Sunday, June 19, 2016

ممتاز قادری کی پھانسی اور جنازے کا آنکھوں دیکھا حال Mumtaz Qadri ko phansi or Mumtaz Qadri ka janaza






بسم اللہ الرحمن الرحیم
ۤآج یکم مارچ 2016ہے ،کل 29فروری 2016 کو صبح چار بجے خفیہ طور پر ممتاز قادری کو پھانسی دے دی گئی تھی ،(یاد رہے کہ عموما فروری 28 تاریخ پر ختم ہو جاتا ہے ،لیکن ہر چار سال بعد فروری 29 کا ہوتا ہے ،جس کی وجہ امام احمد رضا خان بریلوی نے فتاوی رضویہ میں بیان فرمائی ہے )ممتاز قادری کی پھانسی کے بعد 29فروری کوفیض آباد بلاگ کر دیا گیا ،بلاک کرنے والے اور وہاں موجود لوگوں کی کل تعداد زیادہ سے زیادہ 2000ہوگی ،اور اگر کم از کم کہاجائے تو 1000،اور نوے فیصد لوگ مدارس والے تھے ،اسلام آباد کے مدرسہ جامعہ غوثیہ جلالیہ والے تھے ،جس مدرسے کو ظفر اقبال جلالی صاحب چلاتے ہیں ،اور ایک دو اور مدرسوں کے لوگ تھے ،عام لوگ ،سکول ،کالج ،یونیورسٹی والے لوگ ہمارے ساتھ نہیں تھے ۔

میں اور میرا دوست رئیس آٹھ یا ساڑھے آٹھ بجے وہاں پہنچ گئے تھے ،یہاں جب ہم نے یہ حالت دیکھی توہم پید ل ہی فیض آباد سے صادق آباد ممتاز قادری صاحب کے گھر پہنچ گئے ،وہاں انکے چہرے کی زیارت کی،ماشاء اللہ وہ بالکل سوئے ہوئے لگ رہے تھے ،ان کے سر پر سبز عمامہ اور اس کے اوپر نعلین پاک کا بیج لگا ہوا تھا ،معلوم نہیں کہ یہ دعوت اسلامی والوں نے خود ہی ان کے سر پر پہنا دیا ،یا یہ ان کی اپنی خواہش تھی ،زیادہ امید یہ ہے کہ یہ انکی اپنی مرضی ہو گی ،کیو نکہ پھانسی سے ایک دن پہلے انھوں نے خود جیل کے کمرے میں سبزعمامہ پہن کر دو ڈھائی گھنٹے نعتیں پڑھی تھی ۔
ممتاز قادری کے گھر پر بہت رش تھا ،ہمیں بڑی مشکل سے زیارت کا موقع ملا،وہاں اعلان ہو رہا تھا ،فیض آباد میں مفتی لیاقت رضوی صاحب کی قیادت میں اور چاندنی چوک میں تنظیم علماء ٖضیاء العلوم کے زیر اہتمام احتجاجی مظاہرے ہو رہے ہیں ،ان میں بھی ضرورشرکت کریں ،یہ اعلان سن کر میرا دل بہت دکھا ،میرے دل میں آیا کہ یہ آج بھی متحد نہیں ہوئے ،بلکہ اپنے اپنے نام کیلئے الگ الگ مظاہرے کر رہے ہیں ،(حالانکہ یہ صرف جامعہ رضویہ والوں کا نام لے رہے تھے ،باقی کسی کا نہیں ،کیونک لیاقت صاحب بھی جامعہ رضوی کے فارغ ہیں )۔

ہم ممتاز قادری صاحب کے گھر سے نکل کر رکشے میں بیٹھے اور چاندی چوک پہنچے ،مگر یہاں اسوقت کوئی مظاہرہ نہیں ہو رہا تھا ،ہم سمجھے جامعہ رضویہ ،راولپنڈی والے فیض آباد پہنچ گئے ہوں گے ،ہم پیدل ہی چلتے چلتے فیض آباد پہنچ گئے ،مگر یہاں صرف ان کے چند لوگ تھے ،اس وقت بھی ان کی تعداد زیادہ سے زیادہ پندرہ سو ہوگی،یہ بھی تین ٹولیوں میں تھے ،ایک ٹولی فیض آباد کے پل کے دائیں طرف ایکسپریس وے پر ،دوسری ٹولی جو ٖضیاء العلوم والوں کی تھی ،وہ پل کے نیچے چھائوں میں دھرنا دے رہے تھے ،باقی سارے لوگ فیض آباد کے پل کے اوپر چاروں طرف پھیلے ہوئے ادھر اُدھر دیکھ رہے تھے ،قائدین میں سے کوئی بھی اس وقت یہاں نہیں تھا ،صبح لیاقت رضوی صاحب اور ظفر اقبال جلالی صاحب تھے ،اور کچھ لوگ سنی تحریک کے تھے ،جن کے نام سے میں واقف نہیں ہوں  ۔

میں کافی دیر تک یہاں رہا ،شاید قائدین میں سے کوئی آئے ،پھر میں نے مختلف لوگوں سے پوچھنا شروع کیا ،تو لوگوں نے کہا وہ پلینگ کر رہے ہیں ،پھر متحد ہو کر  بڑا احتجاج کریں گے ۔

میں سوچ رہا تھا ،میڈیا نے تو آگ کی طرح اس خبر کو پھیلادیا ہوگا ،کیونکہ ہمارے ملک کا میڈیا آذاد ہے ،وہ حق بات کو نہیں چھپاتا ،مگر گھر جاکر دیکھا ،تو کچھ بھی نہیں دکھایا جا رہا تھا ،میں سوچ رہا تھا ،کہاں گئے آزادی صحافت کے دعوی  پھر مجھے گھر چین نہ آیا تو میں دوبارہ چار بجے فیض آباد پہنچ گیا ،یہاں دیکھا تو کوئی شخص بھی نہیں تھا ،جو مظاہرہ کر رہا ہو،مجھےاتنا دکھ ہوا کہ ممتاز قادری کو پھانسی دی گئی ،وہ بھی اچانک بغیر اطلاع کے ،لیکن اتنا مختصر سا مظاہرہ وہ بھی چاربجے ختم ۔
میں اسکی وجہ سوچتا سوچتا ،گاڑی میں بیٹھا اور مدرسے چلا گیا ،مدرسے پہنچ کر کمپیوٹر لیب میں گیا ،اور انٹرنیٹ پر سرچ کیا ،تو دیکھا کہ لاہور میں شاہدرہ چوک پر ڈاکٹر آصف اشرف جلالی صاحب اور خادم حسین رضوی صاحب کی قیادت میں بہت بڑا مظاہرہ ہو رہا ہے ،جو غالبا صبح چار بجے ہی سے جاری تھا ،کمال کی بات یہ کہ قائدین سب سے پہلے مظاہرے میں پہنچ گئے تھے ،اور کراچی میں تو بہت ہی بڑا مظاہرہ ہوا ،جو رات گئے تک جاری رہا ،یہ دیکھ کر آنکھیں ٹھنڈی ہو گئی ،اس میں انسانوں کا سمند ر تھا ،ایک ویڈیو دیکھی ،ان میں دو شخصیات نظر آئی جنھیں میں جانتا تھا ،سید مظفر حسین شاہ صاحب اور علامہ مفتی محمد لیاقت الازھری صاحب یقینا اس میں سنی تحریک اور دیگر اہلسنت کی جماعتیں اور انکے قائدین بھی ضرور شریک ہوئے ہوں گے ۔
خیبر پختون خواں میں بھی ایک نوجوان عالم ڈاکٹر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔حبیبی کی قیادت میں بہت بڑا مظاہرہ ہوا تھا ،یہاں تو میڈیا والے بھی موجود تھے ،ان کا جذبہ ایسا زبر دست تھا ،کہ ممتاز قادری کی خفیہ میٹنگ میں جب انھوں نے گفتگو کی تھی ،تو اسکے بعد میں نے اپنی خوشی سے اکیلے میں ان کے ہاتھ بھی چومے ۔
یہ تو ساری کل کی بات تھی ،آج یکم مارچ 2016 ہے ،دن 2 بجے ممتاز قادری کا جنازہ تھا ،میں اور میرے دوست رئیس نے کل ہی منصوبہ بنا لیا تھا ،کہ صبح کی نماز پڑھ کر ہی لیاقت باغ نکل جائیں گے ،اور دیکھ بھی لیں گے ،کہ ممتاز قادر ی کے جنازے اور احتجاجی مظاہرے کیلئے کیا کیا تیاریاں ہو چکی ہیں ،صبح نماز فجر کے بعد کچھ دیر درود شریف پڑھا ،پھر سورۃ یس کی تلاوت کی،جو ہمارے مدرسے کا معمول تھا ،پھر میں کمپیوٹر لیب میں گیا ،ویسے بھی روزانہ نماز فجر کے بعد میں کمپیوٹر لیب میں جاتا تھا ،اور کوئی حدیث یا آیت یا مسئلہ لکھ کر وال پیپر کی صورت میں انٹر نیٹ پر شیئر کرتا تھا ،میرے دل میں خیال آیا کیوں نہ ایسا کیا جائے کہ جو تمام ویڈیوز میں نے کل دیکھی ہیں ،ان سب کو ڈائون لوڈ کر کے ،اپنی ویب سائٹ اور فیس بک پیج پر اپ لوڈ کر دیا جائے ،میں نے یہ کام کرنا شروع کر دیا ،مجھے یہ کام کرنے میں تقریبا گھنٹہ یا سوا گھنٹہ لگ گیا ہوگا ،میرا دوست رئیس جو بہت نیک جذبات رکھا تھا ،بار بار مجھے کہتا مولوی یار تم لیٹ کروا رہے ہو ،میں اسے باربار کہتا یار صبر کرو ،یہ انٹرنیٹ پر اپ لوڈ ہو جائیں ،پھر چلتے ہیں ،میں نے اسے کہا یہاں اپ لوڈ کرنے سے یہ زیادہ لوگوں تک پہنچ جائیں گی ،میری ویب سائٹ فری ضرور تھی ،مگر اس پر ہر وقت کچھ لوگ ضرور ہوتے ہیں ،کیونک میں نے اس پر تمام اہلسنت کے علماء ،اورمشائخ ،کے بیانات و کتب کو رکھا ہے ،ساتھ ہی ساتھ ہر نعت خواں کی آواز میں نعتیں ہیں ،پھر ہزاروں خوبصورت وال پیپرز ہیں ،جن پر آیات ،احادیث ،مسائل یا واقعات لکھے ہوئے ہیں ،الحمد للہ یہ سب کام اللہ نے مجھ اکیلے ہی سے کروا لیے ہیں ،اس وقت میری ویب سائٹ کو تقریبا سولہ لاکھ بار دیکھا جا چکا ہے ،
رئیس تھوڑی تھوڈی دیر بعد آتا اور کہتا مولوی چلو نہ یار ،میرا دل تھا کہ تھوڈا اور وقت مل جائے تاکہ میں چند مزید ویڈیوز بھی یوٹیوب پر اپ لوڈ کر دوں ،لیکن رئیس جب اس بار آیا تو اس نے تھوڈی جلی جلی باتیں سنائی ،میں نے تنگ آکر کہا ،کل کی طرح بہت سنی ہوں گے ،دیکھ کر تم ٹھنڈے ہو جائو گے ۔
پھر مجبورا میں رئیس کے ساتھ چل پڑا ،ہم گاڑی میں چاندنی چوک جانے کیلئے بیٹھے ،مگر فیض آباد جلوس جارہا تھا اور گاڑیوں کے لیے راستہ بند تھا ،اس لیے ہمیں گاڑی والے نے فیض آباد ہی اتار دیا ،ہم بہت خوش ہوئے کہ اتنا بڑا جلوس ہے ،جس کا پچھلا حصہ فیض آباد ہے ،اور آخری حصہ لیاقت باغ،مگر ہم تھوڑے ہی آگے چلے تو پتا چلا کہ یہ چار سو لوگوں کا جلوس ہے ،جو جامعہ جلالیہ والے لڑکوں پر مشتمل ہے ،میں مایوس ہوگیا ،ہم کافی دیر تک جلوس کے ساتھ چلتے رہے ،اچانک ہمیں ہمارے ایک دوست حافظ تنویر بھائی نظر آئے ،جو موٹر سائیکل پر تھے ،ان کے ساتھ حافظ امجد بھائی بھی تھے ،کچھ دیر کی بحث کے بعد یہ طے پایا ،کہ آپ تینوں اس بائیک پر جائیں ، تنویر بھائی آپ دونوں کو اتار کر مجھے لے جائیں گے ،راستہ بہت دور تھا ،لیکن میں اس لیے پیدل چلنے پر تیار ہوگیا تھا ،کیونکہ مجھے یقین تھا ،کہ لیاقت باغ میں صرف چند سو لوگ ہی ہوں گے ۔
تنویر بھائی ان دونوں کو اتار کر مجھے بھی ساتھ لے گئے ،جب میں لیاقت باغ پہنچا ،تو حیران ہو گیا ،نو بج کر تیس منٹ پر ہی تقریبا ستر فیصد لیاقت باغ فل تھا ،میں نے فورا اپنا موبائیل نکالا اورپورے گروپ کو ایک میسج کیا ،"اللہ کے کرم سے ستر فیصد لیاقت باغ فل ہے ،جس کا ذکر اللہ تعالی بلند کرے ،اسے کوئی پست  نہیں کر سکتا" ،یہ میسج میں نے اس لیے کیا تھا ،کیونکہ یہاں آنے سے پہلے میں نے تمام گروپ کو یہ میسج کیا تھا ،'آج عالمِ کفر دیکھ لے گا ،کہ مسلمانوں کو اپنے نبی ﷺ سے کتنی محبت ہے ،تمام فرقوں کے لوگ آج ممتاز قادری کے جنازے میں شرکت کریں گے ،اسلام کی خاطر آپ بھی ضرور اس میں شرکت کریں "۔
لیاقت باغ میں جامعہ رضویہ ،راولپنڈی کے ایک نوجوان عالم علامہ امتیاز حسین کاظمی صاحب مائیک سنبھالے ہوئے تھے ،ان کی آواز بڑی گرج دار تھی ،اور مجمع کو جوش دلا رہی تھی ،وقفے وقفے سے علماء و مشائخ مختصر خطاب فرمارہے تھے ،ایک صاحب جن کا نام بھی مجھے معلوم نہیں ،دوران تقریر انھوں نے بڑی خوبصورت بات کی،کہتے ہیں ،کب تک تم پیر خانوں کے نام پر لٹتے رہو گے ،کب تک یارسو اللہ کے نعرے پر لٹتے رہوگے ،یہاں تمام مشہور و معروف علماء کرام و مشائخ عظام تشریف فرماتھے ،گیارہ بجے حال یہ تھا ،کہ لیاقت باغ مکمل فل تھا ،مری روڈ پر کمیٹی چوک تک لوگ تھے ،پھر یہ قطاریں سینٹر ہسپتال سے بھی بہت پیچھے تک پہنچ گئی تھی ،لیاقت باغ سے دوسری طرف مجھے دیکھنے کا موقع نہیں مل سکا ۔
میں دل ہی دل میں بہت خوش ہو رہا تھا ،اپنے علماء کہ منہ سے متحد ہونے کی باتیں سن کر خوشی سے جھوم رہا تھا ،بعض علماء کی باتوں سے تو ایسا لگ رہا تھا ،جیسے وہ نظام مصطفی کی تحریک کا آغاز کرنے لگے ہیں ،تاکہ پھر کبھی کسی ممتاز قادری کو پھانسی نہ ہو ۔
سنی تحریک کے ثروت اعجاز قادری صاحب نے بڑی جرات و بہادری والی باتیں کیں ،ڈاکٹر آصف اشرف جلالی صاحب نے کہا ،ہم تحریک رھائی غازی ممتاز حسین قادری کا نام "تحریک تحفظ ناموس رسالت "رکھتے ہیں ،(پھر اس کا نام تبدیل کرکے تحریک لبیک یا رسول اللہ رکھ دیا گیا تھا )تاکہ ممتاز قادری کا مشن جاری رہے ،پیر افضل قادری صاحب بہت دلیر آدمی ہیں ،انھوں نے بھی ثروت اعجاز قادری کی طرح بڑی جرات مندی کی باتیں کیں ،خادم حسین رضوی صاحب کی تو بہادری ضرب المثل ہے ،پیر افضل قادری صاحب مائیک پر آئے اور پوچھا کیا آپ قربانی دینے کیلئے تیار ہں ،سب نے ہاتھ اٹھا یا ،اور ساتھ ہی نعرے شروع ہو گئے ،سَبِیلُنا،سبیلنا ،الجھاد الجھاد ،یہ نعرے سن کر میری خوشی کی حد نہ رہی ،میرے ذہن میں ایک عرصے سے یہ بات آتی تھی ،کہ ہمارے مسلک میں جھاد کا نام بھی نہیں لیا جاتا ،آخر کیوں ؟
آج یہ نعرے سن کر دل کھل اٹھا تھا ،پھر خادم حسین رضوی صاحب کو دعوت خطاب دی گئی،خادم حسین صاحب نے غم و غصے سے بھری چند باتیں کیں ،غالبا ثروت اعجاز قادری صاحب نے یا پیر افضل قادری صاحب نے (اسٹیج پر رش زیادہ تھا ،اس لیے ٹھیک سے معلوم نہیں ہو سکا )کہا ،آپ اعلان کریں ،کہ ہم یہ جنازہ پارلیمنٹ کےسامنے پڑھیں گے ،یہ سن کر ہی اسٹیج پر کچھ بزدل لوگوں یا حکومت کے چمچوں اور غیرت مند علماء میں بحث و تکرار شروع ہو گئی ،اسٹیج سے باقاعدہ لڑنے کی آوازیں آنے لگی ،کیونکہ یہ سارا انتظام جامعہ رضویہ والوں کے پاس تھا ،اس لیے انھوں نے اعلان کردیا ،کہ غازی صاحب کے والد صاحب کا فیصلہ ہے کہ پہلے جنازہ پڑھ لیا جائے ،(حالانک مستقبل کا  لائحہ عمل جنازے سے پہلے دینا تھا )یہ سن کر خادم صاحب نے غصے سے کہا صفیں سیدھی کرلو،اسی دوران پیر افضل قادری صاحب مائیک پر آئے اور انھوں نے کہا ہمارا ارادہ تو تھا کہ ہم یہ جنازہ صدر ہاوس کے سامنے پڑھتے ،مگر ہمارے لوگ کچھ بک نہ جاتے تو ایسا ممکن ہو تا ،پھر جنازہ پڑھا گیا ،جنازہ پڑھتے ہی ،لوگ منتشر ہوگئے۔

یہ تقریبا ساٹھ لاکھ کامجمع تھا ،چلو ہم کہتے ہیں یہ  بیس لاکھ کا مجمع تھا ،مگر ہم نے اتنے بڑے پر جوش مجمع سے کیا فائدہ اٹھا یا ،اگر ہم ان سب کو کہتے،آپ سب حضرات ایک کاغذ پر اپنا نام ،پتہ ،اورفون نمبر لکھیں اور ساتھ سو روپے ممتاز قادری کی خاطر گیٹ کے پاس رکھے ڈبو ں میں ڈال دیں ،اس کے بدلے آپ کو ممتاز قادری نام کے بارے رسالہ پورے سال مفت ملیں گے ۔میرے پورے یقین سے یہ بات کہہ سکتا ہوں ،کہ ہمیں اس مجمع میں سے چھ سات لاکھ لوگ مل جاتے ،جو ہمارا ماہنامہ رسالہ لگوا لیتے ،پھر ان بارہ رسالوں ذریعے ہم ان کا جو ذہن بناتے وہ بن جاتا

میں آج کے دن بریلویوں سے مایوس ہو چکا ہوں ،ان میں اتفاق ہونا ناممکن ہے ،ان کو ان کا پرامن ہو نا کھاگیا ،ہمارے جن لوگوں نے پارلیمنٹ کی طرف جانے سے منع کیا وہ فقط خود کو پر امن ثابت کرنا چا رہے تھے ،دوسرا ہمارے پیر خانے ہمیں تباہ کر گئے ،میں نے دیکھا جس کا پیر چلا ،سب مریدین بھی چل پڑے۔

حکومت نے ایک غلط قدم اٹھا یا ،مگر ہم یہ ثابت نہ کر سکے ،کہ حکومت نے غلط کیا ،ہم ایسی سخت ہڑتالیں کرتے کہ حکومت کے ناک میں دم ہو جاتا،پورا ملک بند ہو جاتا ،حکومت دوبارہ کبھی ایسی غلطی کرنے کا سوچتی بھی نہیں ،لیکن حکومت نے ممتاز قادری کو پھانسی دینے کے بعد لاکھوں کے اجتماع کو ایک منٹ کیلئے بھی میڈیا پر چلنے نہیں دیا ،حکومت کا بال بھی ٹیڑھا نہ ہوا ،اوردنیا میں بظاہر ممتاز قادری اور دیگر علماء کی قربانیاں راہ گاہ چلی گئی ،اللہ ہمیں سمجھ عطا فرمائے ۔
تحریر :احسان اللہ (غلام نبی ﷺ )

ۤ
ممتاز قادری کا جنازہ ،ممتاز قادری او دیگر علماء اہلسنت بریلوی ،

funeral of mumtaz qadri ,Mumtaz qadri hangout,mumtaz qadri ko phansi ,mumtazqadri aur salman taseeri ,mumtaz qadri aur barelvi ulama ,liyaqat bagh rawal pindi ,jamia rizvia zia ul uloom rawal pindi ,khadim hussain rizvi ,Dr ashraf asif jalali,Sarwat ijaz qadri ,suni tehreek ,tehreek labaik ya Rasool Allah ,Suni barelvi hanafi ,Dr tahir ul qadri ,zafar iqbal jalali ,Lahore mumtaz qadri ,karachi mutmaz qadri ,protest for mumtaz qadri ,pakistan and mumtaz qadri ,Ghutakh e Rasool aur mumtaz qadri ko phansi ,Mumtaz qadri ka janaza aur Chehlam ,mumtaz qadri fans ,mumtaz qadri images ,

No comments:

Post a Comment

Join us on

Must click on Like Button

Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...