Saturday, January 23, 2016

Mufti Akmal Qadri Sab ny Syed Muzzafar Hussain Shah Sab ko Munazara ki Dawat Dy Di

Urdu unicode 

بسم اللہ الرحمن الرحیم
مفتی اکمل صاحب کی دعوت مناظرہ
آج مفتی اکمل قادری صاحب کی ایک وڈیو دیکھی ،تو دل بہت اداس ہوا ،یہ وڈیو ٢١جنوری ٢٠١٦کو مفتی صاحب کی جانب سے ریکارڈ کر وائی گئی تھی ،اس وڈیو میں مفتی صاحب نے فرمایا :عرصہ دراز سے مظفر حسین شاہ صاحب کی جانب سے مجھ پر مختلف قسم کے الزامات لگائے جا رہے ہیں ،اور بر سر منبر عوام کے سامنے ،مختلف جلسے جلوسوں میں گالیوں کا اور مختلف نازیبا کلمات کاسلسلہ جاری و ساری ہے ،پھرمزید باتیں ذکر کرتے ہوئے ،بالآخر مفتی صاحب نے اس وڈیو پیغام میں شاہ صاحب کو مناظرے کی دعوت بھی دی ،اور کہاکہ مفتی منیب الرحمن صاحب ،مفتی الیاس رضوی صاحب ،شیخ الحدیث دارالعلوم امجدیہ جناب اسماعیل ضیائی ،علامہ مفتی ابراہیم صاحب (سکھر والے )اور علامہ غلام رسول سعیدی صاحب ، یہ لوگ ججز ہو ں گے ،جو یہ لوگ فیصلہ
کر یں ہمیں منظور ہو گا ، مزید تفصیل کیلئے ویڈیو کلپ ملاحظہ فرمائیں ،میں بہت عرصے سے یہ سمجھتا تھا کہ شاید مفتی اکمل صاحب ان لوگوں میں سے ہیں ،جن کو ہمارے جوشیلے خطباء نے معاف کر دیا ہے،لیکن میں غلط سمجھتا رہا ،ہمارے جو شیلے علماء سے بچنا اتنا آسان بھی نہیں ہے ،کون ہے جو ان کے بے رحم پنجے سے بچ سکا ہو،پیر کرم شاہ صاحب ،علامہ اشرف سیالوی صاحب ،عبد الرزاق بھترالوی صاحب ،علامہ غلام رسول سعیدی صاحب،ڈاکٹر طاہر القادری صاحب یہ سب حضرات انکے فتووں کا شکار ہو چکے ہیں ،ہماری بڑی بد قسمتی ہے کہ ہمارے مسلک میں جس نے بھی کچھ کام کیا اس پر ہمارے اپنے ہی لوگوں نے فتوی ضرور لگایا ،عبد الرزاق بھترالوی صاحب ایک مرتبہ فرمارہے تھے :میں سوچتا تھا کہ میں نے بھی کافی کام کر لیا ہے ، ناجانے مجھے کون سا تمغہ دیں گے ،بالآخر ان پر بھی ایک صاحب نے بہت سخت فتوی دیا ہے،جتنا نقصان ہمارے مسلک کو ہمارے جو شیلے علماء و خطباء نے پہنچایاہے، کسی دوسرے نے نہیں پہنچایا ،حق کو حق اور باطل کو باطل کہنا ضروری ہے ،مگر اس کا انداز اچھا ہونا چاہیے ،مثلا اگر آپ کو کسی کے موقف سے اختلاف ہے ،تو آپ کہہ دیں کہ فلان صاحب یا بعض لوگ یہ کہتے ہیں ،حالانکہ حق بات یہ ہے ،پھر اپنی بات کی تائید میں دلائل کے انبار لگا دیں تاکہ ہر سننے اور پڑھنے والا آپ کی بات کا قائل ہو جائے ،مگر ہمارے لوگ ایسا نہیں کرتے ،بلکہ مخالف کو گالی دے کر ،یا برا بھلا کہ کر ،یا اس کا نام بگاڑکر سمجھتے ہیں ہم نے لوگوں کے دل میں اس کی نفرت ڈال دی ،حالانکہ اس طرح لوگ گالی دینے والے اور نام بگاڑنے والے ہی کے خلاف ہو جاتے ہیں ،اسی لیے آج ہمارا مسلک تباہ و برباد ہو چکا ہے ،ہمیں بھی چاہیے کہ ہم اپنی مسلک سے اس برائی کا خاتمہ کریں ،اوراپنی عوام میں شعور بیدار کریں ۔


No comments:

Post a Comment

Join us on

Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...