Wednesday, February 24, 2016

Fatawa e Rizvia Aur Imam Ahmed Raza Barelvi



آج کل مولانا احمد رضا بریلوی ۔۔۔کے فتاوی کا مجموعہ ۔۔۔۔فتاوی رضویہ ۔۔۔پڑھ رہا ہوں
جلد ٢٧زیر مطالعہ ہے
بعض اوقات انکی زبان تلخ ہوجاتی ہے ۔۔۔۔مگر سچ ہے کہ علم کا پہاڑ تھا ۔۔۔۔یہ شخص

چند باتیں خود ملاحظہ فرمائیں
سوال جواب کا خلاصہ پیش خدمت ہے
:
سوال ۔۔۔مرد کو ایک حصہ شہوت دی گئی ہے ۔۔۔جبکہ عورت کو نوحصے ۔۔۔۔پھر ایک حصہ شہوت والا مرد ۔۔۔چار بیویوں کی خواہش کیسے پوری کر سکتا ہے ۔۔۔عورت کو نو حصے شہوت دینے میں حکمت کیا ہے ؟
جواب :۔۔۔عورت کی شہوت فقط نو حصے نہیں بلکہ سو حصے زائد ہے
ولکن اللہ القی علیھن الحیاء ۔۔۔۔لیکن اللہ تعالی نے ان پر حیا ڈال دی ہے
(المقاصد الحسنۃ ،کتاب النکاح )
انسان اپنے سے زائد عقل والے کو کام کرتا دیکھے ۔۔۔تو اس پر اعتراض نہیں کرتا ۔۔۔پھر انسان ۔۔۔رب العزت ۔۔۔جو حکیم و خبیر ہے ۔۔۔اس کے افعال میں کیوں خدشا ت پیدا کرتا ہے ۔۔۔

اس میں ایک سہل سی حکمت یہ ہے کہ:فعل ِ جماع میں مرد کا تعلق ۔۔۔صرف لذت کا ہے ۔۔۔۔جبکہ عورت کو صد ہا مصائب کا سامناکرنا پڑتا ہے ۔۔۔۔۔نو مہینے پیٹ میں رکھتی ہے ۔۔۔۔چلنا ،پھرنا ،اٹھنا ،بیٹھنا دشوار ہو جاتا ہے ۔۔۔۔پھر پیدا ہوتے وقت تو ۔۔۔۔ہر جھٹکے پر ۔۔۔۔موت کا پورا سامنا ہوتا ہے ۔۔۔۔طرح طرح کے درد میں ۔۔۔نفاس والی کی تو نیند اڑجاتی ہے
اسی لیے اللہ تعالی فرماتا ہے
حملتہ امہ کرھا ،ووضعتہ کرھا ،وحملہ و فصلہ ثلثون شھرا
اس کی ماں نے اس کوتکلیف سے پیٹ میں رکھا ،اور اس کوجنا تکلیف سے ،اور اس کو اٹھائے پھرنا ،اور اس کا دودھ چھڑانا تیس مہینے میں ہے
(القران :٥٤:١٥)
حکمت :۔۔۔
ہر بچے کی پیدائش میں عورت کے لیے تین سال کی قید با مشقت ہے ۔۔۔۔۔۔اگر اس قدر کثیر و غالب(شہوت عورت میں ) نہ رکھی جاتی ۔۔۔۔۔تو ایک بار کے بعد پھر کبھی پاس نہ آتی ۔۔۔۔دنیا کا نظام تباہ ہو جاتا ۔۔۔۔اگر مرد کے پیٹ سے ایک دفعہ بھی چوہے کا بچہ پیدا ہوتا ۔۔۔۔تو عمر بھر کیلئے کان پکڑ لیتا ۔۔۔۔یہ حکمت ہے جس کے سبب وہ ان تمام مصائب کو بھول جاتی ہے ۔


بجلی کیا چیز ہے؟؟
اللہ تعالی نے بادلوں کو چلانے کیلئے ۔۔۔ایک فرشتہ مقرر فرمایا ہے۔۔۔جس کا نام ''رعد
ــ'' ہے ۔۔۔اس کا قد بہت چھوٹا ہے ۔۔۔اور اس کے ہاتھ میں ۔۔۔ایک بہت بڑا کوڑا ہے ۔۔۔۔جب وہ کوڑا بادل کو مارتا ہے ۔۔۔اسکی تری سے آگ جھڑتی ہے ۔۔۔اسی کا نام بجلی ہے

زلزلہ آنے کا کیا باعث ہے ؟؟
سبب حقیقی تو اللہ تعالی کا ارادہ ہے ۔۔۔۔عالم اسباب میں باعث اصلی ۔۔۔بندوں کے معاصی
قرآن میں ہے:
ما اصابکم من مصیبۃ فبما کسبت ایدیکم ویعفو عن کثیر
تمھیں جو مصیبت پہنچتی ہے تمہارے ہاتھوں کی کمائیوں کا بدلہ ہے ،اور بہت کچھ وہ معاف فرما دیتا ہے
(القرآن )
اور وجہ ۔۔۔۔کوہ ِ قاف ۔۔۔کے ریشہ کی حرکت ہے ۔۔۔حق تعالی سبحانہ و تعالی نے تمام زمین کو محیط ۔۔۔ایک پہاڑ کو پیدا کیا ہے ۔۔۔۔جس کا نام ۔۔قاف۔۔ ہے ۔۔۔۔کوئی جگہ ایسی نہیں جہاں اس کے ریشے زمین میں پھیلے ہوئے نہ ہو ں۔۔۔جس طرح ۔درخت کی جڑ ۔۔۔بالائے زمین تھوڑی سی جگہ میں ہوتی ہے ۔۔۔۔اور اس کے ریشے زمین کے اندر بہت دور،دور تک پھیلے ہوتے ہیں ۔۔۔تاکہ اس کے لیے وجہ قرار ہو ں ۔۔۔۔اور آندھیوں میں گرنے سے روکیں ۔۔۔پھر درخت جس قدر بڑا ہو گا ۔۔۔اتنی ہی زیادہ دور تک اس کے ریشے گھیرے گے ۔۔۔۔

جبل قاف ۔۔۔۔۔جس کا دَور ۔۔۔تمام کرہ زمین کو اپنی لپیٹ میں لئے ہے ۔۔۔اس کے ریشے ساری زمین میں اپنا جال بچھائے ہیں ۔۔۔۔کہیں اوپر ظاہر ہو کر پہاڑیاں ہو گئے ۔۔۔۔کہیں سطح تک آکر تھم گے ۔۔۔جس کو سنگلاخ زمین کہتے ہیں ۔۔۔کہیں زمین کے اندر ہیں ۔۔۔قریب یا بعید ۔۔۔۔
جس جگہ زلزلہ کیلئے ارادہ الہی ہوتا ہے ۔۔۔(والعیاذ برحمتہ و رحمۃرسولہ) ۔۔۔۔قاف کو حکم دیتا ہے ۔۔۔کہ وہ اپنے وہاں کے ریشے کو جنبش دیتا ہے ۔۔۔اسی لیے صرف وہی زلزلہ آتا ہے ۔۔۔۔جہاں وہ اپنے ریشے کو حرکت دیتا ہے ۔۔۔پھر جہاں خفیف کا حکم ہوتا ہے ۔۔۔اس کے محاذی ریشہ کو آہستہ ہلاتا ہے ۔۔۔۔جہاں شدید کا امر ہوتا ہے وہاں بقوت ۔۔۔یہاں تک کہ بعض جگہ صرف ایک دھکا سا لگ کر ختم ہو جاتا ہے ۔۔۔اسی وقت قریب کے دوسرے مقام کے در و دیوار جھونکے لیتے ہیں ۔۔۔تیسری جگہ زمین پھٹ کر پانی نکل آتا ہے ۔۔(مزید بھی بہت کچھ لکھا ۔۔۔جدید لوگ جسے سبب سمجھتے ہیں اس پر بھی مختصر بحث کی۔۔ہم بس ایک حوالہ نقل کر کے اپنی بات کا اختتام کرتے ہیں )
امام ابوبکر ابن ابی الدنیا ۔۔۔۔۔کتاب العقوبات ۔۔۔میں
ابو الشیخ ۔۔۔کتاب العظمۃ ۔۔۔میں
حضرت عبد اللہ ابن عباس سے روایت کرتے ہیں
قال خلق اللہ جبلا ،یقال لہ قاف ،محیط بالعالم ،وعروقہ الی الصخرۃ التی علیھا الارض ،فاذا اراد اللہ ان یزلزل قریۃ امر ذالک الجبل ،فحرک العرق الذی یلی تلک القریۃ ،فیزلزلھا ویحرکھا ،فمن ثم تتحرک القریۃ دون القریۃ
اللہ تعالی نے ایک پہاڑ پیدا کیا ہے ۔۔۔جس کا نام قاف ہے ۔۔وہ تمام زمین کو محیط ہے ۔۔۔اس کے ریشے اس چٹان تک پھیلے ہیں ۔۔۔جس پر زمین ہے ۔۔جب اللہ عزوجل کسی جگہ زلزلہ لانا چاہتا ہے ۔۔۔اس پہاڑ کو حکم دیتا ہے ۔۔وہ اپنے اس جگہ کے متصل ریشے کو ۔۔۔لرزش و جنبش دیتا ہے ۔۔۔۔یہی باعث ہے کہ زلزلہ ۔۔۔۔ایک بستی میں آتا ہے ۔۔۔دوسری میں نہیں ۔۔
احادیث کے متعلق ایک اہم بات :
حضرات صحابہ کرام سے لے کر ۔۔۔پچھلے ائمہ مجتھدین تک ۔۔۔کوئی مجتھد ایسا نہیں ۔۔۔جس نے بعض احادیث صحیحہ کو ۔۔۔موؤل یا مرجوح ۔۔یا کسی نہ کسی وجہ سے ۔۔۔متروک العمل نہ ٹھہرایا ہو

(انشاء اللہ ۔۔۔اگر موقع ملا تو دوسری جلدوں کے متعلق کچھ لکھوں گا ۔۔۔معذرت خواہ ہوں کہ بات لمبی ہوگئی )
تحریر :احسان اللہ قادری 

مورخہ :۲۴:فروری ،۲۰۱۶


No comments:

Post a Comment

Join us on

Must click on Like Button

Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...