النَّاسُ. قَالَ: " ازْہَدْ فِی الدُّنْیَا یُحِبَّکَ اللَّہُ، وَازْہَدْ فِیمَا عِنْدَ النَّاسِ یُحِبَّکَ النَّاسُ " رَوَاہُ التِّرْمِذِیُّ، وَابْنُ مَاجَہْ.
حضرت سھل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ ایک شخص آیا اور عرض کی یا رسول اللہ (صلی اللہ علیک وسلم )مجھے کسی ایسے عمل کی رہنمائی فرمائیں جب میں اس پر عمل کرلو اللہ تعالی بھی مجھ سے محبت کرے اور لوگ بھی مجھ سے محبت کریں آپ ؐ نے فرمایا :دنیا سے بے رغبت ہو جا اللہ تعالی تجھ سے محبت کرے گا اور جو لوگوں کے پاس ہے اس سے بے رغبت ہو جا لوگ تجھ سے محبت کریں گے ۔
فوائد :۔
١۔صحابی نے عرض کی یار سول اللہ (صلی اللہ علیک وسلم ) مجھے ایس عمل بتادیں جو محبت کے باب میں جامع اور نافع ہو ۔آپ نے فرمایادنیا کی محبت چھوڑ دے اس کی زائد طلب سے اعراض کر لوگ تجھ سے محبت کرے گا
(
٣٢)وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ - رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ - أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ - صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ - نَامَ عَلَی حَصِیرٍ، فَقَامَ وَقَدْ أَثَّرَ فِی جَسَدِہِ فَقَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ یَا رَسُولَ اللَّہِ: لَوْ أَمَرْتَنَا أَنْ نَبْسُطَ لَکَ وَنَعْمَلَ فَقَالَ: " مَا لِی وَلِلدُّنْیَا؟ وَمَا أَنَا وَالدُّنْیَا إِلَّا کَرَاکِبٍ اسْتَظَلَّ تَحْتَ شَجَرَۃٍ، ثُمَّ رَاحَ وَتَرَکَہَا ". رَوَاہُ أَحْمَدُ، وَالتِّرْمِذِیُّ، وَابْنُ مَاجَہْ.
حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ؐ چٹائی پر ہی سوگئے جب اٹھے تواس نے آپ ؐ کے جسم پر نشان ڈال دیے تھے ۔تو ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے عرض کی یا رسو ل اللہ (صلی اللہ علیک وسلم )اگر آپ ہمیں حکم فرماتے ہیں ہم آپ کے لیے بستر بچھا دیتے اور سارے انتظامات کردیتے آپ ؐ نے فرمایا :میرا اور دنیا کو تعلق صرف اتنا ہے جسے کو ئی سوار کچھ دیر درخت کے سایے میں رکے اور پھر درخت کو چھوڑ کر چلا جائے ۔
فوائد :۔
١۔یعنی میں تو تھوڑی دیر کے لیے اس دنیا میں ہو اس کے بعد مجھے چلے جانے ہے اور آخرت میں اللہ تعالی نے مجھے اپنے ساتھ عرش پر بیٹھانا ہے مقام محمود عطا کرنا ہے ،جنت الفردوس دینی ہے میری عظمت کو لوگوں پر ظاہر کرنا ہے ۔
(
٣٣)وَعَنْ أَبِی أُمَامَۃَ - رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ - عَنِ النَّبِیِّ - صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ - قَالَ: " أَغْبَطُ أَوْلِیَائِی عِنْدِی لَمُؤْمِنٌ خَفِیفُ الْحَاذِ، ذُو حَظٍّ مِنَ الصَّلَاۃِ، أَحْسَنَ عِبَادَۃَ رَبِّہِ، وَأَطَاعَہُ فِی السِّرِّ، وَکَانَ غَامِضًا فِی النَّاسِ، لَا یُشَارُ إِلَیْہِ بِالْأَصَابِعِ، وَکَانَ رِزْقُہُ کَفَافًا، فَصَبَرَ عَلَی ذَلِکَ " ثُمَّ نَقَدَ بِیَدِہِ فَقَالَ: (عُجِّلَتْ مَنِیَّتُہُ، قَلَّتْ بَوَاکِیہِ، قَلَّ تُرَاثُہُ ) . رَوَاہُ أَحْمَدُ، وَالتِّرْمِذِیُّ، وَابْنُ مَاجَہْ.
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ حضور نبی اکرم ؐ سے روایت کرتے ہیں ۔میرے دوستوں میں سے میرے نزدیک افضل وہ ہے جس کے پاس مال قلیل ہو اورنمازیں بہت زیادہ ہو اس کے پاس ،اپنے رب کی خوب عبادت کرتا ہو ،اور اکیلے میں بھی اپنے رب کی اطاعت کرتا ہو ،اور لوگوں میں مشھور نہ ہو ،اس کی طر ف انگلیوں سے اشارے نہ کیے جائیں ،اور کا رزق بقدر کفایت ہو ،وہ اس پر صبر کریں پھر اپنے ہاتھ سے چٹکی بجائی اور فرمایا پھر اس کی موت جلد آجائے ۔اس پر رونے والیاں کم ہو اس کی میراث بھی تھوڑی ہو ۔
فوائد:۔
١۔بندہ کے پاس قلیل مال ہو نماز میں اسے لذت ملتی ہو اکثر نوافل پڑھتا ہو ،لوگوں میں اور لوگوں کے علاوہ ہر وقت اللہ تعالی کی فرمانبرداری کرتا ہو ،لوگوں میں تقوی اور نیکی کی وجہ سے مشھور نہ ہو کہ لوگ اشارہ کرکے کہتے ہو کہ یہ حضرت بہت متقی ہیں یا بہت بڑے عالم ہیں ۔رزق تھوڑا ہو اس پر صبر کر ے یعنی نماز اور صبر سے مدد حاصل کرتا ہو ۔جس یہ حدیث میں مذکور نعمتیں میسر ہو وہ خوش ہو کہ وہ پسندیدہ لوگوں میں سے ہے ۔
(
٣٤)وَعَنْہُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: عَرَضَ عَلَیَّ رَبِّی لِیَجْعَلَ لِی بَطْحَاء َ مَکَّۃَ ذَہَبًا، فَقُلْتُ: لَا، یَا رَبِّ! وَلَکِنْ أَشْبَعُ یَوْمًا وَأَجُوعُ یَوْمًا، فَإِذَا جُعْتُ تَضَرَّعْتُ إِلَیْکَ وَذَکَرْتُکَ، وَإِذَا شَبِعَتُ حَمِدْتُکَ وَشَکَرْتُکَ " رَوَاہُ أَحْمَدُ، وَالتِّرْمِذِیُّ.
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اللہ ؐ نے فرمایا :میرے رب نے مجھے پیشکش کی کہ میرے لیے مکہ کے پہاڑ کو سونا بنادے میں نے عرض کی نہیںیارب ،لیکن میں ایک دن سیر ہو گا اور ایک دن بھوکا رہو ں گا جب بھوکا ہو گا تو تیرے سامنے عاجزی کرو گا تیرا ذکر کروں گا اور جب سیر ہو گا تو تیری حمد اور تیرا شکر ادا کروں گا ۔
فوائد :۔
١۔اگر کوئی شخص حلال دنیا کو اختیار کرے گا تو آخرت میں اسے حساب دینا ہوگا ۔
٢۔بھوکا رہنے کی بڑی فضلت ہے اس سے شھوت ختم ہوتی ہے ۔دل میں رقت پیدا ہوتی ہے۔
٣۔مومن کامل کی دو صفتیں ہیں ایک صبر دوسری شکر ۔
(
٣٥)وَعَنْ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ مِحْصَنٍ - رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: " مَنْ أَصْبَحَ مِنْکُمْ آمِنًا فِی سِرْبِہِ، مُعَافًی فِی جَسَدِہِ، عِنْدَہُ قُوتُ یَوْمِہِ، فَکَأَنَّمَا حِیزَتْ لَہُ الدُّنْیَا بِحَذَافِیرِہَا " رَوَاہُ التِّرْمِذِیُّ، وَقَالَ حَدِیثٌ غَرِیبٌ
حضرت عبید اللہ بن محصن رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ؐ نے فرمایا :تم میں سے جو اس حال میں صبح کرے کہ اس کے دل میں امن ہو اور جسم تندرست ہو اور اس دن کا کھانا اس کے پاس ہو تو وہ سمجھے گویا کہ اس کے لیے پوری کی پوری دنیا جمع کر دی گئی ہے ۔
فوائد :۔
١۔جو مومن ایسی حالت میں صبح کرے کہ اسے دشمن کو خوف نہ ہو ،یا گناہوں سے توبہ کرنے یا گناہوں سے بچنے کی وجہ سے اللہ تعالی کے عذاب کا خوف نہ ہو ،جسم تندرست ہو کوئی بیماری نہ ہو ظاہر ی و باطنی اورایک دن کا کھانا بھی ہوتو بس اس کے بعد کچھ بھی تکلیف آئے پریشان نہیں ہونا چاہیے۔
(
٣٦)وَعَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِی کَرِبَ - رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ - قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ - صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ - یَقُولُ: " مَا مَلَأَ آدَمِیٌّ وِعَاء ً شَرًّا مِنْ بَطْنٍ، بِحَسْبِ ابْنِ آدَمَ أُکُلَاتٌ یُقِمْنَ صُلْبَہُ، فَإِنْ کَانَ لَا مَحَالَۃَ فَثُلُثٌ طَعَامٌ، وَثُلُثٌ شَرَابٌ، وَثُلُثٌ لِنَفَسِہِ " رَوَاہُ التِّرْمِذِیُّ وَابْنُ مَاجَہْ.
حضرت مقدام بن معدی کرب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ؐ کو فرماتے سنا کہ آدمی اپنے پیٹ سے زیادہ برا برتن کوئی نہیں بھرتا ۔ابن آدم کے لیے اتنے لقمے ہی کافی ہیں جن سے اس کی کمر سیدھی رہے ، اگر اس کے لے کھانا بہت ضروری ہو تو تہائی کھانے کے لیے ،تہائی پانی کے لیے اور تہائی سانس کے لیے رہنے دے۔
فوائد:۔
١۔اتنے لقمے جس سے کمر سیدھی ہو اور وہ عبادت کر سکے اور حلال کماسکے ،جسے کوئی مزدور ہے تو ا سکے لیے زیادہ کھانا ضروری ہے ورنہ وہ مزدوری نہیں کر سکے گا ۔
(
٣٧)وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ - رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا - أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ - صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ - سَمِعَ رَجُلًا یَتَجَشَّأُ فَقَالَ: " أَقْصِرْ مِنْ جُشَائِکَ، فَإِنَّ أَطْوَلَ النَّاسِ جُوعًا یَوْمَ الْقِیَامَۃِ أَطْوَلُہُمْ شِبَعًا فِی الدُّنْیَا ". رَوَاہُ فِی (شَرْحِ السُّنَّۃِ) . وَرَوَی التِّرْمِذِیُّ نَحْوَہُ.
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنھما سے روایت ہے کہ بے شک رسول اللہ ؐ نے ایک آدمی کو ڈکارلیتے ہوئے سنا ،آپ ؐ نے فرمایا ،اپنے ڈکاروں میں کمی کرو کیونکہ قیامت کے دن زیادہ عرصہ وہ بھوکا رہے گا جو دنیا میں زیادہ پیٹ بھرتا تھا ۔
فوائد :۔
١۔عموما جب پیٹ بھرا ہو تو ڈکار آتے ہیں کم کھائیں تو ایسا نہیں ہو گا ۔
(
٣٨)وَعَنْ کَعْبِ بْنِ عِیَاضٍ - رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ - قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ
- صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ - یَقُولُ: " إِنَّ لِکُلِّ أُمَّۃٍ فِتْنَۃً وَفِتْنَۃُ أُمَّتِی الْمَالُ ". رَوَاہُ التِّرْمِذِیُّ.
حضرت کعب بن عیاض رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں میں نے رسول اللہ ؐ کو فرماتے سنا کہ ہر امت کے لیے فتنہ ہے اور میری امت کا فتنہ مال ہے ۔
فوائد :۔
١۔مال زیادہ ہوتا جائے گا دین سے دور ہوتے جائیں گے آج کل جو جتنا دین سے دور ہے اسے کہتے ہیں یہ ماڈرن ہیں ۔
(
٣٩)وَعَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ - رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ أَوَّلَ مَا یُسْأَلُ الْعَبْدُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ مِنَ النَّعِیمِ أَنْ یُقَالَ لَہُ: أَلَمْ نُصِحَّ جِسْمَکَ وَنَرْوِکَ مِنَ الْمَاء ِ الْبَارِدِ؟ " رَوَاہُ التِّرْمِذِیُّ.
حضرت ابو ھریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ؐ نے فرمایا :سب سے پہلے قیامت میں جس نعمت کا بندے سے پوچھا جائے گا وہ یہ کہ کیا ہم نے تجھے صحت مند جسم نہیں دیا تھا ،اور کیا ہم نے تجھے ٹھنڈا پانی سے سیراب نہیں کیا ۔
فوائد :۔
١۔یعنی اگر آدمی کے پاس کچھ بھی نہ ہو نہ مال نہ دولت نہ شہرت نہ عزت تو ان دو نعمتوں کی توقدر ضرور کرنی چاہیے ۔
(
٤٠)وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ - رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ - عَنِ النَّبِیِّ - صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ - قَالَ: " لَا تَزُولُ قَدَمَا ابْنِ آدَمَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ حَتَّی یُسْأَلَ عَنْ خَمْسٍ
: عَنْ عُمُرِہِ فِیمَا أَفْنَاہُ، وَعَنْ شَبَابِہِ فِیمَا أَبْلَاہُ، وَعَنْ مَالِہِ مِنْ أَیْنَ اکْتَسَبَہُ، وَفِیمَا أَنْفَقَہُ، وَمَاذَا عَمِلَ فِیمَا عَلِمَ؟ " رَوَاہُ التِّرْمِذِیُّ. وَقَالَ: ہَذَا حَدِیثٌ غَرِیبٌ.
حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ حضور نبی اکرم ؐ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ؐ نے فرمایا کہ ابن آدم قیامت میں اپنے قدم نہ اٹھا سکے گا یہاں تک کہ اس سے پانچ باتوں کے بارے میں سوال نہ کر لیا جائے،اس کی عمر کے بارے میں کہ اسے کہاں خرچ کی ،اس کی جوانی کے بارے میں کہ کہاںاس طاقت کو خرچ کیا ،اس کے مال کے بارے میں کہ کہاں سے کمایا اور کہاں خرچ کیا ،اور کتنا عمل کیا اس پر جس کا تجھے علم ہوگیا تھا ۔
فوائد :۔
١۔عمر کے بارے میں پوچھا جائے گا کہ نیک کاموں میں صرف کی یا گناہوں کے کاموں میں ۔
٢۔جوانی کے زمانے کے بارے میں پوچھا جائے گا کہ اس وقت تو مشکل سے مشکل عبادت کر سکتا تھا ۔
٣۔ مال کے بارے میں پوچھا جائے گا کہ حلال کمایا یا حرام ،اور پوچھا جائے گا کہ نیکے کے کاموں میں خرچ کا یا برائی کے کاموں میں ۔
٤۔علم حاصل کرنا ہر ایک کے لیے لازم ہے جو لوگ اس لیے علم نہیں حاصل کرتے کہ ہم عمل نہیں کریں گے تو زیادہ گناہ ہوگا تو بے وقوف ہیں انھیں علم حاصل نہ کرنے کا گناہ بھی ملے گا اور بغیر علم کے جب غلط کر یں گے تو غلط کرنے کا بھی گناہ ملے گا ۔

٥۔علماء جو علم حاصل کرتے ہیں اگر وہ عمل نہ کریں تو انھیں بھی شدیدعذاب ہو گا ۔حدیث میں ہے :أَشَدُّ النَّاسِ عَذَابًا یَوْمَ الْقِیَامَۃِ عَالِمٌ لَمْ یَنْفَعْہُ اللَّہُ بِعِلْمِہِ (لوگوں میں سخت عذاب قیامت کے دن اس عالم کو ہو گا جس کو اللہ تعالی نے اس کے علم سے نفع نہیں دیا )۔
تمت الرسالۃ الحمدﷲ والصلوۃ والسلام علی رسولﷲ




Hadees in unicode urdu ,urdu blog ,islamic blog in urdu ,urdu web in unicode ,Hub e Dunya ,Dunya ki mohabat per Ahadees ,Dunya se nafrat ,Hadith e Pak in urdu and arabic ,hadees e Rasool in urdu ,hadees e pak in urdu ,Hadees e Rasool Sahih hadees in urdu ,Islahi hadees e pak,
Hadees in unicode urdu ,urdu blog ,islamic blog in urdu ,urdu web in unicode ,Hub e Dunya ,Dunya ki mohabat per Ahadees ,Dunya se nafrat ,Hadith e Pak in urdu and arabic ,hadees e Rasool in urdu ,hadees e pak in urdu ,Hadees e Rasool Sahih hadees in urdu ,Islahi hadees e pak,Hadees in unicode urdu ,urdu blog ,islamic blog in urdu ,urdu web in unicode ,Hub e Dunya ,Dunya ki mohabat per Ahadees ,Dunya se nafrat ,Hadith e Pak in urdu and arabic ,hadees e Rasool in urdu ,hadees e pak in urdu ,Hadees e Rasool Sahih hadees in urdu ,Islahi hadees e pak,Hadees in unicode urdu ,urdu blog ,islamic blog in urdu ,urdu web in unicode ,Hub e Dunya ,Dunya ki mohabat per Ahadees ,Dunya se nafrat ,Hadith e Pak in urdu and arabic ,hadees e Rasool in urdu ,hadees e pak in urdu ,Hadees e Rasool Sahih hadees in urdu ,Islahi hadees e pak,

No comments:

Post a Comment

Join us on

Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...