Saturday, February 27, 2016

Mustamal Pani k Tafseeli Masail By Ala Hazrat Imam Ahmed Raza Khan Barelvi


فتوی مسمّٰی بہ
الطرس المعدل فی حدالماء المستعمل

استعمال شدہ پانی کی تعریف میں منصف صحیفہ(رسالہ)(ت)
بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم نحمدہ ونصلی علٰی رسولہ الکریم

مسئلہ ۲۸:  ۵ ربیع الآخر شریف ۱۳۲۰ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ آبِ مستعمل کی کیا تعریف ہے بینوا توجروا۔

الجواب
بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم
حمدالمن جعل الطھور غاسل اٰثامنا فطھر ارواحنا باسالۃ الماء علی اجسامنا فیالہ من منۃ وافضل الصلاۃ وازکی السلام علی من طھرنا من الانجاس وادام دیم نعمہ علینا حتی نقانا من الادناس وعلی اٰلہ وصحبہ واھل السنۃ اٰمین۔

اقول وباللہ التوفیق مائے(۱) مستعمل وہ قلیل پانی ہے جس نے یا تو تطہیر نجاست حکمیہ سے کسی واجب کو ساقط کیا یعنی انسان کے کسی ایسے پارہ جسم کو مس کیا جس کی تطہیر وضو یا غسل سے بالفعل لازم تھی یا ظاہر بدن پر اُس کا استعمال خود کار ثواب تھا اور استعمال کرنے والے نے اپنے بدن پر اُسی امر ثواب کی نیت سے استعمال کیا اور یوں اسقاط واجب تطہیر یا اقامت قربت کرکے عضو سے جُدا ہوا اگرچہ ہنوز کسی جگہ مستقر نہ ہوا بلکہ روانی میں ہے اور بعض نے زوال حرکت وحصول استقرار کی بھی شرط لگائی۔ یہ بعونہٖ تعالٰی دونوں مذہب پر حد جامع مانع ہے کہ ان سطروں کے سوا کہیں نہ ملے گی۔ اب فوائد قیود سنیے:

 (۱) آب کثیر یعنی دَہ در دَہ یا جاری پانی میں محدث وضو یا جنب غسل کرے یا کوئی نجاست ہی دھوئی جائے تو پانی نہ نجس ہوگا نہ مستعمل لہٰذا قلیل کی قید ضرور ہے۔
(۲) محدث(۲) نے تمام یا بعض اعضائے وضو دھوئے اگرچہ بے نیت وضو محض ٹھنڈ یا میل وغیرہ جُدا کرنے کیلئے یا اُس نے اصلا کوئی فعل نہ کیا نہ اُس کا قصد تھا بلکہ کسی دوسرے نے اُس پر پانی ڈال دیا جو اُس کے کسی ایسے عضو پر گزرا جس کا وضو یا غسل میں پاک کرنا ہنوز اس پر فرض تھا مثلاً محدث کے ہاتھ یا جُنب کی پیٹھ پر تو ان سب صورتوں میں شکل اول کے سبب پانی مستعمل ہوگیا کہ اس نے محل نجاست حکمیہ سے مس کرکے اُتنے ٹکڑے کی تطہیر واجب کو ذمہ مکلف سے ساقط کردیا اگرچہ پچھلی صورتوں میں ہنوز حکم تطہیر دیگر اعضا میں باقی ہے اور پہلی میں تو یعنی جبکہ تمام اعضا دھو لے فرض تطہیر پورا ہی ذمہ سے اُتر گیا۔

تنبیہ  پانی کولی(۱) یا بڑے مٹکے کے سوا کہیں نہیں وہ برتن جھکانے کے قابل نہیں چھوٹا برتن مثلاً کٹورا ایک ہی پاس تھا وہ اسی برتن میں گر کر ڈوب گیا کوئی بچّہ یا باوضو آدمی ایسا نہیں جس سے کہہ کر نکلوائے اب بمجبوری محدث خود ہی ہاتھ ڈال کر نکالے گا یا چھوٹا برتن سرے سے ہے ہی نہیں تو ناچار چُلّو لے لے کر ہاتھ دھوئے گا ان دونوں صورتوں میں بھی اگرچہ شکل اول اعنی اسقاط واجب تطہیر پائی گئی یہ ضرورۃً معاف رکھی گئی ہیں بے ضرورت ایسا کرے گا تو پانی کُل یا بعض بالاتفاق مستعمل ہوجائے گا اگرچہ ایک قول پر قابل وضو رہے۔ بیان(۲) اس کا یہ ہے کہ محدث یعنی بے وضو یا حاجت غسل والے کا وہ عضو جس پر سے ہنوز حکم تطہیر ساقط نہ ہوا اگرچہ کتنا ہی کم ہو مثلاً پورا یا ناخن اگر قلیل پانی سے مس کرے تو ہمارے علماء کو اختلاف ہے بعض کے نزدیک وہ سارا پانی مستعمل ہوجاتا ہے اور قابل وضو وغسل نہیں رہتا اور بعض کے نزدیک صرف اتنا مستعمل ہوا جس قدر اُس پارہ بدن سے ملا باقی آس پاس کا پانی جو اُس عضو کی محاذات میں ہے اور اُس سے مس نہ ہوا مستعمل نہ ہوا یوں ہی وہ تمام پانی کہ اُس عضو کے پہنچنے کی جگہ سے نیچے ہے اُس پر بھی حکم استعمال نہ آیا۔ اس قول پر مٹکے یا کَولی میں کہنی تک ہاتھ ڈالنے سے بھی پانی قابل طہارت رہے گا کہ ظاہر ہے جو پانی ہاتھ کے آس پاس اور اُس سے نیچے رہا وہ اس حصے سے بہت زائد ہے جس نے ہاتھ سے مس کیا اور جب(۳) غیر مستعمل پانی مستعمل سے زائد ہو تو پانی قابلِ وضو وغسل رہتا ہے مثلاً لگن میں وضو کیا اور وہ پانی ایک گھڑے بھر آب غیر مستعمل میں ڈال دیا تو یہ مجموع قابلِ وضو ہے کہ مستعمل نامستعمل سے کم ہے اسی پر قیاس کرکے ان بعض نے ہاتھ ڈالنے کا حکم رکھا کہ مستعمل تو اُتنا ہی ہوا جتنا ہاتھ کو لگا باقی کہ الگ رہا اُس پر غالب ہے اور فریقِ اول نے فرمایا کہ پانی ایک متصل جسم ہے اس کے بعض سے ملنا کُل سے ملنا ہے لہٰذا ناخن کی نوک یا پورے کا کنارہ لگ جانے سے بھی کُل مٹکا مستعمل ہوجائے گا۔ یہ دو قول ہیں اور فریقِ اول ہی کا قول احتیاط ہے بہرحال اتنے میں فریقین متفق ہیں کہ بے ضرورت چُلّو لینے یا ہاتھ ڈالنے سے پانی مستعمل ہوجائے گا اگرچہ بعض تو ہماری تعریف اس قول پر بھی ہر طرح جامع مانع ہے۔
(۳) باوضو آدمی نے بہ نیت ثواب دوبارہ وضو کیا۔
(۴) سمجھ وال نابالغ نے وضو بقصدِ وضو کیا۔
(۵) حائض ونفساء کو جب تک حیض ونفاس باقی ہے وضو وغسل کا حکم نہیں مگر انہیں(۴) مستحب ہے کہ نماز پنجگانہ کے وقت اور اشراق وچاشت وتہجد کی عادت رکھتی ہو تو ان وقتوں میں بھی وضو کر کے کچھ دیر یادِ الٰہی کرلیا کرے کہ عبادت کی عادت باقی رہے۔ انہوں نے یہ وضو کیا۔ (۶) پاک آدمی نے ادائے سنّت کو جمعے یا عیدین یا عرفے یا احرام یا اور اوقات مسنونہ کا غسل یا میت کو غسل دینے کا وضو یا غسل کیا۔
(۷) باوضو(۱) نے کھانے کو یا کھانا کھا کر بہ نیت ادائے سنّت ہاتھ دھوئے یا کُلّی کی۔
(۸) وضوئے فرض یا نفل میں جو پانی کُلّی یا ناک میں پہنچانے میں صرف ہوا۔
(۹)کچھ اعضا دھو لئے تھے خشک ہوگئے سنت موالات کی نیت سے انہیں پھر دھویا ان سب صورتوں میں شکل دوم کے سبب مستعمل ہوجائے گا اگرچہ اسقاط واجب نہ کیا اقامت قربت کی(۲) میت کو نہلا کر غسل کرنا بھی مستحب ہے کما فی الدر وغیرہ۔
(۱۰) میت کے بارے میں علماء مختلف ہیں جمہور کے نزدیک موت نجاست حقیقہ ہے اس تقدیر پر تو وہ پانی کہ غسل میت میں صرف ہوا مائے مستعمل نہیں بلکہ ناپاک ہے اور بعض کے نزدیک نجاست حکمیہ ہے بحرالرائق وغیرہ میں اسی کو اصح کہا اس تقدیر پر وہ پانی بھی مائے مستعمل ہے اور ہماری تعریف کی شق اول میں داخل کہ اُس نے بھی اسقاط واجب کیا۔
اقول ولہٰذا ہم نے انسان کا پارہ جسم کہا نہ مکلف کا کہ میت مکلّف نہیں۔ اور تطہیر لازم تھی کہا نہ یہ کہ اس کے ذمے پر لازم تھی کہ یہ تطہیر میت کے ذمّے پر نہیں احیا پر لازم ہے۔

  (۱۱) یوں ہی غسل میت کا دوسرا اور تیسرا پانی بھی آبِ مستعمل ہوگا کہ اگرچہ پہلے پانی سے اسقاط واجب ہوگیا مگر غسلِ میت میں تثلیث بھی قربت مطلوبہ فی الشرع ہے۔
اقول ولہٰذا ہم نے شق دوم میں بھی بدن انسان مطلق رکھا۔
(۱۲) وضو علی الوضو کی نیت سے دوسرے کو کہا مجھے وضو کرادے اُس نے بے نیت ثواب اُس کے اعضائے وضو دھو دئیے پانی مستعمل ہوگیا کہ جب اس کے امر سے ہے اور اس کی نیت قربت کی ہے تو وہ اسی کا استعمال قرار پائے گا الا تری انہ لوفعل ذلک محدث ونوی فقد اتی بالمامور بہ مع ان امر فاغسلوا وامسحوا انما کان علیہ(جیسا کہ اگر بے وضو ایسا کرے اور نیت کرے تو مامور بہ کو بجا لانے والا ہوگا جو فاغسلوا وامسحوا سے اس پر لازم تھا۔ ت)
(۱۳) باوضو(۳) آدمی نے اعضاء ٹھنڈے کرنے یا میل دھونے کو وضو بے نیت وضو علی الوضو کیا پانی مستعمل نہ ہوگا کہ اب نہ اسقاط واجب ہے نہ اقامت قربت۔
(۱۴) معلوم تھا کہ عضو تین۳ بار دھو چکا ہوں اور ہنوز پانی خشک بھی نہ ہوا تھا بلا وجہ چوتھی بار اور ڈالا یہ بھی قربت نہیں بلکہ خلافِ ادب ہے۔
(۱۵) ہاں اگر شک ہو کہ دو۲ بار دھویا یا تین۳ بار یوں تیقن تثلیث کیلئے پانی پھر ڈالا تو مستعمل ہوجائے گا
اگرچہ واقع میں چوتھی بار ہو۔
(۱۶) جسے حاجتِ غسل نہیں اُس نے اعضائے وضو کے سوا مثلاً پیٹھ یا ران دھوئی۔
(۱۷) باوضو نے کھانا کھانے کو یا کھانے سے بعد یا ویسے ہی ہاتھ منہ صاف کرنے کو ہاتھ دھوئے کُلّی کی اور ادائے سنّت کی نیت نہ تھی مستعمل نہ ہوگا کہ حدث وقربت نہیں۔
(۱۸) باوضو نے صرف کسی کو وضو سکھانے کی نیت سے وضو کیا مستعمل نہ ہوا کہ تعلیم وضو اگرچہ قربت ہے مگر وضو سکھانے کو وضو کرنا فی نفسہ قربت نہیں سکھانا قربت ہے اور وہ زبان سے بھی ممکن ولہٰذا ہم نے قید لگائی کہ وہ استعمال خود کارِ ثواب تھا یعنی فعل فی نفسہ مطلوب فی الشرع ولو مقصودا لغیرہ کالوضوء(فعل فی نفسہ مطلوب فے الشرع ہے اگرچہ مقصود لغیرہ ہو جیسے وضو ہے۔ ت)
(۱۹) کوئی پاک کپڑا وغیرہ دھویا۔
(۲۰ و ۲۱) کسی جانور یا نابالغ بچّے کو نہلایا اور ان کے بدن پر نجاست نہ تھی اگرچہ وہ جانور غیر ماکول اللحم ہو جیسے بلّی یا چوہا حتی کہ مذہب راجح میں کُتّا بھی جبکہ پانی اُن کے لعاب سے جُدارہا اگرچہ نہلانا ان کے دفع مرض یا شدت گرما میں ٹھنڈ پہنچانے کو بہ نیت ثواب ہو مستعمل نہ ہوگا۔
اقول کپڑا برتن جانور اور ان کے امثال تو بدن انسان کی قید سے خارج ہوئے اور نابالغ کو نہلانا مثل وضوئے تعلیم خود قربت نہیں کہ بچّوں کے نہلانے کا کوئی خاص حکم شرع میں نہ آیا ہاں انہیں بلکہ ہر مسلمان وجاندار کو نفع وآرام پہنچانے کی ترغیب ہے یہ امور عادیہ اُس حکم کی نیت سے کلیہ محمودہ کے نیچے آکر قربت ہوسکتے ہیں مگر موجب استعمال وہی فعل ہے جو بذاتِ خود قربت ومطلوب شرع ہو۔
(۲۲) حائض ونُفسَاء نے قبل انقطاع دم بے نیت قربت غسل کیا پانی مستعمل نہ ہوگا کہ اس نے اگرچہ انسان کے جسم کو مس کیا جس کی تطہیر غسل سے واجب ہوگی مگر ابھی لازم نہیں بعد انقطاع لزوم ہوگا۔
اقول ولہٰذا ہم نے بالفعل کی قید لگائی۔
(۲۳) ناسمجھ بچّے نے وضو کیا جس طرح دو تین سال کے اطفال ماں باپ کو دیکھ کر بطور نقل وحکایت افعال وضو نماز کرنے لگتے ہیں پانی مستعمل نہ ہوگا کہ نہ قربت نہ حدث۔
(۲۴) وضو کرنے میں پانی کو جب تک اُسی عضو پر بَہہ رہا ہے حکم استعمال نہ دیا جائے گا ورنہ وضو محال ہو جائے بلکہ جب اُس عضو سے جُدا ہوگا اس وقت مستعمل کہا جائے گا اگرچہ ہنوز کہیں مستقر نہ ہوا ہو مثلاً منہ دھونے(۱) منہ دھونے میں کلائی پر پانی لیا اور وہی پانی کے مُنہ سے جُدا ہو کر آیا کلائی پر بہا لیا جمہور کے نزدیک کافی نہ ہوگا کہ مُنہ سے منفصل ہوتے ہی حکم استعمال ہوگیا ہاں جن بعض کے یہاں استقرار شرط ہے اُن کے نزدیک کافی ہے کہ ابھی مستعمل نہ ہوا اور غسل میں سارا بدن عضو واحد ہے تو سر کا پانی کہ پاؤں تک بہتا جائے جس جس جگہ گزرا سب کو پاک کرتا جائے گا۔
(۲۵) اقول نجاست میں حکمیہ کی تقیید کا فائدہ ظاہر ہے کہ جو پانی نجاست حقیقیہ کے ازالہ میں صرف ہو ہمارے نزدیک مطلقاً ناپاک ہوجائے گا نہ کہ مستعمل۔
(۲۶) اقول ہم نے پانی کو مطلق رکھا اور خود رفع نجاست حکمیہ واقامت قربت ہائے مذکورہ سے واضح کہ پانی سے مائے مطلق مراد ہے تو شوربے یا دودھ کی لسّی یا نبیذ تمر سے اگر وضو کرے وہ مستعمل نہ ہونگے ان سے وضو ہی نہ ہوگا تو مستعمل کیا ہوں۔

(۲۷) خود نفس جنس یعنی پانی نے دودھ سرکہ گلاب کیوڑے وغیرہا کو خارج کردیا کہ اُن سے وضو کرے تو مستعمل نہ ہوں گے اگرچہ بے وضو ہو اگرچہ جُنب ہو اگرچہ نیت قربت کرے کہ غیر آب(۱) نجاست حکمیہ سے اصلا تطہیر نہیں کرسکتا۔
تنبیہ اگر کہیے ۲۶ و ۲۷ کا ثمرہ کیا ہے کہ مستعمل ہونے سے ہمارے نزدیک شے نجس نہیں ہوجاتی صرف نجاست حکمیہ دور کرنے کے قابل نہیں رہتی یہ قابلیت ان اشیاء میں پہلے بھی نہ تھی تو ان کو مستعمل نہ ماننے کا کیا فائدہ ہوا۔ اقول اول تو یہی فائدہ بہت تھا کہ مستعمل نہ ہونے سے ان کی طہارت متفق علیہ رہے گی کہ مستعمل کی طہارت میں ہمارے ائمہ کا اختلاف ہے اگرچہ صحیح طہارت ہے۔
ثانیا مستعمل(۲) اگرچہ طاہر ہے مگر قذر ہے مسجد میں اُس کا ڈالنا ناجائز ہے ان اشیاء کو مستعمل نہ بتانے سے یہ معلوم ہوا کہ مثلاً جس(۳) گلاب سے کسی نے وضو کیا اُسے مسجد میں چھڑک سکتے ہیں کہ وہ مستعمل نہ ہوا۔
بالجملہ یہ وہ نفیس وجلیل جامع ومانع وشافی ونافع تعریف مائے مستعمل ہے کہ بفضلِ الٰہی خدمت کلمات علمائے کرام سے اس فقیر پر القا ہوئے وللہ الحمد۔ سہولتِ حفظ کیلئے فقیر اسے نظم کرتا اور برادران دینی سے دعائے عفو وعافیت کی طمع رکھتا ہے ۔

۱؎ مائے مستعمل کہ طاہر نامطہر وصف اوست    جامع ومانع حدِ اواز رضا دوحرف شد
مطلقے کو واجب شستن زحد ثے کا ست یا    بربشر در قربت مطلوبہ عیناً صرف شد
راکدےعہ کا ینسان جدا شداز بدن مستعمل ست    لیک نزد بعض چوں قائم بجایا ظرف شد

۱؎ ترجمہ: مستعمل پانی جو کہ خود پاک ہوتا ہے اور دوسرے کو پاک نہیں کرتا رضا سے اس کی جامع مانع تعریف دو باتوں میں ہوئی ÷ جس سے مطلقاً حدث زائل ہوا ہو یا قربت مقصودہ کی نیت سے بدن پر استعمال ہوا ہو ÷ قلیل پانی جب بدن سے جُدا ہوا تو مستعمل ہوجائیگا لیکن بعض کے نزدیک بدن سے جُدا ہو کر کسی جگہ یا ظرف میں اس کا قرار ضروری ہے۔

عہ راکد بمعنے غیر جاری یعنی آبِ قلیل کہ دَہ در دَہ نباشد ۱۲(م)

دو شعر اخیر میں وہ تمام تفاصیل آگئیں جو یہاں تک مذکور ہوئیں اور یہ بھی کہ راجح قول اول ہے یعنی بدن سے جدا ہوتے ہی مستعمل کا حکم دیا جائے گا کسی جگہ مستقر ہونا شرط نہیں۔ اب عبارات علماء اور بعض مسائل مذکورہ میں اپنی تحقیق مفرد ذکر کریں وباللہ التوفیق۔ تنویر الابصار ودُرمختار و ردالمحتار میں ہے:

لایجوز بماء استعمل لاجل قربۃ ای ثواب ولومن ممیز ۱؎ (اذا توضأ یرید بہ التطہیر کما فی الخانیۃ وظاھرہ انہ لولم یرد بہ ذلک لم یصر مستعملا۲؎) اوحائض لعادۃ عبادۃ ۳؎

وضو اُس پانی سے جائز نہیں جس کو بطور ثواب استعمال کیا گیا ہو۔اگرچہ اس بچّہ نے استعمال کیا ہے جس میں شعور پیدا ہوچکا ہو۔ (جبکہ وضو کیا کہ اس سے اس کا ارادہ پاکی حاصل کرنے کا تھا کما فی الخانیہ اور اس کا ظاہر یہ ہے کہ اگر اس سے طہارت کا ارادہ نہ کیا تو مستعمل نہ ہوگا) یا حائض عبادت کی عادت کی وجہ سے،

 (۱؎ الدرالمختار        باب المیاہ    مطبوعہ مجتبائی دہلی    ۱/۳۷)
(۲؎ ردالمحتار        باب المیاہ    مطبوعہ مصطفی البابی مصر    ۱/۱۴۵)
(۳؎ الدرالمختار        باب المیاہ     مطبوعہ مجتبائی دہلی    ۱/۳۷)

 (قال فی النھر قالوابوضوء الحائض یصیر مستعملا لانہ یستحب لہا الوضوء لکل فریضۃ وان تجلس فی مصلاھا قدرھا کیلا تنسی عادتہا وینبغی ان لوتوضأت لتہجد عادی اوصلاۃ ضحی ان یصیرمستعملا اھ واقرہ الرملی وغیرہ ووجہہ ظاھر فلذا جزم بہ الشارح فاطلق العبادۃ تبعا لجا مع الفتاوٰی ۴؎)

 (نہر میں ہے کہ فقہاء نے فرمایا حائض کے وضو سے مستعمل ہوجائے گا کہ اس کیلئے ہر فرض کیلئے وضو مستحب ہے اور یہ کہ نماز کی مقدار میں اپنے مصلّٰی پر بیٹھے تاکہ نماز کی عادت نہ ختم ہوجائے اور اگر تہجد یا نماز چاشت کیلئے اُس نے وضو کیا تو چاہئے کہ وہ پانی مستعمل ہوجائے اھ رَملی وغیرہ نے اس کو برقرار رکھا، اور اس کی وجہ ظاہر ہے، اس لئے اس پر شارح نے جزم کیا اور عبادت کو مطلق رکھا، جامع الفتاوٰی کی متابعت میں)

 (۴؎ ردالمحتار        باب المیاہ    مطبوعہ مصطفی البابی مصر    ۱/۱۴۵)

اوغسل میت ۵؎ وکون غسالتہ مستعملۃ ھوالاصح بحر اقول قول العامۃ واعتمدہ البدائع ان نجاسۃ المیت نجاسۃ خبث لانہ حیوان دموی ویجوز عطفہ علی ممیزای ولو من اجل غسل میت لانہ یندب الوضوء من غسل المیت ۶؎

یا میت کو غسل دیا اور اس غسل کے مستعمل پانی کا مستعمل ہونا ہی اصح ہے بحر، میں کہتا ہوں عام فقہاءکا قول یہی ہے، اس پر بدائع نے اعتماد کیا کہ میت کی نجاست خُبث کی نجاست ہے، کیونکہ میت خون والا جانور ہے، اور اس کا عطف ممیز پر جائز ہے یعنی ''اگرچہ میت کے غسل کی وجہ سے ہو کیونکہ میت کو نہلانے کے بعد وضو کرلینا مندوب ہے،

 (۵؎ الدرالمختار        باب المیاہ    مطبوعہ مجتبائی دہلی    ۱/۳۷)
(۶؎ ردالمحتار        باب المیاہ    مصر        ۱/۱۴۵)

اوید لاکل اومنہ بنیۃ السنۃ ۷؎ قید بہ فی البحر اخذا من قول المحیط لانہ اقام بہ قربۃ لانہ سنۃ اھ

یا ہاتھ دھونا کھانے کیلئے یا اس سے بہ نیت سنت (بحر میں یہ قید محیط کے قول سے لے کر لگائی ہے کیونکہ اُس نے اس سے عبادت ادا کی ہے اس لئے کہ وہ سنت ہے اھ

 (۷؎ درمختار        باب المیاہ    مجتبائی دہلی        ۱/۳۷)

فی النھر وعلیہ ینبغی اشتراطہ فی کل سنۃ کغسل فم وانف اھ قال الرملی ولا تردد فیہ حتی لولم یکن جنبا وقصد بغسل الفم والانف مجرد التنظیف لااقامۃ القربۃ لایصیر مستعملا ۱؎)

اور نہر میں ہے کہ اس بنا پر یہ شرط لگانی چاہئے ہر سنّت میں جیسے منہ کا دھونا یا ناک میں پانی ڈالنا، اھ رملی نے کہا کہ اس میں کوئی تردد نہیں حتی کہ اگر وہ جُنب نہ ہو اور منہ اور ناک کے دھونے سے محض صفائی کا ارادہ کرے نہ کہ قربت کی ادائیگی کا تو پانی مستعمل نہ ہوگا،

 (۱؎ ردالمحتار        باب المیاہ    مطبوعہ مصطفی البابی مصر    ۱/۱۴۶)

اولرفع حدث کوضوء محدث ولو للتبرد فلو توضأ متوضئ لتبردا وتعلیم اولطین بیدہ لم یصر مستعملا اتفاقا ۲؎

یاحدث کو رفع کرنے کیلئے جیسے بے وضو کا وضو کرنا خواہ ٹھنڈک کے حصول کیلئے ہو، تو اگر کسی باوضو شخص نے ٹھنڈک حاصل کرنے کیلئے، سکھانے کیلئے، یا ہاتھوں کی مٹی چھڑانے کیلئے وضو کیا تو یہ پانی مستعمل نہ ہوگا،

 (۲؎ الدرالمختار        باب المیاہ    مطبوعہ مجتبائی دہلی    ۱/۳۷)

 (اورد ان تعلیم الوضوء قربۃ واجاب البحر وتبعہ النھر وغیرہ ان التوضی نفسہ لیس قربۃ بل التعلیم وھو خارج عنہ ولذا یحصل بالقول ۳؎)کزیادۃ علی الثلث بلانیۃ قربۃ ۴؎ قد قدمنا التحقیق فی کل ذلک فی بارق النور فتذکرہ اھ منہ قدس سرہ۔

بالاتفاق(اس پر یہ اعتراض وارد کیا گیا ہے کہ وضو کرنے کی تعلیم دینا بجائے خود عبادت ہے؟ بحر نے اس کا جواب دیا جس کو نہر وغیرہ نے بھی پسند کیا کہ وضو خود قربت نہیں ہے، ہاں تعلیم قربت ہے اور تعلیم وضو سے الگ شے ہے اس لئے تعلیم صرف قول سے بھی ہوجاتی ہے) جیسے تین مرتبہ سے زائد اعضاء وضو کا بلانیت قربت دھونا،ہم نے اس کی تحقیق بارق النور میں پہلے بیان کردی ہے اس کو یاد کرلے اھ(ت)

 (۳؎ ردالمحتار        باب المیاہ    مطبوعہ مصطفی البابی مصر    ۱/۱۴۶)
(۴؎ الدرالمختار        باب المیاہ    مطبوعہ مجتبائی دہلی    ۱/۳۷)

 (ان اراد الزیادۃ علی الوضوء الاول وفیہ اختلاف المشائخ اما لواراد بھا ابتداء الوضوء صار مستعملا بدائع ای اذا کان بعد الفراغ من الوضوء الاول والا لکان بدعۃ کما مر فلا یصیر مستعملا وھذا ایضا اذا اختلف المجلس والا فلا لانہ مکروہ بحر لکن قدمنا ان المکروہ تکرارہ فی مجلس مرارا ۵؎)

 (یہ اُس وقت ہے جب اُس کا ارادہ یہ ہو کہ پہلے وضو پر زیادتی کی جائے اور اس میں مشائخ کا اختلاف ہے، اور اگر اس سے وضو کی ابتداء مراد ہو تو اس طرح پانی مستعمل ہوجائے گا، بدائع، یعنی جبکہ پہلے وضو سے فراغت کے بعد ہو ورنہ بدعت ہوگا جیسا کہ گزرا تو مستعمل نہ ہوگا، اور یہ بھی اس وقت ہے جبکہ مجلس مختلف ہو ورنہ نہیں کیونکہ یہ مکروہ ہے،بحر۔ لیکن ہم پہلے بیان کر آئے ہیں کہ مکروہ اس کا ایک ہی مجلس میں کئی مرتبہ تکرار ہے)

 (۵؎ ردالمحتار        باب المیاہ    مصطفی البابی مصر    ۱/۱۴۶)

وکغسل نحو فخذ ۶؎ (مما لیس من اعضاء الوضوء وھو محدث لاجنب ۱؎)

اور جیسے ران کا دھونا (جو اعضا ئے وضو سے نہیں ہے حالانکہ وہ بے وضو ہو نہ کہ جنب ہو)

 (۶؎ الدرالمختار        باب المیاہ    مجتبائی دہلی        ۱/۳۷)
(۱؎ ردالمحتار    باب المیاہ    مصطفی البابی مصر    ۱/۱۴۶ )

او ثوب طاھر ۲؎ (ونحوہ من الجامدات کقدور وثمار قھستانی ۳؎) اودابۃ تؤکل ۴؎

یا پاک کپڑا (اور اسی کی مثل خشک اشیاء جیسے ہانڈیاں اور پھل، قہستانی)یا وہ چوپایہ جس کا گوشت کھایا جاتا ہو،

 (۲؎ درمختار    باب المیاہ    مجتبائی دہلی    ۱/۳۷)
(۳؎ ردالمحتار     باب المیاہ    مصطفی البابی مصر    ۱/۱۴۶ )
(۴؎ درمختار    باب المیاہ    مصطفی البابی مصر    ۱/۱۴۶)

 (بحر عن المبتغی قال سیدی عبدالغنی وغیرھا کذلک لاتنجس الماء ولا تسلب طھوریتہ کحمار وفارۃ وسباع بھائم لم یصل الماء الٰی فمہا اھ وذکر الرحمتی نحوہ ۵؎)

 (بحر نے اس کو مبتغی سے روایت کیا، سیدی عبدالغنی وغیرہ نے کہا اور اسکے علاوہ بھی پانی ناپاک نہیں کرتے ہیں اور اُس کے پاک کرنے کی صفت کو اُس سے سلب نہیں کرتے ہیں، جیسا گدھا، چوہا، اور چوپایوں میں سے درندے جبکہ پانی ان کے منہ تک نہ پہنچے اھ اور رحمتی نے ایسا ہی ذکر کیا)

 (۵؎ ردالمحتار     باب المیاہ    مصطفی البابی مصر    ۱/۱۴۶)

اولا سقاط فرض بان یغسل بعض اعضائہ ۶؎ التی یجب غسلہا احترازا عن غسل المحدث نحوا لفخذ ۷؎

 (یا کسی فرض کو ساقط کرنے کیلئے مثلاً یہ کہ کسی عضو کو دھوئے) (اُ ن اعضاء میں سے جن کا دھونا لازم ہے، یہ بے وضو شخص کے اپنی ران وغیرہ کو دھونے سے احتراز ہے)

 (۶؎ درمختار    باب المیاہ    مصطفی البابی مصر    ۱/۱۴۶)
(۷؎ ردالمحتار     باب المیاہ    مصطفی البابی مصر        ۱/۱۴۷)

اویدخل یدہ او رجلہ فی جب لغیر اغتراف ونحوہ ۸؎ (بل لتبرد اوغسل ید من طین اوعجین فلو قصد الاغتراف ونحوہ کاستخراج کوزلم یصر مستعملا للضرورۃ ۹؎)

یا اپنا ہاتھ یا پیر کسی گڑھے میں ڈالے، اُس سے چُلّو وغیرہ نہ بھرے ،(بلکہ ٹھنڈک حاصل کرنے کیلئے یا ہاتھوں کو مٹی سے یا آٹے سے صاف کرنا مقصود، تو اگر چلّو بھرنے کا ارادہ کیا جیسے پانی سے لوٹا نکالنے کیلئے ہاتھ ڈالا تو پانی مستعمل نہ ہوگا کیونکہ یہ ضرورتاً ہے)

 (۸؎ درمختار     باب المیاہ    مصطفی البابی مصر    ۱/۴۶)
(۹؎ ردالمحتار     باب المیاہ    مصطفی البابی مصر    ۱/۱۴۶ )

فانہ یصیر مستعملا اذا انفصل عن عضو وان لم یستقر فی شیئ علی المذھب وقیل اذا استقر ۱۰؎ (فی مکان من ارض اوکف اوثوب ویسکن عن التحرک وھذا قول طائفۃ من مشائخ بلخ واختارہ فخر الاسلام وغیرہ،

کیونکہ پانی مستعمل اُس وقت ہوگا جبکہ عضو سے جُدا ہو، اگرچہ کسی چیز پر نہ ٹھہرے، مذہب یہی ہے۔ اور ایک قول یہ ہے کہ جبکہ کسی جگہ پر ٹھہرے، (زمین پر یا ہاتھ پر یا کپڑے پر، اور حرکت کے بعد اس میں سکون پیدا ہوچکا ہو، یہ بلخ کے مشائخ میں سے بعض کا قول ہے اس کو فخرالاسلام وغیرہ نے پسند کیا ہے،

 (۱۰؎ درمختار     باب المیاہ    مصطفی البابی مصر    ۱/۱۴۶)

وفی الخلاصۃ وغیرھا انہ المختار الا ان العامۃ علی الاول وھو الاصح واثر الخلاف یظھر فیما لو انفصل فسقط علی انسان فاجراہ علیہ صح علی الثانی لاالاول نھر وقدمران اعضاء الغسل کعضو واحد فلو انفصل منہ فسقط علی عضو اٰخر من اعضاء الغسل فاجراہ علیہ صح علی القولین ۱؎ اھ ملتقطا

اور خلاصہ وغیرہ میں ہے کہ یہی مختار ہے، مگر عام علماء پہلے قول پر ہی ہیں اور وہی اصح ہے، اس اختلاف کا اثر اُس صورت میں ہوگا جبکہ پانی جدا ہوکر کسی انسان پر گرے اور وہ اس کو اپنے اوپر جاری کرے تو دوسرے قول پر صحیح ہے نہ کہ پہلے پر، نہر۔ اور یہ گزر چکا ہے کہ اعضاء غسل ایک عضو کی طرح ہیں، تو اگر اُس سے پانی جُدا ہو کر اعضاءِ غسل پر گرا اور اُس نے وہ اُن پر جاری کرلیا تو دونوں اقوال کے مطابق صحیح ہوگا اھ ملتقطا،

 (۱؎ ردالمحتار        باب المیاہ        مصطفی البابی مصر    ۱/۱۴۷)

وفی الھندیۃ عن التاتارخانیۃ لوتوضاء بالخل اوماء الورد لایصیر مستعملا عندالکل ۲؎ اھ

اور ہندیہ میں تاتارخانیہ سے نقل کرتے ہوئے فرمایا کہ اگر سرکہ سے یا گلاب کے عرق سے وضو کیا تو سب کے نزدیک مستعمل نہ ہوگا اھ۔ ت

 (۲؎ ہندیۃ        فیما لایجوزبہ الوضو    نورانی کتب خانہ پشاور    ۱/۲۳)

تنبیہ قال فی المنیۃ(۱) بعدما عرف المستعمل بماء ازیل بہ حدث اواستعمل فی البدن علی وجہ القربۃ مانصہ امرأۃ غسلت القدر اوالقصاع لایصیر الماء مستعملا ۳؎ اھ۔

تنبیہ مُنیہ میں ماءِ مستعمل کی تعریف میں کہا کہ ''وہ پانی جس سے کوئی حَدَث زائل کیا گیا ہو یا بدن پر قُربۃ کے طور پر استعمال کیا گیا ہو، پھر فرمایا کہ اگر کسی عورت نے ہانڈی یا بڑا پیالہ دھویا تو پانی مستعمل نہ ہوگا اھ۔ ت

 (۳؎ منیۃ المصلی    فی النجاسۃ         مکتبہ قادریہ لاہور    ص۱۰۸)

اقول وھو کما تری مطلق یشمل مااذانوت بہ اقامۃ سنۃ لاجرم ان قال فی الغنیۃ قولہ فی البدن احتراز عما اذا استعمل فی غیرہ من ثوب ونحوہ بنیۃ القربۃ فانہ لایصیر مستعملا ویتفرع علی ماذکرنا امرأۃ غسلت القدر اوالقصاع ۱؎ الخ

میں کہتا ہوں یہ مطلق ہے اس میں یہ صورت بھی شامل ہے جبکہ اُس عورت نے اس دھونے سے سنّت کی ادائیگی کا ارادہ کیا ہو، غنیہ میں کہا کہ اُن کا قول ''فی البدن'' اس صورت سے احتراز ہے جب کپڑے وغیرہ میں استعمال کیا ہو بہ نیت ''قُربۃ'' تو وہ مستعمل نہ ہوگا، اور جو ہم نے ذکر کیا اُس پر یہ تفریع ہوگی کہ کسی عورت نے ہانڈی یا پیالے دھوئے الخ

 (۱؎ غنیۃ المستملی        فی النجاسۃ    سہیل اکیڈمی لاہور    ص۱۵۳)

لکن قال فی الحلیۃ اما القدر والقصاع ونحوھمامن الاعیان الطاھرات کالبقول والثمار والثیاب والاحجارفلان الجمادات لایلحقھا حکم العبادۃ امالو نوت بذلک قربۃ بان غسلتھما من الطعام بقصد اقامۃ السنۃ کان ذلک الماء مستعملا ۲؎ اھ

مگر حلیہ میں فرمایا ''بہرحال ہانڈی پیالے وغیرہ یعنی پاک اشیا جیسے سبزیاں، پھل، کپڑے، پتھّر، تو اس لئے کہ جمادات پر عبادات کا حکم جاری نہیں ہوتا ہے، اگر ان کے ساتھ قربت کا ارادہ کیا یعنی کھانا لگ جانے کے بعد ان کو بطور سنّت دھویا تو یہ پانی مستعمل ہوجائے گا اھ(ت)

 (۲؎ حلیہ)

اقول اولا فیہ بعد(۱) ولم یعزہ لاحد وقد قید فی مختصر القدوری والھدایۃ والمنیۃ وغیرھا الاستعمال لقربۃ بکونہ فی البدن واقر علیہ ھذا المحقق ومفاھیم الکتب حجۃ ولذا جعلہ فی الغنیۃ احترازاً ومثلہ فی الجوھرۃ النیرۃ حیث قال قولہ فی البدن قید بہ لانہ ماکان من غسالۃ الجمادات کالقدور والقصاع والحجارۃ لایکون مستعملا ۳؎ الخ

میں کہتا ہوں اوّلاً اس میں بُعد ہے اس کو انہوں نے کسی کی طرف منسوب نہیں کیا ہے ہدایہ، مختصر قدوری اور منیہ وغیرہ میں قُربت کے استعمال کو بدن میں ہونے کے ساتھ مقید کیا ہے، اور اس محقق نے اسے برقرار رکھا ہے اور کتابوں کے مفاہیم ہمارے لئے حجت ہیں، اور اس لئے غنیہ میں اس کو قید احترازی قرار دیا ہے، اسی کی مثل جوہرہ نیرہ میں ہے وہ فرماتے ہیں ان کا قول ''فی البدن'' کیونکہ جمادات کا دھوون جیسے ہانڈیاں، پیالے، پتھر کا دھوون، مستعمل نہ ہوگا الخ

 (۳؎ الجوہرۃ النیرۃ    الطہارت    امدادیہ ملتان        ۱/۱۶)

وثانیا تراھم(۲) عن اخرھم یرسلون مسائل الاستعمال فی غیر بدن الانسان ارسالا تاما غیرجانحین الی تقییدھا بعدم نیۃ القربۃ کمسألۃ غسل(۱) الدابۃ المذکورۃ فی المبتغی والفتح والبحر والدر والتتارخانیۃ وغیرھا ومسألۃ القدور والقصاع ھذہ وغیرھا فاطباقھم علی اطلاقھا یؤذن باتفاقہم علی تقییدھا ببدن الانسان فان کل ذلک یحتمل نیۃ القربۃ کغسل ثوب ابویہ من الوسخ والثمار من الغبار لاکلھما واحجار فرش المسجد للتنظیف الی غیر ذلک فما من مباح الا ویمکن جعلہ قربۃ بنیۃ محمودۃ کما لایخفی علی عالم علم النیات وثالثا ھذا(۲) التقیید ھو القضیۃ للدلیل(۳) الذی جعل بہ اقامۃ القربۃ مغیر ا للماء عن وصف الطہوریۃ اعنی حملہ الاٰثام من البدن المستعمل فیہ فی الھدایۃ قال محمد رحمہ اللّٰہ تعالی لایصیر مستعملا الاباقامۃ القربۃ لان الاستعمال بانتقال نجاسۃ الاٰثام الیہ وانھا تزول بالقرب وابو یوسف رحمہ اللّٰہ تعالی یقول اسقاط الفرض مؤثر ایضا فیثبت الفساد بالامرین ۱؎ اھ

ثانیا فقہاء سب کے سب غیر انسان کے بدن میں استعمال کے مسائل کو مطلق رکھتے ہیں عدمِ نیتِ قربت کی قید نہیں لگا تے ہیں، جیسے گھوڑے کو غسل دینے کا مسئلہ جس کا ذکر مبتغی، فتح، بحر، دُرّ اور تتارخانیہ وغیرہ میں ہے اور کپڑے اور پتھروں کا مسئلہ _______ پھلوں کا مسئلہ، ہانڈیوں اور پیالوں کا مسئلہ وغیرہا تو اُن تمام فقہا کا ان کو مطلق رکھنے پر اتفاق کرلینا اس امر کی علامت ہے کہ وہ سب کے سب اس کو بدنِ انسانی کے ساتھ مقید کرنے پر متفق ہیں کیونکہ ان میں سے ہر ایک نیتِ قربت کا احتمال رکھتا ہے، جیسے اپنے والدین کے میلے کپڑوں کا دھونا، اور والدین کے کھلانے کیلئے پھلوں کا دھونا، اور مسجد کے فرش کا صفائی کیلئے دھونا وغیرہ تو ہر مباح کا نیت محمودہ سے قربت کرلینا ممکن ہے، اور نیتوں کا جاننے والا اِسے خوب جانتا ہے۔ثالثا یہ قید لگانا ہی دلیل کا تقاضا ہے جس کی وجہ سے قربت کی ادائیگی کو پانی کے وصف کو طہوریۃ سے متغیر کردینے والا قرار دیا تھا، یعنی اُس کا بدن سے گناہوں کا دُور کردینا۔ہدایہ میں ہے کہ امام محمد نے فرمایا پانی قربت کی ادائیگی سے ہی مستعمل ہوتا ہے کیونکہ استعمال کی وجہ گناہوں کا اُس کی طرف منتقل ہونا ہے، اور یہ چیز قُربت کی ادائیگی سے ہی ہوتی ہے، اور امام ابو یوسف فرماتے ہیں کہ اسقاطِ فرض بھی اس میں مؤثّر ہے تو دونوں صورتوں میں فساد ثابت ہوجائے گا اھ

 (۱؎ الہدایۃ    باب الماء الذی یجوزبہ الوضوء       المکتبۃ العربیۃ کراچی    ۱/۲۲)

وفی العنایۃ التغیر عندھما(ای تغیر الماء وتدنسہ عندالشیخین رضی اللّٰہ تعالی عنھما) انما یکون بزوال نجاسۃ حکمیۃ عن المحل وانتقالہا الی الماء وقد انتقلت الی الماء فی الحالین(ای حال اقامۃ القربۃ وحال اسقاط الواجب( کما تقدم من اعتبارھا بالنجاسۃ الحقیقیۃ فیثبت فساد الماء بالامرین جمیعا ۱؎ اھ موضحا،

اور عنایہ میں ہے کہ تغییر اُن دونوں کے نزدیک(یعنی پانی کا بدلنا اور اُس کا میلا ہونا شیخین رضی اللہ عنہما کے نزدیک( نجاست حُکمیہ کا محل سے زائل ہو کر پانی کی طرف منتقل ہونے کے باعث ہوگا، اور یہ نجاست دونوں صورتوں میں ہی پانی کی طرف منتقل ہوئی ہے)قربۃ کی ادائیگی اور اسقاط فرض دونوں صورتوں میں) جیسا کہ گزرا کہ اس کو نجاست حقیقیہ پر قیاس کیا گیا ہے، تو پانی کا فساد دونوں صورتوں میں ثابت ہوجائے گا اھ

 (۱؎ العنایۃ علی حاشیۃ فتح القدیر    باب الماء الذی یجوزبہ الوضوء        نوریہ رضویہ سکھر    ۱/۷۸)

ومثلہ فی البحر عن المحیط حیث قال تغیر الماء عند محمد باعتبار اقامۃ القربۃ بہ وعندھما باعتبار انہ تحول الیہ نجاسۃ حکمیۃ وفی الحالین تحول الی الماء نجاسۃ حکمیۃ فاوجب تغیرہ ۲؎ اھ

اسی قسم کی بات بحر میں محیط سے منقول ہے، وہ فرماتے ہیں پانی کا تغیر امام محمد کے نزدیک اس پر مبنی ہے کہ قُربت اُس سے ادا کی گئی ہے، اور شیخین کے نزدیک اس لئے ہے کہ پانی کی طرف نجاست حکمیہ منتقل ہوئی ہے اور دونوں حالتوں ہی میں پانی کی طرف نجاست حکمیہ منتقل ہوئی ہے اس لئے پانی متغیر ہوجائے گا اھ

 (۲؎ بحرالرائق        بحث الماء المستعمل    ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۱/۹۱)

وفی التبیین سببہ اقامۃ القربۃ اوازالۃ الحدث بہ عند ابی حنیفۃ وابی یوسف وعند محمد رضی اللّٰہ تعالی عنھم اقامۃ القربۃ لاغیر والاول اصح لان الاستعمال بانتقال نجاسۃ الحدث اونجاسۃ الاٰثام الیہ ۳؎ اھ

اور تبیین میں ہے اس کا سبب قُربۃ کا قائم کرنا ہے اور اُس سے حَدَث کا زائل کرنا ہے یہ شیخین کے نزدیک ہے، اور امام محمد کے نزدیک صرف قُربت کا ادا کرنا ہے، اور اول اصحّ ہے کیونکہ استعمال کا باعث یہ ہے کہ حَدَث کی نجاست اُس کی طرف منتقل ہوئی ہے یا گناہوں کی نجاست اس کی طرف منتقل ہوئی ہے اھ

 (۳؎ تبیین الحقائق    الماء المستعمل        بولاق مصر        ۱/۲۴)

وقال فی الکافی سؤر الکلب نجس لقولہ صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم یغسل الاناء من ولوغ الکلب ثلثا لایقال جاز ان یؤمر بالغسل تعبداکما امر المحدث بالوضوء لان الغسل تعبدالم یشرع الا فی طھارۃ الصلاۃ فانہ یقع للّٰہ تعالی عبادۃ والجمادات لایلحقہا حکم العبادات لانھا باعتبار نجاسۃ الاٰثام والجمادات لیست باھل لھا لایقال(۱) الحجر الذی استعمل فی رمی الجمار یغسل ویرمی ثانیا لاقامۃ القربۃ بہ لان الحجر الۃ الرمی وقد تتغیر الالۃ بنقل نجاسۃ الاٰثام الیھا کمال الزکٰوۃ والماء المستعمل ۱؎ اھ باختصار۔

اور کافی میں ہے کہ کُتّے کا جھُوٹا نجس ہے کیونکہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ''جس برتن کو کُتّا چاٹ لے اس کو تین مرتبہ دھویا جائے۔ اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ یہ بھی تو جائز ہے کہ غسل کا حکم تعبُّداً دیا جائے جیسے بے وضو کو وضو کا حکم دیا گیا، تو اس کا جواب یہ ہے کہ غسل تعبُّداً صرف نماز کی طہارت کیلئے مشروع ہوا ہے کیونکہ وہ اللہ کی عبادت ہے، اور جمادات کو عبادات کا حکم نہیں ہے، کیونکہ وہ گناہوں کی نجاست کی وجہ سے ہے، اور جمادات گناہوں کے اہل نہیں ہیں۔ اگر یہ اعتراض کیا جائےکہ وہ پتھر جو رمی جمرات میں استعمال ہوا ہو اس کو دھو کردوبارہ اُسی سے قربت کی ادائیگی کیلئے رمی کی جائے تو کیا حکم ہے، اس کا جواب یہ ہے کہ پتھر آلہ رمی ہے اور آلہ اس کی طرف گناہوں کے منتقل ہونے کی وجہ سے متغیر ہوجاتا ہے جیسے زکوٰۃ کا مال اور مستعمل پانی اھ باختصار۔

 (۱؎ کافی)

اقول وبما حثنا ھذہ ظھر وللّٰہ الحمد ان مطلق الوقایۃ والنقایۃ والکنز والغرر والاصلاح والملتقی والتنویر محمول علی مقید الکتاب والھدایۃ والمنیۃ ومما یؤیدہ اطباقھم علی اشتراط الانفصال عن العضو للحکم بالاستعمال وانما وقع(۱) المقال فی اشتراط القرار بعد الانفصال فشرطہ بعض المشائخ وبہ جزم فی الکنز مخالفا لکا فیہ واختارہ الامام فخرالاسلام وغیرہ فی شروح الجامع الصغیر وھو مذھب الامام ابی حفص الکبیر والامام ظھیر الدین المرغینانی وقال فی الخلاصۃ ھو المختار ورجحہ الاتقانی فی غایۃ البیان زاعماان فی عدم اشتراطہ حرجا کما بینہ مع جوابہ فی البحر والمذھب عندنا ھو حکم الاستعمال بمجرد الانفصال وصححہ فی الھدایۃ وکثیر من الکتب واعتمدہ فی الکافی وضعف خلافہ وعلیہ المحققون کما فی الفتح والعامۃ کما فی البحر بل فی المحیط ان القائل باشتراط الاستقرار الامام سفیٰن الثوری رحمہ اللّٰہ تعالٰی دون اھل المذھب وقد تکفل فی الفتح والبحر برد ماتعلقوا بہ واشار الیہ فی الدر وبالجملۃ المذکور فی کلام الفریقین ھو الانفصال عن العضو المؤذن بان المراداستعمالہ فی البدن لاغیر  واللّٰہ تعالٰی اعلم،

الحمدللہ ہماری ان بحثوں سے معلوم ہوا کہ وقایہ، نقایہ ، کنز، غُرر، اصلاح، ملتقی اور تنویر کا اطلاق کتاب(قدوری) ہدایہ اور منیہ کے مقید پر محمول ہے، اور اس کی تائید اس امر سے بھی ہوتی ہے کہ ان کا اتفاق ہے کہ پانی کا عضو سے جُدا ہونا اس کے مستعمل ہونے کیلئے شرط ہے۔ اختلاف صرف اس امر میں ہے کہ انفصال کے بعد قرار کی شرط ہے یا نہیں؟ تو بعض مشائخ نے اس کی شرط رکھی ہے اور اسی پر کنز میں جزم کیا ہے جو اسکی اپنی کافی کے خلاف ہے، اور اس کو امام فخرالاسلام نے جامع صغیر کی شروح میں مختار قرار دیا ہے، اور یہی ابو حفص کبیر اور امام ظہیر الدین مرغینانی کا مذہب ہے، اور خلاصہ میں اسی کو مختار قرار دیا ہے، اور غایۃ البیان میں علامہ اتقانی نے اس کو راجح قراردیا ہے اور فرمایا ہے کہ ا س کو شرط نہ کرنے میں حرج ہے جیسا کہ انہوں نے اس کو بیان کیا اور اس کا جواب بھی بحر میں دیا، اور ہمارے نزدیک پانی عضو سے جدا ہوتے ہی مستعمل ہوجاتا ہے، اسی کو ہدایہ میں صحیح کہا ہے، اور کافی میں اس پر اعتماد کیا ہے اور اس کے خلاف کو ضعیف قرار دیا ہے، اور اسی پر محققین ہیں جیسا کہ فتح میں اور عام کتب میں ہے کما فی البحر، بلکہ محیط میں ہے کہ استقرار کی شرط کے قائل امام سفیان ثوری ہیں، اہل مذہب نہیں ہیں اور فتح اور بحر میں اِن کے دلائل کا رد کیا ہے اور دُر میں اس کی طرف اشارہ کیا ہے، خلاصہ یہ ہے کہ فریقین کے کلام میں مذکور عضو سے منفصل ہونا ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ مراد اس کا بدن ہی میں استعمال ہے فقط نہ کہ اسکے غیر میں واللہ تعالٰی اعلم

ورابعا(۱) محل نظر کون غسل الاوانی بالماء لمجرد اثر الطعام قربۃ مطلوب بعینھا بل المطلوب ھو التنظیف وربما یحصل بلحس وبخرقۃ وبغیر ماء مطلق والاول(۲) اقرب الی التواضع والتأدب باٰداب السنۃ،

رابعا محلِ نظر یہ امر ہے کہ برتنوں کو محض اس لئے دھونا کہ اُن پر کھانے کا اثر ہے یہی قُربت مطلوبہ ہے بلکہ مطلوب صفائی ہے جو کبھی چاٹ کر بھی کپڑے سے اور کبھی ماء مطلق کے غیر سے حاصل ہوجاتی ہے اور پہلا اقرب الی التواضع ہے اور اس میں اتباع سنت بھی ہے،

فاخرج عـــــــــہ الامام مسلم فی صحیحہ عن جابر رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ ان النبی صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم امر بلعق الاصابع والصحفۃ وقال ا نکم لاتدرون فی ایہ البرکۃ ۱؎

چنانچہ امام مسلم نے اپنی صحیح میں حضرت جابر سے روایت کی کہ حضور اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے انگلیاں چاٹنے اور برتن چاٹنے کا حکم دیا اور فرمایا تم کو معلوم نہیں کہ کس چیز میں برکت ہوگی!

عـــــــــہ (۱) صحیح مسلم میں جابر رضی اللہ تعالی عنہ سے ہے نبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم انگلیاں اور رکابی چاٹنے کا حکم فرماتے اور ارشاد کرتے تمہیں کیا  معلوم کھانے کے کس حصہ میں برکت ہے یعنی شاید اسی حصے میں ہو جو انگلیوں یا برتن میں لگا رہ گیا ہے ۔

 (۱؎ صحیح لمسلم    استحباب لعق الاصابع    مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی    ۲/۱۷۵)

ولہ کاحمد وابی داؤد والترمذی والنسائی عن انس رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ ان رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم امرنا ان نسلت القصعۃ قال فانکم لاتدرون فی ای طعامکم البرکۃ عـــــــــہ ۲؎

اور امام مسلم، احمد، ابو داود، ترمذی اور نسائی نے حضرت انس سے مرفوعا روایت کی کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں برتن صاف کرنے کا حکم دیا ہے فرمایا تم کو پتا نہیں کہ تمہارے کھانے کے کس حصہ میں برکت ہے۔

عـــــــــہ (۲) مسلم و احمد وابوداؤد وترمذی ونسائی نے انس رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کی رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے ہمیں کھانا کھا کر پیالہ خوب  صاف کردینے کا حکم فرمایا کہ تم کیا جانو کہ تمھارے کون سےکھانے میں برکت ہے ۔

 (۲؎ صحیح لمسلم    استحباب لعق الاصابع    مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی    ۱/۱۷۶)

وللامام احمد والترمذی وابن ماجۃ عن نبیشۃ الخیر الہذلی رضی اللّٰہ تعالی عنہ قال قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ تعالی علیہ وسلم من اکل فی قصعۃ ثم لحسھا استغفرت لہاالقصعۃ عـــــــــہ ۱؎

امام احمد، ترمذی اور ابن ماجہ نے نبیشۃ الخیر الہذلی سے روایت کی کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے کسی پیالہ میں کھایا پھر اس کو چاٹا تو وہ پیالہ اس کیلئے استغفار کرے گا۔

عـــــــــہ: احمدو ترمذی و ابن ماجہ نے نبیشۃ الخیر الہذلی سے روای  کہ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو کسی پیالے میں کھانا کھا کر زبان سے اسے صاف کردے وہ پیالہ اس کیلئے دعائے مغفرت کرے گا۔

 (۱؎ مسند احمد بن حنبل عن نبیشۃ        بیروت    ۵/۷۶    )

زاد الامام الحکیم الترمذی عن انس رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ وصلت علیہ عـــــــــہ ۲؎

امام حکیم ترمذی نے حضرت انس سے یہ لفظ نقل کئے ''اور وہ برتن اس کے لئے دعا کرے گا''

عـــــــــہ:امام حکیم ترمذی اسی مضمون میں  حضرت انس سے راوی کہ فرمایا اور وہ برتن اس پر درود بھیجے

 (۲؎ کنزالعمال    اداب الاکل    مکتبہ التراث حلب    ۱۵/۲۵۳)

وزاد الدیلمی عنہ فتقول اللھم اعتقہ من النار کما اعتقنی من الشیطان عـــــــــہ ۳؎

اور دیلمی نے اُن سے روایت کی کہ وہ پیالہ کہے گا یا اللہ اس کو نارِ جہنم سے آزاد فرما جس طرح اس نے مجھ کو شیطان سے چھٹکارا دلایا ہے،

عـــــــــہ: دیلمی کی روایت میں ہے کہ فرمایا وہ پیالہ یوں کہے الہی! اسے آتش دوزخ سے بچا جس طرح اس نے مجھ کو شیطان سے بچایا یعنی برتن سنا ہوا چھوڑدیں تو شیطان اسے چاٹنا ہے۔

 (۳؎ کنزالعمال، اداب الاکل، مکتبہ التراث حلب    ۱۵/۲۵۳        )

والحاکم وابن حبان فی صحیحیھما والبیھقی فی الشعب عن جابر بن عبداللّٰہ رضی اللّٰہ تعالی عنہما فی حدیث یرفعہ الی رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ تعالی علیہ وسلم لایرفع القصعۃ حتی یلعقھا اویلعقہا فان فی اٰخر الطعام البرکۃ عـــــــــہ ۴؎۔

حاکم اور ابن حبّان نے اپنی صحیح میں اور بیہقی نے شعب میں جابر بن عبداللہ سے مرفوعاً روایت کیا، آپ نے فرمایا کہ پیالہ کو نہ اٹھائے تاوقتیکہ اس کو خود چاٹ لے یا دوسرے کو چاٹنے دے کیونکہ کھانے کے آخر میں برکت ہے۔

عـــــــــہ: حاکم و ابن حبّان و بیہقی جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالی عنھما  سے روای کہ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا کھاناکھا کر برتن نہ اٹھائے جب  تک اسے خود چاٹ نہ لے یا (مثلا کسی بچے یا خادم کو) چٹادےکہ کھانے کے پچھلے حصہ میں برکت ہے۔

 (۴؎ صحیح ابن حبان     اداب الاکل، مکتبہ التراث حلب    اثریہ سانگلہ ہل    ۸/۳۳۵)

وللحسن بن سفیٰن عن رائطۃ عن ابیہا رضی اللّٰہ تعالی عنہا عن النبی صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم لان العق القصعۃ احب الی من ان اتصدق بمثلھا طعاما عـــــــــہ ۵؎

اور حسن بن سفیان رائطہ سے وہ اپنے باپ سے وہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ میرے نزدیک پیالہ کا چاٹ لینا اس کی مقدار میں کھانے کے صدقہ کرنے سے افضل ہے،

عـــــــــہ:مسند  حسن بن سفیان میں والد رائطہ رضی اللّٰہ تعالی عنہما سے ہے رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا پیالہ  چاٹ لینا مجھے اس سے زیادہ محبوب ہے کہ اس پیالے بھر کھانا تصدق کروں یعنی چاٹنے میں جو تواضع ہے اس کا ثواب اس تصدق کے ثواب سے زیادہ ہے ۔

 (۵؎ کنزالعمال    اداب الاکل، مکتبہ التراث حلب ۵/۲۷        )

وللطبرانی فی الکبیر عن العرباض بن ساریۃ رضی اللّٰہ تعالی عنہ عن النبی صلی اللّٰہ تعالی علیہ وسلم من لعق الصحفۃ ولعق اصابعہ اشبعہ اللّٰہ تعالٰی فی الدنیا والاخرۃ عـــــــــہ ۶؎

اور طبرانی نے کبیر میں عرباض بن ساریہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی ہے کہ جس نے پلیٹ کو چاٹا اور انگلیوں کو چاٹا اللہ اس کو دینا اور آخرت میں شکم سیر فرمائے گا۔

عـــــــــہ: معجم کبیر میں عرباض بن ساریہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے ہے رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا جو رکابی اور اپنی انگلیاں چاٹے اللہ تعالی دنیا اور آخرت میں اس کا پیٹ بھرے ۔ یعنی دنیا میں فقروفاقہ سے بچے قیامت کی بھُوک سے محفوظ رہے دوزخ سے پناہ دیا جائے کہ دوزخ میں کسی کا پیٹ نہ بھرے گا اُس میں وہ کھانا ہے کہ لایسمن ولا یغنی من جوع نہ فربہی لائے نہ بھوک میں کچھ کام آئے والعیاذ باللہ۔)

 (۶؎ مجمع الزوائدباب العق الصحفہ والا صابع        بیروت    ۵/۲۷)

وخصوص الغسل بالماء من الامور العادیۃ الشائعۃ بین المؤمنین والکفار فاذا نوی شرط ۱۲ سنۃ التنظیف عـــــــــہ ای التنظیف لانہ سنۃ ادخلہ بنیتہ تحت عام محمود فکان کمتوضیئ توضأ للتعلیم۔

اور پانی کیساتھ دھونے کی خصوصیت ایک عادی امر ہے اس میں مومن وکافر کا بھی فرق نہیں، اب اگر اس نے تنظیف سے سنّت کی نیت کی تو اس نے اس کو اپنی نیت سے ایک محمود عام کے تحت داخل کیا تو یہ اس شخص کی طرح ہوگا جس نے تعلیم کے لئے وضو کیا۔

عـــــــــہ :یرید ان الاضافۃ بیانیۃ لالامیۃ لیصیر الغسل سنۃ فی ھذا التنظیف بل المعنی نوی سنۃ ھو التنظیف ای نوی التنطیف لکونہ سنۃ اھ منہ(م)

اضافت بیانیہ مراد ہے لامیہ نہیں تاکہ اس تنظیف میں دھونا سنّت بن جائے بلکہ معنی یہ ہے کہ سنّت کی نیت کی اور وہ تنظیف ہے یعنی تنظیف کی نیت کی کیونکہ وہ سنّت ہے اھ(ت)

ثم اقول تحقیق(۱) المقام علی ماعلمنی الملک العلام ان(۲) لیس کل ماجُعل قربۃ مغیرا للماء عن الطھوریۃ بل یجب ان یکون الفعل المخصوص الذی یحصل بالماء اولا وبالذات قربۃ مطلوبۃ فی الشرع بخصوصہ ومرجعہ الی ان تکون القربۃ المطلوبۃ عینا لاتقوم الا بالماء اذلو جازان تحصل بدونہ لکان لتحققہا موارد منھا مایحصل بالماء ومنھا غیرہ فما یحصل بالماء اولاوبالذات لایکون مطلوبا بعینہ بل محصلا لمطلوب بعینہ فیتحصل ان یکون نفس انفاق الماء فی ذلک الفعل مطلوبا فی الشرع عینا اذ المطلوب عینا لم یحصل الا بہ کان ایضا مطلوبا عینا کالمضمضۃ والاستنشاق فی الوضوء والتثلیث فیہ وفی الغسل ولو للمیت ولعلک تظن ان ھذہ فائدۃ لم تعرف الا من قبل العلامۃ صاحب البحر وتبعہ علیہ اخوہ فی النھر۔

اللہ تعالٰی کے فضل وکرم سے اس مقام کی جو تحقیق میری سمجھ میں آئی ہے وہ یہ ہے کہ ہر وہ چیز جو قُربۃ ہے وہ پانی کو طہوریۃ سے بدلنے والی نہیں ہے بلکہ ضروری ہے کہ وہ مخصوص فعل جو پانی سے ادا کیا جارہا ہے وہ اوّلا وبالذات شریعت کی نگاہ میں قُربۃ مطلوبہ ہو، اور اُس کا خلاصہ یہ ہے کہ قربۃ مطلوبہ ایک ایسا عین ہو جو پانی کے ساتھ ہی قائم ہو کیونکہ اگر اُس کے بغیر وہ قربۃ حاصل ہوجائے تو اُس کے وجود کے کئی موارد ہوں گے کچھ توپانی سے حاصل ہوں گے اور کچھ بغیر پانی کے حاصل ہوں گے تو جو چیز پانی سے اولاً وبالذات حاصل ہو تو وہ بعینہٖ مطلوب نہ ہوگی بلکہ بعینہ مطلوب کو حاصل کرنے والی ہوگی اس کا حاصل یہ ہوگا کہ محض پانی کا اس فعل میں صرف کرنا شرعاً مطلوب بعینہٖ ہو کیونکہ مطلوب بعینہٖ جب اس پر موقوف ہے تویہ بھی مطلوب بعینہٖ ہوجائے گا جیسے کُلّی، ناک میں پانی ڈالنا وضو میں، اور تثلیث وضو وغُسل میں اگرچہ میت کے غسل میں ہو، اور شاید ہمارے قارئین کو یہ خیال گزرے کہ یہ فائدہ تو صاحب بحر اور ان کے بھائی صاحب نہر کے کلام ہی سے معلوم ہوا ہے،

اقول کلا بل المسألۃ اعنی وضوء المتوضیئ للتعلیم منصوص علیھا فی المبتغی والفتح وغیرھما من کتب المذھب وقد نص فی الدّرانھا متفق علیھا ولا شک انھا صریحۃ فی تلک الافادۃ فان التعلیم قربۃ مطلوبۃ قطعا وقد نواہ بھذا التوضی وھو فی ھذا الخصوص ایضا متبع للسنۃ الماضیۃ ان البیان بالفعل اقوی من البیان بالقول ومع ذلک اجمعوا انہ لایصیر مستعملا فکان اجماعا ان لیس کل قربۃ تغیر الماء بل التی لاتقوم الا بالماء اذلا فارق فی التوضی بنیۃ التعلیم وبنیۃ الوضوء علی الوضوء الا ھذا ثم لابدان تکون التی تتوقف علی الماء قربۃ مطلوبۃ بعینہا والا لعاد الفرق ضائعا اذلا شک ان الوضوء للتعلیم محصل لقربۃ مطلوبۃ شرعا فیکون قربۃوھولایقوم الابالماء لکن الشرع لم یطلبہ عینا انما طلب التعلیم وھو لایتوقف علی انفاق الماء فاستقر عرش التحقیق علی ماافاد البحر وظھر ان الصواب فی فرع القدور والقصاع مع الغنیۃ فلذا عولنا علیہ۔

تو میں کہتا ہوں یہ بات نہیں ہے بلکہ تعلیم کیلئے وضو کرنے کا مسئلہ مبتغی اور فتح وغیرہ کتب مذہب میں منصوص ہے اور دُرّ میں تصریح کی ہے کہ یہ متفق علیہا ہے، اور اس میں شک نہیں کہ وہ اس فائدہ میں صریح ہے، کیونکہ تعلیم قطعی طور پر قُربۃ ہے اور اس وضو سے اُس نے اُسی کی نیت کی ہے اور وہ اس خصوص میں گزشتہ سنت کی پیروی کرنے والا ہے کہ فعل کے ذریعہ بیان قول کے ذریعہ بیان سے اقوٰی ہوتا ہے، باوجود اس کے اُن کا اس امر پر اتفاق ہے کہ پانی مستعمل نہ ہوگا، تو یہ اجماع ہوگیا اس امر پر کہ ہر قربۃ پانی کو متغیر نہیں کرتی ہے بلکہ صرف وہ قربت کرتی ہے جو پانی کے ساتھ ہی قائم ہو کیونکہ بہ نیت تعلیم وضو کرنے اور وضو بر وضو کی نیت میں فرق کرنے والی یہی چیز ہے۔ پھر جس قربت کا پانی پر موقوف ہونا لازم ہے وہ بعینہا مطلوب ہو ورنہ فرق ضائع ہوجائے گا کیونکہ تعلیم کیلئے کیا جانے والا وضو شرعی قربت کو حاصل کرنے والا ہے تو یہ قربت ہوگا، اور وضو صرف پانی سے ہی ہوتا ہے لیکن شریعت میں وہ بعینہٖ مطلوب نہیں ہے وہ تعلیم کیلئے مطلوب ہے اور تعلیم پانی خرچ کرنے پر موقوف نہیں ہے تو تحقیق وہی درست ہے جو بحر میں ہے اور یہ بھی ظاہر ہوا کہ ہانڈیاں اور پیالوں کے مسائل متفرقہ میں حق وہ ہے جو غنیہ میں ہے لہٰذا ہم نے اسی پر اعتماد کیا۔ ت

اقول ومما(۱) یؤیدہ اطلاقھم قاطبۃ مسألۃ التوضی والاغتسال للتبرد مع(۲) ان التبرد ربما یکون لجمع الخاطر للعبادۃ والتقوی علی مطالعۃ کتب العلم وھو لاشک اذن من القرب فکل مباح فعلہ العبد المؤمن بنیۃ خیر خیر غیرانہ لم یطلب عینا فی الشرع وان ساغ ان یصیرو سیلۃ الی مطلوب واعظم منہ(۱) مسألۃ الاغتسال لازالۃ الدرن(۲) فھو مطلوب عینا فی الشرع فانما بنی الدین علی النظافۃ وقد کانت ھذہ حکمۃ الامر بالاغتسال یوم الجمعۃ کما افصحت بہ الاحادیث بیدان ازالۃ الوسخ لایتوقف علی الماء فلم یکن مما طلب فیہ الشرع انفاق الماء عینا بخلاف غسل(۳) الجمعۃ والعیدین وعرفۃ والاحرام فان من اغتسل فیھا بماء ثمراو نبیذ تمر مثلا لم یکن اٰتیا بالسنۃ قطعا اوان ازال بہ الوسخ وبالدرن(۴) وذلک ان الحکم یکون لحکمۃ ولکن العباد مامورون باتباع الحکم دون الحکمۃ کما قدعرف فی موضعہ وھنا لک تم الرد علی مسألۃ القصعۃ والقدر،

پھر اس کی تائید تمام فقہاء کے اس اطلاق سے ملتی ہے کہ وہ فر ماتے ہیں کہ وضو اور غسل ٹھنڈک حاصل کرنے کیلئے کرنا، حالانکہ ٹھنڈک حاصل کرنا کبھی اس غرض سے بھی ہوتا ہے کہ انسان عبادت میں پرسکون رہے یا مطالعہ اطمینان سے کرسکے اور بلا شبہ اس صورت میں یہ عبادت ہوگا کیونکہ ہر مباح جو انسان خیر کی نیت سے کرے خیر ہے، البتہ وہ بعینہٖ مطلوب شرع نہیں، اگرچہ مطلوب کا وسیلہ بن سکتا ہے اس سے بڑی بات غسل کا مسئلہ ہے میل دور کرنے کیلئے یہ بعینہٖ مطلوب شرع ہے دین کی بنیاد ہی نظافت پر ہے اور جمعہ کے دن غسل کے حکم کی حکمت یہی ہے، جیسا کہ احادیث میں مذکور ہے کہ البتہ میل کا زائل کرنا پانی پر ہی موقوف نہیں، لہٰذا پانی کا خرچ کرنا بعینہ مطلوب شرع نہ ہوا، اور جمعہ، عیدین، وقوف بعرفہ، اورا حرام کا غسل شرعاً مطلوب ہے، ان غسلوں کو اگر کسی نے پھلوں کے عرق یا شیرہ کھجورسے کیا تو قطعی طور پر سنّت کی اتباع نہ ہوگی، خواہ اس سے میل کچیل زائل ہوجائے، اور اس کی وجہ یہ ہے کہ حکم کسی نہ کسی حکمت پر مبنی ہوتا ہے، لیکن بندوں پر حکم کی پابندی ہے نہ کہ حکمۃ کی۔ یہ بات اپنے مقام پر مذکور ہے یہاں تک پیالہ اور ہانڈی کے مسئلہ پر ردمکمل ہوا،

وتبین وللّٰہ الحمد ان المراد بالقربۃ ھھنا ھی المتعلقۃ بظاھر بدن الانسان مما ادار الشرع فیہ اقامۃ نفس القربۃ المطلوبۃ ولو ندبا علی امساس الماء عینا ولو مسحا بشرۃ بشر ولو میتا فزال الابہام واتضح المرام وظھرت فی الفروع کلھا الاحکام والحمدللّٰہ ولی الانعام،

اور الحمدللہ یہ بات واضح ہوگئی کہ قربت سے مراد اس مقام پر وہ قربۃ ہے جس کا تعلق ظاہر بدن سے ہو جس میں شریعت نے قربت مطلوب، خواہ ندبا ہی ہو، کا دارومدار اس پر کیا ہے کہ انسان، خواہ مردہ ہی ہو، کی جلد پر بعینہٖ پانی لگے، خواہ بطور مسح ہی ہو، اس سے ہمارا مقصود واضح ہوا اور مسئلہ کے فروع واحکام ظاہر ہوئے الحمدللہ ولی الانعام۔

والاٰن عسی ان تقوم تقول اٰل الامر الی ان الماء انما یصیر مستعملا اذا انفق فیما کان انفاقہ فیہ مطلوبا فی الشرع عینا فما الفارق فیہ وفیما اذا انفق فی قربۃ مطلوبۃ شرعا من دون توقف علی الماء خصوصا کیف لعموم قولہ تعالی  ان الحسنات یذھبن السیاٰت ذلک ذکری للذاکرین ۱؎o

اب اس مقام پر ممکن ہے کہ یہ کہا جائے کہ مستعمل پانی وہ ہوتا ہے جو کسی ایسے عمل میں خرچ ہوا ہو کہ جس میں اس کا خرچ کیا جانا بعینہ مطلوب شرع ہو تو اِس صورت میں اور جب پانی ایسی قربۃ میں خرچ کیا گیا ہو جو شرعاً مطلوب تو ہو مگر پانی پر موقوف نہ ہو کیا فرق ہوگا؟ جبکہ پانی میں تغیر پیدا کرنے والی چیز اس کی طرف نجاست حکمیہ کا آنا ہے اور گناہوں کی نجاست بھی نجاست حکمیہ ہی ہے، جو کُلَّا یا بعضاً ہر قربت سے دُھل جاتی ہے جیسا کہ فرمانِ الٰہی '' ان الحسنٰت یذھبن السیئٰت (نیکیاں برائیوں کو ختم کردیتی ہیں یہ ذاکرین کیلئے نصیحت ہے( کہ عموم کا تقاضا ہے۔(ت)

 (۱؎ القرآن        ۱۱/۱۱۴)

اقول نعم(۱) ولوجہ اللّٰہ الحمد ابدا تزول الاٰثام باذن اللّٰہ بکل قربۃ رحمۃ منہ جلت اٰلاؤہ بھذہ الامۃ المبارکۃ المرحومۃ دنیا واخری بنبیھا الکریم الرؤوف الرحیم المرسل رحمۃ والمبعوث نعمۃ افضل صلوات ربہ واجمل تسلیماتہ وازکی برکاتہ وادوم تحیاتہ علیہ وعلی الہ وصحبہ وامتہ ابدا ولکن الزوال بقربۃ لایوجب التحول الی اٰلتھا التی اقیمت بھا وما علمنا ذلک الافی اٰلۃ عینھا الشرع کالمال فی الزکوۃ والماء فی الطھر لقولہ صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم فی الصدقات انما ھی اوسخ الناس ۲؎ رواہ احمد ومسلم عن عبدالمطلب بن ربیعۃ رضی اللّٰہ تعالی عنہ،

میں کہتا ہوں ہاں یہ درست ہے گناہ ہر عبادت سے اللہ کی رحمت سے زائل ہوجاتے ہیں ....... مگر گناہوں کا کسی قربت کی وجہ سے زائل ہونا اس امر کا متقاضی نہیں کہ وہ آلہ تطہیر کی طرف منتقل ہوجائیں، یہ بات صرف اُسی آلہ میں ہے جس کو شریعت نے متعین کیا ہو جیسے زکوٰۃ میں مال اور طہارت میں پانی، کیونکہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ زکوٰۃ لوگوں کا میل کچیل ہے، اس کو احمد ومسلم نے عبدالمطلب بن ربیعہ سے روایت کیا۔

 (۲؎ صحیح للمسلم    تحریم الزکوٰۃ علی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم    قدیمی کتب خانہ کراچی    ۱/۳۴۵)

وقولہ صلی اللّٰہ تعالی علیہ وسلم من توضأ فاحسن الوضوء خرجت خطایاہ من جسدہ حتی تخرج من تحت اظفارہ ۳؎ رواہ الشیخان عن امیر المومنین عثمان رضی اللّٰہ تعالی عنہ،

اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جس نے اچھی طرح وضو کیا تو گناہ اُس کے جسم سے نکلیں گے یہاں تک کہ اُس کے ناخنوں کے نیچے سے نکلیں گے، اس کو شیخین نے امیر المؤمنین عثمان رضی اللہ عنہ سے روایت کیا،

 (۳؎ صحیح للمسلم     خروج الخطایا مع ماء الوضوء        قدیمی کتب خانہ کراچی    ۱/۱۲۵)

وقولہ صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم اذا توضأ العبد المسلم اوالمؤمن فغسل وجہہ خرج من وجہ کل خطیئۃ نظر الیہا بعینیہ مع الماء اومع اٰخر قطر الماء فاذا غسل یدیہ خرج من یدیہ کل خطیئۃ کان بطشتھا یداہ مع الماء اومع اٰخر قطرالماء فاذا غسل رجلیہ خرج کل خطیئۃ مشتھارجلاہ مع الماء اومع اٰخر قطرالماء حتی یخرج نقیامن الذنوب ۱؎ رواہ مسلم عن ابی ھریرۃ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ،

اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب مسلم یا مومن بندہ وضو میں اپنا چہرہ دھوتا تو اُس کے چہرہ سے ہر گناہ نکل جاتا ہے جس کی طرف اس نے اپنی دونوں آنکھوں سے دیکھا ہو پانی کے ساتھ یا آخری قطرہ کے ساتھ، جب وہ اپنے دونوں ہاتھ دھوتا ہے تو جو گناہ اس نے اپنے ہاتھوں سے کئے وہ پانی کے ساتھ یا پانی کے آخری قطرہ کے ساتھ نکل جاتے ہیں اور جب وہ اپنے پیر دھوتا ہے تو اُس کے پیروں کے گناہ پانی کے ساتھ یا پانی کے آخری قطرہ کے ساتھ نکل جاتے ہیں یہاں تک کہ وہ گناہوں سے پاک وصاف ہوجاتا ہے۔ اس کو مسلم نے ابو ھریرہ سے روایت کیا۔

 (۱؎ صحیح للمسلم        خروج الخطاء مع ماء الوضوء    قدیمی کتب خانہ کراچی    ۱/۱۲۵)

والاحادیث کثیر شھیر فی ھذا المعنی واصحاب(۱) المشاھدۃ الحقۃ اعاد اللّٰہ علینا من برکاتھم فی الدنیا والاٰخرۃ یشاھدون ماء الوضوء یخرج من اعضاء الناس متلوثا بالاٰثام متلونا بالوانھا البشعۃ وعن ھذا حکم امام اھل الشھود ابو حنیفۃ رضی اللّٰہ تعالی عنہ ان الماء المستعمل نجاسۃ مغلظۃ لانہ کان یراہ متلطخا بتلک القاذورات فما کان یسعہ الا الحکم بھذاوکیف یردالانسان امرا یراہ بالعیان قالا الامام العارف باللّٰہ سیدی عبدالوھاب الشعرانی قدس سرہ الربانی وکان من کبار العلماء الشافعیۃ فی میزان الشریعۃ الکبری سمعت سیدی علیا الخواص رضی اللّٰہ تعالی عنہ(وکان ایضا شافعیا کما سیأتی)یقول(۲) مدارک الامام ابی حنیفۃ رضی اللّٰہ تعالی عنہ دقیقۃ لایکاد یطلع علیھا الا اھل الکشف من اکابر الاولیاء قال وکان الامام ابو حنیفۃ اذ رأی ماء المیضأۃ یعرف سائر الذنوب التی خرت فیہ من کبائر وصغائر ومکروہات فلہذا جعل ماء الطہارۃ اذا تطھر بہ المکلف لہ ثلثۃ احوال احدھا انہ کالنجاسۃ المغلظۃ لاحتمال ان یکون المکلف ارتکب کبیرۃ الثانی کالنجاسۃ المتوسطۃ لاحتمال ان یکون ارتکب صغیرۃ الثالث طاھر غیر مطھر لاحتمال ان یکون ارتکب مکروھا ۱؎

اور اس مفہوم کی احادیث بکثرت مشہور ومعروف ہیں، اور اصحاب مشاہدہ اپنی آنکھوں سے وضو کے پانی سے لوگوں کے گناہوں کو دھلتا ہوا دیکھتے ہیں، اور یہی وجہ ہے کہ اہل شہود کے امام ابو حنیفہ نے فرمایا کہ مستعمل پانی نجاست مغلظہ ہے کیونکہ وہ اس پانی کو گندگیوں میں ملوّث دیکھتے تھے، تو ظاہر ہے کہ وہ دیکھتے ہوئے، اس کے علاوہ اور کیا حکم لگا سکتے تھے۔امام شعرانی نے میزان الشریعۃ الکبری میں فرمایا کہ میں نے سیدی علی الخواص(جو بڑے شافعی عالم تھے( کو فرماتے سُنا ہے کہ امام ابو حنیفہ کے مشاہدات اتنے دقیق ہیں جن پر بڑے بڑے صاحبانِ کشف اولیاءاللہ ہی مطلع ہوسکتے ہیں، فرماتے ہیں امام ابو حنیفہ جب وضو میں استعمال شدہ پانی دیکھتے تو اس میں جتنے صغائر وکبائر مکروہات ہوتے ان کو پہچان لیتے تھے، اس لئے جس پانی کو مکلّف نے استعمال کیا ہو اس کے تین درجات آپ نے مقرر فرمائے:

اوّل: وہ نجاست مغلظہ ہے کیونکہ اس امر کا احتمال ہے کہ مکلّف نے گناہِ کبیرہ کا ارتکاب کیا ہو۔
دوم: نجاست متوسطہ اس لئے کہ احتمال ہے کہ مکلف نے صغیرہ کا ارتکاب کیا ہو۔
سوم: طاہر غیر مطَہِّر، کیونکہ احتمال ہے کہ اس نے مکروہ کا ارتکاب کیا ہو،

 (۱؎ المیزان الکبرٰی    کتاب الطہارۃ    مصطفی البابی مصر    ۱/۱۰۹)

وفھم جماعۃ من مقلدیہ ان ھذہ الثلثۃ اقوال فی حال واحد والحال انھا فی احوال بحسب حصر الذنوب فی ثلٰثۃ اقسام کما ذکرنا اھ وفیہ ایضا رضی اللّٰہ عن الامام ابی حنیفۃ ورحم اصحابہ حیث قسموا النجاسۃ الی مغلظۃ ومخففۃ لان المعاصی لاتخرج عن کونھا کبائر اوصغائر ۲؎

ان کے بعض مقلدین سمجھ بیٹھے کہ یہ ابو حنیفہ کے تین اقوال ہیں ایک ہی حالت میں، حالانکہ امر واقعہ یہ ہے کہ یہ تین اقوال گناہوں کی اقسام کے اعتبار سے ہیں جیسا کہ ہم نے ذکر کیا اھ اور اسی کتاب میں ہے کہ امام ابو حنیفہ اور ان کے اصحاب نے نجاست کو مغلظہ اور مخففہ میں تقسیم کیا ہے، کیونکہ معاصی، کبائر ہوں گے یا صغائر۔

 (۲؎ المیزان الکبری    کتاب الطہارۃ    مصطفی البابی مصر        ۱/۱۰۸)

وسمعت سیدی علیا الخواص رحمہ اللّٰہ تعالٰی لوکشف للعبد لرأی الماء الذی یتطھر منہ الناس فی غایۃ القذارۃ والنتن فکانت نفسہ لاتطیب باستعمالہ کمالا تطیب باستعمال ماء قلیل مات فیہ کلب اوھرۃ قلت لہ فاذن کان(۱) الامام ابو حنیفۃ وابو یوسف من اھل الکشف حیث قالا بنجاسۃ الماء المستعمل قال نعم کان ابو حنیفۃ وصاحبہ من اعظم اھل الکشف فکان اذا رأی الماء الذی یتوضأ منہ الناس یعرف اعیان تلک الخطایا التی خرت فی الماء ویمیز غسالۃ الکبائر عن الصغائر والصغائر عن المکروھات والمکروھات عن خلاف الاولی کالامور المجسدۃ حسا علی حد سواء قال وقد بلغنا انہ دخل مطھرۃ جامع الکوفۃ فرأی شابا یتوضأ فنظر فی الماء المتقاطر منہ فقال یاولدی تب عن عقوق الوالدین فقال تبت الی اللّٰہ عن ذلک ورأی غسالۃ شخص اخر فقال لہ یااخی تب من الزنا فقال تبت ورأی غسالۃ اخر فقال تب من شرب الخمر وسماع اٰلات اللھو فقال تبت ۱؎ اھ

اور میں نے سیدی علی الخواص کو فرماتے سنا کہ اگر انسان پر کشف ہوجائے وہ طہارت میں استعمال کئے جانے والے پانی کو انتہائی گندہ اور بدبودار دیکھے گا اور وہ اس پانی کو اسی طرح استعمال نہ کرسکے گا جیسے اُس پانی کو استعمال نہیں کرتا ہے جس میں کتّا بلّی مرگئی ہو میں نے اُن سے کہا اس سے معلوم ہوا کہ ابو حنیفہ اور ابو یوسف اہل کشف سے تھے کیونکہ یہ مستعمل کی نجاست کے قائل تھے، تو انہوں نے کہا جی ہاں۔ ابو حنیفہ او ر ان کے صاحب بڑے اہل کشف تھے، جب وہ اُس پانی کو دیکھتے جس کو لوگوں نے وضو میں استعمال کیا ہوتا تو وہ پا نی میں گرتے ہوئے گناہوں کو پہچان لیتے تھے اور کبائر کے دھوون کو صغائر کے دھوون سے الگ ممتاز کرسکتے تھے، اور صغائر کے دھوون کو مکروہات سے اور مکروہات کے دھوون کو خلافِ اولیٰ سے ممتاز کرسکتے تھے اسی طرح جیسے محسوس اشیاء ایک دوسرے سے الگ ممتاز ہوا کرتی ہیں، فرمایا کہ ہمیں یہ روایت پہنچی ہے کہ ایک مرتبہ آپ جامع کوفہ کے طہارت خانہ میں داخل ہوئے، تو دیکھا کہ ایک جوان وضو کررہا ہے، اور پانی کے قطرات اُس سے ٹپک رہے ہیں تو فرمایا اے میر ے بیٹے! والدین کی نافرمانی سے توبہ کر۔ اس نے فوراً کہا میں نے توبہ کی۔ ایک دوسرے شخص کے پانی کے قطرات دیکھے تو فرمایا اے میرے بھائی! زنا سے توبہ کر۔ اس نے کہا میں نے توبہ کی۔ ایک اور شخص کے وضو کا پانی گرتا ہوا دیکھا تواُس سے فرمایا شراب نوشی اور فحش گانے بجانے سے توبہ کر۔ اس نے کہا میں نے توبہ کی اھ

 (۱؎ المیزان الکبری    الطہارۃ    مصطفی البابی مصر    ۱/۱۰۹)

ۤ وفیہ ایضا رحمہ اللّٰہ تعالی مقلدی الامام ابی حنیفۃ رضی اللّٰہ تعالی عنہ حیث منعوا الطھارۃ من ماء المطاھر التی لم تستجر لما یخر فیھا من خطایا المتوضئین وامروا اتباعھم بالوضوء من الانھاراوالاٰبار اوالبرک الکبیرۃ وکان سیدی علی الخواص رحمہ اللّٰہ تعالی مع کونہ شافعیا لایتؤضا من مطاھر المساجد فی اکثر اوقاتہ ویقول ان ماء ھذہ المطاھر لاینعش جسدامثالنا لتقذرھا بالخطایا التی خرت فیھا وکان یمیز بین غسالات الذنوب ویعرف غسالۃ الحرام من المکروہ من خلاف الاولی ودخلت معہ مرۃ میضأۃ المدرسۃ الازھریۃ فاراد ان یستنجی من المغطس فنظر ورجع فقلت لم قال رایت فیہ غسالۃ ذنب کبیر غیرتہ فی ھذا الوقت وکنت انارأیت الذی دخل قبل الشیخ وخرج فتبعتہ فاخبرتہ الخبر فقال صدق الشیخ قد وقعت فی زنا ثم جاء الی الشیخ وتاب ھذا امر شاھد تہ من الشیخ ۱؎ اھ کلہ ملتقطا وسقتہ ھھنا لجمیل فائدتہ وجلیل عائدتہ ولیس ماعینتہ انت اٰلۃ لقربۃ فی معنی ماعینہ الشارع فلا یلتحق۔

اسی میں حضرت امام ابو حنیفہ کے بعض مقلدین سے مروی ہے کہ انہوں نے اُن وضو خانوں کے پانی سے وضو کو منع کیا ہے جن میں پانی جاری نہ ہو کیونکہ اُس میں وضو کرنے والوں کے گناہ بہتے ہیں، اور اُنہوں نے حکم دیا کہ وہ نہروں کنوؤں اور بڑے حوضوں کے پانی سے وضو کریں۔ اور سیدی علی الخواص باوجود شافعی المذہب ہونے کے مساجد کے طہارت خانوں میں اکثر اوقات وضو نہیں کرتے تھے اور فرماتے تھے کہ یہ پانی ہم جیسے لوگوں کے جسموں کو صاف نہیں کرتا ہے کیونکہ یہ اُن گناہوں سے آلودہ ہے جو اس میں مل گئے ہیں، اور وہ گناہوں کے دھوون میں یہ فرق بھی کرلیتے تھے کہ یہ حرام کا ہے یا مکروہ کا یا خلاف اولٰی کا، اور ایک دن میں ان کے ساتھ مدرسۃ الازہر کے وضو خانہ میں داخل ہوا تو انہوں نے ارادہ کیا کہ حوض سے استنجا کریں، تو اس کو دیکھ کر لوٹ آئے میں نے دریافت کیا کیوں؟ تو فرمایا کہ میں نے اس میں ایک گناہ کبیرہ کا دھوون دیکھا ہے جس نے اس کو متغیر کردیا ہے، اور میں نے اُس شخص کو بھی دیکھا تھا جو حضرت شیخ سے قبل وضو خانہ میں داخل ہوا تھا، پھر میں اُس کے پیچھے پیچھے گیا اور اُس کو حضرت شیخ نے جو کہا تھا اس کی خبر دی، اُس نے تصدیق کی اور کہا کہ مجھ سے زنا واقع ہوا، اور حضرت شیخ کے ہاتھ پر آکر تائب ہوا۔ یہ میرا اپنا مشاہدہ ہے اھ یہ سب ماخوذ ہے اس کے عظیم فائدہ کیلئے میں نے اس کو ذکر کیا ہے، اور جس کو آپ نے قربت کا آلہ قرار دیا ہے وہ اس معنی میں نہیں ہے جس کو شارع نے معین کیا ہے تو یہ اس کے ساتھ لاحق نہ کیا جائے۔ ت

 (۱ المیزان الکبری    کتاب الطہارۃ    مصطفی البابی مصر    ۱/۱۱۰)


اقول بل الدلیل ناھض علی عدم الالتحاق الاتری ان ارواء الظماٰن قربۃ مطلوبۃ قطعا وقدورد(۱) فیہ خصوصا انہ محاء للذنوب اخرج الخطیب عن انس بن مالک رضی اللّٰہ تعالی عنہ عن النبی صلی اللّٰہ تعالی علیہ وسلم اذا کثرت ذنوبک فاسق الماء علی الماء تتناثر کما یتناثر الورق من الشجر فی الریح العاصف ۲؎ اھ

میں کہتا ہوں بلکہ دلیل عدم التحاق پر قائم ہے کیا یہ نہیں کہ پیاسے کو سیراب کرنا قربۃ مطلوبہ ہے، اور اس بارے میں بطور خاص وارد ہوا کہ یہ گناہوں کا مٹانے والا ہے۔ خطیب انس بن مالک رضی اللہ تعالٰی عنہ سے راوی، رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں جب تیرے گناہ زیادہ ہوجائیں تو تُو پانی پر پانی پلا تو تیرے گناہ اس طرح جھڑ جائیں گے جس طرح تیز ہوا سے پیڑ کے پتّے جھڑ جاتے ہیں اھ

 (۲؎ تاریخ بغداد     عن انس        بیروت        ۶/۴۰۳)

فاذا استقیت لہ الماء من بئر اوسکبت من اناء واعطیتہ ایاہ فقد اقمت بہ قربۃ فلو تحولت نجاسۃ الاٰثام الیہ لصار نجسا حراما شربہ عند الامام وقذرابالاجماع مکروہ الشرب فیعود الاحسان اساء ۃ والقربۃ علی نفسھا بالنقض وھو باطل اجماعا فما ذلک الالان الشرع انما طلب منک ان تھیئ لہ مایرویہ ولم یعین لہ الماء بخصوصہ بحیث لایجزیئ غیرہ بل لوسقیتہ لبنا خالصا اوممزوجا بماء اوماء الورد اوجلابابثلج ولو زوماء الکاذی وامثال ذلک لکان اجدواجود واقمت القربۃ وازید واللّٰہ یحب المحسنین وقد اشتد(۱) تشییدا بھذا ارکان مانحونا الیہ فی مسألۃ القدور والقصاع ھذا کلہ ماظھرلی وارجو ان قد زھر الامر و زال القناع والحمدللّٰہ رب العلمین۔

تو جب تُونے اس کو کنوئیں کے پانی سے سیراب کیا یا کسی برتن سے انڈیلا اور اس کو دیا تو تونے اس کے ساتھ قربت کو قائم کیا، تو اگر گناہوں کی نجاست اس کی طرف منتقل ہوجائے تو وہ نجس ہوگا اور امام کے نزدیک اس کاپینا حرام ہوگا، اور بالاجماع گندا ہوگا اور اس کا پینا مکروہ ہوگا تو احسان گناہ ہوجائے گا اور قربت اپنے نفس پر نقض ہوگی یہ بالاجماع باطل ہے، یہ صرف اس وجہ سے ہے کہ شریعت نے تم سے یہ مطالبہ کیا ہے کہ تم اُس کے لئے وہ تیار کرو جو اس کو سیراب کردے، اور اس کیلئے کسی پانی کو مخصوص نہیں کیا ہے کہ اُس کے بغیر کفایت نہ ہو، بلکہ اگر تم اس کو خالص دودھ، پانی ملا دودھ، عرق گلاب یا برف والا شربت خواہ وہ کیوڑے والا ہو تو زیادہ بہتر ہوگا تمہاری قربت ادا ہوگئی اور کچھ زیادہ بھی اور اللہ محسنین کو پسند کرتا ہے، اور ہماری اس تقریر سے ہانڈیوں اور پیالوں والے مسئلہ کی مزید تائید ہوئی ہے۔ یہ میرے لئے ظاہر ہوا ہے اور مجھے امید ہے کہ اس سے معاملہ واضح ہوگیا ہے والحمدللہ رب العالمین۔ ت

تنبیہ عامۃ(۲) الکتب فی بیان الشق الاول من الماء المستعمل علی التعبیر بماء استعمل فی رفع حدث وعلیہ المتون کالقدوری والہدایۃ والوقایۃ والنقایۃ والاصلاح والکنز والغرر والملتقی واعترضھم المحقق علی الاطلاق فی الفتح بان الحدث لایتجزء ثبوتا ۱؎ اھ علی القول(۳) الصحیح المعتمد فما بقیت ذرۃ مما لحقہ حکم الحدث بقی الحدث فی کل ماکان لحقہ حتی لوان محدثا اوجنبا تطھر وبقیت لمعۃ خفیفۃ فی رجلہ مثلا لم یحل لہ مس المصحف بیدہ ولا بکمہ ولا للجنب التلاوۃ کل ذلک علی ماھو المختار للفتوی فھذا الماء لم یرفع الحدث ولو لم ینو لم تکن قربۃ ایضامع انہ مستعمل قطعا بفروع کثیرۃ منصوصۃ عن صاحب المذھب رضی اللّٰہ تعالی عنہ فی ادخال المحدث بعض اعضائہ فی الماء لغیرضرورۃ الاغتراف علی مافصلت فی الفتح والحلیۃ والبحر غیرھا وللتفصی عن ھذا قرر المحقق ان صیر ورۃ الماء مستعملا باحدی ثلث رفع الحدث والتقرب وسقوط الفرض عن العضو قال وعلیہ تجری فروع ادخال الید والرجل الماء القلیل لالحاجۃ ولا تلازم بین سقوط الفرض وار تفاع الحدث فسقوط الفرض عن الید مثلا یقتضی ان لایجب اعادۃ غسلھا مع بقیۃ الاعضاء ویکون ارتفاع الحدث موقوفا علی غسل الباقی وسقوط الفرض ھو الاصل فی الاستعمال لما عرف ان اصلہ مال الزکوٰۃ والثابت فیہ لیس الاسقوط الفرض حیث جعل بہ دنسا شرعا علی ماذکرناہ ۱؎ وتبعہ تلمیذہ المحقق فی الحلیۃ ثم البحر فی البحر ثم تلمیذہ العلامۃ الغزی حتی جعلہ متنا واقرہ علیہ المدقق فی الدرواعتمدہ العارف  باللّٰہ سیدی عبدالغنی النابلسی فی شرح ھدیۃ ابن العماد زعم العلامۃ ش ان ھذا السبب الثالث زادہ فی الفتح ۱؎۔

تنبیہ مستعمل پانی کی پہلی شق کے بیان میں عام کتب میں یہی ہے کہ یہ وہ پانی ہے جو حَدَث دُور کرنے میں مستعمل ہواہو، متونِ کتب میں یہی ہے، مثلاً قدوری، ہدایہ، وقایہ، نقایہ، اصلاح،کنز، غُرر اور ملتقی وغیرہ، اورمحقق علی الاطلاق نے فتح میں اِن پر یہ اعتراض کیا ہے کہ حَدَث کے ثبوت میں تجزّی نہیں ہوتی ہے اھ یعنی قول صحیح معتمد پر، تو جب تک بدن کا کوئی ذرہ جس سے حکمِ تطہیر لاحق ہوتا ہے باقی بچا رہے گا حدث بھی اُس حصہ میں باقی رہے گا، یہاں تک کہ کوئی بے وضو یا ناپاک شخص غسل کرتا ہے اور مثلاً اُس کے پیر میں خشکی کی معمولی سی چمک باقی رہ جاتی ہے تو وہ مصحف کو اپنے ہاتھ سے یا اپنی آستین سے نہیں چھو سکتا ہے اور جُنب ہونے کی صورت میں تلاوت نہیں کرسکتا ہے یہ سب فتوٰی کیلئے مختار ہے، تو اس پانی نے حدث کو رفع نہیں کیا، اور اگر اُس نے نیت نہ کی تو قربت بھی نہ ہوگی حالانکہ وہ قطعا مستعمل ہے، اس میں بہت سی فروع ہیں جو صاحبِ مذہب سے منقول ہیں، ان کا تعلق اِس امر سے ہے کہ بے وضو اپنے کسی عضو کو بلا ضرورت چُلّو بھرنے کیلئے پانی میں ڈالے، جیسا کہ فتح، حلیہ اور بحر میں تفصیل سے ذکر کیا ہے، اس اعتراض سے رہائی حاصل کرنے کیلئے محقق نے یہ تقریر کی ہے کہ پانی کے مستعمل ہونے کی تین صورتیں ہیں رفعِ حدث، تقرب اور فرض کا عضو سے ساقط ہونا، فرمایا کہ اسی پر یہ فروع متفرع ہوں گی کہ ہاتھ یا پیر تھوڑے پانی میں بلا ضرورت ڈالا، اور سقوط فرض اور ارتفاع حَدَث میں کوئی تلازم نہیں ہے اب ہاتھ سے سقوط فرض مثلاً چاہتا ہے کہ ہاتھ کے دھونے کا بقیہ اعضاء کے ساتھ اعادہ نہ ہو، اور حَدَث کا مرتفع ہونا باقی اعضاء کے دھونے پر موقوف ہو اور پانی کے استعمال میں سقوط فرض ہی اصل ہے جیسا کہ معلوم ہے کہ اس کی اصل مال زکوٰۃ ہے اس میں یہی ثابت ہے کہ سقوطِ فرض ہو، کیونکہ اس میں شرعا میل کچیل ہے جیسا کہ ہم نے ذکر کیا اھ اور ان کے محقق شاگرد نے ان کی پیروی کی حلیہ میں، پھر صاحب بحر نے بحر میں۔ پھر ان کے شاگرد علّامہ غزّی نے، یہاں تک کہ اس کو متن قرار دیا، اور دُر میں اس کو مدقق نے برقرار رکھا، اور عبدالغنی نابلسی نے شرح ہدیۃ ابن العماد میں اس پر اعتماد کیا، اور علّامہ ش نے فرمایا کہ اس تیسرے سبب کو فتح میں زیادہ کیا گیا۔ ت

 (۱؎ فتح القدیر     ماء مستعمل    نوریہ رضویہ سکھر    ۱/۷۹)
(۱؎ فتح القدیر     ماء مستعمل    نوریہ رضویہ سکھر    ۱/۷۹)
(۱؎ ردالمحتار    باب المیاہ        مصطفی البابی مصر    ۱/۱۴۶)

اقول ولیس(۱) کذا بل ھو منصوص علیہ من صاحب المذھب رضی اللّٰہ تعالی عنہ ففی الفتح عن کتاب الحسن عن ابی حنیفۃ رضی اللّٰہ تعالی عنہ ان غمس جنب اوغیر متوضیئ یدیہ الی المرفقین اواحدی رجلیہ فی اجانۃ لم یجز الوضوءمنہ لانہ سقط فرضہ عنہ ۲؎ اھ

میں کہتا ہوں یہ بات درست نہیں بلکہ یہ صاحب مذہب رحمہ اللہ سے ہی منصوص ہے، فتح میں حسن کی کتب سے ابو حنیفہ سے مروی ہے کہ اگر ناپاک شخص یا بے وضو شخص نے اپنے دونوں ہاتھ دونوں کہنیوں تک پانی میں ڈبوئے یا ایک پیر کسی مرتبان میں ڈبویا تو اُس سے وضو جائز نہ ہوگا، کیونکہ اس کا فرض اُس سے ساقط ہوچکا ہے اھ

 (۲؎ فتح القدیر    بحث الماء المستعمل    نوریہ رضویہ سکھر    ۱/۷۶)

وقدمنا عن الھدایۃ فی تعلیل قول ابی یوسف ای والامام رضی اللّٰہ تعالی عنہما ان اسقاط الفرض مؤثر ایضا فیثبت الفساد بالامرین ۳؎ اھ

اور ہم نے ہدایہ سے ابو یوسف کے قول یعنی امام کے قول کی بھی علّت بیان کرتے ہوئے پہلے ذکر کیا ہے کہ اسقاط فرض بھی موثر ہے تو فساد دونوں امروں سے ثابت ہوگا اھ

 (؎ ہدایۃ    الماء الذی یجوز بہ الوضوء    العربیہ کراچی        ۱/۲۲)

نعم المزید من المحقق ھو تثلیث السبب ولیس بذاک فان سقوط الفرض اعم مطلقا من رفع الحدث ففیہ غنیۃ عنہ اما ما فی منحۃ الخالق انہ قدیرفع الحدث ولا یسقط الفرض کوضوء الصبی العاقل لما مر من صیر ورۃ ماءہ مستعملامع انہ لافرض علیہ ۱؎ ا ھ

ہاں محقق نے جو اضافہ کیا ہے وہ سبب کی تثلیث ہے، اور وہ درست نہیں کیونکہ سقوطِ فرض اعم مطلق ہے رفعِ حدث سے، لہٰذا یہ اس سے بے نیاز کرنے والا ہے، اور منحۃ الخالق میں ہے کہ کبھی حدث ختم ہوجاتا ہے اور فرض ساقط نہیں ہوتا جیسے عاقل بچّے کا وضو کیونکہ ابھی گزرا ہے کہ اُس کا پانی مستعمل ہوجاتا ہے حالانکہ وضو اُس پر فرض نہیں۔

 (؎ منحۃ الخالق علی البحر    الماء المستعمل        سعید کمپنی کراچی    ۱/۹۲)

فاقول لیس(۱) بشیئ فان حکم الحدث(۲) انما یلحق المکلف وقد نصوا ان مراھقا جامع اومراھقۃ جومعت انما یؤمر ان بالغسل تخلقا واعتیاد ا  ۲؎ کما فی الخانیۃ والغنیۃ وغیرھما

میں کہتا ہوں یہ ٹھیک نہیں کیونکہ حدث کا حکم مکلّف کو لاحق ہوتا ہے، علماء نے تصریح کی ہے کہ اگر کسی مراھق نے جماع کیا یا کسی مراہقہ سے جماع کیا گیا تو ان کو اخلاق وآداب سکھانے کی غرض سے غسل کا حکم دیا جائے گا، خانیہ اور غنیہ وغیرہ میں یہی ہے۔

 (۲؎ قاضی خان    فیما یوجب الغسل    نولکشور لکھنؤ        ۱/۲۱)

وفی الدر یؤمر بہ ابن عشرتادیبا ۳؎ فحیث لم یسقط الفرض لانعدام الافتراض لم یرتفع الحدث ایضا لانعدام الحکم بہ اما صیرورتہ مستعملا فلیس لرفعہ حدثا والاصار مستعملا من کل صبی ولولم یعقل وھو خلاف المنصوص بل لکونہ قربۃ معتبرۃ اذا نواھا ولذا قیدوہ بالعاقل لان غیرہ لانیۃ لہ والذی(۳) مران ارادبہ امر فی البحر فھو قولہ فی الخلاصۃ اذا توضأ الصبی فی طست ھل یصیر الماء مستعملا المختار انہ یصیر اذا کان عاقلا ۴؎ اھ

اور دُر میں یہ ہے کہ دس سالہ لڑکے کو تادیباً غسل کا حکم دیا جائیگا جب فرض ساقط نہ ہوگا کیونکہ فرضیت منعدم ہے تو حدث بھی مرتفع نہ ہوگا کیونکہ اس کا حکم منعدم ہے، اور رہا اس کا مستعمل ہونا تو یہ اس وجہ سے نہیں کہ اس نے حدث کو رفع کیا ہے ورنہ تو ہر بچّہ کا مستعمل پانی مستعمل ہوجاتا اگرچہ وہ عاقل نہ ہو،اور یہ خلاف منصوص ہے بلکہ یہ اس لئے ہے کہ یہ قربت اُسی وقت معتبر ہوگی جبکہ وہ اُس کی نیت کرے، اور اسی لئے انہوں نے بچّہ کو عاقل سے مقید کیا ہے کیونکہ غیر عاقل کی نیت نہیں ہوتی ہے، اور جو گزرا اگر اُس سے ان کا ارادہ وہ ہے جو گزرا بحر میں تو ان کا وہ قول خلاصہ میں ہے کہ جب بچّہ طشت میں وضو کرے تو آیا پانی مستعمل ہوگا؟ تو  مختار یہ ہے کہ اس وقت مستعمل ہوگا جب بچّہ عاقل ہو اھ

 (۳؎ درمختار        موجبات الغسل    مجتبائی دہلی        ۱/۳۱)
(۴؎ خلاصۃ الفتاوٰی    الماء المستعمل        نولکشور لکھنؤ        ۱/)

فھذا التقیید یفید ماقلنا وقد قال فی الغنیۃ(۴) ان ادخل الصبی یدہ فی الماء وعلم ان لیس بہا نجس یجوز التوضؤ بہ وان شک فی طہارتھا یستحب ان لایتوضأ بہ وان توضأ جاز ھذا اذا لم یتوضأ الصبی بہ فان توضأ بہ ناویااختلف فیہ المتأخرون والمختار انہ یصیر مستعملا اذا کان عاقلا لانہ نوی قربۃ معتبرۃ ۱؎ اھ

تو یہ تقیید اُسی چیز کا فائدہ دے رہی ہے اور غنیہ میں فرمایا کہ اگر بچہ نے پانی میں ہاتھ ڈالا اور یہ علم تھا کہ اس کے ہاتھ پر کوئی نجاست موجود نہیں ہے تو اس پانی سے وضو جائز ہے، جو ہم نے کہی ہے،اور اس کی طہارت میں شک ہے تو مستحب یہ ہے کہ اُس پانی سے وضو نہ کرے اور اگر وضو کیا تو جائز ہے، یہ اُس صورت میں ہے جب کہ بچہ نے اُس سے وضو نہ کیا ہو اور اگر نیت کے ساتھ وضو کیا ہو تو متاخرین کا اس میں اختلاف ہے، اور پسندیدہ قول یہ ہے کہ اگر وہ عاقل ہو تو مستعمل قرار پائے گا کیونکہ اُس نے معتبر قربت کی نیت کی ہے اھ

 (۱؎ غنیۃ المستملی        الماء المستعمل        سہیل اکیڈمی لاہور    ۱/۱۵۳)

وان اراد بہ مامر فی نفس المنحۃ قبیل ھذا بسطور فھو اصرح وابین حیث قال نقلا عن الخانیۃ الصبی العاقل اذا توضأ یرید بہ التطھیر ینبغی ان یصیر الماء مستعملا لانہ نوی قربۃ معتبرۃ ۲؎

اور اگر وہ ارادہ کیا جو نفسِ منحہ میں گزرا ہے اس سے چند سطور قبل تو وہ اور زیادہ واضح اور روشن ہے وہ خانیہ سے نقل کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ عاقل بچّہ جب وضو کرے اور اس سے پاکی حاصل کرنے کا ارادہ کرے تو چاہئے کہ پانی مستعمل ہوجائے، کیونکہ اُس نے معتبر قربۃ کی نیت کی اھ

 (۲؎ منحۃ الخالق علی البحر    الماء المستعمل        سعید کمپنی کراچی    ۱/۹۱)

ثم افاد(۱) بنفسہ ان قولہ یرید بہ التطہیر یشیر الی انہ ان لم یرد بہ التطھیر لایصیر مستعملا ۳؎ اھ ولکن سبحن من لاینسی ثم قال(۲( فی المنحۃ بقی ھل بین سقوط الفرض والقربۃ تلازم ام لا۴؎ الخ

پھر خود ہی فرمایا کہ اس کا قول ''یرید بہ التطھیر'' اس امر کی طرف اشارہ ہے کہ اگر اس نے نیت تطہیر نہ کی تو پانی مستعمل نہ ہو گا اھ لیکن بے عیب ہے وہ خدا جو بھولتا نہیں۔ پھر منحہ میں فرمایا اب یہ امر باقی رہ گیا ہے کہ آیا سقوطِ فرض اور قربۃ میں تلازم ہے یا نہیں الخ۔ ت

 (۳؎ منحۃ الخالق علی البحر    الماء المستعمل        سعید کمپنی کراچی ۱/۹۲)
(۴؎ منحۃ الخالق علی البحر    الماء المستعمل        سعید کمپنی کراچی ۱/۹۲)

اقول مرادہ(۳) ھل القربۃ تلزم سقوط الفرض ام لافان التلازم یکون من الجانبین ولا یتوھم عاقل ان سقوط الفرض یلزم القربۃ فان الاستنشاق فی الوضوء والمضمضۃ فیہ وللطعام ومنہ والوضوء علی الوضوء وامثالھاکل ذلک قرب ولا سقوط لفرض ولکن تسامح فی العبارۃ وظن انہ تبع فیہ الفتح والبحر حیث قال تلازم بین سقوط الفرض وارتفاع الحدث قال فی المنحۃ المراد نفی التلازم من احد الجانبین وھو جانب سقوط الفرض ۱؎ الخ

اقول انکی مراد یہ ہے کیا قربت سقوطِ فرض کو مستلزم ہے یا نہیں؟ کہ تلازم جانبین سے ہی ہوتا ہے اور کوئی عقلمند آدمی یہ سوچ بھی نہیں سکتا ہے کہ سقوط فرض مستلزم قربت ہے، کیونکہ وضو میں ناک میں پانی ڈالنا اور کُلّی کرنا اور کھانے کیلئے کُلی کرنا اور اس کے بعد کُلی کرنا اور وضوپر وضو اور اسی جیسی دوسری چیزیں سب کی سب عبادتیں ہیں لیکن اِن سے کوئی فرض ساقط نہیں ہوتا ہے، لیکن انہوں نے عبارت میں تسامح سے کام لیا ہے اور انہوں نے گمان کیا ہے کہ اس میں انہوں نے فتح اور بحر کی متابعت کی ہے وہ دونوں فرماتے ہیں سقوطِ فرض اور ارتفاع حدث میں تلازم نہیں۔ منحہ میں فرمایا ایک جانب سے تلازم کی نفی ہے اور وہ سقوطِ فرض کی جانب ہے الخ(ت)

 (۱؎ منحۃ الخالق علی البحر    الماء المستعمل        سعید کمپنی کراچی    ۱/۹۲)

اقول لیس(۱) کذلک بل التلازم ھو اللزوم من الجانبین فسلبہ یصدق بانتقاء اللزوم من احد الجانبین وھو المراد لفاضلین العلامتین وتفسیرہ باللزوم من احدالجانبین مفسد للمعنی اذ بورود السلب علیہ یکون الحاصل نفی اللزوم من کلا الجانبین ولیس صحیحا ولا مراد وعلی کل فھذا السؤال مما یھمنا النظر فیہ اذلو ظھر لزوم القربۃ لسقوط الفرض سقط سقوط الفرض ایضا کما ارتفع رفع الحدث ودارحکم الاستعمال علی القربۃ وحدھا کما نسبوہ الے الامام محمد وان کان التحقیق انہ لم یخالف شیخیہ فی ذلک کما بینہ فی الفتح والبحر فرأینا العلامۃ صاحب المنحۃ فاذا ھو اجاب عما سأل فقال ان قلنا ان اسقاط الفرض لاثواب فیہ فلا وان قلنا فیہ ثواب فنعم قال العلامۃالمحقق نوح افندی والذی یقتضیہ النظر الصحیح ان الراجع ھو الاول لان الثواب فی الوضوء المقصود وھو شرعا عبارۃ عن غسل الاعضاء الثلٰثۃ ومسح الراس فغسل عضو منھا لیس بوضوء شرعی فکیف یثاب علیہ اللھم الا ان یقال ان یثاب علی غسل کل عضو منھا ثوابا موقوفا علی الاتمام فان اتمہ اثیب علی غسل کل عضو منھا والا فلا ویدل علیہ مااخرجہ مسلم عن ابی ھریرۃ رضی اللّٰہ تعالی عنہ قال قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم اذا توضأ العبد المسلم اوالمؤمن الی اخر الحدیث الذی قدمنا ۱؎ اھ۔

میں کہتا ہوں بات یہ نہیں ہے بلکہ تلازم کا مطلب یہ ہے کہ لزوم دونوں جانب سے ہو، تو اس کا سلب احد الجانبین سے لزوم کے انتفاء کی صورت میں صادق آئے گا اور یہی مراد ہے دونوں فاضل علماء کی، اور اس کی تفسیر احد الجانبین کے لزوم کے ساتھ معنی کو فاسد کرنے والی ہے، کیونکہ جب اس پر سلب وارد ہوگا تو حاصل نفی لزوم ہوگا دونوں جانبوں سے اور یہ نہ تو صحیح ہے اور نہ ہی مراد ہے، اور بہر نوع ہمیں اِس سوال پر غور کرنا ہے کیونکہ اگر قربت اور سقوطِ فرض کا لزوم ظاہر ہوجائے تو سقوطِ فرض بھی ساقط ہوجائے گا جیسے کہ رفعِ حَدَث مرتفع ہُوا اور حکمِ استعمال کا دارومدار محض قربۃ پر ہوجائیگا جیسا کہ فقہاء نے اُس کو امام محمد کی طرف منسوب کیا ہے اگرچہ تحقیق یہی ہے کہ انہوں نے شیخین کی مخالفت نہیں کی جیسا کہ بحر اور فتح میں ہے، علامہ صاحبِ منحہ نے اس سوال کا جواب دیا ہے فرماتے ہیں کہ اگر اسقاطِ فرض میں کوئی ثواب نہ مانا جائے تو یہ درست نہیں، اور اگر کہیں کہ اس میں ثواب ہے تو یہ درست ہے، علامہ نوح آفندی فرماتے ہیں نظر صحیح کا تقاضا یہ ہے کہ راجح پہلا قول ہی ہے کیونکہ ثواب مقصود وضو میں ہے اور وہ شرعاً اعضاء ثلٰثہ کے دھونے اور سر کے مسح کو کہتے ہیں، تو ایک عضو کا دھونا شرعی وضو نہیں ہے تو اس پر ثواب کیسے ہوگا! ہاں یہ کہا جاسکتا ہے کہ ثواب کسی ایک عضو کے دھونے کا ثواب موقوف رہے گا مکمل وضو کرنے پر، اب اگر مکمل کرلے گا تو ہرہر عضو کے دھونے پر ثواب پائے گا ورنہ نہیں۔ اس کی دلیل مسلم کی روایت ابو ھریرہ سے ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا جب مسلمان یا مومن وضو کرتا ہے الحدیث الذی قدمناہ اھ(جو حدیث ہم پہلے بیان کرچکے( ت)

 (۱؎ منحۃ الخالق علی حاشیہ بحرالرائق    بحث الماء المستعمل    ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۱/۹۲)

اقول اولا لامعنی(۱) للزوم القربۃ سقوط الفرض وان قلنا بثبوت الثواب فی اسقاط الفرض اذلا ثواب الا بالنیۃ وسقوط الفرض لایتوقف علیھا فالحق ان بینھما عموما من وجہ مطلقا ولو نظر(۲) رحمہ اللّٰہ تعالٰی الی فرق مابین تعبیریہ بالسقوط والاسقاط لتنبہ لان الثواب ان کان لم یکن الا بالقصد المدلول علیہ بالاسقاط والسقوط لایتوقف علیہ وثانیا(۳) للعبدالضعیف کلام فی توقف الثواب فی الطھارۃ علی الاتمام بل الثواب منوط بنیۃ الامتثال کما قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ تعالی علیہ وسلم انما الاعمال بالنیات وانما لکل امرئ مانوی ۱؎

میں کہتا ہوں اوّلا قربۃ کے سقوطِ فرض کو لازم ہونے کے کوئی معنی نہیں، خواہ ہم یہ کہیں کہ ثواب ثابت ہوگا اسقاطِ فرض میں، کیونکہ ثواب بلانیت کے نہیں ہوتا اور فرض کا سقوط نیت پر موقوف نہیں ہے، تو حق یہ ہے کہ اُن دونوں میں عموم من وجہ مطلقا ہے، اور اگر وہ رحمہ اللہ دونوں تعبیروں کے فرق کو دیکھتے، یعنی سقوط اور اسقاط تو ان کو معلوم ہوتا کہ ثواب نیت سے ہوتا ہےجو اسقاط سے مفہوم ہوتی ہے اور سقوط اس پر موقوف نہیں۔ ثانیاعبد ضعیف کو اس امر میں کلام ہے کہ ثواب موقوف ہے طہارت کے مکمل ہونے پر بلکہ ثواب موقوف ہے حکم ماننے کی نیت پر، جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ''بیشک: اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے اور ہر شخص کو وہی ملے گا جس کی نیت کرے،

 (۱؎ جامع للبخاری    باب کیف بدء الوحی    قدیمی کتب خانہ کراچی    ۱/۲)

فمن جلس(۱) یتوضأ ممتثلا لامر ربہ ثم عرض لہ فی اثنائہ مامنعہ عن اتمامہ فکیف یقال لایثاب علی مافعل  واللّٰہ لایضیع اجر المحسنین ۲؎

تو جو شخص اپنے رب کے حکم کو ماننے کیلئے وضو کرنے بیٹھا پھر درمیان میں کوئی ایسا امر لاحق ہوا کہ وضو مکمل نہ کرسکا تو اب یہ کیسے کہا جاسکتا ہے کہ جو کچھ وہ کرچکا ہے اس پر اس کو ثواب نہیں ملے گا، اللہ اچھے کاموں کا اجر برباد نہیں کرتا،

      (۲؎ القرآن        ۹/۱۲۰)

نعم من(۲) نوی من بدء الامر انہ لایأتی الا بالبعض فھذا الذی یرد علیہ انہ لم یقصد الوضوء الشرعی بل ھو عابث بقصد مالا یعتبر شرعا والعابث لایثاب بخلاف من قدمنا وصفہ ویترا ای(۳) لی ان مثل ذلک العابث من قصد الوضوء الشرعی واتی ببعض الاعمال ثم قطع من دون عذر فان اللّٰہ تعالی سمی القطع ابطالا اذیقول عزمن قائل ولا تبطلوا اعمالکم ۳؎ والباطل لاحکم لہ واللّٰہ تعالی اعلم

ہاں اگر کسی نے شروع سے ہی یہ نیت کی کہ وہ بعض اعضاء کو دھوئے گا، تو یہ ہے جس پر یہ اعتراض وارد ہوگا کہ اُس نے وضو شرعی کا ارادہ نہیں کیا ہے بلکہ وہ ایک ایسا کام کرکے جو شرعاً غیر معتبر عبث کررہا ہے اور جو عبث کرتا ہو اس کو ثواب نہیں ملے گا، بخلاف اس کے جس کا وصف ہم نے پہلے بیان کیا، اور مجھے لگتا ہے کہ اسی عبث کرنے والے کی طرح ہے وہ شخص جس نے شرعی وضو کا ارادہ کیا اور بعض اعمال کئے پھر وضو کو بلا عذر نامکمل چھوڑ دیا کیونکہ اللہ نے قطع کو ابطال قرار دیا ہے، اللہ فرماتا ہے ''تم اپنے ا عمال کو باطل نہ کرو'' اور باطل کا کوئی حکم نہیں واللہ تعالٰی اعلم۔

 (۳؎ القرآن        ۴۷/۳۳)

وثالثا محو الخطایا(۴) لم یکن ثوابا فلا ذکرلہ فی الحدیث اصلا وان کان فالحدیث حاکم بترتب ثواب کل فعل فعل عند وقوعہ ولا دلالۃ فیہ علی توقف الاثابۃ الی ان یتم وبالجملۃ فلا اغناء لاحد من القربۃ والسقوط عن الاخر بخلاف الرفع والسقوط فلا وجہ للتثلیث ثم رأیت العلامۃ ش اشار الی ھذا فی ردالمحتار حیث قال رفع الحدث لایتحقق الا فی ضمن القربۃ اواسقاط الفرض اوفی ضمنھما فیستغنی بہما عنہ ۴؎ اھ

ثالثا یہ کہ خطاؤں کا مٹ جانا اگرثواب نہیں ہے تو اس کا ذکر حدیث میں بالکل نہیں ہے اور اگر ثواب ہے تو حدیث کا حکم یہ ہے کہ ہر فعل کا ثواب اس فعل کے واقع ہوجانے کے وقت مرتب ہوگا، اور اس میں اس امر پر دلیل نہیں کہ ثواب تمام پر موقوف ہوگا، اور خلاصہ یہ کہ قربت اور سقوط میں سے کسی ایک کو دوسرے سے بے نیازی نہیں بخلاف رفع اور سقوط کے، تو تثلیث کی کوئی وجہ نہیں، پھر میں نے علامہ ش کو دیکھا کہ انہوں نے ردالمحتار میں اس طرف اشارہ کیا، فرمایا رفع حدث قربۃ کے ضمن ہی میں متحقق ہوتا ہے یا اسقاط فرض کے یا دونوں کے ضمن میں متحقق ہوتا ہے، تو اِن دونوں سے اس میں بے نیازی حاصل کی جائے گی اھ(ت)

 (۴؎ ردالمحتار        الماء المستعمل        مصطفی البابی مصر    ۱/۱۴۶)

اقول لم یظھر(۱) لی کیف یتحقق رفع الحدث فی ضمن القربۃ من دون سقوط الفرض حتی یصح ھذا التثلیث الاٰخر الذی ذکر ھذا العلامۃ بل کلما رفع الحدث لزم منہ سقوط الفرض کما اعترف بہ فی المنحۃ فان جنح الی ماقدمنا عنہ من مسألۃ وضوء الصبی العاقل ای اذا توضأ ناویا فقد تحقق رفع الحدث فی ضمن القربۃ من دون سقوط فرض۔

میں کہتا ہوں مجھ پر یہ ظاہر نہیں ہوا کہ رفع حدث قربۃ کے ضمن میں کیسے متحقق ہوگا بغیر فرض کے سقوط کے یہاں تک کہ یہ دوسری تثلیث جس کی طرف اس علامہ نے اشارہ کیا ہے صحیح قرار پائے، بلکہ جب بھی حدث مرتفع ہوگا اس سے فرض ساقط ہوگا، جیسا کہ منحہ میں اس کا اعتراف کیا ہے، تو اگر اس کی طرف مائل ہوں جو ہم نے پہلے ان سے نقل کیا ہے یعنی عاقل بچّہ کا وضو، جب عاقل بچہ نیت کے ساتھ وضو کرے تو حدث قربت کے ضمن میں مرتفع ہوجائے گا مگر فرض ساقط نہ ہوگا۔(ت)

فاقول اوّلا قد علمت بطلانہ وثانیاان سلم(۱) ھذا یلزم ان یتحقق رفع الحدث من دون قربۃ ولا سقوط فرض اذا توضأ الصبی غیرنا ولان رفع الحدث لایفتقر الی النیۃ والقربۃ لاتوجد بدونھا فحینئذ ینھدم اصل المرام ویعود التثلیث الذی ذکر المحقق فالصواب ماذکرت ان رفع الحدث یلزمہ سقوط الفرض ففیہ غنیۃ عنہ۔

میں کہتا ہوں اولاً تم اس کا بطلان جان چکے ہو۔ثانیا اگر یہ مان لیا جائے تو لازم آئے گا کہ رفعِ حدث متحقق ہو بلا قربت کے، اور نہ فرض کا سقوط ہو جب بچّہ بلا نیت وضو کرے، کیونکہ رفعِ حَدَث محتاجِ نیت نہیں ہوتا جبکہ قربت بلا نیت نہیں پائی جاتی ہے، اس صورت میں اصلِ مقصود ہی ختم ہوجائے گا اور وہ تثلیث عَود کر آئے گی جس کو محقق نے ذکر کیا ہے، تو صحیح وہی ہے جس کو میں نے ذکر کیا کہ رفع حَدَث کو سقوط فرض لازم ہے، پس یہ اُس سے بے نیاز کرنے والا ہے۔(ت)

ثم اقول لو ان(۲) المحقق علی الاطلاق حانت منہ التفاتہ ھناالی کلام مشروحہ الھدایۃ لما جنح الی تثلیث السبب ولظھرلہ الجواب ایضا عما اعترض بہ کلام العامۃ والمتون وذلک ان الامام صاحب الھدایۃ قدس سرہ عبر فی المسألۃ بما ازیل بہ حدث اواستعمل قربۃ وقال فی الدلیل اسقاط الفرض مؤثر ایضا فیثبت الفساد بالامرین ۱؎

پھر میں کہتا ہوں اگر محقق علی الاطلاق صاحبِ ہدایہ کے کلام پر توجہ دیتے تو تثلیث سبب کی طرف متوجہ نہ ہوتے اور جو عام کتب اور متون سے اعتراض ہوتا تھا اُس کا جواب بھی ظاہر ہوجاتا، اس کی وجہ یہ ہے کہ صاحبِ ہدایہ نے مسئلہ میں یہ تعبیر کی ہے کہ وہ پانی جس سے حدث زائل کیا گیا ہو یا بطور قربت استعمال کیا گیا ہو، اور دلیل میں فرمایا کہ اسقاط فرض بھی مؤثر ہے تو فساد دونوں امروں سے ظاہر ہوگا ۔

 (۱؎ الہدایۃ    باب الماء الذی لایجوز بہ الوضوء    المکتبہ العربیۃ    ۱/۱۲۲)

فافادان المراد بزوال الحدث ھو سقوط الفرض وان مؤداھما ھھنا واحد ولا شک ان سقوط الفرض عن عضو دون عضو بل عن بعض عضو دون بعضہ الاخر ثابت متحقق وان لم یترتب علیہ احکام ارتفاع الحدث وھو کما قدمت الاشارۃ الیہ فی بیان الفروع لیشمل مااذا تطھر کاملا اوغسل شیئا من اعضائہ بل عضوہ فلا تثلیث ولا اعتراض بعدم التجزی وتحقیقہ(۱) ماافادہ فی المنحۃ نقلا عن العلامۃ نوح افندی فی حواشی الدررناقلا عن الشیخ قاسم فی حواشی المجمع ان الحدیث یقال بمعنیین المانعیۃ الشرعیۃ عما لایحل بدون الطھارۃ وھذا لایتجزئ بلا خلاف عند ابی حنیفۃ وصاحبیہ وبمعنی النجاسۃ الحکمیۃ وھذا یتجزئ ثبوتا وارتفاعا بلا خلاف عند ابی حنیفۃ و عــــہ اصحابہ وصیرورۃ الماء مستعملا بازالۃ الثانیۃ ففی مسألۃ البئر سقط الفرض عن الرجلین بلا خلاف والماء الذی اسقط الفرض صار مستعملا بلا خلاف علی الصحیح اھ قال العلامۃ نوح ھذا ھو التحقیق فخذہ فانہ بالاخذ حقیق ۱؎ اھ

اس سے معلوم ہوا کہ زوالِ حدث سے مراد سقوط فرض ہے اور دونوں کا نتیجہ ایک ہی ہے اور اس میں شک نہیں کہ فرض کا سقوط ایک عضو سے نہ کہ دوسرے عضو سے، بلکہ بعض عضو سے نہ کہ دوسرے بعض سے ثابت متحقق ہے اگرچہ اس پر ارتفاع حدث کے احکام مترتب نہیں ہوتے ہیں اور یہ جیسا کہ میں اشارہ کرچکا ہوں بیان فروع میں اُس صورت کو بھی شامل ہے جبکہ پوری طرح طہارت کی یا کچھ اعضاء دھوئے بلکہ اپنے ایک عضو کا حصّہ دھویاتو نہ تثلیث ہوگی اور نہ عدم تجزی کا اعتراض ہوگا، اس کی تحقیق منحہ میں علامہ نوح آفندی کی اُس تحقیق سے منقول ہے جو درر کے حواشی میں منقول ہے اور جو حواشی مجمع میں شیخ قاسم سے منقول ہے کہ حَدَث کا اطلاق دو معنی میں ہوتا ہے، ایک تو یہ کہ جو چیز بلا طہارت جائز نہ ہو اُس کی شرعی ممانعت، اور یہ چیز ابو حنیفہ اور ان کے صاحبین کے درمیان بالاتفاق غیر متجزی ہے، اور دوسرا بمعنی نجاست حکمیہ، اور یہ چیز ابو حنیفہ اور ان کے اصحاب کے درمیان بالاتفاق متجزی ہے ثبوتاً بھی اور ارتفاعاً بھی، اور پانی جو مستعمل ہوتا ہے تو دوسرے معنی کے ازالہ سے ہوتا ہے، تو کنوئیں کے مسئلہ میں دونوں پیروں کا فرض ساقط ہوگیا اور وہ پانی جو اسقاط فرض میں استعمال ہوا مستعمل ہوگیا، صحیح قول کے مطابق اس میں کوئی اختلاف نہیں، اھ علامہ نوح آفندی نے فرمایا تحقیق یہی ہے اور اسی کو اختیار کرنا چاہئے اھ۔(ت)

عــــہ:اقول قال فی الاول عند ابی حنیفۃ وصاحبیہ لان من المشائخ من قال بتجزیہ حتی اجاز للجنب القراء ۃ بعد المضمضۃ للمحدث المس بعد غسل الید وقال ھھنا واصحابہ لان تجزی ھذا لاخلاف فیہ عند مشائخنا اھ منہ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ۔

اقول پہلے کے متعلق امام ابو حنیفہ کے ساتھ صاحبیہ تثنیہ کا صیغہ ذکر کیا ہے کیونکہ بعض مشائخ نے کہا جنبی کو قرأت کیلئے کُلّی کافی ہے اور محدث کو مسِ مصحف کیلئے ہاتھ دھونا کافی ہے اور یہاں دوسرے معنی میں اصحاب جمع کا صیغہ ذکر کیا ہے کیونکہ اس کو سب نے کافی کہا ہمارے مشائخ کا اس میں اختلاف نہیں اھ(ت)

 (۱؎ منحۃ الخالق علی حاشیۃ بحرالرائق     بحث الماء المستعمل    ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۱/۹۲)

اقول بل(۱) اختار فی غایۃ البیان ثم النھر ثم الدران حقیقۃ الحدث ھو المعنی الثانی قال فی البحر تبعا للفتح الحدث مانعیۃ شرعیۃ قائمۃ بالاعضاء الی غایۃ استعمال المزیل ۲؎ اھ

میں کہتا ہوں غایۃ البیان، نہر اور دُر نے دوسرے معنی کو مختار قرار دیا ہے، بحر میں فتح کی متابعت کرتے ہوئے فرمایا حدث شرعی مانعیت ہے جو اعضاء کے ساتھ اس وقت تک قائم رہتی ہے یہاں تک کہ زائل کرنے والی چیز استعمال کی جائے،

 (۲؎ بحرالرائق            باب شروط الصّلوٰۃ    سعید کمپنی کراچی    ۱/۲۶۷)

قال فی النھر وتبعہ الدر ھذا تعریف بالحکم وعرفہ فی غایۃ البیان بانہ وصف شرعی یحل فی الاعضاء یزیل الطھارۃ ۳؎

نھر اور دُر میں ہے کہ یہ حکم کے ساتھ تعریف ہے، اور غایۃ البیان میں اس کی تعریف یہ ہے کہ وہ ایک ایسا وصف ہے جو اعضاء میں حلول کرتا ہے اور طہارت کو زائل کرتا ہے

 (۳؎ درمختار            کتاب الطہارت    مجتبائی دہلی        ۱/۱۶)

قال وحکمہ المانعیۃ لما جعلت الطہارۃ شرطا لہ الخ ونظر فیہ ش نقلا عن حاشیۃ الشیخ خلیل الفتال عازیا لبعض الفضلاء بان حکم الشیئ ماکان اثرالہ خارجا عنہ مترتبا علیہ والمانعیۃ المذکورلیست کذلک وانما حکم الحدث عدم صحۃ الصلاۃ معہ وحرمۃ مس المصحف ونحو ذلک فالتعریف بالحکم کأن یقال الحدث مالا تصح الصلاۃ معہ تأمل۱؎ اھ

فرمایا کہ اس کا حکم مانعیت ہے اس چیز کی جس کیلئے طہارت شرط ہے الخ اور "ش" نے اس میں حاشیہ شیخ خلیل فتال سے نقل کرتے ہوئے نظر کی ہے، اور اس کو بعض فضلاء کی طرف منسوب کیا ہے کہ ہر چیز کا حکم اس کے اثر کو کہتے ہیں جو اس سے خارج ہو اور اس پر مرتب ہو اور مذکورہ مانعیت اس قسم کی نہیں ہے، اور حدث کا حکم تو یہی ہے کہ اس کے ساتھ نماز درست نہیں ہوتی اور مصحف کو نہیں چُھوا جاسکتا ہے اور اسی قسم کے دوسرے احکام، تو تعریف بالحکم اس طرح ہوسکتی ہے کہ حدث وہ چیز ہے جس کے ساتھ نماز درست نہ ہو، تامل اھ

 (۱؎ ردالمحتار    کتاب الطہارت    مصطفی البابی مصر    ۱/۶۳)

قال ش علی(۱)ان التعریف بالحکم مستعمل عند الفقہاء لان الاحکام محل مواقع انظارھم ۲؎ اھ

"ش" نے فرمایا کہ علاوہ ازیں تعریف بالحکم فقہاء کے نزدیک مستعمل ہے کیونکہ احکام ہی سے وہ بحث کرتے ہیں اھ

 (۲؎ ردالمحتار     کتاب الطہارت    مصطفی البابی مصر ۱/۶۳)

وقد اشارالیہ ط وقال علی قولہ مانعیۃ ای کونہ مانعا من الصلاۃ ومس المصحف والاظھر ان یقال مانع شرعی ۳؎ اھ

اور "ط" نے بھی اس کی طرف اشارہ کیا ہے اور ''مانعیت'' پر فرمایا کہ اس کا نماز سے مانع ہونا اور مصحف کے چُھونے سے مانع ہونا ہے اور اظہریہ ہے کہ کہا جائے کہ یہ مانع شرعی ہے اھ (ت)

 (۳؎ طحطاوی علی الدر کتاب الطہارت    مصطفی البابی بیروت        ۱/۵۶)

اقول وباللّٰہ التوفیق کلام(۲) المعترضین علی البحر کلہ بمعزل عن غوص القعرفان مبناہ طرا علی ان تعریف البحر غیر تعریف الغایۃ ولا دلیل علیہ فان المانعیۃ بمعنی الحال فضلا عن کونہ ممالا قیام لہ بموضوع لعدم کونہ من الصفات المنضمۃ لاقیام لھا بالاعضاء اصلا فانھا غیر مانعۃ حتی تکون لھا مانعیۃ وبمعنی النسبۃ ای شیئ لہ انتساب الی مانع شرعی صادق قطعا علی ذلک الوصف الشرعی الذی یحل بالاعضاء فیزیل طھرھا لان المانع ھو الخطاب الشرعی والمنتسب الیہ ما لاجلہ وردالخطاب و ھی النجاسۃ الحکمیۃ وھی بعینہا ذلک الوصف القائم بالاعضاء فرجع التعریف الی تعریف الغایۃ فلا خلاف ولا خلف الا تری ان تلمیذ المحقق علی الاطلاق اعنی المحقق الحلبی عرف الحدث فی الحلیۃ بانہ الوصف الحکمی الذی اعتبر الشارع قیامہ بالاعضاء مسبباعن الجنابۃ والحیض والنفاس والبول والغائط وغیرھما من نواقض الوضوء ومنع من قربان الصّلاۃ وما فی معناھا معہ حال قیامہ بمن قام بہ الی غایۃ استعمال مایعتبر بہ زائلا ۱؎ اھ

میں بتوفیقِ الٰہی کہتا ہوں معترضین کے بحر پر اعتراضات گہرائی سے خالی ہیں، کیونکہ ان کی بنیاد اس پر ہے کہ بحر کی تعریف غایہ کی تعریف سے مختلف ہے اور اس پر کوئی دلیل نہیں کیونکہ مانعیت بمعنی حال ہے اس سے قطع نظر کہ وہ صفات منضمہ میں سے نہ ہونے کی بنا پر اپنے موضوع کے ساتھ قائم نہیں ہوتی، اس کا اعضاء کے ساتھ قیام بالکل ہوتا ہی نہیں کیونکہ اعضاء مانع نہیں تاکہ انکے ساتھ مانعیت قائم ہو اور بمعنی نسبت کے یعنی وہ شے جس کا کسی مانع شرعی کی طرف انتساب ہو یہ قطعاً اس وصف شرعی پر صادق آتی ہے جو اعضاء میں حلول کرتا ہے اور ان کی طہارت کو زائل کرتا ہے اس لئے کہ مانع وہ خطاب شرعی ہے، اور اس کی طرف منسوب وہ چیز ہے جس کی وجہ سے خطاب وارد ہوا، اور وہی نجاستِ حکمیہ ہے، اور وہ بعینہا وہ وصف ہے جو اعضاء کے ساتھ قائم ہے تو تعریف، غایہ والی تعریف کی طرف لوٹ آئی تو کوئی خلاف نہیں اور نہ خلف ہے،

 (۱؎ حلیہ)

وھو کما تری لیس الا بسطا لما اجملہ شیخہ المحقق وما ھو الاعین ماعرف بہ فی الغایۃ ولو قال مانع شرعی کما استظھرہ العلامۃ ط لکان ایضا مرجعہ الی ذلک لان ذلک الوصف الشرعی وھی النجاسۃ مانع شرعی بمعنی مالاجلہ المنع واستعمال المانع بھذا المعنی شائع ذائع غیران(۱) المحقق ابقاہ علی حقیقتہ فاتی بالنسبۃ فلا وجہ وجیھا للاستظھار ثم من اوضح(۲) دلیل علیہ ان البحر مغترف فی ھذا الحد من مناھل فتح القدیر کما ذکرہ فی ردالمحتار وقد قال المحقق فی الفتح مستدلالروایۃ الحسن وابی یوسف عن الامام الاعظم ان الماء المستعمل نجسا مغلظا اومخففا مانصہ ۱؎

کیا تم نہیں دیکھتے کہ محقق علی الاطلاق کے شاگرد محقق حلبی نے حلیہ میں حدث کی تعریف اس طرح کی ہے کہ وہ ایک وصف حکمی ہے کہ شارع نے اعضاء کے ساتھ اس کے قیام کا اعتبار کیا ہے، اور یہ جنابۃ، حیض، نفاس، پیشاب اور پاخانہ وغیرہما نواقض وضو کے باعث ہوتا ہے، اور یہ چیز نماز کے قریب جانے سے مانع ہوتی ہے، یا جو چیز نماز کے حکم میں ہو، یہ مانعیت اس وقت تک رہتی ہے جب تک یہ وصف اُسی شخص کے ساتھ قائم رہے، یہاں تک کہ وہ اس چیز کو استعمال کرے جو اس کو زائل کرنے والی ہے اھ یہ تعریف جیسا کہ آپ دیکھتے ہیں اُسی چیز کا بسط ہے جس کا اجمال ان کے شیخ محقق نے کیا ہے اور یہ بعینہ وہی تعریف ہے جو غایہ میں ہے، اور مانع شرعی کہتے جیسا کہ علامہ "ط" نے فرمایا اس کا بھی ماحصل یہی ہے کیونکہ وہ وصف شرعی، جو نجاست ہے مانع شرعی ہے اس معنی کے اعتبار سے کہ یہ وہ چیز ہے جس کی وجہ سے منع ہے، اور مانع کا استعمال اس معنی میں شائع وذائع ہے،البتہ محقق نے اس کو اس کی حقیقت پر باقی رکھا ہے، تو نسبت کولائے ہیں تو استظہار کی کوئی معقول وجہ نہیں، پھر اُس پر واضح ترین دلیل یہ ہے کہ بحر نے بھی اس تعریف میں فتح القدیر سے استفادہ کیا ہے، جیسا کہ اس کو ردالمحتار میں ذکر کیا ہے اور محقق نے فتح میں ابو یوسف اور حسن کی ابو حنیفہ سے روایت پر استدلال کیا ہے کہ مستعمل پانی نجاست غلیظہ ہے یا نجاست خفیفہ ہے،

 ( ۱؎ فتح القدیر     بحث الماء المستعمل    نوریہ رضویہ سکھر    ۱/۷۴)

وجہ روایۃ النجاسۃ قیاس اصلہ الماء المستعمل فی النجاسۃ الحقیقیۃ والفرع المستعمل فی الحکمیۃ بجامع الاستعمال فی النجاسۃ بناء علی الغاء وصف الحقیقی فی ثبوت النجاسۃ وذلک(۱) لان معنی الحقیقی لیس الا کون النجاسۃ موصوفا بھا جسم مستقل بنفسہ عن المکلف لاان وصف النجاسۃ حقیقۃ لاتقوم الابجسم کذلک وفی غیرہ مجازبل معناہ الحقیقی واحد فی ذلک الجسم وفی الحدث لانہ لیس المتحقق لنا من معناھا سوی انھا اعتبار شرعی منع الشارع من قربان الصلاۃ والسجود حال قیامہ لمن قام بہ الی غایۃ استعمال الماء فیہ فاذا استعملہ قطع ذلک الاعتبار کل ذلک ابتلاء للطاعۃ فاما ان ھناک وصفا حقیقیا عقلیا اومحسوسا فلا ومن ادعاہ لایقدر فی اثباتہ علی غیرالدعوی ویدل علی انہ اعتبار اختلافہ باختلاف الشرائع الاتری ان الخمر محکوم بنجاسۃ فی شریعتنا وبطھارتہ فی غیرھا فعلم انھا لیست سوی اعتبار شرعی الزم معہ کذا الی غایۃ کذا ابتلاء وفی ھذا لاتفاوت بین الدم والحدث فانہ ایضا لیس الانفس ذلک الاعتبار۱؎ اھ

جس روایت میں اس کو نجاست قرار دیا گیا ہے وہ قیاس کی بنیاد پر ہے اس قیاس کی اصل وہ پانی ہے جو نجاست حقیقیہ میں مستعمل ہو، اور اس کی فرع وہ پانی ہے جو نجاست حکمیہ میں مستعمل ہو، اور علّۃجامعہ، نجاست میں استعمال ہے،بناء کرتے ہوئے کہ وصف حقیقی ثبوت نجاست میں لغو ہے اور اس کی دلیل یہ ہے کہ حقیقی کا مفہوم یہ ہے کہ اس نجاست سے ایسا جسم متصف ہو جو بنفسہ مکلف سے مستقل ہو یہ نہیں کہ وصف نجاست حقیقۃً ایسے ہی جسم کے ساتھ قائم ہوتی ہے اور اس کے غیر میں مجاز ہے،بلکہ اس کے حقیقی معنی ایک ہیں اس جسم میں اور حَدَث میں، اس لئے کہ ہمیں تحقیقی طور پر جو معنی معلوم ہیں وہ یہ ہیں کہ وہ ایک شرعی اعتبار ہے کہ جب تک وہ موجود ہو تو شارع نے اس کو جو اس کے ساتھ متصف ہو نماز وغیرہ کے قریب جانے سے منع کیا ہے تاوقتیکہ وہ اس میں پانی کو استعمال نہ کرے، جب وہ پانی استعمال کرلے گا تو وہ اعتبار ختم ہوجائے گا، یہ سب طاعت کی ابتلا ہے، رہی یہ بات کہ یہاں کوئی وصف عقلی حقیقی یا محسوسی ہے، تو ایسی کوئی بات نہیں، اور جو اس کا دعوٰی کرتا ہے تو محض دعوی ہی ہے، اور اس کے اعتباری ہونے کی دلیل ہے کہ یہ شریعتوں کے مختلف ہونے سے مختلف ہوتا رہتا ہے، مثلاً شراب ہماری شریعت میں ناپاک ہے اور دوسری شریعتوں میں پاک ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ یہ نجاست محض شرعی اعتبار سے یہ اتنی سے اتنی مدّت تک کیلئے لازم کیا گیا ہے ابتلاءً اور اس میں خون اور حَدَث میں کوئی تفاوت نہیں کیونکہ یہ بھی ویسا ہی اعتبار ہے اھ

 (۱؎ فتح القدیر    بحث الماء المستعمل    نوریہ رضویہ سکھر    ۱/۷۵)

فھذانص صریح فی ان تلک المانعیۃ الشرعیۃ المغیاۃ الی استعمال المزیل لیست الا النجاسۃ الحکمیۃ فاتحد التعریفان۔

تو یہ اس امر میں نص صریح ہے کہ یہ مانعیت شرعیہ جس کی انتہا مُزیل کا استعمال ہے، نجاست حکمیہ ہی ہے تو دونوں تعریفیں متحد ہوگئیں۔ ت

ثم اقول(۱) التعریف(۲) بالحکم ان ارید بہ ان یجعل الحکم نفس المعرّف بحیث یحمل ھوعلی المعرَّف فنعم یسقط ایراد النہر والدر فان المانعیۃ بالمعنی المذکور وھی النجاسۃ الحکمیۃ لیست اثرامترتباعلی الحدث بمعنی الوصف الشرعی بل ھی ھو کما عرفت وح لایستقیم ایضا قول المجیب ان التعریف بالحکم کأن یقال ھو مالا تصح الصلاۃ معہ فان مالاتصح لیس حکما بل الحکم کما اعترف عدم الصحۃ ولم یعرف بہ وانما یکون تعریفاً بالحکم لوقیل الحدث عدم صحۃ الصلاۃ ویتکدر ایضا جواب ط وش بانہ مستعمل عند الفقہاء فان المستعمل عندھم ذکر الحکم فی التعریف لاحمل الاثر علی المؤثر وان ارید بہ ان یمیزالمحدود بذریعۃ الحکم بان یعطی انہ الذی یؤثر ھذا الاثرفنعم یستقیم تمثیل المجیب التعریف بالحکم بما ذکر لکن یسقط ح اصل جوابہ بان المانعیۃ لیست حکما فان التعریف بالحکم لیس اذن ان یکون المحمول عین الحکم بل ماذکر فیہ الحکم وھو حاصل فی التعریف المذکور قطعا لاشتمالہ علی منع المکلف من اشیاء مخصوصۃ مادام ذلک الوصف قائما بہ اتینا علی الایراد وھو علی ھذا اشد سقوطا وابین غلطا فان الذی اختارہ الموردون لایخ ایضا عن التعریف بالحکم لذکرھم فیہ زوال الطھارۃ وما ھو الا الاثر المترتب علی ذلک الوصف الشرعی واذن یکفی جوابا عن کلا الحدین ماذکر ط و ش وبالجملۃ فایقاع التغایربین الحدین لاداعی لہ وایراد النھر والدر لاصحۃ لہ وجواب الفتال عن بعض الفضلاء لایخلوعن خلط وغلط بقی الکلام علی المعنی الاول الذی ذکرہ العلامۃ قاسم وکیف تباینہ للمعنی الثانی۔

پھر میں کہتا ہوں تعریف بالحکم سے مراد اگر یہ ہے کہ حکم کو معرِّف بنا دیا جائے کہ وہ معرَّف پر محمول ہو تو نہر اور دُر کا اعتراض رفع ہوجائے گا، کیونکہ مانعیت بالمعنی المذکور یعنی نجاست حکمیہ کے معنی میں، حَدَث پر مترتب ہونے والا اثر نہیں ہے، یعنی وصف شرعی کے معنی میں بلکہ یہ وہی ہے جیسا کہ تم نے پہچانا۔ اور اس صورت میں مجیب کا یہ قول درست نہ ہوگا کہ تعریف بالحکم مثلاً یہ کہا جائے کہ حَدَث وہ ہے کہ جس کے ہوتے ہوئے نماز درست نہ ہو، کیونکہ ''وہ جس کے ہوتے ہوئے نماز صحیح نہ ہو'' یہ جملہ حکم نہیں ہے بلکہ حکم جیسا کہ انہوں نے اعتراف کیا، عدمِ صحت ہے، اور اس سے انہوں نے تعریف نہیں کی ہے، اور تعریف بالحکم اس صورت میں ہوتی جب یہ کہا جاتا کہ حَدَث نماز کا صحیح نہ ہونا ہے، اور ط و ش کا جواب بھی اس صورت میں مکدّر ہوجائے گا کہ اس قسم کی تعریف فقہاء کے یہاں مستعمل ہے، کیونکہ ان کے یہاں مستعمل تعریف میں حکم کا تذکرہ ہے نہ یہ کہ اثر کو مؤثر پر محمول کرلیا جائے، اور اگر اس سے یہ ارادہ کیا جائے کہ محدود کو بذریعہ حکم ممیز کیا جائے یعنی یہ کہا جائے کہ یہی ہے جو یہ اثر کررہا ہے تو اس صورت میں مجیب کی یہ مثال جو انہوں نے تعریف بالحکم کیلئے پیش کی ہے درست قرار پائے گی، مگر اس وقت ان کا اصل جواب ختم ہوجائے گا، یعنی یہ کہ مانعیت حکم نہیں ہے کیونکہ تعریف بالحکم اس صورت میں یہ نہیں ہے کہ محمول عین حکم ہو، بلکہ یہ ہے کہ جس میں حکم مذکور ہو، اور یہ تعریف مذکور میں قطعاً موجود ہے، کیونکہ یہ تعریف اس پر مشتمل ہے کہ مکلّف کو مخصوص اشیاء سے روکنا جب تک کہ یہ وصف اس کے ساتھ قائم رہے۔ اب ہم اعتراض کی طرف آتے ہیں اور اس کی صورت اور بھی زیادہ غلط اور ساقط ہے کیونکہ معترضین نے جو تعریف اختیار کی ہے وہ تعریف بھی تعریف بالحکم سے خالی نہیں ہے، کیونکہ وہ بھی اس میں زوال طہارت کا استعمال کرتے ہیں، اور وہ اُس وصفِ شرعی پر مرتّب ہونے والا اثر ہے، ایسی صورت میں دونوں تعریفوں پر جو اعتراض ہے اُس کے جواب میں "ط" اور "ش" نے جو تقریر کی ہے وہ کافی ہے، اور خلاصہ یہ کہ دونوں تعریفوں میں تغایر کا قول کرنے کی کوئی وجہ موجود نہیں ہے، اور نہر اور دُر کا اعتراض درست نہیں ہے اور فتال نے جو جواب بعض فضلاء کی طرف سے دیا ہے وہ غلط اور خلط سے خالی نہیں ہے۔ اب اُس پہلے معنی پر گفتگو باقی رہ گئی جو علّامہ قاسم نے ذکر کئے ہیں، اور یہ معنی دوسرے معنی سے کس طرح مختلف ہے۔(ت)

فاقول(۱) المانع الشرعی ای مالاجلہ المنع ھی النجاسۃ الحکمیۃ والمنتسب الیھا تلبس المکلف بھا والفرق بینھما ان النجاسۃ وصف شرعی یحل بسطوح الاعضاء الظاھرۃ حلول سریان والسطح ممتد منقسم فتنقسم النجاسۃ بانقسامھا فتقبل التجزی ثبوتا ورفعا امارفعا فظاھر فانہ اذا غسل الید مثلا زالت النجاسۃ عنھا ولذا سقط عنھا فرض التطھیر مع بقاء النجاسۃ فی سائرالاعضاء التی حلتھا واما ثبوتا فلان الحدث الاصغر انما ینجس اربعۃ اعضاء والاکبر البدن کلہ وسنعود الی الکلام فی ھذا عنقریب ان شاء اللّٰہ تعالی

میں کہتا ہوں مانع شرعی یعنی جس کی وجہ سے منع ہے وہ نجاست حکمیہ ہے، اور جو اس کی طرف منسوب ہے وہ مکلّف کا اُس کے ساتھ ملتبس ہونا ہے، اوردونوں میں فرق یہ ہے کہ نجاست شرعی وصف ہے جو اعضاء ظاہرہ کی سطحوں کے ساتھ قائم ہوتا ہے، اور یہ حلول سریانی ہوتا ہے اور سطح ممتد اور منقسم ہے تو اس کی تقسیم کی وجہ سے نجاست بھی منقسم ہوجائے گی، تو یہ رفعاً اور ثبوتاً تجزی کو قبول کرے گا، رفعاً تو ظاہر ہے، کیونکہ مثلاً اس نے ہاتھ تین بار دھویا تو اس سے نجاست زائل ہوجائے گی، اور اسی لئے اس سے فرض تطہیر ساقط ہوگیا جبکہ باقی اعضاء میں نجاست باقی ہے اور ثبوتاً اس طرح کہ حَدَث اصغر چار اعضاء کو ناپاک کرتا ہے اور اکبر تمام بدن کو، ہم عنقریب اس پر کلام کریں گے اِن شاء اللہ تعالٰی۔

اما تلبس المکلف بھا ای اصطحابہ لہا فوصف للمکلف یحدث بحلول النجاسۃ فی ای جزء من اجزاء بدنہ ویبقی ببقائھا فی شیئ منھا فان زادت النجاسۃ لم یزدوان نقصت لم ینتقص بل اذا حدثت حدث ومھما بقیت ولوکاقل قلیل بقی کملا واذا زالت بالکلیۃ زال وکان نظیرھما الحرکۃ بمعنی القطع وبمعنی التوسط فالاول متجزئۃ لانطباقھا علی المسافۃ المتجزئۃ والثانیۃ لاجزء لھا بل تحدث بحدوث اول جزء من اجزاء الاولی وتبقی بحالھا مادام المتحرک بین الغایتین فاذ اسکن زالت دفعا فانقلت لم لایحمل کلام البحر علی ھذا کی یثبت التغایر بین الحدین کمافھم النھر والدر ویوافق لما اعترض بہ تبعا للفتح کلام العامۃ والمتون ان الحدث لایتجزی۔

رہا نجاست کے ساتھ مکلّف کا متلبس ہونا، تو یہ مکلّف کا وصف ہے جو نجاست کے حلول سے پیدا ہوتا ہے، خواہ اس کے بدن کے کسی جزء میں بھی ہو، اور حدث اس وقت تک باقی رہے گا جب تک نجاست کسی بھی عضو میں باقی رہے، تو اگر نجاست زیادہ ہوجائے تو حدث زیادہ نہ ہوگا، اور نجاست اگر کم ہو تو حدث کم نہ ہوگا، بلکہ جب بھی نجاست وجود میں آئے گی حدث وجود میں آئے گا اور جب تک باقی رہے گی خواہ کم سے کم ہو تو حدث بھی مکمل طور پر باقی رہے گا اور جب نجاست بالکلیہ زائل ہوجائے گی تو حدث بھی زائل ہوجائے گا، ان دونوں کی نظیر حرکۃ بمعنی قطع ہے اور حرکۃ بمعنی توسط کے ہے، تو پہلی منقسم ہے کیونکہ وہ مسافتِ منقسمہ پر منطبق ہوتی ہے اور دوسری کا کوئی جزء نہیں بلکہ پہلی حرکۃ کے پہلے جز کے پیدا ہونے پر پیدا ہوتی ہے اور اسی طرح باقی رہتی ہے جب تک دونوں غایتوں کے درمیان متحرک رہے اور جب پُر سکون ہوگا تو حرکت یک دم ختم ہوجائے گی۔ اگر تو کہے کہ بحر کے کلام کو اس پر کیوں محمول نہ کر لیاجائے تاکہ دونوں تعریفوں میں تغایر ظاہر ہوجائے جیسا کہ نہر اور دُر نے سمجھا ہے اور موافق ہوجائے اس اعتراض کے ساتھ جو انہوں نے فتح کی متابعت میں عام کتب اور متون پر کیا ہے کہ حَدَث منقسم نہیں ہوتا۔(ت)

قلت یاباہ قولہ قائمۃ بالاعضاء فان التلبس الذی لاتجزی لہ انما یقوم بالمکلف نفسہ لابالاعضاء والذی یقوم بھا یتجزی بتجزیھا کما عرفت امامخالفتہ لماذکرمن عدم التجزی فاقول لا(۱) غروفھو القائل فی باب شروط الصلاۃ متصلا بھذا التعریف بلا فصل مانصہ والخبث عین مستقذرۃ شرعا وقدم الحدث لقوتہ لان قلیلہ مانع بخلاف قلیل الخبث ۱؎ اھ

میں کہتا ہوں اس تاویل سے ان کا قول ''قائمۃ بالاعضاء'' انکار کرتا ہے، کیونکہ تلبس جو ایک غیر متجزی شیئ ہے، وہ بذاتِ خود مکلّف کے ساتھ قائم ہوتا ہے نہ کہ اُس کے اعضاء کے ساتھ، اور جو چیز اعضاء کے ساتھ قائم ہے وہ اعضاء کی تجزی کے باعث متجزی ہوتی ہے جیسا کہ آپ نے پہچانا اور اس کی مخالفت عدم تجزی سے، تو میں کہتا ہوں کہ اس پر کوئی تعجب نہ ہونا چاہئے کیونکہ وہ خود ہی اس تعریف کے متصلا بعد ''باب شروط الصّلوٰۃ'' میں فرماتے ہیں ''اور خُبث وہ چیز ہے جو شرعاً گندی ہو، اور حدث کو اس کی قوت کے باعث مقدم کیا کیونکہ اس کا قلیل بھی مانع ہے بخلاف قلیل خبث کے اھ

 (۱؎ بحرالرائق    شروط الصلوٰۃ    سعید کمپنی کراچی    ۱/۲۶۶)

فقد افصح بتجزی الحدث وقال متبوعہ المحقق علی الاطلاق فی الفتح کلمتھم متفقۃ علی ان الخف اعتبر شرعاما نعا سرایۃ الحدث الی القدم فتبقی القدم علی طھارتھا ویحل الحدث بالخف فیزال بالمسح ۲؎ اھ

یہاں انہوں نے بوضاحت حدث کے منقسم ہونے کا قول کیا ہے، اور اُن کے مقتدا محقق علی الاطلاق نے فتح میں فرمایا تمام فقہاء اس پر متفق ہیں کہ موزہ شرعا قدم کی طرف حدث کی سرایۃ کو قدم تک روکنے والا ہے، تو قدم بدستور پاک رہے گا اور حدث موزہ میں داخل ہوجائے گا، لہٰذا مسح سے اس کو زائل کرد یا جائے گا اھ

 (۲؎ فتح القدیر     مسح الخفین    سکھر        ۱/۱۲۸)

فھذا نص صریح علی تجزی الحدث واعتراف باطباق کلمتھم علیہ وھو کذلک فمن نظر کلامھم فی مسائل مسح الخفین وغیرھا ایقن بانھم جمیعا قائلون بتجزیہ وانما الذی لایتجزی ھو تلبس المکلف بالمنع الشرعی فظھر ظھور النھار ان الا یراد علی المتون والعامۃ وتثلیث السبب کلا کان فی غیر محلہ ولا حاجۃ الی ماتجشم(۱) البحر جوابا عن المتون بقولہ الا ان یقال ان الحدث زال عن العضو زوالا موقوفا ثم ضعفہ بقولہ لکن المعلل بہ فی کتاب الحسن عن ابی حنیفۃ اسقاط الفرض لاازالۃ الحدث ۳؎۔

یہ نص صریح ہے حدث کے متجزی ہونے پر اور اس امر کا اعتراف ہے کہ فقہاء اس پر متفق ہیں، اور بات ایسی ہے کیونکہ جو بھی مسح علی الخفین کی بابت فقہاء کے کلام کو دیکھے گا اس کو یقین آجائے گا کہ سب فقہاء حَدَث کے متجزی ہونے کے قائل ہیں، اور جو چیز متجزی نہیں ہوتی ہے وہ مکلّف کا منع شرعی سے متصف ہونا ہے، تو روز روشن کی طرح واضح ہوگیا کہ متون اور عام کتب پر اعتراض اور سبب کی تثلیث سب بے محل ہیں اور جو تکلف بحر نے متون کے جواب میں کیا ہے اس کی چنداں حاجت نہیں، جو اب یہ ہے کہ ''مگر یہ کہ کہا جائے کہ حدث عضو سے زوالِ موقوف کے طور پر زائل ہوا ہے، پھر خود ہی اس کو ضعیف قرار دیا اور فرمایا کہ حسن کی کتاب میں ابو حنیفہ سے اسقاط فرض کی علّت بنانا مروی ہے نہ کہ ازالہ حدث کو۔(ت)

 (۳؎ بحرالرائق    بحث الماء المستعمل    سعید کمپنی کراچی    ۱/۹۲)

اقول بل لاوجہ(۲) لہ لان الحدث بالمعنی الذی لایتجزی اعنی تلبس المکلف بالمانع الشرعی لاقیام لہ بعضو حتی یزول عنہ منجزا اوموقوفا ثم تعلیل(۳) الامام فی ھذا الکلام باسقاط الفرض لاینافی تعلیلہ فی کلام اخر برفع الحدث علی ماقررنا لک بارشاد الھدایۃ ان مؤداھما واحد وقد قال فی الخلاصۃ والتبیین والفتح وغیرھا الماء بماذایصیر مستعملا قال ابو حنیفۃ وابو یوسف اذا ازیل بہ حدث اوتقرب۱؎ بہ الخ وباللّٰہ التوفیق

میں کہتا ہوں دراصل اس کی کوئی وجہ ہی نہیں ہے، کیونکہ حَدَث اُس معنی کے اعتبار سے جس میں وہ منقسم نہیں ہوتاہے یعنی مکلف کا مانع شرعی کے ساتھ متلبس ہونا، اس کا قیام کسی عضو کے ساتھ نہیں، تاکہ وہ اس سے فوری طور پر یا موقوفاً زائل ہوجائے، پھر امام کا اس کلام میں اسقاط فرض کے ساتھ تعلیل کرنا، ان کے دوسرے کلام میں رفع حدث کی علّت بتانے سے متضاد نہیں، جیسا کہ ہم نے ہدایہ کی عبارت سے واضح کردیا ہے کہ دونوں کا ماحصل ایک ہی ہے، اور خلاصہ، تبیین، فتح وغیرہا میں ہے کہ پانی کا مستعمل ہونا ابو حنیفہ اور ابو یوسف کے نزدیک اس وقت ہوگا جب اس سے کوئی حدث زائل کیا جائے یا کوئی تقرب کیا جائے الخ وباللہ التوفیق

 (۱؎خلاصۃ الفتاوٰی        نولکشور لکھنؤ        ۱/۱۷)

ثم جنوح(۴) المحقق فی آخرکلامہ الذی اثرنا عنہ الی ان سقوط الفرض ھو الاصل فی الاستعمال اعتمدہ فی البحر ثم الدر واشار الی الرد علیہ العلامۃ ش بان نقل اولا عن الفتح نفسہ ان المعلوم من جھۃ الشارع ان الاٰلۃ التی تسقط الفرض وتقاٰم بھا القربۃ تتدنس الخ وایضا عنہ مانصہ والذی نعقلہ ان کلا من التقرب والاسقاط مؤثر فی التغیر الا تری انہ انفرد وصف التقرب فی صدقۃ التطوع واثّر التغیر حتی حرمت علی النبی صلی اللّٰہ تعالی علیہ وسلم فعرفنا ان کلا اثرتغیرا شرعیا اھ ثم قال بعد نقلھما مقتضاہ ان القربۃ اصل ایضا فالمؤثر فی الاستعمال۲؎ اصلان اھ۔

پھر محقق کا جو کلام ہم نے نقل کیا ہے اس میں ان کا میلان اس طرف ہے کہ پانی کے استعمال سے سقوط فرض ہی اصل ہے بحر اور دُر نے اسی پر اعتماد کیا ہے اور علامہ "ش" نے اس پر رد کی طرف اشارہ کیا ہے، پہلے تو انہوں نے خود ہی فتح سے نقل کیا کہ شارع سے معلوم ہے کہ وہ آلہ جس سے فرض ساقط ہو اور قربۃ ادا ہو میلا ہوجاتا ہے الخ انہوں نے مزید فرمایا کہ جو ہم سمجھتے ہیں وہ یہ ہے کہ تقرب اور اسقاط فرض دونوں ہی تغیر میں مؤثر ہیں، مثلاً وصف تقرب صدقہ تطوع میں منفرد ہے اور تغیر نے اثر کیا یہاں تک کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر حرام ہوگئی، تو ہمیں معلوم ہوا کہ ہر ایک نے شرعی تغیر کا اثر چھوڑا ہے اھ پھر دونوں کو نقل کرنے کے بعد فرمایا کہ اس کامقتضی یہ ہے کہ قربۃ بھی اصل ہے تو استعمال میں مؤثر دو اصلیں ہیں اھ ت

 (۲؎ردالمحتار    باب المیاہ    مصطفی البابی مصر    ۱/۱۴۶)

اقول کلام(۱) المحقق من اولہ الی اخرہ طافح باثبات الاصالۃ بھذا المعنی ای مایبتنی علیہ الحکم بتدنس الماء للقربۃ والاسقاط جمیعا بل ھو الذی ثلث واقام اصولا ثلثۃ وما کان لیقرر ھذا کلہ ثم فی طی نفس الکلام یحصر الاصالۃ فی شیئ واحد وانما منشأ کلامہ انہ رحمہ اللّٰہ تعالی نقل عنھم ان الاستعمال عند الشیخین باحد شیئین رفع الحدث والتقرب وعند محمد بالتقرب وحدہ وحمل رفع الحدث علی المعنی الذی لایتجزی فتطرق الا یراد بالفروع التی حکم فیھا باستعمال الماء مع بقاء الحدث فقرر ان اسقاط الفرض ایضا مؤثر واستدل علیہ بکلام الامام فی کتاب الحسن وبان الاصل الذی عرفنا بہ ھذا الحکم ھو مال الزکاۃ والثابت فیہ لیس الاسقوط الفرض ای وان اثبتناہ ایضا بالتقریب بدلیل آخر فالاصل الذی ارشدنااولاالی ھذاالحکم ھوسقوط الفرض فکیف یعزل النظرعنہ بل یجب القول بہ وھذالاینافی ان الاصول اثنان بل ثلثۃ ینقدح ھذا المعنی فی ذھن من جمع اول کلامہ باٰخرہ حیث یقول المعلوم من جہۃ الشارع ان الۃ تسقط الفرض وتقام بھا القربۃ تتدنس اصلہ مال الزکاۃ تدنس باسقاط الفرض حتی جعل من الاوساخ فی لفظہ صلی اللّٰہ تعالی علیہ وسلم ۱؎ الخ

میں کہتا ہوں محقق کا کلام از اوّل تاآخر سطحی ہے کہ اس میں اصالت اس معنی کے اعتبار سے ثابت کی ہے، یعنی وہ چیز جس پر حکم کی بنا ہو، پانی کے ادائے قربت کی وجہ سے میلا ہوجانے کے باعث اور اسقاطِ فرض کے باعث، بلکہ وہی ہیں جنہوں نے تثلیث کی اور تین اصول مقرر کئے، اور وہ یہ تقریر کرکے پھر ان میں سے ایک چیز پر اصالت کو منحصر نہیں کررہے، اُن کے کلام کا اصل مقصد یہ ہے کہ وہ اُن(رحمہم اللہ) سے یہ نقل کررہے ہیں کہ شیخین کے نزدیک استعمال دو چیزوں میں سے ایک کی وجہ سے ہوتا ہے، رفعِ حدث اور تقرب، اور محمد کے نزدیک صرف تقرب سے اور رفعِ حدث کو اس معنی پر محمول کیا کہ اس میں تجزّی نہیں ہوتی، اِس بنا پر اُن فروع کی وجہ سے اعتراض وارد ہوا جن میں پانی کے استعمال کا حکم ہوا حدث کے باقی ہوتے ہوئے، انہوں نے اس امر کو ثابت کیا اسقاط فرض بھی مؤثر ہے، اور اس پر انہوں نے امام کے کلام سے استدلال کیا ہے جو کتاب حسن میں مذکور ہے اور یہ استدلال بھی کیا ہے کہ وہ اصل جس کی وجہ سے ہم نے یہ حکم جانا ہے وہ زکوٰۃ کا مال ہے اور اس میں صرف فرض کا سقوط ہے، یعنی اگرچہ ہم اس کو کسی اور دلیل کی وجہ سے تقرب سے ثابت کریں تو وہ اصل جو ہم نے پہلے سے بتائی ہے اور جس سے یہ حکم ثابت ہوا ہے وہ سقوط فرض ہے تو اُس سے صرفِ نظر کیونکر ممکن ہے بلکہ اس کوماننا لازم ہے،اور یہ اس امر کے منافی نہیں کہ اصول دو ہیں بلکہ تین ہیں یہ معنی اس کے دل میں ضرور خلجان پیدا کریں گے جو اُن کے اول کلام اور آخر کلام کو یکجا کرکے پڑھے گا، وہ کہتے ہیں کہ وہ آلہ جس سے فرض ساقط ہوتا ہے اور قربت ادا ہوتی ہے میلا ہوجاتا ہے اس کی اصل مال زکوٰۃ ہے کہ وہ اسقاط فرض سے میلا ہوجاتا ہے اس لئے اس کو حدیث میں ''اوساخ'' قرار دیا گیا ہے الخ

 (۱؎ فتح القدیر     باب الماء الذی یجوز بہ الوضوء و مالا یجوز    نوریہ رضویہ سکھر    ۱/۷۵)

فافصح ان کلا الا مرین مغیر واقتصر فی الزکوٰۃ علی الاسقاط ثم قال فی بیان سبب ثبوت الاستعمال انہ عند ابی حنیفۃ وابی یوسف کل من رفع الحدث والتقرب وعند محمد التقرب وعند زفر الرافع لایقال ماذکرلاینتھض علی زفراذیقول مجرد القربۃ لایدنس بل الاسقاط فان المال لم یتدنس بمجردالتقرب بہ ولذا جاز للھاشمی صدقۃالتطوع بل مقتضاہ ان لایصیرمستعملا الا بالاسقاط مع التقرب فان الاصل اعنی مال الزکاۃ لاینفرد فیہ الاسقاط عنہ اذ لاتجوزالزکاۃ الا بنیۃ ولیس ھو قول واحد من الثلثۃ(یرید اصحاب الاقوال الثلثۃ الشیخین ومحمد او زفر) لانانقول غایۃ الامر ثبوت الحکم فی الاصل مع المجموع وھو لایستلزم ان المؤثرالمجموع بل ذلک دائر مع عقلیۃ المناسب للحکم فان عقل استقلال کل حکم بہ اوالمجموع حکم بہ والذی نعقلہ ان کلامؤثر۲؎ الی اخرماتقدم

اس سے واضح ہوا کہ دونوں امور تبدیلی کرنے والے ہیں، اور زکوٰۃ میں اسقاط پر اکتفاء کیا گیا ہے، پھر ثبوت استعمال کے سبب کے بیان میں فرمایا کہ ابو حنیفہ اور ابو یوسف کے نزدیک سبب رفعِ حدث اور تقرب ہے اور محمد کے نزدیک وہ تقرب ہے اور زفر کے نزدیک رفع ہے یہ اعتراض نہ کیا جائے کہ یہ دلیل زفر کے خلاف نہیں چل سکتی ہے کہ وہ فرماتے ہیں کہ صرف قُربت پانی کو مستعمل نہیں کرتی ہے بلکہ اسقاط بھی اس میں شامل ہے، کیونکہ مال زکوٰۃ محض تقرب کی وجہ سے میلا نہیں ہوا ہے، اور اسی لئے ہاشمی نفلی صدقہ لے سکتا ہے بلکہ اس کامقتضی یہ ہے کہ اسقاط مع تقرب سے اسقاط منفرد نہیں، کیونکہ زکوٰۃ بلانیت جائز نہیں اور یہ تینوں میں سے کسی ایک کا قول نہیں(اس سے ان کی مراد تینوں اقوال کے قائلین یعنی ابو حنیفہ وابو یوسف،محمدیازفررحمہم اللہ ہیں) کیونکہ ہم کہتے ہیں کہ زیادہ سے زیادہ حکم کا اصل مجموع کے ساتھ ثابت ہوتا ہے اور وہ اس امر کو مستلزم نہیں ہے کہ موثر مجموع ہے بلکہ اس کا دارومدار اس پر ہے کہ مناسب حکم کو سمجھا جائے، اگرہر حکم کااستقلال اس کے ساتھ سمجھا جائے یا مجموع کا تو اس کے ساتھ حکم کیا جائے گا اور جو ہم سمجھتے ہیں وہ یہ ہے کہ ہر ایک موثر ہے الی آخر ماتقدم،

 (۲؎ فتح القدیر     باب الماء الذی یجوز بہ الوضوء و مالا یجوز    نوریہ رضویہ سکھر    ۱/۷۶)

ثم قال قال فی الخلاصۃ ان الماء بما ذایصیر مستعملا(فذکر المذھبین کما نقلنا ثم قال) ھذا یشکل علی قول المشائخ ان الحدث لایتجزأ والمخلص ان صیرورۃ الماء مستعملا باحد ثلثۃ رفع الحدث والتقرب وسقوط الفرض وھوالاصل لما عرف ان اصلہ مال الزکاۃ والثابت فیہ لیس الاسقوط الفرض۔

پھر کہا کہ انہوں نے خلاصہ میں فرمایا کہ پانی کس چیز کی وجہ سے مستعمل ہوتا ہے(تو انہوں نے دونوں مذاہب کا ذکر کیا ہے جیسا کہ ہم نے نقل کیا پھر فرمایا( یہ مشائخ کے قول کی روشنی میں مشکل ہے کہ حدث متجزی نہیں ہوتا، اور اس اشکال سے نجات کی صورت تین امور میں سے ایک امر ہے رفع حدث، تقرب اور سقوط فرض ہی اصل ہے، کیونکہ یہ معلوم ہوچکا ہے کہ اس کی اصل مال زکوٰۃ ہے اور اس میں جو ثابت ہے وہ سقوط فرض ہی اصل ہے، کیونکہ یہ معلوم ہوچکا ہے کہ اس کی اصل مال زکوٰۃ ہے اور اس میں جو ثابت ہے وہ سقوط فرض ہے۔ ت

اقول: ای وان کان الموجود فیہ الامران لکن ھذا اقوی وفیہ المقنع فلا یثبت بہ الا سببیۃ ھذا وان استفید سببیۃ الاخر بدلیل حرمۃ صدقۃ التطوع علیہ صلی اللّٰہ تعالی علیہ وسلم کما قدم فتاثیر اسقاط الغرض ھواول ماثبت بالاصل الاعظم فلا مساغ لاسقاطہ قال والمفید لاعتبار الاسقاط مؤثرا صریح تعلیل ابی حنیفۃ انہ سقط فرضہ عنہ ۱؎ اھ ملتقطا

میں کہتا ہوں اگرچہ اس میں موجود دونوں امر ہیں لیکن یہ اقوی ہے اور اس میں کفایت ہے، تواس سے اس کی سببیت ثابت ہوگی اگرچہ دوسرے کی سببیت بھی ثابت ہوگی، اس کی دلیل یہ ہے کہ حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم پر نفلی صدقہ حرام ہے جیسا کہ گزرا، تو اسقاط فرض کی تاثیر پہلی چیز ہے جو اصل اعظم سے ثابت ہے تو اس کے ساقط کرنے کا کوئی جواز نہیں فرمایا) اور اسقاط کو مؤثر اعتبار کرنے کیلئے مفید امام ابو حنیفہ کی صریح تعلیل ہے کہ اسکا فرض اس سے ساقط ہوگیا اھ ملتقطا،

 (۱؎ فتح القدیر    الماء الذی یجوز بہ الوضوء ومالایجوز    نوریہ رضویہ سکھر    ۱/۷۶)

وعلیک بتلطیف القریحۃ ھذا وقررہ العلامۃ ط تبعاللبحربوجہ اخر حیث قال تحت قول الدر اسقاط فرض ھوالاصل فی الاستعمال کما نبہ علیہ الکمال مانصہ وھوموجود فی رفع الحدث حقیقۃ وفی القربۃ حکما لکونھا بمنزلۃ الاسقاط ثانیا وقدمر ۲؎ اھ

اور تم اپنی طبیعت کو خوشگوار کرو، ہذا، اور علامہ "ط" نے بحر کی متابعت کرتے ہوئے اس کی تقریر دوسرے انداز میں کی ہے، انہوں نے "دُر" کے قول اسقاط فرض ہی استعمال میں اصل ہے کے تحت فرمایا، جیسا کہ کمال نے اس پر تنبیہ فرمائی ہے کہ یہ حدث کو رفع کرنے میں حقیقۃً موجود ہے اور قربت میں حکما ہے، کیونکہ یہ بمنزلہ اسقاط ثانیا ہے اور یہ گزرا اھ

 (۲؎ طحطاوی علی الدر    باب المیاہ        بیروت        ۱/۱۱۰)

وما مر ھو قولہ انما استعمل الماء بالقربۃ کالوضوء علی الوضوء لانہ لما نوی القربۃ فقدازداد طھارۃ علی طھارۃ فلا تکون طھارۃجدیدۃ الابازالۃالنجاسۃالحکمیۃ حکما فصارت الطھارۃعلی الطھارۃ وعلی الحدث سواء ۳؎ افادہ صاحب البحر اھ۔

اور جو گزرا وہ ان کا قول ہے، بیشک پانی قربت کی وجہ سے مستعمل ہوتا ہے، جیسے وضو پر وضو کرنا اس لئے جب قربت کا ارادہ کیا تو وہ طہارت کے اعتبار سے زیادہ ہوگیا، تو نئی طہارت نجاست حکمیہ کے ازالہ سے ہی ہوگی حکما، تو طہارت پر طہارت، اور حدث پر طہارت برابر ہوگئی، اس کا افادہ صاحبِ بحر نے کیا اھ ت

 (۳؎ بحرالرائق        کتاب الطہارت    ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۱/۹۲)

اقول نقلہ عن معراج الدرایۃ واقرو فیہ(۱) بعدلا یخفی فما النجاسۃ لاسیما الحکمیۃ الا اعتبار شرعی والاعتبار الصحیح لایکون الاعن منشأ صحیح وبدونہ اختراع یجل شان الشرع عنہ وقد زال ذلک بالطھر فلا یعود الا بحدث جدید وبعبارۃ اخری ھل اعتبر الشرع ھنا شیأ ینافی الطھر یزول بالماء الثانی فیحصل طھر جدید ام لا علی الثانی عاد السؤال اذلا نجاسۃ حقیقۃ ولا اعتبار او علی الاول ما حقیقۃ النجاسۃ الحکمیۃ الا ذلک الاعتبار الشرعی فلا معنی لتحقق الحکمیۃ حکما لاحقیقۃ وبعبارۃ اخصر ماالحکمیۃ الا اعتبارالشرع فالحکمیۃ حکما اعتبار الشرع انہ اعتبرومااعتبراذلواعتبرلتحققت وبالجملۃ ماماٰل الجواب الافرضھا ھنالک فرضا باطلا ولا مساغ لہ وانا انبئک ان ماافادہ(۱) انما ھو تجشم مستغنی عنہ وذلک لان المعراج انما احتاج الیہ جوابا عن سؤال نصبہ بقولہ فان قیل المتوضیئ لیس علی اعضائہ نجاسۃ لاحقیقۃ ولا حکمیۃ فکیف یصیر الماء مستعملا بنیۃ القربۃ فاجاب بقولہ لما نوی القربۃ فقد ازداد ۱؎ الخ

میں کہتا ہوں اس کو معراج الدرایہ سے نقل کیا اور برقرار رکھا، اس میں بُعد ہے جو مخفی نہیں ہے کیونکہ نجاست، خاص طور پر حکمیہ اعتبار شرعی ہے اور اعتبار صحیح اسی وقت ہوتا ہے جب اس کا منشاء صحیح ہو، اور اس کے بغیر اختراع ہے، شریعت کی شان اس سے بڑی ہے، اور یہ طُہر سے زائل ہوگیا تو صرف نئے حدث سے ہی یہ عود کرے گا، بالفاظ دیگر کیا یہاں شریعت نے کوئی ایسی چیز معتبر مانی ہے جو منافی طہر ہو اور دوسرے پانی سے زائل ہوجائے، تو نئی پاکی حاصل ہو یا معتبر نہیں مانی ہے، دوسری تقدیر پر سوال لوٹ کرآئیگا کیونکہ کوئی حقیقی نجاست نہیں اور نہ ہی اعتباری ہے اور پہلی تقدیر پر نجاست حکمیہ کی حقیقت شرعی اعتبار کے علاوہ اور کیا ہے تو یہ کہنا بے معنی ہے کہ نجاست حکمیہ حقیقۃً نہیں حکماً پائی جاتی ہے اور مختصر عبارت میں یوں کہا جاسکتا ہے کہ نجاست حکمیہ صرف شرعی اعتبار سے عبارت ہے تو حکمیہ حکما شرع کا یہ اعتبار ہے کہ اس کا اعتبار کیا گیا ہے، اور اعتبار کیا نہیں گیا کیونکہ اگر اعتبار کیا جاتا تو وہ متحقق ہوجاتی۔ خلاصہ یہ کہ جواب کامآل یہ ہے کہ حکمیہ کو وہاں اعتبار کیا جائے بفرض باطل جس کی گنجائش نہیں، اور میں تجھ کو خبر دار کرتا ہوں کہ جس کا اِفادہ انہوں نے کیا ہے وہ محض تکلّف ہے جس کی ضرورت نہیں، اور اسکی وجہ یہ ہے کہ معراج کو اس کی ضرورت اس لئے پڑی کہ انہیں اس سوال کا جواب دینا ہے کہ اگر یہ کہا جائے کہ وضو کرنے والے کے اعضاء پر نہ حقیقی نجاست ہے اور نہ حکمی ہے تو پانی بہ نیت تقرب کیسے مستعمل ہوجائے گا، تو انہوں نے جواب دیا کہ جب اس نے نیت کی تو زیادتی کی الخ۔(ت)

 (۱؎ بحرالرائق    کتاب الطہارۃ    ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۱/۹۲)

اقول اولا یعود السائل یمنع ازدیاد الطھارۃ وانما ازداد نظافۃ لانھا تقبل التشکیک دون الطھارۃ ولذا قلنا بعدم تجزی الحدث والی ازدیاد النظافۃ یشیر الحدیث المشہور الوضوء علی الوضوء نور علی نور اخرجہ رزین وان قال العراق والمنذری لم نقف علیہ کما فی التیسیر،

میں کہتا ہوں اولاً کہ سائل کہہ سکتا ہے کہ ہم طہارت کی زیادتی کو تسلیم نہیں کرتے اس میں نظافت کا اضافہ تو اس لئے ہے کہ نظافت کمی بیشی کو قبول کرتی ہے، مگر طہارت ایسی نہیں اور اسی لئے ہم نے کہا ہے کہ حدث میں تجزّی نہیں ہے، اور نظافت میں اضافہ کی طرف اس حدیث میں اشارہ ہے کہ وضو پر وضو نور علٰی نور ہے، اس کی تخریج رزین نے کی ہے اگرچہ عراقی اور منذری نے کہا ہے کہ ہم اس پر مطلع نہیں ہوئے ہیں کما فی التیسیر۔

وثانیا لامساغ(۱) للسؤال رأسا فان مبناہ علی حصر النجاسۃ الحکمیۃ فی الحدث ولیس کذا بل منھا المعاصی کما تقدمت النصوص علیہ والماء الاول وان کان کما یزیل الحدث یغسل من اثر المعاصی ایضا بشرط النیۃ ولکن لایجب ان یزیلھا کلًّا والا لکفی الوضوء عن التوبۃ وصار کل من توضأ مرۃ ولو بعد الف کبیرۃ کمن لاذنب لہ وھوباطل قطعا فھذہ نجاسۃ حکمیۃ باقیۃ بعد التطھیر فی عامۃ المکلفین فاین مثار السؤال بل قدمنا(۲) ان المکروھات ایضا تغیر الماء فھذا اطم واعم

ثانیاً سوال کی گنجائش ہی نہیں، کیونکہ اس سوال کا دارومدار اس پر ہے کہ نجاستِ حکمیہ کو حدث میں منحصر کردیا گیا ہے اور حالانکہ بات یہ نہیں ہے، بلکہ نجاست حکمیہ میں معاصی بھی شامل ہیں، اس پر نصوص گزر چکے ہیں، اور پہلاپانی جس طرح حَدَث کو زائل کرتا ہے بشرطِ نیت گناہوں کو بھی دھو ڈالتا ہے مگر یہ ضروری نہیں کہ گناہوں کو کلیۃً دھو ڈالے ورنہ تو وضو ہی کافی ہوجاتا تو بہ کی ضرورت ہی نہ ہوتی اور ہزار ہا گناہوں کے بعد ایک ہی مرتبہ وضو کرلیتا تو تمام گناہ معاف ہوجاتے، اور وہ اس طرح ہوجاتا گویا اس نے کوئی گناہ کیا ہی نہیں ہے، اور یہ چیز قطعاً باطل ہے تو یہ وہ نجاست حکمیہ ہے جو مکلفین میں طہارت حاصل کرنے کے بعد بھی باقی رہتی ہے، تو اب سوال کیسے پیدا ہوسکتا ہے، بلکہ ہم پہلے بتا چکے ہیں کہ مکروہات بھی پانی کو متغیر کردیتے ہیں تو یہ بلند اور اعم ہے۔

اما المعصومون صلوات اللّٰہ تعالی وسلامہ علیھم فاقول لانسلم فی مائھم(۳) الاول ایضا انہ مستعمل فی حقنا بل طاھر طھور مطھرلنا فضلا عن الثانی واذا اعتقدنا الطھارۃ فی فضلاتہ صلی اللّٰہ تعالی علیہ وسلم فما ظنک بوضوئہ فالاستدلال(۴) علی طھارۃ الماء المستعمل بان اصحابہ صلی اللّٰہ تعالی علیہ وسلم بادروا الی وضوئہ فمسحوا بہ وجوھم کما فی العنایۃ ۱؎ وغیرھا مع ضعفہ بوجوہ ذکرھا فی البحر عن العلامۃ الہندی لیس فی محلہ عندی نعم یعتبر مستعملا فی حقھم شرعا فلا یرد علی الحد نقضا کما اعتبرت فضلا تھم نواقض لعظم رفعۃ شأنھم ونزاھۃ مکانھم صلوات اللّٰہ تعالی وسلامہ علیھم۔

رہے انبیاءعلیہم السلام جو معصوم ہیں تو ہم یہ تسلیم نہیں کرتے کہ ان کا پہلا پانی ہمارے حق میں مائے مستعمل ہے، بلکہ وہ ہمارے حق میں پاک ہے اور پاک کرنے والا ہے اور جب پہلے پانی کایہ حال ہے تو دوسرے پانی کا بطریق اولیٰ یہ حال ہوگا، اور ہم تو انبیاء علیہم السلام کے فضلات کی طہارت کے قائل، تو وضو کے پانی کا کیا ذکر ہے۔ بعض حضرات نے حضور اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے مستعمل پانی کی طہارت پر اس امر سے استدلال کیا ہے کہ آپ کے اصحاب نے اُس پانی کی طرف سبقت کی اور اس کو اپنے چہروں پر ملا، جیسا کہ عنایہ وغیرہ میں ہے، بوجوہ ضعیف ہے، یہ وجوہ بحر میں علامہ ہندی سے نقل کی گئی ہیں، میرے نزدیک وہ برمحل نہیں، ہاں ان کے حق میں شرعا مستعمل ہوگا، تو اس سے ماء مستعمل کی حد پر نقض وارد نہ ہوگا، اسی طرح ان کے فضلات کو نواقضِ وضو میں شمار کیا گیا ہے کیونکہ ان کی شان بہت عظیم ہے اور ان کا مقام بہت ستھرا ہے صلوات اللہ تعالٰی وسلامہ علیہم۔(ت)

 (۱؎ العنایۃ مع     فتح القدیر     باب الماء الذی یجوز بہ ومالا یجوز    نوریہ رضویہ سکھر    ۱/۷۶)

تنبیہ اختلفوا(۱) فی الحدث الاصغر ھل یحل کالاکبر بظاھر البدن کلہ وانما جعل الشرع الوضوء رافعا لہ تخفیفا ام لاالابالاعضاء الاربعۃ ویبتنی علیہ الخلاف فیما اذا غسل المحدث نحو فخذہ فیصیر الماء مستعملا علی الاول دون الثانی وبالعدم جزم فی کثیر من المتد اولات ونص فی الخلاصۃ انہ الاصح فکان ترجیحا للقول الثانی ولذا عولنا علیہ وفی المنحۃ عن النھر وکان الراجع ھو الثانی ولذا لم یصر الماء مستعملا بخلافہ علی الاول ۲؎ اھ والظاھر ان کان مشددۃ فیعطی تردد افی ترجیحہ۔

تنبیہ حدثِ اصغر کی بابت اختلاف ہے کہ آیا وہ بھی تمام بدن میں حدثِ اکبر کی طرح حلول کرتا ہے، اور شارع نے وضو کو اس کیلئے رافع تخفیفا قرار دیا ہے یا نہیں؟ ہاں اعضاء اربعہ میں ایسا ہے اور اسی پر یہ اختلاف مبنی ہے کہ بے وضو شخص نے اگر اپنی ران کے مثل کو دھویا تو پہلے قول پر پانی مستعمل ہوجائے گا دوسرے قول پر نہ ہوگا، اور مستعمل نہ ہونے پر بہت سی متداول کتب میں اعتماد کیا گیا ہے اور خلاصہ میں تصریح کی ہے کہ یہی اصح ہے تو یہ قول ثانی کی ترجیح ہے، اسی لئے ہم نے اس پر اعتماد کیا ہے اور منحہ میں نہر سے ہے کہ راجح دوسرا ہے اور اسی لئے پانی مستعمل نہ ہوگا، اس کے برعکس ہے پہلی صورت میں اھ اور ظاہر یہ ہے کہ کَاَنَّ مشدّدہ ہے۔ تو اس سے اس کی ترجیح میں تردّد پیدا ہوگا،

 (۲؎ منحۃ الخالق مع البحر    کتاب الطہارت    ۱/۹۲)

اقول وقد یجوز ان یقول قائل ربما یشھد للاول اوّلا حدیث(۱) اذا تطھرا حدکم فذکر اسم اللّٰہ علیہ فانہ یطھر جسدہ کلہ فان لم یذکر اسم اللّٰہ تعالٰی علی طھورہ لم یطھر الامامر علیہ الماء ۱؎

میں کہتا ہوں یہ بھی جائز ہے کہ کوئی کہنے والا کہے کہ پہلے قول کی دلیل یہ حدیث ہے کہ جب تم میں سے کوئی پاکی حاصل کرے اور اللہ کا نام لے تو اس کا پوراجسم پاک ہوجائے گا اور اگر اللہ کا نام نہ لے تو صرف وہی عضو پاک ہوگا جس پر پانی گزرا ہو،

 (۱؎دار قطنی        باب التسمیۃ علی الوضوء    مطبع القاہرہ    ۱/۷۳)

رواہ الدار قطنی والبیھقی فی سننہ والشیرازی فی الالقاب عن عبداللّٰہ بن مسعود رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ قال البیھقی بعد ماساقہ بطریق یحیی بن ھاشم السمسار ثنا الاعمش عن شقیق بن سلمۃ عن عبداللّٰہ بن مسعود رضی اللّٰہ تعالی عنہ قال سمعت رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ تعالی علیہ وسلم یقول فذکرہ ھذا ضعیف لااعلم رواہ عن الاعمش غیر یحیی بن(۲) ھاشم وھو متروک الحدیث ۲؎

روایت کیا دار قطنی اور بیہقی نے اپنی سنن میں اور شیرازی نے القاب میں عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالٰی عنہ سے بیہقی نے یہ حدیث بسند یحیی بن ہاشم السمسار ذکر کی ہے، ہم سے اعمش نے شقیق بن سلمہ سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کی، انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، پھر پوری حدیث ذکر کی، یہ ضعیف ہے، میں نہیں جانتا کہ اس کو اعمش سے یحیی بن ہاشم کے غیر نے روایت کیا، اور وہ متروک الحدیث ہے،

 (۲؎ سنن الکبریٰ للبیہقی    تسمیۃ علی الوضوء     بیروت    ۱/۴۴)

ورواہ ابن عدی بالوضع اھ وکذبہ ابن معین وصالح جزرۃ وقال النسائی متروک وبہ اعلہ المحقق فی الفتح حین کلامہ علی وجوب التسمیۃ فی الوضوء  تبعا للبیہقی۔

اور اس کو ابن عدی نے وضاع قرار دیا اھ ابن معین اور صالح نے اس کی تکذیب کی اور نسائی نے اس کو متروک کہا اور یہی علّت محقق نے فتح میں بیان کی، یہ اُس موقعہ پر ہے جہاں انہوں نے وضو میں بسم اللہ کے وجوب کا ذکر کیا بیہقی کی متابعت میں۔ ت

اقول بل لہ(۳) طرق ترفعہ عن الوھن فقد رواہ الدار قطنی والبیھقی ایضا عن ابن عمر وھما وابو الشیخ عن ابی ھریرۃ رضی اللّٰہ تعالی عنھم ولفظہ عن النبی صلی اللّٰہ تعالی علیہ وسلم من توضأ وذکر اسم اللّٰہ علی وضوئہ تطھر جسدہ کلہ ومن توضأ ولم یذکر اسم اللّٰہ علی وضوئہ لم یتطھر الاموضع الوضوء ۱؎

میں کہتا ہوں اس حدیث کے بعض طرق ایسے ہیں جو اس کی کمزوری کو رفع کرتے ہیں، دار قطنی اور بیہقی نے بھی اس کو ابن عمر سے روایت کیا، اور انہی دونوں نے اور ابو الشیخ نے ابو ھریرہ سے روایت کیا، ان کے لفظ یہ ہیں کہ حضور اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا جس نے بسم اللہ کرکے وضو کیا تو اس کا سارا جسم پاک ہوگا اور جس نے وضو کے وقت بسم اللہ نہ پڑھی تو صرف وضو کی جگہ ہی پاک ہوگی

 (۱؎ سنن الکبریٰ للبیہقی    باب التسمیۃ علی الوضوء     مطبع بیروت        ۱/۴۵)

ورواہ عبدالرزاق فی مصنّفہ عن الحسن الضبی الکوفی مرسلا ینمیہ الی النبی صلی اللّٰہ تعالی علیہ وسلم من ذکر اللّٰہ عندالوضوء طھر جسدہ کلہ فان لم یذکر اسم اللّٰہ لم یطھر منہ الامااصاب الماء ۲؎

اس کو عبدالرزاق نے اپنی مصنَّف میں حسن الضبی کوفی سے مرسلاً روایت کیا، اور وہ اس کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کرتے ہیں، فرماتے ہیں جس نے وضو کے وقت اللہ کا ذکر کیا اس کا تمام جسم پاک ہوجائے گا اور اگر اللہ کا ذکر نہ کیا تو صرف وہی حصہ پاک ہوگا جس پر پانی گزرا ہوگا،

 (۲؎ کنزالعمال    آداب الوضوء         مؤسسۃ الرسالۃ بیروت    ۹/۲۹۴)

واخرج ابوبکر بن ابی شیبۃ فی مصنفہ عن ابی بکر الصدیق رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ انہ قال اذا توضأ العبد فذکر اسم اللّٰہ تعالی طھر جسدہ کلہ وان لم یذکر لم یطھر الاما اصابہ بہ الماء ۳؎

اور ابو بکر سے ابن ابی شیبہ نے اپنی مصنَّف میں روایت کی کہ بندہ جب وضو کرتا ہے اور اللہ کا ذکر کرتا ہے تو اس کا سارا جسم پاک ہوجاتا ہے اور اگر اللہ کا ذکر نہیں کرتا تو صرف وہی حصہ پاک ہوتا ہے جس  پر پانی پہنچا ہو ۔

 (۳؎ مصنّف ابن ابی شیبۃ    فی التسمیۃ فی الوضوء     ادارۃ القرآن کراچی    ۱/۳)

وروی سعید بن منصور فی سننہ عن مکحول قال اذا تطھر الرجل وذکراسم اللہ طھر جسدہ کلہ واذالم یذکر اسم اللّٰہ حین یتوضأ لم یطھر منہ الامکان الوضوء ۴؎

اور سعید بن منصور نے اپنی سنن میں مکحول سے روایت کی کہ جب کوئی شخص پاکی حاصل کرتا ہے اور اللہ کا ذکر کرتا ہے تو اس کا سارا جسم پاک ہوجاتا ہے اور جب بوقت وضو اللہ کا نام نہیں لیتا ہے تو صرف وضو کی جگہ پاک ہوتی ہے،

 (۴؎ کنزالعمال     آداب الوضوء         موسسۃ الرسالۃ بیروت    ۹/۴۵۷)

ومع ھذہ الطرق یستحیل الحکم بالسقوط بل ربما یرتقی عن الضعف لاجرم ان صرح فی المرقاۃ لحدیث الدار قطنی ان سندہ حسن وثانیا نقل العلامۃ الزیلعی المحدث جمال الدین عبداللہ تلمیذ الامام الزیلعی الفقیہ فخرالدین عثمٰن شارح الکنز فی نصب الرایۃ تحت حدیث لاوضوء لمن لم یسم اللہ تعالی عن الامام ابن الجوزی ابی الفرج الحنبلی انہ قال محتجا علینا فی ایجابھم التسمیۃ للوضوء ان المحدث(ای بالحدث الاصغر اذفیہ الکلام ویکون(۱) ھو المراد عند الاطلاق کما فی الحلیۃ) لایجوز(۲) لہ مس المصحف بصدرہ ۱؎ اھ واقرہ علیہ۔

ان تمام طُرُق کی موجودگی میں سقوط کا قول کرنا محال ہے بلکہ ان سے حدیث مرتبہ ضعف سے بلند ہوجاتی ہے اور مرقاۃ میں دارقطنی کی روایت کی سند کو حسن قرار دیا ہے۔ ثانیا علامہ زیلعی محدّث جمال الدین عبداللہ شاگرد امام زیلعی فقیہ فخرالدین عثمان شارح کنز نصب الرایہ میں ''لاوضوء لمن لم یسم اللّٰہ(اس کا وضو نہیں جو اللہ کا نام نہ لے)کی حدیث کے تحت فرماتے ہیں کہ امام ابن جوزی ابو الفرج الحنبلی نے ہم پر حجت قائم کرنے کیلئے وہ بسم اللہ کو وضو میں واجب قرار دیتے ہیں فرمایا کہ مُحدِث(جس کو حدثِ اصغر لاحق ہوا کیونکہ کلام اُسی میں ہے اور عندالاطلاق وہی مراد ہوتاہے، کما فی الحلیہ) اس کو مصحف کا چھونا اپنے سینہ سے جائز نہیں اھ اور اس کو انہوں نے برقرار رکھا۔ ت

 (۱؎ نصب الرایۃ    کتاب الطہارۃ    اسلامیہ ریاض    ۱/۷)

قلت ویؤیدہ مافی الفتح ثم البحر وحاشیۃ الشلبی علی التبیین قال لی(۳) بعض الاخوان ھل یجوز مس المصحف بمندیل ھولا بسہ علی عنقہ قلت لااعلم فیہ منقولا والذی یظھر انہ ان کان بطرفہ وھو یتحرک بحرکۃ ینبغی ان لایجوز وان کان لایتحرک بحرکتہ ینبغی ان یجوز لاعتبارھم ایاہ فی الاول تابعا لہ کبدنہ دون الثانی ۲؎ اھ

میں کہتا ہوں اس کی تائید فتح میں، پھر بحر میں اور تبیین پر شبلی کے حاشیہ میں ہے مجھ سے بعض دوستوں نے دریافت کیا کہ اگر کوئی شخص گلے میں رومال ڈالے ہو تو وہ اس رومال سے مصحف کو چھو سکتا ہے؟ میں نے کہا میں اس سلسلہ میں کوئی نقل تو نہیں پاتا ہوں لیکن اگر صورت یہ ہو کہ اس کے ایک کنارے سے مصحف کو پکڑے اور اس کے حرکت دینے سے دوسرا کنارہ حرکت کرے تو جائز نہ ہونا چاہئے اور اگر حرکت نہ کرے تو مس کرنا جائز ہونا چاہئے، کیونکہ پہلی صورت میں وہ اس کو اس کا تابع قرار دیتے ہیں جیسا کہ اس کا بدن ہے دوسری صورت میں تابع نہیں کہتے اھ

 (۲؎ بحرالرائق        باب الحیض        سعید کمپنی کراچی    ۱/۲۰۱)

فان المراد المحدث بالحدث الاصغر اذ قد نقل قبلہ باسطرعن الفتاوی لایجوز للجنب والحائض ان یمسا المصحف بکمھا اوببعض ثیابھما لان الثیاب بمنزلۃ بدنھما ۳؎ اھ

کیونکہ محدث سے مراد حدث اصغر والا شخص ہے، کیونکہ اس سے کچھ ہی پہلے فتاوٰی سے منقول ہوا کہ جنب اور حائض کو جائز نہیں کہ وہ دونوں مصحف کو اپنی آستین سے یا کپڑے کے کسی حصّہ سے چھوئیں کیونکہ کپڑے منزلہ ان کے بدن کے ہیں اھ

 (۳؎ شلبی علی التبیین    باب الحیض        بولاق مصر        ۱/۵۸)

فقولہ بعض ثیابھما کان یشمل مندیلا ھولابسہ فلم یقول لااعلم فیہ المنقول افینسی مانقلہ اٰنفا وھو بمرأی منہ۔

تو ''بعض کپڑوں'' میں وہ رومال بھی آجاتا ہے جس کو وہ پہنے ہوئے ہو تو پھر وہ یہ کیوں کہتے ہیں کہ میں اس میں کوئی نقل نہیں جانتا کیا وہ دیکھتے بھالتے اُس نقل کو بھول گئے جو خود ہی انہوں نے پیش کی ہے۔(ت)

اقول لکنی(۱) رایت فی التبیین قال بعد قولہ منع الحدث مس القران ومنع من القرأۃ والمس الجنابۃ والنفاس کالحیض مانصہ ولا یجوز لھم مس المصحف بالثیاب التی یلبسونھا لانھا بمنزلۃ البدن ولھذا لوحلف لایجلس علی الارض فجلس علیھا وثیابہ حائلۃ بینہ وبینھا وھو لابسھا یحنث ولوقام(۲) فی الصلاۃ علی النجاسۃ وفی رجلیہ نعلان اوجوربان لاتصح صلاتہ بخلاف المنفصل عنہ ۱؎ اھ

میں کہتا ہوں میں نے تبیین میں دیکھا ہے کہ وہ فرماتے ہیں حدث کی وجہ سے قرآن کو ہاتھ لگانا منع کیا ہے، اور جنابت اور نفاس نے حیض کی طرح، پڑھنے اور ہاتھ لگانے دونوں کو منع کیا ہے، ان کی عبارت یہ ہے کہ اُن کیلئے اُن کپڑوں کے ساتھ جو وہ پہنے ہوئے ہیں قرآن کو ہاتھ لگانا جائز نہیں کیونکہ وہ کپڑے بمنزلہ بدن کے ہیں، اور اس لئے اگر کسی شخص نے قسم کھائی کہ وہ زمین پر نہیں بیٹھے گا اب وہ اس طرح بیٹھا کہ اس کے اور زمین کے درمیان پہنے ہوئے کپڑے حائل ہوں تو وہ قسم میں حانث ہوجائے گا اور اگر کوئی شخص بحالتِ نماز نجاست پر کھڑا ہوا اور اس کے دونوں پیروں میں جوتے یا جرابیں ہیں تو اس کی نماز صحیح نہ ہوگی، اگر یہ چیزیں جُدا ہیں تو ہو جائے گی اھ

 (۱؎ تبیین الحقائق    باب الحیض    بولاق مصر    ۱/۵۷)

فھذا ظاھر فی رجوع الضمیر الی المحدث ومن معہ جمیعا فھذا النقل وللّٰہ الحمد وبالجملۃ المقصود انہ اذا منع مسہ بما علی عنقہ وصدرہ فکیف بھما فدل علی حلول الحدث جمیع البدن ثم رأیت المسألۃ منصوصا علیھا فی الھندیۃ عن الزاھدی حیث قال اختلفوا فی مس المصحف بما عدا اعضاء الطھارۃ وبما غسل من الاعضاء قبل اکمال الوضوء  والمنع اصح ۲؎ اھ

تو اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ضمیر مُحدِث کی طرف لوٹتی ہے اور اس کی طرف بھی جو مُحدِث کے ساتھ ہو، یہ صریح نقل ہے والحمدللہ، اور خلاصہ یہ کہ جب قرآن کو اس کپڑے کے ساتھ چُھونا جائز نہیں جو اس کی گردن اور سینے پر ہے تو خود گردن اور سینے سے مس کرنا کیسے جائز ہوگا! پس معلوم ہوا کہ حدث تمام بدن میں سرایت کرتا ہے، پھر میں نے اس مسئلہ کو ہندیہ میں زاہدی سے منصوص دیکھا وہ فرماتے ہیں اعضاءطہارۃ اور وہ اعضاء جو وضو کی تکمیل سے قبل دھوئے گئے ہوں اُن سے مسِ مصحف میں اختلاف ہے، اور منع اصح ہے اھ( ت)

 (۲؎ فتاوی ہندیۃ    باب فی احکام الحیض والنفاس والاستحاضہ    نورانی کتب خانہ پشاور     ۱/۳۹)

وثالثا تقرر عند(۱) العرفاء ان لا حدث صغیر اولا کبیرا الا ماتولد من اکل حتی القھقھۃ فی الصّلاۃ فان تلک الغفلۃ الشدیدۃ فی عین الحضرۃ لاتکون الا من شبع ای شبع اذ الجائع ربما لایکشر لہ سن فضلا عن القھقھۃ خلفۃ عن کونہا فی الصلاۃ ولا شک ان نفع الاکل یعم البدن وکذا نفع الخارج والراحۃ الحاصلۃ بہ فدخول الطعام یولد الغفلۃ وخروج المؤذی یحققہا وبالغفلۃ موت القلب والقلب رئیس فانہ المضغۃ اذا صلحت صلح الجسد کلہ واذا فسدت فسد الجسد کلہ والماء ینعش ویذھب الغفلۃ کما ھو مشاھد فی المغشی علیہ۔

ثالثا عرفاء کے نزدیک یہ امر مسلم ہے کہ حدث چھوٹا ہو خواہ بڑا مطلقاً کھانا کھانے ہی سے پیدا ہوتا ہے یہاں تک کہ نماز میں قہقہہ بھی کہ عین دربار میں ایسی سخت غفلت اُسی سے ہوسکے گی جس کا پیٹ بھرا اور نہایت بھرا ہو کہ بھُوک میں تو ہنسی سے دانت کھلنا ہی نادر ہے نہ کہ ٹھٹھا اور وہ بھی نماز میں، اور شک نہیں کہ کھانے کا نفع تمام بدن کو پہنچتا ہے یونہی فضلہ نکل جانے کی منفعت وراحت بھی سارے بدن کو ہوتی ہے تو کھانا معدہ میں جانا غفلت پیدا کرتا ہے اور موذی یعنی فضلہ کا نکلنا غفلت کو ثابت ومؤکد کرتا ہے اور غفلت سے دل کی موت ہے اور دل بدن کا بادشاہ ہے کہ یہی بوٹی درست ہو تو سارا بدن درست رہے اور بگڑے تو سارا بدن خراب ہوجائے اور پانی تازگی لاتا اور غفلت دُور کرتا ہے جیسا کہ غشی والے کے مُنہ پر چھڑکنے میں مشاہدہ ہے۔

قلت فکما ان سبب الموت عم البدن کان ینبغی ان یعمہ ایضا سبب الحیاۃ وبہ اتی الشرع فی الحدث الاکبر لکن الاصغر یتکرر کثیرا فلوامروا کلما احد ثوا ان یغتسلوا لوقعوا فی الحرج والحرج مدفوع فاقامت الشریعۃ السمحۃ السہلۃ مقام الغسل غسل الاطراف اذ من سنۃ کرمہ تعالی ان اذ اصلح الاول والاخر تجاوز عن الوسط وجعلہ معمورا فیھما ثم کان من الاطراف الراس وغسلہ کل یوم مرارا ایضا کان یورث البؤس والباس فابدل فیہ الغسل بالمسح رحمۃ من الذی یقول عز من قائل یرید اللّٰہ بکم الیسر ولا یرید بکم العسر فقضیۃ ھذا ان الحدث ولو اصغر یحل البدن کلہ۔

تو میں کہتا ہوں جس طرح موت کا سبب سارے بدن کو عام ہوا تھا چاہئے تھا کہ حیات کا سبب یعنی پانی بھی سب جسم پر پہنچے حدث اکبر میں تو شرع نے یہی حکم دیا مگر حدث اصغر بکثرت مکرر ہوتا ہے تو ہر حدث اصغر پر اگر نہانے کا حکم ہوتا تو لوگ حرج میں پڑتے اور اس دین میں حرج نہیں لہٰذا اس نرم وآسان شریعت نے اطراف بدن کا دھونا قائم مقام نہانے کے فرمایا دیا کہ اللہ عزوجل کی سنتِ کریم ہے کہ جب اول وآخر ٹھیک ہوتے ہیں تو بیچ میں جو نقصان ہو اُس سے درگزر فرماتا ہے اب اطراف بدن میں سر بھی تھا اور اُسے ہر روز چند بار دھونا بھی بیمار کردیتا مشقّت میں ڈالتا لہٰذا اس کو دھونے کے عوض مسح مقرر فرمادیا، رحمت اس کی جو فرماتا ہے کہ اللہ تمہارے ساتھ آسانی چاہتا ہے اور دشواری نہیں چاہتا۔
(اس تمام گفتگو کا ماحصل یہ ہے کہ حدث خواہ اصغر ہی ہو تمام بدن میں حلول کرتا ہے۔ت)

اقول وبہ(۱) تبین ان ماصرح بہ غیر واحد من مشائخنا وغیرھم ان غسل غیر المصاب فی الحدث امرتعبدی کما فی الھدایۃ وغیرھا وقدمناہ عن الکافی وکذلک(۲) الاقتصار علی الاربعۃ فی الوضوء  کما فیھا وفی الحلیۃ وغیرھما وبہ قال الامام الحرمین واختارہ الامام عزّ الدین بن عبدالسلام کلاھما من الشافعیۃ فان کل ذلک فی علم الحقائق احکام معقولۃ المعنی واللّٰہ تعالی اعلم ھذا تقریر اسئلۃ ظھرت لی واتیت بھا کیلا تعن لقاصر مثلی ولا یتفرع للتدبر فیحتاج لکشفھا۔

میں کہتا ہوں اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ ہمارے مشائخ کا یہ فرمانا کہ اُن اعضاء کودھونا جن کو حدث نہیں پہنچا ہے محض امر تعبدی ہے جیسا کہ ہدایہ وغیرہ میں ہے اور ہم نے کافی سے بھی نقل کیا ہے، اور اسی طرح وضو میں چار پر اقتصار جیسا کہ ہدایہ اور حلیہ وغیرہ میں ہے اور یہی امام الحرمین کا قول ہے اور امام عزّ الدین بن عبدالسلام نے اس کو اختیار کیا ہے یہ دونوں شافعی علماء ہیں کیونکہ یہ تمام حقائق کے معقول احکام ہیں واللہ تعالٰی اعلم، یہ اُن سوالوں کی تقریر ہے جو مجھے منکشف ہوئے، میں نے ان پر اس لئے گفتگو کی ہے کہ کہیں مجھ جیسے قاصر کو یہ درپیش نہ آجائیں اور وہ مشکل میں مبتلا نہ ہوجائے۔(ت)

اقول فی الجواب عن الاول المراد نجاسۃ الاٰثام اذلوارید نجاسۃ الحدث لزم ان من لم یسم لم یتم طھرہ وھو مذھب الظاھریۃ وروایۃ عن الامام احمد رضی اللہ تعالی عنہ ولم یقل بہ احد من علمائنا وبقاء نجاسۃ الاٰثام فیما عدا اعضاء الطھر بل وفیھا ایضا کما قدمنا لاینافی صحۃ الطھارۃ والصلاۃ وبہ ظھر(۱) الجواب عن استدلال ابی الفرج بالحدیث

اب میں پہلے کے جواب میں کہتا ہوں کہ اس سے مراد گناہوں کی نجاست ہے کیونکہ اگر حدث کی نجاست کا ارادہ کیا جائے تو یہ لازم آئے گا جو بسم اللہ نہ کرے اُس کی طہارت مکمل نہ ہوگی، اور یہ ظاہر یہ کا مذہب ہے، اور امام احمد کی ایک روایت ہے اور ہمارے علماء میں سے کسی کا قول نہیں، اور اعضاء طہارت کے علاوہ باقی اعضاء میں گناہوں کی نجاست کا باقی رہنا، بلکہ اعضاء طہارت میں بھی، جیسا کہ ہم نے پہلے ذکر کیا صحت طہارت کے منافی ہے اور نہ ادائیگی نماز کے، اور اسی سے ظاہر ہوگیا جو اب اس استدلال سے جو ابو الفرج نے حدیث سے کیا ہے۔

وعن الثانی ان المنع للحدث بالمعنی الثانی الغیر المتجزی لقولہ تعالی لایمسہ الا المطھرون وقولہ صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم لایمس القران الا طاھر وھو لایکون طاھر ام بقیت لمعۃ وان خفت فمنع المس انما یقتضی تلبس المکلف بنجاسۃ حکمیۃ لاتلبس خصوص العضو الممسوس بہ الا تری انہ لایجوز مسہ بید قدغسلہا مالم یستکمل الوضوء  الا تری انھم منعوا المس بما علیہ من الثیاب ولا نجاسۃ فیھا حقیقۃ ولا حکمیۃ انما المنع لانھا تبع لبدن شخص محدث فلان یمنع بنفس بدنہ اولی وان کان بدنا لم یحلہ الحدث ھذا علی الاصح اما علی قول من یقول ان المنع للمعنی الاول ای لقیام النجاسۃ الحکمیۃ بالمسوس بہ فالمسألۃ ممنوعۃ من رأسھا بل ھو قائل بجواز مسہ بغیر اعضاء الطھارۃ کمامر عن الھندیۃ وان منع المس بالثیاب فبثوث تابع لما فیہ الحدث کالکم لید لم یغسل لامطلقا کما لایخفی ،

اور دوسرے کا جواب یہ ہے کہ حَدَث کا منع کرنا دوسرے معنی کے اعتبار سے جو غیر متجزی ہے اللہ تعالٰی کے اس فرمان کی وجہ سے ''اس کو پاک لوگ ہی چُھوئیں'' اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے ''قرآن کو پاک ہی چھُوئے'' اور مُحدِث اس وقت تک پاک نہ ہوگا جب تک ایک ''لُمعہ'' بھی باقی رہے خواہ کتنا ہی خفیف کیوں نہ ہو، تو چھُونے کی ممانعت کا مطلب یہ ہے کہ مکلف نجاست حکمیہ کے ساتھ ملوث ہے،یہ نہیں کہ اس کا کوئی خاص عضو اس میں ملوّث ہے یہی وجہ ہے کہ قرآن کو محض دُھلے ہوئے ہاتھ سے چھُونا جائز نہیں تاوقتیکہ وضو مکمل نہ ہو، یہی وجہ ہے کہ فقہاء نے اس ہاتھ سے قرآن چھُونے کو منع کیا ہے جو کپڑے میں لپٹا ہوا ہو خواہ اس پر نہ حقیقی نجاست ہو اور نہ حکمی، ممانعت اس لئے ہے کہ وہ مُحدِث کی ذات کے تابع ہے تو نفسِ بدن سے چھُونے کی ممانعت بدرجہ اولی ہوگی، خواہ اس میں حدث نے حلول نہ کیا ہو، یہ اصح کے مطابق ہے، اور جو حضرات منع معنی اول میں قرار دیتے ہیں، یعنی ممسوس بہ کے ساتھ نجاست حکمیہ کا قائم ہونا، تو مسئلہ اصلا ممنوع ہے، بلکہ اُس کے مَس کے جواز کے قائل ہیں بلا اعضاء طہارت کے، جیسا کہ ہندیہ سے گزرا، اور اگر کپڑوں کے ساتھ چُھونا جائز نہیں تو اس کپڑے کے ساتھ جو تابع ہو کیونکہ اس میں حَدَث ہے، جیسے آستین ہاتھ کیلئے جو دُھلا نہ ہو، نہ کہ مطلقا کمالا یخفی۔

وعن الثالث نعم ذلک تخفیف من ربکم ورحمۃ لکنہ یحتمل وجہین الاول ان یعتبر الشرع حلول الحدث بکل البدن ثم یجعل تطھیر الاعضاء الاربعۃ تطھیرا للکل والثانی ان الشارع لما رأی فیہ الحرج اسقط اعتبارہ الا فی الاعضاء الاربعۃ ولکل منھما نظیر فی الشرع فنظیر الاول التیمم جعل فیہ مسح عضوین مطھراللاربع بالاتفاق ونظیر الثانی العین کان فی غسلھا حرج فلم یجعلھا الشرع محل حلول حدث اصلا لاانہ حل وسقط الغسل للحرج فلوغسل(۱) عینیہ لایصیر الماء مستعملا بالوفاق وعندالاحتمال ینقطع الاستدلال،

اور تیسرے کا جواب یہ ہے، ہاں یہ تمہارے رب کی طرف سے تخفیف ہے اور رحمۃ ہے لیکن اس میں دو وجہیں ہیں پہلی تو یہ کہ شرع تمام بدن میں حدث کے حلول کا اعتبار کرتی ہے اور پھر چار اعضاء کی تطہیر کے بعد کل بدن کی طہارت کا حکم کرتی ہے اور دوسرے یہ کہ شارع نے جب اس میں حرج دیکھا تو اس کے اعتبار کو ساقط کردیا صرف اعضاء اربعہ میں رہنے دیا، اور ان میں سے ہر ایک کی نظیر شرع میں موجود ہے، پہلے کی نظیر تمیم ہے اس میں دو اعضاء کے مسح کرنے کو چاروں اعضاء کی پاکی قرار دیا ہے، اور دوسرے کی نظیر آنکھ ہے کہ اس کے دھونے میں حرج تھا، تو شریعت نے اس میں حدث کا حلول نہیں مانا،یہ نہیں کہ حدث حلول کرگیا ہو، اب اگر کسی نے اپنی دونوں آنکھیں دھوئیں تو پانی بالاتفاق مستعمل نہ ہوگا، اور جب احتمال پیدا ہوجائے تو استدلال ختم ہوجاتا ہے،

بل اقول لوتأملت لرجحت الثانی اذعدم الاعتبار اولی من الاعتبار ثم الا ھدار والقیاس علی العین بجامع الحرج واضح صحیح بخلاف التیمم فان اصل الواجب ثم الوضوء  والتیمم خلف ولم یزعم ھھنا احد ان اصل الواجب بکل حدث ھو الغسل والوضوء  خلف بل لم یقل احد ان الغسل عزیمۃ والوضوء  رخصۃ وھٰؤلاء ساداتنا العرفاء الکرام اعاد اللّٰہ تعالی علینا برکاتھم فی الدارین رأینا ھم یأخذون انفسھم فی کل نقیر وقطمیر بالغرائم ولا یرضون لھم التنزل الی الرخص ثم لم ینقل عن احد منھم انہ الزم نفسہ الغسل عند کل حدث مکان الوضوء  ولو التزمہ الاٰن احد لکان متعمقا مشددامتنطعا فظھرانہ من الباب الثانی دون الاول علی ان ذلک طور اخر وراء الطور الذی نتکلم فیہ والاحکام(۳) لاتخلو عن الحکم لکن لاتدار علیھا الا تری ان من اشتغل فی لھو ولعب ومزاح وقھقھۃ خارج الصلاۃ فلا شک انہ غافل فی تلک الساعات عن ربہ عزوجل لاسیما(۱) الذی قھقہ فی صلاۃ الجنازۃ مع ان فی ذکری الموت شغلا شاغلا ولم یجعل الشرع شیئا من ذلک حدثا وکذا لم یجعل الاکل وھوالاصل ولا النوم الذی ھو اخ الموت مالم یظن خروج شیئ بان لم یکن متمکنا فعلینا اتباع مارجحوہ وصححوہ کما لو افتونا فی حیاتھم واللّٰہ تعالی اعلم باحکامہ۔

بلکہ میں کہتا ہوں اگر آپ تأمل کریں تو دوسرے کو ترجیح ہے کیونکہ اعتبار نہ کرنا اعتبار کرنے سے اَولیٰ ہے کہ پہلے اعتبار کیا جائے پھر اس کو باطل کیا جائے، اور آنکھ پر قیاس کرنا حرج کی علّت سے واضح اور صحیح ہے بخلاف تیمم کے کیونکہ وہاں اصالۃ جو چیز واجب ہے وہ وضو ہے اور تیمم خلیفہ ہے، اور یہاں کسی نے گمان نہیں کیا کہ ہر حدث میں اصالۃ واجب غسل ہے اور وضو خلیفہ ہے، بلکہ کسی نے یہ بھی نہ کہا کہ غسل عزیمۃ ہے اور وضو رخصۃ ہے، حالانکہ ہمارے یہ بزرگ، اللہ ان کی برکتیں ہم پر نازل کرے، باریک سے باریک تر چیز کا اعتبار کرتے ہیں اور کسی قسم کی رخصت پر تیار نہیں ہوتے، پھر ان میں سے کسی سے منقول نہیں کہ بجائے وضو کے غسل کرتا ہو اور اگر اب کوئی ایسا کرے تو وہ انتہا درجہ کا متشدد ہوگا تو معلوم ہوا کہ وہ دوسرے باب سے ہے نہ کہ پہلے باب سے۔علاوہ ازیں یہ ہماری گفتگو کا ایک نیا انداز ہے، اور احکام حکمتوں سے خالی نہیں ہوتے، لیکن اُن پر دارومدار نہیں ہوتا، مثلاً کوئی شخص لہو ولعب، مزاح اور قہقہوں میں بیرونِ نماز مصروف ہے تو بلا شبہ اِن لمحات میں وہ اپنے رب سے غافل ہے، خاص طور پر قہقہہ لگانے والا نماز جنازہ میں، حالانکہ موت انسان کو ہر چیز سے موڑ کر اللہ کی طرف متوجہ کردیتی ہے، مگر شارع نے ان اشیاء میں سے کسی چیز کو بھی حَدَث قرار نہیں دیا ہے، اور اس طرح کھانے کو، جو اصل ہے، اور نیند کو جو موت کی نظیر ہے تاوقتیکہ اُس شخص کو یہ ظن نہ ہوجائے کہ کوئی چیز خارج ہوئی ہے، مثلاً یہ کہ جم کر نہیں بیٹھا یا لیٹا تھا، تو ہم پر لازم ہے کہ جس چیز کو فقہاء نے راجح قرار دیا اور صحیح قرار دیا ہے ہم اس کی بالکل اسی طرح پیروی کریں جیسے اگر
وہ حضرات اپنی زندگی میں ہمیں فتوی دیتے۔ ت

تنبیہ (۲) معلوم ان اقامۃ قربۃ اورفع حدث اواسقاط فرض اوازالۃ نجاسۃ حکمیۃ بایھا عبرت کل ذلک یشمل المسح المفروض مطلقا والمسنون بشرط النیۃ فیجب ان تصیر البلۃ مستعملۃ اذا انفصلت من رأس اوخف اوجبیرۃ اواذن مثلا ولذا عولنا علیہ وصرحنا بعمومہ المسح لکن قال الامام فقیہ النفس فی الخانیۃ لوادخل(۳) المحدث رأسہ فی الاناء یرید بہ المسح لایصیر الماء مستعملا فی قول ابی یوسف رحمہ اللّٰہ تعالٰی قال انما یتنجس الماء فی کل شیئ یغسل اماما یمسح فلا یصیر الماء مستعملا وان اراد بہ المسح وقال محمد رحمہ اللّٰہ تعالی اذا کان علی ذرا عیہ جبائر فغمسھا فی الماء اوغمس رأسہ فی الاناء لایجوز ویصیر الماء مستعملا ۱؎ اھ

تنبیہ یہ امر معلوم ہے کہ قُربۃ کی ادائیگی، رفعِ حدث، اسقاطِ فرض، نجاستِ حکمیہ کا ازالہ وغیرہ، جو تعبیر بھی آپ کریں یہ مفروض مسح کو مطلقا شامل ہے اور مسنون کو بشرط نیت، لہٰذا لازم ہے کہ تری سر سے، موزے سے، پٹّی سے یا کان سے جُدا ہوتے ہی مستعمل ہوجائے، اور اسی لئے ہم نے اس پر اعتماد کیا،اور مسح کے عام ہونے کی تصریح کی، لیکن امام فقیہ النفس نے خانیہ میں فرمایا اگر بے وضو نے اپنا سر مسح کیلئے برتن میں ڈبو دیا تو ابو یوسف کے قول کے مطابق پانی مستعمل نہ ہوگا، کیونکہ وہ فرماتے ہیں پانی اس چیز سے نجس ہوگا جو دھوئی جاتی ہے، اور جو ممسوح ہے اُس سے نہیں خواہ اُس سے مسح کا ارادہ ہی کیا ہو، اور امام محمد نے فرمایا کہ اگر کسی کے ہاتھوں پر پٹیاں ہوں اور اس نے وہ پانی میں ڈبو دیے یا اپنا سر پانی میں ڈبو دیا تو جائز نہیں اور پانی مستعمل ہوگا اھ

 (۱؎ فتاوٰی خانیۃ علی الھندیۃ    باب الماء المستعمل    نورانی کتب خانہ پشاور    ۱/۱۵)

وقد(۱) قدم قول ابی یوسف رحمہ اللّٰہ تعالٰی فکان ھو الاظھر الاشھر کما افادنی فی خطبتہ فکان ھوالمعتمد کما فی ط وش بل صححوا ان محمدا فیہ مع ابی یوسف رحمہما اللّٰہ تعالی فلا خلاف قال فی البحر لوادخل(۲) رأسہ الاناء اوخفہ اوجبیرتہ وھو محدث قال ابو یوسف رحمہ اللّٰہ تعالی یجزئہ المسح ولا یصیر الماء مستعملا سواء نوی اولم ینووقال محمد رحمہ اللہ تعالٰی ان لم ینویجزئہ ولا یصیر مستعملا وان نوی المسح اختلف المشائخ علی قولہ قال بعضھم لایجزئہ ویصیرالماء مستعملا والصحیح انہ یجوز ولا یصیرالماء مستعملا کذا فی البدائع فعلم بھذا ان مافی الجمع ۲؎۔

اور ابو یوسف کے قول کو مقدم کیا گیا ہے وہی ظاہر ومشہور ہے جیسا کہ انہوں نے اپنے خطبہ میں فرمایا تو وہی قابلِ اعتماد ہوگا، جیسا کہ ''ط'' و ''ش'' میں ہے بلکہ فقہاءء نے اس امر کو صحیح قرار دیا ہے کہ اس میں امام ابو یوسف کے ساتھ ہیں، تو کوئی اختلاف باقی نہ رہا۔ بحر میں فرمایا کہ اگر کسی شخص نے اپنا سر، موزہ یا پٹّی بے وضو ہونے کی حالت میں برتن میں ڈبودی تو امام ابو یوسف نے فرمایا مسح ہوجائے گا اور پانی مستعمل نہ ہوگا خواہ مسح کی نیت کی ہو یا نہ، امام محمد نے فرمایا اگر نیت نہیں کی تو ان کے قول پر اس میں مشائخ کا اختلاف ہے، بعضے کہتے ہیں اس کو کافی نہ ہوگا اور پانی مستعمل ہوجائے گا، اور صحیح یہ ہے کہ جائز ہے اور پانی مستعمل نہ ہوگا کذا فی البدائع تو اس سے معلوم ہوا کہ جمع میں جو اختلاف ہے۔(ت)

 (۲؎ بحرالرائق        کتاب الطہارۃ    ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۱/۱۵)

 (قلت ای والخانیۃ والفتح وغیرھا) من الخلاف فی ھذہ المسألۃ علی غیر الصحیح بل الصحیح ان لاخلاف وعلم ایضا انہ لافرق بین الرأس والخف والجبیرۃ خلافا لما ذکرہ ابن الملک ۱؎ اھ۔

 (میں کہتا ہوں خانیہ اور فتح وغیرہ میں بھی) جو اختلاف بیان کیا گیا ہے وہ صحیح نہیں،صحیح یہ ہے کہ اختلاف نہیں، اور یہ بھی معلوم ہو کہ سر، موزے اور پٹّی میں کوئی اختلاف نہیں جیسا کہ ابن الملک نے ذکر کیا اھ

 (۱؎ بحرالرائق        کتاب الطہارت    سعید کمپنی کراچی    ۱/۱۵)

واختصرہ فی الدر فقال لم یصر الماء مستعملا وان نوی اتفاقا علی الصحیح ۲؎ اھ۔

اور اسی کو دُر میں مختصر کیا، فرمایا پا نی مستعمل نہ ہوگا خواہ نیت کی ہو، یہ متفق علیہ ہے صحیح قول پر اھ ت

 (۲؎ الدرالمختار        ارکان الوضوء                ۱/۱۹)

اقول: ولا یھولنک ھذا فلیس معناہ ان المسح لایفید الاستعمال کیف وکلامھم طرافی اسبابہ مطلق یعم الغسل والمسح ثم المسألۃ عینھا منصوصۃ علی لسان الکبراء منھم فقیہ النفس اذیقول(۱) توضأثم مسح الخف ببلۃ بقیت علی کفہ بعد الغسل جاز ولو مسح برأسہ ثم مسح الخف ببلۃ بقیت علی الکف بعد المسح لایجوز لانہ مسح الخف ببلۃ مستعملۃ بخلاف الاول ۳؎ اھ۔

اقول یہ چیز کوئی قابلِ تعجب نہیں، اس کا یہ معنی نہیں کہ مسح سے استعمال نہیں ہوتا، حالانکہ تمام فقہاء کا کلام اسباب استعمال کے سلسلہ میں عام ہے اس میں غسل اور مسح دونوں شامل ہیں، اور پھر اکابر علماء نے مسئلہ کی صراحت بھی کی ہے، مثلاً فقیہ النفس فرماتے ہیں کسی شخص نے وضو کیا پھر ہاتھ دھونے کے بعد جو تری باقی رہ گئی تھی اس سے موزے پر مسح کرلیا تو جائز ہے اور اگر سر پر مسح کیا اور مسح کے بعد ہاتھ پر جو تری رہ گئی تھی اُس سے موزے پر مسح کیا تو جائز نہیں کیونکہ اس نے مستعمل تری سے موزے پر مسح کیا ہے بخلاف اول کے اھ ۔

 (۳؎ فتاوی خانیۃ    مسح علی الخفین            ۱/۲۳)

واقرہ فی الفتح وغیرہ وفی الخانیۃ ایضا الاستیعاب(۲) فی مسح الرأس سنۃ وصورۃ ذلک ان یضع اصابع یدیہ علی مقدم راسہ وکفیہ علی فودیہ ویمدھما الی قفاہ فیجوز واشار بعضھم الی طریق اخراحترازاعن استعمال الماء المستعمل الا ان ذلک لایمکن الا بکلفۃ ومشقۃ فیجوز الاول ولا یصیر الماء مستعملا ضرورۃ اقامۃ  السنۃ۴؎ اھ۔

فتح وخانیہ میں اسی کو برقرار رکھا، پھر استیعاب مسح میں سنت ہے، اور استیعاب کا طریقہ یہ ہے کہ اپنی انگلیاں ماتھے پر رکھے اور ہتھیلیاں کنپٹیوں پر اور گُدی کی طرف کھینچ کر لے جائے تو جائز ہے، اور بعض دوسرے فقہاء نے اور طریقہ بتایا کہ مستعمل پانی کے استعمال سے بچا جاسکے، مگر اس میں بہت تکلف اور مشقت ہے، تو پہلی صورت جائز ہے اور پانی مستعمل نہ ہوگا تاکہ سنّت ادا ہوسکے اھ۔

 (۴؎ خانیۃ علی الہندیۃ    فصل صفۃ الوضوء     نورانی کتب خانہ پشاور    ۱/۳۵)

ای لما علم ان الماء مادام علی العضو لایصیر مستعملا وفی الفتح من(۳) مسح الرأس لومسح باصبع واحدۃ مدھا قدر الفرض جاز عند زفر وعندنا لایجوز وعللوہ بان البلۃ صارت مستعملۃ وھو مشکل بان الماء لایصیر مستعملا قبل الانفصال وما قیل الاصل ثبوت الاستعمال بنفس الملاقاۃ لکنہ سقط فی المغسول للحرج اللازم بالزام اصابۃ کل جزء باسالۃ غیر المسال علی الجزء الاٰخر ولا حرج فی المسح لانہ یحصل بمجرد الاصابۃ فبقی فیہ علی الاصل دفع بانہ مناقض لما علل بہ لابی یوسف رحمہ اللّٰہ تعالی فی مسألۃ ادخال الراس الاناء فان الماء طھور عندہ فقالوا المسح حصل بالاصابۃ والماء انما یاخذ حکم الاستعمال بعد الانفصال والمصاب بہ لم یزایل العضو حتی عدل بعض المتاخرین الی التعلیل بلزوم انفصال بلۃ الاصبع بواسطۃ المد فیصیر مستعملا لذلک ۱؎ اھ۔

یعنی جب یہ بات معلوم ہوگئی کہ پانی جب تک عضو پر باقی رہتا ہے مستعمل نہیں ہوتا ہے۔اور فتح میں ہے جس نے سرکا مسح کیا یا اگرچہ ایک انگلی سے مسح کیا کہ اس کو بقدرِفرض کھینچا، تو زفر کے نزدیک جائز ہے اور ہمارے نزدیک جائز نہیں اس کی وجہ یہ بتائی ہے کہ تری مستعمل ہوگئی، مگر اس پر اعتراض یہ ہے کہ پانی عضو سے جُدا ہوئے بغیر مستعمل نہیں ہوتا ہے، ایک قول یہ ہے کہ اصل تو یہی ہے کہ پانی عضو سے لگتے ہی مستعمل ہوجائے مگر اعضاء مغسولہ میں اس کو حرج کی وجہ سے معتبر نہیں مانا گیا ہے ورنہ تو عضو کے ایک حصہ کا پانی دوسرے حصہ کو ناپاک کردیتا، اور مسح میں یہ صورت حال نہیں ہے کیونکہ اس میں بہانا نہیں ہے محض لگانا ہے تو اس میں اصل پر اعتبار کیا گیا۔ اس اعتراض کے جواب میں کہا گیا ہے کہ امام ابو یوسف نے سر کو برتن میں داخل کرنے کی بابت جو ارشاد فرمایا ہے یہ قول اس کے برخلاف ہے کیونکہ پانی اُن کے نزدیک پاک کرنے والا ہے، وہ فرماتے ہیں پانی لگانے سے مسح تو ہوگیا اور چونکہ پانی عضو سے جدا ہونے کے بعد مستعمل ہوتا ہے اور مسح میں جدا نہیں ہوتا اس لئے مستعمل بھی نہ ہوگا حتی کہ بعض متاخرین نے بجائے اس دلیل کے یہ دلیل اختیار کی ہے کہ انگلی کی تری اس طرح جُدا ہوئی کہ اس کو کھینچا گیا تو اب یہ پانی مستعمل ہوجائے گا اھ۔

 (۱؎ فتح القدیر    کتاب الطہارت    نوریہ رضویہ سکھر     ۱/۱۶)

وبالجملۃ فالنقول فی الباب کثیرۃ بثیرۃ وفی الکتب شھیرۃ وان کان للعبد فی مسألۃ الاصبع ابحاث غزیرۃ فلیس وجہ مسألۃ الاناء مایتوھم بل مانقلناہ انفا عن الفتح وقد ذکرہ فی موضع اخر بقولہ ان الماء لایعطی لہ حکم الاستعمال الا بعد الانفصال والذی لاقی الراس من اجزائہ لصق بہ فطھرہ وغیرہ لم یلاقہ فلم یستعمل ۲؎ اھ۔

خلاصہ یہ کہ اس باب میں نقول بہت موجود ہیں جو مشہور کتب میں پائی جاتی ہیں، اور ناچیز انگلی کے مسئلہ پر بڑی گہری ابحاث رکھتا ہے، برتن کے مسئلہ کی وجہ وہ نہیں جو بعض حضرات کے وہم میں آئی ہے بلکہ وہ ہے جو ہم نے ابھی فتح سے نقل کی ہے اور اسی کو انہوں نے دوسرے مقام پر اس طرح بیان کیا ہے کہ پانی کو مستعمل ہونے کا حکم اُسی وقت ملے گا جب وہ عضو سے جدا ہواور پانی کے جواجزاء سر سے متصل ہوئے وہ اسی میں چپک جاتے ہیں اور اس کو پاک کر دیتے ہیں اور سر کے علاوہ کسی اور حصے پر نہیں لگتے ہیں تو مستعمل نہ ہوا اھ۔

 (۲؎ فتح القدیر    کتاب الطہارت    نوریہ رضویہ سکھر    ۱/۱۷)

فمعنی قولھم فیھا لایصیر الماء مستعملا ای مابقی فی الاناء وھو المراد بقول الخانیۃ عن الامام ابی یوسف انما یتنجس الماء فیما یغسل لامایمسح ای ماء الاناء بادخال ماوظیفۃ الغسل دون المسح فزال الوھم وفیہ المدعی۔

تو فقہاءء نے جو فرمایا ہے کہ پانی مستعمل نہ ہوگا اس کا مطلب یہ ہے کہ جب تک برتن میں رہے، اور خانیہ نے امام ابو یوسف سے جو نقل کیا ہے کہ پانی اُن اعضاء میں مستعمل ہوتا ہے جو دھوئے جاتے ہیں نہ کہ اُن میں جو مسح کیے جاتے ہیں، تو اس سے ان کی مراد یہ ہے کہ برتن کا پانی اُن اعضاء کے داخل کرنے کی وجہ سے مستعمل ہوگا جو مغسولہ ہیں نہ کہ ممسوحہ تو وہم رفع ہوا اور یہی مقصود تھا۔(ت)

اقول وان(۱) کان فی قصرھم اللقاء علی مالصق بالرأس تأمل ظاھر وکان ھذا ھو مراد المحقق اذقال بعد ذکرہ وفیہ نظر ۱؎ اھ۔

میں کہتا ہوں فقہا ء نے ملنے کو جو سر کے ساتھ مختص کر دیا ہے اس میں بظاہر تامّل ہے، اور غالبا محقق کی مراد یہی ہے کیونکہ انہوں نے اس کے ذکر کے بعد فرمایا: وفیہ نظر۔(ت)

 (۱؎ فتح القدیر    کتاب الطہارۃ    ۱/۱۷)

اقول: ویظھر لی ان سبیل المسألۃ سبیل الخلف فی الملقی والملاقی وتصحیح ھذہ بل تصحیح الوفاق فیھا ربما یعطی ترجیح عدم الفرق الا ان یفرق بین الغسل والمسح فلا یصیر بہ کل الماء مستعملا حکما بالاتفاق بخلاف الغسل ویحتاج لوجہ فلیتدبر واللّٰہ تعالی اعلم۔

میں کہتا ہوں ا ور مجھے معلوم ہوتا ہے کہ مسئلہ کا حل ملنے والی شے اور جس سے ملی ہے اس میں اختلاف پر مبنی ہے، اور اس کی تصحیح بلکہ اس میں اتفاقی کی تصحیح سے عدم فرق کو ترجیح حاصل ہوتی ہے، ہاں اگر غسل اور مسح می ں ہی فرق کرلیا جائے تو بات اور ہے، تو اُس سے تمام پانی حکما مستعمل نہ ہوگا بالاتفاق بخلاف غسل کے، اور یہ دلیل کا محتاج ہے فلیتد برواللہ تعالٰی اعلم۔ ت

تنبیہ  اعلم ان مسألۃ الاصبع المارۃ ترکہا المحقق فی الفتح غیر مبینۃ ذکرلہ ثلٰث تعلیلات وردالجمیع فالاول التعلیل بالاستعمال وقد علمت ردہ وما عدل الیہ بعض المتاخرین لاصلاحہ فردہ والاول معابان ھذا کلہ یستلزم ان(۱) مد اصبعین لایجوز وقد صرحوا بہ وکذا الثلاث علی القول بالربع وھو قول ابی حنیفۃ وابی یوسف رحمھما اللّٰہ تعالی ولکن لم ار فی مد الثلاث الا الجواز ۱؎ اھ۔

تنبیہ  انگلی کا مسئلہ جو گزرا اس کو محقق نے فتح میں واضح نہیں کیا تین تعلیلات بیان کیں اور تینوں کو رَد کردیا، پہلی تعلیل استعمال سے متعلق ہے اور اس کا رَد تم معلوم کرچکے ہو، اور اس کی اصلاح میں بعض متاخرین نے جو فرمایا ہے اس کو اور پہلے کو ساتھ ہی انہوں نے رَد کیا ہے، اور فرمایا ہے کہ اس سے لازم آتا ہے کہ دو انگلیوں کا کھینچنا جائز نہ ہو، اور اس کی فقہاء نے تصریح کی ہے اور چوتھائی کے قول پر تین کا کھینچنا جائز نہ ہو، اور یہ ابو حنیفہ اور ابو یوسف کا قول ہے، لیکن تین کے کھینچنے میں مجھے جواز ہی ملا ہے اھ

 (۱؎ فتح القدیر        کتاب الطہارت    نورانی کتب خانہ پشاور    ۱/۱۶)

واعترضہ فی النھر بقول البدائع لووضع ثلثۃ اصابع ولم یمدھا جاز علی روایۃ الثلاث لاالربع ولو مسح بھا منصوبۃ غیر موضوعۃ ولا ممدودۃ فلا فلو(۲) مدھا حتی بلغ القدر المفروض لم یجز عند علمائنا الثلثۃ خلافا لزفر ۲؎ اھ۔

اور نہر میں اس پر اعتراض کیا اور بدائع کایہ قول ذکر کیا ہے کہ اگر تین انگلیاں رکھیں اور ان کو کھینچا نہیں تو تین کی روایت پر جائز ہے نہ کہ چوتھائی کی روایت پر، اور اگر کھڑی انگلیوں سے مسح کیا، ان کو نہ تو رکھا نہ کھینچا تو جائز نہیں، اور اگر اتنا کھینچاکہ فرض مقدار پوری ہوگئی تو ہمارے تینوں علماء کے نزدیک جائز نہ ہوگا امام زفر کا اس میں اختلاف ہے اھ۔

 (۲؎ بدائع الصنائع    مطلب مسح الرأس    ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۱/۱۵)

قال وقد وقفت علی المنقول ای ان عدم الجواز قول ائمتنا الثلثۃ فکیف یقول المحقق لم ارفیہ الا الجواز وھو عجیب من مثلہ کما نبہ علیہ فی المنحۃ فان الضمیر فی مدھا للمنصوبۃ وکلام الفتح فی الموضوعۃ۔

انہوں نے فرمایا کہ میں منقول پر مطلّع ہوا ہوں، یعنی عدم جواز ہمارے تینوں ائمہ کا قول ہے، تو محقق کا یہ قول کیونکر درست ہوگا کہ میں نے صرف جواز ہی دیکھا ہے، اور اُن جیسے شخص سے یہ بڑے تعجب کی بات ہے، منحہ میں اسی پر تنبیہ کی ہے کیونکہ ''مدھا'' میں ھا کی ضمیر ''منصوبۃ'' کیلئے ہے اور فتح کا کلام ''موضوعۃ'' کیلئے ہے۔ ت

اقول کان النھر نظر ای ان الصوراربع ثلاث اصابع موضوعۃ اومنصوبۃ والکل ممدودۃ اولا وقد ذکر فی البدائع اولا صورتی عدم المدثم قال فلو مدھا فلیکن الضمیر الی ثلث اصابع مطلقۃ موضوعۃاومنصوبۃ لیستوعب کلامہ الصور لکن الشان انہ مدع ظفر النقل فیضرہ احتمال العود الی المنصوبۃ لاسیما وھی الاقرب وقد کشف(۱) المراد فی الحلیۃ حیث قال، فروع، مسح بثلثۃ اصابع منصوبۃ لم یجز ولو مدھا حتی بلغ المفروض لم یجز عند علمائنا الثلثۃ ولو وضعھا ولم یمد لم یجز علی روایۃ الربع ذکرہ فی التحفۃ والمحیط والبدائع ۱؎ اھ۔

میں کہتا ہوں غالباً نہر نے دیکھا کہ صورتیں چار ہیں، تین انگلیاں رکھی ہوئیں یا کھڑی اور سب کھینچی ہوئی یا نہیں، اور بدائع میں پہلے نہ کھینچنے کی دو صورتیں ذکر کی ہیں، پھر کہا کہ ''فلو مدھا'' تو اس میں ضمیر ''ثلث اصابع'' کی طرف ہونی چاہئے خواہ وہ رکھی ہوں یا کھڑی، تا کہ اُن کا کلام تمام صورتوں کا استیعاب کرے، لیکن وہ اس امر کے مدعی ہیں کہ وہ نقل حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں تو ضمیر کے منصوبہ کی طرف لوٹنے کا احتمال اُن کیلئے مضر ہوگا اور پھر وہ اقرب بھی ہے، اور حلیہ میں مراد واضح کی ہے فرمایا۔ فروع اگر کسی نے تین کھڑی انگلیوں سے مسح کیا تو جائز نہیں اور اگر ان کو اتنا کھینچا کہ فرض مقدار کو پہنچا دیا تو ہمارے تینوں علماء کے نزدیک جائز نہیں اور اگر انگلیوں کو رکھا اور نہ کھینچا تو چوتھائی کی روایت پر جائز نہیں، اس کو تحفہ، محیط اور بدائع میں ذکر کیا ہے اھ ت

 (۱؎ بدائع الصنائع    مطلب مسح الرأس    سعید کمپنی کراچی    ۱/۵)

اقول علی ان ماعدل الیہ(۲) بعض المتأخرین لااعرف لہ محصلا فان المراد ان کان الانفصال عن الاصبع فلا یفیدالاستعمال لانھا اٰلۃ وانما یفیدہ الانفصال عن المحل اوعن الرأس کلہ فظاھر الغلط اوعن موضعہ الذی اصابتہ الاصبع او لافنعم ولم یشف غلیلا بل کان نظیرا لما عدل عنہ للحکم بحصول الاستعمال مع کون الماء مترددا بعد علی نفس العضو غیر منفصل عنہ وھو باطل(۳) لاجرم ان نص فی الخلاصۃ ثم البحر فیما اذا مسح باطراف اصابعہ ومدھا حتی بلغ المفروض انہ یجوز سواء کان الماء متقاطرا اولا قالا وھو ۲؎ الصحیح،

میں کہتا ہوں بعض متأخرین نے جس کی طرف عدول کیا ہے میں اس کا کوئی فائدہ نہیں محسوس کرتا ہوں کیونکہ اگر ان کی مراد انگلی سے جدا ہونا ہے تو استعمال کا فائدہ نہ ہوگا کیونکہ وہ تو آلہ ہے اس کو تو محل سے جدا ہونا یا کل سر سے جدا ہونا مفید ہے، تو یہ ظاہراً غلط ہے یا اس کی جگہ سے جہاں انگلی لگی ہے یا نہیں، تو ہاں، مگر اس سے کچھ فائدہ نہیں بلکہ یہ نظیر ہوگا اس چیز کی جس سے عدول کیا ہے تاکہ استعمال کے حصول کا حکم ہو حالانکہ پانی متردد ہے عضو پر اس سے جدا نہیں، اور وہ باطل ہے، پھر خلاصہ وبحر میں صراحت ہے کہ اگر کسی شخص نے اپنی انگلیوں کے کناروں سے مسح کیا اور ان کو کھینچا یہاں تک کہ فرض کے مقام کو پہنچا تو یہ جائز ہے خواہ پانی ٹپکے یا نہ ٹپکے اُن دونوں نے کہا کہ وہی صحیح ہے۔

 (۲؎ بحرالرائق    کتاب الطہارت    سعید کمپنی کراچی    ۱/۱۵)

قال ش قال الشیخ اسمٰعیل ونحوہ فی الواقعات والفیض ۱؎ اھ۔ای علی خلاف مافی المحیط انہ انما یجوز اذا کان متقاطر لان الماء ینزل من اصابعہ الی اطرافھا فمدہ کاخذ جدید ۲؎۔

ش نے فرمایا شیخ اسمٰعیل نے فرمایا نیز واقعات اور فیض میں ہے اھ یعنی محیط کے برعکس یہ اس وقت جائز ہے جبکہ پانی ٹپک رہا ہو کیونکہ پانی اس کی انگلیوں کے کناروں تک ٹپک آئے گا تو اس کا کھینچنا گویا نیا پانی لینے کے مترادف ہے۔ ت

 (۱؎ ردالمحتار    کتاب الطہارۃ    البابی مصر        ۱/۴۵)
(۲؎ ردالمحتار    کتاب الطہارۃ    البابی مصر ۱/۴۷)

والثانی مااختار شمس الائمۃ ان المنع فی مد الاصبع والا ثنتین غیر معلل باستعمال البلۃ بدلیل انہ لومسح(۱) باصبعین فی التیمم لایجوز مع عدم شیئ یصیر مستعملا خصوصا اذا تیمم علی الحجر الصلد بل الوجہ انامامورون بالمسح بالید والاصبعان لاتسمی یدا بخلاف الثلاث لانھا اکثر ماھو الاصل فیھا ۳؎ اھ

اور دوسرا وہ ہے جو شمس الائمہ نے اختیار کیا ہے کہ ایک یا دو انگلیوں کے کھینچنے کی ممانعت تری کے استعمال کی وجہ سے نہیں ہے اس کی دلیل یہ ہے کہ اگر اس نے دو انگلیوں سے تیمم میں مسح کیا تو جائز نہیں، حالانکہ کوئی چیز ایسی نہیں جو مستعمل ہو خصوصاً جب چکنے پتھر پر تیمم کیا، بلکہ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمیں ہاتھ سے مسح کا حکم دیا گیا ہے اور دوانگلیوں کو ہاتھ نہیں کہا جاتا ہے بخلاف تین انگلیوں کے کیونکہ یہ مسح کے اصل میں جو اصل ہے اس کا اکثر حصہ ہیں اھ۔

 (۳؎ فتح القدیر     کتاب الطہارۃ        نوریہ رضویہ سکھر    ۱/۱۶)

ای فی الید وھی الاصابع ولذا(۲) یجب بقطعھا ارش الید کاملا وردہ المحقق بعد استحسانہ بانہ یقتضی تعیین الاصابۃ بالید وھو(۳) منتف بمسألۃ المطر وقد یدفع بان المراد تعیینہا اوما یقوم مقامھا من الالات عند قصد الاسقاط بالفعل اختیارا غیران لازمہ کون تلک الاٰلۃ قدر ثلاث اصابع حتی لوکان عودا(۴) لایبلغ ذلک القدر قلنا بعدم جوازمدہ ۴؎

یعنی ہاتھ اور وُہ انگلیاں ہیں اور اسی لئے تین انگلیوں کے کاٹنے پر پورے ہاتھ کی دیت لازم ہوتی ہے اور محقق نے اس کو پسند کرنے کے بعد رد کردیا، کیونکہ اس کا تقاضا یہ ہے کہ ہاتھ کا لگانا ہی ضروری ہے حالانکہ بارش کے مسئلہ کی وجہ سے ایسا نہیں ہے، اس کا ایک جواب اس طرح دیا گیا ہے کہ دراصل مراد ہاتھ کی تعیین ہے یا جو اس کے قائم مقام ہو، کوئی بھی آلہ ہو، جبکہ اختیاری فعلی سے اسقاط مطلوب ہو، البتہ یہ ضروری ہے کہ جو بھی آلہ ہو تین انگلیوں کی مقدار میں ہو یہاں تک کہ اگر کسی نے ایسی لکڑی پھیری جو اس مقدار کی نہ تھی تو جائز نہ ہوگا اھ۔

 (۴؎ فتح القدیر     کتاب الطہارۃ        نوریہ رضویہ سکھر    ۱/۱۶)

اقول وحاصلہ ان الید غیر لازمۃ ولکن اذا وقع بھا لم یجز الا بما ینطلق علیہ اسمہا ولکن لقائل ان یقول اولا(۱) مسألۃ القدر المفروض کیفما کان ولا نظر الی الاٰلۃ ولا الفعل القصدی اصلا وقد قرر مشائخنا ان ذکر الید المقدرۃ فی قولہ تعالی وامسحوا برؤوسکم ای ایدیکم برؤوسکم لتقدیر المحل دون الاٰلۃ کما حققہ الامام صدر الشریعۃ وابن الساعاتی والمحقق نفسہ فی الفتح فلیتأمل ۔

میں کہتا ہوں کہ اس کا حاصل یہ نکلا کہ ہاتھ لازم نہیں ہے لیکن جب ہاتھ سے مسح کرنا ہو تو ضروری ہے کہ اتنی مقدار ہو کہ اس پر ہاتھ کا اطلاق ہوتا ہو۔ مگر اس پر متعدد طریقوں سے اعتراض ہوسکتا ہے، اوّل بارش کا مسئلہ ہمارے حق میں مفید ہے کیونکہ مقصود شرع یہ ہے کہ تری کی ایک معین مقدار لگ جائے خواہ کسی طرح ہو اس میں نہ تو آلہ زیر بحث ہے اور نہ اختیاری فعل، اور ہمارے مشائخ فرماتے ہیں کہ فرمان الٰہی ''اور مسح کرو تم سروں کا'' اس کا مفہوم یہ ہے کہ "اپنے ہاتھوں کا اپنے سروں سے'' میں محل مقدر ہے نہ کہ آلہ صدرالشریعۃ، ابن الساعاتی اور خود محقق نے فتح میں یہی تقریر فرمائی ہے، غور کر۔

وثانیا(۲) اجمعوا ان لومسح باطراف اصابعہ والماء متقاطر جاز فظھر ان تعیین الاٰلۃ ملغاۃ ھھنا رأسا وان القیاس(۳) علی التیمم مع الفارق،

دوم فقہاءء کا اس امر پر اتفاق ہے کہ اگر کسی نے انگلیوں کے پوروں سے مسح کیا اور اُن سے پانی ٹپک رہا تھا تو جائز ہے، تو معلوم ہوا کہ یہاں آلہ کی تعیین اہم نہیں ہے اور اس کوتیمم پر قیاس کرنا قیاس مع الفارق ہے۔

والثالث ماابداہ بقولہ قد یقال عدم الجواز بالاصبع بناء علی ان البلۃ تتلاشی وتفرغ قبل بلوغ قدر الفرض بخلاف الاصبعین فان الماء ینحمل بین اصبعین مضمومتین فضل زیادۃ یحتمل الامتداد الی قدر الفرض وھذا مشاھد او(۴) مظنون فوجب اثبات الحکم باعتبارہ فعلی الاکتفاء بثلاث اصابع یجوز مدالا صبعین لان مابینھما من الماء یمتد قدر اصبع وعلی اعتبار الربع لایجوز لان مابینھما مما لایغلب علی الظن ایعابہ الربع ۱؎ اھ۔

سوم انہوں نے ''عدم الجواز بالاصبع'' کہہ کر جو اعتراض کیا ہے سو وہ اس بنا پر ہے کہ تری فرض مقدار تک پہنچنے سے قبل ختم ہوجاتی ہے لیکن دو انگلیاں اگر ملی ہوں تو ان میں فرض مقدار تک پانی پہنچ سکتا ہے، اس کا مشاہدہ ہے یا ظن غالب ہے، تو اس پر اعتبار کرتے ہوئے حکم کا لگا دینا لازم ہوا تو تین انگلیوں پر اکتفاء کرنا دو کے پھیر لینے کو جائز قرار دیتا ہے کیونکہ ان دو کے درمیان اتنا پانی موجود ہوتا ہے جو مزید ایک انگلی کی مقدار پھیل سکتا ہے اور چوتھائی سر کے اعتبار پر جائز نہیں، کیونکہ جو پانی ان دو کے درمیان ہے ظن غالب نہیں کہ وہ چوتھائی کی مقدار کو پورا ہوسکے اھ۔ ت

 (۱؎ فتح القدیر    کتاب الطہارت    نوریہ رضویہ سکھر    ۱/۱۷)

اقول: اخر کلامہ یشھد ان مرادہ بقولہ یحتمل الامتداد الی قدر الفرض ھو قدرہ علی القول باجزاء ثلاث فکان الاولی التعبیر بہ دفعا للوھم ثم ان المحقق ردہ بقولہ الا ان ھذا یعکر علیہ عدم جواز التیمم باصبعین ۱؎ اھ۔

میں کہتا ہوں کہ ان کے کلام کا آخر اس امر کی شہادت دیتا ہے کہ ان کی مراد یحتمل الامتداد الی قدر الفرض سے تین انگلیوں کا پھیرنا ہے، تو بہتر یہ ہے کہ اسی سے تعبیر کی جائے تاکہ وہم رفع ہوجائے پھر محقق نے اس کو یہ کہہ کر دفع کیا ہے مگر اس پر یہ اعتراض ہے کہ اس سے لازم آتا ہے کہ دو انگلیوں سے تیمم جائز نہ ہو اھ ت

 (۱؎ فتح القدیر        کتاب الطہارت    نوریہ رضویہ سکھر    ۱/۱۷(

اقول: ای فلیس ثمہ شیئ یفرغ ویتلاشی اذلا حاجۃ الی اثر غبار علی الید فان کان فضل غیر ملتفت الیہ شرعا فکان معدوما حکما وان لم یکن فاظھر للعدم حقیقۃ وحکما وھذا معنی قول شمس الائمۃ خصوصا اذا تیمم علی الحجر الصلد فھذا کل مااوردہ المحقق ولم یفصل القول فیہ فصلا۔

میں کہتا ہوں اس کا مطلب یہ ہے کہ وہاں کوئی چیز ایسی نہیں جو فنا ہوجاتی ہو، کیونکہ ہاتھ پر گرد کے لگنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے اگر ہو تو یہ اضافی امر ہے شرعاً اس کی حاجت نہیں، تو یہ حُکما نہ ہوا، اور اگر غبار نہ ہو تو بات زیادہ ظاہر ہوگی کیونکہ درحقیقت اور حکماً دونوں طرح ہی معدوم ہے اور شمس الائمہ کے قول ''خصوصا عی الحجر الصلد'' کا یہی مفہوم ہے، یہ وہ بحث ہے جو محقق نے کی ہے اور اس میں کسی قولِ فیصل کو ذکر نہ کیا۔(ت)

اقول: ویرد(۱) ایضا علی ماابداہ ان فناء البلل غیر مطرد اما سمعت تصحیح الخلاصۃ الجواز فی مد الاطراف وان لم یکن الماء متقاطرا ۲؎مع ان حکم المسألۃ مطلق ویظھر(۲) لی واللّٰہ تعالی اعلم ان لامخلص الا ان یقال ان المراد بعدم الاجزاء مااذا کانت البلۃ خفیفۃ تفنی باول وضع اوقلیل مدحتی لاتبقی الانداوۃ لاتنفصل عن الید فبتل الرأس ولعلہ ھو الاکثر وقوعا وبتصحیح الخلاصۃ مااذا کانت کثیرۃ تبقی الی بلوغ القدر المفروض بحیث تنفصل فی کل محل وتصیب وھذا ھو مراد المحیط بالتقاطر فتتفق الکلمات وانت اذ انظرت الی الوجہ اذعنت بھذا التفصیل کیف ولا معنی لاجزاء النداوۃ فی الصورۃ الاولیٰ ولا ھدار البلۃ فی الصورۃ الثانیۃ فلیکن التوفیق وباللّٰہ التوفیق۔

میں کہتا ہوں اور جوانہوں نے فرمایا اس کی تردید ا س امر سے بھی ہوتی ہے کہ تری کا ختم ہوجانا کوئی عمومی امر نہیں، جیسا کہ خلاصہ کی تصحیح میں گزرا کہ مسح انگلیوں کے پوروں کے پھیرنے سے بھی ہوجائیگا خواہ ان سے پانی نہ بہتا ہو، حالانکہ مسئلہ کا حکم مطلق ہے، میرے لئے ظاہر ہوتا ہے(واللہ تعالیٰ اعلم) کہ اس اعتراض سے چھٹکارے کی ایک ہی شکل ہے کہ اس سے یہ مراد لی جائے کہ جب تری اتنی کم ہو کہ رکھتے ہی ختم ہوجائے یا تھوڑا سا پھیرنے پر ختم ہوجائے اور محض اتنی باقی رہے کہ ہاتھ ترمحسوس ہو اور وہ سر کو تر نہ کرسکے اور غالباً عام طور پر ایسا ہی واقع ہوتا ہے، اور خلاصہ کی تصحیح سے مراد یہ ہو کہ جب تری اتنی زیادہ ہوکر فرض مقدار تک پہنچنے کے بعد بھی باقی رہے یعنی اس طور پر کہ ہر جگہ جدا ہو اور لگ جائے، اور محیط کی مراد تقاطر سے یہی ہے اس طرح تمام عبارات میں اتفاق ہوجائے گا، اور جو تم علت کو دیکھو گے تو یقین آجائے گا کیونکہ پہلی صورت میں تری کے پھیرنے کے اور کوئی معنی نہیں اور نہ ہی دوسری صورت میں تری کو ضائع کرنے کے، تو اس طرح تطبیق دینی چاہئے وباللہ التوفیق۔

 (۲؎ خلاصۃ الفتاوٰی    الفصل الرابع فی المسح    نولکشور لکھنؤ    ۱/۲۶)

اما حدیث(۱) التیمم فاقول: لابدفیہ من قصد المکلف وفعلہ الاختیاری فیکون لتقریر الامام شمس الائمۃ فیہ مساغ الاتری انھم صرحوا ان لوتیمم باصبع(۲) اواصبعین وکرر مرارا لم یجز کما فی البحر عن السراج عن الایضاح ولو مسح راسہ باصبع واحدۃ وکرراربعا فی مواضع صح اجماعا فلا یطلب موافقۃ ماھنا لما فی التیمم حتی یعکر علیہ بہ اذ لاتعین للالۃ ھھنا اصلا بخلاف التیمم وذلک ایضا فی الطریق المعتاد اعنی التیمم بالید والا فقد نص فی الحلیۃ ان لو تمعک(۳) فی التراب یجزئہ ان اصاب وجہہ وذراعیہ وکفیہ لانہ اتی بالمفروض وزیادۃ والا فلا ۱؎ اھ۔ای یجزئہ ان نوی کما لایخفی واللّٰہ تعالی اعلم۔

رہی حدیثِ تیمم، تو اس میں مکلّف کا ارادہ اور اس کا اختیاری فعل ضروری ہے، تب شمس الائمہ کی تقریر اس میں چل سکے گی، یہی وجہ ہے کہ فقہا ء نے اس امر کی تصریح کی ہے کہ اگر کسی نے ایک یا دو انگلیوں سے تیمم کیا اور ان کو بار بار پھرا تو جائز نہیں جیسا کہ بحر میں سراج سے ایضاح سے منقول ہے، اور اگر ایک انگلی سے اپنے سر کا مسح کیا اور چار مختلف جگہوں پر اس کا تکرار کیا تو اجماعاً صحیح ہے، تو اس کی موافقت تیمم کے معاملہ سے نہ کی جائے تاکہ اُس سے اعتراض لازم آئے کیونکہ یہاں آلہ کا تعین بالکل نہیں بخلاف تیمم کے، اور یہ بھی معتاد طریق میں ہے، یعنی ہاتھ سے تیمم میں ورنہ حلیہ میں تصریح کی ہے کہ اگر کوئی شخص خاک میں لوٹ پوٹ ہوگیا اور خاک اس کے چہرے، ہاتھوں اور بانہوں کو لگ گئی تو کافی ہے کیونکہ اُس نے نہ صرف فرض ادا کرلیا بلکہ اس سے بھی زیادہ کرلیا، ورنہ نہیں اھ یعنی اگر اس نے نیت کی ہے تو کافی ہوگا، جیسا کہ ظاہر ہے واللہ تعالیٰ اعلم۔

 (۱؎ حلیہ)

فتاوی رضویہ ،سوال نمبر ۲۸جواب :از امام احمد رضا خان بریلوی

No comments:

Post a Comment

Join us on

Must click on Like Button

Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...