Wednesday, June 15, 2016

جس تالاب کی مقدار سو ہاتھ ہو وہ کب ناپاک ہوتا ہے ؟



مسئلہ ۳۷: ازموضع سرنیان مسئولہ امیر علی صاحب قادری    ۱۱ جمادی الاولی ۱۳۳۱ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیانِ شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید دریافت کرتا ہے کہ میرے موضع میں چند تالاب ہیں اُن تالابوں کے پانی سے غسل اور وضو،پینا،کپڑے دھوناکیسا ہے کیونکہ اکثر مویشی ہنودومسلمان ہر ایک نہاتے ہیں استنجابڑا ہر ایک قوم وہاں پاک کرتی ہے اور کبھی چمار بھنگی بھی نہاتے ہیں اور اتفاقیہ سؤر پانی پی جائے یا نہائے کبھی یہ تالاب مقید رہتے ہیں اور کبھی اُن کے اندر ہو کر ندی سے نہر جاری ہوجاتی ہے اُس کی تشریح یوں ہے:

       

کسی وقت میں اس سے زیادہ بھی پانی ہوجاتاہے اور کبھی کچھ کم اوراگر ندی سے پانی آجائے اور راستہ میں نہر میں
کچھ غلیظ ہو توکیا حکم ہے اور بستی کے قریب چنداورتالاب ہیں اوران کاپانی رنگ بدلے ہوئے رہتاہے اکثر ہنود تک اُس پانی سے نفرت کرتے ہیں برسات میں بھی صاف طور پر نہیں ہوتاہے لمبائی چوڑائی گہرائی بھی بہت مگرپانی صاف نہیں ہے دیگر شہر سے نالہ کاپانی ندی میں آکر گرتاہے اور ندی کاپانی کچھ تھوڑا مخلوط ہوتاہے دیکھنے میں اکثرپیشاب کی صورت معلوم ہوتاہے ایسے پانی سے اکثر لوگ نہاتے اور دھوبی کپڑے دھوتے ہیں اکثر وضو کرتے ہیں تو اس پانی کیلئے کیا حکم ہے بینوا توجروا۔

الجواب ان سب باتوں کاجواب یہ ہے کہ جس پانی کی سطح بالاکی مساحت سوہاتھ ہو مثلاً دس دس ہاتھ لمبا چوڑایا بیس ہاتھ لمباپانچ ہاتھ چوڑا یا پچیس ہاتھ لمبا چار ہاتھ چوڑا وعلی ہذ القیاس اورگہرا اتناکہ لپ سے پانی لے توزمین نہ کھل جائے وہ پانی نجاست کے پڑنے یانجاست پر گزرنے سے ناپاک نہیں ہوتاجب تک نجاست کے سبب اُس کارنگ یامزہ یا بُو نہ بدل جائے اگر نجاست کے سوا اور کسی وجہ سے اُس کے رنگ یا بُو یا مزے یا سب میں فرق ہو توحرج نہیں اوراعتبار پانی کی مساحت کاہے نہ تالاب کی۔تالاب کتنا ہی بڑاہواگر گرمیوں میں خشک ہو کر اُس میں سو ہاتھ سے کم پانی رہے گا اور اب اُس سے کوئی استنجا کرے یاکتا وغیرہ ناپاک منہ کاجانور پئے توناپاک ہوجائے گایوں ہی برسات کابہتا ہواپانی آیااوراُس میں نجاست ملی تھی تو جب تک بَہ رہاہے اورنجاست سے اُس کا رنگ بُو مزہ نہیں بدلا پاک ہے اب جو وہ کسی تالاب میں گر کر ٹھہرا اور ٹھہرنے کے بعد سو ہاتھ سے مساحت کم رہی اور نجاست کاکوئی جُز اُس میں موجود ہے تو اب سب ناپاک ہو گیا اور اگر سو ہاتھ سے زیادہ کی مساحت میں ٹھہراتو پاک ہے ناپاک نالے کاپانی ندی میں آکر گرااور اس سے ندی کے پانی کا رنگ یامزہ یابوبدل گئی ناپاک ہوگیا ورنہ پاک رہا واللہ تعالٰی اعلم

 (عہ۱ )فائدہ:شرعی گزمیں یہی انگل معتبرہیں جن کے چوبیس اٹھارہ انچ کے برابرہیں ایک ہاتھ مربع کی مساحت مختلف پیمانوں سے اس جدول میں ہے:

       


ایک ہاتھ مربع میں ان پیمانوں کے حصے
نمبری گز
۴/۱ گز
انچ
۳۲۴ انچ
فٹ
۲ فٹ
انگل
۵۷۶ انگل
گرہ
۶۴ گرہ
اب جتنے ہاتھ کا رقبہ لیا جائے اُن سب پیمانوں سے اس کی مقدار یہیں سے ظاہر ہوگی مثلاً دہ در دہ کیلئے ان مقادیر کو ۱۰۰ میں ضرب کرو تو گز ۲۵ ہوئے اور فٹ سوا دو سو علی ہذا القیاس،یہاں سے حساب مذکور سوال کی غلطی کا اندازہ ہو سکتا ہے وہ دہ در دہ حوض اس صحیح پیمانے سے ۳۲۴۰۰انچ ہوگااور جو ہاتھ سترہ انچ ہے اس سے سو ہاتھ صرف اٹھائیس ہزار نو سو (۲۸۹۰۰) انچ ہوگا ساڑھے تین ہزار انچ کافرق پڑے گا جس کے چار ہزار چھ سو چھیاسٹھ انگل اور دو تہائی ہوئے نہ کہ صرف اٹھاون،اور جوہاتھ ۰۱۷ انچ ہے اس سے سو ہاتھ تیس ہزار پانچ سو پچیس انچ ہوگاپونے انیس سو انچ کم جس کے ڈھائی ہزارانگل ہوئے نہ کہ فقط چھتیس وقس علیہ ۱۲(م)

فتاوی رضویہ ،مسئلہ نمبر 37
مفتی :امام احمد رضا خان بریلوی


 

No comments:

Post a Comment

Join us on

Must click on Like Button

Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...