Monday, June 20, 2016

ممتاز قادری کے چہلم اورتحریک لبیک یارسول اللہ کےدھرنے کا آنکھوں دیکھا حال





یہ مضمون میں نے ممتاز قادری کے چہلم کے بعد لکھا تھا ،جب تحریک لبیک یا رسول اللہ نے اسلام آباد کے ڈی چوک میں دھرنا دیا تھا ۔
آج 28مارچ 2016 ہے
کل ممتاز حسین قادری صاحب کا چہلم تھا ،جو "تحریک لبیک یا رسول "کے زیر اہتمام تھا ،اسکی قیادت کرنےو الے مشاہیر یہ تھے ،ڈاکٹر آصف اشرف جلالی ،خادم حسین رضوی ،پیر افضل قادری ،ثروت اعجاز قادری ،سارا انتطام ان ہی کے پاس تھا ۔
مجھے امید نہیں تھی ،کہ چہلم پر لیاقت باغ بھی فل ہوگا ،کیونکہ اس چہلم پر مفتی منیب الرحمن صاحب ،رٰیاض حسین شاہ صاحب ، پیر حسین الدین شاہ صاحب ، عید گاہ شریف والے پیر ، گولڑہ شریف والے پیر ،اور بھی بے شمار لوگوں نے نہیں آنا تھا ۔
مگر مجھے وہاں پہنچ کر حیرت ہوئی ،کہ صبح نو بجنے سے پہلے ہی ستر فیصد لیاقت باغ فل تھا ،بہت خوب نظام چل رہا تھا ۔
مگر بہت سی کمیاں بھی تھیں ،تھوڈی تھوڈی دیر بعد ٹھنڈے ٹھنڈے تقریر کرنے والے مجمع کو ٹھنڈا کر دیتے تھے ،پھر اس پروگرام میں جوشیلے ترانے نہیں چلاجارہے تھے ،جس سے عوام کا جوش بڑھتا (یاد رکھیے ،میوزک والے ترانے جائز نہیں ،البتہ ایسے ترانے جن سے جوش و خروش میں اضافہ ہو ،ایسے موقعوں پر چلانے چاہیے ،حضرت عمر رضی اللہ عنہ شعراء و خطباء کے ذریعے مجاہدین کا خون گرماتے تھے ) جس صاحب نے مائیک سمنبھالا تھا ،وہ اس شہر کے مزاج سے واقف نہیں تھے ،خیر پھر بھی مجمع بڑا پرجوش تھا ۔
جلالی صاحب گیارہ بجے آئے اور اپنے مطالبات پیش کیے ،اور حکومت سے کہا ،آپ کے پاس ساڑھے بارہ بجے تک کا ٹائم ہے ،ورنہ ہم پارلیمنٹ کی طرف مارچ کریں گے ۔
مطالبا ت کا خلاصہ یہ ہے
آسیہ معلونہ اور دیگر گستاخان رسول کو فورا پھانسی پر لٹکایا جائے
قانون تحفظ ناموس رسالت میں کسی قسم کی ترمیم نہ کی جائے
مذہبی کتابوں سے پابندی ہٹائی جائے
نظام مصطفی کو نافذ کیا جائے
ممتاز قادری کو قومی سطح پر ہیرو تسلیم کیا جائے
ممتاز قادری کے جیل کے کمرے کو قومی ورثہ قراردیا جائے
میڈیا والوں کو ممتاز قادری کے ساتھ شہید لکھنے اور بولنے کا پابند بنا یا جائے
حکومت نے ایک مطالبہ بھی نہ مانا ،اور یہ چہلم کا اجتماع بھی کسی ٹی وی چینل پر نہیں دکھایاگیا ،ہم نےوقت داخل ہوتے ہی ظہر کی نماز پڑھ لی ، ایک بج کر پندرہ منٹ پرہم  یہاں سے چل پڑے ،ہم مری روڈ پر سینٹر ہسپتال سے بھی آگے نکل آئے ،مگر آخری حصہ اب بھی لیاقت باغ میں تھا ،اس کی چند ویڈیوز بھی بنی ہیں ،جو انٹرنیٹ پر موجود ہیں ،دیکھ کر دل خوش ہو جاتا ہے ،ہم بالکل سکون سے پیدل چل رہے تھے ،بہت ہی بڑا قافلہ تھا ،اگر اس قافلے کو کوئی بہت ہی کم بھی کہے گا ،تو کم از کم لاکھ ضرور کہے گا ۔
ہم فیض آباد سے کچھ پیچھے ،گلشن دادن پہنچے ،تو پولیس نے شدید آنسو گیس پھینکنی شروع کر دی،اتنی زیادہ شیلنگ تھی ،کہ لوگ بے ہوش ہونے کے قریب تھی ،یہ شیلنگ اس وقت کی گئی ،جب آدھا قافلہ گزر چکا تھا ،اس کا مقصد شاید یہ تھا کہ آدھا قافلہ جو باقی پیچھے رہ گیا ہے ،اسے آگے نہ جانے دیا جائے ،مجبورا وہ وہی سے لوٹ جائےگا ،لیکن لوگوں نے بڑی ہمت کی اور سنی تحریک والوں نے بھی اپنا کام دکھایا ،بالاخر لوگ بچتے ،بچتے فیض آباد پہنچ ہی گئے ،
جب ہم فیض آباد پہنچے ،تو پورے راستے کو کینٹینر زلگاکر بند کر دیا گیا تھا ،اور ان کینٹینرز کے اوپر بڑی تعداد میں مسلح پولیس کھڑی تھی ،سب نے سر پر ہیلمنٹ اور ہاتھ میں لاٹھی اور ڈھال اٹھا رکھی تھی ،عوام کا سمندر جب فیض آباد پہنچا تو لوگوں نے کہا ،راستہ چھوڈ دو،مگر پولیس والے تو اپنی مرضی سے پیچھے نہیں جاسکتےتھے ،ان دنو ں فیض آباد کی روڈ کے دونوں طرف کھدائی ہوئی ہوئی تھی ،جس سے بہت سے پتھر وہاں پڑے ہوئے تھے ،عوام کو روکنے کے باوجود عوام  نے پولیس والوں کو اتنے پتھر مارے ،کہ اگر ان کے پاس ہیلمنٹ اور ڈھال نہ ہوتی ،تو ان کے جسم کا کوئی حصہ ایسا نہ ہوتا ،جس پر پتھر نہ لگاہوتا ،عوام نے ایسی پتھروں کی برسات کی ،کہ پولیس والے اپنا رخ بھی نہ بدل سکے ،اور الٹے پائوں کینٹینروں سے چھلانگیں لگا کر بھاگ گئے ،رینجرز بھی ان کےساتھ ہی غائب ہو گئی ،عوام کی اتنی بڑی تعداد کے سامنے کھڑا ہونا بے وقوفی ہی تھی ،عوام نے ہاتھوں کے ذور سے کینٹینروں کو ہٹا دیا ،پھر وہاں کی کوئی چیز نہ چھوڈی ،جذباتی لوگوں نے سائن بورڈ ،رینجرز کی چوکی ،وغیرہ کو بالکل توڑ پھوڈ دیا ،
میں فیض آباد میں اسی جگہ بیٹھ گیا ،تاکہ عوام کی تعداد کا ٹھیک سے اندازہ لگاسکوں ،میں وہی بیٹھا رہا ،حتی کہ اگلا مجمع چلتے چلتے ،ہائی وے اشارہ والے سٹاپ پر پہنچ گیا ،(آج کل وہاں اشارہ ختم کر دیا گیا ہے ،اور ایک پل بنا دیا ہے )اس روڈ کو ایکسپریس وے کہتے ہیں ،یہ ڈبل روڈ ہے ،اور اس میں ایک وقت میں بارہ گاڑیاں اکھٹی باآسانی گزر جاتی ہیں ،اس کے درمیان میں اور سائیڈوں پرگھاس ہے ،اکثر لوگ تھکن کی وجہ سے روڈ کے بجائے گھا س پر چل رہے تھے ،ابھی بھی عوام کا آخری حصہ مری روڈ پر ہی تھا ،ہم چلتے چلتے مغرب کے وقت زیرو پوائنٹ پہنچے ،وہاں میں نے الصدیق مسجد ،ٹی اینڈ ٹی کالونی میں نماز پڑھی ،پھر موبائیل پر دوست سے پوچھا ،تو اس نے بتایا ہم ڈی چوک (پارلیمنٹ کے سامنے)پہنچ چکے ہیں ،میں بھی چل پڑا اور پارلیمنٹ کی روڈ پر پہنچ گیا ،یہاں پمز ہسپتال سے بھی پیچھے تک لوگوں کی قطاریں تھیں ،اسوقت یہاں اندھیرا تھا ،شائید حکومت کے حکم پر یہاں کی لائٹیں بند کی گئی تھی ،شاید اس کی وجہ یہ ہو،کہ یہ لوگ ڈرون کیمرے کے ذریعے ویڈیو نہ بنا سکیں ،کل لوگوں کو یا میڈیا کو اپنے لوگوں کی تعداد نہ دکھا سکیں ،
یہاں پولیس بہت زیادہ آنسو گیس کے شیل فائر کر رہی تھی ،جب آنسو گیس گرتی تو لوگ پیچھے بھاگتے ،مگر دوسری طرف سے پولیس کی طرف بڑھتے ،میں باربار لوگوں سے پوچھ رہا تھا ،قائدین والا ٹرالہ کدھر ہے ،تو سب لوگ کہتے وہ تو سب سے آگے ہیں ،میں نے اپنی قمیص کا کونہ گیلا کیا ،منہ پر رکھا اور ڈی چوک کے بالکل پاس پہنچا ،تو قائد ین ایک ایسے ٹرالے پر بیٹھے تھے ،جس پر چھت تھی ،نہ چار دیواری ،یہ ٹرالہ اس جگہ کھڑا تھا ،جہاں سب سے زیادہ آنسو گیس کے شیل گرتے تھے ،میں نے ان کی حالت دیکھی ،تو میری آنکھوں میں آنسو آگئے ،میں دل میں انکے لیے دعائیں کرنے لگا ۔
میرا دل کہہ رہا تھا ،یہ لوگ واقعی قربانی دینے کیلئے آئے ہیں ،ان کو اپنی جان کی بھی کوئی پرواہ نہیں ہے ،تب ہی تو یہ اس اندھیرے میں سب سے آگے کھڑے ہیں ،کوئی اندھی گولی آئے ،اور ان کا کام تمام کر جائے ،ان میں سے کسی کے بھی منہ پر کوئی ماسک وغیرہ نہیں تھا ،بس سب کے پاس گیلے کپڑے تھے،جو بار بار منہ اور آنکھوں پر رکھتے تھے ،ان میں سے ایک بھی شخص ایک لمحے کیلئے بھی ٹرالے سے پیچھے بھاگنے کیلئے ٹرالے سے نہیں اترا،اللہ اکبر
انکو دیکھ کر میرے جذبے اور بھی جوان ہو گئے ،میں ڈی چوک کی طرف مزید آگے چل پڑا ،یہاں جگہ جگہ لوگوں نےآگ جلا رکھی تھی ،کیونکہ آگ کے دھوئیںسے آنسو گیس کا اثر کم ہو جاتا ہے ،ڈی چوک کے سامنے بڑے بڑے کینٹینر اور کانٹے دار تارییں ،اور بڑی بڑی وزنی سیمنٹ کی بنی رکاوٹیں پڑی ہوئی تھی ،مگر سینکڑوں شیر ان رکاوٹوں کو عبور کر کے پولیس اور رینجرز کو پسپا کر رہے تھے ،حالانکہ پولیس مسلسل بہت تیزی سے ہر طرف آنسو گیس کے شیل فائر کر رہی تھی ،مگر ان کے پاس ایمان کی طاقت تھی ،اور انھیں اپنے قائدین پر مکمل اعتماد تھا ۔
جب پولیس نے بہت زیادہ شیلنگ کی ،اور ربڑی کی گولیاں چلانا شروع کر دیں ،تو جلالی صاحب نے مائیک پکڑ کر کہا ،میں اشرف جلالی بول رہا ہوں ،ہم سب مر جائیں گے ،مگر کسی قیمت پر رکیں گے نہیں ،بلکہ پارلیمنٹ تک ہر قیمت پر پہنچے گے ۔
عوام کی بڑی تعداد ڈی چوک کراس کر گئی ،اور یہ مسلمان ایسے بہادر اور چالاک تھے ،کہ خدا جانے انھوں نے کیسےانھوں نے خالوں ہاتھوں سے رینجرز کے چھ لوگ پکڑ لیے ۔بالاخر پولیس نے ان شیروں کے سامنے شکست تسلیم کی ،اور ہم سب پارلیمنٹ کی دیوار کے پاس پہنچ گئے ۔

اس وقت رات کے دس یا گیارہ بج چکے تھے ،ساری عوام روڈ پر ہی بیٹھ گئی ،اور قائدین نےختم پڑھنےکےبعد  ممتاز قادری کے چہلم کی دعا کی ،سب لوگوں نے قائدین کا خطاب توجہ سے سنا ،اندازا لیاقت باغ سے ڈی چوک کا سفر بائیس کلومیٹر ہے ،جو ان مسلمانوں نے پیدل ہی طے کیا ۔
ساری رات یہ عوام روڈ پر بیٹھی رہی ،بہت سے لوگ روڈ پر ہی سو گئے ،رات تین بجے ان کیلئے کھانا لایا گیا ،تھکن ،ٹھنڈ ،بھوک ،پیاس کے باوجود ان کے جذبے ابھی تک جوان تھے ۔
آج تیس مارچ 2016 ہے ،کل پوری رات میں نے دھرنے میں جاگ کر گزاری ،وہاں اکثر لوگ ننگی سڑک پر بغیر چادر کے سوئے ہوئے تھے ،کچھ لوگ ایک ہی چادر میں تین تین سوئے ہوئے تھے ،ہم پانچ لڑکے ایک ہی چادر میں ساری رات بیٹھے ہی رہے ،لوگ سوئے ہوئے ہوتے تھے ،کسی طرف سے اچانک آواز آتی تھی لمبی سی "لبیک "سب فورا اٹھ کر کھڑے ہو جاتے اور کہتے ،یارسول اللہ لبیک ،لبیک یارسول اللہ لبیک ،لبیک لبیک یا رسول اللہ لبیک ۔
آج دھرنے کا چوتھا روز ہے ،لاہور ،کراچی اور دیگر چھوٹے شہروں میں بھی ہزاروں اہلسنت علماء نے بڑی بڑی سڑکیں بلاک کر کے دھرنے دے دیے ہیں ۔
            اسلام آباد دھرنے والوں پر حکومت نے بہت سے الزامات لگائے ہیں
پہلا الزام :انھوں نے کینٹینرز اور میٹرو بس سٹاپ کو جلایا ،یہ الزام میری سمجھ سے باہر ہے ،کیونکہ کینٹینر ز اور میٹرو بس سٹاپ کو آگ ماچس کی تیلی سے لگ ہی نہیں سکتی ،بلکہ اس کیلئے خاص کیمیکل کی ضرورت ہوتی ہے ،یہ لوگ کیمیکل اپنے ساتھ لائے ہوں گے ،جو اپنے ساتھ روٹی ،بستر ،تمبو ،پانی ،اسپیکر وغیرہ کچھ بھی ساتھ نہیں لائے ۔
ایک توجہ طلب بات :
تین کینٹینرز کووہاں آگ لگائی گئی تھی ،دو کینٹینزر کو سیٹ والی جگہ سے آگ لگائی گئی ،جس سے ان کا سارا فرنٹ جل گیا ،ان کینٹینروں کے اندر کچھ بھی نہیں تھا ،یہ دونوں خالی کینٹینرز تھے ،اسی لیے جلانے والے نے ان کا پچھلا حصہ نہیں جلایا ،تیسرا کینٹیزپارلیمنٹ والی روڈ سے بہت دور سے نظر آتا تھا ،اس کو آگ فرنٹ سے نہیں لگائی گئی ،بلکہ اس کے در میان والے ٹائروں پر آگ لگائی گئی ،یہ پچھلے چار روز سے جل رہا ہے ،پارلیمنٹ والی سیدھی روڈ کے بہت دور سے ہی اس کا دھواں نظر آتا ہے،میں بہت حیران تھا ،آخر یہ کینٹینر پچھلے چار دن سے کیسے جل رہا ہے ،میں نے کینٹنر کے پاس بیٹھ کر نیچے سے اسے دیکھا ،تو وہ سارا کینٹینر لکڑی کی شیٹوں سے بھرا ہوا تھا ۔
ان کینٹینرز کو آگ اسی نے لگائی ،جس کو معلوم تھا ،کہ کس کینٹینر کو کہاں سے آگ لگانی ہے ،اور کس کینٹینر میں کیا ہے ؟
اسلام آباد دھرنے میں اس وقت بھی تقریبا چار سے پانچ ہزار آدمی موجود ہیں ،میڈیا والے کہتے ہیں ،بارہ سو لوگ ہیں ،مگر ہزاروں پولیس ،رینجرز اور ایف سی کے سپائیوں کو دوسری طرف کھڑا کیا گیا ہے ۔
یہ تعداد بھی اب کم ہوتی جارہی ہے ،کیونکہ سارے میڈیا پر ایک بھی خبر بھی ہمارے حق میں نہیں چل رہی ،بلکہ سب کے سب اینکرز سوائے چند ایک کے ہمارے خلاف ہی بول رہے ہیں ،ساتھ میڈیا خوف پھیلا رہا ہے ،افوائیں پھیلا رہا ہے ،دوسری طرف اسلام آباد کے ریڈزون یعنی دھرنے کی طرف جانے والے تمام راستے پولیس کی زیر نگرانی ہیں ،ہزاروں لوگ بلاوجہ ہی گرفتار کر لیے گئے ،کسی کو بھی دھر نے کی طرف جانے کی اجازت نہیں ،میں خود گندے نالے ،اور جنگل سے گزر کر ریڈزون پہنچا تھا ۔
سارا  میڈیا یہ کہہ رہا ہے ،اسلام آباد پر یلغار ہو گئی ،جس کا دل چاہتا ہے ،اسلام آباد پر یلغار کر دیتا ہے ،حالانکہ یہاں درجنوں دھرنے پہلے ہو چکے ہیں ،مگر ہمیشہ میڈیا کو یہی کہتے سنا ہے ،یہ ان کا جمہوری حق ہے ،یہی جمہوریت کا حسن ہے ،مگر ان کی دشمنی ہے تو صرف داڑھی اور کلمہ لا الہ الا اللہ سے ہے ،لہذا سب ہی ان کے خلاف بول رہے ہیں ۔
کاش ہمارے تمام اہلسنت اس دھرنے میں ہمارا ساتھ دیتے ،تو کیا اچھا ہوتا ۔
میں آپ کو بتا تا ہوں کہ بریلوی اس وقت پاکستان میں کیا کر سکتے ہیں ،پاکستان میں اس وقت پولیس اور رینجرز کی کل تعداد تین لاکھ ستر ہزار ہے ،جبکہ آرمی کی کل تعداد ساتھ لاکھ ہے ،یعنی ٹوٹل گیارہ لاکھ ،
جبکہ اہلسنت کی مساجد کی تعداد پاکستان میں لاکھوں میں ہے ،اور پاکستان میں سنیوں کی تعداد تقریبا چودہ سے پندرہ کروڑ کے درمیان ہے ،اگر جمعہ کے دن ہر اہلسنت کی مسجد سے جلوس نکلا ،تو ہر جلوس کو روکنے کیلئے حکومت کے پاس صرف دو پولیس والے ہوں گے ،مگر ہمارے بہت سے علماء نے مختلف طریقوں سے ساتھ دیا ،خصوصا جو مفتی منیب الرحمن کی پریس کانفرس تھی ،اس نے تو کمال ہی کر دیا ،انھوں نے کہا تھا ،دھرنے والوں کے ساتھ کچھ بھی غلط کیا گیا ،تو تمام اہلسنت کا لاتعلق رہنا نا ممکن ہو گا ،حکومت ہر صورت میں خوش اسلوبی سے اس معاملے کو حل کرے ،یاد رہے مفتی منیب الرحمن صاحب تنطیم المدارس اہلسنت پاکستان کے چیرمین ہیں ،ان کی بات بڑا وزن رکھتی ہے ۔



 

Tages:
Tehreek labaik ya Rasool Allah ,islamabad dharna ,Suni Tehreek ,allama Khadim hussain rizvi ,Dr ashraf asif jalali ,mumtaz qadri ka chehlam ,mumtaz qadri ki phansi ,salman taseer,Governer punjab ,Mumtaz Qadri ,Suni Tehreek sarwat ejaz qadri ,Peer Afzal Qadri ,islamabad Red ZOne ,islamabad D Chowk ,Islamabad Red Zone Dharna ,Tehreek labaik ya Rasool Allah ,Masajid ,barelvi ,suni ,barelvi ,barelvi ,police ,army ,islamabad protest ,islamabad Ehtejaj ,islamabad protest of Tehreek labaik ya Rasool Allah ,Tehreek labaik ya Rasool Allah ,islamabad dharna ,Suni Tehreek ,allama Khadim hussain rizvi ,Dr ashraf asif jalali ,mumtaz qadri ka chehlam ,mumtaz qadri ki phansi ,salman taseer,Governer punjab ,Mumtaz Qadri ,Suni Tehreek sarwat ejaz qadri ,Peer Afzal Qadri ,islamabad Red ZOne ,islamabad D Chowk ,Islamabad Red Zone Dharna ,Tehreek labaik ya Rasool Allah ,Masajid ,barelvi ,suni ,barelvi ,barelvi ,police ,army ,islamabad protest ,islamabad Ehtejaj ,islamabad protest of Tehreek labaik ya Rasool Allah ,Tehreek labaik ya Rasool Allah ,islamabad dharna ,Suni Tehreek ,allama Khadim hussain rizvi ,Dr ashraf asif jalali ,mumtaz qadri ka chehlam ,mumtaz qadri ki phansi ,salman taseer,Governer punjab ,Mumtaz Qadri ,Suni Tehreek sarwat ejaz qadri ,Peer Afzal Qadri ,islamabad Red ZOne ,islamabad D Chowk ,Islamabad Red Zone Dharna ,Tehreek labaik ya Rasool Allah ,Masajid ,barelvi ,suni ,barelvi ,barelvi ,police ,army ,islamabad protest ,islamabad Ehtejaj ,islamabad protest of Tehreek labaik ya Rasool Allah ,

No comments:

Post a Comment

Join us on

Must click on Like Button

Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...