Thursday, June 16, 2016

کیا حقے کا پانی پاک ہوتا ہے ؟ جواب از امام احمد رضا خان بریلوی



مسئلہ ۴۸: ازکانپور محلہ بوچڑخانہ مسجد رنگیاں مرسلہ مولوی عبدالرحمن جعشانی طالب علم مدرسہ فیض عام ۲۳ ربیع الاول شریف ۱۳۱۲ ھ

ماجوابکم ایھا العلماء رحمکم اللّٰہ تعالٰی ۔ حقّہ کا پانی پاک ہے یا نہیں؟ بینوا توجروا۔

الجواب :قطعاً پاک ہے پانی پاک، تمباکوپاک ،اس کا دُھواں پاک، پاک چیز سے پاک پانی کا رنگ مزہ بُو بدل جانا اُسے ناپاک نہیں کرسکتا یہاں تک کہ(۱) مذہب صحیح میں نہ صرف طاہر بلکہ مطہر وقابل وضو رہتا ہے بایں معنی کہ اگر اس سے وضو کرے وضو ہوجائیگا اگرچہ بوجہ بُو مکروہ ہے یہاں تک کہ جب تک اُس کی بُو باقی ہو مسجد میں جانا حرام جماعت میں شامل ہونا منع ہوگا پھر بھی اگر(۲) سفر میں ہو اور وضو کو پانی کم تھا کہ مثلاً ایک یا دونوں پاؤں دھونے سے رہ گئے اور حقّے میں پانی ہے جس سے وہ کمی پُوری ہوسکتی ہے تو اس صورت میں تیمم جائز نہ ہوگا نماز باطل ہوگی بلکہ اُسی پانی سے وضو کی تکمیل لازم ہوگی  لانہ یجد ماء وانما یقول اللّٰہ تعالٰی ولَمْ تَجِدُوْامَاءً ۱؎  (کیونکہ وہ پانی کو پارہا ہے جبکہ اللہ تعالٰی  فرماتا ہے: اور تم پانی نہ پاؤ تو تیمم کرو۔ ت)

 (۱؎ القرآن        ۴/۴۳ )

درمختار میں ہے:یجوز بماء خالطہ طاھر جامد کفاکہۃ و ورق شجر وان غیر کل اوصافہ فی الاصح ان بقیت رقتہ واسمہ ۲؎ اھ ملخصا واللّٰہ تعالٰی اعلم۔

اُس پانی میں سے وضو جائز ہے جس میں کوئی خشک پاک چیز مل گئی ہو، جیسے میوہ اور درخت کے پتّے، خواہ اُس نے اُس کے تمام اوصاف کو بدل دیا ہو، اصح یہی ہے، بس شرط یہ ہے کہ اس کی رقّت اور اُس کا نام باقی رہے ملخصا واللہ تعالٰی  اعلم۔ (ت(

 (۲؎ الدرالمختار        باب المیاہ    مجتبائی دہلی        ۱/۳۵)

فتاوی رضویہ ،ج۲،سوال ۴۸
مفتی :امام احمد رضا خان بریلوی

 

No comments:

Post a Comment

Join us on

Must click on Like Button

Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...