Monday, December 7, 2015

Seerat e Mustafa ,Sunat Rasool Allah ki ,Hazoor ka Tareeka ,Hazoor ka Huliya ,

یہاں سے کاپی کرکے اشتہار یا پینا فلیکس پر پرنٹ کروا کر مفت تقسیم کریں 
 
یا  فیس بک ،ٹویٹر ،اور ایس ایم ایس کے ذریعے عام کریں 


ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کیسے تھے ۔۔؟؟
(١)۔۔۔۔۔۔ جسم مبارک نہایت نرم و نازک تھا (صحیح بخاری )
(٢)۔۔۔۔۔۔ جسم مبارک کی خوشبو سب سے اچھی تھی (صحیح بخاری )
(٣)۔۔۔۔۔۔خوشی میں چہرہ چاند کی طرح چمکتا تھا (صحیح بخاری )
(٤)۔۔۔۔۔۔جسم مبارک کا سایہ نہ تھا (شرح زرقانی )
(٥)۔۔۔۔۔۔بدن تو کیا کبھی کپڑوں پر بھی مکھی نہیں بیٹھی(شرح زرقانی )
(٦)۔۔۔۔۔۔آپ کوکبھی مچھر نے نہیں کاٹا (شرح زرقانی)
(٧)۔۔۔۔۔۔دونوں کندھوں کے درمیان کبوتر کے انڈے کے برابر مہر نبوت تھی (شمائل ترمذی)
(٨)۔۔۔۔۔۔آپ نے بہت لمبے تھے نہ بہت پست قد ،بلکہ آپ درمیانی قد والے تھے (سیر ت مصطفی ؐ)
(٩)۔۔۔۔۔۔مگر آپ کا یہ معجزہ تھا کہ لوگوں میں آپ ہی سب سے اونچے نظر آتے تھے
(١٠)۔۔۔۔۔۔جب آپ چلتے تو کچھ خَمِیدہ (یعنی کچھ جھک )کر چلتے تھے (شمائل ترمذی)
(١١)۔۔۔۔۔۔رفتار کے وقت ایسے معلوم ہوتا گویا کہ آپ بلندی سے اُ تر رہے ہیں (شمائل ترمذی)
(١٢)۔۔۔۔۔۔حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے آپ کی مثل نہ آپ سے پہلے دیکھا تھا نہ آپ کے بعد دیکھا (شمائل ترمذی)
(١٣)۔۔۔۔۔۔سرمبارک بڑا تھا(شمائل ترمذی)
(١٤)۔۔۔۔۔۔بال مبارک نہ گھونگھریالے ،نہ بالکل سیدھے ،بلکہ ان دونوں کیفیتوں کے درمیان تھے (سیر ت مصطفی ؐ)
(١٥)۔۔۔۔۔۔بال کبھی کانوں کی لو تک ،اور کبھی کندھوں تک ہوتے تھے (سیرت مصطفی ؐ)
(١٦)۔۔۔۔۔۔حجۃ الوداع کے موقع پر آپ نے سر کے بال اُتروادیے (سیر ت مصطفی ؐ)
(١٧)۔۔۔۔۔۔اکثر بالوں میں تیل لگاتے تھے (سیرت مصطفی ؐ )
(١٨)۔۔۔۔۔۔آخری عمر میں درمیان سے مانگ نکالتے تھے (شمائل ترمذی)
(١٩)۔۔۔۔۔۔بال مبارک آخری عمر تک کالے ہی تھے ،پورے سر اور داڑھی مبارک میں زیادہ سے زیادہ بیس بال سفید تھے (شمائل ترمذی)
(٢٠)۔۔۔۔۔۔آپ ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) سب سے اچھے اخلاق والے تھے(شمائل ترمذی)
(٢١)۔۔۔۔۔۔بھوئیں باریک تھی ،دونوں بھوؤں کے درمیان ایک رَگ تھی جو غصے کے وقت اُبھر جاتی تھی (شمائل ترمذی)
(٢٢)۔۔۔۔۔۔آپ کی آنکھیں مبارک بڑی بڑی اور قدرتی طور پر سرمگیں تھیں (یعنی ایسا لگتا تھا کہ جیسا سرمہ لگایا ہواہے)(شمائل ترمذی)
(٢٣)۔۔۔۔۔۔پلکیں گھنی اور لمبی تھیں ،آنکھ کا کالا حصہ خوب کالا ،اور سفید حصہ خوب سفید تھا ،آنکھوں میں باریک باریک سرخ ڈورے تھے (شمائل ترمذی )
(٢٤)۔۔۔۔۔۔ ناک مبارک باریک اور بلند تھی (سیرت مصطفی ؐ )
(٢٥)۔۔۔۔۔۔پیشانی مبارک کشادہ اور چوڑی تھی (شمائل ترمذی)
(٢٦)۔۔۔۔۔۔دوران گفتگو دانتوں کے درمیان سے نور نکلتا تھا (شمائل ترمذی )
(٢٧)۔۔۔۔۔۔آپ ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کو کبھی جمائی نہیں آئی (شرح زرقانی )
(٢٨)۔۔۔۔۔۔آپ کے لُعابِ دہن (یعنی تھوک مبارک )میں شفاء تھی ،غار ثور میں جب صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کو سانپ نے کاٹا تو اسی کے ذریعے شفاء ملی (سیر ت مصطفی ؐ)
(٢٩)۔۔۔۔۔۔حضرت علی رضی اللہ عنہ کو آشوبِ چشم (یعنی آنکھیں خراب ہو گی )تو اسی لعاب دہن ہی کی بدولت شفاء ملی (سیر ت مصطفی ؐ )
(٣٠)۔۔۔۔۔۔آپ ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) نے کنویں میں لعاب دہن ڈالا تو اس کا پانی بہت ہی میٹھا ہو گیا (شرح زرقانی )
(٣١)۔۔۔۔۔۔آپ ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) خوش آواز اورمناسبت کے ساتھ بلند آواز والے تھے (سیر ت مصطفی ؐ )
(٣٢)۔۔۔۔۔۔آپ ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کی گردن مبارک باریک اور چاندی کی طرح صاف و شفاف تھی (سیر ت مصطفی ؐ)
(٣٣)۔۔۔۔۔۔ہتھیلیاں چوڑی ،پُر گوشت ،کلائیاں لمبی ،بازومبارک دراز ،اور گوشت سے بھرے ہوئے تھے (شمائل ترمذی)
(٣٤)۔۔۔۔۔۔جو آپ ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) سے مصافحہ کرتا دن بھر اپنے ہاتھوں سے خوشبو محسوس کرتا تھا (صحیح مسلم )
(٣٥)۔۔۔۔۔۔آپ ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کو بچے دیکھ کر آپ کی طرف دوڑ پڑتے ،آپ ان میں سے ہر ایک کے رخسار پر اپنادست ِمبارک پھیرتے ،وہ آپ کے ہاتھ مبارک کی خوشبو
اور ٹھنڈک کو محسوس کرتے تھے (صحیح مسلم )
(٣٦)۔۔۔۔۔۔آپ کا شکم (یعنی پیٹ مبارک )اور سینہ ہموار اور برابر تھا (شمائل ترمذی )
(٣٧)۔۔۔۔۔۔سینہ مبارک کے اوپر کے حصہ سے ناف تک مقدس بالوں کی ایک باریک سی لکیر تھی،کندھوں اور کلائیوں پر قدرے بال تھے (شمائل ترمذی)
(٣٨)۔۔۔۔۔۔مقدس پاؤں چوڑے ،پُرگوشت ،ایڑیاں کم گوشت والی ،تلوااونچاتھا جو زمین کو نہیں لگتا تھا ،پنڈلیاں قدرے پتلی،پاؤں نرم و نازک تھے (شمائل ترمذی)
(٣٩)۔۔۔۔۔۔آپ ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) تواضع و وقار کے ساتھ تیز چلتے تھے (شمائل ترمذی)
(٤٠)۔۔۔۔۔۔اکثر سوتی لباس پہنتے ،کبھی کبھی اُونی اور کتانی(باریک )کپڑا بھی استعمال فرماتے (شرح زرقانی )
(٤١)۔۔۔۔۔۔عمامہ شریف میں شملہ چھوڑتے تھے ،کبھی ایک کندھے پر کبھی دونوں کندھوں کے درمیان رہتا تھا (شمائل ترمذی)
(٤٢)۔۔۔۔۔۔عمامہ شریف کے نیچے ٹوپی ضرور ہوتی تھی ،بغیر ٹوپی کے عمامہ باندھنے سے منع فرمایا ہے (سنن ابوداؤد)فتح مکہ کے دن آپ نے کالا عمامہ پہنا ہوا تھا (شمائل ترمذی )
(٤٣)۔۔۔۔۔۔یمن کی دھاری دار چادر جسے حبرہ کہتے ہیں آپ کو پسند تھی (سنن ابی دواؤد)
(٤٤)۔۔۔۔۔۔آپ کملی بکثرت استعمال فرماتے تھے ،بوقت وفات بھی ایک موٹا کمبل اوڑھے ہوئے تھے (سنن ترمذی )
(٤٥)۔۔۔۔۔۔آپ کے نعلین مبارک کی شکل و صورت ایسی تھی جیسے ہندوستان میں چیل ہوتے ہیں اکثر نعلین میں دو تسمہ ہوا کرتے تھے(سیر ت مصطفی ؐ )
(٤٦)۔۔۔۔۔۔سفید رنگ کا کپڑ اآپ ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کو بہت پسند تھا ،مرد کے لیے سرخ رنگ کو ناپسند فرماتے تھے (سیرت مصطفی ؐ)
(٤٧)۔۔۔۔۔۔حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے سرخ کپڑے پہنے تو حضور علیہ السلام نے ناگواری کا اظہار کیا تو انھوں نے وہ سرخ کپڑے ہی جلاد یے (سیر ت مصطفی )
(٤٨)۔۔۔۔۔۔آپ نے بادشاہوں کو دعوت اسلام کے لیے خطوط لکھنے کا ارادہ کیا تو معلوم ہوا کہ بغیر مہر کہ وہ خط نہیں پڑھتے تو آپ نے مہر کے لیے ایک چاندی کی انگوٹھی بنوائی جس پر اوپر
نیچے تین سطروں میں ''محمد رسول اللہ '' لکھا ہواتھا (سیرت مصطفی ؐ )
(٤٩)۔۔۔۔۔۔آپ کو خوشبو بہت پسند تھی ،ہمیشہ عطر استعمال کرتے تھے ،آپ کے جسم سے ایسی خوشبو نکلتی تھی وہ گلیوں کو مہکا دیتی تھی ،آپ ہمیشہ خوشبو کا تحفہ قبول فرماتے تھے (سیرت مصطفی ؐ)
؎(٥٠)۔۔۔۔۔۔ازار مبارک (یعنی شلوار مبارک )اکثر نصف ساق (یعنی آدھی پنڈلی )تک ہوتا تھا (فتاوی رضویہ ،ج ٢٢،ص١٦٨)
(٥١)۔۔۔۔۔۔حضور انور کا عمامہ اقدس کم از کم پانچ اور زیادہ سے زیادہ بارہ ہاتھ تھا (فتاوی رضویہ )
(٥٢)۔۔۔۔۔۔حضور صحابہ کرام کے ساتھ تالاب میں تیرے بھی ہیں (فتاوی رضویہ ،ج ٢٢،ص٢٥٥)
(٥٣)۔۔۔۔۔۔حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مشت سے زائد داڑھی کو کاٹ دیتے تھے ،یہ بات درست نہیں کہ ایک مشت سے داڑھی بڑی ہی نہیں ہوتی تھی (فتاوی رضویہ ،ج٢٢،٥٩٠)
(٥٤)۔۔۔۔۔۔حضور ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) جانوروں کی بولی بھی سمجھتے تھے (فتاوی رضویہ )
(٥٥)۔۔۔۔۔۔آپ ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کو جانور اور درخت سجدہ کرتے ،اورقضائے حاجت کے وقت درخت آپ کے لیے پردہ بناتے تھے (فتاوی رضویہ )
سیرت کی مختلف کتب کے نام :
٭سیرت مصطفی ؐ (١جلد) ،عبد المصطفی اعظمی ،
٭ضیاء النبی ؐ(7جلدیں )،پیر کرم شاہ الازھری ،
٭سیر ۃ الرسول ؐ،(١٠جلدیں)،ڈاکٹر طاہر القادری ،            
 ٭مواہب اللدنیہ ،علامہ قسطلانی ،
٭سیرت ابن ہشام ،امام ابن ہشام ،
٭الشفاء ،قاضی عیاض۔
آقاعلیہ الصلوۃ والسلام کی مختلف سنتیں جاننے کے لیے بہار شریعت کا حصہ ١٦کامطالعہ فرمائیں


No comments:

Post a Comment

Join us on

Must click on Like Button

Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...