Monday, June 20, 2016

Mumtaz Qadri k liye aik meeting ممتاز قادری کی رہائی کیلئے ایک خفیہ میٹنگ کا آنکھوں دیکھا حال






ممتاز قادری کو سزا سے بچانے کیلئے علماء اہلسنت نے ایک خفیہ میٹنگ کی تھی ،میں نے اس پوری میٹنگ کا حال لکھ لیا تھا ،تاکہ اگلی نسل اس سے سبق سیکھے ،اور یہ غلطیاں نہ کرے ۔

ممتاز قادری کیلئے خفیہ میٹنگ
17جنوری 2016 کو ڈاکٹر اشرف آصف جلالی صاحب ،علامہ خادم حسین رضوی صاحب ،پیر افضل قادری صاحب اور بہت سے دیگر علماء کرام اسلام آباد میں آئی ٹن فور میں جامعہ علیمیہ میں جمع ہوئے ،اور اس وقت کی صورت حال کو بیان کرتے ہوئے ،پیر افضل قادری صاحب نے کہا :
آج ہم تینوں حضرات پر پرچے ہو چکے ہیں ،پھر بھی ہم نے کراچی کے نشتر پارک میں بہت بڑا تاریخ ساز جلسہ کیا ،جس میں نشتر پارک ہی نہیں ،بلکہ اس کے ساتھ والی سڑکیں بھی بھر گئی تھی ،پھر اس کے بعد ہم نے لاہور میں کامیاب ریلیاں نکالیں ۔
اب میں اس میٹنگ کی منظر کشی کرنے کی کوشش کرتا ہوں ،جس قدر بڑی ہستیاں تشریف لائی تھی ،اس قدر اسلام آباد اور راولپنڈی کے علماء و خطباء کو بھی جمع ہونا چاہیے تھا ،مگر بدقسمتی سے اس میٹنگ میں قائدین سمیت ساٹھ لوگ شامل تھے ،صرف یہی نہیں ،بلکہ ان لوگوں نے بھی چار گھنٹے کی اس مختصر میٹنگ میں ،تقریبا پنتالیس منٹ قائدین کے سامنے آپس میں جھگڑے کیے ،کوئی کہتا میرے استاد پر تنقید نہ کرنا ،میرے پیر خانے کے متعلق کچھ نہ کہنا ،دوسرا شخص خود کو حق گو ثابت کرنے کیلئے یا نیک نیتی سے انکے خلاف بولتا رہتا ۔
میں اس دوران ڈاکٹر اشرف آصف جلالی صاحب کے چہرے کی طرف دیکھ رہا تھا ،ان کے چہرے پر پریشانی اورافسوس صاف دکھائی دے رہا تھا ،مگر ان کے حوصلے کی داد دینی پڑے گی ،وہ نہ منہ سے ایک لفظ بولے ،نہ ہاتھ سے اشارہ کیا ،خاموش اپنی قوم پر افسوس کرتے رہے ۔
ایک صاحب پروفیسر ہاشمی صاحب جو دین و مسلک کا درد رکھنے والے تھے ،انکی باتوں سے ان کے اندر کا درد ظاہر ہو رہا تھا ،وہ ہر شخص کو بڑی اچھی طرح جانتے تھے ،انھوں نے جامعہ رضویہ ،راولپنڈی پر تنقید کرتے ہوئے کہا ،بعض لوگ اس ممتاز قادری والے معاملے میں شامل نہیں ہوسکیں گے ،کیونکہ اس سے انکے مدار س کے مفاد متاثر ہوں گے ،اس پر وہاں بیٹھے علماء میں سے علامہ لیاقت رضوی صاحب کھڑے ہو ئے اور غصے سے انھیں خاموش کرانے کی کوشش کی،مگر وہ حق گو تھے ،وہ وہاں کسی سے خاموش ہوتے تھے ،بولے اور ڈٹ کر بولے اور سب کے پول کھول دیے ،وہاں موجود سب لوگوں نے انھیں ان کی باتوں کو دل سے تسلیم کیا ،مگر کچھ لوگ زبان سے انکار بھی کرتے رہے ۔
وہاں یہ بھی کہا گیا ،کہ پیر سید حسین الدین شاہ صاحب کے صاحبزادے کو اس تحریک کے لیے کوئی عہدہ دے دیا جائے ،تو اس پر جامعہ رضویہ کے ناظم تعلیمات مولانا اسحاق ظفر صاحب بولے ،وہ ایک معقول عذر کی بنا پر ،اس وقت یہ ذمہ داری نہیں اٹھا سکتے ،پھر انھوں نے وہ معقول عذر بیان کرتے ہوئے کہا ،وہ آج کل ایم فل کا تھیسز لکھ رہے ہیں ،(جس کی وجہ سے وہ یہ ناموس رسالت کے اس اہم کام میں ساتھ نہیں دے سکتے )اس مجبوری پر کوئی بھی کچھ نہیں بولا ،میں دل میں یہ کہہ رہا تھا ،جو ناموس رسالت کیلئے ایم فل کا مقالہ نہیں چھوڈسکے ،اسے ہم نے اپنا شیخ بنا رکھا ہے ،جو ناموس رسالت کےلیے ایم فل کا مقالہ نہ چھوڈ سکے ،وہ ناموس رسالت کیلئے جان کیا دے گا ۔
پھر اسحاق طفر صاحب نے مزید کہا :مفتی حنیف قریشی صاحب پہلے بھی آپ کے ساتھ ہیں ۔
میں سوچتا رہا ،خدا جانے وہ اس میٹنگ میں کیوں نہیں آئے ،(شاید اس کی وجہ یہ تھی ،کہ انہیں چند دن بعد ایک ٹی وی پروگرام میں شرکت کی دعوت دی گئی تھی ،چند دن بعد ہی میں نے انھیں اس ٹی وی چینل پر دیکھا تھا ،جس کا موضوع بھی کچھ ایسا ہی تھا )
اس میٹنگ میں اسلام آباد و راولپنڈی کی تنظیم ساز ی کی گئی ،جس میں مفتی لیاقت رضوی اور مفی سھیل صاحب کو کواڈی نیٹر بنایا گیا ،(یاد رہے یہ دونوں جامعہ رضویہ ،راولپنڈی کے فاضل ہیں)ہاشمی صاحب یاعلی اکبر  نعیمی صاحب کو نگران بنایا گیا ،
پھر پچیس جنوری بھی آگئی ،تئیس جنوری کو میں نے اپنے استاد صاحب کو کہا ،حضرت کیا ارادہ ہے (لبیک یارسول اللہ مارچ،لاہور ) میں شرکت کریں گے ،انھوں نے فرمایا :جی ہم ضرور شرکت کریں گے ،چوبیس تاریخ تک ہم سے کسی نے رابطہ ننہیں کیا ،بالآخر ہمارے استاد صاحب نے مختلف لوگوں سے رابطہ کیا ،تو ان سب نے کہا ،یہاں سے تو کوئی باقاعدہ قافلہ نہیں جارہا ،مجبورا ہمارے ادارے کے لوگ بھی اس میں شامل نہیں ہو سکے ،میں چھٹی لے کر گھر چلا گیا ،تاکہ وہاں سے کسی کے ساتھ چلا جائوں گا ،کیونکہ میرے پاس ایک ہی طرف کا کرایہ تھا ،میں چاہتا تھا ،کہ جاتے ہوئے کسی کے ساتھ چلا جائو،واپسی پر اپنا کرایہ لگا کر واپس آجائو گا ،مگر مجھے کوئی قافلہ نظر نہیں آیا ،میں رات کو پھر مدرے گیا اور انٹرنیٹ پر سرچ کی ،تو دیکھا اس میں لوگوں کی خاصی بڑی تعداد شامل تھی ،آپ اسے کہہ سکتے ہیں وہ ایک کامیاب مارچ تھی ۔
انٹرنیٹ پر جو جو آفیشل پیج ڈاکٹر صاحب کے نام سے بنا ہوا ہے ،اس پر شیئر کیے گئے ویڈیو پیغام کو صرف بارہ ہزار لوگوں نے دیکھا تھا ،یہ تعداد بہت ہی کم ہے ،اسی کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے ہمارے بریلوی فیس بک پیجز پر عام آدمی کیلئے کچھ بھی نہیں ہوتا ،ہمارے پیج صرف کٹر بریلوی ہی لائیک کرتا ہے ۔
چوبیس جنوری  کو خادم حسین رضوی صاحب اور دیگر علماء کرام اور کارکنان کو گرفتار کر لیا گیا تھا ،مگر پچیس مارچ کو تمام لوگوں نے داتا دربار کے سامنے دھرنا شرو ع کر دیا ،یہ دھر نا تقریبا رات دیر تک رہا ،بالآخر حکومت نے علماءکو رہا کر دیا ۔


  Tages:
Suni Barelvi ,Tehreek labaik ya Rasool Allah ,Dawat e islami,ahle sunat wa jamat ,mumtaz qadri,mumtaz qadri ko saza e mout ,mumtaz qadri ko phansi ,mumtaz qadri aur suni ulama ,suni aur mumtaz qadri ki phansi ,aik meeting ,Jamia aleemia islamabad ,Dr ashraf asif jalali ,Khadim hussain rizvi ,Allama Sarwa ijaz qadri Suni Tehreek ,karachi suni tehreek ,lahore Labaik ya Rasool Allah march ,labaik ya Rasool Allah conerence ,peer afzal qadri ,mumtaz qadri ko phansi ,mumtaz qadri ka janaza ,mumtaz qadri ko phansi ,Suni Barelvi ,Tehreek labaik ya Rasool Allah ,Dawat e islami,ahle sunat wa jamat ,mumtaz qadri,mumtaz qadri ko saza e mout ,mumtaz qadri ko phansi ,mumtaz qadri aur suni ulama ,suni aur mumtaz qadri ki phansi ,aik meeting ,Jamia aleemia islamabad ,Dr ashraf asif jalali ,Khadim hussain rizvi ,Allama Sarwa ijaz qadri Suni Tehreek ,karachi suni tehreek ,lahore Labaik ya Rasool Allah march ,labaik ya Rasool Allah conerence ,peer afzal qadri ,mumtaz qadri ko phansi ,mumtaz qadri ka janaza ,mumtaz qadri ko phansi ,Suni Barelvi ,Tehreek labaik ya Rasool Allah ,Dawat e islami,ahle sunat wa jamat ,mumtaz qadri,mumtaz qadri ko saza e mout ,mumtaz qadri ko phansi ,mumtaz qadri aur suni ulama ,suni aur mumtaz qadri ki phansi ,aik meeting ,Jamia aleemia islamabad ,Dr ashraf asif jalali ,Khadim hussain rizvi ,Allama Sarwa ijaz qadri Suni Tehreek ,karachi suni tehreek ,lahore Labaik ya Rasool Allah march ,labaik ya Rasool Allah conerence ,peer afzal qadri ,mumtaz qadri ko phansi ,mumtaz qadri ka janaza ,mumtaz qadri ko phansi ,

No comments:

Post a Comment

Join us on

Must click on Like Button

Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...