Wednesday, June 15, 2016

مرد کا جوٹھا پانی عورت کیلئے کب مکروہ ہے اور کب جائز ؟




مسئلہ ۴۱: ازجالندھر محلہ راستہ متصل مکان ڈپٹی احمد جان صاحب مرسلہ محمد احمد خان صاحب ۲۰ شوال ۱۳۱۴ھ۔
نامحرم عورت جوان یا بُڑھیا اپنے مرشد کا جوٹھاپانی یا شوربا پی لے تو درست ہے یا نہیں، مکروہِ تحریمی یا تنزیہی،باسند لکھیں۔

الجواب:  تلذّذو شہوانی کی نیت سے حرام اور خالص تبرک کی نیت سے جائز
 واللّٰہ یعلم المفسد من المصلح  (اللہ  تعالٰی خوب جانتا ہے مفسد کو مصلح سے۔ت)

صحیح حدیث میں ہے جب حضور پُرنور سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت فرما کر سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ  تعالٰی عنہ کے یہاں مقیم ہوئے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کا اولش جب اُن کے گھر جاتا وہ اور ان کے گھر والے حضور اقدس صلی اللہ  تعالٰی علیہ وسلم کی انگشتانِ مبارک کے نشان کی جگہ سے کھاتے،

 دُرمختار کتاب الخطر میں ہے: یکرہ للمرأۃ سؤر الرجل وسؤ رھالہ ۲؎۔ مرد کا جوٹھا عورت کیلئے اور عورت کا مرد کیلئے مکروہ ہے۔ (ت)

 (۲؎ درمختار    فصل فے البیع    مجتبائی دہلی        ۱/۲۵۴)

اُسی کے آخر فصل فے البئر میں ہے: یکرہ سورھا للرجل کعکسہ لاستلذاذ ۱؎۔ عورت کاجوٹھا مرد کیلئے اور مرد کا عورت کیلئے لذّت لینے کیلئے مکروہ ہے۔(ت)

 (۱؎ درمختار    فصل فے البئر    مجتبائی دہلی        ۱/۴۰)

ردالمحتار میں ہے:یفھم منہ انہ حیث لااستلذاذ لاکراھۃ، ۲؎ واللہ  تعالٰی اعلم ۔اس سے یہ سمجھ میں آیا اگر لذّت کیلئے نہ ہو تو کراہت نہیں۔ واللہ  تعالٰی اعلم (ت)

 (۲؎ ردالمحتار   فصل فے البئر       مصطفی البابی مصر    ۱/۱۶۳)

فتاوی رضویہ ،مسئلہ نمبر 41
مفتی :امام احمد رضا خان بریلوی

No comments:

Post a Comment

Join us on

Must click on Like Button

Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...