Wednesday, February 24, 2016

Aurato ka Masjid me A ker Namaz Parhna



عورتوں کی مساجد میں حاضری

کسی شی کا حکم دو قسم کا ہوتا ہے ۔۔۔۔۔۔اول :ذاتی ،دوم:عرضی
ذاتی :جو نفس ذات کے اعتبار سے ہو
عرضی :جو کسی خارجی عارضے کی وجہ سے ہو
تمام احکام جو سد ذرائع کیلئے دیے جاتے ہیں ،اسی قسم دوم سے ہوتے ہیں
یہ دونوں قسمیں بعض اوقات نفی و اثبات میں مختلف ہوتی ہیں ،مگر ہر گز متنافی نہیں
اس کی مثال عورتوںکی مساجد میں حاضری ہے۔۔۔۔۔۔ذاتی طور پر یہ ہر گز منع نہیں ،بلکہ ان کو روکنا ممنوع ہے ۔۔۔۔۔۔حدیث میں ہے:
(لا تمنعوا اماء اﷲ مساجد اﷲ)
اللہ کی باندیوں کو اللہ کی مساجد سے نہ روکو
(صحیح بخاری ،کتاب الجمعۃ)
مگرزمانہ موجودہ کی خواتیں کودیکھا جائے تو منع ہے ،جیسے کہ فقہاء کرام نے اسکی تصریح کی ہے ،
بلکہ خود حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا نے فرمایا :
(لورای رسول اﷲ ما احدث النساء ،لمنعھن المساجد ،کما منعت نساء بنی اسرائیل)
عورتوں کی موجود ہ حالت ،اگر رسول اللہ ؐ دیکھ لیتے ،تو انھیں مساجد سے ایسے ہی منع فرما دیتے ،جیسے بنی اسرائیل کی عورتوں کو منع کر دیا گیا تھا
(صحیح بخاری ،کتاب الاذان ،باب خروج النساء الی المساجد)
(ھذا الکلام مخلص من الفتاوی الرضویہ )


No comments:

Post a Comment

Join us on

Must click on Like Button

Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...