Thursday, June 16, 2016

مخصوص حوض میں نجاست گر پڑی ،تو سب ناپاک ہو گا ،یا صرف اوپر سے ؟مفصل جواب از امام احمد رضا خان بریلوی






فتوٰی مسمّٰی بہ
رحب الساحۃ فی میاہ لایستوی وجھھا وجوفھا فی المساحۃ(۱۳۳۴ھ)
ان پانیوں کے بارے میں میدان وسیع کرنا جن کی سطح اور گہرائی پیمائش میں برابر نہ ہو (ت)

مسئلہ ۴۹: جمادی الآخر ۱۳۳۴ھ :کیا فرماتے ہیں علمائے دین ان مسائل میں سوال اوّل حوض نیچے دَہ در دَہ اور اوپر کم ہے بھرے ہوئے میں نجاست پڑی تو سب ناپاک ہوگیا یا صرف اوپر کا حصّہ جہاں تک سو ہاتھ سے کم ہے بینوا توجروا۔

الجواب
بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم۔ نحمدہ ونصلی علٰی رسولہ الکریم۔

بعض کے نزدیک اصلاً ناپاک نہ ہوگا کہ مجموع آب کثیر ہے۔

اقول ویشبہ ان یکون مبنیا علی اعتبار العمق وقد صححہ بعضھم والمعتمد المعول علیہ لا۔ میں کہتا ہوں یہ گہرائی کے اعتبار پر مبنی ہے اور بعض نے اس کو صحیح قرار دیا ہے اور اس پر اعتماد نہیں ہے۔ (ت(

خلاصہ میں ہے:الحوض الکبیر اذا انجمد ماؤہ فنقب انسان نقبا وتوضأ منہ ان کان الماء منفصلا عن الجمد یجوز وان کان متصلا بالجمد اختلف المشائخ فیہ بعضھم اعتبروا جملۃ الماء حتی لایتنجس وبعضھم اعتبروا موضع النقب ان کان کبیرا یجوز والافلا ۱؎۔

بڑے حوض کا پانی جب جم جائے اور کوئی اس میں سوراخ کرکے وضو کرلے تو پانی اگر برف سے
الگ ہے تو جائز ہے اور اگر برف سے متصل ہے تو مشائخ کا اس میں اختلاف ہے بعض نے تمام پانی کا اعتبار کیا یہاں تک کہ وہ نجس نہ ہوگا، اور بعض نے سوراخ کی جگہ کا اعتبار کیا، اگر وہ بڑا ہو تو جائز ہے ورنہ نہیں۔ (ت(

 (۱؎ خلاصۃ الفتاوٰی    الجنس الاول الحیاض    نولکشور لکھنؤ        ۱/۴)

بعض کے نزدیک کل ناپاک ہوجائے گا۔

اقول: وکانہ لانہ ماء واحد والعبرۃ بوجہ الماء وھو قلیل لابالعمق وان کثر۔ میں کہتا ہوں اور شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ ایک پانی ہے اور اعتبار پانی کی سطح کا ہے اور وہ قلیل ہے، عمق کا اعتبار نہیں، خواہ زائد ہی کیوں نہ ہو۔ (ت(

خلاصہ میں ہے:ان کان اعلاہ اقل من عشر فی عشرو اسفلہ عشر فی عشر فوقعت قطرۃ خمر ثم انتقص الماء وصار عشرا فی عشر اختلف المشائخ فیہ ۱؎۔

اگر اس کا بالائی حصہ دہ در دہ سے کم ہے اور نچلا دہ در دہ ہو اب اس میں ایک قطرہ شراب کا گر جائے پھر پانی کم ہوجائے اور دہ در دہ ہوجائے، تو اس میں مشائخ کا اختلاف ہے۔ (ت(

 (۱؎ خلاصۃ الفتاوٰی    الجنس الاول الحیاض    نولکشور لکھنؤ        ۱/۴)

بدائع میں اوّل کو اوسع ثانی کو احوط فرمایا اور منیہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسی دوم پر فتوی ہے: حیث قال الحوض اذا انجمد ماؤہ فنقب فی موضع منہ فوقعت فیہ نجاسۃ قال نصیر وابو بکر الاسکاف یتنجس وقال عبداللّٰہ بن المبارک وابو حفص الکبیر البخاری لایتنجس اذا کان الماء تحت الجمد عشرا فی عشرو ان کان متصلا بالجمد والفتوی علی قول نصیر وابی بکر وان کان منفصلا عن الجمد یجوز بلا خلاف کالحوض المسقف ۲؎ اھ

انہوں نے فرمایاکہ حوض کاپانی جم جائے اور اس میں کسی جگہ سوراخ کیا جائے اور اس میں نجاست گر جائے تو نصیر اور ابو بکر الاسکاف نے فرمایا وہ ناپاک ہوجائیگا، اور عبداللہ بن مبارک اور ابو حفص کبیر نے فرمایاکہ اگر برف کے نیچے پانی دہ دردہ ہو تو ناپاک نہ ہوگا،اگرچہ برف سے متصل ہو اور فتوی نصیر اور ابو بکر کے قول پر ہے اوراگر برف سے جُدا ہو تو بغیر اختلاف کے جائز ہے جیسے وہ حوض جس کے اوپر چھت ہو اھ

 (؎ منیۃ المصلی    فصل الحیاض        مکتبہ قادریہ جامعہ نظامیہ رضویہ لاہور    ص۷۰)

واعترضہ شارحہ المحقق ابن امیر الحاج بانہ یفید ان الحوض عند نصیر وابی بکر یتنجس سواء کان الماء ملتزقا بالجمدا ومتسفلا عنہ ثم ینافیہ قولہ وان کان منفصلا یجوز بلا خلاف فان قلت لم لم یحمل ماعن نصیر وابی بکر علی مااذا کان متصلا بالجمد وقد اندفع التناقض عن المصنف قلت لانہ ینافیہ قولہ فان کان متصلا بالجمد فالفتوی علی قول نصیر فانہ یفید ان موضوع المسألۃ اعم وان نصیراً وابا بکر یقولان ینجس مطلقا وابن المبارک واباحفص یقولان لاینجس مطلقا فتأملہ ۱؎ اھ

اس پر اس کے شارح محقق ابن امیر الحاج نے اعتراض کیا کہ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حوض نصیر اور ابو بکر کے نزدیک نجس ہوجاتا ہے خواہ پانی برف سے ملاہوا ہو یا اس کے نیچے ہو، پھر اس کے مخالف ہے اُن کا قول کہ اگر منفصل ہو تو جائز ہے بلاخلاف، اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ جو نصیر اور ابو بکر سے منقول ہے اسکو اس پر کیوں محمول نہیں کیا گیاکہ یہ اُس صورت میں ہے جبکہ وہ برف سے متصل ہو اور تناقض مصنف سے رفع ہوگیا، میں کہوں گا،اس لئے کہ منافی اس کا قول کہ اگر برف کے ساتھ متصل ہوتو فتوی نصیر کے قول پر ہوگا،کیونکہ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ موضوع مسئلہ اعم ہے اور یہ کہ نصیر اور ابو بکر دونوں کہتے ہیں کہ وہ مطلقا نجس ہوگا،اور ابن مبارک اور ابوحفص کہتے ہیں کہ وہ مطلقاً نجس نہیں ہوگا فتأملہ اھ۔ (ت(

 (۱؎ حلیہ)

اقول: رحم اللّٰہ المحقق لاشک(۱) ان اول الکلام فی المتصل یوضحہ مافی البدائع ان کان جامداونقب فی موضع منہ فان کان الماء غیر متصل بالجنب یجوز بلاخلاف وان متصلا والنقب صغیرا اختلف المشائخ قال نصیر بن یحیی وابو بکرالاسکاف لا خیر فیہ وسئل ابن المبارک فقال لاباس بہ وقال الیس الماء یضطرب تحتہ وھو قول الشیخ ابی حفص الکبیر وھذا اوسع والاول احوط ۲؎ اھ وقد نقلہ المحقق فی الحلیۃ ھھنا۔

میں کہتا ہوں،اللہ محقق پر رحم کرے بیشک کلام کا ابتدائی حصہ متصل میں ہے اس کی وضاحت بدائع میں ہے، اور وہ یہ کہ اگر وہ جامد ہو اور اس کے کسی حصّہ میں سوراخ کرلیا گیا ہو تو اگر پانی برف سے ملا ہوا نہ ہو تو بلاخلاف جائز ہے اور اگر متصل ہو اور سوراخ چھوٹا ہو تو مشائخ کا اختلاف ہے،نصیر بن یحییٰ اور ابو بکر الاسکاف فرماتے ہیں اس میں خیر نہیں اور ابن مبارک سے دریافت کیاگیا تو فرمایا اس میں حرج نہیں، نیز فرمایا کیا اس کے نیچے پانی میں حرکت نہیں ہوتی ہے اور یہی ابو حفص الکبیر کا قول ہے اور یہ زیادہ آسان ہے جبکہ پہلے میں احتیاط کاپہلو زیادہ ہے اھ اور محقق نے اس کو یہاں حلیہ میں نقل کیا۔ (ت(

 (۲؎ بدائع الصنائع    فصل فی بیان مقدار الخ    ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۱/۷۳)

اقول: ولولا(۲)ھذالم یکن لہ محمل الا ذاک لان الذھن لایسبق منہ الاالیہ اذھوالغالب ونادران ینجمدالاعلی ویبقی الاسفل منفصلا عنہ الا اذانقب واستفرغ منہ شیئ صالح ،

میں کہتا ہوں اگر یہ بات نہ ہوتی تو اس کا محمل یہی ہوتا،کیونکہ ذہن کی سبقت اسی کی طرف ہوتی ہے کیونکہ غالب یہی ہے اور یہ نادرہے کہ اوپر والا منجمد ہوجائے اور نیچے والااس سے جُدا رہے، ہاں اگر اس میں سوراخ کرکے قابلِ لحاظ حد تک پانی نکال لیا جائے تو جدا ہوسکتا ہے۔

وما ردبہ علیہ من المنافاۃ۔فاقول غیر متوجہ(۳)الیہ فان قولہ''وان کان متصلا بالجمد'' لیس شرطا جزاؤہ فالفتوی حتی یفید ان کلام نصیر وابی بکر فیما ھو اعم من الاتصال بل ھو من تتمۃ قول ابن المبارک وان  وصلیۃ والفاء فی فالفتوی فصیحۃ والمعنی انہ ان انفصل عن الجمد جازبلا خلاف وان اتصل فکذا عند عبداللّٰہ وابی حفص وقال نصیر وابو بکر لاوعلیہ الفتوی علی ان فی(۱) عامۃ نسخ المنیۃ وعلیہ الفتوی بالواو دون الفاء وقولہ فان کان متصلالیس بالفاء فی نفس المتن المنقول فی الحلیۃ فانقطع مثارالتوھم رأساثم رأیت الغنیۃ فسرہ علی ماھو الحق وافاد فائدۃ اخری ستعرفھا۔

اور جس چیز سے اس پر رد کیا ہے یعنی منافات، تو میں کہتا ہوں یہ ان کی طرف متوجہ نہیں کیونکہ ان کا قول ''وان کان متصلاً بالجمد'' شرط نہیں جس کی جزا فالفتوی ہو تاکہ اس کا فائدہ یہ ہو کہ نصیر اور ابو بکر کا اس میں کلام ہے جو اتصال سے اعم ہے بلکہ وہ ابن مبارک کے کلام کا تتمہ ہے اور''ان'' وصیلہ ہے اور فالفتوٰی  میں فاء فصیحیہ ہے اور معنی یہ ہیں کہ اگر وہ برف سے جُدا ہو تو بلاخلاف جائز ہے اور اگر متصل ہو تو اسی طرح عبداللہ اور ابو حفص کے نزدیک حکم ہے اور نصیر اور ابو بکر کہتے ہیں نہیں، اور اسی پر فتوٰی ہے، علاوہ ازیں منیہ کے عام نسخوں میں وعلیہ الفتوی واؤ کے ساتھ ہے فاء کے ساتھ نہیں، اس کا قول فان کان متصلا نفس متن میں فاء کے ساتھ نہیں جو حلیہ میں منقول ہے، تو وہم کی بنیاد ہی ختم ہوگئی۔ پھر میں نے غُنیہ میں دیکھا کہ اُنہوں نے اس کی حق تفسیر کی،اور ایک اور فائدہ بیان کیا جو ہم آئندہ بیان کریں گے۔ (ت(

اور صحیح یہ ہے کہ وہی بالائی حصہ ناپاک ہوگا جو دَہ در دَہ سے کم ہے یہاں تک کہ اگر اوپر کا پانی نکال دیا گیا اور آب وہاں تک رہ گیا جہاں سے دَہ در دہ ہے تو یہ پانی پاک ہے اس لئے کہ اگرچہ وہ آب نجس سے متصل تھا مگر آب کثیر اتصال نجس سے ناپاک نہیں ہوتا جب تک نجاست سے اُس کا رنگ یا بُو یا مزہ بدل نہ جائے،

ہندیہ میں ہے:ان کان اعلی الحوض اقل من عشر فی عشر واسفلہ عشر فی عشر اواکثر فوقعت نجاسۃ فی اعلی الحوض وحکم بنجاسۃ الا علی ثم انتقص الماء وانتھی الی موضع ھو عشر فی عشر فالاصح انہ یجوز الوضوء بہ والاغتسال فیہ ۱؎کذا فی المحیط۔

اگر حوض کا بالائی حصہ دَہ در دَہ سے کم ہو اور اس کا نچلا حصہ دہ در دہ ہو یا زیادہ ہو اور نجاست حوض کے اوپر والے حصے میں گر جائے، اور اوپر والے حصہ کے نجس ہونے کا حکم کردیا جائے، پھر پانی گھٹ جائے اور ایسی جگہ پہنچ جائے
جو دہ در دہ ہو تو اصح یہ ہے کہ اس سے وضو اور غسل جائز ہے کذا فی المحیط۔ (ت(

 (۱؎ فتاوٰی  ہندیۃ الثانی الماء الراکد    نورانی کتب خانہ پشاور    ۱/۱۹)
بحرالرائق میں ہے:وذکر السراج الہندی ان الاشبہ الجواز ۱؎۔ اور سراج ہندی نے ذکر کیا ہے کہ اشبہ جواز ہے۔ (ت(

 (۱؎ بحرالرائق    بحث الماء الدائم    ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۱/۷۷)

حلیہ میں ہے:نص فی الذخیرۃ انہ الاشبہ ۲؎۔ ذخیرہ میں نص ہے کہ یہی اشبہ ہے۔ (ت(

 (۲؎ حلیہ)

فتوٰی  کہ منیہ میں مذکور ہوا اُس سے بھی یہی مراد ہے کہ حصّہ بالائی کی نجاست پر فتوی ہے نہ کہ کل کی، غنیہ میں ہے: (الحوض اذا انجمد ماؤہ فنقب فی موضع) وبقی الماء تحت الجمد متصلا بہ (فوقعت فیہ نجاسۃ قال نصیرو ابو بکر یتنجس الماء ) لکونہ متصلا بالجمد فلا یخلص بعضہ الی بعض فیکون وقوع النجاسۃ فی ماء قلیل فیفسدہ (وقال ابن المبارک وابو حفص لاوان کان) ای ولو کان (الماء متصلا بالجمد) لکونہ عشرا فی عشر (والفتوی علی قول نصیر) لما قلنا (واما اذا کان) الماء تحت الجمد (منفصلا) عنہ (فیجوز) ولا یفسد الماء لان الفرض انہ عشر فی عشر ولم تنفصل بقعۃ منہ عن سائرہ کما فی الصورۃ الاولیٰ۔

(حوض کا پانی جب جم جائے اور کسی جگہ سوراخ کیا جائے) اور برف کے نیچے والا پانی اس کے ساتھ متصل رہے (تو اس میں نجاست گر گئی، تو نصیر اور ابو بکر نے فرمایا پانی نجس ہوجائیگا) کیونکہ وہ برف کے ساتھ متصل ہے تو اس کا بعض حصّہ دوسرے بعض کی طرف نہیں جائیگا اور اس طرح نجاست قلیل پانی میں گرے گی، اور اس کو فاسد کر دے گی (اور ابن مبارک اور ابو حفص نے کہا نہیں اگرچہ وہ ہو) یعنی برف پانی سے متصل ہو، کیونکہ وہ دہ در دہ ہے (اور فتوٰی  نصیر کے قول پر ہے) جیسا کہ ہم نے کہا (اور اگر پانی ہو) برف کے نیچے جدا برف سے (تو جائز ہے) اور پانی فاسد نہ ہوگا کیونکہ مفروضہ یہ ہے کہ یہ دہ در دہ ہے اور اس کا کوئی حصہ باقی پانی سے جُدا نہیں جیسا کہ پہلی صورت میں ہے۔ (ت(
اسی طرح منیہ میں جو اس کے متصل تھا:

وان ثقب الجمد فعلا الماء فولغ الکلب یتنجس عند عامۃ العلماء ۳؎۔ اور اگر برف میں سوراخ کیا تو پانی اوپر چڑھ آیا اس میں کُتّے نے مُنہ ڈال دیا تو عام علماء کے نزدیک نجس ہوجائیگا۔ (ت(

 (۳؎ غنیہ المستملی شرح منیۃ المصلی    فصل فے الحیاض    ص۹۹)

دونوں شارح محقق نے اسے اُسی قدر پانی کی نجاست پر حمل فرمایا ہے غنیہ میں ہے:  (یتنجس عند عامۃ العلماء ) ولم یعتبر الماء الذی تحت الجمد وکان مافی الثقب کغیرہ من الماء القلیل خلافا لما قال البعض ان مافی الثقب یعتبر متصلابما تحتہ وھو کثیر فلا یتنجس ۱؎۔

(اور عام علماء کے نزدیک پانی نجس ہوجائے گا) اور جو پانی برف کے نیچے ہے اس کا اعتبار نہ ہوگا اور جو سوراخ میں ہے وہ تھوڑے پانی کی طرح ہے، لیکن بعض علماء نے اس کے خلاف یہ فرمایا ہے کہ جو سوراخ میں ہے وہ اسی طرح ہے جو اس کے نیچے ہے اور وہ کثیر ہے تو ناپاک نہ ہوگا۔ (ت(

 (۱؎ غنیۃ المستملی شرح منیۃ المصلی    فصل فے الحیاض    مکتبہ قادریہ جامعہ نظامیہ رضویہ لاہور    ص۷۰)

حلیہ میں ہے:(یتنجس عند عامۃ العلماء ) ذلک الماء الذی فی الثقب لاالحوض لان المسألۃ مفروضۃ فی الحوض الکبیر ۲؎۔ (عام علماء کے نزدیک نجس ہوجائے گا) وہ پانی جو سوراخ میں ہے نہ کہ حوض میں کیونکہ مسئلہ بڑے حوض میں مفروض ہے۔ (ت(

 (۲؎ حلیہ)

یہاں سے یہ بھی ظاہر ہوا کہ یہی مذہب جمہور علماء ہے، وھنا بحث غریب للخانیۃ ثم للخلاصۃ واللفظ لھا قال اختلف المشائخ فیہ وینبغی ان یکون الجواب علی التفصیل ان کان الماء الذی تنجس فی اعلی الحوض اکثرمن الماء الذی فی اسفلہ ووقع الماء النجس فی اسفل الحوض علی التدریج کان طاھرا علی مایاتی فی مسألۃ الجمد وقال بعضھم لایطھر کالماء القلیل اذا وقعت فیہ نجاسۃ ثم انبسط علی مامر ۳؎ اھ

اور یہاں ایک عجیب بحث خانیہ اور خلاصہ کی ہے الفاظ خلاصہ کے ہیں فرمایا کہ مشائخ نے اس میں اختلاف کیا ہے اور جواب میں تفصیل ہونی چاہئے،اگر وہ پانی جو حوض کے بالائی حصہ میں نجس ہوا ہے اس پانی سے زیادہ ہے جو اس کے نچلے حصے میں ہے،اور نجس پانی حوض کے نچلے حصے میں گرا بتدریج تو پاک رہے گا،جیسا کہ منجمد پانی کے بیان میں آئے گا،اور بعض نے فرمایا طاہر نہیں رہے گا جیسے قلیل پانی، جب اس میں نجاست گر جائے پھر وہ پھیل جائے، جیسا کہ گزرا اھ

 (۳؎ خلاصۃ الفتاوٰی         الجنس الاولی فے الحیض    نولکشور لکھنؤ        ۱/۴)

والمراد بما یاتی فی الجمد قولہ رحمہ اللّٰہ تعالٰی لوتنجس موضع النقب ثم ذاب الجمد بتدریج الماء نجس وقال الشیخ الامام شمس الائمۃ الحلوائی رحمہ اللّٰہ تعالٰی الماء طاھر سواء ذاب بتدریج اودفعۃ واحدۃ ۱؎ اھ۔

 اور مایاتی فی الجمد سے مرادان کا قول ہے کہ ''اگر سوراخ کی جگہ نجس ہوئی پھر منجمد پانی بتدریج پگھل گیا تو پانی ناپاک ہے، اور شیخ الامام شمس الائمہ حلوائی نے فرمایا پانی پاک ہے خواہ بتدریج پگھلا ہو یا یک دم اھ (ت(

 (؎ خلاصۃ الفتاوی    الجنس الاولی فی الحیض    نولکشور لکھنؤ    ۱/۴)

اقول: وجہ الاول وعلیہ المعول انہ کلما ذاب شیئ منہ اتصل بالنجس وھو قلیل فیتنجس حتی تاتی النجاسۃ علی الکل بخلاف ما اذا ذاب دفعۃ لانہ کثیر فلا یتنجس بمجاورۃ النجس و وجہ قول شمس الائمۃ انہ کثیر وفیہ ان النجس لایطھر بالکثرۃ۔

میں کہتا ہوں پہلے قول کی وجہ جس پر اعتماد ہے کہ جب بھی اس سے کوئی چیز پگھلی اور نجس سے متصل ہوئی اور وہ قلیل ہو تو وہ نجس ہوجائے گا یہاں تک کہ کل نجس ہوگا بخلاف اس صورت کے جبکہ یکدم پگھل جائے کیونکہ وہ کثیر ہے، لہٰذا نجس کی مجاورت کی وجہ سے نجس نہ ہوگا، شمس الائمہ کے قول کی وجہ یہ ہے کہ وہ کثیر ہے، اور اس میں یہ اعتراض ہے کہ نجس کثرت کی وجہ سے پاک نہیں ہوتا ہے۔ (ت(

اقول: لکن فی(۱) قیاس مسألتنا علی مسألۃ الجمد نظرفان الطاھر ھھنا ماء کثیر فلا یضرہ مجاورۃ نجس سواء کانت دفعۃ اوتدریجا وکان المجاور اکثر منہ اواقل علی خلاف مایفیدہ تقییدہ بکثرۃ المتنجس ای قدرالامساحۃ من قصر حکم الطھارۃ علی مالوکان اقل مماتحتہ قدرافلا یتنجس ماتحتہ سواء وقع فیہ دفعۃ اوتدریجا بخلاف الاکثر وانت تعلم ان الماء الکثیر انما یتنجس بتغیر وصف لہ بالنجاسۃ بلا فرق بین قدر وقدر علی القول الصحیح المعتمد المفتی بہ کما عرف فی مسألۃ جیفۃ فی النھر نعم مشی الشیخ علی مختارہ ثمہ حیث قال انکان مایلاقی الجیفۃ اکثر اوکانا سواء فالماء نجس ۱؎ اھ

میں کہتا ہوں ہمارے مسئلہ کو منجمد پانی پر قیاس کرنے میں نظر ہے کیونکہ یہاں پاک پانی کثیر ہے تو اس کو نجس کی مجاورۃ نقصان دہ نہ ہوگی خواہ یکدم ہو یا بتدریج ہو اور مجاور اس سے زیادہ یا کم ہو،یہ اس کے خلاف ہے کہ جس کو متنجس کی کثرت کے ساتھ مقید کیا ہے یعنی مقدار کے اعتبار سے نہ کہ پیمائش کے اعتبار سے، جس نے طہارت کے حکم کو اُس صورت میں مقصور کیاکہ اگر وہ اپنے نیچے والے پانی سے کم ہو، تو اس کانیچے والا ناپاک نہ ہوگا، خواہ اس میں وہ یکدم گرا ہو یا تدریجی طور پر بخلاف اکثر کے اور آپ کو معلوم ہے کہ کثیر پانی اسی وقت نجس ہوگا جب نجاست کی وجہ سے اس کا کوئی وصف متغیر ہوجائے، اس میں مقادیر کے طرق کے اعتبار نہیں، قول صحیح، معتمد، مفتیٰ بہ یہی ہے، جیسا کہ نہر میں گرجانے والے مردہ کے مسئلہ میں معلوم ہوا ہے البتہ شیخ نے وہاں اپنے مختار قول ہی کو لیا ہے،وہ فرماتے ہیں کہ جو پانی مردار سے ملاقی ہے،اگر وہ زائد ہے یادونوں برابر ہیں تو پانی نجس ہے اھ

 (۱؎ خلاصۃ الفتاوی    جنس آخر فی التوضی، الماء الجاری    نولکشور لکھنؤ    ۱/۹)

 والیہ یشیر قولہ الماء النجس اذادخل الحوض الکبیر لایتنجس الحوض وانکان الماء النجس علی ماء الحوض غالبا لانہ کلما اتصل الماء بالحوض صار ماء الحوض علیہ غالبا ۲؎ اھ فقد(عہ۱) اشار الی التدریج،

اور ان کے قول ''نجس پانی جب بڑے حوض میں داخل ہوجائے تو وہ حوض ناپاک نہ ہوگا''اگرچہ نجس پانی حوض کے پانی پر غالب ہوجائے میں اسی طرف اشارہ ہے کیونکہ جو نہی پانی حوض کے پانی سے ملے گا حوض کا پانی اس پر غالب ہوتا جائیگا اھ تو انہوں نے تدریج کی طرف اشارہ کیا ہے

 (۲؎ خلاصۃ الفتاوی    الجنس الاولی فی الحیض       نولکشور لکھنؤ   ۱/۴)
ولفظ الفتح فی تعلیلہ لان کل مایتصل بالحوض الکبیر یصیر منہ فیحکم بطہارتہ ۱؎ اھ

اور فتح نے اس کی تعلیل میں یہ فرمایا ہے ''اس لئے کہ جو بڑے حوض سے ملے گا وہ اسی کا جز ہوجائیگا تو اس کی طہارت کا حکم لگایا جائے گا اھ

 (۱؎ فتح القدیر    بحث الغدیر العظیم    نوریہ رضویہ سکھر    ۱/۷۱)

 وفی البزازیہ الماء الکثیر النجس دخل فی الحوض الکبیر لاینجسہ لانہ حکم بالطھارۃ زمان الاتصال ۲؎ اھ ھذا وجہ اور بزازیہ میں ہے کہ کثیر نجس پانی جب بڑے حوض میں داخل ہوجائے تو اس کو نجس نہیں کرے گا کیونکہ اتصال کے وقت اس پر طہارت کا حکم لگ چکا ہے اھ یہ معقول بات ہے۔

 (۲؎ بزازیۃ علی الہندیۃ        نورانی کتب خانہ پشاور    ۴/۷)

وثانیا(۱)لااثرلوقوع ماء نجس فی ماء طاھرالااللقاء وھو حاصل فیما نحن فیہ من بدو الامر ففیم التفصیل بخلاف مسألۃ الجمد فانہ لانجمادہ لالقاء مع النجس الالسطح منہ فالباقی اذا ذاب تدریجا حصل اللقاء للقلیل فتنجس والکثرۃ للمتنجس فلم یطھر واذا ذاب دفعۃ حصل اللقاء للکثیر فلم یتنجس،

ثانیا نجس پانی کے پاک پانی میں پڑ جانے کاکوئی اثر نہیں، سوائے ملاقات کے،اور وہ ہمارے اس مسئلہ میں ابتداء سے حاصل ہے تو تفصیل کس چیز میں ہے،بخلاف منجمد پانی کے مسئلہ کے،کیونکہ یہ منجمد ہے اس لئے اس کی ملاقات نجس کے ساتھ نہ ہوگی صرف اس کی سطح ملے گی،اور باقی جب تدریجی طور پر پگھلے گا تو اس کے تھوڑے سے جزء سے ملاقات ثابت ہوگی، تو نجس ہوجائیگا، اور کثرہ متنجس کیلئے ہے تو پاک نہ ہوگا، اور جب یک دم پگھلے گا تو کثیر سے ملاقات ہوگی، تو ناپاک نہ ہوگا۔

اقول:(۱) ذلک فی ماء نجس کثیرلقی ماء طاھرا کثیرا تدریجاوھذاماء قلیل طاھر لقی ماء نجسافاین ھذامن ذلک وای(۲) مدخل فیہ للابلغیۃ من حیث ان ثم الغالب النجس وھھناالطاھر بعد ان التدریج جعل ذلک الغالب مغلوباکما افصح بہ فی الخلاصۃ وھذا المغلوب غالبا کما علمت واللّٰہ تعالی اعلم ۱۲ منہ غفرلہ۔ (م(

میں کہتا ہوں وہ کثیر نجس پانی میں سے جو کثیر طاہر پانی سے ملاقی ہو اور یہ ملاقات تدریجا ہو، اور یہ کم طاہر پانی ہے جس کی ملاقات نجس پانی سے ہوئی ہے تو اس میں اور اُس میں کیا نسبت ہے اور اس میں ابلغیۃ کو کیا دخل ہے کیونکہ وہاں غالب نجس ہے اور یہاں طاہر بعد اس کے کہ تدریج نے اُس غالب کو مغلوب کردیا ہے جیسا کہ خلاصہ میں اس کی وضاحت کی ہے اور اس مغلوب کو غالب کردیا جیسا کہ آپ نے جانا ہے واللہ تعالٰی  اعلم

وثالثا المعھود ھھناان الماء العالی یرفع ویبقی السافل لاان العالی یقع فی السافل دفعۃ اوتدریجا، ثالثا، معمول کے مطابق اوپر والاپانی اٹھا لیاجاتاہے اور نیچے والا پانی باقی رہ جاتا ہے نہ یہ کہ اوپر والا نیچے والے میں گرتا ہے، کبھی یک دم اور کبھی تدریجی طور پر۔

و رابعا اذاکان(۱)الماء ان متلاصقین ولم یکن ھذاوقوع العالی فی السافل لم یتصور الزیادۃ علیہ الا بوقوع العالی فی محل السافل ولا یکون الابعد خروج السافل لاستحالۃ التداخل فلا یقع العالی فی السافل ابدالا دفعۃ ولا تدریجا،

رابعا جب دونوں پانی ملے ہوئے ہوں اور اوپر والا نیچے والے میں نہ گرے تو اس پر زیادتی متصور نہ ہوگی صرف ایک صورت میں زیادتی ہوگی اور وہ یہ کہ اوپر والا نیچے والے کی جگہ میں گرے اوریہ تب ہی ہوگا جبکہ نیچے والا نکلے ، کیونکہ تداخل محال ہے، تو اوپر والانیچے والے میں کبھی نہیں گرے گا،نہ یک دم اور نہ تدریجی طور پر۔

وخامسا لوفرض(۲)فلایکون الالخروج ھذا ودخول ذاک والکل حرکۃ فلا یمکن الا تدریجاکأن یکون فی السافل منفذ یفتح فیجعل السافل یخرج والعالی ینزل ولا تصور لان یخرج السافل دفعۃ فیسقط العالی مرۃ واحدۃ وبالجملۃ لم یصل فھمی القاصرلمرادہ واللّٰہ تعالی اعلم بمراد خواص عبادہ لاجرم ان قال فیہ فی الدر لووقع فیہ نجس لم یجز حتی یبلغ العشر ۱؎ فقال ش فاذابلغھا جاز وان کان اعلاہ اکثر مقداراوفی البحر عن السراج الھندی انہ الاشبہ ۲؎ اھ ورحم اللّٰہ العلامۃ الشلبی حیث نقل فی حاشیۃ الزیلعی کلام الخانیۃ الی ذکرالقولین ورسم اھ ولم یعرج لذکربحثہا اصلا واللّٰہ تعالٰی اعلم۔

خامسا، گرنا فرض کیاجائے تو اس کے نکلنے اور اس کے داخل ہونے کی وجہ سے ہوگا،اوریہ سب حرکت ہے، تو یہ صرف تدریجی طور پر ہی ہوسکتا ہے،مثلاً یہ کہ نچلے میں کوئی سوراخ ہو جس کو کھولا جائے تو نیچے والا نکلنے لگے اوراُوپر والا اترنے لگے اور اس کا کوئی تصور نہیں کہ نیچے والا یک دم نکلے اور اوپر والا یکدم گر جائے،اور خلاصہ یہ کہ میں اپنی ناقص رائے میں ان کی مراد سمجھنے سے قاصر رہا ہوں اوراللہ تعالٰی  اپنے خواص کی مراد کو زیادہ جاننے والا ہے۔پھر انہوں نے فرمایا در میں ہے اگر اس میں نجس واقع ہوجائے توجائز نہیں یہاں تک کہ دس کو پہنچ جائے، تو ''ش''نے فرمایاجب وہ دس کو پہنچے توجائز ہے اگرچہ اس کے اوپر والا مقدار میں زائد ہو،اور بحر میں سراج ہندی سے منقول ہے کہ یہی اقرب الی الحق ہے اھ اور اللہ تعالٰی  علامہ شلبی پر رحم کرے کہ انہوں نے زیلعی کے حاشیہ میں خانیہ کا کلام نقل کیا قولین کے ذکر تک اور اھ کانشان لگادیااور انکی بحث کا  اصلاً ذکر نہ کیا واللہ تعالٰی  اعلم۔ (ت(

 (۱؎ الدرالمختار    باب المیاہ    مجتبائی دہلی        ۱/۳۶)
(۲؎ ردالمحتار     باب المیاہ     مصطفی البابی مصر    ۱/۱۴۳)

فتاوی رضویہ ،ج۲،سوال ۴۹
مفتی :امام احمد رضا خان بریلوی

سوال(۵۰) دوم :اسی صورت میں حوض کے بالائی حصّے کے منتہی پر ایک نالی ہے جب یہ اوپر کا پانی ناپاک ہوانالی کھول کر نکال دیا گیا صرف نیچے کاپانی جہاں سے دہ در دہ ہے رہ گیاپھر پاک پانی سے بھر دیا گیا تو اب یہ سب حوض پاک ہوگیایا نہیں،اگر نہیں تو کیا کیا جائے کہ پاک ہو بینوا توجروا۔

الجواب : اگرناپاک پانی نکال دینے کے بعد اتناانتظار کیاکہ حوض کی بالائی سطوح جو اُس پانی سے ناپاک تھیں خشک ہو کر پاک ہوگئیں اس کے بعدپاک پانی بھرا گیااوراوپر(عہ۱)آجانے والی نجاست باقی نہیں تو سارا حوض پاک ہے ورنہ بالائی حصہ پھر ناپاک ہوگیا،

(عہ۱)توضیح جواب سوم سے ہوگی خلاصہ یہ کہ تہ نشین نجاست اوپر آئے گی نہیں اورپانی ملے گاآب زیریں سے جو بوجہ کثرت ناپاک نہیں اور اُوپر آنے والی اگر غیر مرئیہ تھی یامرئیہ نکال دی گئی کہ وہ بھی غیر مرئیہ رہ گئی تو ناپاک پانی کے ساتھ نکل گئی ہاں مرئیہ باقیہ ہے تو پھر ناپاک کردے گی ۱۲ منہ غفرلہ (م(

ردالمحتار میں ہے:لوکانت النجاسۃ مرئیۃ باقیۃ فیہ اوامتلاء قبل جفاف اعلی الحوض تنجس ۱؎۔ اگر حوض میں نجاست مرئیہ باقی رہے یا بھر جائے حوض کااعلیٰ حصہ خشک ہونے سے پہلے تو نجس ہوجائے گا۔ (ت(

 (۱؎ ردالمحتار    باب المیاہ    مصطفی البابی مصر    ۱/۱۴۳)

چارہ کار یہ ہے کہ نجاست مذکورہ نکال کرپاک پانی ڈالتے جائیں یہاں تک کہ کناروں سے چھلک کر کچھ دوربہ جائے اب وہ حوض کے کنارے بھی پاک ہوگئے اور یہ سب پانی بھی۔ درمختار میں ہے: المختار طھارۃ المتنجس بمجرد جریانہ ۱؎۔ مختار مذہب پر نجس حوض صرف پانی کے جاری ہونے سے پاک ہوجاتا ہے۔ (ت(

 (۱؎ درمختار        باب المیاہ         مجتبائی دہلی        ۱/۳۶)

غنیہ میں ہے:ۤیطھرالحوض بمجرد مایدخل الماء من الانبوب ویفیض من الحوض ھوالمختار لصیرورتہ جاریا ۲؎۔ مختار قول میں صرف نالی کے ذریعہ پانی داخل ہونے اور حوض سے بہہ جانے سے حوض پاک ہوجاتاہے کیونکہ اب پانی جاری ہوچکا ہے۔(ت(

 (۲؎ غنیہ المستملی            سہیل اکیڈمی لاہور        ۱/۱۰۳)

فتاوی امام ظہیرالدین میں ہے:الصحیح انہ یطھر وان لم یخرج مثل مافیہ وان رفع انسان من ذلک الماء الذی خرج وتوضأ بہ جاز ۳؎ اھ ذکرہ ش واقوالااُخروروایات مضطربۃ سیأتی الکلام علیھا واللّٰہ تعالٰی اعلم۔

صحیح قول پر حوض پاک ہوجائیگااگرچہ اتنا پانی خارج نہ ہواہو جتنااس میں ہے اگر کوئی آدمی وہ پانی اٹھائے جو خارج ہوچکا ہے اوراس سے وضو کرے تو جائز ہے۔اس کو شامی نے ذکر کیا ہے اس کے علاوہ دیگر اقوال اور مضطرب روایات بھی ذکر کی ہیں جن پر کلام آئے گا، واللہ تعالٰی  اعلم۔ (ت(

 (۳؎ ردالمحتار        باب المیاہ        مصطفی البابی مصر    ۱/۱۴۳)

سوال(۵۱) سوم :اسی صورت میں اگر پانی صرف حصہ زیریں دہ در دہ میں تھااور اس وقت نجاست پڑی کہ ناپاک نہ ہوا، پھر نجاست نکال کر یا بے نکالے بھر دیا تو اب اوپر کا حصّہ پاک رہا یا ناپاک ہوگیا بینّوا توجروا۔

الجواب :کتب حاضرہ سے اس صورت پر کلام اس(عہ۱) وقت ذہن میں نہیں ،

 (عہ۱) نعم تعرض لھا السادۃ الثلثۃ ناظرواالدر فقال ط انکان اعلاہ ضیقاواسفلہ عشرافاذابلغہاووقعت فیہ نجاسۃ حینئذ جاز التطھیر بہ فاذا امتلأ حتی بلغ المکان الضیق قال الحلبی لم اجد حکمہ والظاھر التنجس لان النجاسۃ تحقق وقوعھاوانماجوزنا التطھیر بہ لسعتہ وقد ذھبت اھ

ہاں تینوں سادات نے اس سے بحث کی ہے "ط" نے فرمایا اگر اس کا بالائی حصہ تنگ اور نچلا دس ہاتھ ہو جب پانی اسفل تک پہنچے اور اس میں نجاست گر پڑے تو اس سے طہارت جائز ہے اور جب وہ بھر جائے یہاں تک کہ تنگ جگہ کو پہنچ جائے تو حلبی کا بیان ہے کہ میں نے اس کا حکم نہیں پایا، بظاہر ناپاک ہوجائے گا،کیونکہ اس میں نجاست کا گرنایقینی ہے اور ہم نے اس کی فراخی کے باعث اس سے پاک کے جواز کا قول کیا ہے اور اس صورت میں فراخی ختم ہوگئی ہے اھ

اقول: وسیردعلیک ماحرر الفقیر بتوفیق القدیر ویظھر(۱)بہ ان ھذا الحکم غیر ظاھر بل ولامقبول فی راسبۃ مرئیۃ او غیرھا و لا فی طافیۃ مرئیۃ قداخرجت اوبقیت فی زاویۃ فی الاسفل ولا فی غیر مرئیۃ وفی الاسفل زوایافانما یقبل فی ثنتین من سبع ان تکون مرئیۃ وقد طفت اوغیر مرئیۃ ولا زاویۃ وذلک انہ انما یتحقق وصولھا الی الاعلی فی ھاتین فماذایضرہ ضیقہ ولم یصل الیہ النجس ولم یتصل بماء متنجس۔ھذاونقلہ ش ھکذا بقی مالو وقعت فیہ النجاسۃ ثم نقص فی المسألۃ الا ولی (ای اعلاہ کثیر) اوامتلأ فی الثانیۃ (ای اسفلہ کثیر)قال ح لم اجدحکمہ اھ ثم تعقبہ بقولہ ھذا عجیب فانہ حیث حکمنا بطہارتہ ولم یعرض لہ ماینجسہ ھل یتوھم نجاستہ نعم لوکانت النجاسۃ مرئیۃ وکانت باقیۃ فیہ اوامتلأ قبل جفاف اعلی الحوض تنجس امااذا کانت غیر مرئیۃ اومرئیۃ واخرجت منہ اوامتلأ بعد ماحکم بطہارۃ جوانب اعلاہ بالجفاف فلا اذلا مقتضی للنجاسۃ ھذا ماظھرلی اھ

میں کہتا ہوں اس سلسلہ میں جو میں نے لکھا ہے وہ آپ دیکھ لیں گے، اس سے معلوم ہوگا کہ یہ حکم نہ تو ظاہر ہے اور نہ مقبول ہے، خواہ وہ حوض کی گہرائی میں نظر آتی ہو یا نہ آتی ہو اور نہ تیرنے والی مرئی میں جو نکال دی ہو یا کسی گوشہ میں نچلے حصّہ میں باقی ہو اور نہ غیر مرئیہ کی صورت میں نچلے حصہ میں کئی زاویے ہوں سات میں سے دو صورتوں میں مقبول ہوگا اگر مرئیہ ہو،اور اوپر آگئی ہے یا غیر مرئیہ ہو، اور زاویہ میں نہ ہو،اور اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کا اُوپر کی طرف آنا اس وقت متحقق ہوگا جب کہ اِن دو صورتوں میں ہو، تو اُس کی تنگی اُس کیلئے کیا مضر ہوگی حالانکہ نہ اُس تک نجاست پہنچی اور نہ وہ نجس پانی سے متصل ہوئی۔ اور ''ش'' نے اس کو اسی طرح نقل کیا،اب یہ صورت باقی رہ گئی کہ اگر اس میں نجاست گر گئی پھر پہلی صورت میں پانی گھٹ گیا(یعنی اس کا اوپر والا کثیر ہو)یا دوسری صورت میں بھر گیا(یعنی اس کا نچلا حصہ کثیر ہوگیا) "ح" نے فرمایا کہ میں نے اس کا حکم نہیں پایا، پھر بعد میں فرمایا ''یہ عجیب ہے'' کیونکہ جب ہم نے اس کی طہارت کا حکم لگایااور اس میں کوئی ایسی چیز نہیں آئی جو اس کو نجس کرے تو آیا اس کی نجاست متوہم ہے، ہاں اگر نجاست مرئی ہو اور اس میں باقی ہو یا حوض کے بالائی حصے کے خشک ہونے سے قبل بھر جائے تو ناپاک ہوجائیگا، اور اگر نجاست غیر مرئی ہو یامرئی ہو اور اس سے نکالی جائے یا اس کے بالائی حصّے کے کناروں کے خشک ہونے کے بعد بھر گیا، تو نہیں کیونکہ نجاست کا کوئی مقتضی نہیں، یہ وہ ہے جو مجھ پر ظاہر ہوا۔

اقول: رحم اللّٰہ السید فاولا انما(۱)الکلام فیما اذاوقع النجس فی الکثیر ثم انتقص بتسفل اوامتلأ وحدیثاجفاف اعلی الحوض وعدمہ متعلقان بمااذا وقعت نجاسۃ فی الاعلی القلیل ثم بلغ الاسفل الکثیر ثم ملئ فبلغ القلیل فھمابمعزل عن المحل وثانیا لایتنجس بمرئیۃ(۲)باقیۃ راسبۃ ولا بطافیۃ تعلقت بزاویۃ وثالثا یتنجس بغیر(۳)المرئیۃ ایضالوطافیۃ ولازاویۃ ھذا۔ثم قول ح(۴) فی الاولی لم اجد حکمہ لایستقیم علی ماشرحنابہ نظم الدر لکونہ اذن مصرحابہ فیہ واللّٰہ تعالٰی اعلم ۱۲ منہ غفرلہ (م(
میں کہتا ہوں اللہ سید پر رحم کرے،اول تو یہ کہ کلام اُس صورت میں ہے جبکہ نجاست کثیر پانی میں واقع ہو،اور پھر پانی کم ہوجائے یا بھر جائے،اور حوض کے بالائی حصے کے خشک ہونے اور نہ ہونے کی بات اس صورت سے متعلق ہیں جبکہ نجاست اعلیٰ قلیل میں گر کر نچلے کثیر میں پہنچے پھر حوض بھر کر قلیل کو پہنچے تویہ دونوں صورتیں اس بحث سے الگ ہیں۔

اور دوسرا یہ کہ پانی کی تہ میں بیٹھی باقی نجاست مرئیہ سے نجس نہ ہوگا اور نہ ہی ایسی نجاست سے جو تیرتی ہوئی کسی گوشہ میں ٹھہر گئی ہو۔

تیسرا، غیر مرئیہ سے بھی نجس ہوجائیگا اگر تیرنے والی ہو اور کوئی گوشہ نہ ہو۔ پھر "ح" کا پہلی صورت میں یہ فرمانا کہ میں نے اس کا حکم نہیں پایا، درست نہیں، جیسے کہ ہم نے در کی نظم کی اس کے ساتھ تشریح کی ہے،کیونکہ یہ تو اس میں بصراحت مذکور ہے واللہ تعالٰی  اعلم۔ (ت(

وانا اقول وباللّٰہ التوفیق،
نجاست چار قسم ہے ،مرئیہ کہ نظر آئے اور غیر مرئیہ کہ پانی میں مل کر امتیاز نہ رہے جیسے پیشاب ،اور ہر ایک دو قسم ہے طافیہ کہ اوپر تیرتی رہے اور راسبہ کہ تہ نشین ہوجائے اگر نجاست راسبہ تھی کہ پانی بھرنے سے اوپر نہ آئے گی جب تو سارا حوض پاک ہے مرئیہ ہو یا غیر مرئیہ،نیچے کا حصّہ یوں کہ دہ در دہ ہے اثرِ نجاست قبول نہ کرے گا اگرچہ نجاست اُس میں موجود ہے اور اوپر کا حصّہ یوں کہ نجاست اُس میں نہیں اور جس سے متصل ہے وہ پاک ہے اور اگر نجاست طافیہ مرئیہ تھی اور اُسے پہلے نکال دیا جب بھی ظاہر ہے کہ ناپاکی کی کوئی وجہ نہیں اور اگر بے نکالے پانی بھر دیا کہ پانی ڈالے سے اوپر آگئی تو بالائی حصّہ ناپاک ہوگیا کہ نجاست اُس سے متصل ہوئی اور وہ آب قلیل ہے رہی طافیہ غیر مرئیہ اُس میں دو صورتیں ہیں ایک یہ کہ حوض کے حصہ زیریں میں کوئی کنج ایسانہ ہو جو اُس نجاست کو اوپر جانے سے رو کے مثلاً یہ شکل

       

دونوں حصوں میں خط ح ع فصل مشترک ہے ظاہر ہے کہ جو اُترانے والی چیز خط ح ع میں کہیں ہے وہ پانی بھرنے سے خط ا ب پر آجائے گی دوسرے یہ کہ ایسے کنج ہوں مثلاً یہ شکل

       

اول میں خط ہ ر دوم میں خط ح ہ پر جو ایسی چیز ہو وہ پانی بھرے سے خط ا ب تک ضرور پہنچے گی لیکن دوم میں خط ہء یا یکم میں دو خط ح ہ خط ر ع کے نیچے جو کچھ ہے وہ ا ب تک نہیں جاسکتا پہلی صورت میں بالائی حصہ ا ب ح ع ناپاک ہوجائے گااور دوسری صورت میں سارا حوض پاک رہے گا ولہٰذا ہم نے طافیہ مرئیہ میں پانی ڈالے سے اوپر آجانے کی قید لگائی کہ اگر کسی کنج میں اُلجھ رہی تو اب بھی کوئی حصہ ناپاک نہ ہوگا۔

والوجہ فیہ ان غیرالمرئیۃ لاتنعدم بل تکتتم وحیث ھی طافیۃ لابدلھامن العلم ولذامنع العراقیون من مشائخنا التوضی من موقع غیرالمرئیۃ فی العرض الکبیر لانہ راکد فلا تنتقل وجوز ائمۃ بلخ وبخاری وماوراء النھرالتوضی منہ من این یشاء و ھو الصحیح وعللوہ بانتقال المائع قال ملک العلماء فی البدائع وانکانت غیرمرئیۃ قال مشائخ العراق لایتوضؤ من ذلک الجانب لما ذکرنا فی المرئیۃ (وھو قولہ لانا تیقنابالنجاسۃ فی ذلک الجانب) بخلاف الماء الجاری لانہ ینقل النجاسۃ فلم یستیقن بالنجاسۃ فی موضع الوضوء ومشائخنابماوراء النھر فصلوابینھما(ای بین المرئیۃ وغیرھا) ففی غیر المرئیۃ یتوضؤ من ای جانب کان کماقالوا جمیعا فی الماء الجاری وھو الاصح لان غیرالمرئیۃ لایستقر فی مکان واحد بل ینتقل لکونہ مائعا سیالا بطبعہ فلم نستیقن بالنجاسۃ فی الجانب الذی یتوضؤ منہ فلانحکم بنجاسۃ بالشک ۱؎ اھ

اور اس کی وجہ یہ ہے کہ غیر مرئیہ ختم نہیں ہوتی ہے بلکہ چھپ جاتی ہے،اور جب تیر رہی ہوتی ہے تو اس کااُوپر آنا لازمی ہے، اس لئے ہمارے عراقی مشائخ بڑے حوض میں گرجانے والی غیر مرئی نجاست کے مقام سے وضو کو جائز قرار نہیں دیتے کیونکہ وہ ٹھہری ہوتی ہے تو منتقل نہ ہوگی اوربلخ،بخاری اورماوراء النہر کے مشائخ نے اجازت دی کہ جہاں سے جی چاہے وضو کرلے اور یہی صحیح ہے،اور اس کی وجہ انہوں نے یہ بیان کی ہے کہ بہنے والی چیز منتقل ہوتی ہے،ملک العلماء نے بدائع میں فرمایاکہ اگر نجاست غیر مرئیہ ہو تو مشائخ عراق کا قول ہے کہ اُس جانب سے وضو نہ کرے جیساکہ ہم نے مرئیہ میں ذکر کیا ہے (اس سے مرادان کا یہ قول ہے کہ ہم نے اُس جانب میں نجاست کایقین کرلیا ہے) بخلاف جاری پانی کے کیونکہ وہ نجاست کو منتقل کرتاہے تو مقامِ وضو میں نجاست کا یقین نہیں اور ہمارے ماوراء النہر کے مشائخ نے دونوں میں تفصیل کی ہے (یعنی مرئیہ اورغیر مرئیہ میں) اورغیر مرئیہ میں جس جانب سے چاہے وضو کرے جیساکہ جاری پانی میں سب کا اتفاق ہے اور یہی زیادہ صحیح ہے کہ کیونکہ غیر مرئیہ کسی ایک جگہ میں نہیں ٹھہرتی بلکہ منتقل ہوجاتی ہے کیونکہ وہ طبعی طور بہنے والی ہے اس لئے وضوء والی جانب میں نجاست کایقین نہ ہوا،پس شک کی وجہ سے ہم نجاست کا حکم نہیں دیں گے اھ

 (۱؎ بدائع الصنائع    فصل فی المقدار الخ    ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۱/۷۳)

وفی الحلیۃ قال مشائخ بلخ وبخاری یتوضؤ من ای جانب کان وفی محیط رضی الدین والتحفۃ والبدائع وغیرھاھوالاصح لان غیر المرئیۃ ینتقل لکونہ مائعا سیالا ۲؎۔

اورحلیہ میں ہے کہ بلخ اور بخارٰی کے مشائخ نے فرمایاہے کہ جس جانب سے چاہے وضو کرلے اور رضی الدین کی محیط، تحفہ اور بدائع وغیرہ میں ہے کہ وہی اصح ہے کیونکہ غیر مرئیہ منتقل ہوجاتی ہے کیونکہ وہ سیال مائع ہے۔ (ت(

 (۲؎ حلیۃ)

اقول: احسن فی ترک بطبعہ وھوفی کلام البدائع متعلق بسیالالاینتقل لان طبع المائع الانحدارالی صبب لاالانتقال فی سطح مستوبلا سبب نعم الریاح لاتزال تزعزع المیاہ ومن ضرورتہ انتقال المائع المختلط بہ ولیس لہ جھۃ معینۃ لاختلاف الریاح فتطرق الاحتمال الی جمیع المحال اذاعرفت ھذا ففی الصورۃ الاولی حیث لاحاجزلھا عن العلو تطفووتنجس الاعلی علی قول الجمیع بل لولم تطف لنجست لاتصالھا بالماء الا علیٰ ولو من تحت امافی الثانیۃ فعلی قول العراقین ان کانت وقعت فی الماء السافل فی محاذاۃ خط ا ب تنجس الاعلی لعدم انتقالھامن ثم وان وقعت فی حجاب عنہ مثل خط رء وہء لم تنجس لانھالاتصل الی الماء العالی وعلی قول سائرالائمۃ الاصح لاتنجس مطلقاوان کانت وقعت حذاء ا ب لاحتمال انتقالھاالی احدی الزوایاولایزول الیقین بالشک ھذا ماظھر لی واللّٰہ تعالٰی اعلم۔

میں کہتا ہوں انہوں نے بطبعہ کو چھوڑ کر اچھا کیا، اور یہ بدائع میں ''سیالا لاینتقل''سے متعلق ہے کیونکہ بہنے والی چیز کی خاصیت نیچے کی طرف آناہے وہ مستوی سطح کی طرف بلا سبب نہیں جاتا ہے، ہاں ہوائیں مسلسل پانی میں لہر پیدا کرتی رہتی ہیں، جس کا لازمی نتیجہ یہ ہوتاہے کہ بہنے والی چیز جو اس میں شامل ہوجائے منتقل ہوجاتی ہے اور اس کی کوئی ایک جہت متعین نہیں کیونکہ ہوائیں مختلف رخ سے چلتی ہیں، تو ہر جگہ میں احتمال پیدا ہوجائے گا،جب تم نے یہ جان لیا تو پہلی صورت میں جہاں اوپر جانے سے کوئی مانع نہ ہو نجاست تیر کر اوپر آجائے گی اور تمام علماء کے مطابق اوپر والا حصہ ناپاک ہوجائے گا، بلکہ اگر نجاست تیر کر نہ بھی جائے تو بھی ناپاک ہوگا کیونکہ وہ اوپر والے پانی کے ساتھ متصل ہوجائے گی خواہ نیچے سے ہو اوردوسری صورت میں تو بقول عراقی مشائخ کے اگر نجاست نچلے پانی میں اب خط کے مقابل گری ہے تو اوپر والا نجس ہوجائیگا،کیونکہ وہ وہاں سے منتقل نہیں ہوئی ہے اور اگر وہ اس کے حجاب میں گری ہے جیسے ر ء اور ہ ء کا خط تو پانی نجس نہیں ہوگا کیونکہ وہ اوپر والے پانی تک نہ پہنچے گی اور باقی ائمہ کے قول کے مطابق اصح یہ ہے کہ مطلقا ناپاک نہ ہوگا اگرچہ نجاست ا ب کے مقابل گری ہو کیونکہ احتمال ہے کہ وہ کسی ایک زاویے کی طرف منتقل ہوگئی ہو اور یقین شک سے زائل نہیں ہوتا ہے ھذا ماظھرلی واللہ تعالٰی اعلم۔ (ت(

سوال(۵۲) چہارم

حوض اوپر دہ دردہ اورنیچے کم ہے بھرے ہُوئے میں نجاست پڑی تو سب پاک رہا یانیچے کا حصّہ ناپاک ہوگیا جہاں سے مساحت سو ہاتھ سے کم ہے۔ بینوا توجروا۔

الجوابکلام علامہ سید طحطاوی سے ظاہر یہ ہے کہ حصّہ زیریں ناپاک ہوجائیگا۔

حیث قال واذا وقعت فیہ نجاسۃ فی تلک الحالۃ فالا علی طاھر الی ان یبلغ الا قل فینجس ۱؎ اھ وحملہ علی انہ ینجس بنجاسۃ اخری خلاف ظاھر سوق الکلام۔

جہاں فرمایا کہ ''اور جب اس میں نجاست گر جائے اس حالت میں تو بالائی حصہ پاک ہے یہاں تک کہ اقل کو پہنچے تو وہ ناپاک ہوگا اھ" اور اس کو اس پر محمول کرنا کہ وہ دوسری نجاست کے ساتھ نجس ہوجائیگا سیاق کلام کے ظاہر کے خلاف ہے۔ (ت(

 (۱؎ طحطاوی علی الدرالمختار    باب المیاہ    بیروت    ۱/۱۰۸)

اقول: وکذا ھو ظاہر الدران قدر وقوع النجس بقرینۃ قرینہ فان نظمہ لواعلاہ عشرا واسفلہ اقل جاز حتی یبلغ الا قل ولو بعکسہ فوقع فیہ نجس لم یجز حتی یبلغ العشر ۱؎ اھ

میں کہتا ہوں اور اسی طرح وہ دُر کا ظاہر ہے اگر نجس گرنا مقدر کیا جائے اور اس پر قرینہ اس کا متصل کلام ہے، کیونکہ ان کی عبارت اس طرح ہے، اور اگر اس کا بالائی حصہ دس ہاتھ ہے اور نچلا حصہ کم ہے تو وضو جائز ہے یہاں تک کہ وہ اقل کو پہنچے اور اگر اس کا عکس ہو اور اس میں نجاست گر جائے تو جائز نہ ہوگا یہاں تک کہ دس ہاتھ کو پہنچے اھ

 (۱؎ الدرالمختار        باب المیاہ    مجتبائی دہلی        ۱/۳۶)

 فان ضمیرجاز الی رفع الحدث بہ ومعلوم ضرورۃ من الدین ان رفع الحدث جائز بکل ماء مطلق مطلقا ولو قلیلامالم ینسلب طہارتہاوطھوریتہ فکان المعنی کقرینہ لواعلاہ عشرا واسفلہ اقل فوقع فیہ نجس جازالتطہربہ حتی یبلغ الاقل فاذا بلغہ لم یجزفقد غیاجواز التطھربہ ببلوغہ الاقل فبنفس البلوغ لایجوز لظھور حکم النجس الذی لم یتحملہ الا علی لکثرتہ وحملہ علی التقیید بوقوع النجاسۃ بعد بلوغ الاقل کما فعل ش حیث قال ای اذا بلغ الاقل فوقعت فیہ نجاسۃ تنجس کما فی المنیۃ ۲؎ اھ

کیونکہ جاز کی ضمیر ''رفع الحدث بہ'' کی طرف لوٹتی ہے اور یہ چیز دین کے ضروریات سے ہے کہ رفعِ حدث ہر مطلق پانی سے جائز ہے خواہ کم ہی ہو تاوقتیکہ اس کی طہارت یا طہوریت سلب نہ ہوئی تو معنی اس کے قرین کی طرح یہ ہوئے کہ اگر اس کا بالائی حصہ دس ہاتھ ہو اور اس کا نچلا حصہ کم ہو اور اس میں نجس واقع ہوجائے تو اس سے پاکی حاصل کرناجائز ہے یہاں تک کہ اقل کو پہنچ جائے، اور جب اقل کو پہنچے تو جائز نہیں اس کے ساتھ طہارت کے جوازکی غایت اقل کو پہنچنا بیان فرمائی تو نفس بلوغ سے جائز نہ ہوگاکیونکہ اس نجس کا حکم ظاہر ہے جس سے بالائی بالائی حصہ متاثر نہ ہوا کیونکہ وہ کثیر ہے اور اس کو اقل کو پہنچنے کے بعد نجاست کے واقع ہونے سے مقید کرنا جیساکہ "ش" نے کیا انہوں نے فرمایا ''یعنی جب اقل کو پہنچے اور اس میں نجاست گر جائے تو ناپاک ہوجائیگا جیسا کہ منیہ میں ہے اھ (ت(

 (۲؎ ردالمحتار          باب المیاہ    مصطفی البابی مصر    ۱/۱۴۲)

فاقول خروج(۱) عن الظاھر واخراج(۲) للکلام (عہ۱) الی قریب من العبث والاستناد(۳) الی المنیۃ فی غیرمحلہ فان عبارتھالو ان ماء الحوض کان عشرا فی عشر فتسفل فصار سبعافی سبع فوقعت النجاسۃ فیہ تنجس فان امتلاء صار نجسا ایضا۱؎ اھ فھو لم یذکر للاعلی حکما انما قصد بیان حکم المتسفل فاحتاج فی التصویر الی وقوع النجس فیہ لیکون توطئۃ لابانۃ حکم خفی وھو انہ بعد امتلائہ ایضا یبقی نجساکماکان بخلاف نظم الدر فانہ افرز الا علی بحکم الجواز ولا معنی لہ الا بفرض وقوع المانع والا فذکرہ عبث ثم حد لجوازہ حدا ینتھی دونہ وھو بلوغ الاقل فافاد ماقلنا واین ھذا من عبارۃ المنیۃ،

میں کہتا ہوں یہ ظاہر سے خروج ہے، اور کلام کو تقریباً لغو قرار دینا ہے اور اس کو مُنیہ کی طرف منسوب کرنا بے محل ہے کیونکہ منیہ کی عبارت یہ ہے کہ اگر حوض کا پانی دہ در دہ ہو اور پھر نیچے چلا جائے اور سات در سات ہوجائے پھر اس میں نجاست گرجائے تو ناپاک ہوجائیگا اوراگر بھر جائے تو بھی نجس ہوجائیگا تو انہوں نے بالائی کا کوئی حکم بیان نہیں کیا ان کا مقصود تو محض یہ تھاکہ وہ نچلے کا حکم بیان کریں تو اس کی وضاحت میں ان کو یہ کہنا پڑاکہ اس میں نجاست گر جائے،تاکہ یہ ایک مخفی حکم کے اظہار کی بنیاد بن جائے اور وہ یہ کہ یہ بھر جانے کے باوجود نجس ہی رہے گاجیساکہ پہلے تھا، اور در کی نظم اس کے خلاف ہے کیونکہ انہوں نے بالائی پرجوازکا حکم لگایا اور اس کا  کوئی مفہوم نہیں، ہاں مانع کے وقوع کو فرض کرنے کی صورت میں ہوسکتا ہے، ورنہ تو اس کا ذکر عبث ہے، پھر انہوں نے اس کے جواز کی ایک حد مقرر کی جس سے پہلے وہ منتہی ہوتا ہے اور وہ اقل تک پہنچنا ہے تو جو ہم نے کہا اس کا انہوں نے افاد ہ کیا، اور اس کو منیہ کی عبارت سے کیا تعلق ہے؟

 (عہ ۱)فی الحلیۃ عند قول المنیۃ اذا سدالماء من فوقہ وبقی جریہ یجوز التوضی بہ مانصہ کان علی المصنف ان یذکرفیہ (ای مکان بہ)  لان من الواضح جدا جواز الوضوء بہ جاریا کان اوغیرجار خارجہ فلا یقع التقیید ببقاء جریان الماء موقعا ثم ھم اعلی کعبامن ذکر مثلہ اھ ۱۲ منہ غفرلہ۔ (م(
منیہ کے اس قول ''جب اوپر سے پانی بند ہوجائے اور پانی جاری ہو تو وضوء جائز ہے'' پر حلیہ نے کہا کہ مصنف کو"بہ" کی جگہ "فیہ" کہنا چاہئے تھا کیونکہ اس سے وضوء کا جواز بہت واضح ہے خواہ پانی جاری ہو یا نہ ہو لہٰذا پانی کے جاری رہنے کی قید لگانا بے موقع ہوگا حالانکہ ان حضرات کا مقام ایسے کلام سے بلند وبالا ہے اھ (ت(

 (۱؎ منیۃ المصلی    فصل فی الحیاض    مکتبہ قادریہ جامعہ نظامیہ رضویہ لاہور    ص۷۲)

وکلام الدرمن اولہ الی ھنا فی رفع الحدث بہ لافیہ ولوکان لصح حملا لہ علی معنی التوضی بغمس الاعضاء فیہ بناء علی ماھو الحق من فرق الملاقی والملقی وان کان میل صاحب الدر الی خلافہ فاذن کان یؤل الی کلام البزازیۃ لوعشرا فی عشر ثم قل توضأ بہ لافیہ لاعتبار اوان الوقوع ۱؎ اھ لکن لامساغ لہ فی کلامہ ولذا احتاج ش الی اضافۃ قید لیس فیہ فترجح ماقلنا۔

اور دُر کاکلام ابتداء سے یہاں تک اس کے ساتھ حدث کے رفع کرنے کی بابت ہے نہ کہ اُس میں، اور اگر ایسا ہوتا تو صحیح ہوتا اور اس کو اس پر محمول کیا جاتاکہ اس میں اعضاء کو ڈبو کر وضو کرنا جیسا کہ حق ہے کہ ملقی اور ملاقی میں فرق ہے اگرچہ صاحبِ در کا میلان اس کے خلاف ہے، ایسی صورت میں بزازیہ کے کلام کی طرف لوٹا جائیگا اگر دہ در دہ ہو پھر کم ہوگیا ہو تو اسکے ساتھ وضو کرے نہ کہ اس میں کیونکہ وقوع کے زمانے کا اعتبار ہے اھ مگر اس کی ان کے کلام میں گنجائش نہیں، اور اس لئے ''ش'' نے لیس فیہ کا اضافہ کیا، تو جو ہم نے کہا وہ راجح ہے۔ (ت(

 (۱؎ فتاوٰی  بزازیۃ علی حاشیۃ الہندیۃ    نورانی کتب خانہ پشاور    ۴/۵)

اور کلام علامہ سید شامی سے مفہوم کہ سب پاک رہے گا۔
حیث قال فی المسألۃ الاخری وھی مااذا کان اعلاہ قلیلا واسفلہ کثیرا فوقع فیہ نجس لم یجز حتی یبلغ العشر فاذا بلغھا جاز مانصہ وکانھم لم یعتبرواحالۃ الوقوع ھھنا لان مافی الاسفل فی حکم حوض اٰخر بسبب کثرتہ مساحۃ وانہ لو وقعت فیہ النجاسۃ ابتداء لم تضرہ بخلاف المسألۃ الاولی تدبر ۲؎ اھ ففرق بین المسألتین ان نجاسۃ الاعلی القلیل لاتشمل الجزئین وطھارۃ الا علی الکثیر تشملھما۔

جبکہ فرمایا دوسرے مسئلہ میں اور وہ یہ ہے کہ جب کہ اس کا بالائی حصہ کم ہو اور نچلا زائد ہو اور اس میں نجاست گر جائے تو جائز نہیں یہاں تک کہ دہ در دہ کو پہنچے تو جب اس مقدار کو پہنچے تو جائز ہے،اور ان کی عبارت یہ ہے اور گویا ان حضرات نے یہاں وقوع کی حالت کا اعتبار نہیں کیا،کیونکہ جو نچلے حصہ میں ہے وہ الگ حوض کے حکم میں ہے کیونکہ وہ پیمائش کے اعتبار سے کثیر ہے، اوریہ کہ اگر اس میں ابتداءً نجاست گرتی تو مضر نہ ہوتی بخلاف پہلے مسئلہ کے تدبر اھ تو دونوں مسئلوں میں فرق ہے کہ اوپر والے کی نجاست جو قلیل ہے دونوں جزؤں پر مشتمل نہیں اور اعلیٰ کثیر کی طہارت دونوں کو شامل ہے۔ (ت(

 (۲؎ ردالمحتار        باب المیاہ    مصطفی البابی مصر    ۱/۱۴۳)

اقول اولا(۱) اعتبار حالۃ الوقوع مذکور فی البدائع والتبیین والخانیۃ والخلاصۃ والبزازیۃ والحلیۃ والغنیۃ والبحر وغیرھامن دون ثنیا ولاحاجۃ الی استثناء ھذہ فان الاسفل لم یزل کثیرا فقد اعتبرت حالۃ الوقوع الا ان یقال ان الماء کان واحدا ظاھرا و وجہہ حین الوقوع قلیلا وبہ العبرۃ فکان ینبغی التنجس باعتبارہ لکن لم ینجسوہ نظرا الی ان وجہہ یصیر کثیرا حین بلوغ الماء الی الاسفل ،

میں کہتا ہوں اولاً حالتِ وقوع کا اعتباربدائع، تبیین، خانیہ، خلاصہ، بزازیہ، حلیہ، غنیہ اور بحر وغیرہ میں بلا استثناء مذکور ہے اور اس میں استثناء کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ نچلا تو کثیر تھا تو حالتِ وقوع کا اعتبار کیاگیا، ہاں اگر یہ کہا جائے کہ پانی بظاہر ایک تھا، اور اس کی سطح وقوع کے وقت کم تھی اور اسی کا اعتبار ہے تو مناسب یہی تھا کہ اسی کے اعتبار سے ناپاک ہو، لیکن علماء نے اس کو نجس قرار نہیں دیا،یہ سمجھتے ہوئے کہ اس کی سطح کثیر ہوجائے گی جبکہ پانی نچلے حصّہ کو پہنچے گا۔

وثانیا لقائل(۱) ان یقول لم لایقال فی تلک اعنی مسألتنا ھذہ ان مافی الاسفل فی حکم حوض اخر بسبب قلتہ مساحۃ وانہ لووقعت فیہ النجاسۃ ابتداء لضرتہ وقد یمکن الجواب بان الکثیر یستتبع القلیل فیعد الاسفل القلیل عمقاللا علی الکثیر ومعلوم ان الوجہ ان کان کثیرا لم یتنجس شیئ من الماء لاوجہہ ولا عمقہ ولا یشترط مع ذلک کثرۃ العمق الا تری لوکان الحوض علی ھذا الشکل

       

نصف دائرۃ وکان اب منہ کثیرا لایتنجس شیئ منہ وان کان مادونہ قلیلا حتی لایبقی علی ح الا نقطۃ بخلاف العکس فان القلیل لایستتبع الکثیر فیعد حوضا برأسہ۔

اور ثانیاًکوئی کہنا والا کہہ سکتا ہے کہ اس مسئلہ میں یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ نچلا حصّہ ایک مستقل حوض کے حکم میں ہے کیونکہ اس کی پیمائش کم ہے اور یہ کہ اگر اس میں ابتداء کوئی نجاست گرجاتی تو ناپاک ہوجاتا اور اس کے جواب میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ کثیر قلیل کو اپنا تابع بنا لیتاہے تو یہ سمجھاجائے گاکہ نچلا کم حصہ گویا اوپر کے کثیر حصہ کیلئے عُمق ہے، اور یہ معلوم ہے کہ اگر پانی کی سطح زائد ہوتی تو پانی قطعاً ناپاک نہ ہوتا نہ اُس کی سطح اور نہ اُس کی گہرائی،اور اس کے باوجود گہرائی کی کثرت شرط نہیں ہے،مثلاً یہ کہ اگر حوض کی شکل یہ شکل بنائیے

       

ہو یعنی آدھے دائرہ کی شکل اورا ب اس میں کثیر ہے اس میں کچھ ناپاک نہ ہوگا اگرچہ اس سے کم قلیل ہے اور ح پر صرف ایک نقطہ رہے گا،بخلاف عکس کے کیونکہ قلیل کثیر کو تابع نہیں بنا سکتا ہے تو یہ مستقل حوض شمار ہوگا۔ (ت(
یہ غایت عہ۱ توجیہ ہے۔

عہ۱ : وسیأتی الجواب عنہ ۱۲ منہ غفرلہ (م( _
جعنقریب ان کی طرف سے اس کا جواب ذکر کیا جائے گا۔ (ت(

واقول وباللّٰہ التوفیق نجاست اگر طافیہ ہے کہ حصہ زیریں تک پہنچی ہی نہیں جب تو ظاہر ہے کہ اس کی نجاست کی کوئی وجہ نہیں کہ اُس کا اتصال آب بالا سے ہے اور وہ بوجہ کثرت نجس نہ ہوا اور اگر راسبہ ہے کہ اسفل تک پہنچی خواہ مطلقاً جسے پتھر یا ابتداءً جیسے غرق شدہ جانور کہ تہ نشین ہو کر مرتا پھر اُتراتا ہے یا انتہاءً جیسے وہ کپڑا کہ تیرتا رہے گا پھر پانی سے بوجھل ہو کر بیٹھ جائیگا تو اب دو صورتیں ہیں اُن کا بیان(۱) یہ کہ پانی کیلئے بلحاظ محل مثل حوض وغیرہ ایک توصفت ہے یعنی کثرت وقلّت کہ مساحت محل کے سو ہاتھ یا کم ہونے سے حاصل ہوتی ہے دوسری صورت کہ جس فضا میں متمکن ہے اُس کی شکل سے پیدا ہوتی ہے یہ شکل کبھی واحد ہوتی ہے اگرچہ اس میں حصّے فرض کرسکتے ہیں اگرچہ اُن حصص مفروضہ کا مساحت میں تفاوت اُن کے لئے منشاء انتزاع ہو جیسے اسی شکل نصف دائرہ میں کہ مثلاً خط ء ہ تک کثیر

       

نیچے قلیل ہو تو دو حصّے ممتاز ہوجائیں گے ا ب ء ہ کثیر اور ء ہ ح قلیل مگر حقیقۃً ا ب ح فضائے واحد ہے اور کبھی شکل خود ہی واقع میں متعدد ہوتی ہے جیسے حوض کے اندر حوض مثلاً

       

 کہ حصہ بالا ا ء اور زیریں ہ ط خود ہی ممتاز ہیں اس لحاظ سے حصص زیرو بالاکی چار قسمیں ہوگئیں ایک یہ کہ دونوں حصّے صورۃً وصفۃً ہر طرح متحد ہوں جیسے دو گز گہرے مربع میں ایک گز اوپر ایک گز نیچے،دوم صورۃً متحد ہوں اور صفۃً مختلف جیسے وہی نصف دائرہ کی شکل کہ فضا واحد ہے اور ا ہ کثیر اور ء ہ ح قلیل، سوم صفۃً متحد ہوں اور صورۃمختلف جیسے اسی شکل ا ط میں جبکہ ہ ر بھی سو ہاتھ سے کم نہ ہو یا ا ب بھی دہ دردہ سے کم ۔چہارم صورۃً وصفۃً ہر طرح جدا ہوں جیسے یہی شکل جبکہ ا ب سو ہاتھ اور ہ ر کم ہو۔
قسم اول کا حکم تو ظاہر کہ وہ زیر وبالا شیئ واحد ہے اگر نجس ہوگاسب نجس ہوگاپاک رہے گا سب پاک رہے گا۔
یونہی قسم دوم کہ بلاشبہ وہ محلِ واحد ہے اگرچہ حصص انتزاعیہ کی مساحت مختلف ہے۔
یونہی سوم کہ اگرچہ دوشے ہے مگر دونوں متحد الصفۃ ہیں اگر کثیرہیں تو زیریں بھی ناپاک نہ ہوگااگرچہ نجاست راسبہ ہو اور قلیل ہیں تو یہ بھی نجس ہوجائیگااگرچہ نجاست طافیہ ہو کہ نجس سے اتصال نہ ہوا تو متنجس سے ہواکہ حصہ بالا ناپاک ہوگیا۔
شکل چہارم وہی محل نظر ہے جبکہ نجاست راسبہ اس تک پہنچی اور نظر حاضر میں ظاہریہی ہے کہ ناپاک ہوجائے کلام ائمہ سے معہود یہی ہے کہ جب صورت وصفت دونوں مختلف ہوں توان کودو محل جداگانہ ٹھہراتے ہیں اور فقط اتصال قلیل بہ کثیر کو کافی نہیں جانتے۔
نہر کے کنارے کنارے (۲)پانی لینے کیلئے تختہ بندی کرتے ہیں کہ اُن پر بیٹھ کر پانی لیں وضو کریں اس سے خانے خانے ہوجاتے ہیں ہر خانہ مشرعہ کہلاتا ہے۔اس صورت پر

       

پانی اگر تختوں سے نیچاہے جب تو محل کلام نہیں کہ تختوں سے پانی کا انقسام نہ ہوا لیکن اگر پانی تختوں سے ملا ہوا ہے تو ہر خانہ آب جداگانہ سمجھاجائیگا اوراگر اُن کا طول وعرض دس دس ہاتھ نہیں تو جن کے نزدیک دونوں امتدادہونا شرط ہے اس میں نجاست پڑے تو جتنا پانی تختوں سے گھراہواہے ناپاک ہوجائیگا اور نہر کے پاک پانی سے اس کا متصل ہونا نفع نہ دے گا۔

یوں ہی(۱) اگر نہر یا بڑے تالاب کا پانی برف سے جم گیا اور ایک جگہ سے برف توڑ کر پانی کھول لیا اگر بہتا پانی اُس جمے ہوئے سے متصل نہیں تو ظاہر کہ پانی شیئ واحدرہااوراگر متصل ہے اور یہ حصہ کہ کھولاگیا دس دس ہاتھ طول وعرض میں نہیں تویہ ان کے نزدیک نجاست سے ناپاک ہوجائیگااور اُس میں اعضاء ڈال کر وضو کرنے سے مستعمل ہوجائیگا اور بہتے پانی سے اُس کا اتصال فائدہ نہ دے گاہاں(۲) باقی پانی بحال خود رہے گامثلاً ایک مشرعہ میں نجاست پڑی یاکسی نے اعضاء بے وضو ڈال کر دھوئے تو صرف وہی مشرعہ ناپاک یامستعمل ہوابرابر کے دوسرے مشرعہ سے پیناوضو کرنا ہوسکتاہے کہ وہ تو ہر ایک اُن کے نزدیک حوض جُداہے یونہی برف سے ایک جگہ کھلاہواپانی نجس یا مستعمل ہوجائے تو اُس کے برابر دوسری جگہ سے کھول کر استعمال کرسکتا ہے یونہی اگر(۳)حوض کبیر سے کاٹ کر ایک حوض صغیر بنایا کہ اُس میں سے پانی اس میں آیایہ نجاست یااعضائے بے وضو ڈالنے سے اُن کے نزدیک نجس ومستعمل ہوجائیگا اور بڑے حوض سے پانی ملا ہونا کام نہ دے گایہ گویا بعینہ وہی صورت چہارم ہے فرق صرف اتنا ہے کہ صو ر ت مبحوثہ میں وہ حوض صغیر حوض کبیر کے نیچے ہے اور اس صورت میں اس کے برابر،پانی بہرحال ملا ہوا ہے، تو جس طرح صفت وصورت دونوں مختلف ہونے کے باعث اُن کے نزدیک برابر کا حوض صغیر حوض کبیر کا جُز نہ ٹھہرابلکہ مستقل قرار پایا۔یونہی نیچے کا۔ان مسائل پر نصوص کتبِ مذہب میں دائر وسائر ہیں اگرچہ فقیر کے نزدیک ان کی بنا اشتراط امتدادین طول وعرض پر ہے اور صحیح ومعتمد اعتبار محض مساحت ہے یہ خلافیہ جداگانہ ہے یہاں غرض اس قدر کہ بحال خلاف صورت وصفت معاً قلیل کو تابع کثیر نہ مانا فتاوٰی  امام اجل قاضیخان میں ہے:

حوض کبیر فیہ مشرعۃ توضأ انسان فی المشرعۃ اواغتسل ان کان الماء متصلا بالالواح بمنزلۃ التابوت لایجوز فیہ الوضوء و اتصال ماء المشرعۃ بالماء الخارج منھالاینفع کحوض کبیر تشعب منہ حوض صغیر فتوضأ انسان فی الحوض الصغیر لا یجوز وان کان ماء الحوض الصغیر متصلا بماء الحوض الکبیر کذا لایعتبر اتصال ماء المشرعۃ بما تحتہا من الماء اذا کانت الالواح مشدودۃ ۱؎۔

ایک بڑا حوض ہے جس میں سے ایک نالی نکلتی ہے اس میں کسی شخص نے وضو یا غسل کیا تو پانی اگر تختوں سے متصل ہے بمنزلہ تابوت کے تو اس میں وضو جائز نہیں اور نالی کے پانی کا خارجی پانی سے متصل ہونا نافع نہ ہوگا جیسے بڑا حوض جس سے چھوٹا حوض نکالا گیا ہو پھر چھوٹے حوض سے کسی انسان نے وضو کیا تو یہ جائز نہیں اگرچہ چھوٹے حوض کا پانی بڑے حوض سے متصل ہو،اسی طرح نالی کے پانی کانچلے پانی سے متصل ہونا معتبر نہیں جبکہ تختے بندھے ہوئے ہوں۔ (ت(

 (۱؎ فتاوٰی  قاضی خان     فصل فے الماء الراکد     نولکشور لکھنؤ        ۱/۴)

فتح القدیر میں ہے:لوجمدحوض کبیر فنقب فیہ انسان نقبافتوضأ فیہ ان کان الماء متصلا بباطن النقب لایجوز والاجاز و کذا الحوض الکبیر اذا کان لہ مشارع فتوضأ فی مشرعۃ اواغتسل والماء متصل بالواح المشرعۃ ولا یضطرب لایجوز وان کان اسفل منھا جازلانہ فی الاول کالحوض الصغیر فیغترف ویتوضؤ منہ لافیہ وفی الثانی حوض کبیر مسقف ۲؎۔

اگر بڑا حوض منجمد ہوجائے اور اس میں کوئی شخص سوراخ کردے اور اس میں وضو کرے تو اگر پانی سوراخ کے اندرونی حصے سے متصل ہو تو جائز نہیں ورنہ جائز ہے اور اسی طرح بڑے حوض میں جب نالیاں ہوں اور وہ کسی ایک نالی سے وضو کرے یا غسل کرے حالانکہ پانی تختوں سے متصل ہو اور اس میں حرکت وارتعاش پیدا نہ ہو تو جائز نہیں اور اگر تختوں سے نیچے ہو تو جائز ہے کیونکہ وہ پہلی صورت میں چھوٹے حوض کی طرح ہے تو چُلُّو بھر کر اس سے وضو کرے نہ کہ اس میں،اور دوسری صورت میں بڑا حوض چھت والا ہے۔ (ت(

 (۲؎ فتح القدیر        بحث الغدیر العظیم    نوریہ رضویہ سکھر    ۱/۷۱)

درمختار میں ہے:جمد ماؤہ فنقب ان الماء منفصلا عن الجمد جازلانہ کالمسقف وان متصلا لالانہ کالقصعۃ حتی لو ولغ فیہ کلب تنجس ۳؎۔

اگر اس کا پانی جم جائے اور کوئی اس میں سوراخ کیا تو اگر پانی برف سے جدا ہو تو جائز ہے کیونکہ وہ چھت والے حوض کی طرح ہے اور اگر پانی متصل ہو توجائز نہیں کیونکہ وہ بڑے پیالہ کی طرح ہوگا کہ اگر اس میں کُتّا منہ ڈال دے تو ناپاک ہوجائیگا۔ (ت(

 (۳؎ الدرالمختار        باب المیاہ         مجتبائی دہلی        ۱/۳۶)

ردالمحتار میں ہے:ای موضع الثقب دون المتسفل فلوثقب فی موضع اخر واخذ الماء منہ وتوضأ جازکما فی التاترخانیۃ ۱؎۔ یعنی سوراخ کی جگہ نہ کہ نچلا حصّہ تو اگر کسی اور جگہ سوراخ کیا اور اُس سے پانی لیا اور وضو کیا تو جائز ہے جیسا کہ تتار خانیہ میں ہے۔ (ت)

 (۱؎ ردالمحتار        باب المیاہ        مصطفی البابی مصر    ۱/۱۴۳)

غنیہ کی عبارت مذکورہ مسئلہ اولیٰ نے اسی معنی کی طرف اشارہ فرمایا جو فقیر کے بیان میں آیا، حیث قال اذاکان الماء تحت الجمد منفصلا عنہ یجوز لانہ عشر فی عشر ولم تنفصل بقعۃ منہ عن سائرہ کما فی الصورۃ الاولی ۲؎۔ وہ فرماتے ہیں کہ جب پانی برف کے نیچے ہو اور اس سے جدا ہو تو جائز  ہے اس لئے کہ وہ دہ در دہ ہے اور اس کا کوئی بقعہ دوسرے سے الگ نہیں جیسا کہ پہلی صورت میں ہے۔ (ت)

 (۲؎ غنیۃ المستملی شرح منیۃ المصلی فی الحیاض    سہیل اکیڈمی لاہور    ص۱۰۰)

ہاں (۱) تالابوں نہروں میں چھوٹے چھوٹے کنج گوشے جابجا ہوتے ہیں اُن میں ہر ایک کو مستقل ماننے میں حرج اور خلاف متفاہم عرف ہے لہٰذا اُس کی تقدیر ڈھائی ہاتھ چوڑے سے کی ہے کہ دس ہاتھ کی چہارم ہے اور ربع کیلئے حکم کل دیا جاتا ہے جیسے نجاست خفیفہ میں کہ بدن یا کپڑے پر لگے، خلاصہ میں فرمایا:

النھر الذی ھو متصل بالحوض فکان اذاامتلاء الحوض یدخل الماء النھر فتوضأ انسان فیہ انکان النھر قدر ذراعین ونصف لایجوز ولا یجعل تبعاللحوض وان کان اقل یجوز ویجعل تبعا للحوض  وقیل لایجوز ولا یجعل تبعا للحوض وانکان قدر ذراع ۳؎۔

وہ نہر جو حوض سے متصل ہو، اور جب حوض بھر جائے تو پانی نہر میں چلا جاتا ہو اب اگر اس نہر سے کوئی انسان وضو کرے تو اگر نہر ڈھائی ہاتھ ہے تو وضو جائز نہیں اور اس کو حوض کے تابع نہیں کیا جائیگا،اور اگر کم ہے تو جائز ہے اور اسکو حوض کے تابع سمجھاجائیگا ایک اور قول ہے کہ جائز نہیں اور اس کو حوض کے تابع نہیں سمجھا جائیگا۔اگرچہ ایک ہاتھ کی مقدار ہو۔ (ت)

 (۳؎ خلاصۃ الفتاوٰی      الجنس الاول فی الحیض    نولکشور لکھنؤ        ۱/۵)

وجیز امام کردری میں ہے:النھر المتصل بالحوض الکبیر الممتلئ ان کان (عہ۱)قدر ذراعین ونصف لایکون تبعالہ لان الربع یحکی حکایۃ الکل فلا یتوضؤ منہ وان اقل منہ فتبع وقیل لیس بتبع وان قدر ذراع ۱؎

وہ نہر جو بڑے بھرے حوض سے متصل ہو اگر ڈھائی ہاتھ ہو تو حوض کے تابع نہیں کیونکہ چوتھا کل کے قائم مقام ہوتا ہے تو اس سے وضو درست نہ ہوگا اور اگر اس سے کم ہو تو تابع ہے اور ایک قول ہے کہ تابع نہیں خواہ ایک ہاتھ ہو۔(ت(

(عہ۱) وقع فی نسخۃ الطبع ان کان الحوض وھو خطأ اھ ۱۲ منہ غفرلہ۔ (م(
مطبوع نسخہ میں ان کان الحوض کا لفظ واقع ہے یہ درست نہیں ہے اھ (ت(

 (۱؎ بزازیہ علی الہندیۃ    نوع فی الحیاض    نورانی کتب خانہ پشاور    ۴/۷)

اقول یوں ہی تالابوں نہروں کی تہ میں گڑھے بھی ہوتے ہیں ہر گڑھے کو مستقل قرار دینے میں حرج ومخالفت عرف ہے لہٰذا ارشاد مذکور کی بنا پر اُس کی تقدیر بھی پچیس ہاتھ مساحت سے چاہئے لان الربع یحکی حکایۃ الکل(کیونکہ چوتھا کل کے قائم مقام ہوتا ہے۔( ت) یہاں اُس تعلیل کا جواب بھی کُھل گیا کہ الکثیر یستتبع القلیل (کثیر قلیل کو تابع بناتا ہے۔ ت) اس تقدیر پر حکم یہ ہونا چاہئے کہ صورت مسئولہ میں اگر نجاست طافیہ ہے کہ حصہ زیریں تک نہ پہنچی یا حصہ زیریں حصہ بالا کے ساتھ دو مختلف محل نہیں جیسے نصف دائرہ میں یامختلف تو ہے مگر پچیس ہاتھ مساحت سے کم ہے تو ان سب صورتوں میں نجاست پڑنے سے کوئی حصہ نجس نہ ہوگااوریہی محمل کلام علامہ شامی کاہے اوراگر نجاست راسبہ ہے کہ حصہ زیریں تک پہنچی اور اسفل اعلیٰ سے مختلف الشکل ہے اور سو ہاتھ مساحت سے کم مگر پچیس ہاتھ سے کم نہیں تواوپر کاحصہ بوجہ کثرت پاک رہے گااوریہ حصہ زیریں بوجہ حوض مستقل قلیل ہونے کے ناپاک ہوجائیگااوریہی محمل کلام علامہ طحطاوی کاہے یہ ہے وہ جو فقیر کے لئے ظاہر ہوا اور محل محتاج تحریر وتنقیح اور جزم بالحکم دست نگر تصریح ہے،

والعلم بالحق عند ربی ان ربی بکل شیئ علیم امامافی الحلیۃ تحت قول المنیۃ المارفی صدر ھذا الجواب الرابع حیث قال وھذا محکی فی البدائع عن ابی القاسم الصفار رحمہ اللّٰہ تعالی غیر ان فرض المسألۃ فیھافی الحوض الکبیر وقعت فیہ النجاسۃ ثم قل ماؤہ حتی صار یخلص بعضہ الی بعض وقعت فیہ نجاسۃ ثم عاودہ الماء حتی امتلأ ولم یخرج منہ شیئ ۲؎ اھ۔

اور حق کا علم میرے رب کے پاس ہے، بیشک میرارب ہر چیز کو جاننے والا ہے، اور حلیہ میں منیہ کے قول کے تحت جو اس چوتھے جواب کے شروع میں گزرا ہے کہ انہوں نے فرمایا یہ قول بدائع میں ابو القاسم صفار سے منقول ہے مگراس میں جو مسئلہ فرض کیا گیا ہے وہ بڑے حوض میں ہے جس میں نجاست گر گئی ہو پھر اس کا پانی اتنا کم ہوگیاکہ اس کا پانی ایک دوسرے سے متصل ہوگیا پھر اس میں نجاست گر گئی اور پھر اس کا پانی زائد ہوگیا یہاں تک کہ حوض بھر گیا اور اس سے کچھ باہر نہ نکلا اھ۔ (ت(

 (۲؎ حلیۃ)

فاقول اولا لیس ھذا مسوقا فی البدائع سیاقاواحدا فی تصویر واحد حتی یقال ان الماء الواقع فیہ النجاسۃ حین امتلاء ہ و کثرۃ مساحتہ بعد مافرغ اعلاہ وبلغ السافل القلیل احتیج فی تنجیسہ الی وقوع النجاسۃ مرۃ اخری فافادان السافل القلیل لا ینجس تبعا للعالی الکثیر وھو باطلاقہ یشمل ما اذا کان السافل مختلف الصورۃ بل کل منھما فرع علیحدۃ ذکرھما فی البدائع علی التعاقب عن امامین فالاولی لاتؤخذ فی الاخری وھذا نصہ لوتنجس الحوض الصغیر بوقوع النجاسۃ ثم بسط ماؤہ حتی صار لایخلص بعضہ الی بعض فھو نجس لان المبسوط ھوالماء النجس وقیل فی الحوض الکبیر وقعت فیہ النجاسۃ ثم قل ماؤہ حتی صار یخلص بعضہ الی بعض انہ طاھر لان المجتمع ھو الماء الطاھر ھکذا ذکرہ ابو بکر الاسکاف رحمہ اللّٰہ تعالٰی واعتبر حالۃ الوقوع ولو وقع فی ھذا القلیل نجاسۃ ثم عاودہ الماء حتی امتلاء الحوض ولم یخرج منہ شیئ قال ابو القاسم الصفار رحمہ اللّٰہ تعالٰی لایجوز التوضؤ بہ لانہ کلما دخل الماء فیہ صار نجسا ۱؎ اھ

تو میں کہتا ہوں اوّلاً،یہ چیز بدائع میں صرف ایک ہی انداز میں مذکور نہیں، لہٰذا یہ کہنا کہ جب کثیر پانی کے بھرے ہونے کی صورت میں نجاست گر جائے اور اس کا بالائی حصّہ خالی ہوکر نیچے قلیل تک آجائے تو اُسی وقت ناپاک ہوگا جب اُس میں دوبارہ نجاست گرے، تو انہوں نے یہ بتایا کہ نچلا قلیل حصہ اوپر والے حصہ کی متابعت میں ناپاک نہ ہوگا،یہ اطلاق اس کو بھی شامل ہے جبکہ نچلے کی صورت مختلف ہو، بلکہ ان میں سے ہر ایک علیحدہ فرع ہے،اس کو بدائع میں یکے بعد دیگرے ذکر کیا ہے،اور دونوں اماموں کی طرف منسوب کیا ہے تو ایک صورت کو دوسری میں نہیں لیا جائیگا ان کی عبارت اس طرح ہے، یا چھوٹا حوض جو نجاست کے گر جانے سے ناپاک ہوگیا ہو، پھراُس کا پانی اتنا پھیل گیا کہ اس کا بعض حصہ دوسرے بعض تک پہنچنے سے قاصر ہوگیا تو یہ نجس ہے کیونکہ مبسوط نجس پانی ہی ہے، اور وہ بڑا حوض جس میں نجاست گر گئی پھر اس کا پانی اتنا کم ہوگیا کہ اس کابعض حصہ دوسرے بعض تک پہنچنے لگا تو یہ پاک ہے کیونکہ جو اکٹھا ہے وہ پاک پانی ہے اسی طرح اس کو ابو بکر الاسکاف نے ذکر کیا اور حالۃ وقوع کا اعتبار کیا،اور اگر اس کم میں نجاست گری پھر اس میں پانی واپس آگیا یہاں تک کہ حوض بھر گیا اور اس میں سے کچھ باہرنہ نکلا، ابو القاسم الصّفار نے فرمایا کہ اس سے وضو جائز نہیں کیونکہ جب اس میں پانی داخل ہوا تو نجس ہوگیا،اھ

 (۱؎ بدائع الصنائع    فصل فی بیان مقدار الخ    ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۱/۷۲)

وذلک ان لاعتبارحالۃ الوقوع محلین الاول تغیر مساحۃ الماء مع بقائہ فی ذاتہ کما کان بلانقص ولا زیادۃ(۱) کأن یکون الماء منبسطا فی حوض کبیر وفیہ منفذ مسدود دونہ بئر مثلا قطرھاذراعان فوقعت فی الحوض نجاسۃ فلم یتنجس الماء لانہ عشر فی عشرثم اخرجت النجاسۃ وفتح المخرج حتی انتقل ذلک الماء الی البئر فصار فی قطر ذراعین لم یعد نجسا لان العبرۃ لحین الوقوع وھو اذذاک کان کثیر المساحۃ وان صار الاٰن قلیلا وانکان(۲)الماء فی البئر فوقعت فیھا نجاسۃ فنزح کلھاوجعل الماء فی الحوض حتی انبسط وصار عشرا فی عشرلم یطھر اعتبارابحال الوقوع حیث کان عندئذٍ قلیل المساحۃ وان صار الاٰن کثیرا وھذا مافی البزازیۃ لوکان دون عشر فی عشر لکنہ عمیق وقع فیہ مائع وانبسط حتی عد کثیرا لایتوضؤ منہ ولو عشرا فی عشر ثم قل توضأ بہ لافیہ لاعتبار اوان الوقوع ۱؎ اھ

کیونکہ وقوع کی حالت کے دو اعتبار ہیں پہلا تو یہ کہ پانی کی پیمائش میں تغیر آجائے اور اس کی ذات بحال رہے جیسی کہ تھی نہ کمی ہو اور نہ زیادتی مثلاً یہ کہ پانی بڑے حوض میں پھیلا ہوا ہو اور اس میں ایک سوراخ ہو جو کنویں تک جاتا ہو اور یہ سوراخ بند ہو، کنویں کا قطر مثلاً دو ہاتھ ہو اب حوض میں نجاست گر جائے تو پانی ناپاک نہ ہوگا کہ یہ دہ در دہ ہے پھر نجاست نکال لی جائے اور سوراخ کھول دیا جائے اور وہ پانی کنویں کی طرف منتقل ہوجائے اور دو ذراع کے قطر میں پہنچ جائے تو نجس نہ ہوگا، کیوں کہ یہاں اعتبار گرنے کے وقت کا ہے اور اس وقت اس کی پیمائش زیادہ تھی اگرچہ اب کم ہوگئی ہے اور اگر پانی کنویں میں ہو اور اس میں نجاست گر جائے پھر کنویں کا تمام پانی نکال کر ایک حوض میں جمع کر لیا جائے حتی کہ وہ پھیل جائے اور پانی دَہ در دَہ ہوجائے تو پانی پاک نہ ہوگا کیونکہ نجاست کے واقع ہونے کے وقت کا اعتبار ہے اور اس وقت پیمائش کم تھی اگرچہ اب کثیر ہوگئی ہے یہ بزازیہ میں ہے اور اگر دَہ در دَہ سے کم ہو لیکن گہرا ہو اور اس میں کوئی بہنے والی چیز گر گئی اور پھیل گئی یہاں تک کہ زیادہ ہوگئی تو اس سے وضو نہ کیا جائیگا اور اگر وہ دَہ در دَہ ہو اور پھر کم ہوجائے تو اس سے وضو کرے گا نہ کہ اس میں،یہاں بھی گرنے کے وقت کا اعتبار ہے اھ

 (۱؎ فتاوٰی  بزازیۃ    نوع فی الحیاض    نورانی کتب خانہ پشاور    ۴/۵)

وفی الخانیۃ الماء الطاھر اذا کان فی موضع ھو عشر فی عشر وقعت فیہ نجاسۃ ثم اجتمع ذلک الماء فی مکان ھو اقل من عشر فی عشر یکون طاھرا ولو کان الماء فی مکان ضیق ھو اقل من عشر فی عشر ووقعت فیہ نجاسۃ ثم انبسط ذلک الماء وصار عشرا فی عشر کان نجسا والعبرۃ فی ھذا لوقت وقوع النجاسۃ ۱؎ اھ ومثلہ فی الخلاصۃ،

اور خانیہ میں ہے کہ پاک پانی اگر کسی ایسی جگہ میں ہے جو دہ در دہ ہو اور اس میں نجاست گر جائے پھر وہ پانی ایسی جگہ جمع ہوجائے جو دہ در دہ سے کم ہو تو وہ پانی پاک ہے اور اگر پانی تنگ جگہ میں ہو جو دہ در دہ سے کم ہے اس میں نجاست گر جائے پھر وہ پھیل کر دہ در دہ ہوجائے تو پانی ناپاک ہے اور اعتبار اس میں نجاست کے گرنے کے وقت کا ہے اھ اور اسی قسم کا کلام خلاصہ میں ہے،

 (۱؎ فتاوی قاضی خان    فصل فے الماء الراکد    نولکشور لکھنؤ    ۱/۴)

وفی الدرر عن التتارخانیۃ عن الظھیریۃ وفی غیرھا والثانی تغیر مساحتہ لزیادۃ فیہ اونقصہ کان یکون فی غدیر بطنہ اکثر انحدارا من حافاتہ کما وصفنا من نصف الدائرۃ اعلاہ عشر فی عشر ثم لم یزل یقل فاذا کان ممتلئا کان کثیرا لایقبل النجاسۃ فاذا وقعت(۱) واخرجت وقل الماء بالاستعمال اوبحر الصیف حتی یبس فی الاطراف وبقی فی بطنہ اقل من عشر فی عشر کما ھو مشاھد فی کثیر من الغدران لم یعد نجسا لانہ کان حین وقعت کثیرا وان جف(۲) ماؤہ وبقی فی وسطہ قلیلا وعند ذلک وقع فیہ نجس ثم دخلہ الماء حتی امتلأ وصار کثیرا غیر انہ لم یفض من جوانبہ کی یطھر بالجریان فانہ یبقی کما کان نجسا لمامرو ھذا مافی المنیۃ کما تقدم،

اور دُر میں تتارخانیہ سے ظہیریہ وغیرہ سے منقول ہے اور دوسرا یہ کہ پانی کی پیمائش میں تغیر آجائے اس میں کمی یا زیادتی کے باعث مثلاً یہ کہ اُس کے گڑھے میں پانی کا بہاؤ بہ نسبت کناروں کے زائد ہو جیسا کہ ہم نے بیان کیا، یعنی دائرہ کا نصف جس کا بالائی حصہ دہ در دہ ہو پھر برابر کم ہوتا گیا، اور جب بھرا ہوا ہو تو زائد ہوگا نجاست کو قبول نہ کریگا اور جب نجاست گر جائے اور نکال لی جائے اور پانی استعمال کی وجہ سے کم ہوجائے یا گرمی کے باعث اُس کے کنارے خشک ہوجائیں اور اس کے گڑھے میں دہ در دہ سے کم رہ گیا ہو جیسا کہ بہت سے گڑھوں سے مشاہدہ ہوتا ہے تو وہ نجس نہ ہوگا کیونکہ جب نجاست اُس میں گری تھی تو وہ زائد تھا اگر حوض کا پانی خشک ہوجائے حتی کہ اس وسط میں تھوڑا سا پانی باقی رہے اور اس وقت نجاست گر جائے پھر پانی داخل ہو حتی کہ وہ بھر جائے اور پانی کثیر ہوگیا مگر پانی اس کے کناروں سے نکلا نہیں ورنہ وہ پانی کے بہاؤ سے پاک ہوجاتا اب وہ حسب سابق نجس ہی رہے گا اس کی دلیل گزری اور یہ منیہ میں ہے جیسا کہ گزرا،

وفی الخانیۃ حوض اعلاہ عشر فی عشر واسفلہ اقل منہ جاز فیہ الوضوء یعتبر فیہ وجہ الماء فان قل ماؤہ وانتھی الی موضع ھو اقل من عشر لایجوز فیہ الوضوء ۲؎

اور خانیہ میں ہے کہ ایک حوض جس کا بالائی حصہ دہ در دہ ہے اور نچلا اس سے کم ہے، اس سے وضو جائز ہے، اور اس میں پانی کی سطح کا اعتبار ہوگا، اور اگر اس کا پانی کم ہو اور وہ ایسی جگہ پہنچ جائے جو دہ در دہ سے کم تر ہو تو اس میں وضو جائز نہیں،

 (۲؎ فتاوی قاضی خان    فصل فے الماء الراکد    نولکشور لکھنؤ    ۱/۴)

وقال المحقق فی الفتح سقطت نجاسۃ فی عشر فی عشر ثم صار اقل فھو طاھر واذا تنجس حوض صغیر فدخل ماء حتی امتلأ ولم یخرج منہ شیئ فھو نجس ۱؎ اھ

محقق نے فتح میں فرمایا کہ کوئی نجاست دہ در دہ حوض میں گری اور پھر پانی کم ہوگیا تو وہ طاہر ہے اور جب چھوٹا حوض ناپاک ہوگیا اور پھر اس میں پانی بھر گیا اور اُس سے کچھ باہر نہ نکلا تو وہ حوض اس نجاست سے ناپاک ہوگا اھ

 (۱؎ فتح القدیر            بحث الغدیر العظیم    نوریہ رضویہ سکھر    ۱/۷۱)

وفی الغنیۃ الحاصل ان الماء اذا تنجس حال قلتہ لایعود طاھرا بالکثرۃ وان کان کثیراقبل(عہ۱) اتصالہ بالنجاسۃ لایتنجس بھا ولو نقص بعد سقوطھا فیہ حتی صار قلیلا فالمعتبر قلتہ وکثرتہ وقت اتصالہ بالنجاسۃ سواء وردت علیہ او ورد علیھا           ھذاھو المختار ۲؎ اھ

اور غنیہ میں ہے،خلاصہ یہ ہے کہ پانی جب کمی کی حالت میں ناپاک ہوگیا تو کثرت کی حالت میں پاک نہ ہوگا،اور اگر اتصالِ نجاست کے وقت زائد تھا تو نجاست سے نجس نہ ہوگا اوراگر نجاست کے گر جانے کے بعد کم ہوا تو معتبر اس میں پانی کی قلّت وکثرت ہے جبکہ اس میں نجاست گری تھی خواہ نجاست پانی پر وارد ہوئی ہو یا پانی نجاست پر وارد ہوا ہو یہی مختار ہے اھ،

 (عہ۱) اقول الاولی حین کما لایخفی اھ منہ غفرلہ۔ (م(
میں کہتا ہوں قبل کی بجائے لفظ حین کا استعمال بہتر ہے اھ (ت(

 (۲؎ غنیۃ المستملی شرح منیۃ المصلی    فصل فی احکام الحیاض    سہیل اکیڈمی لاہور    ص۱۰۱)

  وبینہ فی التبیین باوجز لفظ فقال العبرۃ(۱) بحالۃ الوقوع فان نقص بعدہ لایتنجس وعلی العکس لایطھر ۳؎ اھ تبیین میں اسی کو بہت مختصر عبارت سے بیان کیا ہے فرمایا، اعتبار وقوع کی حالت کا ہے تو اگر اس کے بعد کم ہوا تو ناپاک نہ ہوگا اور اگر برعکس ہے تو پاک نہ ہوگا اھ

 (۳؎ تبیین الحقائق        بحث عشر فی عشر    بولاق مصر        ۱/۲۲)

فالامام ملک العلماء رحمہ اللّٰہ تعالٰی ذکر الفصل الاول عن الامام ابی بکر الاسکاف الا تری الی قولہ ثم بسط ماؤہ وقولہ المبسوط ھو الماء النجس وقولہ المجتمع ھو الماء الطاھر فقولہ قل ای مساحۃ لاقدرا یقطع بہ تعبیرہ بالمجتمع وذکر الفصل الثانی من قولہ ولو وقع فی ھذا القلیل عن الامام ابی القاسم الصفار ولذا قال(عہ۱) عاودہ الماء حتی امتلأ ولیست مقالۃ ابی بکر ماخوذۃ فی مقالۃ ابی القاسم رحمھما اللّٰہ تعالٰی وان کان یوھمہ زیادۃ ھذا فی ھذا القلیل وکذا قولہ ثم عاودہ وقولہ حتی امتلأ فان ھذا شأن حوض کبیر نقص ماؤہ فبقی فی موضع قلیل ولم یمر لہذا ذکر سابقا لان الناقص لایقال لہ المجتمع فالاشارۃ (۱) وقعت غیر موقعہ وثانیا علی تسلیمہ فلاشک ان کلامہ فی الصورۃ الثانیۃ من الصور الاربع اعنی الاختلاف صفۃ مع الاتحاد صورۃ دون الرابعۃ التی فیھا کلامنا یقطع بہ تعلیلہ کلما دخل الماء صار نجسا مع قولہ ولم یخرج منہ شیئ کما ستعرفہ ان شاء اللّٰہ تعالی واللّٰہ تعالٰی اعلم

امام ملک العلماء رحمہ اللہ نے پہلی فصل امام ابو بکر الاسکاف سے نقل کی اس کے قول ثم بسط ماؤہ اور ان کا قول مبسوط وہ نجس پانی ہے اور ان کا قول مجتمع وہ پاک پانی ہے، کی طرف غور کریں تو ان کا قول قَلَّ یعنی پیمائش کے اعتبار سے نہ کہ مقدار کے اعتبار سے جس کو وہ مجتمع سے تعبر کرتے ہیں اور دوسری فصل کو''ولو وقع فی ھذا القلیل'' سے ذکر کیا یہ امام ابو القاسم الصفار سے منقول ہے، اور اس لئے فرمایا اس میں پانی لوٹا یہاں تک کہ حوض بھر گیا اور ابو بکر کا مقالہ ابو القاسم کے مقالہ میں ماخوذ نہیں ہے اگرچہ ھذا القلیل میں ھذا کی زیادتی ہے اور اسی طرح ان کے قول ثم عاودہ اور ان کے قول حتی امتلأ سے یہ وہم پیدا ہوتا ہے کیونکہ یہ بڑے حوض کا حال ہے جس کا پانی گھٹ گیا ہے اور کم جگہ میں رہ گیا اور اس کا ذکر شروع میں نہیں ہے،کیونکہ ناقص کو مجتمع نہیں کہا جاتا ہے تو اشارہ بے موقع ہے،
اور ثانیاً اگر اس کو تسلیم کر لیاجائے تو اس میں شک نہیں کہ ان کا کلام چار صورتوں میں سے دوسری صورت میں ہے، میری مراد یہ ہے جب صفت میں اختلاف اور صورت میں اتحاد ہو،یہ چوتھی صورت نہیں ہے جس میں ہماری گفتگو ہے،جس کی تعلیل قطعی یہ ہے، جب بھی پانی داخل ہوگا تو نجس ہوجائیگا پھر ساتھ ہی یہ قید بھی لگاتے ہیں کہ اس سے کوئی چیز نکلی نہ ہو جیساکہ آپ اِن شاء اللہ تعالٰی  پہچان لیں گے۔ (ت(

 (عہ۱)فافاد زیادۃ القدر دون المساحۃ فقط اھ منہ غفرلہ۔ (م(
اس نے مقدار کی زیادتی کا فائدہ دیا ہے صرف پیمائش کا نہیں اھ (ت(

سوال(۵۳) پنجم :اسی صورت میں پانی حصّہ زیریں قلیل میں تھا اور اس وقت نجاست پڑی اور اُسے نکال کر یا بے نکالے بھر دیا گیا یا بارش وسیل سے بھر گیا کہ آب کثیر ہوگیا تو اب بھی اوپر کا حصہ پاک ہے یا نہیں اور حصہ زیریں کا کیا حکم ہے بینوا توجروا۔

الجواب :یہاں اکثر کتب میں منقول تو اس قدر ہے کہ اگر بھر کر اُبل گیاکہ کچھ پانی باہر نکل گیا جب تو پاک ہوگیا کہ جاری ہولیا ورنہ اوپر کا حصہ بھی ناپاک ہے اگرچہ مساحت کثیر میں ہے کہ نیچے کا حصہ جبکہ ناپاک تھا تو اس میں جتنا پانی ملتا گیا ناپاک ہوتا گیا اگر بھر کر اُبل جاتا سب پاک ہوجاتا مگر ایسا نہ ہوا تو ناپاک ہی رہا کہ ناپاک پانی کثرتِ مساحت سے پاک نہیں ہوسکتا اور بعض نے کہا پاک ہوجائیگا اور اس کی وجہ ظاہر نہیں بدائع سے امام ابو القاسم صفار کا قول گزرا نیز عبارت مُنیہ فان امتلأ صار نجسا ایضا ای کان (اگر حوض بھر جائے تو وہ نجس ہوگا جیسا کہ وہ تھا۔ ت) اُسی میں اس کے بعد ہے وقیل لایصیر نجسا ۱؎ (اور بعض نے کہا کہ نجس نہیں ہوگا۔ ت) حلیہ میں ہے ووجہہ غیر ظاھر ۲؎ (اور اس کی وجہ معلوم نہیں۔ ت) غنیہ میں اتنا فرمایا والاول اصح ۳؎ (اور پہلا زیادہ صحیح ہے۔ ت(

 (۱؎ منیۃ المصلی            فصل فے الحیاض    مکتبہ قادریہ نظامیہ رضویہ لاہور    ص۷۲)
(۲؎ حلیہ)
(۳؎ غنیۃ المستملی شرح منیۃ المصلی    فصل فی احکام الحیاض    سہیل اکیڈمی لاہور        ص۱۰۱)

اقول: وباللہ التوفیق خیال فقیر میں یہاں ابحاث جلیلہ ہیں جن کو بقدر مساعدت وقت چند تاصیلات وتفریعات میں ظاہر کرے واللہ المعین وبہ استعین۔

اصل ۱:(۱) ہرمائع یعنی بہتی چیز کہ ناپاک ہوجائے پانی یا اپنی جنس طاہر کے ساتھ بہنے سے پاک ہوجاتی ہے وقد حققہ فی ردالمحتار بمالامزید علیہ  (اور اس کی تحقیق ردالمحتار میں بطریق اتم کی ہے۔ ت(

اصل ۲:(۲) آب کثیر کے حکم جاری ہونے میں جس طرح طول عرض یا مساحت یا ایک مقدار عمق بھی ضرور ہے جاری ہونے کیلئے ان میں سے کچھ شرط نہیں مینھ کا پانی جب تک بہہ رہا ہے جاری ہے اگرچہ گرہ بھر کے پر نالہ سے آرہا ہوکما نصوا علیہ فی ماء السطح (جیسا کہ سطح کے پانی میں فقہاء نے نص کی ہے۔ ت) ولہٰذا یہ حکم ہر برتن کو شامل ہے مثلاً کٹورے یا تھالی میں ناپاک پانی ہو پانی اس پر ڈالیے یہاں تک کہ بھر کر اُبلنے لگے پانی اور برتن سب پاک ہو جائیں گے امام ملک العلماء نے بدائع آخر فصل مایقع بہ التطہیر میں فرمایا:

الحوض الصغیر اذا تنجس قال الفقیہ ابو جعفر الھندوانی رحمہ اللّٰہ تعالٰی اذا دخل فیہ الماء الطاھر وخرج بعضہ یحکم بطھارتہ بعد ان لاتستبین فیہ النجاسۃ لانہ صار جاریا وبہ اخذ الفقیہ ابو اللیث وعلی ھذا حوض الحمام اوالاوانی اذا تنجس ۴؎۔

چھوٹا حوض جب ناپاک ہوجائے، فقیہ ابو جعفر الہندوانی نے فرمایا جب اس قسم کے حوض میں پاک پانی داخل ہوجائے اور اس میں سے کچھ حصہ نکل جائے تو اس کے پاک ہونے کا حکم دیا جائیگا بشرطیکہ اس میں نجاست ظاہر نہ ہو کیونکہ وہ جاری ہوجائیگا، اور یہی فقیہ ابو اللیث کا قول ہے اور اس پر حمّام کا حوض یا برتن قیاس کیا جائے، یعنی نجس ہونے کی صورت میں۔ (ت(

 (۴؎ بدائع الصنائع        آخر فصل مایقع بہ التطہیر        ایچ ایم سعید کمپنی کراچی        ۱/۸۷)

اصل ۳:(۱) اس جریان کے تین رکن ہیں:
۱۔ دخول        ۲۔ خروج        ۳۔ معیت
یعنی مثلاً پانی ایک طرف سے داخل ہو اور دوسری طرف سے کچھ حصّہ خارج ہو اور وہ نکلنا اُسی داخل ہونے کی حالت میں ہو اگرچہ ابتدائے دخول میں نہ ہو۔
(۱)لوٹے میں ناپاک پانی ہے اُس پر پاک پانی نہ ڈالیے۔ ٹونٹی سے وہی ناپاک پانی نکال دیجئے تو صرف خروج بلا دخول ہوا یا(۲) آدھے لوٹے میں ناپاک پانی ہے پاک پانی سے بھر دیجئے کہ کچھ نکلے نہیں تو محض دخول بلا خروج ہوایا پاک(۳) پانی بھرنے کے بعد جھکاکر ٹونٹی سے کچھ نکال دیجئے تو خروج بحال دخول نہ ہوا۔ان تینوں صورتوں میں طہارت نہ ہوگی بلکہ پاک(۴) پانی ڈالتے رہیے یہاں تک کہ بھر کر اُبلنا شروع ہو اُس وقت پاک ہوگا کہ ایک وقت وہ آیا کہ خروج ودخول کی معیت ہوگئی اگرچہ برتن بھرنے تک صرف دخول بلا خروج تھا۔ تبیین وفتح میں ہے:

ولو تنجس الحوض الصغیر بوقوع نجاسۃ فیہ ثم دخل فیہ ماء اٰخر و خرج الماء منہ طھر وان قل اذاکان الخروج حال دخول الماء فیہ لانہ بمنزلۃ الجاری ۱؎۔

اور اگر چھوٹے حوض میں نجاست گر گئی اور وہ نجس ہوگیا پھر اس میں اور پانی داخل ہوگیا اور نکل گیا تو حوض پاک ہوجائیگا خواہ کم ہی ہو جبکہ پانی داخل ہوتے ہی نکل گیا ہو کیونکہ وہ بمنزلہ جاری کے ہے۔ (ت(

 (۱؎ تبیین الحقائق    بحث عشر فی العشر    بولاق مصر    ۱/۲۲-۲۳)

بحر میں اسی کی مثل لکھ کر فرمایا: صححہ فی المحیط وغیرہ وقال السراج الھندی وکذا البئر واعلم ان عبارۃ کثیر منھم تفید ان الحکم اذا کان الخروج حالۃ الدخول وھو کذلک فیما یظھر لانہ ح یکون فی المعنی جاریا لکن ایاک وظن انہ لوکان الحوض غیر ملاٰن فلم یخرج منہ شیئ فی اول الامر لایکون طاھرا اذ غایتہ(۲) انہ عند امتلائہ قبل خروج الماء منہ نجس فیطھر بخروج القدرالمتعلق بہ الطھارۃ اذا  ا تصل بہ الماء الجاری الطھور کما لوکان ممتلئا ابتداء ماء نجسا ثم خرج منہ ذلک القدر لاتصال الماء الجاری بہ کذا فی شرح المنیۃ ۱؎ اھ۔ یرید حلیۃ الامام ابن امیر الحاج۔

محیط وغیرہ میں اس کو صحیح قرار دیا اور سراج ہندی نے فرمایا اور اسی طرح کُنویں کا حال ہے اور جاننا چاہئے کہ اکثر علماء کی عبارت سے معلوم ہوتا ہے جبکہ پانی داخل ہوتے ہی نکل جائے تو حکم بظاہر ایسا ہی ہے کیونکہ یہ جاری کے حکم میں ہے لیکن آپ یہ گمان نہ کریں کہ اگر حوض بھرا ہوا نہ ہو اور اس میں سے ابتداءً کچھ نہ نکلے تو وہ پاک نہ ہوگا کیونکہ حوض بھرنے تک نکلنے سے پہلے ناپاک ہوجائیگا پھر وہ اتنی مقدار کے نکلنے کے بعد پاک ہوجائیگا جس سے طہارت متعلق ہو جبکہ اس کے ساتھ طاہر اور طہور پانی متصل ہو جو جاری ہو جیسا کہ ابتداءً بھرا ہونے کی صورت میں تھا، یعنی اس میں نجس پانی تھا پھر اس میں سے اتنی مقدار نکل گئی کیونکہ اس کے ساتھ جاری پانی متصل ہوا، کذا فی شرح المنیہ اھ۔ اس سے ان کی مراد ابن امیر الحاج کی حلیہ ہے۔ (ت)

 (۱؎ بحرالرائق        بحث عشر فی العشر        ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۱/۷۸)

ہاں علماء نے مواضع ضرورت میں اخراج کو بھی خروج رکھا ہے جیسے(۱) حمام کا حوض کہ اُس میں کسی نے ناپاک ہاتھ ڈال دیا اگر لوگ اُس میں سے پانی لے رہے ہیں مگر نل سے پانی اس میں نہیں آتا یا نل سے پانی آرہا ہے مگر لوگ اس میں سے پانی نکال نہیں رہے تو ناپاک ہوجائیگا کہ خروج یا دخول ایک پایا گیا اور اگر اُدھر نل سے پانی آرہا ہے اور اُدھر لوگوں کا اُس میں سے لینا برابر جاری ہے کہ پانی کی جنبش ساکن نہیں ہونے پاتی تو جاری کے حکم میں ہے ناپاک نہ ہوگا، اسی پر فتوٰی ہے، ہندیہ میں ہے:

حوض الحمام طاھر فان ادخل رجل یدہ فی الحوض وعلیھا نجاسۃ ان کان الماء ساکنا لایدخل فیہ شیئ من انبوبہ ولا یغترف منہ انسان بالقصعۃ یتنجس وان کان الناس یغترفون ولایدخل من الانبوب ماء اوعلی العکس فاکثرھم علی انہ یتنجس وان کان الناس یغترفون ویدخل من الانبوب فاکثرھم علی انہ لایتنجس ھکذا فی فتاوی قاضی خان وعلیہ الفتوی کذا فی المحیط ۲؎۔

حمام کا حوض پاک ہے اگر کسی شخص نے حوض میں اپنا ہاتھ ڈالا اور ہاتھ پر نجاست تھی اگر پانی ساکن تھا ایسا کہ اس میں کوئی چیز اس کی نالی سے داخل نہ ہو اور کوئی انسان اس میں سے پیالہ سے نہ نکال رہا ہو تو وہ ناپاک ہوجائے گا اور اگر یہ لوگ اس میں سے چُلّو بھر کر پانی لیتے ہوں اور نالی سے پانی داخل نہ ہوتا ہو یا برعکس ہو تو اکثر علماء کا خیال ہے کہ وہ ناپاک ہوجائیگا اور اگر لوگ اس سے چلّو بھر کر لیتے ہوں اورنالی سے پانی داخل ہوتا ہو تو اکثر علماء کا خیال ہے کہ وہ ناپاک نہ ہوگا اسی طرح فتاوٰی قاضی خان میں ہے اور اسی پر فتوٰی ہے کذا فی المحیط۔ (ت)

 (۲؎ فتاوٰی ہندیۃ    الفصل الاول فیما یجوزبہ التوضؤ    نورانی کتب خانہ پشاور    ۱/۱۸)

اسی(۱) طرح وضو کے حوض میں بھی اگر نالی سے پانی آرہا ہے اور لوگ برابر لے رہے ہیں(عہ۱) کہ پانی ٹھہرنے نہیں پاتا ناپاک نہ ہوگا ۔

 (عہ۱)یونہی اگر اُس کنارے پر کوئی نہا رہا ہے کہ پانی برابر نکل رہا ہے تاتارخانیہ پھر ردالمحتار میں ہے:
لوکان یدخلہ الماء ولا یخرج منہ لکن فیہ انسان یغتسل ویخرج الماء باغتسالہ من الجانب الاٰخر متدارکا لایتنجس ۱۲ منہ غفرلہ (م(
اگر پانی حوض میں داخل ہورہا ہو اور اس سے نکل نہ رہا ہو لیکن کوئی آدمی وہاں غسل کر رہا ہو اورا س کے غسل کا پانی مسلسل دوسری جانب نکل رہا ہو تو وہ نجس نہ ہوگا۔ (ت(

عالمگیریہ میں ہے:حوض صغیر تنجس فدخل الماء الطاھر من جانب وسال ماء الحوض من جانب اٰخر کان الفقیہ ابو جعفر رحمہ اللّٰہ تعالی یقول کما سال یحکم بطھارۃ الحوض وھو اختیار الصدر الشھید رحمہ اللّٰہ تعالی کذا فی المحیط وفی النوازل وبہ ناخذ کذا فی التتارخانیۃ وان دخل الماء ولم یخرج ولکن الناس یغترفون منہ اغترافا متدارکا طھر کذا فی الظھیریۃ والغرف المتدارک ان لایسکن وجہ الماء فیما بین الغرفتین کذا فی الزاھدی ۱؎۔

چھوٹا حوض ناپاک ہوگیا پھر اس میں ایک طرف سے پاک پانی داخل ہوا اور حوض کا پانی دوسری جانب سے بہہ نکلا تو فقیہ ابو جعفر اس حوض کی طہارت کا حکم دیتے تھے، اور یہی صدر الشہید کا مختار ہے کذا فی المحیط، اور نوازل میں ہے، اسی کو ہم اختیار کرتے ہیں، اسی طرح تتارخانیہ میں ہے اور اگر پانی داخل ہوا اور نہ نکلا لیکن لوگ اس سے مسلسل چلّو بھر لیتے رہے تو وہ پاک ہوگا کذا فی الظہیریہ اور مسلسل چلّو بھرنا یہ ہے کہ دو چلوؤں کے درمیان پانی پُرسکون نہ ہو کذا فی الزاہدی۔ (ت(

 (۱؎ فتاوی ہندیۃ    الفصل الاول فیما یجوز بہ التوضؤ    نورانی کتب خانہ پشاور    ۱/۱۷)

اس کی دوسری سند فتاوٰی خلاصہ سے آتی ہے (یعنی فصلِ چہارم میں) علّامہ(۲) خیر رملی نے کُنواں بھی اسی حکم میں(عہ۲) داخل کیا جبکہ سو توں سے پانی اُبل رہا اور اوپر سے برابر چرغ چل رہا اُدھر سے آتا ادھر سے نکل رہا ہو اس حالت میں نجاست سے ناپاک نہ ہوگا ہاں نجاستِ مرئیہ اس میں رہنے دی اور پانی کھینچنا اتنی دیر موقوف ہوگیا کہ پانی ٹھہر گیا جنبش جاتی رہی تو اب ناپاک ہوجائیگا۔

 (عہ۲) اس کی کامل تائید تنبیہ جلیل کے آخر میں آتی ہے ۱۲ منہ غفرلہ (م(

منحۃ الخالق میں ہے:والحقوا بالجاری حوض الحمام قال الرملی اقول وبالاولی الحاق الاٰبار المعینۃ التی علیھا الدولاب ببلادنا اذالماء ینبع من اسفلھا والغرف فیھا بالقواد لیس متدارک فوق تدارک الغرف من حوض الحمام فلا شک فی ان حکم مائھا حکم الجاری فلو وقع فی حال الدوران فی البئر والحال ھذہ نجاسۃ لاینجس تأمل ۱؎ واللّٰہ تعالی اعلم۔

اور جاری پانی سے علماء نے حمّام کے حوض کو ملادیا،رملی کہتے ہیں میں کہتا ہوں وہ کنویں جن پر ہمارے ملک میں رہٹ ہوتا ہے ان کو جاری پانی سے ملانا بطریقِ اولیٰ ہوگا، کیونکہ پانی ان کے نیچے سے نکلتا ہے اور ڈولوں کے ذریعے سے ان سے پانی نکالنا تسلسل کے ساتھ ہوتا ہے یہ تسلسل اس سے کہیں زائد ہے جو حوض کے حمّام سے چلّو بھرنے سے ہوتا ہے تو اس میں شک نہیں کہ ان کے پانی کا حکم جاری پانی کا ہے تو اگر اس حالت میں پانی کے چلتے وقت نجاست کنویں میں گرجائے تو پانی ناپاک نہ ہوگا تأمل واللہ تعالٰی اعلم۔ (ت(

 (۱؎ منحۃ الخالق علی حاشیہ بحرالرائق    بحث الماء الجاری    ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۱/۸۶)

اصل۴: اقول اگرچہ(۱) مذہب صحیح میں اس خروج کیلئے کوئی مقدار نہیں ادنیٰ اُبلنا کافی ہے جس پر سیلان صادق آئے، کما تقدم عن البدائع وخرج بعضہ وعن التبیین والفتح والبحر وان قل وعن المحیط کما سال وھذہ کاف الفور۔ جیسا کہ بدائع سے گزرا کہ وخرج بعضہ اور تبیین، فتح، بحر میں ہے کہ وان قل اور محیط سے ہے کما سال یعنی فوراً بہنے پر، کما میں کاف فوراً کا معنی دیتا ہے۔ (ت(

حلیہ میں ہے:فی المبتغی بالغین المعجمۃ ھو الصحیح وفی محیط رضی الدین ھو الاصح وکذلک البیر علی ھذا لان الماء الجاری لما اتصل بہ صار فی الحکم جاریا ۲؎۔

مبتغٰی میں ہے غین معجمہ سے اور یہی صحیح ہے اور محیط رضی الدین میں ہے ھو الاصح، اور اسی طرح کنویں کا حال ہے کیونکہ جب جاری پانی اس سے متصل ہوگیا تو جاری کے حکم میں ہوگیا۔(ت)

 (۲؎ حلیہ)

مگر شک نہیں کہ یہ بہاؤ جب تک منتہی نہ ہوگا حکمِ جریان منقطع نہ ہوگا کہ وہ حرکت واحدہ مستمرہ ہے اُس کے بعض پر متحرک کو جاری اور باقی پر راکد و واقف ماننے کے کوئی معنی نہیں،

ولھذا ساغ لمن زادان یزید ای لم یکتف لحکم الجریان بمجرد السیلان بل شرط حرکۃکثیرۃ یعتمد بھا فلولا ان ھذا السائل من ذلک الماء المطلوب سیلانہ لم تنفع الزیادۃ۔

اور اسی لئے جائز ہے اس شخص کے لئے جس نے زائد کیا کہ زائد ہو یعنی کافی نہ ہوا جاری ہونے کے حکم کے لئے صرف سیلان کا ہونا، بلکہ اس کی شرط یہ ہے کہ اس میں بکثرت حرکت ہو کہ جس کا اعتبار ہو کیونکہ اگر یہ بہنے والا پانی اس پانی سے نہ ہوتا جس کا بہاؤ مطلوب ہے تو اس اضافے کا کچھ فائدہ نہ ہوتا۔ (ت(
فتاوٰی خلاصہ میں نقل فرمایا:

لوامتلأ الحوض وخرج من جانب الشط علی وجہ الجریان حتی بلغ المشجرۃ یطھر اما قدر ذراع اوذراعین فلا ۱؎۔ اگر حوض بھر گیا اور کنارے سے نکل کر پانی بہتا ہوا مشجرہ تک پہنچ گیا تو وہ پاک ہوجائے گا بہرحال ایک ذراع یا دو ذراع ہو تو نہیں۔ (ت(

 (۱؎ خلاصۃ الفتاوٰ  ی   الجنس الاول فی الحیاض     نولکشور لکھنؤ    ۱/۵)

ظہیریہ(۱) میں تصریح فرمائی کہ اس اُبال میں جو پانی نکل رہا ہے ہے اندر کا پانی تو پاک ہو ہی گیا باہر نکلنے والا بھی طاہر مطہر ہے یہاں تک کہ پانی نکلتا جائے اور اُس سے کوئی وضو کرتا جائے یا کہیں جمع ہونے کے بعد کسی برتن میں لے کر وضو کرے تو وضو صحیح ہے ظاہر ہے کہ اوّل سیلان کا پانی اتنا نہ ہوگا جس سے وضو ہوجائے ردالمحتار میں ہے:

فی الظھیریۃ الصحیح انہ یطھر وان لم یخرج مثل ما فیہ وان رفع انسان من ذلک الماء الذی خرج وتوضأ بہ جاز اھ۔ قال ش لکن فی الظھیریۃ ایضا حوض نجس امتلأ ماء وفار ماؤہ علی جوانبہ وجف جوانبہ لایطھر وقیل یطھر اھ۔ وفیھا ولو امتلأ فتشرب الماء فی جوانبہ لایطھر مالم یخرج الماء من جانب اخر اھ۔ وفی الخلاصۃ المختار انہ یطھر وان لم یخرج مثل مافیہ فلو امتلأ الحوض وخرج من جانب الشط الی اخر مانقلنا وانھی الکلام علی قولہ فلیتأمل اھ۔

ظہیریہ میں ہے کہ صحیح یہ ہے کہ وہ پاک ہوجائیگا اگرچہ اُس سے اُتنا پانی نہ نکلے جو حوض میں تھا اور اگر کسی انسان نے وہ پانی اٹھالیا جو خارج ہوا تھا اس سے وضو کرلیا تو جائز ہے اھ "ش" نے فرمایا لیکن ظہیریہ ہی میں ہے کہ ایسا حوض جو ناپاک ہو اگر پانی سے بھر جائے اور اس کا پانی کناروں سے بہہ نکلے پھر خشک ہوجائے اور اُس کے کنارے بھی خشک ہوجائیں تو پاک نہ ہوگا'' اور ایک قول ہے کہ پاک ہوجائیگا اھ اور اسی میں ہے کہ اگر کوئی حوض اتنا بھر گیا کہ اس کے کنارے پانی سے تر ہوگئے تو وہ اس وقت تک پاک نہ ہوگا جب تک کہ پانی دوسری طرف سے نہ نکلے اھ اور خلاصہ میں ہے کہ مختاریہ ہے کہ وہ پاک ہوجائیگا اگرچہ اس میں سے اتنا پانی خارج نہ ہو جتنا کہ اس کے اندر ہے اور اگر حوض اتنا بھرا کہ جانب سے بہنے لگا الیٰ آخر مانقلنا پھر انہوں نے اپنا کلام فلیتأمل اھ پر ختم کیا۔

وذکر بعدہ مسألۃ طھارۃ الاوانی فقال ھل یلحق نحو القصعۃ بالحوض فاذا کان فیھا ماء نجس ثم دخل فیھا ماء جار حتی طف من جوانبھا ھل تطھر ھی والماء الذی فیھا کالحوض ام لا لعدم الضرورۃ فی غسلھا توقفت فیہ مدۃ ثم رأیت فی خزانۃ الفتاوٰی اذا فسد ماء الحوض فاخذ منہ بالقصعۃ وامسکھا تحت الانبوب فدخل الماء وسال ماء القصعۃ فتوضأ بہ لایجوز اھ وفی الظھیریۃ فی مسألۃ الحوض لوخرج من جانب اٰخر لایطھر مالم یخرج مثل مافیہ ثلاث مرات کالقصعۃ عند بعضھم والصحیح انہ یطھر وان لم یخرج مثل مافیہ اھ فالظاھر (عہ۱) ان مافی الخزانۃ مبنی علی خلاف الصحیح یؤیدہ مافی البدائع وعلی ھذا حوض الحمام اوالاوانی اذا تنجس اھ۔ ومقتضاہ انہ علی القول الصحیح تطھر الاوانی ایضا بمجرد الجریان فاتضح الحکم وللّٰہ الحمد۔

اور اس کے بعد برتنوں کی طہارت کا مسئلہ ذکر کیا اور فرمایا آیا پیالہ جیسی چیز کو حوض پر قیاس کیا جائے گا؟ اور یہ کہ اگر اس میں ناپاک پانی ہو پھر جاری پانی اس میں داخل ہوجائے اور کناروں سے نکل جائے تو آیا وہ پیالہ اور جو پانی اس میں ہے پاک ہوگا؟ جس طرح حوض پاک ہوتا ہے، یا پاک نہ ہوگا کیونکہ اس کو دھو کر پاک کرنے میں ضرورت نہیں، تو میں نے اس مسئلہ میں ایک مدت تک توقف کیا، پھر میں نے خزانۃ الفتاوٰی میں دیکھا کہ جب حوض کا پانی فاسد ہوجائے اور اس سے کوئی شخص پیالہ بھر کرلے اور اس کو نالی کے نیچے روک کر رکھے پھر پانی داخل ہو اور پیالہ کا پانی بہہ نکلے اب اس پانی سے وضو کرے تو جائز نہ ہوگا اھ اور ظہیریہ کے حوض میں مسئلہ میں ہے، اگر پانی دوسری طرف سے نکل گیا تو اُس وقت تک پاک نہ ہوگا جب تک کہ جتنا اس میں تھا اس سے تین گنا زیادہ نہ نکلا ہو جیسا کہ پیالہ کا حکم ہے، یہ بعض حضرات کے نزدیک ہے، اور صحیح یہ ہے کہ پاک ہوجائیگا اگرچہ اتنا پانی نہ نکلا ہو جتنا کہ پیالہ میں تھا اھ تو بظاہر خزانہ میں جو ہے وہ صحیح کے برعکس ہے، بدائع میں اس کی تائید ہے اور اسی پر حمام کے حوض یا برتنوں کا قیاس ہے، یعنی ان کے ناپاک ہوجانے کی صورت میں اھ اور اس کا مقتضیٰ یہ ہے کہ قول صحیح پر برتن محض پانی کے جاری ہو جانے سے پاک ہوجائیں گے، تو اب حکم واضح ہوگیا، وللہ الحمد،

 (عہ۱) اقول فی الاحتجاج(۱) بکلام الظھیریۃ علی الخزانۃ نظر فلقائل ان یقول مفادہ ان عدم الطھارۃ فی القصعۃ متفق علیہ للاستشھاد بہ والتصحیح انما یرجع الے الحوض ۱۲ منہ۔ (م(
میں کہتا ہوں ظہیریہ کے کلام سے جو استدلال خزانہ کے خلاف کیا ہے اس میں نظر ہے، کیونکہ کوئی کہنے والا کہہ سکتا ہے کہ اس کا مفاد یہ ہے کہ پیالہ میں پاک نہ ہونے پر اتفاق کیا گیا ہے کیونکہ اس سے استشہاد کر رہے ہیں اور تصحیح صرف حوض کی طرف راجع ہے۔ (ت(

وبقی شیئ اٰخر (عہ۱) سئلت عنہ وھو(۱) ان دلوا تنجس (عہ۲) فافرغ فیہ رجل ماء حتی امتلأ وسال من جوائبہ ھل یطھر بمجرد ذلک والذی یظھر لی الطھارۃ اخذا مما ذکرنا ھنا(عہ۳) ومما مرمن انہ لایشترط ان یکون الجریان بمدد نعم علی ماقدمناہ علی الخلاصۃ من تخصیص الجریان بان یکون اکثر من (عہ۴) ذراع او ذراعین یتقید بذلک ھنا لکنہ مخالف لاطلاقھم طھارۃ الحوض بمجرد الجریان ۱؎ اھ مختصرا۔

اب صرف ایک چیز باقی رہ گئی ہے جس کے بارے میں مجھ سے دریافت کیا گیا ہے اور وہ یہ ہے کہ اگر کوئی ڈول ناپاک ہوگیا اور اس میں پانی بہایا گیا یہاں تک کہ وہ بھر کر بہنے لگا تو کیا وہ محض اس طریقہ سے پاک ہوجائیگا؟ تو مجھے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ پاک ہوجائیگا اس کی دلیل وہی ہے جو ہم نے یہاں ذکر کی اور جو گزری، یعنی یہ شرط نہیں کہ پانی کا جاری ہونا مدد کے حساب سے ہو، ہاں جو ہم نے خلاصہ سے نقل کیا ہے یعنی کہ بہنے کو اس امر سے مقید کیا جائے کہ وہ ایک یا دو ذراع سے زیادہ ہو، تو وہی قید یہاں بھی معتبر ہوگی، مگر یہ چیز فقہاء کے اطلاقات کے مخالف ہے وہ فرماتے ہیں حوض محض پانی کے جاری ہونے سے ہی پاک ہوجائیگا اھ مختصراً۔ (ت(

 (عہ۱) اقول ھو ھو بعینہ(۲) لاشیئا اٰخر ولا احتمال لاختلاف الحکم باختلاف صورۃ القصعۃ والدلو ۱۲ منہ۔ (م(
اقول یہ بعینہ وہی ہے کوئی دوسری چیز نہیں ہے اور پیالہ اور ڈول کی صورت کے مختلف ہونے کی وجہ سے حکم کے مختلف ہونے کا کوئی احتمال نہیں۔ (ت(
(عہ۲) اقول لابد من التقیید بتنجسہ من داخل اذلو تنجس من تحت لم یعمل فیہ السیلان علی ظاھرہ اومن خارج فمالم یسل علی الموضع المتنجس منہ بحیث یذھب النجاسۃ کما روی عن الامام الثانی رضی اللّٰہ تعالی عنہ فی ازار المغتسل ۱۲ منہ غفرلہ (م(

اقول اس میں یہ قید لگانا ضروری ہے کہ وہ ڈول اندر سے ناپاک ہو کیونکہ اگر وہ نیچے سے ناپاک ہو تو اس میں پانی کے بہانے کا اسکے ظاہر پر کوئی اثر نہ ہوگا یا خارج سے ناپاک ہو تو ایسی صورت میں پانی کا اس جگہ پر بہانا لازم ہے جو ناپاک ہے اور اس موجود نجاست کا ختم ہوجانا ضروری ہے، جیسا دوسرے امام ابو یوسف سے منقول ہے غسل کرنے والے کے تہبند کی بابت۔ (ت(

 (عہ۳) اقول رحمک(۳) اللّٰہ لیس الجریان ھھنا الا بمدد فای حاجۃ للبناء علی مختلف فیہ ۱۲ منہ۔ (م(
میں کہتا ہوں اللہ آپ پر رحم کرے یہاں پر جریان مدد سے ہے تو اس میں اختلاف کی بنا رکھنے کی کیا ضرورت ہے۔ (ت(
(عہ۴) اقول صوابہ(۴) الاقتصار علی ذراعین اذ عبارۃ الخلاصۃ اما قدر ذراع اوذراعین فلا ۱۲ منہ (م(
میں کہتا ہوں عبارت کو ذراعین پر ختم کرنا مناسب ہے کیونکہ خلاصہ کی عبارت یہ ہے اما قدر ذراع اوذراعین فلا۔ (ت(

 (۱؎ ردالمحتار    بحث عشر فی عشر    مصطفی البابی مصر    ۱/۱۴۳)

اقول قد افاد واجاد، واوضح المراد، کما ھو دابہ علیہ رحمۃ الکریم الجواد، لکن عبارۃ الخلاصۃ ھکذا اما حوض الحمام اذا وقعت فیہ نجاسۃ قال فی التجرید عن ابی حنیفۃ رضی اللّٰہ تعالی عنہ انھا لاتستقر وھو کالماء الجاری فان تنجس حوض الحمام فدخل الماء من الانبوب وخرج من الجانب الاخر فھو کالحوض الصغیر وفیہ اقاویل ستأتی ولاباس بدخول الحمام للرجال والنساء

میں کہتا ہوں انہوں نے اپنی عادت کے مطابق بڑی وضاحت سے اپنے مقصود کو ظاہر کردیا، لیکن خلاصہ کی عبارت اس طرح ہے ''بہرحال حمام کا حوض جبکہ اس میں نجاست گر جائے، تجرید میں حضرت امام ابو حنیفہ کی یہ روایت نقل کی ہے کہ ایسی نجاست ٹھہرے گی نہیں اور یہ جاری پانی کی طرح ہے، اب اگر حمام کا حوض ناپاک ہوگیا اور اس میں ایک نالی سے پانی داخل ہو کر دوسری طرف سے خارج ہوگیا تو یہ چھوٹے حوض کی طرح ہے، اس میں متعدد اقوال ہیں جو عنقریب آئیں گے، اور مردوں اور عورتوں کو حَمام میں داخل ہونے میں حرج نہیں،

وفی الفتاوی حوض الماء اذا اغترف رجل منہ وبیدہ نجاسۃ وکان الماء یدخل من انبوبہ فی الحوض والناس یغترفون من الحوض غرفا متدارکا لم یتنجس۔ الحوض الصغیر اذا تنجس فدخل الماء من جانب وخرج من جانب فیہ اقاویل قال الصدر الشہید رحمہ اللّٰہ تعالٰی المختار انہ طاھر وان لم یخرج مثل ما فیہ وکذا البئر ولو امتلأ الحوض و خر ج من جانب الشط علی وجہ الجریان حتی بلغ المشجرۃ یطھر اما قدر ذراع اوذراعین فلا ولو خرج(۱) من النھر الذی دخل الماء فی الحوض لایظھر ۱؎ اھ۔ کلامہ الشریف بلفظ المنیف

اور فتاوٰی میں ہے کہ پانی کے حوض میں اگر کسی شخص نے اپنا ناپاک ہاتھ ڈالا اور اس حوض میں پانی نالی سے آرہا ہے اور لوگ اس حوض سے مسلسل چُلّو بھر کر پانی لے رہے ہیں تو یہ حوض ناپاک نہ ہوگا۔ چھوٹا حوض جب ناپاک ہوا اور اس میں پانی ایک طرف سے داخل ہو کر دوسری طرف سے نکل گیا تو اس میں کئی اقوال ہیں، صدر الشہید نے فرمایا مختاریہ ہے کہ یہ پاک ہے خواہ اس سے اتنی مقدار میں پانی نہ نکلا ہو جتنا کہ اس میں موجود ہے، اور یہی حکم کنویں کا ہے اور حوض بھر کر کنارے سے نکل گیا اور بہتا رہا یہاں تک کہ مشجرہ تک پہنچ گیا تو پاک ہوجائے گا، اور ایک ہاتھ یا دو ہاتھ پاک نہ ہوگا، اور اگر اُس نہر سے پانی نکلا جس سے حوض میں داخل ہُوا تھا تو پاک نہ ہوگا اھ

۱؎ خلاصۃ الفتاوٰی    الجنس الاول فی الحیاض    نولکشور لکھنؤ
 فقولہ(۲) ولو امتلأ الحوض وھو کذلک بالواو لابالفاء فی نسختی الخلاصۃ القدیمۃ جدا لیس تتمۃ قول الصدر الشھید ولا داخلا تحت المختار وقد قدمنا عن الھندیۃ عن المحیط عن الصدر الشھید انہ کما سال یطھر وقد وعد ان فیہ اقاویل ستأتی فلو کان ھذا تتمتہ لم یذکر الا قولا واحدا فوجب ان یکون ھذا قولا اخر مقابل المختار ولا یمکن جعل ماذکر عن الفتاوٰی قولا اٰخر لان الکلام فی حوض تنجس وتلک صورۃ عدمہ وقد قدم مثلھا عن التجرید فان کونھا لا تسقر لیس الا للغرف المتدارک فلیس فی الخلاصۃ اختیار تخصیص الجریان باکثر من ذراعین حتی یعکر علیہ بمخالفتہ اطلاقھم وانما حکاہ قولا وجعل المختار ھو الاطلاق اما عبارتا الظھیریۃ الا خیرتان فاقول ھما فیما دخل الماء الحوض وملأہ حتی طش منہ علی جوانبہ علی وجہ الانتضاح الخفیف اللازم للامتلاء بدخول قوی عنیف ولا یصدق علیہ السیلان من الجانب الاٰخر فلیس(۱) فیھما ماینافی عبارتہ الاولی(۲) الا تری الی قولہ فی الثالثۃ لایطھر مالم یخرج من جانب اخرنا ط الطھارۃ بمجرد الخروج فعلم ان ماذکر لایسمی خروجا من جانب اٰخر وما ھو الا الانتضاح الذی ذکرنا ھکذا ینبغی ان یفھم کلام العلماء وللّٰہ الحمد،

تو ان کا قول ''ولو امتلأ الحوض'' میرے پاس خلاصہ کے قدیم نسخہ میں یہ ایسا ہی واؤ کے ساتھ ہے فاء کے ساتھ نہیں، یہ نہ تو صدر الشہید کے قول کا تتمہ ہے اور نہ مختار کے تحت داخل ہے اور ہم نے ہندیہ سے محیط سے صدر الشہید سے نقل کیا کہ وہ بہتے ہی پاک ہوجائیگا، اور انہوں نے وعدہ کیا کہ اس میں کئی اقوال ہیں جو آئیں گے تو اگر یہ تتمہ ہوتا تو صرف ایک ہی قول ذکر کرتے تو لازم ہے کہ یہ قولِ مختار کے مقابل ہے اور جو فتاوٰی سے انہوں نے نقل کیا اس کو دوسرا قول قرار دینا صحیح نہیں، کیونکہ کلام اُس حوض میں ہے جو ناپاک ہوگیا اور وہ اُس کے ناپاک نہ ہونے کی صورت ہے اور اسی کی مثل تجرید سے انہوں نے نقل کیا، کیونکہ اس کا برقرار نہ رہنا تسلسل سے چُلّو بھرنے کی ہی وجہ سے ہے، تو خلاصہ میں دو ہاتھ سے زائد جاری ہونے کی تخصیص کو اختیار نہیں کیا، اگر ایسا ہوتا تو کہا جاسکتا تھا کہ وہ ان کے اطلاقات کی مخالفت کر رہے ہیں، انہوں نے تو اس کو محض حکایت کیا ہے، اور مختار اطلاق ہی کو قرار دیا ہے، اور ظہیریہ کی دو آخری عبارتوں کے متعلق میں کہتا ہوں یہ دونوں اُس صورت سے متعلق ہیں جبکہ پانی حوض میں داخل ہوا اور اس کو بھر دیا اور اس کے کناروں سے آہستہ آہستہ چھلکنے لگا یہ چیز عام طور پر اس وقت ہوتی ہے جب حوض میں پانی یک دم سختی کے ساتھ داخل ہوتا ہے، اور اس پر دوسری جانب سے بہنا صادق نہیں آتا ہے، تو ان میں کوئی ایسی چیز نہیں ہے جو ان کی پہلی عبارت کے منافی ہو، چنانچہ وہ تیسری صورت کے بارے میں فرماتے ہیں ''وہ اس وقت تک پاک نہ ہوگا جب تک دوسری طرف سے خارج نہ ہو جائے، انہوں نے طہارت کا دارومدار محض خروج پر رکھا، تو معلوم ہوا کہ جو انہوں نے ذکر کیا ہے اس کو خروج نہیں کہتے ہیں وہ تو محض چھینٹوں کا اڑنا ہے جیسا کہ ہم نے ذکر کیا، اور علماء کے کلام کو اسی طرح سمجھنا چاہئے وللہ الحمد،

وبہ ظہران قول(۳) العلامۃ ش فی صدر المسألۃ حتی (عہ۱) طف من جوانبھا حقہ ان یقول حتی سال من الجانب الاٰخر فربما لایزید ماذکر علی الانتضاح اولا یبلغہ ولا حاجۃ(۱) الی السیلان من جمیع الجوانب انما اللازم الخروج من جھۃ المقابل للدخول فلو کان(۲) الاناء مائلا فی ارض غیر مستویۃ وادخل فیہ الماء من جانبہ العالی وخرج من السافل کفی نعم لوصب فی الجانب السافل فعاد منہ لم یکف کما فی اٰخر عبارۃ الخلاصۃ وباللّٰہ التوفیق۔

اور اسی سے یہ بھی ظاہر ہوگیا کہ علامہ ش کی گفتگو مسئلہ کی ابتدا میں حتی طف من جوانبھا اس کی بجائے یوں کہنا چاہئے تھا کہ حتی سال من الجانب الاٰخر، تو جو انہوں نے ذکر کیا ہے وہ چھینٹوں سے نہیں بڑھے گا یا اس تک نہیں پہنچے گا، اور تمام کناروں سے بہنے کی حاجت نہیں ضرورت صرف اس امر کی ہے کہ جس طرف سے پانی داخل ہوا ہو اس کی مخالف جہت سے بہہ نکلے، اب اگر برتن کسی ناہموار زمین پر ہے اور ایک طرف کو جھکا ہوا ہے اور اس میں پانی اوپر کی طرف سے داخل ہو کر نچلی طرف سے نکل جائے تو کافی ہے، ہاں اگر نچلے حصہ میں بہایا جائے اور اُس سے واپس آجائے تو کافی نہ ہوگا جیسا کہ خلاصہ کی عبارت کے آخر میں ہے وباللہ التوفیق۔ (ت(

 (عہ۱) لم ارھذا الفعل ولا مصدرہ فی الصحاح ولا الصراح ولا المختار ولا القاموس ولا تاج العروس ولا مفردات الراغب ولا نھایۃ ابن الاثیر ولا الدر النثیر ولا مجمع البحار ولا المصباح المنیر انما فی القاموس طُفّ المکوک والاناء وطففہ محرکۃ وطفافہ ویکسر ما ملاء اصبارہ او ما بقی فیہ بعد مسح رأسہ او ھو جمامہ اوملؤہ واناء طفّان بلغ الکیل طفافہ اھ فی تاج العروس ھذا طف المکیال وطفافہ اذا قارب ملأہ اھ وقولہ اصبارہ ای جوانبہ وجمامہ ما علی رأسہ فوق طفافہ ویکون ذلک فی الدقیق ونحوہ یعلو رأسہ بعد امتلائہ ۱۲ منہ غفرلہ۔ (م(
اس فعل اور اس کے مصدر کو میں نے صحاح، صراح، مختار، قاموس، تاج العروس، مفرداتِ راغب، نہایہ ابن اثیر، درنثیر، مجمع البحار اور مصباح المنیر میں نہیں پایا۔ قاموس میں اتنا ہی ہے کہ برتن اور پیمانے کا طَف، طفَف (حرکت کے ساتھ) اور طَفاف(طا کو کسرہ بھی دیا جاتا ہے) اس کو کہا جاتا ہے جو اس کے کناروں کو بھر دے یا جو برتن کے سر پر ہاتھ پھیرنے کے بعد باقی بچ جائے یا اس کا ابھرنا ہے یا بھرنا ہے اور اناء طفاف اس برتن کو کہا جاتا ہے جو مقرر ناپ تک بھر جائے اھ تاج العروس میں ہے کہ کہا جاتا ہے ''یہ پیمانے کا طف ہے اور اس کا طفاف ہے''۔ یہ اس وقت بولا جاتا ہے جب پیمانہ بھرنے کے قریب ہو اھ اور قاموس نے ''اصبارہ'' جو کہا ہے تو اس سے مراد اس کے اطراف ہیں، اور ''جمامہ'' سے مراد وہ ہے جو برتن بھرنے کے بعد اور اُبھرا ہو اور یہ چیز آٹے وغیرہ میں پائی جاتی ہے کہ برتن بھرنے کے بعد اوپر تک اٹھا ہوتا ہے ۱۲ منہ غفرلہ (ت(

اصل ۵: اقول یہاں سے ظاہر ہوا کہ کسی محل(۱) کے جوف میں پانی کی حرکت اگرچہ گز وں ہو اُس محل کے حق میں جریان نہ ٹھہرے گی اُس کے بطن میں پانی کی جنبش اگرچہ باہر سے داخل ہونے پر ہوئی مگر اُس سے خارج تو نہ ہوا تو جریان کے دو رکن نہ پائے گئے مگر اُس محل کے اندر اگر دوسرا محل صغیر اور ہو اور پانی اس میں جاکر اُسے ابال دے تو اس کے حق میں ضرور جریان ہوجائیگا کہ اس میں سب ارکان متحقق ہوگئے اگرچہ دوسرے کے جوف سے خروج نہ ہو مثلاً دیگ میں ایک کٹورا رکھا ہے کٹورے میں ایک مینگنی پڑگئی وہ نکال کر پھینک دی اور کٹورے پر پانی بہایا کہ اُبل کر نکل گیا مگر دیگ سے نکلنا کیا معنی وہ بھری بھی نہیں تو بے شک کٹورا اور اس کا پانی پاک ہوگیا کہ زمین پر یا دیگ کے اندر رکھے ہونے کو حکم میں کچھ دخل نہیں وھذا ظاھر جدا (اور یہ بہت واضح ہے۔ ت(
اصل ۶: اقول اس جریان سے اگرچہ طہارت ہوجائے گی اور نجاست(۲) مرئیہ تھی اور نکال لی یا غیر مرئیہ تھی تو مطلقاً ہمیشہ طہارت رہے گی جب تک دوبارہ نجاست عارض نہ ہو مگر اگر نجاست مرئیہ ہے اور نہ نکالی تو حکمِ طہارت اُس وقت تک ہے جب تک یہ جریان باقی ہے پانی تھمتے ہی ظرف اور اس کے اندر کا پانی پھر ناپاک ہوجائیں گے کہ سبب یعنی نجاست موجود ہے اور مانع کہ جریان تھا زائل ہوگیا وھذا ایضا بوضوحہ غنی عن الایضاح (اور یہ بھی اپنے واضح ہونے میں کسی دلیل کا محتاج نہیں۔ ت(

منحۃ الخالق میں شرح ہدیہ ابن العماد لسیدی عبدالغنی النابلسی قدس سرہ القدسی سے ہے:

اذا وضع السرقین فی مقسم الماء الی البیوت وجری مع الماء فی القسا  طل(عہ۱) فالماء نجس فاذا رکد الزبل فی وسط القساطل وجری الماء صافیا کان نظیر مالو جری ماء الثلج علی النجاسۃ اوکان بطن النھر نجسا وجری الماء علیہ ولم یتغیر احد اوصافہ بالنجاسۃ فان ذلک الماء طاھر کلہ کذلک ھذا فاذا وصل الماء الی الحیاض فی البیوت فان وصل متغیر احد اوصاف بالزبل اوعین الزبل ظاھرۃ فیہ فھو نجس من غیر شک فاذا استقر فی حوض دون القدر الکثیر فھو نجس وان صفا بعد ذلک فی الحوض و زال تغیرہ بنفسہ لانہ ماء نجس والماء النجس لایطھر بزوال تغیرہ بنفسہ لاسیما وقد رکد الزبل فی اسفلہ وان استقر فی حوض کبیر فھو نجس ایضا مادام متغیرا او زال تغیرہ بنفسہ ایضا واما اذا استمر الماء جاریا وزوال تغیر الحوض بالماء الصافی یطھر الماء کلہ سواء کان الحوض صغیرا اوکبیرا وان کان الزبل فی اسفلہ راکدا مادام الماء الصافی فی ذلک الحوض یدخل من مکان ویخرج من مکان فاذا انقطع الجریان وکان الحوض صغیرا والزبل فی اسفلہ راکدا فالحوض نجس ۱؎ اھ۔

جب گوبر پانی میں ایسے مقام پر رکھ دیا جائے کہ وہاں سے پانی مختلف گھروں کو منقسم ہو کر جاتا ہو اور وہ گوبر پانی کے ساتھ قساطل میں جاری ہوا، تو پانی ناپاک ہوجائیگا،تو اگر گوبر قساطل کے درمیان جم گیا اور صاف پانی بہنے لگا، تو یہ ایسا ہے جیسا کہ برف کا پانی نجاست پر بہنے لگے یا نہر کا پیٹ ناپاک ہو اور اس پر پانی جاری ہو اور نجاست سے اس کے اوصاف میں سے کوئی وصف متغیر نہ ہوا تو یہ پورا پانی پاک ہے، اب پانی جب گھروں کے حوضوں میں پہنچے تو اگر پانی کا کوئی وصف متغیر ہو کر پہنچا ہے یا پانی میں بعینہٖ گوبر ظاہر ہے تو وہ بلاشبہ ناپاک ہے، اور اگر کثیر مقدار میں نہ ہو اور حوض میں ٹھہر جائے تو وہ ناپاک ہے، اگرچہ اس کے بعد حوض میں صاف ہوجائے اور اس کا تغیر خود بخود زائل ہوجائے کیونکہ وہ ناپاک پانی ہے اور ناپاک پانی تغیر کے ازخود زائل ہونے کی وجہ سے پاک نہیں ہوتا ہے خاص طور پر ایسی صورت میں جبکہ گندگی اس کے نیچے جمی ہوئی ہے اور اگر گندگی بڑے حوض میں جم جائے تو جب تک متغیر رہے گا ناپاک رہے گا، یا اس کا تغیر خود بخود ختم ہوجائے، اور اگر پانی مسلسل جاری رہے اور حوض کا تغیر صاف پانی کی وجہ سے ختم ہوجائے، اس صورت میں کل پانی پاک ہوجائیگا خواہ حوض چھوٹا ہو یا بڑا، اگرچہ گندگی اُس کی تہ میں جمی ہوئی ہو بشرطیکہ صاف پانی اس میں ایک جانب سے داخل ہوتا ہو اور دوسری جانب سے خارج ہوتا ہو، تو جب پانی کا جاری ہونا بند ہوجائے اور حوض چھوٹا ہو اور گندگی اس کی تہ میں جمی ہوئی ہو تو حوض ناپاک ہے۔ (ت(

 (عہ۱) اعتید فی بلادنا القاء زبل الدواب فی مجاری الماء الی البیوت لسد خلل تلک المجاری المسماۃ بالقساطل اھ ش لایجری الماء الابہ ای بالزبل لکونہ یسد خروق القساطل لا ینفذ الماء منھا ویبقی جاریا فوقہ اھ شرح ھدیۃ ابن العماد قلت وھی لغۃ مستحدثۃ ۱۲ منہ غفرلہ۔ (م(
ہمارے ممالک میں چوپایوں کا گوبر وغیرہ پانی کی گزرگاہ میں ڈال دیتے ہیں تاکہ ان نالیوں کے سوراخ بند ہوجائیں، اس خلل کو قساطل کہتے ہیں اھ ش تو پانی اس گوبر کے ساتھ ہی جاری ہوگا کیونکہ یہ اُن سوراخوں کو بند کرتا ہے جن سے پانی جاری ہوتا ہے، تو پانی ان کے اندر سے نہیں نکلتا ہے بلکہ اوپر سے بہتا ہے اھ شرح ہدیہ ابن العماد، میں کہتا ہوں یہ جدید لغت ہے۔ (ت(

 (۱؎ منحۃ الخالق علی حاشیۃ بحرالرائق    بحث الماء الجاری    ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۱/۸۵)

اقول: کلام طیب من طیب طیب اللّٰہ تعالی ثراہ وقد اقرہ الشامی وغرضنا یتعلق ھھنا بجملتہ الاخیرۃ غیر ان قولہ وجری مع الماء فالماء نجس یحمل علی ما اذا تغیر فان المحقق(۱) المعتمد ان الجاری لاینجس مالم یتغیر حتی موضع المرئیۃ وکذا الکثیر الملحق بہ علی المعتمد رجحہ المحقق علی الاطلاق وقال تلمیذہ قاسم انہ المختار درواستحسنہ تلمیذہ الاٰخر ابن امیر الحاج وایدہ بالحدیث وکذا ایدہ سیدی عبدالغنی وھو ظاھر المتون ش وفی الدر عن جامع الرموز عن جامع المضمرات عن النصاب علیہ الفتوٰی وفی ش عن البحر عن الحلیۃ عن النصاب بہ یفتی فاذا کان ھو الثابت بالحدیث وھو ظاھر المتون وعلیہ الفتوی فقد سقط ماسواہ ثم قولہ رحمہ اللّٰہ تعالی الماء النجس لایطھر بزوال تغیرہ بنفسہ۔ فاقول ھذا کما ذکرہ فی غیر الجاری لقول الخلاصۃ ماء نجس یجعلونہ(۲) فی نھر کبیر ان کان کثیرا بحیث لایتغیر لایتنجس وان تغیر تنجس ویطھر بساعۃ یعنی اذا انقطع اللون والرائحۃ اھ۔

میں کہتا ہوں یہ بہت اچھا کلام ہے، اس کو شامی نے برقرار رکھا ہے اور یہاں ہماری غرض آخری جُملہ سے متعلق ہے البتہ اتنی بات ہے کہ اس کا قول ''وجری مع الماء فالماء نجس'' اس کو اس پر محمول کیا جائیگا جبکہ پانی میں تغیر آجائے کیونکہ محقَّق معتمد قول یہ ہے کہ جاری پانی اس وقت تک نجس نہ ہوگا جب تک کہ اس میں تغیر نہ آجائے یہاں تک کہ نجاست مرئیہ کی جگہ بھی اور اسی طرح کثیر بھی قول معتمد پر اسی کے ساتھ ملحق ہے، اس کو محقق علی الاطلاق نے ترجیح دی اور ان کے شاگرد قاسم نے کہا کہ یہی مختار ہے (دُر) اور اس کو ان کے دوسرے شاگرد ابن امیر الحاج نے مستحسن قرار دیا اور اس کی تائید حدیث سے کی اور اس کی تائید سیدی عبدالغنی نے بھی کی اور متون سے بھی یہی ظاہر ہے ''ش'' اور دُر میں جامع الرموز سے جامع المضمرات سے نصاب سے یہ ہے کہ اسی پرفتوٰی ہے اور شامی میں بحر سے حلیہ سے نصاب سے ہے بہ یفتی پھر جب حدیث سے یہی ثابت اور متون سے بھی یہی ظاہر اور فتوی بھی اسی پر ہے تو اس کے ہوتے ہوئے باقی سب ناقابل اعتبار ہے۔ پھر اُن کا قول ''نجس پانی اس کے تغیر کے از خود زائل ہونے کی وجہ سے پاک نہ ہوگا'' میں کہتا ہوں یہ اُس پانی میں ہے جو جاری نہ ہو، کیونکہ خلاصہ میں ہے کہ ایک نجس پانی کو اگر بڑی نہر میں کرلیں تو اگر وہ کثیر ہے اور متغیر نہیں ہوتا ہے تو ناپاک نہ ہوگا اور اگر متغیر ہوگیا تو ناپاک ہوجائے گا اور فوراً ہی پاک ہوجائے گا یعنی جُونہی رنگ اور بُو ختم ہوگی اھ۔

زاد فی نسخۃ مانصہ فی نسخۃ القاضی الامام سلمہ اللّٰہ تعالٰی ۱؎ اھ۔ ای ھذا مذکور فی نسختہ والمراد بہ الامام فقیہ النفس ولم ارہ فی فتاواہ واللّٰہ تعالی اعلم ولقول سیدی نفسہ اذا رکدا لزبل فی وسط القساطل وجری الماء صافیا طھر،

زائد کیا ایک نسخہ میں، اصل عبارت یہ ہے ''قاضی امام سلّمہ اللہ تعالٰی کے نسخہ میں اھ'' یعنی یہ اُن کے نسخہ میں مذکور ہے اور اس سے مراد امام فقیہ النفس ہیں اور یہ چیز ان کے فتاوٰی میں نہیں دیکھی ہے واللہ تعالٰی اعلم اور سیدی عبدالغنی خود فرماتے ہیں کہ جب گندگی قساطل کے درمیان جم جائے اور پانی صاف جاری ہو تو پاک ہوجائیگا،

 (۱؎ خلاصۃ الفتاوی    جنس آخر فی التوضی الخ    نولکشور لکھنؤ        ۱/۹)

و فی ردالمحتار فی دیارنا انھار المساقط تجری بالنجاسات وترسب فیھا لکنھا فی النھار تتغیر ولا کلام فی نجاستھا ح وفی اللیل یزول تغیرھا فیجری فیھا الخلاف لجریان الماء فیھا فوق النجاسۃ قال فی خزانۃ الفتاوی لوکان(۱) جمیع بطن النھر نجسا فانکان الماء کثیرا لایری ماتحتہ فھو طاھر والافلا وفی الملتقط قال بعض المشائخ الماء طاھر وان قل اذا کان جاریا ۲؎ اھ۔

اور ردالمحتار میں ہے کہ ہمارے ملک میں گندگی گرنے کی جگہوں پر جو نہریں ہوتی ہیں ان میں نجاست جاری رہتی ہے اور پھر بہتی جاتی ہے اور یہ نجاست دن میں متغیر ہوجاتی ہے اور اس وقت ان کی نجاست میں کوئی کلام نہیں اور رات کو اُن کا تغیر زائل ہوجاتا ہے تو اس میں اختلاف ہے کیونکہ اس میں پانی نجاست کے اوپر جاری رہتا ہے، خزانۃ الفتاوٰی میں فرمایا ''اگر نہر کا کل پیٹ ناپاک ہو تو اگر پانی کثیر ہے کہ اس کی تہہ نظر نہ آتی ہو تو وہ پاک ہے ورنہ نہیں، اور ملتقط میں ہے کہ بعض مشائخ نے فرمایا پانی پاک ہے اگرچہ کم ہو جبکہ جاری ہو اھ (ت(

 (۲؎ ردالمحتار        باب المیاہ        مصطفی البابی مصر    ۱/۱۳۸)

اقول مافی الملتقط مبتن علی الصحیح المفتی بہ وما فی الخزانۃ علی القول الاٰخر الدائر فی کثیر من الکتب  الجاری ان جری نصفہ اواکثر علی نجاسۃ مرئیۃ تنجس وھی المرادۃ فی الخزانۃ لقول الھندیۃ عن المحیط اذا کانت الجیفۃ تری من تحت الماء لقلۃ الماء لالصفائہ کان الذی یلاقیھا اکثر اذا کان سدعرض الساقیۃ وان کانت لاتری اولم تاخذ الا الاقل من النصف لم یکن الذی یلاقیھا اکثر ۱؎ اھ

میں کہتا ہوں جو کچھ ملتقط میں ہے وہ صحیح مفتی بہ پر مبنی ہے، اور جو خزانہ میں ہے وہ دوسرے قول پر مبنی ہے جو بہت سی کتابوں میں مذکور ہے کہ جاری پانی اگر اس کا نصف یا زائد کسی نجاست مرئیہ پر جاری ہو تو ناپاک ہوجائے گا، اور یہی خزانہ میں مراد ہے، اس لئے کہ ہندیہ میں محیط سے ہے کہ جب مردار پانی کے نیچے نظر آئے اس کی کمی کے باعث نہ کہ پانی کی صفائی کے باعث تو جو اُس مردار سے متصل ہو جائے وہ زیادہ ہوگا، جبکہ نہر کی چوڑائی کو بند کردے، اور اگر مردار نظر نہ آئے یا آدھے سے کم راستے کو بند کرے تو جو اُس سے ملاقات کرتا ہے وہ پانی اکثر نہیں ہوگا اھ

 (۱؎ ہندیۃ    الفصل الاول فیما یجوز    نورانی کتب خانہ پشاور    ۱/۱۷)

وایاک ان تظن ان کلام الخزانۃ علی ظاھر اطلاقہ ولو تنجس بطن النھر بغیر مرئیۃ توھما ان بطن النھر اذا کان نجسا وھو یری فقدمر الماء کلہ علی نجاسۃ مرئیۃ وان کان لایری لکثرۃ الماء لالکدرتہ فانما جری علی غیر مرئیۃ فلا یتأثر بالتغیر وذلک لان العبرۃ بالنجس لاالمتنجس کما بیناہ فی فتاوٰنا لکن لقائل ان یقول ان العلۃ فی غیر المرئیۃ انہ اذالم یظھر اثرھا علم ان الماء ذھب بعینھا کما فی البحر وغیرہ اما ھھنا فبطن النھر کلہ نجس فالماء اینما ذھب لایلاقی الا نجسا تأمل ولا حاجۃ فان الفتوی علی اعتبار الاثر مطلقا فی الجاری والکثیر معانعم(۱) ظاھر کلام سیدی وتقریر الشامی ھھنا ان الکثیر الملحق بالجاری لایلحق بہ فی التطھیر بزوال التغیر لقولہ وان استقر فی حوض کبیر فھو نجس وان زال تغیرہ بنفسہ فلیحرر ولینظر وجہہ فان الذی فی المنیۃ من فصل الحیاض فی مسألۃ حوض الحمام مانصہ الا تری ان الحوض الکبیر الحق بالماء الجاری علی کل حال لاجل الضرورۃ ۱؎ قال فی الحلیۃ الجملۃ من الذخیرۃ ۲؎ اھ واللّٰہ تعالٰی اعلم۔

اور خزانہ کے کلام کو اُس کے ظاہر پر محمول نہ کرنا چاہئے اور اگر نہر کی تَہ نجاستِ غیر مرئیہ سے ناپاک ہوگئی اس تو ہم پر کہ نہر کی تہہ جس وقت ناپاک ہو اور وہ نظر آتی ہو تو اس کا مطلب یہ ہے کہ کل پانی نجاستِ مرئیہ پر جاری ہوگیا، اگرچہ وہ نظر نہ آتی ہو پانی کی کثرت کے باعث، نہ کہ اس کے گدلے پن کے باعث، کیونکہ وہ پانی نجاستِ غیر مرئیہ پر جاری ہوا ہے تو وہ تغیر سے متاثر نہ ہوگا، کیونکہ اعتبار نجاست کا ہوگا نہ کہ ناپاک ہونے والی شَے کا، جیسا کہ ہم نے اپنے فتاوٰی میں بیان کیا، لیکن کوئی کہنے والا کہہ سکتا ہے کہ علۃغیر مرئیہ میں یہ ہے کہ جب اس کا اثر ظاہر نہ ہوا تو اُس کا مطلب یہ ہے کہ اُس نجاست کو پانی بہا لے گیا ہے جیسا کہ بحر وغیرہا میں ہے، اور یہاں نہر کا پیٹ تمام کا تمام ناپاک ہے تو پانی جہاں بھی جائیگا نجس سے ملاقات کرے گا تأمل، اور کوئی ضرورت بھی نہیں، کیونکہ جاری اور کثیر پانی میں فتوی مطلقا اثر کے اعتبار پر ہے، ہاں سیدی عبدالغنی اور شامی کی تقریر کا ظاہر یہ ہے کہ یہاں کثیر جو جاری کے ساتھ ملحق ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پاک ہونے میں اس کے ساتھ ملحق نہیں کیا جائیگا پاک ہونے میں تغیر کے ختم ہوجانے کے باعث کیونکہ وہ فرماتے ہیں اور اگر وہ بڑے حوض میں ٹھہر جائے تو ناپاک ہے اگرچہ اس کا تغیر از خود زائل ہوجائے، اس کو اچھی طرح سمجھنا چاہئے اور اس کی وجہ پر غور کرنا چاہئے کیونکہ منیہ میں حوضوں کی فصل میں حمام کے حوض کے بیان میں ہے اس کی اصل عبارت یہ ہے ''کیا تم نہیں دیکھتے ہو کہ بڑا حوض جاری پانی سے ملحق ہے اور یہ علیٰ کل حال ہے اور اس کی وجہ ضرورت ہے، حلیہ میں فرمایا یہ تمام ذخیرہ سے ہے واللہ تعالٰی اعلم۔ (ت(

 (۱؎ منیۃ المصلی        فصل فی الحیاض    مکتبہ قادریہ جامعہ نظامیہ لاہور    ص۷۳)
(۲؎ حلیۃ)

اصل ۷: فتوٰی(۱) اس پر ہے کہ پانی کا عرض میں پھیلنا اس کے جریان کو نہیں روکتا جبکہ پانی آگے نکل جاتا ہو، مثلاً نہ۹ در نہ۹ حوض ہے اُس میں پانی ایک طرف سے آیا دوسری طرف سے نکل گیا جاری ہوگیا اگرچہ عرض میں نو ہاتھ پھیلنے کے لئے ضرور وقفہ درکار ہوگا اور اُتنی جلد پانی اُس سے نہ نکل سکے گا جس قدر جلد تین چار ہاتھ کے عرض سے نکل جاتا ہندیہ میں ہے:

اذا کان الحوض صغیرا یدخل فیہ الماء من جانب ویخرج من جانب یجوز الوضوء من جمیع جوانبہ وعلیہ الفتوی من غیر تفصیل بین ان یکون اربعا فی اربع اواقل فیجوز اواکثر فلا یجوز کذا فی شرح الوقایۃ وھکذا فی الزاھدی ومعراج الدرایۃ ۳؎۔

جب حوض چھوٹا ہو اور اس میں پانی ایک طرف سے دوسری طرف سے نکل جاتا ہو تو اس کے تمام اطراف سے وضو جائز ہے، اور اسی پر فتوٰی ہے، اس میں یہ تفصیل بھی نہیں کہ وہ چار در چار ہو یا کم ہو تو جائز ہوگا اور اگر زائد ہو تو جائز نہ ہوگا کذا فی الشرح الوقایہ والزاہدی ومعراج الدرایہ۔ (ت(

 (۳؎ ہندیۃ        الفصل الاول فیما یجوز    نورانی کتب خانہ پشاور        ۱/۱۷)

بحر میں ہے:فی معراج الدرایۃ یفتی بالجواز مطلقاواعتمدہ فی فتاوی قاضی خان ۱؎۔ معراج الدرایہ میں ہے جواز کا مطلقا فتوی دیا جائیگا اور قاضی خان میں اسی پر اعتماد کیا ہے۔ (ت(

 (۱؎ بحرالرائق        عشر فی عشر        ایچ ایم سعید کمپنی کراچی        ۱/۷۸)

فتاوٰی ذخیرۃ وتتمۃ الفتاوی الصغری پھر حلیہ میں ہے: علیہ الفتوی لان ھذا ماء جار ۲؎۔ اسی پر فتوٰی ہے کیونکہ یہ جاری پانی ہے۔ (ت(

 (۲؎ حلیہ)

بلکہ پانی کا گھومنا ایک(۱) دائرہ پر چکر کھانا جس طرح بھنور میں ہوتا ہے یہ بھی مانع جریان نہیں کہ بھنور پانی کو روک نہیں رکھتا چکر دے کر نکال دیتا ہے اوپر سے دوسرا پانی آتا اب اسے گُھما کر چھوڑ دیتا ہے یہ سلسلہ قائم رہنے کے باعث گمان ہوتا ہے کہ ایک ہی پانی گھوم رہا ہے یہ بات غیر آب کے ڈالنے سے متمیز ہوسکتی ہے مثلا اوپر سے لکڑی ڈالی جائے بھنور پر پہنچ کر چکر کھا کر اُس طرف نکل جائے گی اور اگر بھنور قوی ہوا اسے گھمانے میں دبا کر دو۲ ٹکڑے کر دے گا اور چکّر دے کر نکال دے گا، فسبحن من خلق ماشاء کیف شاء ولا یجری فی ملکہ الا مایشاء  (پاک وہ ذات جس نے پیدا کیا جو چاہا جیسے چاہا اور نہیں چلتی کوئی شے اس کے ملک میں مگر جسے وہ چاہے۔ (ت(

منیہ مسئلہ حوض چار درچار میں ہے: الظاھر ان الماء لایستقر فی مثلہ بل یدور حولہ ثم یخرج فیکون کالجاری ۳؎۔ ظاہر یہ ہے کہ پانی ایسی جگہ میں نہیں ٹھہرتا بلکہ اس کے اردگرد چکر کھاتا ہے پھر نکل جاتا ہے تو یہ جاری پانی کی طرح ہے۔ (ت(

 (۳؎ منیۃ المصلی    فصل فی الحیض    مکتبہ قادریہ جامعہ نظامیہ رضویہ لاہور    ص۷۲)

حلیہ میں ہے:کذا فی الذخیرۃ وتتمۃ الفتاوی الصغری حکایۃً عن الشیخ الامام ابی الحسن الرستغفنی ۴؎۔ جیسے ذخیرۃ اور تتمۃ الفتاوی الصغری میں شیخ الامام ابی الحسن الرستغفنی سے حکایت ہے (ت(  (۴؎ حلیہ)

اصل ۸: حوض وغیرہ کے جریان میں اگرچہ خروج لازم تھا مگر ملحق بالجاری یعنی دہ دردہ میں اس کی حاجت نہیں گرمیوں(۲) کے خشک تالاب میں جانوروں کے گوبر وغیرہ نجاستیں پڑی ہیں برسات میں پانی آیا اور اُسے بھر دیا اگر تالاب کے جوف میں جہاں سے پانی نے گزر کر اُسے بھرا نجاست ہے جب تو سارا تالاب نجس ہوگیا اگرچہ کتنا ہی بڑا ہو جب تک بھر کر اُبل نہ جائے۔
اقول اس لئے کہ جب بارش یا بہاؤ کا پانی اس کے جوف میں داخل ہوا اب جب تک کہ اُس کے بطن میں متحرک رہے گا جاری نہ کہلائے گا کہ جریان کے لئے خروج شرط ہے اور یہ غیر جاری پانی نجاست سے اُس وقت مِلا کہ ہنوز دہ در دہ نہ تھا کہ جوف میں اس کے مدخل ہی پر نجاستیں تھیں تو نہ جاری ہے نہ کثیر لاجرم ناپاک ہوگیا یوں ہی جتنا پانی آتا گیا ناپاک ہوتا گیا اور نجس پانی کثیر ہوجانے سے پاک نہیں ہوسکتا جب تک جاری نہ ہوجائے اور اگر مدخل آب میں اتنی دُور تک نجاست نہیں کہ وہاں تک آنے والے پانی کے عرض طول کا مسطح سَو ہاتھ تک پہنچ گیا اُس کے بعد نجاست سے مِلا تو اب ناپاک نہ ہوگاکہ کثیر ہو کر ملا اگرچہ جوف سے باہر نہ گیا۔

اقول وبما قررنا ظھران المسألۃ مبتنیۃ علی الاصل الثالث لاعلی خلافیۃ مرور نصف الماء اواکثرہ علی نجاسۃ مرئیۃ فان الفتوی فیھا علی الطھارۃ مطلقا مالم یتغیر نعم ان لقی(۱) الماء النجاسات فی طریقہ علی شاطیئ الغدیر قبل ان یدخلہ کان علی الخلافیۃ لانہ جار بخلاف المتحرک فی بطن الغدیر کما علمت۔

اقول اور جو تقریر ہم نے کی ہے اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مسئلہ تیسری اصل پر مبنی ہے، اس اختلافی مسئلہ پر مبنی نہیں ہے کہ آدھا پانی یا اکثر نجاست مرئیہ پر گزرے، کیونکہ اس میں فتوٰی مطلقا طہارت پر ہے تاوقتیکہ تغیر نہ ہو، ہاں اگر پانی ملے اپنے راستہ میں ان نجاستوں کے ساتھ جو گڑھے کے کنارے پر ہے قبل اس کے کہ وہ گڑھے میں داخل ہو، تو یہ اختلافی مسئلہ ہوگا، کیونکہ وہ جاری ہے بخلاف اس پانی کے جو تالاب کی تہ میں حرکت کر رہا ہو جیسا کہ تو نے جانا۔ (ت(

فتاوی خانیہ وخزانۃ المفتین اور محیط پھر حلیہ نیز خلاصہ وفتح القدیر میں فتاوی اور بحر وہندیہ میں فتح اور غیاثیہ نیز ذخیرہ پھر حلیہ میں فتاواے اہل سمر قند سے ہے: واللفظ لفقیہ النفس غدیر عظیم یلبس فی الصیف وراثت الدواب فیہ (زاد فی الخلاصۃ والفتح والذخیرۃ والناس) ثم دخل فیہ الماء وامتلأ ینظر ان کانت النجاسۃ فی موضع دخول الماء فالکل نجس وان انجمد ذلک الماء کان نجسا لان کل مادخل فیہ صار نجسا فلا یطھر بعد ذلک وان لم تکن النجاسۃ فی موضع دخول الماء واجتمع الماء فی مکان طاھر وھو عشر فی عشرثم تعدی الی موضع النجاسۃ کان الماء طاھرا والمنجمد منہ طاھر مالم یظھر فیہ اثر النجاسۃ (قال فی الذخیرۃ لان الماء صار کثیرا قبل ان یتنجس فلا یتنجس بعد ذلک لاتصال النجاسۃ بہ اھ زاد فی الخانیۃ) وکذا(۱) الغدیر اذا قل ماؤہ فصارا ربعا فی اربع ووقعت نجاسۃ ثم دخل الماء الی ان صار الماء الجدید عشرا فی عشر قبل ان یصل الی النجس کان طاھرا ۱؎۔

اور الفاظ فقیہ النفس کے ہیں، ایک عظیم تالاب جو گرمی میں خشک ہوگیا اور اس میں چوپایوں نے لِید کر دی (خلاصہ اور فتح میں اور ذخیرہ میں لوگوں کا بھی اضافہ ہے) پھر اس میں پانی داخل ہوگیا اور وہ گڑھا بھر گیا، تو دیکھا جائے گا اگر نجاست پانی کے داخل ہونے کی جگہ پر ہے تو کل پانی نجس ہے، اور اگر یہ پانی منجمد ہوگیا تو نجس ہوجائیگا، کیونکہ اس میں جو بھی داخل ہوگا وہ نجس ہوجائیگا، اور اس کے بعد پاک نہ ہوگا، اور اگر نجاست پانی کے داخل ہونے کی جگہ نہ ہو اور پانی پاکیزہ جگہ پر جمع ہوجائے، اور وہ دَہ در دَہ ہو پھر پانی نجاست کی جگہ چلا گیا تو پانی پاک ہوگا اور جو منجمد ہوگیا وہ اس وقت تک پاک رہے گا جب تک نجاست کا اثر اس پر ظاہر نہ ہو (ذخیرہ میں فرمایا اس لئے کہ پانی نجس ہونے سے پہلے کثیر ہوگیا تو اس کے بعد نجس نہ ہوگا نجاست کے پانی کے ساتھ مل جانے کی وجہ سے اھ ۔خانیہ میں اضافہ کیا) اور اسی طرح تالاب کا پانی جب کم ہوجائے اور چار در چار ہوجائے اور اس میں نجاست داخل ہوجائے پھر اس میں نیا پانی آجائے یہاں تک کہ نجاست کو پہنچنے سے قبل دہ در دہ ہوجائے تو پاک ہوجائے گا۔ (ت(

۱؎ فتاوی قاضی خان     فصل الماء الراکد    نولکشور لکھنؤ    ۱/۴    والمزید من الذخیرۃ وھی لیست بموجودہ

ایسا(عہ۱) ہی جواہر اخلاطی میں ہے۔

 (عہ۱) ونصھا حوض عشر فی عشر قل ماؤہ ثم وقعت النجاسۃ ثم دخل الماء حتی امتلأ الحوض ولم یخرج منہ شیئ لایجوز التوضی بہ لانہ کلما دخل الماء یتنجس اھ منہ غفرلہ (م(
اس کی عبارت یہ ہے کہ ایک حوض دہ در دہ ہو اس کا پانی کم ہوجائے پھر اس میں نجاست پڑ جائے پھر حوض بھر جائے اوراس سے کُچھ نہ نکلے، تو اس سے وضو جائز نہیں اس لئے کہ جو پانی بھی داخل ہوگا وہ ناپاک ہوجائیگا اھ (ت(

اصل ۹: اقول وباللہ التوفیق ایک فائدہ نفیسہ ہے کہ شاید اس کی تحریر فقیر کے سوا دوسری جگہ نہ ملے اثر نجاست قبول نہ کرنے کو پانی کا جریان چاہئے سیلان کافی نہیں سائل وجاری میں عموم وخصوص مطلق ہے ہر جاری سائل ہے اور ہر سائل جاری نہیں دیکھو بطن حوض میں جو پانی نل سے داخل ہوا اور دوسرے کنارے تک پہنچا اُس وقت ضرور سائل ہے مگر جاری نہ ٹھہرا جب تک دوسری طرف سے نکل نہ جائے اور اس پر دلیل قاطع آب وضو ہے کہ ضرور اعضائے وضو پر سائل ہے فانہ غسل ولا غسل الا بالاسالۃ (پس بیشک وضو دھونا ہے اور دھونا بغیر اسالۃ کے ممکن نہیں ہے۔ ت) مگر جاری نہیں ورنہ مستعمل نہ ہوتا کہ آب جاری استعمال تو استعمال نجاست سے متاثر نہیں ہوتا جب تک متغیر نہ ہو یونہی بدن یا کپڑے کی ناپاکی جس پانی سے دھوئی اس نے بدن یا ثوب پر سیلان ضرور کیا ورنہ استخراج نجاست نہ کرتا مگر جاری نہیں ورنہ ناپاک نہ ہوجاتا حالانکہ تین بار(۱) دھونے میں امام کے نزدیک تینوں پانی ناپاک ہیں اور صاحبین کے نزدیک دو ناپاک ہیں تیسرا جب بدن یا کپڑے سے جدا ہوجائے پاک ہے، تنویر میں ہے: ماء ورد علی نجس نجس کعکسہ ۱؎۔ پانی جو وارد ہوا نجس پر نجس ہے جیسا کہ اس کا عکس ہے۔ (ت(

 (۱؎ الدرالمختار    فصل الانجاس    مجتبائی دہلی        ۱/۵۵)

ردالمحتار میں ہے:الورود یشمل مااذا جری علیھا وھی علی ارض اوسطح وما اذا صب فوقھا فی اٰنیۃ بدون جریان ۲؎۔ ورود کا لفظ اس صورت کو بھی شامل ہے جب پانی نجاست پر بہے اور وہ زمین یا سطح پر ہو اور اس صورت کو بھی شامل ہے کہ جب پانی نجاست کے اوپر بہایا جائے کسی برتن میں اور اس میں جریان نہ ہو۔ (ت(

 (۲؎ ردالمحتار     فصل الانجاس       مصطفی البابی مصر    ۱/۲۳۸)

بحرالرائق میں ہے:القیاس یقتضی تنجس الماء باول الملاقاۃ للنجاسۃ لکن سقط للضرورۃ سواء کان الثوب فی اجانۃ و اورد الماء علیہ اوبالعکس عندنا فھو طاھر(۲) فی المحل نجس اذا انفصل سواء تغیرا ولا وھذا فی الماءین اتفاقا اما الثالث فھو نجس عندہ لان طہارتہ فی المحل ضرورۃ تطہیرہ وقد زالت طاھر عندھما اذا انفصل والاولی(۳) فی غسل الثوب النجس وضعہ فی الاجانۃ من غیرماء ثم صب الماء علیہ لاوضع الماء اولا خروجا من خلاف الامام الشافعی فانہ یقول بنجاسۃ الماء ۱؎۔

قیاس یہ چاہتا ہے کہ پانی پہلی ہی ملاقاۃ میں ناپاک ہوجاتا ہے نجاست کی وجہ سے لیکن ضرورت کی وجہ سے قیاس ساقط ہوگیا خواہ کپڑا ٹب میں ہو اور اس پر پانی وارد ہو یا بالعکس ہو یہ ہمارے نزدیک ہے، تو یہ اپنے محل میں طاہر ہے اور جب جُدا ہوگا تو نجس ہوگا خواہ متغیر ہو یا نہ ہو، یہ دو پانیوں میں اتفاقاً ہے، اور تیسرا تو وہ ان کے نزدیک نجس ہے کیونکہ اس کی طہارت محل میں ضرورت کی وجہ سے ہے، اور یہ ضرورت محل کی طہارت کی ہے اور وہ ضرورت زائل ہوگئی، صاحبین کے نزدیک جُدا ہوتے ہی پاک ہوجائیگا نجس کپڑے کو دھونے کا بہتر طریقہ یہ ہے کہ اس کو خشک ٹب میں رکھا جائے پھر اس پر پانی بہایا جائے یہ نہیں کہ پہلے ٹب میں پانی موجود ہو امام شافعی کے اختلاف سے بچنے کیلئے اس میں امام شافعی کا قول ہے کہ پانی نجس ہوجائیگا۔ (ت(

 (۱؎ ردالمحتار    باب الانجاس        مصطفی البابی مصر    ۱/۲۳۹)

ردالمحتار میں اس کے بعد فرمایا:ولا فرق(۱) علی المعتمد بین الثوب المتنجس والعضو ۲؎ اھ۔ یشیر الی خلاف ابی یوسف لاشتراط الصب فی العضو کما فی البدائع۔

معتمد قول کے مطابق ناپاک کپڑے اور عضو کے درمیان کوئی فرق نہیں اھ ط اھ اس میں ابو یوسف کے اختلاف کی طرف اشارہ ہے وہ عضو پر پانی بہانے کو شرط قرار دیتے ہیں، جیسا کہ بدائع میں ہے۔ (ت(

 (۲؎ ردالمحتار    باب الانجاس        مصطفی البابی مصر    ۱/۲۳۹)

اقول وظاھر التعلیل بضرورۃ تطھیر الثوب انہ طاھر فی حق ذلک الثوب لاغیر(۲) فلو وضع الثوب النجس فی اجانۃ وصب الماء فوقع فیہ ثوب اٰخر طاھر یتنجس وان لم ینفصل الماء عن الثوب الاول بعد لان ماکان بضرورۃ تقدر بقدرھا فمن کان یصلی و وقع طرف ردائہ فی الاجانۃ فاصابہ اکثر من الدرھم وھو یتحرک بتحرکہ لم تجز صلاتہ ھذا ماظھر فلیحرر واللّٰہ تعالٰی اعلم۔

میں کہتا ہوں، اور بظاہر تعلیل یہ ہے کہ یہ کپڑا ضرورۃً پاک ہے تو یہ پاکی اِسی کپڑے تک محدود رہے گی لہٰذا اگر ایک ناپاک کپڑا طشت میں رکھا گیا اور اس پر پانی بہایا گیا پھر اسی طشت میں کوئی اور پاک کپڑا گِر گیا تو وہ ناپاک ہوجائے گا اگرچہ اب تک پہلے کپڑے سے پانی جُدا نہ ہوا ہو کیونکہ جو چیز بوجہ ضرورت ہوتی ہے وہ بقدرِ ضرورت ہی رہتی ہے، اب اگر کوئی شخص نماز پڑھا رہا ہے اور اُس کے کپڑے کا کنارہ ٹب میں گر گیا تو اگر درہم سے زائد ہو اور وہ کپڑے کے ہلنے سے حرکت کرے تو اس کی نماز جائز نہ ہوگی یہ وہ ہے جو مجھ پر ظاہر ہوا اس کو اچھی طرح سمجھ لیں واللہ تعالٰی اعلم۔ (ت(

اس نفیس فائدہ سے اصل ۳ پر یہ تو ہم زائل ہوگیا کہ پانی تالاب کے اِس کنارے سے اُس کنارے تک بہتا پہنچا پھر جاری کیوں نہ ہوا یہ سیلان ہے جریان نہیں اور وہ فرق کھل گیا جو اصل ۸ میں ہم نے ذکر کیا کہ تالاب کے اندر مدخل آب کے قریب نجاست ہے اور پانی اس پر ہو کر گزرا ناپاک ہوگیا کہ وہ سائل ہے جاری نہیں اور تالاب کے باہر زمین پر کنارے کے قریب نجاست ہے اور پانی اُس پر گزرتا تالاب میں داخل ہوا تو ناپاک نہ ہوا جب تک وصف نہ بدلے کہ وہ جاری ہے اور اس کی نظیر وہ مسئلہ ہے کہ جوف زخم کے اندر خون کا سیلان معتبر نہیں جوف سے باہر بہے تو ناقض وضو ہے فافہم یہی مبنی ہے اس مسئلہ(۱) کا کہ استنجاء کرنے کو لوٹے سے پانی کی دھار ڈالی ہاتھ تک پہنچنے سے پہلے اُس دھار پر پیشاب کی چھینٹ پڑ گئی دھار ناپاک نہ ہوگی کہ جاری ہے اور یہی دھار استنجا کرنے سے ناپاک ہوجائے گی کہ بدن پر جاری نہیں ردالمحتار میں ہے:

قال فی الضیاء ذکر فی الواقعات الحسامیۃ لواخذ الاناء فصب الماء علی یدہ للاستنجاء فوصلت قطرۃ بول الی الماء النازل قبل ان یصل الی یدہ قال بعض المشائخ لاینجس لانہ جار قال حسام الدین ھذا القول لیس بشیئ والا لزم ان تکون غسالۃ الاستنجاء غیر نجسۃ قال فی المضمرات وفیہ نظر والفرق ان الماء علی کف المستنجی لیس بجار والنازل من الماء قبل وصولہ الی الکف جار ولا یظھر فیہ اثر القطرۃ فالقیاس ان لایصیر نجسا وما قالہ حسام الدین احتیاط اھ ویؤید عدم التنجس ماذکرنا من الفروع واللّٰہ تعالی اعلم ۱؎ اھ

ضیاء میں کہا ''واقعات حسامیہ میں ہے کہ اگر برتن سے استنجاء کرنے کیلئے اپنے ہاتھ پر پانی ڈالا، اور پیشاب کا کوئی قطرہ اس پانی تک کسی طرح پہنچ گیا جو اوپر سے آرہا ہے اور ابھی تک عضو تک نہیں پہنچا تھا تو بعض مشائخ فرماتے ہیں ناپاک نہ ہوگا کیونکہ یہ جاری پانی ہے، حسام الدین نے فرمایا اس قول کی کوئی حیثیت نہیں ورنہ تو لازم کہ استنجاء کا دھوون ناپاک نہ ہو۔ مضمرات میں فرمایا اس میں نظر ہے اور فرق یہ ہے استنجاء کرنے والے کے ہاتھ میں جو پانی ہے وہ جاری نہیں اور اُوپر سے آنے والا پانی جو ہنوز ہاتھ تک نہیں پہنچا ہے جاری پانی ہے اس میں قطرہ کا اثر ظاہر نہ ہوگا تو قیاس یہی ہے کہ نجس نہ ہو اور حسام الدین نے جو فرمایا ہے وہ بطور احتیاط ہے اھ اور ناپاک نہ ہونے پر وہ فروع دلالت کرتی ہیں جو ہم نے ذکر کی ہیں واللہ تعالٰی اعلم اھ (ت(

 (۱؎ ردالمحتار    باب الانجاس        مصطفی البابی مصر    ۱/۲۳۹)

اقول وقد جزم بہ فی الخلاصۃ عازیا للفتاوٰی وفی البزازیۃ ولم یحکواخلافاہ نصھا فی مایتصل بالماء الجاری فی الفتاوی رجل استنجی فلما صب الماء من القمقمۃ علی یدہ لاقی الماء الذی یسیل من القمقمۃ البول قبل ان یقع علی یدہ بعض ماخرج فھو طاھر ۱؎ اھ

میں کہتا ہوں اس پر خلاصہ میں جزم کیا اور اس کو فتاوٰی کی طرف منسوب کیا اور بزازیہ میں کسی اختلاف کا ذکر نہیں کیا، اور اس کی اصل عبارت، جو جاری پانی سے متصل ہے فتاوٰی میں یہ ہے،کہ ایک شخص نے استنجاء کیا، تو جب اُس نے ٹونٹی سے اپنے ہاتھ پر پانی ڈالا تو وہ پانی ہاتھ پر گرنے سے قبل پیشاب کے قطرہ سے مل گیا، تو یہ پانی پاک ہے اھ

 (۱؎ خلاصۃ الفتاوٰی    وما تتصل بالماء الجاری    نولکشور لکھنؤ        ۱/۱۰)

قال ش بخلاف مسألۃ الجیفۃ فان الماء الجاری علیھا لم یذھب بالنجاسۃ ولم یستھلکھا بل ھی باقیۃ فی محلھا وعینھا قائمۃ علی ان فیھا اختلافا ولھذا استدرک الشارح بقولہ ولکن قدمنا ان العبرۃ للاثر ۲؎ اھ کلام الشامی وقدمنا ان مااستدرک بہ الشارح ھو المفتی بہ المعتمد واللّٰہ تعالٰی اعلم۔

"ش" نے فرمایا یہ مسئلہ مردار کے مسئلہ کے خلاف ہے کیونکہ جو پانی اس پر گرتا یا جاری ہوتا ہے وہ نجاست کو بہا کر نہیں لے جاتا ہے اور نہ ہی نجاست کو ختم کرتا ہے بلکہ نجاست کا عین اپنی حالت پر ہی باقی رہتا ہے، پھر اس میں اختلاف بھی ہے اس لئے شارح نے یہ کہہ کر استدراک کیا ہے ولکن قدمنا ان العبرۃ للاثر اھ شامی کا کلام ختم ہوا اور ہم پہلے ذکر کر آئے ہیں کہ جو استدراک شارح نے کیا ہے وہی مفتیٰ بہ اور معتمد ہے واللہ تعالٰی اعلم۔ (ت(

 (۲؎ ردالمحتار        باب الانجاس        مصطفی البابی مصر    ۱/۲۳۹)

اصل ۱۰: ہماری کتابو ں میں اتنا فرماتے ہیں کہ پانی نجاست پر وارد ہو یا نجاست پانی پر، دونوں کا یکساں حکم ہے کما تقدم عن التنویر وذکر مثلہ الجم الغفیر وفی الغرر الوارد کالمورود  (جیسا کہ تنویر سے گزرا اور اس کی مثل بہت سے لوگوں نے ذکر کیا ہے اور غرر میں ہے کہ وارد مورود کی طرح ہے۔ ت(

اقول وباللہ التوفیق یہاں ایک فرق ہے غامض ودقیق اور تحقیق انیق ہے قبول کی حقیق۔ نجاست(۱) حقیقیہ کے لئے ایک دفع ہے اور ایک رفع۔ دفع یہ کہ نجاست اثر نہ کرنے پائے اور رفع یہ کہ نجاست کا اثر موجود زائل ہوجائے دفع جاری وکثیر کے ساتھ خاص ہے اور رفع ہر مائع طاہر مزیل کیلئے اور ملاقات نجاست وآب کے ثمرے چار ہیں:
(۱)اعمال        (۲) اہمال
(۳) انتقال     (۴) استیصال
اعمال یہ کہ نجاست اپنا عمل کرے۔
اہمال یہ کہ عمل نہ کرسکے۔
انتقال یہ کہ اُس کا اثر جس شے پر تھا اُس سے دوسری چیز کی طرف منتقل ہوجائے۔
استیصال یہ کہ نجاست سرے سے فنا ہوجائے۔
نجاست جب آب قلیل راکد یعنی غیر جاری پر وارد ہو تو صرف اعمال ہے یعنی اُسے ناپاک کردے گی اور خود اُس میں باقی رہے گی اور جب آبِ(۱) جاری یا کثیر پر وارد ہو تو محض اہمال ہے یعنی باقی تو اس میں رہے گی مگر اثر کچھ نہ کرسکے گی،

وما ذکرنا من انتقالھا عند ائمۃ بلخ وبخاری وماوراء النھر فی الجواب الثالث فذاک انتقال فی الماء لا عن الماء۔ اور جو ہم نے تیسرے جواب میں ذکر کیاکہ یہ منتقل ہوجائیگی ائمہ بلخ یہ بخاری اور ماور ا لنہر کے نزدیک ہے تو یہ پانی میں منتقل ہونا ہے نہ کہ پانی سے۔ (ت(

اور جب آبِ راکد نجاست پر وارد ہو جیسے کپڑا یا بدن پاک کرنے میں، تو یہاں انتقال ہے یعنی نجاست اُس کپڑے یا بدن سے منتقل ہو کر اس پانی میں آجائے گی وہ پاک ہوجائے گا اور یہ ناپاک۔ اور جب آب(۲) جاری نجاست پر وارد ہو جیسے حوض وغیرہ کی صورتوں میں گزرا تو یہ صورت استیصال کی ہے یعنی وہ بھی پاک ہوگیا اور یہ پانی بھی پاک رہا نجاست کہیں باقی ہی نہ رہی، ہاں جاری وکثیر اگر نجاست سے متغیر ہوجائیں تو دونوں صورتوں میں قلیل راکد کی طرح ہیں بالجملہ ورود آب بر نجاست ہیں اگر یہ پانی صرف رافع ہے تو نجاست اُس شے سے دُور کرکے اپنے اوپر لے لے گا کہ اس میں دفع کی قوت نہیں اور اگر دافع بھی ہے تو فنا کردے گا کہ اُس ناپاک شدہ شے سے رفع کی اور اپنے اوپر سے دفع کی اس کیلئے کوئی محل ہی نہ رکھا اصل ۴ میں ظہیریہ کی عبارت گزری کہ حوض بھی پاک ہوگیا اور یہ پانی جو اُس سے باہر نکل گیا اُسے اُٹھا کر کسی نے وضو کیا تو وضو ہوگیا ظاہر ہے کہ یہ اعمال ہوا نہ انتقال ہوا کہ پانی خود بھی پاک رہا نہ اہمال ہوا کہ وہ ہوتا تو اُس وقت تک ہوتا کہ پانی بَہ رہا تھا جب ٹھہر گیا اور ہے قلیل تو نجاست اگر رہتی واجب تھا کہ عمل کرتی جیسا کہ اصل ۶ میں گزرا لیکن یہ بھی نہ ہوا اور اس پانی کو اٹھا کر اُس سے وضو جائز ہُوا تو یہ نہیں مگر نجاست کا استیصال۔ اسی طرح تصریح فرماتے ہیں کہ ناپاک(۳) زمین پر پانی بہا یا کہ ہاتھ بھر بَہ گیا زمین بھی پاک ہوگئی اور یہ پانی بھی پاک رہا،

فی ردالمحتار عن الذخیرۃ عن الحسن بن ابی مطیع اذا صب علیھا الماء فجری قدر ذراع طھرت الارض والماء طاھربمنزلۃ الماء الجاری قال ش فھذا نص فی المقصود وللّٰہ الحمد ۱؎ اھ۔

ردالمحتار میں ذخیرہ سے حسن بن ابی مطیع سے ہے کہ جب اس پر پانی بہایا گیا اور ایک ذراع کی مقدار اس پر جاری ہوا تو زمین اور پانی پاک ہیں بمنزلہ جاری پانی کے، "ش" نے فرمایا یہ عبارت ہمارے مقصود پر نص صریح ہے وللہ الحمد اھ (ت)

 (۱؎ ردالمحتار    باب المیاہ    مصطفی البابی مصر    ۱/۱۳۸)

یوں ہی تصریحات ہیں کہ دو برتن(۱)ہیں ایک میں مثلاً پانی یا دُودھ پاک ہے دوسرے میں ناپاک، دونوں کی دھار ہوا میں ملا کر چھوڑی کہ ایک ہو کہ تیسرے برتن میں پہنچی یا(۲) دونوں کو ملا کر مثلاً پاک پکی چھت پر بہایا کہ ایک دھار ہوکر بہے سب پاک ہوگیا خزانہ وخلاصۃ وبزازیہ وردالمحتار میں ہے:

اناء ان ماء احدھما طاھر والاٰخر نجس فصبا من مکان عال فاختلطا فی الھواء ثم نزلا طھر کلہ ولو اجری ماء الاناء ین فی الارض صار بمنزلۃ ماء جار ۲؎۔

دو برتن ہیں ان میں ایک کا پانی پاک اور دوسرے کا ناپاک ہے، اب دونوں سے اوپر سے پانی بہایا پھر یہ دونوں پانی ہوا میں باہم مل گئے پھر نیچے آئے تو پاک ہیں، اور اگر دونوں برتنوں کا پانی زمین پر بہادیا گیا تو دونوں بمنزلہ جاری پانی کے ہوگئے۔ (ت(

 (۲؎ ردالمحتار    باب الانجاس     مصطفی البابی مصر     ۱/۲۳۹)

اشارات تقریر سابق سے یہ بھی واضح ہوگیا کہ ثمرہ استیصال علی الاطلاق نجاست غیر مرئیہ میں ہے مرئیہ جب تک باقی ہے معدوم نہیں کہی جاسکتی، ہاں کثیر وجاری میں اثر نہ کرسکے گی قلیل و راکد ہوتے ہی اپنا عمل دکھائے گی مگر یہ کہ اس سے پہلے نجاست نکال دی یا پانی(۳) میں مستہلک یا مٹی(۴) کی طرف مستحیل ہوگئی تھی کہ پہلی دو صورتوں میں مرئیہ نہ رہی غیر مرئیہ ہوگئی اور پچھلی میں نجاست ہی نہ رہی منحۃ الخالق میں ہے:

قال العلامۃ عبدالرحمٰن افندی العمادی مفتی دمشق فی کتابہ ھدیۃ ابن العماد قال صاحب مجمع الفتاوٰی فی الخزانۃ ماء الثلج اذا جری علی طریق فیہ سرقین ونجاسۃ ان تغیبت النجاسۃ واختلطت حتی لایری اثرھا یتوضؤ منہ ۳؎۔

علّامہ عبدالرحمن آفندی عمادی مفتی دمشق نے اپنی کتاب ہدیۃ ابن العماد میں فرمایا صاحب مجمع الفتاوٰی نے خزانہ میں فرمایا کہ برف کا پانی ایسے راستے میں بہا جس پر گوبر پڑا ہوا تھا اور نجاست بھی تھی اگر نجاست اس میں اس طرح گُھل مل گئی کہ اس کا اثر نظر نہیں آتا تو اُس سے وضو کیا جائے گا۔ (ت(

 (۳؎ منحۃ الخالق علی حاشیۃ بحرالرائق    بحث الماء الجاری    ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۱/۸۵)

یوں ہی بزازیہ وخلاصہ وفتاوٰی سمرقند میں ہے شرح ہدیہ میں بعد کلام مذکور اصل ۶ فرمایا: فالحوض نجس الی ان یصیر الزبل فی اسفلہ حمأۃ وھی الطین الاسود فلا یکون نجسا حینئذ واذا کان الحوض کبیرا فالامر فیہ یسیر ۱؎۔

تو حوض اس وقت ناپاک ہے جب تک کہ جو گندگی اس کے نیچے ہے کیچڑ میں تبدیل ہوجائے تو اس وقت وہ ناپاک نہ ہوگا، اور اگر حوض بڑا ہو تو معاملہ آسان ہے۔ (ت(

 (۱؎ منحۃ الخالق علی حاشیۃ بحرالرائق    بحث الماء الجاری    ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۱/۸۵)

منحہ میں ہے:یعنی اذ اجری بعد ذلک لابمجرد صیرورۃ الزبل حمأۃ کمایعلم ممامر ۲؎ اھ یعنی اس کے بعد پانی جاری بھی ہوا ہو کیونکہ محض کیچڑ بن جانا کافی نہیں، جیسا کہ سابقہ بیان سے معلوم ہوتا ہے۔ (ت(

 (۲؎ منحۃ الخالق علی حاشیۃ بحرالرائق    بحث الماء الجاری    ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۱/۸۵)

اقول تبین مما حققنا ان المراد بالماء فی قولھم ماء ورد علی نجس نجس کعکسہ ھو الماء الراکد القلیل اذبہ تستقیم القضیتان علی عمومھما وقد اشار الیہ ملک العلماء حیث قال لاخلاف ان النجس یطھر بالغسل فی الماء الجاری وکذا بالغسل بصب الماء الجاری وکذا بالغسل بصب الماء علیہ واختلف ھل یطھر بالغسل فی الاوانی قال ابو حنیفۃ ومحمد یطھر حتی یخرج من الاجانۃ الثالثۃ طاھرا ،

میں کہتا ہوں جو تحقیق ہم نے کی اس سے یہ بات واضح ہوگئی کہ ان کے قول ماء ورد علی نجس نجس کعکسہ میں ماء سے مراد وہ تھوڑا پانی ہے جو ٹھہرا ہوا ہو، کیونکہ اسی تشریح سے دونوں قضیے درست ہوں گے اور ان کا عموم صحیح قرار پائیگا اور ملک العلماء نے اسی طرف اشارہ کیا ہے وہ فرماتے ہیں اس میں کوئی اختلاف نہیں کہ نجس چیز جاری پانی میں دھونے سے پاک ہوجائے گی اور اسی طرح اگر اس پر پانی بہاکر اس کو دھودیا جائے تو پاک ہوجائے گی، اس میں اختلاف ہے کہ آیا برتنوں میں دھو کر بھی پاک ہوگی یا نہیں؟ ابو حنیفہ اور محمد فرماتے ہیں پاک ہوجائے گی یہاں تک کہ تیسرے ٹب سے پاک نکلے گا،

وقال ابو یوسف لایطھر البدن مالم یصب علیہ الماء وفی الثوب عنہ روایتان وجہ قول ابی یوسف القیاس یابی الطھارۃ بالغسل اصلا لان الماء متی لاقی النجاسۃ یتنجس سواء ورد الماء علی النجاسۃ او وردت النجاسۃ علی الماء الا انا حکمنا بالطھارۃ لحاجۃالناس والحاجۃ تندفع بالحکم بالطھارۃ عند ورود الماء علی النجاسۃ فبقی ما وراء ذلک علی القیاس فعلی ھذہ لایفرق بین البدن والثوب ووجہ الفرق لہ علی روایۃ ان فی الثوب ضرورۃ اذکل من تنجس ثوبہ لایجد من یصب ولا یمکنہ الصب بنفسہ،

اور ابو یوسف نے فرمایا بدن اس وقت تک پاک نہ ہوگا جب تک کہ اس کے اوپر پانی نہ بہایا جائے اور کپڑے کے بارے میں اُن سے دو روایتیں ہیں، ابو یوسف کے قول کی وجہ یہ ہے کہ قیاس کا تقاضا یہ ہے کہ دھونے سے طہارت بالکل نہ ہو کیونکہ پانی جب نجاست سے ملاقی ہوگا تو ناپاک ہوجائیگا خواہ پانی نجاست پر وارد ہو یا نجاست پانی پر وارد ہو، مگر ہم نے لوگوں کی ضرورت کی وجہ سے طہارت کا حکم دیا۔ اور حاجت پانی کے نجاست پر وارد ہونے کی صورت میں پاکی کے حکم کے ساتھ رفع ہوجاتی ہے تو اُس کے علاوہ قیاس کے مطابق رہے گا، اس بنا پر بدن اور کپڑے میں فرق نہیں کیا جائیگا، اور ان کے نزدیک وجہ فرق ایک روایت پر یہ ہے کہ کپڑے میں ضرورت ہے کیونکہ ہر وہ شخص جس کا کپڑا ناپاک ہوجائے اس کو یہ سہولت حاصل نہیں ہوتی کہ کوئی اس کے کپڑے پر اُوپر سے پانی بہائے اور خود بھی وہ نہیں بہا سکتا ہے،

وجہ قولھما ان القیاس متروک فی الفصلین لتحقق الضرورۃ فی المحلین اذلیس کل من اصابت النجاسۃ بدنہ یجد ماء جاریا او من یصب وقد لایتمکن من الصب بنفسہ مع ان ماذکرہ من القیاس غیر صحیح لان الماء لاینجس اصلا مادام علی المحل النجس ۱؎ اھ مختصرا فقد افاد مرتین ان القضیتین فی غیر الجاری ای وما فی حکمہ من الکثیر،

اور طرفین کے قول کی وجہ یہ ہے کہ قیاس دونوں صورتوں میں متروک ہے کیونکہ دونوں جگہ ضرورت متحقق ہے کیونکہ ہر وہ شخص جس کو نجاست لگ جائے نہ تو بہتا ہوا پانی پاتا ہے اور نہ ہی کسی بہانے والے کو پاتا ہے، اور کبھی ایسا ہوتا ہے کہ خود بھی نہیں بہا سکتا ہے، اور اس کے علاوہ جو قیاس اُنہوں نے ذکر کیا ہے وہ صحیح نہیں ہے کیونکہ پانی جب تک نجس جگہ پر رہے ناپاک نہیں ہوتا ہے اھ مختصر، تو دو مرتبہ انہوں نے بتایا کہ دونوں قضیے غیر جاری پانی میں ہیں یعنی اُس پانی میں جو جاری پانی کے حکم میں ہو، مثلاً کثیر پانی،

 (۱؎ بدائع الصنائع    اما طریق التطہیر بالغسل    ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۱/۸۷)

والعجب ان المدقق العلائی حمل الکلام علی الجاری فقال فی شرحہ (ورد) ای جری (نجس) اذا ورد کلہ اواکثرہ ولو اقلہ لاکجیفۃ فی نھر اونجاسۃ علی سطح لکن قدمنا ان العبرۃ للاثر (کعکسہ) ای اذا وردت النجاسۃ علی الماء تنجس الماء اجماعا ۲؎ اھ۔

تعجب ہے کہ مدقق علائی نے کلام کو جاری پانی پر محمول کیا ہے، اور اپنی شرح میں فرمایا ہے (ورد) یعنی جاری ہوا (ناپاک) جب وارد ہوا اس کا کل یا اکثر، اگر کم جاری ہوا تو یہ حکم نہیں ہوگا جیسا کہ نہر میں مردار یا چھت پر نجاست، لیکن ہم نے پہلے ذکر کیا کہ اعتبار اثر کا ہے (جیسا کہ اس کا عکس) یعنی جب کہ نجاست پانی پر وارد ہو تو پانی اجماعاً ناپاک ہوجائیگا اھ (ت(

 (۲؎ الدرالمختار        باب الانجاس        مجتبائی دہلی        ۱/۵۵)

اقول: بل لا(۱) یتنجس اجماعا اذا کان جاریا مالم یتغیر بھا فالمراد الراکد القلیل قطعا ولو حمل(۲) علیہ لم یحتج فی الاولی الی تقییدھا ولا الاستدراک علیھا والعجب ان السادات الثلثۃ ح وط و ش کلھم حملوہ علی مایعم الراکد والجاری فاعترض الاولان علی الشارح قائلین علی قولہ جری ھذا خاص بما اذا جری علی ارض اوسطح ولا یشمل ما اذا صب علی نجاسۃ لان الصب لایقال لہ جریان مع ان الحکم عام فالاولی ابقاء المصنف علی عمومہ ۱؎ اھ۔

میں کہتا ہوں بلکہ ناپاک نہ ہوگا اجماعاً جبکہ جاری ہو، جب تک متغیر نہ ہو، تو مراد تھوڑا سا ٹھہرا ہوا پانی ہے قطعاً، اور اگر اس پر محمول کیا جائے تو پہلی میں اس کی تقیید کی حاجت نہ ہوگی اور نہ ہی استدراک کی ضرورت ہوگی اور تعجب یہ ہے کہ سادات ثلثہ ح، ط اور ش نے اس کو ٹھہرے اور جاری پانی دونوں میں عام کر رکھا ہے تو پہلے دو نے شارح پر اعتراض کیا، اور کہا ہے کہ ان کا قول جری یہ اس صورت کے ساتھ خاص ہے جبکہ وہ پانی زمین یا سطح پر جاری ہو اور اس صورت کو شامل نہیں ہے جبکہ کسی نجاست پر بہایا جائے کیونکہ بہانے کو جاری ہونا نہیں کہا جاتا ہے حالانکہ حکم عام ہے، تو اولیٰ وہی ہے کہ مصنّف نے اس کو اس کے عموم پر باقی رکھا ہے اھ۔ (ت(

 (۱؎ طحطاوی علی الدر المختار    باب الانجاس        بیروت    ۱/۱۶۱)

اقول اترون(۳) ماء جاریا اوکثیرا ورد علی نجس اوبالعکس ھل یتنجس بالورود فاین العموم واشار الثالث الی جوابین فقال فسرالورود بہ لیتأتی لہ التفصیل والخلاف اللذان ذکرھما والا فالورود اعم وایضا فالجریان ابلغ من الصب فصرح بہ مع علم حکم الصب منہ بالاولی رفعا لتوھم عدم ارادتہ ۱؎ اھ

میں کہتا ہوں کیا آپ سمجھتے ہیں کہ جاری پانی یا کثیر پانی جو کسی نجاست پر وارد ہو یا بالعکس، صرف وارد ہونے سے نجس ہوجائے گا؟ تو عموم کہاں ہوا؟ اور تیسرے نے دو جوابوں کی طرف اشارہ کیا اور کہا کہ ورود کی تفسیر اس کے ساتھ اس لئے کی گئی ہے تاکہ وہ اس کی تفصیل کر سکیں اور اس کے خلاف کا بھی ذکر کریں جن کا انہوں نے ذکر کیا، ورنہ ورود اعم ہے اور نیز جاری ہونا ابلغ ہے بہانے سے، تو اس کی تصریح کردی حالانکہ بہانے کا حکم اس سے معلوم ہوگیا تھا بطریقِ اولیٰ، تاکہ ارادہ نہ کرنے کا وہم دفع ہوجائے اھ (ت(

 (۱؎ ردالمحتار    باب الانجاس        مصطفی البابی مصر    ۱/۲۳۸)

اقول: لاعموم(۱) وعلی فرضہ(۲) کیف یصح تفسیرہ بخاص لیتأتی لہ تقییدہ وجعلہ خلافیۃ بل کان علیہ ان یبقیہ علی عمومہ ویقول وان کان جاریا اذا ورد کلہ ۔۔۔الخ

میں کہتا ہوں کوئی عموم نہیں ہے، اگر فرض کیا جائے تو اُس کی تفسیر خاص سے کیسے صحیح ہوسکتی ہے تاکہ وہ اس کو مقید کرسکیں اور اس کو اختلافی بنا سکیں، بلکہ ان پر لازم تھا کہ وہ اس کو اس کے عموم پر باقی رکھیں، اور کہیں کہ اگرچہ جاری ہو جبکہ اس کا کُل وارد ہو الخ (ت(

یہ جواہر زواہر بحمدہ تعالٰی عطیہ سرکار رسالت علیہ افضل الصّلوٰۃ والتحیۃ ہیں والحمدللّٰہ علی تواتر اٰلائہ، وافضل الصلاۃ والسلام علی سید انبیائہ، وعلیھم وعلیٰ اٰلہ وصحبہ واولیائہ، باقیین دائمین بدوامہ وبقائہ، اٰمین والحمدللّٰہ رب العٰلمین۔
جب یہ اصول عشرہ ممہد ہو لیے اب تفریعات کی طرف چلئے۔

فاقول: وباللّٰہ التوفیق اس مسئلہ میں ۱۲۰ صورتیں ہیں، جواب چہارم میں حوض کی قسمیں مذکور ہوئیں۔ قسم دوم وہ کہ اسفل اُسی کا جُز ہو شکل واحاطہ میں متمیز نہ ہو جیسے نصف دائرہ۔ قسم چہارم وہ کہ اسفل شکل جداگانہ ہو۔ صغیر تابع وہ کہ پچیس ہاتھ مساحت سے کم ہو مستقل وہ کہ پچیس ہاتھ یا زائد ہو مگر سَو سے کم ہو، حوضِ زیریں ناقابل اجرا ایک وہ کہ پانی اُس کی حدود سے باہر تک حوض بالا کے بطن میں بھرا ہو کہ باہر سے جو پانی آئیگا اُس کا بہاؤ اُس حوضِ صغیر میں داخل ہو کر نکلنا نہ ٹھہرے گا کہ اُس کا اجرا ہو بلکہ حوض بالا ہی کے بطن میں متحرک سمجھا جائے گا کہ جریان نہیں (اصل ۳ و ۵) ظاہر ہے کہ اگر دیگ میں ایک کٹورا رکھا اور نصف دیگ میں ناپاک پانی بھرا ہے لبالب بھر دینے سے بھی کٹورے کا پانی پاک نہ ہوگا نہ دیگ کا کہ اُن میں کسی کا اجرا نہ ہوا بخلاف اس کے کہ صرف کٹورے میں پانی ہو اور اُس پر پاک پانی ڈالیں یہاں تک کہ بھر کر اُبلے ضرور کٹورا اور اُس کا پانی پاک ہوجائیگا کہ اُس کا اجرا ہوگیا اگرچہ جوفِ دیگ میں (اصل ۲) دوسرا وہ کہ آگے اُبل کر بہنے کو جگہ نہ ہو جیسے اس صورت میں

       

  کہ اگرچہ پانی صرف ح ع تک ہو آگے منتہی تک بلندی ہے۔ قابل اجرا وہ کہ پانی اُسی کے اندر اور آگے بہنے کو جگہ ہو قلت منتہی یہ کہ حوضِ بالا کی فضا کہ اس حوضِ زیریں کی محاذات میں ہے مع فضائے حوضِ زیریں دہ در دہ سے کم ہو جیسے اس شکل میں۔

       

ا ب کہ ا ب سَوہاتھ اور ح ع کم ہے کثرت منتہی یہ کہ یہاں بھی دہ در دہ ہو جیسے اسی شکل میں جب کہ سطح ح ع سَو ہاتھ اور سطح ا ب زائد ہو یا شکل سوم مذکور جواب چہارم میں کہ ا ب و ح ع دونوں مساوی ہیں کثرتِ مبدءیہ کہ ناپاک پانی جہاں تک بھرا ہے مثلاً بحالی قابلیت اجرا ھ سے ر تک یا بحال عدمِ قابلیت ی سے م تک وہاں سے مدخل آب تک اتنی جگہ ہے کہ آنے والا پاک پانی وہ دہ در دہ ہو کر ناپاک پانی سے ملے گا مثلاً ا سے جو پانی ح پر آیا اور پہلی صورت میں ہ سے ناپاک پانی تھا تو ہ تک پہنچنے سے پہلے سطح ح ہ میں سَو ہاتھ مساحت ہو اور دوسری صورت میں ی سے نجس پانی تھا تو ی سے اوپر اوپر سطح ح ی میں دہ در دہ کی وسعت ہو قلت مبدء یہ کہ اتنی جگہ نہیں بلکہ دہ در دہ سے کم رہ کر اُس سے ملے بہرحال نجاست مرئیہ پاک پانی داخل ہونے سے پہلے نکال لی گئی تو مخرجہ ہے ورنہ باقیہ راسبہ خواہ طافیہ ظاہر ہے کہ حوض زیر بحث قسم دوم سے ہوگا یا چہارم سے اور چہارم تابع یا مستقل اور دونوں قابل اجرا یا ناقابل یہ پانچ صورتیں ہوئیں اور ہر تقدیر پر مبدء کثیر ہوگا یا قلیل بروجہ دوم منتہی بھی قلیل ہوگا یا کثیر یہ تین ہو کر پندرہ۱۵ ہوئیں۔ بہرحال نجاست غیر مرئیہ ہوگی یا مرئیہ اور مرئیہ مخرجہ یا باقیہ اور باقیہ راسبہ یا طافیہ یہ چار ہو کر ساٹھ۶۰ ہوئیں بہر صورت حوض بالا بھر کر اُبلا یا نہیں جملہ ایک سو بیس۱۲۰۔ اب ہم بتوفیقہ تعالٰی ان کا ضبط کریں کہ ہر تقسیم اُسی صورت میں آئے جس سے وہاں حکم مختلف ہو۔

فاقول: وباللہ ربی استعین اولاً: حوض اگر قسمِ دوم سے ہو یا قسم چہارم سے اور صغیر ناقابل اجرا تابع خواہ مستقل اور بہرحال نہ کثیر المبدء تھا نہ بھر کر اُبلا تو مطلقاً سب ناپاک ہوگیا عام ازیں نجاست کسی قسم کی ہو اور منتہی قلیل ہو یا کثیر کہ جتنا پانی نجاست سے ملتا گیا نجس ہوتا گیا اور نجس کثیر ہو کر طاہر نہیں ہوسکتا یہ تین صورتیں ہوئیں بلکہ ایک ہی کہ ناقابلِ اجرا سب کو شامل ہے اور تفصیلاًبالحاظ کثرت وقلت منتہی واقسام نجاست چوبیس۲۴۔
ثانیاً: انہی صور ثلثہ سے پہلی دو۲ صورتوں یعنی قسم دوم وناجاری تابع میں اگر کثیر المبدء تھا یا بھر کر اُبلا تو مطلقاً سب پاک ہوگیا یہ چار صورتیں ہوئیں بلکہ دو ہی کہ نامستقل دونوں کو شامل اور تفصیلاً بتیس۳۲ کو کثیر المبدء اُبلے یا نہیں اور اُبلنے والے قلیل المبدء میں منتہی قلیل ہو یا کثیر اور ہرایک قسم دوم سے ہو یا ناجاری تابع اور بہرحال نجاست کسی قسم کی۔
ثالثاً: انہی کی صورت سوم ناجاری مستقل میں کثرتِ مبدء یا اُبلنے سے حوضِ بالا مطلقاً پاک رہے گا
کہ اُس کا پانی ناپاک پانی سے کثیر ہو کر ملا (اصل ۸) یا بعد کو بہ گیا (اصل ۱) اور صغیر مطلقا ناپاک ہونا چاہئے۔ اگرچہ نجاست غیر مرئیہ ہو کر بہا نہیں اور مستقل ہے (جواب۴) تو نجاست موجود اور سبب تطہیر مفقود صورت کثرت مبدء تو واضح ہے اور صورت اجرا میں بھی ظاہر یہی ہے کہ اس کا استقلال اس کے اجرا کو اس کا اجرا ہونے سے مانع ہوگا اگر کہیے کہ مانع نہ ہوگا

       

ج میں ج ح اور ر ک زمین کے ٹکڑے جنہوں نے حائل ہو کر ہ ط کو ا ء سے ممتاز شکل کر دیا اگر ہٹا دئے جائیں تو شک نہیں کہ ا ب کا اجرا تمام شکل ا ک کا اجرا ہوگا جس میں ہ ط بھی داخل تو اتنے ٹکڑے کم کر لینے سے اثر اجرا کہ ہ ط تک پہنچتا تھا ہ ر پر کیوں ختم ہوجائیگا تو جواب وہی ہے کہ وہ ٹکڑے ہٹ جائیں تو ر ک شکل واحد میں سب پانی ایک ہے بخلاف اس صورت کے کہ اب دو شکلوں میں دو پانی ہیں فلیتأمل یہ دو صورتیں ہوئیں اور تفصیلاً اُسی طرح سولہ۱۶۔
رابعا: صغیر قابلِ اجرا اور نہ ہوگا مگر قسم چہارم سے کہ قسم دوم اصلاً قابلِ اجرا نہیں جب تک سارا حوض بھر کر نہ بہے ظاہر ہے کہ اب جو پانی اُوپر سے آئیگا ضرور اُسے بھر کر بہا دے گا (اصل۵) تو اُس وقت اس کی طہارت میں کلام نہیں (اصل۱) عام ازیں کہ مستقل ہویا تابع کہ اجرا سے طہارت کے لئے کوئی مقدار شرط نہیں (اصل۲) اب اگر نجاست غیر مرئیہ یا مخرجہ ہے تو عود نجاست کی کوئی وجہ نہیں کہ جریان اس نجاست کو فنا کردیتا ہے (اصل۱۰) تو مطلقاً زیرو بالا دونوں حصّے پاک ہیں اگرچہ نہ مبدء کثیر ہو نہ منتہیٰ کہ جریان کیلئے کوئی حد خاص مقدر نہیں (اصل۴) خواہ بھر کر اُبلے یا نہیں کہ طاہر کو اجرا کی حاجت نہیں یہ چار صورتیں ہوئیں کہ قابل اجرا تابع یا مستقل اور نجاست غیر مرئیہ یا مخرجہ بلکہ ایک ہی کہ قابل اجرا اور نجاست غیر مرئیہ کہ بعد اخراج مرئیہ بھی غیر مرئیہ ہے اور تفصیلاً چوبیس۲۴ کہ ہر تقدیر پر مبدء کثیر ہو یا قلیل اور منتہیٰ کثیر یا وہ بھی قلیل اور ہر صورت پر اُبلے یا نہیں۔
خامسا: اسی صورت قابل اجرا میں نجاست باقیہ ہو تو مبدء یا منتہی کثیر ہونے کی حالت میں اگر نجاست طافیہ ہے مطلقاً دونوں حصے پاک رہیں گے صغیر تابع ہو یا مستقل کبیر اُبلے یا نہ اُبلے کہ جریان صغیر نے اُسے پاک کردیا اور وہ اگرچہ مستقل ہو نجاست کہ طافیہ تھی اس میں نہ رہی آبِ بالا کی طرف منتقل ہوگئی اور یہ آب بالا اُسے بہانے والا اُس سے متاثر نہ ہوا اگر کثیر تھا تو ظاہر (اصل۸) اور قلیل تھا جب بھی بحالتِ جریان توپاک تھا ہی (اصل۴) اور یہ جریان منتہی نہ ہوا جب تک اُس فضائے حوض کبیر کو کہ محاذات صغیر میں ہے بھر نہ دیا (اصل۴) کہ عرض میں پھیلنا جریان کا مانع نہیں (اصل۷) اور اس وقت دہ در دہ ہوچکا تھا بہرحال قا بل قبول نجاست نہ ہوا یوں ہی اگر راسبہ ہے اور صغیر تابع کہ اگرچہ وقوف جریان کے وقت نجاست اُس میں موجود تھی مگر آبِ بالا بوجہ کثرت متاثر نہ ہوا اور یہ بوجہ تبیعت اُس کے ساتھ شَے واحد ہے تو پاک ہی رہے گااور جریان بالا کی حاجت نہیں جیسے حوض قسم دوم کا اسفل ہے اگرچہ مساحت میں کتنا ہی کم رہ جائے اور اُس میں نجاست موجود ہو جب اوپر کثیر ہے یا اجرا ہوجائے کوئی حصہ ناپاک نہ رہے گا ہاں اس صورت میں اگر صغیر مستقل ہے تو کبیر کہ کثیر ہے پاک رہے گا اور صغیر پھر ناپاک ہونا چاہئے کہ اُس سطح کے بھرتے ہی جریان ٹھہر گیا اور اُس وقت نجاست خود اس میں موجود ہے اور یہ تابع نہیں تو جریان بالا بھی اگر ہوا سے مفید نہیں اور اگر مبدء ومنتہیٰ دونوں قلیل ہیں اور حوض بالا بہا بھی نہیں تو مطلقاً دونوں حصے ناپاک رہیں گے صغیر تابع ہو یا مستقل اور نجاست طافیہ ہو یا راسبہ کہ اگرچہ اجرائے صغیر نے اسے پاک کیا اور اُس وقت تک وہ آنے والا پانی بھی پاک تھا مگر جریان ٹھہرا قلت پر تو آب قلیل ساکن میں نجاست موجود ہے خواہ بالا میں اگر طافیہ ہے یا زیریں میں اگر راسبہ تو وہ نجس ہوگیا (اصل۶) اور دوسرا قلیل کہ اوّل میں زیریں اور دوم میں بالا ہے اس آبِ نجس سے متصل ہے تو دونوں نجس ہوگئے اور بعد کو جو پانی بڑھا بطنِ حوض میں متحرک ہوا تو دوبارہ اجرا نہ ہوا (اصل ۳ و ۵) اس بڑھنے میں سیلان سہی مگر وہ جریان کیلئے کافی نہیں (اصل۹) اور اگر حوض بالا بہا اور صغیر تابع ہے تو سب پاک اگرچہ نجاست راسبہ ہو لمامر اٰنفا (جیسے ابھی گزرا۔ ت) اور مستقل ہے تو صغیر بوجہ اتصال نجاست ناپاک ہونا چاہئے اگرچہ طافیہ ہو کہ وقوف جریان کے وقت بالا بسبب قلت ناپاک ہوگیا تھا اور یہ اُس سے متصل پھر جب بالا کا جریان ہوا وہ بوجہ استقلال اس کا جریان نہ ٹھہرنا چاہئے تو یہ نجس ہی رہا اور کبیر بوجہ جریان خود پاک ہوگیا یہ نو صورتیں ہیں کہ کثرت مبدء یا منتہٰی ہر ایک میں تین ہیں طافیہ مطلق اور راسبہ میں صغیر تابع یا مستقل یونہی قلت ہر دو میں تین ہیں عدمِ جریان بالا مطلق اور جریان میں تبعیت واستقلال بلکہ چھ۶ ہی ہیں کہ دونوں کثرتیں وقوف علی الکثرۃ میں آگئیں اور تفصیلاً چوبیس کہ کثرتِ مبدء یامنتہٰی یا قلتِ ہر دو ہر ایک میں نجاست طافیہ ہے یا راسبہ۔ صغیر تابع ہے یا مستقل بالا بہایا نہیں آٹھ آٹھ ہو کر چوبیس۲۴ ہوئیں مجموع ایک سو بیس اور ضابطہ میں بیس۲۰ ہی بلکہ صرف بارہ۱۲۔

اختصار ھذا الضابط
اقول: ان کان جوف الحوض النجس لایجری بدخول الماء الطاھر فان کثر المبدء اوجری الکبیر طھر الکل لوالصغیر تابعا والکبیر فقط لومستقلا والا تنجس الکل وان کان یجری بہ و النجاسۃ غیر مرئیۃ طھر الکل وان باقیۃ فان وقف عن الجریان کثیرا وھی طافیۃ اوالصغیر تابع طھر الکل والا فالکبیر وحدہ وان وقف قلیلا ولم یجر الکبیر تنجس الکل وان جری طھر الکل لو الصغیر تابعا والکبیر فقط لومستقلا۔

ضابطہ کا اختصار
میں کہتا ہوں اگر ناپاک حوض کی تہ پاک پانی کے داخل ہونے سے جاری نہیں ہوتی ہے، تو اگر مبدء زائد ہوگیایا بڑا جاری ہوا، تو کُل پاک ہے اگر صغیر تابع ہے اور کبیر فقط اگر مستقل ہو ورنہ سب ناپاک ہوگیا، اور اگر اس کے ساتھ جاری ہو اور نجاست مرئیہ نہ ہو تو کُل پاک اور اگرچہ نجاست باقی ہو تو اگر جاری ہونے سے بہت دیر رک جائے اور نجاست اوپر تیرتی ہو یا صغیر تابع ہو تو کل پاک ورنہ کبیر صرف پاک ہوگا، اور اگر تھوڑی دیر ٹھہرا اور کبیر جاری نہ ہوا تو کل ناپاک ہوا، اور اگر جاری ہوا تو کل پاک ہوا اگر صغیر تابع ہو اور کبیر فقط اگر مستقل ہو۔ (ت(
ضابطہ بر وجہ دوم متفرق کہ ہر حصہ کی طہارت کا جدا ضابطہ۔
۱۔ آب طاہر کثیر ہو کر نجس تک پہنچے، یا
۲۔ حوض بھر کر ابل جائے، یا
۳۔ صغیر کو بہائے اور نجاست غیر مرئیہ رہ گئی ہو، یا
۴۔ صغیر کو بہا کر دہ در دہ پر ٹھرے۔
اور طہارت زیریں تابع مطلقاً تابع طہارت بالا ہے اور طہارت زیریں مستقل کو تین شرطیں درکار:
اوّل: اس کا جاری ہونا۔
دوم: نجاست کا راسبہ ہونا۔
سوم: یا تو نجاست غیر مرئیہ ہو یا طافیہ ہے تو جریان حد کثرت پر ٹھہرے اُنہی کے اجتماع وافتراق سے زیروبالا کے احکام پیدا ہوں گے طہارت بالا کی اگر کوئی صورت نہ پائی جائے دونوں حصّے مطلقاً نجس ہیں کہ اس مسئلہ میں نجاست بالا وطہارتِ زیریں معقول نہیں اور اگر اُن میں سے کوئی صورت متحقق ہو اور اُس کے ساتھ غیر صغیرمستقل نہ ہو یا ہو تو اُس کی تینوں شرطیں جمع ہوں تو سب پاک ہے اور اگر طہارت بالا کی کوئی صورت پائی گئی اور صغیر مستقل ہے اور اس کی کوئی شرط منتفی ہوئی تو اسفل ناپاک اعلیٰ پاک۔

ضابطہ بروجہ سوم کہ توزیع احکام کرے حکم تین ہیں:
۱۔ سب پاک
۲۔ سب ناپاک
۳۔ صرف حصہ بالا پاک۔ اس ضابطہ میں ہر حکم کی صورتیں جُدا کی جائیں گی۔
فاقول اگر(۱) آب طاہر آب نجس سے نہ کثیر ہو کر ملا نہ بعد کو اُبلا نہ نجاست غیر مرئیہ میں صغیر کو بہایا
نہ باقیہ میں بہا کر دہ در دہ پر ٹھہرا تو ان (عہ۱) اٹھائیس۲۸ صورتوں میں دونوں حصّے مطلقاً ناپاک ہیں اور(۲) اگر حوض قسم دوم سے ہو یا چہارم میں صغیر تابع قابل اجرا نہ ہو اور دونوں صورتوں میں آب طاہرکثیر ہو کر نجس سے ملا یا(۳) بعد کو اُبلا، یا(۴) آب نجس حوض صغیر تابع خواہ مستقل میں قابل اجرا تھا اور نجاست غیر مرئیہ(عہ۲) رہ گئی تھی اگرچہ دہ در دہ سے کم پر ٹھہرا، یا(۵) مرئیہ میں وہ صغیر تابع تھا اگرچہ راسبہ ہوا اور اُسے بہا کر(عہ۳) کثرت پر ٹھہرایا(۶) بعد کو اُبلا، یا(۷) صغیر مستقل تھا اور نجاست طافیہ اور بہا کر کثرت پر ٹھہرا (عہ۴)، ان ستر۷۰ صورتوں میں دونوں حصے مطلقاً پاک رہیں اور اگر صغیر مستقل تھا اور آنے والے پانی نے اُسے نہ بہایا کہ جگہ نہ تھی خواہ نجس پانی اس کی حدود سے باہر تھا یا بہایا تو نجاست راسبہ تھی اور ان دونوں صورتوں میں پانی۸،۹ اُس نجس سے کثیر ہو کر ملا خواہ صورت اخیرہ میں بہا کر کثرت پر ٹھہرا یا (۱۰،۱۱) دونوں صورتوں میں بعد کو اُبلایا(۱۲) نجاست طافیہ تھی اور قلت پر ٹھہر کر آخر میں اُبلا ان 
(عہ۵)  بائیس صورتوں میں اسفل ناپاک اعلیٰ پاک۔

 (عہ۱) حوض قسم دوم سے ہے یا صغیر ناجاری تابع خواہ مستقل بہرحال مبدء یا مبدء ومنتہی دونوں قلیل بہرصورت نجاست چاروں قسم کے کسی کی۔ ۲۴ یہ ہُوئیں اور صغیر جاری سے تابع خواہ مستقل اور نہ کثرت پر ٹھہرا نہ بعد کو اُبلا بہر تقدیر نجاست طافیہ ہے یا راسبہ چار یہ ہوئیں جملہ ۲۸ اور ضابطہ میں ایک ۱۲ منہ (م(
(عہ۲)غیر مرئیہ رہ جانے سے اس طرف اشارہ ہے کہ نجاست سرے سے غیر مرئیہ تھی یا تھی مرئیہ اور قبل جریان نکال دی گئی کہ غیر مرئیہ رہ گئی ۱۲ منہ (م(
(عہ۳) کثرت پر ٹھہرنا دونوں صورتوں کو شامل ہے ابتدا ہی سے کثیر ہو کر ملا یا کثیر ہو کر جریان پر ٹھہرا ۱۲ منہ (م(
(عہ۴) حوض قسم دوم سے یا صغیر ناجاری تابع۔ بہرحال اگر مبدء کثیر ہے تو بعد کو اُبلے نہ اُبلے یا(۳) بعد کو اُبلا تو منتہی کثیر یا قلیل۔ یہ آٹھ صورتیں ہوئیں ہر صورت پر نجاست کی ہر قسم حاصل ۳۲۔ اور ضابطہ میں دو۔ اور (۴) اگر صغیر جاری ہے تابع خواہ مستقل اور نجاست غیر مرئیہ خواہ مخرجہ۔ چار ہوئیں۔ بہرصورت مبدء کثیر ہے یا قلیل اور منتہی کثیر یا دونوں قلیل بارہ۱۲ ہوئیں بہرصورت اُبلا یا نہیں، حاصل ۲۴۔ اور ضابطہ میں ایک اور(۵) صغیر جاری تابع میں مبدء کثیر ہے یا منتہی بہرحال اُبلا یا نہیں چار یہ اور پانچویں یہ کہ(۶) دونوں قلیل اور اُبلا بہرصورت نجاست طافیہ یا راسبہ حاصل ۱۰۔ اور ضابطہ میں دو(۷) صغیر جاری مستقل اور نجاست طافیہ اور منتہٰی کثیر اس میں ممکن کو مبدء کثیر تھا یا قلیل بہرحال اُبلا یا نہیں حاصل ۴۔ اور ضابطہ میں ایک مجموع ستّر۷۰ اور ضابطہ میں چھ۔ منہ (م(
(عہ۵) صغیر(۸) مستقل ناجاری میں اگر مبدء کثیر ہے تو اُبلے خواہ نہیں اور(۹) اُبلا ہے تو منتہیٰ کثیر ہو یا قلیل۔
یہ چار ہوئیں اور بہر تقدیر نجاست کی ہر قسم۔ حاصل ۱۶ اور صغیر(۱۰) مستقل جاری میں مبد وکثیر ہو یا منتہی بہرحال اُبلے یا نہیں اور نجاست خاص راسبہ۔ یہ چار ہوئیں اور(۱۱) اگر دونوں قلیل ہیں اور اُبلا تو نجاست راسبہ ہو خواہ(۱۲) طافیہ یہ دو مل کر چھ(۶) ہوئیں، حاصل۲۲، اور ضابطہ میں ۵۔ مجموع ۱۲۰، اور ضابطہ میں ۱۲۔ منہ (م(

اقول اولا یہیں سے ظاہر ہوا کہ کلام علمائے کرام حوض قسم دوم میں ہے ورنہ بانوے۹۲ صورتوں سے نقض وارد ہو جن میں سے ستّر میں طہارت کل یقینی ہے اور بائیس میں طہارت اعلیٰ۔ تردّد ہے تو نجاست اسفل میں اور حوض قسم دوم میں بیشک حکم یہی ہے کہ اعلیٰ اسفل سب ناپاک صرف دو استثنا ہیں جن میں سب پاک ہوگا ایک یہ کہ بھر کر اُبل جائے یہ صراحۃً اُن کے کلماتِ عالیہ میں مذکور حلیہ وبدائع وفتح سے گزرا امتلأ ولم یخرج منہ شیئ (وہ بھر گیا اور اس سے کوئی چیز خارج نہ ہوئی۔ ت) دوسرے یہ کہ آنے والا پانی کثیر ہو کہ اُس نجس سے ملے یہ بجائے خود معلوم ومعہود کہ کثیر بے تغیر نجاست قبول نہیں کرتا تو اطلاق علمائے کرام صحیح وبے غبار ہے اور تحقیق بازغ وتنقیح بالغ یہ ہے جو بتوفیقہ عزّوجل قلبِ فقیر پر القا ہوئی۔
ثانیا نیز یہ بھی واضح(۱) ہوا کہ قول دوم بھی بے وجہ نہیں بلکہ وہ اُن ستّر صور پر محمول جن میں سب پانی پاک رہتا ہے وباللہ التوفیق۔
ثالثا یہ بھی لائح ہوا کہ یہ محل(۲) ایک قول کی تصحیح دوسرے کی تضعیف کا نہیں بلکہ دونوں اپنی اپنی جگہ صحیح ہیں،

وللّٰہ الحمد کثیرا طیبا مبارکا فیہ کما یجب ربنا ویرضی، وصلی اللّٰہ تعالٰی وبارک وسلّم علی المصطفٰی الارضی، واٰلہ وصحبہ وابنہ وحزبہ ما علت سماء ارضا، والحمدللّٰہ ربّ العٰلمین واللّٰہ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم۔

اللہ ہی کیلئے بہت پاکیزہ حمد ہے اس میں برکت ہو جتنی ہمارے رب کو پسند ہے اور اتنے درود وسلام ہوں محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم پر آپ کی آل، اصحاب، اولاد، گروہ سب پر جب تک آسمان زمین سے بلند رہے، والحمدللہ رب العالمین واللہ سبحٰنہ تعالٰی اعلم۔ (ت(

تنبیہ جلیل
وتشیید التفریع والتاصیل، وعلی اللّٰہ ثم علی رسولہ التعویل، جل وعلاوصلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم بالتبجیل،

تنبیہ جلیل
اور اصل بیان کرنے اور فروعی مسائل کا استنباط کرنے کی بنیاد، اور بھروسا اللہ عَزَّوجَلَّ پر ہے پھراس کے رسول پر ہے، اللہ تعالٰی ان پر عظمت والا درود بھیجے۔ (ت(
اصل سوم میں گزرا کہ دخول وخروج دونوں اس جریان کے رکن ہیں اُن میں سے جو نہ پایا جائے گا جریان نہ ہوگا اور اصل نہم میں ردالمحتار وضیاء وجامع المضمرات وبزازیہ وخلاصہ وفتاوٰی سے گزرا کہ لوٹے کی دھار جب تک ہاتھ پر نہ پہنچی جاری ہے حالانکہ یہ محض خروج بلا دخول ہے۔ اقول: وباللّٰہ التوفیق وبہ الوصول الی ذری التحقیق (اللہ ہی کی توفیق سے میں کہتا ہوں اور اسی کی مدد سے تحقیق کی گہرائی تک پہنچنا ہے۔ ت) اس کی تنقیح وتطبیق ایک اور خلافیہ کی توضیح وتوفیق پر مبنی ہے علما(۱) مختلف ہوئے کہ جاری ہونے کیلئے اوپر سے مدد آنا بھی ضرور ہے یا بلا مدد کسی مائع کا آپ بہنا بھی جریان ہے محقق علی الاطلاق نے اول کو ترجیح دی فتح میں فرمایا:

الحقوا بالجاری حوض الحمام اذا کان الماء ینزل من اعلاہ حتی لوادخلت القصعۃ النجسۃ اوالید النجسۃ فیہ لاینجس وھل یشترط مع ذلک تدارک اغتراف الناس منہ فیہ خلاف ذکرہ فی المنیۃ ثم لابد من کون جریانہ لمدد لہ کما فی العین والنھر ھو المختار ۱؎ اھ ۔

جاری پانی کے ساتھ حمام کے حوض کو بھی شامل کیا گیا ہے، جبکہ پانی اس کے اُوپر سے اُتر رہا ہو یہاں تک کہ اگر اس میں ناپاک پیالہ یا ناپاک ہاتھ ڈالا تو ناپاک نہ ہوگا اور آیا اس میں یہ شرط بھی ہے کہ لوگ پے درپے اس میں سے چُلّو بھر کر پانی نکالتے ہوں؟ اس میں اختلاف ہے، اس کو منیہ میں ذکر کیا، پھر اس کے جاری رہنے کیلئے اس کو مدد دینے والی چیز ضروری ہے جیسا کہ چشمہ اور نہر میں ہوتا ہے یہی مختار ہے اھ

 (۱؎ فتح القدیر    بحث الماء الجاری    نوریہ رضویہ سکھر    ۱/۶۹)

ثم ذکر مسألۃ الاستنجاء بالقمقمۃ ونقل عن التجنیس النظر فیہ بعین مانظر الامام حسام الدین ثم قال قال ای المصنّف فی التجنیس(۲) ونظیرہ ما اوردہ المشائخ فی الکتب ان المسافر اذا کان معہ میزاب واسع (ای یسع لان یتوضأ فیہ) واداوۃ ماء یحتاج الیہ ولا یتیقن وجود الماء لکنہ(عہ۱) علی طمعہ قبل ینبغی ان یأمر احدا یصب الماء فی طرف المیزاب وھو یتوضؤ وعند الطرف الاٰخر اناء طاھر یجتمع فیہ الماء فانہ یکون الماء طاھرا وطھورا لانہ جار قال بعضکم ھذا لیس بشیئ لان الجاری انما لایصیر مستعملا اذا کان لہ مدد کالعین والنھر وما اشبھہ ومما اشبھہ حوضان صغیران یخرج الماء من احدھما ویدخل فی الاٰخر فتوضأ فی خلال ذلک جاز لانہ جار وکذا اذا قطع(۱) الجاری من فوق وقد بقی جری الماء کان جائزا ان یتوضأ بما یجری فی النھر قبل استقرارہ ۱؎ اھ بالتقاط۔

پھر استنجاء ٹونٹی کے ساتھ کا مسئلہ نقل کیا اور پھر تجنیس سے نقل کیا کہ اس میں نظر ہے یہ وہی نظر ہے جو حسام الدین نے کی تھی، پھر کہا کہ مصنّف نے تجنیس میں کہا ہے اور اس کی نظیر مشائخ کا یہ قول ہے کہ مسافر کے پاس جب واسع پر نالہ ہو (یعنی اس میں اتنی گنجائش ہو کہ اس میں وضو کیا جاسکے( اور پانی کا برتن ہو جس کی ضرورت ہو اور پانی کا پایا جانا یقینی نہ ہو لیکن ملنے کی امید ہو، تو ایک قول یہ ہے کہ وہ کسی کو حکم دے کہ وہ پر نالے کے ایک کنارے سے پانی بہائے اور وہ شخص وضو کرے اور پر نالے کی دوسری طرف ایک پاک برتن ہو جس میں پانی جمع ہوتا ہو تو وہ پانی طاہر اور طہور ہوگا کیونکہ وہ جاری ہے بعض علماء نے فرمایا یہ کچھ نہیں کیونکہ جاری پانی مستعمل نہیں ہوتا ہے جبکہ اس میں نیا پانی شامل ہو رہا ہو جیسے چشمہ اور نہر اور اس کے مشابہ چیزیں، اور اس کے مشابہ دو چھوٹے حوض ہیں جن میں سے ایک میں سے پانی نکل کر دوسرے میں داخل ہورہا ہو تو کسی نے اس کے درمیان کے پانی سے وضو کیا تو جائز ہے کیونکہ یہ جاری ہے اور اسی طرح اگر اوپر سے جاری پانی کو قطع کیا اور پانی کا جاری رہنا باقی ہو تو یہ جائز ہے کہ جو پانی نہر میں جاری ہو اس سے وضو کرلے اس کے استقرار سے قبل اھ (ت(

 (عہ۱) اقول لعل وجہ التقیید بہ التنصیص علی انہ یجوز ھذا الاحتیال وان کان علی من الماء فعند عدمہ اولی ۱۲ منہ غفرلہ (م(
اس قید کی وجہ شاید یہ ہو کہ اس بات پر نص کرنا مقصود ہو کہ یہ حیلہ جائز ہے اگرچہ پانی ملنے کی امید ہو تو جب امید نہ ہو تو بدرجہ اولیٰ جائز ہوگا۔ (ت(

 (۱؎ فتح القدیر    بحث الماء الجاری    نوریہ رضویہ سکھر    ۱/۶۹)

اور علامہ حدادی نے سراج وہاج اور علامہ سراج ہندی نے توشیح میں دوم کی تصحیح کی بحر وتنویر ودُر وغیرہا میں اسی پر اعتماد کیا بحر میں بعد نقل ترجیح فتح فرمایا:

وفی السراج الوھاج ولایشترط فی الماء الجاری المدد ھو الصحیح ۲؎ اھ ثم ذکر فی البحر عن التجنیس والمعراج وغیرھا مسألۃ جواز الوضوء بما یجری فی نھر سد من فوقہ ۳؎۔

اور سراج الوہاج میں ہے کہ جاری پانی میں مدد کی شرط نہیں اور یہی صحیح ہے اھ پھر بحر میں تجنیس اور معراج وغیرہ سے یہ مسئلہ منقول ہے کہ وہ نہر جو اُوپر سے بند ہو اس میں جاری پانی سے وضو جائز ہے۔ (ت(

 (۲؎ بحرالرائق   بحث الماء الجاری       ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۱/۸۶)
(۳؎ بحرالرائق   بحث الماء الجاری       ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۱/۸۶)

اقول ای فیہ اوبہ اذا وقع فیہ نجس کما لایخفی ثم رأیت فی الحلیۃ اخذ بمثلہ علی متنہ اذقال ظاھر عبارتھم فی ھذہ المسألۃ کما فی الذخیرۃ وواقعات الناطفی اذاسد من فوق فتوضاء بما یجری فی النھر جاز اھ ان یکون الوضوء فی النھر فکان علی المصنف ان یذکر فیہ لان من الواضح جدا جواز الوضوء بہ جاریا کان اوغیر جار خارجہ اما باغتراف اواخذ منہ باناء فلا یقع التقیید ببقاء جریان الماء موقعا ثم ھم اعلی کعبا من ذکر مثلہ ۱؎ اھ

میں کہتا ہوں یعنی اس میں یا اُس سے جبکہ اس میں نجاست گر جائے کما لایخفی، پھر میں نے حلیہ میں دیکھا کہ متن میں انہوں نے اسی کو اختیار کیا ہے وہ فرماتے ہیں ان کی عبارت کا ظاہر اس مسئلہ میں جیسا کہ ذخیرہ اور واقعات ناطفی میں ہے کہ جب نہر کو اُوپر سے بند کر دیا جائے اور پھر کوئی شخص اس پانی سے وضو کرے جو نہر میں جاری ہے تو جائز ہے، اور یہ کہ وضو نہر میں ہو، تو مصنّف پر لازم تھا کہ ''فیہ'' کا ذکر کرتے کیونکہ اس سے وضو کا جواز بہت واضح ہے، خواہ وہ جاری ہو یا نہ ہو، وضو کرنے والا نہر سے باہر چلّو کے ذریعے نہر سے پانی لے کر یا کسی برتن کے ذریعے حاصل کرکے وضو کرے بہرصورت بقائے جریان کی قید درست نہیں پھر اُن کا مقام اس سے بہت بلند ہے کہ اس قسم کی چیزیں وہ ذکر کریں اھ (ت(

 (۱؎ حلیہ)

اقول ای عتب(۱) علی المصنف اذا کانوا ھم المعبرین بالباء دون فی فھذا محل التفسیر لاالاخذ کما فعل الفقیر قال البحر فھذا یشھد لما فی السراج ۲؎ اھ

میں کہتا ہوں جب وہ خود ''باء'' سے تعبیر کرتے ہیں تو مصنّف پر کیا اعتراض ہے، تو یہ تفسیر کا محل ہے نہ کہ گرفت کرنے کا، جیسا کہ فقیر نے کیا ہے، بحر نے فرمایا یہ اس چیز کی شہادت دیتا ہے جو سراج میں ہے اھ (ت(

 (۲؎ بحرالرائق        بحث الماء الجاری    ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۱/۸۶)

اقول نعم لکن(۲) لاینبغی عزوہ للتجنیس فانہ لیس جانحا الیہ بل ھو فی عداد ما رد علیہ کما یظھر من عبارۃ الفتح حیث نقل عن التجنیس فی مسئلۃ القمقمۃ ھذا لیس بشیئ ثم قال ونظیرہ فذکر مسألۃ المیزاب ثم قال وما اشبھہ وجعل منہ مسألۃ الحوضین وھذہ المسألۃ ثم قال فی البحر وذکر السراج الھندی عن الامام الزاھد ان من حفر(۱) نھرا من حوض صغیر واجری الماء فی النھر وتوضأ بذلک الماء فی حال جریانہ فاجتمع ذلک الماء فی مکان فحفر رجل اخر نھرا من ذلک المکان واجری الماء فیہ وتوضأ بہ حال جریانہ فاجتمع فی مکان اٰخر ففعل رجل ثالث کذلک جاز وضوء الکل لان کل واحد انما توضأ بالماء حال جریانہ والجاری لایحتمل النجاسۃ مالم یتغیر ۱؎ اھ

میں کہتا ہوں، ہاں، لیکن اس کو تجنیس کی طرف منسوب کرنا صحیح نہیں، کیونکہ وہ اس کی طرف مائل نہیں ہیں بلکہ وہ اس پر رد کرتے ہیں، جیسا کہ فتح کی عبارت سے ظاہر ہے کیونکہ انہوں نے ٹونٹی کے مسئلہ میں تجنیس سے نقل کیا ہے ''یہ کچھ نہیں'' پھر فرمایا اور اس کی نظیر اس کے بعد انہوں نے پر نالہ کا مسئلہ ذکر کیا، پھر فرمایا وما اشبھہ اور اس میں دو حوضوں کے مسئلہ کو شامل کیا اور اس مسئلہ کو بھی، پھر فرمایا بحر میں ''اور ذکر کیا سراج ہندی نے امام زاہدسے کہ اگر کسی شخص نے چھوٹے حوض سے ایک نہر نکالی اور نہر میں پانی چھوڑ دیا، اور جب پانی جاری ہوگیا تو اُس سے وضو کیا، پھر وہ پانی ایک جگہ جمع ہوگیا تو پھر کسی دوسرے شخص نے اس جگہ سے نہر نکالی اور اس میں پانی چھوڑ دیا اور اس پانی سے وضو کیا اس حال میں کہ پانی جاری تھا پھر وہ پانی کسی دوسری جگہ جمع ہوگیا پھر کسی تیسرے شخص نے بھی یہی عمل کیا تو سب کا وضو جائز ہے کیونکہ ہر ایک نے جاری پانی سے وضو کیا ہے اور جاری اس وقت ناپاک نہیں ہوتا ہے جب تک اس میں تغیر پیدا نہ ہو اھ (ت(

 (۱؎ بحرالرائق    الماء الجاری    سعید کمپنی کراچی    ۱/۸۶)

اقول ای ان وقعت الحقیقیۃ  اوالحکمیۃ ان توضأ فیہ بغمس الاعضاء فلا ینبغی علی نجاسۃ المستعمل ثم ھذہ مثل مسألۃ الحوضین بل  ھی بعبارۃ ابسط وقد ذکرھا صاحب المنیۃ عن المحیط وفی الذخیرۃ عن القاضی الامام علی السغدی وفی الخانیۃ و غیرھا وقال فی الحلیۃ المصنّف نقل عن المحیط تقیید الجواز بما اذا کان بین المکانین مسافۃ وان کانت قلیلۃ یوافقہ ما فی الخانیۃ تاویلہ اذا کان بین المکانین قلیل مسافۃ وفی مسألۃ الحفرتین (ای یخرج من احدھما الماء و یدخل فی الاخری وھی مسألۃ الفتح) لوکان بینھما قلیل مسافۃ کان الماء الثانی (ای المجتمع فی الحفرۃ الاخری) طاھرا کذا قالہ خلف بن ایوب ونصیر بن یحیی وھذا لانہ اذا کان بین المکانین مسافۃ فالماء الذی استعملہ الاول یرد علیہ ماء جار قبل اجتماعہ فی المکان الثانی فلا یظھر حکم الاستعمال (ای لایثبت) اما اذا لم تکن بینہما مسافۃ فالماء الذی استعملہ الاول قبل ان یرد علیہ ماء جار یجتمع فی المکان(۱) الثانی فیصیر مستعملا فلا یطھر بعد ذلک انتھی وھذا کلہ بناء علی نجاسۃ المستعمل ۱؎ اھ

میں کہتا ہوں یعنی اس صورت میں جبکہ نجاست حقیقیہ یا حکمیہ اس میں گر گئی ہو، اگر اس نے اس میں اعضاء ڈبو کر وضو کیا تو اس کی بناء مستعمل کی نجاست پر نہ ہوگی یہ دو حوضوں کے مسئلہ کی طرح ہے بلکہ مختصر عبارت کے ساتھ یہ بعینہ وہی مسئلہ ہے اس کو صاحبِ مُنیہ نے محیط سے نقل کیا ہے اور ذخیرہ میں قاضی علی السغدی سے اور خانیہ وغیرہ میں، اور حلیہ میں کہا کہ مصنّف نے محیط سے جواز کی قید کو اس صورت میں نقل کیا ہے جبکہ دونوں جگہوں میں مسافت ہو خواہ کم ہی کیوں نہ ہو، خانیہ میں بھی اس کی موافق عبارت موجود ہے، اس کی تاویل یہ ہے کہ جبکہ دونوں جگہوں کے درمیان کم درجہ کی مسافت موجود ہو،اور دو گڑھوں کے مسئلہ میں (یعنی ایک گڑھے سے پانی نکلے اور دوسرے میں داخل ہو اور یہ فتح کا مسئلہ ہے) اگر دونوں کے درمیان کم مسافۃ ہے تو دوسرا پانی (یعنی جو دوسرے گڑھے میں اکٹھا ہے) پاک ہوگا، خلف بن ایوب اور نصیر بن یحییٰ نے ایسا ہی کہا ہے اور یہ اس لئے ہے کہ جب دونوں جگہوں میں مسافت ہو تو وہ پانی جس کو پہلے نے استعمال کیا ہو اس پر دوسرا جاری پانی وارد ہوگا قبل اس کے کہ وہ دوسری جگہ جمع ہو، تو استعمال کا حکم ظاہر نہ ہوگا (یعنی ثابت نہ ہوگا، اور جب اُن دونوں کے درمیان مسافت نہ ہو تو وہ پانی جس کو پہلے نے استعمال کیا دوسرے جاری پانی کے وارد ہونے سے پہلے وہ دوسری جگہ اکٹھا ہوجائیگا تو مستعمل ہوجائیگا اور اب طاہر نہیں ہوسکتا ہے انتہیٰ، اور یہ تمام اُس صورت میں ہے جب مستعمل پانی کو ناپاک قرار دیا جائے اھ (ت(

 (۱؎ حلیہ)

اقول حوض یکری منہ نھر فیجری فیہ ماء فیجتمع فی مکان اٰخر کیف یتصور ھذا من دون مسافۃ بینہما نعم یمکن فی الحفرتین ان تکونا متجاورتین یکون خروج الماء من احدھما دخولہ فی الاخری۔

میں کہتا ہوں ایک ایسا حوض جس سے نہر نکالی جائے اور اس میں پانی چھوڑ دیا جائے، پھر وہ پانی دوسری جگہ جمع ہوجائے، یہ عمل دونوں میں مسافت کے بغیر کیسے ممکن ہے؟ ہاں دونوں گڑھوں میں اس امر کا امکان ہے کہ قریب قریب ہوں، کہ ایک سے پانی نکلتے ہی دوسرے میں داخل ہوتا ہو۔ (ت(

فان قلت المراد مسافۃ فوق مایغمس فیھا المتوضیئ اعضائہ لیتحرک علی الارض بعد انفصالہ من اعضائہ فیأتی علیہ ماء اٰخر قبل دخولہ فی المکان الثانی۔

اگر یہ کہا جائے کہ مسافت سے مراد ایسی مسافت ہے کہ جو وضو کرنے والے کے اعضاء کے ڈوبنے سے زائد ہوتا کہ پانی اس کے اعضاء سے جُدا ہونے کے بعد حرکت کرے، اور اس کے دوسری جگہ داخل ہونے سے پہلے دوسرا پانی اس پر آجائے۔ (ت(

اقول اذھو جار فلا یتاثر ولا یفتاق الی ان یجریہ جار اٰخر فلو اجتمع من فورہ فی المکان الثانی لکان طھورا فالوجہ ان لا(۱) یجعل ھذا تقییدا ولا(۲) تاویلا بل بیانا لفائدۃ التصویر بکری النھر ویوجہ بانہ لولا ذلک لانقطع جریانہ بدخولہ فی بطن الثانی کما قدمنا تحقیقہ ان الحرکۃ فی البطن سیلان لاجریان فیقع الوضوءفی الراکد فیفسد ثم البناء(۳) علی مسألۃ فرق الملاقی کما فعلنا فلا حاجۃ الی البناء علی مھجور لکن صاحب الحلیۃ مال الی التسویۃ ثم ذکر السراج مسألۃ المیزاب وعزاھا للشیخ الزاھد ابی الحسن الرستغفنی وقال فیھا وھو یتوضؤ فیہ ۱؎ اھ

میں کہتا ہوں چونکہ وہ جاری ہے اس لئے متاثر نہ ہوگا اور نہ محتاج ہوگا اس بات کا کہ اس کو کوئی دوسرا جاری پانی جاری کرے اب اگر وہ فوراً ہی دُوسری جگہ جمع ہوجائے تو طہور ہوگا تو وجہ یہ ہے کہ اس کو قید نہ بنایا جائے اور نہ ہی اس کو تاویل قرار دیا جائے بلکہ وہ نہر کھودنے کے فائدے کا بیان ہے، اور اس کی وجہ یہ ہے کہ اگر ایسا نہ ہوتا تو اس کا جاری ہونا دوسرے بطن میں داخل ہونے کے سبب منقطع ہوجاتا، جیسا کہ ہم نے اس کی تحقیق کی ہے کہ حرکت بطن میں سیلان کہلاتی ہے نہ کہ جریان، اور اس طرح وضو ٹھہرے ہوئے پانی میں ہوگا اور پانی فاسد ہوجائیگا، پھر ملاقی کے فرق کے مسئلہ پر اس کی بنا ہے جیسا کہ ہم نے کیا ہے، تو کسی مہجور ومتروک چیز پر بنا کی حاجت نہیں، لیکن صاحبِ حلیہ کا میلان برابری کی طرف ہے، پھر سراج نے پرنالہ کا مسئلہ بیان کیا اور اس کو شیخ زاہد ابو الحسن الرستغفنی کی طرف منسوب کیا اور اس میں کہا ''اور حالانکہ وہ اس میں وضو کررہا ہے اھ (ت(

 (۱؎ بحوالہ بحرالرائق    بحث الماء الجاری    ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۱/۸۶)

اقول ای بالغمس وبہ یتضح مااجملہ فی الفتح قال لان استعمالہ حصل حال جریانہ والماء الجاری لایصیر مستعملا باستعمالہ ثم قال السراج ومن المشائخ من انکر ھذا القول وقال الماء الجاری انما لایصیر مستعملا اذا کان لہ مدد کالعین والنھر قال والصحیح القول الاول بدلیل مسألۃ واقعات الناطفی فذکر مسألۃ سد النھر ممن فوق قال فان ھناک لم یبق للماء مدد ومع ھذا یجوز التوضؤ بہ ۱؎ اھ

میں کہتا ہوں یعنی وہ اعضاء کو ڈبو کر وضو کر رہا ہے اور اسی سے وہ چیز واضح ہوتی ہے جس کا انہوں نے فتح میں اجمال کیا ہے۔ فرمایا کہ اس کا استعمال پانی کے جاری رہنے کی صورت میں ہوا ہے اور جاری پانی کسی کے استعمال سے مستعمل نہیں ہوتا ہے، پھر سراج نے فرمایا :اور بعض مشائخ نے اس قول کا انکار کیا ہے اور فرمایا ہے کہ جاری پانی اس وقت مستعمل نہیں ہوتا ہے جبکہ اس کا سوتا ہو جیسے چشمہ یا نہر، فرمایا اور صحیح پہلا قول ہے، اس پر دلیل واقعات الناطفی کی عبارت ہے، پھر انہوں نے نہر کو بند کرنے کا مسئلہ ذکر کیا کہ اس صورت میں پانی کی مدد باقی نہ رہی لیکن اس کے باوجود اس سے وضو جائز ہے۔ (ت(

 (۱؎ بحوالہ بحرالرائق    بحث الماء جاری    ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۱/۸۶)

اقول ولا تنس ماقدمناہ  (ہم نے جو پہلے ذکر کیا ہے اُسے نہ بُھولیے۔ ت) علامہ نے ردالمحتار میں اور مسائل سے اس قول دوم کی تائید کی فقال ویؤیدہ ایضا مامر من انہ لوسال(۱) دم رجلہ مع العصیر لاینجس خلافا لمحمد ۲؎  (فرمایا اور اس کی تائید یہ عبارت کرتی ہے کہ اگر کسی شخص کا خون پھلوں کے رس کے ساتھ جاری ہوا تو نجس نہ ہوگا، اس میں محمد کا خلاف ہے اھ۔ ت(

 (۲؎ ردالمحتار        باب الانجاس        مصطفی البابی مصر    ۱/۲۳۹)

قلت المسألۃ فی الدرعن الشمنی وغیرہ وفی المنیۃ عن المحیط وفی الحلیۃ عن المجتبیٰ وعن مختارات النوازل وھی مقیدۃ بأن کان العصیر لیسیل ولم یظھر فیہ اثر الدم کما نصوا علیہ قال وفی الخزانۃ (فذکر ماقدمنا فی الاصل العاشر من مسألۃ اختلاط ماء الانائین فی الھواء اواجرائہ فی الارض قال ونظمھا المصنف فی تحفۃ الاقران قال وفی الذخیرۃ فذکر مامر فی العاشر عن الحسن بن ابی مطیع۔

میں کہتا ہوں مسئلہ دُر میں شمنی وغیرہ سے اور منیہ میں محیط اور حلیہ میں مجتبٰی سے اور مختارات النوازل سے ہے، اور یہ اس امر سے مقید ہے کہ عصیربہہ رہا ہو اور اس میں خون کا اثر ظاہر نہ ہو، جیسا کہ علماء نے صراحت کی ہے فرمایا، اور خزانہ میں ہے پھر اُنہوں نے وہ عبارت نقل کی جو ہم نے اصل عاشر میں ذکر کی یعنی دو برتنوں کا پانی جو ہوا میں آپس میں مل گیا یا زمین پر جاری کیا، فرمایا مصنّف نے اس کو تحفۃ الاقران میں ذکر کیا فرمایا اور ذخیرہ میں ہے پھر وہ ذکر کیا جو فصل عاشر میں حسن ابن ابی مطیع سے ہے۔ (ت(

یہاں تک تائید قول دوم میں سات مسئلے ہوئے:
۱۔ حوض صغیر میں سے نہر کھود کر پانی بہا کر اُس میں وضو۔
۲۔ پر نالے میں پانی ڈلوا کر اس میں وضو۔
۳۔ نہر کہ اوپر سے اُس کا مینڈھا باندھ دیا ہے اُس میں وضو۔
۴۔ شیرہ انگور نچوڑ رہا ہے اور وہ جاری ہے کُچھ خون اُس میں ٹپک گیا جس کا اثر ظاہر نہ ہوا نجس نہ ہوگا۔
۵۔ پاک ناپاک برتنوں کے پانی ہوا میں ملا کر چھوڑے۔
۶۔ یا زمین میں بہائے دونوں پاک ہوگئے۔
۷۔ ناپاک زمین پر پانی بہایا ہاتھ بھر بہ گیا زمین بھی پاک پانی بھی پاک
اقول ان سب سے صاف تر وہ مسئلہ ہے کہ برف پگھلا اور ایسے راستہ پر بہا جس میں گوبر وغیرہ نجاسات ہیں اگر نجاسات کا اثر اس میں ظاہر نہ ہوا اس سے وضو ہوسکتا ہے،

وھو ماقدمناہ فی الاصل العاشر عن المنحۃ عن الھدیۃ عن الخزانۃ وعن البزازیۃ وعن الخلاصۃ عن الفتاوٰی۔

یہ وہ ہے جو پہلے اصل عاشر میں ذکر کر آئے ہیں منحہ سے، ہدیہ سے، خزانہ سے، بزازیہ سے، خلاصہ سے اور فتاوٰی سے۔ (ت(

شرح ہدیہ میں فرمایا:ھذا مبنی علی عدم اشتراط المدد فی الماء الجاری ۱؎ اھ۔ یہ اس بناء پر ہے کہ جاری پانی میں مدد کی شرط نہ ہو۔ (ت(

 (۱؎ بحوالہ منحۃ الخالق    بحث الماء الجاری    ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۱/۶۵)

ثم اقول اولا ھذہ الفروع متوزعۃ علی انحاء منھا ماھو مؤید ولا شک وھی مسألۃ نھر سد من فوق والتی زدت ومنھا مالا تائید فیہ اصلا وھما المسألتان الاولیان ولا ادری کیف اتفق الفریقان علی جعلھما مما لامدد لہ فانہ انما یتوضؤ(۱) فی النھر بین الحوضین اوفی المیزاب(۲) ولا شک ان الحوض الاعلی والاداوۃ یمدان ماء ھما الا(۳) تری کیف اتفقوا علی الحاق حوض الحمام بالماء الجاری اذاکان الماء من الانبوب نازلا والغرف متدارکا۔

پھر میں کہتا ہوں اوّلا یہ فروع کئی قسم کی ہیں، بعض تو وہ ہیں جن کی تائید موجود ہے اور جس میں شک نہیں، اس میں وہ فرع ہے جس میں ایسی نہر کا ذکر ہے جس کو اوپر سے بند کر دیا گیا ہواور اس کے ساتھ وہ اضافے جو میں نے کئے ہیں اور کچھ وہ ہیں جن کی تائید بالکل نہیں ملتی ہے اور یہ پہلے دو مسئلے ہیں، اور میں نہیں سمجھتا کہ دونوں فریق ان دونوں مسئلوں کو مدد نہ ملنے والے پانی سے بنا دینے پر کیونکر متفق ہوگئے ہیں؟ کیونکہ وضو کرنے والا یا تو نہر میں وضو کرے گا جو دو حوضوں کے درمیان ہے یا پرنالہ سے کرے گا اور اس میں شک نہیں کہ اوپر والا حوض اور برتن دونوں پانی کو مدد پہنچاتے ہیں، پھر مقامِ غور ہے کہ وہ حمّام کے حوض کو جاری پانی سے لاحق کرنے پر کیوں راضی ہوئے جبکہ پانی نالی کے ذریعہ اوپر سے اُتر رہا ہو اور چُلّو سے مسلسل پانی لیا جارہا ہو،

وقد(۴) جزم بہ فی الفتح ھھنا کما رأیت ونظیرہ ماقدمنا عن العلامۃ ش فی الاصل الرابع ان طھارۃ الدلو اذا افرغ فیہ ماء حتی سال مبنی علی عدم اشتراط المدد ومنھا ماللنزاع فیہ مجال وفی ÷ وان اومی الی التائید فمن طرف خفی، فان الماء(۵) الممتزج فی الھواء اوالجاری(۶) علی الارض فی الخامسۃ والسادسۃ یمدہ الصب(۷) بل وکذلک فی السابعۃ وان کان لفظ الذخیرۃ صب علیھا الماء فجری قدر ذراع لا حتی جری کی یدل ظاھرا علی عدم انقطاع الصب الی ھذہ الغایۃ فان الفاء وان لم یدل دلالۃ حتی غیر انھا لا تدل ایضا علی الانقطاع والاحتمال یقطع الاستدلال وکذلک(۸) فرع العصیر فان لہ مدد ا ما دام العصر قائما ،

اور فتح نے یہا ں جزم کیا جیسا کہ آپ نے دیکھا اور اس کی نظیر وہ ہے جو ہم نے علّامہ ''ش'' سے چوتھی اصل میں نقل کی کہ ڈول کی پاکی جب اس میں پانی بہایا جائے یہاں تک کہ اس کے اوپر سے بہہ نکلے مدد کے شرط نہ ہونے پر مبنی ہے اور ان فروع میں سے بعض وہ ہیں جن میں نزاع کی گنجائش کافی ہے اور اس میں تائید کی طرف ہلکا سا اشارہ ہے کیونکہ ہوا میں مِلا ہوا پانی، یا زمین پر جاری پانچویں چھٹی صورت میں اس کو بہانا مدد دیتا ہے بلکہ ساتویں میں بھی ایسا ہی ہے اگرچہ ذخیرہ کے الفاظ ''صب علیھا الماء فجری قدر ذراع'' الخ ہیں، نہ کہ حتی جری، اگر حتی کہا ہو تو اس کا مطلب یہ ہوتا کہ بہانا اس غایت تک منقطع نہیں ہوا، کیونکہ ''فا'' اگرچہ ''حتی'' کے مفہوم پر دلالت نہیں کرتی تاہم وہ انقطاع پر بھی دلالت نہیں کرتی اور جب احتمال پیدا ہوجائے تو استدلال ختم ہوجاتا ہے اور اسی طرح عصیر کی فرع کیونکہ اس کو اس وقت تک مدد ملتی رہتی ہے جب تک نچوڑنا برقرار رہتا ہے،

فانقلت المسألۃ مرسلۃ فیشمل مااذا انقطع العصر قلت قالوا فیھا والعصیر لیسیل فالاستشھاد بھا یتوقف علی کون السیلان الباقی بعد انقطاع المدد جریانا وھو اول الکلام فانقلت نعم ھو جریان بالاتفاق الم تسمع مانقل فی الفتح والتوشیح عن شارط المدد ان الماء الجاری انما لایصیر مستعملا اذا کان لہ مدد زاد السراج اما اذا لم یکن لہ مدد یصیر مستعملا ۱؎ اھ فقد سماہ جاریا قلت جعلہ فی حکم الراکد والمقصود الحکم فلا شک ان المراد لیسیلان العصیر وجریان الماء مالا یقبل بہ اثر النجاسۃ ویطھر بعضہ بعضًا نعم قد یقال فی الخامسۃ والسادسۃ ان الامتزاج فی الھواء اوعلی الارض انما یکون بعد الصب فقدر ما یخرج بالصب یمتزج فیحصل المزج الاخیر بعد تمام الصب فلولم یبق جاریا بعدہ نجس الممتزج الاخیر کلہ۔

اگر یہ کہا جائے کہ مسئلہ تو مطلق ہے یہ اُس صورت کو بھی شامل ہے جبکہ نچوڑنا ختم ہوجائے، اس کے جواب میں میں کہوں گا کہ اس میں فقہاء نے فرمایا ہے اور عصیر بہہ رہا ہو تو اس سے استدلال اس امر پر موقوف ہے کہ باقی کا بہنا انقطاع مدد کے بعد جاری ہو اور یہی پہلی بات ہے۔ اگر یہ کہا جائے کہ ہاں یہ تو بالاتفاق جاری ہوتا ہے، کیا تم نے وہ نقل نہیں سُنی جو فتح اور توشیح میں مدد کے شرط کرنے والے سے منقول ہے کہ جاری پانی اس وقت مستعمل نہ ہوگا جبکہ اس کیلئے مدد ہو سراج نے اتنا اور اضافہ کیا کہ اگر اس کیلئے مدد نہ ہوئی تو وہ مستعمل ہوجائیگا اھ تو اس کو انہوں نے جاری ہی کہا، میں کہتا ہوں انہوں نے اس کو ٹھہرے ہوئے کے حکم میں کیا ہے اور مقصود حکم ہے تو اس میں شک نہیں کہ عصیر کے بہنے اور پانی کے جاری ہونے سے مراد وہ ہے جو اثر نجاست کو قبول نہ کرے اور جس کا بعض حصہ بعض کو پاک کر دے، ہاں پانچویں چھٹی صورت میں کہا جاسکتا ہے کہ ہوا میں ملنا یا زمین پر جاری ہونا بہنے کے بعد ہی ہوگا تو جس قدر بہانا ہوگا وہ مل جائے گا اور آخری ملنا مکمل بہانے کے بعد ہی متحقق ہوگا تو اگر وہ جاری نہ رہا اس کے بعد تو آخری ملنے والا مکمل طور پر نجس ہوجائے گا۔ (ت(

وثانیا الاشھر فی حد الجاری مایذھب بتبنۃ والاظھر ما یعد جاریا کما فی الدر وھو الاصح کما فی البدائع والتبیین والبحر والنھر ولا شک انھما صادقان علی نھر سد من فوقہ فانہ یذھب بحزمۃ فضلا عن تبنۃ ولا یسوغ لاحد اھل العرف ان یقول انہ راکد فمن العجب(۱) بعد ذکرہ اختیار اشتراط المدد الا ان یقال ان الوضوء بغمس الاعضاء انما یکون فیما بعد السد منفصلا عنہ لا فی الاجزاء الملاصقۃ لہ وما انفصل عن السد فلہ من فوقہ مدد تأمل۔

اور ثانیا، جاری کی جو مشہور تعریف ہے وہ یہ ہے کہ جاری پانی وہ ہے جو تنکا بہا کر لے جائے اور اظہر یہ ہے کہ جس کو جاری سمجھا جائے جیسا کہ دُر میں ہے اور وہ ہی صحیح ہے جیسا کہ بدائع، تبیین، بحر اور نہر میں ہے اور اس میں کچھ شک نہیں کہ دونوں تعریفات اُس نہر پر صادق ہیں جو اوپر سے بند کردی گئی ہو کیونکہ یہ تو پورا ایک گھٹا بہر کر لے جائے گی چہ جائیکہ تنکا اور اہلِ عرف میں سے کسی کو روا نہیں کہ وہ اس پانی کو ٹھہرا ہوا کہے، تعجب ہے کہ یہ بات ذکر کرنے کے بعد انہوں نے مدد کے شرط ہونے کو اختیار کیا ہے، تاہم یہ جواب دیا جاسکتا ہے کہ اعضاء ڈبو کر وضو اسی پانی سے ہوسکتا ہے جو بندش کے بعد اس سے جدا ہو، اس پانی میں نہیں ہوسکتا جس کے اجزاء بندش کے ساتھ ملے ہوئے ہوں اور جو بندش سے جدا ہے اس کو اوپر سے مدد مل رہی ہے تأمل

وثالثا یظھر(۲) لی واللّٰہ تعالٰی اعلم ان لیس جریان(۳) الماء الا حرکتہ بطبعہ فی فضاء وبقاؤہ جاریا علی محل واحد ھو الذی یحتاج الی المدد لان الجاری لایقف فلولم یمد لاخلی المحل وبالمدد یتجدد علیہ امثالہ فیستمر جاریا علیہ مادام المدد غیران الجریان دافع لاثرالنجاسۃ عن الماء ما استمر جاریا لارافع لہ عنہ فلوجری(۴) الماء المتنجس بنفسہ بان کان فی صبب سد مجراہ ففتح ففاض لم یطھر ابدا بل لابد للطھارۃ من جریانہ مع الطاھر فجریان الطاھر لایحتاج الی المدد کنھر سد من فوقہ وکما تری اذا اشتد المطر ووقف لایزال الماء الواقع علی الارض والسطوح جاریا مدۃ بعدہ ولا یصح لاحد ان یقول وقف الواقع فور وقوف المطر وجریان النجس المطھرلہ یحتاج الی مدد من طاھر فلیکن محمل القولین وباللّٰہ التوفیق۔

اور ثالثا، جو اللہ کے فضل سے مجھ پر منکشف ہوا ہے وہ یہ ہے کہ پانی کے جاری ہونے سے فضا میں اس کی طبعی حرکت مراد ہے اور اس کا محل واحد پر جاری رہنا مدد کا محتاج ہے کیونکہ جو جاری ہے وہ ٹھہرے گا نہیں، تو اگر اس کو مدد نہ ملے تو وہ جگہ خالی ہوجائے گی اور مدد کی وجہ سے اس پر اس کے امثال کا تجدد ہوگا تو وہ اس پر جاری رہے گا جب تک مدد ملتی رہے گی، البتہ جریان پانی سے نجاست کے اثر کو دفع کرنے والا ہے جب تک کہ وہ جاری ہے اس سے رفع کرنے ولا نہیں ہے تو اگر ناپاک پانی ازخود جاری ہوا مثلاً کسی ڈھلوان میں تھا جو بند تھا پھر اس کو کھولا گیا تو وہ پانی جاری ہوگیا تو اس طرح وہ کبھی پاک نہ ہوگا بلکہ پاکی کیلئے ضروری ہے کہ وہ پاک پانی کے ساتھ جاری ہو، تو پاک کا جاری ہونا مدد کا محتاج نہیں جیسے کوئی نہر کہ اوپر سے بند کردی جائے، اور جیسا کہ آپ دیکھتے ہیں کہ شدیدبارش کے بعد چھتوں وغیرہ پر جمع شدہ پانی بہت دیر تک بہتا رہتا ہے اور کوئی شخص یہ نہیں کہہ سکتا ہے کہ گرنے والا پانی بارش کے ٹھہرنے کے فوراً بعد ٹھہر گیا اور ناپاک پانی کا بہنا جو اس کو پاک کردے، پاک پانی کی مدد کا محتاج ہے تو دونوں قولوں کا یہ محمل ہے وباللہ التوفیق۔ (ت(

ثم اقول ھذا(۱) اذا کان الماء فی فضاء اما اذا کان فی جوف کحوض اوظرف فلا بد مع ذلک من خروجہ عنہ لان الماء کان واقفا فیہ والماء لایقف ماصادف منحدرا فدل وقوفہ علی عدمہ فاذا دخلہ ماء اٰخر فلا یدفعہ الی منحدر بل یعلیہ الی فوق فلا یکون جاریا الی ان یقطع العوائق بامتلاء المحل فیجد متسعا فینحدر فعند ذلک یصیر جاریا فمن اجل ھذا شرط فیہ مع الدخول الخروج فاذا(۲) کان حوض فی حوض والماء وراء الصغیر اوماؤہ کان واقفا فیہ لانعدام المنحدر فلا یجری مالم یخرج من الاعلی لما علمت اما اذا لم یکن الا فی الصغیر ووراء ہ مسیل فدخل الطاھر وملأہ وجعل الماء یخرج منہ ویسیل فقد جری الی ان یصل الی مایحاذیہ من سطح الکبیر فیقف لانعدام المنحدر فما یدخل الیہ بعدہ لایجریہ بل یعلیہ الی ان یملأ الا علی ثم یفیض۔

پھر میں کہتا ہوں یہ اُس صورت میں ہے جبکہ پانی فضا میں ہو، لیکن پانی اگر کسی تہ میں ہے جیسے حوض یا برتن تو ضروری ہے کہ وہ اس برتن سے خارج بھی ہو کیونکہ پانی اس میں ٹھہرا ہوا تھا اور پانی اترتی ہوئی چیز سے متصل ہونے کے وقت ٹھہر نہیں سکتا ہے، تو اس کا ٹھہرنا اس کے عدم کی دلیل ہے تو اب جب اس میں دوسرا پانی داخل ہوا تو اس کو ڈھلوان کی طرف دھکا نہیں دے گا بلکہ اس کو اوپر کی طرف بلند کرے گا تو وہ اس وقت تک جاری نہ ہوگا جب تک کہ وہ رکاوٹوں کو محل کے پُر کرنے سے دُور نہ کردے، پھر وہ کشادگی پائیگا اور اُترے گا اُس وقت وہ جاری ہوگا، اسی وجہ سے اس میں دخول کے ساتھ ہی خروج کی شرط بھی رکھی گئی ہے، تو جب ایک حوض دوسرے حوض میں ہو اور پانی چھوٹے حوض کے پیچھے ہو یا اس کا پانی ٹھہرا ہوا ہو کیونکہ اس میں ڈھلوان موجود نہیں تو جب تک اوپر سے خارج نہ ہو جاری نہ ہوگا جیسا کہ آپ نے جانا اور اگر پانی صرف چھوٹے میں ہو اور اس کے پیچھے پانی کے بہنے کا راستہ ہو اور پاک اس میں داخل ہوگیا ہو اور اس کو بھر دیا ہو یہاں تک کہ پانی اُس میں سے بہہ کر نکل رہا ہو تو اب جاری ہوگا یہاں تک کہ بڑے حوض کی مقابل سطح تک جا پہنچے، اب ٹھہر جائیگا کیونکہ ڈھلوان موجود نہیں ہے تو اب اس کے بعد جو آئے گا وہ اس کو جاری نہ کرے گا بلکہ اس کو بلند کرے گا یہاں تک کہ اُوپر والے کو بھر دے گا پھر بہے گا۔ (ت(

ثم اقول: ھذا کلہ فی الجریان الحقیقی اما ما الحقوا بہ کحوض صغیر للحمام اوللوضوء یدخل فیہ الماء من الانابیب والمیازیب ویخرج بالغرف المتدارک والبئر ینبع(۱) فیھا الماء من تحت ویخرج بالاستقاء المتوالی او بفتح منفذ فیھا ان امکن کمامر(عہ۱) عن الھندیۃ عن الظھیریۃ وعن المنحۃ عن الخیر الرملی وفی البحر عن البدائع عن الامام الحسن بن زیاد عند تکرار النزح ینبع الماء من اسفلہ ویؤخذ من اعلاہ فیکون ۱؎ کالجاری اھ

پھر میں کہتا ہوں یہ سب بحث جریان حقیقی میں ہے، لیکن فقہاء نے اس کے ساتھ جس کو لاحق کیا ہے جیسے چھوٹا حوض نہانے کیلئے یا وضو کیلئے جس میں پانی نلوں یا پرنالوں سے آتا ہے اور مسلسل چُلّو بھرنے سے نکلتا ہے، اور یا وہ کنواں جس میں نیچے پانی کے سوتے ہیں، اور مسلسل بھرنے سے وہ پانی نکلتا رہتا ہے یا اس میں کوئی سوراخ کھول دیا گیا ہے اگر ممکن ہو، جیسا کہ ہندیہ سے ظہیریہ سے اور منحہ سے خیر رملی سے گزرا، اور بحر میں بدائع سے امام حسن بن زیاد سے منقول ہے کہ پانی بار بار نکالا جائے تو نیچے سے نکلتا رہے اور اوپر سے لے لیا جاتا ہے، تو یہ مثل جاری کے ہوگا اھ

 (عہ۱) نشر علی ترتیب اللف ۱۲ (م(
اجمال کی ترتیب پر تفصیل ہے۔ (ت(

 (۱؎ بحوالہ بدائع الصنائع    فصل فی بیان مقدار الخ    ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۱/۷۷)

وھو عندی محمل مافی الحلیۃ عن الامام محمد قال اجتمع رأیی ورأی ابی یوسف علی ان ماء البئر فی حکم الماء الجاری لانہ ینبع من اسفل ویؤخذ من اعلاہ فلا یتنجس بوقوع النجاسۃ فیہ ۲؎ اھ

اور میرے نزدیک یہ اس چیز کا محمل ہے جو حلیہ میں امام محمد سے منقول ہے، انہوں نے فرمایا میری اور ابو یوسف کی یہ رائے ہے کہ کنویں کا پانی جاری پانی کے حکم میں ہے کیونکہ وہ نیچے سے نکلتا ہے اور اوپر سے لے لیا جاتا ہے تو اس میں نجاست کے گرنے سے نجس نہ ہوگا اھ

 (۲؎ بحوالہ بدائع الصنائع    فصل فی بیان مقدار الخ    ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۱/۷۵)

ونقلہ فی العنایۃ بلفظ قال محمد۔۔۔الخ ثم رأیت الامام ملک العلماء نقلہ فی البدائع بعین لفظ الحلیۃ وذکر تمامہ کحوض الحمام اذا کان یصب الماء فیہ من جانب ویغترف من جانب اٰخر انہ لاینجس بادخال الید النجسۃ فیہ ۱؎ اھ وکذلک فی الفتح الی قولہ کحوض الحمام ۲؎ اھ فاکد ذلک ماذکرتہ من المحمل۔

اور عنایہ میں اس کو ''قال محمد'' کے لفظ سے ذکر کیا الخ پھر بدائع میں اس کو بعینہٖ انہی الفاظ میں ذکر کیا جو حلیہ کے ہیں فرمایاجیسے حمام کا حوض کہ اس میں ایک جانب سے پانی ڈالا جائے اور دوسری جانب سے چُلّو کے ذریعہ نکالا جائے تو ناپاک ہاتھ کے ڈالے جانے سے نجس نہ ہوگا اھ اور اسی طرح فتح میں ''کحوض الحمام'' تک ہے اھ تو اِس نے تاکید کردی اُس محمل کی جس کا میں نے ذکر کیا ہے۔ (ت(

 (۱؎ بحوالہ بدائع الصنائع    فصل فی بیان مقدار الخ    ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۱/۷۵)
(۲؎ فتح القدیر        فصل فی البئر    نوریہ رضویہ سکھر    ۱/۸۶)

اقول: وعند ھذا فھو فرع جید مقبول ولا(۱) وجہ لردہ کما یعطیہ کلام الحلیۃ تبعا للبدائع انہ کان القیاس فی البئر ان لاتتنجس اصلا کما نقل عن محمد اولا تطھرا بدا کما قالہ بشر المریسی الا ان اصحابنا ترکوا القیاسین بالاٰثار ھذا حاصل مافیھا حملا منھما ایاہ علی الاطلاق ولیس الاولی بنا ان نرد ما جاء عن الائمۃ مع وجود محمل لہ صحیح فقد تظافرت(۲) کلماتھم علی قبول ھذا المعنی فی الحوض الصغیر فلم لایقبل فی البئر ولا تخالفہ الا فی حیأۃ ولامدخل لھا فی الحکم فکل صغیر سواء او ان الماء یدخل فیہ من اعلاہ وفیھا من اسفلھا ولا یختلف بہ الحکم فقد قال فی الفتح(۳) لوتنجست بئرفاجری ماؤھا بان حفرلھا منفذ فصار الماء یخرج منہ حتی خرج بعضہ طھرت لوجود سبب الطھارۃ وھو جریان الماء وصار کالحوض اذا تنجس فاجری فیہ الماء حتی خرج بعضہ ۱؎ اھ

میں کہتا ہوں اور اس وقت یہ اچھی فرع ہے مقبول ہے، اور اس کے رد کی کوئی وجہ نہیں جیسا کہ حلیہ میں بدائع کی تبعیت میں ہے کہ کنویں میں قیاس یہ تھا کہ کبھی ناپاک نہ ہو جیسا کہ محمد سے منقول ہے یا یہ کبھی پاک نہ ہو جیسا کہ بشر مریسی سے منقول ہے، مگر ہمارے اصحاب نے دونوں قیاسوں کو آثار کی وجہ سے ترک کردیا، یہ اُن دونوں کتابوں کا حاصل ہے کہ انہوں نے اس کو اطلاق پر محمول کیا ہے، اور جو چیز ائمہ سے منقول ہے اور اس کا مناسب محمل بھی موجود ہو تو اس کو رَد کر دینا مناسب نہیں، کیونکہ چھوٹے حوض میں وہ اس حکم کو قبول کرتے ہیں تو پھر اس کو کنویں میں کیوں نہ قبول کیا جائے حالانکہ کنواں چھوٹے حوض سے صرف صورت میں مختلف ہے یا صورت کا حکم میں کیا دخل ہے؟ ہر چھوٹا برابر ہے، اور یہ کہ حوض میں پانی اوپر سے آتا ہے اور اس میں نیچے سے آتا ہے، تو اس سے حکم مختلف نہ ہوگا، چنانچہ فتح میں فرمایا کہ اگر کنواں ناپاک ہوجائے اور اس کا پانی جاری کیا جائے مثلاً اس میں کوئی سوراخ کر دیا جس سے کنویں کا کچھ پانی نکل گیا تو کنواں پاک ہوگیا، کیونکہ سببِ طہارت پایا گیا اور وہ پانی کا جاری ہونا ہے اور یہ حوض کی طرح ہوا کہ ناپاک ہوجائے اور اس میں پانی جاری کیا جائے یہاں تک کہ کچھ پانی نکل جائے ا ھ

 (۱؎ فتح القدیر        آخر فصل فی البئر    نوریہ رضویہ سکھر    ۱/۹۳)

واغترف منہ فی البحر واقرہ وفی الدر یکفی نزح ماوجد وان قل وجریان بعضہ ۲؎ اھ اس کو بحر میں ذکر کیا اور برقرار رکھا اور دُر میں ہے کہ جو پانی اس میں ہے اس کا نکال دینا کافی ہے خواہ کم ہی ہو اور جاری ہونا بعض کا اھ

 (۲؎ الدرالمختار        فصل فی البئر        مجتبائی دہلی        ۱/۹۳)

قال ش بان حفرلھا منفذ یخرج منہ بعض الماء کما فی الفتح ۳؎ اھ ''ش'' نے کہا کہ مثلاً کنویں میں کوئی سوراخ کردیا جس سے کچھ پانی نکال دیا جیسا کہ فتح میں ہے اھ

 (۳؎ ردالمحتار           فصل فی البئر           مصطفی البابی مصر    ۱/۱۶۰)

وقدمنا فی الاصل الثالث عن البحر فی مسألۃ جریان الحوض الصغیر بدخول ماء اٰخر فیہ وخروج البعض منہ حال دخولہ قال السراج الھندی وکذا البئر ۴؎ اھ ومثلہ فی البزازیۃ وقدمناہ عن الخلاصۃ فلولا انھم اعتبروا نبع الماء من اسفلہ لم یکن لہ معنی فان الجریان دافع لارافع فالنجس لایطھر بہ ابدا مالم یجرمع الطاھر ھذا(۱)

اور ہم نے تیسری اصل میں بحر سے چھوٹے حوض کے جاری ہونے کے مسئلہ میں بیان کیا کہ اس میں نیا پانی داخل ہو اور اس کے داخل ہوتے وقت کچھ اس سے خارج ہو، سراج ہندی نے کہا کہ اس طرح کنویں کا حال ہے اھ اور اسی کی مثل بزازیہ میں ہے اور ہم نے اس کو پہلے خلاصہ سے نقل کردیا ہے تو اگر وہ پانی کے نیچے سے پُھوٹنے کا اعتبار نہ کرتے تو یہ بے معنی بات ہوتی کیونکہ جاری ہونا دافع ہے رافع نہیں تو جب تک وہ نجس طاہر کے ساتھ جاری نہ ہو کبھی بھی پاک ہونے کا نہیں، اس کو اچھی طرح سمجھئے۔

 (۴؎ بحرالرائق        بحث عشر فی عشر    ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۱/۷۸)

وبالجملۃ کل ماالحق بالجاری علی ھذا المنوال اعنی اقامۃ الاخراج مقام الخروج فقد زید فیہ قید اٰخرو ھو توالی الاخراج واستمرار تحرکہ بہ حتی لوسکن لم یلتحق وذلک لان لازم الجریان شیاٰن تعاقب الاجزاء یزول منہ جزء فیخلفہ اٰخر وعدم الاستقرار بدوام التحرک فاذا دخل الماء فی الحوض والبئر من جانب واخرج من اٰخر بالغرف والاستقاء وجد الاول واذا استمر ذلک حصل الثانی فتم الشبہ فساغ الالتحاق ولذا اعتبروا تدارک الغرفات بان لایسکن وجہ الماء بین الغرفتین لا الموالاۃ الحقیقیۃ اذ بھذا القدر یحصل دوام التحرک المحصل للشبہ ھذا ما عندی واللّٰہ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم۔

خلاصہ یہ کہ ہر وہ پانی جس کو جاری کے حکم میں کیا گیا ہے اور اس میں اخراج کو خروج گردانا گیا ہے تو اس میں ایک اور قید کا اضافہ کیا گیا ہے اور وہ تسلسل کے ساتھ اخراج کی قید ہے اور اس کی وجہ سے اس کا مسلسل متحرک رہنا، اور اگر وہ ٹھہر گیا تو جاری کے حکم میں نہ ہوگا اور اس کی وجہ یہ ہے کہ جاری ہونے کو دو چیزیں لازم ہیں ایک تو اجزاء کا تعاقب کہ ایک جزء زائل ہو اور دوسرا جُزء اس کے پیچھے آئے، اور مسلسل حرکت کی وجہ سے ایک جگہ نہ ٹھہرتا، تو جب حوض اور کُنویں میں پانی ایک طرف سے داخل ہو اور دوسری طرف سے چُلّوؤں اور ڈولوں یا نالیوں کے ذریعہ نکالا جائے تو پہلی چیز حاصل ہوگی اور یہ سلسلہ جاری رہے تو دوسری چیز حاصل ہوگی اور مشابہت مکمل ہوجائیگی اور اس کا لاحق کیا جانا جائز ہوگا اور اس کیلئے چُلّوؤں کا پے درپے ہونا معتبر ہوگا، اور پے درپے کا مطلب ہے کہ دو چُلّوؤں کے درمیان پانی میں ٹھہراؤ نہ آئے حقیقی موالات مراد نہیں ہیں کیونکہ اس مقدار سے تحرک کا دوام حاصل ہوجاتا ہے جس سے مشابہت پوری ہوتی ہے ھذا ماعندی واللّٰہ سبحانہ وتعالٰی اعلم۔ (ت(
اس تقریر(۱) سے واضح ہوا کہ ندی(۱) کا پانی جس کا مینڈھا اوپر سے باندھ دیا ہو اور (۲) گلا ہوا برف کہ زمین پر بہ رہا ہو اور(۳) مینہ کا پانی کہ بارش تھمنے پر ہنوز رواں ہو اور(۴) دو پانیوں کی دھار جو ہوا میں مل کر اُتر رہی ہے یا(۵) زمین پر ایک ہو کر بہ رہی ہے اور(۶) انگور کا شیرہ کہ ابھی رواں ہے اگرچہ ان کی مدد منقطع ہوگئی ہو جب تک کسی ایسی شے تک نہ پہنچیں جو آگے مرور کو مانع ہو سب جاری ہیں تو لوٹے کی دھار کہ ابھی ہاتھ تک نہ پہنچی بدرجہ اولیٰ اور دخول وخروج دونوں کی شرط اُس مائع میں ہے جو کسی جوف میں رُکا ہوا ہے اور پانی ایک طرف سے آنا اور دوسری طرف سے جلد جلد کھینچا جانا کہ جنبش تھمنے نہ پائے یہ ملحق بہ آب جاری میں ہے والحمدللّٰہ علی توالی اٰلائہ، وافضل صلوٰتہ واکمل تسلیمات علی افضل انبیائہ، وعلیٰ اٰلہٖ وصحبہ وابنہ واحبائہ، والحمدللّٰہ رب العٰلمین واللّٰہ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم۔

تجدید النظر بوجہ اٰخر، وابانۃ ماھو احلی وازھر، واجلی واظھر۔
اللھم لک الحمد، والیک الصمد، ارعبیدک الصواب ، وقہ التباب، فی کل باب، یاوھاب، وصلّ وسلّم وبارک علی السید الاواب، الذی تحکی نفحۃ من کرمہ الریح المرسلۃ ورشحۃ من فیضہ ھامر السحاب، وعلی اٰلہ وصحبہ وابنہ وحزبہ خیر حزب واٰل واصحاب، اٰمین۔

ایک اور طریقہ سے نظرِ ثانی، اور عمدہ، روشن اور اظہر طریقہ پر وضاحت:
اے اللہ تیرے لئے یہ حمد ہے اور تُو بے نیاز ہے، اے وہاب! اپنے بندوں پر ہر معاملہ میں اچھا راستہ کھول او رہلاکت سے بچا، اور صلوٰۃ وسلام اور برکتیں ہوں رجوع لانے والے آقا پر جس کے کرم کا ایک جھونکا، چلتی ہوئی ہوا کے مشابہ ہے اور جس کے فیض کا ایک چھینٹا بہت برسنے والے بادل کی طرح ہے اور آپ کی آل، اصحاب، اولاد اور گروہ سب پر سلامتی ہو. آمین۔ (ت(
جماہیر مشاہیر کتب معتمدہ متدا ولہ مستندہ کی تصریحات واضحہ وتلویحات لائحہ کا یہی مفاد کہ جو پانی یا مائع کسی جوف میں ہو تازہ آمد کتنی ہی ہو اُسے جاری نہ کرے گی جب تک بھر کر نہ اُبلے حوض وغیرہ کے بطن میں پانی کا بہنا اُس کے پانی کے لئے جریان نہیں کتب کثیرہ سے فروع متکاثرہ وتصریحاتِ متوافرہ اس معنی پر جوابات سابقہ میں گزریں، جواب سوم کے بعض احکام اور آخر چہارم کی تقریر اور پنجم کے اکثر مباحث اسی پر مبنی تھے اور اصل سوم تو خود یہی تھی اور یہی اصل پنجم کی تمہید اور ششم کا حصہ اولین اور نہم کا اوّل واخیر پھر تفریعات میں جو کچھ ان پر متفرع ہے لیکن یہاں ایک قول یہ ہے کہ جریان کیلئے خروج شرط نہیں، حوض کبیر جس کی تہہ میں نجاستیں یا نجس پانی تھا مجرد بھر جانے سے پاک ہوجائیگا منیہ(۱) میں اگرچہ اس قول کو بصیغہ ضعف نقل کیا کہ وقیل لایصیر نجسا (اور ایک قول یہ ہے کہ نجس نہیں ہوگا۔ت) اور حلیہ(۲) میں اُس کا ضعف اور مسجّل کردیا کہ اس کی کچھ وجہ ظاہر نہیں غنیہ(۳) میں اس کے خلاف کی تصریح تصحیح کی امام ابو القاسم صفار(۴) وامام فقیہ ابو جعفر(۵) وامام فقیہ ابو اللیث(۶) وامام صدر الشہید(۷) وامام ابو بکر اعمش(۸) وامام علی سغدی (۹)وامام نصیر بن یحییٰ (۱۰) وامام خلف بن ایوب (۱۱) وغیرہم اجلّہ اکابر قدست اسرارہم ورحمنا اللہ تعالٰی بہم فی الدارین کے ارشادات واختیارات اور ظہیریہ (۱۲) ومبتغی(۱۳) ومحیط(۱۴) وبرہانی ورضوی(۱۵) وغنیہ کی تصحیحا ت اس کے خلاف پر ہیں ان کتابوں اور ان کے سوا بدائع(۱۶) وفتح القدیر(۱۷) وتبیین(۱۸) وتوشیح(۱۹) وبحر(۲۰) وتاتارخانیہ(۲۱) وخانیہ(۲۲) وخلاصہ(۲۳) وذخیرہ(۲۴) وفتاوٰی اہل سمرقند (۲۵) وغیاثیہ(۲۶) وعالمگیریہ(۲۷) وخزانۃ المفتین(۲۸) وجواہر اخلاطی(۲۹) وشرح ہدیہ ابن العماد (۳۰) وغیرہا عامہ کتب جلیلہ نے فروع کثیرہ وافرہ میں اصلاً اس کی طرف التفات بھی نہ کیا یہ امور بتاتے ہیں کہ وہ قول مہجور جمہور ونامقبول ونامنصور ہے ولہٰذا ہم نے بھی باتباع ائمہ اُس کی طرف میل نہ کیا مگر انصافاً(۱) وہ ساقط محض نہیں بجائے خود ایک قوت رکھتا ہے متعدد مشائخ اور کثیر یا اکثر فقہائے بخارا وبعض ائمہ بلخ نے اُسے اختیار کیا اور امام یوسف ترجمانی نے اسے بہ یفتی کہا۔ امام کردری نے وجیز میں اسے مقرر رکھا اور یہ آکد الفاظ فتوٰی سے ہے منیہ کی عبارت کہ ابھی مذکور ہوئی اس کے متصل ہی ہے:

حوض کبیر و فیہ نجاسات فامتلاء قیل ھو نجس وقیل لیس بنجس وبہ اخذ اکثر مشائخ بخاری رحمھم اللّٰہ ذکرہ فی الذخیرۃ ۱؎

حوض کبیر جس کی تہہ میں نجاستیں ہوں پھر وہ بھر جائے تو ایک قول کے مطابق نجس ہے اور ایک قول یہ ہے کہ نجس نہیں بخارا کے اکثر مشائخ (اللہ ان پر رحم کرے) نے اسی کو اختیار کیا ہے اس کو ذخیرہ میں ذکر کیا ہے۔ (ت(

 (۱؎ منیۃ المصلی    فصل فی الحیاض    مکتبہ قادریہ جامعہ نظامیہ لاہور    ص۷۲)

غنیہ میں قولِ اوّل کی تعلیل کی: لتنجس الماء شیئا فشیئا ۲؎۔ کیونکہ پانی تھوڑا تھوڑا کرکے نجس ہوتا جاتا ہے۔ (ت(

 (۲؎ غنیۃ المستملی شرح منیۃ المصلی    سہیل اکیڈمی لاہور        ص۱۰۱)

اور دوم کی: لکونہ کبیرا فصار کما لوکان ممتلئا فوقعت فیہ النجاسات ۳؎۔ کیونکہ یہ بڑا حوض ہے تو یہ اسی حکم میں ہوگا کہ پہلے وہ بھر گیا ہو پھر اس میں نجاستیں واقع ہوئی ہوں۔ (ت(  (؎ غنیۃ المستملی شرح منیۃ المصلی    سہیل اکیڈمی لاہور        ص۱۰۱)

حلیہ میں ذخیرہ کا نص یوں ذکر کیا: وفی نظم الزند ولیسی اذا کان الحوض کبیرا وفیہ نجاسات فدخل الماء فامتلاء قال اھل بلخ وابو سھل الکبیر البخاری ھو نجس وقال الفقیہ ابوجعفر البلخی والفقیہ اسمٰعیل وابن الحسن الزاھدی البخاری الکل طاھر وبہ اخذ کثیر من فقہاء بخارٰی وھکذا افتی عبدالواحد مرارا وھکذا کان یفتی الفقیہ ابو بکر العیاضی وکان یقول الماء الکثیر فیحکم الماء الجاری انتھیٰ ۱؎۔

اور نظم زند ویسی میں ہے کہ جب حوض بڑا ہو اور اس میں نجاسات ہوں، پھر پانی داخل ہو کر اس کو بھر دے تو بلخ والوں اور ابو سہیل کبیر بخاری کا قول ہے کہ یہ نجس ہے اور فقیہ ابو جعفر البلخی، فقیہ اسمٰعیل اور ابن الحسن الزاہدی البخاری نے کہا کہ سب پاک ہے اور اس قول کو بخارا کے کثیر فقہاء نے اختیار کیا ہے، اور عبدالواحد نے بھی اس پر کئی بار فتوٰی دیا اور ابو بکر عیاضی بھی اسی طرح فتوٰی دیتے تھے اور فرماتے تھے کہ کثیر پانی جاری پانی کے حکم میں ہے انتہی۔ (ت(

 (۱؎ حلیہ)

پھر فرمایا: ونقل الزاھدی عن یوسف الترجمانی فی انہ قال وبہ یفتی ۲؎۔ زاہدی نے یوسف الترجمانی سے نقل کیا ہے کہ انہوں نے فرمایا اور اسی پر فتوٰی ہے۔ (ت(

 (۲؎ حلیہ)

بزازیہ میں ہے:تنجس الحوض ثم دخل فیہ ماء کثیر وخرج منہ ایضا قیل طھر الحوض وان قل الخارج وقیل لاحتی یخرج مثل مافیہ وقیل مثلاہ اوثلثۃ امثالہ وقیل یطھر وان لم یخرج شیئ قال ابو یوسف الترجمانی رحمہ اللّٰہ تعالٰی وبہ یفتی ۳؎ اھ

حوض ناپاک ہوگیا پھر اس میں بہت سا پانی داخل ہوگیا اور نکل گیا تو ایک قول ہے کہ حوض پاک ہوگیا خواہ نکلنے والا پانی کم ہی ہو اور ایک قول یہ ہے کہ جب تک اتنا پانی نہ نکلے جتنا کہ حوض میں تھا پاک نہ ہوگا جبکہ ایک قول یہ ہے کہ جب تک حوض کا دوگنا یا تین گنا پانی نہ نکلے پاک نہ ہوگا اور ایک قول یہ ہے کہ پاک ہو جائے گا خواہ کچھ بھی نہ نکلے، یوسف الترجمانی رحمہ اللہ تعالٰی نے فرمایا کہ اسی پر فتوٰی ہے۔ (ت(

 (۳؎ بزازیہ علی الھندیۃ    نوع فی الحیض    نورانی کتب خانہ پشاور     ۴/۸)

اقول تفرد(۱) بشیئین احدھما قید الکثیر فی الماء الداخل وھم قاطبۃ ارسلوہ وقال ش وان قل الداخل ۴؎ اھ وکانہ واللّٰہ تعالٰی اعلم رعایۃ للقول الاخیر اذ یختص بالحوض الکبیر فدل علی کبرہ بدخول الماء الکثیر والاٰخر زیادۃ مثلیہ وانما یذکرون مثلا وثلاثا فالثانی لتثلیث الغسل والاول قیاسا علی البئر فان نزح مافیھا لھا تطہیر افادہ فی البدائع اما التثنیۃ فلا وجہ لھا ھذا،

میں کہتا ہوں وہ دو چیزوں میں متفرد ہیں ایک تو داخل ہونے والے پانی میں کثرت کی قید لگانے میں، جبکہ تمام فقہاء نے یہ قید نہیں لگائی ہے اور ''ش'' نے فرمایا اگرچہ داخل ہونے والا پانی قلیل ہو اھ اور گو یا واللہ تعالٰی اعلم آخری قول کی رعایت ہے کیونکہ یہ بڑے حوض کے ساتھ خاص ہے تو کثیر پانی کا داخل ہونا حوض کی بڑائی پر دلالت کرے گا، اور دوسری چیز دگنا ہونے کی زیادتی، اور دوسرے فقہا ایک گنا اور تین گنا کا ذکر کرتے ہیں، تو دوسرا دھونے میں تثلیث کے لئے ہے اور پہلا کنویں پر قیاس کرتے ہوئے ہے، کیونکہ کنویں میں جو کچھ ہے وہ اگر نکال لیا جائے تو کنواں پاک ہوجائیگا، بدائع میں یہی ہے، اور دُگنا ہونے کی کوئی معقول وجہ موجود نہیں، ہذا۔

 (۴؎ ردالمحتار        باب المیاہ        مصطفی البابی مصر    ۱/۱۳۸)

ثم قال فی الحلیۃ لکن فی الذخیرۃ قبل ھذہ المسألۃ وفی فتاوٰی اھل سمر قند غدیر کبیر لایکون فیہ ماء فی الصیف ویروث فیہ الناس والدواب (فذکر ماقدمنا عن الخانیۃ وغیرھا عشرۃ کتب فی الاصل الثامن) قال فعلی قیاس الجواب فی ھذہ المسألۃ یکون الجواب ایضا فی المسألۃ التی ذکرھا المصنف ان کان الماء الذی یدخل اولا یدخل علی ماء نجس اومکان نجس فھو نجس وان کان یدخل علی طاھر ویستقر فیہ حتی یصیر عشرا فی عشر ثم یتصل بالنجس فھو طاھر قال فھذا قول ثالث فی المسألۃ المذکورۃ تخریجا کما یمکن ان یتأتی القولان المذکوران فیھا نصا فی ھذہ المسألۃ التی ذکرناھا نحن عن الذخیرۃ ایضا تخریجا ۱؎ اھ

پھر حلیہ میں فرمایا اور لیکن ذخیرہ میں اس مسئلہ سے قبل اور اہل سمرقند کے فتاوٰی میں ہے کہ اگر کوئی بڑا تالاب ایسا ہو جو گرمیوں میں سُوکھ جاتا ہو اور اس میں انسان اور چو پائے بول وبراز کرتے ہوں (تو اس کا حکم وہ بیان کیا جو ہم نے آٹھویں اصل میں خانیہ وغیرہا دس کتب سے نقل کیا) فرمایا اس مسئلہ کے جواب پر قیاس کرتے ہوئے مصنّف نے جو مسئلہ ذکر کیا ہے اس کا بھی جواب ہوگا، اور وہ یہ کہ اگر داخل ہونے والا پانی پہلے نجس پانی پر داخل ہوتا ہے یا نجس جگہ پر تو وہ نجس ہے اور اگر پاک پر داخل ہوتا ہے اور اس میں ٹھہرتا ہے یہاں تک کہ دہ در دہ ہوجائے پھر نجس سے متصل ہو تو وہ پاک ہے فرمایا یہ مسئلہ مذکورہ بطور تخریج تیسرا قول ہے اور دو مذکور قول اس میں بطور نص ہیں جس کو ہم نے ذخیرہ سے بطور تخریج نقل کیا ہے۔ اھ (ت(

 (۱؎ حلیہ)

اقول رحم اللّٰہ المحقق لاتثلیث ولا تخریج اما(۱) الثانی فظاھر فان المسألۃ المذکورۃ مسألۃ المتن حوض کبیر وفیہ نجاسات فامتلأ والتی اوردتموھا عن الذخیرۃ غدیر کبیر لایکون فیہ ماء فی الصیف ویروث فیہ الناس والدواب وای فرق بینہما الا فی اللفظ فلا قیاس ولا تخریج بل القولان المذکوران فی المتن منصوص علیھما فی مسألۃ الذخیرۃ والتفصیل المذکور فیھا منصوص علیہ فی مسألۃ المتن،

میں کہتا ہوں اللہ محقق پر رحم کرے نہ توتثلیث ہے اور نہ تخریج، دوسرا تو ظاہر ہے کیونکہ مسئلہ مذکورہ متن کا مسئلہ
ہے تثلیث کہ ایک بڑا حوض ہو جس میں نجاستیں ہوں اور بھر جائے، اور جس کو تم نے ذخیرہ سے نقل کیا ہے یعنی بڑا تالاب جو گرمیوں میں خشک ہوجاتا ہے اور اس میں انسان اور جانور بول وبراز کرتے ہوں، ان دونوں میں لفظی فرق کے علاوہ اور کیا فرق ہے، تو نہ قیاس ٹھیک ہے اور نہ تخریج درست ہے بلکہ دونوں قول جو متن میں مذکور ہیں اور ان کو ذخیرہ میں صراحت سے ذکر کیا ہے اور اس میں جو تفصیل ہے وہ متن میں منصوص ہے ،

واما(۲) الاول فلانہ لیس لاحد ان یقول الماء وان کثر فی بطن الحوض قبل وصولہ الی النجس یتنجس حین یصل الیہ وکیف یتنجس وقد فرض کثیرا ھذا خلاف الاجماع فالتفصیل المذکور فی الذخیرۃ ھو المراد قطعا فی القول الاول وانما طووا ذکرہ للعلم بہ کما قلتم ھھنا ان من المعلوم حیث قلنا فی ھذہ المسألۃ اوامثالھا ان الماء طاھر فھو مشروط بکونہ لااثر للنجاسۃ فیہ فترک التقیید بہ فی ذلک للعلم بہ وایاک والذھول عنہ فیذھبن بک الوھم الی تخطئتھم فی ذلک وھم من ذلک ۱؎ براء اھ، فھل(۳) یسوغ لاحد ان یجعل التقیید بعدم ظھور الاثر قولا رابعا فی المسألۃ وقد اشرنا الیہ بعد ذکر الضابط الثالث فما ثم الا قولان التفصیل المذکور فی الکتب العشرۃ واطلاق الطھارۃ وباللّٰہ التوفیق۔

لیکن پہلا تو اس کی وجہ یہ ہے کہ کوئی شخص یہ نہیں کہہ سکتا جبکہ پانی حوض میں کثیر ہو نجس تک پہنچنے سے پہلے، تو وہ نجس ہوجائیگا جب وہ نجاست تک پہنچے گا، اور نجس کیسے ہوگا حالانکہ اس کو کثیر فرض کیا گیا ہے یہ اجماع کے خلاف ہے جو تفصیل ذخیرہ میں ہے وہی قطعاً مراد ہے پہلے قول میں اور اس کو ذکر اس لئے نہیں کیا کہ وہ پہلے ہی معلوم ہے، جیسا کہ تم نے یہاں کہا ہے کہ یہ بات معلوم ہے جبکہ ہم نے اس مسئلہ میں اور اس جیسے مسائل میں کہا کہ پانی پاک ہے، مگر اس میں یہ شرط ہے کہ نجاست کا اثر اس میں ظاہر نہ ہو تو اس قید کو معلوم ہونے کی بنا پر چھوڑ دیا گیا ہے، اس سے آپ غافل نہ ہوں ورنہ آپ ان کو خطاکار قرار دیں گے حالانکہ وہ بے قصور ہیں اھ تو کیا کوئی اثر کے ظاہر نہ ہونے کی قید لگانے کو چوتھا قول قرار دے سکتا ہے ۔ اور ہم نے تیسرے ضابطہ کے بعد اس کی طرف اشارہ کیا ہے، تو وہاں صرف دو ہی قول ہیں مذکورہ تفصیل دسوں کتب میں ہے اور طہارت کا اطلاق ہے۔ (ت(

 (۱؎ حلیہ)

ثم اقول وبہ استعین (اللہ سے مدد چاہتے ہوئے میں کہتا ہوں) یہاں دو بحثیں ہیں:
بحث اوّل ہم اوپر بیان کر آئے کہ جریان آب نہیں مگر فضا میں اس کا اپنے میل طبعی سے رواں ہونا اور فضائے غیر محدود غیر مقصود اور محدود بطن حوض میں بھی موجود بارش یا سیل وغیرہ کا پانی کہ اوپر سے بہتا ہوا آیا اور بطنِ حوض میں داخل ہوا وہ قطعاً اب بھی بہ رہا ہے جب تک کنارہ مقابل پر جاکر رک نہ جائے۔
اولاً جاری کی دونوں تعریفیں اشہر واظہر اس پر صادق ہیں وہ ایک تنکا کیا ایک گھٹا بہالے جائیگا اور بے شک جب تک اُس کا بہاؤ نہ ٹھہرے بہتا ہی کہا جائیگا اہل عرف میں کوئی نہیں کہہ سکتا کہ سیلاب حوض کے کنارے تک پہنچتے ہی تھم گیا اب اس میں روانی نہ رہی جب تک بھر کر اُبال نہ دے پہلے کنارے پر تھم جائے تو حوض کو بھرے کون اور اُبالے کیوں کر۔
ثانیاً نہر جاری میں سیلاب کی دھار آکر گری اب چاہئے کہ وہ نہر جاری نہ رہے جب تک بھر کر اُبل نہ جائے کہ اعتبار وئے آب کا ہے اور اب روئے آب یہ سیلاب ہے جسے جوفِ نہر میں داخل ہوتے ہی ساکن مان لیا گیا۔
ثالثاً مینہ کاپانی(۱) کہ چھت پر بہتا پر نالوں سے گرتا صحنِ خانہ میں رواں ہو قطعاً آب جاری ہے اگرچہ ابھی مکان کی نالی سے بھی نہ نکلے مکان کو چھت تک لبریز کرکے دیواروں پر سے اُبال دینا تو قیامت ہے،

بدائع میں ہے:ان کانت الانجاس متفرقۃ علی السطح ولم تکن عند المیزاب ذکرعیسٰی بن ابان (ای تلمیذ محمد رحمہما اللّٰہ تعالی) انہ لایصیر نجسا مالم یتغیر وحکمہ حکم الماء الجاری وقال محمد ان کانت النجاسۃ فی جانب من السطح اوجانبین لاینجس الماء ویجوز التوضوء بہ وان کانت فی ثلٰثۃ جوانب ینجس اعتباراللغالب ۱؎ اھ

اگر نجاستیں چھت پر پرا گندہ ہوں اور یہ پرنالہ کے پاس نہ ہوں، تو عیسیٰ بن ابان نے ذکر کیا (یعنی محمد کے شاگرد نے) کہ وہ نجس نہ ہوگا جب تک کہ متغیر نہ ہو اور اس کا حکم جاری پانی کی طرح ہے اور محمد نے فرمایا کہ اگر نجاست چھت کی ایک جانب یا دو جانب ہو تو پانی ناپاک نہ ہوگا اور اس سے وضو جائز ہے اور اگر نجاست تین کناروں پر ہو تو غالب کا اعتبار کرتے ہوئے پانی ناپاک ہوجائیگا اھ (ت(

 (۱؎ بدائع الصنائع    فصل فی بیان المقدار    ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۱/۷۱)

ہندیہ میں ہے:لوکان علی السطح عذرۃ فوقع علیہ المطر فسال المیزاب ان کانت النجاسۃ عند المیزاب وکان الماء کلہ یلاقی العذرۃ اواکثرہ اونصفہ فھو نجس والا فھو طاھر وان کانت العذرۃ علی السطح فی مواضع متفرقۃ ولم تکن علی رأس المیزاب لایکون نجسا وحکمہ حکم الماء الجاری کذا فی السراج الوھاج،

اگر چھت پر پاخانہ پڑا ہو اور بارش ہوجائے پھر پرنالہ بہے تو اگر نجاست پرنالہ کے پاس ہو اور کل پانی پاخانہ سے لگ کر آرہا ہو یا اکثر یا نصف تو وہ ناپاک ہے ورنہ پاک ہے اور اگر نجاست چھت پر متفرق جگہوں پر ہو اور پرنالہ کے سر پر نہ ہو تو ناپاک نہ ہوگا اور اس کا حکم جاری پانی کا سا ہے۔ اسی طرح سراج الوہاج میں ہے،

وفی بعض(۱) الفتاوٰی قال مشائخنا المطر مادام یمطر فلہ حکم الجریان حتی لواصاب العذرات علی السطح ثم اصاب ثوبا لایتنجس الا ان یتغیر(۲) المطر اذا اصاب السقف وفی السقف نجاسۃ فوکف واصاب الماء ثوبا فالصحیح انہ اذا کان المطر لم ینقطع بعد فما سال من السقف طاھر ھکذا فی المحیط وفی العتابیۃ اذا لم یکن متغیرا کذا فی التاتارخانیۃ واما(۳) اذا انقطع المطر وسال من السقف شیئ فما سال فھو نجس کذا فی المحیط وفی النوازل قال مشائخنا المتأخرون ھو المختار کذا فی التتارخانیۃ ۱؎ اھ

اور بعض فتاوٰی میں ہے کہ ہمارے مشائخ نے فرمایا اگر بارش ہورہی ہو تو جاری پانی کے حکم میں ہے یہاں تک کہ اگر یہ پانی چھت پر پڑے ہوئے پاخانہ سے لگ کر بھی آئے اور پھر کپڑوں کو لگ جائے تو کپڑے ناپاک نہ ہوں گے، ہاں اگر بارش متغیر ہوجائے جبکہ چھت پر پہنچے اور چھت پر نجاست ہو اور پھر چھت ٹپکنے لگے اور یہ پانی کسی کپڑے پر لگ جائے تو صحیح یہ ہے کہ اگر بارش ابھی منقطع نہیں ہوئی ہے تو جو پانی چھت سے بہا وہ پاک ہے ھکذا فی المحیط۔ اور عتابیہ میں ہے کہ جبکہ متغیر نہ ہو، اور اسی طرح تاتار خانیہ میں ہے اور اگر بارش بند ہونے کے بعد چھت سے پانی ٹپکے تو جو بہا ہے وہ ناپاک ہے کذا فی المحیط، اور نوازل میں ہے کہ ہمارے متأخر مشائخ نے فرمایا یہی مختار ہے کذا فی التتارخانیہ اھ (ت(

 (۱؎ فتاوٰی ہندیۃ    الفصل الاول فیما یجوز        نورانی کتب خانہ پشاور    ۱/۱۷)

اقول سال من السقف ای وکف کما قدم اما السائل من المیزاب فجار قطعا وان وقف المطر کما قدمنا۔ میں کہتا ہوں چھت سے بہنے کا مطلب چھت سے ٹپکنا ہے جیسا کہ گزرا اور جو پرنالے سے بہتا ہے وہ قطعاً جاری ہے خواہ بارش ٹھہری ہوئی ہو۔ (ت(
بالجملہ آنے والے پانی کے بطن حوض میں جاری ہونے سے انکار ظاہر نہیں، ہاں جب حد مقابل پر پہنچے جہاں جاکر رک جائیگا یا تحریک پہنچی تو آگے نہ بڑھے گا بلکہ اُوپر چڑھے گا یہ حرکت طبعی نہ ہوگی بلکہ قسری خلاف طبع تو اُس وقت بیشک جریان جاتا رہے گا۔
بحث دوم: آب نجس کی تطہیر کو آبِ طاہر سے مل کر اُس کا جاری ہونا درکار ہے یا آب طاہر جاری کا اُس پر آنا کافی اول نص محرر المذہب امام محمد رحمہ اللہ تعالٰی سے منقول ہے،

فی ردالمحتار عن جامع الرموز عن التمرتاشی عن محمد المائع کالماء والد بس وغیرھما طہارتہ باجرائہ مع جنسہ مختلطا بہ ۲؎۔ اور ردالمحتار میں جامع الرموز سے تمرتاشی سے محمد سے ہے۔ کہ بہنے والا جیسے پانی اور شیرہ وغیرہ اس کی طہارت اس کو اسی کی جنس کے ساتھ ملا کر جاری کر دینے سے حاصل ہوتی ہے۔ (ت(

 (۲؎ ردالمحتار        مطلب یطہر الحوض بمجرد الجریان    مصطفی البابی مصر    ۱/۱۴۴)

اقول اور اسی کے مؤید ہے اُسے قول دائر وسائر الماء الجاری یطھر بعضہ بعضا  (کہ بعض جاری پانی بعض دوسرے پانی کو پاک کر دیتا ہے۔ ت) کے تحت میں لانا،

فانھما اذا جریا مختلطین کان بعض الجاری طاھرا وبعضہ نجسا فیطھر الاول الاٰخر بخلاف مااذا لم یجر النجس وقد یمکن ان یستأنس للثانی بما قدمنا فی الاصل الرابع عن الحلیۃ عن المحیط الرضوی ان الماء الجاری لما اتصل بہ صار فی الحکم جاریا ۳؎ اھ۔ لکنہ ذکرہ فی اشتراط الخروج من الجانب الاٰخر وان قل فالمراد الاتصال فی الجریان ومعلوم ان الجاری بعضہ لاکل مافیہ ویحکم بطھارۃ الکل فلذا قال صارفی الحکم جاریا فافھم۔

کیونکہ وہ دونوں جب مل کر بہیں تو بعض جاری پاک اور بعض نجس ہوگا تو پہلا دُوسرے کو پاک کر دیگا بخلاف اس صورت کے جبکہ نجس جاری نہ ہو اور دوسرے کیلئے جو ہم نے چوتھی اصل میں حلیہ سے محیط رضوی سے نقل کیا ہے استدلال ہوسکتا ہے کہ جب جاری پانی اس میں مل گیا تو جاری کے حکم میں ہوگا اھ لیکن اس کا تذکرہ انہوں نے وہاں کیا ہے جہاں دوسری جانب سے نکل جانے کی شرط لگائی ہے خواہ کم ہی ہو تو مراد جاری ہونے میں اتصال ہے اور یہ معلوم ہے کہ جاری بعض ہی ہے کل نہیں ہے۔ اور حکم کل کی طہارت کا لگایا جائیگا اور اسی لئے فرمایا کہ یہ جاری کے حکم میں ہوگیا۔ (ت(

 (۳؎ حلیہ)

فقیر کے نزدیک منشاء اختلاف یہی ہے اُن بعض نے جبکہ دیکھا کہ نیا آنے والا پانی بہتا ہوا اس آب نجس سے ملا اس کی طہارت کا حکم دیا پھر اگر نجاست غیر مرئیہ ہے یا مرئیہ تھی اور نکال دی گئی جب تو ظاہر ہے کہ ان کے طور پر سب پانی پاک رہنا چاہئے اگرچہ حوض صغیر ہو کہ جاری میں کثیر کی شرط نہیں اور آب جاری جب نجاست غیر مرئیہ پر وارد ہو اُسے فنا کر دیتا ہے کما حققناہ فی الاصل العاشر (جیسا کہ اس کی تحقیق ہم نے اصل عاشر میں کی ہے۔ ت) تو بعد وقوف اگرچہ محل قلیل میں ٹھہرا نجاست ہی معدوم ہے ہاں نجاست مرئیہ باقیہ میں ضرور کبر محل درکار کہ وقت وقوف بوجہ کثرت عود نجاست نہ ہوسکے اور جمہور نے یہ نظر فرمائی کہ آب داخل اگرچہ جاری ہو مگر آب نجس کو جاری نہ کیا کہ بطنِ حوض میں رُکا ہوا تھا اور اُس کا رُکنا ہی دلیل واضح تھا کہ اُسے آگے بڑھنے کو جگہ نہیں تو آب داخل اُسے آگے نہ بڑھائے گا بلکہ اوپر چڑھائیگا تو اُس کا اجرانہ ہوگا جو اُس کی طہارت کو درکار ہے مگر یہ کہ حوض بھر جائے اُس وقت تک تو سب ناپاک ہے اب جو اُبلے گا پاک ہوجائیگا کہ اب آگے بڑھنے اور منحدر میں اُترنے کو جگہ وسیع ہے اگر کہیے مانا کہ بطن حوض میں آب نجس کا اجرا نہ ہوگا مگر غسل یعنی دھونا تو ہوجائیگا کہ آب جاری بہتا ہوا آکر اُس کے تمام اجزا پر چھا گیا۔
اقول اولاً پانی کو دھونا شرع سے معہود نہیں مگر وہی طاہر سے ملا کر اُس کا اجرا۔
ثانیاً: غسل ہوگا تو فقط سطح بالائے آب نجس کا اور وہ کوئی جامد(۱) شیئ نہیں کہ ضرورۃً غسل سطح قائم مقام غسل کل ہو،

وھذہ فائدۃ استنبطھا الفقیر مما فی فتح القدیر فی بیان مذھب الصاحبین ان کانت(۲) الانفحۃ جامدۃ تطھر بالغسل ۱؎ اھ ای اذا اخذت من بطن جدی میت لتنجسہا عندھما بوعائھا المتنجس بالموت واستظھرہ فی مواھب الرحمٰن وذکر طہارتھا جامدۃ بالغسل کالفتح وعند الامام طاھرۃ لانہ لااثر للتنجس شرعا مادامت فی الباطن النجاسۃ فضلا عن غیرھا فتح وھو الراجح دروالانفحۃ اللبن فی بطن الجدی الراضع۔

یہ فائدہ خود فقیر نے جہاں صاحبین کا مذہب فتح القدیر میں بیان ہوا ہے میں نے مستنبط کیا ہے، اگر دُودھ خشک ہو تو دھونے سے پاک ہوجائیگا اھ یعنی مُردہ بکری کے بچّہ کے پیٹ سے نکالے گئے ہوں کیونکہ صاحبین کے نزدیک وہ ظرف کے ناپاک ہونے کی وجہ سے نجس ہوجائیں گے کیونکہ اس کا ظرف موت کی وجہ سے ناپاک ہوگیا، اور مواہب الرحمن میں اس پر استدلال کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ خشک ہوں (یعنی دودھ جم جائے) تو دھونے سے پاک ہوجائیں گے، جیسا کہ فتح میں ہے اور امام صاحب کے نزدیک پاک ہیں کیونکہ جب باطن میں کوئی نجاست ہو تو شرعاً وہ نجاست نہیں چہ جائیکہ اور کوئی چیز ہو فتح، اور یہی راجح ہے در، اور انفحہ اس دُودھ کو کہتے ہیں جو بکری کے شیر خوار بچّے کے پیٹ میں ہوتا ہے۔ (ت)

 (۱؎ فتح القدیر    الماء الذی یجوزبہ الوضوء    سکھّر    ۱/۸۴)

ثالثاً علی التسلیم (غَسل (دھونا) اگر تسلیم کر بھی لیا جائے تو۔ ت) غسل(۱) کیلئے تثلیث درکار ہوتی یا ذہاب نجاست پر غلبہ ظن۔ بہرحال مائے غاسل کا مغسول پر سے زوال ضرور کہ جب تک جُدا نہ ہوا مغسول سے زوال نجاست نہ ہوا تو حکم طہارت نہ ہوا۔ یوں بھی خروج لازم ہوگیا ظاہر ان وجوہ سے جمہور نے حکمِ نجاست دیا۔
اقول مگر جس طرح قول دوم پر بحث دوم وارد ہوئی یونہی قول اوّل پر بحث اول وارد ہوگی۔ ان اکابر نے بطن حوض میں سَیلان آب کو جریان ہی نہ ٹھہرا یا شرط خروج کی تصریحات وتصحیحات کہ جوابِ دوم میں غنیہ(۱) وظہیریہ(۲) اور جواب پنجم اصل دوم میں ملک العلماء(۳) وفقیہ ہندوانی(۴) وفقیہ سمرقندی(۵) اور اصل سوم میں تبیین(۶) وفتح(۷) وبحر(۸) ومحیط(۹) وتوشیح(۱۰) وامام حسام شہید(۱۱) وتاتارخانیہ(۱۲) وظہیریہ(۱۳) وہندیہ(۱۴) اور اصل چہارم میں مبتغی(۱۵) ومحیط(۱۶) رضوی وحلیہ(۱۷) وخلاصہ(۱۸) وردالمحتار(۱۹) ودو(۲۰) عبارت ظہیریہ(۲۱) وامام(۲۲) ابو بکر اعمش(۲۳) وغیرہ اور اصل ششم میں شرح(۲۴) ہدیہ ومنحہ(۲۵) سے گزریں ان کی تویہ توجیہ واضح ہے کہ جو نجس پانی حوض میں تھا اس کے جریان وتطہیر کیلئے خروج ضرور ہے تازہ پانی کہ اُوپر سے آیا ان سے اس کے جریان کی نفی نہیں ہوتی مگر ان نصوص کثیر کا کیا جواب جو صراحۃً اس آب داخل ہی کے جریان کا ابطال کرتے ہیں اگرچہ بطنِ حوض میں کتنی ہی دُور حرکت کرتا جائے مثلاً:
اولاً وہ تصریحیں کہ پانی اگر بطنِ حوض میں دہ در دہ ہونے سے پہلے نجاست سے ملے گا جتنا آتا جائیگا ناپاک ہوتا جائے گا جیسا کہ جواب چہارم میں امام (۱) صفار سے گزرا امام(۲) ملک العلماء نے اُسے مقرر رکھا اصل ہشتم فتاوٰی(۳) امام قاضی خان وجواہر(۴) اخلاطی سے اور ایسا ہی خزانۃ(۵) المفتین وفتاوٰی(۶) ذخیرہ میں ہے حلیہ(۷) میں اُس پر تقریر ہے غنیہ(۸) میں اس کے معنے ہیں اگر جاری مانا جاتا وہ دہ در دہ ہونا کیا شرط ہوتا کہ جاری کتنا ہی قلیل ہو ناپاک نہیں ہوسکتا جب تک نجاست سے اس کا کوئی وصف نہ بدلے لوٹے کی دھار کا مسئلہ اصل ۹ میں گزرا۔
ثانیا یہ تعلیل وشرط نہ بھی ہوتی تو اس مسئلہ دوّارہ کا نفس حکم کہ کتبِ معتمدہ جماہیر مشاہیر میں دائر وسائر ہے خود اُسے جاری نہ ماننے پر برہان ظاہر ہے جواب چہارم میں منیہ(۹) وبدائع(۱۰) وصفار(۱۱) وحلیہ(۱۲) اور پنجم میں حلیہ(۱۳) وغنیہ(۱۴) اور اس کی اصل ہشتم میں خانیہ(۱۵) وخزانۃ(۱۶) المفتین ومحیط(۱۷) وحلیہ(۱۸) وخلاصہ(۱۹) وفتح(۲۰) وفتاوٰی(۲۱) سمرقند وبحر(۲۲) وہندیہ(۲۳) وغیاثیہ(۲۴) وذخیرہ(۲۵) وفرع(۲۶) آخر قاضی خان وجواہر(۲۷) الاخلاطی سے تصریحیں اور تصحیحیں گزریں کہ حوض کتنا ہی کبیر ہو جب اس میں قلیل پانی ناپاک تھا پھر پانی آیا اور لبالب بھر گیا ناپاک ہی رہا۔ بھلا جب تک حد قلت میں تھا یہ کہہ سکتے تھے کہ آنے والا پانی اگرچہ اپنے داخل ہونے سے دوسری جانب پہنچنے تک جاری رہا مگر وہاں جاکر تو رُک گیا اور ہے قلیل اور نجاست یا آب نجس سے متصل تو اب ناپاک ہوجائیگا اسی طرح جو پانی آتا جائے گا حدِ قلت تک یہی حکم پائیگا وھم انما قالوا کل مادخل صار نجسا لاکما دخل تنجس مگر حوض تو کبیر ہے جب حدِ قلت سے آگے بڑھے گا کیا کہا جائے گا۔ آیا بہتا ہوا اور ٹھہرا کثیر ہو کر تو کسی وقت قابلِ قبول نجاست نہ ہوا پھر یہ حکم کیوں ہے کہ لبالب بھرنے پر بھی سب ناپاک۔ بلکہ لازم تھا کہ یا تو حصہ بالا کو جہاں سے حدِ کثرت ہے (اور ممکن ہے کہ حوضِ کبیر کا معظم حصہ وہی ہو) پاک کہیں اور حدِ قلت سے نیچے تک ناپاک یا نظر برآں کہ حصّہ زیریں ممتاز صورت نہ رکھنے کے باعث بالا کا تابع ہے سب پاک۔
اقول اور ظاہرا یہی اقیس ہوتا آخر نہ دیکھا کہ حوض کتنا ہی(۱) عمیق ہو بلکہ گہرے سے گہرا کنواں اگر لبالب بھر کر اُبل جائے اوپر سے نیچے تک سب پاک ہوگیا کہ آب جاری ہوگیا حالانکہ یقیناً حرکت جریانی صرف اوپر کے قلیل حصہ کو پہنچے گی آنے والا پانی جہاں تک کے پانی کو دبا کر ساتھ بہا کر اُبلے اُبالے گا اُتنے ہی پر جریان واقع ہوگا نیچے گزوں تک کے پانی کو خبر بھی نہ ہوگی اور ٹھہرا سب پاک۔ اُسی لئے کہ صورت واحدہ وشیئ واحد ہے، یوں(۲) ہی آبِ کثیر کی صورت واحدہ رکھتا اور اوپر قلیل حصہ کثیر اور نیچے سب قلیل ہے اور نجاست راسبہ پڑی کہ تہ تک پہنچی سب پاک رہے گا روئے آب کی کثرت وطہارت تہ تک عمل کرے گی کذا ھذا۔

فان قلت فی الجواب عنھما ان العبرۃ فی الکثرۃ والقلۃ لا وان الوقوع وھذا کان قلیلا عندہ والمستشھد بہ کثیرا فافترقا اما الجریان فمعتبر بنفسہ لالحاظ فیہ لکثرۃ اوقلۃ وقت الوقوع فاذ اجری وجہہ وھو شیئ واحدفقد جری کلہ فلا یقاس علیہ طھارۃ الاعلی لاستقرارہ علی الکثرۃ فانھا غیر الجریان

اگر تم ان دونوں کی طرف سے جواب میں یہ کہو کہ کثرت وقلت میں اعتبار گرنے کے وقت کا ہے اور یہ گرتے وقت قلیل تھا اور جس پر استدلال کیا جارہا ہے وہ کثیر ہے تو دونوں میں فرق ہوگیا، اور جاری ہونا تو وہ بنفسہ معتبر ہے اس میں کثرت وقلت کا کوئی اعتبار نہیں، وقوع کے وقت میں، تو جب وہ جاری ہوا اسکی سطح سے حالانکہ وہ شیئ واحد ہے تو گویا کل جاری ہوا، تو اس پر اوپر والے کی طہارت کو قیاس کرنا درست نہ ہوگا کہ وہ کثرت پر مستقر ہے کیونکہ یہ جریان نہیں ہے۔

اقول اولا اذ احکمنا بطھارۃ الکل لاجل الجریان انقطع حکم وقت الوقوع فاذا وقف فکانما الاٰن وقع وھو حینئذ کثیر اذالعبرۃ للوجہ وما تحتہ تبعہ فما وقع الا فی الکثیر والفضل الاٰن بین الا علی والاسفل بالکثرۃ والقلۃ خروج عن حکم الواحدۃ وعلی ھذا یلزم تنجس الاسفل المستشھدبہ ایضا لان النجس الراسب لم یصل الیہ الاحین قلتہ ھف ۔

میں کہتا ہوں اولاً جب ہم نے کل کی طہارت کا حکم لگایا جاری ہونے کی وجہ سے تو گرنے کے وقت کا حکم منقطع ہوگیا، تو جب ٹھہرا تو گویا وہ ابھی گرا ہے اور اس وقت وہ کثیر ہے کیونکہ اعتبار سطح کا ہے، اور جو اس کے نیچے ہے وہ اُس کے تابع ہے توکثیر ہی میں واقع ہوا اور اعلیٰ اور اسفل میں اب کثرت وقلت کے اعتبار سے فرق کرنا وحدتِ حکم سے خروج ہوگا اور اس بنا پر نیچے والے کا نجس ہونا لازم آئیگا جس سے استشہاد بھی کیا گیا ہے کیونکہ نجاست راسبہ اس تک نہیں پہنچی ہے مگر قلت کے وقت یہ خلاف مفروض ہے۔

وثانیا لئن سلم فھذا مضر سیعود نافعا فان الماء الداخل حیث کان جاریا حتی الوصول الی المنتھی والصورۃ واحدۃ فقد جری الکل فانتفت النجاسۃ رأسا ان کانت غیر مرئیۃ وکذا لومرئیۃ وقد اخرجت فلا معنی لعودھا حین استقرارہ ولو علی القلۃ وانتقلت الی الاعلی الکثیر لو باقیۃ طافیۃ فلم یتنجس اذا استقر کثیرا وقد طھر ماتحتہ بالجریان فلا یبقی الا ما اذا کانت مرئیۃ باقیۃ راسبۃ وکلامھم مطلق حاو للصور قاطبۃ۔

اور ثانیاً اگر تسلیم کر لیا جائے تو یہ ہمارے لئے مضر ہے اور عنقریب نافع ہوجائیگا، کیونکہ داخل ہونے والا پانی جاری تھا یہاں تک کہ وہ اپنی انتہا کو پہنچا اور صورتِ واحدہ ہے تو کل جاری ہوگیا اور نجاست اگر غیر مرئیہ ہو اور اس طرح اگر مرئیہ نکال دی گئی ہو تو سرے سے ختم ہوجائیگی تو اس کے لوٹنے کے کوئی معنی نہیں جب کہ پانی ٹھہرا ہوا ہو اگرچہ کم ہی ہو اور وہ نجاست اوپر والے کثیر پانی کی طرف منتقل ہوگئی، اگرچہ وہ اوپر تیر رہی ہو، تو جب کثیر پانی ٹھہرا ہو تو وہ ناپاک نہ ہوگا اور اس کا نچلا حصہ پانی کے جاری ہونے کی وجہ سے پاک ہوگیا تو باقی نہ رہے گا مگر جو مرئی اور تہ میں باقی ہو اور ان کا کلام مطلق ہے اور تمام صورتوں کو شامل ہے۔ (ت(
ثالثا جواب چہارم میں عبارت(۲۸) فتح القدیر دربارہ حوضِ صغیر کہ بھرکر بھی ناپاک رہے گا اُسی عدم تسلیم جریان پر دال ور نہ نجاست غیر مرئیہ یا مرئیہ کہ نکال دی ضرور زائل ہوجاتی۔
رابعا تنبیہ جلیل میں منیہ(۲۹) ومحیط(۳۰) وحلیہ(۳۱) وخانیہ(۳۲) وہندیہ(۳۳) وذخیرہ(۳۴) کی عبارات ائمہ اجلہ علی سغدی(۳۵) ونصیر(۳۶) بن یحییٰ وخلف(۳۷) بن ایوب رحمہم اللہ تعالٰی کے ارشادات کہ ایک حوض سے دوسرے میں انتقال آب کے جریان ہونے کو اُن میں کچھ مسافت ہونا ضرور ورنہ اس میں سے نکل کر اُس کے جوف میں جاتے ہوئے اُس میں وضو کیا جائے تو وضو نہ ہوگا اگر بطن میں حرکت کو جریان مانتے تو جس وقت پانی اول سے دوم میں گر رہا اور یہاں سے منتہی تک بہ رہا ہے اُس میں وضو ضرور آبِ جاری میں وضو ہوتا بیچ میں فاصلہ مسافت کی ضرورت نہ ہوتی کما اشرنا الیہ ثمہ ان ۳۷ عبارتوں سے روشن کہ جمہور اس سیلان کو خود اُس آب داخل ہی کا جریان نہیں مانتے اور یہ اُنہیں وجوہ سے کہ بحث اول میں گزریں اشکال سے خالی نہیں۔اگر کہیے آبِ راکد کے کثیر وناقابل نجاست ہونے کے لئے صرف مساحت سطحِ آب یا طول وعرض دہ در دہ کافی نہیں بلکہ اتنا عمق(۱) بھی درکار ہے کہ اس میں سے پانی ہاتھ سے لیں تو زمین کھُل نہ جائے یہی صحیح ہے ہدایہ وغیرہا کتب کثیرہ اسی پر فتوٰی ہے ظہیرہ خلاصہ درایہ جوہرہ وغیرہا ولہٰذا(۲) فتاوی امام اجل قاضی خان پھر ہندیہ وغنیہ میں فرمایا: واللفظ لھا یعنی الفاظ غنیہ کے ہیں:

ان علا الماء من ثقب الجمد وانبسط علی وجہ الجمد وکان عشرا فی عشر فان کان بحیث لوغرف منہ لاینحسر ماتحتہ من الجمد لم(عہ۱) یفسد بوقوع المفسد وان کان ینحسر اوکان دون عشر فی عشر یفسد ۱؎ بہ۔

جب پانی برف کے سوراخ سے اوپر چڑھے اور پھیل جائے برف کی سطح پر اور پانی دہ در دہ ہو اس طور پر کہ اگر کسی نے چُلّو بھر کر اس سے پانی لیا اور اس کے نیچے برف نہ کھلی تو مفسد کے گرنے سے فاسد نہ ہوگا اور اگر نیچے والی برف کھل گئی یا وہ پانی دہ در دہ نہ تھا تو وہ پانی فاسد ہوجائیگا۔ (ت(

 (عہ۱) ولفظ الاولین جاز فیہ الوضوء والافلا اھ فلیتنبہ فستأتیک فائدتہ فی الرسالۃ الاٰتیۃ ان شاء اللّٰہ تعالی ۱۲ منہ غفرلہ۔ (م(
پہلی دو کتابوں کے الفاظ یہ ہیں کہ اس میں وضو جائز ہے ورنہ نہیں اھ خبردار اس کا فائدہ آئندہ رسالہ میں آئے گا ان شاء اللّٰہ تعالٰی ۱۲ منہ غفرلہ۔ (ت(

 (۱؎ غنیۃ المستملی شرح منیۃ المصلی    بحث عشر فی عشر    سہیل اکیڈمی لاہور    ص۱۰۰)

تحفۃ الفقہاء وبدائع میں امام فقیہ ابو جعفر ہندوانی اور تبیین الحقائق میں دربارہ آب جاری امام ابو یوسف سے اور عبدالحلیم علی الدرر وجامع الرموز میں تصریح کی کہ دونوں ہاتھوں سے پانی لینا مراد ہے یعنی لپ بھر کر لینے میں نہ کھُلے اور قہستانی سے مفہوم کہ اُس کا اندازہ، پانچ انگل دَل ہے۔

حیث قال (ان کان) وجہ الماء (عشرا فی عشر لاینحسر ارضہ بالغرفۃ) ای یرفع الماء بالکفین وھذا قول بعض المشائخ فی تقدیر العمق وعلیہ الفتوی کما فی الخلاصۃ وھو علی مااختارہ من المقدارین والعمق الذی ھو خمس اصابع تقریبا ۱؎ الخ

قہستانی نے کہا کہ اگر پانی کا بالائی حصہ ایسا دہ در دہ ہو کہ چُلّو بھرنے سے پانی کی زمین نہ کھلے یعنی دونوں ہاتھوں سے پانی اٹھانے سے۔ اور عمق کی مقدار میں یہ بعض مشائخ کا قول ہے اور اسی پر فتوٰی ہے جیسا کہ خلاصہ میں ہے، اور یہ وہ ہے جس کو مقداروں میں سے اختیار کیا ہے، اور عمق تقریباً پانچ انگل ہے الخ (ت(

 (۱؎ جامع الرموز    بحث عشر فی عشر    مطبہ کریمیہ قزان، ایران    ۱/۴۸)

اقول وھو تقریب قریب مشھودلہ بالتجربۃ (یہ اچھی تقریب ہے تجربہ اس پر گواہ ہے۔ ت) تو آبِ کثیر ہونے کو یہ چاہئے کہ سو ہاتھ مساحت میں تقریباً پانچ انگل دَل کا پانی پھیلا ہوا ہو کہیں اس سے کم دل نہ ہو تالاب یا حوض کہ بارش کے بہاؤ یا چرخ وغیرہ سے بھرتے ہیں ان کی دھار کبھی اتنی نہیں ہوتی کہ تالاب یا حوض میں گر کر تمام سطح مطلوب پر اُس کنارے تک معاً پانچ اُنگل پانی چڑھادے پانی بالطبع طالب مرکز ہے اُس کے اجزاء زیروبالا اُسی وقت تک رہ سکتے ہیں کہ اوپر کے اجزاء ڈھلکنے کی جگہ نہ پائیں جب محل پائیں گے فوراً اتر کر پھیل جائیں گے پرنالے سے جتنے دَل کی دھار اُتر رہی ہے زمین پر آکر ہرگز اُتنے دل پر نہ رہے گی معاً پھیلے گی یہی سبب ہے کہ مثلاً حوض میں ایک پورے کنارے سے پانی جس حجم کا اتارے باآنکہ مدد برابر جاری اور حوض کے سارے عرض میں معاً ساری ہے تو چاہئے تھا کہ یہی حجم آخر تک محفوظ رہتا اور دوسرے کنارے پر معاً اُتنے دَل کا پانی ہوجاتا مگر ایسا نہیں ہوتا بلکہ اُس کنارے پر بتدریج بڑھتا ہے اور اوپر گزرا کہ دوسرے کنارے پر پہنچ کر یہ جریان ٹھہر جاتا ہے تو مساحت کی کثرت کیا نفع دے گی جبکہ معاً پانچ انگل دَل نہ ہو بتدریج ہوا تو ہر وقت آب قلیل ہے اتنا ناپاک ہوگیا اور آیا وہ بھی یونہی کم تھا یونہی ناپاک ہوا یہاں تک کہ حوضِ کبیر بھر گیا اور ناپاک ہی رہا۔ ہاں عظیم سیلابوں میں اتنے اور اس سے زیادہ حجم کا پانی اُس کنارے پر معاً چڑھتا ہے مگر وہ دم کے دم میں تالاب کو بھر کر اُبال دیں گے تو اس صورتِ نزاع میں رہے گا ہی نہیں اور بالفرض اگر کبھی ایسی صورت ہو کہ اُتنے عظیم بہاؤ کا پانی آئے اور کنارے ہی پر رک رہے تو یہ بغایت نادر ہے اور احکامِ فقہیہ میں نادر کا لحاظ نہیں ہوتا۔ یہ ہے اُس حکم دائر سائر کا منشا اور یہ ہے اُس تعلیل کا مفاد کہ کل مادخل صار نجسا یہ ہے وہ غایت عذر کہ تالاب میں باہر سے آنے والے پانی کو جاری مان کر بھی بحال نجاست مرئیہ باقیہ تمام تالاب کو ناپاک ٹھہرائے کتنا ہی کبیر ہو اگرچہ مسئلہ حوضین ومسئلہ نجاست غیر مرئیہ یا مرئیہ مخرجہ کا اب بھی جواب نہ ہوا۔
اقول مگر اس تقریر پر وہ صورت وارد ہے کہ اگر پانی تالاب میں داخل ہوکر پہلے دہ در دہ ہو لیا پھر نجاست سے ملا تو ناپاک نہ ہوگا کہ وہ دہ در دہ سہی پانچ اُنگل دَل بھی تو درکار۔
اگر کہیے ملنے سے پہلے اُس پُوری مساحت میں اُتنا دَل پیدا ہونا بعید نہیں کہ پھیلنا تو بہتے میں ہوتا ہے اور ممکن ہے کہ ملنے سے پہلے کہیں ٹھہر کر دَل پیدا کرلے پھر ملے۔ یہی سِرہے کہ صورتِ مذکورہ خانیہ میں ان لفظوں سے ارشاد ہوئی:

واجتمع الماء فی مکان طاھر وھو عشر فی عشر ۱؎۔ اور پانی پاک جگہ اکٹھا ہوگیا اور وہ دہ در دہ ہے۔ (ت(

 (۱؎ فتاوٰی قاضی خان    فصل الماء الراکد    نولکشور لکھنؤ        ۱/۴)

خلاصہ میں:ان کان الماء الذی یدخل فی الغدیر یستقر فی مکان طاھر حتیٰ صار عشرا فی عشر ۲؎۔ اگر وہ پانی جو تالاب میں داخل ہورہا ہے پاک جگہ ٹھہر گیا یہاں تک کہ دہ در دہ ہوگیا۔ (ت(

 (۲؎ خلاصۃ الفتاوٰی    فصل فی الحیاض     نولکشور لکھنؤ       ۱/۵)

فتح القدیر وبحرالرائق میں:انکان دخل فی مکان طاھر واستقر فیہ حتی صار عشرا فی عشر ۳؎۔ اور اگر پاک جگہ پانی داخل ہو کر ٹھہر گیا یہاں تک کہ وہ دہ در دہ ہوگیا۔ (ت(

 (۳؎ فتح القدیر        الغدیر العظیم        نوریہ رضویہ سکھر    ۱/۷۱)

ذخیرہ وحلیہ میں:انکان الماء الذی یدخل الغدیر ولایستقر فی مکان طاھر حتی یصیر عشرا فی عشر ۱؎۔ اگر وہ پانی جو تالاب میں داخل ہوتا ہے داخل ہوتے ہی پاک جگہ نہیں ٹھہرتا ہے یہاں تک کہ دہ در دہ ہوجائے۔ (ت(

 (۱؎ حلیہ)

ورنہ صرف دہ در دہ ہونے کیلئے کسی مکان میں ٹھہر کر جمع ہولینا کیوں درکار ہوتا۔
اقول اس وقت کا دَل کیا فائدہ دے گا جبکہ اُسے آگے بڑھ کر نجاستوں سے ملنا ہے بڑھے گا پھر اُسی بہنے پھیلنے سے جو اُس میں وہ حجم نہ رہنے دیں گے۔
اگر کہیے اتصال نجاست یوں بھی ممکن کہ آبِ نجس بڑھ کر اُس سے ملے۔
اقول یہ تصویر مفروض کے خلاف ہے اور خانیہ میں الفاظ مذکورہ کے بعد تصریح ہے: ثم تعدی الی موضع النجاسۃ ۲؎  (پھر نجاست کی جگہ تک تجاوز کر جائے۔ ت)

 (۲؎ قاضی خان    الماء الراکد        نول لکشور لکھنؤ        ۱/۴)

بقیہ کتب مذکورہ میں ہے: ثم انتھی الی النجاسۃ (عہ۱) ۳؎  (پھر نجاست تک پہنچ جائے۔ ت)

 (عہ۱)تنبیہ اس مسئلہ کی تحقیق جلیل رسالہ ہبۃ الحبیر میں آتی ہے وہاں سے بتوفیقِ الٰہی یہ توفیق ظاہر ہوگی کہ پانی کے فی نفسہ کثیر ہونے کیلئے عمق درکار نہیں صرف اتنا ہو کہ زمین کہیں کھلی نہ ہو اور یہ جو اتنا عمق شرط کیا گیا کہ پانی لینے سے زمین نہ کھلے اُس حالت میں ہے کہ اُس کے اندر وضو وغسل کریں اس تقدیر پر توجیہ مذکور کی گنجائش ہی نہیں واللہ تعالٰی اعلم ۲۱ منہ غفرلہ (م(

 (۳؎ بحرالرائق        ابحاث الماء    ایچ، ایم سعید کمپنی کراچی    ۱/۷۷)

بالجملہ کلمات جمہور کسی طرح اُس آنے والے پانی کا بھی بطن حوض میں جریان درست نہیں آتا۔
وانا اقول: وباللہ التوفیق تحقیق(۱) یہی ہے کہ وہ جاری نہیں ورنہ اگر مثلاً نصف لوٹے میں ناپاک پانی ہو جس میں نجاست غیر مرئیہ ہو یا مرئیہ تھی اور نکال دی اُس کے بعد لوٹا بھر دیا اور کناروں سے کچھ نہ نکلا بلکہ بھرا بھی نہیں کچھ پانی ڈال دیا جو اُس کے ایک کنارے سے دوسرے تک بہہ گیا تو چاہئے کہ سب پانی اور لوٹا پاک ہوجائے کہ جریان ہوگیا اور وہ نجاست غیر مرئیہ کو فنا کر دیتا ہے اور اُس میں کوئی مساحت شرط نہیں اور بعد فنائے نجاست قلت پر استقرار کیا مضر حالانکہ اس کا کوئی قائل نہیں یہ مشائخ کہ خروج اصلا شرط نہیں کرتے اُن کا کلام بھی حوض کبیر میں ہے ولہٰذا منیہ وذخیرہ ونظم زندویسی میں فرمایا اذا کان ۴؎ الحوض کبیرا

 (۴؎ منیۃ المصلی    فصل فی الحیض    مکتبہ قادریہ جامعہ نظامیہ رضویہ لاہور    ص۶۷)

بزازیہ میں بظاہر حوض کو صفت کثرت سے مطلق رکھ کر فرمایا: ثم دخل ماء کثیر ۱؎ (پھر کثیر پانی داخل ہو۔ ت) غنیہ میں اُن کے حکم کی تعلیل یوں فرمائی:
(قیل لیس بنجس) لکونہ کبیرا ۲؎ الخ کما تقدم کل ذلک۔(کہا گیا ہے کہ یہ نجس نہیں ہے) کیونکہ یہ بڑا ہے الخ جیسا کہ یہ سب کچھ پہلے گزر چکا ہے۔ (ت(

 (۱؎ بزازیہ مع الہندیہ    نوع فی الحیض    نورانی کتب خانہ پشاور    ۴/۸)
(۲؎ غنیہ المستملی    عشر فی عشر        سہیل اکیڈمی لاہور    ص۱۰۱)

تویہ اعتراض بھی اسی قول دوم پر رہا مگر یہ اُن کا کلام مرئیہ باقیہ سے مخصوص کیا جائے۔ اب رہے وجوہ ثلثہ مذکورہ بحث اول اقول وبہ استعین جو ظرف حبس وحفظ آب کیلئے ہو اُس میں پانی کی حرکت عرفاً جریان نہیں کہلاتی مشک کی تہ میں کٹورا بھر پانی ہو اسے دہانہ باندھ کر زیروبالا کیجئے کہ پانی اِدھر سے اُدھر جائے اسے کوئی جاری ہونا نہ کہے گا۔ جب دہانے سے نکل کر بہے گا اب کہیں گے کہ پانی بہا یہاں سے تینوں وجوہ کا جواب ہوگیا کہ بطن ظرف میں متحرک کو عرفاًجاری نہیں کہتے اور مکان اور اس کی دیواریں کوئی ظرفِ آب نہیں اور نہر ظرف ہے مگر نہ ظرف حبس بلکہ محلِ جریان بخلاف تالاب اور حوض کے، اگرچہ کبیر ہو، تو بحمداللہ تعالٰی قول جمہور ہی پر عرش تحقیق مستقر ہوا اور کیوں نہ ہو کہ:

العمل علی قول الاکثر ویداللّٰہ علی الجماعۃ ھذا کلہ ما فاض علی قلب الفقیر، من فیض اللطیف الخبیر، مع تشتت البال، وتراکم البلبال،و ہجوم الحساد ،بانواع الفساد، واللّٰہ المستعان، وعلیہ التکلان، ولا حول ولا قوۃ الا باللّٰہ العلی العظیم، وحسبنا اللّٰہ ونعم الوکیل، نعم المولیٰ ونعم النصیر،            
        عدت العادون وجاروا ورجوت اللّٰہ عجیرا                     وکفٰی باللّٰہ ولیا وکفٰی باللّٰہ نصیرا

عمل اکثر کے قول پر ہی ہوتا ہے، اور اللہ کا ہاتھ جماعت پر ہی ہوتا ہے، یہ سب کچھ فقیر کے دل پر اُترا، مہربان باخبر خدا کے فیض کرم سے ہے، حالانکہ طبیعت پر اگندہ اور پیہم مصائب میں گرفتار ہوں اور حاسدوں نے الگ کئی قسم کے فساد برپا کر رکھے ہیں اللہ ہی سے مدد مانگی جاتی ہے اور اسی پر بھروسا کیا جاتا ہے اور طاقت وقوت اللہ ہی سے ملتی ہے جو بلند اور باعظمت ہے، ہمیں اللہ کافی ہے اور معتبر کارساز ہے، بہترین آقا اور بہترین مددگار ہے دشمنوں نے حد سے تجاوز کیا اور ظلم کیا۔ اور میں اللہ کے کرم کی امید کرتا ہوں حالتِ انکساری میں اور اللہ کافی کارساز ہے اور اللہ کافی مددگار ہے

ومما قلت فیہ صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم، مستجرا بذیلہ الاکرم،
رسول اللہ انت المستجاب     فلا اخشی الا عادی کیف جاروا
بفضلک ارتجی ان عن قریب تمزَّق کیدھم والقوم باروا

میں نے حضور اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی شان اقدس میں آپ کے دامن کی پناہ حاصل کرنے کیلئے یہ اشعار کہے ہیں اے اللہ کے رسول! آپ ہی سے مدد طلب کی جاتی ہے، تو اب مجھے دشمنوں کا کچھ خوف نہیں کہ وہ کیا ظلم ڈھائیں گے، مجھے آپ کے فضل سے امید ہے کہ عنقریب ان کا مکر پارہ پارہ ہوجائیگا اور وہ ہلاک ہوجائیں گے۔
وقلت؎

رسول اللّٰہ انت بعثت فینا کریما رحمۃ حصنا حصینا تخوّفنی العدٰی کیدا متینا

اور عرض کیا ہے اے اللہ کے رسول! آپ ہم میں مبعوث کئے گئے رحمت بنا کر اور مضبوط قلعہ بناکر۔ مجھے دشمن اپنی مضبوط چالوں سے ڈراتے دھمکاتے ہیں

اجرنی یا امان الخائفینا

اے خوفزدہ لوگوں کی پناہ! مجھے پناہ دیجئے۔

ومما قلت قدیما فی ربیع الاٰخر سنۃ الف وثلثمائۃ فرأیت الاجابۃ فوق العادۃ، وفوق المطلب والارادۃ، سریعا فی الساعۃ وللّٰہ الحمد ابدا، وارجو مثلہ سرمدا۔

اور اس سے پہلے ربیع الآخر ۱۳۰۰ھ میں کہا تھا تو امید سے فزوں ترحیرت انگیز طور پر میری مرادیں پُوری ہوگئیں وللہ الحمد، خدا کرے ہمیشہ ایسا ہی ہوتا رہے۔

الحمد للمتوحد        بجلالہ المتفرد
وصلاتہ دوما علی     خیرا لانام محمد
والاٰل والاصحاب ھم     مأوای عند شدائدی   
فالی العظیم توسلی     بکتا بہ وبا حمد
وبمن(عہ۱) اٰتی بکلامہ     وبمن ھدی وبمن ھدی
وبطیبۃ وبم جَوَت        وبمنیر وبمسجد

تمام تعریفیں خدائے یکتا کو سزاوار ہیں جو اپنے جلال میں یکتا ہے، اور اس کی رحمتیں مدام، بہترین مخلوق محمد پر نازل ہوں، اور آل واصحاب پر، جو سختیوں میں میری پناہ گاہ ہیں، تو خداوند عظیم کی بارگاہ میں، میں وسیلہ لاتا ہوں، اس کی کتاب اور احمد کا۔ اور ان کا جو اللہ کے کلام کولائے اور جنہوں نے ہدایت دی اور جن سے ہدایت لی جاتی ہے، اور مدینہ منورہ کو اور ان کو جو مدینہ میں رہتے ہیں، اور منبر اور مسجد شریف کو

 (عہ۱)ھو جبریل علیہ الصلاۃ والسلام ونبینا صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم وحملۃ القرآن من اٰلہ وصحبہ وامتہ (صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وعلیہم وسلم) ۱۲ منہ غفرلہ (م(
اور وہ جبریل علیہ السلام اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم اور حاملینِ قرآن آپ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی آل، اصحاب اور امت میں سے ہیں ۱۲ منہ غفرلہ (ت(

وبکل من وجد الرضا    من عند رب واجد       
لاھمّ (عہ۱) قدھجم العدای    من کل شأوٍ ابعد
فی خیلھم ورجالھم    مع کل عاد معتد
ھاوین زلۃ مثبتٍ        باغین ذلۃ مھتد
لکنَّ عبدک اٰمن        اذمن دعاک یؤید
لااختشی من باسھم    یدناصری اقوی ید
لاھُمَّ فادفع شرھم    وقنی مکیدۃ کائد
وآدِم صلاتک والسلا    م علی الجیب الاجود
والاٰل امطار النَّدا        والصحب سحب عوائد
ماغرّدَتْ ورقا علی    بانٍ کخیر مغرِّد
واجعل بھا احمد رضا    عبدا بحرز السید

واللّٰہ تعالی وتبارک، صلی وسلم وبارک، علی المولی الکریم المبارک، واٰلہ وصحبہ، وابنہ وحزبہ، صلاۃُ تخل العقد، تُحِلُّ المدد، وتقینا شرحاسد اذا حسد، ومکرحا قد اذا حقد، وضر عاند اذا عند، بحرمۃ قل ھو اللّٰہ احدo اللّٰہ الصمدo لم یلد ولم یولدo ولم یکن لہ کفوا احدo والحمدللّٰہ رب العالمین الی الابد، واللّٰہ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔

اور ان تمام کو جنہیں خوشنودی میسر آئی رب کی جانب سے۔ اے اللہ ! دشمنوں نے مجھ پر ہلّہ بول دیا ہے ہر دُوری سے ان کے پیادوں اور ان کے سواروں نے، ہر حد سے تجاوز کرنے والے ظالم نے، جو ثابت قدم کی لغزش کی امید کرتے ہیں، اور ہدایت یافتہ کی ذلت کے خواہاں ہیں، مگر آپ کا غلام بے خوف ہے کیونکہ جو آپ کو پکارتا ہے اس کی تائید کی جاتی ہے، میں ان کی طاقت وقوت سے خوفزدہ نہیں۔ میرے مددگار کا ہاتھ مضبوط تر ہے۔ یا اللہ! ان کے شر کو دفع کردے، اور مکار کے مکر سے مجھے بچالے، اور اپنے صلوٰۃ وسلام کو سخی تر حبیب پر ہمیشہ نازل فرما، اور اُن کی آل پر جو جُود وسخا کی بارش ہیں، اور اصحاب پر جو فوائد کے بادل ہیں، جب تک قمریاں بان کے درخت پر بہترین گانے گاتی رہیں۔
اور اس صلوٰۃ وسلام کے طفیل احمد رضا کو، آقا کا امان یافتہ غلام بنادے۔
اور اللہ تبارک وتعالٰی صلوٰۃ وسلام اور برکتیں نازل فرمائے آقا، کریم اور مبارک پر، اور ان کی آل واصحاب اور بیٹے اور ان کی جماعت پر، وہ صلوٰۃ جو گرہوں کو کھول دے اور مدد عطا کردے، اور ہمیں حاسدوں کے حسد سے اور کینہ پروروں کے کینوں سے اور سرکشوں کی شرارت سے بچادے، بطفیل قل ھو اللہ احد۔۔۔الخ کے، واللہ سبحانہ، وتعالٰی اعلم۔ (ت(
(عہ۱) لغۃ فی اللھم ۱۲ منہ غفرلہ (م(
اَللّٰھُمَّ میں ایک لغت ہے ۱۲ منہ غفرلہ (ت(

فتاوی رضویہ ،ج۲،سوال نمبر ۵۳تک
مفتی امام احمد رضا خان بریلوی

 

No comments:

Post a Comment

Join us on

Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...