Thursday, June 16, 2016

آب کثیر ہونے کے لیے کتنا عمق درکار ہوتا ہے ؟ جواب از امام احمد رضا خان بریلوی



فتوٰی مسمّٰی بہ
ھبۃ الحبیر فی عمق ماء کثیر
ابرِ باراں کا عطیہ زیادہ پانی کی گہرائی میں (ت(
بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم
، نحمدہ ونصلی علٰی رسولہ الکریم

مسئلہ ۵۴: ۴ رجب المرجب ۱۳۳۴ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ آبِ کثیر کے لئے جو مثل جاری نجاست قبول نہ کرے کتنا عمق درکار ہے اور یہ جو کہا جاتا ہے کہ ہاتھ سے پانی لینے میں زمین نہ کھُلے اس سے چُلّو مراد ہے یا لپ، بینّوا تو جّروا۔

الجواب
بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم
نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم

اُس کے عُمق میں گیارہ قول ہیں:
)۱( کُچھ درکار نہیں صرف اتنا ہو کہ اُتنی مساحت میں زمین کہیں کھُلی نہ ہو۔
)۲( بڑا درہم کے ۰۴ ماشے ہوتا ہے اُس کے عرض سے کچھ زیادہ گہرا ہو۔
)۳( اُس میں سے پانی ہاتھ سے اُٹھائیں تو زمین کھُل نہ جائے۔
)۴( پانی لینے میں ہاتھ زمین کو نہ لگے۔
اقول یہ اپنے سابق سے زائد ہے کمالایخفی۔
)۵( ٹخنوں تک ہو۔
)۶( چار اُنگل کشادہ
اقول یہ تقریباً نو انگل یعنی تین گرہ ہوا۔
)۷( ایک بالشت
)۸( ایک ہاتھ
)۹( دو ہاتھ
)۱۰( سفید سکہ اس میں ڈال کر مرد کھڑے سے دیکھے تو روپیہ نظر نہ آئے۔
اقول: یعنی پانی کی کثرت سے نہ کہ اس کی کدرت سے۔
)۱۱( اپنی طرف سے کوئی تعیین نہیں ناظر کی رائے پر موقوف ہے۔
اقول: یعنی جو جتنے گہراؤ پر سمجھے کہ آبِ کثیر ہوگیا، اس کے حق میں وہ   
کثیر ہے دوسرا نہ سمجھے تو اس کیلئے قلیل ہے۔

اقول وھو غیر الاول فھو سلب التقدیر وھذا تفویضہ الٰی رأی المبتلی بہ وبالجملۃ فالاول حکم العدم وھذا عدم الحکم فانقلت انما التفویض فی ظاھر الروایۃ فی الطول والعرض اذبھما الخلوص وعدمہ وفیم یفوض الیہ النظر فی العمق۔

میں کہتا ہوں وہ اول کا غیر ہے تو وہ سلب تقدیر ہے، اور یہ اُسی شخص کی رائے کی طرف سپرد کرنا ہے جو اس میں مبتلا ہو، اور خلاصہ یہ ہے کہ پہلا حکمِ عدم ہے اور یہ عدم حکم ہے۔ تو اگر تم کہو کہ تفویض ظاہر روایت میں صرف طول و عرض میں ہے کیونکہ انہی دونوں سے خلوص اور عدمِ خلوص کا علم ہوتا ہے تو عمق میں اس کی رائے کی طرف کیونکر سپرد کیا جائے گا۔ (ت(

اقول اختلفوا فی معیار عدم الخلوص ھل ھو التحریک وھی الروایۃ المتفقۃ عن اصحابنا ام الصبغ وھو قول الامام ابی حفص الکبیر البخاری ام التکدیر وھو قول الامام ابی نصر محمد بن محمد بن سلام ام المساحۃ وھو قول الامام ابی سلیمٰن الجوزجانی الکل فی البدائع ولا شک ان التکدیر یختلف باختلاف العمق فلعل ھذا القائل قائل بھذا القول ففوضہ الی رای الناظر واللّٰہ تعالٰی اعلم۔

میں کہتا ہوں عدمِ خلوص کے معیار میں اختلاف ہے کہ آیا وہ تحریک ہے اور یہی متفقہ روایت ہمارے اصحاب کی ہے، یا صرف رنگنا ہے اور یہی قول امام ابو حفص الکبیر بخاری کا ہے، یا گدلا کرنا ہے، اور یہ امام ابو نصر محمد بن محمد بن سلام کا ہے، یا مساحت ہے اور یہ امام ابو سلیمان الجوزجانی کا قول ہے۔ یہ تمام تفصیل بدائع میں ہے، اور اس میں شک نہیں کہ گدلا کرنا گہرائی کے اختلاف سے مختلف ہوتا ہے، اور غالباً یہ قائل اسی قول کی طرف۔مائل ہے اور اسی لئے انہوں نے اس معاملہ کو دیکھنے والوں کی رائے کی طرف سپرد کیا ہے۔ (ت(

ان میں قول سوم عامہ کتب میں ہے اور اوّل ودوم وہفتم وہشتم بدائع وتبیین وفتح میں نقل فرمائے اور چہارم خانیہ وغنیہ پنجم جامع الرموز ششم غنیہ نیز مثل نہم ویاز دہم قہستانی ونہم شرح نقایہ برجندی میں۔
ان میں صرف دو قول مصحح ہیں اوّل وسوم وبس۔

اما ما رأیت فی جواھر الاخلاطی من قولہ جمع الماء فی خندق لہ طول مثلا مائۃ ذراع وعرضہ ذراع اوذراعان فی جنس ھذہ المسألۃ اقوال فی قول یجوز التوضی منہ بغیر فصل وھو الماخوذ وفی قول لووقعت فیہ نجاسۃ یتنجس من طولہ عشرۃ اذرع وفی قول ان کان الماء مقدار مالوجعل فی حوض عرضہ عشرۃ فی عشرۃ ملیئ الحوض وصار عمقہ قدر شبر یجوز التوضی بہ والا فلا وھو الصحیح تیسیرا للامر علی الناس وقیل لایجوز التوضی فیہ وان کان من بخاری الی سمرقند ۱؎ اھ

جواہر الاخلاطی میں ہے کہ کسی شخص نے کسی خندق میں پانی جمع کیا جس کا طول سو ہاتھ اور چوڑائی ایک ہاتھ یا دو ہاتھ ہو، تو اس مسئلہ میں چند اقوال ہیں، ایک قول تو یہ ہے کہ اس سے وضو مطلقاً جائز ہے اور یہی قول ماخوذ ہے، اور ایک قول یہ ہے کہ اگر اس میں نجاست گر جائے تو وہ لمبائی میں دس ہاتھ ناپاک ہوگا، اور ایک قول یہ ہے کہ اگر اس میں اتنا پانی ہے کہ اگر اس کو ایک ایسے حوض میں کر لیا جائے جس کی چوڑائی دہ در دہ ہو تو حوض بھر جائے، اور اس کی گہرائی ایک بالشت ہو، تب تو اس سے وضو جائز ہے ورنہ نہیں اور یہی صحیح ہے کہ اس میں لوگوں پر آسانی ہے، اور ایک قول یہ ہے کہ اس سے وضو جائز نہیں اگرچہ وہ بخارا سے سمرقند تک ہو اھ۔ (ت(

 (۱؎ جواہر الاخلاطی)

فاقول قولہ ھو الصحیح ناظر الی اعتبار المساحۃ وحدھا من دون اشتراط الامتدادین وبہ یوافق تصحیحہ الاول بقولہ ھو الماخوذ الی اشتراط عمق شبر والدلیل علیہ قول البرجندی،

میں کہتا ہوں ان کا قول ھو الصحیح صرف پیمائش کو دیکھتے ہوئے ہے، دونوں امتدادوں کی اس میں شرط نہیں، اور اسی کی وجہ سے یہ ان کی پہلی تصحیح کے مطابق ہوجائیگا، وہ فرماتے ہیں یہی ماخوذ ہے، اس میں ایک بالشت کی گہرائی کی شرط نہیں اور اس کی دلیل برجندی کا قول ہے

قال الامام ابو بکر الطرخانی اذ الم یکن لہ عرض صالح وکان طولہ من بخارٰی الی سمرقند لایجوز التوضی منہ وقال محمد بن ابرھیم المیدانی ان کان بحال لوجمع ماؤہ یصیر عشرا فی عشرو صار عمقہ بقدر شبرجاز التوضی بہ الکل فی الفتاوی الظھیریۃ وذکر فی الخلاصۃ ان الفقیہ ابا اللیث اخذ بہ وعلیہ اعتماد الصدر الشھید وفی الملتقط انکان عرض الغدیر ذراعین وبلغ طولہ فی عرضہ عشرا فی عشر فبال فیہ انسان فالماء طاھر ۱؎ اھ

''امام ابو بکر طرخانی نے فرمایا جب اس کی چوڑائی مناسب نہ ہو اور اس کی لمبائی خواہ بخاریٰ سے سمرقند تک ہو تو اُس سے وضو جائز نہیں''۔ اور محمد بن ابراہیم میدانی نے فرمایا اگر حوض اتنا بڑا ہو کہ اگر اس کا پانی اکٹھا کیا جائے تو وہ دہ در دہ ہوجائے اور اس کی گہرائی بقدر ایک بالشت ہو تو اس سے وضو جائز ہے، یہ سب فتاوٰی ظہیریہ سے ماخوذ ہے، اور خلاصہ میں ذکر کیا کہ فقیہ ابو اللیث نے اسی کو اختیار کیا ہے اور اسی پر صدر الشہید کا اعتماد ہے، اور ملتقط میں ہے کہ اگر تالاب کی چوڑائی دو ہاتھ ہو اور اس کی لمبائی چوڑائی میں دہ در دہ ہو اور اس میں کوئی انسان پیشاب کردے تو پانی پاک ہے اھ

 (۱؎ نقایۃ برجندی    کتاب الطہارت    نولکشور لکھنؤ    ۱/۳۳)

فانما الضمیر فی قول اخذ بہ وقولہ علیہ اعتماد الی اعتبار المساحۃ ولو بالجمع والا لم تکن الحوالۃ رائجۃ لان عبارۃ الخلاصۃ فی جنس فی النھر ھکذا ان کان الماء لہ طول وعمق ولیس لہ عرض کانھار بلخ ان کان بحال لوجمع یصیر عشرا فی عشر یجوز التوضی بہ وھذا قول ابی سلیمان الجوزجانی وبہ اخذا لفقیہ ابو اللیث وعلیہ اعتماد الصدر الشھید وقال الامام ابوبکر الطرخانی لایجوز وان کان من ھنا الی سمرقند ۲؎ اھ

اور ضمیران کے قول اخذ بہ اور علیہ میں اعتبار مساحت کی طرف راجع ہے اگرچہ جمع کے اعتبار سے ہو ورنہ تو حوالہ رائج نہ ہوتا کیونکہ خلاصہ کی عبارت جنس فی النھر میں اس طرح ہے کہ اگر پانی کیلئے لمبائی گہرائی ہو اور چوڑائی نہ ہو جیسے بلخ کی نہریں، ان میں کا پانی اگر جمع کر لیا جائے تو وہ دہ در دہ ہوجائے تو اُس سے وضو جائز ہے اور یہ ابو سلیمان الجوزجانی کا قول ہے اور فقیہ ابو اللیث نے اسی کو اختیار کیا ہے اور اسی پر صدر الشہید کا اعتماد ہے، اور امام ابو بکر الطرخانی نے فرمایا جائز نہیں اگرچہ یہاں سے سمرقند تک ہو اھ

 (۲؎ خلاصۃ الفتاوٰی    جنس فی الانہار  نولکشور لکھنؤ    ۱/۹)

فلیس فیہ ذکر العمق اصلا فضلا عن تقدیرہ بشبر کیف والامام الجوزجانی اٰخذ فی العمق بالقول الاول وھو نفی التقدیر رأسا قال فی البدائع اما العمق فھل یشترط مع الطول والعرض عن ابی سلیمان الجوزجانی انہ قال ان اصحابنا رضی اللّٰہ تعالٰی عنہم اعتبروا البسط دون العمق ۱؎ اھ فالمیدانی اخذ بقولہ فی اعتبار المساحۃ دون الامتدادین وزاد من عند نفسہ قدر العمق فنقلاہ فی الجواھر وشرح النقایۃ وذکرا تصحیحہ باعتبار اصلہ مع قطع النظر عن الزیادۃ لان المحل محل الخلافیۃ الاصل لاخلافیۃ العمق واللّٰہ تعالٰی اعلم۔

اس میں گہرائی کا سرے سے کوئی ذکر نہیں۔ چہ جائیکہ ایک بالشت کے اندازے کا ذکر ہو پھر امام جوزجانی نے گہرائی کے بابت پہلا قول ہی اختیار کیا ہے، جس میں اندازہ کو مطلقاً ترک کیا گیا ہے، بدائع میں فرمایا کہ گہرائی کی بابت سوال یہ ہے کہ اس کو طول وعرض کے ساتھ مشروط کیا جائے گا، ابو سلیمان الجوزجانی سے مروی ہے کہ انہوں نے فرمایا ہمارے اصحاب نے چوڑائی کا اعتبار کیا ہے گہرائی کا نہیں، اھ تو میدانی نے پیمائش میں ان کے قول کو لیا ہے نہ کہ دو امتدادوں میں اور اپنی طرف سے انہوں نے گہرائی کی مقدار کا اضافہ کیا، تو ان دونوں نے اس کو جواہر اور شرح نقایہ میں ذکر کیا اور ان دونوں نے اس کی تصحیح اصل کے اعتبار سے کی ہے اور زیادتی سے قطع نظر کیا ہے، کیونکہ یہ محل ہے جس کے اصل میں اختلاف ہے نہ کہ جس کے عمق میں اختلاف ہے واللہ اعلم۔ (ت(

 (۱؎ بدائع الصنائع    المقدار الذی یصیربہ المحل نجساً    ایچ۔ایم سعید کمپنی کراچی    ۱/۷۳)


قول اول کی تصحیح امام زیلعی نے فرمائی:
قال فی التبیین والصحیح اذا اخذ الماء وجہ الارض یکفی ولا تقدیر فیہ فی ظاھر الروایۃ ۲؎۔

تبیین میں فرمایا صحیح یہ ہے کہ جب زمین کی سطح پر پانی پھیل جائے تو وہ کافی ہے ظاہر الروایۃ میں کسی مقدار کا ذکر نہیں۔ (ت(

 (۲؎ تبیین الحقائق    بحث عشر فی عشر        ببولاق مصر        ۱/۲۲)
بحرالرائق میں ہے:ھو الاوجہ لما عرف من اصل ابی حنیفۃ ۳؎۔ یہی اوجہ ہے جیسا کہ ابو حنیفہ کی اصل سے معلوم ہوا۔ (ت(

 (۳؎ بحرالرائق          بحث عشر فی عشر             ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۱/۷۷)

محقق علی الاطلاق نے فتح القدیر میں اس تصحیح کی تضعیف کی فقال قیل والصحیح اذا اخذالماء الخ ۱؎  (وہ فرماتے ہیں کہ بعض نے کہا صحیح یہ ہے کہ جب پانی لے الخ۔ ت(

 (۱؎ فتح القدیر    بحث عشر فی عشر    نوریہ رضویہ سکھر    ۱/۷۱)

اقول یہاں دو نظریں ہیں ایک بظاہر قوی اس قول کی تزییف میں دوسری کمال ضعیف اس کی تایید میں اور شاید اسی لئے امام ابن الہمام نے اس تصحیح کو ضعیف کیا مگر نظر دقیق اس کی قوت پر حاکم وباللہ التوفیق

اما التائید فلعل زاعما یزعم ان الکثیر قدالحق بالجاری فی کل حکم کما حققہ فی الفتح والجاری لاتقدیر فیہ للعمق کما دلت علیہ فروع کثیرۃ منھا مسألۃ المطر النازل علی سطح فیہ نجاسات فکذا ھھنا۔

اور جہاں تک تائید کا تعلق ہے شاید کوئی گمان کرنے والا گمان کرے کہ کثیر کو جاری کے حکم میں کیا گیا ہے تمام احکام میں، جیسا کہ اس کی تحقیق فتح میں ہے اور جاری کی گہرائی میں کوئی مقدار نہیں ہے، اور اس پر فروع کثیرہ دلالت کرتی ہیں ایک فرع ان میں سے یہ ہے کہ بارش چھت پر ہو اور وہاں مختلف نجاستیں ہوں تو یہاں بھی ایسا ہی ہے۔ (ت(

اقول ھب ان الکثیر ملحق بالجاری فی جمیع الاحکام لکن الکلام انہ متی یکون کثیرا فلا یمکن الالحاق قبل اثبات ان الکثرۃ لاتحتاج الی العمق الا تری ان الجاری لاتقدیر فیہ بشیئ من الطول ولا العرض کما دلت علیہ فروع جمۃ ذکرناھا فی رحب الساحۃ منھا الماء النازل من الابریق علی ید المستنجی قبل وصولہ الیھا ولا یلزم منہ عدم التقدیر بھما ھھنا ایضا فکذا العمق واللّٰہ تعالی اعلم۔

میں کہتاہوں مان لیا کہ کثیر تمام احکام میں جاری کے ساتھ ملحق ہے لیکن اصل گفتگو تو اس میں ہے کہ وہ کب کثیر ہوگا تو اس کو اس کے ساتھ ملحق کرنا اس وقت تک درست نہ ہوگا جب تک یہ ثابت نہ کیا جائے کہ کثرت گہرائی کی محتاج نہیں، کیا آپ نہیں دیکھتے کہ جاری میں طول وعرض کا کوئی اندازہ نہیں، اس پر بہت سی فروع دلالت کرتی ہیں جن کا ذکر ہم نے رحب الساحۃ میں کیا، ایک فرع یہ ہے کہ لوٹے سے پانی استنجاء کرنے والے کے ہاتھ پر گرے اس تک پہنچنے سے قبل اور اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ ان دونوں کا اندازہ نہ ہو یہاں بھی، تو عمق کا بھی یہی حال ہے واللہ تعالٰی اعلم۔

واما التزییف ففی الراکد الکثیر قولان معتمدان الاول ظاھر الروایۃ وھو اعتبار عدم الخلوص ظنا وتفویضہ الی رأی المبتلی بہ من دون تقدیر بشیئ ومعرّف ذلک التحریک عند ائمتنا الثلثۃ رضی اللّٰہ تعالی عنھم وھو بالتوضی علی الاصح والثانی معتمد عامۃ المتأخرین وعلیہ الفتوی وھو التقدیر بعشر فی عشراعنی مساحۃ مائۃ علی الصحیح فعدم التقدیر الموافقُ لاصل الامام رضی اللّٰہ تعالی عنہ انما ھو علی الروایۃ الاولی اما الاٰن فالکلام علی تقدیر التقدیر فکیف یلاحظ فیہ اصل عدم التقدیر کما فعل البحرام کیف یراعی فیہ ظاھر الروایۃ کما فعل الامام الفخر ونفس العشر فی عشر لیست فی ظاھر الروایۃ۔

اور تزییف کا بیان یہ ہے کہ ٹھہرے ہوئے پانی میں دو۲ معتمد قول ہیں پہلا ظاہر الروایۃ ہے اور وہ بطور گمان عدم خلوص کا اعتبار ہے اور اس میں کوئی مقدار نہیں بلکہ جو اس میں مبتلی ہے اس کی رائے پر چھوڑا گیا ہے اور اس کی پہچان ہمارے ائمہ ثلثہ کے نزدیک حرکت دینا ہے اور یہ حرکت اصح قول کے مطابق وضو سے ہوگی، اور دوسرا قول عام متأخرین کا مختار ہے اور اسی پر فتوٰی ہے، اور اس سے مراد دہ در دہ کی مقدار ہے، یعنی سو ہاتھ کی پیمائش صحیح قول پر ہے، اور اندازہ نہ ہونا جو امام کی اصل کے مطابق ہے وہ پہلی روایت کے مطابق ہے، اور اب گفتگو مقدار کی تقدیر پر ہے تو اس میں عدم تقدیر کی اصل کا لحاظ کیسے ہوگا جیسا کہ بحر نے کیا ہے یا اس میں ظاہر الروایۃ کی رعایت کیسے ہوگی؟ جیسا کہ امام فخر نے کیا ہے جبکہ دَہ در دہ ظاہر روایۃ میں کوئی قول نہیں۔ (ت(

اقول والتحقیق(۱) عندی ان التقدیر بعشر فی عشر لیس حکما منحازا برأسہ فیحتاج(۲) الی ابداء اصل لہ کما تجشمہ الامام صدر الشریعۃ ویطعن(۳) فیہ بانہ لایرجع الی اصل فی الشرع کما قالہ فی البحر وتبعہ فی الدر ویرد بمخالفتہ لقول الامام المصحح من کثیرین اعلام کما یتوھم بل ھو تقدیر منھم رحمنا اللّٰہ تعالی بھم لما فی ظاھر الروایۃ من عدم الخلوص وجدوا ھذا القدر لایخلص فحکموا بہ

میں کہتاہوں میرے نزدیک تحقیق یہ ہے کہ دہ در دہ کا اندازہ مستقل حکم نہیں ہے کہ اس کیلئے کوئی اصل تلاش کرنا ہو، جیسا کہ صدر الشریعۃ نے اس کی کوشش کی ہے، اور  اس پر یہ اعتراض کہ یہ چیز شریعت کی کسی اصل پر متفرع نہیں، جیسا کہ بحر میں فرمایا اور دُر نے اس کی متابعت کی اور اس کو اس بنا پر رد کر دیا جائے کہ یہ قول اکثر علماء کے مطابق امام کے صحیح قول کے مخالف ہونے کی وجہ سے مردود ہے جیسا کہ وہم ہوتا ہے بلکہ یہ اُن کی طرف سے اندازہ ہے، کیونکہ ظاہر روا یۃ میں عدم خلوص ہے اور اس مقدار میں انہوں نے خلوص نہ پایا تو انہوں نے اس پر یہ حکم لگایا۔

قال فی البدائع ذکر ابوداؤد لایکاد یصح لواحد من الفریقین حدیث عن النبی صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم فی تقدیر الماء ولہذا رجع اصحابنا فی التقدیر الی الدلائل الحسیۃ دون السمعیۃ ثم اختلفوا فی تفسیر الخلوص فاتفقت الروایات عن اصحابنا انہ یعتبر بالتحریک وابو حفص الکبیر اعتبر الخلوص بالصبغ وابو نصر بالتکدیر والجوزجانی بالمساحۃ فقال ان کان عشرا فی عشر فھو مما لایخلص وان کان دونہ فھو مما یخلص ۱؎ اھ ۔فقد جعل ھذا تفسیر الما فی المذھب وقال فی الغنیۃ تحت قولہ الحوض اذا کان عشرا فی عشر المقصود من ھذا التقدیر حصول غلبۃ الظن بعدم خلوص النجاسۃ ۲؎ اھ۔

بدائع میں فرمایا ابو داؤد نے فرمایا کہ حضور اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی حدیث جو پانی کے اندازہ سے متعلق ہے فریقین میں سے کسی کیلئے کوئی حدیث صحیح نہیں، اور اسی لئے ہمارے اصحاب نے اندازہ میں دلائل حسّیہ کی طرف رجوع کیا نہ کہ سمعیۃ کی طرف اب خلوص کی تفسیر میں اختلاف ہے تو ہمارے اصحاب کی متفقہ روایت میں ہلانے کا اعتبار ہے اور ابو حفص کبیر نے خلوص رنگنے کو کہا اور ابو نصر نے گدلا ہونے کو کہا اور جوزجانی نے پیمائش کو کہا، فرمایا کہ اگر وہ دہ در دہ ہو تو اس میں خلوص نہیں اور اگر اس سے کم ہے تو اس میں خلوص ہے اھ انہوں نے یہ مذہب کی تفسیر بنائی ہے غنیہ میں مصنف کے قول الحوض اذا کان عشر فی عشر کے تحت ہے کہ اس تقدیر سے مقصود نجاست کے عدم خلوص کی بابت ظن غالب کا حصول ہے اھ

 (۱؎ بدائع الصنائع    فصل فی بیان المقدار    ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    )
(۲؎ غنیۃ المستملی    فصل فی احکام الحیاض    سہیل اکیڈمی لاہور    ص۹۸)

فاذا کان ھذا تفسیر مافی ظاھر الروایۃ وجبت رعایتھا فیہ وبقی عمقہ علی اصل الامام لان ھذا انما ھو تقدیر ما لایخلص وما لایخلص لم یعتبر فیہ عمق فی ظاھر الروایۃ فلا داعی الی اعتبارہ ھنا اللھم الا ان یثبت ان للعمق مدخلا فی خلوص الحرکۃ وعدمہ ایضا فح یقال ان ظاھر الروایۃ حیث احالت الامر علیہ ارسلت الامتدادات ارسالا وکان ذلک الواجب حینئذ اما انتم فقدرتم الامتدادین ولیس ان کل عمق بعدھما سواء فیجب علیکم تقدیر عمق لایقبل معہ الامتدادان الخلوص فافہم۔

اور جب یہ ظاہر روایت کی تفسیر ہے تو اس کی رعایت اس میں لازم ہے، اور امام کی اصل کے مطابق عمق باقی رہا کیونکہ یہ اسکی تقدیر ہے جس میں خلوص نہ ہو اور جس میں خلوص نہ ہو ظاھر الروایۃ کے مطابق اس میں عمق معتبر نہیں، تو یہاں اس کے اعتبار کی کوئی وجہ نہیں، ہاں اگر عُمق کا دخل خلوص حرکت اور عدمِ خلوص میں ثابت کردیا جائے، تو اُس وقت کہا جائیگا کہ ظاہر روایت نے جہاں معاملہ کا دارومدار اس پر رکھا ہے تو امتدادات کو مطلق رکھا ہے اور اس وقت یہی لازم تھااور تم نے دونوں امتدادوں کی تقدیر کی ہے اور ان دونوں کے بعد ہر عمق برابر نہیں تو تم پر لازم ہے کہ ایک ایسے عمق کی تقدیر کرو کہ  اس کے ہوتے ہوئے دونوں امتداد خلوص کو قبول نہ کریں۔ فافہم،

وح لایضاد القول الحادی عشر للقول الاول اذ ترک التقدیر فی ظاھر الروایۃ لایکون اذن لنفیہ بل لعدم تعینہ واختلافہ باختلاف الامتدادات فیصح التفویض الی رأی الناظر لکنہ شیئ یحتاج الی ثبت ودونہ خرط القتاد بل یدفعہ ان لوکان کذلک لم یصح تعیین عشر فی عشر فانہ یختلف الامتدادان المانعان للخلوص علی ھذا باختلاف الاعماق فکیف یجوز التحدید علی شیئ منھا وھو عود علی المقصود بالنقض فترجح ان الاوجہ ھو ظاھر الروایۃ بل ھی الوجہ ھذا ماعندی واللّٰہ تعالٰی اعلم۔

اس صورت میں گیارھواں قول پہلے قول کی ضد نہ ہوگا کہ ظاہر روایت میں تقدیر کا ترک کرنا اس کی نفی کیلئے نہ ہوگا بلکہ اس کی عدمِ تعیین کیلئے ہوگا اور اس کا اختلاف امتدادات کے اختلاف کی وجہ سے ہوگا تو دیکھنے والے کی رائے کی طرف اس کو سپرد کرنا صحیح ہوگا، مگر یہ ایک ایسی چیز ہے جس کو دلیل کی ضرورت ہے حالانکہ اس کی دلیل مشکل ہے بلکہ اس کا رَد یہ ہے کہ اگر بات یہی ہوتی تو دہ در دہ کی تعیین صحیح نہ ہوئی، کیونکہ جو دو امتداد خلوص کے مانع ہیں اس بنا پر گہرائیوں کے اختلاف سے مختلف ہونگے تو ان میں سے کسی ایک کی تحدید کیونکر درست ہوگی اور یہ تو نقض کے سبب مقصود کی طرف عود کرنا ہے تو راجح یہی قرار پایا کہ ظاہر روایت ہی درست ہے بلکہ صرف ایک یہی وجہ ہے ھذا ماعندی الخ (ت(

اس قول کی تصحیح امام زیلعی کے سوا دوسرے سے نظر میں نہیں: اما ما فی البحر فی البدائع اذا اخذ ای الماء وجہ الارض یکفی ولا تقدیر فیہ فی ظاھر الروایۃ وھو الصحیح ۱؎ اھ اور جو بحر میں ہے کہ بدائع میں ہے جب پانی زمین کی سطح کو چھپا دے یہ اس کیلئے کافی ہے اور ظاہر الروایۃ میں کوئی تقدیر متعین نہیں، اور یہی صحیح ہے۔ (ت(

 (۱؎ بحرالرائق    بحث عشر فی عشر    ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۱/۷۷)

فاقول ھذا کما تری کلام التبیین ولیس فی البدائع انما ذکر فیہ عن الجوزجانی ماتقدم ثم قال وعن الفقیہ ابی جعفرالھندوانی ان کان بحال لورفع انسان الماء بکفیہ انحسرا سفلہ ثم اتصل لایتوضؤ ۱؎ بہ ثم ذکر الزیادۃ علی عرض الدرھم والشبر والذراع ولم یصحح شیئا منھا نعم قال قبلہ فی الماء الجاری اختلف المشائخ فی حد الجریان قال بعضھم ھو ان یجری بالتبن والورق وقال بعضھم ان کان بحیث لووضع رجل یدہ فی الماء عرضا لم ینقطع جریانہ فھو جار والا فلا،

ہندوانی کہتے ہیں کہ اگر پانی ایسا ہے کہ آدمی اپنے دونوں ہاتھوں سے اٹھائے تو اس کی تہ کھل جائے پھر جُڑ جائے تو اُس سے وضو نہیں ہوسکتا ہے، پھر درہم، بالشت اور ایک ہاتھ سے زائد کی چوڑائی کا ذکر کیا اور ان میں سے کسی کی تصحیح کا ذکر نہیں کیا ہاں اس سے قبل جاری پانی کی بابت کہا کہ مشائخ کا حدِ جریان میں اختلاف ہے بعض نے فرمایا کہ اگر کوئی شخص اپنا ہاتھ پانی میں چوڑائی میں ڈالے تو پانی کا جاری رہنا ختم نہ ہو تو وہ جاری ہے ورنہ نہیں (بعض نے فرمایا کہ اگر اس پانی میں کوئی تنکا ڈالا جائے یا پتّہ ڈالا جائے تو بہا لے جائے) ،

 (۱؎ بدائع الصنائع    فصل فی بیان المقدار    ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۱/۷۳)

وروی عن ابی یوسف ان کان بحال لواغترف انسان الماء بکفیہ لم ینحسر وجہ الارض بالاغتراف فھو جار والا فلا وقیل مایعدہ الناس جاریا فھو جار وما لا فلا وھو اصح الاقاویل ۲؎ اھ فقد افاد تصحیح(۱) عدم التقدیر بعمق لکنہ فی الجاری وھو کذٰلک فیہ بلاشک والکلام ھھنا فی الراکد الکثیر

اور ابو یوسف سے مروی ہے کہ وہ ایسا پانی ہو کہ اگر کوئی شخص اس میں سے چُلّو بھر کر پانی لے تو زمین کھلنے نہ پائے، ایسا پانی جاری ہے ورنہ نہیں، ایک قول ہے کہ جس کو لوگ جاری سمجھیں وہ جاری ہے اور جس کو جاری نہ سمجھیں وہ جاری نہیں اور سب سے زیادہ صحیح قول یہی ہے اھ اس کا مطلب یہ ہے کہ انہوں نے گہرائی کا تعین نہیں فرمایا، لیکن یہ جاری پانی میں ہے اور اس میں شک نہیں، اور گفتگو یہاں ٹھہرے ہوئے کثیر پانی میں ہے۔

 (۲؎ بدائع الصنائع    فصل فی بیان المقدار    ایچ ایم سعید کمپنی کراچی       ۱/۷۱)

اما قول البحر ھو الاوجہ فاقول ھو رحمہ اللّٰہ تعالٰی مع علو کعبہ الرجیح، لیس من ارباب الترجیح، کما یعرفہ من رزق حظا من النظر الصحیح، وخدمۃ ھذا الفن یفکر نجیح، وقال سیدی محمد بن عابدین رحمہ اللّٰہ تعالٰی فی شرح منظومۃ عقود رسم المفتی بعد مانقل عن البحر فیما نقلوا عن اصحابنا انہ لایحل لاحدان یفتی بقولنا حتی یعلم من این قلنا ان ھذا الشرط کان فی زمانھم اما فی زماننا فیکتفی بالحفظ کما فی القنیۃ وغیرھا فیحل الافتاء بقول الامام بل یجب وان لم نعلم من این قال فینتج من ھذا انہ یجب علینا الافتاء بقول الامام وان افتی المشائخ بخلافہ ۱؎ اھ

لیکن بحر کا قول معقول تر ہے، میں کہتا ہوں وہ بلندی مقام کے باوجود اصحابِ ترجیح سے نہیں ہیں جیسا کہ صاحبِ نظر اور فن کا ماہر جانتا ہے، ابن عابدین نے اپنی منظوم کی شرح عقود رسم المفتی میں بحر سے نقل کے بعد جو اصحاب سے نقل کیا وہ یہ کہ کسی شخص کیلئے یہ حلال نہیں کہ وہ ہمارے قول پر فتوٰی دے تاوقتیکہ اس کو یہ معلوم نہ ہو کہ ہم نے کہاں سے یہ قول لیا، اس کے بعد فرمایا یہ اُن کے زمانہ میں تھا، مگر ہمارے زمانہ میں صرف یاد پر اکتفاء کرنا کافی ہے، جیسا کہ قنیہ وغیرہا میں ہے تو امام کے قول پر فتوٰی حلال ہے بلکہ واجب ہے خواہ یہ معلوم نہ ہو کہ انہوں نے کہاں سے یہ قول لیا، اس کا نتیجہ یہ ہے کہ ہم پر قول امام پر فتوٰی دینا واجب ہے خواہ یہ قولِ مشائخ کے خلاف ہو اھ

 (۱؎ شرح المنظومۃ المسماۃ بعقود رسم المفتی من رسائل ابن عابدین     سہیل اکیڈمی لاہور    ۱/۲۸)

مانصہ یؤخذ من قول صاحب البحر یجب علینا الافتاء بقول الامام الخ انہ نفسہ لیس من اھل النظر فی الدلیل فاذ اصحح قولا مخالفا لتصحیح غیرہ لایعتبر فضلا عن الاستنباط والتخریج علی القواعد خلافا لما ذکرہ البیری عند قول صاحب البحر فی کتابہ الاشباہ النوع الاول معرفۃ القواعد التی تردُّ الیھا وفرعوا الاحکام علیھا وھی اصول الفقہ فی الحقیقۃ وبھا یرتقی الفقیہ الی درجۃ الاجتھاد ولوفی الفتوٰی واکثر فروعہ ظفرت بہ ۲؎ الخ فقال البیری بعد ان عرف المجتھد فی المذھب بما قدمناہ عنہ۔

صاحبِ بحر کا قول یہ ہے ''ہم پر قول امام پر فتوٰی واجب ہے الخ وہ خود دلیل میں غور وفکر کی اہلیت نہیں رکھتے، اب اگر وہ کسی قول کی تصحیح کریں جو غیر کی تصحیح کے خلاف ہو تو اعتبار نہ ہوگا چہ جائیکہ استنباط وتخریج جو قواعد کے مطابق ہو، بیری نے اس کے خلاف کیا ہے، یہ صاحب بحر کے اس قول کے پاس ہے جہاں وہ اپنی کتاب "الاشباہ" میں فرماتے ہیں، پہلی قسم اُن قواعد کی معرفت میں جن پر فقہاء نے احکام متفرع کئے ہیں، اور یہی حقیقۃ میں اصولِ فقہ ہیں، اور ان کے ذریعہ فقیہ درجہ اجتہاد تک پہنچتا ہے خواہ یہ اجتہاد فتوٰی میں ہو، اور اُس کی اکثر فروع پر مجھے کامیابی ہوئی ہے الخ بیری نے مجتہد فی المذہب کی تعریف کی جو ہم نے بیان کی

 (۲؎ الاشباہ والنظائر    بکون ہذا النوع الثانی منہا        ادارۃ القرآن کراچی    ۱/۱۵)

وفی ھذا اشارۃ الی ان المؤلف قدبلغ ھذہ المرتبۃ فی الفتوٰی وزیادۃ وھو فی الحقیقۃ قد من اللّٰہ تعالٰی علیہ بالاطلاع علی خبایا الزوایا وکان من جملۃ الحفاظ المطلعین انتھی اذ لایخفی ان ظفرہ باکثر فروع ھذا النوع لایلزم منہ ان یکون لہ اھلیۃ النظر فی الادلۃ التی دل کلامہ فی البحر علی انھا لم تحصل لہ وعلی انھا شرط الاجتھاد فی المذھب فتأمل ۱؎ اھ

پھر فرمایا کہ اس میں اشارہ ہے کہ مصنف فتوی میں خود اس مرتبہ پر فائز ہے، بلکہ اس سے زیادہ ہے، اور حقیقت یہ ہے کہ اللہ نے ان کو اسرار و رموز پر مطلع فرمایا تھا اور وہ حفاظ میں سے تھے انتہی، یہ مخفی نہ رہے کہ اُن کا اس کی اکثر فروع پر مطلع ہونا اس امر کی دلیل نہیں کہ وہ صاحبِ فکر ونظر بھی ہیں کہ یہ مقام ان کو حاصل نہیں، یہ مجتہد فی المذہب کی شرائط ہیں فتأمل اھ (ت(

 (۱؎ بیری زادہ)

اقول ای بالمعنی الذی عرفہ بل بیری زادہ شاملا للمجتھد فی المسائل واھل التخریج والمجتھد فی الفتوی حیث قال(۱) المجتھد فی المذھب عرف بانہ المتمکن من تخریج الوجوہ علی منصوص امامہ والمتبحر فی مذھب امامہ المتمکن من ترجیح قول لہ علی اٰخر ۲؎ اھ لا المجتھد فی المذھب الذی ھی الطبقۃ الثانیۃ الفائقۃ علی الثلثۃ الباقیۃ لقول البحر ولو فی الفتوی۔

میں کہتا ہوں، یعنی اُس معنی کے اعتبار سے جو بیری زادہ نے کیے ہیں یہ مجتہد فی المسائل کو بھی شامل ہے اور اہلِ تخریج اور مجتہد فی الفتوی کو بھی، انہوں نے فرمایا کہ مجتہد فی المذہب کی تعریف اس طرح کی گئی ہے کہ وہ ایسا عالم ہوتا ہے جو اپنے امام کے بیان کردہ مسئلہ کی وجوہ کی تخریج پر قادر ہو، اور مذہب امام کا متبحر عالم ہو اس کے اقوال کو دوسروں کے اقوال پر ترجیح دے سکتا ہو، نہ کہ مجتہد فی المذہب، جو دوسرے طبقہ میں ہوتا ہے جو باقی تین پر فائق ہوتا ہے، کیونکہ بحر نے فرمایا ''اگرچہ فتوٰی میں''۔ (ت(

 (۲؎ بیری زادہ)

واقول لم یدع البحران من عرف الفروع ارتقی الی مرتبۃ الاجتھاد واین جمعھا من اھلیۃ النظر فی الدلیل والصیدلۃ من الطب وانما اراد ان تلک القواعد من ادرک حقائقھا وان الفروع کیف تستنبط منھا وتردُّ الیھا کان ذلک سلّما لہ یرتقی بھا الی ادنی درجات الاجتھاد ولم یدع ھذا لنفسہ انما ذکر الظفر باکثر الفروع فاین ھذا من ذاک والعجب(۱) کیف خفی ھذا علی العلامۃ بیری مع وضوحہ ثم ھو ایضا لم یشھد(۲) بحصول درجۃ الاجتھاد فی الفتوی لہ رحمھما اللّٰہ تعالی انما زعم ان فی کلام البحر اشارۃ الیہ وشھد بکونہ من الحفاظ المطلعین وھذا لاشک فیہ وقد قال السید ابو السعود الازھری فی فتح اللّٰہ المعین لایعتمد علی فتاوی ابن نجیم ولا علی فتاوی (عہ۱)الطوری ۱؎ اھ واقرہ ش فی غیر موضع من ردالمحتار،

میں کہتا ہوں بحر نے یہ دعوٰی نہیں کیا کہ جوشخص بھی فروع کو جانے گا وہ مرتبہ اجتہاد پر فائز ہوجائے گا، فروع کا یاد کرنا اور ہے اور فکر ونظر چیزے دگراست، یہ بالکل ایسا ہے جیسے دو افروش اور طبیب کا فرق ہوتا ہے، ان کا مقصد یہ ہے کہ جو شخص ان قواعد کو پہچاننے لگے اور اُن سے استنباطِ مسائل کا طریقہ معلوم کرلے، تو یہ اجتہاد کے ادنیٰ درجہ تک پہنچنے کا ذریعہ بن جاتا ہے اور انہوں نے خود اپنے لئے اس مقام کا دعوٰی نہیں کیا ہے انہوں نے تو محض یہ کہا ہے کہ وہ اکثر فروع کو جاننے میں کامیاب ہوئے ہیں دونوں میں بڑا فرق ہے تعجب ہے کہ یہ حقیقت علامہ بیری پر کیسے مخفی رہی، حالانکہ بالکل واضح ہے، پھر اُنہوں نے اپنے لئے درجہ اجتہاد فی الفتوٰی کا دعوٰی بھی نہیں کیا ہے رحمہما اللہ تعالٰی، صرف یہ کہا ہے کہ بحر کے کلام میں اس طرف اشارہ ہے اور انہوں نے اس امر کی شہادت دی ہےکہ وہ حفاظ میں سے ہیں، اور اس میں شک کی گنجائش نہیں، ابو السعود الازہری نے فتح اللہ المعین میں فرمایا نہ تو ابن نجیم کے فتاوٰی پر اعتماد کیا جائے اور نہ ہی طوری کے فتاوی پر اھ اور اس کو "ش" نے برقرار رکھا یہ چیز ردالمحتار کے کئی مقامات پر مذکور ہے،

 (عہ۱) اقول کذا قال ولم اطلع علیھا لاعلم حالھا لکن قال فی کشف الظنون من الذال تحت ذخیرۃ الناظر فی الاشباہ والنظائر انھا للعالم الفاضل علی الطوری المصری الحنفی المتوفی ۱۰۰۴؁ اربع والف ثم قال قال الامینی فی خلاصۃ الاثر اخذ عن الشیخ زین الدین بن نجیم وغیرہ حتی برع وتفنن والف مؤلفات ورسائل فی الفقہ کثیرۃ کان یفتی وفتاواہ جیدۃ مقبولۃ و بالجملۃ فھو فی فقہ الحنفیۃ الجامع الکبیر لہ الشھرۃ التامۃ فی عصرہ والصیت الذائع انتھی ۱۲ منہ غفرلہ (م(
میں کہتا ہوں، انہوں نے یہی فرمایا ہے، لیکن میں اس پر مطلع نہیں ہوا، مگر کشف الظنون میں ذال کی تختی میں ذخیرۃ الناظر فی الاشباہ والنظائر کے تحت ہے کہ یہ کتاب عالم فاضل علی الطوری المصری الحنفی المتوفی ۱۰۰۴ھ کی ہے پھر انہوں نے کہا کہ امینی نے خلاصۃ الاثر میں کہا کہ انہوں نے شیخ زین الدین بن نجیم وغیرہ سے علم حاصل کیا یہاں تک کہ وہ عظیم المرتبت عالم ہوگئے اور علمِ فقہ میں بہت سی کتب ورسائل تصنیف کیے وہ فتوے دیتے تھے اور ان کے فتوے بہت عمدہ اور مقبول ہوتے تھے، خلاصہ یہ کہ یہ کتاب فقہ حنفی میں جامع ہے اور اسے اپنے زمانہ میں شہرت تامہ حاصل ہے۔ (ت(

 (۱؎ فتح المعین بحوالہ ردالمحتار    رسم المفتی    مصطفی البابی مصر    ۱/۵۲)

وفی ط عنہ سمعت کثیرا من شیخنا (یرید اباہ السید علیا رحمھما اللّٰہ تعالٰی) فتاوی الطوری کفتاوی الشیخ زین لایوثق بھما الا اذا تأیدت بنقل اخر ۲؎ اھ وکیف یصح لمجتھد فی الفتوی ان یمنع العمل بفتاواہ۔

اور "ط" میں انہی سے منقول ہے کہ ہم نے اپنے شیخ سے بکثرت سُنا ہے (اس سے مراد ان کے باپ سید علی ہیں) وہ فرماتے تھے فتاوٰی طوری شیخ زین کے فتاوٰی کی طرح ہیں، ان دونوں کا کوئی اعتبار نہیں، ہاں اگر کسی اور نقل سے ان کی تائید ہوجائے تو اور بات ہے، اور ایک مجتہد فی الفتوٰی کو یہ بات کب زیب دے سکتی ہے کہ وہ اپنے فتوی پر عمل کی مخالفت کردے۔ (ت(

 (۲؎ طحطاوی)

قول سوم کی ترجیح عامہ کتب میں ہے وقایہ(۱) ونقایہ(۲) واصلاح(۳) وغرر(۴) وملتقی متون (۵) ووجیز کردری (۶) وغیرہا میں اسی پر جزم فرمایا امام اجل قاضی خان(۷) نے اسی کو مقدم رکھا اور امام اعظم سے امام ابو یوسف کی روایت بتایا ہدایہ(۸) ودرر(۹) ومجمع الانہر(۱۰) ومسکین(۱۱) ومراقی الفلاح (۱۲) وہندیہ(۱۳) میں اسی کو صحیح او رذخیرہ العقبی (۱۴) میں اصح اور غیاثیہ(۱۵) وغنیہ(۱۶) وخزانۃالمفتین (۱۷) میں مختار کہا معراج(۱۸) الدرایہ وفتاوی ظہیریہ (۱۹) وفتاوی خلاصہ (۲۰) وجوہرہ نیرہ(۲۱) وشلبیہ(۲۲) وغیرہا میں علیہ الفتوٰی فرمایا اس قول میں عبارت علماء تین طور پر آئیں:
اول مطلق اغتراف یا غرف کہ ہاتھ سے پانی لینا ہے ایک سے ہو خواہ دونوں سے دونوں کو شامل ہے عام عبارات اسی طرح ہیں جیسے خانیہ وخزانہ کے سوا اکثر کتب مذکورہ اور بحر وشامی وغیرہا۔
دوم لفظ کف یا یدبصیغہ مفرد سیدنا امام اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ سے یوں ہی مروی ہوا ،

فتاوی امام قاضی خان میں ہے:ان کان بحال لو رفع الماء بکفہ لاینحسر ماتحتہ من الارض فھو عمیق رواہ ابویوسف عن ابی حنیفۃ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہما ۱؎۔

اگر پانی اس حال پر ہے کہ اگر ہتھیلی سے پانی اٹھائے تو زمین نیچے سے نہ کھلے تو وہ گہرائی والا ہے اس کو ابو یوسف نے ابو حنیفہ سے روایت کیا۔ (ت(

 (۱؎ فتاوٰی قاضی خان    فصل فی الماء الراکد    نولکشور لکھنؤ        ۱/۴)

خزانۃ المفتین میں ہے:وعمقہ بحال لو رفع الماء بکفہ لاینحسر ماتحتہ من الارض وھو المختار ۲؎۔ پانی کی گہرائی یہ ہے کہ اگر ہتھیلی سے پانی اٹھائے زمین نیچے سے نہ کھُلے یہی مختار ہے۔ (ت(

 (۲؎ خزانۃ المفتین)

چلپی علی صدر الشریعۃ میں ہے:والغرف اخذ الماء بالید للتوضی وھو الاصح ۳؎۔ غرف ہاتھ کے ذریعے وضو کیلئے پانی لینے کو کہتے ہیں اور یہی اصح ہے۔ (ت(

 (۳؎ ذخیرۃ العقبٰی    کتاب الطہارت    مطبعہ اسلامیہ لاہور    ۱/۶۸)

سوم کفین بصیغہ تثنیہ یہ امام ابو یوسف سے مروی آیا اور اسی کو امام فقیہ ابو جعفر ہندوانی نے اختیار فرمایا زیلعی علی الکنز میں ہے: عن ابی یوسف اذا کان لاینحسر وجہ الارض بالاغتراف بکفیہ فھو جار ۴؎ اھ وقدمناہ عن ملک العلماء واذا کان ھذا فی الجاری حقیقۃ ففی الملحق(عہ۱)بہ بالاولی۔

اور ابو یوسف سے مروی ہے کہ جب دو چُلّو بھر کر پانی اٹھانے سے زمین کی سطح نہ کھلے تو یہ پانی جاری ہے اھ ہم اس کو ملک العلماء سے پہلے ہی نقل کر آئے ہیں، جب یہ بات حقیقی جاری پانی میں ہے تو جو جاری پانی سے ملحق ہوگا اس میں بطریق اولیٰ ہوگی۔ (ت(

 (عہ۱)اقول وھذا بخلاف مافعل فی البحر فان تصحیح الاطلاق فی الجاری لایستلزم تصحیحہ فی الملحق بہ واشتراط العمق فیہ یستلزم اشتراطہ فی الملحق بالاولی ۱۲ منہ غفرلہ۔ (م(
میں کہتا ہوں یہ اس کے خلاف ہے جو بحر میں کیا ہے کیونکہ جاری میں اطلاق کی تصحیح سے یہ لازم نہیں آتا کہ جو جاری سے ملحق ہو اس میں بھی یہی تصحیح ہوگی اور گہرائی کی شرط اس میں اس امر کو مستلزم ہے کہ یہی شرط ملحق میں بھی ہو۔ (ت(

 (۴؎ تبیین الحقائق  کتاب الطہارت       مطبعہ الازہریہ مصر    ۱/۳۳)

بدائع میں ہے:عن الفقیہ ابی جعفر الھندوانی ان کان بحال لو رفع انسان الماء بکفیہ انحسر اسفلہ ثم اتصل لایتوضؤ بہ وان کان لاینحسر اسفلہ لابأس بالوضوء منہ ۱؎۔

فقیہ ابو جعفر ہندوانی سے منقول ہے کہ وہ پانی ایسا ہو کہ اگر کوئی اپنے دونوں ہاتھوں سے اٹھائے تو اس کے نیچے زمین کھل جائے اور پھر مل جائے، ایسے پانی سے وضو نہیں ہوگا اور اگر اس کے نیچے سے زمین نہ کھلتی ہو تو اس سے وضو جائز ہے۔ (ت(

 (۱؎ بدائع الصنائع    فصل فی بیان مقدار الخ    سعید کمپنی کراچی    ۱/۷۳)

جامع الرموز میں ہے:بالغرفۃ ای برفع الماء بالکفین ۲؎۔ بالغرفۃ یعنی دو ہتھیلیوں سے پانی اٹھانا۔

 (۲؎ جامع الرموز    بحث عشر فی عشر    الکریمیہ قزان ایران    ۱/۴۸)

عبدالحلیم الدرر میں ہے:ای باخذ الماء بالکفین ۳؎۔ یعنی دو ہتھیلیوں میں پانی لینا۔

 (۳؎ حاشیۃ علی الدرر للعبد الحلیم        مطبعہ عثمانیہ مصر    ۱/۱۷)

طحطاوی علی مراقی الفلاح میں ہے:قولہ بالغرف منہ ای بالکفین کما فی القھستانی وفی الجوھرۃ علیہ الفتوی ۴؎۔ بالغرف منہ یعنی دو ہتھیلیوں سے جیسا کہ قہستانی میں ہے اور جوہرہ میں ہے کہ اسی پر فتوٰی ہے۔ (ت(

 (۴؎ طحطاوی علی مراقی الفلاح            نور محمد کتب خانہ کراچی    ص۱۶)

اقول ربما(۱) یتوھم منہ ان الفتوی علی الکفین ولیس کذلک فانما عبارۃ الجوھرۃ اما مقدار العمق فالاصح ان یکون بحال لاتنحسر الارض بالاغتراف وعلیہ الفتوی ۵؎ اھ فکان ینبغی ان یقدم عبارتھا ویقول قولہ بالغرف علیہ الفتوی جوھرۃ ای بالکفین قھستانی۔

میں کہتا ہوں ممکن ہے اس سے یہ وہم پیدا ہو کہ فتوی کفین پر ہے، حالانکہ ایسا نہیں ہے کیونکہ جوہرہ کی عبارت یہ ہے ''اور گہرائی کی مقدار میں اصح یہ ہے کہ چُلّو بھرنے سے زمین نہ کھلتی ہو، اسی پر فتوٰی ہے اھ۔ تو ان کو جوہرہ کی عبارت پہلے لانی چاہئے تھی۔ اور یوں کہنا چاہئے تھا قولہ بالغرف علیہ الفتوی جوھرۃ یعنی بالکفین قھستانی۔ (ت(

 (۵؎ الجوہرۃ النیرۃ            مکتبہ امدادیہ ملتان    ۱/۱۶)

علامہ برجندی نے کف واحد کو مرجح اور کفین کو محتمل رکھا: حیث قال بالکف الواحد علی ماھو المفہوم من اطلاقات الکتب ویحتمل ان یکون المراد بالغرف الاخذ بالکفین معاعلی ماھو المتعارف ۱؎ اھ اس لئے فرمایا کہ بالکف الواحد، یہی کتابوں کے اطلاقات سے مفہوم ہے اور یہ بھی احتمال ہے کہ بالغرف سے مراد دونوں چُلّوؤں سے لینا ہو، جیسا کہ متعارف ہے اھ (ت(

 (۱؎ قہستانی برجندی    کتاب الطہارۃ    نولکشور بالسرور    ۱/۳۳)

اقول وقد یؤخذ ترجیح لہ من فحوی الدرر فان نصہا الصحیح ان یکون بحیث لاتنکشف ارضہ بالغرف للتوضی وقیل للاغتسال ۲؎ اھ۔ وذلک لان المراد ھھنا الغرف بالایدی دون الاوانی ولا یظھر الفرق بین الغرف للوضوء والاغتسال بالایدی الا ان الاول بکف والاٰخر بالکفین کما ھو المعتاد فی الغسل وح یعود الیہ تصحیح ذخیرۃ العقبی المذکور ویزیدہ قوۃ انہ المروی عن الامام ھذا کلہ ظاھر النظر۔

میں کہتا ہوں کبھی اس کی ترجیح درر کے فحوی سے بھی معلوم ہوتی ہے اس کی عبارت یہ ہے کہ صحیح یہ ہے کہ وضو کیلئے چُلّو سے پانی لیتے وقت اس کی زمین نہ کھلتی ہو، اور ایک قول یہ ہے کہ غسل کیلئے پانی لیتے ہوئے نہ کھلتی ہو اھ کیونکہ یہاں چُلّو سے مراد ہاتھ کا چلّو بھرنا ہے نہ کہ برتن کا چلّو، اور وضو کیلئے چلّو سے پانی لینے اور ہاتھ سے غسل کرنے میں صرف یہی فرق ہے کہ وضو ایک ہاتھ سے اور غسل دو ہاتھ سے ہوتا ہے، جیسا کہ عادتاً غسل میں کیا جاتا ہے اور اس وقت اس کیلئے ذخیرۃ العقبیٰ کی تصحیح ہوگی، اور اس کو مزید تقویت اس سے ہوتی ہے کہ یہ امام سے مروی ہے یہ جو کچھ ہے ظاہر نظر میں ہے۔ (ت(

 (۲؎ الدرر        فرض الغسل        دارالسعادۃ مصر    ۱/۲۲)

واقول وباللّٰہ التوفیق ترجیح علامہ برجندی میں نظر ہے، اولا اذ(۱) اعترف انہ المتعارف فلم لاینصرف المطلق الیہ۔ جب یہ معلوم ہوگیا کہ یہی متعارف ہے تو مطلق اسی کی طرف کیوں نہیں پھرتا۔ (ت(

ثانیا وہ عند التحقیق(۲) منعکس ہے اطلاقات متون وعامہ کتب سے اغتراف کفین ہی مستفاد، وذلک لان الغرف کما قلتم مطلق شامل باطلاقہ الغرفۃ بکف وکفین غیر انہ لیس ھھنا فی کلام موجب بل سالب والمطلق (۱) وان کان یوجد بوجود فرد لاینتفی الابانتفاء الافراد جمیعا فی التحریر ثم فوا تح الرحموت من بحث النکرۃ المنفیۃ نفی المطلق یوجب نفی کل فرد ۱؎ اھ اس کی وجہ یہ ہے کہ جیسا آپ نے کہا غرف مطلق ہے خواہ ایک ہاتھ سے ہو یا دو ہاتھ سے، البتہ یہ کلام موجب میں نہیں ہے کلام سالب میں ہے، اور مطلق اگرچہ ایک فرد کے پائے جانے سے پایا جاتا ہے مگر اس کا انتفاء اسی وقت ہوگا جب تمام افراد کا انتفاء ہوگا تحریر میں پھر فواتح الرحموت میں نکرہ منفیہ کی بحث سے ہے کہ مطلق کی نفی ہر فرد کی نفی کو ثابت کرتی ہے۔ (ت(

 (۱؎ فواتح الرحموت    بحث النکرۃ المنفیۃ     مطبعۃ امیرقم    ۱/۲۶۱)

بل اقول اللام فی الغرف والاغتراف لیس للعھد ضرورۃ فان کان للاستغراق فذاک فانہ لکل فردلا لمجموع الافراد والا فللجنس وھو الوجہ المفھوم ونفی الجنس(۲) فی العرف واللغۃ لایکون الابنفی جمیع الافراد ۲؎ فواتح فافھم،

بلکہ میں کہتا ہوں لام ''الغرف'' اور ''الاغتراف'' میں عہد کیلئے نہیں، اور اگر یہ استغراق کیلئے ہو تو درست ہے کہ وہ ہر فرد کیلئے ہے مجموعہ افراد کیلئے نہیں، ورنہ یہ جنس کیلئے ہوگا، اور یہی وجہ سمجھ میں آتی ہے، اور جنس کی نفی عرف ولغت میں تمام افراد کی نفی سے ہی ہوتی ہے، فواتح فافہم،

 (۲؎ فواتح الرحموت    بحث النکرۃ المنفیۃ     مطبعۃ امیرقم      ۱/۲۶۰)

ولا شک ان من اغترف بکفیہ فانحسرت الارض یقول انھا ارض تنحسر بالغرف وان کانت لاتنحسر بکف واحدۃ واذا صدق بہ الانحسار لایصدق عدمہ الا اذالم تنحسر بشیئ من الغرفات وتوجیہ الدرر بما فیہ ان المعتاد فی الوضوء ایضا الاغتراف بالکفین فی غسل الوجہ مطلقا وفی غسل الرجلین اذالم یکن بالغمس لاجرم ان اطلق البرجندی تعارفہ علی انی لم ارمن(۱) فرق ھھنا بالوضوء والغسل انما المعروف ذلک فی معرفۃ الخلوص من جانب الی آخر بالتحریک ولم یتکلم علیہ محشوہ الشرنبلالی وعبدالحلیم والحسن العجیمی والخادمی رحمھم اللّٰہ تعالٰی و ردہ الثانی بقولہ ان کلامنھما (ای من الوضوء والغسل یحتاج الی اخذہ بھما (ای بالیدین) قال فظھران لاوجہ لتضعیف الثانی ۱؎ اھ

اور اس میں شک نہیں کہ جس نے دونوں ہتھیلیوں سے پانی لیا اور زمین کھلی تو یہی کہا جائیگا کہ چلّو بھرنے سے زمین کھلی ہے، اگرچہ ایک ہتھیلی سے نہ کھلے اور جب اس کی وجہ سے کھلنا صادق آگیا تو نہ کھلنا صادق نہیں آئے گا، صرف اسی صورت میں ہوسکتا ہے جب کہ کسی چلّو سے زمین نہ کھلے اور درر میں یہ توجیہ ہے کہ وضو میں بھی عام طور پر دونوں ہاتھ سے چلّو بھرا جاتا ہے چہرے کے دھونے میں مطلقاً اور دونوں پیروں کے دھونے میں جبکہ ڈبو کر نہ دھویا جائے، برجندی نے تعارف کو مطلق رکھا ہے علاوہ ازیں میں نے نہیں دیکھا کہ یہاں کسی نے وضو اور غسل میں فرق کیا ہو، اس سلسلہ میں معروف یہ ہے کہ خلوص کی معرفت ایک جانب سے دُوسری جانب تک حرکت کے ذریعے ہوگی اس پر اس کے حاشیہ نگاروں، شرنبلالی، عبدالحلیم، حسن العجیمی اور خادمی رحمہم اللہ نے کلام نہیں کیا، اور دوسرے نے اس کی تردید اس طرح کی ہے کہ ان دونوں میں سے ہر ایک (یعنی غسل و وضوء میں سے) محتاج ہوتا ہے پانی کیلئے (دونوں ہاتھوں کی طرح) فرمایا، اس سے معلوم ہوا کہ دوسرے کی تضعیف کی کوئی وجہ نہیں ہے اھ (ت(

 (۱؎ حاشیۃ علی الدرر للعبد الحلیم        بحث عشر فی عشر    عثمانیہ مصر        ۱/۱۷)

اقول والوجہ عندی ان یراد بالغرف للوضوء الغرف بالایدی وللغسل بالقصاع والاباریق واللّٰہ تعالٰی اعلم اما المروی عن الامام فلیس نصا فی الوحدۃ قال فی غمز العیون اطلق الید و اراد الیدین لانہ اذا کان(۲) الشیاٰن لایفترقان من خلق اوغیرہ اجزاء من ذکرھما ذکر احدھما کالعین تقول کحلت عینی وانت ترید عینیک ومثل العینین المنخران والرجلان والخفان والنعلان تقول لبست خفی ترید خفیک کذا فی شرح الحماسۃ ۲؎ اھ وقد بسطت الکلام علی ھذا فی رسالتی صفائح اللجین فی کون التصافح بکفی الیدین۔

میں کہتا ہوں میرے نزدیک وجہ یہ ہے کہ وضو کیلئے چلّو بھر لینے سے مراد ہاتھوں سے چلّو بھرنا مراد ہو اور غسل کیلئے پیالوں اور لوٹوں کے ذریعہ پانی کا لینا مراد ہو واللہ تعالٰی اعلم، اور جو چیز امام سے مروی ہے وہ وحدت میں نص نہیں ہے، غمز العیون میں فرمایا ید بول کریدین کا ارادہ کیا ہے، کیونکہ جو دو چیزیں پیدائشی طور پر جُڑی ہوئی ہوں یا کسی اور سبب سے تو ان میں سے ایک کا ذکر دوسری کے ذکر کو بھی کافی ہوگا، جیسے عین، کہا جاتا ہے کحلتُ عینی اور اس سے مراد یہ ہوتی ہے کہ میں نے اپنی دونوں آنکھوں میں سُرمہ لگایا اور آنکھ کی طرح نتھنے، پیر، موزے اور جُوتے ہیں لبست خفی کہا جاتا ہے اوراس سے مراد یہ ہوتی ہے کہ میں نے دونوں موزے پہنے، کذا فی شرح الحماسۃ اھ، میں نے اس پر مکمل تفصیلی گفتگو اپنے رسالہ ''صفائح اللجین فی کون التصافح بکفی الیدین'' (چاندی کی تختیاں، اس مسئلے میں کہ مصافحہ دونوں ہاتھوں سے ہوتا ہے۔ ت) میں کی ہے۔ (ت) تو راجح یہی ہے کہ دونوں ہاتھوں سے پانی لینا مراد ہے،

 (۲؎ غمز العیون مع الاشباہ        الفن الاول قواعد کلیۃ    ادارۃ القرآن کراچی    ۱/۱۹)

اوّلاً یہی متون کا مفاد
ثانیا یہی عامہ کتب سے مستفاد
ثالثاً کتب متعددہ میں اُس پر تنصیص اور کف واحد پر کوئی نص نہیں۔
رابعاً کف سے کفین مراد لے سکتے ہیں نہ بالعکس تو اس میں توفیق ہے اور وہ نصب خلاف سے اولیٰ۔
خامساً زمین نہ کھلنے سے مقصود یہ ہے کہ مساحت برقرار رہے ورنہ دو۲ پانی جُدا ہوجائیں گے۔

تبیین میں ہے:المعتبر فی العمق ان یکون بحال لاینحسر بالاغتراف لانہ اذا انحسر ینقطع الماء بعضہ عن بعض ویصیر الماء فی مکانین وھو اختیار الھندوانی ۱؎ اھ ثم ذکر التصحیح المار۔

گہرائی میں معتبر یہ ہے کہ وہ حوض ایسا ہو کہ چلّو بھرنے سے کھُل نہ جاتا ہو کیونکہ اگر کھلا تو پانی کا ایک حصہ دوسرے حصے سے جُدا ہوجائیگا، اور پانی دو جگہوں میں ہوجائیگا، ہندوانی نے اسی کو اختیار کیا ہے اھ پھر اس نے گزشتہ تصحیح کو ذکر کیا ہے۔ (ت(

 (۱؎ تبیین الحقائق    عشر فی عشر        بولاق مصر        ۱/۲۲)

مثلاً حوض پورا دہ در دہ ہے اُس کے وسط میں سے پانی اٹھایا اور زمین کھُل گئی تو اُس وقت وہ کسی طرف دس۱۰ ہاتھ نہیں بلکہ طول وعرض ہر ایک کے دو ٹکڑے ہوگئے۔ ہر ٹکڑا پانچ ہاتھ سے بھی قدرے کم تو آب قلیل ہوگیا لہٰذا لازم ہوا کہ پانی لینے سے زمین نہ کھلنے پائے اور اس کی ضرورت وضو وغسل دونوں کیلئے ہے بلکہ غسل کیلئے زائد۔

ہدایہ میں فرمایا:الحاجۃ الی الاغتسال فی الحیاض اشد منھا الی التوضی ۲؎۔ حوضوں میں نہانے کی ضرورت بہ نسبت وضو کے زیادہ ہوتی ہے۔ (ت(

 (۲؎ الہدایۃ        الغدیر العظیم        مکتبہ عربیہ کراچی    ۱/۲۰)

عنایہ میں فرمایا:لان الوضوء یکون فی البیوت عادۃ ۱؎۔ کیونکہ وضو عام طور پر گھر میں ہوتا ہے۔ (ت(

 (۱؎ العنایۃ علی حاشیۃ فتح القدیر    نوریہ رضویہ سکھر    ۱/۷۰)

اور شک نہیں کہ حوض یا تالاب میں نہاتے ہوئے پانی لپوں سے لیتے ہیں نہ چلّوؤں سے تو ضرور ہوا کہ دونوں ہی ہاتھ سے لینا مراد واللّٰہ تعالٰی اعلم بالحق والسداد۔
توفیق انیق وتحقیق دقیق بحسن التوفیق، والحمدللہ علے تیسرالطریق۔
اقول وباللہ استعین، وھو نعم المعین، یہ سب تنقید وتنقیح وتصحیح وترجیح اُس ظاہر خلاف پر تھی جو عبارات کتب سے مفہوم اور بعونہ عز جلالہ وعم نوالہ قلب فقیر پر القا ہوتا ہے کہ ان اقوال میں اصلا خلاف نہیں قول اول کی نسبت ہم بیان کر آئے کہ وہی ظاہر الروایۃ اور وہی اقوی من حیث الدرایۃ ہے اور مذیل بطراز تصحیح بھی اور ظاہر الروایۃ اوجہ ومصحح سے عدول کی کوئی وجہ نہیں قول دیگر کہ عامہ کتب میں مختار ومرجح ومفتی بہ ہے اسی ظاہر الروایۃ پر متفرع اور اُسی کے حکم کے تحفظ کو ہے ظاہر ہے کہ مساحت معینہ ہو مثلاً دہ در دہ یا عدمِ خلوص پر مفوضہ بہرحال اُتنی مقدار میں پانی کا اتصال ضرور ورنہ وہ مساحت نہ رہے گی ولہٰذا ظاہر الروایۃ نے فرمایا کہ کہیں سے زمین کھلی نہ ہو تو اُس قدر کا شرط کثرت ہونا بداہۃً ثابت، مگر کثرت(۲) وقت استعمال چاہئے پہلے کثیر تھا اور استعمال کرتے وقت قلیل ہوگیا تو کثرت سابقہ کیا مفید ہوگی اب اس میں پانی لیتے ہوئے زمین اگر کھُل گئی تو ظاہر الروایۃ نے جو امر کثرت کیلئے شرط کیا تھا کب باقی رہا اتنی دیر کو پانی قلیل ہوگیا پہلے سے اگر نجاست پڑی تھی اور بوجہ کثرت مؤثر نہ ہوئی تھی اب قلیل ہوتے ہی مؤثر ہوگئی اور پھر پانی مل جانا طاہر نہ کردیگا کہ آب نجس کثیر ہو کر پاک نہیں ہوجاتا اور جن کے نزدیک مائے مستعمل نجس ہے پہلے سے کسی نجاست پڑی ہونے کی حاجت نہیں پہلے لپ کا پانی بدن پر ڈالا یہ مستعمل ونجس ہو کر پانی میں گرا دوبارہ لپ لیا پانی قلیل ہو کر اسی مائے مستعمل سے نجس ہوگیا۔ یوں ہی جن کے نزدیک آب مستعمل اگرچہ پاک ہے مگر مائے مطلق سے اُس کا اختلاط مطلقاً اُسے ناقابلِ طہارت کردیتا ہے اگرچہ مغلوب ہو لہٰذا وقت اغتراف حفظ کثرت کیلئے یہ شرط لگائی کہ اغتراف آب کثیر سے ہو اُس وقت بھی ظاہر الروایۃ کا ارشاد یأخذ الماء وجہ الارض صادق ہو کہ زمین کہیں سے کھلی نہ ہو تو یہ عمق شرط کثرت نہیں بلکہ وقت اغتراف شرط بقائے کثرت۔
اس توفیق رفیق کے مؤیدات اقول اولا خود یہی تبیین مبین تعلیل تبیین کہ اتنا عمق اس لئے رکھا گیا کہ پانی لیتے وقت زمین کھُل کر دو پانی نہ ہو جائیں کہ مساحت نہ رہے گی قلیل ہوجائیگا معلوم ہوا کہ تابقائے مساحت کثیر ہے تفریق مساحت تقلیل کرے گی۔
ثانیاً اگر کثرت فی نفسہٖ اس پر موقوف ہو تو یہ شرط بھی کام نہ دے گی اور وقت اغتراف وہی دقّت پیش آئے گی۔ شرط ہے تو ساری مساحت میں نہ کہ بعض میں۔ غیاثیہ میں ہے:

المختار ان لاینحسر بالاغتراف مطلقا غیر مقید بکونہ من اعمق المواضع ۱؎۔

مختار یہ ہے کہ چُلّو لینے سے زمین نیچے سے نہ کھُلے مطلقاً ا س میں زیادہ گہرا ہونے کی کوئی قید نہیں ہے۔ (ت(

 (۱؎ فتاوٰی غیاثیہ    باب المیاہ    مکتبہ اسلامیہ، کوئٹہ    ص۵)

اب کہ پانی لیا اور زمین کھلی تو نہیں مگر اُتنی جگہ صرف جو بھی عرض کا پانی رہ گیا تو اب کیا آبِ قلیل نہ ہوگیا کہ اتنی دیر ساری مساحت میں اُتنا عمق نہیں۔ ظاہر ہوا کہ یہ عمق مطلوب نہ تھا بلکہ وہی زمین کا کہیں سے کھُلا نہ ہونا کہ وقت اغتراف یہی باقی رہے گا نہ وہ عمق۔
ثالثاً اسی پر شاہد ہے سیدنا امام ابو یوسف رحمہ اللہ تعالٰی سے وہ روایت کہ بدائع وتبیین سے گزری کہ خود جاری پانی میں بھی اتنا عمق شرط فرماتے ہیں یہ ہرگز نفس جریان کی شرط نہیں ہوسکتا کون عاقل کہے گا کہ مینہ کا پانی جو چھت یا زمین پر بہ رہا ہے جاری نہ ہوگا جب تک چار پانچ انگل دَل نہ ہوجائے امام ابو یوسف کی شان اس سے ارفع واعلیٰ ہے وہ قطعاً عرفاً وشرعاً ہر طرح جاری ہے اگرچہ صرف جو بھر(عہ۱) دَل ہو لاجرم کوئی شبہ نہیں کہ یہ وقت اغتراف بقائے جریان کیلئے شرط فرمائی ہے کہ اگر پانی لیتے وقت زمین کھُل گئی دو پانی ہوگئے اور اس وقت جریان جاتا رہا کہ اُتنی دیر اُوپر کا پانی رک گیا اور نیچے کا مدد بالا سے منقطع ہوگیا،

 (عہ۱)بلکہ فتاوے امام قاضی خان میں ہے:

الجنب اذا قام فی المطر الشدید متجردا بعد ما تمضمض واستنشق حتی اغتسلت اعضاؤہ جاز لانہ جار
یعنی (ف۱) جنب اگر کُلی کرکے ناک میں پانی موضع فرض تک چڑھا کر زور کے مینہ میں ننگا کھڑا ہو کہ سارا بدن دُھل گیا غسل ہوگیا کہ مینہ جاری پانی ہے ظاہر ہے کہ مینہ کی دھاریں متفرق ہوتی ہیں اور اُن میں کوئی دھار آدھا انگل بھی دَل نہیں رکھتی بلکہ اکثر جَو بھر سے زیادہ نہیں ہوتا مگر وہ بلاخلاف جاری پانی ہے ۱۲ منہ غفرلہ (م(

اور ہم رسالہ رحب الساحۃ میں بیان کر چکے کہ جریان کیلئے مدد کا اشتراط بھی ایک قول مصح ہے امام ابن الہمام نے اس کو ترجیح دی اور یہی امام برہان الدین صاحبِ ہدایہ کی کتاب تجنیس اور امام حسام الدین کے واقعات سے مستفاد یہ روایت امام ابو یوسف اسی قول پر مبنی تو یہ شرط اس لئے فرمائی کہ پانی لیتے وقت بھی جاری رہے نہ کہ ہر جاری میں یہ عمق درکار یوں ہی یہاں نفس کثرت اس سے مشروط نہیں بلکہ وقت اغتراف کثیر رہنا وللہ الحمد۔
رابعاً اسی کے مؤید ہے وہ کہ ہمارے رسالہ رحب الساحۃ میں کتب کثیرہ جلیلہ معتمدہ سے منقول ہوا کہ بڑے تالاب کے بطن میں نجاستیں پڑی ہیں بارش کا پانی آیا اگر ان نجاستوں تک پہنچنے سے پہلے یہ پانی تالاب کے اندر دہ در دہ ہوگیا اُس کے بعد نجاستوں کی طرف بڑھ کر اُن سے ملا ناپاک نہ ہوا یوں سارا تالاب پاک رہے گا۔ ظاہر ہے کہ بڑھتے وقت ساری مساحت میں پانچ انگل دل ہونا ضرور نہیں بلکہ نادر ہے جس کا بیان اُسی رسالہ میں گزرا مگر اس کا لحاظ نہ فرمایا اور مطلقاً حکمِ طہارت دیا اس کا وہی مبنی ہے کہ فی نفسہٖ کثرت کے لئے دَل کی حاجت نہیں بالجملہ روشن ہوا کہ کثرت کیلئے صرف اس قدر درکار کہ مساحت بھر میں کوئی جگہ پانی سے کھلی نہ ہو یہی ظاہر الروایۃ وتصحیح اول ہے اسی بنا پر پانی لیتے وقت کثرت باقی رہنے کیلئے لازم کہ اُس سے زمین کھل نہ جائے ورنہ قلیل ہوجائے گایہی مطلب عامہ کتب وتصحیح دوم ہے۔
ثم اقول یہ توفیق انیق بعض فیصلے اور کرے گی۔
اوّل اغتراف(۱) مطلق رہے گا جس طرح متون وہدایہ وعامہ کتب میں ہے کہ پانی فی نفسہٖ ہر طرح کثیر ہے مقصود اُس وقت زمین کا بالفعل نہ کھُلنا ہے نہ کوئی صلاحیت عامہ تو چلّو ہو یا لپ جس طرح پانی لیا اُس سے نہ کھلنا چاہئے اگرچہ دوسری طرح انکشاف ہوسکے بلکہ ہاتھ کی بھی تخصیص نہیں برتن سے لیں خواہ کسی سے اُس وقت زمین کھُلے نہیں۔
دوم ساری(۲) مساحت میں اس عمق کی حاجت نہیں صرف وہیں کافی ہے جہاں سے پانی لیا گیا۔
سوم یہ شرط دہ در دہ میں فرمائی ہے پانی اگر(۳) اس درجہ کثیر ہے کہ جہاں سے لیا گیا اگر زمین کھُل بھی جائے تو ہر طرف کا ٹکڑہ دہ در دہ رہے تو کھُلنا مضر نہ ہوگا کہ اگرچہ دو پانی ہوگئے مگر دونوں کثیر ہی ہیں۔
چہارم مذہب معتمد یہ ہے کہ آب مستعمل طاہر ہے اور آبِ مطلق میں اُس کا اختلاط مانع طہارت نہیں جب تک مقدار میں اُس سے زائد نہ ہوجائے اور آب قلیل کتنا ہی کثیر ہو بدن محدث اُس میں پڑنے سے سب مستعمل ہوجاتا ہے مگر بضرورتِ اغتراف ہاتھ ڈالنا معاف ہے یہ سب مسائل ہمارے رسائل الطرس المعدل والنمیقۃ الانقی میں مبرہن ہوچکے تو وہ پانی جس میں سے وقتِ اغتراف زمین کھل کر اُس کے ٹکڑے دہ در دہ نہ رہیں اگر اس میں پہلے سے نجاست موجود تھی اس کھلنے سے ضرور ناپاک ہوجائیگا
یوں(عہ۱) ہی اگر ضرورت چُلّو کی تھی اور لپ سے لیا سب پانی مستعمل ہوجائیگا کہ دُوسرا بے دُھلا ہاتھ بے ضرورت پڑا عام ازیں کہ چلّو سے بھی زمین کھلتی یا نہیں اگر کہئے استعمال بعد انفصال ید ہوگا اور اس وقت اتصال آب ہو کر کثیر ہوجائیگا۔

 (عہ۱) اقول ظھر بھذا التحقیق ان مسألۃ الخانیۃ وغیرھا من الکتب المعتمدۃ ان خرج الماء من النقب وانبسط علی وجہ الجمد بقدر مالو رفع الماء بکفہ لاینحسر ماتحتہ من الجمد جاز فیہ الوضوء والا فلا اھ۔ نقلھا فی الغنیۃ بالمعنی فاقام مقام جواز الوضوء فیہ وعدمہ فسادہ بوقوع المفسد وعدمہ ولیس کذلک عند التحقیق فانہ اذا کان کثیرا لمساحۃ لایفسد بوقوع شیئ مالم یتغیر اوینحسر بوقوعہ فیبقی ماء ین قلیلین بخلاف الوضوء فیہ بغمس الاعضاء فانہ یفسد بہ مطلقا لان الفرض انہ ینحسر بالغرف فبالغمس اولی وبہ ظھر ان الاولی ترک النقل بالمعنی مطلقا فلربما یحصل بہ تغیر دقیق فی غایۃ الخفاء وباللّٰہ التوفیق اھ منہ غفرلہ۔ (م(
میں کہتا ہوں کہ ہماری اس تحقیق سے ظاہر ہوگیا کہ فتاوٰی خانیہ وغیرہ کتب معتبرہ میں جو یہ مسئلہ بیان کیا گیا ہے کہ اگر پانی سوراخ سے نکلا اور منجمد پانی پر اتنا پھیل گیا کہ اگر کوئی شخص ہاتھ سے پانی اٹھائے تو نیچے کا جامد پانی منکشف نہیں ہوتا اس صورت میں اس پانی میں وضو کرنا جائز ہے ورنہ اس سے وضو جائز نہیں (اھ) اس مسئلے کو غنیہ میں معنیً نقل کرتے ہوئے وضو کے جواز اور عدمِ جواز کی جگہ پلیدی کے واقع ہونے سے اس پانی کے پلید ہونے اور نہ ہونے کو رکھ دیا، حالانکہ تحقیق کی رُو سے اس طرح نہیں ہے، کیونکہ جب پانی کی پیمائش زیادہ ہو تو کسی چیز کے واقع ہونے سے وہ فاسد نہیں ہوگا جب تک اس میں تغیر نہ آئے یا پلیدی کے گرنے سے نیچے کی سطح منکشف نہ ہوجائے، اس صورت میں پانی دو تھوڑے حصّوں میں تقسیم ہوجائیگا برخلاف اس صورت کے کہ اس پانی میں اعضاء ڈبو کر وضو کیا جائے تو اس سے پانی مطلقاً فاسد ہوجائیگا کیونکہ فرض یہ کیا گیا ہے کہ چُلّو میں پانی لینے سے نیچے کی سطح منکشف ہوجاتی ہے تو ڈبونے سے بطریقِ اولیٰ منکشف ہوجائیگی، اس بیان سے واضح ہوگیا کہ بہتر یہ ہے کہ مسئلہ معنیً مطلقاً نقل نہ کیا جائے، ورنہ اس سے بہت ہی پوشیدہ اور باریک فرق پیدا ہوجائیگا، اللہ تعالٰی ہی توفیق عطا فرمانے والا ہے۔ (ت(

اقول انفصال سے استعمال کی بعدیت ذاتیہ ہے کہ وہ علت استعمال کا جزء اخیر ہے تو تخلف محال اور اتصالِ آب کی بعدیت زمانیہ ہے کہ جتنی جگہ کھلی تھی بعد انفصال ید حرکتِ آب سے بھرے گی اور حرکت تدریجیہ ہے تو بفور انفصال قبل اتصال حکم استعمال نازل ہوجائیگا فافہم اور اگر پہلے سے کوئی نجاست نہیں اور چلّو یا لپ حسبِ ضرورت لیا اور زمین کھل گئی مستعمل نہ ہوگا اگرچہ وسط حوض میں جاکر پانی لیا ہو کہ اگرچہ زمین کھُلنے سے پانی قلیل ہوگیا مگر ضرورت اغتراف تو مٹکے میں بھی معاف ہے جبکہ کوئی چھوٹا برتن پانی لینے کیلئے نہ ہو اور اس وقت اگرچہ اس کے پاؤں اُس قلیل پانی میں ہیں مگر اندر جاتے ہوئے دُھل چکے ہیں ہاں اُس زمین کے کھُلتے وقت اسے حدث واقع ہوتو ضرور پاؤں کی وجہ سے سارا پانی مستعمل ہوجائیگا ان وجوہ کی نظر سے وہ شرط کی گئی تو ظاہر الروایۃ اور یہ قول مفتی بہ دونوں متوافق اور باہم اصل وفرع ہیں وللہ الحمد۔

ھذا کلہ ماظھر لکثیرا لسیاٰت وبہ تجتمع الکلمات، وتندفع الشبھات، والحمدللّٰہ واھب المرادات، وصلی اللّٰہ تعالٰی وسلم وبارک علی مصحح الحسنات، مقیل العثرات، والہ وصحبہ الاکارم السادات، وابنہ وحزبہ الاجلۃ الاثبات،وعلینا معھم، وبھم ولھم، الی یوم یقوم حبیبنا فیہ بالشفاعات، علیہ وعلیھم الصلوات الزاکیات، والتسلیمات النامیات، والتحیات المبارکات، اٰمین، والحمدللّٰہ رب العٰلمین، ومع ذلک لااقول ان الحکم ھذا انما اقول ھذا ماظھر لی فان کان صوابا فمن الوھاب الکریم ولہ الحمد وان کان خطأ فمنی ومن الشیطان وانا ابرؤ الی اللّٰہ منہ والحمد للّٰہ رب العٰلمین واللّٰہ تعالی اعلم۔

یہ تمام وہ ہے جو اس کثیر المعاصی پر ظاہر ہوا اور اس سے ائمہ کے ارشادات جمع ہوجاتے ہیں اور شبہات دفع ہوجاتے ہیں، تمام تعریفیں مرادیں دینے والے اللہ تعالٰی کیلئے، اور اللہ تعالٰی رحمتیں نازل فرمائے نیکیوں کے صحیح کرنے والے اور غلطیوں کو معاف فرمانے والے پر اور آپ کی آل اور آپ کے صحابہ ساداتِ کرام پر، اور آپ کے بیٹے اور جلیل القدر راسخ علم والی جماعت پر اور ان کے ساتھ ہم پر، ان کی بدولت اور ان کے وسیلے سے اس دن تک جب ہمارے حبیب شفاعتوں کیلئے کھڑے ہوں گے، ان پر اور ان کے تمام متبعین پر پاکیزہ رحمتیں، نشوونما پانے والے سلام اور بابرکت تحفے، آمین، سب تعریفیں اللہ رب العٰلمین کیلئے، اس کے باوجود میں یہ نہیں کہتا کہ حکم یہ ہے، میں تو صرف اتنا کہتا ہوں کہ حکم یہ ہے جو مجھے ظاہر ہوا، اگر درست ہے تو اللہ تعالٰی وہابِ کریم کی طرف سے اور اس کے لیےحمد ہے، اور اگر خطا ہے تو میری طرف سے اور شیطان سے ہے، میں اللہ تعالٰی کی بارگاہ میں شیطان سے برأت کا اظہار کرتا ہوں، تمام تعریفیں اللہ رب العٰلمین کیلئے، اللہ بہتر جانتا ہے۔

بشارۃ ماتقدم من قول البحران العمل والفتوی ابدا بقول الامام الاعظم رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ ۔وان افتی المشائخ بخلافہ اقرہ الشامی فی مواضع ونازعہ فی مواضع وکنت اردت ان اذکر ھذا البحث ثمہ ثم رأیت ان الکلام یطول، ویقطع بالاجنبی الفصل الطویل، فطویتہ ثمہ، وافرزتہ بحمداللّٰہ تعالٰی رسالۃ مھمۃ، رأیت الحاقھا ھھنا اتماما للکلام، واسعافا با لمرام، وھاھی ذہ والحمدللّٰہ ولی الانعام۔

بشارت: اس سے پہلے بحر کا جو قول بیان ہوا کہ عمل اور فتوٰی ہمیشہ امام اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ کے قول پر ہے اگرچہ مشائخ اس کے خلاف پر فتوٰی دیں، علامہ شامی نے متعدد مقامات میں اس قول کی تائید کی اور کئی جگہوں میں اس سے اختلاف کیا، میرا ارادہ تھا کہ اس بحث کو اس جگہ ذکر کرتا، پھر خیال ہوا کہ کلام طویل ہوجائیگا، اور غیر متعلق گفتگو سے فاصلہ طویل ہوجائیگا، لہٰذا اس جگہ میں نے گفتگو سمیٹ لی اور بحمداللہ تعالٰی اسے اہم رسالے کی صورت میں الگ کردیا، گفتگو کی تکمیل اور مقصد کے پورا کرنے کیلئے اس جگہ اس کے لاحق کرنے کا فیصلہ کیا، اور وہ رسالہ یہ ہے، تمام تعریفیں اللہ تعالٰی مالک انعام کیلئے۔ (ت(
(نوٹ: اصل کتاب میں یہاں رسالہ ''اجلی الاعلام'' تھا جسے رسم المفتی کے طور پر جلد اول میں شامل کردیا گیا ہے(

فتاوی رضویہ ،ج۲،سوال نمبر ۵۴
مفتی :امام احمد رضا خان بریلوی


 

No comments:

Post a Comment

Join us on

Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...