Saturday, February 27, 2016

Barish k Pani k Mutalik aik Sawal ka Jawab ( Fatawa Rizvia by Imam Ahmed Raza Barelvi )

مسئلہ ۳۱: مرسلہ ڈاکٹر محمد واعظ الحق صاحب سعد اللہ پوری ڈاکخانہ خسرو پور ضلع پٹنہ۲ربیع الآخر ۱۳۲۲ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیانِ شرع متین اس مسئلہ میں کہ بارش کا پانی اگر کسی خندق میں جمع ہوجائے اور وہ خندق دس گز سے لمباچوڑازیادہ ہو مگر بستی کے قریب ہو اور اس میں بستی کاپانی جاتا ہو اس میں غسل کرنا اور وضو بنانا جائز ہے یا نہیں؟

الجواب : جس خندق کی مساحت دہ در دہ ہے یعنی طول وعرض کے ضرب دیے سے سو ہاتھ حاصل ہوں مثلاً دس ۱۰ ہاتھ طول ہو دس۱۰ ہاتھ عرض یا بیس۲۰ ہاتھ طول،پانچ۵ہاتھ عرض یاپچاس۵۰ ہاتھ طول،دو۲ ہاتھ عرض اور ان سب صورتوں میں اس کا گہراؤ اتنا ہو لپ میں پانی لینے سے زمین نہ کھل جائے تو اب اس میں دو صورتیں ہیں اگرپہلے اُس میں بارش کا پانی بھر گیااُس کے بعد گھروں کاپانی پاک ناپاک ہر طرح کا خواہ صرف ناپاک ہی آکر ملا تو جب تک خاص نجاست کے سبب اُس کے رنگ یا بُو یا مزے میں تغیر نہ آئے پانی پاک رہے گا اور اُس سے وضو وغسل جائز اور اگر پہلے بستی کا پانی اس میں آکر مستقر ہوگیا تو اوّلا یہ نظر کرنا ہے کہ وہ پانی ناپاک بھی تھایا نہیں اگرناپاک نہ تھا جب تو ظاہر ہے مثلاًپانی برسااور مکانوں کے ہر گونہ پانیوں کو اپنے ساتھ بہاکر اس خندق میں لایا اور اُس کے رنگ،مزے، بُو، کسی میں نجاست کے باعث تغیر نہ آیاتو وہ ناپاک بھی اس کے ساتھ بَہ کر پاک ہوگئے لان الماء الجاری یطھر بعضہ بعضا (کیونکہ جاری پانی بعض ناپاک پانی کو پاک کردیتا ہے۔ ت) یا پہلے سے ناپاک پانی خندق میں تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اوراب کوئی پاک پانی ایسا بہتا آیا کہ بہاؤ ٹھہرنے سے پہلے وہ دہ در دہ ہوگیا یہ بھی صورت طہارت کی ہے کہ جب تک بہ رہا تھا قابلِ نجاست نہ تھا اور ٹھہرا تو اُس وقت کہ دہ در دہ ہو کر حکم جاری میں ہوچکا تھا لہٰذا کوئی وقت اُس نے وصف نجاست قبول کرنے کانہ پایا اور اگر پانی ناپاک تھا خواہ یوں کہ نجاست نے بہتے پانی کا کوئی وصف مذکور بدل دیا یا یہ کہ پہلے خالص ناپاک پانی خندق میں پہنچ لیااُس کے بعد بارش وغیرہ کا پانی تھوڑا تھوڑا اس میں آتا گیا جتنا ملا ناپاک ہوتا گیا یا پہلے سے پاک پانی خندق میں دہ در دہ سے کم جگہ میں تھا اُس پر خالص ناپاک پانی واردہوا تو اس میں پھر دو صورتیں ہیں اگر بارش تھوڑی سی ہوئی کہ وہ پانی اُس ناپاک میں مل کر رہ گیا تو وہ بھی ناپاک ہوگیاا ور اگر بارش زور سے ہوئی کہ بکثرت پانی بہتا آیا جس نے اس خندق کو بھر کر ابال دیاکہ پانی کناروں سے چھلک گیا تو اب سب پاک ہے واللہ تعالٰی اعلم۔
فتاوی رضویہ ،ج۲،ص۳۱

امام احمد رضا خان بریلوی  

No comments:

Post a Comment

Join us on

Must click on Like Button

Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...