Wednesday, June 15, 2016

کیا ہر پانی سے استنجاء اور وضو ہو جاتا ہے ؟



مسئلہ ۳۶: از شہر محلّہ بہاری پور مسئولہ نواب مولوی سلطان احمد خان صاحب     ۲۸ ذیقعدہ ۱۳۳۰ھ

کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیانِ شرعِ متین اس مسئلہ میں کہ مریض کو دواءً ایسے پانی سے وضو یا استنجا کرنا جس میں کوئی دوسری شے جوش دی گئی ہو جس سے پانی کا نام پانی نہ رہے جائز ہے یا نہیں یعنی اس سے طہارت حاصل ہوگی بوجہ اس ضرورت کے یا ضرورت پر لحاظ نہ ہوگا بینوا توجروا۔

الجواب :استنجاء(۱) تو یقینا جائز ہے کہ اُس میں مائے مطلق بلکہ پانی ہی شرط نہیں ہرطاہر قالع مزیل سے ہوجاتا ہے مگر وضو جائز نہ ہوگا (اُن چیزوں سے) لکمال الامتزاج بالطبخ کالمرق ولزوال اسم الماء کالنبیذ۔ جو پکانے سے ایک جان ہوجائیں جیسے شوربا یا اس کو پانی نہ کہا جائے جیسے نبیذ۔ (ت) وضو میں لحاظ ضرورت کی کیاحاجت اگر مائے مطلق سے وضو مضر ہو تمیم کرلے واللہ تعالٰی اعلم۔

فتاوی رضویہ ،مسئلہ نمبر 36
مفتی امام احمد رضا خان بریلوی 
 
وضاحت :استنجاء ہر اس چیز سے کر سکتے ہیں جو پاک ہو اور نجاست کو دور کرنے والی ہو ۔وہاں مطلق پانی(یعنی جو خود پاک ہو ،اور پاک کر بھی سکتا ہو) تو کیا پانی بھی ضروری نہیں ۔

No comments:

Post a Comment

Join us on

Must click on Like Button

Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...