Thursday, June 16, 2016

نہر سے وضو کرنا افضل ہے یا حوض سے ؟




مسئلہ ۴۵: ۲ جمادی الآخرہ ۱۳۳۴ھ کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ وضو نہر سے افضل ہے یا حوض سے؟ بینوا توجروا۔

الجواب: وضو نہر سے افضل ہے مگر کسی مصلحتِ خاصہ کے باعث۔ علمائے کرام فرماتے ہیں کسی معتزلی کے سامنے اُسے غیظ پہنچانے کو حوض سے وضو افضل ہے کہ معتزلہ اسے ناجائز کہتے ہیں۔

فتح القدیر میں ہے:فی فوائد الرستغفنی التوضی بماء الحوض افضل من النھر لان المعتزلۃ عہ۱ لایجیزونہ من الحیاض فیرغمھم بالوضوء منھا اھ وھذا انما یفید الافضلیۃ لھذا العارض ففی مکان لایتحقق النھر افضل ۱؎ اھ

فوائد الرستغفنی میں ہے نہر کی بہ نسبت حوض سے وضو کرناافضل ہے کیونکہ معتزلہ حوضوں سے وضو کو جائز قرار نہیں دیتے ہیں اس طرح ان کی تذلیل ہوگی اھ اس سے افضل ہونے کی یہ عارضی وجہ معلوم ہوتی ہے جہاں یہ وجہ نہ ہو وہاں نہر سے وضو افضل ہوگا۔ (ت(

 (۱؎ فتح القدیر    باب الماء الذی یجوزبہ الوضوء ومالایجوزبہ    نوریہ رضویہ سکھر    ۱/۷۲)

اقول: اس مصلحت سے اہم دفع تہمت ہے کہ معاذ اللہ لوگوں کو اس پر اتباع معتزلہ کا گمان ہو اس کے دفع کیلئے ایسا کرے اس(۱)کی نظیر مسح موزہ ہے کہ رافضی خارجی ناجائز جانتے ہیں اگر کسی کو اس پر گمان خروج ہو تو اس کے دفع کو مسح موزہ افضل ورنہ فی نفسہٖ پاؤں دھونا افضل۔

دُرمختار میں ہے:الغسل افضل الالتھمۃ فھو افضل ۲؎۔ موزے پر مسح سے پاؤں دھونا افضل ہے مگرتہمت سے بچنے کیلئے مسح افضل ہے۔ (ت(

 (۲؎ درمختار    باب المسح علی الخفین         مجتبائی دہلی        ۱/۴۶)

ردالمحتار میں ہے:لان الروافض والخوارج لایرونہ وانما یرون المسح علی الرجل فاذا مسح الخف انتفت التھمۃ بخلاف مااذا غسل فان الروافض قدیغسلون تقیۃ فیشتبہ الحال فی الغسل فیتھم افادح ۱؎۔

رافضی خارجی پاؤں پر مسح کرتے ہیں اگر موزے پر مسح کرے گا تو تہمت ختم ہوجائے گی بخلاف اس کے کہ جب وہ دھوئے گا کہ رافضی تقیہ سے دھو بھی لیتے ہیں غسل کی صورت میں صورت حال مشتبہ ہوجاتی ہے توتہمت کا خدشہ ہوگا افادح (ت(

 (۱؎ ردالمحتار    باب المسح علی الخفین    مصر    ۱/۱۹۳)

اقول: رافضی تقیہ سے سب کچھ کرلیتے ہیں یوں ہی وہابی مجالس میلاد مبارک میں جائیں قیام کریں گیارھویں شریف کی نیاز میں حاضر ہوں پلاؤ کھانے کو موجود اور دل میں شرک وحرام، لہٰذا ہم نے نفی تہمت خروج سے تصویر کی۔

قال ش ماذکرہ الشارح نقلہ القھستانی عن الکرمانی ثم قال لکن فی المضمرات وغیرہ ان الغسل افضل وھوالصحیح کمافی الزاھدی اھ وفی البحر عن التوشیح ھذا مذھبنا وقال الرستغفنی المسح افضل ۲؎ اھ

"ش" نے فرمایا جو شارح نے ذکر کیا ہے اس کو قہستانی نے کرمانی سے نقل کیا ہے پھر فرمایا لیکن مضمرات وغیرہ میں ہے کہ غسل افضل ہے اور یہی صحیح ہے جیسا کہ زاہدی میں ہے اھ اور بحر میں تو شیح سے منقول ہے ''یہ ہمارا مذہب ہے'' اور الرستغفنی نے کہا کہ مسح افضل ہے اھ (ت(

 (۲؎ ردالمحتار    باب المسح علی الخفین    مصر    ۱/۱۹۳)

اقول:  ھذاسبق نظرانمانقل عن الکرمانی التخییربین الغسل والمسح ونقل اولویۃ المسح عن الذخیرۃ ثم ھولایمس(۱) ماذکرالشارح فان کلامہ عند وجود التھمۃ والذی فی الذخیرۃ وغیرھا اولویۃ المسح حکما مطلقاوعلیہ یرد التصحیح المذکور واللّٰہ تعالی اعلم۔

میں کہتا ہوں ان کی نظر چُوک گئی ہے، کرمانی سے تو یہ نقل کیا ہے کہ غَسل اور مسح میں اختیار ہے اور ذخیرہ سے مسح کی اولویت نقل کی ہے پھر یہ اس کے مطابق نہیں ہے جس کو شارح نے ذکر کیا ہے کیونکہ ان کاکلام وجوہِ تہمت کے متعلق ہے اور جو ذخیرہ وغیرہ میں ہے وہ مسح کے اولیٰ ہونے کا مطلق حکم ہے اور اسی پر مذکور تصحیح وارد ہوتی ہے، واللہ  تعالٰی اعلم۔ (ت(

ثم اقول: اُس سے بھی اہم دفع وسوسہ ہے اگر کوئی شخص وسوسہ میں مبتلا ہو حوض سے وضو کرتے کراہت رکھتا ہو اُسے حوض ہی سے وضو افضل ہے کہ قطع وسوسہ ہو ورغم الشیطان اھم من رغم المعتزلی واللّٰہ  تعالٰی اعلم۔

فتاوی رضویہ ،سوال نمبر ۴۵
مفتی :امام احمد رضاخان بریلوی رحمۃ اللہ علیہ



 

No comments:

Post a Comment

Join us on

Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...