Sunday, December 13, 2015

سوال : وضو وغسل میں پانی کی کیا مقدار شرعامعین ہے ؟؟جواب :از امام احمد رضا خان بریلوی

رسالہ
بارق النّور فی مقادیر ماء الطھور(۱۳۲۷ھ)
( نورکی تابش ،آب وضووغسل کی مقدارمیں )

بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم
 نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم۔

مسئلہ ۱۷:        ۲۲/رمضان المبارک ۱۳۲۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ وضو وغسل میں پانی کی کیا مقدار شرعامعین ہے ؟بینوا توجروا۔(بیان فرمائیے اجرپائیے ۔ت)

الجواب
    ہم قبل بیان فـــ احادیث ،صاع ومدُورطل کی مقادیربیان کریں کہ فہم معنی آسان ہو۔ صاع ایک پیمانہ ہے چارمُد کا،اور مُدکہ اُسی کو مَن بھی کہتے ہیں ہمارے نزدیک دور طل ہے اور ایک رطل شرعی یہاں کے روپے سے چھتیس ۳۶ روپے بھر کہ رطل بیس۲۰ استارہے اوراستار ساڑھے چار مثقال اور مثقال ساڑھے چار ماشے اور یہ انگریزی روپیہ سواگیارہ ماشے یعنی ڈھائی مثقال، تو رطل شرعی کہ نوے۹۰ مثقال ہوا ،ڈھائی پر تقسیم کئے سے چھتیس۳۶ آئے، توصاع کہ ہمارے نزدیک آٹھ رطل ہے ایک سو اٹھاسی۱۸۸ روپے بھر ہوا یعنی رامپور کے سیر سے کہ چھیانوے۹۶روپے بھرکا ہے پورا تین سیر، اور مُد تین پاؤ۔ اور امام ابو یوسف وائمہ ثلثہ رضی اللہ تعالٰی عنہم کے نزدیک صاع پانچ رطل اور ایک ثلث رطل کا ہے اور اس پر اجماع ہے کہ چار مُدکا ایک صاع ہے تو اُن کے نزدیک مُدایک رطل اور ایک ثلث رطل ہوا یعنی رامپوری سیر سے آدھ سیر اور صاع دوسیر۔ اس بحث کی زیادہ تحقیق فتاواے فقیر سے کتاب الصوم وغیرہ میں ہے۔

فــ:مثقال واستار و رطل ومدوصاع کابیان ۔

اب حدیثیں سُنئے:صحیحین میں انس رضی اللہ تعالٰی عنہ سے ہے: کان رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم یغتسل بالصاع الی خمسۃ امداد ویتوضأ بالمد ۱؎۔

رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ایک صاع سے پانچ مُدتک پانی سے نہاتے اورایک مُدپانی سے وضو فرماتے۔

(۱؎صحیح البخاری    کتاب الوضوءباب الوضوء بالمُد         قدیمی کتب خانہ کراچی    ۱ /۳۳
صحیح مسلم     کتاب الحیض باب القدرالمستحب من الماء فی غسل الجنابۃ قدیمی کتب خانہ کراچی     ۱ /۱۴۹)

صحیح مسلم ومسنداحمد و جامع ترمذی وسنن ابن ماجہ وشرح معانی الآثار امام طحاوی میں حضرت سفینہ اور مسند احمد وسنن ابی داؤد وابن ماجہ وطحطاوی میں بسند صحیح حضرت جابر بن عبداللہ نیز انہیں کتب میں بطرق کثیرہ ام المومنین صدیقہ رضی اللہ تعالٰی عنہا سے ہے : کان رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ تعالی علیہ وسلم یتؤضأ بالمد ویغتسل بالصاع ۲؎۔

رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ایک مُد سے وضو اور ایک صاع سے غسل فرماتے ۔

(۲؎صحیح مسلم     کتاب الحیض باب القدرالمستحب من الماء فی غسل الجنابۃ قدیمی کتب خانہ کراچی     ۱ /۱۴۹
سنن ابی داؤد     کتاب الطہارۃ باب مایجزئ من الماء    آفتاب عالم پریس لاہور    ۱ /۱۳
مسند احمد بن حنبل عن جابر     ۱ /۳۰۳    وعن عائشۃ رضی اللہ عنھا    ۶/ ۲۴۹ المکتب الاسلامی بیروت
شرح معانی الآثار     کتاب الزکوۃ باب وزن الصاع کم ھو    ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی     ۱ /۳۷۶
سنن الترمذی     باب فی الوضو بالمدحدیث ۵۶        دارالفکربیروت        ۱ /۱۲۲)

اکثر احادیث اسی طرف ہیں،اور انس رضی اللہ تعالٰی عنہ کی حدیث امام طحاوی کے یہاں یوں ہے: کان رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ تعالی علیہ وسلم یتوضأ من مدفیسبغ الوضوء وعسی ان یفضل منہ الحدیث ۱؎۔

رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ایک مُد سے تمام وکمال وضو وسعت وفراغت کے ساتھ فرمالیتے اور قریب تھاکہ کچھ پانی بچ بھی رہتا۔

(۱؎ شرح معافی الآثار،        کتاب الزکوۃ باب وزن الصاع کم ہو    ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ /۳۷۶)

اور ابو یعلی وطبرانی وبیہقی نے ابو امامہ باہلی رضی اللہ تعالٰی عنہ سے بسندِ ضعیف روایت کیا: ان رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ تعالی علیہ وسلم توضأ بنصف مُد ۲؎۔

رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے نصف مُد سے وضو فرمایا۔

(۲؎ مجمع الزوائدبحوالہ الطبرانی فی الکبیر    کتاب الطہارۃباب مایکفی من الماء للوضوء الخ دارالکتاب بیروت۱ /۲۱۹)

سُنن ابی داؤد ونسائی میں اُمِّ عمارہ رضی اللہ تعالٰی عنہا سے ہے: ان النبی صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم توضأ فاتی باناء فیہ ماء قدر ثلثی المد ۳؎۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو فرمانا چاہا توایک برتن حاضر لایاگیاجس میں دوتہائی مُد کے قدرپانی تھا۔

(۳؎ سنن ابی داؤد،    کتاب الطہارۃ باب مایجوزمن الماء فی الوضوء    آفتاب عالم پریس لاہور    ۱ /۱۳)

نسائی کے لفظ یہ ہیں:

فاتی بماء فی اناء قدر ثلثی المد ۴؎۔

ایک برتن میں کہ دو ثلث مُد کے قدر تھا پانی حاضر کیاگیا۔

(۴؎ سنن نسائی،    کتاب الطہارۃ باب القدر الذی یکتفی بہ الرجل من الماء للوضو نور محمدکارخانہ کراچی ۱ /۲۴)

ابن خزیمہ وابن حبان وحاکم کی صحاح میں عبداللہ بن زید رضی اللہ تعالٰی عنہ سے ہے: انہ رأی النبی صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم توضأ بثلث مُدعـــہ ۵؎۔

انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کو دیکھاکہ ایک تہائی مُد سے وضو فرمایا۔

عــہ:ھکذا عزالھم الزرقانی فی شرح المواھب وقد احتاط فنص علی الضبط قائلا ثلث بالافراد ۲؎اھ ونقل البعض عن ابنی خزیمۃ وحبان بنحو ثلثی مُد بالتثنیۃ وان الحافظ ابن حجر قال فی الثلث لم اجدہ کذا قال واللّٰہ تعالٰی اعلم اھ منہ۔ (م)

عــہ:اسی طرح ان کے حوالے سے علامہ زُرقانی نے شرح مواہب میں ذکرکیااور براہِ احتیاط یہ کہتے ہوئے ضبطِ لفظ کی صراحت کردی کہ ثُلث بصیغہ واحدہے اھ۔ اور بعض نے ابن خزیمہ وابن حبان سے بصیغہ تثنیہ ''بنحوثلثی مد''(تقریباً دو تہائی مد) نقل کیا۔ اور یہ کہ حافظ ابن حجر نے لفظ''ثُلُث'' سے متعلق کہا کہ میں نے اسے نہ پایا۔ انہوں نے ایسا ہی لکھا ہے ۔واللہ تعالٰی اعلم۱۲ منہ(ت)

(۲؎شرح الزرقانی علی المواھب ا للدنیہ     المقصد التاسع الفصل الاول     دارالمعرفۃ بیروت     ۷ /۲۵۱
۵؎ المستدرک للحاکم،    کتاب الطہارۃ مایجزی من الماء للوضوء    مطبوعہ دالفکربیروت        ۱ /۱۶۱
صحیح ابن خزیمہ     کتاب الطہارۃ باب الرخصۃ فی الوضوء الخ حدیث ۱۱۸    المکتب الاسلامی بیروت ۱/۶۲
موارد الظمأن     باب ماجاء فی الوضو حدیث ۱۵۵        المطبعۃ السلفیۃ     ص۶۷)

    اقول احادیث سے ثابت ہے کہ وضو میں عادت کریمہ تثلیث تھی یعنی ہر عضو تین بار دھونا،اور کبھی دو دو بار بھی اعضاء دھوئے۔

رواہ البخاری عن عبداللّٰہ بن زید وابو داؤد والترمذی وصححہ وابن حبان عن ابی ھریرۃ رضی اللّٰہ تعالٰی عنھما ان النبی صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم توضاء مرتین مرتین ۱؎۔

اسے امام بخاری نے عبداللہ بن زید رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کیا۔اورابوداؤد نے اور ترمذی نے بافادہ تصحیح،اورابن حبان نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہما سے روایت کی کہ نبی  نے وضومیں دودوبار اعضاء دھوئے۔(ت)

(۱؎ صحیح البخاری    کتاب الوضوباب الوضوء مرتین     قدیمی کتب خانہ کراچی    ۱ /۲۷
سنن ابی داؤد     کتاب الطہارۃ باب الوضومرتین     آفتاب عالم پریس لاہور    ۱ /۱۸
سنن الترمذی     ابواب الطہارۃ باب ماجاء فی الوضو مرتین مرتین حدیث ۴۳    دارالفکربیروت ۱ /۱۱۳
مواردالظمأن     کتاب الطہارۃ باب ماجاء فی الوضو مرتین مرتین حدیث ۱۵۷    المطبعۃ السلفیۃ ص۶۷)

رواہ البخاری والدارمی وابو داؤد والنسائی والطحاوی وابن خزیمۃ عن ابن عباس رضی اللّٰہ عنہما قال توضأ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم مرۃ مرۃ ۱؎۔

اسے بخاری،دارمی،ابوداؤد،نسائی، طحاوی اور ابن خزیمہ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہا سے روایت کیا،انہوں نے فرمایا رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے وضو میں ایک ایک بار اعضاء دھوئے۔

(۱؎ صحیح البخاری    کتاب الوضوباب الوضوء مرتین     قدیمی کتب خانہ کراچی    ۱ /۲۷
سنن ابی داؤد     کتاب الطہارۃ باب الوضومرتین     آفتاب عالم پریس لاہور    ۱ /۱۸
سنن النسائی     کتاب الطہارۃ باب الوضومرۃ مرۃ نورمحمد کارخانہ تجارت کتب کراچی     ۱ /۲۵
سنن الدارمی     کتاب الطہارۃ باب الوضومرۃ مرۃ حدیث ۲۔۷    دارالمحاسن للطباعۃ القاہرۃ ۱/ ۱۴۳
شرح معانی الآثار    کتاب الطہارۃ باب الوضوللصلوۃ مرۃ مرۃ         ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ /۲۸
صحیح ابن خزیمہ     کتاب الوضوباب اباحۃ الوضومرۃ مرۃ حدیث ۱۷۱    المکتب الاسلامی بیروت ۱ /۸۸ )

وبمثلہ رواہ الطحاوی عن عبداللّٰہ بن عمر رضی اللّٰہ تعالٰی عنھما وروی ایضا عن امیر المؤمنین عمر رضی اللّٰہ تعالی عنہ قال رأیت رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم توضا مرۃ مرۃ۲؎

اور اسی کے مثل امام طحاوی نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما سے بھی روایت کی۔اور امیر المؤمنین حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ سے بھی روایت کی کہ انہوں نے فرمایا میں نے دیکھاکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ایک بار اعضادھوئے۔

(۲؎ معانی الآثار،    کتاب الطہارۃ باب الوضو للصلوٰۃ مرۃ مرۃ     ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۱ /۲۸)

وعن ابی رافع رضی اللّٰہ تعالی عنہ قال رأیت رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ تعالی علیہ وسلم توضا ثلثا ثلثا ورأیتہ غسل مرۃ مرۃ ۳؎۔

اورحضرت ابو رافع رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے فرمایا میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے تین تین بار اعضائے وضو دھوئے اور یہ بھی دیکھا کہ سرکار نے ایک ایک بار دھویا۔(ت)

 (۳؎ معانی الآثار    کتاب الطہارۃ باب الوضو للصلوٰۃ مرۃ مرۃ     ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۱ /۲۸)

غالبا جب ایک ایک بار اعضائے کریمہ دھوئے تہائی مد پانی خرچ ہوا ، اور دودو بار میں دو تہائی ،اور تین تین بار دھونے میں پورا مد خرچ ہوتا تھا ۔

فان قلت لیس فی حدیث ام عمارۃ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہا انہ صلی اللّٰہ تعالی علیہ وسلم توضأ بثلثی مد انما فیہ اتی بماءفی اناء قدر ثلثی مد۔

اگریہ سوال ہوکہ حضرت اُمّ عمارہ رضی اللہ تعالٰی عنہاکی حدیث میں یہ نہیں ہے کہ حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے دو تہائی مد سے وضو کیا اس میں صرف اتنا ہے کہ حضورکے پاس ایک برتن حاضر لایاگیاجس میں دوتہائی مُد کی مقدارمیں پانی تھا۔

قلت لیس غرضہا منہ الا بیان قدر ماتوضأ بہ والاکان ذکر قدر الماء اوالاناء فضلا لاطائل تحتہ علی انہا لم تذکر طلبہ صلی اللّٰہ تعالی علیہ وسلم زیادۃ فافاد فحواہ انہ اجتزأ بہ ولعل ھذا ھو الباعث للعلامۃ الزرقانی اذ یقول فی شرح المواھب لابی داؤد عن امّ عمارۃ انہ صلی اللّٰہ تعالی علیہ وسلم توضأ بثلثی مد ۱؎ اھ والا فلفظ ابی داؤد ماقد سقتہ لک۔

قلت(تو میں جواب دوں گا)اس سے ان صحابیہ کامقصود یہی بتانا ہے کہ جتنے پانی سے حضورنے وضو فرمایا اس کی مقدار کیاتھی،اگریہ نہ ہو تو پانی کی مقدار یابرتن کا تذکرہ بے فائدہ و فضول ٹھہر ے گا۔علاوہ ازیں انہوں نے یہ ذکرنہ کیاکہ حضوراقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے مزید طلب فرمایا تو مضمون حدیث سے مستفادہو کہ اتنی ہی مقدارپرسرکارنے اکتفاء کی۔شاید یہی وجہ ہے کہ علامہ زُرقانی نے شرح مواہب میں فرمایا کہ اُمّ ِ عمارہ سے ابوداؤد کی روایت میں یہ ہے کہ حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے دوتہائی مُد سے وضو فرمایااھ-کیونکہ ابوداؤد کے الفاظ تو وہی ہیں جو میں نے پیش کئے(کہ سرکار نے وضو فرمانا چاہا توایک برتن حاضر لایا گیاجس میں دوتہائی مُد کے قدر پانی تھا)۔

 (۱؎ شرح الزرقانی علی المواھب اللدنیہ     المقصدالتاسع الفصل الاول    دارالمعرفۃبیروت ۷ /۲۵۱)

بالجملہ وضو میں کم سے کم تہائی عــہ مُد اور زیادہ سے زیادہ ایک مُد کی حدیثیں آئی ہیں اور حدیث ربیع بنت معوّذ بن عفراء رضی اللہ تعالٰی عنہا: وضأت رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ تعالی علیہ وسلم فی اناء نحو من ھذا الاناء وھی تشیر الی رکوۃ تاخذ مدا او مدا و ثلثارواہ سعید بن منصور فی سننہ وفی لفظ لبعضھم یکون مدا اومدا و ربعا ۱؎ واصل الحدیث عنہا فی السنن الاربعۃ۔

انہوں نے ایک برتن کی طرف جس میں ایک مُد یا ایک مُد اور تہائی مد پانی آتا،اشارہ کرتے ہوئے فرمایاکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کو اسی طرح کے ایک برتن سے وضو کرایا۔ یہ حدیث سعید بن منصورنے اپنی سنن میں روایت کی- اور بعض روایات میں یہ الفاظ ہیں کہ اس میں ایک مُد یا سوا مُد پانی ہوگا۔اورحضرت ربیع سے اصل حدیث سُنن اربعہ میں مروی ہے۔(ت)

عـــہ:ایک حدیث موقوف میں چہارم مد بھی آیاہے کماسیأتی۱۲منہ

 (۱؎ کنزالعمال بحوالہ ص حدیث ۲۶۸۳۷ و ۲۶۸۳۸    موسسۃالرسالہ بیروت     ۹ /۴۳۲ و ۴۳۳)

یعنی رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے اُس برتن سے وضو فرمایا جس میں ایک مُد یا سوا مُد، اور دوسری روایت میں ہے کہ ایک مد یا ایک مُد اور تہائی مُد پانی تھا، تو یہ مشکوک ہے اور شک سے زیادت ثابت نہیں ہوتی۔ ہاں صحیحین وسنن ابی داؤد ونسائی و طحاوی میں انس رضی اللہ تعالٰی عنہ کی ایک حدیث یوں ہے: کان رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم یتوضأ بمکوک ویغتسل بخمسۃ مکاکی ۲؎۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک مکوک سے وضو اور پانچ سے غسل فرماتے۔

 (۲؎ صحیح مسلم         کتاب الحیض باب القدرالمستحب من الماء فی غسل الجنابۃ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۱۴۹
سنن ابی داؤد     کتاب الطہارۃ باب مایجزئ من الماء     آفتاب عالم پریس لاہور    ۱ /۱۳
سنن النسائی کتاب الطہاۃباب القدرالذی یکتفی بہ الرجل من الماء للوضو نورمحمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ۱ /۲۴
 شرح معانی الآثار    کتاب الزکوۃ باب وزن الصاع کم ہو    ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۱ /۳۷۷)

مکّوک فــ میں کیلہ ہے اور کیلہ نصف صاع تو مکوک ڈیڑھ صاع ہوا کما فی الصحاح والقاموس وغیرھما فی اقاویل اخر اور ایک صاع کو بھی کہتے ہیں بعض علماء نے حدیث میں یہی مراد لی تو وضو کیلئے چار مُد ہوجائیں گے مگر راجح یہ ہے کہ یہاں مکّوک سے مُد مراد ہے جیسا کہ خود اُنھی کی دیگر روایات میں تصریح ہے والروایات تفسر بعضھا بعضا(اور روایات میں ایک کی تفسیردوسری سے ہوتی ہے ۔ت)۔

فـــ:فائدہ مکوک اورکیلہ کابیان

امام طحاوی نے فرمایا: احتمل ان یکون اراد بالمکوک المد لانھم کانوا یسمون المد مکوکا ۱؎۔

یہ احتمال ہے کہ انہوں نے مکّوک سے مُدمرادلیاہواس لئے کہ وہ حضرات مُد کو مکّوک کہاکرتے تھے(ت)

(۱؎ شرح معانی الآثار    کتاب الزکوۃباب وزن الصاع کم ہو    ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۱/ ۳۷۷)

نہایہ ابن اثیر جزری میں ہے: اراد بالمکّوک المد وقیل الصاع والاول اشبہ لانہ جاء فی حدیث اخر مفسرا بالمُد والمکوک اسم للمکیال ویختلف مقدارہ باختلاف اصطلاح الناس علیہ فی البلاد ۲؎۔

انہوں نے مکّوک سے مُد مرادلیا۔اورکہاگیاکہ صاع مراد لیا۔اور اول مناسب ہے اس لئے کہ دُوسری حدیث میں اس کی تفسیر''مُد''سے آئی ہے ۔ اور مکّوک ایک پیمانے کانام ہے۔اس کی مقدار مختلف بلاد میں لوگوں کے عرف کے لحاظ سے مختلف ہوتی ہے۔(ت)

(۲؎ النہایۃ فی غریب الحدیث والاثر     باب المیم مع الکاف تحت اللفظ مکلک دارالکتب العلمیہ بیروت    ۴ /۲۹۸)

رہا غسل، اُس میں کمی کی جانب یہ حدیث ہے کہ صحیح مسلم میں اُم المومنین صدیقہ رضی اللہ تعالٰی عنہا سے ہے: انھا کانت تغتسل ھی والنبی صلی اللّٰہ تعالی علیہ وسلم فی اناء واحد یسع ثلثۃ امداد اوقریبا من ذلک ۳؎۔

وہ اور رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ایک برتن میں کہ تین مُد یااس کے قریب کی گنجائش رکھتا نہالیتے۔

(۳؎ صحیح مسلم کتاب الزکوۃباب القدر المستحب من الماء فی غسل الجنابۃ     قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۱۴۸)

    اس کے ایک معنی یہ ہوتے ہیں کہ دونوں کا غسل اُسی تین مُد پانی سے ہوجاتا تو ایک غسل کو ڈیڑھ ہی مُد رہا مگر علماء نے اسے بعید جان کر تین توجیہیں فرمائیں:
اوّل یہ کہ یہ ہر ایک کے جُداگانہ غسل کا بیان ہے کہ حضور اُسی ایک برتن سے جو تین مُد کی قدر تھا غسل فرمالیتے اور اسی طرح میں بھی ،ذکرہ الامام القاضی عیاض(یہ توجیہ امام قاضی عیاض نے ذکرفرمائی ۔ت)

فان قلت : فعلی ھذا یضیع قولھا فی اناء واحد فانما قصدھا بہ افادۃ اجتماعہا معہ صلی اللّٰہ تعالی علیہ وسلم فی الغسل من اناء واحد کما افصحت بہ فی الروایۃ الاخری کنت اغتسل فــ انا ورسول اللّٰہ صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم من اناء واحد تختلف ایدینا فیہ من الجنابۃ رواہ الشیخان ۱؎؎ ،وفی اخری لمسلم من اناء بینی وبینہ واحد فیبادرنی حتی اقول دع لی ۲؎ ۔ وللنسائی من اناء واحد یبادرنی وابادرہ حتی یقول دعی لی وانا اقول دع لی ۳؎ ۔

اگر یہ سوال ہوکہ پھر توان کا''ایک برتن میں''کہنابے کار ہوجاتاہے کہ اس لفظ سے ان کا مقصد یہی بتاناہے کہ وہ حضورصلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے ساتھ ایک برتن سے غسل کرتی تھیں، جیساکہ دوسری روایت میں اسے صاف طورپربیان کیا ہے :میں اور رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ایک ہی برتن سے غسلِ جنابت کیا کرتے اس میں ہمارے ہاتھ باری باری آتے جاتے-اسے بخاری ومسلم نے روایت کیا۔اورمسلم کی ایک دوسری روایت میں ہے:ایک ہی برتن سے جو میرے اور ان کے درمیان ہوتا تو مجھ پر سبقت فرماتے یہاں کہ میں عرض کرتی میرے لیے بھی رہنے دیجئے اورنسائی کی روایت میں یہ ہے :ایک ہی برتن سے ،وہ مجھ سے سبقت فرماتے اور میں ان سے سبقت کرتی،یہاں تک کہ حضور فرماتے:میرے لئے بھی رہنے دو۔اور میں عرض کرتی:میرے لئے بھی رہنے دیجئے۔(ت)

فـــ:مسئلہ جائز ہے کہ زن وشوہردونوں ایک برتن سے ایک ساتھ غسل جنابت کریں اگرچہ باہم سترنہ ہو اور اس وقت متعلق ضرورت غسل بات بھی کرسکتے ہیں مثلا ایک سبقت کرے تودوسراکہے میرے لیے پانی رہنے دو۔

(۱؎صحیح البخاری     کتا ب الغسل،باب ھل یدخل یدہ فی الاناء... الخ    قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۴۰
صحیح مسلم         کتاب الحیض باب القدرالمستحب من الماء... الخ     قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۱۴۸
۲؎صحیح مسلم         کتاب الحیض،باب القدرالمستحب من الماء... الخ     قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۱۴۸
۳؎ سنن النسائی     کتاب الطہارۃ، باب الرخصۃ فی ذالک     نورمحمد کار خانہ تجارت کتب کراچی      ۱ /۴۷ )

قلت لایلزم ان لاترید بھذا اللفظ کلما تکلمت بہ الا ھذہ الافادۃ ،فقد ترید ھھنا ان ذلک الاناء الواحد کان یکفیہ اذا اغتسل ولا یطلب زیادۃ ماء وکذلک انا اذا اغتسلت۔

میں جواب دوں گا ضروری نہیں کہ جب بھی وہ یہ لفظ بولیں توانہیں یہی بتانامقصودہو،یہاں اُن کا مقصد یہ بتانا ہے کہ وہی ایک برتن جب حضورغسل فرماتے تو ان کے لئے کافی ہوجاتا اور مزیدپانی طلب نہ فرماتے اوریہی حال میرا ہوتاجب میں نہاتی۔

دوم یہاں مُد سے صاع مراد ہے۔

قالہ ایضا صرفا لہ الی وفاق حدیث الفرق الاتی فانہ ثلثۃ اٰصع واقرہ النووی۔

یہ توجیہ بھی امام قاضی عیاض ہی نے پیش کی تاکہ اس میں اور اگلی حدیث فرق میں مطابقت ہوجائے کیوں کہ فرق تین صاع کا ہوتا ہے ۔امام نووی نے بھی اس توجیہ کوبرقرار رکھا۔

اقول:یہ اس فــ کا محتاج ہے کہ مُد بمعنی صاع زبان عرب میں آتا ہو اور اس میں سخت تامل ہے،صحاح وصراح و مختار وقاموس وتاج العروس لغات عرب ومجمع البحار ونہایہ ومختصر سیوطی لغاتِ حدیث وطلبۃ الطلبہ ومصباح المنیر لغاتِ فقہ میں فقیر نے اس کا پتا نہ پایا اور بالفرض کہیں شاذونادر ورود ہو بھی تو اُس پر حمل تجوز بے قرینہ سے کچھ بہتر نہیں۔

فــ:تطفل علی القاضی عیاض والامام النووی ۔

اما جعل امیر المؤمنین عمر بن عبدالعزیز المد بثلثۃ امداد فحادث لایحمل علیہ کلام ام المؤمنین رضی اللّٰہ تعالٰی عنہما۔
لیکن یہ کہ امیر المؤمنین حضرت عمر بن عبدالعزیز رضی اللہ تعالٰی عنہ نے ایک مدتین مد کے برابر بنایاتویہ بعدکی بات ہے ،اس پر حضرت ام المومنین رضی اللہ تعالٰی عنہا کا کلام محمول نہیں ہوسکتا۔(ت)

سوم یہ کہ حدیث میں زیادہ کا انکار نہیں حضور وامّ المومنین معاً تین مُد سے نہائے ہوں اور جب پانی ختم ہوچکا اور زیادہ فرمالیا ہو،

ابداہ الامام النووی حیث قال یجوزا ن یکون وقع ھذا فی بعض الاحوال وزاداہ لما فرغ ۱؎۔

یہ توجیہ امام نووی نے پیش کی ان کے الفاظ یہ ہیں:ہوسکتاہے یہ ایک وقت(مثلاً غسل شروع کرتے وقت)ہو اہو اور جب پانی ختم ہوگیاتودونوں حضرات نے اور لے لیا ہو۔(ت)

(۱؎ شرح صحیح مسلم للنووی مع صحیح مسلم کتاب الحیض باب القدر المستحب من الماء     قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۱۴۸)

اقول:یہ بھی بعید فــ۱ہے کہ اس تقدیر پر ذکر مقدار عبث وبیکار ہوا جاتا ہے تو قریب تر وہی توجیہ اول ہے۔

فــ۱:تطفل آخرعلی الامام النووی ۔

وانا اقول :  لوحمل علی الاشتراک لم یمتنع فقد قدمنا روایۃ انہ صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم توضأ بنصف مُد وروی عن الامام محمد رحمہ اللّٰہ تعالی انہ قال ان المغتسل لایمکن ان یعم جسدہ باقل من مد ذکرہ العینی فی العمدۃ ۲؎ فافاد امکان تعمیم الجسد بمد فکان المجموع مدا ونصفا واللّٰہ تعالی اعلم۔

اورمیں کہتاہوں:اگر شرکت پرمحمول کرلیاجائے توبھی(اتنی مقدارسے دونوں حضرات کا غسل) محال نہیں،کیوں کہ یہ روایت ہم پیش کرچکے ہیں کہ حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے آدھے مُد سے وضو فرمایا۔اورامام محمد رحمہ اللہ تعالٰی سے مروی ہے کہ ایک مُد سے کم پانی ہو توغسل کرنے والاپُورے بدن پر نہیں پہنچا سکتا۔اسے علامہ عینی نے عمدۃ القاری میں ذکرکیا۔اس کلام سے مستفادہوا کہ ایک مُد ہو تو پورے بدن پر پہنچایا جاسکتاہے توکل ڈیڑھ مُد ہوا(آدھے سے وضو،باقی سے اورتمام بدن-اس طرح تین مُد سے دو کا غسل ممکن ہوا ۱۲ م) واللہ تعالٰی اعلم(ت)

(۲؎ عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری کتاب الوضوباب الوضوء بالمد تحت الحدیث ۶۴ /۲۰۱ دارالکتب العلمیہ بیروت ۳ /۱۴۱)

اور جانب زیادت میں اس قول کی تضعیف تو اوپر گزری کہ مکّوک سے صاع مراد ہے جس سے غسل کیلئے پانچ صاع ہوجائیں۔ہاں موطائے مالک وصحیح مسلم وسنن ابی داؤد میں امّ المؤمنین صدیقہ رضی اللہ تعالٰی عنہا سے ہے: ان رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ تعالی علیہ وسلم کان یغتسل من اناء واحد ھو الفرق من الجنابۃ ۱؎۔

رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ایک برتن سے غسل جنابت فرماتے تھے اور وہ فَرَق تھا۔

(۱؎ سنن ابی داؤد    کتاب الطہارۃ ،باب المقدا رالماء الذی یجزئ بہ الغسل     آفتاب عالم پریس لاہور ۱ /۳۱)

فرق فـــ میں اختلاف ہے ، اکثر تین(۳) صاع کہتے ہیں اوربعض دو(۲)صاع۔

فــ:تطفل علی الام القاضی عیاض ۔

ففی الحدیث عند مسلم قال سفٰین والفرق ثلثۃ اصع۲؎ وکذلک ھو نص الامام الطحاوی وقال النووی کذا قالہ الجماھیر۳؎ اھ قال العینی وقیل صاعان۴؎ وقال الامام نجم الدین النسفی فی طلبۃ الطلبۃ ھو اناء یاخذ ستۃ عشر رطلا ۶؎ اھ وھکذا فی نھایۃ ابن الاثیروصحاح الجوھری وکذا نقلہ فی الطلبۃ عن القتبی ونقل عن شرح الغریبین انہ اثنا عشر مدا ۶؎ اھ وقال ابو داؤد سمعت احمد بن حنبل یقول الفرق ستۃ عشر رطلا ۷؎

اس حدیث کے تحت امام مسلم کی روایت میں ہے کہ سفیان نے فرمایا فرق تین صاع ہوتاہے-یہی تصریح امام طحاوی نے فرمائی-اور امام نووی نے فرمایا یہی جمہور کا قول ہے اھ-علامہ عینی نے لکھا:اورکہاگیاکہ دوصاع اھ-امام نجم الدین نسفی نے طلبۃ الطلبہ میں لکھا:یہ ایک برتن ہے جس میں سولہ رطل آتے ہیں اھ-ایسے ہی نہایہ ابن اثیراورصحاع جوھری  میں ہے ،اور اسی طر ح اس کو طلبۃ الطلبہ میں قتبی سے نقل کیا ہے، اور شرح غریبین سے نقل کیا ہے کہ یہ بارہ مُد ہوتا ہے اھ-اور ابو داؤد نے کہا:میں نے امام احمد بن حنبل سے سُناکہ فرق سولہ رطل کاہوتاہے۔

(۲؎ صحیح مسلم کتاب الحیض باب القدر المستحب من الماء فی غسل الجنابۃ الخ قدیمی کتب خانہ کراچی     ۱ /۱۴۸
۳؎ شرح مسلم للنووی مع صحیح مسلم کتاب الحیض باب القدر المستحب من الماء الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۱۴۸
۴؎ عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری    کتاب الغسل،باب غسل الرجل مع امرأتہ تحت الحدیث۳ /۲۵۰      ۳ /۲۹۰
۵؎ طلبۃ الطلبۃ    کتاب الزکوٰۃ    دائرۃ المعارف الاسلامیۃ مکران بلوچستان    ص۱۹
۶؎ طلبۃ الطلبۃ    کتاب الزکوٰۃ    دائرۃ المعارف الاسلامیۃ مکران بلوچستان    ص۱۹
۷؎ سنن ابی داؤد    کتاب الطہارۃ،باب مقدارالماء الذی یجزئ بہ الغسل    آفتاب عالم پریس لاہور    ۱ /۳۱)

ونقل الحافظ فی الفتح عن ابی عبداللّٰہ الاتفاق علیہ وعلی انہ ثلثۃ اٰصع قال لعلہ یرید اتفاق اھل اللغۃ ۱؎ اھ

اورحافظ ابن حجر نے فتح الباری میں ابوعبد اللہ سے اس پر اور اس پر کہ وہ تین صاع ہوتا ہے اتفاق نقل کیا اور کہاشاید ان کی مراد یہ ہے کہ اہلِ لغت کا اتفاق ہے اھ۔

(۱؎ فتح الباری شرح صحیح البخاری    کتاب الغسل تحت الحدیث۲۵۰        دارالکتب العلمیہ    ۲ /۳۲۶)

اقول ویترا أی لی ان لاخلف فان ستۃ عشر رطلا صاعان بالعراق وثلثۃ اصوع بالحجاز۔

اقول:اورمیرا خیال ہے کہ ان اقوال میں کوئی اختلاف نہیں ا س لئے کہ سولہ رطل دوصاع عراقی اورتین صاع حجازی کے برابر ہوتاہے۔(ت)

امام نووی اس حدیث سے یہ جواب دیتے ہیں کہ پورے فَرَق سے تنہا حضورِ اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کا غسل فرمانا مراد نہیں کہ یہی حدیث صحیح بخاری میں یوں ہے: کنت اغتسل انا والنبی صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم من اناء واحد من قدح یقال لہ الفرق۲؎ ۔

میں اور رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ایک برتن سے نہاتے وہ ایک قدح تھا جسے فَرَق کہتے۔

(۲؎ صحیح البخاری    کتاب الغسل تحت الحدیث ۲۵۰        قدیمی کتب خانہ کراچی    ۱ /۳۹)

اقول:یہ لفظ فــ اجتماع میں نص نہیں،

فــ:تطفل ثالث علی الامام النووی ۔

کما قدمنا فلا ینبغی الجزم بان الافراد غیر مراد بل لقائل ان یقول مخرج الحدیث الزھری عن عروۃ عن عائشۃ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہا فروی عن الزھری مالک ومن طریقہ مسلم وابو داؤد باللفظ الاول۳؎

جیسا کہ ہم نے پہلے بیان کیا- تواس پرجزم نہیں کرناچاہئے کہ تنہاغسل فرمانا مراد نہیں-بلکہ کہنے والایہ بھی کہہ سکتاہے کہ اس حدیث کے راوی امام زہری ہیں جنہوں نے حضرت عروہ سے انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا سے روایت کی-پھرامام زہری سے امام مالک نے اور ان ہی کی سند سے امام مسلم اور ابو داؤد نے پہلے الفاظ میں روایت کی (کان یغتسل من اناء واحد ھو الفرق)،

(۳؎ مؤطا امام مالک    کتاب الطہارۃ،العمل فی غسل الجنابۃ    میر محمد کتب خانہ کراچی    ص۳۱
صحیح مسلم    کتاب الحیض،باب القدر المستحب من الماء فی غسل الجنابۃ     قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۱۴۸
سنن ابی داؤد    کتاب الطہارۃ،باب مقدار الماء الذی یجزئ بہ الغسل    آفتاب عالم پریس لاہور ۱ /۳۱)

وابن ابی ذئب عند البخاری والطحاوی باللفظ الثانی۱؎ تابعہ معمر و ابن جریج عند النسائی۲؎ وجعفر بن برقان عند الطحاوی۳؎ وروی عنہ اللیث عند النسائی وسفٰین بن عیینۃ عندہ وعند مسلم بلفظ کان رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ تعالی علیہ وسلم یغتسل فی القدح وھو الفرق وکنت اغتسل انا وھو فی الاناء الواحد ولفظ سفٰین من اناء واحد۴؎ فیشبہ ان تکون ام المؤمنین رضی اللّٰہ تعالٰی عنہا اتت بحدیثین اغتسالہ صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم من الفرق واغتسالھما من اناء واحد فاقتصر منھما مالک علی الحدیث الاول وجمع بینہما ابن ابی ذئب ومتابعوہ واتی بھما سفیان واللیث مفصلین واللّٰہ تعالی اعلم۔

اور امام بخاری وامام طحاوی کی روایت میں امام زہری سے ابن ابی ذئب نے بلفظ دوم روایت کی(کنت اغتسل اناوالنبی الخ) ابن ابی ذئب کی متابعت امام نسائی کی روایت میں معمراورابن جریج نے ،اورامام طحاوی کی ایک روایت میں جعفر بن برقان نے کی-اورنسائی کی تخریج پر امام زہری سے امام لیث نے اور نسائی ومسلم کی تخریج میں ان سے امام سفٰین بن عیینہ نے ان الفاظ سے روایت کی:رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ایک قدح میں غسل فرماتے اور وہ فرق ہے - اور میں اور حضور ایک برتن میں غسل کرتے-امام سفٰین کے الفاظ ہیں:''ایک برتن سے '' غسل کرتے-توایسا معلوم ہوتاہے کہ ام المؤمنین رضی اللہ تعالٰی عنہا نے دو حدیثیں روایت کیں ایک حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے فرق سے غسل فرمانے سے متعلق اور ایک دونوں حضرات کے ایک برتن سے غسل فرمانے سے متعلق-توامام مالک نے دونوں حدیثوں میں سے صرف پہلی حدیث ذکر کی۔اورابن ذئب اور ان کی متابعت کرنے والے حضرات (معمر،ابن جریج)نے دونوں حدیثوں کو ملادیا۔ اورسفیان و لیث نے دونوںکوالگ الگ بیان کیا-اورخدائے برتر ہی کو خوب علم ہے۔(ت)

(۱؎شرح معانی الآثار    کتاب الزکوٰۃ،باب وزن الصاع کم ھو    ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۱ /۳۷۶
۲؎ سنن النسائی    کتاب الطہارۃ،باب ذکر الدلالۃ علی انہ لا وقت فی ذلک    نور محمد کارخانہ کراچی    ۱ /۴۷
۳؎؎شرح معانی الآثار    کتاب الزکوٰۃ،باب وزن الصاع کم ھو    ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۱ /۳۷۶
۴؎صحیح مسلم    کتاب الحیض باب القدر المستحب من الماء فی غسل الجنابۃ قدیمی کتب خانہ کراچی    ۱ /۱۴۸)

امام طحطاوی فرماتے ہیں:حدیث میں صرف برتن کا ذکر ہے کہ اس ظرف سے بہاتے بھرا ہونا نہ ہونا مذکور نہیں۔
اقول: صرف فــ برتن کا ذکر قلیل الجدوی ہے اس سے ظاہر مفاد وہی مقدار آب کا ارشاد ہے خصوصاً حدیث لیث وسفیان میں لفظ فی سے تعبیر کہ ایک قدح میں غسل فرماتے : اذمن المعلوم ان لیس المراد الظرفیۃ (اس لئے کہ معلوم ہے کہ ظرفیت (قدح کے اندر غسل کرنا)مراد نہیں۔ت) اور حدیث مالک میں لفظ واحد کی زیادت اذ من المعلوم ان لیس المراد نفی الغسل من غیرہ قط (کیونکہ معلوم ہے کہ یہ مراد نہیں کہ اس کے علاوہ کسی برتن سے کبھی غسل نہ کیا ) بہرحال اس قدر ضرور ہے کہ حدیث اس معنی میں نص صریح نہیں زیادت کا صریح نص اُسی قدر ہے جو حدیث انس رضی اللہ تعالٰی عنہ میں گزرا کہ پانچ مُد سے غسل فرماتے اور پھر بھی اکثر و اشہر وہی وضو میں ایک مُد اور غسل میں ایک صاع ہے، اور احادیث کے ارشادات قولیہ تو خاص اسی طرف ہیں ۔

فـــ:تطفل ما علی الامام السید الاجل الطحاوی۔

امام احمدعــہ و ابوبکر بن ابی شیبہ و عبد بن حمید واثرم وحاکم وبیہقی جابر رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:

یجزئ من الغسل الصاع ومن الوضوء المد ۱؎۔

غسل میں ایک صاع اور وضو میں ایک مُد کفایت کرتاہے۔

 (۱؎ المستدرک للحاکم    کتاب الطہارۃ،مایجزئ من الماء للوضوء...الخ    دارالفکر بیروت    ۱ /۱۶۱
السنن الکبری    کتاب الطہارۃ،باب استحباب ان لا ینقص فی الوضوء... دار صادر بیروت    ۱ /۱۹۵
مسند احمد بن حنبل    عن جابر رضی اللہ تعالٰی عنہ        المکتب الاسلامی بیروت    ۳/ ۳۷۰
المصنف لابن ابی شیبہ    کتاب الطہارات،باب فی الجنب کم یکفیہ...الخ حدیث۷۰۸ دار الکتب العلمیہ بیروت ۱ /۶۶)

عـــہ:زعم شیخ الوھابیۃ الشوکانی ان الحدیث اخرجہ ایضا ابو داؤد وابن ماجۃ بنحوہ اقول کذب فــ۱ علی ابی داؤد و اخطأ فــ۲ علی ابن ماجۃ فان ابا داؤد لم یخرجہ اصلا انما عندہ عن جابر کان النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم یغتسل بالصاع و یتوضأ بالمد۳؎ و ابن ماجہ لم یخرجہ عن جابر بن عبد اللّہ بل عن عبد اللّہ بن محمد بن عقیل بن ابی طالب رضی اللّہ عنہم اھ منہ۔

عـــہ  : پیشوائے وہابیہ شوکانی کا زعم ہے کہ اس حدیث کو ابوداؤد نے بھی روایت کیا اور اس کے ہم معنی ابن ماجہ نے بھی اقول:اس نے ابوداؤد کی طرف تو جھوٹا انتساب کیا اور ابن ماجہ کی طرف نسبت میں خطا کی-اس لئے کہ ابوداؤد نے سرے سے اسے روایت ہی نہ کیا اس کی روایت حضرت جابر سے یہ ہے کہ نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ایک صاع سے غسل فرماتے اور ایک سے وضو فرماتے اور ابن ماجہ نے یہ حدیث حضرت جابر بن عبداللہ سے روایت نہ کی بلکہ عبداللہ بن محمد بن عقیل بن ابوطالب سے روایت کی رضی اللہ تعالٰی عنہم۔

فــ۱:رد علی الشوکانی۔
فــ۲:رد اخر علیہ۔

(۳؎سنن ابی داؤد    کتاب الطہارۃ،باب ما یجزئ من الماء فی الوضوء    آفتاب عالم پریس لاہور        ۱ /۱۳)

ابنِ ماجہ سُنن میں حضرت عقیل بن ابی طالب رضی اللہ تعالٰی عنہ سے راوی، رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں: یجزئ من الوضوء مد و من الغسل صاع ۲؎۔

وضو میں ایک مُد، غسل میں ایک صاع کافی ہے۔

 (۲؎ سنن ابن ماجہ    ابواب الطہارات،باب ماجاء فی مقدار الماء...الخ    ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۲۴)

طبرانی معجم اوسط میں عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما سے راوی، رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں: فذکر مثل حدیث عقیل غیرانہ قال فی مکان من فی الموضعین ۳؎۔

اس کے بعدحدیث عقیل ہی کے مثل ذکر کیافرق یہ ہے کہ دونوں جگہ''من'' کے بجائے ''فی'' کہا۔(ت)

 (۱؎ المعجم الاوسط    حدیث ۷۵۵۱    مکتبۃ المعارف ریاض        ۸ /۲۷۳)

امام احمدعــہ انس رضی اللہ تعالٰی عنہ سے راوی،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:

یکفی احدکم مدمن الوضوء ۲؎۔

تم میں سے ایک شخص کے وضو کوایک مُد بہت ہے۔

 (۲؎ مسند احمدبن حنبل عن انس رضی اللہ عنہ         المکتب الاسلامی بیروت    ۳/ ۲۶۴)

عــہ وعزاہ الامام الجلیل فی الجامع الصغیرلجامع الترمذی بلفظ یجزئ فی الوضوء رطلان من ماء ۴؎قال المناوی واسنادہ ضعیف ۵؎اھ لکن العبدالضعیف لم یرہ فی ابواب الطھارۃ من الجامع فاللّٰہ تعالی اعلم اھ منہ غفرلہ (م)

یہ حدیث امام جلال الدین سیوطی نے جامع ترمذی کے حوالے سے ان الفاظ سے جامع صغیرمیں ذکرکی ہے: وضو میں دو رطل پانی کافی ہے۔ علامہ مناوی نے کہا اس کی سند ضعیف ہے اھ۔ لیکن میں نے جامع ترمذی کے ابواب الطہارۃ میں یہ حدیث نہ پائی، فاللہ تعالٰی اعلم ۱۲منہ(ت)

(۴؎الجامع الصغیربحوالہ ت    حدیث۹۹۹۷    دارلکتب العلمیہ بیروت     ۲ /۵۸۹
۵؎التیسیر شرح الجامع ا لصغیر    تحت الحدیث یجزئ فی الوضوالخ     مکتبۃ الامام الشافعی ریاض     ۲ /۵۰۷)

ابو نعیم معرفۃ الصحابہ میں ام سعد بنت زید بن ثابت انصاری رضی اللہ تعالٰی عنہماسے راوی،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں : الوضوء مدوالغسل صاع ۳؎۔ وضو ایک مُد اور غسل ایک صاع ہے۔

(۳؎تلخیص الحبیرفی تخریج احادیث الرافعی الکبیر    کتاب الطہارۃ حدیث ۱۹۴باب الغسل دارالکتب العلمیہ بیروت     ۱ /۳۸۶)

اقول اب یہاں چند امر تنقیح طلب ہیں:

    امر اوّل  : صاع اور مُد باعتبار وزن مراد ہیں یعنی دو اور آٹھ رطل وزن کا پانی ہوکہ رامپور کے سیر سے وضو میں تین پاؤ اور غسل میں تین سیر پانی ہوا اور امام ابو یوسف وائمہ ثلثہ کے طور پر وضو میں آدھ سیر اور غسل میں دو سیر اور جانب کمی وضو میں پونے تین چھٹانک سے بھی کم اور غسل میں ڈیڑھ ہی سیر یا بااعتبار کیل وپیمانہ یعنی اتنا پانی کہ ناج کے پیمانہ مد یاصاع کوبھردے ظاہرہے کہ پانی ناج سے بھاری ہے توپیمانہ بھرپانی اس پیمانے کے رطلوں سے وزن میں زائد ہوگا کلمات فـــ ائمہ میں معنی دوم کی تصریح ہے اور اسی طرف بعض روایات احادیث ناظر۔

فـــ:تطفل علی العلامۃعلی قاری ۔

امام عینی عمدۃ القاری شرح صحیح بخاری میں فرماتے ہیں: باب الغسل بالصاع ای بالماء قدرملء الصاع ۱؎۔

باب الغسل بالصاع یعنی اتنے پانی سے غسل جس سے صاع بھر جائے۔(ت)

 (۱؎ عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری     کتاب الغسل باب الغسل بالصاع    دارالکتب العلمیہ بیروت ۳ /۲۹۱)

امام ابن حجر عسقلانی فتح الباری شرح صحیح بخاری میں فرماتے ہیںـ: المراد من الروایتین ان الاغتسال وقع بملء الصاع من الماء ۲؎۔

دونوں روایتوں سے مراد یہ ہے کہ غسل پانی کی اتنی مقدار سے ہوا جس سے صاع بھر جائے (ت)

 (۲؎ فتح الباری،شرح صحیح البخاری کتاب الغسل باب الغسل بالصاع تحت الحدیث ۲۵۱دارالکتب العلمیہ بیروت     ۲ /۳۲۷)

امام احمد قسطلانی ارشاد الساری شرح صحیح بخاری میں فرماتے ہیں: ای بالماء الذی ھو قدر ملء الصاع ۳؎۔

یعنی اتنے پانی سے غسل جو صاع بھرنے کے بقدرہو۔(ت)

 (۳؎ارشادالساری شرح صحیح البخاری کتاب الغسل باب الغسل بالصاع تحت الحدیث ۲۵۱دارالکتب العلمیہ بیروت ۱ /۴۹۰)

نیز عمدۃ القاری میں حدیث طحاوی مجاہد سے بایں الفاظ ذکر کی: قال دخلنا علی عائشۃ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہا فاستسقی بعضنا فاتی بعس قالت عائشۃ کان النبی صلی اللّٰہ تعالی علیہ وسلم یغتسل بملء ھذا قال مجاھد فحررتہ فیما احزر ثمانیۃ ارطال تسعۃ ارطال عشرۃ ارطال قال واخرجہ النسائی حزرتہ ثمانیۃ ارطال ۱؎من دون شک ۔

مجاہد نے کہاہم حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کے یہاں گئے تو ہم میں سے کسی نے پانی مانگا۔ایک بڑے برتن میں لایا گیا۔حضرت عائشہ نے فرمایا: نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم اس برتن بھر پانی سے غسل فرماتے تھے۔امام مجاہد نے کہا: میں نے اندازہ کیاتووہ برتن آٹھ رطل،یانورطل،یا دس رطل کاتھا۔امام عینی نے کہا:یہ حدیث امام نسائی نے روایت کی تو اس میں یہ ہے کہ میں نے اسے آٹھ رطل کا اندازہ کیا۔یعنی اس روایت میں بغیر شک کے ہے(ت)

 (۱؎ عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری     کتاب الغسل باب الغسل بالصاع    دارالکتب العلمیہ بیروت ۳ /۲۹۲)

اقول : ظاہر ہے فـــ کہ پیمانے ناج کیلئے ہوتے ہیں پانی مکیل نہیں کہ اُس کیلئے کوئی مُدو صاع جُدا موضوع ہوں

فـــ:تطفل آخرعلیہ ۔

بل نص علماؤنا انہ قیمی فاذن لاھو مکیل ولا موزون۔  (بلکہ ہمارے علماء نے تو تصریح کی ہے کہ پانی قیمت والی چیزوں میں ہے جب تووہ نہ مکیل ہے نہ موزون۔ت)
تواندازہ نہ بتایاگیامگر انہیں مُدو صاع سے جو ناج کیلئے تھے اور کسی برتن سے پانی کا اندازہ بتایا جائے تو اُس سے یہی مفہوم ہوگا کہ اس بھر پانی نہ یہ کہ اس برتن میں جتنا ناج آئے اس کے وزن کے برابر پانی۔ وھذا ظاھر جدا فاندفع ماوقع للعلامۃ علی القاری فی المرقاۃ شرح المشکوۃ حیث قال تحت حدیث انس کان صلی اللّٰہ تعالی علیہ وسلم یتوضأ بالمد ویغتسل بالصاع المراد بالمد والصاع وزنالا کیلا ۲؎ اھ فھذا قیلہ من قبلہ لم یستند فیہ لدلیل ولا قیل لاحد قبلہ واسمعناک نصوص العلماء والحجۃ الزھراء۔

اور یہ بہت واضح ہے تو وہ خیال دفع ہوگیا جو علامہ علی قاری سے مرقاۃ شرح مشکوٰۃ میں واقع ہواکہ انہوں نے حضرت انس کی حدیث'' حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ایک مُد سے وضو فرماتے اور ایک صاع سے غسل فرماتے '' کے تحت لکھاکہ مُد اور صاع سے مراد اتنے وزن بھر پانی ہے اتنے ناپ بھر نہیں اھ۔یہ ضعیف قول خو دان کا ہے جس پر نہ تو انہوں نے کسی دلیل سے استناد کیانہ اپنے پہلے کے کسی شخص کے قول سے استناد کیا۔اورعلماء کے نصوص اور روشن دلیل ہم  پیش کرچکے۔

(۲؎ مرقاۃ المفاتیح شرح مشکوٰۃ مشکوۃ المصابیح     تحت حدیث ۴۳۹    المکتبۃ الحبیبیۃ کوئٹہ     ۲/ ۱۴۳)

    فان قلت الیس قدقال انس رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ کان رسول اللّٰہ تعالی علیہ وسلم یتوضأ برطلین ویغتسل بالصاع ۱؎ رواہ الامام الطحاوی والرطل من الوزن۔

اگر سوال ہو کہ کیا حضرت انس رضی اللہ تعالٰی عنہ نے یہ نہیں فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم دورطل سے وضو فرماتے اورایک صاع سے غسل فرماتے۔ اسے امام طحاوی نے روایت کیا۔ اوررطل ایک وزن ہے۔

 (۱؎عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری     کتاب الغسل باب الغسل بالصاع     دارالکتب العلمیۃ بیروت ۳ /۲۹۲)

    قلت المراد بالرطلین ھوالمدبدلیل حدیثہ المذکور سابقاوالاحادیث یفسر بعضہا بعضا بل قد اخرج الامام الطحاوی عنہ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ قال کان رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ تعالی علیہ وسلم یتوضأ بالمد وھو رطلان ۱؎ فاتضح المراد وبھذا استدل ائمتنا علی ان الصاع ثمانیۃ ارطال ولذا قال الامام الطحاوی بعداخراجہ الحدیث الذی تمسکت بہ فی السؤال فھذا انس قد اخبر ان مد رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم رطلان والصاع اربعۃ امداد فاذا ثبت ان المدرطلان ثبت ان الصاع ثمانیۃ ارطال ۲؎ اھ فقد جعل معنی قولہ توضأ برطلین توضأ بالمد وھو رطلان کما افصح بہ فی الروایۃ الاخری علی ان الرطل مکیال ایضا کما نص علیہ فی المصباح المنیر ۳؎واللّٰہ تعالی اعلم۔

    میں کہوں گادو رطل سے وہی مُد مراد ہے، جس پردلیل خود اُن ہی کی حدیث ہے جو پہلے ذکرہوئی۔ اور احادیث میں ایک کی تفسیر دوسری سے ہوتی ہے بلکہ امام طحاوی نے حضرت انس رضی اللہ تعالٰی عنہ سے یہ روایت بھی کی ہے کہ انہوں نے فرمایا رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ایک مُد سے وضو فرماتے اور وہ دورطل ہے۔ تو مراد واضح ہوگئی۔اور اسی سے ہمارے ائمہ نے صاع کے آٹھ رطل ہونے پراستدلال کیا ہے اور اسی لئے امام طحاوی نے سوال میں تمہاری پیش کردہ حدیث روایت کرنے کے بعدفرمایا:یہ حضرت انس ہیں جنہوں نے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کا مُد دورطل تھااورصاع چار مُد کا ہوتا ہے توجب یہ ثابت ہوگیاکہ مُد دو رطل ہے تویہ بھی ثابت ہوا کہ صاع آٹھ رطل ہے اھ۔تو امام طحاوی نے ''توضأ برطلین''(دورطل سے وضو فرمایا) کا معنی یہ ٹھہرایا کہ توضأ بالمُدوھو رطلان (ایک مُد سے وضو فرمایا اور وہ دورطل ہے)جیسا کہ دوسری روایت میں اسے صاف بتایا۔علاوہ ازیں رطل ایک پیمانہ بھی ہے جیساکہ مصباح منیر میں اس کی صراحت کی ہے۔ واللہ تعالٰی اعلم۔(ت)

(۱؎ شرح معانی الآثار        کتاب الزکوۃ باب وزن الصاع کم ھو    ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ /۳۷۷
۲؎ شرح معانی الآثار        کتاب الزکوۃ باب وزن الصاع کم ھو    ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ /۳۷۷
۳؎المصباح المنیر    کتاب الراء تحت لفظ ''رطل ''    منشورات دارالھجرہ قم ایران     ۱ /۲۳۰)

امر دوم : غسل میں کہ ایک صاع بھر پانی ہے اُس سے مراد مع اُس وضو کے ہے جو غسل میں کیا جاتا ہے یا وضو سے جدا امام اجل طحاوی رحمہ اللہ تعالی نے معنی دوم پر تنصیص فرمائی اور وہ اکثر احادیث میں ایک صاع اور حدیث انس میں پانچ مُد ہے اُس میں یہ تطبیق دی کہ ایک مُد وضو کا اور ایک صاع بقیہ غسل کا،یوں غسل میں پانچ مُد ہوئے، حدیث انس رضی اللہ تعالٰی عنہ یغتسل بخمس مکاکی روایت کرکے فرماتے ہیں:

یکون الذی کان یتؤضا بہ مدا ویکون الذی یغتسل بہ خمسۃ مکاکی یغتسل باربعۃ منھا وھی اربعۃ امداد وھی صاع ویتوضأ باخرو ھو مدفجمع فی ھذا الحدیث ماکان یتوضأ بہ للجنابۃ وما کان یغتسل بہ ۱؎ لھا وافرد فی حدیث عتبۃ (یعنی الذی فیہ الوضوء بمدوالغسل بصاع) ماکان یغتسل بہ لھا خاصۃ دون ماکان یتوضأ بہ ۲؎ اھ

جتنے پانی سے وضوفرماتے وہ ایک مُد ہوگااورجتنے سے غسل فرماتے وہ پانچ مکّوک ہوگا۔ چار مکّوک۔وہی چار مُد اور چار مُد ایک صاع۔ سے غسل فرماتے۔ اور باقی ایک مکّوک ۔ایک مُد سے وضوفرماتے۔تو اس حدیث میں جتنے سے جنابت کا غسل ووضو فرماتے دونوں کو جمع کردیا۔ اور حدیثِ عتبہ میں(یعنی جس میں یہ ہے کہ ایک مُد سے وضو اور ایک صاع سے غسل ) صرف اُس کو بیان کیا جس سے غسل فرماتے، اُس کوذکرنہ کیاجس سے وضو فرماتے اھ۔

(۱؎ شرح معانی الآثار،    کتاب الزکوۃ باب وزن الصاع کم ھو    ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۱ /۳۷۷
۲؎ شرح معانی الآثار،    کتاب الزکوۃ باب وزن الصاع کم ھو    ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۱ /۳۷۷)

    اقول : لکن حدیثہ یغتسل بالصاع الی خمسۃ امداد لیس فی التوزیع فی التنویع کما لایخفی ای ان الغسل نفسہ کان تارۃ باربعۃ وتارۃ بخمسۃ سواء ارید بہ اسألۃ الماء علی سائر البدن وحدھا اومع الوضوء۔

    اقول : لیکن حضرت انس کی یہ حدیث کہ حضورایک صاع سے پانچ مُدتک پانی سے غسل فرماتے،بیان تقسیم میں نہیں بلکہ بیان تنویع میں ہے جیسا کہ پوشیدہ نہیں۔ یعنی خود غسل ہی کبھی چارمُد سے ہوتااورکبھی پانچ مُد سے ہوتاخواہ اس سے صرف پورے بدن پر پانی بہانا مرادلیں یا اس کے ساتھ وضو بھی ملا لیں۔(ت)

امر سوم  : یہ صاع فـــ کس ناج کا تھاظاہرہے کہ ناج ہلکے بھاری ہیں جس پیمانے میں تین سیر جو آئیں گے گیہوں تین سیر سے زیادہ آئیں گے اور ماش اور بھی زائد، ابو شجاع ثلجی نے صدقہ فطر میں ماش یا مسور کا پیمانہ لیا کہ ان کے دانے یکساں ہوتے ہیں تو اُن کا کیل و وزن برابر ہوگا بخلاف گندم یا جو کہ اُن میں بعض کے دانے ہلکے بعض کے بھاری ہوتے ہیں تو دو قسم کے گیہوں اگرچہ ایک ہی پیمانے سے لیں وزن میں مختلف ہوسکتے ہیں اور اسی طرح جو۔ دُرِّمختار میں اسی پر اقتصار کیا اور امام صدرالشریعۃ نے شرح وقایہ میں فرمایا کہ احوط کھرے گیہوں کا صاع ہے۔

فـــ:مسئلہ زیادہ احتیاط یہ ہے کہ صدقہ فطر وفدیہ روزہ ونماز وکفارہ  قسم وغیرہ میں نیم صاع گیہوں جوکے پیمانے سے دئیے جائیں یعنی جس برتن میں ایک سو چوالیس روپے بھر جوٹھیک ہموارسطح سے آجائیں کہ نہ اونچے رہیں نہ نیچے اس برتن بھرکرگیہووں کوایک صدقہ سمجھاجائے ہم نے تجربہ کیاپیمانہ نیم صاع جومیں بریلی کے سیرسے کہ سوروپیہ بھرکاہے اٹھنی بھراوپرپونے دوسیرگیہوں آتے ہیں فی کس اتنے دئیے جائیں ۔

اور علامہ شامی نے ردالمحتار میں جو کا صاع احوط بتایا اور حاشیہ زیلعی للسید محمد امین میر غنی سے نقل کیا: ان الذی علیہ مشائخنابالحرم الشریف المکی ومن قبلھم من مشائخھم وبہ کانوا یفتون تقدیرہ بثمانیۃ ارطال من الشعیر ۱؎۔

یعنی حرمِ مکہّ میں ہمارے مشائخ اور ان سے پہلے ان کے مشائخ اس پر ہیں کہ آٹھ رطل جَو سے صاع کا اندازہ کیا جائے اور اکابر اسی پر فتوٰی دیتے تھے۔(ت)

(۱؎ ردالمحتار،        کتاب الزکوۃ باب صدقۃ الفطر     داراحیاء التراث العربی بیروت     ۲ /۷۷ )

    اقول ظاہر ہے کہ صاع اُس ناج کا تھا جو اُس زمان برکت نشان میں عام طعام تھا اور معلوم ہے کہ وہاں عام طعام جو تھا گیہوں کی کثرت زمانہ امیر معاویہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے ہوئی۔

حدیث ابو سعید خدری رضی اللہ تعالٰی عنہ میں ہے: لما کثرالطعام فی زمن معٰویۃ جعلوہ مدین من حنطۃ ۲؎۔

جب حضرت معاویہ کے زمانے میں طعام کی فراوانی ہوئی تواسے گیہوں کے دو مُدٹھہرائے (ت)

(۲؎ شرح معانی الآثار،        کتاب الزکوۃ باب مقدار صدقۃ الفطر    ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ /۳۷۲)

شرح صحیح مسلم امام نووی میں ہے: الطعام فی عرف اھل الحجاز اسم للحنطۃ خاصۃ ۱؎۔

طعام اہلِ حجاز کے عرف میں صرف گیہوں کانام ہے۔(ت)

(۱؎ شرح صحیح مسلم للنووی  کتاب الزکوۃ  باب الامر باخراج زکوۃ الفطر الخ تحت حدیث ۲۲۵۳    دارالفکربیروت ۴ /۲۷۳۲ )

صحیح ابن خزیمہ میں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے ہے : قال لم تکن الصدقۃ علی عھد رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم الا التمرو الزیب والشعیر ولم تکن الحنطۃ ۲؎۔

فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے زمانے میں صدقہ کھجور، خشک انگور او رجَو سے دیا جاتااور گیہوں نہ ہوتا۔

(۲؎ صحیح ابن خزیمہ،    باب الدلیل علی ان الامر الخ    حدیث ۲۴۰۶    المکتب الاسلامی بیروت ۴ /۸۵)

صحیح بخاری شریف میں ابو سعید خدری رضی اللہ تعالٰی عنہ سے ہے  : کان طعامنا یومئذ الشعیر الخ ۳؎

ہمارا طعام اس وقت جَو تھا۔(ت)

(۳؎ صحیح البخاری    کتاب الزکوۃ باب الصدقۃ قبل العید     قدیمی کتب خانہ کراچی    ۲ /۲۰۴و۲۰۵)

اور اس سے قطع نظر بھی ہوتو شک نہیں کہ مُد وصاع کا اطلاق مُد وصاع شعیر کو بھی شامل، تو اُس پر عمل ضرور اتباع حدیث کی حد میں داخل۔ فقیر نے ۲۷ ماہ مبارک رمضان ۲۷؁ کو نیم صاع شعیری کا تجربہ کیا جو ٹھیک چار طل جَو کا پیمانہ تھااُس میں گیہوں برابر ہموار مسطح بھر کر تولے تو ثمن رطل کو پانچ رطل آئے یعنی ایک سو چوالیس۱۴۴ روپے بھر جَوکی جگہ ایک سو پچھتر۱۷۵روپے آٹھ آنے بھر گیہوں کہ بریلی کے سیر سے اٹھنی بھر اوپر پَونے دو سیر ہوئے، یہ محفوظ رکھنا چاہئے کہ صدقہ فطر وکفارات وفدیہ صوم وصلاۃ میں اسی اندازہ سے گیہوں اداکرنا احوط وانفع للفقراء ہے اگرچہ اصل مذہب پر بریلی کی تول سے چھ۶ روپے بھر کم ڈیڑھ سیر گیہوں ہیں۔ پھر اُسی پیمانے میں پانی بھر کر وزن کیا تو دو سو چودہ ۲۱۴ روپے بھر ایک دوانی کم آیا کہ کچھ کم چھ رطل ہوا تو تنہا وضوفـــ۱ کا پانی رامپوری سیر سے تقریباً آدھ پاؤ سیر ہوا اور باقی غسل کا قریب ساڑھے چار سیر کے، اور مجموع غسل کا چھٹانک اوپر ساڑھے پانسیر سے کچھ زیادہ۔

فــ۱:مسئلہ تنہاوضوکامسنون پانی رامپوری سیرسے کہ چھیانوے روپے بھرکاہے تقریباآدھ پاؤ اوپر سیر بھر ہے اورباقی غسل کاساڑھے چارسیر کے قریب ،مجموع غسل کاچھٹانک اوپرساڑھے پانسیر سے کچھ زیادہ۔

    یہ بحمد اللہ تعالٰی قریب قیاس ہے بخلاف اس کے اگر تنقیحات مذکورہ نہ مانی جائیں تو مجموع غسل کا پانی صرف تین سیر رہتا ہے اور امام ابو یوسف کے طور پر دوہی سیر، اُسی میں وضو اُسی میں غسل اور ہر عضو پر تین تین بار پانی کا بہنا یہ سخت دشوار بلکہ بہت دُور ازکار ہے۔

    فائدہ :  فــ۱ اُن پانیوں کے بیان میں جو اس حساب سے جُدا ہیں:

فــ۱:مسئلہ ان پانیوں کابیان جواس حساب کے علاوہ ہیں ۔

    (۱) آبِ استنجاء ہمارے فـــ۲ علما نے وضو کی تقسیم یوں فرمائی ہے کہ آدمی موزوں پر مسح کرے اور استنجے کی حاجت نہ ہوتونیم مُدپانی کا فی ہے اور موزے اور استنجا دونوں ہوں یا دونوں نہ ہوں تو ایک مُد، اور موزے نہ ہوں اور استنجا کرنا ہو تو ڈیڑھ مُد۔

فــ۲:مسئلہ حالات وضوپرمسنون پانی کے اختلافات اوریہ کہ استنجے کے لئے چھٹانک آدھ سیرپانی چاہئے۔

حلیہ میں ہے: روی الحسن عن ابی حنیفۃ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ فی الوضوء ان کان متخففا ولا یستنجی کفاہ رطل لغسل الوجہ والیدین ومسح الرأس والخفین وان کان یستنجی کفاہ رطلان رطل للاستنجاء ورطل للباقی وان لم یکن متخففا ویستنجی کفاہ ثلثۃ ارطال رطل للاستنجاء ورطل للقدمین ورطل للباقی ۱؎۔

امام حسن بن زیادنے امام ابو حنیفہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے وضو بارے میں روایت کی ہے کہ اگر موزے پہنے ہیں اوراستنجا نہیں کرنا ہے توچہرہ اور دونوں ہاتھوں کے دھونے اور سر اور موزوں کے مسح کے لئے ایک رطل کافی ہے۔اوراگر استنجابھی کرنا ہے تو دو رطل۔ایک رطل استنجا کے لئے اورایک رطل باقی کے لئے اوراگر موزے نہیں ہیں اوراستنجاکرنا ہے توتین رطل کفایت کریں گے،ایک رطل استنجا کے لئے ایک رطل دونوں پاؤں کے لئے، اورایک رطل باقی کے لئے۔(ت)

(۱؎ حلیۃالمحلی شرح منیۃ المصلی )

    (۲) ظاہر ہے کہ اگر بدن پر کوئی نجاست حقیقیہ ہو جیسے حاجتِ غسل میں ران وغیرہ پر منی تو اس کی تطہیر کاپانی اس حساب میں نہیں اور یہیں سے ظاہر کہ بعد جماع اگر کپڑا نہ ملے تو پانی کہ اب استنجے کو درکار ہوگا معمول سے بہت زائد ہوگا۔

    (۳)پیش از  استنجا   تین (فــ۱)بار دونوں کلائیوں تک دھونا مطلقاً سنّت ہے اگرچہ سوتے سے نہ جاگا ہو یہ اُس سنّت سے جُداہے کہ وضو کی ابتدا میں تین تین بار ہاتھ دھوئے جاتے ہیں سنّت یوں ہے کہ تین بار ہاتھ دھو کر استنجا کرے پھر آغاز وضو میں باردیگر تین بار دھوئے پھر منہ فـــ۲ دھونے کے بعد جوہاتھ کہنیوں تک دھوئے گااُس میں ناخن دست سے کہنیوں کے اوپر تک دھوئے تو دونوں کفدست تین مرتبہ دھوئے جائیں گے ہر مرتبہ تین تین بار۔اخیر کے دونوں داخل حساب وضو ہیں اور اوّل خارج، ہاں اگر استنجا کرنا نہ ہوتو دو ہی مرتبہ تین تین بار دھونا رہے گا۔

فـــ۱:مسئلہ:استنجے سے پہلے تین بار دونو ں ہاتھ کلائیوں تک دھونا سنت ہے اگرچہ سوتے سے نہ اٹھاہو ہاں سوتے سے اٹھا اور بدن پر کوئی نجاست تھی توزیادہ تاکید یہاں تک کہ سنت مؤکدہ ہے۔

فـــ۲:مسئلہ وضو کی ابتداء میں جو دونوں ہاتھ کلائیوں تک تین تین بار دھوئے جاتے ہیں سنت یہ ہے کہ منہ دھونے کے بعد جوہاتھ دھوئے اس میں پھر دونوں کفدست کو شامل کرلے سر ناخن سے کہنیوں کے اوپر تک تین بار دھوئے۔

درمختار میں ہے: (سنتہ البداءۃ بغسل الیدین) الطاھرتین ثلثا قبل الاستنجاء وبعدہ وقیدالاستیقاظ اتفاقی (الی الرسغین وھو) سنۃ (ینوب عن الفرض) ویسن غسلہماایضامع الذارعین ۱؎ اھ ملتقطا۔

    وضو کی سنت گٹوں تک دونوں پاک ہاتھوں کے دھونے سے ابتدا کرنا۔ تین بار استنجا سے پہلے اور اس کے بعدبھی۔ اور نیند سے اٹھنے کی قید،اتفاقی ہے اور یہ ایسی سنت ہے جو فرض کی نیابت کردیتی ہے۔اور کلائیوں کے ساتھ بھی ہاتھوں کو دھونامسنون ہے اھ ملتقطا(ت)

(۱؎ الدرالمختار    کتاب الطہارۃ     مطبع مجتبائی دہلی    ۱ /۲۰و۲۱)

ردالمحتار میں ہے: خص المصنف بالمستیقظ تبرکابلفظ الحدیث والسنۃ تشمل المستیقظ وغیرہ وعلیہ الاکثرون اھ وفی النھر الاصح الذی علیہ الاکثر انہ سنۃ مطلقالکنہ عند توھم فــ النجاسۃ سنۃ مؤکدۃ کما اذا نام لاعن استنجاء اوکان علی بدنہ نجاسۃ وغیر مؤکدۃعند عدم توھمھا کما اذا نام لاعن شیئ من ذلک اولم یکن مستیقظاعن نوم اھ ونحوہ فی البحر ۱؎اھ۔

مصنّف نے نیندسے اٹھنے والے کے ساتھ لفظ حدیث سے برکت حاصل کرنے کے لئے کلام خاص کیا۔اورسنت نیند سے اٹھنے والے کے لئے بھی اور اس کے علاوہ کے لئے بھی ہے۔ اسی پر اکثر حضرات ہیں اھ۔النہرالفائق میں ہے:اصح جس پر اکثرہیں،یہ ہے کہ وہ مطلقاسنت ہے لیکن نجاست کا احتمال ہونے کی صورت میں سنتِ مؤکدہ ہے مثلاً بغیراستنجاکے سویاہو،یاسوتے وقت اس کے بدن پرکوئی نجاست رہی ہو۔اور نجاست کا احتمال نہ ہونے کی صورت میں سنّتِ غیر مؤکدہ ہےمثلاً ان میں سے کسی چیز کے بغیر سویا ہویانیند سے اٹھنے کی حالت نہ ہو۔اھ۔اسی کے ہم معنی بحر میں بھی ہے اھ

(۱؎ ردالمحتار    کتاب الطہارۃ     داراحیاء التراث العربی بیروت    ۱/ ۷۵)

فـــــ:مسئلہ بدن پر کوئی نجاست ہومثلاتر خارش ہے یازخم یاپھوڑا یا پیشاب کے بعد بے استنجاسورہا کہ پسینہ آکر تری پہنچنے کااحتمال ہے جب تو گٹوں تک ہاتھ پہلے دھونا سنت مؤکدہ ہے اگرچہ سویانہ ہو جب کہ ہاتھ کااس نجاست پر پہنچنا محتمل ہو اور اگر بدن پر نجاست نہیں تو ان کا دھونا سنت ہے مگر مؤکدہ نہیں اگرچہ سو کر اٹھاہو یوں ہی اگر نجاست ہے اوراس پر ہاتھ نہ پہنچنا معلوم ہے یعنی جاگ رہاہے اوریادہے کہ ہاتھ وہاں تک نہ پہنچے تواس صورت میں بھی سنت مؤکدہ نہیں ہاں سنت مطلقا ہے۔

اقول  : و وجہہ ان النجاسۃ اذا کانت متحققۃ کمن نام غیرمستنج واصابۃ الید فی النوم غیر معلومۃ کانت النجاسۃ متوھمۃ امااذا لم تکن نفسھامتحققۃ فالتنجس بالاصابۃ توھم علی توھم فلا یورث تاکدالاستنان ۔

اقول : اس کی وجہ یہ ہے کہ نجاست جب متحقق ہے۔جیسے اس کے لئے جوبغیراستنجاکے سویاہو۔ اورنیند میں نجاست پر ہاتھ کاپہنچنا معلوم نہیں ہے توہاتھ میں نجاست لگنے کا صرف احتمال ہے لیکن جب خودنجاست ہی متحقق نہیں تو ہاتھ میں نجاست لگنے کااحتمال دراحتمال ہے اس لئے اس سے مسنونیت مؤکد نہ ہوگی۔

فان قلت  :   الیس  ان النوم مظنۃ الانتشاروالانتشارمظنۃ الامذاء والغالب کالمتحقق فالنوم مطلقا محل التوھم۔

اگریہ سوال ہوکہ کیا ایسانہیں کہ نیند انتشارآلہ کا مظنّہ ہے، اور انتشارمذی نکلنے کامظنّہ ہے۔ اور گمان غالب متحقق کاحکم رکھتا ہے تونیندمطلقاً احتمال نجاست کی جگہ ہے۔

قلت :  بَیَّنَّا فی رسالتنا الاحکام والعلل ان الانتشار لیس مظنۃ الامذاء بمعنی المفضی الیہ غالبا وقد نص علیہ فی الحلیۃ

میں کہوں گا ہم نے اپنے رسالہ ''الاحکام والعلل'' میں بیان کیا ہے کہ انتشار مذی نکلنے کا مظنہ اس معنی میں نہیں کہ یہ اکثر خروجِ مذی تک موصل ہوتاہے۔ حلیہ میں اس کی تصریح موجود ہے۔

فان قلت انما علق فی الحدیث الحکم علی مطلق النوم وعللہ صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم بقولہ فانمالایدری این باتت یدہ۱؎ والنوم لاعن استنجاء ان اریدبہ نفیہ مطلقا فمثلہ بعیدعن ذوی النظافۃ فضلاعن الصحابۃ رضی اللّٰہ تعالٰی عنھم وھم المخاطبون اولا بقولہ صلی اللّٰہ تعالٰی اذااستیقظ احدکم من نومہ۱؎ وان ارید خصوص الاستنجاء بالماء فالصحیح المعتمدان الاستنجاء بالحجر مطھراذا لم تتجاوزالنجاسۃ المخرج اکثرمن قدرالدرھم کمابینتہ فیماعلقتہ علی ردالمحتارفلا یظھر فرق بین الاستنجاء بالماء وترکہ فی ایراث التوھم وعدمہ۔

    پھر اگر یہ سوال ہو کہ حدیث میں اس حکم کو مطلق نیندسے متعلق فرمایا ہے اور حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے اس ارشاد سے اس کی علّت بیان فرمائی ہے کہ''وہ نہیں جانتاکہ رات کو اس کا ہاتھ کہاں رہا''۔اگریہ کہئے کہ لوگ بغیر استنجا کے سوتے تھے اس لئے یہ ارشاد ہوا تواس سے اگر یہ مراد ہے کہ مطلقاً استنجا ہی نہ کرتے تھے توایساتوہر صاحبِ نظافت سے بعید ہے صحابہ کرام رضی اللہ تعالٰی عنہم سے تو اور زیادہ بعید ہے اور وہی حضرات اولین مخاطب ہیں حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے اس ارشاد کے کہ ''جب تم میں سے کوئی نیند سے اٹھے۔اور اگر یہ مراد ہے کہ پانی سے استنجا نہ کرتے تھے تو صحیح معتمد یہ ہے کہ پتھر کے ذریعہ استنجا سے بھی طہارت ہوجاتی ہے جب کہ نجاست قدر درہم سے زیادہ مخرج سے تجاوزنہ کرے، جیسا کہ ردالمحتارپرمیں نے اپنے حواشی میں بیان کیا ہے تواحتمالِ نجاست پیدا کرنے اور نہ کرنے میں پانی سے استنجا کرنے اور نہ کرنے کے درمیان کوئی فرق ظاہر نہیں۔

(۱؎سنن الترمذی     ابواب الطہارۃ باب ماجاء اذااستیقظ الخ    حدیث ۲۴         دارالفکر بیروت ۱ /۱۰۰)
(سنن ابن ماجہ     ابواب الطہارۃ باب الرجل یستیقظ من منامہ     ایچ ایم سعید کمپنی کراچی     ص۳۲)
(۱؎سنن الترمذی     ابواب الطہارۃ باب ماجاء اذااستیقظ الخ    حدیث ۲۴         دارالفکر بیروت ۱ /۱۰۰)

قلت  : الحدیث لافادۃ الاستنان اماتاکدہ عند تحقق النجاسۃ فی البدن فبالفحوی ۔

قلت(میں کہوں گا)حدیث مسنونیت بتانے کے لئے ہے اوربدن میں نجاست متحقق ہونے کے وقت اس سنّت کامؤکدہونا مضمونِ کلام سے معلوم ہوا۔

فان قلت  ھذا البحرقائلا فی البحراعلم ان الابتداء بغسل الیدین واجب اذاکانت النجاسۃ محققۃ فیھما وسنۃ عند ابتداء الوضوء وسنۃ مؤکدۃ عند توھم النجاسۃ کمااذا استیقظ من النوم ۲؎ اھ فھذانص فی کون کل نوم موجب تاکداالاستنان۔

اگرسوال ہوکہ محقق صاحبِ بحر، البحرالرائق میں یہ لکھتے کہ:واضح ہوکہ دونوں ہاتھ دھونے سے ابتدأ واجب ہے جب ہاتھوں میں نجاست ثابت ہواور ابتدائے وضوکے وقت سنّت ہے،اور احتمالِ نجاست کے وقت سنّتِ مؤکدہ ہے جیسے نیند سے اٹھنے کے وقت اھ۔تو یہ عبارت اس بارے میں نص ہے کہ ہر نیند اس عمل کے سنّتِ مؤکدہ ہونے کاسبب ہے۔

(۲؎ البحرالرائق    کتاب الطہارۃ     ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۱ /۱۷و۱۸)

    قلت   : نعم فــ ارسل ھناماابان تقییدہ بعداسطراذیقول علم بماقررناہ ان مافی شرح المجمع من ان السنۃ فی غسل الیدین للمستیقظ مقیدۃ بان یکون نام غیرمستنج اوکان علی بدنہ نجاسۃ حتی لولم یکن کذلک لایسن فی حقہ ضعیف او المراد نفی السنۃ المؤکدۃ لااصلہا ۱؎ اھ لاجرم ان قال فی الحلیۃ ھو مع الاستیقاظ اذاتوھم النجاسۃ اکد ۲؎ اھ فلم یجعل کل نوم محل توھم۔

میں کہوں گاہاں یہاں پرانہوں نے مطلق رکھا مگر چند سطروں کے بعد اس کی قید واضح کردی ہے،آگے وہ فرماتے ہیں:ہماری تقریرسابق سے معلوم ہواکہ شرح مجمع میں جولکھا ہے کہ''نیند سے اٹھنے والے کے لئے دونوں ہاتھ دھونے کامسنون ہونا اس قید سے مقید ہے کہ بغیر استنجاسویا ہویاسوتے وقت اس کے بدن پر کوئی نجاست رہی ہویہاں تک کہ اگر یہ حالت نہ ہو تو اس کے حق میں سنّت نہیں ہے''۔(شرح مجمع کایہ قول)ضعیف ہے۔یااس سے مرادیہ ہوکہ سنّتِ مؤکدہ نہیں ہے،یہ نہیں کہ سرے سے سنّت ہی نہیں اھ۔یہی وجہ ہے کہ حلیہ میں کہا:نیندسے اٹھنے کے وقت جب احتمالِ نجاست ہوتو یہ زیادہ مؤکد ہے اھ۔توانہوں نے ہرنیند کو محلِ احتمال نہ ٹھہرایا۔

ف:تطفل علی البحر۔

(۱؎ البحرالرائق    کتاب الطہارۃ     ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۱ / ۱۸)
(۲؎ حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی )

    اقول   : وھو معنی قول الفتح قیل سنۃ مطلقاللمستیقظ وغیرہ وھوالاولی نعم مع الاستیقاظ وتوھم النجاسۃ السنۃ اٰکد ۳؎ اھ فارادبالواوالاجتماع لترتّب الحکم لامجرد التشریک فی ترتبہ وان کان کلامہ مطلقافی المستیقظ وغیرہ والتوھم غیرمختص بالمستیقظ علی ان السنن الغیرالمؤکدۃ بعضھااٰکد من بعض فافھم۔

    اقول یہی فتح القدیر کی اس عبارت کابھی معنی ہے کہ :کہاگیانیند سے اٹھنے والے اور اس کے علاوہ کے لئے یہ مطلقاسنت ہے اور یہی قول اولٰی ہے، ہاں نیند سے اٹھنے اورنجاست کا احتمال ہونے کی صورت میں سنّت زیادہ مؤکد ہے اھ۔واؤ(اور) سے ان کی مراد یہ ہے کہ نیند سے اٹھنااور نجاست کااحتمال ہونادونوں باتیں جمع ہوں توسنت مؤکدہ ہے یہ مراد نہیں کہ نیند سے اٹھے جب بھی سنّتِ مؤکدہ اور احتمالِ نجاست ہوجب بھی سُنّتِ مؤکدہ اگرچہ ان کا کلام نیند سے اٹھنے والے اور اس کے علاوہ کے حق میں مطلق ہے اور احتمال نجاست ہونا نیند سے اٹھنے والے ہی کے لئے خاص نہیں۔ علاوہ ازیں سُننِ غیر مؤکدہ میں بعض سنّتیں بعض دیگر کی بہ نسبت زیادہ مؤکدہوتی ہیں۔تو اسے سمجھو۔

(۳؎ فتح القدیر    کتاب الطہارات     مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر        ۱ /۱۹)

(۴) اقول اگرچہ فـــ مسواک ہمارے نزدیک سنّتِ وضوہے خلافاللامام الشافعی رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ فعندہ سنۃ الصلاۃ کمافی البحر وغیرہ (بخلاف امام شافعی رضی اللہ تعالی عنہ کے کہ ان کے نزدیک سنّت نمازہے جیسا کہ بحر وغیرہ میں ہے۔ ت) ولہٰذا جو ایک وضو سے چند نمازیں پڑھے ہر نماز کیلئے مسواک کرنا مطلوب نہیں جب تک منہ میں کسی وجہ سے تغیر نہ آگیا ہو کہ اب اس دفع تغیر کیلئے مستقل سنّت ہوگی،ہاں وضوبے مسواک کرلیا ہو تو اب پیش از نماز کرلے کما فی الدروغیرہ (جیساکہ در وغیرہ میں ہے۔ت) مگر اُس کے وقت فــ۲ میں ہمارے یہاں اختلاف ہے بدائع وغیرہ معتمدات میں قبل وضو فرمایااور مبسوط وغیرہ معتبرات میں وقت مضمضہ یعنی وضو میں کُلّی کرتے وقت ۔

فـــ: مسئلہ مسواک ہمارے نزدیک نماز کے لئے سنت نہیں بلکہ وضو کے لئے ،تو جو ایک وضو سے چند نمازیں پڑھے ہر نماز کے لئے اس سے مسواک کامطالبہ نہیں جب تک منہ میں کوئی تغیر نہ آگیا ہو ہاں اگروضو بے مسواک کر لیاتھا تو اب وقت نماز مسواک کر لے ۔
فـــ۲:مسواک کے وقت میں ہمارے علماء کو اختلاف ہے کہ قبل وضو ہے یا وضو میں کلی کرتے وقت اوراس بارہ میں مصنف کی تحقیق ۔

حلیہ میں ہے : وقت استعمالہ علی مافی روضۃ الناطفی والبدائع ونقلہ الزاھدی عن کفایۃ البیھقی والوسیلۃ والشفاء قبل الوضوء وربما یشھدلہ مافی صحیح مسلم عن ابن عباس رضی اللّٰہ تعالٰی عنہما عن رسول اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم انہ تسوک وتوضأعــہ ثم قام فصلی وفی سنن ابی داؤد عن عائشۃ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہاان النبی صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم کان لا یرقد من لیل ولا نھارفیستیقظ الا تسوک قبل ان یتوضأ وفی المحیط وتحفۃ الفقھاء وزادالفقہاء ومبسوط شیخ الاسلام محلۃ المضمضۃ تکمیلا للانقاء واخرج الطبرانی عن ایوب قال کان رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ تعالی علیہ وسلم اذاتوضأ استنشق ثلثاوتمضمض وادخل اصبعہ فی فمہ وھذا ربمایدل علی ان وقت الاستیاک حالۃ المضمضۃ فان الاستیاک بالاصبع بدل عن الاستیاک بالسواک والاصل کون الاشتغال بالبدل وقت الاشتغال بالاصل ۱؎ اھ مختصرا۔

    مسواک کے استعمال کاوقت قبل وضو ہے۔ایسا ہی ر وضۃ الناطفی اور بدائع میں ہے اور زاہدی نے اسے کفایۃ البیہقی، وسیلہ اورشفا سے نقل کیاہے۔اوراس پرکچھ شہادت صحیح مسلم کی اس حدیث سے ملتی ہے جو حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے روایت فرمائی کہ سرکار نے مسواک کی اور وضو کیا پھر اٹھ کرنماز اداکی۔اورسنن ابو داؤد میں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالٰی عنہاسے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم دن یا رات میں جب بھی سوکربیدار ہوتے تو وضوکرنے سے پہلے مسواک کرتے۔ اورمحیط،تحفۃ الفقہا، زادالفقہا اور مبسوط شیخ الاسلام میں ہے کہ مسواک کاوقت کُلّی کرنے کی حالت میں ہے تاکہ صفائی مکمل ہو جائے ۔ اورطبرانی نے حضرت''ایوب''سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم جب وضو فرماتے توتین بار ناک میں پانی لے جاتے اور کُلی کرتے اورانگلی منہ میں داخل کرتے۔اس حدیث سے کچھ دلالت ہوتی ہے کہ مسواک کاوقت کُلی کرنے کی حالت میں ہے اس لئے کہ انگلی استعمال کرنامسواک استعمال کرنے کابدل ہے اورقاعدہ یہ ہے کہ بدل میں مشغولی اسی وقت ہو جس وقت اصل میں مشغولیت ہوتی اھ مختصراً۔

عــہ  : ھکذاھو فی نسختی الحلیۃ بالواو والذی فی صحیح مسلم رجع فتسوک فتوضأ ثم قام فصلی ۱؎ ولعلہ اظھردلالۃ علی المراد اھ

میرے نسخہ حلیہ میں اسی طرح وتوضّأ(اور وضوکیا) واؤ کے ساتھ ہے۔ اورصحیح مسلم میں یہ ہے  : رجع فتسوک فتوضأثم قام فصلی (لوٹ کرمسواک کی پھروضوکیاپھر اٹھ کرنمازادا کی) اورشاید دلالت مقصودمیں یہ زیادہ ظاہر ہے اھ۔ت)

(۱؎صحیح مسلم         کتاب الطہارۃ     باب السواک     قدیمی کتب خانہ کراچی    ۱/ ۱۲۸)
(۱؎ حلیۃالمحلی شرح منیۃ المصلی )

    اقول ھکذافی نسختی الحلیۃ عن ایوب فان کان عن ابی ایوب رضی اللّٰہ تعالی عنہ واسقط الناسخ والا فمرسل والظاھرالاول فان للطبرانی حدیثاعن ابی ایوب الانصاری رضی اللّٰہ تعالی عنہ فی صفۃ الوضوء لکن لفظہ کمافی نصب الرایۃ کان رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ تعالی علیہ وسلم اذاتوضأ تمضمض واستنشق وادخل اصابعہ من تحت لحیتہ فخللھا ۲؎ اھ فاللّٰہ تعالی اعلم وعلی کل فـــ یخلو عن ابعاد النجعۃ فقداخرج الامام احمد فی مسندہ عن امیر المؤمنین علی کرم اللّٰہ تعالی وجہہ انہ دعا بکوز من ماء فغسل وجہہ وکفیہ ثلثا وتمضمض ثلثا فادخل بعض اصابعہ فی فیہ وقال فی اخرہ ھکذاکان وضوء نبی ۱؎ اللّٰہ صلی اللّٰہ تعالی علیہ وسلم ونحوہ عندعبدبن حمیدعن ابی مطرعن علی رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ۔

    اقول میرے نسخہ حلیہ میں''عن ایوب'' (ایوب سے ) ہے۔اگریہ اصل میں عن ابی ایوب رضی اللہ تعالٰی عنہ ہے اور کاتب سے''ابی'' چھوٹ گیاہے جب تومسندہے ورنہ مرسل ہے اور ظاہراول ہے۔اس لئے کہ طبرانی کی ایک حدیث حضرت ابوایوب انصاری رضی اللہ تعالٰی عنہ سے طریقہ وضو کے بارے میں آئی ہے۔لیکن ا س کے الفاظ نصب الرایہ کے مطابق۔ یہ ہیں: رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم جب وضو فرماتے تو کُلّی کرتے اورناک میں پانی ڈالتے اور اپنی انگلیاں داڑھی کے نیچے سے ڈال کرریش مبارک کا خلال کرتے اھ۔توخدائے برترہی کو خوب علم ہے۔ بہر حال اس حدیث سے استناد تلاش مقصود میں قریب چھوڑکردُور جانے کے مرادف ہے اس لئے کہ امام احمد نے مسند میں امیر المومنین حضرت علی کرّم اللہ تعالٰی وجہہ سے روایت فرمائی ہے کہ انہوں نے ایک کُوزہ میں پانی منگا کر چہرے اورہتھیلیوں کوتین بار دھویااور تین بار کلی کی تو اپنی ایک انگلی منہ میں لے گئے۔اوراس کے آخر میں یہ فرمایا:اسی طرح خداکے نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کا وضوتھا۔اوراسی کے ہم معنی عبد بن حمید کی حدیث ہے جو ابو مطر کے واسطہ سے حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی ہے۔

فـــ : تطفل علی الحلیۃ

(۲؎ نصب الرایۃ فی تخریج احادیث ھدایہ     کتاب الطہارات اماحدیث ابی ایوب    نوریہ رضویہ پبلشنگ کمپنی لاہور ۱ /۵۵)
(۱؎ مسند احمد بن حنبل      عن علی رضی اللہ تعالی عنہ     المکتب الاسلامی بیروت     ۱ /۱۵۱)

    ثم اقول : لیس نَصّاً فی کونہ بدلاعن السواک فقد تدخل الاصبع فی الفم لاستخراج النخاع مثلا واشارالیہ المحقق بقولہ ربمایدل ۲؎۔

     ثم اقول یہ بھی اس بارے میں صریح نہیں کہ منہ میں انگلی ڈالنامسواک کے بدلہ میں تھا، کیونکہ منہ میں انگلی کھنکاروغیرہ نکالنے کے لئے بھی ڈالی جاتی ہے۔اسی بات کی طرف محقق حلبی نے اپنے لفظ ربما یدل(کچھ دلالت ہوتی ہے) سے اشارہ فرمایاہے۔

 (۲؎حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی )

    علی انی اقول معلوم فــ ضرورۃً شدۃ حبہ صلی اللّٰہ تعالی علیہ وسلم للسواک وانما فعل ھذا مرۃ بیاناللجواز فلیکن کونہ عند المضمضۃ ایضا لذالک ای من لم یستک سہوامثلا ولا سواک عندہ الان فلیستک بالاصابع حین المضمضۃ وبھذا تضعف الدلالۃ جدا۔

    علاوہ ازیں میں کہتاہوں قطعی وضروری طورپرمعلوم ہے کہ حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کومسواک کرنا بہت محبوب تھااورصرف بیانِ جواز کے لئے ایک بار ایساکیا۔توچاہئے کہ اس عمل کا وقتِ مضمضہ ہونابھی اسی غرض سے ہویعنی جس نے مثلاً بھول کر مسواک نہیں کی او ربروقت اس کے پاس مسواک موجود نہیں تووہ وقتِ مـضمضہ انگلیوں سے صفائی کرلے۔اوراس سے (مسواک کامقررہ وقت حالت مضمضہ ہونے پر )حدیث کی دلالت بہت ضعیف ہوتی ہے ۔

فـــ:تطفل آخر علیہا۔

نعم روی ابو عبید فی کتاب الطھور عن امیر المؤمنین عثمٰن رضی اللّٰہ تعالی عنہ انہ کان اذا توضأ یسوک فاہ باصبعہ ۱؎ لکنی اقول معترک عظیم فی دلالۃ کان یفعل علی الاستمرار بل علی التکرار و لی فیھا رسالۃ سمیتھا ''التاج المکلل فی انارۃ مدلول کان یفعل''فان اخترنا ان لا،لم یدل علی الاستنان اونعم فما کان عثمٰن لیواظب علی ترک السواک فی محلہ مع انھم ھم الائمۃ الاعلام العاضون بنواجذھم علی سنن سید الانام علیہ وعلیھم الصلاۃ والسلام، فاذن ینقدح فی الذھن واللّٰہ اعلم ان السنۃ السواک قبل الوضوء وان یعالج باصبعہ عند المضمضۃ لکن لااجترئ علی القول بہ لانی لم اجد احدا من علمائنا مال الیہ۔

ہاں ابوعبید نے کتاب الطہور میں امیر المومنین حضرت عثمان رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی ہے کہ'' کان اذاتو ضأ یسوک فاہ باصبعہ'' ( وہ جب وضو کرتے تھے توانگلی سے منہ(بطورِ مسواک) صاف کرلیا کرتے تھے-لیکن میں کہتا ہوں اس میں سخت معرکہ آرائی ہے کہ کان یفعل (کیاکرتے تھے) کی دلالت استمر اربلکہ تکرار پر ہوتی ہے یا نہیں؟،اس کے بارے میں میرا ایک رسالہ بھی ہے جس کا نام ہے ''التاج المکلل فی انارۃ مدلول کان یفعل'' ( کان یفعل کے مدلول کی توضیح میں آراستہ تاج)-اگر ہم یہ اختیارکریں کہ یہ لفظ استمرار و دوام پردلالت نہیں کرتا تومسنون ہونے پر اس کی دلالت ثابت نہ ہوگی۔ اور اگر یہ اختیار کریں کہ استمرار پردلالت کرتاہے تو حضرت عثمان کی یہ شان نہیں ہوسکتی کہ اصل مقام  پرمسواک ترک کرنے پروہ مداومت فرماتے رہے ہوں۔جب کہ یہی حضرات تو وہ بزرگ پیشوا و ائمہ ہیں جو سیّدانام علیہ وعلیہم الصلوٰۃ والسلام کی سنّتوں کو دانت سے پکڑنے رہنے والے ہیں۔ اب ذہن میں یہ خیال آتاہے کہ سنت یہ ہے کہ وضو سے پہلے مسواک کرے اورکُلّی کرتے وقت انگلی سے صفائی کرے لیکن میں اسے کہنے کی جسارت نہیں کرتا کیونکہ اپنے علما میں سے کسی کو میں نے اس طرف مائل نہ پایا۔

(۱؎ کتاب الطہور،باب المضمضۃ والاستنشاق یستعان علیھا بالاصابہ،حدیث۲۹۸    دارالکتب العلمیہ بیروت ص۱۱۶)

فان قلت ماحداک علی التقیید بقولک ''ولا سواک عندہ الان''مع ان ابن عدی والدار قطنی والبیھقی والضیاء فی المختارۃ رووا عن انس بسند قال الضیاء لااری بہ باسا ۱؎ اھ وقد ضعفہ ابن عدی والبیہقی وقال البخاری فــ فی روایۃ عن انس عبد الحکم القسملی منکر الحدیث ۲؎ وقال فی التقریب ضعیف ۳؎ انہ قال قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ تعالی علیہ وسلم یجزئ من السواک الاصابع ورواہ البیھقی بطریق اخر وقال غیر محفوظ و نحوہ للطبرانی وابن عدی وابی نعیم عن ام المؤمنین الصدیقۃ رضی اللّٰہ تعالی عنہا۔

اگر سوال ہو آپ نے یہ قیدکیوں لگائی کہ ''اوربروقت اس کے پاس مسواک موجودنہیں''۔ حالانکہ سرکار کی یہ حدیث موجود ہے کہ''انگلیاں مسواک کی جگہ کافی ہیں''۔ اسے ابن عدی، دارقطنی ، بیہقی نے اورضیاء مقدسی نے مختارہ میں حضرت انس سے روایت کیا،اس کی سند سے متعلق ضیاء نے کہا کہ میں اس میں کوئی حرج نہیں سمجھتا اھ۔ابن عدی اور بیہقی نے اسے ضعیف کہا۔اور امام بخاری نے اس حدیث کے حضرت انس سے روایت کرنے والے شخص عبدالحکم قسملی کو منکر الحدیث کہا۔اورتقریب میں اسے ضعیف کہا ۔ اور بیہقی نے ایک اور سند سے اس کو روایت کیا اور اسے غیرمحفوظ کہا۔اوراس کے ہم معنی طبرانی،ابن عدی اورابونعیم نے حضرت ام المومنین صدیقہ رضی اللہ تعالٰی عنہاسے روایت کی ہے۔

فــ:تضعیف عبد الحکم القسملی۔

(۱؎ المختارۃ فی الحدیث للضیاء)
(۲؎ میزان الاعتدال    ترجمہ عبد الحکم بن عبد اللہ القسملی۴۷۵۴        دارالمعرفۃ بیروت    ۲ /۵۳۶)
(السنن الکبری(للبیہقی)    کتاب الطہارۃ،باب الاستیاک بالاصابع    دار صادر بیروت    ۱ /۴۰)
(۳؎ تقریب التہذیب        حرف العین    ترجمہ ۳۷۶۱    دارالکتب العلمیہ بیروت۱ /۵۳۳)
(۴؎ السنن الکبری(للبیہقی)    کتاب الطہارۃ،باب الاستیاک بالاصابع    دار صادر بیروت    ۱ /۴۰)
(الکامل لابن عدی    ترجمہ عبد الحکم بن عبداللہ القسملی            دارالفکر بیروت    ۵ /۱۹۷۱)
(کنزالعمال بحوالہ الضیاء    حدیث ۲۷۱۸۸        مؤسسۃ الرسالہ بیروت    ۹ /۳۱۵)

قلت : روی ابو نعیم فی کتاب السواک عن عمرو بن عوف المزنی رضی اللّٰہ تعالی عنہ قال قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ تعالی علیہ وسلم الاصابع تجزئ مجزی السواک اذا لم یکن سواک۱؎ وقداطبق فــ علماؤنا علی ھذا التقیید قال فی الحلیۃ لایقوم الاصبع مقام السواک عند وجودہ فان لم یوجد یقم مقامہ ذکرہ فی الکافی وغیرہ یعنی ینال ثوابہ کما ذکرہ فی الخلاصہ ۲؎ اھ وفی الغنیۃ لاتقوم الاصبع مقام العود عند وجودہ وتجویز بعض الشافعیۃ اصبع الغیر دون اصبع نفسہ تحکم بلا دلیل اھ ۳؎

میں کہوں گا ابونعیم نے کتاب السواک میں حضرت عمر وبن عوف مزنی رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا: انگلیاں مسواک کی جگہ کافی ہوں گی جب مسواک نہ ہو۔ اور اس تقیید پر ہمارے علماء کا اتفاق ہے۔ حلیہ میں ہے کہ: مسواک موجود ہے توانگلی اس کے قائم مقام نہیں ہو سکتی، اور موجود نہیں ہے تواس کے قائم مقام ہوجائے گی۔اسے کافی وغیرہ میں ذکرکیاہے۔ مراد یہ ہے کہ مسواک کا ثواب مل جائے گا جیسا کہ خلاصہ میں ذکرکیا ہے اھ۔ اورغنیہ میں ہے کہ لکڑی موجود ہے توانگلی اس کے قائم مقام نہ ہوسکے گی۔اور بعض شافعیہ کایہ کہنا کہ دوسرے کی انگلی بھی اپنی انگلی کی جگہ رواہے بلادلیل اور زبردستی کاحکم ہے اھ۔

فــ:مسئلہ مسواک موجود ہوتو انگلی سے دانت مانجنا ادائے سنت و حصول ثواب کے لئے کافی نہیں۔ہاں مسواک نہ ہو تو انگلی یا کھر کھرا کپڑا ادائے سنت کردے گا اور عورتوں کے لئے مسواک موجود ہو جب بھی مسّی کافی ہے۔

(۱؎ کنزالعمال بحوالہ ابو نعیم     فی کتاب السواک،حدیث ۲۶۱۶۸    مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۹ /۳۱۱)
(۲؎ حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی)
(۳؎ غنیۃ المستملی شرح منیۃ المصلی    ومن الآداب ان یستاک    سہیل اکیڈمی لاہور        ص۳۳)

وفی الہندیۃ عن المحیط والظھیریۃ لاتقوم الاصبع مقام الخشبۃ فان لم توجد فحینئذ تقوم الاصبع من یمینہ مقام الخشبۃ ۱؎ اھ وفی الدر عند فقدہ اوفقد اسنانہ تقوم الخرقۃ الخشنۃ اوالاصبع مقامہ کما یقوم العلک مقامہ للمراۃ مع القدرۃ علیہ ۲؎ اھ وھو ماخوذ من البحر و زاد فیہ تقوم فی تحصیل الثواب لاعند وجودہ ۳؎ اھ

ہندیہ میں محیط اور ظہیریہ سے نقل ہے کہ انگلی، لکڑی کے قائم مقام نہیں ہوسکتی۔اگرمسواک موجودنہیں ہے تو داہنے ہاتھ کی انگلی اس کے قائم مقام ہوجائے گی۔اھ۔درمختارمیں ہے : مسواک نہ ہویا دانت نہ ہوں توکُھردرا کپڑا یا انگلی مسواک کے قائم مقام ہوجائے گی۔ جیسے عورت کو مسواک کی قدرت ہو جب بھی مسّی اس کے قائم مقام ہوجائے گی اھ۔ یہ کلام ، بحر سے ماخوذ ہے اور بحر میں مزیدیہ بھی ہے کہ انگلی تحصیلِ ثواب میں مسواک کے قائم مقام ہوجائے گی اور مسواک موجود ہوتونہیں اھ۔(ت)

(۱؎ الفتاوی الہندیۃ،    کتاب الطہارۃ،سنن الوضوء،الفصل الثانی    نورانی کتب خانہ پشاور    ۱ /۷)
(۲؎ الدرالمختار     کتاب الطہارۃ،سنن الوضوء         مطبع مجتبائی دہلی        ۱ /۲۱)
(۳؎ بحرالرائق     کتاب الطہارۃ،سنن الوضوء        ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۱ /۲۱)

امام زیلعی نے قول اول اختیار فرمایا کما سیاتی نقلہ (جیساکہ اسکی نقل آئیگی۔ت) اور امام ابن امیر الحاج کے کلام سے اسکی ترجیح مفاد۔

حیث قال فی اٰداب الوضوء تحت قول المنیۃ وان یستاک بالسواک ان کان والا فبالاصبع کون الادب فی فعلہ ان یکون فی حالۃ المضمضۃ علی قول بعض المشائخ۴؎ اھ

اس طرح کہ انہوں نے آدابِ وضوکے بیان میں منیہ کی عبارت وان یستاک بالسواک(اور یہ کہ مسواک سے صفائی کرے) کے تحت فرمایا: اگر مسواک موجود ہوورنہ انگلی سے۔بعض مشائخ کے قول پراس کے استعمال میں مستحب یہ ہے کہ کُلی کرتے وقت ہو۔اھ۔(ت)

(۴؎ حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی)

جس کا مفادفــ یہ ہے کہ اکثر علما قولِ اول پر ہیں، علامہ حسن شرنبلالی شرح وہبانیہ میں فرماتے ہیں: قولہ واعتاقہ بعض الائمۃ ینکر مفھومہ ان اکثر الائمۃ یجوّز ۱؎۔

''بعض ائمہ اس کی آزادی کا انکارکرتے ہیں''۔اس کامفہوم یہ ہے کہ اکثر ائمہ جائز کہتے ہیں۔(ت)

فـــ:ھذا قول بعض المشائخ مفادہ ان اکثرھم علی خلافہ۔

(۱؎ شرح الوہبانیہ)

اور یہ کہ قول فــ۱دوم نامعتمد ہے،ردالمحتار باب صفۃ الصلوٰۃ میں ہے : قولہ لاباس بہ عند البعض اشار بھذا الی ان ھذا القول خلاف المعتمد ۲؎۔

''بعض کے نزدیک حرج نہیں''یہ کہہ کرانہوں نے اس بات کی جانب اشارہ کیاکہ یہ قول خلافِ معتمدہے۔(ت)

فــ۱:نسبۃ قول الی البعض تفید ان المعتمد خلافہ۔

(۲؎ رد المحتار    کتاب الصلوٰۃ،فصل(فی بیان تألیف الصلوٰۃ الی انتہائہا)     دار احیاء التراث العربی بیروت    ۱ /۳۳۲)

اور بحرالرائق میں دوم کو قولِ اکثر بتایا اور بہتر ٹھہرایا اور اُسی کے اتباع سے دُر مختار میں تضعیف اوّل کی طرف اشارہ کیا،

نہایہ وعنایہ وفتح میں دوم پر اقتصار فرمایا نہایہ وہندیہ میں ہے : الاستیاک ھو وقت المضمضۃ ۳؎۔

مسواک کرنا وقتِ مضمضہ ہے ۔(ت)

(۳؎الفتاوی الہندیۃ    کتاب الطہارۃ(الفصل االثانی فی سنن الوضوء)    نورانی کتب خانہ پشاور    ۱/ ۶۰)

عنایہ میں ہے: یستاک عرضا لاطولا عند المضمضمۃ ۴؎۔

کُلی کے وقت مسواک کرے گا دانتوں کی چوڑائی میں،لمبائی میں نہیں۔(ت)

(۴؎العنایۃ مع فتح القدیر    کتاب الطہارات    مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر        ۱ /۲۱)

فتح القدیر میں ہے: قولہ والسواک ای الاستیاک عند المضمضۃ ۵؎۔

''اورمسواک کرنا''یعنی کُلّی کے وقت مسواک کرنا(ت)

 (۵؎فتح القدیر    کتاب الطہارات    مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر    ۱ /۲۲)

بحر میں ہے: اختلف فی وقتہ ففی النھایۃ وفتح القدیر انہ عند المضمضۃ وفی البدائع والمجتبی قبل الوضوء والاکثر علی الاول وھو الاولی لانہ الاکمل فی الانقاء ۱؎۔

وقتِ مسواک میں اختلاف ہے۔نہایہ اورفتح القدیرمیں ہے کہ یہ مضمضہ کے وقت ہے۔ بدائع اورمجتبٰی میں ہے کہ قبل وضو ہے۔اوراکثر اول پرہیں اور وہی اولٰی ہے کیونکہ صفائی میں یہ زیادہ کامل ہے۔(ت)

(۱ ؎ البحر الرائق    کتاب الطہارۃ    ایچ ایم سعید کمپنی کراچی     ۱ /۲۰)

شرح نقایہ برجندی میں ہے: وعلیہ الاکثرون۲؎۔ اور اکثر اسی پر ہیں (ت)

(۲ ؎شرح نقایہ للبرجندی  کتاب الطہارۃ     نو لکشور لکھنؤ     ۱/۱۶)

اقول: وباللہ التوفیق۔اوّلاً    : یہ معلوم فــ ہو کہ دربارہ سواک کلمات علما مختلف ہیں کہ سنّت ہے یا مستحب۔ عامہ متون میں سنت ہونے کی تصریح فرمائی اور اسی پر اکثر ہیں صغیری میں اسی کو اصح کہا جوہرہ نیرہ ودُرمختار میں سنت مؤکدہ ہونے پر جزم کیا لیکن ہدایہ واختیار میں استحباب کو اصح اور تبیین و خیرمطلوب میں صحیح بتایا فتح میں اسی کو حق ٹھہرایا حلیہ وبحر نے اُن کا اتباع کیا۔

فــ:مسئلہ مسواک وضو کے لئے سنت یا مستحب ہونے میں ہمارے علماء کو اختلاف ہے اور اس بارہ میں مصنف کی تحقیق۔

علّامہ ابراہیم حلبی فرماتے ہیں: قد عدہ القدوری والاکثرون من السنن وھو الاصح۳؎۔

امام قدوری او ر اکثر حضرات نے اسے سنّت شمار کیا اوریہی اصح ہے۔(ت)

 (۳؎ صغیری شرح منیۃ المصلی    بحث سنن الوضوء    مطبع مجتبائی دہلی    ص۱۳)
(غنیۃ المستملی    ومن الآداب ان یستاک    سہیل اکیڈمی لاہور    ص۳۲ )

ردالمحتار میں ہے: وعلیہ المتون۴؎ (اور اسی پر متون ہیں۔ت)

(۴؎ رد المحتار    کتاب الطہارۃ    دار احیاء التراث العربی بیروت        ۱ /۷۷ )

درمختار میں ہے: السواک سنۃ مؤکدۃ کما فی الجوھرۃ۵؎ مسواک سنّتِ مؤکدہ ہے، جیساکہ جوھرہ میں ہے۔(ت)

(۵؎ الدر المختار    کتاب الطہارۃ    مطبع مجتبائی دہلی    ۱ /۲۱)

ہدایہ میں ہے: الاصح انہ مستحب۶؎ (اصح یہ ہے کہ وہ یہ مستحب ہے۔ ت)

(۶؎ الہدایۃ مع فتح القدیر        کتاب الطہارۃ    مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر        ۱ /۲۲ )

امام زیلعی فرماتے ہیں: الصحیح انھما مستحبان یعنی السواک والتسمیۃ لانھما لیسا من خصائص الوضوء۱؎

صحیح یہ ہے کہ دونوں- یعنی مسواک اور تسمیہ- مستحب ہیں،اس لئے کہ یہ دونوں وضوکی خصوصیات میں سے نہیں ہیں۔(ت)

(۱؎تبیین الحقائق    کتاب الطہارۃ    دارالکتب العلمیۃ بیروت    ۱ /۳۳)

محقق علی الاطلاق فرماتے ہیں: الحق انہ من مستحبات الوضوء ۲؎ حق یہ ہے کہ وہ مستحباتِ وضومیں سے ہے ۔(ت)

(۲؎ فتح القدیر    کتاب الطہارۃ    مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر        ۱ /۲۲)

امام ابن امیر الحاج بعد ذکر حدیث فرماتے ہیں: ھذا عند التحقیق انما یفید الاستحباب فلا جرم ان قال فی خیر مطلوب ھو الصحیح وفی الاختیار قالوا والا صح انہ مستحب۳؎

عند التحقیق ان سب کامفاد استحباب ہے۔یہی وجہ ہے کہ خیرمطلوب میں اسی کو صحیح کہا،اور ''اختیار''میں ہے کہ علماء نے فرمایا: اصح یہ ہے کہ وہ مستحب ہے۔(ت)

(۳؎حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی)

علامہ خیر الدین رملی قول بحر دربارہ استحباب نقلا عن الفتح ھو الحق (فتح سے نقل کیا گیا کہ وہ حق ہے۔ ت) پھر قولِ صغیری دربارہ سنیت ھو الاصح نقل کرکے فرماتے ہیں: فقد علم بذلک اختلاف التصحیح اھ کما فی المنحۃ۴؎

اس سے معلوم ہواکہ اس بارے میں اختلاف تصحیح ہے اھ جیسا کہ منحۃ الخالق میں ہے۔(ت)

اقول : جب تصحیح مختلف ہے تو متون پر عمل لازم کما نصوا علیہ (جیساکہ علماء نے اس فائدہ کی صراحت فرمائی ہے۔ت)قول سنیت کی ایک وجہ ترجیح یہ ہوئی۔

وجہ دوم  : خود امام مذہب رضی اللہ عنہ سے سنیت پر نص وارد۔ امام عینی فرماتے ہیں:

المنقول عن ابی حنیفۃ رضی اللّٰہ تعالی عنہ علی ماذکرہ صاحب المفید ان السواک من سنن الدین اھ نقلہ الشلبی۵؎ علی الکنز۔

امام ابو حنیفہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے منقول ہے کہ مسواک دین کی سُنّتوں میں سے ہے۔جیساکہ صاحبِ مفید نے یہ نقل ذکر کی ہے اھ۔اسے شلبی نے حاشیہ کنز میں نقل کیا۔(ت)

(۵؎ حاشیۃ الشلبی علی تبیین الحقائق    کتاب الطہارۃ    دارالکتب العلمیۃ بیروت    ۱ /۳۵ و ۳۶)

بلکہ ہمارے صاحب مذہب کے تلمیذ جلیل امام الفقہاء امام المحدثین امام الاولیاء سیدنا عبداللہ بن مبارک رضی اللہ تعالٰی عنہما نے فرمایا: اگر بستی کے لوگ سنّیت مسواک کے ترک پر اتفاق کریں تو ہم اُن پر اس طرح جہاد کریں گے جیسا مرتدوں پر کرتے ہیں تاکہ لوگ اس سنّت کے ترک پر جرأت نہ کریں۔

فتاوٰی حجہ میں ہے: قال عبداللّٰہ بن المبارک لوان اھل قریۃ اجتمعوا علی ترک سنۃ السواک نقاتلھم کما نقاتل المرتدین کیلا یجترئ الناس علی ترک سنۃ السواک وھو من احکام الاسلام ۱؎۔

حضرت عبداللہ بن مبارک رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا: اگرکسی بستی والے سب کے سب سنّتِ مسواک چھوڑدیں توہم ان سے اس طرح جنگ کریں گے جیسے مرتدین سے کرتے ہیں تاکہ لوگوں کوسنتِ مسواک کے ترک کی جسارت نہ ہوجب کہ یہ احکامِ اسلام میں سے ایک حکم ہے۔(ت)

(۱؎ الفتاوی الحجۃ)

حلیہ میں اسے نقل کرکے فرمایا: وھذا یفید انہ من سنن الدین کما حکاہ قولا فی المفید ولیس ببعید ۲؎۔

اس سے مستفاد ہوتاہے کہ یہ دین کی ایک سنت ہے جیسا کہ مفید میں بلفظہ یہی قول امام صاحب سے حکایت کیا، اور یہ بعید نہیں۔(ت)

(۲؎ حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی)

    وجہ سوم  : یہی اقوی من حیث الدلیل ہے کہ احادیث متوافرہ اُس کی تاکید اور اس میں قولاً وفعلاً اہتمام شدید پر ناطق جن سے کتبِ احادیث مملو ہیں بلکہ حضور پُرنور سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی اُس پر مواظبت ومداومت گویا ضروریات وبدیہیات سے ہے ہر شخص کہ احوال قدسیہ پر مطلع ہے حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کا اُس پر مداومت فرمانا جانتا ہے، خود ہدایہ میں فرمایا: والسواک لانہ صلی اللّٰہ تعالی علیہ وسلم کان یواظب علیہ ۳؎۔

اور مسواک کرنا اس لئے کہ حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم اس پر مداومت فرماتے تھے۔(ت)

(۳؎الہدایہ        کتاب الطہارۃ     المکتبۃ العربیہ کراچی ۱ /۶)

تبیین میں فرمایا : وقد واظب علیہ النبی صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم ۱؎۔ اور نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے اس پر مداومت فرمائی۔(ت)

(۱؎ تبیین الحقائق    کتاب الطہارۃ     دارالکتب العلمیۃ بیروت         ۱ /۳۵)

اسی طرح کافی امام نسفی وغیرہ میں ہے:۔ وسیرد وعلیک بقیۃ الکلام فی اتمام تقریب المرام بعون المک العلام (بعون ملک علام اس سے متعلق بقیہ کلام تقریب مقصود کی تکمیل میں آئے گا۔ت)

     ثانیا  : سنیت کو مواظبت درکار اب ہم وضو میں کُلّی کے وقت احادیث کو دیکھتے ہیں تو ہرگز اُس وقت مسواک پر مواظبت ثابت نہیں ہوتی۔ خود امام محقق علی الاطلاق کو اس کا اعتراف ہے اور اسی بنا پر قول استحباب اختیار فرمایا۔ فتح میں فرماتے ہیں: المطلوب مواظبتہ علیہ الصلوۃ والسلام عند الوضوء ولم اعلم حدیثا صریحا فیہ ۲؎۔

مطلوب یہ ہے کہ وضوکے وقت اس پر حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی مداومت ثابت ہواورمیرے علم میں اس بارے میں کوئی صریح حدیث نہیں ہے۔(ت)

(۲؎ فتح القدیر        کتاب الطہارۃ     مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر        ۱ /۲۲)

اقول  : بلکہ مواظبت درکنار چوبیس۲۴ صحابہ کرام رضی اللہ تعالٰی عنہم نے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم سے صفتِ وضو قولاً وفعلاً نقل فرمائی:
(۱) امیر المومنین عثمان غنی        (۲) امیر المومنین مولا علی    (۳) عبداللہ بن عباس
(۴) عبداللہ بن زید بن عاصم    (۵) مغیرہ بن شعبہ    (۶) مقدام بن معدی کرب
(۷) ابو مالک اشعری        (۸) ابو بکرہ نفیع بن الحارث    (۹) ابو ہریرہ
(۱۰) وائل بن حجر            (۱۱) نفیر بن مالک حضرمی        (۱۲) ابو امامہ باہلی
(۱۳) انس بن مالک        (۱۴) ابو ایوب انصاری     (۱۵) کعب بن عمرو یامی
(۱۶) عبداللہ بن ابی اوفی        (۱۷) براء بن عازب        (۱۸) قیس بن عائذ
(۱۹) ام المومنین صدیقہ        (۲۰) رُبیع بنت معّوذ بن عفراء    (۲۱) عبداللہ بن اُنیس
(۲۲) عبداللہ بن عمرو بن عاص    (۲۳) امیر معٰویہ (۲۴) رجل من الصحابہ لم یسم رضی اللہ عنہم اجمعین

اوّل کے بیس۲۰ علّامہ محدث جلیل زیلعی نے ذکر کئے اُن کے بعد کے دو۲ امام محقق علی الاطلاق نے زیادہ فرمائے اخیرکے دو اس فقیرغفر لہ نے بڑھائے اوران کے پچیسویں امیرالمؤمنین فاروق اعظم رضی اللہ تعالی عنہ ہیں مگر ان سے خود اُن کے وضو کی صفت مروی ہے اگرچہ وہ بھی حکم مرفوع میں ہے، رواہ سعید بن منصور فی سننہ عن الاسود بن الاسود بن یزید قال بعثنی عبداللّٰہ بن مسعود رضی اللّٰہ تعالی عنہ الی عمر بن الخطاب رضی اللّٰہ تعالی عنہ الحدیث۱؎ والحدیث قبلہ رواہ ابو بکر بن ابی شیبۃ والعدنی والخطیب عن رجل من الانصار ان رجلا قال الا اریکم کیف کان وضوء رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ تعالی علیہ وسلم قالوا بلی الحدیث ۲؎وحدیث معٰویۃ رضی اللّٰہ تعالی عنہ عند ابن عساکر۔

    اسے سعید بن منصور نے اپنی سُنن میں اسود بن اسود بن یزید سے روایت کیا۔وہ کہتے ہیں مجھے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالٰی عنہ نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالٰی عنہ کے پاس بھیجا۔اس کے بعدطریقہ وضوسے متعلق پُوری حدیث ہے۔اور اس سے قبل والی حدیث جسے ہم نے بتایا کہ ایک صحابی سے مروی ہے جن کا نام مذکور نہیں، اسے ابوبکربن ابی شیبہ اور عدنی اورخطیب نے روایت کیا ایک انصاری سے کہ ایک شخص نے کہامیں تمہیں رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کاوضونہ دکھاؤں؟لوگوں نے کہا کیوں نہیں!۔اس کے بعد باقی حدیث ہے۔ اورحضرت معاویہ رضی اللہ تعالٰی عنہ کی حدیث ابن عساکرنے روایت کی ہے۔(ت)

(۱؎ کنزالعمال بحوالہ ص عن الاسودبن الاسود    حدیث ۲۶۹۰۲    مؤسسۃ الرسالہ بیروت     ۹ /۴۴۶و۴۴۷)
(۲ کنزالعمال بحوالہ ش والعدنی وخط عن رجل     حدیث ۲۶۸۶۵    مؤسسۃ الرسالہ بیروت     ۹ /۴۳۷)

ان پچیس صحابہ کی بہت کثیر التعداد حدیثیں اس وقت فقیر کے پیش نظر ہیں ان میں کہیں وضو یا کُلّی کرتے میں مسواک فرمانے کا اصلاً ذکر نہیں جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کا طریقہ وضو زبان سے بتایا انہوں نے مسواک کا ذکر نہ کیا،جنہوں نے اسی لئے وضو کرکے دکھایاکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ مسنونہ بتائیں انہوں نے مسواک نہ کی علی الخصوص امیر المومنین ذوالنورین وامیر المومنین مرتضٰی رضی اللہ تعالٰی عنہما کہ دونوں حضرات سے بوجوہ کثیرہ بارہا بکثرت حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کا وضو کرکے دکھانا مروی ہوا،کسی بار میں مسواک کا ذکر نہیں۔

عثمان غنی سے راوی اُن کے مولٰی حمران  ،عند احمد والبخاری ومسلم وابی داود والنسائی وابن ماجۃ وابن خزیمۃ والبزاروابی یعلی والعدنی وابن حبان والدار قطنی وابن بشران فی امالیہ وابی نُعیم فی الحلیۃ۔ابن الجارود عند الامام الطحاوی وابن حبان والبغوی فی مسند عثمان وسعید بن منصور۔ابو وائل شقیق بن سلمہ عند عبدالرزاق وابن منیع والدارمی وابی داؤد وابن خزیمۃ والدارقطنی۔ ابو دارہ عند احمد والدارقطنی والضیاء۔عبدالرحمٰن سلمانی عند البغوی فیہ۔عبداللّٰہ بن جعفر ابو علقمہ کلاھما عند الدارقطنی عبداللّٰہ بن ابی مُلکیہ عند ابی داؤد ابو مالک دمشقی عند سعید بن منصور قال حُدثت ابو النضر سالم عند ابن منیع والحارث وابی یعلی ولم یلق عثمٰن ۔

سیدناعثمان غنی سے ایک راوی ان کے آزاد کردہ غلام حمران ہیں جن کی روایت امام احمد، بخاری، مسلم ، ابو داؤد، نسائی،ابن ماجہ، ابن خزیمہ، بزار،ابویعلٰی، عدنی ، ابن حبان،دارقطنی،ابن بشران نے اپنی امالی میں اور ابو نعیم نے حلیۃ الاولیا میں ذکر کی ہے۔دوسرے راوی ابن الجارود ہیں جن کی روایت امام طحاوی،ابن حبان نے، بغوی نے مسندعثمان میں،اور سعید بن منصور نے ذکر کی ہے۔تیسرے راوی ابو وائل شقیق بن سلمہ ہیں جن کی روایت عبدالرزاق، ابن منیع، دارمی، ابو داؤد، ابن خزیمہ اور دارقطنی نے ذکرکی ہے۔ چوتھے راوی ابو دارہ ہیں جن کی روایت امام احمد،دارقطنی اور ضیاء نے ذکر کی ہے۔پانچویں راوی عبدالرحمان سلمانی ہیں جن کی روایت بغوی نے مسندِ عثمان میں ذکرکی ہے۔چھٹے راوی عبداللہ بن جعفر،ساتویں ابو علقمہ ہیں دونوں حضرات کی روایت دارقطنی نے ذکرکی ہے۔ آٹھویں راوی عبداللہ بن ابی مُلیکہ ہیں جن کی روایت ابو داؤد نے ذکر کی ہے۔نویں راوی ابو مالک دمشقی ہیں جن کی روایت سعیدبن منصور نے ذکرکی ہے وہ کہتے ہیں مجھ سے بیان کیاگیا۔دسویں راوی ابوالنضرسالم ہیں جن کی روایت ابن منیع، حارث اور ابویعلی نے ذکرکی ہے اور انہیں حضرت عثمان کی ملاقات حاصل نہیں۔(ت)

علی مرتضٰی سے راوی عبد خیر ، عندعبدالرزاق وابی بکربن ابی شیبۃ وسعیدبن منصوروالدارمی وابی داؤد والترمذی والنسائی وابن ماجۃ والطحاوی وابن منیع وابن خُزیمۃ وابی یعلی وابن الجارود وابن حبان والدارقطنی والضیاء ابوحیہ عند عبدالرزاق وابن ابی شیبۃ واحمد وابی داؤد الترمذی والنسائی وابی یعلی والطحاوی والھروی فی مسند علی والضیاء سیدنا امام حسین رضی اللّٰہ تعالی عنہ عند النسائی وابن جریرعبداللّٰہ بن عباس رضی اللّٰہ تعالی عنہما عند احمد وابی داؤد وابی یعلی وابن خزیمۃ والطحاوی وابن حبان والضیاء زربن حُبَیش عند احمد وابی داؤد سمویہ والضیاء، ابو العریف عند احمد وابی یعلٰی، ابو مطر عند عبد بن حمید۔

حضرت علی مرتضٰی سے ایک راوی عبدخیر ہیں جن کی روایت عبدالرزاق، ابوبکربن ابی شیبہ، سعید بن منصور، دارمی، ابوداؤد، ترمذی، نسائی،ابن ماجہ،طحاوی،ابن منیع، ابن خزیمہ،ابو یعلی، ابن الجارود،ابن حبان،دارقطنی اورضیاء نے ذکر کی ہے۔دوسرے راوی ابوحیہ ہیں جن کی روایت عبدالرزاق ابن ابی شیبہ،امام احمد،ابوداؤد، ترمذی،نسائی،ابو یعلی، طحاوی اور ہروی نے مسند علی میں اور ضیاء نے ذکر کی ہے۔تیسرے راوی سیّدناامام حسین رضی اللہ تعالٰی عنہ ہیں جن کی روایت نسائی،طحاوی اورابن جریرنے ذکرکی ہے۔چوتھے راوی عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما ہیں جن کی روایت امام احمد، ابوداؤد، ابو یعلی،ابن خزیمہ،امام طحاوی،ابن حبان اور ضیاء نے ذکر کی ہے۔پانچویں راوی زِربن حبیش ہیں جن کی روایت امام احمد، ابوداؤد، سمویہ اور ضیاء نے ذکر کی ہے۔ چھٹے راوی ابو العریف ہیں جن کی روایت امام احمداورابو یعلٰی نے ذکر کی ہے۔ ساتویں راوی ابو مطر ہیں جن کی روایت عبد بن حمید نے ذکر کی ہے۔

یوں ہی عبداللہ بن عباس وعبداللہ بن زیدرضی اللہ تعالٰی عنہم سے بھی احادیث کثیرہ بطریق عدیدہ مروی ہوئیں سب کی تفصیل باعثِ تطویل ان تمام حدیث کا ترک ذکر مسواک پر اتفاق تویہ بتارہا ہے کہ اس وقت مسواک نہ فرمانا ہی معتاد ورنہ کوئی تو ذکر کرتا۔

    اقول  : بلکہ صدہااحادیث متعلق وضو ومسواک اس وقت سامنے ہیں کسی ایک حدیث صحیح صریح سے اصلا مسواک کیلئے وقت مضمضہ یا داخل وضو ہونے کا پتہ نہیں چلتا جن بعض سے اشتباہ ہو اُس سے دفع شُبہ کریں۔

حدیث اوّل : محقق علی الاطلاق نے صرف ایک حدیث پائی جس سے اس پر استدلال ہوسکے: حیث قال بعد ذکراحادیث وفی الصحیحین قال صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم لولاان اشق علی امتی لامرتھم بالسواک مع کل صلاۃ اوعند کل صلاۃ وعند النسائی فی روایۃ عند کل وضوء رواہ ابن خُزیمۃ فی صحیحہ وصححہا الحاکم وذکرھا البخاری تعلیقا ولا دلالۃ فی شیئ علی کونہ فی الوضوء الاھذہ وغایۃ مایفید الندب وھولا یستلزم سوی الاستحباب اذیکفیہ اذاندب لشیئ ان یتعبد بہ احیانا ولا سنۃ دون المواظبۃ ۱؎۔

اس طرح کہ انہوں نے متعدد حدیثیں ذکر کرنے کے بعدلکھا: اور بخاری ومسلم میں ہے کہ حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا:اگرمیں اپنی امت پرگراں نہ جانتا توانہیں ہرنمازکے ساتھ،یا ہرنمازکے وقت مسواک کاحکم دیتا۔اور نسائی کی ایک روایت میں ہے: ہروضوکے وقت اسے ابن خزیمہ نے اپنی صحیح میں روایت کیا۔ حاکم نے اسے صحیح کہا اور امام بخاری نے اسے تعلیقاً ذکرکیا۔ان احادیث میں سے کسی میں مسواک کے وضوکے اندرہونے پرکوئی دلالت نہیں، مگرصرف اس روایت میں۔ اور یہ بھی زیادہ سے زیادہ ندب کاافادہ کررہی ہے اور یہ صرف استحباب کو مستلزم ہے اس لئے کہ اس میں یہ کافی ہے کہ حضور جب کسی چیز کی ترغیب دیں تو بعض اوقات اسے عبادت قرار دے دیں اورمسنون ہونا حضور کی مداومت کے بغیر ثابت نہیں ہوتا۔(ت)

(۱؎ فتح القدیر    کتاب الطہارۃ     مکتبۃ نوریہ رضویہ سکھر        ۱ /۲۲)

اُنھی کا اتباع اُن کے تلمیذ محقق حلبی نے حلیہ میں کیا۔

اقول اولا  : احادیث فـــ میں مشہور ومستفیض یہاں ذکر نماز ہے یعنی لفظ: عند کل صلاۃ یا مع کل صلاۃ رواہ مالک واحمد ۱؎والستۃعـــہ عن ابی ھریرۃ ۔ یعنی لفظ ''ہر نماز کے وقت یا ہر نماز کے ساتھ''اسے امام مالک، امام احمد اور اصحابِ ستہ نےحضرت ابو ہریرہ سے روایت کیا۔

فــ :تطفل علی الفتح والحلیۃ۔

(۱؎ مؤطا الامام مالک    کتا ب الطہارۃ باب ماجاء فی السواک    میرمحمدکتب خانہ کراچی        ص۵۱)
(مسند الامام احمدبن حنبل     عن ابی ھریرۃ        المکتب الاسلامی بیروت     ۲ /۴۲۵)
(صحیح البخاری     کتاب الجمعہ باب السواک     قدیمی کتب خانہ کراچی     ۱ /۱۲۲)
(صحیح مسلم         کتاب الطہارۃ با ب السواک     قدیمی کتب خانہ کراچی     ۱ /۱۲۸)

عــہ : قال الشوکانی فی نیل الاوطار قال النووی غلط بعض الائمۃ الکبار فزعم ان البخاری لم یخرجہ وھوخطأ منہ وقد اخرجہ من حدیث مالک عن ابی الزناد عن الاعرج عن ابی ھریرۃ ولیس ھو فی المؤطا من ھذا الوجہ بل ھو فیہ عن ابن شہاب عن حمید عن ابی ھریرۃ قال لولا ان ان اشق علی امتی لامرتھم بالسواک مع کل وضوء ولم یصرح برفعہ قال ابن عبدالبر وحکمہ الرفع وقد رواہ الشافعی عن مالک مرفوعا۲؎ ھذا کلامہ فی النیل ثم جعل یعد بعض ماورد فی الباب ولم یعلم ماانتھی الیہ کلام الامام النووی۔
 اقول :  لااظن قولہ لیس ھو فی المؤطا الخ من کلام الامام وھو خطأ فـــ اشد واعظم فان الحدیث فی المؤطا اولابعین السند المذکور فی البخاری رفعاثم متصلا بہ بالسند الاخر وقفا وقدروی ھذا ایضا معن ابن عیسٰی وایوب ابن صالح وعبدالرحمٰن بن مھدی وغیرھم عن مالک مرفوعا وھؤلاء کلھم من رواۃ المؤطا اھ منہ ۔

شوکانی نے نیل الاوطار میں لکھا کہ ۔امام نووی نے فرمایا: بعض ائمہ کبارنے غلطی سے یہ دعوٰی کیا کہ امام بخاری نے یہ حدیث روایت نہ کی، اوریہ دعوٰی غلط ہے۔ امام بخاری نے اسے امام مالک سے روایت کیاہے وہ ابوالزنادسے ، وہ اعرج سے ، وہ ابوہریرہ سے راوی ہیں۔ اور امام مالک کی موطا میں یہ حدیث اس سند کے ساتھ نہیں بلکہ اس میں ابن شہاب زہری سے روایت ہے وہ حمید سے،وہ ابوھریرہ سے راوی ہیں انہوں نے فرمایا:''اگر میں اپنی اُمت پر گراں نہ جانتا توانہیں ہر وضوکے ساتھ  مسواک کا حکم دیتا''۔ اور اس کے مرفوع ہونے کی صراحت نہ کی۔ ابن عبدالبرنے کہا یہ مرفوع ہی کے حکم میں ہے۔ اوراسے امام شافعی نے امام مالک سے مرفوعاً روایت کیاہے۔ یہ نیل الاوطار کی عبارت ہے۔ا س کے بعداس باب میں وارد ہونے والی کچھ حدیثیں شمارکرانا شروع کردیا اوریہ نہ بتایا کہ امام نووی کاکلام کہاں ختم ہوا۔
اقول : میں نہیں سمجھتا کہ یہ الفاظ''اور امام مالک کی مؤطا میں یہ حدیث اس سندکے ساتھ نہیں الخ''۔امام نووی کے کلام میں ہوں جب کہ یہ بہت شدید اورعظیم خطا ہے اس لئے کہ یہ حدیث مؤطامیں پہلے بعینہ بخاری ہی کی ذکر کردہ سندکے ساتھ مرفوعاً ہے پھر اس سے متصل دوسری سندکے ساتھ موقوفاً ہے ۔اوراسے معن بن عیسٰے، ایوب بن صالح، عبدالرحمٰن بن مہدی وغیرہم نے بھی امام مالک سے مرفوعاً روایت کیا ہے اور یہ سب حـضرات مؤطا کے راوی ہیں ۱۲منہ۔ (ت)

(۲؎ نیل الاوطار    ابواب السواک وسنن الفطرۃ باب الحث علی السواک     مصطفی البابی مصر    ۱ /۱۲۶)

فـــ : ردعلی الشوکانی ۔

واحمد وابو داؤد والنسائی والترمذی والضیا عن زید بن خالد۱؎۔ واحمد بسند جید عن ام المؤمنین زینب بنت جحش ۲؎ وکابن ابی خیثمۃ وابن جریرعن ام المؤمنین ام حبیبۃ۳؎۔ والبزاروسمویہ عن انس۱؎ وھما والطبرانی وابو یعلی والبغوی والحاکم عن سیدنا العباس۲؎ واحمد والبغوی والطبرانی وابو نعیم والباوردی وابن قانع والضیاء عن تمام بن العباس۳؎۔

امام احمد، ابوداؤد، نسائی، ترمذی اور ضیاء نے زید بن خالد سے روایت کیا۔ امام احمد نے بسندِجیّد ام المومنین زینب بنت جحش سے۔ اور ابن ابی خیثمہ وابن جریر کی طرح اُم المومنین ام حبیبہ سے روایت کیا۔ بزاروسمویہ نے حضرت انس سے ۔
بزاروسمویہ اور طبرانی، ابویعلی،بغوی اورحاکم نے سیدنا عباس سے ۔ امام احمد، بغوی ،طبرانی، ابو نعیم، باوردی،ابن قانع اور ضیاء نے تمام بن العباس سے۔

(۱؎مسند الامام احمد بن حنبل بقیہ حدیث زید بن خالدلجھنی    المکتب الاسلامی بیروت     ۴ /۱۱۶)
(سنن الترمذی     ابواب الطہارۃ باب ماجاء فی السواک     حدیث ۲۲     دارالفکر بیروت      ۱/ ۹۹)
(سنن ابی داؤد     کتاب الطہارۃ     باب کیف یستاک     آفتاب عالم پریس لاہور     ۱ /۷)
(کنزالعمال بحوالہ حم ،ت والضیاء عن زید بن خالد الجھنی     حدیث ۲۶۱۹۰    مؤسسۃ الرسالۃ بیروت ۹/ ۳۱۵)
(۲؎مسند الامام احمد بن حنبل حدیث زینب بنت جحش    المکتب الاسلامی بیروت     ۶ /۴۴۹)
(۳؎مسند الامام احمد بن حنبل حدیث ام حبیبہ بنت ابی سفیان     المکتب الاسلامی بیروت     ۶/ ۳۲۵)
(کنزالعمال بحوالہ ابن جریر     حدیث ۲۶۲۰۳    مؤسسۃ الرسالۃ بیروت     ۹ /۳۱۷)
(۱؎کنزالعمال بحوالہ البزار     حدیث ۲۶۱۷۶    مؤسسۃ الرسالۃ بیروت    ۹ / ۳۱۳
(کنزالعمال بحوالہ سمویہ     حدیث ۲۶۲۰۷    مؤسسۃ الرسالۃ بیروت ۹/ ۳۱۷)
(۲؎المعجم الکبیر     حدیث۲ ۱۳۰    المکتبہ الفیصلیہ بیروت     ۲/ ۶۴)
(المستدرک للحاکم     کتاب الطہارۃ     اولاان اشق علی امتی الخ     دارالفکر بیروت     ۱/ ۱۴۶)
(۳؎المعجم الکبیر     حدیث۳ ۱۳۰    المکتبہ الفیصلیہ بیروت     ۲/ ۶۴)
(کنزالعمال بحوالہ حم والبغوی الخ     حدیث ۲۶۲۱۱    مؤسسۃ الرسالۃ بیروت     ۹/ ۳۱۸)

واحمد والباوردی عن تمام بن قثم۴؎ وصوبواکونہ عن العباس۔وعثمٰن بن سعید الدارمی فی الرد علی الجھمیۃ والدار قطنی فی احادیث النزول عن امیر المؤمنین علی۔۵؎ والطبرانی فی الکبیرعن ابن عباس ۶؎ وفی الاوسط کالخطیب عن ابن عمر ۷؎ وابو نعیم فی السواک عن ابن عمرو۸؎

امام احمد وباوردی نے تمام بن قثم سے روایت کیا اور بتایا کہ صحیح یہ ہے کہ یہ روایت حضرت عباس سے ہے۔ عثمان بن سعید دارمی نے الردعلی الجہمیہ میں، اور دارقطنی نے احادیث نزول میں امیرالمومنین حضرت علی سے۔ اور طبرانی نے معجم کبیر میں حضرت ابن عباس سے ۔ اور معجم اوسط میں خطیب کی طرح حضرت ابن عمرسے۔ اور ابو نعیم نے سواک میں حضرت ابن عمر وسے۔

(۴؎کنزالعمال بحوالہ حم والبغوی الخ     حدیث ۲۶۲۱۱    مؤسسۃ الرسالۃ بیروت     ۹/ ۳۱۸)
(مسند الامام احمد بن حنبل حدیث قثم بن تمام اوتمام بن قثم الخ     المکتب الاسلامی بیروت     ۳/ ۴۴۲)
(۶؎المعجم الکبیر     حدیث۲۵ ۱۱۱و۱۱۱۳۳        المکتبہ الفیصلیہ بیروت     ۱۱/ ۸۵و۸۷)
(۷؎المعجم الاوسط     حدیث ۸۴۴۳    مکتبہ المعار ف ریاض         ۹ /۲۰۴)
(۸؎کنزالعمال بحوالہ ابی نعیم عن ابن عمر     حدیث ۲۶۱۹۶    مؤسسۃ الرسالۃ بیروت ۹/ ۳۱۶)

و سعید بن منصور عن مکحول۱؎ وابو بکر بن ابی شیبۃ عن حسان ۲؎بن عطیۃ کلاھما مرسل۔

اور سعید بن منصورنے مکحول سے اور ابو بکربن ابی شیبہ نے حسان بن عطیہ سے روایت کی۔ یہ دونوں مرسل ہیں۔(ت)

(۱؎کنزالعمال بحوالہ ص عن مکحول     حدیث ۲۶۱۹۵    مؤسسۃ الرسالۃ بیروت     ۹/ ۳۱۶)
(۲؎المصنف لابن ابی شیبہ کتاب الطہارات ماذکر فی السواک حدیث ۱۸۰۳      دارالکتب العلمیہ بیروت ۱/ ۱۵۷)

    اور بعض میں ذکر وضو ہے یعنی :     مع کل وضوء یا عندکل وضوء رواہ الائمۃ مالک والشافعی واحمد والنسائی وابن خزیمۃ وابن حبان والحاکم والبیھقی عن ابی ھریرۃ ۳؎

ہر وضو کے ساتھ یا ہر وضوکے وقت ۔اسے امام مالک، امام شافعی،امام احمد،نسائی،ابن خزیمہ،ابن حبان ، حاکم اوربیہقی نے حضرت ابوہریرہ سے ۔

(۳؎مؤطاالامام مالک لابن ابی شیبہ کتاب الطہارۃ باب ماجاء فی السواک     میرمحمد کتب خانہ کراچی ص۵۱)
(الام للشافعی     کتاب الطہارۃ باب السواک     دارالکتب العلمیہ بیروت     ۱ /۷۵)
(مسند الامام احمد بن حنبل عن ابی ھریرہ     المکتب الاسلامی بیروت     ۲ /۲۴۵)
(سنن النسائی     کتاب الطہارۃ الرخصۃ فی السواک الخ         نورمحمدکارخانہ تجارت کتب کراچی     ۱ /۶)
(صحیح ابن خزیمہ     حدیث ۱۴۰    المکتب الاسلامی بیروت    ۱ /۷۳)
(المستدرک للحاکم     کتاب الطہارۃ     دارلفکربیروت    ۱ /۱۴۶)
(السنن الکبری للبیہقی     کتاب الطہارۃ باب الدلیل علی ان السواک الخ     دارصادربیروت    ۱ /۳۶)

والطبرانی فی الاوسط بسند حسن عن علی ۴؎ وفی الکبیر عن تمام بن العباس ۵؎ وابن جریر عن زید بن خالد ۶؎رضی اللّٰہ تعالی عنہم اجمین۔

اور طبرانی نے معجم اوسط میں بسندِ حسن حضرت علی سے ۔ اورمعجم کبیر میں تمام بن عباس سے۔ اور ابن جریرنے زید بن خالد سے روایت کی۔رضی اللہ تعالٰی عنہم اجمعین۔(ت)

(۴؎المعجم الاوسط     حدیث ۱۲۶۰    مکتبۃ المعارف بیروت     ۲ /۱۳۸)
(۵؎المعجم الکبیر    حدیث ۱۳۰۲    المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت     ۲ /۶۴)
(۶؎ کنزالعمال بحوالہ ابن جریر عن زید بن خالد حدیث ۲۶۱۹۹    موسسۃ الرسالہ بیروت     ۹ /۳۱۶ )

جب روایات متواترہ میں عند کل صلاۃ یا مع کل صلاۃ آنے سے ہمارے ائمہ کرام رضی اللہ تعالٰی عنہم کے نزدیک نماز سے اتصال بھی ثابت نہ ہوا بلکہ اتصال حقیقی اصلا کسی کا قول نہیں حتی کہ شافعیہ جو اُسے سننِ نماز سے مانتے ہیں تو بعض روایات میں عند کل وضوء آنے سے داخل وضو ہوناکیونکر رنگ ثبوت پائے گا۔ فلیست فــ عند لجعل مدخولہاظرفا لموصوفہا بحیث یقع فیہ انما مفادھا القرب والحضور حسا اومعنی فلا تقول زید عند الدار اذا کان فیہا بل اذا کان قریبا منھا والقرب المفہوم ھو العرفی دون الحقیقی ولہ عرض عریض الاتری الی قولہ تعالی عند سدرۃ المنتھی عندھا جنۃ المأوی ۱؎ مع ان السدرۃ فی السماء السادسۃ کما فی صحیح مسلم عن عبداللّٰہ بن مسعود رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ۲؎ والجنۃ فوق السمٰوٰت ۔

کیونکہ لفظ ''عند''یہ بتانے کے لئے نہیں کہ اس کا مدخول اس کے موصوف کاایساظرف ہے کہ وہ اسی کے اندرواقع ہے بلکہ اس کا مفاد صرف قریب اور حاضرہوناہے حسّاً یا معنًی۔زید عندالدار(زید گھر کے پاس ہے)اُس وقت نہیں بولتے جب زید گھر کے اندر ہو بلکہ اس وقت بولتے ہیں جب گھر سے قریب ہو۔اوریہاں جو قریب سمجھاجاتاہے وہ عرفی ہوتاہے حقیقی نہیں ہوتا۔اور قرب عرفی کا میدان بہت وسیع ہے۔ دیکھئے باری تعالٰی کا ارشاد ہے:''سدرۃ المنتہٰی کے پاس،اسی کے پاس جنۃ الماوٰی ہے''۔حالاں کہ سدرہ چھٹے آسمان میں ہے۔ جیساکہ صحیح مسلم میں حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی ہے۔اور جنت آسمانوں کے اوپرہے۔

فـــ : بیان مفاد عند۔

(۱؎القرآن الکریم     ۵۳ /۱۴و۱۵)
(۲؎صحیح مسلم     کتاب الایمان باب الاسراء الخ     قدیمی کتب خانہ کراچی     ۱ /۹۷)
وبما قررنا ظھرضعف ماوقع فی عمدۃ القاری تحت الحدیث فیہ اباحۃ السواک فی المسجد لان عند یقتضی الظرفیۃ حقیقۃ فیقتضی استحبابہ فی کل صلاۃ وعند بعض المالکیۃ کراھتہ فی المسجد لاستقذارہ والمسجد ینزہ عنہ ۱؎ اھ۔

وبما قررنا ظھرضعف ماوقع فی عمدۃ القاری تحت الحدیث فیہ اباحۃ السواک فی المسجد لان عند یقتضی الظرفیۃ حقیقۃ فیقتضی استحبابہ فی کل صلاۃ وعند بعض المالکیۃ کراھتہ فی المسجد لاستقذارہ والمسجد ینزہ عنہ ۱؎ اھ۔

ہماری اس تقریر سے اس کا ضُعف واضح ہوگیاجوعمدۃ القاری میں اس حدیث کے تحت رقم ہوگیاکہ:اس سے مسجد کے اندرمسواک کرنے کا جواز ثابت ہوتاہے، اس لئے کہ ''عند'' حقیقۃً ظرفیت چاہتاہے تواس کا تقاضایہ ہوگاکہ مسواک ہرنمازکے اندرمستحب ہو۔ اور بعض مالکیہ کے نزدیک یہ ہے کہ مسجد میں مسواک کرنامکروہ ہے کیونکہ اس سے گندگی ہوگی اور مسجدکواس سے بچایاجائے گااھ۔

(۱؎ عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری کتاب الجمعہ باب السواک یوم الجمعۃ تحت حدیث ۸۸۷دارالکتب العلمیہ بیروت۶ /۲۶۳)

    اقول اولا  : فــ۱حقیقۃالظرفیۃغیر معقولۃ فی الصّلوٰۃ ولا ھی مفاد عند کما علمت۔

    اقول  : ا س پرچند کلام ہیں، اول  : نماز کے اندرحقیقی ظرفیت کاتصورنہیں ہوسکتااوریہ ''عند''کا مفاد بھی نہیں جیساکہ ابھی واضح ہوا۔

فــ۱:تطفل علی الامام العینی ۔

وثانیا  : قد قال فــ۲الامام العینی نفسہ قبل ھذا بورقۃ مانصہ فان قلت کیف التوفیق بین روایۃ عند کل وضوء وروایۃ عند کل صلاۃ قلت السواک الواقع عند الوضوء واقع للصلاۃ لان الوضوء شرع لہا ۲؎ اھ۔

دوم  : اس سے ایک ورق پہلے خود امام عینی یہ لکھ چکے ہیں: اگرسوال ہوکہ عندکل وضوء کی روایت اور عند کل صلوٰۃ کی روایت میں تطبیق کیسے ہوگی؟ تومیں کہوں گا: وضو کے وقت ہونے والی مسواک نماز کے لئے بھی واقع ہے اس لئے کہ وضو نماز ہی کے لئے مشروع ہواہے اھ۔

فــ۲:تطفل آخرعلیہ ۔

(۲؎ عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری کتاب الجمعہ باب السواک یوم الجمعۃ تحت حدیث ۸۸۷دارالکتب العلمیہ بیروت۶ /۲۶۰)

وثالثا : کیف فــ۳یباح الاستیاک فــ۴ فی المسجد مع حرمۃ المضمضۃ والتفل فیہ والسواک یستعمل مبلولا ویستخرج الرطوبات فلا یؤمن ان یقطر منھا شیئ وکل ذلک لایجوز فی المسجد الا ان یکون فی اناء اوموضع فیہ معد لذلک من حین البناء کما بیناہ فی فتاوٰنا۔

سوم : مسجدمیں مسواک کرنا،جائزکیسے ہوگا جب اس میں کُلی کرنااور تھوکناحرام ہے ۔اورمسواک ترکرکے استعمال ہوتی ہے اورمنہ سے رطوبتیں بھی نکالتی ہے جن میں سے کچھ مسجد میں ٹپکنے کابھی اندیشہ ہے اور یہ سب مسجد میں جائز نہیں مگریہ کہ کسی برتن کے اندر ہویا کوئی ایسی جگہ ہو جو تعمیر مسجدکے وقت ہی سے اسی لئے بنارکھی گئی ہو۔جیسا کہ اسے ہم نے اپنے فتاوٰی میں بیان کیاہے۔

فــ۳:تطفل ثالث علیہ ۔
فــ۴:مسئلہ مسجد میں مسواک کرنی نہ چاہیے ۔مسجد میں کلی کرناحرام مگریہ کہ کسی برتن میں یابانی مسجد نے وقت بنا ئے مسجداس میں کوئی جگہ خاص اس کام کے لئے بنادی ہوورنہ اجازت نہیں ۔

و رابعا  : ما ذکرہ فــ۱لیس قول بعض المالکیۃ بل قول امام دارالھجرۃنفسہ حکاہ عند القرطبی فی المفھم کما فی المواھب اللدنیۃ۔

چہارم  : جو انہوں نے ذکرکیا وہ بعض مالکیہ کاقول نہیں بلکہ خودامام دارالہجرۃ کا قول ہے ان سے قرطبی نے المفہم میں اس کی حکایت کی ہے ، جیساکہ مواہب لدنیہ میں ہے۔

فــ۱:تطفل رابع علیہ ۔

ثانیا  : عند الوضوء فــ۲ میں خصوصیت وقت مضمضہ بھی نہیں تو حدیث اگر بوجہ عدم افادہ مواظبت سنیت ثابت نہ کرے گی بوجہ عدم تعین وقت استحباب عند المضمضہ بھی نہ بتائے گی فافہم۲میں خصوصیت وقت مضمضہ بھی نہیں تو حدیث اگر بوجہ عدم افادہ مواظبت سنیت ثابت نہ کرے گی بوجہ عدم تعین وقت استحباب عند المضمضہ بھی نہ بتائے گی فافہم

فــ۲:تطفل آخرعلی الفتح ۔

    حدیث دوم  : طبرانی اوسط میں ابو امامہ باہلی رضی اللہ تعالٰی عنہ سے راوی رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں: ان العبداذا غسل رجلیہ خرجت خطایاہ واذا غسل وجہہ وتمضمض وتشوص واستنشق ومسح براسہ خرجت خطایا سمعہ وبصرہ ولسانہ واذا غسل ذراعیہ وقدمیہ کان کیوم ولدتہ امہ ۱؎۔

بے شک بندہ جب اپنے پاؤں دھوتاہے اُس کے گناہ دورہوجاتے ہیں اورجب مُنہ دھوتااورکُلی کرتادھوتا مانجھتاپانی سونگھتاسرکا مسح کرتاہے اس کے کانوں ، آنکھوں اور زبان کے گناہ
نکل جاتے ہیں،اورجب کلائیاں اورپاؤں دھوتاہے ایسا ہوجاتاہے جیسا اپنی ماں سے پیدا ہوتے وقت تھا۔

(۱؎المعجم الاوسط     حدیث ۴۳۹۴    مکتبۃ المعارف ریاض     ۵ /۲۰۲)
(کنز العمال    حدیث ۲۶۰۴۸     موسسۃ الرسالۃ بیروت    ۹ /۲۸۹)

    اقول اولا  : شوص دھونا اور پاک کرنا ہے کما فی الصحاح (جیساکہ صحاح میں ہے ۔ت)

وقال الرازی: الشوص الغسل والتنظیف ۲؎ اھ

شوص کے معنے دھونا اورصاف کرناہے اھ۔(ت)

(۲؎ الصحاح( للجوہری)     با ب الصاد فصل الشین     داراحیاء التراث العربی بیروت     ۳ /۸۷۶)

وفی القاموس الدلک بالید ومضغ السواک والاستنان بہ اوالا ستیاک ووجع الضرس والبطن والغسل والتنقیۃ ۱؎۔

اور قاموس میں ہے: ہاتھ سے ملنا۔مسواک چبانا اور اس سے دانت مانجنا۔یامسواک کرنا۔ڈاڑھ اور پیٹ کادرد ۔ دھونا اور صاف کرنا۔(ت)

(۱؎ القاموس المحیط    باب الصاد فصل الشین    مصطفی البابی مصر        ۲ /۳۱۸)

    ثانیا : حدیث میں افعال بترتیب نہیں تو ممکن کہ مسواک سب سے پہلے ہو اور یہی حدیث کہ امام احمد نے بسند حسن مرتباً روایت کی اس میں ذکر شوص نہیں، اس کے لفظ یہ ہیں: عن ابی امامۃ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ قال ان رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ تعالی علیہ وسلم قال ایما رجل قام الی وضوئہ یرید الصلاۃ ثم غسل کفیہ نزلت کل خطیئۃ من کفیہ مع اول قطرۃ فاذا مضمض واستنشق واستنثر نزل کل خطیئۃ من لسانہ وشفتیہ مع اول قطرۃ فاذا غسل وجہہ نزلت کل خطیئۃ من سمعہ وبصرہ مع اول قطرۃ فاذا غسل یدہ الی المرفقین ورجلہ الی الکعبین سلم من کل ذنب کھیاۃ یوم ولدتہ امہ ۲؎۔ (حضرت ابی امامہ رضی اللہ تعالٰی عنہ نے کہاکہ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا:)جب آدمی نماز کے ارادے سے وضو کواٹھے پھر ہاتھ دھوئے توہاتھ کے سب گناہ پہلے قطرہ کے ساتھ نکل جائیں،پھر جب کُلی کرے اور ناک میں پانی ڈالے اور صاف کرے زبان ولب کے سب گناہ پہلی بوند کے ساتھ ٹپک جائیں،پھر جب منہ دھوئے آنکھ کان کے سب گناہ پہلے قطرہ کے ساتھ اُترجائیں، پھر جب کُہنیوں تک ہاتھ اور گٹّوں تک پاؤں دھوئے سب گناہوں سے ایساخالص ہوجائے جیساجس دن ماں کے پیٹ سے پیداہواتھا۔

(۲؎ مسند احمد بن حنبل عن ابی امامۃ الباہلی         المکتب الاسلامی بیروت    ۵ /۲۶۳)

فائدہ: فــ یہ نفیس وعظیم بشارت کہ امت محبوب صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم پر رب عزوجل کا عظیم فضل اور نمازیوں کیلئے کمال تہنیت اور بے نمازوں پر سخت حسرت ہے بکثرت احادیث صحیحہ معتبرہ میں وارد ہوئی اس معنی کی حدیثیں حدیث ابو امامہ کے علاوہ صحیح مسلم شریف میں امیر المومنین عثمٰن عـ۱ غنی وابو ہریرہ عــ۲ وعمرو بن عــ۳ عبسہ اور مالک واحمد ونسائی وابن ماجہ وحاکم کے یہاں عبداللہ صنابحی اور طحاوی ومعجم کبیر طبرانی میں عباد والد ثعلبہ اور مسند احمد میں مرہ بن کعب اور مسند مسددو ابی یعلی میں انس بن مالک رضی اللہ تعالٰی عنہم سے مروی ہیں ان میں حدیث صنابحی وحدیث عمرو سب سے اتم ہیں کہ ان میں ناک کے گناہوں کا بھی ذکر ہے اور مسحِ سر کرنے سے سر کے گناہ نکل جانے کا بھی۔

فــ  : وضوسے گناہ دھلنے کی حدیثیں۔
عــ۱ : رواہ ایضااحمد وابن ماجۃ ۱۲منہ ۔
عــ۱ : اوراسے امام احمد وابن ماجہ نے بھی روایت کیا۱۲منہ (ت)۔
عــ۲ : ورواہ ایضامالک والشافعی والترمذی والطحاوی ۱۲منہ۔
عــ۲  : اوراسے اما م مالک،اما م شافعی اورترمذی وطحاوی نے بھی روایت کیا۱۲منہ (ت)
عــ۳:  ورواہ ایضا احمدوابوبکر بن ابی شیبۃ والامام الطحاوی والضیاء وھوعند الطبرانی فی الاوسط مختصراوابن زنجویۃ بسندصحیح ۱۲منہ ۔
عــ۳ : اوراسے امام احمد ابوبکربن ابی شیبہ ،امام طحاوی اورضیاء نے بھی روایت کیااوریہ طبرانی کی معجم اوسط میں مختصرا اورابن زنجویۃ کے یہاں بسندصحیح مروی ہے ۱۲منہ (ت)

ففی الاول اذا استنثر خرجت الخطایا من انفہ ثم قال بعد ذکر الوجہ والیدین فاذا مسح رأسہ خرجت الخطایا من رأسہ حتی تخرج من اذنیہ۱؎

حدیث صنابحی میں یہ ہے:''جب ناک صاف کرے توناک کے گناہ گرجائیں''۔پھر چہرہ اور دونوں ہاتھوں کے ذکر کے بعد ہے:''پھراپنے سرکامسح کرے تو اس کے سر سے گناہ نکل جائیں یہاں تک کہ کانوں سے بھی نکل جائیں''۔

(۱؎کنز العمال بحوالہ مالک ،حم،ن،ھ،ک    حدیث۲۶۰۳۳    مؤسسۃ الرسالۃبیروت    ۹ /۲۸۵)
(مؤطا الامام مالک    کتاب الطہارۃ،باب جامع الوضوء    میر محمد کتب خانہ کراچی    ص۲۱)
(مسند احمد بن حنبل     حدیث ابی عبد اللہ الصنابحی    المکتب الاسلامی بیروت    ۴ /۳۴۸ و ۳۴۹)
(سنن النسائی    کتاب الطہارۃ،باب مسح الاذنین مع الرأس    نورمحمد کارخانہ تجارت کتب کراچی    ۱ /۲۹)
(المستدرک للحاکم    کتاب الطہارۃ            دار الفکر بیروت        ۱ /۱۲۹)

وفی الثانی مامنکم رجل یقرب وضوء ہ فیتمضمض ویستنشق ویستنثر الاخرجت خطایا وجہہ من فیہ وخیاشمہ ثم قال بعد ذکر الوجہ والیدین ثم یمسح رأسہ الاخرجت خطایا رأسہ من اطراف شعرہ مع الماء ۱؎۔

اورحدیثِ عمرو میں ہے :''تم میں جوبھی وضو کے لئے جاکر کُلی کرے ناک میں پانی ڈالے اور جھاڑ ے تواس کے چہرے کے گناہ منہ سے اور ناک کے بانسوں سے نکل پڑیں''۔پھرچہرہ اور دونوں ہاتھوں کے ذکرکے بعد ہے:'' پھراپنے سرکامسح کرے تواس کے سر کے گناہ بال کے کناروں سے پانی کے ساتھ گرجائیں''۔(ت)

(۱؎ کنزالعمال بحوالہ مالک ،حم ،م    حدیث ۲۶۰۳۵     مؤسسۃ الرسالۃ بیروت ۹ /۲۸۶)
(صحیح مسلم     کتاب صلوۃالمسافرین،باب اسلام عمروبن عبسۃ     قدیمی کتب خانہ کراچی     ۱ /۲۷۶)

بہت علماء فرماتے ہیں یہاں گناہوں سے صغائر مراد ہیں۔

اقول: تحقیق یہ ہے کہ کبائر بھی دُھلتے ہیں اگرچہ زائل نہ ہوں یہ سیدنا امام اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ وغیرہ اکابر اولیائے کرام قدست اسرارہم کا مشاہدہ ہے جسے فقیر نے رسالہ ''الطرس المعدل فی حدالماء المستعمل(۱۳۲۰ھ)'' میں ذکر کیا اور کرم مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم بحرِ بے پایاں ہے حدث عن البحر ولاحرج والحمدللّٰہ رب العٰلمین (بحرسے بیان کیا،اس میں کوئی حرج نہیں والحمدللہ رب العلمین ۔ت)اور بات وہ ہے جو خود مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بشارت بیان کرکے ارشاد فرمائی کہ لاتغتروا اس پر مغرور نہ ہونا رواہ البخاری۲؎عن عثمٰن ذی النورین رضی اللّٰہ تعالٰی عنھم وحسبنا اللّٰہ ونعم الوکیل۔

(۲؎ صحیح البخاری     کتاب الرقاق باب  یایہاالناس ان وعد اللہ حق...الخ     قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۹۵۲)

حدیث سوم : سنن بیہقی میں ہے: عن عبداللّٰہ بن المثنی قال حدثنی بعض اھل بیتی عن انس بن مالک رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ ان رجلا من الانصار من بنی عمرو بن عوف قال یا رسول اللّٰہ انک رغبتنا فی السواک فھل دون ذلک من شیئ قال اصبعک سواک عند وضوء ک تمر بھا علی اسنانک انہ لاعمل لمن لانیۃ لہ ولا اجر لمن لاخشیۃ لہ ۱؎۔

عبداللہ بن المثنی سے روایت ہے وہ کہتے ہیں مجھے میرے گھر والوں میں سے کسی نے بیان کیاکہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا کہ بنی عمرو بن عوف سے ایک انصاری نے عرض کی یارسول اللہ! حضورنے مسواک کی طرف ہمیں ترغیب فرمائی کیااس کے سوابھی کوئی صورت ہے؟ فرمایا: وضوکے وقت تیری انگلی مسواک ہے کہ اپنے دانتوں پرپھیرے،بیشک بے نیت کے کوئی عمل نہیں اوربے خوف الہٰی کے ثواب نہیں۔

(۱؎ السنن الکبری    کتاب الطہارۃ،باب الاستیاک بالاصابع        دارصادربیروت    ۱ /۴۱)

اقول اولاً  : یہ حدیث ضعیف ہے لما تری من الجہالۃ فی سندہ وقد ضعفہ البیہقی۔ (جیساکہ تو دیکھتا ہے اس کی سند میں جہالت ہے،اور امام بیہقی نے اسے ضعیف کہا ہے۔ت)

ثانیا و ثالثاً  : لفظ عند وضوء ک میں وہی مباحث ہیں کہ گزرے۔

حدیث چہارم  : ایک حدیث مرسل میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: الوضوء شطر الایمان والسواک شطر الوضوء رواہ ابو بکر بن ابی شیبۃ۲؎ عن حسان بن عطیۃ و رستۃ فی کتاب الایمان عنہ بلفظ السواک نصف الوضوء والوضوء نصف الایمان۳؎ ۔

وضوایمان کا حصّہ ہے اور مسواک وضوکاحصہ ہے۔اس کو ابوبکربن ابی شیبہ نے حسان بن عطیہ سے روایت کیا،اور رستہ نے اس کو ان سے کتاب الایمان میں ان الفاظ سے روایت کیاکہ:مسواک نصف وضو ہے اور وضونصف ایمان۔(ت)

(۲؎ المصنّف لابن ابی شیبہ    ماذکر فی السواک    حدیث ۱۸۰۳    دارالکتب العلمیہ بیروت ۱ /۱۵۷)
(۳؎ الجامع الصغیر(للسیوطی )     بحوالہ رستۃ         حدیث ۴۸۳۵    دارالکتب العلمیہ بیروت ۲ /۲۹۷)

اقول : یعنی ایمان بے وضو کامل نہیں ہوتا اور وضو بے مسواک۔اس سے مسواک کا داخل وضو ہونا ثابت نہیں ہوتا جس طرح وضو داخل ایمان نہیں ہاں وجہ تکمیل ہونا مفہوم ہوتا ہے وہ ہر سنت کیلئے حاصل ہے قبلیہ ہو یا بعدیہ جس طرح صبح و ظہر کی سنتیں فرضوں کی مکمل ہیں واللہ تعالٰی اعلم۔

ثالثا  اقول  : جب محقق ہو لیا کہ مسواک سنّت ہے اور ہمارے علما اُسے سنّتِ وضو مانتے اور شافعیہ کے ساتھ اپنا خلاف یونہی نقل فرماتے ہیں کہ اُن کے نزدیک سنّتِ نماز ہے اور ہمارے نزدیک سنّتِ وضو اور متون مذہب قاطبۃًیک زبان یک زبان صریح فرمارہے ہیں کہ مسواک سننِ وضو سے ہے تو اُس سے عدول کی کیا وجہ ہے،سنّتِ شے قبلیہ ہوتی ہے یا بعدیہ یا داخلہ جیسے رکوع میں تسویہ ظہر۔ مگر روشن بیانوں سے ثابت ہواکہ مسواک وضو کی سنت داخلہ نہیں کہ سنت بے مواظبت نہیں اور وضو کرتے میں مسواک فرمانے پر مداومت درکنار اصلا ثبوت ہی نہیں اور سنت بعدیہ نہ کوئی مانتا ہے نہ اس کا محل ہے کہ مسواک سے خون نکلے تو وضو بھی جائے۔

بحرالرائق میں ہے: وعللہ السراج الھندی فی شرح الھدایۃ بانہ اذا استاک للصلاۃ ربما یخرج منہ دم وھو نجس بالاجماع وان لم یکن ناقضا عندالشافعی رضی اللّٰہ تعالی عنہ۱؎ ۔

اور سراج ہندی نے اپنی شرح ہدایہ میں اس کی علّت یہ بیان فرمائی کہ جب نماز کے لئے وضوکرے گاتوبعض اوقات اس سے خون نکل جائے گا۔ اوریہ بالاجماع نجس ہے اگرچہ امام شافعی کے نزدیک ناقضِ وضو نہیں۔(ت)

(۱؎ البحرالرائق        کتاب الطہارۃ ،سنن الوضوء     ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۱ /۲۰)

لاجرم ثابت ہواکہ سنت قبلیہ ہے اوریہی مطلوب تھااورخود حدیث صحیح مسلم اس کی طرف ناظر،اورحدیث ابی داؤد اس میں نص ۔ کما تقدم اما تعلیل التبیین عدم استنانہ فی الوضوء بانہ لایختص بہ ۔ جیسا کہ گزرا،مگر تبیین میں مسواک کے سنتِ وضونہ ہونے کی علّت یہ بتانا کہ مسواک وضو کے ساتھ خاص نہیں۔(ت)

اقول  اولا  : لا یلزم فـــ۱ لسنۃ الشیئ الاختصاص بہ الا تری ان ترک اللغوسنۃ مطلقا ویتأکد استنانہ للصائم والمحرم والمعتکف والتسمیۃ کمالا تختص بالوضوء لاتختص بالاکل ولا یسوغ انکار انھا سنۃ للاکل،وثانیا اذافـــ۲ واظب النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم علی شیئ فی شیئین فہل یکون ذلک سنۃ فیہما او فی احدھما اولا فی شیئ منھما الثالث باطل و الا یختلف المحدود مع صدق الحد وکذا الثانی مع علاوۃ الترجیح بلا مرجح فتعین الاول وثبت ان الاختصاص لایلزم الاستنان۔

اقول : اس پر اوّلا یہ کلام ہے کہ سنّتِ شَے ہونے کے لئے یہ لازم نہیں کہ اس شَے کے ساتھ خاص بھی ہو۔دیکھئے ترک لغومطلقاً سنت ہے اورروزہ درا،صاحبِ احرام اورمعتکف کے لئے اس کامسنون ہونااورمؤکّد ہو جاتاہے۔ اورتسمیہ جیسے وضو کے ساتھ خاص نہیں کھانے کے ساتھ بھی خاص نہیں مگر تسمیہ کے کھانے کی سنت ہونے سے انکارکی گنجائش نہیں۔دوسرا کلام یہ ہے کہ جب نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کسی عمل پردوچیزوں کے اندر مواظبت فرمائیں تووہ ان دونوں میں سنت ہوگا یاایک میں ہوگایاکسی میں نہ ہوگا۔تیسری شق باطل ہے ورنہ لازم آئے گا کہ تعریف صادق ہے اور مُعَرَّف صادق ہی نہیں۔یہی خرابی دوسری شق میں بھی لازم آئے گی،مزیدبرآں ترجیح بلامرجّح بھی۔توپہلی شق متعین ہوگئی اورثابت ہوگیا کہ سنت ہونے کے لئے خاص ہونا لازم نہیں۔

فـــ۱:تطفل علی الامام الزیلعی ۔
فـــ۲:تطفل آخرعلیہ ۔

اما ما فی عمدۃ القاری اختلف العلماء فیہ فقال بعضھم انہ من سنۃ الوضوء وقال اخرون انہ من سنۃ الصلاۃ وقال اخرون انہ من سنۃ الدین وھو الاقوی نقل ذلک عن ابی حنیفۃ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ۱؎ اھ ذکرہ فی باب السواک من ابواب الوضوء زاد فی باب السواک یوم الجمعۃ ان المنقول عن ابی حنیفۃ انہ من سنن الدین فحینئذ یستوی فیہ کل الاحوال ۲؎ اھ۔

اب رہا وہ جو عمدۃ القاری میں ہے:اس کے بارے میں علماء کااختلاف ہے،بعض نے فرمایا سنتِ وضوہے بعض دیگر نے کہاسنتِ نماز ہے۔اور کچھ حضرات نے فرمایاسنتِ دین ہے، اوریہی زیادہ قوی ہے،یہ امام ابوحنیفہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے منقول ہے اھ،یہ علامہ عینی نے ابواب الوضو کے باب السواک میں ذکرکیا،اور باب السواک یوم الجمعہ میں اتنا اضافہ کیا:امام ابوحنیفہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے منقول ہے کہ''مسواک دین کی سنتوں میں سے ہے''۔تو اس میں تمام احوال برابر ہوں گے اھ۔

(۱؎ عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری     کتاب الوضوء ،باب السواک تحت حدیث ۲۴۴ دارالکتب العلمیہ بیروت ۳ /۲۷۴)
(۲؎ عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری     کتاب الجمعۃ،باب السواک...الخ تحت حدیث ۸۸۷ دارالکتب العلمیہ بیروت ۶ /۲۶۱)

اقول   : یؤیدہ حدیث الدیلمی عن ابی ھریرۃ رضی اللّٰہ تعالی عن النبی صلی اللّٰہ تعالی علیہ وسلم السواک سنۃ فاستاکوا ای وقت شئتم۳؎ ۔

اقول : اس کی تائید دیلمی کی اس حدیث سے ہوتی ہے جوحضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا:مسواک سنت ہے توتم جس وقت چاہومسواک کرو۔

(۳؎ کنزالعمال بحوالہ فر    حدیث ۲۶۱۶۳    مؤسسۃ الرسالہ بیروت    ۹ /۳۱۱)

ولکن اوَّلاً :  لاکونہ فــ۱ سنۃ فی الوضوء ینفی کونہ من سنن الدین بل یقررہ ولاکونہ سنۃ مستقلۃ ینافی کونہ من سنن الوضوء کما قررنا الا تری ان الماثور عنہ رضی اللّٰہ تعالی عنہ انہ من سنن الدین واطبقت حملۃ عرش مذھبہ المتین المتون انہ من سنن الوضوء ونصھا عین نصہ رضی اللّٰہ تعالی عنہ ۔

لیکن اوّلاً  : نہ تواس کاسنتِ وضوہونا، سنتِ دین ہونے کی نفی کرتاہے۔بلکہ اس کی تائیدکرتاہے۔ اورنہ ہی اس کا سنت مستقلہ ہونا، سنتِ وضو ہونے کے منافی ہے جیسا کہ ہم نے تقریر کی۔ یہی دیکھئے کہ امام اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ سے منقول ہے کہ مسواک دین کی ایک سنت ہے اوران کے مذہب متین کے حامل جملہ متون کااس پر اتفاق ہے کہ مسواک وضو کی ایک سنت ہے۔اورنصِ متون خود امام رضی اللہ تعالٰی عنہ کانص ہے۔

فــ۱:تطفل علی الامام العینی۔

وثانیا : ھذا الامام العینی فــ۲نفسہ ناصا قبل ھذا بنحو ورقۃ ان باب السواک من احکام الوضوء عند الاکثرین ۱؎ اھ فلم نعدل عن قول الاکثرین وعن اطباق المتون لروایۃ عن الامام لاتنافیہ اصل۔

ثانیاً  : خود امام عینی نے اس سے ایک ورق پہلے صراحت فرمائی ہے کہ اکثرحضرات کے نزدیک مسواک کاباب احکامِ وضوسے ہے اھ توہم قولِ اکثراوراتفاق متون سے امام کی ایک ایسی روایت کے سبب عدول کیوں کریں جو اس کے منافی بھی نہیں ہے۔

فــ۲:تطفل آخرعلیہ ۔

(۱؎ عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری     کتاب الوضوباب السواک     دارالکتب العلمیہ بیروت    ۳ /۲۷۲)

وثالثا:  اعجب فــ۳من ھذا قولہ رحمہ اللّٰہ تعالٰی فی شرح قول الکنز وسنتہ غسل یدیہ الی رسغیہ ابتداء کالتسمیۃ والسواک اذ قال الامام الزیلعی قولہ والسواک یحتمل وجھین احدھما ان یکون مجرورا عطفا علی التسمیۃ والثانی ان یکون مرفوعا عطفا علی الغسل والاول اظھر لان السنۃ ان یستاک عند ابتداء الوضوء۱؎ اھ مانصہ بل الاظھر ھو الثانی لان المنقول عن ابی حنیفۃ رضی اللّٰہ تعالی عنہ علی ما ذکرہ صاحب المفید ان السواک من سنن الدین فحینئذ یستوی فیہ کل الاحوال ۲؎ اھ۔

ثالثا  : اس سے زیادہ عجیب شرح کنز میں علامہ عینی کاکلام ہے جس کی تفصیل یہ ہے کہ کنز کی عبارت یہ ہے:''سنتہ غسل یدیہ الی رسغیہ ابتداء کالتسمیۃ والسواک''۔(وضو کی سنت گٹوں تک دونوں ہاتھوں کو شروع میں دھونا ہے جیسے تسمیہ اور مسواک)۔اس پر امام زیلعی نے فرمایا:لفظ السواک کی دو ترکیبیں ہوسکتی ہیں ایک یہ کہ لفظ التسمیۃ پر معطوف ہوکرمجرورہو۔دوسری یہ کہ لفظ غسل (دھونا) پر معطوف ہوکر مرفوع ہو۔ اوراول زیادہ ظاہر ہے اس لئے کہ سنت یہ ہے کہ ابتدائے وضوکے وقت مسواک کرے اھ۔ اس پر علامہ عینی فرماتے ہیں: بلکہ زیادہ ظاہر ثانی ہے اس لئے کہ جیسا کہ صاحبِ مفید نے ذکرکیا ہے امام ابو حنیفہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے منقول یہ ہے کہ مسواک دین کی سنتوں میں سے ہے تواس صورت میں اس کے اندرتمام احوال برابر ہیں اھ۔

فــ۳:ثالث علیہ۔

(۱؎ تبیین الحقائق    کتاب الطہارۃ ،سنن الوضوء    دارالکتب العلمیہ بیروت    ۱ /۳۵)
(۲؎ حاشیۃ الشلبی علٰی تبیین الحقائق    کتاب الطہارۃ    دارالکتب العلمیہ بیروت    ۱ /۳۵)

اقول : کونہ من سنن الدین کان یقابل عندکم کونہ من سنن الوضوء فما یغنی الرفع مع کونہ عطفا علی خبر سنتہ ای سنۃ الوضوء وبوجہ اخرفـــ ما المراد باستواء الاحوال نفی ان یختص بہ حال بحیث تفقد السنیۃ فی غیرہ ام نفی التشکیک بحسب الاحوال بحیث لایکون التصاقہ ببعضھا ازید من بعض علی الاول لاوجہ لاستظہار الثانی فلو کان سنۃ فی ابتداء الوضوء ای اشد طلبا فی ھذا الوقت والصق بہ لم ینتف استنانہ فی غیر الوضوء وعلی الثانی لاوجہ للثانی ولا للاول فضلا عن کون احدھما اظھر من الاخر۔

اقول : آپ کے نزدیک مسواک کا سنتِ دین ہونا،سنتِ وضو ہونے کے مقابل تھا تولفظ السواک کے مرفوع ہونے سے کیاکام بنے گاجب کہ وہ لفظ سنتہ (یعنی سنتِ وضو)کی خبرپرعطف ہوگا(یعنی یہ ہوگاکہ اور - وضو کی سنت-مسواک کرنابھی ہے۔ تواس ترکیب پربھی سنتِ دین کے بجائے سنتِ وضو ہوناہی نکلتاہے۱۲م) بطرزِ دیگر تمام احوال کے برابر ہونے سے کیا مراد ہے (۱)یہ کہ کسی حال میں مسواک کی ایسی کوئی خصوصیت نہیں جس کے باعث وہ دوسرے حال میں مسنون  نہ رہ جائے (۲)یا احوال کے لحاظ سے تشکیک کی نفی مقصود ہے اس طرح کہ مسواک کابعض احوال سے تعلق بعض دیگر سے زیادہ نہ ہو۔اگرتقدیراول مراد ہے تولفظ السواک کے رفع کوزیادہ ظاہرکہنے کی کوئی وجہ نہیں۔کیونکہ مسواک اگر ابتدائے وضو میں سنت ہو۔یعنی اس وقت میں اس کا مطالبہ اوراس سے اس کا تعلق زیادہ ہو۔تواس سے غیر وضو میں اس کی مسنونیت کی نفی نہیں ہوتی۔برتقدیر دوم نہ ترکیب ثانی کی کوئی وجہ رہ جاتی ہے نہ ترکیب اوّل کی کسی ایک کادوسری سے زیادہ ظاہر ہوناتودرکنار۔(کیونکہ تمام احوال کے برابر ہونے کا مطلب جب یہ ٹھہراکہ کسی بھی حال سے اس کا تعلق دوسرے سے زیادہ نہیں، تو نہ یہ کہنے کی کوئی وجہ رہی کہ ابتدائے وضومیں سنت ہے نہ یہ ماننے کی وجہ رہی کہ وضو میں مطلقاً سنّت ہے۱۲م)

فــ:تطفل رابع علیہ ۔

والعجب من البحر صاحب البحرانہ جعل الاولی کون وقتہ عند المضمضۃ لاقبل الوضوء وتبع الزیلعی فی ان الجر اظھر لیفید ان الابتداء بہ سنۃ نبہ علیہ اخوہ فی النھر رحمھم اللّٰہ تعالی جمیعا۔

اور صاحبِ بحر پرتعجب ہے کہ ایک طرف توانہوںنے یہ ماناہے کہ وقت مسواک حالتِ مضمضہ میں ہونا اولٰی ہے قبلِ وضونہیں،اوردوسری طرف انہوںنے کنز میں لفظ السواک کاجرزیادہ ظاہر ماننے میں امام زیلعی کی پیروی بھی کرلی ہے جس کا مفادیہ ہے مسواک وضو کے شروع میں ہوناسنّت ہے۔ اس پر ان کے برادر نے النہر الفائق میں تنبیہ کی، رحمہم اللہ تعالٰی جمیعا۔

اما تعلیل الفتح ان لاسنیۃ دون المواظبۃ۱؎ ولم تثبت عند الوضوء۔

اب رہی فتح القدیر کی یہ تعلیل کہ بغیر مداومت کے سنّیت ثابت نہیں ہوتی اور وقتِ وضو مداومت ثابت نہیں۔

(۱؎فتح القدیر    کتاب الطہارۃ     مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر         ۱/ ۲۲)

اقول :  الدلیل فـــ۱ اعم من الدعوی فان المقصود نفی الاستنان للوضوء والدلیل نفی کونہ من السنن الداخلۃ فیہ فلم لایختار کونہ سنۃ قبلیۃ للوضوء۔

اقول: دلیل دعوی سے اعم ہے،اس لئے کہ مدعایہ ہے کہ مسواک وضو کے لئے سنت نہیں۔ اور دلیل یہ ہے کہ مسواک وضو کے اندر سنت نہیں ۔ توکیوں نہ یہ اختیارکیاجائے کہ مسواک وضو کی سنتِ قبلیہ ہے(یعنی وضو کے اندر تو نہیں مگر اس سے پہلے مسواک کرلینا سنتِ وضو ہے۱۲م)

فـــ۱:تطفل علی الفتح ۔

بالجملہ : بحکم متون واحادیث اظہر،وہی مختار بدائع وزیلعی وحلیہ ہے کہ مسواک وضو کی سنت قبلیہ ہے، ہاں سنت مؤکدہ اُسی وقت ہے جبکہ منہ میں تغیر ہو،اس تحقیق پر جبکہ مسواک وضو کی سنّت ہے مگر وضو میں نہیں بلکہ اُس سے پہلے ہے تو جو پانی کہ مسواک میں صرف ہوگا اس حساب سے خارج ہے سنّت یہ ہے کہ مسواک فـــ۲ کرنے سے پہلے دھولی جائے اور فراغ کے بعد دھو کر رکھی جائے اور کم از کم اُوپر کے دانتوں اور نیچے کے دانتوں میں تین تین بار تین پانیوں سے کی جائے۔

فـــ۲:مسئلہ مسواک دھو کر کی جائے اور کرکے دھولیں اورکم ازکم تین تین بارتین پانیوں سے ہو۔

دُرمختار میں ہے : اقلہ ثلاث فی الاعالی وثلاث فی الاسافل بمیاہ ثلثۃ ۲؎۔

اس کی کم سے کم مقداریہ ہے کہ تین بار اوپرکے دانتوں میں، تین بارنیچے کے دانتوں میں، تین تین پانیوں سے ہو۔

(۲؎ الدرالمختار    کتاب الطہارۃ     مطبع مجتبائی دہلی       ۱ /۲۱)

صغیری میں ہے: یغسلہ عد الاستیاک وعند الفراغ منہ ۱؎۔

مسواک کو مسواک کرنے کے وقت اوراس سے فارغ ہونے کے بعد دھولے۔(ت)

(۱؎ صغیری شرح منیۃ المصلی     ومن الآداب ان یستاک     مطبع مجتبائی دہلی     ص۱۴)

(۵) اس قدر تو درکار ہی ہے اور اُس کے ساتھ اگر منہ میں کوئی تغیر رائحہ ہوا تو جتنی بار مسواک اور کُلّیوں سے اس کا ازالہ ہو لازم ہے اس کیلئے کوئی حد مقرر نہیں بدبو دار کثیف فــ۱ بے احتیاطی کا حقّہ پینے والوں کو اس کا خیال سخت ضروری ہے اور اُن سے زیادہ سگریٹ والے کہ اس کی بدبو مرکب تمباکو سے سخت تر اور زیادہ دیرپا ہے اور ان سب سے زائد اشد ضرورت تمباکو کھانے والوں کو ہے جن کے منہ میں اُس کا جِرم دبا رہتا اور منہ کو اپنی بدبو سے بسا دیتا ہے یہ سب لوگ وہاں تک مسواک اور کُلّیاں کریں کہ منہ بالکل صاف ہوجائے اور بُو کا اصلاً نشان نہ رہے اور اس کا امتحان یوں ہے کہ ہاتھ اپنے منہ کے قریب لے جاکر منہ کھول کر زور سے تین بار حلق سے پوری سانس ہاتھ پر لیں اور معاً سونگھیں بغیر اس کے اندر کی بدبو خود کم محسوس ہوتی ہے،اور جب منہ میں فــ۲ بدبو ہوتو مسجد میں جانا حرام نماز میں داخل ہونا منع واللّٰہ الہادی۔

فــ۱:مسئلہ حقہ اورسگرٹ پینے اورتمباکوکھانے والوں کے لئے مسواک میں کہاں تک احتیاط واجب ہے اوران کے امتحان کاطریقہ۔
فــ۲:مسئلہ منہ میں بدبو ہوتوجب تک صاف نہ کرلیں مسجدمیں جانایانمازپڑھنامنع ہے۔

(۶) یوں ہی جسے تر کھانسی ہو اور بلغم کثیر ولزوج کہ بمشکل بتدریج جُدا ہو اور معلوم ہے کہ مسواک کی تکرار اور کُلیوں غراروں کا اکثار اُس کے خروج پر معین تو اُس کے لئے بھی حد نہیں باندھ سکتے۔
(۷) یہی حال زکام کا ہے جبکہ ریزش زیادہ اور لزوجت دار ہو اُس کے تصفیہ اور بار بار ہاتھ دھونے میں جو پانی صرف ہو وہ بھی جدا اور نامعین المقدار ہے۔
(۸) پانوں کی فــ۳ کثرت سے عادی خصوصاً جبکہ دانتوں میں فضا ہو تجربہ سے جانتے ہیں کہ چھالیا کے باریک ریزے اور پان کے بہت چھوٹے چھوٹے ٹکڑے اس طرح منہ کے اطراف واکناف میں جاگیر ہوتے ہیں کہ تین بلکہ کبھی دس بارہ کُلیاں بھی اُن کے تصفیہ تام کو کافی نہیں ہوتیں، نہ خلال اُنہیں نکال سکتا ہے نہ مسواک سوا کُلیوں کے کہ پانی منافذ میں داخل ہوتا اور جنبشیں دینے سے اُن جمے ہوئے باریک ذرّوں کو بتدریج چھڑ چھڑا کرلاتا ہے اس کی بھی کوئی تحدید نہیں ہوسکتی اور یہ کامل تصفیہ بھی بہت مؤکد ہے متعددفــ۱ احادیث میں ارشاد ہوا ہے کہ جب بندہ نماز کو کھڑا ہوتا ہے فرشتہ اس کے منہ پر اپنا منہ رکھتا ہے یہ جو کچھ پڑھتا ہے اس کے منہ سے نکل کر فرشتہ کے منہ میں جاتا ہے اُس وقت اگر کھانے کی کوئی شے اُس کے دانتوں میں ہوتی ہے ملائکہ کو اُس سے ایسی سخت ایذا ہوتی ہے کہ اور شے سے نہیں ہوتی۔

فــ۳ :مسئلہ پان کے عادی کوکلیوں میں کتنی احتیاط لازم ۔
فـــ:مسئلہ نمازمیں منہ کی کمال صفائی کالحاظ لازم ہے ورنہ فرشتوں کوسخت ایذاہوتی ہے ۔

البیہقی فی الشعب وتمام فی فوائدہ والدیلمی فی مسند الفردوس والضیاء فی المختارۃ عن جابر رضی اللّٰہ تعالی عنہ بسند صحیح قال قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ تعالی علیہ وسلم اذا قام احدکم یصلی من اللیل فلیستک فان احدکم اذا قرأ فی صلاتہ وضع ملک فاہ علی فیہ ولا یخرج من فیہ شیئ الادخل فم الملک ۱؎ ۔

بیہقی شعب الایمان میں،تمام فوائد میں، دیلمی مسندالفردوس میں،اور ضیاء مختارہ میں حضرت جابررضی اللہ تعالٰی عنہ سے بسندِ صحیح راوی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی نماز پڑھنے کھڑاہوتو مسواک کرلے اس لئے کہ جب وہ اپنی نمازمیں قراء ت کرتاہے توایک فرشتہ اپنا منہ اس کے منہ پر رکھ دیتا ہے اور جو قراء ت اس کے منہ سے نکلتی ہے فرشتے کے منہ میں جاتی ہے۔

(۱؎ کنز العمال بحوالہ شعب الایمان وتمام والدیلمی     حدیث ۲۶۲۲۱     مؤسسۃ الرسالۃبیروت ۹ /۳۱۹)

وللطبرانی فی الکبیر عن ابی ایوب الانصاری رضی اللّٰہ تعالی عنہ عن النبی صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم قال لیس شیئ اشد علی الملکین من ان یریابین اسنان صاحبھما شیئا وھو قائم یصلی ۲؎ وفی الباب عند ابن المبارک فی الزھد عن ابی عبدالرحمن السلمی عن امیر المومنین علی رضی اللّٰہ تعالی عنہ عن النبی صلی اللّٰہ تعالی علیہ وسلم والدیلمی عن عبداللّٰہ بن جعفر رضی اللّٰہ تعالی عنہما عنہ صلی اللّٰہ تعالی علیہ وسلم وابن نصر فی الصّلاۃ عن الزھری عن النبی صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم مرسلا والاٰجری فی اخلاق حملۃ القراٰن عن علی کرم اللّٰہ وجہہ موقوفا۔

اورمعجم طبرانی کبیر میں حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا:دونوں فرشتوں پر اس سے زیادہ گراں کوئی چیزنہیں کہ وہ اپنے ساتھ والے انسان کے دانتوں کے درمیان کھانے کی کوئی چیز پائیں جب وہ کھڑانماز پڑھ رہاہو۔اوراس بارے میں امام عبداللہ بن مبارک کی کتاب الزہد میں بھی حدیث ہے جوابوعبدالرحمٰن سلمی سے مروی ہے وہ امیر المومنین حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ سے وہ نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے راوی ہیں۔اوردیلمی نے بھی عبداللہ بن جعفر رضی اللہ تعالٰی عنہماسے ،نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے روایت کی ہے۔ اورابن نصرنے کتاب الصّلوٰۃ میں امام زہری سے نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے مرسلاً، اورآجری نے اخلاق حملۃ القرآن میں حضرت علی کرم اللہ تعالٰی وجہہ سے موقوفاً روایت کی ہے۔(ت)

(۲؎ المعجم الکبیر     حدیث ۴۰۶۱    المکتبۃ الفیصلیہ بیروت        ۴ /۱۷۷)

تنبیہ : سیدنافــ امام اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ سے حسن بن زیاد کی روایت کہ مستثنی پانیوں سے آب اول کے نیچے گزری جس کا حاصل یہ تھا کہ ایک رطل پانی سے استنجا اور ایک رطل منہ اور دونوں ہاتھ اور ایک رطل دونوں پاؤں کیلئے، اور اسی کو علّامہ شرف بخاری رحمہ الباری نے مقدمۃالصلاۃ میں ذکرفرمایاکہ ؎ (۱)    در وضو آب یک من ونیم ست
غسل راچار من زتعلیم ست
(۲)    در وضو کن بہ نیم من استنجا
دار مردست وروئے نیمن را
(۳)    پس بداں نیم من کہ مے ماند     
پائے شوید ہرانکہ مے داند ۱؎

(۱) پانی وضومیں ڈیڑھ سیرہے غسل کے لیے چارسیرکی تعلیم ہے۔
(۲) وضومیں آدھے سیرسے استنجاکر،ہاتھ اورمنہ کے لیے آدھے سیرکورکھ ۔
(۳) پھراس آدھے سیرسے جوبچتاہے پاؤں دھوئے وہ جوکہ جانتاہے ۔

فــ:مسئلہ منہ دھونے سے پہلے کی تینوں سنتیں بھی اسی ایک مُد میں داخل ہیں یانہیں ۔

(۱؎ نامِ حق         فصل سوم دربیان مقدار آب وضوو غسل    مکتبہ قادریہ لاہور    ص۱۴)

اقول:

اس سے ظاہریہ ہے واللہ تعالٰی اعلم کہ وضو میں صرف فرائض غسل کا حساب بتایا ہے کہ جتنا پانی دونوں پاؤں کیلئے رکھا ہے اُسی قدر مُنہ اور دونوں ہاتھ کیلئے،اول تو اسی قدرے بُعد ہے۔پاؤں کی ساخت اگر عالم کبیر میں شتر کی نظیر ہے جس کے سبب اُس کے تمام اطراف پر گزرنے کیلئے پانی زیادہ درکار ہے تو شک نہیں کہ ناخنِ دست سے کہنی کے اُوپر تک ہاتھ کی مساحت پاؤں سے بہت زائد ہے تو غایت یہ کہ ہاتھ کے برابر پاؤں پر صرف ہو نہ کہ منہ اور دونوں ہاتھ کے مجموعہ کے برابر پاؤوں پر ولہذا حدیث میں ہاتھوں اور پاؤوں پر برابر صرف کا ذکر آیا۔ بخاری و نسائی عــہ وابو بکر بن ابی شیبہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما سے راوی:

انہ توضأ فغسل وجہہ اخذ غرفۃ من ماء فتمضمض بھا واستنشق ثم اخذ غرفۃ من ماء فجعل بھا ھکذا اضافھا الی یدہ الاخری فغسل بھا وجہہ ثم اخذ غرفۃ من ماء فغسل بھا یدہ الیمنی ثم اخذ غرفۃ من ماء فغسل بھا یدہ الیسری ثم مسح برأسہ ثم اخذ غرفۃ من ماء فرش علی رجلہ الیمنی حتی غسلہا ثم اخذ غرفۃ اخری فغسل بھا رجلہ الیسری ثم قال ھکذا رأیت رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ تعالی علیہ وسلم یتوضأ۱؎۔

انہوں نے وضوکیا تو اپناچہرہ دھویا ایک چُلو پانی لے کر اس سے کُلی کی اورناک میں ڈالا پھر ایک چُلو لے کر اس طرح کیا۔اسے اپنے بائیں ہاتھ میں ملاکراس سے اپناچہرہ دھویا۔پھرایک چُلوپانی لے کر اس سے اپنا داہنا ہاتھ دھویا۔ پھرایک چُلو پانی لے کر اس سے اپنا بایاں ہاتھ دھویا پھر سرکا مسح کیا۔ پھر ایک چُلو پانی لے کر اسے دائیں پاؤں پرڈال کر اسے دھویا پھر دوسراچلو لے کر اس سے بایاں پاؤں دھویا پھر فرمایا: میں نے اسی طرح رسول صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کو وضوکرتے دیکھا۔ (ت)

عــہ و رواہ ابو داؤد مختصرا ویاتی وابن ماجۃ ایضا فاختصرہ جدا وفرقہ اھ منہ (م)
عــہ ابو داؤد نے اسے مختصراً روایت کیا۔یہ روایت آگے آئے گی۔او راسے ابن ماجہ نے بھی روایت کیامگر بہت مختصر کردیااوراسے الگ الگ کردیا۱۲منہ۔(ت)

(۱؎ صحیح البخاری    کتاب الوضوباب غسل الوجہ بالیدین من غرفۃٍ واحدۃ    قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۲۶)
(سنن النسائی     باب مسح الاذنین مع الرأس...الخ         نورمحمدکتب خانہ کراچی      ۱ /۲۹)
(المصنف لابن ابی شیبہ فی الوضوکم ھو مرۃ     حدیث ۶۴        دارالکتب العلمیہ بیروت ۱ /۱۷)

اور اگر اس سے قطع نظر کیجئے تو دونوں ہاتھ کلائیوں تک دھونا، کُلی کرنا، ناک میں پانی ڈالنا، منہ دھونا، دونوں ہاتھ ناخنِ دست سے کہنیوں کے اوپر تک دھونا اس تمام مجموعہ کے برابر صرف دونوں پاؤوں پر صرف ہونا غایت استبعاد میں ہے تو ظاہر یہی ہے کہ ابتدائی سُنتیں یعنی کلائیوں تک ہاتھ تین بار دھونا تین کُلّیاں تین بار ناک میں پانی یہ سب بھی اس حساب یک مُد سے خارج ہو عجب نہیں کہ حدیث رُبیع رضی اللہ تعالٰی عنہا جس میں پورا وضو مع سنن مذکور ہوا اور وضو کا برتن بھی دکھایا اور راوی نے اُس کا تخمینہ ایک مُد اور تہائی تک کیا اُس کا منشا یہی ہو کہ سنن قبلیہ کیلئے ثُلث مُد بڑھ گیا مگر احادیث مطلقہ سے متبادر وضو مع السنن ہے واللہ تعالٰی اعلم۔

امر چہارم فـــ: کیا پانی کی یہ مقداریں کہ مذکور ہوئیں حد محدود ہیں کہ ان سے کم وبیش ممنوع۔ ائمہ دین وعلمائے معتمدین مثل امام ابو زکریا نووی شرح صحیح مسلم اور امام محمود بدر عینی شرح صحیح بخاری اور امام محمد بن امیر الحاج شرح منیہ اور ملّا علی قاری شرح مشکوٰۃ میں اجماعِ امت نقل فرماتے ہیں کہ ان مقادیر پر قصر نہیں مقصود یہ ہے کہ پانی بلاوجہ محض زیادہ خرچ نہ ہو نہ ادائے سنت میں تقصیر رہے پھر کسی قدر ہو کچھ بندش نہیں،حدیث وظاہر الروایۃ میں جو مقادیر و چارمد آئیں اُن سے مراد ادنٰی قدر سنت ہے۔

فـــ :مسئلہ مسلمانوں کااجماع ہے کہ وضو و غسل میں پانی کی کوئی مقدارخاص لازم نہیں ۔

حلیہ میں ہے : ثم اعلم انہ نقل غیر واحد اجماع المسلمین علی ان الماء الذی یجزئ فی الوضوء والغسل غیر مقدر بمقدار بعینہ بل یکفی فیہ القلیل والکثیر اذا وجد شرط الغسل و ھو جریان الماء علی الاعضاء وما فی ظاھر الروایۃ من ان ادنی مایکفی فی الغسل صاع وفی الوضوء مدللحدیث المتفق علیہ لیس بتقدیر لازم بل ھو بیان ادنی قدرالماء المسنون فی الوضوء والغسل السابغین ۱؎۔

پھرواضح ہوکہ متعدد حضرات نے اس بات پر اجماعِ مسلمین نقل کیا ہے کہ وضووغسل میں کتنا پانی کافی ہوگااس کی کوئی خاص مقدار مقرر نہیں بلکہ کم وبیش اس میں کفایت کرسکتاہے جب کہ دھونے کی شرط پالی جائے وہ یہ کہ پانی اعضاء پر بہَہ جائے۔ اور وہ جو ظاہرالروایہ میں ہے کہ کم سے کم جتنا پانی غسل میں کفایت کرسکتاہے وہ ایک صاع ہے اور وضو میں ایک مُدکیوں کہ اس بارے میں متفق علیہ حدیث آئی ہے ، تویہ کوئی لازمی مقدارنہیں بلکہ یہ کامل وضو وغسل میں پانی کی ادنٰی مقدار مسنون کا بیان ہے۔(ت)

(۱؎حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی )

اُسی میں ہمارے مشائخ کرام سے ہے: من اسبغ الوضوء والغسل بدون ذلک اجزأہ وان لم یکفہ زاد علیہ۱؎۔

جواس سے کم میں وضووغسل کامل کرلے اس کے لئے کافی ہے اوراگراتناکفایت نہ کرے تواس پراضافہ کرلے۔(ت)

(۱؎حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی)

بلکہ ہمارے علماء فـــ۱نے تصریح فرمائی کہ غسل میں ایک صاع سے زیادت افضل ہے۔

فـــ۱:مسئلہ غسل میں ایک صاع سے زیادہ پانی خرچ کرناافضل ہے جب تک حداسراف بے سبب یاوسوسہ کی حالت نہ ہو۔

خلاصۃ الفتاوی میں ہے : الافضل ان لایقتصر علی الصاع فی الغسل بل یغتسل بازید منہ بعد ان لایؤدی الی الوسواس فان ادی لایستعمل الا قدرالحاجۃ ۲؎۔

افضل یہ ہے کہ غسل میں ایک صاع پرمحدود نہ رکھے بلکہ اس سے زائد سے غسل کرے بشرطیکہ وسوسے کی حد تک نہ پہنچائے اگر ایساہوتوصرف بقدرِ حاجت استعمال کرے۔(ت)

(۲؎خلاصۃالفتاوی     کتاب الطہارۃ ،فی کیفیۃ الغسل         مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ    ۱ /۱۴)

اس عبارت میں تصریح ہے کہ قدر حاجت سے زیادہ خرچ کرنا مستحب ہے جبکہ حد وسوسہ تک نہ پہنچے ہاں
وسوسہ کا قدم درمیان ہوتو حاجت سے زیادہ صَرف نہ کرے۔

اقول: وباللّٰہ التوفیق فـــ۲ مراتب پانچ ہیں: (۱) ضرورت(۲) حاجت(۳) منفعت(۴) زینت(۵) فضول۔

فـــ۲:شیئ کے پانچ مرتبے ہیں :ضرورت،حاجت ،منفعت ،زینت،فضول ،اوران کی تحقیق اورمکان وطعام ولباس وطہارت میں ان کی مثالیں ۔

ضرورت :  یہ کہ اُس کے بغیر گزر نہ ہوسکے جیسے مکان میں جُحر یتدخلہ۳؎ وہ سوراخ جس میں آدمی بزور سما سکے۔

(۳؎مسند الامام احمد بن حنبل     حدیث ابی عسیب رضی اللہ عنہ     المکتب الاسلامی بیروت    ۵ /۸۱)

کھانے میں لقیمات یقمن صلبہ ۴؎ چھوٹے چھوٹے چند لقمے کہ سدرمق کریں ادائے فرائض کی طاقت دیں۔

(۴؎سنن ابن ماجہ     کتاب الاطعمہ،باب الاقتصادفی الاکل...الخ        ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۲۴۸)

لباس میں خرقۃ تواری عورتہ ۱؎ اتنا ٹکڑا کہ ستر عورت کرے۔

(۱؎سنن الترمذی     کتاب الزہد    حدیث ۲۳۴۸    دارالفکربیروت    ۵ /۱۵۳)
(مسند احمدبن حنبل     المکتب الاسلامی بیروت    ۱ /۶۲و ۵ /۸۱)

حاجت:  یہ کہ بے اُس کے ضرر ہو،جیسے مکان اتنا کہ گرمی جاڑے برسات کی تکلیفوں سے بچا سکے، کھانا اتنا جس سے ادائے واجبات وسُنن کی قوت ملے، کپڑا اتنا کہ جاڑا روکے اتنا بدن ڈھکے جس کا کھولنا نماز و مجمع ناس میں خلاف ادب وتہذیب ہے مثلاً خالی پاجامے فــ سے نماز مکروہ تحریمی ہے۔

فــ : مسئلہ خالی پاجامہ سے نمازمکروہ تحریمی ہے ۔

ابو داؤد والحاکم عن بریدۃ رضی اللّٰہ تعالی عنہ ان النبی صلی اللّٰہ تعالی علیہ وسلم نھی ان یصلی الرجل فی سراویل ولیس علیہ رداء ۲؎۔

ابو داؤد اورحاکم نے حضرت بریدہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے منع فرمایا کہ آدمی بے چادر اوڑھے صرف پاجامے میں نماز پڑھے۔

(۲؎سنن ابی داؤد     کتاب الصلوۃ،باب من قال تیزر بہ اذاکان ضیقا آفتاب عالم پریس لاہور    ۱ /۹۳)
(المستدرک للحاکم     کتاب الصلوۃ ونہی ان یصلی الرجل وسراویل...الخ     دارالفکربیروت    ۱ /۲۵۰)

مسند احمد وصحیحین میں ابو ہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لایصلین احدکم فی الثوب الواحد لیس علی عاتقیہ من شیئ۳؎۔

ہرگزکوئی ایک کپڑے میں نماز نہ پڑھے کہ دونوں شانے کھُلے ہوں۔

(۳؎صحیح البخاری     کتاب الصلوۃ باب اذاصلی فی الثوب الواحد...الخ     قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۵۲)
(صحیح مسلم         کتاب الصلوۃ ،باب الصلوۃ فی ثوب واحد وصفۃ لبسہ     قدیمی کتب خانہ کراچی  ۱ /۹۸)
(مسند احمد بن حنبل     عن ابی ہریرۃ رضی اللہ عنہ          المکتب الاسلامی بیروت     ۲ /۲۴۳)

ولفظ البخاری عاتقۃ بالافراد (اور بخاری نے مفرد لفظ عاتقہ ذکر کیا ہے۔ ت)

خلاصۃ الفتاوٰی میں ہے : لوصلی مع السراویل والقمیص عندہ یکرہ۱؎۔

اگر کُرتا ہوتے ہوئے صرف پاجامے میں نماز پڑھی تومکروہ ہے۔(ت)

(۱؎ خلاصۃ الفتاوٰی     کتاب الطہارۃ ،الجنس فیمایکرہ فی الصلوۃ     مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ۱ /۵۸)

یوں ہی تنہا فــ۱پاجامہ پہنے راہ میں نکلنے والا ساقط العدالۃ مردود الشہادۃ خفیف الحرکات ہے۔ یہ مسئلہ خوب یاد رکھنے کا ہے کہ آج کل اکثر لوگوں میں اس کی بے پرواہی پھیلی ہے خصوصاً وہ جن کے مکان سرراہ ہیں۔

فــ۱ :مسئلہ تنہاپاجامہ پہنے راہ میں نکلنے والاساقط العدالۃ مردودالشہادۃ ہے ۔

فتاوی عالمگیریہ میں ہے : لاتقبل شہادۃ من یمشی فی الطریق بسراویل وحدہ لیس علیہ غیرہ کذا فی النھایۃ۲؎۔

اس کی شہادت مقبول نہیں جو راستے میں اس طرح چلتاہوکہ اس کے جسم پرصرف پاجامہ ہو، اور کچھ نہ ہو۔ایسا ہی نہایہ میں ہے۔(ت)

(۲؎ الفتاوٰی الہندیۃ    کتاب الشہادات الفصل الثانی     نورانی کتب خانہ پشاور    ۳ /۴۶۹)

منفعت : یہ کہ بغیر اس کے ضرر تو موجود نہیں مگر اُس کا ہونا اصل مقصود میں نافع ومفید ہے جیسے مکان میں بلندی و وسعت، کھانے میں سرکہ چٹنی سیری، لباس نماز میں عمامہ۔

زینت : یہ کہ مقصود سے محض بالائی زائد بات ہے جس سے ایک معمولی افزائش حسن وخوشنمائی کے سوا اور نفع وتائید غرض نہیں جیسے مکان کے دروں میں محرابیں، کھانے میں رنگتیں کہ قورمہ خوب سُرخ ہو فرنی نہایت سفید براق ہو،کپڑے میں بخیہ باریک ہو قطع میں کج نہ ہو۔

فضول : یہ کہ بے منفعت چیز میں حد سے زیادہ توسع وتدقیق جیسے مکان میں سونے چاندی کے کلس دیواروں پر قیمتی غلاف، کھانا کھائے پر میوے شیرینیاں، پائچے گٹوں سے نیچے اوّل مرتبہ فرض میں ہے دوم واجب وسنن مؤکدہ سوم وچہارم سنن غیر مؤکدہ سے مستحبات وآداب زائدہ تک پنجم باختلاف مراتب مباح ومکروہ تنزیہی وتحریمی سے حرام تک، قال المحقق علی الاطلاق فی الفتح ثم السید الحموی فی الغمز قاعدۃ الضرر یزال ھھنا خمسۃ مراتب ضرورۃ وحاجۃ ومنفعۃ وزینۃ وفضول فالضرورۃ بلوغہ حدا ان لم یتناول الممنوع ھلک او قارب وہذا یبیح تناول الحرام والحاجۃ کالجائع الذی لولم یجد ما یاکلہ لم یھلک غیرانہ یکون فی جہد ومشقۃ وھذا لایبیح الحرام ویبیح الفطر فی الصوم والمنفعۃ کالذی یشتھی خبزا لبر ولحم الغنم والطعام الدسم والزینۃ کالمشتھی الحلوی والسکر و الفضول التوسع باکل الحرام والشبھۃ۱؎ اھ

محقق علی الاطلاق نے فتح القدیر میں،پھر سیدحموی نے غمزالعیون میں فرمایا : قاعدہ -ضرر دورکیاجائے گا۔یہاں پانچ مراتب ہیں۔ ضرورت، حاجت ، منفعت،زینت،فضول۔ضرورت:اس حد کوپہنچ جائے کہ اگر ممنوع چیز نہ کھائے تو ہلاک ہوجائے یا ہلاکت کے قریب پہنچ جائے۔اس سے حرام کاکھانا،جائز ہوجاتا ہے۔اورحاجت جیسے اتنا بھُوکا ہوکہ اگر کھانے کی چیز نہ پائے توہلاک تونہ ہومگر تکلیف اور مشقت میں پڑجائے۔اس سے حرام کا کھانا،جائز نہیں ہوتااورروزے میں افطار مباح ہوجاتاہے۔منفعت جیسے وہ شخص جوگیہوں کی روٹی ،بکری کے گوشت اور چکنائی والے کھانے کی خواہش رکھتاہو۔ زینت جیسے حلوے اورشکرکی خواہش رکھنے ولا۔اور فضول یہ کہ حرام اور مشتبہ چیزکھانے کی وسعت اختیارکرنا۔(ت)

(۱؎ غمز عیون البصائرمع الاشباہ والنظائر    الفن الاول القاعدۃ الخامسہ ادارۃ القرآن الخ کراچی     ۱ /۱۱۹)

اقول :  تکلم رحمہ اللّٰہ تعالٰی فی مادۃ واحدۃ بخصوصہا وقنع عن التعریفات بالامثلۃ احالۃ علی فھم السامع وفی جعل فــ الحلوی والسکر من الزینۃ تامل فان فی الحلوی منافع لیست فی غیرھا وقد کان صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم یحب الحلواء والعسل کما اخرجہ الستۃ ۱؎ عن ام المومنین رضی اللّٰہ تعالٰی عنہا وما کان لیحب ما لا منفعۃ فیہ وقدنہاہ ربہ تبارک وتعالٰی عن زھرۃ الحیوۃ الدنیا فلولم تکن الازینۃ لما احبہا ولعل ماذکر العبد الضعیف امکن وامتن۔

اقول:حضرت محقق رحمہ اللہ تعالٰی نے صرف ایک بات (کھانے) پرکلام کیااورتعریفات پیش کرنے کے بجائے فہم سامع کے حوالے کرتے ہوئے مثالوں پر اکتفاکی۔اورحلوے وشکّر کوزینت شمارکرنا محلّ تامل ہے اس لئے کہ حلوے میں کچھ ایسے فوائد ہیں جو دوسری چیز میں نہیں اور رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم حلوا اورشہد پسندفرماتے تھے جیساکہ اصحابِ ستّہ نے ام المومنین رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی ہے۔ اور سرکار کی یہ شان نہ تھی کہ ایسی چیز محبوب رکھیں جس میں کوئی فائدہ نہ ہو۔حالاں کہ انہیں رب تعالٰی نے
دنیاوی زندگی کی آرائش سے منع فرمایا ہے تویہ اگر محض زینت ہوتا توسرکار اسے پسند نہ فرماتے۔اورشاید بندہ ضعیف نے جوذکرکیاوہ زیادہ پختہ اورمضبوط ہے۔(ت)

فـــ : تطفل علی الفتح والحموی ۔

(۱؎ صحیح البخاری    کتاب الاشربۃ،باب شرب الحلواء والعسل    قدیمی کتب خانہ کراچی    ۲ /۸۴۰)
(سنن ابی داؤد     کتاب الاشربۃ ،باب فی شرب العسل     آفتاب عالم پریس لاہور    ۲ /۱۶۶)
(سنن الترمذی کتاب الاطعمۃباب ماجاء فی حب النبی صلی اللہ علیہ وسلم الحلو و العسل،حدیث ۱۸۳۸ دارالفکربیروت ۳ /۳۲۷)
(سنن ابن ماجۃ     کتاب الاطعمۃ ،باب الحلواء         ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی     ص۲۴۶)

انہیں مراتب کو طہارت میں لحاظ کیجئے تو جس عضو کا جتنا دھونا فرض ہے اُس کے ذرّے ذرّے پر ایک بار پانی تقاطر کے ساتھ اگرچہ خفیف بہہ جانا مرتبہ ضرورت میں ہے کہ بے اس کے طہارت ناممکن اور تثلیث مرتبہ حاجت میں ہے یوں ہی وضو میں مُنہ دھونے سے پہلے کی سنن ثلاث کہ یہ چاروں مؤکدات ہیں اور ان کے ترک میں ضرر من زاد  او نقص فقد تعدی وظلم (جس نے اس سے زیادہ یا کم کیا تو اس نے حد سے تجاوز کیا اور ظلم کیا۔ ت) اور ہر بار پانی بفراغت بہنا جس سے کمال تثلیث میں کوئی شبہ نہ گزرے اور ہر ہر ذرّہ عضو پر غور وتامل کی حاجت نہ پڑے یہ منفعت ہے اور غرہ وتحجیل فــ کی اطاعت زینت اور کسی عضو کو قصداً چار بار دھونا فضول۔

فــ:مسئلہ وضو میں غرہ و تحجیل کا بڑھانا مستحب ہے اور اس کے معنٰی کا بیان۔

رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں: ان امتی یدعون یوم القٰیمۃ غرا محجلین من اٰثار الوضوء فمن استطاع منکم ان یطیل غرتہ فلیفعل ۱؎ رواہ الشیخان عن ابی ھریرۃ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ وفی لفظ المسلم عنہ انتم الغر المحجلون یوم القٰیمۃ من اسباغ الوضوء فمن استطاع منکم فلیطل غرتہ وتحجیلہ ۲؎۔

یعنی میری امت کے چہرے اورچاروں ہاتھ پاؤں روزِقیامت وضو کے نور سے روشن و منورہوں گے تو تم میں جس سے ہوسکے اسے چاہئے کہ اپنے اس نور کو زیادہ کرے اسے شیخین نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کیا اور مسلم کی ایک روایت کے الفاظ یہ ہیں: تم لوگ وضو کامل کرنے کی وجہ سے روزِقیامت روشن چہرے، چمکتے دست و پا والے ہوگے تو تم میں جس سے ہوسکے اپنے چہرے اورہاتھوں کی روشنی زیادہ کرے۔(ت)

(۱؎ صحیح البخاری    کتاب الوضوء،باب فضل الوضوء الغر المحجلون من آثار الوضوء قدیمی کتب خانہ کراچی    ۱ /۲۵)
(صحیح مسلم    کتاب الطہارۃ،باب استحباب اطالۃ الغرۃ والتحجیل فی الوضوء قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۱۲۶)
(۲؎ صحیح مسلم    کتاب الطہارۃ،باب استحباب اطالۃ الغرۃ والتحجیل فی الوضوء قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۱۲۶)

یعنی میری اُمّت کے چہرے اور چاروں ہاتھ پاؤں روزِقیامت وضو کے نور سے روشن ہوں گے توتم میں جس سے ہوسکے اُسے چاہئے کہ اپنے اس نور کو زیادہ کرے یعنی چہرہ کے اطراف میں جو حدیں شرعاً مقرر ہیں اُس سے کچھ زیادہ دھوئے اور ہاتھ نصف بازو اور پاؤں نیم ساق تک۔

دُرمختار میں ہے: من الاٰداب اطالۃ غرتہ وتحجیلہ۳؎۔

آدابِ وضو میں سے یہ ہے کہ اپنے چہرے اور دست و پا کے نشاناتِ نور زیادہ کرے۔(ت)

(۳؎ الدرالمختار     کتاب الطہارۃ   مطبع مجتبائی دہلی  ۱ /۲۴)

ردالمحتار میں ہے: فی البحر اطالۃ الغرۃ بالزیادۃ علی الحد المحدود وفی الحلیۃ التحجیل فی الیدین والرجلین وھل لہ حد لم اقف فیہ علی شیئ لاصحابنا ونقل النووی اختلاف الشافعیۃ علی ثلثۃ اقوال الاول الزیادۃ بلا توقیف الثانی الی نصف العضد والساق الثالث الی المنکب والرکبتین قال والاحادیث تقتضی ذلک کلہ اھ ونقل ط الثانی عن شرح الشرعۃ مقتصرا علیہ ۱؎ اھ

بحر میں ہے: چہرے کی روشنی زیادہ کرنااس طرح کہ مقررہ حد سے زیادہ دھوئے۔اورحلیہ میں ہے کہ تحجیل کا تعلق دونوں ہاتھ پاؤں سے ہے(ہاتھ پاؤں کومقدار سے زیادہ دھوئے)کیا زیادتی کی کوئی حدبھی ہے اس بارے میں اپنے اصحاب کی کسی بات سے واقفیت مجھے نہ ہوئی۔امام نووی نے اس بارے میں شافعیہ کے تین اقوال لکھے ہیں اول یہ کہ بغیر کسی تحدید کے زیادتی ہو۔دوم یہ کہ آدھے بازو اورنصف ساق تک زیادتی ہو۔سوم یہ کہ کاندھے اور گھٹنوں تک زیادتی ہو۔فرمایاکہ احادیث کامقتضا یہ سب ہے اھ۔اور علامہ طحطاوی نے قولِ دوم کوشرح شرعہ سے نقل کیااوراسی پراکتفا کی اھ۔(ت)

(۱؎ رد المحتار        کتاب الطہارۃ    دار احیاء التراث العربی بیروت        ۱ /۸۸)

درمختار مکروہات وضو میں ہے : والاسراف ومنہ الزیادۃ علی الثلاث ۲؎۔

اور اسراف،اسی سے یہ بھی ہے کہ تین بار سے زیادہ دھوئے ۔(ت)

(۲؎ الدر المختار    کتاب الطہارۃ    مطبع مجتبائی دہلی    ۱ /۲۴ )

اُسی میں ہے: لوزاد (ای علی التثلیث) لطمانینۃ القلب لاباس بہ۳؎۔

اگر اطمینانِ قلب کے لئے تین بارسے زیادہ دھویا تواس میں حرج نہیں۔(ت)

(۳؎ الدر المختار    کتاب الطہارۃ    مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۲۲ )

ردالمحتار میں ہے : لانہ امر بترک مایریبہ الی مالا یریبہ وینبغی ان یقید ھذابغیرالموسوس اما ھو فیلزمہ قطع مادۃ الوسواس عنہ وعدم التفاتہ الی التشکیک لانہ فعل الشیطان وقد امرنا بمعاداتہ ومخالفتہ رحمتی۴؎۔

اس لئے کہ اسے حکم ہے کہ شک کی حالت چھوڑکر عدم شک کی حالت اختیارکرے، اوریہ حکم غیر وسوسہ زدہ کے ساتھ مقید ہونا چاہئے۔ وسوسے والے پر تویہ لازم ہے کہ وسوسے کا مادّہ قطع کرے اور تشکیک کی جانب التفات نہ کرے کیوں کہ یہ شیطان کا فعل ہے اور ہمیں حکم یہ ہے کہ اس سے دشمنی رکھیں اورا س کی مخالفت کریں-رحمتی-(ت)

(۴؎رد المحتار        کتاب الطہارۃ    دار احیاء التراث العربی بیروت        ۱ /۸۱)

اور شک نہیں کہ صرف ایک صاع سے غسل میں سر سے پاؤں تک بفراغ خاطر تثلیث کا حصول دشوار لہٰذا ہمارے علماء نے اطمینان قلب کیلئے صاع سے زیادت کو افضل فرمایا۔
ۤ

لقولہ صلی اللّٰہ تعالی علیہ وسلم دع مایریبک الی مالا یریبک فان الصدق طمانینۃ وان الکذب ریبۃ رواہ الائمۃ احمد والترمذی ۱؎ وابن حبان بسند جید عن الحسن المجتبی ریحانۃ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ ثم علیہ وسلم وھو عند ابن قانع عنہ بلفظ فان الصدق ینجی ۲؎ ۔

کیونکہ حضوراقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کا ارشادہے:''تجھے جوچیز شک میں ڈالے اسے چھوڑکر وہ اختیار کرجس میں تجھے شک نہ ہو۔اس لئے کہ صدق طمانینت ہے اورکذب شک وقلق ۔اسے امام احمد،ترمذی،اورابن حبان نے بسندِجیّدریحانہ رسول حضرت حسن مجتبٰی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے روایت کیا۔ اور ابن قانع نے ان سے جو روایت کی اس میں یہ الفاظ ہیں: اس لئے کہ صدق نجات بخش ہے۔(ت)

(۱؎ سنن الترمذی    کتاب صفۃ القیامۃ    حدیث۲۵۲۶    دارالفکر بیروت        ۴ /۲۳۲)
(مسند احمد بن حنبل    عن حسن رضی اللہ عنہ            المکتب الاسلامی بیروت    ۱ /۲۰۰)
(موار الظمآن الٰی زوائد ابن حبان    حدیث۵۱۲            المطبعۃ السلفیۃ        ص۱۳۷)

(نوٹ:موارد الظمآن کے الفاظ میں ہے:ان الخیر طمانیۃ والشر ریبۃ۔)

(۲؎ کشف الخفاء بحوالہ ابن قانع عن الحسن    حدیث۱۳۰۵    دارالکتب العلمیہ بیروت    ۱ /۳۶۰)

اور یہ ضرور فوق الحاجۃ ہے کہ منفعت ہے یونہی میل کا چھڑانا داخل زینت اور اس میں جو زیارت ہو وہ بھی فوق الحاجۃ۔ یہ معنی ہیں قول خلاصہ کے کہ غیر موسوس کو حاجت سے زیادہ صرف کرنا افضل ہے۔

اقول وبما و فقنی المولی تبارک وتعالی من ھذا التقریر المنیر ظھر الجواب عما اوردہ الامام ابن امیر الحاج اذ قال بعد نقل ماقدمنا عن الخلاصۃ لایعری اطلاق الافضیلۃ المذکورۃ من نظر کما لایخفی علی المتأمل۱؎ اھ وللّٰہ الحمد۔

اقول: اس تقریرمنیر سے۔جس سے مولٰی تبارک وتعالٰی نے مجھ کوواقف کرایا۔اس اعتراض کاجواب واضح ہوگیاجوامام ابن امیر الحاج نے خلاصہ کی سابقہ عبارت نقل کرنے کے بعد پیش کیاکہ: مذکورہ افضلیت کومطلق رکھنا محلِ نظر ہے جیساکہ تأمل کرنے والے پر مخفی نہیں اھ۔ وللہ الحمد۔

(۱؎ حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی)

تنبیہ : ماذکرت ان تثلیث الغسل بالطمانینۃ عسیر بالصاع شیئ تشہد لہ التجربۃ وایش انا وانت وقد استبعدہ ریحانۃ من ریاحین المصطفی صلی اللّٰہ تعالی علیہ وعلیھم وسلم اعنی السید الامام الاجل محمدا الباقر رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ اخرج البخاری فــ(وعزاہ فی الحلیۃ لھما ولم ارہ لمسلم ولا عزاہ الیہ فی العمدۃ ولا الارشاد) عن ابی اسحٰق حدثنا ابو جعفر انہ کان عند جابر بن عبداللّٰہ ھو و ابوہ رضی اللّٰہ تعالی عنھم وعندہ قوم فسألوہ عن الغسل فقال یکفیک صاع فقال رجل مایکفینی فقال جابر کان یکفی من ھو اوفی منک شعرا وخیرا منک ثم امّنا فی ثوب۲؎

تنبیہ: یہ جومیں نے ذکر کیا کہ ایک صاع سے غسل میں اعضا کو تین تین بار دھولینا مشکل ہے ایسی بات ہے جس پر تجربہ شاہد ہے اور ما و شما کیاہیں اسے گلشنِ مصطفی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے ایک گُلِ تر امامِ اجل سیّدنا محمد باقر رضی اللہ تعالٰی عنہ نے بعید سمجھا۔امام بخاری نے (حلیہ میں اس پربخاری ومسلم دونوں کا حوالہ دیا ہے،اورمیں نے یہ حدیث مسلم میں نہ دیکھی۔اورعمدۃ القاری وارشاد الساری میں بھی مسلم کا حوالہ نہ دیا)ابواسحاق سے روایت کی انہوں نے فرمایا ہم سے ابو جعفر(امام محمد باقر)نے حدیث بیان فرمائی کہ وہ اور اُن کے والد حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالٰی عنہم کے پاس تھے۔ اورکچھ دوسرے لوگ بھی وہاں موجودتھے۔ان حضرات نے حضرت جابر سے غسل کے بارے میں پوچھا انہوں نے فرمایا: ایک صاع تمہیں کافی ہے۔ ایک شخص نے کہا:مجھے کافی نہیں ہوتا۔اس پر حضرت جابر نے فرمایا: کافی تو انہیں ہوجاتا تھاجوتم سے زیادہ بال اور خیر وخوبی والے تھے۔ پھر انہوں نے ایک ہی کپڑا اوڑھ کر ہماری امامت بھی فرمائی ہے۔

فـــ:تطفل اٰخر علیہا۔

(۲؎ صحیح البخاری    کتاب الغسل،باب الغسل بالصاع و نحوہ    قدیمی کتب خانہ کراچی    ۱ /۳۹)

قال فی العمدۃ فی مسند اسحٰق بن راھویہ ان متولی السؤال ھو ابو جعفر ۱؎ وقولہ قال رجل المراد بہ الحسن بن محمد بن علی بن ابی طالب الذی یعرف ابوہ بابن الحنفیۃ ۲؎ اھ وتبعہ القسطلانی۔

عمدۃ القاری میں ہے کہ مسند اسحٰق بن راہویہ میں ہے کہ سوال کرنے والے ابو جعفر(امام محمد باقر) تھے۔ اورانکی عبارت''ایک شخص نے کہا'' میں قائل سے مراد حسن بن محمد بن علی بن ابی طالب ہیں جن کے والد ابن الحنفیہ کے ساتھ معروف تھے اھ۔اس پرقسطلانی نے بھی عینی کی پیروی کی ہے۔

(۱؎ و ۲؎ عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری    باب الغسل،تحت الحدیث ۲۵۲ دارالکتب العلمیہ بیروت ۳ /۲۹۵)

اقول  :  حدیث فــ الحسن بن محمد علی ما فی الصحیحین ھکذا عن ابی جعفر قال لی جابر اتانی ابن عمک یعرض بالحسن بن محمد بن الحنفیۃ قال کیف الغسل من الجنابۃ فقلت کان النبی صلی اللّٰہ تعالی علیہ وسلم یاخذ ثلث اکف فیفیضھا علی رأسہ ثم یفیض علی سائر جسدہ فقال لی الحسن انی رجل کثیر الشعر فقلت کان النبی صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم اکثر منک شعرا ۳؎ ھذا لفظ "خ" ونحوہ "م"

اقول:حضرت حسن بن محمد کی حدیث صحیحین میں اس طرح ہے :ابوجعفرسے مروی ہے کہ مجھ سے حضرت جابرنے فرمایا: میرے پاس تمہارا عم زاد۔حسن بن محمد بن الحنفیہ کی جانب اشارہ ہے۔ آیا۔کہا:غسلِ جنابت کس طرح ہوتا ہے؟  میں نے کہا:نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم تین کف پانی لے کراپنے سرپربہاتے پھر باقی جسم پر بہاتے۔اس پر حسن نے مجھ سے کہا: میرے بال بہت ہیں۔ میں نے کہا: نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے بال تم سے زیادہ تھے۔ یہ بخاری کے الفاظ ہیں۔اوراسی کے ہم معنی مسلم کی روایت میں بھی ہے،

فـــ:تطفل علی الامام العینی والقسطلانی۔

(۳؎ صحیح البخاری    کتاب الغسل،باب من افاض علی رأسہٖ ثلثا        قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۳۹)

وفیہ قال جابر فقلت لہ یاابن اخی کان شعر رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ تعالی علیہ وسلم اکثر من شعرک واطیب ۱؎ وھو نص فی ان محمدا لم یشھد مخاطبتہ جابر والحسن وانما حکاھا لہ جابر بخلاف حدیث الباب وفی الکلام ایضا نوع تفاوت بل الرجل القائل ھو الامام ابو جعفر نفسہ اومن قال منھم مع تسلیم الباقین اخرج النسائی عن ابی اسحاق عن ابی جعفر قال تمارینا فی الغسل عند جابر بن عبداللّٰہ رضی اللّٰہ تعالٰی عنھما فقال جابر یکفی من الغسل من الجنابۃ صاع من ماء قلنا مایکفی صاع ولا صاعان قال جابر قدکان یکفی من کان خیرا منکم واکثر شعرا ۲؎ صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم۔

 اوراس میں یوں ہے کہ جابر نے فرمایا: میں نے اس سے کہا جانِ برادر! رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے بال تمہارے بالوں سے زیادہ اور پاکیزہ ترتھے۔یہ روایت اس بارے میں نص ہے کہ امام محمد باقرحضرت جابروحسن کی گفتگوکے وقت موجود نہ تھے اور ان سے حضرت جابر نے قصہ بتایا بخلاف زیر بحث حدیث کے،(جس میں خود ان کی موجودگی مذکورہے) اورکلام میں کچھ تفاوت ہے۔بلکہ اس حدیث میں ناکافی ہونے کی بات کہنے والے خود امام ابو جعفرہیں یاان حضرات میں سے کوئی اورشخص جنہوں نے کہا اور باقی نے تسلیم کیا۔ (کیوں کہ نسائی کی روایت میں یہ تفصیل ہے)امام نسائی نے ابواسحٰق سے روایت کی وہ ابو جعفر سے راوی ہیں انہوں نے کہا :ہم نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالٰی عنہما کے پاس غسل کے بارے میں اختلاف کیا۔ حضرت جابرنے کہا: غسل جنابت میں ایک صاع پانی کافی ہے۔ ہم نے کہا: ایک صاع دو صاع ناکافی ہے۔ حضرت جابرنے فرمایا: کافی تو انہیں ہوجاتا تھاجوتم لوگوں سے بہتراورتم سے زیادہ بال والے تھے صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ۔

(۱؎ صحیح مسلم     کتاب الحیض،باب استحباب افاضۃ الماء علٰی الرأس وغیرہ...الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۱۴۹)
(۲؎ سنن النسائی کتاب الطہارۃ،باب ذکر القدر الذی یکتفی بہ الرجل من الماء للغسل نورمحمد کارخانہ تجار ت کراچی۱ /۴۶)

قال فی الحلیۃ یشعر ایضا بان ھذا التقدیر لیس بلازم فی کل حالۃ لکل واحد ومن ثمہ قال الشیخ عزالدین بن عبدالسلام ھذا فی حق من یشبہ جسدہ جسدالنبی صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم انتھی یعنی فی الحجم ولعل انکار جابر وردہ علی القائل لظھور ان جسد القائل کان نحوجسد رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم مع فھم جابر عند الشک فی کون ذلک کافیا لہ اما لوسوسۃ اوغیرھا فاتی برد عنیف لیکون اقلع لذلک السبب من النفس واجمع فی التأسی بہ صلی اللّٰہ تعالی علیہ وسلم فی ذلک۔

حلیہ میں لکھتے ہیں:اس سے معلوم ہوتاہے کہ یہ تحدید ہر حال میں،ہرشخص کے لئے لازم نہیں۔اسی لئے شیخ عزّالدین بن عبدالسلام نے فرمایایہ اس کے حق میں ہے جس کا جسم ،نبی کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے جسم کی طرح ہو۔انتہی۔ یعنی حجم میں۔شاید حضرت جابرکاانکاراورقائل کی تردید اسی لئے تھی کہ ظاہر یہ تھاکہ قائل کا جسم رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے جسم کی طرح تھا،ساتھ ہی حضرت جابرنے قائل سے متعلق یہ سمجھا کہ اسے ایک صاع کے کافی ہونے میں شک ہے جس کی وجہ وسوسہ ہے یااورکچھ۔تو اس کی ایسی سخت تردید فرمائی جو نفس سے اس شک کا سبب نکال باہر کردے اور اس بارے میں رسول اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی اقتدا پر طمانینت قلب پیدا کردے۔

ھذا التوجیہ الذی وفقنا لہ اولی من قول غیر واحد من المشائخ ان مافی ظاھر الروایۃ (ای ماتقدم ان الصاع والمداد فی مایکفی) بیان لمقدار الکفایۃ ثم یرد فونہ بقولھم حتی ان من اسبغ الوضوء والغسل بدون ذلک اجزاء ہ وان لم یکفہ زاد علیہ وکذا الکلام فیما روی الحسن عن ابی حنیفۃ (ای ماتقدم من رطل ورطلین وثلثۃ فی الاحوال) فی الوضوء ۱؎ اھ کلامہ الشریف مزید اما بین الاھلۃ۔

یہ توجیہ جس کی ہمیں توفیق ملی متعددمشائخ کے اس قول سے بہتر ہے کہ ظاہرالروایۃ کاکلام (یعنی وہ جوپہلے گزرا کہ صاع اورمُد،ادنٰی مقدار کفایت ہے)مقدار کفایت کابیان ہے پھر اس کے بعد وہی مشائخ یہ بھی فرماتے ہیں کہ جو وضو اور غسل اس سے کم مقدار میں کامل کرلے اس کے لئے وہی کافی ہے اوراگر یہ اس کے لئے کافی نہ ہوتواضافہ کرلے ۔اسی طرح اس میں بھی کلام ہے جوحسن بن زیادنے وضو کے بارے میں امام ابو حنیفہ سے روایت کی(یعنی وہ جوگزرا کہ مختلف احوال میں ایک رطل،دو رطل اورتین رطل کافی ہے)محقق حلبی کا کلام ہلالین کے درمیان ہمارے اضافوں کے ساتھ ختم ہوا۔

(۱؎ حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی)

اقول اولا  :  نظرفــ۱ رحمہ اللّٰہ تعالٰی الی لفظ البخاری قال رجل ولوکان متذکرا ما فی النسائی من قول الامام الباقر رضی اللّٰہ تعالی عنہ قلنا لم یرض۱؎ بذکر الوسوسۃ فحاشا محمد الباقر عنھا۔

اقول اوّلاً : صاحب حلیہ رحمہ اللہ تعالی نے بخاری کے الفاظ''ایک شخص نے کہا''پرنظررکھی اگر انہیں وہ یادہوتاجونسائی میں امام باقررضی اللہ تعالٰی عنہ کاقول مذکورہے کہ ''ہم نے کہا'' تو وسوسہ کا تذکرہ پسندنہ کرتے۔کیوں کہ امام محمد باقر وسوسہ سے دُور ہیں۔

(۱؎ سنن النسائی کتاب الطہارۃ،باب ذکر القدر الذی یکتفی بہ الرجل... الخ نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ۱/ ۴۶)

ثانیا  : لوکانت فــ۲ علی ذکر منہ لم یذکر قولہ لظھور ان جسد القائل الخ فان ذلک ان فرض مستقیما ففی جسد بعضھم کالامام الباقر لا کلھم والقائلون القوم لقولہ قلنا وقول جابر من کان خیرا منکم وان تولی التکلم احدھم۔

ثانیاً: وہ روایت یاد رہتی تو یہ بات نہ کہتے کہ''ظاہر یہ تھاکہ قائل کا جسم الخ''۔کیوں کہ اسے اگر درست بھی مان لیاجائے توان میں سے بعض جیسے امام باقر کے جسم سے متعلق یہ بات ہوسکتی ہے سب سے متعلق نہیں جب کہ قائل سبھی حضرات تھے کیونکہ امام باقر کے الفاظ یہ ہیں کہ''ہم نے کہا''اورحضرت جابر کے الفاظ یہ ہیں کہ''تم لوگوں سے بہتر تھے''۔اگرچہ بولنے والے ان حضرات میں سے ایک ہی فرد رہے ہوں۔

فــ:تطفل اٰخرعلیہا۔

وثالثا : لایقتصرفــ۳ الامر علی المقاربۃ فی الحجم وحدہ بل یختلف فــ۴ باختلاف بدنین نعومۃ وخشونۃ و رطوبۃ ویبوسۃ وکون الشخص اجرد اواشعر وکث اللحیۃ اوخفیفھا وتام الوفرۃ اومحلوقہا الی غیر ذلک من الاسباب بل یختلف لشخص واحد باختلاف الفصول والبلدان والعمر والمزاج وغیر ذلک ۔

ثالثا : معاملہ صرف حجم میں قریب قریب ہونے پرمحدود نہیں، بلکہ فرق یوں بھی ہوتا ہے کہ ایک بدن نرم ہو دوسرا سخت ،ایک رطب ہودوسرا یابس،اوریُوں بھی کہ ایک شخص کم بال والا ہو دوسرا زیادہ بال والا،ایک کی داڑھی گھنی دوسرے کی خفیف،ایک کے سر پرلمبے لمبے بال ہوں دوسرے کا سر مُنڈاہوا ہو، اور اس طرح کے فرق کے بہت سے اسباب ہوتے ہیں۔بلکہ موسم،شہر ،عمر ،مزاج وغیرہ کی تبدیلیوں سے خود ایک ہی شخص کاحال مختلف ہواکرتاہے۔

فـــ۳ : تطفل ثالث علیہا۔

فـــ۴ سب کے لیے غسل و وضو میں پانی کی مقدارجس طرح عوام میں مشہور ہے محض باطل ہے ایک شخص دیو قامت ہے ایک نہایت نحیف دبلا پتلا،ایک بہت درازقد ہے دوسراکمال ٹھنگنا، ایک بدن نرم و نازک و تر دوسرا خشک کُھرّا،ایک کے تمام اعضاء پر بال ہیں دوسرے کا بدن صاف ،ایک کی داڑھی بڑی اور گھنی،دوسرا بے ریش یا چند بال،ایک کے سر پر بڑے بڑے بال انبوہ دوسرے کا سر منڈھا ہوا۔ان سب کے لئے ایک مقدار کیونکر ممکن بلکہ شخص واحد کیلئے فصلوں اور شہروں اور عمر و مزاج کے تبدل سے مقدار بدل جاتی ہے،برسات میں بدن میں تری ہوتی ہے پانی جلد دوڑتا ہے،جاڑے میں خشکی ہوتی ہے وعلٰی ہذاالقیاس۔

ورابعا  : بہ فــ۱ ظھران لوفرض لھم مداناۃ فی الحجم کان من المحال العادی المداناۃ فی جمیع اسباب الاختلاف بل ھو محال قطعا فمن اعظمھا النعومۃ ومن بدنہ کبدن ھذا القمر الزاھر صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم

رابعاً: اسی سے یہ بھی واضح ہوگیا کہ بالفرض ان سب حضرات میں حجم کاقریب قریب ہوناظاہرتھاتومحال عادی ہے کہ تمام اسباب اختلاف میں باہم قرب رہاہو،بلکہ یہ محال قطعی ہے کیونکہ سب سے عظیم سبب فرق بدن کی نرمی و لطافت ہے اورایساکون ہوسکتاہے جس کابدن اس ماہِ انورصلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے بدن جیساہو۔

فــ۱:تطفل رابع علیھا۔

وخامسا : لقی فــ۲ الامام الباقر سیدنا جابرا رضی اللّٰہ تعالی عنہما انما کان بعد ما صار بصیرا فکیف یعرف حجم ابدانھم۔

خامساً: امام باقرکی ملاقات سیدناجابر رضی اللہ تعالٰی عنہماسے اس وقت ہوئی جب حضرت جابر آنکھوں سے معذور ہو چکے تھے تو وہ ان لوگوں کے حجم کی شناخت کیسے کرتے۔

فـــ۲:تطفل خامس علیھا۔

وسادسا  : کلام فــ۳ جابر نفسہ یدل انہ انما بناہ علی کثرۃ شعرالراس وقلتہ ۔

سادساً: خود حضرت جابر رضی اللہ تعالٰی عنہ کا کلام بھی بتارہا ہے کہ انہوں نے بنائے کلام سر کے بالوں کی کثرت وقلّت پررکھی تھی۔

فــ۳:تطفل سادس علیھا۔

وسابعا  : یریدفــ۱رحمہ اللّٰہ تعالٰی الاخذ علی المشایخ انھم حملوا ظاھر الروایۃ علی ادنی مابہ الکفایۃ ثم عادوا علیہا بالنقض بقولھم من اسبغ بدونہ اجزأہ مع انہ ھو الناقل لفظ الظاھر ماتقدم ان ادنی مایکفی فی الغسل صاع وفی الوضوء مد فلا محمل لہا الا ماذکروا مابدلوا وما غیروا۔

سابعاً : صاحبِ حلیہ رحمہ اللہ تعالٰی حضرات مشایخ پر یہ گرفت کرناچاہتے ہیں کہ''انہوں نے ظاہر الروایہ کوادنٰی مقدار کفایت پر محمول کیاپھرخودہی اس کے خلاف اس کے قائل ہوئے کہ جو اس سے کم میں پورا کرے تو اسے وہی کافی ہے''۔حالانکہ صاحبِ حلیہ نے خودہی ظاہرالروایہ کے الفاظ یہ نقل کئے کہ غسل میں ادنٰی مقدار کافی ایک صاع اور وضو میں ایک مُد ہے۔ظاہر الروایہ کا مطلب ان حضرات نے جوذکرکیااس کے سوا کچھ اور نہیں۔ اوران حضرات نے کوئی تغیّر وتبدّل نہ کیا۔

فــ۱:تطفل سابع علیھا۔

وثامنا : لایجوزفــ۲ ان یکون مراد الظاھر والمشائخ تقدیر ھذا لشخص واحد فی الدنیا یکون اضأل الناس واقصرھم واھزلھم واصغرھم حتی لایمکن لغیرہ ان یغتسل فی قدر مایکفیہ وانما ھی متمسکۃ فی ذلک بالحدیث کما ذکرتم وتقدم ولا یسبق الی وھم انھم لایفرقون بین قصیر صغیر ضیئل اجرد امرد محلوق الراس وطویل کبیر عبل اشعرکث اللحیۃ وافی الوفرۃ فیحکموا ان ھذا ھو ادنی مایکفی کلا منھما فاذن لم یریدوا الا رجلا سویا معتدل الخلق متوسط الاحوال وحینئذ لایکون ما اردفوا بہ مناقضا لظاھر الروایۃ ولا مغایرا للتوجیہ الذی نحوتم الیہ وبالجملۃ اری فھمی القاصر متقاعدا عن درک مرام ھذا الکلام۔

ثامناً : ممکن نہیں کہ ظاہر الروایہ اورحضرات مشائخ کی مراد یہ ہوکہ تحدید دنیا کے ایسے فرد واحد کے لئے ہے جو سارے انسانوں سے کم جُثّہ، پست قد، دُبلا پتلا اور چھوٹا ہوکہ اس کے لئے جس قدر پانی کافی ہوجاتاہے اتنے میں دوسرے کسی شخص کے لئے غسل کرلینا ممکن ہی نہ ہو۔دراصل اس مقدار کے سلسلے میں ظاہر الروایہ کا استناد حدیثِ پاک سے ہے جیساکہ آپ نے ذکرکیااورحدیث بھی گزرچکی۔اور کسی کو وہم بھی نہیں ہوسکتاکہ یہ حضرات پست قامت اور دراز قامت،چھوٹے اوربڑے،نحیف اورفربہ،کم مُداور بال دار ،بے ریش اورگھنی داڑھی والے، سرمُنڈے اوروافرگیسووالے کے درمیان کوئی فرق نہیں کرتے اورایک طرف سے یہ حکم کرتے ہیں کہ یہی وہ ادنٰی مقدار ہے جو دونوں میں سے ہرایک کوکافی ہے۔ توان کی مراد کیاہے؟ تندرست،معتدل ہیأت،متوسط حالت کا آدمی۔ جب ایسا ہے توبعد میں جوانہوں نے ذکرکیا(اس سے کم میں ہوجائے تو وہ کافی اوراتنے میں نہ ہوسکے تواضافہ کرے) وہ نہ ظاہرالروایہ کے مخالف نہ اس توجیہ کے مغایر جوآپ نے اختیار کی۔بالجملہ میری فہم ناقص اس کلام کے مقصود کی دریافت سے قاصر ہے۔

فـــ۲:تطفل ثامن علیھا۔

وبعد اللتیا والتی انما بغینی ان ھذا الامام رحمہ اللّٰہ تعالی جعل الحدیث المذکور مشعرا بعدم التحدید ولا یستقیم الاشعار الابان یسلّم استبعاد الامام الباقر ویجعل رد سیدنا جابر رضی اللّٰہ تعالٰی عنہما حذار ان یکون ذلک عن وسوسۃ او نحوھا وحثا علی التأسی مھما امکن لاایجابا لانہ یکفی کلاما کان یکفیہ صلی اللّٰہ تعالی علیہ وسلم وفیہ المقصود۔

اس ساری بحث وتمحیص کے بعدعرض ہے کہ میرا مقصود صرف یہ ہے کہ امام حلبی رحمہ اللہ تعالٰی نے یہ مانا ہے کہ حدیث مذکور پتا دے رہی ہے کہ تحدید نہیں، اوریہ پتادینا اسی وقت راست آسکتاہے جب وُہ امام باقر کا استبعاد تسلیم کریں اوریہ مانیں کہ حضرت جابر رضی اللہ تعالٰی عنہماکی تردید اس اندیشہ سے تھی کہ وہ بات کہیں وسوسہ یااسی جیسی کسی چیز کے باعث نہ ہو، اوراس بات پرآمادہ کرنے کی خاطرکہ جہاں تک ہوسکے سرکار کی پیروی کی جائے۔ یہ تردید ایجاب کے مقصدسے نہ تھی اس لئے کہ اس کے لئے تویہی کہنا کافی تھاکہ حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے لئے یہ مقدار کافی تھی اور مقصوداتنے ہی میں حاصل تھا۔

ثم اقول :  اذا کان فـــ ھذا الاستبعاد فی الصاع فما ظنک بما یقتضیہ ظاھر حدیث الغرفات المار تحت الامر الثالث عن ابن عباس رضی اللّٰہ تعالی عنہما فانہ یفیدا استیعاب کل من الوجہ والید والرجل بغرفۃ واحدۃ وظاھر ان المراد الاغتراف بالکف بل صرح بہ قولہ اخذ غرفۃ فاضافہا الی یدہ الاخری فاذن یعسرجدا استیعاب الوجہ بغرفۃ واحدۃ فانھا لاتزید علی قدر الکف بل لاتبلغہ اذ لا بد للاغتراف من تقعیر فی الکف وعرض الوجہ مابین الاذنین اکبر بکثیر من طول الکف فماء قدر کف لایستوعب الوجہ طولا وعرضا بحیث یمر علی کل ذرۃ منہ بالسیلان واضافتہ الی الید الاخری لاتزیدہ قدرا بل لوابقی الکفان متلاصقتین لم یبلغ عرض مجموعھما عرض الوجہ وان فرق بینھما ووضعتا علی الجبینین طولا لم یستوعبہما الماء بحیث ینحدر من جمیع مساحۃ الطولین سیالا الی منتھی سطح الوجہ فان امر الید علی مسیل الماء ودلک بہا مالم یبلغہ من الوجہ کان غسلا لبعض ودھنا لبعض وکل ذلک معلوم مشاھد وامر الذراع والقدم اشد اشکالا اذلھما اطراف متباینۃ السمٰوٰت واحاطۃ ماء قدرکف بجمیع اطراف الید من الظفر الی المرفق مما لایعقل والکف نفسہ لاتحیط بالذراع فی امرار واحد وان امرت علی ظھر الذراع ثم اعیدت علی البطن اوبالعکس لم یصحبھا من الماء مایزید علٰی قدر الدَّھن وکذلک فی القدم مع مافیھا من الصعود بعد الھبوط لاجل الاسالۃ الی فوق الکعبین وعمل الید قدذکرنا مافیہ ومن ادعی تیسر ھذا فلیرنا کیف یفعل فبالامتحان یکرم الرجل اویھان ۔

ثم اقول:جب ایک صاع کے بارے میں یہ استبعا د ہے تو اس سے متعلق کیاخیال ہے جو امر سوم کے تحت بیان شدہ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہماکی، چُلّووں کے تذکرہ والی حدیث کے ظاہرکامقتضا ہے۔کیونکہ اس کامفاد تویہ ہے کہ بس ایک چُلو میں چہرے،ہاتھ، اور پاؤں ہر ایک کا استیعاب ہوجاتاتھا۔ یہ بھی ظاہر ہے کہ ہتھیلی ہی سے چُلو لینا مراد ہے بلکہ اس قول میں تواس کی صراحت بھی ہے کہ ''ایک چُلو لے کر اسے اپنے دوسرے ہاتھ سے ملایا''۔ جب ایسا ہے توایک ہی چُلومیں پورے چہرے کودھولینا بہت ہی مشکل ہے۔اس لئے کہ ایک چلوہتھیلی بھر سے زیادہ نہ ہوگا بلکہ ہتھیلی بھربھی نہ ہوگا اس لئے کہ چُلو لینے کی لئے ضروری ہے کہ ہتھیلی کچھ گہری رکھی جائے۔اورایک کان سے دوسرے کان تک چہرے کی چوڑائی دیکھی جائے تووہ ہتھیلی کی لمبائی سے بہت زیادہ ہے توہتھیلی بھر پانی طول اورعرض دونوں میںچہرے کا اس طرح احاطہ نہیں کرسکتاکہ اسکے ہر ذرّے پر بہہ جائے۔اور اسے دوسرے ہاتھ سے ملالیں تواس کی مقدار میں اس سے کچھ اضافہ نہ ہوسکے گا بلکہ اگر دونوں ہتھیلیاں ملی ہوئی رکھی جائیں تو ان کی مجموعی چوڑائی بھی چہرے کی چوڑائی کے برابر نہ ہوگی۔ اور اگر ان کو الگ الگ کر کے پیشانی کے دونوں حصو ں پر لمبائی میں رکھاجائے توان دونوں میں اتنا پانی بھرا ہوا نہ ہوگا کہ دونوں کے طول کی پوری مساحت سے ڈھلک کر بہتے ہوئے چہرے کی سطح زیریں کے آخری حصہ تک پہنچ جائے۔ اوراگرایساکرے کہ جتنے حصے پرپانی بہہ گیا ہے وہاں ہاتھ پھیرکران حصوں پر مل لے جہاں پانی نہیں پہنچا ہے تو یہ بعض حصوں کو دھونا اور بعض کو ملنا ہوا۔ سب کو دھونا نہ ہوا۔ اور یہ سب مشاہدہ وتجربہ سے معلوم ہے۔ کلائی اور پاؤں کامعاملہ تواور زیادہ مشکل ہے اس لئے کہ ان کے کنارے الگ الگ سمتوں میں پھیلے ہوئے ہیں۔ہتھیلی بھر پانی ہی ناخن سے لے کرکہنی تک ہاتھ کے تمام اطراف وجوانب کا احاطہ کرلے ، یہ عقل میں آنے والی بات نہیں۔ اورایک بارپھیر نے میں خود ہتھیلی پوری کلائی کا احاطہ نہیں کرسکتی اور اگر ایک بار کلائی کی پشت پرہتھیلی پھیرے، پھر اس کے پیٹ پر پھیرے یا اس کے برعکس کرے تواس میں اتنا پانی نہ رہ سکے گا جو ملنے سے زیادہ کام کرسکے۔یہی حال پاؤں کاہے مزید اس میں یہ بھی ہے کہ پانی کو نیچے اترنے کے بعد پھر ٹخنوں کے اوپر تک بہنے کے لئے چڑھنا بھی ہے۔اورہاتھ کیا کام کرسکتاہے بس وہی جو ہم نے ابھی بتایا۔جودعوی رکھتا ہوکہ یہ آسان ہے وہ کر کے دکھادے کہ امتحان ہی سے آدمی کوعـزت ملتی ہے یا ذلّت۔

فـــ : اشکال فی حدیث البخاری والکلام علیہ حسب الاستطاعۃ۔

وقد استشعر الکرمانی فی الکواکب الدراری ورود ھذا وقنع بان منع ومرواثرہ الامام العینی واقر حیث قال قال الکرمانی فان قلت لایمکن غسل الرجل بغرفۃ واحدۃ قلت الفرق ممنوع ولعل الغرض من ذکرہ علی ھذا الوجہ بیان تقلیل الماء فی العضو الذی ھو مظنۃ الاسراف فیہ ۱؎ اھ۔

الکواکب الدراری میں امام کرمانی کو اس اعتراض کاخیال ہوا اور صرف ناقابل تسلیم کہہ کر گزر گئے اورامام عینی نے بھی ان کا کلام نقل کرکے برقرار رکھا۔وہ لکھتے ہیں کرمانی فرماتے ہیں: اگر یہ کہوکہ  ایک چلو میں پاؤں دھونا ممکن نہیں تو میں کہوں گا ہم یہ فرق نہیں مانتے۔اور شاید اس طرح ذکر کرنے سے ان کامقصد یہ ہے کہ پانی اس عضو میں کم صرف کیاجائے جس میں اسراف ہونے کاگمان ہے اھ۔

(۱؎ عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری کتاب الوضوء، تحت الحدیث۱۴۰ دارالکتب العلمیہ بیروت    ۲/ ۴۰۰ و ۴۰۱)

اقول :  ومجردفــ المنع فی امثال الواضحات لایسمع ولا ینفع وحملہ المحقق فی الفتح علی تجدید الماء لکل عضو فقال وما فی حدیث ابن عباس فاخذ غرفۃ من ماء الی اخر ما تقد م یجب صرفہ الی ان المراد تجد ید الماء بقرینۃ قولہ بعد ذلک ثم اخذ غرفۃ من ماء فغسل بھا یدہ الیمنی ثم اخذ غرفۃ من ماء فغسل بھا یدہ الیسری ومعلوم ان لکل من الیدین ثلث غرفات لا غرفۃ واحدۃ فکان المراد اخذ ماء للیمنی ثم ماء للیسری اذلیس یحکی الفرائض فقد حکی السنن من المضمضۃ وغیرھا ولو کان لکان المراد ان ذلک ادنی مایمکن اقامۃ المضمضۃ بہ کما ان ذلک ادنی مایقام فرض الید بہ لان المحکی انما ھو وضوء ہ الذی کان علیہ لیتبعہ المحکی لھم ۱؎ اھ وتبعہ المحقق الحلبی فی الغنیۃ۔

اقول : (میں کہتاہوں) اس طرح کی واضح باتوں میں صرف منع سے کام نہیں چلتا نہ ہی یہ قابل قبول ہوتا ہے۔اورحضرت محقق نے فتح القدیر میں اس کواس پرمحمول کیاہے کہ ہر عضوکے لئے نیا پانی لیتے۔ وہ لکھتے ہیں: وہ جوحضرت ابن عباس کی حدیث میں ہے کہ پھر ایک چلو پانی لیا۔الٰی آخر الحدیث ۔اسے اس طرف پھیرناضروری ہے کہ مراد نیا پانی لینا ہے اس کا قرینہ اس کے بعد ان کایہ قول ہے کہ پھر ایک چلو پانی لیاتو اس سے دایاں ہاتھ دھویا،پھر ایک چلو پانی لیا تو اس سے بایاں ہاتھ دھویا۔ اورمعلوم ہے کہ ہر ہاتھ کے لئے تین چلو لئے ہوں گے ایک ہی چلو نہیں، تومرادیہ ہے کہ کچھ پانی دائیں ہاتھ کے لئے لیا پھر کچھ پانی بائیں ہاتھ کے لئے لیا۔ اس لئے کہ وہ صرف فرائض کی حکایت نہیں فرما رہے ہیں بلکہ مضمضہ وغیرہ سنتیں بھی بیان کی ہیں۔اوراگر وہی ہوتومراد یہ ہے کہ یہ وہ ادنٰی مقدار ہے جس سے عمل مضمضہ کی ادائیگی ہوسکتی ہے۔ جیسے یہ وہ ادنی مقدار ہے جس سے فرضِ دست کی ادائیگی ہوجاتی ہے اس لئے کہ حکایت اُس وضو کی ہورہی ہے جو سرکار نے کیاتھا تاکہ دیکھنے والے لوگ اسی طریقہ کی پیروی کریں اھ۔محقق حلبی نے غنیہ کے اندر اس کلام میں حضرت محقق کی پیروی کی ہے۔

فــ:تطفل علی الامام العینی والکرمانی َ۔

(۱؎ فتح القدیر،     کتاب الطہارات مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر    ۱/۲۴)

قلت : ومطمح نظرہ رحمہ اللّٰہ تعالی سلخ الغرفۃ عن الواحدۃ مستندا الی ان المحکی الوضوء المسنون بدلیل ذکر المضمضۃ والاستنشاق والمسنون التثلیث فکیف یراد الواحدۃ وانما معناہ اخذ لکل عمل ماء جدید اوھو اعم من اخذہ مرۃ اومرارا فیکون معنی قولہ غرفۃ من ماء فتمضمض بہا واستنشق ان اخذلھا ماء جدیدا ولو مرارا فلا یدل علی انھما بماء واحد کما یقولہ الامام الشافعی رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ فھذا مرادہ وھو قد ینفعنا فیما نحن فیہ وان کان کلامہ فی مسألۃ اخری۔

   قلت  :  حضرت محقق رحمہ اللہ تعالٰی کامطمحِ نظر یہ ہے کہ چلو کے لفظ سے وحدت کامفہوم الگ کردیں،اس پران کا استناد اس سے ہے کہ یہاں وضوئے مسنون کی نقل ہو رہی ہے جس کی دلیل یہ ہے کہ مضمضہ اور استنشاق کا ذکر ہے۔ اورمسنون تین بار دھونا ہے تو وحدت کیسے مرادہوسکتی ہے۔ اس کا معنی بس یہ ہے کہ ہر عمل کے لئے نیاپانی لیا۔اور یہ اس سے اعم ہے کہ ایک بار لیا یا چند بارلیا تو ان کے قول ''پانی کا ایک چلو لے کر اس سے مضمضہ اوراستنشاق کیا'' کا معنٰی یہ ہوگا کہ دونوں کے لئے جدید پانی لیااگرچہ چندبار۔تو وہ یہ نہیں بتاتا کہ مضمضہ اور استنشاق دونوں ایک ہی پانی میں ہوا جیسا کہ امام شافعی رضی اللہ تعالٰی عنہ اس کے قائل ہیں۔یہ ہے حضرت محقق کی مراد۔اور وہ ہمارے زیرِبحث مسئلہ میں بھی کارآمد ہے اگرچہ ان کا کلام ایک دوسرے مسئلہ کے تحت ہے۔

اقول :  لکن فــ۱ فیہ بعد لایخفی والمحقق عارف بہ ولذا قال یجب صرفہ لکن الشان فی ثبوت الوجوب وما استند بہ سیاتی الکلام علیہ۔

اقول : لیکن اس میں نمایاں بعدہے۔ اورحضرت محقق اس سے واقف ہیں اسی لئے فرمایا:''اسے پھیرنا'' واجب ہے ۔لیکن مشکل معاملہ ثبوت وجوب ہے اورجس سے انہوں نے استناد فرمایا اس پر آگے کلام ہوگا۔

فــ۱ تطفل علی المحقق والغنیۃ ۔

علی ان الحدیث فــ۲رواہ ابن ماجۃ عن زید بن اسلم عن عطاء بن یسار عن ابن عباس رضی اللّٰہ تعالٰی عنھما وھذا ھومخرج الحد یث رواہ البخاری عن سلیمن بن بلال عن زید والنسائی عن ابن عجلان عن زید مطولا وقال ابن ماجۃ حدثنا عبداللّٰہ بن الجراح وابو بکر بن خلاد الباھلی ثنا عبدالعزیز بن محمد عن زید فاخرجہ مقتصرا علی قولہ ان رسول اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم مضمض واستنشق من غرفۃ ۱؎ واحدۃ

علاوہ ازیں یہ حدیث ابن ماجہ نے زید بن اسلم سے روایت کی ہے وہ عطابن یسارسے وہ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما سے راوی ہیں۔اورمخرج حدیث یہی زیدبن اسلم ہیں۔ اسے امام بخاری نے سلیمان بن بلال سے روایت کیاوہ زید سے راوی ہیں۔اورنسائی نے ابن عجلان سے روایت کیاوہ زید سے راوی ہیں مطوّلاً۔ اور ابنِ ماجہ نے کہا: ہم سے عبداللہ بن جراح اور ابو بکر بن خلاد باہلی نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا ہم سے عبدالعزیز بن محمدنے حدیث بیا ن کی وہ راوی ہیں زیدسے۔ پھر اس میں صرف یہ روایت کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے ایک چلو (من غرفۃ واحدۃ) سے مضمضہ واستنشاق کیا۔

فــ۲تطفل اٰخرعلیہما ۔

 (۱؎ سنن ابن ماجہ     ابواب الطہارۃ باب المضمضۃ والا ستنشاق الخ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی     ص۳۳)

ومن ھذا الطریق اخرجہ النسائی فقال اخبرنا الھیثم بن ایوب الطالقانی قال عبد العزیز بن محمد قال ثنازید وفیہ رأیت رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ تعالی علیہ وسلم توضا فغسل یدیہ ثم تمضمض واستنشق من غرفۃ واحدۃ ۱؎ الحدیث فھذا لایقبل الانسلاخ عن الواحدۃ وکافٍ فی الجواب ماافادہ اخرا بقولہ ولو کان لکان الخ مع ماقد م من احادیث ناطقۃ بالمذھب وزاد تلمیذہ المحقق فی الحلیۃ حد ثنا اخر رواہ البزار بسند حسن۔

     اوراسی طریق سے امام نسائی نے تخریج کی تو انہوں نے فرمایا: ہمیں ہیثم بن ایوب طالقانی نے خبر دی انہوں نے کہا عبدالعزیز بن محمد نے بتایا انہوں نے کہا ہم سے زید بن اسلم نے حدیث بیان کی۔اس میں یہ ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نے وضو فرمایا تو اپنے دونوں ہاتھ دھوئے پھر ایک چلو(من غرفۃ واحدۃ) سے مضمضہ واستنشاق کیا، الحدیث۔تواس روایت سے وحدت کامعنی الگ نہیں کیاجاسکتا(کیوں کہ اس میں غرفۃ واحدۃ صراحۃً موجود ہے)اور جواب میں وہی کافی ہوگا جو آخر میں افادہ فرمایا کہ اگر وہی ہو تو مراد یہ ہے کہ یہ وہ ادنٰی مقدار ہے الخ۔ اس کے ساتھ ہمارے مذہب کی تائید میں بولتی ہوئی وہ احادیث بھی ہیں جوحضرت محقق پہلے پیش کر آئے ۔ اوران کے تلمیذ محقق نے حلیہ میں ایک اور حدیث کا اضافہ کیا جو بزار نے بسندِ حسن روایت کی۔

 (۱؎ سنن النسائی کتاب الطہارۃ باب مسح الاذنین    نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی         ۱ /۲۹)

وانا اقول :  وباللّٰہ التوفیق للعبد الضعیف فی الحدیث وجہان :الاوّل حمل الغرفۃ علی المرۃ ای غسل کل عضو مرۃ مرۃ بھذا تنحل العقد بمرۃ ولانسلم ان ذکر المضمضۃ والاستنشاق یستلزم استیعاب جمیع السنن لِمَ لا یجوزا ن یکون ھذا بیانا لجواز الاقتصار علی مرۃ فی الفرائض والسنن وما فیہ من البعد اللفظی یقربہ جمع طرق الحدیث ۔

اقول :  وباللہ التوفیق، میرے نزدیک تاویلِ حدیث کے دوطریقے ہیں:

پہلا طریقہ : یہ کہ لفظ غرفۃ کو مرۃ پر محمول کیا جائے یعنی ہرعضوکوایک ایک بار دھویا۔ اسی سے ساری گر ہیں یکبارگی کھل جائیں گی۔اور یہ ہمیں تسلیم نہیں کہ مضمضہ اور استنشاق کاذکر اسے مستلزم ہے کہ تمام سنتوں کااحاطہ رہا ہو۔یہ کیوں نہیں ہوسکتاکہ یہ وضو اس امر کے بیان کے لئے ہو کہ فرائض اورسنن دونوں ہی میں ایک بار پر اقتصار جائز ہے۔اس میں جو لفظی بُعد نظر آرہا ہے وہ اس حدیث کے مختلف طُرق جمع کرنے سے قریب آجائے گا۔

فلعبد الرزاق عن عطاء بن یسار عن ابن عباس رضی اللّٰہ تعالٰی عنہما انہ توضأ فغسل کل عضو منہ غسلۃ واحدۃ ثم ذکران النبی صلی اللّٰہ تعالی علیہ وسلم کان یفعلہ ۱؎

 (۱)عبدالرزاق کی روایت میں عطا بن یسارسے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما سے یہ ہے کہ انہوں نے وضو کیا تو اپنے ہر عضو کوایک بار دھویا۔پھر بتایا کہ نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ایسا کرتے تھے۔

 (۱ ؎ المصنف لعبدالرزاق کتاب الطہارۃ     باب کم الوضوء من غسلۃ ا لمکتب الا سلا می بیروت    ۱ /۴۱)

ولسعید بن منصور فی سننہ بلفظ توضا النبی صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم فادخل یدہ فی الاناء فمضمض واستنشق مرۃ واحدۃ ثم ادخل یدہ فصب علی وجہہ مرۃ وصب علی یدہ مرۃ مرۃ ومسح براسہ واذنیہ مرۃ ثم اخذ ملأ کفہ من ماء فرش علی قدمیہ وھو منتعل ۲؎ اھ وسیاتی تفسیر ھذا الرش فی الحدیث۔

 ( ۲)سُنن سعید بن منصور کے الفاظ یہ ہیں: نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے وضو کیاتو اپنا دستِ مبارک برتن میں ڈالا پھر کُلّی کی اور ناک میں پانی چڑھایا ایک بار۔ پھر اپنا دست مبارک داخل کر کے(پانی نکالا) توایک بار اپنے چہرے پر بہایا اوراپنے ہاتھ پر ایک ایک باربہایا۔ اوراپنے سر اور دونوں کانوں کا مسح کیا۔ پھرہتھیلی بھر پانی لے کر اپنے قدموں پرچھڑکاجب کہ حضور نعلین پہنے ہوئے تھے۔اس چھڑکنے کی تفسیر آگے حدیث ہی میں آئے گی۔

 (۲؎ کنز العمال بحوالہ سعید بن منصور حدیث ۲۶۹۳۵        مؤسسۃ الرسالۃ بیروت    ۹ /۴۵۴)

بل روی البخاری قال حدثنا محمد بن یوسف ثناسفیان عن زید بلفظ توضأ النبی صلی اللّٰہ تعالی علیہ وسلم مرۃ مرۃ ۱؎

 (۳) بلکہ امام بخاری نے روایت کی ، فرمایا :ہم سے محمد بن یوسف نے حدیث بیان کی انہوں نے کہا ہم سے سفیان نے حدیث بیان کی وہ زید سے راوی ہیں اس کے الفاظ یہ ہیں :نبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے ایک ایک بار وضو کیا۔

 (۱؎ صحیح البخاری     کتاب الوضو باب الوضوء مرۃ مرۃ    قدیمی کتب خانہ کراچی    ۱ /۲۷)

وقال ابو داؤد وحدثنا مسددثنا یحیی عن سفیان ثنا زید ۲؎

 (۴)ابوداؤد نے کہا: ہم سے مسدّد نے حدیث بیان کی، وہ سفیان سے راوی ہیں انہوں نے کہا مجھ سے زید نے حدیث بیان کی۔

 (۲؎ سنن ابی داؤد کتاب الطہارۃ     باب الوضوء مرۃ مرۃ    آفتاب عالم پریس لاہور        ۱ /۱۸)

وقال النسائی اخبرنا محمد بن مثنی ثنا یحیی عن سفین ثنا زید ۳؎

    (۵)نسائی نے کہا: ہمیں محمدبن مثنی نے خبردی انہوں نے کہا ہم سے یحیٰی نے حدیث بیا ن کی، وہ سفیان سے راوی ہیں انہوں نے کہا ہم سے زید نے حدیث بیان کی۔

 (۳؎ سنن النسائی     کتاب الطہارۃ باب الوضوء مرۃمرۃ         نور محمد کار خانہ تجات کتب کراچی ۱ /۲۵)

وقال الامام الاجل الطحاوی حدثنا ابن مرزوق ثنا ابو عاصم عن سفین عن زید۴؎ ولفظ الاولین فیہ الا اخبر کم بوضؤ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم فتوضأ مرۃ مرۃ ۵؎ وبمعناہ لفظ الطحاوی ۔

    (۶)امام اجل طحاوی نے کہا: ہم سے ابن مرزوق نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا ہم سے ابو عاصم نے حدیث بیان کی، وہ سفیان سے وہ زید سے راوی ہیں۔ ابو داؤد نسائی کی روایت میں یہ الفاظ ہیں : کیا میں تم لوگوں کو رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کا وضو نہ بتاؤں۔پھر انہوں نے ایک ایک بار وضو کیا۔ اوراسی کے ہم معنی امام طحاوی کے الفاظ ہیں۔

 (۴؎ شرح معانی الاثار     کتاب الطہارۃ     باب الوضو ء لصلوۃ مرۃ مرۃ     ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۱ /۲۸)
(۵؎؎ سنن ابی داؤد      کتاب الطہارۃ باب الوضوء مرۃ مرۃ    آفتاب عالم پریس لاہور    ۱ /۱۸)
(سنن النسائی     کتاب الطہارۃ باب الوضوء مرۃ مرۃ         نور محمد کار خانہ تجات کتب کراچی     ۱ /۲۵)

وللنسائی من طریق ابن عجلان المذکور بعد مامر وغسل وجہہ وغسل یدیہ مرۃ مرۃ ومسح برأسہ واذنیہ مرۃ ۱ ؎ الحدیث

    (۷)ابن عجلان کے مذکورہ طریق سے نسائی کی روایت میں سابقہ الفاظ کے بعدیہ ہے :اوراپنا چہرہ دھویااور اپنے دونوں ہاتھ ایک ایک بار دھوئے۔ اوراپنے سراور دو نوں کانوں کا ایک بار مسح کیا۔ الحدیث۔

 ( ۱؎ سنن نسائی     کتاب الطہارۃ     باب مسح الاذنین     نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی    ۱ /۲۹)

وفی ھذا والذی مرعن سعید بن منصور ابانۃ ماذکرتہ من ان ذکر المضمضۃ والاستنشاق لایستلزم استیعاب السنن حتی ینافی ترک التثلیث فقد تظافرت الروایات علی لفظ مرۃ والاحادیث یفسر بعضھا بعضا فکیف وقد اتحد المخرج۔

اس میں اور سعید بن منصورسے نقل شدہ روایت میں اس کی وضاحت موجود ہے جو میں نے ذکر کیاکہ مضمضہ واستنشاق کا تذکرہ تمام سنتوں کے احاطہ کو مستلزم نہیں کہ ترک تثلیت کے منافی ہو۔ کیوں کہ روایات''ایک بار''کے لفظ پر متفق ہیں اور احادیث میں ایک کی تفسیر دوسری سے ہوتی ہے۔ پھر جب مخرج ایک(زیدبن اسلم) ہیں توایک حدیث دوسری کی مفسّر کیوں نہ ہوگی۔

اقول :  وقد یشد عضدہ ان الحدیث مطولا عند ابن ابی شیبۃ بزیادۃ ثم غرف غرفۃ فمسح رأسہ واذنیہ الحدیث۲؎ فالغرفۃ التی کانت توضی کلا من الوجہ والید والرجل لو استعملت فی الرأس لغسلتہ فانما اراد واللّٰہ تعالی اعلم المرۃ مع التجدید ورحم اللّٰہ ابا حاتم اذقال ماکنا نعرف الحدیث حتی نکتبہ من ستین وجہا وانا اعلم ان الجادۃ فی روایات الوقائع حمل الاعم علی الاخص ولکن لاغروفی العکس لاجل التصحیح۔

    اقول : اس کی تقویت اس سے بھی ہوتی ہے کہ ابن ابی شیبہ کے یہاں یہ حدیث مطوّلاً اس اضافہ کے ساتھ ہے: ثم غرف غرفۃ فمسح رأسہ واذنیہ  ( پھر ایک چلو لے کر اپنے سر اور دونوں کانوں کا مسح کیا) توجس چلوسے چہرہ ،ہاتھ اور پاؤں میں سے ہر ایک کا وضو ہوجاتا تھا وہ اگر سرمیں استعمال ہوتاتواسے دھونے کاکام کر دیتا(نہ کہ اس سے صرف مسح ہوتا۱۲م)تو مراد۔واللہ تعالٰی اعلم۔ وہی ایک ایک بار ہے ساتھ ہی پانی کی تجدید بھی۔     خدا کی رحمت ہوابوحاتم پرکہ وہ فرماتے ہیں ہمیں حدیث کی معرفت نہ ہوتی جب تک اسے ساٹھ طریقوں سے نہ لکھ لیتے۔ اورمجھے معلوم ہے کہ واقعات کی روایات میں عام راہ یہ ہے کہ اعم کواخص پر محمول کیا جائے مگر تصحیح کی خاطر اس کے برعکس کرنا بھی جائے عجب نہیں۔

 (۲؎ المصنف لابن ابی شیبہ کتاب الطہارۃ باب فی الوضوء کم ھو مرۃ    حدیث ۶۴ دار الکتب العلمیہ بیروت    ۱ /۱۷)

والثانی : حمل الغرفۃ علی الحفنۃ ای بکلتا الیدین وربما تطلق علیھا فروی البخاری عن ام المومنین رضی اللّٰہ تعالی عنہا فیما حکت غسلہ صلی اللّٰہ تعالی علیہ وسلم '' ثم یصب علی رأسہ ثلث غرف بیدیہ۱؎

دوسرا طریقہ  : یہ کہ غرفہ کو حفنہ پر (چلو کو لَپ پر) یعنی دونوں ہاتھ ملا کر لینے پر محمول کیاجائے۔ اور بعض اوقات لفظ غرفہ کا اس معنٰی پر اطلاق ہوتاہے(۱)بخاری کی روایت میں ہے جو حضرت ام المومنین رضی اللہ تعالی ٰعنہا سے نبی کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے غسل مبارک کی حکایت میں آئی ہے کہ :''پھر اپنے سرپرتین چلو دونوں ہاتھوں سے بہاتے''۔

(۱؎ صحیح البخاری کتاب الغسل با ب الوضوء قبل الغسل    قدیمی کتب خانہ کراچی    ۱ /۳۹)

ولا بی داؤد عن ثوبان رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ ان النبی صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم ، اما المرأۃ فلا علیھا ان لاتنقضہ لتغرف علی رأسھا ثلث غرفات بکفیھا ۲؎

(۲) ابو داؤد کی روایت میں ہے جوحضرت ثوبان رضی اللہ تعالٰی عنہ سے نبی صلی اللہ تعالٰیعلیہ وسلم سے ہے'' لیکن عورت پراس میں کوئی حرج نہیں کہ بال نہ کھولے ،وہ اپنے سرپردونوں ہاتھوں سے تین چلوڈالے''

(۲؎ سُنن ابی داؤد کتاب الطہارۃ باب المرأۃ ھل تنقض شعرھا عند الغسل آفتاب عالم پریس لاہور    ۱ /۳۴)

ویؤیدہ حدیث ابی داؤد والطحاوی عن محمد بن اسحٰق عن محمد بن طلحۃ عن عبید اللّٰہ الخولانی عن عبداللّٰہ بن عباس عن علی رضی اللّٰہ تعالی عنہم عن النبی صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم وفیہ ثم ادخل یدیہ جمیعا فاخذ حفنۃ من ماء فضرب بھا علی رجلہ وفیھا النعل فغسلھا بھا ثم الاخری مثل ذلک ۱؎

(۳) اور اس کی تائید ابوداؤد اور طحاوی کی روایت سے ہوتی ہے جس کی سند یہ ہے ۔عن محمد بن اسحاق۔ عن محمد بن طلحہ عن عبیداللہ الخولانی۔ عن عبد اللہ بن عباس عن علی رضی اللہ تعالٰی عنہم۔ عن النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ۔

اس میں یہ ہے کہ پھر اپنے دونوں ہاتھ ڈال کر لپ بھر پانی لے کر اسے پاؤں پرمارا۔جبکہ پاؤں میں جوتا موجود تھا۔ تواس سے پاؤں دھویاپھر اسی طرح دوسرا پاؤں دھویا۔

(۱؎ سُنن ابی داؤد کتاب الطہارۃ باب صفۃ وضوء النبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم آفتاب عالم پریس لاہور ۱ /۱۶)

ولفظ الطحاوی ثم اخذ بیدیہ جمیعا حفنۃ من ماء فصک بھا علی قدمہ الیمنی والیسری کذلک ۲؎ واخرجہ ایضا احمد وابو یعلی وابن خزیمۃ۳؎ وابن حبان والضیاء وھذا معنی مامر من حدیث سعید بن منصور اِن شاء اللّٰہ تعالٰی والمعنی الاخر المسح وقد نسخ اوکان وفی القدمین جوربان ثخینان علی مابینہ الامام الطحاوی رحمہ اللّٰہ تعالی۔

اور روایت طحاوی کے الفاظ میں یہ ہے: پھر اپنے دونوں ہاتھوں سے لپ بھر پانی لیا ، تواسے دائیں قدم پر زور سے ماراپھر بائیں پر بھی اسی طرح کیا۔اس کی تخریج امام احمد،ابویعلی،ابن خزیمہ، ابن حبان اور ضیاء نے بھی کی ہے۔اوریہی اس کا معنی ہے۔ ان شاء اللہ تعالٰی۔ جوسعید بن منصور کی حدیث میں آیا(کہ فرش علٰی قدمیہ تو اپنے دونوں قدموں پر چھڑکا''۱۲م) دوسرا معنی مسح ہے جو بعد میں منسوخ ہوگیا۔یا مسح اس حالت میں ہوا کہ قدموں پر موٹے پاتا بے تھے جیسا کہ امام طحاوی رحمہ اللہ تعالٰی نے بیان کیا۔

(۲؎ شرح معانی الآثار     کتاب الطہارۃ باب فرض الرجلین فی الوضوء    ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۱ /۳۲)
(۳؎صحیح ابن خزیمہ حدیث ۱۴۸ المکتب الاسلامی بیروت۱ /۷۷)
(مواردالظمآن کتاب الطہارۃ حدیث ۱۵۰ المطبعۃ السلفیہ ص۶۶)
(کنز العمال بحوالہ حم ،د،ع وابن خزیمۃ الخ حدیث ۲۶۹۶۷ مؤسستہ الرسا لۃ بیروت ۹ /۴۵۹۔۴۶۰)

اقول :  وما ذکرت من الوجہین فلنعم المحملان ھما لمثل طریق ابن ماجۃ حدثنا ابو بکر بن خلاد الباھلی ثنا یحیی بن سعید القطان عن سفیان عن زید وفیہ رأیت رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ تعالی علیہ وسلم توضأ غرفۃ غرفۃ۱؎

    اقول :  میں نے جو دوطریقے ذکرکئے یہ بہت عمدہ محمل ہیں اس طرح کی روایات کے جو مثلاً بطریق ابن ماجہ یوں آئی ہیں ہم سے ابو بکر بن خلاد باہلی نے حدیث بیان کی، انہوں نے کہا ہم سے یحیٰی بن سعیدقطان نے حدیث بیان کی وہ سفیان سے وہ زیدسے راوی ہیں۔اس میں یہ ہے کہ میں نے دیکھا رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے ایک ایک چُلو سے وضوکیا۔

(۱؎ سنن ابن ماجہ کتاب الطہارۃ باب ماجاء فی الوضوء مرۃ مرۃ    ایچ ایم سعید کمپنی کراچی     ص۳۳)

وحدیث ابن عساکر عن ابی ھریرۃ رضی اللّٰہ تعالی عنہ ان النبی صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم توضأ غرفۃ غرفۃ وقال لایقبل اللّٰہ صلاۃ الابہ ۲؎

اور ابن عساکر کی حدیث حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے ہے کہ نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے ایک ایک چُلو سے وضوکیا۔اورفرمایا: اللہ نماز قبول نہیں فرماتامگراسی سے ۔

(۲؎ کنز العمال بحوالہ عساکر عن ابی ہریرۃ حدیث ۲۶۸۳۱مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۹ /۴۳۱)

فیکون علی الحمل الاول کحدیث سعید بن منصور وابن ماجۃ والطبرانی والدار قطنی والبیہقی عن ابن عمروابن ماجۃ والدار قطنی عن ابی بن کعب والدار قطنی فی غرائب مالک عن زید بن ثابت وابی ھریرۃ معارضی اللّٰہ تعالی عنھم ان رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم توضا مرۃ مرۃ وقال ھذا وضؤ لایقبل اللّٰہ صلاۃالابہ ۳؎

تویہ ہمارے بیان کردہ پہلے طریقہ کے مطابق حضرت ابن عمر سے سعیدبن منصور،ابن ماجہ، طبرانی، دارقطنی اور بیہقی کی حدیث کی طرح ہوجائے گی، اور جیسے حضرت ابی بن کعب سے ابن ماجہ ودارقطنی کی حدیث، اور حضرت زید بن ثابت اور ابو ہریرہ دونوں حضرات رضی اللہ تعالٰی عنہم سے غرائب مالک میں دارقطنی کی حدیث ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے ایک ایک بار وضوکیااورفرمایا:یہ وہ وضو ہے جس کے بغیر اللہ کوئی نماز قبول نہیں فرماتا۔

(۳؎ سنن ابن ماجہ باب ماجاء فی الوضوء مرۃ و مرتین وثلثا        ایچ ایم سعید کمپنی کراچی     ص۳۴)

وکذا للیدین والرجلین فی حدیث ابن عباس غیرانہ یکدرھما جمیعا فی الوجہ قولہ اخذ غرفۃ من ماء فجعل بھا ھکذا اضافھا الی یدہ الاخری فغسل بھا وجہہ ۱؎

اسی طرح حضرت ابن عباس کی حدیث میں دونوں ہاتھوں اور پیروں سے متعلق جو مذکور ہے اس کا بھی یہ عمدہ محمل ہوگا۔ مگر یہ ہے کہ چہرے سے متعلق دونوں تاویلیں اس سے مکدر ہوتی ہیں کہ ان کا قول ہے''ایک چُلو پانی لے کر اسے اس طرح کیا، اسے دوسرے ہاتھ سے ملا کرچہرہ دھویا۔

(۱؎ صحیح البخاری باب غسل الوجہ بالیدین من غرفۃ واحدۃ    قدیمی کتب خانہ کراچی    ۱ /۲۶)

 الا ان یتکلف فیحمل علی ان اضاف الغرفۃ ای الاغتراف الی الید الاخری ایضا غیر قاصر لہ علی ید واحدۃ فیرجع ای الاغتراف بالیدین ویکون کحدیث ابن عباس رضی اللّٰہ تعالٰی عنہما ایضا عن علی کرم اللّٰہ تعالٰی وجہہ عن رسول اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم ادخل یدہ الیمنی فافرغ بھا علی الاخری ثم غسل کفیہ ثم تمضمض واستنثر ثم ادخل یدیہ فی الاناء جمیعا فاخذ بہما حفنۃ من ماء فضرب بھا علی وجہہ ثم الثانیۃ ثم الثالثۃمثل ذلک۲؎

مگر یہ کہ بتکلف اسی معنی پر محمول کیاجائے کہ انہوں نے چلو لینے میں دوسرے ہاتھ کو بھی ملالیاایک ہاتھ پر اکتفانہ کی تو یہ دونوں ہاتھ سے چلو لینے کے معنی کی طرف راجع ہوجائے گا اوراسی طرح ہوجائے گا جیسے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہماکی حدیث،حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے ،رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے ہے کہ اپنا دایاں ہاتھ داخل کرکے اس سے دوسرے ہاتھ پر پانی ڈالا پھر دونوں ہتھیلیوں کودھویا،پھر کُلی کی اورناک میں پانی ڈال کر جھاڑا پھربرتن میں دونوں ہاتھ ڈال کر ایک لپ پانی لے کر چہرے پر مارا، پھر دوسری پھر تیسری باراسی طرح کیا۔

(۲؎ سنن ابی داؤد    کتاب الطہارۃ     باب صفۃ وضؤ النبی صلی اللہ علیہ وسلم آفتاب عالم پریس لاہور ۱ /۱۶)

ورواہ الطحاوی مختصرا فقال اخذ حفنۃ من ماء بیدیہ جمیعا فصک بھما وجہہ ثم الثانیۃ مثل ذلک۳؎ ثم الثالثۃ فذکرالی المضمضۃ والاستنشاق الاغتراف بکف واحدۃ فاذا اتی علی الوجہ اضافہ الی الید الاخری ایضا فان لم یقبل ھذا فقد علمت ان استیعاب الوجہ بکف واحدۃ متعسر بل متعذر۔

اسے امام طحاوی نے مختصراً روایت کیا۔اس میں یہ ہے کہ اپنے دونوں ہاتھوں سے چہرے پر مارا، پھر دوسری بار اسی طرح کیا،پھرتیسری بارایسے ہی۔ تومضمضہ واستنشاق تک توایک ہاتھ سے چلو لینا ذکر کیا۔جب چہرے پرآئے تودوسراہاتھ بھی ملایا۔اگر یہ تاویل نہ مانی جائے تو معلوم ہوچکا کہ ہتھیلی بھر پانی سے چہرے کا استیعاب دشوار بلکہ متعذر ہے۔(ت)

(۳؎شرح معانی الآثار کتاب الطہارۃ باب الحکم الاذنین فی الوضوءللصلوۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ /۳۰ )

اقول :  بل لربما تبقی الحفنۃ باقیۃ فضلا عن الکفۃ والدلیل علیہ ھذا الحدیث الذی ذکرنا تخریجہ عن الامام احمد وابی داؤد وابن خزیمۃ وابو یعلی والامام الطحاوی وابن حبان والضیاء عن ابن عباس عن علی عن النبی صلی اللّٰہ علیہ وعلیہم وسلم حیث قال بعد ذکر غسل الوجہ بثلث حفنات کما تقدم ثم اخذ بکفہ الیمنی قبضۃ من ماء فصبہا علی ناصیتہ فترکہا تستن علی وجہہ ثم غسل ذراعیہ الی المرفقین ثلثا ثلثا۱؎ الحدیث وھذا ایضا معلوم مشاھد۔

اقول :  بلکہ بعض اوقات ایسا بھی ہوگا کہ دونوں ہاتھ سے لینے پر بھی کچھ حصہ باقی رہ جائے گا صرف ہتھیلی بھر لینے کی توبات ہی کیاہے۔ اس پر دلیل یہی حدیث ہے جس کی تخریج ہم نے امام احمد،ابوداؤد،ابن خزیمہ، ابو یعلی، امام طحاوی، ابن حبان اور ضیاء سے ذکر کی، جو حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما کی روایت سے نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے مروی ہے اس میں جیسا کہ گزرا تین لپ سے چہرہ دھونے کے تذکرے کے بعد ہے، پھر اپنے دائیں ہاتھ سے مٹھی بھرپانی لے کر پیشانی پر ڈال کر اسے چہرے پر بہتا چھوڑدیا۔ پھر اپنی کلائیوںکوکہنیوں تک تین تین بار دھویا۔ یہ بھی تجربہ ومشاہدہ سے معلوم ہے۔

(۱؎ سنن ابی داؤد    کتاب الطہارۃ     باب صفۃ وضؤ النبی صلی اللہ علیہ وسلم آفتاب عالم پریس لاہور ۱ /۱۶)

وبالجملۃ لولم یصرف حدیث الغرفۃ عن ظاھرہ لرجع الغسل الی الدھن وھو خلاف الروایۃ والدرایۃ بل الاجماع والروایۃ الشاذۃ عن الامام الثانی رحمہ اللّٰہ تعالی مؤولۃ کما فی ردالمحتار عن الحلیۃ عن الذخیرۃ وغیرھا فاذن لایبقی الا ان نقول انالا نقدر علی مثل مافعل ابن عباس رضی اللّٰہ تعالٰی عنھما تلک المرۃ فضلا عن فعل صاحب الاعجاز الجلیل المُرْوی مرار اللجمع الجزیل بالماء القلیل علیہ من ربہ اعلی صلوۃ واکمل تبجیل۔ ویقرب منہ اواغرب منہ ماوقع فی سنن سعید بن منصور عن الامام الاجل ابرھیم النخعی رضی اللّٰہ تعالی عنہ قال لم یکونوا یلطموا وجوھھم بالماء وکانوا اشد استبقاء للماء منکم فی الوضوء وکانوا یرون ان ربع المد یجزئ من الوضوء وکانوا صدق ورعا واسخی نفسا واصدق عندالباس۱؎۔

    الحاصل اگرچُلّو لینے والی حدیث کو اس کے ظاہر سے نہ پھیریں تودھونا بس ملنا ہو کر رہ جائے گا۔اوریہ روایت،درایت بلکہ اجماع کے بھی خلاف ہے۔۔۔ اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ تعالٰی سے جو شاذروایت آئی ہے وہ مؤول ہے جیسا کہ ردالمحتار میں حلیہ سے، اس میں ذخیرہ وغیرہا سے نقل ہے۔ تاویل نہ کریں تو بس یہی صورت رہ جاتی ہے کہ ہم یہ کہیں کہ اس بار حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے جس طرح وضوکیاویسے وضو پرہمیں قدرت نہیں۔ اوران کے عمل کی تو بات ہی اور ہے جو ایسے عظیم اعجاز والے ہیں کہ بار ہا بڑے لشکر کو قلیل پانی سے سیراب کردیا۔ان پران کے رب کی جانب سے اعلٰی واکمل درود وتحیّت ہو۔اور اسی سے قریب یا اس سے بھی زیادہ عجیب وہ ہے جو سُنن سعید بن منصور میں اما م اجل ابراہیم نخعی رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت آئی ہے کہ انہوں نے فرمایا: وہ حضرات اپنے چہروں پر زورسے پانی نہ مارتے تھے اور وضومیں وہ تم سے بہت زیادہ پانی بچانے کی کوشش رکھتے تھے اور یہ سمجھتے تھے کہ چوتھائی مُدوضو کے لئے کافی ہے اس کے ساتھ وہ سچے ورع وپرہیز گاری والے، بہت فیاض طبع، اورجنگ کے وقت نہایت ثابت قدم بھی تھے۔

(۱؎کنزالعمال     بحوالہ ص حدیث ۲۰۷۲۶     مؤسسۃ الرسالہ بیروت    ۹ /۴۷۳)

اقول :  فلا ادری کیف اجتزؤا بربع ما جعلہ النبی صلی اللّٰہ تعالی علیہ وسلم مجزئابل لایظن بھم انھم قنعوا بالفرائض دون السنن فاذن یکفی لغسل الیدین الی الرسغین والمضمضۃ والاستنشاق وغسل الوجہ والیدین الی المرفقین والرجلین الی الکعبین کل مرۃ سدس رطل من الماء وھذا مما لایعقل ولا یقبل الا بمعجزۃ نبی اوکرامۃ ولی صلی اللّٰہ تعالی علی الانبیاء والاولیاء وسلم۔

اقول :  نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے جسے کافی قرار دیا(ایک مد۔دو رطل) معلوم نہیں اس کے چوتھائی سے ان حضرات نے کیسے کفایت حاصل کرلی، بلکہ ان کے بارے میں یہ گمان بھی نہیں کیاجاسکتا کہ سنتیں چھوڑ کرانہوں نے صرف فرائض پرقناعت کرلی تو(سنتوں کی ادائیگی کے ساتھ چوتھائی مُد میں تین تین بار جب انہوں نے سارے اعضاء دھوئے۱۲م)لازم ہے کہ گُٹّو ں تک دونوں ہاتھ دھونے ،کُلی کرنے ، ناک میں پانی ڈالنے،چہرہ اور کہنیوں تک دونوں ہاتھ، اور ٹخنوں تک دونوں پاؤں ہرایک کے ایک بار دھونے میں صرف ۶/۱رطل پانی کافی ہوجاتاتھا۔یہ عقل میں آنے والی اور ماننے والی بات نہیں مگر کسی نبی کے معجزے یا ولی کی کرامت ہی سے ایسا ہوسکتا ہے،تمام انبیاء اور اولیاپرخدائے برترکادرودوسلام ہو۔

فان قلت مایدریک لعل المراد بالمد المد العمری المساوی لصاع النبی صلی اللّٰہ تعالی علیہ وسلم الاربعا فیکون ربع المد ثلثۃ ارباع المد النبوی صلی اللّٰہ تعالی علیہ وسلم۔

اگر کہئے آپ کو کیا معلوم شاید مُد سے حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ تعالٰی کا مُد مرادہوجوچوتھائی کمی کے ساتھ نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے صاع کے برابر تھا تو وہ چوتھائی مُد حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے تین چوتھائی(۴/۳) مُد کے برابر ہوگا۔

قلت کلا فان ابرھیم سبق خلافۃ عمر ھذا رضی اللّٰہ تعالی عنھما مات فـــ سنۃ خمس اوست وتسعین وامیر المؤمنین فی رجب سنۃ احدی ومائۃ وخلافتہ سنتان ونصف رضی اللّٰہ تعالی عنہ واللّٰہ تعالٰی اعلم۔

    میں کہوں گا یہ ہر گز نہیں ہوسکتا۔ اس لئے کہ حضرت ابراہیم نخعی رضی اللہ تعالٰی عنہ حضرت عمر بن عبدالعزیز رضی اللہ تعالٰی عنہ کے دورِ خلافت سے پہلے وفات فرماگئے۔ ان کی وفات ۹۵ھ ؁ یا ۹۶ھ؁ میں ہوئی اورامیرالمومنین کی وفات رجب ۱۰۱ھ؁ میں ہوئی اور مدّتِ خلافت ڈھائی سال رہی، رضی اللہ تعالٰی عنہا۔واللہ تعالٰی اعلم۔(ت)

فــ:تاریخ وفات حضرت امام ابراہیم نخعی وعمر بن عبد العزیز ۔

رسالہ برکات السماء فی حکم اسراف الماء
(بے جا پانی خرچ کرنے کے حکم کے بار ے میں آسمانی برکات )

امر پنجم  : طہارت فــــ میں بے سبب پانی زیادہ خرچ کرنا کیا حکم رکھتا ہے۔

فــــ:مسئلہ وضو یا غسل میں بے سبب پانی زیادہ خرچ کرنے کا کیا حکم ہے اور اس باب میں مصنف کی تحقیق مفرد ۔

اقول :  ملاحظہ کلمات علما ء سے اس میں چار قول معلوم ہوتے ہیں، ان میں قوی تر دو ہیں اور فضلِ الٰہی سے امید ہے کہ بعد تحقیق وحصول توفیق اختلاف ہی نہ رہے وباللہ التوفیق۔

 (۱) مطلقاً حرام وناجائز ہے حتی کہ اگر نہر جاری میں وضو کرے یا نہائے اُس وقت بھی بلاوجہ صرف گناہ وناروا ہے یہ قول بعض شافعیہ کا ہے جسے خود شیخ مذہب شافعی سیدنا امام نووی نے شرح صحیح مسلم میں نقل فرماکر ضعیف کردیا اور اسی طرح دیگر محققین شافعیہ نے اُس کی تضعیف کی۔

 (۲) مکروہ ہے اگرچہ نہر جاری پر ہو اور کراہت صرف تنز یہی ہے۔ اگرچہ گھر میں ہو یعنی گناہ نہیں صرف خلاف سنت ہے حلیہ وبحرالرائق میں اسی کو اوجہ اور امام نووی نے اظہر اور بعض دیگر ائمہ شافعیہ نے صحیح کہا اور حکم آب جاری کو عام ہونے سے قطع نظر کریں تو کلام امام شمس الائمہ حلوانی وامام فقیہ النفس سے بھی اُس کا استفادہ ہوتا ہے ہاں شرنبلالی نے مراقی الفلاح میں عموم کی طرف صاف اشارہ کیا،

اور امام نووی نے شرح صحیح مسلم میں فرمایا: اجمع العلماء علی النھی عن الاسراف فی الماء ولوکان علی شاطیئ البحر والاظھر انہ مکروہ کراھۃ تنزیہ وقال بعض اصحابنا الاسراف حرام ۱؎۔

اس پر علماء کا اجماع ہے کہ پانی میں اسراف منع ہے اگرچہ سمندرکے کنارے پرہو،اوراظہریہ ہے کہ مکروہِ تنزیہی ہے ،اورہمارے بعض اصحاب نے فرمایاکہ اسراف حرام ہے۔(ت)

(۱؎ شرح صحیح مسلم للنووی کتا ب الطہارۃ     باب القدر المستحب من الماء الخ    دارالفکر بیروت     ۲ /۱۳۷۴)

منیہ وحلیہ میں فرمایا: م  ولا یسرف فی الماء ۲؎   ش   ای لا یستعمل منہ فوق الحاجۃ الشرعیۃ ۳؎ م

(م کے تحت متن کے الفاظ ہیں ش کے تحت شرح کے۱۲م) م پانی میں اسراف نہ کرے ش یعنی حاجتِ شرعیہ سے زیادہ پانی استعمال نہ کرے۔

(۲؎ منیۃ المصلی    آداب الوضوء        مکتبہ قادریہ جامعہ نظامیہ رضویہ لاہور    ص۲۹)
(۳؎ حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی)

وان کان علی شط نھر جار ۱؎ ش ذکر شمس الائمۃ الحلوانی انہ سنۃ وعلیہ مشی قاضی خان وھو اوجہ کما ھو غیر خاف فالاسراف یکون مکروھا کراھۃ تنزیہ وقد صرح النووی انہ الاظھر وحکی حرمۃ الاسراف عن بعض اھل مذھبہ وعبارۃ بعض المتأخرین منھم والزیادہ فی الغسل علی الثلث مکروہ علی الصحیح وقیل حرام وقیل خلاف الاولی ۲؎

م اگرچہ بہتے دریاکے کنارے ش شمس الائمہ حلوانی نے ذکرکیا کہ یہ سنت ہے۔اسی پر قاضی خاں چلے اور یہ اَوجہ ہے جیساکہ پوشیدہ نہیں۔تواسراف مکروہ تنزیہی ہوگا۔ اور امام نووی نے اس کے اظہر ہونے کی تصریح کی اوراسراف کا حرام ہونا اپنے بعض اہل مذہب سے حکایت کیا اوران حضرات شافعیہ کے بعد متاخرین کی عبارت یہ ہے : تین بار سے زیادہ دھونا صحیح قول پر مکروہ ہے او ر کہا گیا کہ حرام ہے اور کہا گیا کہ خلاف اولٰی ہے (ت)

(۱؎ منیۃ المصلی    آداب الوضوء        مکتبہ قادریہ جامعہ نظامیہ رضویہ لاہور    ص۲۹)
(۲؎حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی)

بحرالرائق میں ہے: الاسراف ھو الاستعمال فوق الحاجۃ الشرعیہ وان کان علی شط نھر وقد ذکر قاضی خان ترکہ من السنن ولعلہ الاوجہ فیکون مکروھا تنزیھا۳؎۔

اسراف یہ ہے کہ حاجت شرعیہ سے زیادہ استعمال کرے اگرچہ دریاکے کنارے ہو، اور قاضی خاں نے ذکرکیا ہے کہ اس کا ترک سنت ہے اور شاید یہی اَوجہ ہے تواسراف مکروہ تنزیہی ہوگا۔(ت)

(۳؎ البحرالرائق    کتاب الطہارۃ     ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۱ /۲۹)

(۳) مطلقا مکروہ تک نہیں نہ تحریمی نہ تنزیہی صرف ایک ادب وامر مستحب کے خلاف ہے بدائع امام ملک العلما ابو بکر مسعود وفتح القدیر امام محقق علی الاطلاق ومنیۃ المصلی وغیرہا میں ترک اسراف کو صرف آداب ومستحبات سے شمار کیا سنت تک نہ کہا اور مستحب کا ترک مکروہ نہیں ہوتا بلکہ سنت کا۔

حلیہ میں ہے : قال فی البدائع والادب فیما بین الاسراف والتقتیر اذالحق بین الغلو والتقصیر قال النبی صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم خیر الامور اوسطہا انتھی وذکر الحلوانی انہ سنہ فعلی الاول یکون الاسراف غیر مکروہ وعلی الثانی کراھۃ تنزیہ ۱؎۔

بدائع میں فرمایا ادب اسراف اور تقتیر(زیادتی اورکمی) کے درمیان ہے اس لئے کہ حق ،غلو اور تقصیر(حد سے تجاوز اور کوتاہی)کے مابین ہے، نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا:کاموں میں بہتر درمیانی ہیں، انتہی۔اور امام حلوانی نے ذکرفرمایاکہ ترکِ اسراف سنّت ہے توقول اول کی بنیاد پر اسراف مکروہ نہ ہوگا اورثانی کی بنیاد پر مکروہ تنزیہی ہوگا۔(ت)

(۱؎حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی )

بحر میں ہے  : فی فتح القدیر ان المندوبات نیف وعشرون ترک الاسراف والتقتیر وکلام الناس ۲؎ الخ فعلی کونہ مندوبا لایکون الاسراف مکروھا وعلی کونہ سنۃ یکون مکروھا تنزیھا۔

فتح القدیر میں ہے کہ مندوباتِ وضو بیس(۲۰) سے زیادہ ہیں۔اسراف وتقتیر اورکلام دنیاکاترک الخ۔توترک مندوب ہونے کی صورت میں اسراف مکروہ نہ ہوگااورسنّت ہونے کی صورت میں مکروہ تنزیہی ہوگا۔(ت)

(۲؎ البحرالرائق    کتاب الطہارۃ     ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۱ /۲۸)

غنیہ میں ہے:  (و) من الاداب (ان کان یسرف فی الماء) کان ینبغی ان یعدہ فی المناھی لان ترک الادب لاباس بہ ۳؎۔

 (اور)آداب میں سے یہ ہے کہ (پانی میں اسراف نہ کرے) اسے ممنوعات میں شمارکرناچاہئے تھا اس لئے کہ ترکِ ادب میں توکوئی حرج نہیں۔(ت)

 (۳؎ غنیۃ المستملی شرح منیۃ المصلی ومن الآداب ان یستاک     سہیل اکیڈمی لاہور    ص۳۴)

اقول : طہارت فـــــــ میں ترک اسراف کا صرف ایک ادب ہونا مذہب وظاہر الروایۃ ونص صریح محرر المذہب امام محمد رضی اللہ تعالٰی عنہ ہے، امام بخاری نے خلاصہ فصل ثالث فی الوضوء میں ایک جنس سنن وآداب وضو میں وضع کی اُس میں

فرمایا:فــ : تطفل علی الغنیۃ ۔

اما سنن الوضوء فنقول من السنۃ غسل الیدین الی الرسغین ثلثا ۱؎الخ

لیکن وضو کی سنتیں،توہم کہتے ہیں سنت ہے دونوں ہاتھ گٹوں تک تین بار دھونا الخ۔(ت)

 (۱؎ خلاصۃ الفتاوٰی      کتاب الطہارۃ الفصل الثالث     مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ     ۱ /۲۱)

پھر سُنتیں گنا کر فرمایا: واما اداب الوضوء فی الاصل من الادب ان لایسرف فی الماء ولا یقتر ان یشرب فضل وضوئہ اوبعضہ قائما اوقاعدا مستقبل القبلۃ ۲؎ الخ

رہے آدابِ وضو، تو اصل(مبسوط) میں ہے کہ ادب یہ ہے کہ پانی میں نہ اسراف کرے نہ کمی کرے اور اپنے وضو کا بچا ہوا کُل یا کچھ پانی کھڑے ہوکر یا بیٹھ کر قبلہ رُوپی جائے الخ۔(ت)

(۲؎ خلاصۃ الفتاوٰی      کتاب الطہارۃ الفصل الثالث     مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ     ۱ /۲۵)

اُسی کا بدائع وفتح القدیر ومنیہ وخلاصہ وہندیہ وغیرہا میں اتباع کیا اور اُس سے زائد کس کا اتباع تھا تو اُس پر مواخذہ محض بے محل ہے واللہ الموفق۔

(۴) نہر جاری میں اسراف جائز کہ پانی ضائع نہ جائے گا اور اس کے غیر میں مکروہ تحریمی۔ مدقق علائی نے درمختار میں اسی کو مختار رکھا علامہ مدقق عمر بن نجیم نے نہر الفائق میں کراہت تحریم ہی کو ظاہر کہا اور اُسی کوامام قاضی خان وامام شمس الائمہ حلوانی وغیرہما اکابر کا مفاد کلام قرار دیا کہ ترک اسراف کو سنّت کہنے سے اُن کی مراد سنتِ مؤکدہ ہے اور سنتِ مؤکدہ کا ترک مکروہ تحریمی، نیز مقتضائے کلام امام زیلعی کہ مطلق مکروہ سے غالباً مکروہ تحریمی مراد ہوتا ہے۔ اور بحرالرائق میں اسے قضیہ کلام منتقٰی بتایا کہ اُس میں اسراف کو منہیات سے شمار فرمایا اور ہر منہی عنہ کم ازکم مکروہ تحریمی ہے۔

اقول :  اور یہی عبارت آئندہ جواہر الفتاوٰی سے مستفاد

لفحوٰھا اذا لمفاھیم فـــ معتبرۃ فی الکتب کما فی الدر والغمز والشامی وغیرھا والقضیۃ دلیلہا ایضا کما لایخفی۔

اس کے مضمون وسیاق کے پیش نظر کیونکہ کتابوں میں مفہوم معتبرہوتاہے جیسا کہ درمختار،غمز العیون اورشامی وغیرہا میں ہے۔اوراس کے مقتضائے دلیل کے پیش نظر بھی، جیسا کہ پوشیدہ نہیں۔(ت)

فـــ :المفاہیم معتبرۃ فی الکتب بالاتفاق۔

شرح تنویر میں ہے: بل فی القہستانی معزیا للجواھر الاسراف فی الماء الجاری جائز لانہ غیر مضیع فتامل ۱؎۔

بلکہ قہستانی میں جوہر کے حوالے سے ہے کہ بہتے پانی میں اسراف جائز ہے اس لئے کہ پانی بے کار نہ جائے گا، تو تامل کرو۔(ت)

(۱؎ الدرالمختار    کتاب الطہارۃ      مطبع مجتبائی دہلی    ۱ /۲۲)

پھر فرمایا: مکروھہ الاسراف فیہ تحریما لوبماء النھر ولمملوک لہ اما الموقوف علی من یتطھر بہ ومنہ ماء المدارس فحرام ۲؎۔

پانی میں اسراف مکروہ تحریمی ہے اگر دریاکاپانی یااپنی ملکیت کاپانی استعمال کرے لیکن طہارت حاصل کرنے والوں کے لئے وقف شدہ پانی ہوجس میں مدارِس کا پانی بھی داخل ہے تواسراف حرام ہے۔(ت)

(۲؎ الدرالمختار    کتاب الطہارۃ          مطبع مجتبائی دہلی    ۱/ ۲۴)

بحر میں ہے: صرح الزیلعی بکراھتہ وفی المنتقی انہ من المنھیات فتکو ن تحریمیۃ ۳؎۔

امام زیلعی نے اس کے مکروہ ہونے کی صراحت فرمائی اورمنتقٰی میں اسے منہیات سے شمار کیا تویہ مکروہِ تحریمی ہوگا۔(ت)

(۳؎ البحرالرائق کتاب الطہارۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۱/ ۲۹)

منحۃ الخالق میں نہر سے ہے: الظاھر انہ مکروہ تحریما اذ اطلاق الکراھۃ مصروف الی التحریم فما فی المنتقی موافق لما فی السراج عـــہ والمراد بالسنۃ المؤکدۃ لاطلاق النھر عن الاسراف وبہ یضعف جعلہ مندوبا ۱؎۔

ظاہریہ ہے کہ اسراف مکروہِ تحریمی ہے اس لئے کہ کراہت مطلق بولی جائے تو تحریمی کی جانب پھیری جاتی ہے تو منتقٰی کا کلام سراج کے مطابق ہے اورسنت سے مراد سنتِ مؤکدہ ہے اس لئے کہ اسراف سے مطلقاً نہی ہے اور اسی سے اُسے مندوب قراردیناضعیف ہوجاتا ہے۔(ت)

( ۱ ؎منحۃ الخالق علی البحرالرائق     کتاب الطہارۃ     ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ /۲۹)

عـــہ: قال فی المنحۃ صوابہ لما فی الخانیۃ کما لایخفی اذلا ذکر للسراج فی قولہ ولافی الشارح ۱؎ ای صاحب البحر

وانا اقول :  ھذا بعید خطا ومعنی اما الاول فظاھر اذ لامناسبۃ بین لفظی السراج والخانیۃ واما الثانی ف فلان النھر فرع موافقۃ المنتقی المصرح بکونہ من المنھیات علی اطلاق الکراھۃ فان مطلقھا یحمل علی التحریم ولا ذکر للکراھۃ فی عبارۃ الخانیۃ نعم اراد توجیہ ما فی الخانیۃ الی مااستظھرہ بقولہ بعد والمراد بالسنۃ ۲؎الخ واقرب خطا ومعنی بل الذی یجزم السامع بانہ ھو الواقع فی اصل نسخۃ النھر فحرفہ الناسخ ان نقول صوابہ لمافی الشرح والمراد بالشرح التبیین فی شرح مشروح البحر والنھر الکنز للامام الزیلعی فانہ ھو الذی صرح بالکراھۃ واطلقہا ونقلہ البحر وقرنہ بکلام المنتقی واللّٰہ تعالٰی اعلم۔ اھ عفی عنہ

منحۃ الخالق میں ہے صحیح یہ کہنا ہے کہ ''خانیہ کے مطابق'' جیسا کہ پوشیدہ نہیں اس لئے کہ سراج کا کوئی تذکرہ نہ تو کلامِ نہر میں ہے نہ کلامِ شارح یعنی کلامِ بحر میں ہے۔

اقول :  یہ خط اورمعنی دونوں اعتبار سے بعید ہے اول توظاہر ہے اس لئے کہ لفظ''سراج'' اورلفظ ''خانیہ'' میں کوئی مناسبت نہیں۔ اورثانی اس لئے کہ کلام منتقی جس میں اسراف کے منہیات سے ہونے کی تصریح ہے اس کی کلام دیگرکے ساتھ مطابقت کی تفریع صاحبِ نہر نے اس پرفرمائی ہے کہ کراہت مطلق بولی جاتی ہے تو کراہت تحریم پرمحمول ہوتی ہے اور عبارت خانیہ میں کراہت کا کوئی تذکرہ نہیں۔ ہاں انہوں نے کلام خانیہ کی توجیہ اس عبارت سے کرنی چاہی ہے جو بعد میں لکھی ہے کہ سنت سے مراد سنتِ مؤکدہ ہے الخ۔رسم الخط اورمعنی دونوں لحاظ سے قریب تربلکہ جسے سننے کے بعد سامع جزم کرے کہ یقینا نہر کے اصل نسخہ میں یہی ہوگا اور کاتب نے تحریف کردی ہے یہ ہے کہ ہم کہیں صحیح عبارت ''موافق لمافی الشرح'' ہے، یعنی کلام منتقی اس کے مطابق ہے جوشرح میں ہے۔ اورشرح سے مرادامام زیلعی کی تبیین الحقائق ہے جو البحر الرائق اور النہر الفائق کے متن کنزالدقائق کی شرح ہے۔اسی میں کراہت کی صراحت اور اطلاق ہے اسی کوصاحبِ بحر نے نقل کیا اور اس کے ساتھ منتقٰی کا کلام ملادیا۔ واللہ تعالٰی اعلم۔(ت)

فــ: معروضۃ علی العلامۃ ش۔

( ۱ ؎منحۃ الخالق علی البحرالرائق     کتاب الطہارۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ /۲۹)
(۲ ؎منحۃ الخالق علی البحرالرائق     کتاب الطہارۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ /۲۹)

التنبیہ الاول : عرض العلامۃ الشامی نورقبرہ السامی بالمحقق صاحب البحر انہ تبع قولا لیس لاحد من اھل المذھب حیث قال ''قولہ تحریما الخ نقل ذلک فی الحلیۃ عن بعض المتاخرین من الشافعیۃ وتبعہ علیہ فی البحر وغیرہ ۲؎الخ

تنبیہ(۱) علامہ شامی'' نور قبرہ السامی''نے محقق صاحبِ بحرپرتعریض فرمائی کہ انہوں نے ایک ایسے قول کااتباع کر لیا جو اہل مذہب میں سے کسی کانہیں،اس طرح کہ وہ درمختار کے قول تحریماالخ کے تحت لکھتے ہیں: اسے حلیہ میں بعض متاخرین شافعیہ سے نقل کیا ہے جس کی پیروی صاحبِ بحر وغیرہ نے کرلی ہے الخ۔

(۲؎ ردالمحتار     کتاب الطہارۃ             دار احیاء التراث العربی بیروت     ۱ /۸۹)

اب بتوفیق اللہ تعالٰی یہاں تحقیق مقام وتنقیح مرام وتصحیح احکام ونقض وایرام کیلئے بعض تنبیہات نافعہ ذکر کریں۔

اقول :  لم یتبعہ فـــ البحر بل استوجہ کراھۃ التنزیہ ثم نقل عن الزیلعی کراھتہ وعن المنتقی النھی عنہ وافاد ان مقتضاہ کراھۃ التحریم وھذا لیس اختیار الہ بل اخبار عما یعطیہ کلام المنتقی کما اخبر اولا ان قضیۃ عدم الفتح ترکہ من المندوبات عدم کراھتہ اصلا فلیس فیہ میل الیہ فضلا عن الاتباع علیہ ولا سیما لیس فی کلامہ التنصیص بجریان الحکم فی الماء الجاری والاطلاق لایسد ھھنا مسد الفصاح بالتعمیم للفرق البین بالتضییع وعدمہ فکیف یجعل متابعا للقول الاول وعن ھذا ذکرنا کل من قضیۃ کلام المنع فی القول الرابع دون الاول اذلا ینسب الا الی من یفصح بشمول الحکم النھر ایضا نعم تبعہ علیہ فی الغنیۃ اذقال الاسراف مکروہ بل حرام وان کان علی شط نھر جار لقولہ تعالی ولا تبذر ۱؎ تبذیرا اھ

    اقول :  صاحبِ بحر نے ا س کی پیروی نہیں کی بلکہ انہوں نے مکروہ تنزیہی ہونے کو اَوجَہ کہا پھر امام زیلعی سے اس کا مکروہ ہونا اور منتقی سے منہی عنہ ہونانقل کیا اور افادہ کیا کہ اس کا مقتضاکراہت تحریم ہے۔یہ اس قول کواختیار کرنا نہ ہوا بلکہ منتقٰی سے جو مفہوم اخذ ہوتا ہے اسے بتانا ہوا جیسے اس سے پہلے انہوں نے بتایاکہ صاحبِ فتح کے ترک اسراف کومندوبات سے شمارکرنے کا مقتضایہ ہے کہ اسراف بالکل مکروہ نہ ہوتواس میں اس کا اتباع درکناراس کی جانب میلان بھی نہیں ،خصوصاً جبکہ ان کے کلام میں آبِ رواں کے اندرحکمِ اسراف جاری ہونے کی تصریح بھی نہیں۔اورمطلق بولنا اس مقام پرحکم کوصاف صریح طورپرعام قراردینے کے قائم مقام نہیں ہوسکتااس لئے کہ پانی کوضائع کرنے اور نہ کرنے کا بیّن فرق موجود ہے توانہیں قول اول کا متبع کیسے ٹھہر ایا جاسکتا ہے۔ اسی لئے جن حضرات کے کلام کامقتضا ممانعت ہے انہیں ہم نے قول چہارم میں ذکر کیا،قول اول کے تحت ذکر نہ کیا اس لئے کہ قولِ اوّل اسی کی جانب منسوب ہوسکتا ہے جو صاف طور پر اس کا قائل ہوکہ اسراف کاحکم دریا کوبھی شامل ہے۔ہاں اس قول کی پیروی غنیہ میں ہے کیونکہ اس کے الفاظ یہ ہیں: اسراف مکروہ بلکہ حرام ہے اگرچہ نہر جاری کے کنارے ہو اس لئے کہ باری تعالٰی کا ارشاد ہے ولا تبذر تبذیرا اور فضول خرچی نہ کر اھ۔(ت)

فـــ: معروضۃ ثالثۃ علیہ ۔

(۱؎ غنیۃ المستملی شرح منیۃ المصلی ومن الآداب ان یستاک     سہیل اکیڈمی لاہور    ص۳۵۔۳۴)

التنبیہ الثانی  : کان عرّض علی البحر واتی بالتصریح علی الدر فقال ماذکرہ الشارح ھنا قد علمت انہ لیس من کلام مشائخ المذھب ۲؎ اھ

    تنبیہ(۲): صاحبِ بحر پر تو تعریض کی تھی اورصاحبِ درمختار کے معاملہ میں توتصریح کردی اور لکھا کہ:''شارح نے یہاں جو بیان کیا تمہیں معلوم ہے کہ وہ مشائخ مذہب میں سے کسی کاکلام نہیں''اھ

(۲؎ ردالمحتار     کتاب الطہارۃ             دار ا حیاء التراث العربی بیروت     ۱ /۹۰)

اقول :  والدر فــ ایضا مصفی عن ھذا الکدر کدر مکنون وانما اغتر المحشی العلامۃ بقولہ لوبماء النھر ولم یفرق بین تعبیری التوضی من النھر وبماء النھر ورأیتنی کتبت ھھنا علی الدر قولہ لوبماء النھر۔

    اقول :  اس کدورت سے دُربھی کسی دُرِّ مکنون کی طرح صاف ہے۔ علامہ محشی کو درمختار کے لفظ''لوبماء النھر''سے دھوکا ہوا اور التوضّی من النھراور التوضّی بماء النھر(دریا سے وضو کرنا اوردریا کے پانی سے وضو کرنا)کی تعبیروں میں فرق نہ کرسکے۔یہاں دُرِ مختار کے قول ''لو بماء النھر'' پردیکھا کہ میں نے یہ حاشیہ لکھا ہے:

 فـــ: معروضۃ رابعۃ علیہ

اقول :  ای فی الارض لافی النھر واراد تعمیم الماء المباح والمملوک اخراجا للماء الموقوف فلا ینافی ماقدمہ عن القھستانی عن الجواھر ۳؎ ماکتبت علیہ۔

    اقول :  (پانی میں اسراف مکروہ تحریمی ہے اگر نہر کے پانی سے طہارت حاصل کرے) یعنی نہر کے پانی سے زمین میں (وضوکرے) نہر کے اندرنہیں انہوں نے وقف شدہ پانی کو خارج کرنے کے لئے حکم آب مباح اورآب مملوک کو عام کرنا چاہا ہے تو یہ اس کے منافی نہیں جو وہ قہستانی کے حوالے سے جواہر سے سابقاً نقل کرچکے۔ اھ۔میرا حاشیہ ختم ہوا۔

(۳؎جد الممتار علی رد المحتا ر کتاب الطہارۃ المجمع الاسلامی مبارک پور اعظم گڑھ (ہند )۱ /۹۹)

ومما اکد الاشتباہ علی العلامۃ المحشی ان المحقق الحلبی فی الحلیۃ نقل مسألۃ الماء الموقوف وماء المدارس عن عبارۃ الشافعی المتأخر۔فتمامھا بعد قولہ مکروہ علی الصحیح وقیل حرام وقیل خلاف الاولی ومحل الخلاف مااذا توضا ء من نھر اوماء مملوک لہ فان توضأ من ماء موقوف حرمت الزیادۃ والسرف بلا خلاف لان الزیادۃ غیر ماذون فیھا وماء المدارس من ھذا القبیل لانہ انما یوقف ویساق لمن یتوضؤ الوضوء الشرعی ولم یقصدا باحتہا لغیر ذلک ۱؎اھ

    اور علامہ شامی کے اشتباہ کو تقویت اس سے بھی ملی کہ محقق حلبی نے آب موقوف اور آب مدارس کا مسئلہ شافعی متاخر کی عبارت سے نقل کیا کیونکہ ان شافعی کے قول'' مکروہ برقولِ صحیح ،اور کہا گیا حرام اورکہاگیا خلافِ اولٰی'' کے بعد ان کی بقیہ عبارت یہ ہے: اورمحلِ اختلاف وہ صورت ہے جب نہرسے وضوکیاہویااپنی ملکیت کے پانی سے کیا ہوتوزیادتی واسراف بلا اختلاف حرام ہے اس لئے کہ زیادتی کی اجازت نہیں اور مدارِس کاپانی اسی قبیل سے ہے اس لئے کہ وہ ان لوگوں کے لئے وقف ہوتا اورلایا جاتا ہے جو اس سے وضو ئے شرعی کریں اور ان کے علاوہ کے لئے اس کی اباحت مقصود نہیں ہوتی اھ۔

(۱؎حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی)

ثم رأی المسألتین فی عبارتی البحر والدر ورأی الحکم فیھما بکراھۃ التحریم فسبق الی خاطرہ انھما تبعا قیل التحریم العام ولیس کذلک فان حرمۃ الاسراف فی الاوقاف مجمع علیھا وقد غیرا فی التعبیر بما یبرئھما عن تعمیم التحریم فلم یقولا توضأ من نھر بل قال البحر ھذا اذا کان ماء نھر۱؎ وقال الدر لوبماء النھر ۲؎والفرق فی التعبرین لایخفی علی المتأمل ۔

    پھرعلامہ شامی نے یہ دونوں مسئلے بحر اوردرکی عبارتوں میں بھی دیکھے یعنی یہ کہ ان دونوں میں کراہت تحریم کا حکم موجود ہے۔تو ان کاذہن اس طرف چلاگیا کہ دونوں نے تحریم عام کے قول کی پیروی کرلی ہے۔حالاں کہ ایسا نہیں۔ اس لئے کہ اوقاف میں اسراف کی حرمت اجماعی ہے اوردونوں حضرات نے تعبیر میں اتنی تبدیلی کردی جس کے باعث تحریم کوعام قرار دینے سے بری ہوگئے۔ توان حضرات نے ''توضّأ من نھر''  (دریا سے وضو کیا)نہ کہابلکہ بحرنے کہا: ھذا اذا کان ماء نھر ( یہ حکم اس وقت ہے جب دریا کا پانی ہوالخ) اورصاحب درمختارنے کہا:لوبماء النھر (اگردریا کے پانی سے وضو کرے الخ)اور تأمل کرنے والے پردونوں تعبیروں کافرق مخفی نہیں۔

(۱؎ البحرالرائق    کتاب الطہارۃ     ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۱ /۲۹)
(۲؎ الدر المختار     کتاب الطہارۃ     مطبع مجتبائی دہلی         ۱ /۲۴)

وبیان ذلک علی مااقول :  ان المتوضیئ من النھر وان لم یدل مطابقۃ الا علی التوضی بالاغتراف منہ لکن یدل عرفا علی نفی الواسطۃ فمن ملأکوزا من نھر واغترف عند التوضی من الکوز لایقال توضأ من النھر بل من الکوز الاعلی ارادۃ حذف ای بماء ماخوذ من النھر والتوضی من نھر بلا واسطۃ انما یکون فی متعارف الناس بان تدخل النھر اوتجلس علی شاطئہ وتغترف منہ بیدک وتتوضأ فیہ فوقوع الغسالۃ فی النھر ھو الطریق المعروف للتوضی من النھر فیدل علیہ دلالۃ التزام للعرف المعہود بخلاف التوضی بماء النھر فلا دلالۃ لہ علی وقوع الغسالۃ فی شیئ اصلا الاتری ان من توضأ فی بیتہ بماء جُلب من النھر تقول توضأ بماء النھر لامن النھر ھذا ھو العرف الفاشی والفرق فی الاسراف بین الماء الجاری وغیرہ بانہ تضییع فی غیرہ لافیہ انما یبتنی علی وقوع الغسالۃ فیہ ولا نھر وسکبہا علی الارض من دون نفع فقد ضیع وان افرغ جرۃ عندہ فی نھر لم یضیع والدال علی ھذا المبنی ھو لفظ من نھر لالفظ بماء النھر کما علمت ففی الاول تکون دلالۃ علی تعمیم التحریم لافی الثانی ھذا ھو الفارق بین تعبیر ذلک الشافعی وتعبیر البحر والدر وحینئذ وغیرھا فلا یکون متبعا لقیل فی غیر المذھب۔

اقول :  اس کی توضیح یہ ہے کہ التوضی من النھر(دریاسے وضوکرنا)اگرمعنی مطابقی کے لحاظ سے یہی بتاتا ہے کہ اس سے ہاتھ یا برتن میں پانی لے کروضوکرنا لیکن عرفاً اس کا معنی یہ ہوتا ہے کہ اس سے بغیرکسی واسطہ کے وضو کرنا تواگر کسی نے برتن میں دریا سے پانی بھر لیا اور وضو کے وقت برتن سے ہاتھ میں پانی لے کر وضو کیا تو یہ نہ کہا جائے گا کہ اس نے دریا سے وضو کیا بلکہ یہی کہا جائے گا کہ برتن سے وضوکیا۔ مگر خذف مراد لے کر کوئی کہہ سکتا ہے کہ دریا سے۔ یعنی دریا سے لئے ہوئے پانی سے وضو کیا۔ اورنہر سے بلا واسطہ وضو کرنے کی صورت لوگوں کے عرف میں یہ ہوتی ہے کہ کوئی دریا کے اندر جا کر۔یا اس کے کنارے بیٹھ کر اس سے ہاتھ میں پانی لیتے ہوئے اسی میں وضوکرے کہ غُسالہ دریاہی میں گرے یہی نہرسے وضو کا معروف طریقہ ہے کہ غُسالہ اسی میں گرتا ہے تو عرف معلوم کے سبب اس پراس لفظ کی دلالت التزامی پائی جائے گی۔اور التوضی بماء النھر(دریا کے پانی سے وضوکرنے) کا مفہوم یہ نہیں ہوتا اس لفظ کی دلالت کسی چیز کے اندر غسالہ کے گرنے پر بالکل نہیں ہوتی۔دیکھئے اگر کسی نے اپنے گھر میں اُس پانی سے وضو کیاجودریاسے لایاگیاتھا تویہ کہاجائے گا کہ اس نے دریاکے پانی سے وضو کیااوریہ نہ کہاجائے گا کہ اس نے دریاسے وضوکیا۔ یہی عام مشہور عرف ہے۔ آبِ رواں اورغیر رواں کے درمیان اسراف میں یہ فرق کہ غیر جاری میں پانی برباد ہوتا ہے اورجاری میں برباد نہیں ہوتا، اس کی بنیادغسالہ کے اس کے اندر گرنے ہی پرہے۔اور اس فرق میں ہاتھ یا برتن سے پانی لینے کوکوئی دخل نہیں کیوں کہ اگرکسی نے دریا سے گھڑا بھر کر زمین پر بے فائدہ بہادیاتو اس نے پانی بربادکیا۔ا ور اگر اپنے  پاس کا بھرا ہوا گھڑادریا میں اُنڈیل دیا تو اس نے پانی برباد نہ کیا اور اس بنیاد کو بتانے والالفظ وہی''من نھر'' (دریاسے) ہے'' بما النھر'' (دریا کے پانی سے)نہیں جیسا کہ واضح ہوا۔ تو من نھر کہنے میں اس پر دلالت ہوتی ہے کہ حکم تحریم دریا سے وضو کوبھی شامل ہے اور بماء النھر کہنے میں یہ دلالت نہیں ہوتی ۔ یہی فرق ہے ان شافعی کی تعبیر میں اور بحر ودر کی تعبیر میں۔اورجب ایسا ہے تو صاحبِ دُر اپنے ساتھ جو اہر کو بھی پائیں گے اور منتقی ونہروغیرہا کو بھی۔تووہ غیر مذہب کے کسی قولِ ضعیف کی پیروی کرنے والے نہ ہوں گے۔

اقول :  فـــ بتحقیقنا ھذا ظھر الجواب عما اخذ بہ الامام المحقق الحلبی فی الحلیۃ علی المشائخ حیث یطلقون ھھنا من مکان فی یقولون توضا من حوض من نھر من کذا ویریدون وقوع الغسالۃ فیہ قول فی المنیۃ اذا کان الرجال صفوفا یتوضوء ن من الحوض الکبیر جاز ۱؎ قال فی الحلیۃ التوضی منہ لایستلزم البتۃ وقوع الغسالۃ فیہ بخلاف التوضی فیہ ووقوع غسالاتھم فیہ ھو مقصود الافادۃ ۲؎ واطال فی ذلک وکررہ فی مواضع من کتابہ وھو من باب التدنق والمشائخ یتساھلون باکثر من ھذا فکیف وھو المفاد من جہۃ المعتاد۔

اقول :  ہماری اسی تحقیق سے اس کا جواب بھی واضح ہوگیا جو امام محقق حلبی نے حلیہ میں حضرات مشائخ پرگرفت کی ہے اس طرح کہ وہ حضرات یہاں''فی''(میں) کی جگہ''من''(سے) بولتے ہیں کہتے ہیں توضأ من حوض، من نھر، من کذا (حوض سے ،دریا سے، فلاں سے وضو کیا)اور مراد یہ لیتے ہیں کہ غسالہ اسی میں گرا۔ منیہ میں لکھا:جب بہت سے لوگ قطاروں میں کسی بڑے حوض سے وضوکرنا جائز ہے ۔اس پر حلیہ میں لکھا:حوض سے وضو کرناقطعی طورپراس بات کو مستلزم نہیں کہ غسالہ اسی میں گرے بخلاف حوض میں وضو کرنے کے۔ اورلوگوں کاغسالہ اس میں گرتا ہوسے یہی بتانا مقصود ہے۔اس اعتراض کو بہت طویل بیان کیا ہے اور اپنی کتاب کے متعددمقامات پر باربار ذکرکیاہے حالاں کہ یہ عبارت میں بے جا تدقیق کے باب سے ہے۔ حضرات مشائخ تواس سے بہت زیادہ تسامح سے کام لیتے ہیں پھراس میں کیا جب کہ عرف عام اور طریق معمول کا مفاد بھی یہی ہے۔(ت)

فـــ:تطفل علی الحلیۃ ۔

(۱؎ منیۃ المصلی فصل فی الحیاض مکتبہ قادریہ جامعہ نظامیہ رضویہ لاہور    ص۶۷)
(۲؎حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی)

تنبیہ(۳) : علامہ عمر بن نجیم نے نہر الفائق میں قول سوم کو دوم کی طرف راجع کیا اور اپنے شیخ اکرم واخ اعظم محقق زین رحمہما اللہ تعالٰی کی تقریر سے یہ جواب دیا کہ ترک اسراف کو ادب یا مستحب گننا اسے مقتضی نہیں کہ اسراف مکروہ تنزیہی بھی نہ ہوا کہ آخر خلاف مستحب ہے اور خلاف مستحب خلاف اولی اور خلاف اولی مکروہ تنزیہی۔

قال فی المنحۃ قال فی النھر لانسلم ان ترک المندوب غیر مکروہ تنزیھا لما فی فتح القدیر من الجنائز والشہادات ان مرجع کراھۃ التنزیہ خلاف الاولی ولا شک ان تارک المندوب اٰت بخلاف  الاولٰی۱؎۔ اھ

منحۃ الخالق میں ہے نہر میں کہا:ہم اسے نہیں مانتے کہ ترک مندوب،مکروہ تنزیہی نہیں اسلئے کہ فتح القدیر میں جنائز اورکتاب الشہادات میں لکھا ہے کہ کراہت تنزیہ کامآل خلافِ اولٰی ہے اور مندوب کوترک کرنے والا بلاشبہ خلافِ اولٰی کا مرتکب ہے اھ۔(ت)

(۱؎ منحۃ الخالق علی البحرالرائق کتاب الطہارۃ     ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ص۱ /۲۹)

یہی جواب کلام بدائع پر محقق حلبی کی تقریر سے ہوگا۔ علّامہ شامی نے یہاں اُسے مقرر رکھا اور ردالمحتار میں صراحۃً اس کا اتباع کیا حیث قال مامشی علیہ فی الفتح والبدائع وغیرھما من جعل ترکہ مندوبا فیکرہ تنزیھا ۲؎ اھ (اس طرح کہ وہ لکھتے ہیں:جس پرفتح ،بدائع وغیرہما میں گئے ہیں وہ یہ ہے کہ ترک اسراف کو مندوب قراردیاہے تووہ اسراف تنزیہی ہوگا اھ۔(ت)

(۲؎ردالمحتار کتاب الطہارۃ مطلب فی الاسراف فی الوضوء دار احیاء التراث العربی بیروت ۱ /۹۰ )

اقول :  وباللّٰہ استعین ( میں اللہ سے مدد طلب کرتا ہوں ) اولا فــ  : یہ معلوم کیجئے کہ مکروہ تنزیہی کی تحدید میں کلمات علما ء مختلف بھی ہیں اور مضطرب بھی، فتح القدیر کی طرح نہ ایک کتاب بلکہ بکثرت کتب میں ہے کہ کراہت تنزیہ کا مرجع خلاف اولی ہے اس طور پر ہر مستحب کا ترک بھی مکروہ تنزیہی ہونا چاہئے۔

فــ  : مکروہ تنزیہی کی تحدید میں علماء کا اختلاف اورعبارات میں اضطراب۔

درمختار آخر مکروہاتِ نماز میں ہے : یکرہ ترک کل سنۃ ومستحب ۳؎

ہر سنت اور مستحب کا ترک مکروہ ہے۔ (ت)

(۳؎ الدر المختار کتاب الصلوۃ باب ما یفسد الصلوٰۃ وما یکر ہ فیہا مطبع مجتبائی دہلی۱ /۹۳)

اور بہت محققین کراہت کیلئے دلیل خاص یا صیغہ نہی کی حاجت جانتے ہیں یعنی جبکہ فعل سے باز رہنے کی طلب غیر حتمی پر دال ہو۔

اقول :  ولو قطعی فـــ۱ الثبوت فان المدار علی ماذکرنا من حال الطلب کما قدمنا تحقیقہ فی الجود الحلووان قال فی الحلیۃ من صدر الکتاب المنہی خلاف المامور فان کان النھی المتعلق بہ قطعی الثبوت والدلالۃ فحرام وان کان ظنی الثبوت دون الدلالۃ اوبالعکس فمکروہ تحریما وان کان ظنی الثبوت والدلالۃ فمکروہ تنزیہا ۱؎ اھ

اقول :  اگرچہ دلیل قطعی الثبوت ہواس لئے کہ مداراسی پر ہے جسے ہم نے ذکرکیا یعنی یہ کہ طلب کاحال کیا ہے حتمی ہے یا غیر حتمی،جیساکہ اس کی تحقیق الجَود الحَلُو میں ہم کر چکے ۔اگرچہ حلیہ کے اندر شروع کتاب میں یہ لکھا ہے :منہی،مامور کامخالف ہے۔اگراس سے تعلق رکھنے والی نہی ثبوت اوردلالت میں قطعی ہوتووہ حرام ہے۔اور اگرثبوت میں ظنی ہودلالت میں نہیں،یا برعکس صورت ہوتومکروہِ تحریمی ہے۔اوراگر ثبوت ودلالت میں ظنی ہوتومکروہ  تنزیہی ہے اھ۔(ت)

فـــ۱ :تطفل علی الحلیۃ۔

( ۱؎ حلیۃ ا لمحلی شرح منیۃ المصلی )

اور شک نہیں کہ اس تقدیر پر ترکِ مستحب مکروہ نہ ہوگا، مجمع الانہر باب الاذان میں ہے: لاکراھۃ فی ترک المندوب ۲؎ (ترکِ مندوب میں کوئی کراہت نہیں۔(ت)

(۲؎ مجمع الانہر شرح ملتقی الابحر      کتاب الصلوۃ باب الاذان     دار احیاء التراث العربی بیروت     ۱ /۷۵)

اضطراب یہ کہ جن صاحب فــ۲ فتح قدس سرہ نے جابجا تصریح فرمائی کہ خلاف اولٰی مکروہ تنزیہی ہے اور اوقاتِ مکروھہ نماز میں فرمایا کہ جانب ترک میں مکروہ تنزیہی جانب فعل میں مندوب کے رتبہ میں ہے

فـــ۲ تطفل ما علی الفتح ۔

حیث قال التحریم فی مقابلۃ الفرض فی الرتبۃ وکراھۃ التحریم فی رتبۃ الواجب والتنزیہ برتبہ المندوب ۳؎

(ان کے الفاظ یہ ہیں: تحریم رتبہ میں فرض کے مقابل ہے اورکراہت تحریم رتبہ میں واجب کے مقابل اورکراہت تنزیہ مندوب کے رتبہ میں ہے۔(ت)

(۳؎ فتح القدیر    کتاب الصلوٰۃ باب المواقیت فصل فی اوقات المکروھۃ      مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر    ۱ /۲۰۲)

اُنہی نے تحریر الاصول میں تحریر فرمایا کہ مکروہ تنزیہی وہ ہے جس میں صیغہ نہی وارد ہوا جس میں نہی نہیں وہ خلاف اولی ہے اور کراہت تنزیہ کا مرجع خلاف اولی کی طرف ہونا ایک اطلاق موسع کی بنا پر ہے

حیث قال فی الباب الاول من المقالۃ الثانیۃ من التحریر مسألۃ اطلاق المامور بہ علی المندوب مانصہ ''المکروہ منھی ای اصطلاحا حقیقۃ مجاز لغۃ والمراد تنزیھا ویطلق علی الحرام وخلاف الاولی مما لاصیغۃ فیہ والا فالتنزیھیۃ مرجعہا الیہ۱؎۔

اس طرح کہ تحریر الاصول مقالہ دوم کے با ب اول مسألہ اطلاق الماموربہ علی المندوب کے تحت لکھا: مکروہ اصطلاح میں حقیقۃً منہی ہے اور لغت میں مجازاً۔۔۔ اورمکروہ سے مراد تنزیہی ہے اور اس کا اطلاق حرام پر بھی ہوتاہے اور اس خلافِ اولٰی پربھی جس سے متعلق صیغہ نہی وارد نہیں ورنہ کراہت تنزیہ کامرجع وہی ہے (جس میں صیغہ نہی وارد ہو)۔(ت)

(۱؎ التحریر فی الاصول الفقہ     المقا لۃ الثا نیۃ البا ب الاول مصطفی البابی مصر     ص۲۵۷۔۲۵۶)

جس حلیہ فــ۱ میں یہ فرمایا کہ: علی الاول یکون الاسراف غیر مکروہ ۲؎ (اسراف کو خلاف ادب ٹھہرانے والے قول پر اصراف مکروہ نہ ہوگا (ت)

 فـــ۱ تطفل علی الحلیۃ

(۲؎ حلیۃ المحلی شرح منیۃالمصلی )

اُسی کے صدر میں ہے : المکروہ تنزیھا مرجعہ الی خلاف الاولی والظاھر انھما متساویان ۳؎

مکروہ تنزیہی کا مرجع خلاف اولٰی ہے اور ظاہر یہ ہے کہ دونوں میں تساوی ہے۔(ت)

(۳؎ حلیۃ المحلی شرح منیۃالمصلی )

جس غنیہ فـــ۲ کے اوقات میں باتباع فتح تصریح فرمائی کہ: التنزیھیۃ مقابلۃ المندوب ۴؎ (کراہت تنزیہیہ بمقابلہ مندوب ہے۔ ت)

(۴؎ غنیۃ المستملی شرح منیۃ المصلی الشرط الخامس         سہیل اکیڈمی لاہور         ص۲۳۶)

فـــ۲ تطفل علی الغنیۃ ۔

اُسی کے مکروہات صلوٰۃ میں فرمایا: الفعل ان تضمن ترک واجب فھو مکروہ کراھۃ تحریم وان تضمن ترک سنۃ فھو مکروہ کراھۃ تنزیہ ولکن تتفاوت فی الشدۃ والقرب من التحریمیۃ بحسب تاکد السنۃ ۱؎۔

فعل اگر ترکِ واجب پرمشتمل ہوتو مکروہِ تحریمی ہے اور ترکِ سنّت پر مشتمل ہوتومکروہِ تنزیہی،لیکن یہ شدّت اورمکروہِ تحریمی سے قرب کے معاملہ میں سنّت کے تاکید پانے کے لحاظ سے تفاوت رکھتاہے۔(ت)

(۱؎ غنیۃ المستملی شرح منیۃ المصلی فصل مکروہا ت الصلوۃ         سہیل اکیڈمی لاہور         ص۳۴۵)

نیز صدر کتاب میں فرمایا: (اعلم ان للصلاۃ سننا) وترکھا یوجب کراھۃ تنزیہ (وادبا) جمع ادب ولا باس بترکہ ولا کراھۃ (وکراھیۃ) والمراد بھا ما یتضمن ترک سنۃ وھو کراھۃ تنزیہ اوترک واجب وھو کراھۃ التحریم۲؎۔

(واضح ہوکہ نماز کی کچھ سنتیں ہیں) اور ان کا ترک کراہت تنزیہ کا موجب ہے(اورکچھ آداب ہیں) یہ ادب کی جمع ہے اوراس کے ترک میں کوئی حرج اورکراہت نہیں(اور کچھ مکروہات ہیں)ان سے مرادوہ جو ترکِ سنت پرمشتمل ہویہ مکروہ تنزیہی ہے یا وہ جو ترک واجب پر مشتمل ہویہ مکروہ تحریمی ہے۔(ت)

(۲؎ غنیۃ المستملی شرح منیۃ المصلی مقدمۃ الکتاب         سہیل اکیڈمی لاہور         ص۱۳)

جس بحر فــ کے اوقات(نماز ) میں تھا التنزیہ فی رتبۃ المندوب ۳؎ (کراہت تنزیہی مندوب کے مقابل مرتبہ میں ہے۔ ت)

فــ:تطفل علی البحر۔

(۳؎ البحرالرائق    کتاب الصلوٰۃ     ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۱ /۲۴۹)

اسی کے باب العیدین میں فرمایا : لایلزم من ترک المستحب ثبوت الکراھۃ اذ لابدلھا من دلیل خاص فلذا کان المختار عدم کراھۃ الا کل قبل الصلاۃ ۴؎ اھ ای صلاۃ الاضحٰی۔

ترک مستحب سے کراہت لازم نہیں اس لئے کہ کراہت کے لئے دلیل خاص ضروری ہے۔اسی لئے مختاریہ ہے کہ نمازعید قرباں سے پہلے کھالینا مکروہ نہیں۔(ت)

(۴؎ البحرالرائق     کتاب الصلوۃ     باب العیدین         ایچ ایم سعید کمپنی     ۲ /۱۶۳)

اور دربارہ عـــــہ ترک اسراف ان کا کلام گزرا اُسی کے مکروہات نماز میں ایسی ہی تصریح فرما کر پھر خود اُس پر اشکال وارد کردیا کہ ہر مستحب خلافِ اولی ہے اور یہی کراہت تنزیہ کا حاصل۔

عـــہ نیز ثانیا میں ان کا کلام آتا ہے کہ امام زیلعی نے لطم وجہ کو مکروہ لکھا تو اس کا ترک سنت ہوگا نہ کہ مستحب ۱۲ منہ غفرلہ ۔

حیث قال السنۃ ان کانت غیر مؤکدۃ فترکہا مکروہ تنزیھا وان کان الشیئ مستحبا او مندوبا ولیس بسنۃ فینبغی ان لایکون ترکہ مکروھا اصلا کما صرحوا بہ انہ یستحب یوم الاضحٰی ان لایاکل قالوا ولو اکل فلیس بمکروہ فلم یلزم من ترک المستحب ثبوت کراھتہ الا انہ یشکل علیہ ماقالوہ ان المکروہ تنزیھا خلاف الاولی ولا شک ان ترک المستحب خلاف الاولی ۱؎ اھ

ان کے الفاظ یہ ہیں:سنت اگرغیر مؤکدہ ہوتواس کا ترک مکروہ تنزیہی ہے اور کوئی شی مستحب یامندوب ہے اورسنت نہیں ہے تواس کا ترک مکروہ بالکل نہ ہوناچاہئے جیسے علماء نے تصریح فرمائی کہ عیدا ضحٰی کے دن نماز سے پہلے کچھ نہ کھانا مستحب ہے اور یہ بھی فرمایا کہ اگر کھالیاتومکروہ نہیں تو ترکِ مستحب سے کراہت کا ثبوت لازم نہ ہوامگر اس پر اشکال علماء کے اس قول سے پڑتا ہے کہ مکروہ تنزیہی خلاف اولٰی ہے اور اس میں شک نہیں کہ ترکِ مستحب خلافِ اولٰی ہے اھ۔

(۱؎ البحرالرائق     کتاب الصلوۃ باب ما یفسد الصلوۃ وما یکرہ فیہا ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۲ /۳۲)

اما العلامۃ الشامی فاضطراب اقوالہ ھھنا اکثروا وفرففی مستحبات فــ الوضوء نقل مسألۃ الاکل یوم الاضحی واستظھر ان ترک المستحب لایکرہ حیث قال ''اقول :  وھذا ھو الظاھر ان النوافل فعلہا اولی ولا یقال ترکہا مکروہ ۲؎ اھ

لیکن علامہ شامی توان کے اقوال کا اضطراب یہاں بہت بڑھا ہوا ہے مستحباتِ وضومیں روزاضحی کھانے کامسئلہ نقل کیااورترکِ مستحب کے مکروہ نہ ہونے کوظاہر کہاعبارت یہ ہے: میں کہتاہوں یہی ظاہر ہے اس لئے کہ نوافل کی ادائیگی اولٰی ہے او ریہ نہیں کہاجاسکتا کہ ان کا ترک مکروہ ہے اھ۔

فــ : معروضۃ علی العلا مۃ ش۔

(۲؎ ردالمحتار کتاب الطہارۃ مستحبات الو ضو دار احیا ء التراث العربی بیروت ۱ /۸۴ )

ثم بعد صفحۃ رجع وقال قدمنا ان ترک المندوب مکروہ تنزیھا ۱؎ اھ

پھر ایک صفحہ کے بعدرجوع کیااورکہا:ہم پہلے بیان کرچکے ہیں کہ ترکِ مندوب مکروہِ تنزیہی ہے اھ

(۱؎ ردالمحتار کتاب الطہارۃ مستحبات الو ضو دار احیا ء التراث العربی بیروت ۱ /۸۵ )

وقال فی مکروھات الوضوفـــ۱ المکروہ تنزیھا یرادف خلاف الاولی۲؎ اھ

مکروہاتِ وضو میں کہا: مکروہِ تنزیہی خلافِ اولٰی کا مرادف ہے اھ۔

فــــ۱ :    معروضۃ اخری علیہ ۔

(۲؎ردا لمحتار کتاب الطہارۃ      مکروہات الوضو     داراحیاء التراث العربی بیروت    ۱ /۸۹)

ورجع آخر مکروھات الصلاۃ فقال الظاھر ان خلاف الاولی اعم فقد لایکون مکروھا حیث لادلیل خاص کترک صلاۃ الضحٰی ۳؎ اھ

اور مکروہاتِ نماز کے آخر میں رجوع کرکے کہا: ظاہر یہ ہے کہ خلافِ اولٰی اعم ہے بعض اوقات یہ مکروہ نہیں ہوتا یہ ایسی جگہ جہاں کوئی دلیل خاص نہ ہوجیسے نماز چاشت کا ترک اھ۔

(۳؎ردا لمحتار کتاب الصلوٰ ۃ باب یفسد الصلوۃ ومایکرہ فیہا داراحیاء التراث العربی بیروت۱ /۴۳۹)

وقال فی صدرھافــ۲قلت ویعرف ایضا بلا دلیل نھی خاص بان تضمن ترک واجب اوسنۃ فالاول مکروہ تحریما والثانی تنزیھا ۴؎ اھ

مکروہاتِ نماز کے شروع میں کہا:میں کہتا ہوں اس کی معرفت نہی خاص کی دلیل کے بغیر بھی ہوتی ہے اس طرح کہ کسی واجب یا سنت کے ترک پر مشتمل ہو ۔اوّل مکروہ تحریمی ہے اور ثانی مکروہ تنزیہی اھ۔

فــ۲ـــ :معروضۃ ثالث علیہ۔

(۴؎ردا لمحتار کتاب الصلوٰ ۃ باب یفسد الصلوۃ ومایکرہ فیہا داراحیاء التراث العربی بیروت۱ /۴۲۹)

ورجع فی اخرھا فقال بعد ما مرو بہ یظھر ان کون ترک المستحب راجعا الی خلاف الاولی لایلزم منہ ان یکون مکروھا الا بنھی خاص لان الکراھۃ حکم شرعی فلا بدلہ من دلیل ۵؎ اھ

اور مکروہاتِ نمازکے آخرمیں رجوع کیا اس طرح کہ مذکورہ بالاعبارت کے بعدکہا:اوراسی سے ظاہر ہوتاہے کہ ترک مستحب خلافِ اولٰی کی طرف راجع ہونے سے مکروہ ہونا لازم نہیں مگر یہ کہ خاص نہی ہواس لئے کہ کراہت ایک حکم شرعی ہے تو اس کے لئے کوئی دلیل ضروری ہے۔اھ۔

(۵؎ردا لمحتار کتاب الصلوٰ ۃ باب یفسد الصلوۃ ومایکرہ فیہا داراحیاء التراث العربی بیروت۱ /۴۳۹)

ثم بعدفــ۱ ورقۃ رجع عن ھذا الرجوع فقال فی مسألۃ استقبال النیرین فی الخلاء الظاھر ان الکراھۃ فیہ تنزیہیۃ مالم یرد نھی خاص ۱؎ اھ

پھر ایک ورق کے بعد بیت الخلا میں سورج اور چاندکے رُخ پر ہونے کے مسئلہ میں اس سے رجوع کیا اورکہا :ظاہر یہ ہے کہ کراہت اس میں تنزیہی ہے جب تک کہ کوئی خاص نہی وارد نہ ہواھ۔

فـــ۱ معروضۃ رابعۃ علیہ ۔

(۱؎ ردالمحتار     کتاب الصلوٰہ     با ب یفسدالصّلوٰۃ وما یکرہ فیہا    دار احیاء التراث العربی بیروت     ۱ /۴۴۰)

وقال فی فــــــــ۲المنحۃ عند قول البحر قد صرحوا بان التفات فــــ۳البصر یمنۃ ویسرۃ من غیر تحویل الوجہ اصلا غیر مکروہ مطلقا والاولی ترکہ لغیر حاجۃ مانصہ ای فیکون مکروھا تنزیھا کما ھو مرجع خلاف الاولی کمامرعــہ۱

بحر کی عبارت ہے: علماء نے تصریح فرمائی ہے کہ ذرا بھی چہرہ پھیرے بغیر نگاہ سے دائیں بائیں التفات مطلقاً مکروہ نہیں اوراولٰی یہ ہے کہ کوئی حاجت نہ ہو تواس سے بازر ہے۔اس پر منحۃ الخالق میں لکھا: یعنی ایسی صورت میں یہ مکروہ تنزیہی ہو گا جیسا کہ یہ خلافِ اولٰی کا مآل ہے ۔جیساکہ گزرا۔

فــ۲ معروضۃ خامسۃ علیہ۔
فــ۳ مسئلہ:نماز میں اگر کن انکھیوں سے بے گردن پھیرے ادھر ادھر دیکھے تو مکروہ نہیں ہاں بے حاجت ہوتو خلاف اولٰی ہے ۔
عـــہ۱ای فی البحر صدر المکروہات ان المکروہ تنزیہا ومرجعہ الی ما ترکہ اولی ۲؎اھ منہ
عــہ۱ یعنی بحر کے اندرمکروہات نماز کے شروع میں گزرا کہ مکروہ تنزیہی کا مرجع ترک  اولٰی ہے ۱۲منہ (ت)

(۲؎ البحرالرائق کتاب الصلوٰۃ باب یفسد الصلوۃ وما یکرہ فیہا ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۲ /۱۹ )

و بہ صرح فی النھر وفی الزیلعی وشرح الملتقی للباقانی انہ مباح لانہ صلی اللّٰہ تعالی علیہ وسلم کان یلاحظ اصحابہ فی صلاتہ بموق عینیہ ولعل المراد عند عدم الحاجۃ عـــہ۲ فلا ینافی ماھنا ۱؎ اھ

اور نہر میں بھی اسی کی تصریح کی ہے۔ زیلعی میں اور باقانی کی شر ح ملتقی میں ہے کہ یہ مباح ہے اس لئے کہ حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم اپنے اصحاب کو نماز میں گوشہ چشم سے ملاحظہ کیاکرتے تھے۔اور شاید مراد عدم حاجت کی حالت ہے تو یہ اس کے منافی نہیں جویہاں ہے اھ۔

عــہ ۲ اقول :  لعل لفظۃ عدم وقعت زائدہ من قلم الناسخ فالصواب عدم العدم اھ منہ (م)
عــہ ۲ اقول :  شاید لفظ'' عدم ''کاتب کے قلم سے سہوازائد ہوگیا ہے کیونکہ صحیح عدم عدم ہے(یعنی یہ کہ مراد وقت حاجت ہے )۱۲منہ ۔ (ت)

(۱؎ منحۃ الخالق علی البحرالرائق کتاب الصلوۃ     باب ما یفسدالصلوۃ وما یکرہ فیہا     ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۲ /۲۱)

ثم رجع عما قریب فقال خلاف الاولی اعم من امکروہ تنزیھا دائما بل قد یکون مکروھا ان وجد دلیل الکراھۃ والافلا ۲؎ اھ

پھرکچھ ہی آگے جاکر اس سے رجوع کرکے کہا:خلافِ اولٰی مکروہ تنزیہی سے اعم ہے اور ترکِ مستحب ہمیشہ خلافِ اولٰی ہوتا ہے ،ہمیشہ مکروہ تنزیہی نہیں ہوتا بلکہ کبھی مکروہ ہوتا ہے اگردلیل کراہت موجود ہوورنہ نہیں۔

( ۲؎ منحۃ الخالق علی البحرالرائق کتاب الصلوۃ     باب ما یفسدالصلوۃ وما یکرہ فیہا     ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۲ /۳۲)

اقول :  ومن العجب فـــ۱ ان البحر کان صرح فی الالتفات بنفی الکراھۃ مطلقا وان الاولی ترکہ لغیر حاجۃ فکان نصافی نفی الکراھۃ رأسا مع کونہ ترک الاولی فی بعض الصور ففسرہ بضدہ اعنی اثبات الکراھۃ لکونہ ترک الاولی مع نقلہ عن الزیلعی والباقانی انہ مباح وظاھرہ الاباحۃ الخالصۃ بدلیل الاستدلال بالحدیث فلم یتذکر ھناک ان خلاف الاولی لایستلزم الکراھۃ مالم یرد نھی۔

اقول :  اور تعجب یہ ہے کہ بحر نے تصریح کی تھی کہ التفات میں کوئی بھی کراہت نہیں اوراولٰی یہ ہے کہ حاجت نہ ہوتواسے ترک کرے یہ اس بارے میں نص تھا کہ ذرا بھی کراہت نہیں باوجودیکہ یہ بعض صورتوں میں ترک اولٰی ہے۔ علامہ شامی نے اس کی تفسیر اس کی ضد سے کی یعنی چُوں کہ یہ ترک اولٰی ہے اس لئے مکروہ ہے باوجودیکہ زیلعی اور باقانی سے اس کامباح ہونا بھی نقل کیاہے اوراس کا ظاہر یہ ہے کہ مباح خالص ہے جس کی دلیل حدیث سے استدلال ہے توانہیں وہاں یہ یاد نہ رہا کہ خلاف اولٰی کراہت کو مستلزم نہیں جب تک کوئی نہی واردنہ ہو۔

فــــ۱: معرو ضۃ سادسۃ علیہ ۔

بااینہمہ اس میں شک نہیں کہ فتح القدیر میں محقق علی الاطلاق کی تصریحات اسی طرف ہیں کہ ترک مستحب بھی مکروہ تنزیہی ہےتو ان کا فــ ۲آداب میں گننا نفی کراہت تزیہہ پر کیونکر دلیل ہو خصوصاً اسی بحث کے آخر میں وہ صاف صاف کراہت اسراف کی تصریح بھی فرماچکے۔

فــ۲تطفل علی البحر ۔

حیث قال یکرہ الزیادۃ علی ثلث فی غسل الاعضاء ۱؎ ا ھ ان کے الفاظ یہ ہیں: اعضاء کو تین بار سے زیادہ دھونا مکروہ ہے اھ۔(ت)

( ۱؎ فتح القدیر کتاب الطہارۃ     مکتبہ نوریہ رضویہ سکّھر    ۱ /۳۲)

ثانیا ،اقول :   اور خود علامہ صاحب بحر نے بھی اسے اُن سے نقل فرمایا تو اُس حمل پر باعث کیا رہا۔

اس سے قطع نظر بھی ہو تو محقق نے انہیں آداب میں یہ افعال بھی شمار فرمائے، نزع خاتم علیہ اسمہ تعالی واسم نبیہ صلی اللّٰہ تعالی علیہ وسلم حال الاستنجاء وتعاھد ماتحت الخاتم وان لایلطم وجہہ بالماء والدلک خصوصا فی الشتاء وتجاوز حدود الوجہ والیدین والرجلین لیستیقن غسلہما ۲؎۔

استنجاء کے وقت اس انگوٹھی کو اتارلینا جس پر باری تعالٰی کا یا اس کے نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کانام ہو۔

اورانگشتری کے نیچے والے حصہ بدن دھونے میں خاص خیال رکھنا۔چہرے پر پانی کا تھپیڑا نہ مارنا۔اعضاء کو ملنا خصوصاً جاڑے میں۔چہرے،ہاتھوں اور پیروں کی حدوں سے زیادہ پانی پہنچانا،تاکہ ان حدوں کے دُھل جانے کا یقین ہوجائے۔(ت)

(۲؎ فتح القدیر کتاب الطہارۃ     مکتبہ نوریہ رضویہ سکّھر    ۱ /۳۲)

اور شک ف۱ نہیں کہ وقت استنجاء اُس انگشتری کا جس پر اللہ عزّوجل یا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا نام پاک یا کوئی متبرک لفظ ہو اُتار لینا صرف مستحب ہی نہیں قطعا سنّت اور اُس کا ترک ضرور مکروہ بلکہ اسأت ہے بلکہ مطلقا ف۲کچھ لکھا ہو حروف ہی کا ادب چاہئے بلکہ ف ۳ایسی انگوٹھی پہن کر بیت الخلا میں جانا ہی مکروہ ہے ولہٰذا ف ۴تعویذ لے جانے کی اجازت اُس وقت ہوئی کہ خلاف مثلاً موم جامہ میں ہو اور پھر بھی فرمایا کہ اب بھی بچنا ہی اولی ہے اگرچہ غلاف ہونے سے کراہت نہ رہی۔

ف۱:مسئلہ جس انگشتری پر کوئی متبرک نا م لکھا ہوو قت استنجا ء اس کا اتار لینا بہت ضرور ہے ۔
ف۲:مسئلہ مطلقا حروف کی تعظیم چاہیے کچھ لکھا ہو ۔
ف۳:مسئلہ جس انگشتری پر کچھ لکھا ہواسے پہن کر بیت الخلا میں جانا مکروہ ہے ۔
ف۴:مسئلہ تعویذ اگر غلاف میں ہو تو اسے پہن کربیت الخلا میں جانا مکروہ نہیں پھر بھی اس سے بچنا افضل ہے ۔

ردالمحتار میں ہے : نقلوا فـــ عندنا ان للحروف حرمۃ ولو مقطعۃ وذکر بعض القراء ان حروف الھجاء قران نزل علی ھود علیہ الصلاۃ والسلام ۱؎ الخ

منقول ہے کہ ہمارے نزدیک حروف کی بھی عزت ہے اگرچہ الگ الگ کلمے ہوں۔اوربعض قرأ نے ذکرکیا کہ حروفِ تہجی وہ قرآن ہیں جس کا نزول حضرت ہود علیہ الصلوٰۃ والسلام پر ہوا الخ۔(ت)

ف: حروف ہجا ایک قرآن ہے کہ سیدنا ہود علیہ الصلوۃ والسلام پر اترا ۔

( ۱؎ ردالمحتار     کتاب الطہارۃ فصل الاستنجاء    داراحیاء التراث العربی بیروت     ۱ /۲۲۷)

اُسی میں عارف باللہ سیدی عبدالغنی قدس سرہ القدسی سے ہے :

حروف الھجاء قران انزلت علی ھود علیہ الصلاۃ والسلام کما صرح بذلک الامام القسطلانی فی کتابہ الاشارات فی علم القراء ات ۲؎۔

حروف تہجی قرآن ہیں یہ حضرت ہود علیہ الصلوٰۃ والسلام پر نازل ہوئے جیسا کہ امام قسطلانی نے اپنی کتاب''الاشارات فی القرأ ت'' میں اس کی تصریح کی ہے۔(ت)

( ۲؎ ردالمحتار     کتاب الطہارۃ قبیل باب المیاہ    داراحیاء التراث العربی بیروت     ۱ /۱۲۰)

بحرالرائق میں ہے: یکرہ ان یدخل الخلاء ومعہ خاتم مکتوب علیہ اسم اللّٰہ تعالی اوشیئ من القران ۳؎۔ خلا میں ایسی انگوٹھی لے کر جانا مکروہ ہے جس پر اللہ تعالی کانا م یا قرآن سے کچھ لکھا ہو اہو۔ (ت)

(۳؎ البحرالرائق کتاب الطہارۃ باب الانجاس         ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۱ /۲۴۳)

دُر مختار میں ہے : رقیۃ فی غلاف متجاف لم یکرہ دخول الخلاء بہ والاحتراز افضل۴؎۔ ایسا تعویذ خلاء میں لے کر جانا مکروہ نہیں جوالگ غلاف میں ہو اور بچنا افضل ہے۔ ت

(۴؎ الدرالمختار     کتاب الطہارۃ     مطبع مجتبائی دہلی        ۱ /۳۴)

یونہی انگشتری فـــ۱ڈھیلی ہو تو اُسے جنبش دینی وضو میں سنّت ہے اور تنگ ہو کہ بے تحریک پانی نہ پہنچے گا تو فرض۔ ف۱:مسئلہ انگوٹھی ڈھیلی ہو تو وضو میں اسے پھرا کر پانی ڈالناسنت ہے اورتنگ ہو کہ بے جنبش دئے پانی نہ پہنچے تو فرض ہے یہی حکم بالی وغیرہ کا ہے ۔

خلاصہ میں ہے: فی مجموع النوازل تحریک الخاتم سنۃ ان کان واسعا وفرض ان کان ضیقا بحیث لم یصل الماء تحتہ ۱؎۔

مجموع النوازل میں ہے: انگوٹھی کو حرکت دینا سنت ہے اگرچہ کشادہ ہو اور فرض ہے اگر اتنی تنگ ہوکہ اس کے نیچے پانی نہ پہنچے تو فرض ہے۔ ت

(۱؎ خلاصۃ الفتاوٰی کتاب الطہارات الفصل الثالث سنن الوضو مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ         ۱ /۲۳)

یونہی ف۲ وضومیں منہ پر زور سے چھپا کا مارنا مکروہ اور اس کا ترک مسنون۔

ف۲:مسئلہ وضومیں منہ پر زور سے چھپا کا مارنا مکروہ ہے بلکہ کسی عضو پر اس زور سے نہ ڈالے کہ چھینٹیں اڑ کر بدن یا کپڑوں پر جائیں ۔

درمختار میں ہے : مکروھہ لطم الوجہ اوغیرہ بالماء تنزیھا ۲؎۔ چہرے یا کسی اور عضو پر پانی کا تھپیڑا مارنا مکروہ تنزیہی ہے ۔( ت)

(۲؎ الدرمختار    کتاب الطہارۃ    مطبع مجتبائی دہلی۱ /۲۴)

بحر میں ہے: ان الزیلعی صرح بان لطم الوجہ بالماء مکروہ فیکو ن ترکہ سنۃ لاادبا ۳؎۔

اما م زیلعی نے تصریح فرمائی ہے کہ چہرے پرپانی کا تھپیڑا مارنا مکروہ ہے تو اس کا ترک صرف ادب نہیں بلکہ سنت ہوگا ۔(ت)

(۳؎ بحرالرائق    کتاب الطہارۃ     ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۱ /۲۹)

یونہی اعضا ء کا ملنا ف ۳بھی مثل غسل سنّتِ وضو بھی ہے۔

ف۳:اعضا کا مل مل کر دھونا وضو اور غسل دونوں میں سنت ہے ۔

درمختار میں ہے : من السنن الدلک وترک الاسراف وترک لطم الوجہ بالماء ۴؎۔ سُنّتوں سے ہے اعضاء کو ملنا ، اسراف کا ترک کرنا، چہرے پرپانی کا تھپیڑا لگانے کو ترک کرنا ۔ (ت)

(۴؎ الدرالمختار    کتاب الطہارۃ     ایچ ایم سعید کمپنی کراچی     ۱ /۲۲)

خلاصہ فصل وضو جنس آخر صفتِ وضو میں ہے : وَالدَّلۡکُ عندنا سنۃ ۱؎ اعضاء کو ملنا ہمارے نزدیک سنّت ہے۔ (ت) رہا اعضا ء ف۱ میں حدودِ شرعیہ سے اتنا تجاوز جس سے یقین ہوجائے کہ حدود فرض کا استیعاب ہو لیا۔

(۱؎خلاصۃ الفتاوی کتاب الطہارات الفصل الثالث جنس آخرفی سنن الوضو مکتبہ حبیبیہ کو ئٹہ۱/ ۲۲ )

ف۱ اعضاء وضو دھونے میں حدشرعی سے اتنی خفیف تحریر بڑھانا جس سے حد شرعی تک استیعاب میں شبہہ نہ رہے واجب ہے ۔

اقول :  اگر یقین ف۲ سے یقین فقہی مراد ہو جیسا کہ کتبِ فقہیہ میں وہی متبادر ہے تو یہ ادب وسنت درکنار خود واجب ولابدی ہے، ہاں یقین کلامی مراد ہو تو ادب کہنا عجب نہیں

ف۲ : تطفل ما علی الفتح ۔

ھذا وقدنبہ من ھٰذہ الافعال الاربعۃ علی سنیۃ الاخیرین فی البحر ۔

یہ ذہن نشین رہے،ان چار افعال میں سے آخری دو کے مسنون ہونے پر بحر میں تنبیہ کردی ۔ (ت)

اقول :  والعجب فــ۳ ترک الاولین مع نقلہ ایاھما ایضا عن الفتح فالسکوت یکون اشد ایھامامما لولم یاثرھما ولا شک ان الثانی مثل الرابع الذی استند فیہ البحر الی ان الخلاصۃ جعلہ سنۃ فکذلک نص فیھا علی سنیۃ الثانی ایضا اما فــ۴ الاول فاھم الکل واحقہا بالتنبیہ والبحر نفسہ صرح فی الاستنجاء بما سمعت ولکن جل من لا یغیب عن علمہ شیئ قط۔

اقول اور تعجب ہے کہ پہلے دونوں کوترک کر دیا حالانکہ ان دونوں کو بھی فتح القدیر سے نقل کیا ہے اس لیے یہاں سکوت اس صورت سے زیادہ ایہام خیز ہے جبکہ ان دونوں کو نقل ہی نہ کیا ہوتااورچہارم (اعضا ء کو ملنا ) سے متعلق تو بحر نے خلاصہ کی سند پیش کی کہ اس میں اسے سنت قرار دیا ہے جبکہ بلاشبہ دوم (انگشتری کوحرکت دینا) بھی اسی کی طرح ہے کہ اس سے متعلق بھی خلاصہ میں مسنون ہونے کی تصریح ہے،رہا اول (جس انگشتری پر خدا ورسول کا نام ہو اسے اتار لینا ) تو وہ سب سے اہم اور سب سے زیادہ مستحق تنبیہ ہے اورخودبحر نے بیان استنجا میں وہ تصریح کی ہے جو پیش ہوئی لیکن بزرگ ہے وہ جس کے علم سے کوئی شے کسی وقت اوجھل نہیں ہوتی ۔(ت)

فــ۳: تطفل علی البحر۔
فــ۴: تطفل اخر علیہ ۔

یہاں سے واضح ہوا کہ محقق کا اس عبارت میں ترک اسراف (ادب)شمار فرمانا نفی کراہت پر حاکم نہیں ۔

اقول وکان من فــ۱احسن الاعذار عن المحقق رحمہ اللّٰہ تعالی انہ تجوز فاطلق الادب علی مایعم السنن لکنہ ھھنا قدمیز السنن من الاداب کما میز فی الخلاصۃ واخذفــ۲ علی الکتاب فی جعلہ التیا من واستیعاب الرأس بالمسح مستحبین وقال بعد اقامۃ الدلیل فالحق عــــہ ان الکل سنۃ ومسح الرقبۃ مستحب ۱؎اھ

اقول محقق کی جانب سے بہتر عذر یہ تھا کہ انہوں نے مجازالفظ ادب کا اطلاق اس پر کیا ہے جو سنتوں کو بھی شامل ہو لیکن انہوں نے یہاں سُنتوں کوآداب سے الگ رکھا ہے جیسے خلاصہ میں الگ الگ رکھا ہے،اور حضرت محقق نے کتاب (ہدایہ) پر داہنے سے شروع کرنے اور مسح کے پورے سر کے احاطہ کو مستحب قرار دینے پر گرفت کی ہے اوردلیل قائم کرنے کے بعد لکھا ہے : تو حق یہ ہے کہ سب سنت ہے اور گردن کا مسح مستحب ہے ۔

فــ۱:تطفل علی الفتح۔
فــ۲ مسئلہ وضومیں ہاتھ اور یوں ہی پاوں بائیں سے پہلے داہنا دھونا یعنی سیدھے سے ابتدا کرنا سنت ہے اگر چہ بہت کتب میں اسے مستحب لکھا ۔
عـــہ تبعہ علی الاول فی البرھان ثم الشرنبلالی وغیرھما وعلی الثانی من لایحصی اھ منہ
عــہ اول پر حضرت محقق کا اتبا ع برہان پھر شرنبلالی وغیرہما میں ہے اور ثانی پر بے شمار لوگوں نے ان کی پیروی کی ہے اھ منہ (ت)

(۱؎ فتح القدیر کتاب الطہارۃ         مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ /۳۱)

ثالثا اقو ل  : عبارت ف۲ بدائع میں بھی کہہ سکتے ہیں کہ امام ملک العلماء رحمہم اللہ تعالی نے ترک اسراف کو صرف ادب ہی نہ فرمایا بلکہ حق بتایا تو اسراف خلاف حق ہوا باطل ہوا اور اس کاادنی درجہ کراہت وماذابعد الحق الاالضلال ۲؎ (پھر حق کے بعد کیا ہے مگر گمراہی۔ ت) بلکہ اسراف کو غلو کہا اور دین میں غلو ممنوع ،  لاتغلو فی دینکم ۳؎  (اپنے دین میں زیادتی نہ کرو ۔ت)

ف۲: تطفل علی الحلیۃ۔

(۲؎ القرآن ۱۰ /۱۳۲)
(۳؎ القرآن ۴ /۱۷۱)

رابعا اقول: ان تمام تا ئیدات فـــ ۳کے بعد بھی نہر و ردالمحتار کا مطلب کہ قو ل سوم اور دوم کی طرف راجع کرنا ہے تمام نہیں ہوتا ۔مانا کہ بدائع وفتح کی عبارات نفی نہ کریں مانا کہ فتح کی رائے میں ترک ادب بھی مکروہ ہو مگرنص امام محمد رضی اللہ تعالی عنہ کا کیا جواب ہے جس میں اس کے ادب ہونے کی تصریح فرمائی اور مستحبات محضہ کے ساتھ اس کی گنتی آئی، اب اگر تحقیق یہ ہے کہ ترک مندوب مکروہ نہیں تو ضرور کلام امام کہ امام کلام ہے نفی کراہت کا اشعار فرمائے گا اس بارہ میں کلمات علماء کا اختلاف و اضطراب سن چکے۔

فـــ۳:تطفل علی النہر وش ۔

وانا اقول وبا للہ التوفیق اولاف۴ حب وکراہت میں میں تناقض نہیں کہ ایک کا رفع دوسرے کے ثبوت کو مستلزم ہو۔دیکھومباح سے دونوں مرتفع ہیں تو ترک مستحب مطلقامستلزم کراہت کیوں ہوا ۔

ف۴:فائدہ جلیلہ دربارہ مکروہ تنزیہی وتحریمی واساء ت وخلاف اولٰی مصنف کی تحقیق نفیس فوائدکثیرہ پر مشتمل اور واجب و سنت مؤکدہ وغیر مؤکدہ کے فرق احکام ۔

ثانیا،اقول اگر ترک مستحب موجب کراہت ہو تو آدمی جس وقت خالی بیٹھا ہو اور کوئی مطالبہ شرعیہ اس وقت اس پر لازم نہ ہو لازم کہ اس وقت لاکھوں مکروہ کا مرتکب ٹھہرے کہ مندوبات بے شمار ہیں اور وہ اس وقت ان سب کا تارک۔

ثالثا ، اقو ل کراہت کا لفظ ہی بتارہاہے کہ وہ مقابل سنت نہ مقابل مندوب جو بندہ ہو کر بلا وجہ وجیہ ایسی چیز کا ارتکاب کرے جسے اس کا مولٰی مکروہ رکھتا ہے وہ کسی ملامت و سرزنش کا بھی مستحق نہ ہو تو مولٰی کے نزدیک مکروہ ہونے کا کیا اثر ہوا اور جب فعل پرسرزنش چاہئے تواس کا مرتبہ جانب ترک میں وہی ہوا جو جانب فعل میں سنت کاہے کہ اس کے تر ک پر ملامت ہے نہ کہ مندوب کا جس کے ترک پر کچھ نہیں، ظاہر ہے کہ کراہت کچھ ہے کی مقتضی ہے اورترک مستحب پر کچھ نہیں ،اور کچھ نہیں کچھ ہے کے برابر نہیں ہوسکتا ۔

رابعاً، اقول وباللہ التوفیق : تحقیق بالغ وتنمیق بازغ یہ ہے کہ فعل مطلوب شرعی کاترک نادراًہوگا یا عادۃً، اور ہر ایک پر سزاکا استحقاق ہوگا یا سرزنش کا ، یا کچھ نہیں تو دونوں ترک تین قسم ہوئے ہیں ،اور تین کو تین میں ضرب دئیے سے نو قسمیں عقلی پیدا ہوئیں ان میں تین بداہۃًباطل ہیں :
(۱)ترک عادی پر کچھ نہ ہو اور نادر پر عذاب یا عتاب(۲)، سوم(۳) ترک عادی پر عتاب اور نادر پر عقاب۔ اور دو قسمیں شرعاً وجود نہیں رکھتیں ترک عادی پر عقاب یا عتاب اور نادر پر کچھ نہیں کہ شرعاً مستحب کے ترک نادر پر کچھ نہیں تو عادی پر بھی کچھ نہیں اور سنّت کے ترک عادی پر عتاب ہے تو نادر پر بھی ہے کہ وہ حکم سنّت ہے اور حکم شے کو شے سے انفکاک نہیں۔

اصول امام فخرالاسلام وامام حسام الدین وامام نسفی میں ہے: حکم السنۃ ان یطالب المرء باقامتھا من غیر افتراض ولا وجوب لانھا طریقۃ امرنا باحیائھا فیستحق اللائمۃ بترکہا ۱؎۔

سنت کا حکم یہ ہے کہ آدمی سے اسے قائم کرنے کا مطالبہ ہو بغیر اس کے کہ اس پر فرض یا واجب ہو ۔ کیونکہ یہ ایسا طریقہ ہے جسے زندہ کرنے کاہمیں حکم دیا گیا تو اس کے ترک پر ملامت کا مستحق ہوگا ۔(ت)

( ۱؎ اصول البزدوی     باب العزیمۃ والرخصۃ         نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی        ص۱۳۹)

لا جرم چار قسمیں رہیں:
(۱) ترک عادی ہونا یا نادر مطلقا موجب استحقاق عذاب ہو یہ بحال قطعیت فرض ورنہ واجب ہے۔
(۲) عادی پر عذاب اور نادر پر عتاب۔ یہ سنت مؤکدہ ہے کہ اگر نادر پر بھی عذاب ہو تو اُس میں اورواجب میں فرق نہ رہے گا اور عادی پر بھی عتاب ہی ہو تو اُس میں اور سنت مؤکدہ میں تفاوت نہ ہوگا حالانکہ وہ ان دونوں میں برزخ ہے۔
(۳) عادی ہو یا نادر مطلقا مورث عتاب ہو۔ یہ سنتِ زائدہ ہے۔
(۴) مطلقا عذاب وعتاب کچھ نہ ہو۔ یہ مستحب ومندوب وادب ہے۔

پھر ازا نجا کہ فعل وترک میں تقابل ہے بغرض تعادل واجب ہے کہ ایسی ہی چار قسمیں جانب ترک نکلیں یعنی جس کا ترک مطلوب ہے:

 (۱) اس کا فعل عادی ہو یا نادر مطلقا موجب استحقاق عذاب ہو یہ بحال قطعیت حرام ورنہ مکروہ تحریمی ہے۔
(۲)فعل عادی پر عذاب اور نادر پر عتاب یہ اساء ت ہے جس کی نسبت علماء نے تحقیق فرمائی کہ کراہت تنزیہی سے افحش اور تحریمی سے اخف ہے۔
(۳) مطلقا مورث عتاب ہی ہو یہ کراہت تنزیہی ہے۔
(۴) مطلقا کچھ نہ ہو یہ خلافِ اولٰی ہے۔

تنویر: اس تقریر منیر سے چند جلیل فائدے متجلی ہوئے:

 (۱) سنتِ مؤکدہ کا ترک مطلقا گناہ نہیں بلکہ اُس کے ترک کی عادت گناہ ہے۔
(۲) اساء ت کے بارے میں اگرچہ کلماتِ علماء مضطرب ہیں کوئی اسے کراہت سے کم کہتا ہے۔

کما فی الدر۱؎ صدر سنن الصلاۃ وبہ نص الامام عبدالعزیز فی الکشف وفی التحقیق۔

جیسا کہ درمختار میں سنن نماز کے شروع میں ہے اور امام عبدالعزیز بخاری نے کشف میں اور تحقیق میں اسی کی تصریح کی ہے۔ (ت)

 (۱؎ الدرالمختار کتاب الصلوۃ باب صفۃ الصلوۃ مطبع مجتبائی دہلی۱ /۷۳)

کوئی زائد ،کما فی الشامی۲؎ عن شرح المنار للزین (جیسا کہ شامی میں محقق زین بن نجیم کی شرح منار سے نقل ہے ۔ ت)

 (۲؎ردا لمحتار کتاب الصلوۃ باب صفۃ الصلوۃ دار احیاء التراث العربی بیروت۱ /۳۱۸)

کوئی مساوی کما فی الطحطاوی۱؎ ثمہ وفی ادراک الفریضۃ عن الحلبی شارح الدر  (جیسا کہ طحطاوی نے سنن نمازاور باب ادراک الفریضہ میں حلبی شارح دُر مختار نقل ہے ۔ ت)

 (۱؎ حاشیۃ الطحطاوی علی الد ر المختار کتاب الصلوٰ ۃ باب صفۃ الصلوٰۃ المکتبۃ ا لعربیہ کوئٹہ ۱ /۲۱۳)

مگر عندالتحقیق اُس کا مقابل سنتِ مؤکدہ ہونا چاہئے کہ جس طرح سنتِ مؤکدہ واجب وسنت زائدہ میں برزخ ہے یوں ہی اساء ت کراہت تحریم وکراہت تنزیہ میں کما فی الشامی۲؎  (جیسا کہ شامی میں ہے۔ ت)

 ( ۲؎ردا لمحتار کتاب الصلوۃ باب صفۃ الصلوۃ دار احیاء التراث العربی بیروت۱ /۳۱۹)

عٰلمگیریہ ف میں سراج وہاج سے ہے: ان ترک المضمضۃ والاستنشاق اثم علی الصحیح لانھا من سنن الھدی وترکھا یوجب الاساء ۃ بخلاف السنن الزوائد فان ترکھا لایوجب الا ساء ۃ ۳؎ اھ

اگرمضمضہ واستنشاق کا تارک ہو تو بر قول صحیح گنہگار ہوگا اس لیے کہ یہ سنن ہدٰی سے ہے اور ان کا ترک موجب اساء ت ہے بخلاف سنن زوائد کے کہ ان کا ترک موجبِ اساء ت نہیں اھ۔ت

 (۳؎الفتاو ی الہندیہ بحوالہ السراج الوہاج کتاب الطہارۃ الباب الاول الفصل الثانی نورانی کتب خانہ پشاور ۱ /۶،۷ )

ف: مسئلہ وضو میں کلی یا ناک میں پانی ڈالنے کا ترک مکروہ ہے اور اس کی عادت ڈالے توگناہگارہوگایہ مسئلہ وہ لوگ خوب یاد رکھیں کہ جو کلیاں ایسی نہیں کرتے کہ حلق تک ہر چیز کو دھوئیں اور وہ کہ پانی جن کی ناک کو چھو جاتا ہے سونگھ کر اوپر نہیں چڑھاتے یہ سب لوگ گنہگا ر ہیں اور غسل میں ایسا نہ ہو تو سرے سے غسل نہ ہوگا نہ نماز۔

اقول قولہ اثم ای ان اعتاد کما ھو معروف فی محلہ فیہ وفی نظائرہ۔

اقول قول مذکور ''گنہگار ہوگا'' یعنی اگر ترک کا عادی ہو جیساکہ یہ معنی اپنی جگہ اس بارے میں اور اس کی نظیروں میں معروف ہے ۔(ت) اصول امام فخر الاسلام وامام حسام الدین وامام نسفی میں ہے: والسنن نوعان سنۃ الھدی وتارکھا یستوجب اساء ۃ وکراھیۃ والزوائد وتارکھا لایستوجب اساء ۃ ۱؎۔

سنت کی دو قسمیں ہیں،(۱) سنّت ہدٰی ،اس کا تارک اسا ء ت وکراہت کا مستحق ہے(۲) سنّتِ زائدہ، اس کا تارک اسا ءت کا مستحق نہیں ۔ (ت)

(۱؎ اصول البزدوی    باب العزیمۃ والرخصۃ    نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی    ص۱۳۹)

ردالمحتار فـ صدر سنن الوضوء میں ہے:

مطلق السنۃ شامل لقسمیہا وھما السنۃ المؤکدۃ المسماۃ سنۃ الھدی وغیر المؤکدۃ المسماۃ سنۃ الزوائد ۲؎۔

مطلق لفظ سنّت دونوں قسموں کو شامل ہے دونوں قسمیں یہ ہیں:(۱) سنّتِ مؤکدہ جس کا نا م سنّتِ ہدٰی ہے (۲) سنت غیرمؤکدہ جس کانا م سنّتِ زائدہ ہے ۔ ت

ف:سنت ہدی سنت مؤکدہ کا نام ہے اور سنت زائدہ سنت غیر مؤکدہ کا ۔

( ۲؎ ردا لمحتارکتاب الطہارۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱ /۷۱)

بحرالرائق سنن نماز مسئلہ رفع یدین للتحریمہ میں ہے :

انہ من سنن الھدی فھو سنۃ مؤکدۃ ۳؎۔

وہ سنن ہدٰی سے ہے تو وہ سنّتِ مؤکدہ ہے۔ (ت)

(۳؎ البحرالرائق    کتاب الصلوۃ باب صفۃ الصلوۃ      ایچ ایم سعید کمپنی کراچی        ۱ /۳۰۲)

(۳) کراہت تنزیہ نہ مستحب کے مقابل ہے نہ سنّتِ مؤکدہ کے ،بلکہ سنّتِ غیر مؤکدہ کے مقابل ہے ، اُسے مستحب کے مقابل کہنا خلافِ تحقیق ہے اور مطلق سنّت کے مقابل بتانا اعم ہے جبکہ اُسے اساء ت کو بھی شامل کرلیا جائے جس طرح کبھی اسا ء ت کو اعم لے کر سنّتِ زائدہ کے مقابل بولتے ہیں جس طرح اطلاق موسع میں خلافِ اولی کو مکر وہ تنزیہی کہہ دیتے ہیں۔

(۴) خلاف اولی مستحب کا مقابل ہے اور معنی خاص پر مکروہ تنزیہی سے بالکل جدا بمعنی اعم اُسے بھی شامل اور کراہت تنزیہ کا اُس کی طرف مرجع ہونا اسی معنی پر ہے۔ بحر کے اشکال مذکور

یشکل علیہ ما قالوہ ان المکروہ تنزیھا مرجعہ الی خلاف الاولی۴؎

    (اس پر علماء کے اس قول سے اشکال وارد ہوتا ہے کہ اس کا مرجع خلاف اولٰی ہے۔ ت)

 (۴؎ البحرالرائق    کتاب الصلوۃ باب ما یفسد الصلوۃ وما یکرہ فیہا ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۲ /۳۲)

منحۃ الخالق میں فرمایا: الکراھۃ لابدلھا من دلیل خاص وبذلک یندفع الاشکال لان المکروہ تنزیھا الذی ثبتت کراھتہ بالدلیل یکون خلاف الاولی ولا یلزم من کون الشیئ خلاف الاولی ان یکون مکروھا تنزیھا مالم یوجد دلیل الکراھۃ ۱؎۔

کراہت کیلئے دلیل خاص ضروری ہے ۔ اسی سے اشکال دفع ہوجاتا ہے اس لئے کہ مکروہ تنزیہی جس کی کراہت دلیل سے ثابت ہے وہ خلاف اولٰی ہے اور کسی شے کے خلاف اولٰی ہونے سے یہ لازم نہیں کہ وہ مکروہ تنزیہی ہو جب تک کہ دلیل کراہت دستیاب نہ ہو۔ ( ت)

(۱؎ منحۃ الخالق علی البحر الرائق کتاب الصلوۃ باب ما یفسد الصلوۃ وما یکرہ فیہا    ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۲ /۳۲)

(۵) کراہت کیلئے اگرچہ تنزیہی ہو ضرور دلیل کی حاجت ہے

کما نص علیہ فی الحدیقۃ الندیۃ وغیرھا وبیناہ فی رشاقۃ الکلام

(جیسا کہ اس پر حدیقۃ الندیہ وغیرہ کی صراحت موجود ہے اور ہم نے اس کواس کو رسالہ رشاقۃ الکلام میں بیان کیا ہے۔ ت)

اقول : خلافِ سنت ف ہونا خود کراہت پر دلیل شرعی ہے۔

فـــ :معروضۃ علی العلامۃ ش ۔

لقولہ صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم من رغب عن سنتی فلیس منی ۲؎ رواہ الشیخان عن انس ۔

کیونکہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے جو میری سنّت سے روگردانی کرے وہ مجھ سے نہیں ، اسے بخاری ومسلم نے حضرت انس سے روایت کیا۔

(۲؎ صحیح البخاری    کتاب النکاح با ب الترغیب فی النکاح     قدیمی کتب خانہ کراچی۲ /۷۵۷،۷۵۸)
(صحیح مسلم کتاب النکاح باب الترغیب فی النکاح قدیمی کتب خانہ کراچی۱ /۴۴۹)

ولا بن ماجۃ عن ام المؤمنین رضی اللّٰہ تعالٰی عنہا فمن لم یعمل بسنتی فلیس منی۳؎

اور ام المؤمنین رضی اللہ تعالٰی عنہا سے ابن ماجہ کی روایت میں ہے جو میری سنت پر عمل نہ کرے وہ مجھ سے نہیں۔

(۳؎ سنن ابن ماجہ     ابواب النکاح     باب ماجاء فی فضل النکاح ایچ ایم سعید کمپنی کراچی     ص۱۳۴)

فما مر عن العلامۃ الشامی من انھا قد یعرف بلا دلیل خاص کان تضمن ترک واجباو سنۃ ۱؎ لیس کما ینبغی ولا نعنی بالخاص خصوص النص فی الجزئی المعین اذلا حاجۃ الیہ قطعا لصحۃ الاحتجاج بالعمومات والقواعد الشرعیۃ الکلیۃ قطعا۔

تو و ہ کلام جوعلامہ شامی سے نقل ہوا مناسب نہیں (وہ کہتے ہیں )کراہت کی معرفت کبھی دلیل خاص کے بغیر ہوتی ہے جیسے یہ کہ وہ کسی واجب یا سنت کے ترک پر مشتمل ہو ''دلیل خاص سے ہماری مراد یہ نہیں کہ اس معینہ جزئیہ میں کوئی خاص نص ہو اس لئے کہ اس کی حاجت قطعا نہیں کیونکہ شریعت کے عمومی احکام اور قوائد کلیہ سے بھی استدلال بلاشبہ درست ہے۔

(۱؎ ردالمحتار     کتاب الصلوۃ باب مایفسدالصّلوٰۃ وما یکرہ فیہا دار احیاء التراث العربی بیروت ۱ /۴۲۹)

(۶) یہ نفیس ف۱ جلیل تفرقے مقتضائے تقسیم عقلی واقتضائے نفس لفظ کراہت وقضیہ تفرقہ احکام ہیں نہ کہ نری اصطلاح اختیاری کہ جس کا جو چاہا نام رکھ لیا،

ف۱:تطفل علی الحلیۃ وش ۔

کما قالہ المحقق فی الحلیۃ ان ھذا امر یرجع الی الاصطلاح والتزامہ لیس بلازم ۲؎ اھ

جیسا کہ محقق نے حلیہ میں لکھا کہ یہ ایک ایسی چیز ہے کہ جس کا مرجع اصطلاح ہے اور اس کا التزام کوئی ضروری نہیں اھ۔

(۲؎ ردالمحتار بحوالہ الحلیہ کتاب الطہارۃ مستحبات الوضوء     دار احیاء التراث العربی بیروت     ۱ /۸۴)

ونقل قبیلہ عن اللامشی فی حد المکروہ وھو مایکون ترکہ اولی من فعلہ وتحصیلہ اھ ثم قال اعلم ان المکروہ تنزیھا مرجعہ الی ماھو خلاف الاولی والظاھر انھما متساویان کما اشار الیہ اللامشی ۳؎ اھ وتبعہ فی ردالمحتار۔

اور اس سے کچھ پہلے لامشی سے تعریف مکروہ میں نقل کیا کہ یہ وہ ہے جس کا نہ کرنا اس کے کرنے سے بہتر ہے اھ۔ پھر لکھا کہ واضح ہو کہ مکروہ تنزیہی کامرجع خلاف اولٰی ہے۔ اور ظاہر یہ ہے کہ دونوں میں تساوی ہے جیسا کہ لامشی نے اس کی طرف اشارہ کیا اھ اس کلام پر علامہ شامی نے بھی ردالمحتار میں ان کا اتباع کیا ۔(ت)

(۳؎حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی )

 (۷) مشہور ف۲ احکام خمسہ ہیں ۱واجب،۲ مندوب، ۳مکروہ،۴ حرام، ۵مباح

وبہ بدء فی مسلم الثبوت (اسی کو مسلم الثبوت میں پہلے نمبر پر بیان کیا ۔ ت) یہ مذہب شافعیہ سے الیق ہے کہ اُن کے یہاں واجب وفرض میں فرق نہیں

والیہ اشارتبعا للتحریر فی التحریر بقولہ بعدہ والحنفیۃ لاحظوا حال الدال الخ ۱؎
ۤ

اور اسی کی طرف مسلم میں اس کے بعد محقق ابن الہمام کی تحریر الاصول کی تبعیت میں یہ کہہ کر اشارہ کیا کہ حنفیہ نے دلیل کی حالت کا اعتبار کیا ہے الخ۔

 ( ۱؎ مسلم الثبوت     الباب الثانی فی الحکم مطبع مجتبائی دہلی     ص۱۳)

اور بعض نے برعایت مذہب حنفی فرض وواجب اور حرام ومکروہ تحریمی کو تقسیم میں جدا جدا اخذ کرکے سات قرار دئے وبہ ثنی فی المسلم (اور اسی کو مسلم الثبوت میں دوسرے نمبرپر بیان کیا (ت) بعض نے فرض، واجب، سنّت، نفل، حرام، مکروہ، مباح یوں سات گنے۔

وعلیہ مشی فی التنقیح وتبعہ مولی خسرو فی مرقاۃ الوصول والعلامۃ الشمس محمد بن حمزۃ الفناری فی فصول البدائع۔

اسی پر صدر الشریعہ تنقیح میں چلے ہیں اور ملاّ خسرو نے مرقاۃ الوصول میں اور علامہ شمس الدین محمد بن حمزہ فناری نے اصول  البدائع میں تنقیح کی پیروی کی ہے ۔

بعض نے سنت میں سنت ہدی و سنت زائدہ اور مکروہ میں تحریمی وتنزیہی قسمیں کر کے نو شمار کیے۔

کمانص علیہ الفناری فی اخر کلامہ ویشیر الیہ کلام التوضیح ۔

جیساکہ فناری نے آخر کلام میں اس کی صراحت کی ہے اور کلام توضیح میں اس کی جانب اشارہ ہے۔ (ت)

اقول :  تقسیم ف۱ اول میں کمال اجمال اور مذہب شافعی سے الیق ہونے کے علاوہ صحت مقابلہ اس پر مبنی کہ ہر مندوب کا ترک مکروہ ہو وقد علمت انہ خلاف التحقیق (تُو نے جان لیا یہ خلافِ تحقیق ہے۔ ت) نیز سنّت ومندوب ف۲ میں فرق نہ کرنا مذہب حنفی وشافعی کسی کے مطابق نہیں۔ یہی ف۳ دونوں کمی تقسیم دوم میں بھی ہیں، سوم وچہارم میں عدم مقابلہ بدیہی کہ سوم ف۴ میں جانبِ فعل چار چیزیں ہیں ا ور جانبِ ترک دو۔ چہارم ف۵ میں جانبِ فعل پانچ ہیں اور جانب ترک تین۔

ف۱:تطفل علی المشہور۔
ف۲:تطفل اٰ خرعلیہ ۔
ف۳:معروضتان علی مسلم الثبوت ۔
ف۴:تطفل علی التوضیح والمولٰی خسرو ۔
ف۵:تطفل علی الشمس الفناری ۔

پھر جانب ترک بسط ف۱ اقسام کرکے تصحیح مقابلہ کیجئے تو اُسی مقابلہ نفل وکراہت سے چارہ نہیں مگر بتوفیق اللہ تعالٰی تحقیق فقیر سب خللوں سے پاک ہے ،اُس نے ظاہر کیا کہ بلکہ احکام گیارہ ہیں پانچ جانبِ فعل میں متنازلاً فرض(۵) واجب(۴) سنّت مؤکدہ (۳) غیرمؤکدہ (۲) مستحب(۱) اور پانچ جانبِ ترک میں متصاعداً خلاف(۱) اولی (۲) مکروہ تنزیہی  (۳) اساءت(۴) مکروہ تحریمی  (۵) حرام جن میں میزان مقابلہ اپنے کمال اعتدال پر ہے کہ ہر ایک اپنے نظیر کا مقابل ہے اور سب کے بیچ میں گیارھواں مباح خالص۔اس تقریر منیر کو حفظ کرلیجئے کہ ان سطور کے غیر میں نہ ملے گی اورہزار ہا مسائل میں کام دے گی اور صد ہا عقدوں کو حل کرے گی کلمات اس کے موافق مخالف سب طرح کے ملیں گے مگر بحمداللہ تعالٰی اس سے متجاوز نہیں فقیر طمع رکھتا ہے کہ اگر حضور سیدنا امامِ اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ کے حضور یہ تقریر عرض کی جاتی ضرور ارشاد فرماتے کہ یہ عطر مذہب وطراز ومُذَہَّب ہے والحمدللّٰہ ربّ العٰلمین۔ اس تحقیق انیق کے بعد قول سوم ہرگز دوم کی طرف راجع ہوکر منتفی نہیں بلکہ وہی من حیث الروایۃ سب سے اقوی ہے کہ خاص نص ظاہر الروایۃ کا مقتضی ہے۔

ف۱:تطفل اٰ خرعلی ھٰؤلاء الثلثۃ ۔

تنبیہ(۴) علامہ عمر نے جبکہ قول چہارم اختیار فرمایا امام اجل قاضی خان وغیرہ کا ترک اسراف کو سنّت فرمانا بھی اسی طرف راجع کرنا چاہا کہ سنّت سے مراد مؤکدہ ہے اور اُس کا ترک مکروہ تحریمی۔

اقول : اقوال بعض متاخرین میں ف۲ اُس کی تائیدوں کا پتا چلے گا ۔

ف ۲:تطفل علی النہر ۔

بحرالرائق ف۳ آخر مکروہات الصلوٰۃ پھر ردالمحتار میں ہے: السنۃ اذا کانت مؤکدۃ قویۃ لایبعد ان یکون ترکہا مکروھا کراھۃ تحریم کترک الواجب ۱؎۔

سنّت جب مؤکدہ قوی ہو تو بعید نہیں کہ اس کا ترک واجب کی طرح مکروہ تحریمی ہو۔ (ت)

ف۳:مسئلہ سنت مؤکدہ کا ترک ایک آدھ بار مورث عتاب ہے مگر گناہ نہیں ہاں ترک کی عادت کرے تو گناہ گار ہوگا اور اس بارے میں دفع اوہام وتوفیق اقوال علماء کرام ۔

(۱؎البحرالرائق کتاب الصلوۃ با ب ما یفسد الصلوٰ ۃ وما یکرہ فیہا ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱/ ۳۲)
ردالمحتار     کتاب الصلوۃ باب مایفسدالصّلوٰۃ وما یکرہ فیہا دار احیاء التراث العربی بیروت ۱ /۴۳۹)
حاشیۃ الطحطاوی علی الدر المختار کتاب الصلوۃ باب مایفسدالصّلوٰۃ وما یکرہ فیہا المکتبۃ العربیہ کوئٹہ ۱ /۲۷۶)

ابو السعود علی مسکین پھر طحطاوی علی الدرالمختار صدر مکروہاتِ نماز میں ہے: الفعل اذا کان واجبا اومافی حکمہ من سنۃ الھدٰی ونحوھا فالترک یکرہ تحریما وان کانت سنۃ زائدۃ اومافی حکمہا من الادب ونحوہ یکرہ تنزیھا ۱؎ اھ

فعل جب واجب ہو یا واجب کے حکم میں ہو جیسے سنتِ ہدٰی وغیرہا تو اس کا ترک مکروہ تحریمی ہے اور اگر سنت زائدہ ہو یا وہ ہو جو اُس کے حکم میں ہے یعنی ادب اوراس کی مثل تو اس کا تر ک مکروہ تنزیہی ہے۔ (ت)

( ۱؎حاشیۃ الطحطاوی علی الدر المختار کتاب الصلوۃ باب مایفسدالصّلوٰۃ وما یکرہ فیہا المکتبۃ العربیہ کوئٹہ ۱ /۲۶۹،۲۷۰)
(فتح المعین کتاب الصلوۃ باب ما یفسد الصلوٰۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ /۲۴۱)

اقول اوّلا : تبعاف۱ القھستانی فانہ ذکرہ ثمہ ولم ینقلہ عن احد بل زعم ان کلامھم یدل علیہ فما کان للسید الازھری ان یسوقہ مساق المنقول۔

ان دونوں حضرات (ابو سعود و طحطاوی ) نے قہستانی کی پیروی کی ہے ۔قہستانی نے یہ بات مکروہات نماز کے شروع میں ذکر کی اور اسے کسی سے نقل نہ کیا بلکہ یہ دعوی کیاکہ کلام علماء اس پر دلالت کرتا ہے۔تو سید ازہری کو یہ نہ چاہیے تھا کہ اسے اس طرح ذکر کریں جیسے وہ کوئی منقول قاعدہ ہے۔

ف۱:معروضۃ علی السید ابی السعود۔

وثانیا لا یدری ف۲ ماذا اراد بنحوھا فالحکم لایسلم لہ فی السنۃ المؤکدۃ مالم یتعود بالترک ففیم یثبت بعدھا وھل تری قائلا بہ احدا۔

ثانیا : سنت ہدی کے بعد :''اور اس کے مثل'' کہا پتا نہیں اس سے کیا مراد ہے خود سنت موکدہ کو واجب کا حکم نہیں ملتاجب تک کہ اس کے تر ک کی عادی نہ ہو پھر اس کے بعد کس چیز میں وہ حکم ثابت ہوگا کیا اس کا بھی کوئی قائل مل سکتا ہے؟

ف۲ معروضۃ علی القہستانی والسیدین ابی السعود وط۔

کشف بزدوی وتحقیق علی الحسامی بحث عزیمت ورخصت میں اصول امام ابو الیسر فخر الاسلام بزدوی سے ہے: حکم السنۃ ان یندب الی تحصیلہا ویلام علی ترکہا مع لحوق اثم یسیر ۱؎۔

سنت کاحکم یہ ہے کہ اس کی بجا آوری کی دعوت ہو اور اس کے ترک پر ملامت ہو ساتھ میں کچھ گناہ بھی لاحق ہو ۔(ت)

(۱؎کشف الاسرارعن اصول البزدوی باب العزیمۃ والرخصۃ دار الکتاب العربی بیروت ۲ /۳۰۸)

درمختار صدرحظر میں ہے: یاثم بترک الواجب ومثلہ السنۃ المؤکدۃ ۲؎۔

ترک واجب سے گناہگا ر ہوگا اوراسی کے مثل سنت مؤکدہ بھی ہے ۔(ت)

 ( ۲؎الدرالمختار     کتاب الحظر والاباحۃ         مطبع مجتبائی دہلی ۲ /۲۳۵ )

مگر صحیح وہی ہے جو ہم اوپر بیان کر آئے کہ سنتِ مؤکدہ کا ایک آدھ بار ترک گناہ نہیں ہاں بُرا ہے اور عادت کے بعد گناہ وناروا ہے۔

اقول : وھذا ان شاء اللّٰہ تعالی سرقول الامام الاجل فخرالاسلام ان تارک السنۃ المؤکدۃ یستوجب اساء ۃ ۳؎ای بنفس الترک وکراھۃ ای تحریمیۃ ای عند الاعتیاد اذھی المحل عند الاطلاق ولھذا قال الامام عبدالعزیز فی شرحہ ان الاساء ۃ دون الکراھۃ۴؎ واکتفی فی السنۃ الزائدۃ بنفی الاساء ۃ لان نفی الادنی یدل علی نفی الاعلی بالاولی وحیث ان الکراھۃ التنزیھیۃ ادنی من الاساء ۃ فنفی الاعلی لایستلزم نفی الادنی ولذا ذکر توجہ اللائمۃ حکم ترک مطلق السنۃ ثم قسمھا قسمین وفرق بلزوم الاساء ۃ وعدمہ فتحصل ان المؤکدۃ وغیرھا تشتر کان فی توجہ الملام علی الترک وتتفار قان فی ان ترک المؤکدۃ اساءۃ  وبعد التعود کراھۃ تحریم ولیس فی ترک غیرھا الاکراھۃ التنزیہ ولعمری ان اشارات ھذا الامام الھمام ادق من ھذا حتی لقبوہ ابا العسر واخاہ الامام صدر الاسلام ابا الیسر۔

اقول: اور یہی ان شاء اللہ تعالی امام الاجل فخر الاسلام کے اس ارشاد کارمز ہے کہ ''سنت مؤکدہ کا تارک اساء ت کا مستحق ہے ''یعنی نفس ترک سے '' اور کراہت کا '' مستحق ہے یعنی کراہت تحریمیہ کا، جب کہ عادت ہو اس لئے کہ مطلق بولنے کے وقت کراہت تحریمیہ ہی مراد ہوتی ہے ۔ اس لئے امام عبد العزیز بخاری نے اپنی شرح میں فرمایا کہ :اساء ت کا درجہ کراہت سے نیچے ہے اور سنت زائدہ میں نفی اسا ء ت پر اکتفا کی اس لئے کہ ادنی کی نفی سے اعلٰی کی نفی بدرجہ اولٰی معلوم ہوجائے گی۔اور چونکہ کراہت تنزیہیہ اساء ت سے ادنٰی ہے تو اعلی ٰ کی نفی سے ادنٰی کی نفی لازم نہ آئے گی اس لئے مستحق ملامت ہونا مطلق سنت کے ترک کا حکم بتایا پھرسنت کی دوقسمیں کیں اور اساء ت لازم آنے اور نہ لازم آنے سے دونوں میں فرق کیا تو حاصل یہ نکلا کہ سنت مؤکدہ اور غیر مؤکدہ دونوں اس حکم میں مشترک ہیں کی ترک پر ملامت ہوگی اوردونوں آپس میں یوں جداجدا ہیں کہ مؤکدہ کا ترک اسا ء ت اورعادت کے بعد کراہت تحریم ہے اور غیر مؤکدہ کے ترک میں صرف کراہت تنزیہ ہے بخدا اس امام ہمام کے ارشادات اس سے بھی زیادہ دقیق ہوتے ہیں یہاں تک کہ علماء نے انہیں ''ابو العسر''اور ان کے برادر امام صدرالاسلام کو ''ابوالیسر'' کا لقب دیا ۔(ت)

(۳؎اصول البزدوی باب العزیمۃ والرخصۃ نور محمد کار خانہ تجارت کتب کراچی ص۱۳۹)
(۴؎کشف الاسرارعن اصول البزدوی باب العزیمۃ والرخصۃ دار الکتاب العربی بیروت ۲ /۳۱۰)

جہاں جہاں کلمات علما ء میں اُس پر حکم اثم ہے اُس سے مراد بحال اعتیاد ورنہ اُس میں اور واجب میں فرق نہ رہے۔

اقول ف۱ : والفرق بتشکیک الاثم کما لجاء الیہ فی البحر لایجدی لان التشکیک حاصل فی الواجبات انفسھا۔

اقول : اور گناہ کی تشکیک سے فرق جیسا کہ بحر میں اس کا سہارا لیا ہے کارآمد نہیں اس لئے کہ تشکیک تو خو د واجبات میں بھی حاصل ہے(اسی میں کم درجہ کا گناہ ہے اسی میں اس سے سخت ) ۔ت

فـــ۱:تطفل علی البحر ۔

اور جب اُس کا مطلق ترک گناہ نہیں تو مکروہ تحریمی بے عادت نہیں ہوسکتا کہ ہر مکروہ تحریمی ف۲ گناہ ومعصیت صغیرہ ہے ۔

ف: مکروہ تحریمی گناہ صغیرہ ہے ۔

ردالمحتار صدر واجبات صلوٰۃ میں ہے: صرح العلامۃ ابن نُجیم فی رسالتہا المؤلفۃ فی بیان المعاصی بان کل مکروہ تحریما من الصغائر ۱؎۔

علامہ ابن نُجیم نے بیان معاصی سے متعلق اپنے رسالہ میں تصریح فرمائی ہے کہ ہر مکروہ تحریمی گناہ صغیرہ ہے۔(ت)

( ۱ ؎رد المحتار کتاب الصلوۃ باب صفۃ الصلوۃ دار احیاء التراث العربی بیروت۱ /۳۰۶ )

منیہ میں ہے: لایترک ف۳ رفع الیدین ولو اعتاد یاثم ۲؎۔

تکبیر تحریمہ کے وقت ہاتھوں کو اٹھانا ترک نہ کرے اگر ترک کی عادت کرے تو گنہگا رہوگا (ت)

(۲؎منیۃ المصلی فصل فی صفۃ الصلوۃ مکتبہ قادریہ جامعہ نظامیہ رضویہ لاہور ص۲۷۸)

ف :۳ مسئلہ تکبیر تحریمہ کے وقت رفع یدین سنت مؤکدہ ہے ترک کی عادت سے گناہ گار ہوگا ورنہ مکروہ ضرور۔

غنیہ میں ہے: لانہ سنۃ مؤکدۃ اما لو ترکہ بعض الاحیان من غیر اعتیاد لایاثم وھذا مطرد فی جمیع السنن المؤکدۃ ۳؎۔

اس لئے کہ یہ سنت مؤکدہ ہے لیکن اگر بغیر عادت کے کسی وقت ترک کر دیا تو گناہگارنہ ہوگا اور یہ حکم تمام سنن مؤکدہ میں ہے ۔(ت)

(۳؎ غنیۃ المستملی شرح منیۃ المصلی فصل فی صفۃ الصلوۃ سہیل اکیڈمی لاہور    ص۳۰۰)

حلیہ میں کلام مذکور امام الیسر کی طرف اشارہ کرکے فرمایا: وھو حسن لکن بعد وجود الدلیل الدال علی لحوق الاثم لتارک السنۃ بمجرد الترک لھا ولیس ذلک بالسھل الواضح ۴؎۔

یہ کلام عمدہ ہے مگراس کے بعد تارک سنت کے لئے محض ترک سے ہی گناہ لاحق ہونے پر دلالت کرنے والی دلیل مل جائے اور یہ بہت آسان نہیں ۔(ت)

(۴؎حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی )

ردالمحتار سُنن صلاۃ میں نہرالفائق سے بحوالہ کشف کبیر کلام امام ابی الیسر نقل کرکے فرمایا: فی شرح التحریر المراد الترک بلا عذر علی سبیل الاصرار وفی شرح الکیدانیۃ عن الکشف قال محمد فی المصرین علی ترک السنۃ بالقتال وابو یوسف بالتادیب اھ فیتعین حمل الترک علی الاصرار توفیقا بین کلامھم ۱؎۔

شرح تحریر میں ہے کہ ترک سے مراد بلا عذر ترک بطور اصرار ترک کرنا اور شرح کیدانیہ میں کشف سے ہے امام محمد نے ترک سنت پر قتال کااور امام ابو یوسف نے تادیب کا حکم دیا اھ متین ہے کہ ترک کو اصرار پر محمول کیا جائے تاکہ ان حضرات کے کلام میں تطبیق ہوجائے (ت)

(۱؎رد المحتار کتاب الصلوۃ باب صفۃالصلوۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱ /۳۱۹)

اُسی میں ہے: کونہ سنۃ مؤکدۃ لایستلزم الا ثم بترکہ مرۃ واحدۃ بلا عذر فیتعین تقیید الترک بالاعتیاد ۲؎۔

اُس کا سنّت مؤکدہ ہونا اسے مستلزم نہیں بلا عذر ایک بار ترک سے بھی گناہ گار ہوجائے گاتو متعین ہے کہ ترک کے ساتھ عادت کی قید لگائی جائے۔ (ت)

(۲؎رد المحتار کتاب الصلوۃ باب صفۃالصلوۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱ /۳۱۹)

اُسی کے ف۱ سنن وضؤ میں دربارہ نیت ہے : یاثم بترکہا اثما یسیرا کما قدمنا عن الکشف والمراد الترک بلا عذر علی سبیل الاصرار کما قدمنا عن شرح التحریر وذلک لانھا سنۃ مؤکدۃ کما حققہ فی الفتح ۳؎۔

نیت وضو کے ترک سے کچھ گناہ گار ہوگا جیسا کہ کشف کے حوالے سے ہم نے سابقا نقل کیا اور مراد یہ ہے کہ بلاعذر بطور اصرار ترک کرے جیساکہ شرح التحریر کے حوالے سے ہم نے پہلے لکھا یہ اس لئے جیساکہ فتح القدیر میں تحقیق کی کہ وضومیں نیت سنت مؤکدہ ہے ۔( ت)

ف ۱ :مسئلہ وضومیں نیت نہ کرنے کی عادت سے گناہ گار ہو گا اس میں نیت سنت مؤکدہ ہے ۔

(۳؎رد المحتار کتاب االطہارۃ سنن الوضو داراحیاء التراث العربی بیروت ۱ /۷۳)

فتح القدیر میں ہے : حکی فی الخلاصۃ خلافافی ترکہ (ای ترک رفع الیدین عند التحریمۃ) قیل یاثم وقیل لاقال والمختار ان اعتادہ اثم لاان کان احیانا انتھی وینبغی ان نجعل شقی ھذا القول محمل القولین فلا اختلاف ولا اثم لنفس الترک بل لان اعتیادہ للاستخفاف والا فمشکل اویکون واجبا ۱؎۔

خلاصہ میں اس کے ترک پر اختلاف منقول ہے (یعنی تکبیر تحریمہ کے وقت رفع بدین کے ترک پر) ایک قول ہے گنہگار ہوگا اور ایک ہے کہ نہیں ہوگا، اور مختار یہ ہے کہ اگر عادت بنالی ہے تو گنہگار ہوگا۔ اگر احیانا ہو تو نہ ہوگا انتہی اور مناسب ہے کہ اس قول کی دونوں شقوں کو دونوں قولوں کا محمل بنا لیا جائے تو نہ تو اختلاف ہوگا اور نہ ہی گناہ ہوگا نفس ترک میں، بلکہ صرف عادت بنالینے کی صورت میں ہوگا کہ اس میں استخفاف کا پہلو نکلتا ہے ورنہ مشکل ہے، یا پھر وہ چیز واجب ہو۔ (ت)

( ۱؎فتح القدیر کتاب الصلوۃ     باب صفۃ الصلوۃ     مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۸۲)

دُرمختار میں ہے: الجماعۃ سنۃ مؤکدۃ للرجال وقیل واجبۃ وعلیہ العامۃ ثمرتہ تظھر فی الاثم بترکہا مرۃ ۲؎۔

جماعت مردوں کیلئے سنت مؤکدہ ہے، اور کہا گیاواجب ہے، اور عامہ علماء اور ثمرہ اختلاف ایک بار ترک سے گنا ہگار ہونے سے حکم میں ظاہر ہو گا ۔(ت)

( ۲ ؎الدرالمختار     کتاب الصلوٰۃ     باب الامامۃ     مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۸۲)

اُسی کے سُننِ وضو میں ہے: وتثلیث ف۱الغسل المستوعب ولا عبرۃف۲ للغرفات ولو اکتفی بمرۃ ان اعتادہ اثم والالا ۱؎۔

تین بار اس طرح دھونا کہ ہر مرتبہ پورے عضو کا احاطہ ہو جائے اس میں چُلوؤں کی تعداد کا اعتبار نہیں اگرایک بار دھونے پر اکتفا کی توبصورت عادت گنہگار ہے ا ورعادت نہ ہو تو نہیں۔( ت)

ف۱ :مسئلہ طہارت میں ہر عضو کا پورا تین بار دھونا سنت موکدہ ہے ترک کی عادت سے گناہ گار ہوگا

ف۲مسئلہ پانی ڈالنے کی گنتی معتبر نہیں جتنا دھونے کا حکم ہے اس پر پورا پانی بہہ جانا معتبر ہے مثلا ہاتھ پر ایک بار پانی ڈالا کہ تہائی کلائی پر بہا باقی پر بھیگا ہاتھ پھیرا دوبارہ دوسری تہائی دھلی سہ بارہ تیسری ۔تو یہ ایک ہی بار دھونا ہوا ہر بار پورے ہاتھ پر کہنی سمیت پانی ذرہ ذرہ پر بہتا تو تین بار ہوتا اس طرح دھونے کی عادت سے گناہ گار ہوگا اور اگر سو بار پانی ڈالا اور ایک ہی جگہ بہا کچھ حصے کسی دفعہ نہ بہا اگرچہ بھیگا ہاتھ پھیرا تو وضو ہی نہ ہو گا ۔

( ۱؎ الدر المختار     کتاب الطہارات     مطبع مجتبائی دہلی     ۱ /۲۲)

خلاصہ میں ف۱ ہے: ان توضأ مرۃ مرۃ ان فعل لعزۃ الماء لعذر البرد اولحاجۃ لایکرہ وکذا ان فعلہ احیانا اما اذا اتخذ ذلک عادۃ یکرہ ۲؎ اھ

اگر ایک بار وضو کیا اس وجہ سے کہ پانی کم یاب ہے یا ٹھنڈک لگنے کا عذر یا کوئی حاجت ہے تو مکروہ نہیں اسی طرح اگر احیانا ایساکیا لیکن جب اسے عادت بنالے تو مکروہ ہے اھ ۔

ف۱  اگر پانی کم ہے یا سردی سخت ہے اور کسی ضرورت کے لئے پانی درکار ہے اس وجہ سے اعضا ایک ایک بار دھوئے تو مضائقہ نہیں ۔

(۲؎خلاصۃ الفتاوٰی     کتاب الطہارات الفصل الثالث         مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ    ۱ /۲۲ )

اقول : ای تحریما لانہ سنۃ مؤکدۃ وھی محمل الاطلاق والمنفیۃ عن فعلہ احیانا من دون عذر۔

اقول  : یعنی مکروہ تحریمی ہے اس لئے کہ وہ سنت مؤکدہ ہے اورکراہت مطلق بولنے سے یہی مراد ہوتی ہے اور بلا عذر احیا نا کرنے سے جس کراہت کی نفی کی گئی ہے اس سے بھی یہی تحریمی مراد ہے (ت)

اس کے نظائر کثیروافر ہیں،

فلا نظر الی ماوقع فی البحر صدر سنن الصلاۃ وقدردہ فی ردالمحتار ببعض ماذکرنا ھنا وباللّٰہ التوفیق۔

تو وہ قابل توجہ نہیں جو بحر میں سنن نماز کے شروع میں تحریرہے اور ردالمحتار میں یہاں ہمارے ذکر کردہ بعض کلام کے ذریعہ اس کی تر دید بھی کردی ہے ، اور توفیق خدا ہی سے ہے ۔ (ت)

خُوب تریہ ف۱ ہے جب ہمارے مشایخ عراق نے جماعت کو واجب اور مشائخ خراسان نے سنتِ مؤکدہ فرمایا اور مفیدمیں یوں تطبیق دی کہ واجب ہے اور اُس کا ثبوت سنت سے خود علامہ عمر نے نہر میں اسے نقل کرکے فرمایا: ھذا یقتضی الاتفاق علی ان ترکہا (مرۃ) بلا عذر یوجب اثما مع انہ قول العراقیین والخراسانیین علی انہ یاثم اذا اعتاد الترک کما فی القنیۃ ۱؎ اھ

اس کا مقتضا یہ ہے بلاعذر ایک بار ترک کرنے سے گناہ گار ہونے پراتفاق ہو حالاں کہ یہ مشائخ عراق کا قول ہے،اور اہل خراسان یہ کہتے ہیں کہ جب ترک کی عادت ہو تو گناہ گار ہوگا جیسا کہ قنیہ میں ہے۔(ت)

 ( ۱؎النہرالفائق کتاب الصلوٰۃ باب ا لامامۃ والحدث فی الصلوٰۃ قدیمی کتب خانہ کراچی۱ /۲۳۸)

فائدہ: اس مسئلہ پر باقی کلام اور سنت کی تعریف واقسام اور سنّت غیر مؤکدہ کی تحقیق احکام اور اُس کا مستحب سے فرق اور مکروہ تحریمی وتنزیہی کی بحث جلیل اور یہ کہ مکروہ تنزیہی اصلاً گناہ نہیں اور یہ کہ مکروہ تحریمی مطلقاً گناہ ہے اور یہ کہ وہ بے اصرار ہرگز کبیرہ نہیں اور ان مسائل میں فاضل لکھنوی کی لغزشوں کا بیان یہ سب ہمارے رسالہ "۲۷بسط الیدین فی السنۃ والمستحب والمکروھین" میں ہے وباللہ التوفیق۔

تنبیہ  ۵ : جبکہ علّامہ عمر نے کراہت تحریم کا استظہار کیا علامہ شامی نے منحۃ الخالق میں تو اُن کا کلام مقرر رکھا مگر ردالمحتار میں رائے جانب کراہت تنزیہ گئی لہٰذا دلائل تحریم کا جواب دینا چاہا۔ علامہ عمر نے تین دلیلیں پیش فرمائی تھیں:
(۱) کلامِ امام زیلعی میں کراہت کو مطلق رکھنا۔
(۲) اسراف سے نہی کی حدیثوں کا مطلق یعنی بے قرینہ صارفہ ہونا۔
(۳) منتقٰی میں اُسے منہیات سے گننا۔
علّامہ شامی نے اول کا یہ جواب دیا کہ مطلق کراہت ہمیشہ تحریم پر محمول نہیں کما ذکرنا انفا ۲؎اھ جیسا کہ ہم نے ابھی ذکر کیا اھ

 (۲؎ ردالمحتار    کتاب الطہارۃ     مکروہات الوضو         داراحیاء التراث العربی بیروت۱ /۹۰)

واشاربہ الی ماقدمہ قبل ھذا بصفحۃ عن البحران المکروہ نوعان احدھما ماکرہ تحریما وھو المحمل عند اطلاقھم الکراھۃ کما فی زکاۃ فتح القدیر ثانیھما المکروہ تنزیھا وکثیرا مایطلقونہ کما شرح المنیۃ۔۱؎

 (ردالمحتار) اس سے ان کا اشارہ اس کلام کی طرف ہے جو اس سے ایک صفحہ پہلے بحر کے حوالے سے لکھ چکے ہیں کہ مکروہ کی دو قسمیں ہیں ایک مکروہ تحریمی۔۔۔یہی مطلق کراہت بولنے کے وقت مراد ہوتا ہے جیسا کہ فتح القدیر میں کتاب الزکوٰۃ میں ہے۔۔۔ اور دوسری قسم مکروہ تنزیہی۔۔۔۔ اوربار ہا اسے بھی مطلق بولتے ہیں جیسا کہ منیہ کی شرح میں ہے۔ (ت)

(۱؎ ردالمحتار    کتاب الطہارۃ     مکروہات الوضو         داراحیاء التراث العربی بیروت۱ /۸۹)

اقول ف۱: اس میں کلام نہیں کہ فقہا ء بارہا ف۲ کراہت مطلق بولتے اور اُس سے خاص مکروہ تنزیہی یا تنزیہی وتحریمی دونوں کو عام مراد لیتے ہیں مگر یہ وہاں ہے کہ ارادہ کراہت تحریم سے کوئی صارف موجود ہو مثلاً دلیل سے ثابت یا خارج سے معلوم ہو کہ جسے یہاں مطلق مکروہ کہا مکروہ تحریمی نہیں یا جو افعال یہاں گنے اُن میں مکروہ تنزیہی بھی ہیں کما یفعلونہ فی مکروھات الصلاۃ (جیسے مکروہات نماز میں ایسا کرتے۔ ت) بے قیام دلیل ہمارے مذہب میں اصل وہی ارادہ کراہت تحریم ہے کما مرعن نص المحقق علی الاطلاق وکتب المذ ھب طافحۃ بذلک (جیسا کہ نص محقق علی الاطلاق کی تصریح گزری اور کتب مذہب اس کے بیان سے لبریز ہیں۔ ت) تو کراہت تنزیہ کی طرف پھیرنا ہی محتاج دلیل ہے ورنہ استدلال نہر تام ہے اب یہ جواب دلیل دوم کی جواب سے محتاج تکمیل ہوا اور اُسی کی تضعیف بھی جلوہ نما۔دوم سے یہ جواب دیا کہ صارف موجود ہے مثلاً جس نے آبِ نہر سے وضو میں اسراف کیا اگر اُسے سنت نہ جانا تو ایسا ہوا کہ نہر سے کوئی برتن بھر کر اُسی میں اُلٹ دیا اس میں کیا محذور ہے سوا اس کے کہ ایک عبث بات ہے۔

ف۱:معروضۃ علی العلامۃ ش۔

ف۲:اگر فقہا خاص مکروہ تنزیہی یا تنزیہی و تحریمی دونوں سے عام پر اطلاق کراہت فرماتے ہیں مگر اصل یہی ہے کہ اس کے مطلق سے مراد کرا ہت تحریمی ہے جب تک دلیل سے اسکا خلاف نہ ثابت ہو ۔

اقول ف۳ : اس کا مبنٰی اُسی خیال پر ہے کہ علّامہ نے قول اول وچہارم کو ایک سمجھا ہے ورنہ قول چہارم میں لب نہراسراف کی تحریم کہاں اور ماورا میں کہ پانی کی اضاعت ہے صارف کیا۔

ف۳:معروضۃ اخری علیہ ۔

وقد قدمنا مایکفی ویشفی ومنہ ف۴ تعلم مافی تعبیرہ بالوضوء بماء النھر اما استنادہ الی ان حدیث فمن زاد علی ھذا ونقص فقد تعدی وظلم محمول علی الاعتقاد عندنا کما فی الھدایۃ وغیرھا قال فی البدائع انہ الصحیح حتی لوزاد اونقص واعتقد ان الثلاث سنۃ لایلحقہ الوعید قال وقدمنا انہ صریح فی عدم کراھۃ ذلک یعنی کراھۃ تحریم ۱؎ اھ

اس پر ہم کافی وشافی بحث کر چکے ہیں ۔ اسی سے وہ نقطہ بھی معلوم ہوم جاتا ہے جو ''وضو بماء النہر ''سے تعبیر میں ہے رہاان کایہ اسناد کہ حدیث ''جس نے اس پر زیادتی یا کمی کی تو اس نے حد سے تجاوز اور ظلم کیا ''ہمارے نزدیک اعتقاد پر محمول ہے جیساکہ ہدایہ وغیرہا میں ہے اور بدائع میں فرمایا کہ یہی صحیح ہے یہاں تک کہ اگر کمی بیشی کی اور اعتقاد یہ ہے کہ تین بار دھونا ہی سنت ہے تو وعید اس سے لاحق نہ ہوگی۔علامہ شامی نے کہا اور ہم پہلے بیان کر چکے ہیں کہ یہ اس بارے میں صریح ہے کہ ا س میں کراہت یعنی کراہت تحریم نہیں اھ۔

ف۴: معروضۃ ثالثۃ علیہ۔

(۱؎ ردالمحتار    کتاب الطہارۃ     مکروہات الوضو         داراحیاء التراث العربی بیروت۱ /۹۰)

فاقول  : لایفید فـــ ماقصدہ من قصر الحکم علی کراھۃ التنزیہ مطلقا مالم یعتقد خلاف السنۃ کیف ولو کان ترک الاسراف سنۃ مؤکدۃ کما یقولہ النھر کان تعودہ مکروھا تحریما ووقوعہ احیانا تنزیھا والحدیث حاکم علی من زاد مطلقا ای ولو مرۃ بانہ ظالم فلزم تاویلہ بما یجعل الزیادۃ ممنوعۃ مطلقا فحملوہ علی ذلک فمن زاد اونقص مرۃ ولم یعتقد لم یلحقہ الوعید ،الا تری انھم ھم الناصون بان من غسل الاعضاء مرۃ ان اعتاد اثم کما قدمناہ عن الدر ومعناہ عن الخلاصۃ وقد صرح بہ فی الحلیۃ وغیرما کتاب ۔

فاقول : اس سے وہ فائدہ حاصل نہیں ہوتا جو ان کامقصد ہے کہ اسراف بہرحال مکروہ تنزیہی ہے جب تک مخالف سنت کا اعتقاد نہ ہو ۔یہ کیسے ہو سکتا ہے ؟اگر ترک اسراف سنت مؤکدہ ہے۔ جیساکہ صاحب نہر اس کے قائل ہیں تو اس کی عادت بنا لینا مکروہ تحریمی ، اور احیانا ہونا مکروہ تنزیہی ہوگا اور حدیث یہ حکم کرتی ہے کہ مطلقاجو زیادتی کرے خواہ ایک ہی بار وہ ظالم ہے تو اس کی تاویل اس امر سے ضروری ہوئی جوزیادتی کو مطلقا ممنوع قرار دے دے اس لیے علما  نے اسے اس معنٰی پر محمول کیا ۔۔۔اب جو ایک بار زیاتی یا کمی کرے اور مخالفت کا اعتقاد نہ رکھے تو وعید اسے شامل نہ ہوگی کیا یہ پیش نظر نہیں کہ علما ء اس کی تصریح فرماتے ہیں کہ جو اعضا ء ایک بار دھوئے اگر اس کا عادی ہوتو گناہ گارجیسا کہ درمختار کے حوالے سے ہم نے بیان کیا اور اسی کے ہم معنی خلاصہ سے نقل کیا اور اس کی تصریح حلیہ وغیرہامتعدد کتابوں میں موجود ہے۔

ف: معروضۃ رابعۃ علیہ ۔

ثم ف العجب انی رأیت العلامۃ نفسہ قدصرح بھذا فی سنن الوضوء فقال'' لایخفی ان التثلیث حیث کان سنۃ مؤکدۃ واصر علی ترکہ یاثم وان کان یعتقدہ سنۃ واما حملھم الوعید فی الحدیث علی عدم رؤیۃ الثلث سنۃ کما یاتی فذلک فی الترک ولو مرۃ بدلیل ماقلنا (قال) وبہ اندفع مافی البحر من ترجیح القول بعدم الاثم لواقتصر علی مرۃ بانہ لواثم بنفس الترک لما احتج الی ھذا الحمل اھ واقرہ فی النھر وغیرہ وذلک لانہ مع عدم الاصرار محتاج الیہ فتدبر ۱؎ اھ

پھر حیرت یہ ہے کہ میں نے دیکھا علامہ شامی نے سنن وضو کے باب میں خود اس کی تصریح کی ہے وہ لکھتے ہیں مخفی نہیں کہ تین بار دھونا جب بھی ہو سنت مؤکدہ ہے اور جو اس کے تر ک پر اصرار کرے گناہ گار ہے اگرچہ اس کے سنت ہونے کا اعتقاد رکھتا ہو۔اور علماء کا وعید حدیث کو تثلیث کے سنت نہ ماننے پرمحمول کر نا جیسا کہ آرہا ہے یہ تو ایک بار تر ک کرنے میں بھی ہے جس کی دلیل وہ ہے جو ہم نے بیان کی ۔۔۔۔آگے لکھا :اسی سے وہ دفع ہو جاتا ہے جو بحر میں صرف ایک با ر ترک تثلیث سے گناہگار نہ ہونے کے قول کو یہ کہہ کر ترجیح دی ہے کہ اگر نفس ترک سے گنا ہ گار ہوجاتا تو حدیث کی یہ تعبیر کرنے کی ضرورت نہ ہوتی ا ھ اس کلام کو نہر وغیرہ میں برقرار رکھا ہے یہ کلام دفع یوں ہوجاتا ہے کہ عدم اصرار کے باوجود تاویل حدیث کی ضرورت ہے تو اس پر غور کرو ا ھ۔

ف:معروضۃ خامسۃ علیہ ۔

(۱؎ ردالمحتار    کتاب الطہارۃ     سنن الوضو     داراحیاء التراث العربی بیروت۱ /۸۰،۸۱)

وقال بعیدہ صریح مافی البدائع انہ لاکراھۃ فی الزیادۃ والنقصان مع اعتقاد سنیۃ الثلٰث وھو مخالف لمامر من انہ لواکتفی بمرۃ واعتادہ اثم ولما سیاتی ان الاسراف مکروہ تحریما ولھذا فرع فی الفتح وغیرہ علی القول بحمل الوعید علی الاعتقاد بقولہ فلوزاد لقصد الوضوء علی الوضوء اولطمانیۃ القلب عند الشک اونقص لحاجۃ لاباس بہ فان مفاد ھذا التفریع انہ لو زاد اونقص بلا غرض صحیح یکرہ وان اعتقد سنیۃ الثلث، وبہ صرح فی الحلیۃ فیحتاج الی التوفیق بین مافی البدائع وغیرہ ویمکن التوفیق بما قدمنا انہ اذا فعل ذلک مرۃ لایکرہ مالم یعتقدہ سنۃ وان اعتادہ یکرہ وان اعتقد سنیت الثلث الا اذا کان لغرض صحیح ۱؎ اھ ولکن سبحن من لاینسی۔

اس کے کچھ آگے لکھاہے بدائع کی تصریح یہ ہے کہ تثلیث کو سنت مانتے ہوئے کم وبیش کر دینے میں کوئی کراہت نہیں ہے، اور یہ اس کے مخالف ہے جو بیان ہوا کہ اگرایک بار دھونے پر اکتفاء کرے اور اس کا عادی ہو تو گنہگار ہو گا اور اس کے بھی خلاف ہے جو آگے آرہا ہے کہ اسراف مکروہ تحریمی ہے اور اسی لئے فتح القدیر وغیرہ میں وعید کو اعتقاد پر محمو ل کرنے کے قول پر یہ تفریع کی ہے کہ اگر وضوپر وضو کے ارادے سے یا شک کی حالت میں اطمینان قلب کے لئے زیادتی کی یاکسی حاجت کی وجہ سے کمی کی توکوئی حرج نہیں کیوں کہ اس تفریع کامفاد یہ ہے کہ اگر کسی غرض صحیح کے بغیر کمی بیشی کی تومکروہ ہے اگرچہ تثلیث کے مسنون ہونے کا اعتقاد رکھتا ہو اور حلیہ میں اسکی تصریح کی ہے۔توبدا ئع اوردوسری کتابوں میں جو مذکور ہے اس کی تطبیق دینے کی ضرورت ہے اوریہ تطبیق اس کلام سے ہو سکتی ہے جو ہم نے پہلے تحریر کیا کہ جب ایک بار ایسا کرے تو مکروہ نہیں جبکہ اسے سنت نہ سمجھے اور اگر اس کا عادی ہوتو مکروہ ہے اگر چہ تثلیث کو سنت مانے مگر جب کسی غرض صحیح کے تحت ہو اھ۔لیکن پاک ہے وہ جسے نسیان نہیں ۔

(۱؎ ردالمحتار    کتاب الطہارۃ     سنن الوضو     داراحیاء التراث العربی بیروت۱ /۸۱،۸۲)

اقول : وانت تعلم ان الکراھیۃ المنفیۃ فیما اذا نقص مرۃ ھی التحریمیۃ کما قدمنا لان ترک السنۃ المؤکدۃ مرۃ واحدۃ ایضا مکروہ ولولم یکن تحریما وعلی التعود یحمل التفریع المذکور فی الفتح والکافی والبحر وعامۃ الکتب فان نفی الباس یستعمل فی کراھۃ التنزیہ کما نصوا علیہ فاثباتہ المستفاد ھھنا بالمفھوم المخالف یفید کراھۃ التحریم۔

اقول  : ناظر کومعلوم ہے کہ کبھی ایک بارکمی کردینے پر کراہت کی جو نفی کی گئی ہے اس سے کراہت تحریم مراد ہے جیساکہ ہم نے سابقا بیان کیا اسلئے کہ سنت مؤکدہ کا ایک بار بھی ترک مکروہ ہے اگرچہ مکروہ تحریمی نہ ہو اور عادت ہونے کی صورت پر وہ تفریع محمول ہوگی جو فتح ،کافی ، بحر میں مذکور ہے اس لئے کہ'' لابأس بہ'' (اس میں حرج نہیں ) کراہت تنزیہ میں استعمال ہوتاہے جیسا کہ علماء نے اس کی تصریح کی تو''بأس''(حرج ) جو یہاں مفہوم مخالف سے مستفادہے وہ کراہت تحریم کا افادہ کررہا ہے۔

ھذا الکلام معہ رحمہ اللّٰہ تعالٰی بما قرر نفسہ وعند العبد الضعیف منشؤ اخر لحمل العلماء الحدیث علی الاعتقاد کما سیاتی ان شاء اللّٰہ تعالٰی۔

یہ علامہ شامی رحمہ اللہ تعالی کے ساتھ خود انہی کی تقریر وتحریر سے کلام ہوا اور بندہ ضعیف کے نزدیک حدیث کو اعتقاد پر محمول کیے جانے کامنشا دوسرا ہے جیساکہ آ ۤگے ان شاء اللہ تعالٰی ذکرہوگا۔

سوم سے یہ جواب دیا کہ مکروہ تنزیہی بھی حقیقۃً اصطلاحا منہی عنہ ہے اگرچہ لغتا اسے منہی عنہ کہنا مجاز ہے کما فی التحریر (ت)

اقول ف ۱اولا : رحمہ اللہ تعالی العلامۃ یہاں تحریرمیں اصطلاح سے امام محقق علی الاطلاق کی مراداصطلاح نحویاں ہے نہ کہ اصطلاح شرح یا فقہ یعنی جب کہ مکروہ تنزیہی میں صیغہ نہی اور بعض مندوبات میں صیغہ امرہوتا ہے اور نحوی صیغہ ہی کودیکھتے ہیں اختلاف معانی سے انہیں بحث نہیں کہ یہاں فعل یا ترک طلب حتمی ہے یا غیر حتمی تو ان کی اصطلاح میں حقیقۃ مندوب مامور بہ ہوگا اور مکروہ تنزیہی منہی عنہ مگرلغۃ ف۲ ان کو مامور بہ اور منہی عنہ کہنا مجاز ہے کہ لغت میں ما مور بہ واجب اور منہی عنہ نا جائز سے خاص ہے اوریہی عرف شرع واصطلاح فقہ ہے تو نحویوں کے طور پر لا تفعل کا صیغہ ہونے سے فقہاکیوں کر منہیات میں داخل ہونے لگا تحریر کی عبارت محل مذکور سابقاملخصا یہ ہے

ف۱:معروضۃ ثالثہ علیہ ۔
ف۲:مکروہ تنزیہی لغتا و شرعا منہی عنہ نہیں اگرچہ نحویوں کے طور اس میں صیغہ نہی ہو ۔

مسئلۃ   : اختلف فی لفظ المامور بہ فی المندوب قیل عن المحققین حقیقۃ والحنفیۃ وجمع من الشافعیۃ مجاز ویجب کون مراد المثبت ان الصیغۃ فی الندب یطلق علیھا لفظ امر حقیقۃ بناء علی عرف النحاۃ فی ان الامر للصیغۃ المقابلۃ للماضی واخیہ مستعملۃ فی الایجاب اوغیرہ فالمندوب مامور بہ حقیقۃ والنافی علی ماثبت ان الامر خاص فی الوجوب والاول (ای نفی الحقیقۃ) اوجہ لابتنائہ علی الثابت لغۃ وابتناء الاول علی الاصطلاح (للنحویین) ومثل ھذہ المکروہ (تنزیھا) منھی (عنہ) اصطلاحا (نحویا) حقیقۃً مجاز لغۃ (لان النھی فی الاصطلاح یقال علی لاتفعل استعلاء سواء کان للمنع الحتم اولا اما فی اللغۃ فیمتنع ان یقال حقیقۃ نہی عن کذا الا اذا منع منہ ) ۱؎اھ مزیدا مابین الاھلۃ من شرحہ التقریر والتحبیرلتلمیذہ المحقق ابن امیر الحاج رحمھما اللّٰہ تعالٰی۔

مندوب کے بارے میں لفظ ماموبہ کے بارے میں اختلاف ہے کہا گیا کہ محققین سے منقول ہے کہ وہ حقیقۃ مامور بہ ہے.اورحنفیہ اورایک جماعت شافعیہ سے منقول ہے کہ مجازاًہے۔ ضروری ہے کہ مثبت کی مرادیہ ہوکہ ندب میں جو صیغہ ہوتا ہے اس پر لفظ امر حقیقتاًبولا جاتا ہے اس بنیاد پر کہ نحویوں کاعرف یہ ہے کہ امر اس صیغہ کو کہتے ہیں جو ماضی ومضارع کے مقابلے میں ہوتاہے یہ ایجاب یا غیرایجاب میں استعمال ہوتا ہے تو مندوب بہ حقیقۃ ما مور بہ اور نافی اس پر ہے جو ثابت ہوا کہ امر وجوب میں خاص ہے اوراول ( یعنی نفی حقیقت) اوجہ ہے اسلئے کہ وہ اس پر مبنی ہے جو لغتا ثابت ہے اور پہلے کی بنیاد (نحویوں کی )اصطلاح پر ہے اوراسی کی طرح مکروہ(تنزیہی )بھی(نحوی)اصطلاح میں حقیقتا منہی عنہ ہے اور لغت میں مجازااس لئے کہ اصطلاح میں نہی کا اطلاق بطور استعلاء''لاتفعل''(مت کر) پرہوتا ہے خواہ منع حتمی ہو یا نہ ہولیکن لغت میں حقیقتا یہ نہیں کہا جاسکتا کہ فلاں کام سے نہی کی مگراسی وقت جب کہ اس سے اسی وقت منع کردیا ہو۔ اھ ہلالین کے درمیان اضافہ محقق علی الاطلاق کے شاگرد (یعنی محقق ابن امیر الحاج) کی شرح التقریروالتحبیرسے ہیں۔

(۱؎التحریر فی اصول الفقہ       المقالۃ الثانیۃ       الباب الاول مصطفٰی البابی مصر     ص۲۵۵تا۲۵۷ )
(التقریر والتحبیر      المقالۃ الثانیۃ      الباب الاول      دار الفکر بیروت        ۲ /۱۹۱۔۱۹۰)

ثانیا اقول  : اگر مکرو ہ فــ۱ تنزیہی شرعاً حقیقۃً منہی عنہ ہوتا واجب الاحتراز ہوتا لقولہ تعالی وما نھٰکم عنہ فانتھوا۱؎ (کیونکہ باری تعالی ٰ کا ارشاد ہے اورتمہیں جس چیز سے روکیں اس سے باز آجاؤ۔)تو مکروہ تنزیہی نہ رہتا بلکہ حرام یا تحریمی ہوتا اور ہم نے اپنے رسالہ جمل مجلیۃ ان المکروہ۱۳۰۴ھ تنزیھا لیس بمعصیۃ میں دلائل قاہرہ قائم کئے ہیں کہ وہ ہرگز شرعاً منہی عنہ نہیں۔

فــ۱:معروضۃ سابعۃعلیہ۔

(۱؎القرآن الکریم ۵۹ /۷)

ثالثا  : خود علّامہ فــ۲ شامی کو جابجا اس کا اعتراف ہے کلام حلیہ الظاھر ان السنۃ فعل المغرب فورا وبعدہ مباح الی اشتباک النجوم (ظاہر یہ ہے کہ مغرب کی ادائیگی فوراً مسنون اوراسکے بعدستاروں کے باہم مل جانے تک مباح ہے ۔ ت) نقل کرکے فرمایا : الظاھر انہ اراد بالمباح مالایمنع فلا ینافی کراھۃ التنزیہ ۲؎۔

ظاہر یہ ہے کہ انہوں نے مباح سے وہ مراد لیا ہے جو ممنوع نہ ہو تویہ مکروہ مکروہ تنزیہی ہونے کے منافی نہیں ۔( ت)

فــ۲:معروضۃثامنۃ علیہ ۔

(۲؎ رد المحتار کتاب الصلوۃ     دار احیاء التراث العربی بیروت     ۱ /۲۴۶)

آخر کتاب الاشربہ میں سید علاّمہ ابو السعود سے نقل کیا: المکروہ تنزیھا یجامع الاباحۃ ۳؎ اھ

(مکروہ تنز یہی مباح کے ساتھ جمع ہوتا ہے۔ ت)

(۳؎رد المحتار کتاب الاشربہ     دار احیاء التراث العربی بیروت     ۱ /۲۹۶)

 رابعا وخامسا اقول فــ۳ : عجب تریہ کہ صدر حظر میں ہمارے ائمہ ثلثہ رضی اللہ تعالٰی عنہم کا اجماع بتایا کہ مکروہ تنزیہی ممنوع نہیں۔

فــ۳ معروضۃ تاسعۃ علیہ۔

ثم ادعی فــ۴ تبعا لزلۃ وقعت فی التلویح واقمنا فی رسالتنا بسط الیدین الدلائل الساطعۃ علی بطلانھا ونقلنا مائۃ نص من ائمتنا وکتب مذھبنا متونا وشروحا وفتاوی منھا کتب نفس الشامی کردالمحتار ونسمات الاسحار علی خلافھا ان المکروہ تحریما ایضا غیر ممنوع عند الشیخین رضی اللّٰہ تعالٰی عنہما وسبحن اللّٰہ ای ا عجب اعجب منھذا ان یکون المکروہ تنزیھا منھیا عنہ والمکروہ تحریما غیر ممنوع۔

پھر تلویح میں واقع ہونے والی ایک لغزش کی تبعیت میں یہ دعوی کر دیا کہ شیخین (امام اعظم وامام ابو یوسف ) رضی اللہ تعالی عنہما کے نزدیک مکروہ تحریمی بھی ممنوع نہیں خداہی کے لئے پاکی ہے اس سے زیادہ عجیب کون سا عجب ہوگا کہ مکروہ تنزیہی تو منہی عنہ ہو اور مکروہ تحریمی ممنوع نہ ہو ہم نے اس کے بطلان پر اپنے رسالہ بسط الیدین میں روشن دلائل قائم کیے ہیں اوراسکے خلاف سو ۱۰۰نصوص اپنے آئمہ اور اپنے مذہب کی کتب متون وشروح وفتاوی سے نقل کیے ہیں جن میں خودعلامہ شامی کی کتابیں رد المحتا ر،نسمات الاسحار وغیرہ بھی ہیں۔(ت)

فــ۴:معروضۃ عاشر ۃ علیہ ۔

سادسا : عجب تر یہ کہ جب شارح نے جواہر سے آب جاری میں اسراف جائز ہونا نقل فرمایا علامہ محشی نے قول کراہت کے خلاف دیکھ کر اس کی یہ تاویل فرمائی کہ جائز سے مراد غیر ممنوع ہے۔ ففی الحلیۃ عن اصول ابن الحاجب انہ قدیطلق ویراد بہ مالایمتنع شرعا وھو یشمل المباح والمکروہ والمندوب والواجب ۱؎۔

کیونکہ حلیہ میں اصول ابن حاجب سے نقل ہے کہ کبھی جائز بولا جاتا ہے اوراس سے وہ مراد ہوتا ہے جو شرعا ممنوع نہ ہویہ مباح، مکروہ، مندوب اور واجب سب کو شامل ہے۔(ت) یعنی اب کراہت کے خلاف نہ ہوگا مکروہ تنزیہی بھی شرعاً ممنوع نہیں۔

(۱؎ حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی )

اقول فــ۱ :یہ ایک تو اُس دعوے کا رد ہوگیا کہ مکروہ تنزیہی بھی حقیقۃً منہی عنہ ہے۔

فـــ۱: المعروضۃ الحادیۃ عشرۃعلیہ ۔

سابعا فــ۲ : اصل تحقیق علّامہ محشی کے خلاف خود قول صاحب نہر کی تسلیم ہوگئی خود علامہ نے جابجا تصریح فرمائی کہ کتب میں مفہوم مخالف معتبر ہے جب عبارت جواہر کے معنے یہ ٹھہرے کہ جاری پانی میں ممنوع نہیں صرف مکروہ تنزیہی ہے تو صاف مستفاد ہوا کہ آب غیر جاری میں ممنوع ومکروہ تحریمی ہے اور یہی مدعائے صاحبِ نہر تھا بالجملہ نہر کی کسی دلیل کا جواب نہ ہوا۔ رہا یہ کہ پھر آخر حکم منقح کیا ہے اس کیلئے اولا تحقیق معنی اسراف کی طرف عود کریں پھر تنقیح حکم وباللہ التوفیق۔

ف۲: المعروضۃا لثانیۃ عشرۃ علیہ۔

تنبیہ۶: اسراف بلاشبہ ممنوع وناجائز ہے، قال اللہ تعالٰی: ولا تسرفوا انہ لایحب المسرفین ۱؎ بیہودہ صرف نہ کرو بیشک اللہ تعالٰی بیہودہ صرف کرنے والوں کو دوست نہیں رکھتا۔

( ۱؎القرآن الکریم ۶ /۱۴۱و۷ /۳۱)

قال اللہ تعالٰی : ولا تبذر تبذیراo ان المبذرین کانوا اخوان الشٰیطین وکان الشیطن لربہ کفورا ۲؎o مال بیجا نہ اُڑا بیشک بیجا اڑانے والے شیطانوں کے بھائی ہیں اور شیطان اپنے رب کا بڑا نا شکرا۔

(۲؎ القرآن الکریم    ۱۷ /۲۶، ۲۷)

اقول  : اسراف فــ کی تفسیر میں کلمات متعدد وجہ پر آئے:

فــ:اسراف کے معنی کی تفصیل وتحقیق۔

(۱) غیر حق میں صرف کرنا۔ یہ تفسیر سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمائی۔

الفریابی وسعید بن منصور وابو بکر بن ابی شیبۃ والبخاری فی الادب المفرد وابنا جریر والمنذر وابی حاتم والطبرانی والحاکم وصححہ والبیھقی فی شعب الایمان واللفظ لابن جریر کلھم عنہ رضی اللّٰہ تعالی عنہ فی قولہ تعالی "ولا تبذر تبذیرا " قال التبذیر فی غیر الحق وھو الاسراف ۳؎۔

فریابی ، سعید بن منصور، ابو بکر بن ابی شیبہ ادب المفرد میں،بخاری ، ابن جریر، ابن منذر ابن ابی حاتم، طبرانی، حاکم بافادہ تصحیح، شعب الایمان میں بیہقی اور ا لفاظ ابن جریر کے ہیں۔ یہ سب حضرات عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ تعالٰی عنہ سے ارشاد باری تعالٰی '' ولا تبذر تبذیرا'' کے تحت راوی ہیں کہ انہوں نے فرمایا تبذیر غیرحق میں صرف کرنا اور یہی اسراف بھی ہے۔ (ت)

 (۳؎جامع البیان (تفسیر ابن جریر )  تحت الآیۃ   ۱۷/ ۲۶ دار احیا ء التراث العربی بیروت       ۱۵ /۸۵ )

اور اسی کے قریب ہے وہ کہ تاج العروس میں بعض سے نقل کیا : وضع الشیئ فی غیر موضعہ ۱؎ یعنی بیجا خرچ کرنا۔

 ( ۱؎تاج العروس باب الفا فصل السین دار احیاء التراث العربی بیروت ۶/ ۱۳۸)

ابن ابی حاتم نے امام مجاہد تلمیذ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہم سے روایت کی: لوانفقت مثل ابی قبیس ذھبا فی طاعۃ اللّٰہ لم یکن اسرا فاولو انفقت صاعا فی معصیۃ اللّٰہ کان اسرافا ۲؎۔

اگر تو پہاڑ برابر سونا طاعت الہی میں خرچ کردے تو اسراف نہیں اور اگر ایک صاع جو گناہ میں خرچ کرے تو اسراف ہے۔

(۲؎ تفسیر ابن ابی حاتم تحت الآیہ ۶ /۱۴۱ مطبع نزا رمصطفی الباز مکۃ المکرمہ)
(مفاتیح الغیب (التفسیر الکبیر) بحوالہ مجاہد تحت الآیہ۶ /۱۴۱ دار الکتب العلمیہ بیروت ۱۳ /۱۷۶)

کسی نے حاتم کی کثرت داد ودہش پر کہا: لا خیر فی سرف اسراف میں خیر نہیں۔ اُس نے جواب دیا: لاسرف فی خیر ۳؎ خیر میں اسراف نہیں۔

(۳؎مفاتیح الغیب (التفسیر الکبیر) بحوالہ مجاہد تحت الآیہ۶ /۱۴۱ دار الکتب العلمیہ بیروت ۱۳ /۱۷۶)

اقول  : حاتم کا مقصود تو خدا نہ تھا نام تھا کمانص علیہ فی الحدیث (جیسا کہ حدیث میں نص وارد ہے۔ ت) تو اس کی ساری داد ودہش اسراف ہی تھی مگر سخائے خیر میں بھی شرع مطہر فــ اعتدال کا حکم فرماتی ہے۔

فــ:مصارف خیر میں اعتدال چاہیے یا اپنا کل مال یک لخت راہ خدا میں دے دینے کی بھی اجازت ہے اس کی تحقیق ۔

قال اللّٰہ تعالی  : ولا تجعل یدک مغلولۃ الی عنقک ولا تبسطھا کل البسط فتقعد ملوما محسورا ۴؎o باری تعالی کا ارشادہے اور اپنا ہاتھ اپنی گردن سے باندھا ہوا نہ رکھ اورنہ پور اکھول دے کہ تو بیٹھا رہے ملامت کیا ہوا تھکا ہوا ۔( ت)

( ۴؎ القرآن الکریم    ۱۷/ ۱۹)

وقال تعالٰی: والذین اذا انفقوا لم یسرفوا ولم یقترو اوکان بین ذلک قواما ۱؎ o اور وہ کہ جب خرچ کرتے ہیں نہ حد سے بڑھیں اور نہ تنگی کریں اور ان دونوں کے بیچ اعتدال پر رہیں ۔ (ت)

( ۱؎القرآن الکریم۲۵ /۶۷)

آیہ کریمہ واٰتوا حقہ یوم حصادہ ولا تسرفوا ۲؎ (اور اس کی کٹائی کے دن اس کا حق دو اور بے جا خرچ نہ کرو۔ت)کی شانِ نزول میں ثابت عــــہ بن قیس رضی اللہ تعالٰی عنہ کا قصہ معلوم ومعروف ہے۔ رواھا ابن جریر وابن ۳؎ابی حاتم عن ابن جریج۔

 ( ۲ ؎القرآن الکریم ۶ /۱۴۱)
(۳؎الدر المنثور بحوالہ ابن ابی حاتم تحت الآیہ ۶/۱۴۱ دارا حیاء التراث العربی بیروت۳ /۳۳۱)
(جامع البیان (تفسیر ابن جریر ) تحت الآیۃ۶/۱۴۱ دار احیا ء التراث العربی بیروت۸ /۷۴ )

عـــہ: نیز ایک صاحب انڈے برابر سونا لے کر حاضر ہوئے کہ یا رسول اللہ! میں نے ایک کان میں سے پایا میں اسے تصدق کرتا ہوں اس کے سوا میری ملک میں کچھ نہیں۔ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے اعراض فرمایا، انہوں نے پھر عرض کی، پھر اعراض فرمایا۔ پھر عرض کی پھر اعراض فرمایا۔ پھر عرض کی، حضور نے وہ سونا ان سے لے کر ایسا پھینکا کہ اگر ان کے لگتا تو درد پہنچاتا یا زخمی کرتا اور فرمایا تم میں ایک شخص اپنا پورا مال لاتا ہے کہ یہ صدقہ ہے پھر بیٹھا لوگوں سے بھیک مانگے گا خیر الصدقۃ ماکان عن ظھر غنی۔ بہتر صدقہ وہ ہے جس کے بعد آدمی محتاج نہ ہوجائے رواہ ابو داؤد۴؎ وغیرہ عن جابر رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ ۱۲ منہ (اس کو ابو داؤد وغیرہ نے جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کیا۔ت) (منہ)

(۴؎سنن ابی داؤد کتاب الزکاۃ باب الرجل یخرج من مالہ آفتاب عالم پریس لاہور۱ /۳۶،۲۳۵)

اُدھر صحاح کی حدیث جلیل ہے کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے تصدق کا حکم فرمایا فاروق اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ خوش ہوئے کہ اگر میں کبھی ابو بکر صدّیق پر سبقت لے جاؤں گا تو وہ یہی بار ہے کہ میرے پاس مال بسیا رہے اپنے جملہ اموال سے نصف حاضرِ خدمت اقدس لائے۔ حضور نے فرمایا: اہل وعیال کیلئے کیا رکھا؟ عرض کی اتنا ہی۔ اتنے میں صدیق اکبر رضی اللہ تعالٰی عنہ حاضر ہوئے اور کل مال حاضر لائے گھر میں کچھ نہ چھوڑا۔ ارشاد ہوا: اہل وعیال کیلئے کیا رکھا؟ عرض کی: اللہ اور اس کا رسول جل جلالہ وصلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم اس پر حضور پُرنور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم دونوں میں وہی فرق ہے جو تمہارے ان جوابوں میں۔ اور تحقیق یہ ہے کہ عام کیلئے وہی حکم میانہ روی ہے اور صدق عـــہ توکل وکمال تبتُّل والوں کی شان بڑی ہے۔

عــــہ  : رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے سیدنا بلال رضی اللہ تعالٰی عنہ سے فرمایا:

انفق بلالا ولا تخشی من ذی العرش اقلالا ۔رواہ البزار عن بلال وابو یعلی والطبرانی فی الکبیر۱؎
والاوسط والبیہقی فی شعب الایمان عن ابی ہریرۃوالطبرانی فی الکبیرکالبزارعن ابن مسعود رضی اللہ تعالی عنہم باسانید حسان۔

اے بلال! خرچ کر اور عرش کے مالک سے کمی کا اندیشہ نہ کر۔( بزاز نے حضرت بلال سے اور ابو یعلی اور طبرانی نے کبیر میں ،اور اوسط اور بیہقی نے شعب الایمان میں حضرت ابو ہریرہ سے ،اور طبرانی نے کبیر میں، جبکہ بزاز نے ا بن مسعود رضی اللہ عنہم سے حسن سندوں کے ساتھ روایت کیا۔ت)

(۱؎ المعجم الکبیرحدیث۱۰۲۰ المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت۱ /۳۴۰)
(الترغیب والترھیب بحوالہ الطبرانی وابی یعلی والبزارالترغیب فی الانفاق مصطفی البابی مصر۲ /۵۱)
(کشف الخفاء حدیث۶۳۵ دار الکتب العلمیۃ بیروت۱ /۱۹۰)
(کنز العمال حدیث ۱۶۱۸۵و۱۶۱۸۶مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۶ /۳۸۷ )

اس حدیث کا موردیوں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے بلال رضی اللہ عنہ کے پاس ایک خرمنِ خرمہ ملاحظہ فرمایا، ارشاد ہوا:بلال ! یہ کیا ہے؟ عرض کی: حضورکے مہمانوں کیلئے رکھ چھوڑاہے۔ فرمایا :

اما تخشی ان یکون لک دخان فی نار جہنم ۲؎

کیا ڈرتا نہیں کہ اس کے سبب آتشِ دوزخ میں تیرے لئے دُھواں ہو، خرچ کر، اے بلال !اور عرش کے مالک سے کمی کا خوف نہ کر۔ بلکہ خود انہی بلال سے ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے اُن سے فرمایا: اے بلال! فقیر مرنا اور غنی نہ مرنا۔ عرض کی اس کیلئے کیا طریقہ برتوں ؟ فرمایا:

مارزقت فلاتخباء وما سئلت فلا تمنع

جو تجھے ملے اُسے نہ چُھپا اور جو کچھ تجھ سے مانگا جائے انکار نہ کر۔ عرض کی یا رسول اللہ! یہ میں کیونکر کرسکوں۔  فرمایا :

ھوذاک اوالنار یا یہ یا نار۔

(۲؎ الترغیب والترھیب الترغیب فی الانفاق مصطفی البابی مصر۲ /۵۱)

رواہ الطبرانی فی الکبیر و ابو الشیخ فی الثواب والحاکم ۱؎ وقال صحیح الاسناد

(اسے طبرانی نے کبیر میں اور ابو شیخ نے ثواب میں اور حاکم نے روایت کیا اور فرمایا یہ صحیح الاسناد ہے۔ت)

(۱؎ المعجم الکبیرحدیث۱۰۲۱ المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت۱ /۳۴۱)
(المستدرک لحاکم کتاب الرقاق دار الفکربیروت۴ /۳۱۶ )
(۲؎ الترغیب والترھیب بحوالہ الطبرانی وابی الشیخ والحاکم الخ الترغیب فی الانفاق الخ مصطفی البابی مصر۲ /۵۲)

اگر کہیے ان پر تاکید اس لئے تھی کہ وہ اصحابِ صُفّہ سے تھے اور ان حضرات کرام کا عہد تھا کہ کچھ پاس نہ رکھیں گے۔

اقول  :

(میں کہتا ہوں) ہاں، اور ہم بھی نہیں کہتے کہ ایسا کرنا ہر ایک پر لازم ہے مگر ان حضرات پر اس کے لازم فرمانے ہی سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ کام فی نفسہٖ محمود ہے اور ہر صادق التوکل کو اس کی اجازت ، ورنہ ان کو بھی منع کیا جاتاجیسے ایک صاحب نے عمر بھر رات کو نہ سونے کا عہد کیا اور ایک نے عمر بھر روزے رکھنے کا، ایک نے کبھی نکاح نہ کرنے کا۔ اس پر ناراضی فرمائی، اور ارشاد ہوا :میں روزہ بھی رکھتا ہوں اور افطار بھی کرتا ہوں اور شب کو نماز بھی پڑھتا ہوں اور آرام بھی کرتا ہوں اور نکاح کرتا ہوں

فمن رغب عن سنتی فلیس منی

تو جو میری سنّت سے بے رغبتی کرے وہ مجھ سے نہیں،رواہ عن حضرت انس رضی اللہ عنہ ۲؎ ۔

(۲؎صحیح البخاری     کتاب النکاح ۲ /۷۵۷        و صحیح مسلم     کتاب النکاح         ۱ /۴۴۹)

ایک شخص نے پیادہ حج کرنے کی منّت مانی، ضُعف سے دو۲ آدمیوں پر تکیہ دیے کر چل رہا تھا، اُسے سوار ہونے کا حکم دیا اور فرمایا :

ان اللہ تعالٰی عن تعذیب ھذانفسہ لغنی ۔ رویاہ۳؎ عنہ رضی اللہ عنہ ۱۲منہ

اللہ اس سے بے نیاز ہے کہ یہ اپنی جان کو عذاب میں ڈالے۔( اس کوشیخین نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کیا۔۲۱منہ۔ت)

(۳؎صحیح البخاری ابواب العمرۃ ۱ /۲۵۱ وصحیح مسلم کتاب النذر۲/ ۴۵ قدیمی کتب خانہ کراچی )

(۲) حکمِ الٰہی کی حد سے بڑھنا۔ یہ تفسیر ایاس بن معٰویہ بن قرہ تابعی ابن تابعی ابن صحابی کی ہے۔ ابن جریر وابو الشیخ عن سفین عــــہ بن حسین عن ابی بشر قال اطاف الناس بایاس بن معویۃ فقالوا ما السرف قال ماتجاوزت بہ امر اللّٰہ فھو سرف ۱؎۔

ابن جریر اور ابو الشیخ سفیان بن حسین سے راوی ہیں وہ ابو البشر سے، انہوں نے کہا اِیاس بن معاویہ رضی اللہ عنہ کے گرد جمع ہوکرلوگوں نے ان سے پوچھا : اسراف کیا ہے ؟ فرمایا جس خرچ میں تم امر الہی سے تجاوز کر جاؤ وہ اسراف ہے ۔ (ت)

عــــہ وقع فی نسخۃ الدرالمنثور المطبوعۃ بمصرسعید بن جبیروھو تصحیف اھ منہ عفی عنہ۔
در منثورمطبوعہ مصر کے نسخہ میں سعید بن جبیر واقع ہوا ہے یہ تصحیف ہے اھ منہ عفی عنہ

( ؎۱ جامع البیان (تفسیرابن جریر ) تحت الآیۃ۶/۱۴۱ دار احیاء التراث العربی بیروت۸ /۷۴ )
(الدرالمنثور بحوالہ ابی الشیخ تحت الآیۃ۶/۱۴۱ دار احیاء التراث العربی بیروت۳ /۳۳۲)

اور اسی کی مثل اہل لغت سے ابن الاعرابی کی تفسیر ہے کما سیاتی من التفسیر الکبیر (جیسا کہ تفسیر کبیر سے ذکر آئے گا۔ ت) تعریفات السید میں ہے : الاسراف تجاوز الحد فی النفقۃ۲؎ (نفقہ میں حد تجاوز کرنا اسراف ہے۔ ت)

(۲؎التعریفات للسیدالشریف     انتشارات ناصر خسرو تہران ایران     ص۱۰)

اقول  : یہ تفسیر مجمل ہے حکم الٰہی وضو میں کُہنیوں تک ہاتھ، گِٹّوں تک پاؤں دھونا ہے، مگر اس سے تجاوز اسراف نہیں بلکہ نیم بازو ونیم ساق تک بڑھانا مستحب ہے جیسا کہ احادیث سے گزرا تو امر سے مراد تشریع لینی چاہئے یعنی حدِ اجازت سے تجاوز، اور اب یہ تفسیر ایک تفسیر تبذیر کی طرف عود کرے گی۔

(۳) ایسی بات میں خرچ کرنا جو شرعِ مطہر یا مروّت کے خلاف ہو اول حرام ہے اور ثانی مکروہ تنزیہی۔
طریقہ محمدیہ میں ہے :

الاسراف والتبذیر ملکۃ بذل المال حیث یجب امساکہ بحکم الشرع اوالمرؤۃ بقدر مایمکن وھما فی مخالفۃ الشرع حرامان وفی مخالفۃ المروء ۃ مکروھان تنزیھا ۳؎ اھ

اسراف اور تبذیر:  اس جگہ مال خرچ کرنے کا ملکہ(نفس کی قوت راسخہ ) جہاں شریعت یا مروت روکنا لازم کرے اور مروت امکانی حد تک پہنچانے کے کام میں نفس کی سچی رغبت کو کہتے ہیں اسراف وتبذیر شریعت کی مخالف میں ہوں تو حرام ہیں اور مروت کی مخالف میں ہوں تومکروہ تنزیہی ہیں اھ

(۳؎طریقہ محمدیہ السابع والعشرون الاسراف والتبذیر مکتبہ حنفیہ کوئٹہ ۱ /۱۵و۱۶)

اقول  : وزاد ملکۃ لیجعلھما من منکرات القلب لانہ فی تعدیدھا ومثل الشارح العلامۃ سیدی عبدالغنی النابلسی قدس سرہ القدسی مخالفۃ المروء ۃ بدفعہ للا جانب والتصدق بہ علیھم وترک الاقارب والجیران المحاویج ۱؎ اھ

اقول: ان دونوں کو منکرات قلب سے قرار دینے کے لئے لفظ ملکہ کا اضا فہ کر دیا کیونکہ یہاں وہ دل کی برائیاں ہی شمار کرا رہے ہیں ۔اور شارح علامہ سید عبدالغنی نابلسی قدس سرہ القدسی نے مخالفت مروت کی مثال یہ پیش کی ہے کہ حاجت مندوں قرابت داروں اورہمسایوں کو چھوڑ کر دور والوں کو مال دے اوران پر صدقہ کرے اھ

(۱؎ الحدیقۃ الندیۃ شرح الطریقۃ المحمدیہ السابع والعشرون مکتبہ نوریہ رضویہ فیصل آباد ۲ /۲۸)

اقول  : اخرج الطبرانی فــــ۱ بسند صحیح عن ابی ھریرۃفـــ۲ رضی اللّٰہ تعالی عنہ قال قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ تعالی علیہ وسلم یا امۃ محمد والذی بعثنی بالحق لایقبل اللّٰہ صدقۃ من رجل ولہ قرابۃ محتاجون الی صلتہ ویصرفہا الی غیرھم والذی نفسی بیدہ لاینظر اللّٰہ الیہ یوم القیمۃ ۲؎ اھ فھو خلاف الشرع لامجرد خلاف المروء ۃ واللّٰہ تعالی اعلم۔

اقول  : طبرانی نے بسند صحیح حضرت ابوھریرہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا :اے امت محمد (علیہ الصلوۃ والسلام ) اس ذات کی قسم جس نے مجھے حق کے ساتھ مبعوث فرمایا خدااس شخص کا صدقہ قبول نہیں فرماتا جس کے کچھ ایسے قرابت دارہوں جواس کے صلہ کے محتاج ہوں اور وہ دوسروں پرصرف کرتا ہو اس کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے خدا اسکی طرف روز قیامت نظر رحمت نہ فرمائے گا اھ تو یہ (حاجت مند اقارب کو چھوڑ کر اجانب کو دینا ) صرف مروت ہی کے خلاف نہیں شریعت کے بھی خلاف ہے اورخدائے برتر ہی کو خوب علم ہے ۔( ت)

ف۱ تطفل علی المولی النابلسی ۔
ف۲مسئلہ جس کے عزیز محتا ج ہوں اسے منع ہے کہ انہیں چھوڑ کر غیروں کو اپنے صدقات دے حدیث میں فرمایا ایسے کا صدقہ قبول نہ ہوگا اور اللہ تعالی ٰ روزقیامت اس کی طرف نظرنہ فرمائے گا ۔

(۲؎مجمع الزوائد بحوالہ الطبرانی کتاب الزکاۃ باب الصدقۃ علی الاقارب دارلکتاب بیروت ۳ /۱۱۷)

انااقول وباللہ التوفیق : آدمی کے پاس جو مال زائد بچا اور اُس نے ایک فضو ل کام میں اُٹھا دیا جیسے بے مصلحت شرعی مکان کی زینت وآرائش میں مبالغہ، اس سے اُسے تو کوئی نفع ہوا نہیں اور اپنے غریب مسلمان بھائیوں کو دیتا تو اُن کو کیسا نفع پہنچتا تو اس حرکت سے ظاہر ہوا کہ اس نے اپنی بے معنی خواہش کو اُن کی حاجت پر مقدم رکھا اور یہ خلافِ مروت ہے۔

(۴) طاعتِ الٰہی کے غیر میں اٹھانا۔ قاموس میں ہے : الاسراف التبذیر اوما انفق فی غیر طاعۃ ۱؎ اھ

اسراف تبذیریا وہ جو غیر طاعت میں خرچ ہو ۔ (ت)

( ۱؎القاموس المحیط باب الفاء فصل السین تحت السرف مصطفی البابی مصر ۳ /۱۵۶)

ردالمحتار میں اسی کی نقل پر اقتصار فرمایا۔

اقول  : ظاہرف ہے کہ مباحات نہ طاعت ہیں نہ اُن میں خرچ اسراف مگر یہ کہ غیر طاعت سے خلاف طاعت مراد لیں تو مثل تفسیر دوم ہوگی اور اب علّامہ شامی کا یہ فرمانا کہ: لایلزم من کونہ غیر طاعۃ ان یکون حراما نعم اذا اعتقد سنیتہ (ای سنیۃ الزیادۃ علی الثلث فی الوضوء) یکون منھیا عنہ ویکون ترکہ سنۃ مؤکدۃ ۲؎۔

اس کے غیر طاعت ہونے سے حرام ہونا لازم نہیں آتا، ہاں( وضوء میں تین بار سے زیادہ دھونے کے) مسنون ہونے کا اعتقاد رکھتا ہو تو وہ منہی عنہ ہے اور اس کا ترک سنّتِ مؤکدہ ہوگا۔( ت)

ف: معروضۃ علی العلامۃ ش والقاموس المحیط۔

(۲؎ ردالمحتار کتاب الطہارۃ مکروہات الوضو     داراحیاء التراث العربی ۱ /۹۰)

(۵) حاجتِ شرعیہ سے زیادہ استعمال کرنا کما تقدم فی صدر البحث عن الحلیۃ والبحروتبعھما العلامۃ الشامی ( جیسا کہ اس مبحث کے شروع میں حلیہ وبحر کے حوالے بیان ہوااور علامہ علامہ شامی نے ان دونوں کا اتبا ع کیا ۔ ت)

اقول اولا  : مراتب ف۱ خمسہ کہ ہم اوپر بیان کر آئے اُن میں حاجت کے بعد منفعت پھر زینت ہے اور شک نہیں کہ ان میں خرچ بھی اسراف نہیں جب تک حدِ اعتدال سے متجاوز نہ ہو، قال اللہ تعالٰی قل من حرم زینۃ اللّٰہ التی اخرج لعبادہ والطیبٰت من الرزق ۱؎ اے نبی! تم فرمادو کہ اللہ کی وہ زینت جو اُس نے اپنے بندوں کیلئے پیدا کی اور پاکیزہ رزق کس نے حرام کئے ہیں۔(ت) مگر یہ تاویل کریں کہ حاجت سے ہر بکار آمد بات مراد ہے۔

ف۱: تطفل علی الحلیۃ والبحروش۔

( ۱ ؎ القرآن الکریم۷ /۳۲)

ثانیا : شرعیہ ف۲ کی قید بھی مانع جامعیت ہے کہ حاجت دنیویہ میں بھی زیادہ اڑانا اسراف ہے مگر یہ کہ شرعیہ سے مراد مشروعہ لیں یعنی جو حاجت خلافِ شرع نہ ہو تو یہ اُس قول پر مبنی ہوجائے گا جس میں اسراف وتبذیر میں حاجت جائزہ وناجائز ہ سے فرق کیا ہے۔ اگر کہیے ان علماء کا یہ کلام دربارہ  وضو ہے اُس میں تو جو زیادت ہوگی حاجت شرعیہ دینیہ ہی سے زائد ہوگی۔

ف۲: تطفل اخر علیہم۔

اقول  : اب مطلقاً حکم ممانعت مسلم نہ ہوگا مثلاً میل چھڑانے یا شدّت گرما میں ٹھنڈ کی نیت سے زیادت کی تو اسراف نہیں کہہ سکتے کہ غرض صحیح جائز میں خرچ ہے۔ شاید اسی لئے علّامہ طحطاوی نے لفظ شرعیہ کم فرما کر اتنا ہی کہا الاسراف ھو الزیادۃ علی قدر الحاجۃ ۲؎

(ضرورت سے زیادہ خرچ اسراف ہے۔ ت)

(۲؎حاشیۃ الطحطاوی علی الدر المختار    کتاب الطہارۃ     المکتبۃ العربیہ کوئٹہ    ۱ /۷۶)

اقول: مگر یہ تعریف اگر مطلق اسراف کی ہو تو جامعیت میں ایک اور خلل ہوگا کہ قدر حاجت سے زیادت کیلئے وجود حاجت درکار اور جہاں حاجت ہی نہ ہو اسراف اور زائد ہے ہاں حلیہ واتباع کی طرح خاص اسراف فی الوضوء کا بیان ہوتو یہ خلل نہ ہوگا۔

(۶) غیر طاعت میں یا بلا حاجت خرچ کرنا۔ نہایہ ابن اثیر ومجمع بحار الانوار میں ہے: الاسراف والتبذیر فی النفقۃ لغیر حاجۃ اوفی غیر طاعۃ اللّٰہ تعالٰی ۳؎۔

اسراف اور تبذیر: بغیر حاجت یا غیرطاعت الہی میں خرچ کرنا ہے ۔ (ت)

(۳؎النہایۃ لابن اثیر فی غریب الحدیث واثر تحت الفظ'' سرف '' دار الکتب العلمیہ بیروت ۲ /۳۲۵)
(مجمع بحار الانوارتحت الفظ سرف مکتبہ دار ایمان مدینۃ المنورۃ السعودیہ ۳ /۶۶ )

یہ تعریف گویا چہارم وپنجم کی جامع ہے۔

اقول اولا فــ۱: طاعت میںوہی تاویل لازم جو چہارم میں گزری۔

فــ۱: تطفل علی ابن الاثیر والعلامۃ طاہر ۔

ثانیا : حاجت فــ۲میں وہی تاویل ضرور جو پنجم میں مذکور ہوئی۔

فــ۲:تطفل آخر علیہما ۔

(۷) دینے میں حق کی حد سے کمی یا بیشی۔

تفسیر ابنِ جریر میں ہے: الاسراف فی کلام العرب الاخطاء باصابۃ الحق فی العطیۃ اما بتجاوزہ حدہ فی الزیادۃ واما بتقصیر عن حدہ الواجب ۱؎۔

کلامِ عرب میں اسراف اسے کہتے ہیں کہ دینے میں حق کے حصول سے خطا کر جائے یا تو حق کی حد سے آگے بڑھ جائے یا اس کی واجبی حد سے پیچھے رہ جائے ۔(ت)

(۱؎ جامع البیان (تفسیر ابن جریر )تحت الآیۃ ۶ /۱۴۱ دار احیاء التراث العربی بیروت ۸ /۷۵)

اقول  : یہ عطا کے ساتھ خاص ہے اور اسراف کچھ لینے دینے ہی میں نہیں اپنے خرچ کرنے میں بھی ہے۔ حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: فی الوضوء  اسراف وفی کل شیئ اسراف ۲؎ رواہ سعید بن منصور عن یحیی بن ابی عمر والسَّیبانی الثقۃ مرسلا

وضو میں بھی اسراف ہوتا ہے اور ہر کام میں اسراف کو دخل ہے اسے سعید بن منصور نے یحیٰی بن ابی عمرو سیبانی ثقہ سے مرسلاً روایت کیا ہے ۔ (ت)

(۲؎ کنزا لعمال بحوالہ ص عن یحٰیی بن عمرو حدیث۲۶۲۴۸ مؤسسۃ الرسالۃ بیروت۹ /۳۲۵ )

(۸) ذلیل غرض میں کثیر مال اُٹھادینا۔تعریفات السید میں ہے: الاسراف انفاق المال الکثیر فی الغرض الخسیس ۳؎ اھ قدمہ ھھنا واقتصر علیہ فی المسرف۔

اسراف گھٹیا مقصد میں زیادہ مال خرچ کردینا اھ بیان اسرا ف میں اس  تعریف کو مقدم رکھا اور مُسِرف کی تعریف میں صرف اسی کو ذکر کیا ۔ (ت)

(۳؎التعریفات للسیدالشریف انتشارات ناصر خسر وتہران ایران ص ۱۰)

اقول  : یہ بھی جامع فــ۴ نہیں بے غرض محض تھوڑا مال ضائع کردینا بھی اسراف ہے۔

فــ ۴: تطفل علی العلامۃ ا لسیدالشریف۔

(۹) حرام میں سے کچھ یا حلال کو اعتدال سے زیادہ کھانا حکاہ السید قیلا ۱؎

( تعریفات میں سید شریف نے اسے بطور قیل حکایت کیا ۔(ت) اقول یہ کھانے فــ سے خاص ہے۔

(۱؎التعریفات للسیدالشریف انتشارات ناصر خسر وتہران ایران ص ۱۰)

ف: معروضۃ علی من نقل عنہ السید ۔

(۱۰) لائق وپسندیدہ بات میں قدر لائق سے زیادہ اُٹھادینا ۔

تعریفات علّامہ شریف میں ہے: الاسراف صرف الشیئ فیما ینبغی زائداعلی  ماینبغی بخلاف التبذیر فانہ صرف الشیئ فیما لاینبغی ۲؎۔

اسراف: مناسب کام  میں حد مناسب سے زیادہ خرچ کرنا ،بخلاف تبذیر کے کہ وہ نا مناسب امر میں خرچ کرنے کو کہتے ہیں ۔ (ت)

(۲؎التعریفات للسیدالشریف انتشارات ناصر خسر وتہران ایران ص ۱۰)

اقول  : ینبغی کا اطلاق کم از کم مستحب پر آتا ہے اور اسراف مباح خالص میں اُس سے بھی زیادہ ہے

مگر یہ کہ جو کچھ لاینبغی نہیں سب کو ینبغی مان لیں کہ مباح کاموں کو بھی شامل ہوجائے ولیس ببعید (اور یہ بعید نہیں۔ ت) اور عبث محض اگرچہ بعض جگہ مباح بمعنی غیر ممنوع ہو مگر زیر لاینبغی داخل ہے تو اس میں جو کچھ اُٹھے گا اس تفسیر پر داخل تبذیر ہوگا۔

(۱۱) بے فائدہ خرچ کرنا۔ قاموس میں ہے: ذھب ماء الحوض سرفا فاض من نواحیہ ۳؎۔

حوض کا پانی اسکے کناروں سے بہ گیا ۔ (ت)

(۳؎القاموس المحیط باب الفاء فصل السین مصطفی البابی مصر ۳/۱۵۶)

تاج العروس میں ہے: قال شمر سرف الماء ماذھب منہ فی غیر سقی ولا نفع یقال اروت البئر النخیل وذھب بقیۃ الماء سرفا۔۴؎

شمر نے کہا سَرف الماء کے معنی وہ پانی جوسینچائی یا کسی فائدہ کے بغیر جاتا رہاکہا جاتا ہے کنویں نے کھجوروں کو سیراب کر دیا اور باقی پانی سرف (بے کار ) گیا ۔(ت)

(۴؎ تاج العروس باب الفاء فصل السین داراحیاء التراث العربی بیروت۶ /۱۳۸)

تفسیر کبیر وتفسیر نیشا پوری میں ہے: اعلم ان لاھل اللغۃ فی تفسیر الاسراف قولین الاول قال ابن الاعرابی السرف تجاوز ماحد لک الثانی قال شمر عـــــہ۱ سرف المال عـــــہ ۲ماذھب منہ فی غیر منفعۃ ۱؎۔

واضع ہو کہ اسراف کی تفسیر میں اہل لغت کے دوقول ہیں : اول ،ابن الاعرابی نے کہا سرف کام معنی مقررہ حد سے تجاوز شمر نے کہا سرف الما ل وہ جو بے فا ئدہ چلا جائے(ت)

عـــہ۱ وقع ھھنا فی نسخۃ النیسا بوری المطبوعۃ بمصر عمر بالعین وھو تحریف منہ۔ (م)

یہاں تفسیر نیشاپوری کے مصری مطبوعہ نسخہ میں شمر کے بجائے عین سے عمر چھپ گیا ہے ،یہ تحریف ہے ۱۲ منہ (ت)

عــــہ۲ ھکذا ھو المال باللام فی کلا التفسیرین وقضیۃ التاج انہ الماء بالھمزۃ منہ۔ (م)
یہ دونوں تفسیروں میں اسی طرح "لام" سے مال لکھا ہوا ہے اور تا ج العروس کا تقاضہ ہے کہ یہ ہمزہ سے ''ماء''ہو ۱۲منہ(ت)

( ۱؎ مفاتیح الغیب (التفسیر الکبیر ) تحت الآیۃ ۶ /۱۴۱ دار الکتب العلمہ بیروت ۱۳ /۱۷۵،۱۷۶ )

اقول :  منفعت کے بعد بھی اگرچہ ایک مرتبہ زینت ہے مگر ایک معنی پر زینت بھی بے فائدہ نہیں۔ ہمارے کلام کا ناظر خیال کرسکتا ہے کہ ان تمام تعریفات میں سب سے جامع ومانع وواضح تر تعریف اول ہے اور کیوں نہ ہو کہ یہ اُس عبداللہ کی تعریف ہے جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم علم کی گٹھری فرماتے اور جو خلفائے اربعہ رضی اللہ تعالٰی عنہم کے بعد تمام جہان سے علم میں زائد ہے اور ابو حنیفہ جیسے امام الائمہ کا مورث علم ہے رضی اللہ تعالٰی عنہ وعنہ وعنہم اجمعین۔ تبذیر ف کے باب میں علما ء کے دو قول ہیں:

ف :تبذیر و اسراف کی معنی میں فرق کی بحث ۔

 (۱) وہ اور اسراف دونوں کے معنی ناحق صرف کرنا ہیں۔

اقول : یہی صحیح ہے کہ یہی قول حضرت عبداللہ بن مسعود وحضرت عبداللہ بن عباس وعامہ صحابہ کرام رضی اللہ تعالٰی عنہم کا ہے، قول  اول کی حدیث میں اس کی تصریح گزری اور وہی حدیث بطریق آخر ابن جریر نے یوں روایت کی: کما اصحاب محمد صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم نتحدث ان التبذیر النفقۃ فی غیر حقہ ۲؎۔

ہم اصحابِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم یہ بیان کرتے تھے تبذیر غیر حق میں خرچ کرنے کا نا م ہے۔( ت)

 (۲؎جامع البیان (تفسیر ابن جریر ) تحت الایۃ ۱۷ /۲۶،۲۷ داراحیاء التراث ا لعربی بیروت ۱۵ /۸۶)

سعید بن منصور سنن اور بخاری ادب مفرد اور ابن جریر وابن منذر تفاسیر اور بیہقی شعب الایمان میں عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما سے راوی: المبذر المنفق فی غیر حقہ ۔۱؎ (مبذر وہ جو غیرحق میں خرچ کرے ۔ت)

 (۱؎جامع البیان (تفسیر ابن جریر ) تحت الایۃ ۱۷/۲۶و۲۷ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱۵ /۸۶)
(الدر المنثور بحوالہ سعید بن منصور والبخاری فی الادب و ابن المنذر ولبیہقی شعب الایمان دار احیاء التراث العربی بیروت ۵ /۲۳۹)

ابن جریرکی ایک روایت اُن سے یہ ہے: لاتنفق فی الباطل فان المبذر ھو المسرف فی غیر حق وقال مجاھد لوانفق انسان مالہ کلہ فی الحق ماکان تبذیرا ولو انفق مدا فی الباطل کان تبذیرا ۲؎۔

باطل میں خرچ نہ کر کہ مُبذّر وہی ہے جو ناحق میں خرچ کرتا ہو۔مجاہد نے کہا:کہ اگر انسان اپنا سارا مال حق میں خرچ کردے توتبذیر نہیں اور اگر ایک مُد بھی باطل میں خرچ کردے توتبذیر ہے۔(ت)

(۲؎جامع البیان (تفسیر ابن جریر ) تحت الایۃ ۱۷ /۲۶و۲۷ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱۵ /۸۷)

نیز قتادہ سے راوی: التبذیر النفقۃ فی معصیۃ اللّٰہ تعالی وفی غیر الحق وفی الفساد۳؎۔

تبذیر:اللہ کی معصیت میں غیر حق میں اورفساد میں خرچ کرناہے۔ (ت)

(۳؎جامع البیان (تفسیر ابن جریر ) تحت الایۃ ۱۷/ ۲۶و۲۷ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱۵ /۸۷)

نہایہ ومختصر امام سیوطی میں ہے : المباذر والمبذر المسرف فی النفقۃ ۴؎۔

مباذر و مبذر:خرچ میں اسراف کرنے والا۔ (ت)

(۴؎ النہایۃ فی غریب الحدیث و الاثرباب الباء مع الذال،تحت لفظ بذر دار الکتب العلمیۃ بیروت ۱ /۱۱۰مختصر احیاء العلوم)

نیز مختصر میں ہے: الاسراف التبذیر۵؎

(اسراف کا معنی تبذیر ہے۔ت)

(۵؎ مختصر احیاء العلوم)

قاموس میں ہے: بذرہ تبذیرا خربہ و فرقہ اسرافا۱؎

بذرہ تبذیرا اسے خراب کیا اور بطور اسراف بانٹ دیا۔(ت)

( ۱؎ قاموس المحیط    باب الراء فصل الباء    مصطفی البابی مصر    ۱ /۳۸۳)

تعریفات السید میں ہے : التبذیر تفریق المال علی وجہ الاسراف ۲؎

تبذیر:بطور اسراف مال بانٹنا۔(ت)

(۲؎التعریفات للسیدالشریف انتشارات ناصر خسر وتہران ایران ص ۲۳)

اسی طرح مختار الصحاح میں اسراف کو تبذیر اور تبذیر کو اسراف سے تفسیر کیا۔

(۲) اُن میں فرق ہے تبذیر خاص معاصی میں مال برباد کرنے کا نام ہے ابنِ جریر عبدالرحمن بن زید بن اسلم مولائے امیر المومنین عمر فاروق رضی اللہ تعالٰی عنہ سے راوی:

لاتبذر تبذیرا لا تعط فی المعاصی۳؎

''لاتبذر تبذیرا'' کا معنی''معاصی میں نہ دے''۔(ت)

(۳؎جامع البیان (تفسیر ابن جریر ) تحت الایۃ ۱۷/ ۲۶و۲۷     داراحیاء التراث العربی بیروت     ۱۵ /۸۷)

اقول اس تقدیر پر اسراف تبذیر سے عام ہوگا کہ ناحق صرف کرنا عبث میں صرف کو بھی شامل اور عبث مطلقاً گناہ نہیں تو از انجا کہ اسراف ناجائز ہے یہ صرف معصّیت ہوگا مگر جس میں صرف کیا وہ خود معصیت نہ تھا اور عبارت ''لاتعط فی المعاصی''(اس کی نافرمانی میں مت دے۔ت) کا ظاہر یہی ہے کہ وہ کام خود ہی معصیت ہو بالجملہ تبذیر کے مقصود وحکم دونوں معصیت ہیں اور اسراف کو صرف حکم میں معصیت لازم، وھذا ھو المشتھر الیوم و وقع فی التاج عن شیخہ عن ائمۃ الاشتقاق ان التبذیر یشمل الاسراف فی عرف اللغۃ اہ۴؎ ،وبہ صرح العلامۃ الشہاب فی عنایۃ القاضی ومفادہ ان التبذیر اعم ولم یفسراہ۔

اوراس وقت یہی مشہور ہے،اور تاج العروس میں اپنے شیخ کی روایت سے اشتقاق سے نقل کیا ہے کہ لغت کے عرف میں تبذیر،اسراف کوشامل ہے اھ-اسکی صراحت علّامہ شہاب خفاجی نے عنایۃ القاضی میں کی ہے اور اس کا مفاد یہ ہے کہ تبذیر اعم ہے اور دونوں نے اس کی تفسیر نہ کی ہے۔(ت)

(۴؎تاج العروس    باب الراء،فصل الباء    داراحیاء التراث العربی بیروت    ۳ /۳۶)

بعض نے یوں فرق کیا کہ مقدار میں حد سے تجاوز اسراف ہے اور بے موقع بات میں صرف کرنا تبذیر، دونوں بُرے ہیں اور تبذیر بدتر۔ قال الخفاجی وفرق بینھما علی مانقل فی الکشف بان الاسراف تجاوز فی الکمیۃ وھو جہل بمقادیر الحقوق والتبذیر تجاوز فی موقع الحق وھو جہل بالکیفیۃ وبمواقعھا وکلاھما مذموم والثانی ادخل فی الذم ۱؎۔

خفاجی نے فرمایا:جیساکشف میں نقل کیا ہے ان دونوں میں یہ فرق کیا گیاہے کہ اسراف مقدار میں حد سے آگے بڑھنا اور یہ حقوق کی قدروں سے نا آشنائی ہے - اور تبذیر حق کی جگہ سے تجاوز کرنا اور یہ کیفیت ہے اور اس کے مقامات سے نا آشنائی ہے،اور دونوں ہی مذموم ہیں اورثانی زیادہ براہے۔(ت)

( ۱؎ عنایۃ القاضی وکفایۃ الراضی    تحت الآیۃ ۲۷ /۲۶    دار الکتب العلمیۃبیروت    ۶ /۴۲)

اس تقدیر پر دونوں متباین ہوں گے۔

اقول : اگرچہ مقدار سے زیادہ صرف بھی بے موقع بات میں صرف ہے کہ وہ مصرف اس زیادت کا موقع ومحل نہ تھا ورنہ اسراف ہی نہ ہوتا مگر بے موقع سے مراد یہ ہے کہ سرے سے وہ محل اصلا مصرف نہ ہو۔

بالجملہ احاطہ کلمات فــ سے روشن ہوا کہ وہ قطب جن پر ممانعت کے افلاک دورہ کرتے ہیں دو ہیں ایک مقصدمعصیت  دوسرا بیکار اضاعت اور حکم دونوں کا منع وکراہت۔

فـــ:مسئلہ اسراف کہ ناجائز و گناہ ہے صرف دو صورتوں میں ایسا ہوتا ہے ایک یہ کہ کسی گناہ میں صرف و استعمال کریں دوسرے بیکار محض مال ضائع کریں۔

اقول  : معصیت تو خود معصیت ہی ہے ولہٰذا اُس میں منع مال ضائع کرنے پر موقوف نہیں اور غیر معصیت میں جبکہ وہ فعل فی نفسہٖ گناہ نہیں لاجرم ممانعت میں اضاعت ملحوظ ولہٰذا عام تفسیرات میں لفظ انفاق ماخوذ کہ مفید خرچ واستہلاک ہے کہ اہم بالافادہ یہی ہے معاصی میں صرف معصیت ہونا تو بدیہی ہے زید نے سونے چاندی کے کڑے اپنے ہاتھوں میں ڈالے یہ اسراف ہوا کہ فعل خود گناہ ہے اگرچہ تھوڑی دیر پہننے سے کڑے خرچ نہ ہوجائیں گے اور بلا وجہ محض اپنی جیب میں ڈالے پھرتا ہے تو اسراف نہیں کہ نہ فعل گناہ ہے نہ مال ضائع ہوا اور اگر دریا میں پھینک دیے تو اسراف ہوا کہ مال کی اضاعت ہوئی اور اضاعت کی ممانعت پر حدیث صحیح ناطق صحیح بخاری وصحیح مسلم میں مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے ہے رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں: ان اللّٰہ تعالی کرہ لکم قیل وقال وکثرۃ السؤال واضاعۃ المال ۱؎۔

بے شک اللہ تعالٰی تمہارے لئے مکروہ رکھتا ہے فضول بک بک اور سوال کی کثرت اور مال کی اضاعت۔

(۱؎ صحیح البخاری کتاب فی الاستقراض الخ باب ما ینہی عن اضاعت المال قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۳۲۴)
(صحیح مسلم کتاب الاقضیۃ باب نہی عن کثر ۃ المسائل الخ قدیمی کتب خا نہ کراچی ۲ /۷۵ )

یہ تحقیق معنی اسراف ہے جسے محفوط وملحوظ رکھناچاہئے کہ آئندہ انکشاف احکام اسی پر موقوف وباللہ التوفیق۔

فائدہ ـ: فــ یہاں سے ظاہر ہوا کہ وضو وغسل میں تین بار سے زیادہ پانی ڈالنا جبکہ کسی غرض صحیح سے ہو ہرگز اسراف نہیں کہ جائز غرض میں خرچ کرنا نہ خود معصیت ہے نہ بیکار اضاعت۔ اس کی بہت مثالیں اُن پانیوں میں ملیں گی جن کو ہم نے آب وضوء  سے مستثنٰی بتایا نیز تبرید وتنظیف کی دو مثالیں ابھی گزریں اور ان کے سوا علماء کرام نے دو صورتیں اور ارشاد فرمائی ہیں جن میں غرض صحیح ہونے کے سبب اسراف نہ ہوا:
 (۱) یہ کہ وضو علی الوضوء  کی نیت کرے کہ نور علٰی نور ہے۔
(۲) اگر وضو کرتے میں کسی عضو کی تثلیث میں شک واقع ہو تو کم پر بنا کرکے تثلیث کامل کرلے مثلاً شک ہوا کہ منہ یا ہاتھ یا پاؤں شاید دو ہی بار دھویا تو ایک بار اور دھولے اگرچہ واقع میں یہ چوتھی بار ہو اور ایک بار کا خیال ہوا تو دوبار، اور یہ شک پڑا کہ دھویا ہی نہیں تو تین بار دھوئے اگرچہ واقع کے لحاظ سے چھ بار ہوجائے یہ اسراف نہیں کہ اطمینانِ قلب حاصل کرنا غرض صحیح ہے۔

فــ:مسئلہ ان صحیح غرضوں کا بیان جن کے لئے وضو و غسل میں تین تین با ر سے زیادہ اعضاء کا دھونا داخل اسرف نہیں بلکہ جائز وروا یا محمود و مستحسن ہے ۔

ہم امر چہارم میں ارشاد اقدس حضور پُرنور سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم بیان کر آئے کہ: دع ما یریبک الی مالا یریبک ۲؎ شک کی بات چھوڑ کروہ کر جس میں شک نہ رہے۔

(۲؎ صحیح البخاری کتاب البیوع باب تفسیر المشتبہات     قدیمی کتب خانہ کراچی    ۱ /۲۷۵)

کافی امام حافظ الدین نسفی میں ہے  : ھذا (ای وعید الحدیث من زاد علی ھذا اونقص فقد تعدی وظلم) اذا زادہ معتقدا ان السنۃ ھذا فاما لو زاد لطمانیۃ القلب عند الشک اونیۃ وضوء  اخر فلا باس بہ لانہ صلی اللّٰہ تعالی علیہ وسلم امر بترک مایریبہ الی مالا یریبہ ۱؎۔

حدیث پاک '' جس نے اس سے زیادتی یا کمی کی وہ حد سے بڑھا اور ظلم کیا '' کی وعید اس صورت میں ہے کہ جب یہ اعتقاد رکھتے ہوئے زیادہ کرے کہ زیادہ کرناہی سنت ہے لیکن شک کے وقت اطمینان قلب کے لئے زیادہ کرے یادوسرے وضو کی نیت ہو تو کوئی حرج نہیں ا س لئے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نےحکم دیا ہے کہ شک کی حالت چھوڑ کر وہ صورت اختیار کرے جس میں شک نہ رہے ۔(ت)

(۱؎الکافی شرح الوافی)

فتح القدیر میں قولِ ہدایہ : الوعید لعدم رویتہ سنۃ (وعید اس لئے ہے کہ وہ سنت نہیں سمجھتا ہے۔ ت) کے تحت میں ہے: فلو راٰہ و زاد لقصد الوضوء  علی الوضوء  اولطمانیۃ القلب عند الشک اونقص لحاجۃ لاباس بہ ۲؎۔

تو اگر تثلیث کو سنت مانا اور وضو پر وضو کے ارادے یا شک کے وقت اطمینان قلب کے لئے زیادہ کیا یاکسی حاجت کی وجہ سے کمی کی تو کوئی حرج نہیں(ت)

(۲؎ فتح القدیر        کتا ب الطہارت    مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر    ۱ /۲۷)

عنایہ میں ہے : اذا زاد لطمانیۃ القلب عند الشک اوبنیۃ وضوء  اخر فلا باس بہ فان الوضوء علی الوضوء نور علی نور وقد امر بترک مایریبہ الی مالا یریبہ ۳؎۔

شک کے وقت اطمینان قلب کے لئے یا دوسرے وضو کی نیت سے زیادہ کیا تو حرج نہیں اس لئے کہ وضو پر وضو نور علٰی نور ہے اور اسے حکم ہے کہ شک کی صورت چھوڑ کر وہ راہ اختیار کرے جس میں اسے شک نہ ہو (ت)

(۳؎ عنایہ مع الفتح القدیر علی الہدایۃ    کتاب الطہارت    نوریہ رضویہ سکھر    ۱ /۲۷)

حلیہ میں ہے : الوعید علی الاعتقاد المذکور دون نفس الفعل وعلی ھذا مشی فی الھدایۃ ومحیط رضی الدین والبدائع ونص فی البدائع انہ الصحیح لان من لم یرسنۃ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ تعالی علیہ وسلم فقد ابتدع فلیحقہ الوعید وان کانت الزیادۃ علی الثلاث لقصد الوضو علی الوضوء اولطمانینۃ القلب عند الشک فلا یلحقہ الوعید وھو ظاھر وھل لو زاد علی الثلث من غیر قصد لشیئ مما ذکر یکرہ الظاھر نعم لانہ اسراف ۱؎۔

وعید اعتقاد مذکور پر ہے خود فعل پر نہیں ۔ اسی کو ہدایہ، محیط رضی الدین اور بدائع میں بھی اختیار کیا ہے ، اور بدائع میں صراحت کی ہے کہ یہی صحیح ہے اس لئے کہ جو رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کی سنت کو نہ مانے وہ بد مذہب ہے اسے وعیدلاحق ہوگی۔اگر تین پراضافہ وضو علی وضو کے ارادے سے ہے یا شک کے وقت اطمینان قلب کے لئے تو اسے وعید لاحق نہ ہوگی اوریہ ظاہرہے۔سوال یہ ہے کہ اگرمذکورہ با توں میں سے کسی کا قصد ہوئے بغیراس نے تین بار سے زیادہ دھویا مکروہ ہے یانہیں ،ظاہریہ ہے کہ مکروہ ہے کیونکہ یہ اسراف ہے ۔( ت)

( ۱؎حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی )

اسی طرح نہایہ ومعراج الہدایہ ومبسوط وسراج وہاج وبرجندی ودرمختار وعالمگیری وغیرہا کتب کثیرہ میں ہے مگر بعض متاخرین شراح کو ان صورتوں میں کلام واقع ہوا:

صُورتِ اولٰی میں تین وجہ سے :

وجہ اول  :

وضو عبادت ف مقصودہ نہیں بلکہ نماز وغیرہ کیلئے وسیلہ ہے ہمارے علماء کا اس پر اتفاق ہے تو جب تک اُس سے کوئی فعل مقصود مثل نماز یا سجدہ تلاوت یا مس مصحف واقع نہ ہولے اُس کی تجدید مشروع نہ ہونی چاہئے کہ اسراف محض ہوگی۔ یہ اعتراض محقق ابراہیم حلبی کا ہے۔

فــ:مسئلہ بعض نے فرمایا کہ وضو پر وضو اسی وقت مستحب ہے کہ پہلے سے وضو کوئی نمازیا سجدہ تلاوت وغیرہ کوئی فعل جس کے لئے با وضو ہونے کا حکم ہے ادا کر چکا ہوبغیر اس کے تجدید وضو مکروہ ہے ۔ بعض نے فرمایا کہ ایک بار تجدید تو بغیر اس کے بھی مستحب ہے،ایک سے زیادہ بے اسکے مکروہ ہے اور مصنف کی تحقیق کہ ہمارے ائمہ کا کلام اور نیز احادیث خیر الانام علیہ افضل الصلوۃ السلام مطلقا تجدید وضو کو مستحب فرماتی ہیں اوران قیدوں کا کوئی ثبوت ظاہر نہیں ۔

خلاصہ میں اعضائے وضو چار بار دھونے کی کراہت میں دو قول نقل کرکے فرمایا تھا: ھذا اذالم یفرغ من الوضوء فان فرغ ثم استأنف الوضوء لایکرہ بالاتفاق ۱؎۔

یہ اس صورت میں ہے کہ ابھی وضو سے فارغ نہ ہواہو اگرفارغ ہوگیا پھرازسر نو وضو کیا تو بالاتفاق مکروہ نہیں ۔( ت )

 (۱؎ خلاصۃ الفتاوی کتاب الطہارۃ     سنن الوضوء مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ۱ /۲۲)

اسی طرح تاتارخانیہ میں امام ناطفی سے ہے کما فی ش اس سے ثابت کہ ایک وضو سے فارغ ہو کر معاً بہ نیت وضو علی الوضو شروع کردینا ہمارے یہاں بالاتفاق جائز ہے اور کسی کے نزدیک مکروہ نہیں۔ اس پرعلامہ حلبی نے وہ اشکال قائم کیا اور علامہ علی قاری نے مرقات باب السنن الوضوء فصل ثانی میں زیر حدیث فمن زاد علی ھذا فقد  اساء وتعدی ۲؎ (جس نے اس پر زیادتی کی اس نے برا کیا اور حد سے آگے بڑھا۔ت) اُن کی تبعیت کی۔

 (۲؎مرقاۃ المفاتیح کتاب الطہارۃ باب سنن الوضو تحت الحدیث۴۱۷ مکتبہ اسلامیہ کوئٹہ ۲ /۱۲۴)

اقول اولا فــــ۱ : جب ائمہ ثقات نے ہمارے علماء کا اتفاق نقل کیا اور دوسری جگہ سے خلاف ثابت نہیں تو بحث کی کیا گنجائش۔

فــ۱ تطفل علی الغنیۃ وعلی القاری ۔

ثانیا فــ ۲: عبادت غیر مقصودہ بالذات ہونے پر اتفاق سے یہ لازم نہیں کہ وہ وسیلہ ہی ہو کر جائز ہو بلکہ فی نفسہ بھی ایک نوع مقصودیت سے حظ رکھتا ہے ولہٰذا اجماع ہے کہ ہر وقت باوضو رہنا فــ۳ ہر حدث کے بعد معاً وضوء کرنا مستحب ہے۔

فـــ۲ :تطفل اٰخر علیہما۔
فــ۳ مسئلہ ہروقت با وضو رہنا مستحب ہے اور اس کے فضائل۔

فتاوٰی قاضی خان وخزانۃ المفتین وفتاوٰی ہندیہ وغیرہا میں وضوئے مستحب کے شمار میں ہے: ومنھا المحافظۃ علی الوضوء وتفسیرہ ان یتوضأ کلما احدث لیکون علی الوضوء فی الاوقات کلھا ۳؎۔

اسی میں سے وضو کی محافظت یہ ہے کہ جب بے وضو ہو وضو کر لے تاکہ ہمہ وقت با وضورہے وضو کی محافظت اسلام کی سنت ہے۔(ت)

 (۳؎ الفتاوی الہندیۃ کتاب الطہارۃ الباب الاول الفصل الثانی     نورانی کتب خانہ پشاور    ۱ /۹)

بلکہ امام رکن الاسلام محمد بن ابی بکر نے شرعۃ الاسلام میں اُسے اسلام کی سُنّتوں سے بتایا فرماتے ہیں: المحافظۃ علی الوضوء سنۃ الاسلام ۱؎

(ہمیشہ باوضو رہنا اسلام کی سنّت ہے۔ ت)

 ( ۱؎ شرعۃ الاسلام مع شرح مفاتیح الجنان فصل فی تفضیل سنن الطہارۃمکتبہ اسلامیہ کوئٹہ ص۸۲)

اُس کی شرح مفاتیح الجنان ومصابیح الجنان میں بستان العارفین امام فقیہ ابو اللیث سے ہے : بلغنا ان اللّٰہ تعالٰی قال لموسٰی علیہ الصلاۃ والسلام یا موسٰی اذا اصابتک مصیبۃ وانت علی غیر وضوء فلا تلو من الانفسک ۲؎۔

یعنی ہم کو حدیث پہنچی کہ اللہ عزّوجل نے موسٰی علیہ الصلوٰۃ والسلام سے فرمایا اے موسٰی! اگر بے وضو ہونے کی حالت میں تجھے کوئی مصیبت پہنچے تو خود اپنے آپ کو ملامت کرنا۔

( ۲؎ مفاتیح الجنان شرح شرعۃ الاسلام فصل فی تفضیل سنن الطہارۃمکتبہ اسلامیہ کوئٹہ ص۸۲)

اُسی میں کتاب خا لصۃ الحقائق ابو القاسم محمود بن احمد فارابی سے ہے: قال بعض اھل المعرفۃ من داوم علی الوضوء اکرمہ اللّٰہ تعالی بسبع خصال ۳؎ الخ

یعنی بعض عارفین نے فرمایا جو ہمیشہ باوضو رہے اللہ تعالٰی اُسے سات۷ فضیلتوں سے مشرف فرمائے:

(۳؎ مفاتیح الجنان شرح شرعۃ الاسلام فصل فی تفضیل سنن الطہارۃمکتبہ اسلامیہ کوئٹہ ص۸۲)

(۱) ملائکہ اس کی صحبت میں رغبت کریں۔
(۲) قلم اُس کی نیکیاں لکھتا رہے۔
(۳) اُس کے اعضاء تسبیح کریں۔
(۴) اُسے تکبیر اولٰی فوت نہ ہو۔
(۵) جب سوئے اللہ تعالٰی کچھ فرشتے بھیجے کہ جن وانس کے شر سے اُس کی حفاظت کریں۔
(۶)  سکرات موت اس پر آسان ہو۔
(۷) جب تک باوضو ہو امانِ الٰہی میں رہے۔

اُسی میں بحوالہ مقدمہ غزنویہ وخالصۃ الحقائق انس بن مالک رضی اللہ تعالٰی عنہ سے ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ عزوجل فرماتا ہے : من احدث ولم یتوضأ فقد جفانی ۴؎

جسے حدث ہو اور وضو نہ کرے اس نے میرا کمالِ ادب جیسا چاہئے ملحوظ نہ رکھا۔

(۴؎ مفاتیح الجنان شرح شرعۃ الاسلام فصل فی تفضیل سنن الطہارۃمکتبہ اسلامیہ کوئٹہ ص۹۴)

اقول  : مگر ظاہراً یہ حدیث بے اصل ہے،تشہد بہ قریحۃ من نظرہ فیہ بتمامہ وایضا لوصح لوجبت استدامۃ الوضوء ولا قائل بہ واللّٰہ تعالٰی اعلم جوپوری حدیث میں غور کرے تواسکی طبیعت اس کی شہادت دے گی اور اگر یہ درست ہوتی تو ہمیشہ با وضو رہنا واجب ہوتا اور کوئی اس کا قائل نہیں ۔ واللہ تعالی اعلم (ت )

ثالثا : وہ تنظیف فــ۱ ہے اور دین کی بنا نظافت پر ہے اور شک نہیں کہ تجدید موجب تنظیف مزید، ولہٰذا فــ ۲جمعہ وعیدین وعرفہ عــــہ واحرام ووقوف عرفات ووقوف مزدلفہ حاضری حرم وحاضری سرکار اعظم ودخول منٰی ورمی جمار ہرسہ روزہ شب برات وشب قدر وشب عرفہ وحاضری مجلس میلاد مبارک وغیرہا کے غسل مستحب ہوئے،

 فــ۱:تطفل ثالث علیہما۔
فــ۲:مسئلہ ان بعض اوقات و مواقع کا ذکر جن کے لیے غسل مستحب ہے ۔
عـــہ قال فی الدر  و فی جبل عرفۃ ۱؎ قال ش'' اقحم لفظ جبل اشارۃ الی ان الغسل للوقوف نفسہ لالد خول عرفات ولا للیوم وما فی البدائع من انہ یجوز ان یکون علی الاختلاف ای للوقوف اوللیوم کما فی الجمعۃ ردہ فی الحلیۃ بان الظاھر انہ للوقوف قال وما اظن ان احد اذھب الی استنانہ لیوم عرفۃ بلا حضور عرفات اھ
عــــہ در مختار میں ہے میں''جبلِ عرفات پرغسل '' شامی میں ہے لفظ جبل اس بات کی جانب اشارہ کے لئے بڑھا دیا کہ غسل خود وقوف کی وجہ سے ہے عرفات میں داخل ہونے یا روز عرفہ کی وجہ سے نہیں اور بدائع میں جو ہے کہ ''ہوسکتا ہے کہ اس میں اختلاف ہوکہ غسل وقوف کی وجہ سے ہے یا اس دن کی وجہ سے ہے جیسے جمعہ میں اختلاف ہے ''حلیہ میں اسکی تردید یوں کی ہے کہ ظاہر یہ ہے کہ غسل وقوف کی وجہ سے ہے۔ اور میں یہ نہیں سمجھتا کہ کسی کا یہ مذہب ہو کہ عر فات کی حاضری کے بغیر روزعرفہ کا غسل مسنون ہے ۔اھ

( ۱؎ ا لدر المختار     کتاب الطہارۃ     مکتبہ مجتبائی دہلی     ۱ /۳۲)

واقر ہ فی البحر والنہر لکن قال المقد سی فی شرح نظم الکنز لا یستبعد سنیتہ للیوم لفضیلتہ حتی لوحلف بطلاق امرأتہ فی افضل الایام العام تطلق یوم العرفۃ ذکرہ ابن ملک فی شرح الشارق اھ ۲؎

اوراسے بحر ونہر میں برقراررکھا لیکن مقدسی نے شرح نظم کنز میں لکھا کہ:''دن کے باعث اس غسل کا مسنون ہونا بعید نہیں کیونکہ یہ دن فضیلت رکھتا ہے یہا ں تک کہ اگر یہ کہا کہ میری عور ت کو سال کے سب سے افضل دن میں طلاق تو روز عرفہ اسپرطلاق واقع ہوگی اسے ابن ملک نے شرح مشارق میں ذکر کیا اھ

( ۲؎ ردالمحتار     کتاب الطہارۃ     دار احیاء التراث العربی بیروت    ۱ /۱۱۴)

اقول : ھذاصاحب ف الدر ناصا علی استنانہ ای استحبابہ لیلۃ عرفۃ وقدعد ھافی التاتارخانیہ والقہستانی فالیوم احق فلذا افردت عرفۃ من الوقوف وکذا دخول من رمی الجمار تبعاللتنویر شرح الغزنویۃ کما نقل عنہ ش واللہ تعالٰی اعلم اھ۱۲  منہ

اقول یہ خود صاحب درمختارہیں جنہوں نے عرفہ کی شب غسل مسنون یعنی مستحب ہونے کی صراحت فرمائی اور تاتار خانیہ وقہستانی نے بھی اسے شمار کیا اسی طرح دخول منٰی کو رمی جمار سے الگ کیا تنویر اور شرح غزنویہ کی تبعیت میں جیسا کہ اس سے علامہ شامی نے نقل کیا ہے واللہ تعالٰی اعلم ۱۲منہ (ت)

فــ: تطفل علی الدر۔

درمختار میں قول ماتن  : سن لصلاۃ جمعۃ وعید الخ ماتن نے کہا جمعہ وعیدین کیلئے سنّت ہے الخ۔ (ت) کے بعد ہے وکذا الدخول المدینۃ ولحضور مجمع الناس الخ ۱؎ اسی طرح مدینہ میں داخل ہونے والے اور لوگوں کے مجمع میں حاضر ہونے کیلئے سنت ہے الخ۔( ت)

( ۱؎ ا لدر المختار     کتاب الطہارۃ     مکتبہ مجتبائی دہلی         ۱ /۳۲)

ان سب میں نماز کیلئے وسیلہ ہونا کہاں کہ جنابت نہیں۔

رابعا فـــ ۱: صرف وسیلہ ہی ہوکر مشروع ہوتا تو ایک بار کوئی فعل مقصود کرلینے کے بعد بھی تجدید مکروہ ہی رہتی کہ پہلا وضو جب تک باقی ہے وسیلہ باقی ہے تو دوبارہ کرنا تحصیل حاصل وبیکار واسراف ہے۔

فــ۱ تطفل رابعۃ علی الغنیۃ والقاری ۔

خامسا  : بلکہ ف۲ چاہئے تھا کہ شرع مطہر وضو میں تثلیث بھی مسنون نہ فرماتی کہ وسیلہ تو ایک بار دھونے سے حاصل ہوگیا اب دوبارہ سہ بارہ کس لئے۔

ف۲: تطفل خامس علیہما ۔

سادسا  : رزین فــ ۳نے عبداللہ فــ ۴ بن زید رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کی: ان رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ تعالی علیہ وسلم توضا مرتین مرتین وقال ھو نور علٰی نور ۲؎۔

یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو میں اعضائے کریمہ دو دوبار دھوئے اور فرمایا یہ نور پر نور ہے۔

(۲؎ مشکوٰۃ المصابیح     باب سنن الوضوء     الفصل الثالث     قدیمی کتب خانہ کراچی ص۴۷)

فــ ۳: تطفل سادس علیہما۔
فــ ۴: وضو پر وضو کے مسائل ۔

ایک ہی بار کے دھونے میں نور حاصل تھا پھر دوبارہ اور سہ بارہ نور پر نور لینا فضول نہ ہوا تو اس پر اور زیادت کیوں فضول ہوگی حالانکہ اُنہی رزین کی حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:

الوضوء علی الوضوء نور علٰی نور ۳؎ وضو پر وضو نور پر نور ہے۔ (ت)

(۳؎ کشف الخفاء     حدیث۲۸۹۷     دار الکتب العلمیہ بیروت     ۲ /۳۰۳)

سابعا: ابو داؤد وترمذی وابن ماجہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما سے راوی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: من توضا علی طھر کتب لہ عشر حسنات ۱؎۔

جو باوضو وضو کرے اس کیلئے دس نیکیاں لکھی جائیں ۔

(۱؎سنن ابی داؤد کتاب الطہارۃ با ب الرجل یجددا لوضومن غیر حدیث آفتاب عالم پریس لاہور ۱ /۹)
(سنن التررمذی ابواب الطہارۃ باب ماجاء فی الوضو لکل الصلوٰۃ حدیث ۵۹ دار الفکر بیروت۱ /۱۲۲و۱۲۳ )
(سنن ابن ماجہ ابواب الطہارۃ باب الوضو علی الطہارۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص ۳۹ )

مناوی نے تیسیر میں کہا: ای عشر وضوء ات ۲؎

یعنی دس بار وضو کرنے کا ثواب لکھا جائے۔

( ۲؎ التیسیر شرح الجامع الصغیر تحت الحدیث من توضأ علی طہر مکتبۃ الامام الشافعی ریاض ۲ /۴۱۱ )

ظاہر ہے کہ حدیثوں میں فصل نماز وغیرہ کی قید نہیں تو مشایخ کرام کا اتفاق اور حدیث کریم کا اطلاق دونوں متوافق ہیں اسی بنا پر سیدی عارف باللہ علّامہ عبدالغنی نابلسی رحمہ اللہ تعالٰی نے یہاں محقق حلبی کا خلاف فرمایا،ردالمحتار میں ہے :

لکن ذکر سیدی عبدالغنی النابلسی ان المفہوم من اطلاق الحدیث مشروعیتہ ولو بلا فصل بصلاۃ اومجلس اخرو لااسراف فیما ھو مشروع اما لوکررہ ثالثا او رابعا فیشترط لمشروعیتہ الفصل بما ذکروا لاکان اسرافا محضا اھ فتامل ۳؎اھ۔

سیدی عبدالغنی النابلسی نے فرمایا کہ حدیث کے اطلاق کا مفہوم تو یہ ہے کہ یہ مشروع ہے خواہ اس کے درمیان کسی نماز یا کسی مجلس سے فصل نہ ہواور جو چیز مشروع ہو اس میں اسراف نہیں ہوتا، لیکن اگر تیسری چوتھی مرتبہ کیا تو اُس کی مشروعیت کیلئے اُن چیزوں سے فصل ضروری ہے جن کا ذکر کیا گیا ہے ور نہ تو محض اسراف ہوگا اھ تو تا مل کرو اھ۔ (ت)

( ۳؎ ردا لمحتار     کتاب الطہارۃ     دار احیاء التراث العربی بیروت         ۱ /۸۱)

اقول : لکن فــ اطلاق الحدیثین یشمل الثالث والرابع ایضا وایضا اذالم یکن اسرافا فی الثانی لم یکن فی الثالث والرابع وکان المولی النابلسی قدس سرہ القدسی نظر الی لفظ الوضوء علی الوضوء فھما وضواٰن فحسب وکذلک من توضأ علی طھر۔

اقول : لیکن دونوں حدیثوں کا اطلاق تو تیسری اور چوتھی بار کو بھی شامل ہے اور یہ بھی ہے کہ جب دوسری بار میں اسراف نہ ہوا تو تیسری چوتھی بار میں بھی نہ ہوگا ، شاید علامہ نابلسی قدس سرہ کی نظر لفظ وضو علی الوضوء پر ہے کہ یہ صرف دو وضو ہوتے ہیں اور یہی حال اس کا ہے جس نے وضو ہوتے ہوئے وضو کیا ۔

ف :تطفل علی المولی النابلسی ۔

اقول : ووھنہ لایخفی فقولہ تعالی وھنا علی وھن ۱؎ لایدل ان ھناک وھنین فقط وکان الشامی الی ھذا اشار بقولہ تأمل وسیاتی ماخذ کلام العارف مع الکلام علیہ قریبا ان شاء اللّٰہ تعالٰی۔

اقول اس خیال کی کمزوری مخفی نہیں،دیکھیے ارشاد باری تعالٰی وھن علی وھن (کمزوری پر کمزوری ) یہ نہیں بتاتا کہ وہاں صرف دو ہی کمزوریاں ہیں شاید شامی نے لفظ '' تأمل '' سے اسی کی طرف اشارہ کیا ہے تأمل کرو اور علامہ شامی نے سیدی العارف کے کلام کا جو حصہ ذکر نہیں کیا وہ آ گے ان شاء اللہ تعالٰی اس پر کلام کے ساتھ جلدی آئے گا۔ (ت)

        (۱ ؎القرآن الکریم     ۳۱ /۱۴)

اقول : اس خیال کی کمزوری مخفی نہیں،دیکھیے ارشاد باری تعالٰی وھن علی وھن (کمزوری پر کمزوری ) یہ نہیں بتاتا کہ وہاں صرف دو ہی کمزوریاں ہیں شاید شامی نے لفظ '' تأمل '' سے اسی کی طرف اشارہ کیا ہے تأمل کرو اور علامہ شامی نے سیدی العارف کے کلام کا جو حصہ ذکر نہیں کیا وہ آ گے ان شاء اللہ تعالٰی اس پر کلام کے ساتھ جلدی آئے گا۔ (ت)

        (۱ ؎القرآن الکریم     ۳۱ /۱۴)

ثامنا اقول فــ۱  : حل یہ ہے کہ جو وضو فرض ہے وہ وسیلہ ہے کہ شرط صحت یا جواز ہے اور شروط وسائل ہوتے ہیں مگر جو وضو مستحب فــ ۲ ہے وہ صرف ترتبِ ثواب کیلئے مقرر فرمایا جاتا ہے تو قصد ذاتی سے خالی نہیں اگرچہ اُس سے عمل مستحب فیہ میں حُسن بڑھے کہ مستحب فــ ۳ کی یہی شان ہے کہ وہ اکمال سنن کیلئے ہوتا ہے اور سنن اکمال واجب اور واجب اکمال فرض۔

فــ ! تطفل سابعا علی الغنیۃ والقاری ۔
فــ ۲:مصنف کی تحقیق کہ جو وضو یا غسل مستحب ہے وہ وسیلہ محضہ نہیں خود بھی مخصوص ہے ۔
فــ ۳: مستحب سنت کی تکمیل ہے سنت واجب کی واجب فرض کی فرض ایمان کی ۔

اقول  : اور فرض اکمال ایمان کیلئے اس سے اُن کا غیر مقصود ہونا لازم نہیں آتا۔ خلاصہ وبزازیہ وخزانۃ المفتین میں ہے:الواجبات اکمال الفرائض والسنن اکمال الواجبات والاداب اکمال السنن ۱؎۔

واجبات فرائض کا تکملہ ہیں اور سنتیں واجبات کا تکملہ اورآداب سنتوں کا تکملہ ۔ (ت)

 (۱؎ خلاصۃ الفتاوٰی کتاب الصلوٰۃ     الفصل الثانی واجبات الصلوٰۃ عشرۃ     مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ     ۱ /۵۱)
(خزانۃ المفتین     فرائض الصلوٰۃ وواجباتہا     قلمی (فوٹو )    ۱ /۲۶)

درمختار باب ادر اک الفریضہ میں ہے:یأتی بالسنۃ مطلقا ولو صلی منفرداعلی الاصح لکونھا مکملات ۲؎۔

سنّت کی ادائیگی کا حکم مطلقاً ہے اگر چہ تنہا نماز پڑھے یہی اصح ہے اس لئے کہ (فرائض وواجبات ) کی تکمیل کرنے والی ہیں۔(ت)

(۲؎ الدر المختار        ادراک الفریضۃ     مطبع مجتبائی دہلی    ۱ /۱۰۰)

اُسی کی بحث تراویح میں ہے: ھی عشرون رکعۃ حکمۃ مساواۃ المکمل للمکمل ۳؎

تراویح کی بیس رکعتیں ہیں اس میں حکمت یہ ہے کہ مکمل، مکمل کے برابر ہوجائے۔(ت)

(۳؎ الدرالمختار         کتا ب الصلوٰۃ     باب الوتر والنوافل     مطبع مجتبائی دہلی     ۱ /۹۸)

ولہذا ہمارے ائمہ تصریح فرماتے ہیں کہ وضوئے بے نیت پر ثواب نہیں۔
بحرالرائق میں ہے:

اعلم ان النیۃ لیست شرطافی کون الوضوء مفتاحا للصلاۃ قیدنا بقولنا فی کونہ مفتاحا لانھا شرط فی کونہ سببا للثواب علی الاصح ۴؎۔

واضح ہو کہ وضو کے کلید نماز بننے میں نیت شرط نہیں کلید نماز بننے کی قید ہم نے اس لئے لگائی کہ وضو کے سبب ثواب بننے میں بر قول اصح نیت ضرور شرط ہے۔(ت)

(۴؎ البحرالرائق    کتاب الصلوٰۃ باب الوتر والنوافل     ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۱ /۲۴)

اور مستحب پر ثواب ہے تو وضوئے فـــ۱ مستحب محتاج نیت ہوا اور وسائل محضہ محتاج نیت نہیں ہوتے۔

فــ ۱: وضوئے مستحب بے نیت ادا نہ ہوگا ۔

فتح القدیر وبحرالرائق میں ہے: اذالم ینو حتی لم یقع عبادۃ سببا للثواب فھل یقع الشرط المعتبر للصلاۃ حتی تصح بہ اولا قلنا نعم لان الشرط مقصود التحصیل لغیرہ لالذاتہ فکیف حصل حصل المقصود وصار کستر العورۃ باقی شروط الصلاۃ لایفتقر اعتبارھا الی ان تنوی.۱؎۔

بے نیت وضو کر لیا جس کے باعث وہ عبادت سبب ثواب نہ بن سکا تو کیا اس (بے نیت وضو ) سے نماز صحیح ہوجائے گی اور یہ اس وضوکی جگہ ہو جائے گی جس کی شرط نماز میں رکھی گئی ہے ہم جواب دیں گے ہاں اس لئے کہ شرط دوسری چیز کو بروئے کار لانے کے لئے مقصود ہے بذات خود مقصود نہیں تو یہ جیسے بھی حاصل ہومقصود حاصل ہوجائے گا جیسے ستر عورت اور باقی شرائط نماز ہیں کہ ان کے قابل اعتبار ہونے کے لئے ان میں نیت ہونے کی ضرورت نہیں ۔(ت)

(۱؎ البحرالرائق    کتاب الطہارۃ     ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۱ /۲۵و۲۶)

تو ثابت ہوا کہ وضوئے مستحب وسیلہ نہیں وھو المقصود والحمدللّٰہ الودود۔

تاسعا: محقق حلبی کا یہ استناد کہ اکیلا فــ ۱سجدہ (یعنی سجدہ تلاوت وسجدہ شکر کے سوا محض سجدہ بے سبب) جبکہ عبادت مقصودہ نہ تھا تو علماء نے اُس پر حکم کراہت دیا تو وضوئے جدید کی کراہت بدرجہ اولٰی۔

فــ ۱: سجدہ بے سبب کا حکم ۔

اقول : خود محقق فـ ۲رحمہ اللہ نے آخر غنیہ میں سجدہ نماز وسہو وتلاوت ونذر وشکر پانچ سجدے ذکر کرکے فرمایا: اما بغیر سبب فلیس بقربۃ ولامکروہ ۲؎ نقلہ عن المجتبی مقرا علیہ ونقلہ عن الغنیۃ فی ردالمحتار ایضا واقر ھذا ھھنا واعتمد ذاک ثمہ الا ان یحمل ماھنا علی کراھۃ التنزیہ وما ثم علی نفی المأ ثم ای کراھۃ التحریم فیتوافقان لکن یحتاج الحکم بکراھتہ ولو تنزیہا الی دلیل یفیدہ شرعا کما تقدم وھو لم یستند ھھناا لی نقل فاللّٰہ تعالی اعلم۔

یعنی سجدہ بے سبب میں نہ ثواب نہ کراہت۔ غنیہ میں اسے مجتبٰی سے نقل کر کے برقرار رکھا، اور غنیہ سے اسے ردالمحتار میں بھی نقل کیا اور وضو علی الوضو کے بیان میں غنیہ کے قول (سجدہ بے سبب کی کراہت ) کوبرقرار رکھااور آخر باب سجدہ تلاوت میں سجدہ بے سبب کے غیر مکروہ ہونے پر اعتماد کیا مگر تطبیق یوں ہوسکتی ہے یہاں جو کراہت مذکور ہے وہ کراہت تنزیہیہ پر محمول ہو اور وہاں جو نفی کراہت ہے وہ نفی گناہ یعنی کراہت تحریم کی نفی پرمحمول ہو لیکن کراہت کا حکم کرنے کے لئے اگر چہ کراہت تنزیہیہ ہی ہو اس دلیل کی حاجت ہے جو شرعا اس کی کراہت بتاتی ہو جیسا کہ یہ قاعدہ ذکر ہوا اور یہاں انہوں نے کسی نقل سے استناد نہ کیا اور خدائے بر تر ہی کو خوب علم ہے ۔ (ت)

فــ ۲ تطفل ثامن علیہما ۔

(۲؎ غنیۃ المستملی    فصل مسائل شتی    سہیل اکیڈمی لاہور    ص۶۱۶و۶۱۷)

عاشرا :وباللہ ف التوفیق سجدہ سب سے زیادہ خاص حاضری دربار ملک الملوک عزجلالہ ہے۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: اقرب مایکون العبد من ربہ وھو ساجد فاکثروا الدعاء رواہ مسلم وابو داؤد۱؎ والنسائی عن ابی ھریرۃ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ ۔

سب حالتوں سے زیادہ سجدہ میں بندہ اپنے رب سے قریب ہوتا ہے تو اس میں دعا بکثرت کرو (اسے مسلم ،ابو داؤد اور نسائی نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کیا )

فــ: تطفل تاسع علیہا۔

( ۱؎ صحیح مسلم کتاب الصلوٰۃ باب ما یقال فی الرکوع والسجود قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۱۹۱)
(سنن ابی داؤد کتاب الصلوٰۃ باب الدعاء فی الرکوع والسجود آفتاب عالم پریس لاہور ۱ /۱۲۷)
(سنن النسائی کتاب افتتاح الصلوۃ باب اقرب ما یکون العبد من اللہ نور محمدکارخانہ تجارت کتب کراچی ۱ /۱۷۰و۱۷۱)

اور دربار شاہی میں بے اذن حاضری جرأت ہے اور سجدہ بے سبب کے لئے اذن معلوم نہیں ،ولہٰذا شافعیہ کے نزدیک حرام ہے کما صرح بہ الامام الا ردبیلی الشافعی فی الانوار جیسا کہ امام اردبیلی شافعی نے انوار میں تصریحات کی۔ ت) اس بناء پر اگر سجدہ بے سبب مکروہ ہو تو وضو کا اُس پر قیاس محض بلا جامع ہے۔
رہا علامہ شامی کا اُس کی تائید میں فرمانا کہ ہدیہ ابن عماد میں ہے: قال فی شرح المصابیح انما یستحب الوضوء اذا صلی بالوضوء الاول صلٰوۃ کذا فی الشرعۃ والقنیۃ اھ وکذا ماقالہ المناوی فی شرح الجامع الصغیرعندحدیث من توضأ علی طھران المراد الوضوء الذی صلی بہ فرضا او نفلا کما بینہ فعل راوی الخبر ابن عمر رضی اللّٰہ تعالٰی عنہما فمن لم یصل بہ شیا لایسن لہ تجدیدہ اھ ومقتضی ھذا کراھتہ وان تبدل المجلس مالم یؤدبہ صلاۃ اونحوھا ۱؎ اھ

( ۱؎ ردا لمحتار     کتاب الطہارۃ     دار احیاء التراث العربی بیروت         ۱ /۸۱)

اقول : شرعۃ الاسلام میں اس کا پتا نہیں ،اس میں صرف اس قدر ہے: التطھر لکل صلاۃ سنۃ النبی علیہ الصلاۃ والسلام ۲؎۔

ہر نماز کے لئے وضو کرنا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنّت ہے۔ (ت)

( ۲؎ شرعۃ الاسلام مع شرح مصابیح الجنا ن فصل فی تفضیل سنن الطہارۃ مکتبہ اسلامیہ کوئٹہ ص۸۳)

ہاں سید علی زادہ نے اُس کی شرح میں مضمون مذکور شرح مصابیح سے نقل کیا اور اُس سے پہلے صاف تعمیم کا حکم دیا، حیث قال فالمؤمن ینبغی ان یجدد الوضوء فی کل وقت وان کان علی طہر قال صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم من توضأ علی طھر کتب لہ عشر حسنات وقال فی شرح المصابیح تجدید الوضوء فی کل وقت انما یستجب اذا صلی بالوضوء الاول صلاۃ والا فلا ۱؎ اھ

ان کے الفاظ یہ ہیں : تومومن کو چاہیے کہ ہر وقت تازہ وضو کرے اگرچہ باوضو رہا ہو،حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کا ارشاد ہے جس نے باوضو ہوتے ہوئے وضو کیا اس کے لئے دس نیکیاں لکھی جائیں گی ۔۔۔اورشرح مصابیح میں کہا کہ ہر وقت تجدید وضو مستحب ہونے کی شرط یہ ہے کہ پہلے وضو سے کوئی نماز ادا کر لی ہو ،ورنہ نہیں ۔

( ۱؎ مفاتیح الجنان شرح شرعۃ الاسلام     فصل فی تفضیل سنن الطہارۃ     مکتبہ اسلامیہ کوئٹہ ص۸۳)

قلت وبہ ظھر ان قولہ کذا فی الشرعۃ ای شرحہا اشارۃ الی قولہ قال فی شرح المصابیح لاداخل تحت قال۔

قلت اسی سے ظاہر ہوا کہ ابن عماد کی عبارت ''کذافی الشرعۃ ۔۔۔۔ایساہی شرعۃ الاسلام یعنی اسکی شرح میں ہے '' کا اشارہ ان کی عبارت''قال فی شرح المصابیح '' (شرح مصابیح میں کہا ) کی طرف  ہے ۔ یہ شرح مصابیح کے کلام میں شامل نہیں (ت)

بہرحال اولا : قنیہ کا فــ ۱ حال ضعف معلوم ہے اور شرح شرعہ بھی مبسوط ونہایہ وعنایہ ومعراج الدرایہ وکافی وفتح القدیر وحلیہ وسراج وخلاصہ وناطفی میں کسی کے معارض نہیں ہوسکتی نہ کہ اُن کا اور اُن کے ساتھ اور کتب کثیرہ سب کے مجموع کا معارضہ کرے۔ پھر اعتبار منقول عنہ کا ہے اور شرح فــ۲ مصابیح شروح حدیث سے ہے معتمدات فقہ کا مقابلہ نہ کرے گی نہ کہ مسئلہ اتفاق

فــ ۱: معروضۃ علی العلامۃ ش۔
فــ ۲:کتب شروح حدیث میں جو مسئلہ کتب فقہ کے خلاف ہو معتبر نہیں ۔

علامہ مصطفی رحمتی نے شرح مشارق ابن ملک کے نص صریح کو اسی بنا پر رد کیا اور اُسے اطلاقات کتب مذہب کے مقابل معارضہ کے قابل نہ مانا اور خود علامہ شامی نے اُسے نقل کرکے مقرر فرمایا۔ حیث قال علی قولہ لکن فی شرح المشارق لابن ملک لو وطئہا وھی نائمۃ لایحلہا للاول لعدم ذوق العسیلۃ فیہ ان ھذا الکتاب لیس موضوعا لنقل المذھب واطلاق المتون والشروح یردہ وذوق العسیلۃ للنائمۃ موجود حکما الا یری ان النائم اذا وجد البلل یجب علیہ الغسل وکذا المغمی علیہ ۱؎ الخ

تفصیل یہ ہے کہ درمختار میں لکھا لیکن ابن ملک کی شرح المشارق میں ہے کہ اگر عورت سو رہی تھی اور اس سے وطی کی تو شوہر اول کے لئے حلال نہ ہوگی اس لئے کہ اس کے حق میں ذوق عسیلہ (مر دکے چھتے کا مزہ پانے) کی شرط نہ پائی گئی اس پر علامہ رحمتی نے یہ اعتراض کیا:اس میں خامی یہ ہے کہ کتاب نقل مذہب کے لئے نہ لکھی گئی اور متون وشروح کے اطلاق سے اس کی تردید ہوتی ہے۔ اور سونے والی کے لئے بھی مزہ پانے کی شرط حکما موجود ہے کیا دیکھا نہیں کہ سونے والا تری پائے تواس پر غسل واجب ہوجاتاہے اسی طرح وہ بھی جو بے ہوش رہا ہو ۔(ت)

( ۱ ؎ردا لمحتار     کتاب الطلاق     باب الرجعۃ     دار احیاء التراث العربی بیروت ۲/ ۵۴۰)

ثانیا : علامہ مناوی فــ۱ شافعی ہیں فقہ میں اُن کا کلام نصوص فقہ حنفی کے خلاف کیا قابل ذکر۔

فـــ ۱:معروضۃ اخری علیہ۔

ثالثا فـــ۲ : وہی مناوی اسی جامع صغیر کی شرح تیسیر میں کہ شرح کبیر کی تلخیص ہے اسی حدیث کے نیچے فرماتے ہیں

فتجدید الوضوء سنۃ مؤکدۃ اذا صلی بالاول صلاۃ مّا ۲؎۔

توتجدید وضوء سنّتِ مؤکدہ ہے جب پہلے وضو سے کوئی بھی نماز اداکر چکا ہو۔( ت)

فـــ۲ :معروضۃ ثالثۃ علیہ۔

(۲؎التیسیر شرح الجامع الصغیر تحت الحدیث من توضاء علی طہر مکتبہ الامام الشافعی ریاض۲ /۴۱۱ )

معلوم ہوا کہ لایسن سے اُن کی مراد نفی سنت مؤکدہ ہے

وصاحب الدار   اَدرٰی (اور صاحبِ خانہ کو زیادہ علم ہوتا ہے۔ت) اور اُس کی نفی مقتضی کراہت نہیں کمالایخفی (جیساکہ پوشیدہ نہیں۔ت)

وجہ دوم  :

ایک جلسہ فــ۱ میں وضو کی تکرار مکروہ ہے۔ سراج وہاج میں اسے اسراف کہا تو قبل تبدل مجلس وضو علی الوضوء کی نیت کیونکر کرسکتا ہے۔ یہ شبہہ بحرالرائق کا ہے کہ اسی عبارت خلاصہ پر وارد فرمایا۔

فــ۱ :مسئلہ بعض نے فرمایا ایک جلسہ میں دوبار وضومکروہ ہے۔ بعض نے فرمایا دوبارتک مستحب اس سے زائدمکروہ ہے اور مصنف کی تحقیق کہ احادیث وکلمات ائمہ مطلق ہیں اور تحدیدوں کا ثبوت ظاہر نہیں ۔

اقول : جس مسئلہ پر عبارت فــ۲ سراج سے اعتراض فرمایا وہ خود سراج کا بھی مسئلہ ہے۔

ہندیہ میں ہے : لوزاد علی الثلث لطمانینۃ القلب عند الشک اوبنیۃ وضوء اخر فلا باس بہ ھکذا فی النھایۃ والسراج الوھاج ۱؎۔

شک ہونے کے وقت اطمینانِ قلب کیلئے یا دوسرے وضو کی نیت سے دھویا تو کوئی حرج نہیں ایساہی نہایہ اور سراج وہاج میں ہے ۔(ت)

فـــ۲ :تطفل علی البحر۔

( ۱؎الفتاوی الہندیہ کتاب الطہارۃ الباب الاول الفصل الثانی نورانی کتب خانہ پشاور۱ /۷ )

کیا کلام سراج خود اپنے مناقض ہے اور اگر ہے تو اُن کا وہ کلام احق بالقبول ہوگا جو عامہ اکابر فحول کے موافق ہے یاوہ کہ اُن سب کے اور خود اپنے بھی مخالف ہے۔ لاجرم صاحب بحر کے برادر وتلمیذ نے نہرالفائق میں ظاہر کردیا کہ سراج نے ایک مجلس میں چند بار وضو کو مکروہ کہا ہے دوبار میں حرج نہیں تو اعتراض نہ رہا۔ سراج وہاج کی عبارت یہ ہے: لو تکرر الوضوء فی مجلس واحد مرارا لم یستحب بل یکرہ لما فیہ من الاسراف ۲؎ اھ وھذا ھو ماخذ ماقدمنا عن المولی النابلسی رحمہ اللّٰہ تعالٰی۔

اگر وضو ایک مجلس میں چند بار مکرر ہو تو مستحب نہیں بلکہ مکروہ ہے کیونکہ اس میں اسراف ہے اھ یہی اس کلام کا ماخذ ہے جو ہم نے علامہ نابلسی رحمہ اللہ کے حوالہ سے پیش کیا۔ (ت)

( ۲ ؎ردا لمحتار     کتاب الطہارۃ          دار احیاء التراث العربی بیروت ۱ /۸۱)

اقول وباللہ التوفیق فــ ۱: وضوئے جدید میں کوئی غرض صحیح مقبول شرع ہے یا نہیں ،اور اگر نہیں تو واجب کہ مطلقا تجدید مکروہ وممنوع ہو اگرچہ ایک ہی بار اگرچہ مجلس بدل کر اگرچہ ایک نماز پڑھ کرکہ بیکار بہانا ہی اسراف ہے اور اسراف ناجائز ہے ، اور اگر غرض صحیح ہے مثلاً زیادت نظافت تو وہ غرض زیادت قبول کرتی ہے یا نہیں، اگر نہیں تو ایک ہی بار کی اجازت چاہئے اگرچہ مجلس بدل جائے کہ تبدیل مجلس نامتزاید نہ کردے گا وہ کونسی غرض شرعی ہے کہ ایک جگہ بیٹھے بیٹھے تو قابل زیادت نہیں اور وہاں سے اُٹھ کر ایک قدم ہٹ کر بیٹھ جائے تو از سرنو زیادت پائے، اور اگر ہاں تو کیا وجہ ہے کہ مجلس میں دوبارہ تکرار کی اجازت نہ ہو بالجملہ جگہ بدلنے کو اسباب میں کوئی دخل نظر نہیں آتا تو قدم قدم ہٹ کر سوبار تکرار کی اجازت اور بے ہٹے ایک بار سے زیادہ کی ممانعت کوئی وجہ نہیں رکھتی۔ احادیث بے شک مطلق ہیں اور ہمارے ائمہ کا متفق علیہ مسئلہ بھی یقینا مطلق اور ایک اور متعدد کا تفرقہ ناموجَّہ واللہ سبحنہ وتعالٰی اعلم۔

فــ :تطفل علی سراج الوہاج والنہر والبحر ۔

واشار فی الدر الی الجواب بوجہ اخر فقال لعل کراھۃ تکرارہ فی مجلس تنزیہیۃ ۱؎ اھ ای فلا یخالف قولھم لو زاد بنیۃ وضوء اخر فلا باس بہ لان الکلمۃ غالب استعمالھا فی کراھۃ التنزیہ۔

در مختار میں ایک دوسرے طریقے پر جواب کی طرف اشارہ کیا اس کے الفاظ یہ ہیں شاید ایک مجلس کے اندر تکرار وضو کی کراہت تنزیہی ہو اھ مطلب یہ ہے کہ یہ مان لینے سے ان کے اس قول کی مخالفت نہ ہوگی کہ '' اگر وضو کی نیت سے زیادتی کی تو کوئی حرج نہیں( فلا بأس بہ ) اس لئے کہ یہ کلمہ زیادہ تر کراہت تنزیہیہ میں استعمال ہوتا ہے

( ۱؎ الدرالمختار    کتاب الطہارت    مطبع مجتبائی دہلی    ۱ /۲۲)

اقول : ویبتنی علی مااختارہ ان الاسراف مکروہ تحریما لان المستثنی اذا ثبت فیہ کراھۃ التنزیہ  فلولم تکن فی المستثنی منہ الاھی لم یصح الثنیا ۔

اقول : اس جواب کی بنیاد اس پر ہے جو صاحب در مختار نے اختیار کیا کہ اسراف مکروہ تحریمی ہے اس لئے کہ مستثنٰی میں جب کراہت تنزیہیہ ثابت ہوئی تو اگرمستثنی منہ میں بھی یہی کراہت رہی ہو تو استثنا ء درست نہ ہو ا۔ فان قلت معھا مسألۃ الزیادۃ للطمانینۃ عند الشک وقد حکموا علیہما بحکم واحد وھو لاباس بہ وھذہ الزیادۃ مطلوبۃ قطعا لقولہ صلی اللّٰہ تعالی علیہ وسلم دع مایریبک ۱؎ فکیف یحمل علی کراھۃ التنزیہ۔

اگر یہ سوال ہو کہ اس کے ساتھ بوقت شک اطمینان کے لئے زیادتی کا مسئلہ بھی توہے اوردونوں پر ایک ہی حکم لگایا گیا ہے کہ لا بأس بہ (اس میں حرج نہیں )حالانکہ کہ یہ زیادتی تو قطعا مطلوب ہے اس لئے کہ سرکار اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کا ارشاد ہے شک کی حالت چھوڑ کروہ اختیار کرو جو شک سے خالی ہو تو اسے کراہت تنزیہ پر کیسے محمول کریں گے ۔

(۱؎ صحیح البخاری کتاب البیوع باب التفسیر المشتبہات قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۲۷۵)

قلت المعنی لایمنع شرعا فیشمل المکروہ تنزیھا والمستحب ھذا وردہ فی ردالمحتار اخذا من ط بانھم عللوہ بانہ نور علی نور قال وفیہ اشارۃ الی ان ذالک مندوب فکلمۃفــ لاباس وان کان الغالب استعمالہا فیما ترکہ اولی لکنھا قد تستعمل فی المندوب کما فی البحر من الجنائز والجھاد ۱؎ اھ

    قلت میں کہوں گا(لابأس بہ) کامعنی یہ ہوگا کہ شرعاً ممنوع نہیں تویہ مکروہ تنزیہی اورمستحب دونوں کوشامل ہوگا یہ بات توہوگئی مگر ردالمحتار میں طحطاوی سے اخذ کرتے ہوئے درمختار کے جواب کی یہ تردید کی ہے کہ علماء نے اس کی علّت یہ بتائی ہے کہ وہ نور علٰی نو ر ہے۔ فرمایا: اس تعلیل میں اس کا اشارہ ہے کہ وہ مندوب ہے تولفظ ''لاباس'' اگرچہ زیادہ تر اس میں استعمال ہوتا ہے جس کاترک اولٰی ہے لیکن بعض اوقات مندوب میں بھی استعمال ہوتاہے جیسا کہ البحرالرائق کے بیان جنائز وجہاد میں ہے اھ۔(ت)

ف: کلمۃ لا بأس لما ترکوہ اولٰی وقد تستعمل فی المندوب ۔

(۲؎ردالمحتار     کتاب الطہارۃ    دار احیاء التراث العربی بیروت     ۱ /۸۱)

اقول :  الندب ف۱ لاینافی ف۲ فی الکراھۃ فلا یبعد ان یکون مندوبا فی نفسہ لما فیہ من الفضیلۃ لکن ترکہ فی مجلس واحد اولی قال فی الحلیۃ النفل لاینافی عدم الاولویۃ ۱؎ اھ ذکرہ فی صفۃالصّلوٰۃ مسألۃ القراء ۃ فی الاٰخریین وقال السید ط فی حواشی المراقی الکراھۃ لاتنافی الثواب افادہ العلامۃ نوح۲؎ اھ قالہ فی فصل الاحق بالامامۃ مسألۃ الاقتداء بالمخالف۔ نعم یرد علیہ ماذکرنا ان لااثر للمجلس فیما ھنا واللّٰہ تعالٰی اعلم۔

اقول : ندب کراہت کے منافی نہیں توبعید نہیں کہ بربنائے فضیلت فی نفسہ مندوب ہولیکن ایک مجلس میں اس کاترک اولٰی ہو۔ حلیہ میں لکھا ہے کہ نفل خلافِ اولٰی ہونے کے منافی نہیں اھ

اسے صفۃ الصلوٰۃ کے تحت بعد والی دونوں رکعتوں میں قرأت کے مسئلہ میں ذکرکیاہے اور سید طحطاوی نے حواشی مراقی میں لکھا ہے کہ کراہت ثواب کے منافی نہیں علامہ نوح نے اس کا افادہ کیااھ۔ یہ انہوں نے فصل احق بالامامۃ میں اقتدائے مخالف کے مسئلہ میں ذکرکیاہے۔ہاں اس پر وہ اعتراض وارد ہوگا جوہم نے بیان کیاکہ'' جگہ بدلنے کو اس باب میں کوئی دخل نہیں''۔ واللہ تعالٰی اعلم ۔(ت)

فـــ۱معروضۃ علی العلامۃ ش ۔
فـــ۲ الندب لا ینافی الکراھۃ۔

( ۱؎ حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی)
(۲؎حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح کتاب الصلوٰۃ فصل فی بیان الاحق بالامامۃ دار الکتب العلمیہ بیروت ص۳۰۴ )

وجہ سوم :

 یہ سب کچھ سہی پھر تجدید وضو تو بعد تکمیل وضوئے اول ہو اثنائے وضو میں تجدید کیسی۔ یہ اعتراض علامہ علی قاری کا ہے کہ مرقاۃ موضع مذکور میں اصل مسئلہ دائرہ یعنی بہ نیت وضو علی الوضو تین بار سے زیادہ اعضا ء دھونے پر ایراد کیا۔

والی ھذا اشارط اذقال علی قول الدر لقصد الوضوء علی الوضوء ظاھرہ ان نیۃ وضوء اخر متحققۃ فی الغرفۃ الرابعۃ اوالخامسۃ ولا کراھۃ والحدیث یدل علی غیر ھذا ۱؎ اھ

اور اسی اعتراض کی طرف سید طحاوی نے اشارہ کیا،اس طرح کہ درمختار کی عبارت لقصد الوضوء علی الوضوء پر لکھا:اس کا ظاہر یہ ہے کہ چوتھے یا پانچویں چلّومیں دوسرے وضو کی نیت متحقق ہوجاتی اور کوئی کراہت نہیں ---------مگر حدیث کچھ اور بتارہی ہے اھ۔

قلت وکانہ الی ھذا نظر العلامۃ فـــ البحر فزاد علی خلاف سائر المعتمدات قید الفراغ من الاول وعزاہ لاکثر شروح الھدایۃ مع عدمہ فیھا ظنا منہ رحمہ اللّٰہ تعالی انہ ھو المحمل المتعین لکلامھم فقال وعلی الاقوال کلھا لوزاد لطمانینۃ القلب عند الشک اوبنیۃ وضوء اخر بعد الفراغ من الاول فلا باس بہ لانہ نور علی نور وکذا ان نقص لحاجۃ لاباس بہ کذا فی المبسوط واکثر شروح الھدایۃ ۲؎ اھ

قلت شاید علامہ بحر نے اسی طرف نظر کرتے ہوئے تمام کتب معتمدہ کے برخلاف''وضوئے اول سے فارغ ہونے'' کی قید کا اضافہ کردیااوراسے اکثر شروحِ ہدایہ کی جانب منسوب کیا، جبکہ ان میں یہ بات نہیں ۔ صاحبِ بحر رحمہ اللہ تعالٰی کا خیال ہے کہ ان شارحین کے کلام کا یہی مطلب متعین ہے۔ بحر کے الفاظ یہ ہیں:اورتمام اقوال پر اگر شک کی حالت میں اطمینا ن قلب کے لئے زیادہ کیا یا'' پہلے وضو سے فارغ ہونے کے بعد'' دوسرے وضو کی نیت سے زیادہ کیاتو کوئی حرج نہیں اس لئے یہ نور علٰی نور ہے۔ یوں ہی اگر کسی حاجت کی وجہ سے کمی کی توکوئی حرج نہیں، ایساہی مبسوط اور اکثر شروحِ ہدایہ میں ہے اھ۔

( ۱؎ حاشیہ الطحطاوی علی الدر المختار     کتاب الطہارۃ      المکتبۃ العربیۃ کوئٹہ         ۱ /۷۲)
(۲؎ البحرالرائق        کتاب الطہارۃ         ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۱ /۲۳)

ثم بعد ھذا الحمل البعید من کلامھم کل البعد تکلم فیہ باتحاد المجلس کما تقدم قال الا ان یحمل علی ما اذا اختلف المجلس وھو بعید کمالا یخفی ۳؎ اھ

پھر ان حضرات کے کلام سے یہ بالکل ہی بعید مطلب لینے کے بعداس پراتحادمجلس سے کلام کیاجوگزرا، آگے فرمایا: مگر یہ کہ مجلس بدل جانے کی صورت پرمحمول ہو، اور وہ بعید ہے جیسا کہ مخفی نہیں اھ۔

 (۳؎ البحرالرائق        کتاب الطہارۃ         ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۱ /۲۳)

اقول رحمک ف۱ اللّٰہ ورحمنا بک اولیس ماحملتم علیہ بعیدا فاین الزیادۃ علی الثلث فی الغسلات من التجدید بعد انھا الوضوء الاول۔

اقول آپ پرخدا کی رحمت ہواورآپ کے طفیل ہم پر بھی رحمت ہو۔کیاآپ نے جو مطلب لیاوہ بعید نہیں؟ کہاں دورانِ وضو کسی عضو کوتین بارسے زیادہ دھونا اورکہاں پہلا وضو پورا کرنے کے بعد تازہ وضو کرنا(ان کے کلام میں وہ تھا اورآپ نے اس کامعنٰی یہ لیا دونوں میں کیا نسبت؟)
یہ اعتراض ضرور محتاج توجہ ہے۔

فــ ۱: تطفل رابع علیہ ۔

وانا اقول وباللّٰہ استعین فــ ۲ (میں کہتا ہوں اللہ تعالٰی کی مدد کے ساتھ۔ت) شے کے فــ۳ اسباب وشروط ہوں یا احکام وآثار اُس کا ذکر اگرچہ مطلق ہو اُن سب کی طرف اشعار کہ مسبب ومشروط کا وجود بے سبب وشرط نہ ہوگا۔

ان عقلیا فعقلیا اوشرعیا فشرعیا کصلاۃ الظہر قبل الزوال او بدون نیۃ ۔

اگر وہ امر عقلی ہے تو اس کا وجود عقلی اور اگرشرعی ہے تووجودشرعی بے سبب وشرط نہ ہوگا جیسے قبل زوال یابے نیت، نماز ظہر کا وجود شرعی نہیں ہوسکتا(اول فقدان سبب کی مثال ہے دوم فقدان شرط کی ۱۲م)۔

نہ شے اپنے احکام وآثار سے خالی ہوگی کہ یہ دونوں فریق دو طرف تقدم وتاخر ذاتی میں لوازم وجود شے ہیں والشیئ اذا ثبت ثبت بلوازمہ  (اگر کچھ ثابت ہوگا تو تمام لوازم کے ساتھ ثابت ہوگا۔ ت) تبیین الحقائق مسئلہ ذکاۃ الجنین میں ہے: ای اذبحوہ وکلوہ وھذا مثل مایروی انہ صلی اللّٰہ تعالی علیہ وسلم اذن فی اکل لحم الخیل ای اذا اذبح لان الشیئ اذا عرف شروطہ وذکر مطلقا ینصرف الیھا کقولہ تعالٰی اقم الصلاۃ ای بشروطھا ۱؎۔

یعنی اسے ذبح کرلوتب کھاؤ اور یہ اسی کے مثل ہے جو مروی ہے کہ حضورصلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے گھوڑوں کے گوشت کھانے کی اجازت دی یعنی جب ذبح کرلئے جائیں۔اس لئے کہ کسی شے کی شرطیں جب معروف ہوں اور ا س کومطلقاً ذکرکردیاجائے تواس کا ان شرطوں کے ساتھ ہونا ہی مراد ہوگا جیسے باری تعالٰی کا ارشاد ہے نماز قائم کر، یعنی اس کی شرطوں کے ساتھ۔(ت)

 ( ۱؎ تبیین الحقائق     کتاب الذبائح     دار الکتب العلمیۃ بیروت     ۶ /۴۶۵)

اب وضو دو قسم ہے: واجب ومندوب۔
واجب کا سبب معلوم ہے کہ اُس چیز کا ارادہ جو بغیر اس کے حلال نہ ہو جیسے نماز یا سجدہ یا مصحف کریم کو ہاتھ لگانا۔ اور مندوب فــ۱ کے اسباب کثیر میں ازانجملہ:
(۱) قہقہہ سے ہنسنا        (۲) غیبت کرنا
(۳) چغلی کھانا        (۴) کسی کو گالی دینا
(۵) کوئی فحش لفظ زبان سے نکالنا    (۶) جھوٹی بات صادر ہونا
(۷) حمد ونعت ومنقبت ونصیحت کے علاوہ کوئی دنیوی شعر پڑھنا    (۸) غصہ آنا
(۹) غیر عورت کے حُسن پر نظر۔
(۱۰) کسی کافر سے بدن چھو جانا اگرچہ کلمہ پڑھتا اور اپنے آپ کو مسلمان کہتا ہو جیسا فــ۲ قادیانی عـــہ۱یا چکڑالوی عـــہ۲نیچری عـــہ۳ یا آج کل کے تبرائی رافضی عـــہ۴ یاکذابی عـــہ ۵یا بہائمی عـــہ۶یا شیطانی عـــہ۷ خواتمی عـــہ۸ وہابی جن کے عقائد کفر کا بیان حسام الحرمین میں ہے۔یا اکثر غیرعـــہ۹ مقلد خواہ بظاہر مقلد وہابیہ کہ اُن عقائدار تداد پر مطلع ہو کر اُن کو عالم دین وعمدہ مسلمین کہتے یا اللہ ورسول کےمقابل اللہ ورسول کو گالیاں دینے والوں کی حمایت کرتے ہیں جل جلالہ وصلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم

فــ ۱: مسئلہ ان بعض اشیاء کا بیان جن کے سبب وضوکی تجدید مطلقا بالا تفاق مستحب ہوتی ہے خوا ہ ابھی اس سے نماز وغیرہ کوئی فعل ادا کیا ہو یا نہیں مجلس بدلی ہو یا نہیں وضو پورا ہوا ہو یا نہیں تجدید ایک با ر ہو یا سو بار ۔
فــ ۲: فائدہ ضروریہ ان دس فرقوں کا بیان جو اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں اور شرعا مرتد ہیں۔
عـــہ ۱غلام احمد قادیانی کے پیرو جو اپنے آپ کو نبی ورسول کہتا اپنے کلام کو کلامِ الٰہی بتاتا سیدنا عیسٰی علیہ الصلوٰۃ والسلام کو گالیاں دیتا چارسو انبیا کی پیشگوئی جھوٹی بتاتا خاتم النبیین میں استثنا کی پچّر لگاتا وغیرہ کفریات ملعونہ ۱۲ (م)
عـــہ۲ یہ ایک نیا طائفہ ملعونہ حادث ہوا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی سے منکر ہے تمام احادیث مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کو صراحۃً باطل وناقابل بتاتا اور صرف قرآن عظیم کے اتباع کا ادعا رکھتا ہے اور حقیقۃً خود قرآن عظیم کا منکر ومبطل ہے، ان خبیثوں نے اپنی نماز بھی جُدا گھڑی ہے جس میں ہر وقت کی صرف دو۲ ہی رکعتیں ہیں ۱۲ ۔

عـــہ۳ یہ باطل طائفہ ضروریات دین کا منکر ہے قرآن عظیم کے معانی قطعیہ ضروریہ میں در پردہ تاویل وتحریف وتبدیل کرتا وجودِ ملائکہ وآسمان وجن وشیطان وحشر ابدان وناروجنان ومعجزات انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام سے انہیں ملعون تاویلوں کی آڑ میں انکاررکھتا ہے ۱۲ ۔
عـــہ۴ یہ ملاعنہ صراحۃً قرآنِ عظیم کو ناقص بتاتے اور مولٰی علی وائمہ اطہار رضی اللہ تعالٰی عنہم کو انبیاء سابقین علیہم الصلوۃ والتسلیم سے افضل ٹھہراتے ہیں ۱۲۔
عـــہ ۵ یہ ملاعنہ طائفہ اللہ تعالٰی کو بالفعل جھوٹا بتاتا اور صاف کہتا ہے کہ وقوع کذب کے معنے درست ہوگئے ۱۲۔
عـــہ۶ یہ گروہ لعین ہر پاگل اور چوپائے کے لئے علم غیب مان کر صاف کہتا ہے کہ جیسا علم رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کو تھا ایسا علم تو ہر پاگل اور جانور کو ہوتا ہے ۱۲

عـــہ ۷ اس شیطانی گروہ کے نزدیک ابلیس لعین کا علم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے علم سے زیادہ بلکہ بے شمار زیادہ ہے ابلیس کی وسعت علم کو نص قطعی سے ثابت کہتا اور رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی وسعت علم کو باطل بے ثبوت مانتا ہے اُن کیلئے وسعتِ علم کے ماننے کو خالص شرک بتاتا مگر ابلیس کو وسعتِ علم میں خدا کا شریک جانتا ہے ۱۲ ۔
عـــہ۸یہ شقی گروہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر نبوت ختم ہونے کا صاف منکر ہے خاتم النبیین کے معنی میں تحریف کرتا اور بمعنی آخر النبیین لینے کو خیالِ جہال بتاتا یا رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے چھ یا سات مثل موجود مانتا ہے ۱۲

عـــہ۹ یہ بدبخت طائفہ ان ملعون ارتدادوں کو دفع تو کر نہیں سکتا بلکہ خوب جانتا ہے کہ ان سے دفع ارتداد ناممکن ہے مگر ان مرتدوں کو پیشوا اور ممدوح دینی ماننے سے بھی باز نہیں آتا اللہ جل وعلا ورسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے مقابل ان کی حمایت پر تُلا ہوا ہے اللہ ورسول کو گالیاں دینا بہت ہلکا جانتا ہے مگر ان دشنام دہندوں کا حکم شرعی بیان کرنے کو گالیاں دینا کہتا اور بہت سخت برا مانتا ہے اور ازانجا ف کہ اُن صریح ارتدادوں کی حمایت سے قطعاً عاجز ہے باوصف ہزاروں تقاضوں کے اُن کا نام زبان پر نہیں لاتا اور براہ گریز خدا ورسول جل وعلا و صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی جناب میں اُن صریح گالیوں کو بالائے طاق رکھ کر سہل اختلاف مسئلہ عطائے بعض علوم غیبیہ کی طرف بحث کو پھیرنا چاہتا ہے پھر اس میں بھی افترا واختراع سے کام لیتا ہے اور اصل مقصود صرف اتنا کہ وہ قہر عظیم والی دشنام ہائے خدا ورسول جل وعلا وصلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم بھُول میں پڑ جائیں اور بات این وآں کی طرف منتقل ہو اس چالاکی کا موجد امر تسر کے پرچہ "اہلحدیث" کا ایڈیٹر ہے دیکھو چابک لیث اور ظفر الدین الطیب اور کین کش پنجہ پیچ وغیرہا، یہ چالاک پرچہ۲۶ جمادی الاولٰی ۱۳۲۶ھ میں حسام الحرمین کا ذکر منہ پر لایا مگر یوں کہ براہ عیاری اُس کے تمام مقاصد سے دامن بچا کر دو بالائی باتوں امکانِ کذب وعلم غیب کو اس کا مبنائے بحث ٹھہرایا پھر اُن میں بھی امکانِ کذب کو الگ چھوڑ کر صرف علم غیب میں اپنی بعض فاحشہ جہالتیں دکھائیں جن کا ردبا رہا ہو چکا اسی پرچہ کے رد میں چابک لیث براہل حُدیث دومجلد میں ہے پھر ۳۰ جولائی ۲۰ اگست ۹ ؁ء کے پرچوں میں وہی انداز کہ اللہ ورسول جل وعلا وصلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی جناب میں گالیاں شیر مادر۔ قاہر مناظروں کے جواب سے گنگ وکر۔ اور اغوائے عوام کو مناظرہ کا نام زبان پر، اس کے رد میں ظفر الدین الطیب چھاپ کر بھیج دیا انتالیس رات بعد پرچہ ۲۹ رمضان میں اُس کے دیکھنے کا اقرار تو کیا مگر چال وہی کہ اُس کے تمام اعتراضات سے ایک کا بھی جواب نہ دیا اور ایک بالائی لطیفہ تردید کے متعلق لکھا تھا صرف اُس کے ذکر پر اکتفا کیا کہ میری ارد ودانی پر بھی اعتراض ہے۔ اے سبحٰن اللہ اور وہ جو آپ کے دعوٰی ایمان پر قاہر اعتراض ہیں وہ کیا ہوئے وہ جو ثابت کیا تھا کہ تم نے محمد رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم پر جتنا افترا اُٹھایا اور اُس پر تمہاری حدیث دانی سے بارہ۱۲ سوال تھے وہ کدھر گئے۔

ف: ایڈیٹر الحدیث امر تسر کی باربار گریز فرار پر فرار اور عوام کے بہکانے کو نام مناظرہ کی عیارانہ پکار۔

خیر اس کے جواب میں رسالہ کین کش پنجہ پیچ برایڈیٹر اے ایچ رجسٹری شدہ بھیجا آج پچپن دن ہوئے اُس کا بھی ذکر غائب، مگر بکمال حیا بعد کے بعض پرچوں میں وہی رٹ موجود، خدا جانے ان صاحبوں کے نزدیک مناظرہ کس شے کا نام ہے، ان سے سیکھ کر یہی چال ایک گمنام صاحب چاند پوری دیوبند دربھنگی چلے۔ دشنامی اکابر جن کے رد میں پینتیس سال سے بکثرت رسائل آستانہ علیہ رضویہ سے شائع ہورہے ہیں اور ان کو خود اقرار ہے کہ آج تک ایک پرچہ کا جواب نہ دے سکے بلکہ بڑے بڑوں نے مناظرہ سے عجز کا صاف صاف اقرار کیا بلکہ لکھ دیا (دیکھو رسالہ دفع زیغ ورسالہ بطش غیب) اب اُن کی حمایت میں جمے ہوئے مناظرے یوں ہی چھوڑ کر یہ دربھنگی صاحب سوال علی السوال لے کر چلے اور ایک بے معنی رسالہ بنام اسکات المعتدی چھاپا اور بعنایت الٰہی خود بھی اس رسالے میں صاف اقرار کردیا کہ اُن کے تمام اکابر آج تک لاجواب ہیں۔ یہ رسالہ یہاں ۹ شعبان کو پہنچا اور ۲۰ شعبان کو اس کا رد ظفر الدین الطیب چھپا ہوا تیار  تھا کہ اُسی دن جلسہ مدرسہ اہلسنت میں شائع کردیا اور ۲۱ شعبان کو ان کے سرآمد کے پاس رجسٹری شدہ اور اتباع کے یہاں نام بنام بھیج دیا۔ ساٹھ رات کے بعد دربھنگی صاحب بولے تو یہ بولے کہ رسالہ کسی کو بھیجا ہی نہیں اور ایک خط اُسی چالاکی پر مشتمل بھیجا کہ صرف دو مسئلہ امکانِ کذب وعلمِ غیب میں اختلاف ہے وبس یعنی وہ شدید شدید گالیاں کہ اُن کے اکابر نے اللہ ورسول جل وعلاوصلی اللہ علیہ وسلم کو لکھ لکھ کر چھاپیں اصلا کوئی قابل پروابات نہیں۔ اس خط کے جواب میں معاً دو رسالے تصنیف ہو کر رجسٹری شدہ اُن کے پاس روانہ ہوئے، اول بارش سنگی، دوسرا پیکان جانگداز برجان مکذّبان بے نیاز، اس دوسرے میں گریز والے صاحبوں کی وہ ہوس بھی پوری کردی یعنی مسئلہ امکان کذب وعلم غیب ہی میں مناظرہ تازہ کردیا۔ رجسٹری رسید طلب تھی ڈاک کی رسید تو آئی مگر آج پچاس دن ہوئے وہ بھی سو رہے حالانکہ اُن کو صرف دس دن کی مہلت تھی۔ مسلمانو! للہ انصاف، یہ ان مدعیانِ دین ودیانت کی حالت ہے منہ بھر بھر کر اللہ ورسول کو سخت سخت گالیاں دیں پھر جب مسلمان اس پر مؤاخذہ کریں جواب نہ دیں، سوالات جائیں جواب غائب، رسائل جائیں جواب غائب، رجسٹریاں جائیں جواب غائب۔ مناظرہ سے اپنا عجز صاف صاف لکھ دیں کہہ دیں اپنے اکابر کا لاجواب رہنا قبول کریں چھاپ دیں اور پھر عوام کے بہکانے کو مناظرہ مناظرہ کی پکار۔ اُس پکار پر جو گرفت ہو اس کے جواب سے پھر فرار اور وہی پکار اس حیا کی کوئی حد ہے۔ سچ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے: اذالم تستحی فاصنع ماشئت جب تجھے حیا نہ ہو تو جو چاہے کر۔
ع بے حیا باش و ہرچہ خواہی کن
(بیحیا ہو جاپھر جو چاہے کر )

ہاں ہاں اے اللہ ورسول (جل وعلا وصلی اللہ علیہ وسلم) کو گالیاں دینے والو! کیا مسلمان اللہ ورسول جل وعلا وصلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے معاذ اللہ ایسے بے علاقہ ہوگئے کہ تم اُنہیں گالیاں لکھ لکھ کر چھاپو اور وہ بے پروائی کرکے ٹال دیں۔ نہیں نہیں ضرور تمہیں دو باتوں سے ایک ماننی ہوگی، یا تو خدا توفیق دے اُن گالیوں سے صراحۃً توبہ کرو جس طرح اُن کی اشاعت کی اُن سے صاف صاف اپنی توبہ اور اپنے حکم دشنام کا اعتراف چھاپو یا اُن تمام رسائل وکُتب کا جواب دو، جواب دو، جواب دو۔ اس کے سوا تمہارے حیلے حوالے ٹالے بالے ہرگز نہ سُنے جائیں گے،

وسیعلم الذین ظلموا ای منقلب ینقلبون۲؎۔ ولا حول ولا قوۃ الّا باللہ العلی العظیم ۱۲ عبدہ محمد ظفر الدین قادری غفرلہ۔

( ۱؎المعجم الکبیر حدیث ۶۵۸و۶۶۱ المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت ۱۷ /۲۳۷و۲۳۸)
(۲؎القران الکریم ۲۶ /۲۷۷)

یا عـــہ۰ ۱ جھو ٹے متصوف کہ حلول واتحاد کے قائل یا شریعت مطہرہ کے صراحۃً منکر ومبطل ہیں ان میں دسوں طائفوں اور ان کے امثال سے مصافحہ کرنا تو خود ہی حرام قطعی گناہِ کبیرہ ہے اگر بلا قصد بھی ان کے بدن سے بدن چھُو جائے تو وضو کا اعادہ مستحب ہے۔

عـــہ۰ ۱ ان تمام مرتد طوائف کارد کافی وشافی کتاب مستطاب المعتمد المستند وکتاب لاجواب حسام الحرمین وکتاب کامل النصاب تمہید ایمان بآیات قرآن وظفر الدین الجید وظفر الدین الطیب وغیرہا میں ملاحظہ ہو، سوا فرقہ چکڑالو یہ کہ تالیف المعتمد المستند تک اس کا کوئی تذکرہ ان بلاد میں نہ آیا تھا یہ کتابیں بریلی مطبع اہلسنت وجماعت کے پتے سے مولوی حکیم حسین رضا خان صاحب سلمہ سے مل سکتی ہیں۔المعتمد المستند عربی زبان میں ۲۳۲ صفحہ میں ہے قیمت (عہ)________ تمہید ایمان بآیات قرآن میں صرف آیاتِ قرآنیہ سے بتایا ہے کہ ایمان کے یہ معنی ہیں اللہ ورسول( جل وعلا وصلی اللہ تعالی علیہ وسلم ) کی تعظیم ومحبت ایسی ہوتو مسلمان ہے اللہ ورسول (جل وعلا وصلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم) کو گالیاں دینا کفر ہے۔ ایسوں کے کفر میں جو خود یہ لوگ اور آج کل کے بعض آزاد خیال والے حیلے حوالے نکالتے ہیں نہایت سلیس ومہذب بیان میں قرآن مجید سے ان کا جواب ہے، یہ وہ کتاب ہے جس کا دیکھنا ہر مسلمان کو نہایت ضروری ہے ۔حسام الحرمین میں اکابر علمائے حرمین شریفین کی مُہری تصدیقات وفتاوٰی ہیں جن میں اُن دشنام دہندوں کا حکم شرعی مدلل ہے اُس کا مطالعہ پکا مسلمان بناتا ہے دونوں کا مجموعہ ۱۵ جز ہے ۔ہدیہ ۱۰۔ اور یکم محرم ۱۳۲۸ھ سے ۱۲ربیع الاول تک آٹھ ہی آنے (۸۔)ظفر الدین الجید وظفر الدین الطیب۔ اُن دشنامیوں کے فرار اور عیاریوں کے اظہار میں۔ حجم سواد وجزقیمت (۱۔) مسلمان اپنا دینی فائدہ حاصل کریں وباللہ التوفیق ۱۲ سید عبدالرحمن عفا عنہ ۲ محرم الحرام ۱۳۲۸ھ۔ م

فـــ:ان نفیس اسلامی کتابوں کے نام جن سے ایمان تازہ ہو اور مرتدوں کی چالاکیوں کا حال کھلے ۔

 (۱۱) ناخن سے کُہنی تک اپنے ہاتھ کا کوئی حصّہ اگرچہ کھُجانے میں اگرچہ بھُولے سے بلا حائل اپنے ذَکر کو لگ جانا۔
(۱۲) ہتھیلی یا کسی اُنگلی کا پیٹ اپنے یا پرائے ستر غلیظ یعنی ذَکر یا فرج یا دُبر کو بے حائل چھُو جانا اگرچہ وہ دوسرا آدمی کتنا ہی چھوٹا بچّہ یا مردہ ہو۔
(۱۳) نامحرم عورت کے کسی حصہ جلد سے اپنا کوئی حصہ جلد بے حائل چھُو جانا اگرچہ اپنی زوجہ ہو اگرچہ عورت مُردہ یا بڑھیا ہو اگرچہ نہ قصد ہو نہ شہوت چاہے لذت نہ پائے جبکہ وہ عورت بہت صغیرہ چار پانچ برس کی بچّی نہ ہو۔
(۱۴) اگر اُس چھُو جانے سے لذت آئی تو نامحرم کی بھی قید نہیں نہ جِلد کی خصوصیت نہ بے حائل کی ضرورت مثلاً رقیق یامتوسط حائل کے اوپر سے اپنی بہن یا بیٹی کے بال سے مس ہوجانے پر اتفاقا لذت کا آجانا جبکہ عورت قابلِ لذت ہو اور حائل بہت بھاری مثل رضائی وغیرہ کے نہ ہو۔

 (۱۵) نامحرم عورت قابلِ لذت کو بقصدِ شہوت چھُوجانا اگرچہ حائل کتنا ہی بھاری ہو اگرچہ اپنی زوجہ ہو اگرچہ لذت نہ پائے مثلاً لحاف کے اوپر سے اُس کے بالوں پر ہاتھ رکھنا، اور ان کے سوا اور بہت صورتیں ہیں اور ایک اصل کُلی یہ ہے کہ جس بات سے کسی اور امام مجتہد کے مذہب میں وضو جاتا رہتا ہے اُس کے وقوع سے ہمارے مذہب میں اعادہ وضو مستحب ہے

درمختار میں ہے: الوضوء مندوب فی نیف وثلثین موضعا ذکرتھا فی الخزائن منھا بعد کذب وغیبۃ وقہقہۃ و شعر واکل جزور وبعد کل خطیئۃ وللخروج من خلاف العلماء ۱؎ اھ

وضوتیس۳۰ سے زیادہ مقامات میں مستحب ہے، ان سب کا ذکر میں نے خزائن میں کیا ہے۔ اُن میں سے چند یہ ہیں جھُوٹ، غیبت، قہقہہ، شعر ، اونٹ کا گوشت کھانے کے بعد اور ہر گناہ کے بعد اور اختلافِ علماء سے نکلنے کیلئے اھ۔ (ت)

 ( ۱؎الدرالمختار     کتاب الطہارۃ     مطبع مجتبائی دہلی     ۱ /۱۷و۱۸ )

اقول والحقت النمیمۃ لانھا کالغیبۃ اواشد ثم رأیتھا فی میزان الامام الشعرانی وغیرہ والحقت الفحش لانہ اخنأمن الشعر وربما یدخل فی قولہ خطیئۃ والشتم لانہ اخبث واخنع ثم رأیت التصریح بہ فی انوار الشافعیۃ۔

اقول میں نے چغلی کو بھی شامل کیا اس لئے کہ وہ غیبت ہی کی طرح ہے یا اس سے بھی سخت پھر میں نے میزان امام شعرانی وغیرہ میں اس کا ذکر دیکھا اور فحش کو میں نے شامل کیا اس لئے کہ وہ شعر سے زیادہ برا ہے اور یہ در مختار کے لفظ ہر گناہ کے تحت آسکتا ہے ۔ اور گالی دینے کواس لئے کہ یہ اور بد تر اور فحش تر ہے پھر انوار شافعیہ میں میں نے اس کی تصریح دیکھی۔ ( ت)

ردّالمحتار میں ہے: منھا لغضب ونظر لمحاسن امرأۃ وبعد کذب وغیبۃ لانھما من نجاسات فــ المعنویۃ ولذا یخرج من الکاذب نتن یتبا عدمنہ الملک الحافظ کما ورد فی الحدیث وکذا اخبر صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم عن ریح منتنۃ بانھا ریح الذین یغتابون الناس والمؤمنین ولالف ذالک منا وامتلاء انوفنا منہا لا تطہر لنا کا لساکن فی محلہ الدباغین وقہقہۃ لانہالما کانت فی الصلٰوۃ جنایۃ تنقض الوضوء اوجبت نقصان الطہارۃ خارجا فکان الوضوء منہا مستحباکما ذکرہ سیدی عبد الغنی النابلسی فی نہایۃ المراد علٰی ھدیۃ ابن العمادو شعر ای قبیح للخروج من خلاف العلماء کمس ذکرہ وامرأۃ اھ۱؎

ان اسباب میں چند یہ ہیں غصہ آنا ، کسی عورت کے حسن پر نظر ، اور جھوٹ اور غیبت کے بعد، اس لئے کہ یہ دونوں معنوی نجاستیں ہیں، اس لئے جھُوٹ بولنے والے سے ایسی بد بو اٹھتی ہے جس سے محافظ فرشتہ دُور ہٹ جاتا ہے جیسا کہ حدیث میں ہے، اسی طرح حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بد بو سے متعلق بتایا کہ یہ ان کی بد بو ہے جولوگوں کی اور مسلمانوں کی غیبت کرتے ہیں چونکہ ہمیں ان سے الفت ہوگئی ہے اور ہماری ناکیں ان سے بھری ہوئی ہیں اس لئے یہ ہمیں محسوس نہیں ہوتی جیسے چمڑا پکانے والوں کے محلے میں رہنے والوں کا حال ہوتا ہے اور قہقہہ اس لئے کہ جب اندرون نماز ایساجرم ہے کہ اس سے وضو ٹوٹ جاتا ہے تو بیرون نماز اس سے وضو میں نقص آجا ئے گا اس لئے اس سے وضو مستحب ہواجیسا کہ سیدی عبد الغنی نابلسی نے ''نہایۃ المراد علی ہدیۃ ابن ا لعماد میں ذکر کیا ہے ۔ اور شعر یعنی برا شعر ،اپنے ذکر یا کسی عورت کا چھو جانا اھ ملتقطا(ت)

 ( ۱؎ ردالمحتار     کتاب الطہارۃ     دار احیا ء التراث العربی بیروت    ۱ /۶۱ )

فـــ: جھوٹ اور غیبت معنوی نجاست ہیں ولہٰذا جھوٹے کے منہ سے ایسی بدبو نکلتی ہے کہ حفاظت کے فرشتے اُس وقت اُس کے پاس سے دُور ہٹ جاتے ہیں جیسا کہ حدیث میں وارد ہوا ہے اور اسی طرح ایک بدبو کی نسبت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خبر دی کہ یہ اُن کے منہ کی سٹراند ہے جو مسلمانوں کی غیبت کرتے ہیں اور ہمیں جو جھوٹ یا غیبت کی بدبُو محسوس نہیں ہوتی اُس کی وجہ یہ ہے کہ ہم اُس سے مالوف ہوگئے ہماری ناکیں اُس سے بھری ہوئی ہیں جیسے چمڑا پکانے والوں کے محلہ میں جو رہتا ہے اُس کی بدبُو سے ایذا نہیں ہوتی دوسرا آئے تو اُس سے ناک نہ رکھی جائے انتہی

مسلمان اس نفیس فائدے کو یاد رکھیں اور اپنے رب سے ڈریں جھوٹ اور غیبت ترک کریں کیا معاذ اللہ منہ سے پاخانہ نکلنا کسی کو پسند ہوگا باطن کی ناک کھلے تو معلوم ہو کہ جھوٹ اور غیبت میں پاخانے سے بدتر سڑاند ہو۔ رہیں وہ حدیثیں جن کی طرف علامہ شامی نے اشارہ کیا۔ جامع ترمذی بسند حسن عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما سے ہے رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:

اذا کذب العبد کذبۃ تباعد الملک عنہ مسیرۃ میل من نتن ماجاء بہ ۱؎رواہ ابن ابی الدنیا فی کتاب الصمت وابونعیم فی حلیۃ الاولیاء ۲؎عنہ رضی اللہ تعالی عنہ ۔ جب کوئی شخص جھوٹ بولتا ہے اُس کی بدبو کے باعث فرشتہ ایک میل مسافت تک اُس سے دُور ہوجاتا ہے۔ کتاب الصمت میں ابن ابی الدنیا اور ابو نعیم نے حلیۃ الاولیاء میں روایت کیا عنہ رضی اللہ تعالٰی عنہ (ت)

 (۱؎ سنن الترمذی کتاب البر والصلۃ حدیث۱۹۷۹    دار الفکر بیروت    ۳ /۳۹۲)
( ۲؎حلیۃ الاولیاء ترجمہ عبد العزیز بن ابی رواد ۴۰۰حدیث ۱۱۹۱۸دار الکتب العلمیہ بیروت ۸ /۲۱۴)

امام احمد بسند صحیح جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالٰی عنہما سے راوی ہم خدمت اقدس حضور سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم میں حاضر تھے کہ ایک بدبو اُٹھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

اتدرون ماھذہ الریح ھذہ ریح الذین یغتابون المومنین ورواہ ابن ابی الدنیا فی کتاب ذم الغیبت عنہ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ ۱۲ منہ غفرلہ (م) جانتے ہو کہ یہ بدبو کیا ہے،یہ ان کی بدبو ہے جو مسلمانوں کی غیبت کرتے ہیں،(اس کو ابن الدنیا نے کتاب ذم الغیبت میں روایت کیا ہے، اللہ ان سے راضی ہو ۱۲ منہ غفرلہ۔ ت)


 (۲؎مسند احمد بن حمبل عن جابر بن عبداللہ المکتب ا لاسلامی بیروت۳ /۳۵۱ )

میزان امام شعرانی قدس سرہ الربانی میں ہے: سمعت سیدی علیا الخواص رحمہ اللّٰہ تعالٰی یقول وجہ من نقض الطہارۃ بالقہقہۃ اونوم الممکن فــ ۱ مقعدۃ اومس فــ ۲الابط الذی فیہ صنان اومس فــ ۳ ابرص اوجذم اوکافر اوصلیب فــ ۴او غیر ذلک مماوردت فیہ الاخبار الاخذ بالاحتیاط قال وجمیع النواقض متولدۃ من الاکل ولیس لنا ناقض من غیر الاکل ابدا فلولا الاکل والشرب مااشتھینا لمس النساء ولا تکلمنا بغیبۃ ولا نمیمۃ اھ بالا لتقاط ۲؎۔

میں نے سیدی علی الخواص کو فرماتے سنا قہقہہ سے طہارت ٹوٹ جاتی ہے، اسی طرح وہ نیند جس میں مقعد زمین سے لگی ہو، بغل کو کھجانا جس میں بدبو ہو، برص والے کو یا جذامی کو یا کافر کو چھُونے سے یا صلیب کو چھونے سے، اس کے علاوہ اور دوسری اشیاء جن کے بارے میں احادیث وارد ہیں، احتیاط کے طور پر۔ فرمایا تمام نواقض وضو کھانے سے پیدا ہونے والے ہیں،اور ہمارے لئے غیر اکل سے کوئی ناقض نہیں اگر کھانا پینا نہ ہوتا توعورتوں کے چھونے کی ہم میں شہوت بھی نہ ہوتی نہ ہی غیبت وچغلی ہماری زبان پر آتی اھ بالالتقاط۔ (ت)

 (۱؎ میزان الشریعۃ الکبری     با ب اسباب الحد ث         دارا لکتب العلمیہ بیروت     ۱ /۱۴۵ )

فــ ۱ مسئلہ سوتے میں دونوں سرین زمین پر جمے ہوں تو وضو نہیں جاتا مگر اعادہ وضو مستحب جب بھی ہے۔
فــ ۲: مسئلہ بغل کھجانے سے وضو مستحب ہے جبکہ اس میں بد بو ہو ۔
فــ ۳مسئلہ جزامی یا برص والے سے مس کرنے میں بھی تجدید وضو  مستحب ہے۔
فــ ۴: مسئلہ صلیب جسے نصاری پوجتے ہیں اور ہنود کے بت وغیرہ کے چھونے سے بھی نیا وضو چاہیے ۔

کتاب الانوار امام یوسف اردبیلی میں ہے: لاینقض بالکذب والشتم والغیبۃ والنمیمۃ ویستحب فی الکل للخلاف ۲؎ جھُوٹ، گالی دینے ، غیبت، چغلی سے وضو نہیں ٹوٹتا اور مستحب ان سب میں ہے کیوں کہ محل اختلاف ہے ۔(ت)

 (۲؎الانوار لاعمال الابرار     کتاب الطہارۃ     فصل اسبا ب الحدث         مطبع جمالیہ مصر ۱ /۲۹)

فتح العین بشرح قرۃ العین للعلامۃ زین الشافعی تلمیذ ابن حجر المکی میں ہے: یندب الوضوء من لمس یھودی ونظر بشھوۃ ولوالی محرم وتلفظ بمعصیۃ وغضب ۱؎۔ یہودی کو چھو جانے ، شہوت سے نظر کرنے اگرچہ محرم ہی کی طرف ہو ۔۔ معصیت کی بات زبان پر لانے اور غصہ سے وضو مستحب ہے ۔

 (۱؎ فتح المعین شرح قرۃ العین بیان نواقض الوضو ء عامر الاسلام پور پریس کیبرص ص ۲۴و۲۵ )

رحمۃ الامہ فی اختلاف الائمہ میں ہے: اتفقوا علی ان من مس فرجہ بعضو غیریدہ لاینتقض وضوؤہ واختلفوا فیمن مس ذکرہ بیدہ فقال ابو حنیفۃ لامطلقا والشافعی ینتقض بالمس بباطن کفہ دون ظاھرہ من غیر حائل بشھوۃ اوبغیرھا والمشہور عند احمد انہ ینتقض بباطن کفہ وبظاھرہ ۲؎۔

اس پر اتفاق ہے کہ جو اپنی شرمگاہ ہاتھ کے علاوہ کسی اور عضو سے چھودے اس کا وضو نہ ٹوٹے گا، اور اس کے بارے میں اختلاف ہے جس نے اپنا ذَکر اپنے ہاتھ سے چھو دیا امام ابو حنیفہ نے فرمایا : مطلقا نہ ٹوٹے گا، اور امام شافعی نے فرمایا پشت دست سے چھو دے تو نہ ٹوٹے گا اور اگر ہتھیلی کے پیٹ سے بغیر کسی حائل کے شہوت کے ساتھ یا بلا شہوت چھو جائے تو وضو ٹوٹ جائے گا۔(ت) اور امام احمد کے نزدیک مشہور یہ ہے کہ ہتھیلی کے باطن وظاہر کسی طرف سے بھی چھو جائے تو وضو ٹوٹ جائے گا۔(ت)

 (۲؎ رحمۃ الامۃ فی اختلاف الائمۃ         باب اسبا ب الوضوء         دولۃ قطرص ۱۳)

میزان میں ہے: وجہ من نقض الطہارۃ بلمس الذکر بظھر الکف اوبالید الی المر فق فھو الاحتیاط لکون الید تطلق علی ذلک کما فی حدیث اذا افضی احدکم بیدہ الی فرجہ ولیس بینھما ستر ولا حجاب فلیتوضأ ۳؎۔

ہتھیلی کی پشت سے یا کہنی تک ہاتھ کے کسی حصے سے وضو ٹوٹنے کی وجہ احتیاط کو بتایا گیا ہے اس لئے کہ ہاتھ کا اطلاق اس پر ہو تا ہے جیسا کہ حدیث میں ہے :جب تم میں کوئی اپنا ہاتھ اپنی شرمگاہ تک پہنچادے اور دونوں میں کوئی پردہ اور حائل نہ رہ جائے تو وہ وضو کرے ۔(ت)

 (۳؎ میزان الشعریعۃ     باب اسباب الحدث    دار الکتب العلمیہ بیروت     ۱ /۱۴۲)

انوار ائمہ شافعیہ میں ہے: اسباب الحدث اربعۃ الرابع مس فرج ادمی بالراحۃ اوبطن اصبع قبلا کان اودبرا ناسیا اوعامدا من ذکر اوانثی صغیر اوکبیرحی اومیت من نفسہ اوغیرہ ولومس برؤس الاصابع اوبما بینھا مما لایلی بطن الکف اوبحروف الکفین اومس انثییہ اوالیتیہ اوعجانہ اوعانتہ لم ینتقض۔۱؎

حدث کے چار اسباب ہیں چوتھا کسی انسان کی شرمگاہ کا مس ہوجانا ہتھیلی سے یا انگلی کے پیٹ سے ، آگے کی شرمگاہ ہو یا پیچھے کی ، بھول کر ہو یا قصدا مرد کی ہو یا عورت کی ، چھوٹا ہو یا بڑا ، زندہ یا مردہ اپنی شرمگاہ ہویا دوسرے کی اور اگر انگلیوں کے سروں سے مس ہو جائے یا انگلیوں کے ان درمیانی حصوں سے جو بطن کف سے ملے ہوئے نہیں ہیں ،یا ہتھیلیوں کے کناروں سے مس ہو یا انثیین کو یا سرینوں کو یا خصیتین اور دبرکے درمیان کے حصے کو یا پیڑو کو چھو دے تو وضو نہ ٹوٹے گا (ت)

 (۱؎الانوار لاعمال الابرار     کتاب الطہارۃ     فصل اسبا ب الحدث         مطبع جمالیہ مصر ۱ /۳۱)

اُسی میں ہے: الثالث لمس بشرۃ المرأۃ الکبیرۃ الاجنبیۃ بلا حائل فان لمس شعرا اوسنا اوظفرا اوبالشعر اوالسن اوالظفر اوصغیرۃ لاتشتھی اومحرما بنسب اورضاع اومصاھرۃ اوکبیرۃ اجنبیۃ مع حائل وان رق ولو بشھوۃ لم ینتقض ولو لمس امراتہ اوامتہ اومیتۃ اوعجوزۃ فانیۃ اوبلا شھوۃ اوبلا قصد انتقض واذا کانت المرأۃ فوق سبع سنین فلا شک فی انتقاض الوضوء بلمسھا واما اذا کانت دون ست سنین فاصحابنا خرجوا علی قولین المذھب انہ لاینتقض۱؎

تیسرا اجنبی قابل شہوت عورت کی جلد کا بغیر حائل چھو جانا اگر بال یا دانت یا ناخن کو مس یا بال یا دانت یا ناخن سے مس کیا یا عورت اتنی چھوٹی ہے کہ قابل شہوت نہیں ، یا نسب یا رضاعت یا مصاہرت کسی سبب سے وہ محرم ہے یا بڑی اجنبیہ ہے مگر کوئی حا ئل درمیان ہے اگرچہ باریک ہوا گرچہ شہوت کے ساتھ ہو تو وضو نہ ٹوٹے گا اور اگر اپنی بیوی یا باندی یا مری ہوئی یا فانیہ بڑھیا کو مس کیا تو وضو ٹوٹ جا ئے گا اور جب سات سال سے زیادہ کی ہو تو اس کے چھونے سے وضوٹوٹنے میں کوئی شک نہیں اور اگر چھ سال سے کم کی ہو تو یہاں ہمارے اصحاب کے دو قول ہیں مذہب یہ ہے کہ وضو نہ ٹوٹے گا

 (۱؎الانوار لاعمال الابرار     کتاب الطہارۃ     فصل اسبا ب الحدث         مطبع جمالیہ مصر ۱ /۳۱)

عشماویہ اور اس کی شرح جواہر زکیۃ العلامۃ احمد المالکی میں ہے:  (و) ینتقض الوضوء( بلمس) اجنبیۃ یلتذ بمثلھا عادۃ ولو ظفرھا اوشعرھا اوفوق حائل خفیف قیل والکثیف (وان لم یقصد اللذۃ ولم یجدھا فلا وضوء علیہ ۲؎

ایسی اجنبیہ جوعادتا قابل لذت ہے اس کے چھو جانے سے وضو ٹوٹ جائے گا اگرچہ اس کے ناخن یا بال ہی کو چھوئے یا خفیف حائل کے اوپر سے چھوئے ایک قول ہے کہ دبیز کے اوپر سے بھی اور اگر لذت کا قصد نہیں نہ لذت پائی تو اس پر وضو نہیں ۔(ت)

 (۲؎ا لجواہر الزکیۃ شرح مقدمۃ العشماویۃ )

حاشیہ علامہ سِفطی میں ہے: قولہ لمس اجنبیۃ ھذا ضعیف والمعتمد ان وجود اللذۃ بالمحرم ناقض ولا فرق بین المحرم وغیرھا الافی القصد وحدہ بدون وجدان ففی الاجنبیۃ ناقض وفی المحرم غیر ناقض قولہ عادۃ ای عادۃ الناس لاالملتذ وحدہ فخرج بہ صغیرۃ لاتشتھی کبنت خمس وعجوز مسنۃ انقطع منھا ارب الرجال بالکلیۃ قولہ والکثیف قال الشیخ حاشیۃ ابی الحسن المعتمد ان الاقسام ثلثۃ خفیف جد اوکثیف لاجد اکالقباء وجدا کالطراحۃ فالاولان حکمھا النقض علی الراجح واما الاخیر فالنقض فی القصد دون الوجدان ۱؎۔

ان کا قول ''اجنبیہ کو مس کرنا '' یہ ضعیف ہے، معتمد یہ ہے کہ محرم سے لذت پائی گئی تو یہ بھی ناقض ہے اور محرم و نا محرم میں فرق یہ ہے کہ قصد لذت نہ ملے تو اجنبیہ میں ناقض ہے اور محرم میں ناقض نہیں ان کا قول ''عادۃ'' یعنی لوگوں کی عادت کے لحاظ سے ،صرف لذت پانے والے کی عاد ت مراد نہیں تو اس قید سے وہ صغیرہ خارج ہو گئی جو قابل شہوت نہیں جیسے پا نچ سال کی بچی اور وہ سن رسیدہ بڑھیا جس سے مردوں کی خواہش با لکل منقطع ہو چکی۔۔ قولہ ''دبیز سے بھی ''شیخ نے حاشیہ ابو الحسن میں لکھا ہے کہ معتمد یہ ہے کہ تین قسمیں ہیں : (۱)بہت خفیف (۲) دبیز جو بہت زیادہ دبیز نہ ہو جیسے قبا (۳)اور بہت دبیز جیسے لحاف، تو پہلے دونوں کا حکم بر قول راجح یہ ہے کہ وضو ٹوٹ جائے گا اور اخیر میں یہ حکم ہے کہ قصد ہو تو وضو ٹوٹ جائے گاا ور اتفاقا لذت مل جانے سے نہ ٹوٹے گا ۔(ت)

 (۱؎ حاشیہ علامہ سفطی مقدمۃ العشماویۃ)

مستحب وضو اور بھی ہیں مگر یہاں وہی اکثر ذکر کئے جن کا وضو میں وقوع عادۃً بعید نہ ہو۔ ولہٰذا کفار کی وہ قسمیں بیان کرنی ہوئیں جو بغلط مدعی اسلام ہیں کہ ان میں بہتیرے نماز پڑھتے، وضو کرتے، مسجدوں میں آتے ہیں تو وضو کرتے ہیں ان سے بدن چھُوجانا بعید نہیں۔ یوں ہی کبھی وضو کرتے میں پانی کم ہوجاتا اور آدمی اپنی کنیز یا خادمہ یا زوجہ وغیرہا سے مانگتا اور لینے میں ہاتھ سے ہاتھ لگ جاتا ہے وغیرہ ذلک۔ کامل احتیاط والے کو ان مسائل پر اطلاع نہایت مناسب ہے۔ اب بے فصل نماز وغیرہ عبادات مقصودہ یابے تبدل مجلس اعادہ وضو کی کراہت اگر ہوگی بھی تو وہاں کہ اعادہ کیلئے کوئی سبب خاص نہ ہو ورنہ بعد وجود سبب وہ بے وجہ نہیں کہ اسراف ہو۔ اور اگر مواضع خلاف میں نزاع عود بھی کرے کہ رعایت خلاف وہیں مستحب ہے کہ اپنے مذہب کا مکروہ نہ لازم آئے کما فی ردالمحتار وغیرہ تو پہلی نو دس صورتیں کہ گویا حدث معنوی ونجاست باطنی مانی گئیں اثباتے وضو میں اُن کا وقوع کیا نادر ہے اور شک فــ نہیں کہ دربارہ نقض ونقض وضو بعض وضو کا حکم ایک ہی ہے جس طرح وضوئے کامل پر کوئی ناقض طاری ہونے سے پورا وضو جاتا رہتا ہے اور خلال وضو میں اس کے وقوع سے جتنا وضو ہوچکا ہے اتنا ٹوٹ جاتا ہے یونہی یہ اشیا جن سے طہارت ناقص وبے نور ہوجاتی ہے جب کامل وضو پر واقع ہوں تو پورے وضو کا اعادہ مستحب ہوگا اور اثنائے وضو میں ہوں تو جتنا کر چکا ہے اُس قدر کا۔ اور بہرحال یہ وضوئے آخر یا وضو علی الوضو سے خارج نہ ہوگا کہ وضوئے اول متنقض نہ ہوا۔ اس تقریر پر نہ صرف یہی وجہ اخیر بلکہ تینوں وجہیں مندفع ہوگئیں وللہ الحمد۔

فــ : جن باتوں سے اعادہ وضو مستحب ہے جب وہ وضو کرتے میں واقع ہوں تو مستحب ہے کہ پھر سے وضو کرے۔

صورت ثانیہ : یعنی شک میں فقیر نے نہ دیکھا کہ کسی کو شک ہوماسوا ملا علی قاری کے کہ انہوں نے شک کویکسر ساقط اللحاظ کیا اور اس کے اعتبار کو وسوسہ کی طرف منجر مانا، مرقاۃ میں فرمایا: قلت اما قولہ (ای قول الامام النسفی فی الکافی) لطمانینۃ القلب عند الشک ففیہ ان الشک بعد التثلیث لاوجہ لہ وان وقع بعدہ فلا نھایۃ لہ وھو الوسوسۃ ولھذا اخذ ابن المبارک بظاھرہ فقال لااٰمن اذا زاد علی الثلث انہ یاثم وقال احمد واسحق لایزید یحتاط لدینہ قال ابن حجر ولقد شاھد نامن الموسوسین من یغسل یدہ فوق المئین وھو مع ذلک یعتقد ان حدثہ ھو الیقین قال واما قولہ (ای الامام النسفی) لانہ امر بترک مایریبہ ففیہ ان غسل المرۃ الاخری مما یر یبہ فینبغی ترکہ الی مالایریبہ وھو ماعینہ الشارع لیتخلص عن الریبۃ والوسو سۃ ۱؎ اھ

کافی میں امام نسفی کے قول ''شک کے وقت اطمینان قلب کے لئے زیادتی ''پر یہ کلام ہے کہ تین بار دھو لینے کے بعد شک کی کوئی وجہ نہیں اور اگر اس کے بعد بھی شک واقع ہوتو اس کی کوئی انتہا نہیں اور یہی وسوسہ ہے ۔ اسی لئے حضرت ابن مبارک نے ظاہر حدیث کواختیار کرکے فرمایا مجھے اندیشہ ہے کہ تین بار سے زیادہ دھونے کی صور ت میں وہ گناہ گارہو ۔امام احمد واسحاق نے فرمایا : تین پر زیادتی وہی کرے گا جو جنون میں مبتلا ہو اس گمان کی وجہ سے کہ وہ اپنے دین میں احتیاط سے کا م لے رہا ہے ۔۔۔ابن حجر نے فرمایا : ہم نے ایسے وسوسہ زدہ بھی دیکھے  جو سو بار سے زیادہ ہاتھ دھوکر بھی یہ سمجھتا ہے کہ اب بھی اس کا حدث یقینا باقی ہے مولانا علی قاری آگے لکھتے ہیں کہ امام نسفی کا یہ فرمانا کہ اسے شک کی حالت چھوڑ دینے کا حکم ہے تو اس پر یہ کلام ہے کہ ایک با ر اور دھونے سے بھی اسے شک ہی رہے گا تو اسے یہی چاہیے کہ اسے چھوڑ کر وہ اختیار کرے جس سے شک نہ پیدا ہو اور یہ وہی ہے جسے شارحین نے متعین فرمایا ہے تاکہ شک اور وسوسہ سے چھٹکارا پائے اھ (ت)

 (۱؎ مرقاۃ المفاتیح شرح مشکوٰۃ المصابیح    کتاب الطہارۃ تحت الحدیث۴۱۷ المکتبۃ الحبیبیہ کوئٹہ ۲ /۱۲۴)

اقول اولافــ۱ : شک کیلئے منشأ صحیح ہوتا ہے مثل سہو وغفلت بخلاف وسوسہ۔ اول بلا شبہ شرعا معتبر اور فقہ میں صدہا مسائل اُس پر متفرع۔ اگر اُسے ساقط اللحاظ کریں تو شک کا باب ہی مرتفع ہوجائے گا اور ایک جمِ غفیر مسائل واحکام سے جن پر اطباق واتفاق ائمہ ہے انکار کرنا ہوگا۔

فـــ ۱تطفل تاسع علی القاری ۔

ثانیا حدیث فــ ۲ دع مایریبک الی مالایریبک کا صریح ارشاد طرح مشکوک واخذ متیقن ہے کہ مشکوک میں ریب ہے اور متیقن بلا ریب نہ یہ کہ شک کا کچھ لحاظ نہ کرو اور امر مشکوک ہی پر قانع رہ کر یہ مالا یریبک نہ ہوا بلکہ یریبک۔

فــ ۲ : تطفل عاشر علیہ ۔

ثالثا صحیح فــ ۳مسلم شریف میں ابو سعید خدری رضی اللہ تعالٰی عنہ سے ہے رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں: اذا شک احدکم فی صلاتہ فلا یدرکم صلی ثلثا اواربعا فلیطرح الشک ولیبن علی مااستیقن ثم یسجد سجدتین قبل ان یسلم فان کان یصلی خمسا شفعن لہ صلاتہ وان کان صلی تماما لاربع کانتا ترغیما للشیطٰن ۱؎۔

جب تم میں کسی کو اپنی نماز میں شک پڑے یہ نہ جانے کہ تین رکعتیں پڑھیں یا چار تو جتنی بات مشکوک ہے اُسے چھوڑ دے اور جس قدر پر یقین ہے اس پر بنائے کار رکھے (یعنی صورت مذکورہ میں تین ہی رکعتیں سمجھے کہ اس قدر پر یقین ہے اور چوتھی میں شک ہے تو چارنہ سمجھے لہٰذا ایک رکعت اور پڑھ کر) سلام سے پہلے سجدہ سہو کرلے اب اگر واقع میں اس کی پانچ رکعتیں ہوئیں تو یہ دونوں سجدے (گویا ایک رکعت کے قام مقام ہوکر) اس کی نماز کا دوگانہ پُورا کردیں گے (ایک رکعت اکیلی نہ رہے گی جو شرعاً باطل ہے بلکہ ان سجدوں سے مل کر ایک نفل دوگانہ جُدا گانہ ہوجائے گا) اور اگر واقع میں چار ہی ہوئیں تو یہ دونوں سجدے شیطان کی ذلّت وخواری ہوں گے (کہ اُس نے شک ڈال کر نماز باطل کرنی چاہی تھی اُس کی نہ چلی اور مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی رحمت سے نماز پوری کی پوری رہی)
یہ اس مطلب کا خاص جزئیہ خود حضور پُرنور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے ارشادِ مقدس سے ہے۔

فــ ۳: تطفل الحادی عشر علیہ ۔

 (۱؎ صحیح مسلم کتاب المساجد فصل من شک فی صلوٰۃ فلم یدرکم صلی الخ     قدیمی کتب خانہ کراچی     ۱ /۲۱۱)

رابعا فــ ۱ مسند احمد میں سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ تعالٰی عنہ سے ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: من صلی صلاۃ یشک فی النقصان فلیصل حتی یشک فی الزیادۃ ۱؎۔ جسے نماز میں کامل وناقص کا شک ہو وہ اتنی پڑھے کہ کامل وزائد میں شک ہوجائے۔

فــ۱ تطفل الثانی عشر علیہ ۔

 (۱؎ مسند احمد بن حنبل حدیث عبد الرحمن ابن عوف رضی اللہ تعالی عنہ المکتب الاسلامی بیروت    ۱ /۱۹۵)

مثلاً تین اور چار میں شُبہ تھا تو یہ تمامی ونقصان میں شک ہے اسے حکم ہے کہ ایک رکعت اور پڑھے اب چار اور پانچ میں شُبہ ہوجائے گا کہ تمامی وزیادت میں شک ہے۔ یہ حدیث سے تو اُس مطلب کی دوسری تصریح ہے ہی مگر دکھانا یہ ہے کہ اس کی شرح میں خود ملّا علی قاری فرماتے ہیں: لیبن علی الاقل المتیقن فان زیادۃ الطاعۃ خیر من نقصانھا ۲؎۔ یعنی کم پر بنا رکھے جتنی یقینا ادا کی ہیں کہ اگر واقع میں کامل ہوچکی تھیں اور ایک رکعت بڑھ گئی تو یہ اس سے بہتر ہے کہ ایک رکعت کم رہ جائے طاعت کی افزونی اس کی کمی سے افضل ہے۔
معلوم نہیں یہ حکم وضو میں کیوں نہ جاری فرمایا حالانکہ اس کی بیشی نماز میں رکعت بڑھا دینے کے برابر نہیں ہوسکتی۔

 (۲؎ مرقاۃ المفاتیح شرح مشکوٰۃ المصابیح     کتاب الصلوٰۃ باب السہو حدیث ۱۰۲۲ المکتبۃ الحبیبیہ کوئٹہ ۳ /۱۰۸)

خامسا وہ جوفــ۲ فرمایا تثلیث کے بعد شک کی کوئی وجہ نہیں اس سے مراد علم الٰہی میں تثلیث ہولینا ہے یا علم متوضی میں۔ برتقدیر ثانی بیشک شک کی کوئی وجہ نہیں مگر وہ ہرگز مراد نہیں کہ کلام شک میں ہے نہ علم میں۔ اور برتقدیر اول علم الٰہی شک عبد کا کیا منافی۔ بندہ اُس پر مکلّف ہے جو اس کے علم میں ہے نہ اس پر جو علم الٰہی میں ہے جس کے علم کی طرف اسے کوئی سبیل نہیں۔

فــ ۲ تطفل الثالث عشر علیہ ۔

سادسا فــ ۳ معلوم ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم غسل میں سرِ انور پر تین بار پانی ڈالتے اور اسی کا حکم مردوں عورتوں سب کو فرمایا خاص عورتوں کے باب میں بھی یہی حکم بالتصریح ارشاد ہوا۔

فــ ۳ تطفل الرابع عشر علیہ ۔

صحیح مسلم وسنن اربعہ میں ام المومنین ام سلمہ رضی اللہ تعالٰی عنہا سے ہے میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! میں سرگندھواتی ہوں کیا نہاتے میں کھول دیا کروں؟ فرمایا: انما یکفیک ان تحثی علی رأسک ثلث حثیات ۱؎۔ سر پر تین لپ پانی ڈال لیا کرو یہی کافی ہے۔

 (۱؂صحیح مسلم کتاب الحیض باب حکم ضفائر المغتسلۃ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۱۵۰
سنن ترمذی     ابواب الطہارۃ باب ھل تنقض المرأۃ شعرہا عندالغسل حدیث ۱۰۵ دارلفکر بیروت ۱ /۱۶۰
سنن ابن ماجہ ابواب الطہارۃباب ما جاء فی غسل النساء من الجنابۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص ۴۵
سنن ابی داؤد ابواب الطہارۃ باب المرأۃ ھل تنقض شعرھا الخ آفتاب عالم پریس لاہور ۱ /۳۳ )

آخر امر چہارم میں حدیث ابی داؤد ثوبان رضی اللہ تعالٰی عنہ سے گزری کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا: اما المراۃ فلا علیھا ان لاتنقضہ لتغرف علی رأسھا ثلث غرفات بکفیھا۲؎۔ عورت کو کچھ ضرور نہیں کہ اپنا گُندھا سر کھولے،بس تین لَپ پانی ڈال لے۔

اُم المومنین عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے طریقہ غسل میں روایت فرماتی ہیں: ثم یصب علی رأسہ ثلث غرفات بیدیہ ۳؎۔ رؤیاہ عنہا رضی اللہ تعالی عنہا۔ پھر سر مبارک پر تین لپ ڈالتے تھے ۔

 (۲؎سنن ابی داؤد ابواب الطہارۃ باب المرأۃ ھل تنقض شعرھا الخ آفتاب عالم پریس لاہور ۱ /۳۴ )
(۳؎ صحیح البخاری کتاب الغسل باب الوضوء  قبل الغسل قدیمی کتب خانہ کراچی۱ /۳۹ )

اور خود اپنا فرماتی ہیں: لقد کنت اغتسل انا ورسول اللّٰہ صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم من اناء واحد وما ازید علی ان افرغ علی رأسی ثلث افراغات رواہ احمد ومسلم ۴؎۔

میں اور رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم ایک برتن سے نہایا کرتے اور میں اپنے سر پر تین ہی بار پانی ڈالتی یعنی جعد مبارک نہ کھولتیں۔ اسے احمد ومسلم نے روایت کیا ت)

 (صحیح مسلم کتاب الحیض باب حکم ضفائر المغتسلۃ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۱۵۰
مسند احمد بن حنبل عن عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا المکتب الاسلامی بیروت ۶ /۴۳)

بااینہمہ ف۱ یہی ام المومنین صدیقہ رضی اللہ تعالٰی عنہا فرماتی ہیں: کان رسول اللّٰہ تعالی علیہ وسلم یتوضأ وضؤہ للصلاۃ ثم یفیض علی رأسہ ثلث مرار ونحن نفیض علی رؤسنا خمسا من اجل للضفر ۱؎۔ رواہ ابو داؤد۔ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نماز کا سا وضو کرکے سرِ اقدس پر تین بار پانی بہاتے تھے اور ہم بیبیاں سر گُندھے ہونے کی وجہ سے اپنے سروں پر پانچ بار پانی بہاتی ہیں۔(اس کو ابو داؤد نے روایت کیا )
اب کون کہہ سکتا ہے کہ معاذ اللہ امہات المومنین کا یہ فعل وسوسہ تھا حاشا بلکہ وہی اطمینان قلب جسے علماء کرام یہاں فرمارہے ہیں۔

فــ۱ مسئلہ عورت کے بال گندھے ہوں اور تین بار سر پر پانی بہانے سے تثلیث میں شبہ رہے تو پانچ بار بہا سکتی ہے

 (۱؎سنن ابی داؤدکتاب الطہارۃ باب فی الغسل من الجنابۃ آفتاب عالم پریس لاہور ۱ /۳۲)

سابعا وھوفــ۲ الحل  : صورتیں تین ہیں :
اول  : یہ کہ متوضی جانتا ہے کہ میں نے تین بار دھو لیا ،ہر بار بالاستیعاب ،پھر اُس کا دل مطمئن نہ ہو اور چوتھی بار اور بہانا چاہے۔
دوم : یاد نہیں کہ تین بار پانی ڈالا یا دو بار۔
سوم  : تثلیث تو معلوم ہے مگر ہر بار استیعاب میں شک ہے۔

فــ۲ :تطفل الخامس عشر علیہ۔

ملّا علی صورت اولٰی سمجھے ہیں جب تو فرماتے ہیں کہ تین پورے ہونے کے بعد شک کے کیا معنے۔ اپنا شک چھوڑے اور جو عدد شارع صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے مقرر فرمایا اُس پر قانع رہے۔ اس صورت پر اُن کا انکار بیشک صحیح ہے مگر یہ ہرگز مرادِ علماء نہیں، اُن کا کلام صورت شک میں ہے اور یہ صورت صورت علم ہے اور وسوسہ مردود دونا معتبر ہے۔ شک کی صورت دو۲ صورت اخیر ہیں وہی مرادِ ائمہ ہیں اور ان پر قاری کا کوئی اعتراض وارد نہیں ان میں طمانینت قلب ضرور مطلوبِ شرع ہے جن میں سے امہات المومنین کا پانچ بارپانی ڈالنا صورت اخیرہ ہے وباللہ التوفیق۔

بالجملہ : جس مسئلہ پر ہمارے علماء کے کلمات متظافر ہوں اپنے فہم سے اُس پر اعتراض آسان نہیں معترضین ہی کی لغزش نظر ثابت ہوتی ہے اگرچہ غنیہ وبحر وقاری جیسے ماہرین ہوں   والحمدللّٰہ رب العٰلمین۔

تنبیہ۷ :  الحمدللہ کلام اپنے منتہی کو پہنچا اور اسراف کے معنے وصور نے بھی بروجہ کامل انکشاف پایا اب بتوفیق اللہ تعالٰی تحقیق حکم کی طرف باگ پھیریں۔
اقول انصافاً چاروں قول میں کوئی ایسا نہیں ہے جسے مطروح وناقابل التفات سمجھئے۔
قول سوم کی عظمت تو محتاج بیان نہیں ،بدائع وفتح وخلاصہ کی وقعت درکنار خود ظاہر الروایۃ میں محرر المذہب کا نص ہے

قول دوم کے ساتھ حلیہ وبحر کا اوجہ کہنا ہے کہ الفاظ فتوٰی سے ہے اور امام ابو زکریا نووی کے استظہار پر نظر کیجئے تو گویا اُسی پر اجماع کا پتا چلتا ہے کہ انہوں نے اسراف سے نہی پر اجماعِ علماء نقل فرما کر نہی سے کراہت تنزیہ مراد ہونے کو اظہر بتایا ۔

قول چہارم جسے علامہ شامی نے خارج از مذہب گمان فرمایا تھا اُس کی تحقیق سُن چکے اور یہ کہ وہی مختار درمختار(۱) ونہر الفائق(۲) ومفاد(۳) منتقی وجواہر(۴) الفتاوٰی وتبیین(۵) الحقائق ہے نیز زبدہ(۶) وحجہ(۷) سے مستفاد کہ ان میں بھی کراہت مطلق ہے ،جامع الرموز میں ہے: تکرہ الزیادۃ عی الثلث کما فی الزبدۃ ۱؎۔ تین مرتبہ سے زیادہ مکروہ ہے جیسا کہ زبدہ میں ہے۔ (ت)

 (۱؎جامع الرموز کتاب الطہارۃ سنن الوضوء مکتبہ اسلامیہ گنبد قاموس ایران۱ /۳۵ )

ط    علی المراقی میں ہے: فی فتاوی الحجۃ یکرہ صب الماء فی الوضوء زیادۃ علی العدد المسنون والقدر المعھود لماورد فی الخبر شرار امتی الذین یسرفون فی صب الماء ۲؎۔ فتاوی الحجہ میں ہے وضو میں تعدا د مسنون اور مقدا معہود سے زیادہ پانی بہا نا مکروہ ہے اس لئے کہ حدیث میں آیا ہے کہ میری امت کے برے لوگ وہ ہیں جو پانی بہانے میں اسراف کرتے ہیں

 ( ۲؎ حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح کتاب الطہارۃفصل فی المکروہات دار الکتب ا لعلمیہ بیروت ص ۸۰)

بلکہ علامہ طحطاوی نے اُس پر اتفاق بتایا قول دُر الاسراف فی الماء الجاری جائز لانہ غیر مضیع۳؎  (ماء جاری میں اسراف جائز ہے اس لئے کہ پانی ضائع نہیں جاتا (ت)

 (۳؎الدرا لمختار     کتاب الطہارۃ     سنن الوضو     مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۲۲)

پر لکھتے ہیں: ای لانہ یعود الیہ ثانیا فلواخرج الماء خارجہ یکرہ اتفاقا ۱؎ اھ ومن الظاھر ان ھذہ الکراھۃ مذکورۃ فی مقابلۃ الجائز فتکون تحریمیۃ۔

یعنی اس لئے کہ پانی اس میں دوبارہ لوٹ جائیگا اگر پانی نکال کر اس کے باہر گرائے تو بالاتفاق مکروہ ہے اھ اور ظاہر یہ ہے کہ یہ مکروہ جائز کے مقابلہ میں مذکور ہے تو تحریمی ہوگا(ت)

 ( ۱؎حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار     کتاب الطہارۃ سنن الوضوء     المکتبۃ العربیہ کوئٹہ ۱ /۷۲)

اور ہماری تقریرات سابقہ سے اس کے دلائل کی قوت ظاہر ہاں قول اول بعض شافعیہ سے منقول تھا مگر علامہ محقق ابراہیم حلبی نے کتب مذہب سے غنیہ میں اُس پر جزم فرمایا کما سمعت پھر علامہ ابراہیم حلبی وعلامہ سید احمد مصری نے حواشی دُر میں اُسی پر اعتماد کیا اور اُس کے خلاف کو ضعیف بتایا درمختار میں قول مذکور جواہر نقل فرمایا: الاسراف فی الماء الجاری جائز ۲؎۔ بہتے پانی میں اسراف جائز ہے۔ (ت)

 (۲؎ الدرالمختار        کتاب الطہارت    سنن الوضوء مطبع مجتبائی دہلی    ۱ /۲۲)

علّامہ طحطاوی اُس پر فرماتے ہیں: ضعیف بل ھو مکروہ سواء کان فی وسط الماء اوفی ضفتہ حیث کان لغیر حاجۃ ۳؎ اھ حلبی

یہ قول ضعیف ہے بلکہ آب رواں میں بھی اسراف مکروہ ہے چاہے بیچ نہر میں ہو یا کنارے ہو اس لئے کہ بلاضرورت ہے اھ حلبی (ت)

 ( ۳؎حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار     کتاب الطہارۃ سنن الوضوء     المکتبۃ العربیہ کوئٹہ ۱ /۷۲)

نیز دونوں حاشیوں میں ہے: من المعلوم ان الاسراف مکروہ تحریما لاتنزیھا ۴؎۔ معلوم ہے کہ اسراف مکروہ تنزیہی نہیں تحریمی ہے ۔ (ت)

 ( ۴؎حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار     کتاب الطہارۃ سنن الوضوء     المکتبۃ العربیہ کوئٹہ ۱ /۷۲)

بلکہ شرح شرعۃ الاسلام میں ہے: ھو حرام وان کان فی شط النھر ۵؎ اسراف حرام ہے اگرچہ نہر کے کنارے پر ہو۔( ت) اور اُس کے ساتھ نص فــ۱ حدیث ہے۔

فــ۱ وضو میں ممانعت اسراف کی حدیثیں ۔

( ۵؎شرعۃ الاسلام شرح مفاتیح الجنان فصل فی تفضیل سنن الطہارۃ مکتبہ اسلامیہ کوئٹہ ص۹۱)

حدیث۱: عــہ امام احمد بن حنبل وابن ماجہ وابو یعلی اور بیہقی شعب الایمان میں عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما سے راوی: ان رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ تعالی علیہ وسلم مربسعد وھو یتوضأ فقال ماھذا السرف فقال افی الوضوء اسراف قال نعم وان کنت علی نھر جار ۱؎۔ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سعد رضی اللہ تعالٰی عنہ پر گزرے وہ وضو کررہے تھے ارشاد فرمایا: یہ اسراف کیسا؟ عرض کی: کیا وضو میں اسراف ہے؟ فرمایا: ہاں اگرچہ تم نہر رواں پر ہو۔ (ت)

عــہ :فتاوی حجہ سے ایک حدیث ابھی گزری کہ فرماتے ہیں صلی اللہ تعالی علیہ وسلم میری امت کے بد لوگ ہیں جو پانی بہانے میں اسراف کرتے ہیں۔

( ۱؎ مسند احمد بن حنبل      عن عبد اللہ بن عمر و     المکتب الاسلامی بیروت    ۲ /۲۲۱
سنن ابن ماجہ ابواب الطہارۃ باب ما جاء فی القصد فی الوضوء الخ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۳۴)

اقول :  اتمام تقریب یہ کہ حدیث نے نہر جاری میں بھی اسراف ثابت فرمایا اور اسراف شرع میں مذموم ہی ہو کر آیا ہے۔ آیہ کریمہ لاتسرفوا انہ لایحب المسرفین۲؎  (اور اسراف نہ کرو اللہ مسرفین کو محبوب نہیں رکھتا۔ ت) مطلق ہے تو یہ اسراف بھی مذموم وممنوع ہی ہوگا بلکہ خود اسراف فی الوضوء میں بھی صیغہ نہی وارد اور نہی حقیقۃً مفید تحریم۔

حدیث۲: سنن ابن ماجہ میں عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما سے ہے: رأی رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ تعالی علیہ وسلم رجلا یتوضأ فقال لاتسرف لاتسرف ۳؎۔ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے ایک شخص کو وضو کرتے دیکھا فرمایا اسراف نہ کر اسراف نہ کر۔

 ( ۲؎ القرآن الکریم         ۶ /۱۴۱ و۷ /۳۱)
(۳؎ سنن ابن ماجۃ ابواب الطہارۃ باب ماجاء فی القصد فی الوضوء الخ     ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۳۴

حدیث۳ :سعید بن منصور سنن اور حاکم کُنٰی اور ابن عساکر تاریخ میں ابن شہاب زہری سے مرسلا راوی رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے ایک شخص کو وضو کرتے دیکھا فرمایا ! یاعبداللّٰہ لاتسرف ۵؎  (اللہ کے بندے اسراف نہ کر۔ ت) انہوں نے عرض کی: یانبی اللّٰہ وفی الوضوء اسراف قال نعم (زاد الاخیران) وفی کل شیئ اسراف ۱؎ یا رسول اللہ! کیا وضو میں بھی اسراف ہے؟ فرمایا :ہاں اور ہر شے میں اسراف کودخل ہے۔

 (تاریخ دمشق الکبیر ترجمہ ابو عیسٰی الدمشقی ۹۰۸۱ دار احیاء التراث العربی بیروت ۷۱ /۹۴
کنز العمال بحوالہ الحاکم فی الکنٰی و ابن عساکر عن الزہری مرسلا حدیث ۲۶۲۶۱ موسسۃ الرسالہ بیروت۹ /۳۲۷)

حدیث۴: مرسل یحیٰی بن ابی عمرو کہ بیان معانی اسراف میں گزری : فی الوضوء اسراف وفی کل شیئ اسراف ۲؎ وضو میں اسراف ہے اور ہر شے میں اسراف ہے۔

 (۲؎کنز العمال بحوالہ یحیی بن ابی عمر الشیبانی حدیث ۲۶۲۴۸ موسسۃ الرسالہ بیروت۹ /۳۲۵ )

حدیث۵: ترمذی وابن ماجہ وحاکم حضرت اُبی بن کعب رضی اللہ تعالٰی عنہ سے راوی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ان للوضوء شیطانا یقال لہ الولہان فاتقوا وسواس الماء ۳؎۔ بے شک وضو کیلئے ایک شیطان ہے جس کانام وَلَہان ہے تو پانی کے وسواس سے بچو۔

 (۳؎سنن الترمذی ابواب الطہارۃ باب ما جاء فی کراھیۃ الاسراف حدیث ۵۷ دار الفکر بیروت۱ /۱۲۲
سنن ابن ماجہ ابواب الطہارت باب ما جاء فی القصد فی الوضوء الخ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص ۳۴)

حدیث۶: مسند احمد وسنن ابی داؤد وابن ماجہ وصحیح ابن حبان ومستدرک حاکم میں عبداللہ بن مغفل رضی اللہ تعالٰی عنہ سے ہے رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں: انہ سیکون فی ھذہ الامۃ قوم یعتدون فی الطہور والدعاء ۴؎۔ بیشک عنقریب اس اُمت میں وہ لوگ ہوں گے کہ طہارت ودعاء میں حد سے بڑھیں گے۔

 (۴؎ سنن ابو داؤد کتاب الطہارۃ     باب الاسراف فی الوضوء     آفتاب عالم پریس لاہور    ۱ /۱۳
مشکوۃ المصابیح بحوالہ احمد و ابی داؤدوابن ماجہ کتاب الطہارت با ب سنن الوضو قدیمی کتب خانہ کراچی ص ۴۷ )

اور اللہ عزوجل فرماتا ہے: ومن یتعد حدوداللّٰہ فقد ظلم نفسہ ۵؎۔ جو اللہ تعالٰی کی باندھی حدوں سے بڑھے بیشک اس نے اپنی جان پر ظلم کیا۔

 (۵؎ القرآن الکریم     ۶۵ /۱)

حدیث۷: ابو نعیم حلیہ میں انس رضی اللہ تعالٰی عنہ سے راوی: لاخیر فی صب الماء الکثیر فی الوضوء وانہ من الشیطان ۱؎۔ وضو میں بہت سا پانی بھپکانے میں کچھ خیر نہیں اور وہ شیطان کی طرف سے ہے۔

 ( ۱؎ کنز العمال     بحوالہ ابی نعیم عن انس حدیث ۲۶۲۶۰    مؤسسۃ الرسالۃ بیروت    ۹ /۳۲۷)

نفی خیر اپنے فــ۱ معنی لغوی پر اگرچہ مباح سے بھی ممکن کہ جب طرفین برابر ہیں تو کسی میں نہ خیر نہ شرو لہٰذا علامہ عمر نے نہرالفائق میں مسئلہ فــ۲ کراہت کلام بعد طلوع فجر تا طلوع شمس وبعد نماز فــ۳ عشا میں فرمایا: المراد مالیس بخیر وانما یتحقق فی کلام ھو عبادۃ اذالمباح لاخیر فیہ کما لااثم فیہ فیکرہ فی ھذہ الاوقات کلہا ۱؎ نقلہ السید ابو السعود فی فتح اللّٰہ المعین۔ مراد وہ کلام ہے جو خیر نہ ہو اور خیر کا تحقق اسی کلام میں ہوگا جو عبادت ہو اس لئے کہ مباح میں'' کوئی خیر نہیں'' جیسے اس میں '' کوئی گناہ نہیں تو مباح کلام بھی ان اوقات میں مکروہ ہوگا اسے سید ابو السعود نے فتح اللہ المعین میں نہر سے نقل کیا(ت)

فــ۱: تحقیق مفاد لا خیر فیہ ۔
فــ۲ مسئلہ طلوع صبح صادق سے طلوع شمس تک دنیاوی کلام مطلقا مکروہ ہے ۔
فــ۳ مسئلہ نماز عشاء پڑھنے کے بعد بے حاجت دنیاوی باتوں میں اشتغال مکروہ ہے۔

 (النہر الفائق کتاب الصلوۃ قبیل باب الاذان قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۱۶۹
فتح المعین کتاب الصلوۃ قبیل باب الاذان ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ /۱۴۷)

اقول مگر نظرِ دقیق لیس بخیر اور لاخیر فیہ میں فرق کرتی ہے مباح ضرور، نہ خیر نہ شر ،مگر اُس کے فعل پر مواخذہ نہیں ،اور مؤاخذہ نہ ہونا خود خیر کثیر ونفع عظیم ہے تو لاخیر فیہ وہیں اطلاق ہوگا جہاں شر حاصل ہو۔ فاصاب فــ۴ رحمہ اللّٰہ تعالی فی قولہ المراد مالیس بخیر وتسامح فی قولہ لاخیر فیہ فحق العبارۃ المباح لیس بخیر کما انہ لیس بشر۔ صاحب النہر نے یہ تو ٹھیک فرمایا کہ مراد مالیس بخیر (وہ جو خیر نہیں ) اور اس میں ان سے تسامح ہوا کہ المباح لا خیر فیہ (مباح میں کوئی خیر نہیں ) صحیح تعبیر یہ تھی کہ المباح لیس بخیر کما انہ لیس بشر مباح اچھا نہیں جیسے کہ وہ برا بھی نہیں ۔(ت)

فــ۴: تطفل علی النہر ومن تبعہ ۔

ولہٰذا جبکہ ہدایہ میں فرمایا: لاخیر فی السلم فی اللحم ۱؎  (گوشت میں بیع سلم بہتر نہیں۔ ت)

محقق علی الاطلاق نے فتح میں فرمایا: ھذہ العبارۃ تاکید فی نفی الجواز ۲؎ ( یہ عبارت نفی جواز کی تاکید کرتی ہے۔ ت)

 ( ۱؎الہدایہ کتاب البیوع باب السلم مطبع یوسفی لکھنؤ۳ /۹۵)
( ۲؎ فتح القدیر کتاب البیوع باب السلم مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۶ /۲۱۵)

اقول رب عزوجل فرماتا ہے: لاخیر فی کثیر من نجوٰھم الا من امر بصدقۃ اومعروف اواصلاح بین الناس ۳؎۔ ان کے اکثر مشوروں میں کچھ بھلائی نہیں مگر جو حکم دے خیرات ،اچھی با ت ،یا لوگوں میں صلح کرنے کا۔ (ت)

 (۳؎ القرآن الکریم۴ / ۱۱۴)

ہر معروف کو استثنا فرمالیا اور ہر طاعت معروف ہے تو باقی نہ رہے مگر مباح یا معاصی تو اگر لاخیر فیہ مباح کو بھی شامل ہوتا فی کثیر نہ فرماتے بلکہ فی شی من نجوٰھم لاجرم وہ معصیت کے ساتھ خاص ہے واللہ تعالٰی اعلم۔

حدیث۸ :حدیث صحیح جس کی طرف بارہا اشارہ گزرا احمد وسعید بن منصور وابن ابی شیبہ وابو داؤد ونسائی وابن ماجہ وطحاوی عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالٰی عنہما سے راوی ایک اعرابی نے خدمت اقدس حضور سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم میں حاضر ہوکر وضو کو پوچھا حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے انہیں وضو کر کے دکھایا جس میں ہر عضو تین تین بار دھویا پھر فرمایا: ھکذا الوضوء فمن زاد علی ھذا اونقص فقد اساء وظلم اوظلم واساء ۴؎ ھذا لفظ د وقد اوردہ مطولا مع ذکر صفۃ الوضو۔ اسی طرح ہے وضو تو جس نے اس پر بڑھایاگھٹایا تویقینااس نے برا کیااور ظلم کیا۔۔یا (فرمایا ) ظلم کیا اور برا کیا ۔۔یہ ابوداؤ د کے الفاظ ہیں اور انہوں نے یہ حدیث طریقہ وضو کے بیان کے ساتھ طویل ذکر کی ہے ۔

 ( ۴؎ سنن ابی داؤد کتاب الطہارۃ باب الوضوء ثلثا آفتاب عالم پریس لاہور۱ /۱۸)

ومثلہ لفظ الامام الطحاوی ومقتصرا علی قولہ اساء وظلم من دون شک۱؎ اسی کے مثل امام طحاوی کے بھی الفاظ ہیں اور ان کی راویت میں بغیر شک صرف اتنا ہے کہ اس '' اس نے برا کیا اور ظلم کیا ''

ولفظ س وق فمن زاد علی ھذا فقد اساء وتعدی وظلم ۲؎ اور نسائی و ابن ماجہ کے الفاظ یہ ہیں : تو جس نے اس پر زیادتی کی بہ تحقیق اس نے بر اکیا اور حد سے بڑھا اور ظلم کیا ۔

ولفظ سعید وابی بکر فمن زاد اونقص فقد تعدی وظلم ۳؎۔ سعید بن منصور اور ابوبکر بن شیبہ کے الفاظ یہ ہیں جس نے زیادتی یا کمی کی تو یقینا وہ حد سے بڑھا اور ظلم کیا ۔۔ (ت)

 ( ۱؎شرح معانی الاثار کتاب الطہارۃ با ب فرض الرجلین فی وضوء الصلوۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ /۳۲)
(۲؎سنن ابن ماجہ ابواب الطہارۃ باب ما جاء فی قصد الوضوء الخ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص۳۴)
( ۳؎المصنف ابن ابی شیبۃ کتاب النہارۃ باب الوضوء کم ہو مرۃ حدیث ۵۸ دار الکتب العلمیہ بیروت ۱ /۱۷)

(ان تمام روایات کا حاصل یہ ہوا کہ ) وضو اس طرح ہے جس نے اس پر بڑھایا یا گھٹایا اُس نے بُرا کیا اور حد سے بڑھا اور ظلم کیا۔ یہ تمام احادیث مطلق ہیں اور مذہب اول وچہارم کی مؤید بالجملہ ان میں کوئی مذہب مطر ودو مطروح نہیں لہٰذا راہ یہ ہے کہ بتوفیق الٰہی جانبِ توفیق چلئے۔

فاقول وباللہ فــ التوفیق وبہ الاصول الی ذری التحقیق : (تحقیق کی انتہاء تک پہنچنا اللہ ہی کی توفیق سے ہے۔ ت) تقدیر شرعی سے زیادہ پانی ڈالنا سہواً ہوگا یا بحال شک یا دیدہ ودانستہ۔

اول یہ کہ تین بار استیعاباً دھو لیا اور یاد رہا کہ دو ہی بار دھویا ہے۔اور دوم یہ کہ مثلاً دو یا تین میں شبہ ہوگیا، یہ دونوں صورتیں یقینا ممانعت سے خارج ہیں۔ لقولہ صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم رفع عن امتی الخطأ والنسیان ۱؎ اس لئے حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کا ارشادہے میری اُمّت سے خطاء ونسیان اٹھا لیا گیا ہے ۔ (ت)

 (۴؎ الجامع الصغیر حدیث ۴۴۶۱ دار الکتب العلمیہ بیروت        ۲ /۲۷۳
کشف الخفاء حدیث ۱۳۹۱ دار الکتب العلمیہ بیروت ۱ /۳۸۲
کشف الخفاء حدیث ۱۳۰۵ دار الکتب العلمیہ بیروت ۱ /۳۶۰)

وقولہ صلی اللّٰہ تعالی علیہ وسلم دع مایریبک ۲؎۔ اور حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کا ارشاد ہے : جو شک پیدا کرے اسے چھوڑ وہ لو جس میں شک نہ ہو ۔

 (۲؎الجامع الصغیر حدیث ۴۲۱۱تا ۴۲۱۴ دار الکتب العلمیہ بیروت ۲ /۲۵۶و۲۵۷)

اور دیدہ ودانستہ کسی غرض صحیح وجائز کیلئے ہوگا یا غرض فاسد وممنوع کیلئے یا محض بلا وجہ، برتقدیر اول کسی طرح اسراف نہیں ہوسکتا نہ اُس سے منع کی کوئی وجہ ،عام ازینکہ وہ غرض غرض مطلوب شرعی ہو جیسے منہ سے ازالہ بدبو یا پان یا چھالیہ کے ریزوں کا اخراج، یا حسب بیانات سابقہ وضو علی الوضو کی نیت یا غرض صحیح جسمانی جیسے میل کا ازالہ یا شدت گرما میں تحصیل برودت۔ تواب نہ رہیں مگر دو صورتیں اور یہی ان اقوالِ اربعہ میں زیر بحث ہیں تحقیق معنی اسراف میں ہمارا بیان یاد کیجئے یہ وہی دو قطب ہیں جن پر اُس کا فلک دورہ کرتا ہے اور یہ بھی اُسی تقریر پر نظر ڈالے سے واضح ہوگا کہ ان صورتوں میں کی اول یعنی غرض فاسد وناروا کیلئے تقدیر شرعی پر زیادت مطلقا ممنوع وناجائز ہے اگرچہ پانی اصلا ضائع نہ ہو۔

قول اوّل کا یہی محمل ہے اور حق صریح بلکہ مجمع علیہ ہے اور اسی پر حمل کے لئے ہمارے علماء نے حدیث ہشتم کو صورت فساد اعتقاد پر محمول فرمایا یعنی جبکہ جانے کہ تقدیر شرعی سے زیادہ ہی میں سنّت حاصل ہوگی۔ ظاہر ہے کہ اس نیت فاسدہ سے نہر نہیں سمندر میں ایک چُلّو بلکہ ایک بوند زیادہ ڈالنا اسراف وگناہ ناجائز ہوگا کہ اصل گناہ اُس نیت میں ہے ،گناہ کی نیت سے جو کچھ کرے گا سب گناہ ہوگا۔ رہی صورت اخیرہ کہ محض بلا وجہ زیادت ہو، اوپر واضح ہولیا کہ یہاں تحقیق اسراف وحصول ممانعت اضاعت پر موقوف ہے تو اس صورت میں دیکھنا ہوگا کہ پانی ضائع ہوا یا نہیں، اگر ہوا مثلاً زمین پر بہہ گیا اور کسی مصرف میں کام نہ آیا تو ضرور اسراف وناروا ہے۔ اور یہی محمل قول چہارم ہے اور یقینا صواب وصحیح بلکہ متفق علیہ ہے کون کہے گا کہ بیکار پانی ضائع کرنا جائز وروا ہے۔ باقی رہی ایک شکل کہ زیادت ہو تو بلاوجہ مگر پانی ضائع نہ ہو۔ مثلاً بلا وجہ چوتھی بار پانی اس طرح ڈالے کہ نہر میں گرے یا کسی پیڑ کے تھالے میں جسے پانی کی حاجت ہے یا کسی برتن میں جس کا پانی اسپ وگاؤ وغیرہ جانوروں کو پلایا جائے گا یا گارا بنانے کیلئے تغار میں پڑے گا یا زمین ہی پرگرا مگر موسم گرما ہے چھڑکاؤ کی حاجت ہے یا ہوا سے ریتا اڑتا ہے اس کے دبانے کی ضرورت ہے اور انہیں کے مثل اور اغراض صحیحہ جن کے سبب پانی ضائع نہ جائے۔ یہ غرضیں اگرچہ صحیح وروا ہیں، جن کی سبب اضاعت نہ ہوگی مگر اعضا پر یہ پانی مثلاً چوتھی بار ڈالنا محض بے وجہ ہی رہا کہ یہ غرضیں تو برتن میں ڈالنا یا زمین پر بہانا چاہتی ہیں عضو پر ڈال کر گرانے کو ان میں کیا دخل تھا لاجرم وہ عبث محض رہا مگر پانی ضائع نہ ہوگیا تو اسراف کی کوئی صورت متحقق نہ ہوئی اور اس کے ممنوع وناجائز ہونے کی کوئی وجہ نہیں یہی قول دوم وسوم کا محمل ہے اور قطعا مقبول وبے خلل ہے بلکہ اتفاق واطباق کا محمل ہے۔ اب نہ باقی رہی مگر ان دونوں قولوں پر نظر وہ ایک مقدمہ کی تقدیم چاہتی ہے۔

فاقول وباللہ التوفیق فائدہ تحقیق فــ معنی وحکمِ عبث میں تتبع کلمات علماء  سے اس کی تعریف وجوہِ عدیدہ پر ملے گی۔ فــ : عبث کسے کہتے ہیں اور اس کا حکم کیا ہے۔
(۱) جس فعل میں غرض غیر صحیح ہو وہ عبث ہے اور اصلا غرض نہ ہو تو سفہ۔ یہ تفسیر امام بدرالدین کردری کی ہے امام نسفی نے مستصفی پھر علامہ حلبی نے غنیہ میں اسی طرح اُن سے نقل فرما کر اس پر اعتماد کیا اور محقق علی الاطلاق نے فتح القدیر اور علامہ طرابلسی نے برہان شرح مواہب الرحمن اور دیگر شراح نے شروح ہدایہ وغیرہا میں اسی کو اختیار فرمایا غنیہ حلبیہ میں ہے:

فی المستصفی قال الامام بدر الدین یعنی الکردری العبث الفعل الذی فیہ غرض غیر صحیح والسفہ مالاغرض فیہ اصلا ۱؎۔ مستصفی میں ہے کہ امام بدرالدین عینی کردری نے فرمایا:فرماتے ہیں عبث وہ فعل ہے جس میں کوئی غرض غیر صحیح ہو، اور سَفہ وہ ہے جس میں بالکل کوئی غرض نہ ہو ۔( ت)

 (۱؎ غنیۃ المستملی شرح منیۃ المصلی کراھیۃ الصلوۃ سہیل اکیڈمی لاہور ص۳۴۹)

غنیہ شرنبلالیہ میں ہے: فی البرھان ھو فعل لغرض غیر صحیح ۱؎۔ برہا ن میں ہے وہ ایسا کا م ہے جو غرض غیر صحیح کے لئے ہو۔(ت)

 ( ۱؎ غنیۃ ذوی الاحکام حاشیۃ علی الدررالحکام باب ما یفسدالصلٰوۃ الخ میر محمد کتب خانہ کراچی ۱ /۱۰۷)

فتح میں ہے: العبث الفعل لغرض غیر صحیح ۲؎۔ عبث غرض غیر صحیح کے لئے کوئی کام کر نا ہے ۔ ت

 (۲؎فتح القدیر کتاب الصلوٰۃ فصل ویکرہ للمصلی الخ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ /۳۵۶ )

 (۲) جس میں غرض غیر شرعی ہو۔
اقول یہ اول سے اعم ہے کہ ہر غرض غیر صحیح غیر شرعی ہے اور ضرور نہیں کہ ہر غرض غیر شرعی غیر صحیح ہو جیسے ٹھنڈ کیلئے زیادہ پانی ڈالنا کہ غرض صحیح ہے مگر شرعی نہیں۔ علّامہ اکمل اور اُن کی تبعیت سے حلیہ وبحر نے امام بدرالدین سے اسی طرح نقل کیا عنایہ میں ہے: قال بدرالدین الکردری العبث الفعل الذی فیہ غرض لکنہ لیس بشرعی والسفہ مالا غرض فیہ اصلا ۳؎۔ بدرالدین کردری نے فرمایا : عبث وہ کام ہے جس میں کوئی غرض تو ہولیکن شرعی نہ ہو اور سَفہ وہ ہے جس میں کوئی غرض ہی نہ ہو۔( ت)

 (۳العنایۃ شرح الہدایۃ علی ہامش فتح القدیر کتاب الصلوۃ الخ فصل ویکرہ للمصلی الخ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ /۳۵۶)

 (۳) جس میں غرض صحیح نہ ہو۔
اقول : یہ ان دونوں سے اعم ہے کہ اصلا عدم غرض کو بھی شامل اور ثانی سے اخص بھی کہ غرض غیر شرعی صحیح کو بھی شامل یہ تفسیر امام حمید الدین کی ہے عنایہ میں بعد عبارت مذکور ہے : وقال حمید الدین العبث کل عمل لیس فیہ غرض صحیح ۴؎ امام حمید الدین نے فرمایا:عبث ہر وہ کام ہے جس میں کوئی غرض صحیح نہ ہو۔

 (۴؎العنایۃ شرح الہدایۃ علی ہامش فتح القدیر کتاب الصلوۃ الخ فصل ویکرہ للمصلی الخ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ /۳۵۶)

مفردات راغب میں ہے: یقال لما لیس لہ غرض صحیح عبث۔۵؎ عبث اسے کہا جاتا ہے جس میں کوئی غرض صحیح نہ ہو ۔( ت)

تفسیر رغائب الفرقان میں ہے: ھو الفعل الذی لاغایۃ لہ صحیحۃ ۱؎ عبث ایسا کام ہے جس کا کوئی صحیح مقصد نہ ہو۔ (ت)

 (۵؎ المفردات امام راغب    باب العین مع الباء         نورمحمد کارخانہ تجارت کتب کراچی    ص۳۲۲)
(۱؎ غرائب القرآن ورغائب الفرقان تحت الایۃ ۲۳ /۱۱۵    مصطفی البابی مصر        ۱۸ /۴۲)

 (۴) غرض شرعی نہ ہو۔
اقول یہ اول ثانی ثالث سب سے اعم مطلقا ہے کہ انتفائے غرض صحیح انتفائے غرض شرعی کو مستلزم ہے اور عکس نہیں اور انتفائے غرض شرعی انتفائے مطلق غرض سے بھی حاصل امام نسفی اپنی وافی کی شرح کافی میں فرماتے ہیں: العبث مالا غرض فیہ شرعا فانما کرہ لانہ غیر مفید ۲؎ عبث بلا ضرورت شرعی مکروہ ہے اس لئے کہ یہ بے فائدہ ہے۔ (ت)

 (۲؎ الکافی شرح الوافی )

 (۵) جس میں فاعل کیلئے کوئی غرض صحیح نہ ہو۔
اقول یہ ۱ و ۳ سے اعم عـــہ مطلقا ہے کہ ممکن کہ فعل غرض صحیح رکھتا ہو اور فاعل بے غرض یا غرض صحیح کیلئے کرے اور ۲ و ۴ سے اعم من وجہ کہ غرض فاسد میں تینوں صادق اور غرض صحیح غیر شرعی مقصود فاعل ہے تو وہ دو صادق خامس منتفی اور غرض شرعی میں مقصود فاعل ہے تو بالعکس۔

عــہ: اور اگر قصد غلط بھی ملحوظ کر لیجئے کہ جس فعل کی غرض فاسد ہے یہ جہلا اس سے غرض صحیح کا قصد کرے تو ان دو سے بھی عام من وجہ ہوگا ۱۲منہ ۔

تعریفات السید میں ہے: وقیل مالیس فیہ غرض صحیح لفاعلہ ۳؎ اھ اور کہا گیا کہ عبث وہ کام ہے جس میں کرنے والے کی کوئی غرض صحیح نہ ہو۔ (ت)

 (۳؎ التعریفات للسید الشریف باب العین انتشارات ناصر خسرو تہران ایران ص ۶۳)

اقول : اشارفــ الی ضعفہ وسیاتیک ان شاء اللّٰہ تعالٰی انہ الحق۔

اقول  : حضرت سید نے اس کے ضعیف ہونے کا اشارہ دیا اور اِن شاء اللہ تعالٰی آگے بیان ہوگا کہ یہی تعریف حق ہے ۔ (ت)

فــ: تطفل علی العلامۃ الشریف ۔

(۶) بے فائدہ کام۔

بحرالرائق میں نہایہ امام سغناقی سے ہے : مالیس بمفید فھو العبث ۱؎ جو فائدہ مند نہ ہو وہ عبث ہے۔( ت)

(۱؎ بحرالرائق کتاب الصلوٰۃ باب مایفسد الصلوٰۃ وما یکرہ فیہا     ایچ ایم سعید کمپنی کراچی۲ /۱۹)

امام سیوطی کی درنثیر میں ہے: عبثا ای لالمنفعۃ ۲؎ عبث یعنی بے فائدہ ۔ (ت)

 (۲؎ درنثیر )

مراقی الفلاح میں ہے: العبث عمل لافائدۃ فیہ ولا حکمۃ تقتضیہ ۳؎ عبث وہ کام ہے جس میں نہ کوئی فائدہ ہو نہ کو ئی حکمت اس کی مقتضی ہو ۔ (ت)

(۳؎ مراقی الفلاح مع حاشیۃ الطحطاوی کتاب الصلوٰۃ فصل فی المکروہات دارالکتب العلمیہ بیروت ص۳۴۵)

جلالین میں ہے:  عبثا لالحکمۃ ۴؎  (عبث بے حکمت۔ ت)

 (۴؎ جلالین    تحت الآیۃ ۲۳ /۱۱۵    النصف الثانی مطبع مجتبائی دہلی ص۲۹۱)

غنیہ میں ہے:  الفرقعۃ فعل لافائدۃ فیہ فکان کالعبث ۵؎

(انگلیاں چٹخانا ایسا کام ہے جس میں کوئی فائدہ نہیں تو یہ عبث کی طرح ہوا ۔( ت)

(۵؎ غنیۃ المستملی    کراھیۃ الصلوٰۃ    سہیل اکیڈمی لاہور        ص۳۴۹)

اقول : عبدالملک بن جریج تابعی نے کہ عبث کو باطل سے تفسیر کیا اسی معنے کی طرف مشیر ہے: فان الشیئ اذا خلا عن الثمرۃ بطل (کیونکہ شے کا جب کوئی ثمرہ نہ ہو تو وہ باطل ہے۔ ت)

تفسیر ابن جریر میں اُن سے مروی: عبثا قال باطلا ۶؎(عَبث کے معنی میں کہا باطل ۔ ت)

( ۶؎ جامع البیان( تفسیر ابن جریر)تحت الآیۃ ۲۳ /۵۱۱      دار احیاء التراث العربی بیروت         ۱۸ /۷۹)

 (۷) جس میں فائدہ معتد بہانہ ہو۔
تاج العروس میں ہے: قیل العبث مالافائدۃ فیہ یعتد بھا ۱؎ کہا گیا عَبث ایساکام ہے جس میں کوئی قابل لحاظ فائدہ نہ ہو۔( ت)

(۱؎ تاج العروس     باب الثا ء فصل العین دار احیاء التراث العربی بیروت     ۱ /۶۳۲)

اقول  : اسی طرف کلام علّامہ ابو السعود ناظر کہ ارشاد العقل میں فرمایا: عبثا بغیر حکمۃ بالغۃ۲؎ اھ فافھم عبث جس میں کوئی حکمت بالغہ نہ ہو اھ تو اسے سمجھو ۔ (ت)

(۲؎ ارشاد العقل السلیم     تحت الآیۃ     ۲۳  /۱۱۵ دار احیاء التراث العربی بیروت        ۶  /۱۵۳)

(۸) اُس کام کے قابل فائدہ نہ ہو یعنی اُس میں جتنی محنت ہو نفع اس سے کم ہو۔

اقول : اسے ہفتم سے عموم وخصوص من وجہ ہے کہ اگر کام نہایت سہل ہوا جس میں کوئی محنت معتد بہا نہیں
تو فائدہ غیر معتمد بہا اُس کے قابل ہوگا اس تقدیرپر ہفتم صادق ہوگا نہ ہشتم اور اگر فائدہ فی نفسہا معتد بہا ہے مگر اُس کام کے لائق نہیں تو ہشتم صادق ہوگا نہ ہفتم۔

علّامہ شہاب کی عنایۃ القاضی میں ہے: العبث کاللعب ماخلا عن الفائدۃ مطلقا او عن الفائدۃ المعتد بھا اوعما یقاوم الفعل کما ذکرہ الاصولیون ۳؎۔

عبث لعب کی طرح کام ہے جس میں مطلقا کوئی فائدہ نہ ہویا قابل لحاظ فائدہ نہ ہو یا اس فعل کے مقابل فائدہ نہ ہو جیسا کہ اہل اصول نے ذکر کیا۔ (ت)

(۴؎ عنایۃ القاضی وکفایۃ الراضی تحت الایۃ ۲۳ /۱۱۵    دار احیاء التراث العربی بیروت        ۶ /۶۱۱)

اقول : مقابلہ مشعر مغایرت ہے یوں یہ قول اضعف الاقوال ہوگا کہ خاص مشقت طلب کاموں سے خاص رہے گا ہاں اگر معتدبہ سے معتدبہ بنظر فعل مراد لیں تو ہفتم وہشتم ایک ہوجائیں گے اور اعتراض نہ رہے گا اور کہہ سکتے ہیں کہ تغییر تعبیر مجوز مقابلہ ہے۔
(۹) وہ کام جس کا فائدہ معلوم نہ ہو۔
اقول اولا مراد عدم علم فاعل ہے تو حکیم کے دقیق کام جن کا فائدہ عام لوگوں کی فہم سے ورا ہو عبث نہیں ہوسکتے۔
ثانیا حکمت وغایت میں فرق ہے احکام تعبدیہ غیر معقولۃ المعنی کی حکمت ہمیں معلوم نہیں فائدہ معلوم ہے کہ الاسلام گردن نہادن۔

ثالثا :  عدم علم مستلزم عدم نہیں تو یہ تفسیر اُن تینوں سے اعم ہے۔تعریفات السید میں ہے: العبث ارتکاب امر غیر معلوم الفائدۃ ۱؎ عبث ایسے امر کا ارتکاب جس کا فائدہ معلوم نہ ہو ۔ (ت)

 ( ۱؎ التعریفات للسید الشریف         باب العین        انتشارات ناصر خسرو تہران ایران     ص۶۳)

اقول : مگر فــ۱ علم بے قصد کیا مفید بلکہ اس کی شناعت اور مزید تو یہ حد جامع نہیں۔

فــ۱: تطفل اٰ خر علیہ ۔

 (۱۰) وہ کام جس سے فائدہ مقصود نہ ہوا قول یہ نہم سے بھی اعم کہ عدم علم عدم قصد کو مستلزم ولا عکس تاج العروس میں ہے: وقیل ما لایقصد بہ فائدۃ ۲؎ اھ اور کہا گیا وہ جس سے کوئی فائدہ مقصود نہ ہو۔ اھ

 (۲؎ تاج العروس باب الثاء    فصل العین         دار احیاء التراث العربی بیروت     ۱ /۶۳۲)

اقول : اومافــ۲ الی تزیفہ وستسمع بعونہ تعالی انہ ھو الصحیح ۔ اقول : اس کی خامی کا اشارہ دیا اور بعونہ تعالٰی آگے واضع ہوگا کہ یہی تعریف صحیح ہے۔ (ت)

فــ۲ معروضۃ علی السید مرتضٰی ۔

 (۱۱) بے لذت کام عبث ہے اور لذّت ہو تو لعب۔جوہرہ نیرہ میں ہے: العبث کل فعل لالذۃ فیہ فاما الذی فیہ لذۃ فھو لعب ۳؎ عبث ہروہ کام جس میں کوئی لذت نہ ہو اور جس میں کوئی لذت  ہو وہ  لعب ہے۔ ت)

 (۳؎ الجوہرۃ النیرۃ     کتاب الصلوٰۃباب صفۃ الصلوٰۃ         مکتبہ امدادیہ ملتان    ۱ /۷۴)

اقول : یہ فــ۳ اپنے اس ارسال پر بدیہی البطلان ہے نہ ہر بے لذت کام عبث جیسے دوائے تلخ پینا، نہ ہر لذت والا لعب جیسے درود شریف ونعت مقدس کا ورد۔ تو بعض تعریفات مذکورہ سے اُسے مقید کرنا لازم مثلاً یہ کہ جس فعل میں غرض صحیح نہ ہو۔

فــ۳ تطفل علی الجوھرۃ ۔

 (۱۲) عبث ولعب ایک شے ہیں۔ یہ تفسیر سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما سے ہے، اورکثرت اقوال بھی اسی طرف ہے۔ ابن جریر اُس جناب مشرف بہ تشریف اللھم علمہ الکتاب سے راوی تعبثون تلعبون ۴؎ تم عبث کرتے ہو یعنی کھیل کود کرتے ہو ۔ (ت)

 (۴؎ جامع البیان ( تفسیر ابن جریر)    تحت الایۃ ۲۶ /۱۲۸      دار احیاء التراث العربی بیروت ۱۹ /۱۱۱)

بعینہٖ اسی طرح اُن کے تلمیذ ضحاک سے روایت کیا۔ نہایہ اثیریہ ومختار الصحاح میں ہے: العبث اللعب ۱؎ عبث لعب ہے۔ (ت) اسی طرح سمین وجمل میں ہے وسیاتی مصباح المنیر وقاموس میں ہے: عبث کفرح لعب ۲؎  (عبث فرِ ح کی طرح ہے(یعنی باب سمع سے ہے )کھیل کا نام ہے۔(ت) تاج العروس میں ہے: عابث لاعب بمالا یعینہ ولیس من بالہ۳؎  (عابث ایسا کھیل کرنے والا جو بے معنی اور جس سے اسے کام نہیں ۔ (ت)

 (۱؎النہایہ فی غریب الحدیث والاثر باب العین مع الباء دار الکتب العلمیہ بیروت ۳ /۱۵۴
مختار الصحاح        باب العین         موسسۃ علوم القرآن بیروت        ص۴۰۷)
۲؎القاموس المحیط    باب الثاء فصل العین     مصطفی البابی مصر    ۱ /۱۷۶
(۳؎ تاج العروس باب الثاء    فصل العین         دار احیاء التراث العربی بیروت     ۱ /۶۳۲)

صراح میں ہے: عبث بازی ۴؎  (عبث ایک کھیل ہے ۔ت) درر شرح غرر میں ہے: عبثہ ای لعبہ ۵؎  (عبث یعنی لعب۔ ت) مفرداتِ راغب میں ہے: العبث ان یخلط بعملہ لعبا ۶؎ الخ عبث یہ ہے کہ اپنے کام میں کوئی کھیل ملا لے ۔ ت)

 (۴؎صراح باب الثاء فصل العین     مطبع مجیدی کانپور ۱ /۷۵)
(۵؎االدررالحکام فی شرح غرر الاحکام کتاب الصلوٰۃ باب ما یفسد الصلوٰۃ وما یکرہ فیہا میر محمد کتب خانہ کراچی ۱ /۱۰۷ )
(۶؎المفردات باب العین مع الباء نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ص۳۲۲)

اقول  : وانما صار عبثا لما خلط لالذاتہ فالعبث حقیقۃ ماخلط لاما خلط بہ ۔

اقو ل وہ کام عبث اسی کھیل کی وجہ سے ہوا جو اس میں ملا دیا خود عبث نہ ہوا تو عبث حقیقتا وہ ہے جس کو ملا یا گیاوہ نہیں جس میں ملایا گیا۔(ت) طحطاوی علی الدر میں ہے:

العبث اللعب وقیل مالا لذۃ فیہ واللعب مافیہ لذۃ ۷؎

عبث کھیل کو کہتے ہیں او ر کہاگیاوہ جس میں کوئی لذت نہ ہو اور لعب وہ جس میں کوئی لذت ہو ۔( ت)

 (۷؎حاشیۃ الطحطاوی علی الدر المختار باب ما یفسد الصلوٰۃ وما یکرہ فیہا المکتبۃ العربیۃ کوئٹہ ۱ /۲۷۰)

تفسیر ابن جریر میں ہے:  عبثا لعبا وباطلا ۱؎ عبث جولعب اورباطل ہے۔ (ت)

 (۱؎ جامع البیان ( تفسیر ابن جریر)    تحت الایۃ۲۳/ ۱۵  دار احیاء التراث العربی بیروت    ۱۸/ ۷۸)

یہ بارہ تعریفیں فــ۱ ہیں اور بعونہٖ تعالٰی بعد تنقیح سب کا مآل ایک اگرچہ ۹ و ۱۱ کی عبارات میں تقصیر واقع
ہوئی اس کی تحقیق چند امور سے ظاہر

فاقول وباللّٰہ التوفیق ، اولا :  لعب فــ۲ ولہو وہزل ولغو وباطل وعبث سب کا محصل متقارب ہے کہ بے ثمرہ نامفید ہونے کے گرد دورہ کرتا ہے۔

فــ۱:مصنف کی تحقیق کہ عبث کی بارہ تعریفو ں کا حاصل ایک ہے اوراس کی تعریف جامع مانع کا استخراج
فــ۲: لعب ولہوو ہزل وباطل وعبث متقارب المعنی ہیں ۔

نہایہ ابن اثیر میں ہے:  یقال لکل من عمل عملا لایجدی علیہ نفعا انما انت لاعب ۲؎

جو شخص کوئی ایساکام کرے جو اسے کو ئی فائدہ نہ دے اس سے کہا جاتا ہے کہ تم بس کھیل کرتے ہو۔ (ت)

( ۲؎ ا لنہایہ فی غریب الحدیث والاثر باب اللام مع العین دار الکتب العلمیۃ بیروت۴ /۲۱۸)

علامہ خفاجی سے گزرا:  العبث کاللعب ماخلا عن الفائدۃ ۳؎

عبث لعب کی طرح ہے جوفائدہ سے خالی ہو ۔(ت)

(۳؎عنایۃ القاضی وکفایۃ الراضی تحت الآیۃ ۲۳ /۱۱۵ دار الکتب العلمیۃ بیروت ۶ /۱۱۱ )

تعریفات علامہ شریف میں ہے: اللعب ھو فعل الصبیان یعقب التعب من غیرفائدۃ ۴؎ اھ

لعب و ہ بچوں کا کام ہے جس کے بعد تکان آتی ہے اور فائدہ کچھ نہیں ہوتا۔

(۴؎التعریفات للسید الشریف باب اللام انتشارات ناصر خسرو تہران ایران ص۸۳)

اقول : وتعقیب التعب خرج نظرا الی الغالب ولیس شرطا لازما کما لایخفی ۔

اقول : بعدمیں تکان ہونے کا ذکر غالب واکثر کے لحاظ سے ہوا یہ لعب کی کوئی لازمی شرط نہیں جیسا کہ واضح ہے۔(ت)
اصول امام فخر الاسلام بزدوی قدس سرّہ میں ہے:

اما الھزل فتفسیرہ اللعب وھو ان یراد بالشیئ مالم یوضع لہ وضدہ الجد ۱؎ ھزل کی تفسیر لعب ہے وہ یہ کہ کسی شے سے وہ قصد کیاجائے جس کے لئے اس کی وضع نہ ہوئی اس کی ضد ''جِدّ'' ہے ۔(ت)

 (۱؎ اصول البزدوی    فصل الہزل         نور محمد خانہ تجارت کتب کراچی     ص۳۴۷)

اُس کی شرح کشف الاسرار میں ہے: لیس المراد من الوضع ھھنا وضع اللغۃ لاغیر بل وضع العقل اوالشرع فان الکلام موضوع عقلا لافادۃ معناہ حقیقۃ کان اومجاز اوالتصرف الشرعی موضوع لافادۃ حکمہ فاذا ارید بالکلام غیرموضوعہ العقلی وھو عدم افادۃ معناہ اصلا،ارید بالتصرف غیر موضوعہ الشرعی وھو عدم افادتہ الحکم اصلا فھو الھزل ولھذا فسرہ الشیخ باللعب اذاللعب مالا یفید فائدۃ اصلا وھو معنی مانقل عن الشیخ ابی منصور رحمہ اللّٰہ تعالٰی ان الھزل ما لا یراد بہ معنی۲؎

یہاں وضع سے صرف وضع لغت مراد نہیں۔ بلکہ وضع عقل یا وضع شرعی بھی مراد ہے۔ اس لئے کہ عقلاً کلام کی وضع اس لئے ہے کہ اپنے معنی کاافادہ کرے خواہ وہ معنی حقیقی ہویا مجازی۔ اورتصرف شرعی کی وضع اس لئے ہے کہ اپنے حکم کا افادہ کرے۔توجب کلام کامقصد وہ ہو جس کے لئے عقلاً اس کی وضع نہ ہوئی۔ وہ یہ کہ اپنے حکم کا بالکل کوئی فائدہ نہ دے۔ اور تصرف کا مقصد وہ ہو جس کے لئے شرعاً اس کی وضع نہ ہوئی۔۔۔۔۔وہ یہ کہ اپنے حکم کا بالکل کوئی فائدہ نہ دے۔۔۔۔۔۔ تو وہ ھزل ہے۔۔۔۔۔اسی لئے شیخ نے ھزل کی تفسیر لعب سے فرمائی اس لئے کہ لعب وہ ہے جوبالکل کوئی فائدہ نہ دے اور یہی اس کا مطلب ہے جو شیخ ابو منصور رحمہ اللہ تعالٰی سے منقول ہے کہ ہزل وہ ہے جس سے کوئی معنی مقصود نہ ہو۔(ت)

 (۲؎ کشف الاسرار    فصل الہزل        دارالکتاب العربی بیروت        ۴ /۳۵۷)

تو تفسیر ۶ و ۱۲ کا حاصل ایک ہے ولہٰذا مصباح میں عبث من باب تعب لعب وعمل مالافائدۃ فیہ۱ ؎ (عبث باب تعب(سمع) سے ہے اس کا معنی کھیل کیا اور بے فائدہ کام کیا ۔ت)

 (۱؎ مصباح المنیر کتاب العین تحت لفظ عبث منشورات دار الہجرۃ قم ایران     ۲ /۳۸۹ )

اور منتخب میں عبث بفتتحین بازی وبے فائدہ بطور عطفِ تفسیری لکھا۔
ثانیا اقول : جس طرح عاقل سے کوئی فعل اختیاری صادر نہ ہوگا جب تک تصّور بوجہ مَّا وتصدیق بفائدۃ مّا نہ ہو یونہی انسان کے ہوش وحواس جب تک حاضر ہیں بے کسی شغل کے نہیں رہتا خواہ عقلی ہو جیسے کسی قسم کا تصور یا عملی جیسے جوارح سے کوئی حرکت تو کسی قسم کا شغل ہو نفس کیلئے اُس میں اپنی عادت کا حصول اور اپنے مقتضی کا تیسر ہے اور یہ خود اُس کیلئے ایک نوع نفع ہے اگرچہ دین ودنیا میں سوا ایک عادت بے معنے کی تحصیل کے اور کوئی ثمر ونفع اُس پر مترتّب نہ ہو یابایں معنی کوئی فعل اختیاری فاعل کیلئے اصلا فائدہ سے عاری محض نہ ہوگا ہاں یہ ممکن کہ وہ فائدہ قضیہ شرع بلکہ قضیہ عقل سلیم کے نزدیک بھی مثل لافائدہ محض غیر معتد بہا ہو بلکہ ممکن کہ اُس کا مآل ضرربحت ہو جیسے کفار کی عبادات شاقہ عاملۃ ناصبۃ o تصلٰی نارا حامیۃ o عمل کریں مشقّت جھیلیں اور نتیجہ یہ کہ بھڑکتی آ گ میں غرق ہوں گے تو ۶ سے مقصود وہی ۷ ہے ۔

ثالثا: یہ بھی ظاہر کہ کوہ کندن وکاہ برآور دن ہر عاقل کے نزدیک حرکتِ عبث ہے تو مقدار فائدہ وفعل میں اگرچہ تساوی درکار نہیں تفاوت فاحش بھی نہ ہونا ضرور ۸ سے یہی مراد اور معتدبہ بنظر فعل ہونے سے یہی ہفتم کا مفاد۔ فائدہ کا فی نفسہا کوئی امر عظیم مہتم بالشان ہونا ہرگز ضرور نہیں بلکہ جیسا کام اُسی کے قابل فائدہ معتد بہا ہے وھـذا ما کنا اشـرنا الـیہ  (یہ وہ ہے جس کی طرف ہم نے اشارہ کیا۔ ت)

رابعا :لذتِ لعب شرع کریم وعقل سلیم کے نزدیک فائدہ معتد بہا نہیں جبکہ فـــــــ لہو مباح ہو اور تعب کے بعد اُس سے ترویح قلب مقصود اب نہ وہ عبث رہے گا نہ حقیقۃً لعب اگرچہ صورت لعب ہو ۔

فــــــ : مسئلہ :عبادت ومحنت دینیہ کے بعد دفع کلال وملال وحصول تازگی وراحت کے لئے احیانا کسی امر مباح میں مشغولی جیسے جائز اشعار عاشقانہ کا پڑھنا سننا شرعا مباح بلکہ مطلوب ہے ۔

ولہٰذا حدیث میں ہے حضور سید اکرم رحمت عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں: الھوا والعبوا فانی اکرہ ان یری فی دینکم غلظۃ رواہ البیہقی ۱؎۔فی شعب الایمان عن المطلب بن عبداللّٰہ المخزومی رضی اللّٰہ تعالی عنہ۔ لہو ولعب(کھیل کُود) کرو کیوں کہ میں یہ پسند نہیں کرتاکہ لوگ تمہارے دین میں سختی و درشتی دیکھیں۔ اسے امام بیہقی نے شعب الایمان میں مطلب بن عبداللہ مخز ومی رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کیا۔(ت)

 (۱؎ شعب الایمان حدیث ۶۵۴۲ دارالکتب العلمیہ بیروت ۵ / ۲۴۷)

امام ابن حجر مکی کف الرعاع پھر سیدی عارف باللہ حدیقہ ندیہ میں فرماتے ہیں: اللھو المباح ماذون فیہ منہ صلی اللّٰہ تعالی علیہ وسلم وانہ فی بعض الاحوال قد لاینافی الکمال وقولہ صلی اللّٰہ تعالی علیہ وسلم الھوا والعبوا دلیل لطلب ترویح النفوس اذا سئمت وجلاھا اذا صدئت باللھو واللعب المباح ۲؎۔ حضور اقدس کی طرف سے مباح لہو کی اجازت ہے او ریہ بعض احوال میں منافی کمال نہیں۔حضور ؐ کا ارشاد ''کھیل کُود کرو'' اس بات کی دلیل ہے کہ جب طبیعت اکتاجائے اورزنگ خوردہ سی ہوجائے تو مباح لہو و لعب کے ذریعہ اسے راحت دینا اوراس کازنگ دُور کرنا مطلوب ہے۔(ت)

 (۲؎ حدیقۃ الندیۃ الصنف الخامس من الاصناف التسعۃ فی بیان آفات الید    نوریہ رضویہ فیصل آباد    ۲ /۴۳۹)
(کف الرعاع الباب الثانی القسم الاول دارالکتب العلمیہ بیروت      ص ۲۵۲)

تو ۱۱ بھی ان تفا سیر سے جدا نہیں نہ لعب میں بوجہ لذت فائدہ معتد بہا ہوا نہ عبث سے بسبب عدم لذت فائدہ نامعتبرہ منتفی۔

خامسا: بلا شبہ فاعل سے دفع عبث کیلئے صرف فعل فی نفسہ مفید ہونا کافی نہیں بلکہ ضرور ہے کہ یہ بھی اُس سے فائدہ معتدبہا بمعنی مذکور کا قصد کرے ورنہ اس نے اگر کسی قصد فضول وبیمعنے سے کیا تو اس پر الزام عبث ضرور لازم فانما الاعمال بالنیات وانما لکل امرئ مانوی ۳؎  (کیوں کہ اعمال کا مدارنیت پر ہے اورہر آدمی کے لئے وہی ہے جس کی اس نے نیت کی۔ ت)

 (۳؎ صحیح البخاری باب کیف کان بدو الوحی الی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۲)

اور قصد کیلئے علم درکار کہ مجہول کا ارادہ نہیں ہوسکتا۔ زید سرِراہ بیٹھا تھا ایک کھاتا پیتا ناشناسا گھوڑے پرسوار جارہا تھا اس نے ہزار روپے اٹھا کر اُسے دے دیے کہ نہ صدقہ نہ صلہ رحم نہ محتاج کی اعانت نہ دوست کی امداد کوئی نیت صالحہ نہ تھی نہ ریایا نام وغیرہ کسی مقصد بد کا محل تھا تو اُسے ضرور حرکت عبث کہیں گے اگرچہ واقع میں وہ اس کا کوئی ذی رحم ہو جسے یہ نہ پہچانتا تھا مقاصد شرعیہ پر نظر کرنے سے یہ حکم خوب منجلی ہوتا ہے رب فـــــــ عزوجل فرماتا ہے: وما اٰتیتم من ربا لیربوا فی اموال الناس فلا یربوا عند اللّٰہ وما اٰتیتم من زکوٰۃ تریدون وجہ اللّٰہ فاولٰئک ھم المضعفون ۱؎ o جو فزونی تم دو کہ لوگوں کے مال میں زیادت ہووہ خدا کے نزدیک نہ بڑھے گی اورجو صدقہ دوخدا کی رضا چاہتے تو انہیں لوگوں کے دُونے ہیں۔

فـــــ : مسئلہ صلہ رحم اور اپنے اقرباء کی مواسات عمدہ حسنات سے ہے مگر اگر نیت لوجہ اللہ نہ ہو بلکہ خون کی شرکت اور طبعی محبت کا تقاضا ہو تو اس سے عنداللہ کچھ فائدہ نہیں ۔

 (۱؎ القرآن الکریم         ۳۰ /۳۹)

عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما سے آیہ کریمہ کی تفسیر میں فرماتے ہیں: الم تر الی الرجل یقول للرجل لامولنک فیعطیہ فھذا لایربو عنداللّٰہ لانہ یعطیہ لغیر اللّٰہ لیثری مالہ ۲؎۔ کیا تونے نہ دیکھاکہ ایک شخص دوسرے سے کہتا ہے میں تجھے مالدارکردوں گا، پھر اسے دیتا ہے تو یہ دینا خداکے یہاں نہ بڑھے گا کہ اس نے غیر خدا کے لئے صرف اس نیت سے دیا کہ اس کا مال بڑھادوں۔

 (۲؎ جامع البیان ( تفسیر الطبری ) عن ابن عباس تحت الایہ ۳۰ /۳۹ دار احیاء التراث العربی بیروت ۲۱ /۵۵ )

امام ابراہیم نخعی فرماتے ہیں: کان ھذا فی الجاھلیۃ یعطی احدھم ذا القرابۃ المال یکثربہ مالہ ۳؎۔ یہ زمانہ جاہلیت میں تھا اپنے عزیز کا مال بڑھانے کو اسے مال دیا کرتے۔

 (۳؎ جامع البیان ( تفسیر الطبری ) بحوالہ ابراہیم نخعی تحت الایہ ۳۰ /۳۹ دار احیاء التراث العربی بیروت ۲۱ /۵۵ )

رواھما ابن جریر ان دونوں کو ابن جریر نے روایت کیا دیکھو فعل فی نفسہ مثمر ثمرہ شرعیہ ہونے کا صالح فائدہ شرعیہ یعنی صلہ رحم و مواسات پر مشتمل تھا مگرجبکہ اُس نے اُس کا قصد نہ کیا بے ثمر رہا تو حاصل یہ ٹھہرا کہ دفع عبث کو فائدہ معتد بہا بنظر فعل معلومہ مقصودہ للفاعل درکار ہے تو ان تفاسیر کا وہی مآل ہوا جو ۹ و ۱۰ میں ملحوظ تھا

مفرداتِ راغب میں ہے: لعب فلان اذا کان فعلہ غیر قاصد بہ مقصدا صحیحا ۱؎ لعب فلاں اس وقت بولتے ہیں جب ایسا کام کرے جس سے وہ کوئی صحیح مقصدنہ رکھتا ہو۔(ت)

 (۱؎ المفردات فی غرائب القرۤن تحت لفظ لعب الام مع العین     نور محمد کارخانہ کراچی     ص ۴۶۶)

سادسا: غرض وہی فائدہ مقصودہ ہے اور صحیح یہی کہ معتد بہا ہو تو ۳، ۵ بھی اسی معنی کو ادا کررہی ہیں اور غرض میں جبکہ قصد ملحوظ ہے تو تعریف سوم ودہم اوضح واخصر تعریفات ہیں اور یہیں سے واضح ہوا کہ قول سمین وجمل العبث اللعب وما لا فائدۃ فیہ وکل مالیس فیہ غرض صحیح۲؎  (عبث لعب بے فائدہ جن میں غرض صحیح نہ ہو۔ ت)میں سب عطف تفسیری ہیں۔

 (۲؎ الفتوحات الالہیۃ تحت الایہ ۳۲ /۱۱۵ دارالفکر بیروت ۵ / ۲۶۷)

سابعا: ہم بیان کر آئے کہ فعل اختیاری بے غرض محض صادر نہ ہوگا تو جو بے غرض صحیح ہے ضرور بغرض صحیح ہے تو ۱ ، ۳ کا مفاد واحد ہے اور اس تقدیر پر سفہ کا مصداق افعال جنون ہوں گے۔
ثامنا: فـــــــ شرعی سے اگر مقبول شرع مراد لیں تو وہی حاصل غرض صحیح ہے کہ ہر غرض صحیح کو اگرچہ مطلوب فی الشرع نہ ہو شرع قبول فرماتی ہے جبکہ اپنے اقوی سے معارض نہ ہو اور ہنگام معارضہ عدم قبول قبول فی نفسہ کا منافی نہیں جیسے حدیث آحاد وقیاس کہ بجائے خود حجت شرعیہ ہیں اور معارضہ کتاب کے وقت نا مقبول امام نسفی کا عدم غرض شرعی سے تعریف فرما کر تعلیل کراہت میں لانہ غیر مفید  (اس لئے کہ یہ غیر مفید ہے۔ ت) فرمانا اس کی طرف مشعر ہوسکتا ہے اس تقدیر پر ۲ اول اور ۴ سوم کی طرف عائد اور ظاہر ہوا کہ بارہ کی بارہ تعریفوں کا حاصل واحد

فــــ : شرع کے دو معنی ہیں ، مقبول فی الشرع و مطلوب فی الشرع۔

اقول: مگر غیر شرعی سے متبادر تر غرض عــہ مطلوب فی الشرع ہے اب یہ تخصیص بحسب مقام ہوگی کہ اُن کا کلام عبث فی الصلاۃ میں ہے تو وہاں غرض مطلوب شرع ہی غرض صحیح ہے نہ غیر۔ آخر نہ دیکھا کہ مٹی سے بچانے فـــ ۱ کیلئے دامن اٹھانا غرض صحیح ہے اور نماز میں مکروہ کہ غرض مطلوب شرعی نہیں اور پیشانی  فـــ ۲ سے پسینہ پونچھنا باآنکہ غرض مطلوب فی الشرع نہیں نماز میں بلا کراہت روا جبکہ ایذا دے اور شغل خاطر کا باعث ہو کہ اب اس کا ازالہ غرض مطلوب شرع ہوگیا۔

فــــ ۱: مسئلہ نماز میں مٹی سے بچانے کے لئے دامن اٹھانا مکروہ ہے ۔
فــــ ۲: مسئلہ نماز میں منہ پر پسینہ ایسا آیا کہ ایذا دیتا اور دل بٹتا ہے تو اس کا پونچھنا مکروہ نہیں ورنہ مکروہ تنزیہی ہے ۔
عـــــــہ : وعن ھذا ما قال فی البحر اختلف فی تفسیر العبث فذکر الکردری انہ فعل فیہ غرض لیس بشرعی والمذکور فی شرح الھدایۃ وغیرھا ان العبث الفعل لغرض غیر صحیح حتی قال فی النھایۃ ما لیس بمفید فھو العبث ۱؎ اھ
یہی منشا ہے اس کا جوبحرمیں فرمایاکہ عبث کی تفسیرمیں اختلاف ہے۔ بدر الدین کردری نے فرمایاوہ ایسا کام ہے جس میں کوئی ایسی غرض ہوجوشرعی نہ ہو۔ اور شرح ہدایہ وغیرہا میں ہے کہ عبث وہ کام ہے جو غرض غیر صحیح کے سبب ہو،یہاں تک کہ نہایہ میں فرمایا:جو فائدہ مند نہیں وہی عبث ہے اھ۔

 (۱؎بحرالرائق     کتا ب الصلوۃ باب یفسد الصّلوٰۃمایکرہ فیہا     ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۲ /۱۹)

فاقام الخلاف لاجل التعبیر فی احدھما بشرعی وفی الاخر بصحیح ومال سعدی افندی الی ان المراد بالصحیح ھو الشرعی اذفیہ الکلام فاشار الی نحوما نحونا الیہ ان التخصیص لخصوص المقام و لقد احسن فی البحر اذ جعل ماٰل مافی النھایۃ وغیرھا من الشروح واحد ا ولم یلتفت الی الفرق بین الغرض الغیر الصحیح وعدم الغرض ولکن کان عبارۃ العنایۃ محتملا للفرق بہ ایضا حیث نقل التعریف بما فیہ غرض غیر شرعی وبما لیس فیہ غرض صحیح ثم قال ولا نزاع فی الاصطلاح ۱؎ اھ
توصاحبِ بحرنے ایک میں ''شرعی'' سے تعبیر اوردوسری میں''صحیح''سے تعبیر کی وجہ سے اختلاف قرار دیااورسعدی آفندی کا میلان اس طرف ہے کہ صحیح سے مراد وہی شرعی ہے اس لئے کہ کلام اسی سے متعلق ہے۔ توجس ر وش پرہم چلے اسی کی جانب انہوں نے اشارہ کردیاکہ یہ تخصیص خصوصیت مقام کے پیشِ نظر ہے۔ اوربحرمیں یہ بہت خوب کیا کہ نہایہ اوراس کے علاوہ شروح کی تعبیرات کا مآل ایک ٹھہرایا اور''غرض غیرصحیح'' و''عدم غرض''کے فرق پر التفات نہ کیا۔مگر عنایہ کی عبارت اس تفریق کابھی احتمال رکھتی تھی کیوں کہ اس میں دونوں تعریفیں نقل کیں:''وہ جس میں غرض غیر شرعی ہواوروہ جس میں کوئی غرض صحیح نہ ہو''۔پھرکہا کہ : اصطلاح میں کوئی نزاع نہیں اھ۔

 (۱؎ العنایہ علی الہدایہ علی ہامش فتح القدیر کتاب الصلوۃ باب یفسد الصلوۃ الخ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۳۵۶)

فلہذا اجاب عنہ سعدی افندی بان النفی فی التعارف الثانی داخل علی القید ۲؎ اھ
اسی لئے سعدی آفندی نے اس کا جواب دیا کہ دوسری تعریف میں نفی قید پر داخل ہے اھ۔

 (۲؎ حاشیہ سعدی آفندی علی العنایہ کتاب الصلوۃ باب یفسد الصلوۃ الخ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۳۵۶)

اقول : وھو مشکل بظاھرہ فان النفی اذا استولی علی مقید بقید صدق بانتفاء ایھما کان وانما یتم بالتحقیق الذی القینا علیک ان لا وقوع للفعل الاختیاری من دون غرض اصلا اھ منہ عفی منہ۔ (م)
اقول  :  اور وہ بظاہر مشکل ہے اس لئے کہ نفی جب کسی ایسی چیز پر وارد ہوتی ہے جو کسی قیدسے مقید ہے تو مقید اورقید کسی کے بھی انتفا سے نفی کا صدق ہوجاتا ہے۔ اب دونوں کے مآل میں وحدت کی بات اسی وقت تام ہوسکتی ہے جب وہ تحقیق لی جائے جو ہم نے پیش کی کہ فعل اختیار ی کا وقوع بغیر کسی غرض کے ہوتا ہی نہیں(تومالیس فیہ غرض صحیح کا مآل یہی ہوگاکہ اس کی کوئی غرض تو ضرور ہے مگرغرض صحیح ہے اوریہ صورت کہ سرے سے صحیح غیر صحیح کوئی غرض ہی نہ ہو، واقع میں اس کا وجود نہ ہوگا ۱۲م)۱۲منہ۔(ت)

عنایہ ونہایہ وبحر وغیرہا میں ہے: کل عمل یفید المصلی لاباس بہ لما روی انہ صلی اللّٰہ تعالی علیہ وسلم عرق فی صلاتہ لیلۃ فسلت العرق عن جبینہ ای مسحہ لانہ کان یؤذیہ فکان مفید اواذا قام فـــ من سجودہ فی الصیف نفض ثوبہ یمنۃ ویسرۃ کیلا تبقی صورۃ ۱؎۔

جس کام سے مصلی کو فائدہ ہواس میں حرج نہیں اس لئے کہ مروی ہے کہ حضورکوایک رات نماز میں پسینہ آیاتو حضور نے جبین مبارک سے پسینہ پونچھ دیا، اس لئے کہ اس سے حضور کو تکلیف ہوتی تھی توپونچھنا مفید تھا۔۔۔۔۔۔۔اور جب گرمی کے موسم میں سجدہ سے اٹھتے تودائیں یا بائیں اپنا کپڑا جھٹک دیتے تاکہ صورت باقی نہ رہے۔(ت)

فـــــ : مسئلہ : گرمی کے موسم میں دامن پاجامہ سرین سے مل کر ان کی صورت ظاہر کرتا ہے اس سے بچنے کے لئے کپڑا داہنے بائیں نماز میں جھٹک دینا مکروہ نہیں بلکہ مطلوب ہے اور بلاحاجت کراہت ۔

 (۱؎ العنایہ علی الہدایہ علی ہامش فتح القدیر   باب مایفسد الصلوۃ  فصل ویکرہ للمصلی الخ   مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۳۵۷ )
البحرالرائق     بحولہ النہایہ کتا ب الصلوۃ باب یفسد الصّلوٰۃمایکرہ فیہا     ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۲ /۱۹
رد المحتار بحولہ النہایہ کتا ب الصلوۃ باب یفسد الصّلوٰۃمایکرہ فیہا داراحیاء التراث العربی بیروت ۱ /۴۳۰)

حاشیہ سعدی افندی میں ہے: یعنی حکایۃ صورۃ الا لیۃ ۲؎۔ یعنی سرین کی صورت کی نقل نہ ظاہر ہو۔(ت)

 (۲؎ حاشیہ سعدی آفندی علی العنایہ باب یفسد الصّلوٰۃمایکرہ فیہا مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۳۵۷ )

جس کام سے مصلی کو فائدہ ہواس میں حرج نہیں اس لئے کہ مروی ہے کہ حضورکوایک رات نماز میں پسینہ آیاتو حضور نے جبین مبارک سے پسینہ پونچھ دیا، اس لئے کہ اس سے حضور کو تکلیف ہوتی تھی توپونچھنا مفید تھا۔۔۔۔۔۔۔اور جب گرمی کے موسم میں سجدہ سے اٹھتے تودائیں یا بائیں اپنا کپڑا جھٹک دیتے تاکہ صورت باقی نہ رہے۔(ت)

فـــــ : مسئلہ : گرمی کے موسم میں دامن پاجامہ سرین سے مل کر ان کی صورت ظاہر کرتا ہے اس سے بچنے کے لئے کپڑا داہنے بائیں نماز میں جھٹک دینا مکروہ نہیں بلکہ مطلوب ہے اور بلاحاجت کراہت ۔

 (۱؎ العنایہ علی الہدایہ علی ہامش فتح القدیر   باب مایفسد الصلوۃ  فصل ویکرہ للمصلی الخ   مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۳۵۷ )
البحرالرائق     بحولہ النہایہ کتا ب الصلوۃ باب یفسد الصّلوٰۃمایکرہ فیہا     ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۲ /۱۹
رد المحتار بحولہ النہایہ کتا ب الصلوۃ باب یفسد الصّلوٰۃمایکرہ فیہا داراحیاء التراث العربی بیروت ۱ /۴۳۰)

حاشیہ سعدی افندی میں ہے: یعنی حکایۃ صورۃ الا لیۃ ۲؎۔ یعنی سرین کی صورت کی نقل نہ ظاہر ہو۔(ت)

 (۲؎ حاشیہ سعدی آفندی علی العنایہ باب یفسد الصّلوٰۃمایکرہ فیہا مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۳۵۷ )

ردالمحتار میں ہے: فلیس نفضہ للتراب فلا یرد ما فی البحر عن الحلیۃ انہ اذا کان یکرہ رفع الثوب کیلا یتترب لایکون نفضہ من التراب عملا مفیدا ۳؎ اھ تواسے جھٹکنا مٹی کی وجہ سے نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اس لئے وہ اعتراض واردنہ ہوگا جوبحرمیں حلیہ سے منقول ہے کہ جب خاک آلود ہونے کے اندیشے سے کپڑا اٹھالینامکروہ ہے تو مٹی سے اسے جھاڑنا کوئی مفید عمل نہ ہوا اھ۔

 (۳؎ رد المحتار کتاب الصلوۃ باب مایفسد الصلوۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۴۳۰)

ورأیتنی کتبت علیہ اقول الذی فـــ ۱ فی الحلیۃ ھکذاثم فی الخلاصۃ والنھایۃ وحاصلہ فـــ ۲ ان کل عمل مفید للمصلی فلا باس بفعلہ کسلت العرق عن جبینہ ونفض ثوبہ من التراب ومالیس بمفید یکرہ للمصلی الاشتغال بہ اھ اس عبارت پر میراحاشیہ یہ ہے: اقول حلیہ کی عبارت اس طرح ہے: پھرخلاصہ اورنہایہ میں ہے کہ اس کا حاصل یہ ہے کہ ہر وہ عمل جو مصلی کے لئے مفیدہواس کے کرنے میں حرج نہیں جیسے پیشانی سے پسینہ پونچھنا، اورمٹی سے کپڑا جھاڑنا۔اورجومفید نہیں ہے اس میں مشغول ہونا مصلی کے لئے مکروہ ہے اھ۔

فـــــ ۱: مسئلہ : معروضۃ علی العلامۃ ش ۔
فـــــ ۲: مسئلہ : نمازی کو ہر وہ عمل کہ نماز میں مفید ہو جائز و غیر مکروہ اور ہر وہ عمل جس کا فائدہ نماز کی طرف عائد نہ ہو کم از کم مکروہ و خلاف اولی ہے ۔

واعترض علیہ بثلثۃ وجوہ۱؎ فقال قلت لکن اذا کان یکرہ رفع الثوب کیلا یتترب کما تقدم وانہ قد فـــ وقع الخلاف فی انہ یکرہ مسح التراب عن جبھتہ فی الصلاۃ کما سنذکرہ وانہ قد وقع فـــ الندب الی تتریب الوجہ فی السجود فضلا عن الثوب فکون نفض الثوب من التراب عملا مفیدا وانہ لاباس بہ مطلقا فیہ نظر ظاھر۲؎ اھ وانت تعلم ان اعتراضہ علی مانقل عن الخلاصۃ والنھایۃ صحیح الی الغایۃ للتصریح فیہ ان النفض من التراب۔

حلبی نے اس عبارت پرتین طرح اعتراض کیا،وہ لکھتے ہیں:میں کہوں گا (۱)جب خاک آلود ہونے کے اندیشے سے کپڑا اٹھانا مکروہ ہے تومٹی سے اسے جھاڑنا کوئی مفید عمل نہ ہوا (۲)اوراس بارے میں اختلاف ہے کہ نماز میں پیشانی سے مٹی صاف کرنامکروہ ہے یا نہیں جیسا کہ آگے اسے ہم ذکرکریں گے۔(۳) اور کپڑا تو درکنار چہرے کوسجدے میں مٹی کا پونچھنا مکروہ ہے جیسا کہ ہم ذکر کریں گے اور یہ کہ تو یہ بات عیاں طور پر محلِ نظر ہے کہ مٹی سے کپڑے کو جھاڑنا کوئی مفید عمل ہے اور اس میں'' مطلقاً'' کوئی حرج نہیں ہے اھ۔  ناظر کومعلوم ہے کہ حلبی نے خلاصہ ونہایہ سے جس طرح عبارت نقل کی ہے اس پر ان کا اعتراض بالکل درست اوربجا ہے کیوں کہ اس عبارت میں مٹی سے جھاڑنے کی صراحت موجود ہے۔

فـــــ۱: سجدہ میں ماتھے پر لگی ہوئی مٹی اگر ایذاء دے مثلا اس میں باریک کنکریاں ہوں یا کثیر ہوں کہ آنکھوں پلکوں پر چھڑتی ہے جب تو مطلقا اسے پونچھنے میں حرج نہیں اور نہ اخیر التحیات کے ختم سے پہلے مکروہ ہے اور اس کے بعد سلام سے پہلے حرج نہیں اور سلام کے بعد اسے صاف کردینا تو مستحب ہے بلکہ اگر ریا کا خیال ہو کہ لوگ ٹیکا دیکھ کر نمازی سمجھیں جب تو اس کا باقی رکھنا حرام ہوگا۔
فـــــ۲مسئلہ مستحب ہے کہ سجدہ میں سر خاک پر بلا حائل ہو ۔

 (۱؎ جدالمحتار علی رد المحتار کتاب الصلوۃ باب مایفسد الصلوۃ الخ المجمع الاسلامی مبارکپور ، ہند ۱ /۳۰۵   
۲ ؎ البحرالرائق بحوالہ الحلبی کتاب الصلوۃ باب مایفسد الصلوۃ ومایکرہ فیھا ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۲ / ۱۹)

عــــہ ذکـر فیہ معترکا ولم یتخلص من کلامہ کبیر شیئ اقول والاوفق الالصق باصول المذھب ان لو اٰذاہ وشغل قلبہ کأن کان فیہ صغار حصی اوکان کثیرا یتناثر علی عیونہ وجفونہ مسح مطلقا ولو فی وسط الصلوٰۃ والاکرہ فی خلال الصلوۃ ولو فی التشہد الاخیر امابعدہ وقبل السلام فقد نصوا ان لاباس بہ بلا خلاف وبعد السلام یستحب المسح دفعا للاذٰی وکراھۃ للمثلۃ ففی الخانیۃ لاباس بان یمسح جبھتہ من التراب والحشیش بعد الفراغ من الصلوٰۃ وقبلہ اذا کان یضر ذالک و یشغلہ عن الصلوۃ وان کان ذالک یکرہ فی وسط الصلوٰۃ ولا یکرہ قبل التشہد والسلام ۱؎ اھ وفی الحلیۃ وفی التحفۃ فی ظاھر الروایۃ یکرہ فی وسطھا ولا باس بہ اذا قعد قدر التشہد ۱؎

اس میں معرکہ آرائی کی جگہ بتائی ہے اور ان کے کلام سے کوئی بڑی بات حاصل نہیں ہوتی۔ اقول اصولِ مذہب سے زیادہ مطابق اور ہم آہنگ یہ ہے کہ مٹی سے اگر اسے تکلیف ہو اور اس کا دل بٹے مثلاً یہ کہ اس پر کنکریوں کے ریزے ہوں یا مٹی اتنی زیادہ ہوکہ آنکھوں اورپلکوں پرجھڑکرگرتی ہو تو اسے صاف کردے۔ مطلقاً۔اگرچہ درمیانِ نماز میں ہو۔ ورنہ درمیانِ نماز صاف کرنامکروہ ہے اگرچہ تشہد اخیر میں ہو،اور اس کے بعد، سلام سے قبل صاف کرنے سے متعلق علماء کی بلا اختلاف تصریح ہے کہ اس میں کوئی حرج نہیں۔اور بعدسلام صاف کرنادفع اذٰی اورکراہت مثلہ کے پیش نظر مستحب ہے۔ خانیہ میں ہے: اس میں حرج نہیں کہ پیشانی سے مٹی اورتنکا نماز سے فارغ ہونے کے بعدصاف کردے اوراس سے پہلے بھی جب کہ اس سے اسے ضررہو اور نماز سے اس کا دل بٹتاہو۔اور اگر اس سے ضرر نہ ہو تودرمیانِ نماز مکروہ ہے اورتشہد وسلام سے پہلے مکروہ نہیں۔اھ۔

 (۱؎ فتوی قاضی خان کتاب الصلوۃ باب الحدث الصلوۃ الخ نولکشور لکھنو     ص ۱ / ۵۷)

ونص علی انہ الصحیح ونص رضی الدین فی المحیط علی انہ الاصح الخ وفیھا نصوا علی انہ لاباس بان یمسح بعد مافرغ من صلوتہ قبل ان یسلم ۲؎ قال فی البدائع بلا خلاف لانہ لوقطع الصلوٰۃ فی ھذہ الحالۃ لایکرہ فلأن لایکرہ ادخال فعل قلیل اولی ۳؎ الخ وفیھا عن الذخیرۃ اذمسح جبھۃ بعد السلام یستحب لہ ذلک لانہ خرج من الصلوٰۃ وفیہ ازالۃ الاذی عن نفسہ ۴؎ الخ

حلیہ میں ہے : تحفہ میں ہے کہ ظاہر الروایہ میں یہ درمیان نماز مکروہ ہے اور جب بقدر تشہد بیٹھ چکا ہو تو اس میں کوئی حرج نہیں اوراس پر نص فرمایا کہ یہی صحیح ہے اورمحیط میں رضی الدین نے یہ تصریح فرمائی کہ یہ اصح ہے الخ۔
اورحلیہ میں یہ بھی ہے: علماء نے تصریح فرمائی ہے کہ نماز سے فارغ ہونے کے بعد سلام پھیرنے سے پہلے صاف کرنے میں کوئی حرج نہیں ۔بدائع میں فرمایا اس میں کوئی اختلاف نہیں تو فعل قلیل اختلاف نہیں کیوں کہ اس حالت میں اس کا نماز قطع کردینا مکروہ نہیں توفعل قلیل داخل کردینا بدرجہ اولٰی مکروہ نہ ہوگا۔
اورحلیہ میں ذخیرہ کے حوالے سے ہے: بعد سلام اپنی پیشانی صاف کرے تویہ اس کے لئے مستحب ہے اس لئے کہ وہ نماز سے باہر آچکا ہے اوراس میں اپنے سے گندگی(اذی) دور کرنا بھی ہے الخ۔

 (۱؎ تحفۃ الفقہاء کتاب الصلوۃ باب مایستحب فی الصلوۃ وما یکرہ فیہا دارالفکر بیروت ص ۷۲)
 (۳؎ بدائع الصنائع کتاب الصلوۃ باب مایستحب فی الصلوۃ وما یکرہ فیہا ایچ ایم سعید کمپنی لاہور ۱ / ۲۲۰ و ۲۱۹)
(۴؎ حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی )

اقول ولو ابقاہ معاذ اللّٰہ ریاء الناس حرم قطعا کما لایخفی ورأیتنی کتبت علی قول البدائع لوقطع الصلوۃ فی ھذہ الحالۃ لایکرہ مانصہ۔
اقول اور اگر معاذاللہ  ریا کاری کے لئے اسے باقی رکھے تو قطعاً حرام ہے جیسا کہ واضح ہے۔ اور بدائع کی عبارت''اس حالت میں اس کانماز قطع کردینا مکروہ نہیں'' پرمیں نے اپنا تحریر کردہ یہ حاشیہ دیکھا:
اقــول کیف لایکرہ مع ان الواجب علیہ الانھاء بالسلام لاالقطع بعمل غیرہ فان اراد بالقطع الانھاء منعنا القیاس لانہ مامور بہ کیف یقاس علیہ مالیس مطلوبا وھو مالم ینھھا لایقع مایقع الا فی خلالھا الا تری الی الاثنا عشریۃ قال فی الھدایۃ علی تخریج البردعی ان الخروج عن الصلوٰۃ بصنع المصلی فرض عند ابی حنیفۃ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ فاعتراض ھذہ العوارض عندہ فی ھذہ الحالۃ کاعتراضھا فی خلال الصلوۃ اھ وفی الفتح ناقلا عن الکرخی انما تبطل عندہ فیھا لانہ فی اثنائہا کیف وقد بقی علیہ واجب وھو السلام وھو اٰخرھا داخلا فیھا اھ فاتفق التخریجان ان ماقبل السلام داخل فی خلال الصلوۃ فلم لایکرہ مایکون فیہ مما لیس من افعال الصلوۃ ولا مفیدا محتاجا الیہ فتدبر اذلابحث مع الاطباق لاسیما من مثلی والاتباع للمنقول وان لم یظھر للعقول واللّٰہ تعالٰی اعلم اھ منہ غفرلہ۔ (م)

اقول کیوں مکروہ نہیں جب کہ اس پرواجب یہ ہے کہ سلام پرنماز پوری کرے نہ یہ کہ سلام کے علاوہ کسی عمل سے نماز قطع کردے۔ تواگر قطع سے ان کی مراد نماز پوری کرنا ہے تو قیاس درست نہیں کیوں کہ سلام پرنماز پوری کرنے کا تواسے حکم ہے اس پراس عمل کاقیاس کیسے ہوسکتا ہے جو مطلوب نہیں اورجب تک وہ نماز سلام سے پوری نہ کرے جو عمل بھی ہوگا درمیانِ نماز ہی ہوگا کیاوہ مشہور بارہ مسائل پیشِ نظر نہیں۔ ہدایہ میں فرمایا: امام بردعی کی تخریج پریہ ہے کہ نماز سے مصلی کا اپنے عمل کے ذریعہ باہر آنا امام ابو حنیفہ رضی اللہ تعالٰی عنہ کے نزدیک فرض ہے۔ تو ان کے نزدیک اس حالت میں ان عوارض کا پیش آنا ایسا ہی ہے جیسے نماز کے درمیان پیش آنا اھ۔اور فتح القدیر میں امام کرخی سے نقل ہے: امام صاحب کے نزدیک ان عوارض کی صورتوں میں نماز اسی لئے باطل ہوتی ہے کہ وہ ابھی اثنائے نماز میں ہے کیوں نہ ہو جب کہ ابھی اس کے ذمہ ایک واجب باقی ہے وہ ہے سلام، یہ نماز کا آخری عمل ہے اورنماز میں داخل ہے اھ۔تو امام بردعی وامام کرخی دونوں حضرات کی تخریجیں اس پر متفق ہیں کہ ماقبل سلام، درمیان نماز داخل ہے تواس حالت میں واقع ہونے والا وہ کام مکروہ کیوں نہ ہوگا جو نہ افعالِ نماز سے ہے نہ مفید ہے نہ اس کی حاجت ہے تو تدبر کرو۔ اس لئے کہ اتفاق موجود ہوتے ہوئے بحث کی خصوصاً مجھ جیسے سے۔گنجائش نہیں۔ اتباع منقول کا ہوگا اگرچہ اس کی وجہ معقول ظاہر نہ ہو ۔ واللہ تعالٰی اعلم اھ منہ غفرلہ ۔(ت)

اقــول  : وانمافـــ قید بقولہ مطلقا لان الثوب ان کان مما یفسدہ التراب کأن یکون من لاحریر المخلوط للرجل اوالخالص للمرأۃ وکان فی التراب نداوۃ فلولم یغسل بقی متلوثا ولو غسل فسد فحینئذا فان الضرورات تبیح المحظورات ۔واللّٰہ تعالی اعلم ۔ اقول :  اعتراض کے الفاظ میں انہوں نے ''مطلقاً'' کی قید اس لئے رکھی ہے کہ اگرکپڑا ایسا ہو جوکہ مٹی سے خراب ہوجائے مثلاً مرد کا کپڑا مخلوط ریشم کا یاعورت کاخالص ریشم کا ہو اورمٹی میں نمی ہو اب اگر اسے دھوتا نہیں تو کپڑا خاک آلود رہ جاتا ہے اوردھوتا ہے تو خراب ہوتا ہے ایسی صورت میں مٹی سے بچانا ممنوع نہ ہونا چاہئے کیوں کہ ضرورتوں کے پاس ممنوعات مباح ہوجاتے ہیں، واللہ تعالٰی اعلم۔

فـــــ : مسئلہ اگر کپڑا بیش قیمت ہے جیسے ریشمیں تانے کا مرد کے لئے یا خالص ریشمی عورت کے لئے اور نماز خالی زمین پر پڑھ رہا ہے اور مٹی گیلی ہے کہ کپڑا نہ بچائے تو کیچڑ سے خراب ہوگا اور دھونے سے بگڑ جائے گا تو ایسی حالت مٰیں بچانے کی اجازت ہونی چاہیئے واللہ تعالی اعلم۔

ولکن الشان ان لیس لفظ التراب لافی الخلاصۃ ولا فی النھایۃ فنص نسختے الخلاصۃ ولا یعبث بشیئ من جسدہ وثیابہ والحاصل ان کل عمل ھو مفید لاباس بہ للمصلی وقد صح عن النبی صلی اللّٰہ تعالی علیہ وسلم انہ سلت العرق عن جبینہ وکان اذا قام من سجودہ فنفض ثوبہ یمنۃ ویسرۃ وما لیس بمفید یکرہ کاللعب ونحوہ ۱؎ اھ

لیکن معاملہ یہ ہے کہ لفظ''تراب(مٹی)'' نہ خلاصہ میں ہے نہ نہایہ میں ہے۔ میرے نسخہ خلاصہ کی عبارت یہ ہے :''اوراپنے جسم یا کپڑے کے کسی حصے سے کھیل نہ کرے۔ اورحاصل یہ ہے کہ ہر وہ عمل جو مفید ہو مصلی کے لئے اس میں حرج نہیں،نبی سے بطریق صحیح ثابت ہے کہ جبین مبارک سے  پسینہ صاف کیا اورجب سجدہ سے اٹھتے تو اپنا کپڑا دائیں بائیں جھٹک دیتے۔ اورجو مفید نہیں وہ مکروہ ہے جیسے لعب اوراس کے مثل اھ۔

 (۲؎ خلاصۃ الفتاوٰی کتاب الصلوۃ الفصل الثانی مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ۱/ ۵۷)

ونص النھایۃ علی مانقل فی البحر مثل مااثرتہ عن العنایۃ بمعناہ وقد صرح فیہ بالمراد اذقال کیلا تبقی صورۃ ولا توجہ علیہ لشیئ من الایرادات بیدان الامام الحلبی ثقۃ حجۃ امین فی النقل فالظاھر انہ وقع ھکذا فی نسختیہ الخلاصۃ والنھایۃ ولکن العجب فــــ من البحر نقل عبارۃ النھایۃ مصرحۃ بالصواب ثم عقبہا بالاعتراضات الواردۃ علی لفظ من التراب واقرھا کانہ لیس عنہا جواب۔

اور نہایہ کی عبارت جیسے بحرمیں نقل کی ہے بالمعنی اسی کی طرح ہے جو میں نے عنایہ سے نقل کی اوراس میں مراد کی تصریح کردی ہے کیوں کہ اس میں کہاہے:''تاکہ صورت نہ باقی رہے''اوراس عبارت پر ان تینوں اعتراضوں میں سے ایک بھی وارد نہیں ہوسکتا۔ مگر امام حلبی نقل میں ثقہ،حجت،امین ہیں توظاہر یہ ہے کہ ان کے خلاصہ اورنہایہ کے نسخوں میں عبارت اسی طرح ہوگی جیسے انہوں نے نقل کی۔لیکن تعجب بحر پر ہے کہ انہوں نے نہایہ کی عبارت تو صاف صحیح کی تصریح کے ساتھ نقل کی (وہ جس پر کوئی اعتراض وارد نہیں ہوسکتا) پھر بھی اس کے بعد لفظ''تراب'' سے متعلق وارد ہونے والے اعتراضات نقل کرکے انہیں برقرار رکھا گویا ان کا کوئی جواب نہیں۔

فـــــ : تظفل علی البحر ۔

یہ نہایت فـــــ کلام ہے تحقیق معنی عبث میں، اب تنقیح حکم کی طرف چلئے وباللہ التوفیق ۔اقول بیان سابق سے واضح ہوکہ عبث کا مناط فعل میں فائدہ معتدبہا مقصود نہ ہونے پر ہے اور وہ اپنے عموم سے قصد مضر وارادہ شرکو بھی شامل تو بظاہر مثل اسراف اُس کی بھی دو۲ صورتیں ایک فعل بقصد شنیع دوسری یہ کہ نہ کوئی بُری نیت ہو نہ اچھی۔ رب عزوجل نے فرمایا: اَفحسبتم انما خلقنکم عبثا وانکم الینا لاترجعون ۱؎o کیا اس گمان میں ہو کہ ہم نے تمہیں عبث بنایا اور تم ہماری طرف نہ پلٹوگے۔

فـــــ :حکم عبث کی تنقیح ۔

 (۱؎ القرآن    ۲۳ /۱۱۵)

علماء نے اس آیہ کریمہ میں عبث کو معنی دوم پر لیا یعنی کیا ہم نے تم کو بیکار بنایا تمہاری آفر ینش میں کوئی حکمت نہ تھی یوں ہی بے معنی پیدا ہوئے بیہودہ مرجاؤ گے نہ حساب نہ کتاب نہ عذاب نہ ثواب، جیسے وہ خبیث کہا کرتے تھے: ان ھی الاحیاتنا الدنیا نموت ونحیی وما نحن بمبعوثین ۱؎۔ یہ تو نہیں مگر یہی ہماری دنیا کی زندگی ،ہم مرتے ہیں اور جیتے ہیں، اورمرنے کے بعددوبارہ ہم اٹھائے نہ جائیں گے۔(ت)

اِس پر رَد کو  یہ آیت اُتری۔ کما تقدم بعض نقولہ وزعم العلامۃ الخفاجی بعدما ذکر فی العبث ثلث عبارات تقدمت والظاھر ان المراد (ای فی ھذہ الکریمۃ) الاول ۲؎ اھ جیسا کہ اس کی کچھ نقلیں گزرچکیں۔اور علامہ خفاجی نے عبث سے متعلق وہ تین عبارتیں ذکرکیں جوگذر چکیں پھر یہ کہا کہ ظاہر یہ ہے کہ اس آیت کریمہ میں مراد پہلا معنٰی ہے۔اھ۔

 (۱ ؎ القرآن    ۲۳ /۳۷)
(۲؎ عنایۃ القاضی علی تفسیر البیضاوی تحت الایہ ۲۳ /۱۱۵ دارالکتب العلمیہ بیروت ۶ / ۶۱۱)

اقول اوّلا علمت فـــــ ۱ ان الکل واحد وثــانــیا ان فـــــ۲ ابقینا التغایر فالظاھر الاخیران لان فی الھمزۃ انکار ما حسبوہ لایجاب ما سلبوہ ولیس المراد اثبات فائدۃ ما ولو غیر معتمدبھا ولھذا قال فی الارشاد بغیر حکمۃ بالغۃ ۳؎ واطلق الجلال لان حکم اللّٰہ تعالی کلھا بالغۃ علی ان الحکمۃ نفسہا یستحیل ان لایعتد بھا۔

اقول اولاً یہ واضح ہوچکا کہ سب تعریفیں ایک ہی ہیں۔ثانیاً اگرہم تغایر باقی رکھیں توظاہر آخری دوتعریفیں ہیں۔اس لئے کہ ہمزہ میں ان کے گمان کا انکار ہے تاکہ اس کا اثبات ہوجس کی انہوں نے نفی کی۔اور مراد یہ نہیں کہ کسی بھی فائدہ کا اثبات ہو جائے اگرچہ قابل لحاظ وشمار نہ ہو۔ اوراس لئے ارشاد میں فرمایا: بغیر حکمت بالغہ کے۔ اور جلال نے مطلق رکھا، کیوں کہ اللہ تعالٰی کا ہر حکم بالغ ہے علاوہ ازیں بذاتِ خود حکمت ناممکن ہے کہ غیر معتد بہا ہو۔(ت)

ف ۱: معروضۃ علی العلامۃ الخفاجی ف ۲: معروضۃ اخری علیہ ۔

 (۳؎ الارشاد العقل السلیم تحت الایۃ ۲۳ / ۱۱۵ دار احیاء التراث العربی بیروت ۶ / ۱۵۳ )

اور سیدنا ہُود علٰی نبینا الکریم وعلیہ الصّلوٰۃ والتسلیم نے اپنی قوم عاد سے فرمایا: اتبنون بکل ریع ایۃ تعبثونo وتتخذون مصانع لعلکم تخلدون ۱؎o کیا ہر بلندی پرایک نشان بناتے ہوعبث کرتے یا عبث کے لئے اور کارخانے بناتے ہوگویا تمہیں ہمیشہ رہنا ہے۔

 (۱؎ القرآن الکریم  ۲۶ /۱۲۸ و ۱۲۹)

اس آیہ کریمہ میں بعض نے کہا راستوں میں مسافروں کیلئے بے حاجت بھی جگہ جگہ علامتیں قائم کرتے تھے۔ ذکرہ فی الکبیر وتبعہ البیضاوی وابو السعود والجمل قال فی الانوار (ایۃ) علما لمارۃ (تعبثون) ببنائھا اذکانوا یھتدون بالنجوم فی اسفارھم فلا یحتاجون الیھا ۲؎ اھ اسے تفسیر کبیر میں ذکر کیا اور بیضاوی، ابو السعود اورجمل نے اس کا اتباع کیا۔ انوار التنزیل بیضاوی میں ہے (نشان )گذرنے ولوں کے لئے علامت (عبث کرتے ہو) اسے بنا کر۔اس لئے کہ وہ اپنے سفروں میں ستاروں سے راہ معلوم کرتے تھے تو انہیں نشانات کی حاجت نہ تھی اھ۔

 (۲؎ انوار التنزیل ( تفسیر بیضاوی) تحت الایہ    ۲۶ /۱۲۸و ۱۲۹ دارالفکر بیروت     ۴ /۲۴۷ )

فاورد ان لانجوم بالنھار وقد یحدث باللیل من الغیوم ما یسترالنجوم واجاب فی العنایۃ بانھم لایحتاجون الیھا غالبا اذ ا مرالغیم نادر لاسیما فی دیار العرب ۳؎ اھ

اس پراعتراض ہواکہ دن میں ستارے نہیں ہوتے اور رات کو بھی کبھی اتنی بدلی ہوجاتی ہے کہ ستارے چھُپ جاتے ہیں۔ عنایۃ القاضی میں علامہ خفاجی نے اس کا یہ جواب دیاکہ زیادہ ترانہیں اس کی حاجت نہ تھی اس لئے کہ بدلی ہونا نادرہے خصوصاً دیارِ عرب میں۔اھ۔

 (۳؎ عنایۃ القاضی علی التفسیر البیضاوی تحت الایہ     ۶ /۱۲۸و ۱۲۹ دارالکتب العلمیہ بیروت     ۴ /۲۴۷ )

اقـول اولالم ف یجب عن النھار و انمابہ اکثر الاسفار ۔ اقول اولا دن والی صورت سے اعتراض کا جواب نہ دیا جب کہ زیادہ تر سفر دن ہی میں ہوتے ہیں۔

ف:معروضۃ ثالثۃ علیہ ۔

وثـانـیا ان سلم فــــ۱الندور فعمل مایحتاج الیہ ولو احیانا لایعد عبثا قال مع انہ لو احتیج الیھا لم یحتج الی ان یجعل فی کل ریع فان کثرتھا عبث ۱؎ اھ۔

ثانیا اگر بدلی کا نادراً ہی ہونا تسلیم کرلیاجائے توبھی ایسی چیز بنانا جس کی ضرورت پڑتی ہو اگرچہ کبھی کبھی پڑتی ہو،عبث شمار نہ ہوگا۔آگے فرماتے ہیں: باوجود یکہ اگر اس کی ضرورت ہو تو بھی اس کی ضرورت نہیں کہ ہر بلندی پر بنائیں اس لئے کہ ان نشانات کی کثرت بلا شبہہ عبث ہے اھ۔

فــــــــــ۱:معروضۃ رابعۃ علیہ۔

 (۱؎ عنایۃ القاضی علی تفسیر البیضاوی     تحت الآیۃ ۲۶ /۱۲۸و۱۲۹    دار الکتب العلمیہ بیروت     ۷ /۱۹۹)

اقول ھذا فـــ۲منزع اخر فلا یرفع الایراد عن القاضی قال وقال الفاضل الیمنی ان اما کنہا المرتفعۃ تغنی عنھا فھی عبث۲؎ اھ۔

اقول یہ ایک دوسرا رخ ہے اس سے قاضی کا اعتراض نہیں اٹھتا۔۔۔۔ آگے لکھتے ہیں: فاضل یمنی نے کہا: ان بلند جگہوں سے ان نشانات کا مقصد یونہی پورا ہوجاتاتھا تویہ عبث ٹھہرے اھ۔

فــــــــ۲:معروضۃ خامسۃ علیہ۔

 (۲؎ عنایۃ القاضی علی تفسیر البیضاوی     تحت الآیۃ ۲۶ /۱۲۸و۱۲۹    دار الکتب العلمیہ بیروت     ۷ /۱۹۹)

اقول اولا  : ارتفاع فــــ۳ الاماکن لا یبلغ بحیث یراھا القاصد من ای مکان بعید قصد ۔

اقول اولا :  جگہوں کی انچائی اس حد تک نہیں ہوتی کہ عازم سفر جس دورجگہ سے بھی چاہے دیکھ لے۔

فـــــــــ۳:معروضۃ سادسۃ علیہ و علی الفاضل الیمنی ۔

وثــانیا : ھوفـــ۴منزع ثالث وکلامنا فی کلامی والانوار،بالجملۃ ھو وجہ زیف ولا اعلم لہ سندا من السلف ولقد احسن النیسابوری اذا سقطہ من تلخیص الکبیر ۔

ثانیا : یہ ایک تیسرا رُخ ہوا۔ اورہماری گفتگو کلام بیضاوی سے متعلق ہے۔الحاصل یہ ایک کمزوروجہ ہے اورسلف سے اس کی کوئی سند میرے علم میں نہیں۔اورنیشاپوری نے بہت اچھا کیا کہ تفسیر کبیر کی تلخیص سے اسے ساقط کردیا۔

ف۴:معروضۃ سابعۃ علیھما۔

اقول : وتعبیری ف۱اذ قلت یبنون من دون حاجۃ ایضا احسن من تعبیر الکبیر ومن تبعہ کما تری۔

اقول میری یہ تعبیر کہ ''بے حاجت بھی بناتے تھے'' تفسیرکبیراوراس کے متبعین کی تعبیرسے بہتر ہے جیسا کہ پیشِ نظر ہے۔(ت)

ف۱:علی الامام الرازی والبیضاوی وابی سعود۔

امام مجاہد و سعید بن جبیر نے فرمایا : جگہ جگہ کبوتروں کی کابکیں بناتے ہیں ۔ رواہ عن الاول ابن جریر۱؎ فی (ایۃ) وھو والفریابی وسعید بن منصور وابن ابی شیبہ و عبد بن حمید واباالمنذر وابی حاتم فی ( مصانع۲؎) وعزاہ للثانی فی المعالم ۳؎ اسے امام مجاہد سے ابن جریر نے''آیہ '' کے معنی میں روایت کیا او رابن جریر،فریابی، سعیدبن منصور، ابن ابی شیبہ، عبد بن حمید،ابن المنذر، ابن ابی حاتم نے ان سے''مصانع'' کے معنی میں روایت کیا۔ اورمعالم التنزیل میں اسے حضرت سعیدبن جبیر کے حوالے سے بیان کیا۔(ت)

 (۱؎ جامع البیان( تفسیر الطبری) تحت الایہ ۲۶/ ۱۲۸ دار احیاء التراث العربی بیروت۱۹ / ۱۱۰)
(۲؎ الدرالمنثور بحوالہ الفریابی تحت الایہ ۲۶/ ۱۲۸ دار احیاء التراث العربی بیروت۶ / ۲۸۲)
(۳؎ معالم التنزیل ( تفسیر البغوی ) تحت الایہ ۲۶/ ۱۲۸ دار احیاء التراث العربی بیروت۳ / ۳۳۶)

ان دونوں تفسیروں پر یہ عبث بمعنی دوم ہوگا یعنی لغو و لہو۔ بعض نے کہا ہر جگہ اونچے اونچے محل تکبر وتفاخر کے لئے بناتے ۔ ذکرہ الکبیر ومن بعدہ وللفریابی وابناء حمید وجریر والمنذر وابی حاتم عن مجاھد وتتخذون مصانع قال قصورا مشیدۃ وبنیانا مخلدا ۱؎ ولابن جریر عنہ قال ایۃ بنیان ۲؎۔

اسے تفسیر کبیر میں ذکرکیا اوراس کے بعدکے مفسرین نے بھی۔اورفریابی،ابن حمید،ابن المنذر،ابن ابی حاتم نے حضرت مجاہد سے روایت کی ''وتتخذون مصانع'' انہوں نے کہا مضبوط محل اوردوامی عمارت۔اور ابن جریر نے ان سے روایت کیا کہ آیۃ یعنی عمارت۔(ت)

 (۱؎ الدرالمنثور بحوالہ الفریابی وغیرہ تحت الایہ ۲۶ / ۲۹ ۱ داراحیاء التراث العربی بیروت ۶ / ۲۸۲
۲؎ جامع البیان ( تفسیر الطبری ) تحت الایہ ۲۶ / ۲۹ ۱ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱۹ / ۱۱۰)

ابن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما سے منقول ہوا جو راستے سیدنا ہُود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی طرف جاتے ان پر محل بنائے تھے کہ اُن میں بیٹھ کر خدمتِ رسالت میں حاضر ہونے والوں سے تمسخر کرتے ذکرہ فی مفاتیح الغیب ورغائب الفرقان (مفاتیح الغیب ۳؎ (تفسیر کبیر ) اور رغائب الفرقان (نیشاپوری) میں اس کا ذکر کیا گیا۔ ت) یا سرِراہ بناتے ہر راہ گیر سے ہنستے ذکرہ البغوی والبیضاوی۴؎ وابو السعود واقتصر علیہ الجلال۵؎ ملتزما الاقتصار علی اصح الاقوال (ذکر کیا بغوی اور بیضاوی اور ابو السعود نے اختصار کیا جلال نے اختصار اقوالِ اصح میں لازم ہے۔ ت)
ان دونوں تفسیروں پر یہ عبث بمعنی اول ہوگا یعنی قصد شر و ارادہ ضرر۔ بالجملہ دونوں معنے کا پتا قرآنِ عظیم سے چلتا ہے اگرچہ متعارف غالب میں اُس کا استعمال معنی دوم ہی پر ہے بیہودہ وبے معنے کام ہی کو عبث کہتے ہیں نہ کہ معاصی وظلم وغصب وزنا وربا وغیرہا کو۔

 (۳؎ مفاتیح الغیب ( التفسیر الکبیر ) تحت الایہ ۲۶ /۱۲۹دارالکتب العلمیہ بیروت ۲۴ / ۱۳۵
غرائب القرآن ورغائب الفرقان تحت الایہ ۲۶ / ۱۲۹مصطفی البابی مصر ۱۹ /۶۵
۴؎ معالم التنزیل( تفسیر البغوی ) تحت الایہ ۲۶ /۱۲۹دارالکتب العلمیہ بیروت۳ / ۳۳۷
انوار التنزیل ( تفسیر البیضاوی ) تحت الایہ ۲۶ / ۱۲۹دارالفکر بیروت۴ / ۲۴۸
۵؎ تفسیر الجلالین الایہ ۲۶ / ۱۲۸ا صح المطابع دہلی ص ۳۱۴ )

اذا تقرر ھذا فـاقـول ظھر ان لاعتب علی الامام الجلیل صاحب الھدایۃ رحمہ اللّٰہ تعالی اذ یقول ان العبث خارج الصلاۃ حرام فما ظنک فی الصلوۃ ۶؎ اھ

جب یہ طے ہوگیا تومیں کہتاہوں واضح ہوگیا کہ امام جلیل صاحبِ ہدایہ رحمہ اللہ تعالٰی پرکوئی عتاب نہیں جب وہ یہ کہتے ہیں کہ:عبث بیرون نماز حرام ہے تو اندرونِ نماز سے متعلق تمہارا کیا خیال ہے اھ۔

 (۶؎ الھدایہ کتاب الصلوۃ باب مایفسد الصلوۃ مایقرہ فیھا المکتبۃ العربیہ کراچی ۱/ ۱۱۹ ،۰ ۱۲)

وقد اقرہ فی العنایۃ والفتح وتبعہ فی الدرر والغنیۃ ولفظ مولٰی خسرو انہ خارج الصلاۃ منھی عنہ فما ظنک فیھا ۱؎ ھ

اسے عنایہ وفتح القدیر میں برقرار رکھااور درروغنیہ میں اس کا اتباع کیا۔مولٰی خسرو کے الفاظ یہ ہیں: وہ بیرونِ نماز منہی عنہ ہے تو اندرونِ نماز سے متعلق تمہاراکیاخیال ہے اھ

 (۱؎ الدرر ا لحکام شرح غرر الاحکام کتاب الصلوۃ مایفسد الصلوۃ میر محمد کتب خانہ کراچی ۱ /۱۰۷)

ولفظ المحقق الحلبی العبث حرام خارج الصلاۃ ففی الصلوۃ اولی ۲؎ اھ اورمحقق حلبی کے الفاظ یہ ہیں: عبث بیرونِ نماز حرام ہے تو اندرونِ نماز بدرجہ اولٰی(حرام) ہوگا اھ۔

 (۲؎ غنیۃ المستملی شرح منیۃ المصلی     کراھیتہ الصلوٰۃ     سہیل اکیڈمی لاہور    ص۳۴۹)

فان قلت اطلقوا وانما ھو حکم القسم الاول۔ قلت اصل الکلام فی الصلاۃ وکل عبث فیہا من القسم الاول فتعین مرادا وکان اللام للعھد فحصل التفصی عما او رد فــــ السروجی فی الغایۃ وتبعہ فی البحر والشرنبلالی فی الغنیۃ وش ان العبث خارجہا بثوبہ اوبدنہ خلاف الاولی ولا یحرم قال والحدیث (ای ان اللّٰہ کرہ لکم ثلثا العبث فی الصلاۃ والرفث فی الصیام والضحک فی المقابر رواہ القضاعی۳؎ عن یحیی بن ابی کثیر مرسلا) قید بکونہ فی الصلاۃ ۱؎ اھ

اگر کہئے ان حضرات نے مطلق رکھاہے اور یہ قسم اول کا حکم ہے میں کہوں گااصل کلام نماز سے متعلق ہے اورنمازمیں ہرعبث قسم اول سے ہے تو اسی کا مراد ہونا متعین ہے اور''العبث'' میں لام عہد کا ہے تو اس اعتراض سے چھٹکاراہوگیا جو سروجی نے غایہ میں وارد کیا اور صاحبِ بحر نے بحر میں اورشرنبلالی نے غنیہ میں اورشامی نے اس کی پیروی کی۔(اعتراض یہ ہے)کہ بیرونِ نماز اپنے کپڑے یابدن سے عبث(کھیل کرنا) خلافِ اولٰی ہے، حرام نہیں۔ اور کہا کہ:یہ حدیث''بیشک اللہ نے تمہارے لئے تین چیزیں ناپسند فرمائیں: نماز میں عبث ،روزے میں بے ہودگی، قبرستانوں میں ہنسنا۔ قضاعی نے یحیٰی بن ابی کثیر سے مرسلاً روایت کی''۔اس میں عبث کے ساتھ اندورنِ نماز ہونے کی قید لگی ہوئی ہے اھ۔(ت)

فــــــ: تظفل علی السروجی والبحر والشرنبلالی و ش۔۔

 (۳؎ البحرالرائق بحوالہ القضاعی فی مسند الشہاب کتاب الصلوۃ باب ما یفسد الصلوۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۲ / ۲۰
۱؎ البحرالرائق بحوالہ الغایہ للسروجی کتاب الصلوۃ باب ما یفسد الصلوۃ الخ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۲ / ۲۰
غنیہ ذوی الاحکام فی بغیۃ درر الاحکام علی ہامش درر الحکام باب مایفسد الصلوۃ میر محمد کتب خانہ کراچی ۱ / ۱۰۷
رد المحتار کتاب الصلوۃ باب مایفسد الصلوۃ ومایکرہ فیہا دار احیاء التراث العربی بیروت ۱ /۴۳۰)

ظاہر ہے کہ معنی اول پر عبث ممنوع وناجائز ہوگا نہ دوم پر ، اور یہاں ہمارا کلام قسم دوم میں ہے یعنی جہاں نہ قصدِ معصیت نہ پانی کی اضاعت۔

بل اقـول  : لک فـــــ ۱ ان تقول ان فی النظر الدقیق لاحکم علی العبث فی نفسہ بالحظر والتحریم اصلا وما کان لانضمام ضمیمۃ ذمیمۃ فانما مرجعہ الیہا دونہ وتحقیق ذلک انا اریناک تظافر الکلمات علی ان مناط العبث علی عدم قصد الفائدۃ بالفعل وھذہ حقیقۃ متحصلۃ بنفسھا ولیس قصد المضر اوعدم قصدہ من مقوماتھا ولا مما یتوقف علیہ وجود ھا کسبب وشرط فیعد من محصلاتھا فاذن لیس قصد مضرٍا لا من مجاوراتھا وما کان لمجاور یکون حکمالہ لالصاحبہ، الا تری البیع یحرم بشرط فاسد وبعد اذان الجمعۃ واذا سئلت عـن حکم البیع قلت مشروع بالکتاب والسنۃ واجماع الامۃ کما ذکرہ فی غایۃ البیان وغیرھا والصلاۃ تکرہ فی ثیاب الحریر للرجل وفی الارض المغصوبۃ ولا یمنعک ذلک بان تقول اذا سئلت عن حکمھا ان الصلاّۃ خیر موضوع فمن استطاع ان یستکثر منھا فلیستکثر کما رواہ ۱؎ الطبرانی فی الاوسط عن ابی ھریرۃ رضی اللّٰہ تعالی عنہ ان المصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم وبالجملۃ یؤاخذ علی المعصیۃ من حیث قصد الشر لا من حیث عدم قصد الخیر وھی انما کانت عبثا من ھذہ الحیثیۃ لامن تلک فلیس الحظر حکم العبث اصلا۔

    بلکہ میں کہتاہوں تم کہہ سکتے ہوکہ بنظرِ دقیق دیکھا جائے توخود عبث پرمنع وتحریم کاحکم بالکل نہیں اور جو حکم منع کسی مذموم ضمیمہ کے شامل ہوجانے کی وجہ سے ہے اس کا مرجع اس ضمیمہ کی طرف ہے عبث کی جانب نہیں۔ اس کی تحقیق یہ ہے کہ ہم دکھا چکے کہ کلمات کا اس پر اتفاق ہے کہ عبث کا مدار اس پر ہے کہ بالفعل فائدہ کا قصد نہ ہو۔ اوریہ ایک ایسی حقیقت ہے جو خود حصول وثبوت رکھتی ہے۔اورمضرکاقصد یاعدمِ قصد اس کا نہ توجز ہے نہ سبب وشرط کی طرح اس پراس کا وجودموقوف ہے کہ اسے اس کا محصّل شمار کیاجائے۔تو کسی مضر کا قصدبس اس کا مجاوِراور اس سے متصل ہی ہوسکتا ہے اورجو حکم کسی مجاوِر ومتصل کے سبب ہو وہ دراصل اسی متصل کا حکم ہے اس کے ساتھ والے کا نہیں۔ ۔۔۔۔۔ دیکھئے کسی شرط فاسد سے بیع حرام ہوتی ہے یوں ہی اذانِ جمعہ کے بعد بیع حرام ہے،اور اگرخود بیع کاحکم پوچھا جائے توجواب ہوگاکہ جائز ،اورکتاب وسنت واجماعِ اُمت سے مشر وع ہے جیسا کہ اسے غایۃ البیان وغیرہامیں ذکرکیا ہے۔ یوں ہی نماز ریشمی کپڑے میں مردکے لئے اورغصب کردہ زمین میں کسی کے لئے بھی مکروہ ہے لیکن اگرخود نماز کا حکم پوچھاجائے توجواب یہی ہوگا نماز ایک وضع شدہ خیر اورنیکی ہے توجس سے ہوسکے کہ اسے زیادہ حاصل کرے تو اُسے چاہئے کہ وہ زیادہ حاصل کرے۔ جیسا کہ اسے طبرانی نے معجم اوسط میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے ،مصطفٰی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم سے روایت کیا ہے ۔ الحاصل معصیت پرمواخذہ اس لحاظ سے ہے کہ شرکا قصد ہوا، اس لحاظ سے نہیں کہ خیر کا قصد نہ ہوا، اوروہ عبث اسی حیثیت سے ہے اُس حیثیت سے نہیں توعبث کا حکم ممانعت بالکل نہیں۔(ت)

 (۱؎ المعجم الاوسط حدیث ۲۴۵ مکتبۃ المعارف ریاض     بیروت    ۱ /۱۸۳)

اس کا حکم وہی ہے جو ابھی غایہ سروجی وبحرالرائق وغنیہ شرنبلالی وردالمحتار سے منقول ہوا کہ خلاف اولٰی ہے اور یہی مفاد درمختار ہے ۔ حیث قال کرہ عبثہ للنھی الالحاجۃ ولا باس بہ خارج الصلاۃ ۲؎ اھ فان لاباس لما ترکہ اولی  (اس کے الفاظ یہ ہیں: اس کا عبث نہی کی وجہ سے مکروہ ہے مگریہ کہ کسی حاجت کی وجہ سے ہواوربیرونِ نمازاس میں حرج نہیں اھ۔ اس لئے کہ لاباس(حرج نہیں) اسی کے لئے بولا جاتا ہے جس کا ترک اولی ہے۔(ت)

 (۲؎ الدر المختار کتاب الصلوۃ باب یفسد الصلوۃ ومایکرہ فیہا مطبع مجتباہی دہلی ۱ / ۹۱)

اور یہی وہ ہے جو قول سوم میں ارشاد ہوا کہ پانی میں اسراف نہ کرنا آداب سے ہے۔ اما ما فی الحلیۃ فی مسألۃ فرقعۃ الاصابع فــــ ۱ھل یکرہ خارج الصّلاۃ فی النوازل یکرہ والظاھران المراد کراھۃ تنزیہ حیث لایکون لغرض صحیح اما لغرض صحیح ولو اراحۃ الاصابع فلا ۱؎ اھ

مگر حلیہ میں انگلیاں چٹخانے کے مسئلہ میں ہے: کیا یہ بیرونِ نماز بھی مکروہ ہے؟ نوازل میں ہے کہ مکروہ ہے۔ اورظاہر یہ ہے کہ کراہت تنزیہ مراد ہے جبکہ اس کی کوئی غرض صحیح نہ ہو۔اوراگرکسی غرض صحیح کے تحت ہو اگرچہ انگلیوں کو راحت دینا ہی مقصودہوتوکراہت نہیں اھ۔

فــ ۱: مسئلہ نماز میں انگلی چٹخانا گناہ وناجائز ہے یوں ہی اگر نماز کے انتظار میں بیٹھنا ہے یا نماز کے لئے جارہا ہے ۔ اور ان کے سوا اگر حاجت ہو مثلا انگلیوں میں بخارات کے سبب کسل پیدا ہو تو خالص اباحت ہے اور بے حاجت خلاف اولی و ترک ادب ہے ۔

(۱؎ حلیہ المحلی شرح منیۃ المصلی )

وفی فــــ ۲ تشبیکھا بعد ذکر النھی عنہ فی الصلاۃ وفی السعی الیھا ولمنتظرھا کمثلھم فی الفرقعۃ مانصہ فیبقی فیما وراء ھذہ الاحوال حیث لایکون عبثا علی الاباحۃ من غیر کراھۃ وان کان علی سبیل العبث یکرہ تنزیھا ۲؎ اھ

اور ایک ہاتھ کی انگلیاں دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں ڈالنے سے متعلق، نمازمیں، اورنمازکے لئے جانے اور نمازکے انتظار کی حالتوں میں انگلیاں چٹخانے کی طرح نہی کاذکرکرنے کے بعد حلیہ میں لکھا ہے: ان کے علاوہ احوال میں جہاں کہ عبث نہ ہو بغیر کسی کراہت کے اباحت پرحکم رہے گا اور اگر بطورِ عبث ہو تومکروہ تنزیہی ہوگااھ۔

ف۲: مسئلہ یہی سب احکام اپنے ایک ہاتھ کی انگلیاں دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں ڈالنے کے ہیں .

(۲؎ حلیہ المحلی شرح منیۃ المصلی )

وتبعہ فیہما ش والبحر فی الاولی و زاد انہ لما لم یکن فیھا خارجہا نھی لم تکن تحریمیۃ کما اسلفناہ قریبا ۳؎ اھ

ان دونوں مسئلوں میں شامی نے حلیہ کا اتباع کیا ہے اوربحرنے پہلے مسئلہ میں اتباع کیا ہے اور مزیدیہ لکھا:چوں کہ انگلیاں چٹخانے سے متعلق بیرونِ نماز ممانعت نہیں اس لئے وہاں یہ مکروہ تحریمی نہیں جیساکہ کچھ پہلے اسے ہم بیان کرچکے اھ۔

 (۳؎ بحرالرائق        مایفسد الصّلوٰۃ وما یکرہ فیہا    ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۲ /۲۰)

یرید ماقدم انہ ان لم یکن الدلیل نھیا بل کان مفیدا للترک الغیر الجازم فھی تنزیھیۃ ۱؎ اھ

پہلے یہ بتایا ہے کہ اگردلیل مخالفت نہ کرتی ہوبلکہ غیر جزمی طورپرترک کاافادہ کررہی ہو تو کراہت تنزیہی ہو گی اھ

 (۱؎ بحرالرائق کتاب الصلوۃ باب مایفسد الصّلوٰۃ وما یکرہ فیہا    ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۲ /۱۹
ردالمحتار    کتاب الصلوۃ باب مایفسد الصّلوٰۃ وما یکرہ فیہا     دار احیاء التراث العربی بیروت    ۱ /۴۲۹)

وعقب الثانیۃ بقولہ وقد قدمناہ عن الھدایۃ ان العبث خارج الصلوٰۃ حرام وحملناہ علی کراھۃ التحریم فینبغی انیکون العبث خارجہا لغیر حاجۃ کذلک ۲؎ اھ

او ربحر نے مسئلہ دوم کے بعد یہ لکھا کہ : ہم ہدایہ کے حوالے سے بیان کرچکے ہیں کہ بیرونِ نماز عبث حرام ہے اور اسے ہم نے کراہت تحریم پر محمول کیا تو بیرونِ نماز بے حاجت عبث کا حکم بھی یہی ہونا چاہئے اھ۔

ف : تطفل علی البحر ۔

 (۲؎ بحرالرائق کتاب الصلوۃ باب مایفسد الصّلوٰۃ وما یکرہ فیہا    ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۲ /۲۰،۲۱)

فـاقول دعوی کراھۃ التنزیہ مبتنیہ علی عدم الفرق بین خلاف الاولی وکراھۃ التنزیہ وزعم ان ترک کل مستحب مکروہ کما قدمنا فی التنبیہ الثالث عن الحلیۃ ان المکروہ تنزیھا مرجعہ خلاف الاولی والظاھر انہما متساویان وعن البحر ان التنزیہ فی رتبۃ المندوب وعن ش ان ترک المندوب مکروہ تنزیھا وقد علمت ما ھوالتحقیق وباللّٰہ التوفیق۔

اس پرمیں کہتاہوں کراہت تنزیہ کا دعوٰی، خلاف اولٰی اورکراہت تنزیہ کے درمیان عدمِ فرق پر اور اس خیال پر مبنی ہے کہ ہر مستحب کاترک مکروہ ہے جیسا کہ تنبیہ سوم میں حلیہ کے حوالے سے ہم نے نقل کیا کہ: مکروہِ تنـزیہی کا مرجع خلاف اولٰی ہے اور ظاہر یہ ہے کہ دونوں میں تساوی ہے۔ اوربحر سے نقل کیا کہ کراہت تنزیہ کا مرتبہ مندوب کے مقابل ہے اورشامی سے نقل کیاکہ ترکِ مندوب مکروہ تنزیہی ہے۔اور وہاں واضح ہوچکا کہ تحقیق کیاہے،اور توفیق خدا ہی سے ہے۔

اما ما عقب بہ الثانیۃ فاقول اولا اعجب واغرب مع انہ اسلف الاٰن ان لیس خارجہا نھی فلا تحریمیۃ وثانیا فــــ ۱ حققنا ان کلام الہدایۃ فی القسم الاول من العبث فاجراؤہ فی الثانی غیر سدید۔

اب رہا وہ جو بحر نے مسئلہ دوم کے بعد لکھا تو میں کہتاہوں اولاً : بہت زیادہ عجیب وغریب ہے باوجودیکہ ابھی انہوں نے پہلے بتایاکہ بیرونِ نماز نہی نہیں تومکروہ تحریمی نہیں ثانیا ہم تحقیق کرچکے کہ ہدایہ کا کلام عبث کی قسم اول سے متعلق ہے تواسے قسم دوم میں جاری کرنا درست نہیں۔(ت)

ف : تطفل اخر علیہ ۔

ہم اوپر بیان کر آئے کہ کراہت تنزیہی کیلئے بھی نہی ودلیل خاص کی حاجت ہے اور مطلقا کوئی فعل کبھی کسی فائدہ غیر معتد بہا کیلئے کرنے سے شرع میں کون سی نہی مصروف ہے کہ کراہت تنزیہ ہو ہاں خلافِ اولٰی ہونا ظاہر کہ ہر وقت اولی یہی ہے کہ انسان فائدہ معتد بہا کی طرف متوجہ ہو۔ رہی حدیث صحیح

من حسن اسلام المرء ترکہ مالا یعنیہ رواہ الترمذی ۱؎ وابن ماجۃ والبیہقی فی الشعب عن ابی ھریرۃ والحاکم فی الکنی عن ابی بکرالصدیق وفی تاریخہ عن علی المرتضی  واحمد والطبرانی فی الکبیر عن سید ابن السید الحسین بن علی والشیرازی فی الالقاب عن ابی ذر والطبرانی فی الصغیر عن زید بن ثابت وابن عساکر عن الحارث بن ھشام رضی اللّٰہ تعالی عنھم عن النبی صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم حسنہ النووی وصححہ ابن عبد البر والھیثمی۔

انسان کے اسلام کی خوبی سے ہے یہ بات کہ غیر مہم کام میں مشغول نہ ہولایعنی بات ترک کرے
(اس کو ترمذی وابن ماجہ نے اور شعب الایمان میں بیہقی نے حضرت ابو ھریرہ سے ،اورحاکم نے کُنٰی میں حضرت ابو بکر صدیق سے اور اپنی تاریخ میں حضرت علی مرتضٰی سے ،اور امام احمد نے اور معجم کبیرمیں طبرانی نے سید ابن سید حضرت حسین بن علی سے، اورشیرازی نے القاب میں حضرت ابو ذر سے ،اورمعجم صغیر میں طبرانی نے حضرت زید بن ثابت سے ،اورابن عساکرنے حضرت حارث بن ہشام سے ، ان حضرات رضی اللہ تعالٰی عنہم نے نبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم سے روایت کیا۔ امام نووی نے اسے حسن اور ابن عبدالبروھیثمی نے صحیح کہا۔(ت)

 (۱؎ سنن الترمذی    کتاب الزہد     حدیث ۲۳۲۴ دارالفکر بیروت         ۴ /۱۴۲
سنن الترمذی    کتاب الفتن باب کف اللسان فی الفتنۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص ۲۹۵
مجمع الزوائد کتاب الادب باب من حسن اسلام المرء الخ دارالکتب بیروت     ۸ /۱۸ )

اقول : اس کا مفاد بھی اس قدر کہ حسن اسلام سب محسنات سے ہے اور محسّنات میں سب مستحسنات بھی، نہ کہ ہر غیر مہم سے نہی، ورنہ غیر مہم تو بیکار سے بھی اعم ہے، تو سوا مہمات کے سب زیر نہی آکر مباحات سراسر مرتفع ہوجائیں گے۔ لاجرم امام ابنِ حجر مکی شرح اربعین نووی میں فرماتے ہیں: الذی یعنی الانسان من الامور ما یتعلق بضرورۃ حیاتہ فی معاشہ مما یشبعہ من جوع ویرویہ من عطش ویستر عورتہ ویعف فرجہ ونحوہ ذلک مما یدفع الضرورۃ دون ما فیہ تلذذ واستمتاع واستکثار وسلامتہ فی معادہ ۱؎۔

انسان کے لئے مہم امور وہ ہیں جو اس کی حیات ومعاش کی ضر ورت سے وابستہ ہوں اس قدر خوراک جو اس کی بھوک دورکرکے سیری حاصل کرائے اورپانی اس کی پیاس دور کرکے سیراب کردے اور کپڑا جس سے اس کی ستر پوشی ہو اور وہ جس سے اس کی پارسائی کی حفاظت اورعفت ہو،اوراسی طرح کے امور جن سے اس کی ضرورت دفع ہو، اورجس میں اس کے معاد و آخرت کی سلامتی ہو وہ نہیں جس میں صرف لطف ولذت اندوزی اورکثرت طلبی ہو۔(ت)

 (۱؎ شرح اربعین لامام ابن حجر مکی )

ابن عطیہ مالکی کی شرح اربعین میں ہے: مالایعنیہ ھو مالا تدعو الحاجۃ الیہ مما لایعود علیہ منہ نفع اخروی، والذی یعنیہ مایدفع الضرورۃ دون مافیہ تلذذ وتنعم وقال الشیخ یوسف بن عمر مالایعنیہ ھو مایخاف فیہ فوات الاجر والذی یعنیہ ھو الذی لایخاف فیہ فوات ذلک۱؎ اھ مختصرا۔ لا یعنی وغیر مہم امور وہ ہیں جن کی کوئی حاجت نہ ہو ، جن سے کوئی اُخروی فائدہ نہ ہو۔ اورمہم امور وہ ہیں جن سے ضرورت دفع ہو نہ وہ جن میں لذت اندوزی وآسائش طلبی ہو۔ اورشیخ یوسف بن عمر نے فرمایا: لایعنی امور وہ ہیں جن میں اجر فوت ہونے کا اندیشہ ہو۔اور یعنی و مہم امور وہ ہیں جن میں اجر فوت ہونے کا اندیشہ نہ ہو اھ مختصرا۔(ت)

 (۱؎ شرح اربعین للامام ابن عطیۃ مالکی)

علاّمہ احمد بن حجازی کی شرح اربعین میں ہے: الذی یعنی الانسان من الامور ما یتعلق بضرورۃ حیاتہ فی معاشہ وسلامتہ فی معادہ ومما لایعنیہ التوسع فی الدنیا وطلب المناصب والریاسۃ ۲؎ اھ ملخصا۔ انسان کے لئے مہم وہ امور ہیں جو اس کی معاشی زندگی اوراُخروی سلامتی کی ضرورت سے متعلق ہوں اور لایعنی وغیرمہم امور دنیا کی وسعت اورمنصب وریاست کی طلب ہے اھ ملخصاً۔(ت)

 (۲؎ المجالس السنیہ فی الکلام علی اربعین للنوویہ المجلس الثانی عشر الخ دار احیاء الکتب العربیہ مصر     ص۳۶و۳۷)

تیسیر میں ہے : الذی یعنیہ ما تعلق بضرورۃ حیاتہ فی معاشہ دون ما زاد وقال الغزالی حدما لایعنی ھوالذی لو ترک لم یفت بہ ثواب ولم ینجزبہ ضرر ۱؎۔ مہم امر وہ ہے جواس کی معاشی زندگی کی ضرورت سے وابستہ ہو وہ نہیں جو زیادہ ہو۔اورامام غزالی نے فرمایا: لایعنی کی تعریف یہ ہے کہ اگراسے ترک کردے تو اس سے کوئی ثواب فوت نہ ہو اور اس سے کوئی ضرر عائد نہ ہو۔(ت)

 (۱؎ التیسیرشرح الجامع الصغیر تحت الحدیث من حسن اسلام المرء الخ مکتبۃ الامام الشافعی ریاض ۲ /۳۸۱)

مرقاۃ میں ہے: حقیقۃ مالا یعنیہ مالا یحتاج الیہ فی ضرورۃ دینہ ودنیاہ ولا ینفعہ فی مرضاۃ مولاہ بان یکون عیشہ بدونہ ممکنا وھو فی استقامۃ حالہ بغیرہ متمکنا قال الغزالی وحد مالا یعنیک ان تتکلم بکل مالو سکت عنہ لم تأثم ولم تتضرر فی حال ولا ماٰل ومثالہ ان تجلس مع قوم فتحکی معھم اسفارک ومارایت فیھا من جبال وانھار وما وقع لک من الوقائع وما استحسنتہ من الاطعمۃ والثیاب وما تعجبت منہ من مشائخ البلاد ووقائعھم فھذہ امور لوسکت عنھا لم تأثم ولم تتضرر واذا بالغت فی الاجتھاد حتی لم یمتزج بحکایتک زیادۃ ولا نقصان ولا تزکیۃ نفس من حیث التفاخر بمشا ھدۃ الاحوال العظیمۃ، ولا اغتیاب لشخص ولا مذمۃ لشیئ مما خلقہ اللّٰہ تعالی فانت مع ذلک کلہ مضیع زمانک ومحاسب علی عمل لسانک اذ تستبدل الذی ھو ادنی بالذی ھو خیر، لانک لو صرفت زمان الکلام فی الذکر والفکر ربما ینفتح، لکن من نفحات رحمۃ اللّٰہ تعالی ما یعظم جدواہ ولو سبحت اللّٰہ تعالی بنی لک بھا قصر فی الجنۃ ومن قدر علی ان یاخذ کنزا من الکنوز فاخذ بدلہ عـــــــہ مدرۃ لاینتفع بھا کان خاسرا خسرانا مبینا وھذا علی فرض السلامۃ من الوقوع فی کلام المعصیۃ وانی تسلم من الافات التی ذکرناھا ۱؎۔

لا یعنی کی حقیقت یہ ہے کہ دین ودنیاکی ضرورت میں اس سے کام نہ ہو اور رضائے مولا میں وہ نفع بخش نہ ہو اس طرح کہ وہ اس کے بغیر زندگی گزارسکتاہو اور وہ نہ ہو توبھی وہ اپنی حالت درست رکھ سکتا ہو۔امام غزالی نے فرمایا: لایعنی کی حد یہ ہے کہ تم ایسی بات بولو جونہ بولتے تو نہ گنہگار ہوتے نہ حال ومآل میں اس سے تمہیں کوئی ضررہوتا۔ اس کی مثال یہ ہے کہ بیٹھ کر لوگوں سے تم اپنے سفروں کا قصہ بیان کرو اوریہ کہ میں نے اتنے پہاڑ اتنے دریا دیکھے اوریہ یہ واقعات پیش آئے اتنے عمدہ کھانوں اور کپڑوں سے سابقہ پڑا،اورایسے ایسے مشائخِ بلادسے ملاقات ہوئی ان کے واقعات یہ ہیں۔ یہ ایسی باتیں ہیں جو تم نہ بولتے تو نہ گنہگار ہوتے، نہ ان سے تمہیں کوئی ضررہوتا۔ اورجب تمہاری پوری کوشش یہ ہوکہ تمہاری حکایت میں نہ کسی کمی بیشی کی آمیزش ہو،نہ ان عظیم احوال کے مشاہدہ پر تفاخر کے اعتبار سے خود ستائی کا شائبہ ہو، نہ کسی انسان کی غیبت ہو، نہ خدائے تعالٰی کی مخلوقات میں سے کسی شئی کی مذمّت ہو توان ساری احتیاطوں کے بعد بھی تم اپنا وقت برباد کرنے والے ہو اور تم سے اپنی زبان کے عمل پر حساب ہوگا اس لئے کہ تم خیر کے عوض اسے لے رہے ہو جو ادنٰی وکمترہے، کیونکہ گفتگو کا یہ وقت اگرتم ذکر وفکر میں صرف کرتے تورحمتِ الہٰی کے فیوض سے تم پر وہ درفیض کشادہ ہوتا جس کا نفع عظیم ہوتا،اگر تم خدائے بزرگ وبرتر کی تسبیح کرتے تواس کے بدلے تمہارے لئے جنت میں ایک محل تعمیر ہوتا۔جو ایک خزانہ لے سکتا ہو مگر اسے چھوڑ کر ایک بے کار کا ڈھیلا اٹھالے تو وہ کھلے ہوئے خسارہ اور صریح نقصان کا شکار اور یہ اس مفروضہ پر ہے کہ معصیت کی بات میں پڑنے سے سلامت رہ جاؤ، او ر ان آفتوں سے سلامتی کہاں جو ہم نے ذکرکیں۔(ت)

 (عــہ)وقع فی نسخۃ المرقاۃ المطبوعۃ بمصر بدرۃ بالباء وھو تصحیف اھ منہ (م)
مرقاۃ مطبوعہ مصر کے نسخہ میں مدرہ کی جگہ باء سے بدرہ چھپا ہوا ہے یہ تصحیف ہے اھ منہ (ت)

 (۱؎ مرقاۃ المفاتیح شرح مشکوۃ المصابیح کتاب الادب باب حفظ اللسان تحت الحدیث ۴۸۴۰  المکتبۃ الحبیبیہ کوئٹہ ۸/ ۵۸۵و۵۸۶)

خلاصہ فـــ۱ ان سب نفیس کلاموں کا یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم اپنی امت کو لایعنی باتیں چھوڑنے کی طرف ارشاد فرماتے ہیں جتنی بات آدمی کے دین میں نافع اور ثواب الٰہی کی باعث ہویا دنیا میں ضرورت کے لائق ہو جیسے بھُوک پیاس کا ازالہ بدن ڈھانکنا پارسائی حاصل کرنا اُسی قدر امر مہم ہے اور اس سے زائد جو کچھ ہو جیسے دنیا کی لذتیں نعمتیں منصب ریاستیں غرض جملہ افعال واقوال واحوال جن کے بغیر زندگانی ممکن ہو اور ان کے ترک میں نہ ثواب کا فوت نہ اب یا آئندہ کسی ضرر کا خوف وہ سب لایعنی وقابلِ ترک مثلاً لوگوں کے سامنے اپنے سفر کی حکایتیں کہ اتنے عــہ ۱ اتنے شہر اور پہاڑ اور دریا دیکھے عــہ ۲؎ یہ یہ معاملے پیش آئے عــہ ۳ فلاں فلاں کھانے اور لباس عمدہ پائے عــہ۴ ایسے ایسے مشایخ سے ملنا ہوا۔ یہ سب باتیں اگر تو نہ بیان کرتا تو نہ گناہ تھا نہ ضررعــہ ۱ ہوتا اور اگر تو کامل کوشش کرے کہ تیرے کلام میں واقعیت سے کچھ کمی عــہ ۲ بیشی نہ ہونے پائے نہ اس تفاخر سے نفس کی تعریف نکلے کہ ہم نے ایسے ایسے عظیم حال دیکھے نہ اُس عــہ۳میں کسی شخص کی غیبت ہو۔نہ اللہ تعالٰی کی پیدا عــہ۴ کی ہوئی کسی چیز کی مذمت ہو تو اتنی احتیاطوں کے بعد بھی اُس کلام کا حاصل یہ ہوگا کہ تُونے اتنی دیر اپنا وقت ضائع کیا اور تیری زبان سے اُس کا حساب ہوگا تو خیر کے عوض ادنی بات اختیار کررہا ہے اس لئے کہ جتنی دیر تُونے یہ باتیں کیں اگر اتنا وقت اللہ عزوجل کی یاد اور اس کی نعمتوں صنعتوں کی فکر میں صرف کرتا تو غالباً رحمتِ الٰہی کے فیوض سے تجھ پر وہ کھُلتا جو بڑا نفع دیتا او ر تسبیح الٰہی کرتا تو تیرے لئے جنت میں عــہ۱ محل چُنا جاتا اور جو ایک خزانہ لے سکتا ہو وہ ایک نکمّا ڈھیلا لینے پر بس کرے تو صریح زیاں کار ہو اور یہ سب بھی اُس تقدیر پر ہے کہ کلامِ معصیت سے بچ جائے اور وہ آفتیں جو ہم نے ذکر کیں اُن سے بچنا کہاں ہوتا ہے۔ ظاہر ہوا کہ لایعنی جملہ مباحات کو شامل ہے نہ کہ مطلقا مکروہ ہو۔

فـــ۱:حدیث وائمہ کی جلیل نصیحت :لا یعنی باتوں کاموں کے ترک کی ہدایت اور لا یعنی معنی کا بیان ۔
(عــہ۱) اقول مگر جبکہ نیت بیان عجائب وصنعت وحکمت وقدرت ربانی وذکر الٰہی ہو قال تعالٰی

فی الافاق ۲؎ وفی انفسکم افلا تبصرون۳؎ o ۱۲ منہ (م)اللہ تعالٰی نے فرمایا:دنیا بھر میں اور خود تم میں کتنی نشانیاں ہیں تو کیا تمہیں سوجھتا نہیں۔

 (۲؎القرآن الکریم ۴۱ /۵۳ )  ( ۳؎القرآن الکریم ۵۱ /۲۱)

 (عـــہ۲)اقول؎ مگر جبکہ اُن کے ذکر میں اپنی یا سامعین کی منفعت دینی ہو اور خالص اُسی کا قصد کرے قال اللّٰہ تعالی

وذکرھم بایام اللّٰہ ۴؎  (اللہ تعالٰی نے فرمایا: اور انہیں اللہ کے دن یاد دلاؤ۔ت )۱۲منہ

 (۴؎القرآن الکریم     ۱۴ /۵)

 (عــہ۳) اقول: مگر جبکہ اُس سے مقصود اپنے اوپر احساناتِ الٰہی کا بیان ہو کہ ایسی جگہ ایسی بے سروسامانی میں مجھ سے ناچیز کو اپنے کرم سے ایسا ایسا عطا فرمایا قال تعالٰی

واما بنعمۃ ربک فحدث۵؎  (اللہ تعالٰی نے فرمایا:اور اپنے رب کی نعمت کاخوب چرچا کرو۔ت )۱۲منہ

 (۵؎القرآن الکریم     ۹۳ /۱۱)

 (عــہ۴) اقول مگر جبکہ علمائے سنّت وصلحائے امت کے فضائل کا نشر اور سامعین کو ان سے استفادہ کی ترغیب مقصود ہو

عند ذکر الصالحین تنزل الرحمۃ ۶؎  (صالحین کے ذکر پر اللہ کی رحمت نازل ہوتی ہے ۔ت)

 (۶؎کشف الخفاء    حدیث ۱۷۷۰    دارالکتب العلمیہ بیروت    ۲/ ۶۵)

 (عــہ۱) اقول ثواب نہ ملنا بھی ایک نوع ضرر ہے خود امام غزالی سے بحوالہ تیسیر اور کلام ابن عطیہ ومرقاۃ میں گزرا کہ جو کچھ آخرت میں نافع ہو لایعنی نہیں ورنہ اس کے یہ معنی لیں کہ جس کے ترک میں نہ گناہ اخروی نہ ضرر دنیوی تو تمام مستحبات بھی داخلِ لایعنی ہوجائیں گے اور وہ بداہۃً باطل ہے ۱۲ منہ (م)
(عــہ۲) اقول یعنی وہ کمی جس سے معنی کلام بدل جائیں جیسے کسی ضروری استثناء کا ترک ورنہ جبکہ ترک کل میں گناہ نہیں ترک بعض میں کیوں ہونے لگا ۱۲ منہ (م)
(عــہ۳) اقول مگر جبکہ جس کی برائی بیان کی وہ گمراہ بد مذہب ہوکہ ان کی شناعت سے مسلمانوں کو مطلع کرنا واجبات دینیہ سے ہے حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: اترعون عن ذکر الفاجر متی یعرفہ الناس اذکروا الفاجر بما فیہ یحذرہ الناس ۱؎ کیا فاجر کی برائی بیان کرنے سے پرہیز رکھتے ہو، لوگ اُسے کب پہچانیں گے فاجر میں جو شناعتیں ہیں بیان کرو کہ لوگ اس سے پرہیز کریں رواہ ابن ابی الدنیا فی ذم الغیبۃ والامام الترمذی ا لحکیم فی النوادر والحاکم۔ فی الکنی والشیرازی فی الالقاب وابن عدی فی الکامل والطبرانی فی الکبیر والبیہقی فی السنن والخطیب فی التاریخ عن معویۃ بن حیدۃ القشیری والخطیب فی رواۃ مالک عن ابی ھریرۃ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہم ۱۲ منہ (م)

 (۱؎نوادرالاصول     الاصل السادس والستون والمائۃ فی ذکرالفاجر    دارصادربیروت    ۱ /۴۵۶
السنن الکبری     کتا ب الشہادات باب الرجل من اہل الفقہ الخ     دارصادربیروت    ۱۰ /۲۱۰
المعجم الکبیر        حدیث ۱۰۱۰    المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت    ۱۹ /۴۱۸
اتحاف السادۃ المتقین بحوالہ الخطیب وغیر ہ     کتاب آفات اللسان     دارالفکربیروت    ۷ /۵۵۶)

 (عــہ۴)اقول مگر جبکہ اس میں مصلحت دینیہ ہو اورمعاذ اللہ اعتراض کے پہلو سے پاک ہو جیسے کچھ لوگ کسی طرف عازمِ سفر ہیں ان کو بتانا کہ فلاں راستہ بہت خراب ہے اس سے نہ جانا یا کوئی کسی عورت سے نکاح چاہتا ہے اسے اس کی صورت نسب وغیرہ وغیرہ میں عیوب معلوم ہیں ان کو خالص خیر خواہی کی نیت سے بیان کرنا لحدیث ان فی اعین الانصار شیئا رواہ مسلم ۲؎عن ابی ھریرۃ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ ۱۲ منہ (م)

 (۲؎صحیح مسلم     کتاب النکاح باب ندب من اراد نکاح امرأۃالخ     قدیمی کتب خانہ کراچی     ۱ /۴۵۶)

 (عــہ۱) اقول ہر بار تسبیح الٰہی کرنے پر جنت میں ایک پیڑ بویا جاتا ہے احادیث ۲؎کثیرہ میں ہے:
من احادیث ابن مسعود وابن عمرو وجابر وابی ھریرۃ رضی اللّٰہ تعالٰی عنھم اما بناء القصر فاللّٰہ تعالی اعلم۔ (م)

 (سنن الترمذی     کتاب الدعوات     حدیث ۳۴۷۵و۳۴۷۶    دارالفکربیروت    ۵ /۱۸۶و۱۸۷)

ہاں مثلاً چار بار پانی ڈالنے کی عادت کرلے تو غالباً اس پر باعث نہ ہوگا مگر وسوسہ اور کم از کم اتنا ضرور ہوگا کہ دیکھنے والے اسے موسوس جانیں گے اور بلا ضرورت شرعیہ محل تہمت میں پڑنا ضرور مکروہ ہے۔ فیذکرعنہ عــہ۲صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم من کان یؤمن باللّٰہ والیوم الاٰخر فلا یقفن مواقف التھم ۱؎ وفی الباب عن عــہ۱امیر المؤمنین الفاروق رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ۔ کہ حضور اکر م سے مذکورہے کہ جو خدا اور روزِ آخر پر ایمان رکھتا ہووہ ہرگز تہمت کی جگہ نہ ٹھہرے اوراس باب میں امیر المومنین فاروقِ اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے۔(ت)

 (عــہ۲)اوردہ فی الکشاف من اخرسورۃ الاحزاب والعلامۃ الشرنبلالی قبیل سجود السھو من مراقی الفلاح۔ (م)
کشاف میں سورہ احزاب کے آخر میں اور علامہ شرنبلالی نے سجدہ کے بیان میں مراقی الفلاح میں لکھا ہے۔ (ت)

 (۱؎الکشاف     تحت الآیۃ ۳۳ /۵۶    دارالکتاب العربی     ۳ /۵۵۸
کشف الخفا    حدیث ۸۸    دارالکتب العلمیہ بیروت    ۱ /۳۷
مراقی الفلاح مع حاشیۃ الطحطاوی     باب ادراک الفریضہ     دارالکتب العلمیہ بیروت    ص۴۸۸ )

 (عــہ۱) رواہ الخرائطی فی مکارم الاخلاق عنہ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ انہ قال من اقام نفسہ مقام التہمۃ فلا یلومن اساء الظن بہ ۱؎ ۱۲ منہ
خرائطی رضی اللہ تعالٰی عنہ نے مکارم الاخلاق میں امیر المومنین عمر فاروق سے روایت کیا ہے کہ جس نے تہمت کی جگہ اپنے آپ کو پہنچایا تو بدگمانی کرنے والے کو ملامت نہ کرو۔ (ت)

 (کشف الخفاء    بحوالہ الخرائطی فی مکارم الاخلاق تحت الحدیث ۸۸ دارالکتب العلمیہ بیروت    ۱ /۳۷)

یہ منشأ قول دوم ہے
بالجملہ حاصل حکم یہ نکلا بے حاجت زیادت اگر باعتقاد سنیت ہو مطلقاً ناجائز وگناہ ہے اگرچہ دریا میں اور اگر پانی ضائع جائے تو جب بھی مطلقاً مکروہ تحریمی اگرچہ اعتقاد سنیت نہ ہو اور اگر نہ فساد عقیدت نہ اضاعت تو خلاف ادب ہے مگر عادت کرلے تو مکروہ تنزیہی یہ ہے بحمداللہ تعالٰی فقہ جامع وفکر نافع ودرک بالغ ونور بازغ وکمال توفیق وجمال تطبیق وحُسن تحقیق وعطر تدقیق وباللّٰہ التوفیق والحمدللّٰہ رب العٰلمین۔

اقول اس تنقیح جلیل سے چند فائدے روشن ہوئے:
اولا اصل حکم وہی ہے جو امام محرر المذہب رضی اللہ تعالٰی عنہ نے کتاب اصل میں ارشاد فرمایا کہ بقیہ احکام کے مناط عقیدت واضاعت وعادت ہیں اور وہ نفس فعل سے زائد، فی نفسہ اُس کا حکم اُسی قدر کہ قول سوم میں مذکور ہوا۔
ثانیا دوم وسوم میں اُس زیادت کو اسراف سے تعبیر فرمانا محض بنظر صورت ہے ورنہ جب نہ معصیت نہ اضاعت تو حقیقت اسراف زنہار نہیں۔
ثالثا دربارہ زیادت منع واجازت میں عادت وندرت کو دخل نہیں کہ فساد عقیدت یا پانی کی اضاعت ہو تو ایک بار بھی جائز نہیں اور اُن دونوں سے بری ہو تو بارہا بھی گناہ معصیت نہیں کراہت تنزیہی جدا بات ہے، ہاں دربارہ نقص یہ تفصیل ہے کہ بے ضرورت تین بار سے کم دھونے کی عادت مکروہ تحریمی اور احیاناً ہو تو بے فساد عقیدت صرف مکروہ تنزیہی ورنہ تحریمی کہ تثلیث سنّتِ مؤکدہ ہے اور سنت مؤکدہ کے ترک کا یہی حکم بخلاف زیادت کہ ترک تثلیث نہیں بلکہ تثلیث پُوری کرکے زیادت ہے۔

وبہ ظھرفــ ضعف ما مر عن العلامۃ ش فی التنبیہ الخامس من التوفیق بین نفی البدائع الکراھۃ ای التحریمیۃ عن الزیادۃ علی الثلاث والنقص عنھا عند عدم الاعتقاد مع اشعار الفتح وغیرہ بثبوتھا اذا زاد اونقص لغیر حاجۃ بان محمل الاول اذا فعلہ مرۃ والثانی علی الاعتیاد فھذا مسلم فی النقص ممنوع فی الزیادۃ۔

اسی سے اس تطبیق کی کمزوری ظاہر ہوگئی جو علامہ شامی سے ہم نے تنبیہ پنجم میں نقل کی۔ تفصیل یہ کہ صاحبِ بدائع نے تین بارسے کم وبیش دھونے سے متعلق بتایا کہ اگر (کمی بیشی کے مسنون ہونے) کا اعتقاد نہ رکھتا ہو تو مکروہ نہیں یعنی مکروہ تحریمی نہیں۔ اورصاحبِ فتح القدیر وغیرہ نے پتا دیا کہ اگرزیادتی یا بے حاجت کمی کرے تو کراہت ثابت ہے اگرچہ وہ تین باردھونے کو ہی مسنون مانتا ہو۔ علامہ شامی کی تطبیق یہ ہے کہ نفی بدائع کا مطلب یہ ہے کہ اگرکبھی ایک بار کمی بیشی کا مرتکب ہوا توکراہت نہیں اور فتح وغیرہ کے اثبات کراہت کا معنٰی یہ ہے کہ اگر کمی یا زیادتی کی عادت کرے توکراہت ہے۔ اس تطبیق پر کلام یہ ہے کہ کمی کی صورت میں تو یہ تسلیم ہے مگر زیادتی کی صورت میں تسلیم نہیں (جیسا کہ اوپر واضح ہوا۔م)

فــ:حدیث وائمہ کی جلیل نصیحت :لایعنی باتوں کاموں کے ترک کی ہدایت ،اورلایعنی کے معنی کابیان ۔

اما الاستناد الی مفہوم تفریع الفتح وغیرہ المارثمہ وقد تمسک بہ ایضا العلامۃ ط علی ان کراھۃ الاسراف کراھۃ تحریم حیث قال اقول یاثم بالاسراف ولو اعتقد سنیۃ الثلاث فقط فلذا قالوا فی المفھوم (ای بیان مفہوم قولھم ان الحدیث محمول علی الاعتقاد) حتی لورأی سنیۃ العدد وزاد لقصد الوضوء علے الوضوء اولطمانینۃ القلب اونقص لحاجۃ فلا باس بہ (ای فافادوا ان لو زاد بلا غرض کان فیہ باس) ولو کان کما ذکر (ان لاباس الا فی الاعتقاد) لاتکرہ الزیادۃ مطلقا ۱؎ اھ مزیدا منا بین الاھلۃ ۔

اب ایک بحث اور رہ گئی کہ فتح القدیر وغیرہ میں جیساکہ وہاں گزرا وعیدحدیث کو عدم اعتقاد پرمحمول کرکے یہ تفریع کی ہے کہ اگرکسی حاجت کے تحت کمی بیشی کی تو اس میں حرج نہیں۔ جس کا مفہوم یہ ہے کہ اگر بلا حاجت کمی بیشی ہے تومکروہ ہے۔اس تفریع کے مفہوم سے علامہ شامی نے اسراف کی کراہت پر استناد کیاہے اوراس سے علامہ طحطاوی نے بھی اسراف کی کراہت تحریم پراستناد کیاہے وہ کہتے ہیں: میں کہتاہوں اگرصرف تثلیث کے مسنون ہونے کااعتقاد رکھتا ہو تو بھی اسراف سے گنہگار ہوجائے گا۔اسی لئے مفہوم میں (''حدیث اعتقاد پرمحمول ہے''اس کلام کے مفہوم کے بیان میں) علما نے کہاہے کہ ''اگر تین کے عدد کومسنون مانتاہواوروضوعلی الوضو کے ارادے سے یااطمینان قلب کے لئے زیادتی کر دے یا کسی حاجت کی وجہ سے کمی کردے توکوئی حرج نہیں''۔ یعنی اس سے مستفاد یہ ہواکہ اگر بلا غرض زیادہ کردے تو اس میں حرج ہے) اور اگرایسا ہوتا جیسا ذکر کیاگیا(کہ حرج صرف اعتقاد خلاف میں ہے) تو''مطلقاً'' زیادتی مکروہ نہ ہوتی اھ طحطاوی کی عبارت ہلالین کے درمیان ہمارے اضافوں کے ساتھ ختم ہوئی۔

 (۱؎ حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمحتار    کتاب الطہارۃ     المکتبۃ العربیہ بیروت         ۱ /۷۲)

وھذا ھو منزع کلام ش بیدانہ حملہ علی التعود واطلق ط۔ اقول ولاطلاقہ مستندات کما علمت امافــ تفصیل ش ان الاسراف یکرہ تنزیھا ان وقع احیانا وتحریما ان تعود فلا اعلم من صرح بہ وکانہ اخذہ من جعل النھر ترکہ سنۃ مؤکدۃ مع خلافہ لہ فی حمل الکراھۃ علی التحریم۔

کلام شامی کا منشابھی یہی ہے فرق یہ ہے کہ انہوں نے اسے عادت پرمحمول کیاہے اور طحطاوی نے مطلق رکھا ہے اقول اوران کے اطلاق کی تائیدمیں کچھ قابلِ استناد عبارتیں ہیں جیساکہ معلوم ہوا۔ رہی علامہ شامی کی یہ تفصیل کہ اسراف اگر احیاناً واقع ہوتومکروہ تنزیہی ہے اورعادۃً ہوتومکروہ تحریمی ہے،میرے علم میں کسی نے اس کی تصریح نہیں کی ہے۔علامہ شامی نے شاید اس کو اس سے اخذ کیاہے کہ صاحبِ نہر نے ترک  اسراف کو سنتِ مؤکدہ قراردیاہے باوجودیکہ صاحبِ نہر نے اسراف کی کراہت کا تحریمی ہونا ظاہر کیاتو علامہ شامی نے ان کی مخالفت کی ہے۔

فــ:معروضۃ اخری علیہ ۔

فاقول ھم فــ۱انفسھم فی ابانۃ المفھوم وشرح نوطھم الحکم بالاعتقاد فذکروا تصویرا لا یکون فیہ الزیادۃ والنقص لاجل الاعتقاد بل لغرض اخرلان العاقل لابد لفعلہ من غرض فاذا لم یکن المشی علی مااعتقد فلیکن ماذکروا فلا یدل علی ادارۃ الامر علی ھذا التصویر والا لخالف الشرح المشروح فان المشروح ناطہ بالاعتقاد وصرح ان لو زاد او نقص واعتقدان الثلاث سنۃ لایلحقہ الوعید کما تقدم عن البدائع وھذا ینوطہ بشیئ اخر غیرہ وبالجملۃ لانسلم ان لشرح المفھوم مفھوما اخرو ان فــ۲سلم فمفہومہ معارض لمنطوق البدائع وغیرھا والمنطوق مقدم فافھم۔

اب تفریع مذکورکے مفہوم سے استناد پر میں کہتاہوں وہ حضرات توخود مفہوم کی توضیح کررہے ہیں اور اس بات کی تشریح فرمارہے ہیں کہ حکم حدیث کو انہوں نے اعتقاد سے وابستہ رکھا ہے اسی کے لئے انہوں نے ایسی صورت پیش کی ہے جس میں زیادتی یاکمی اعتقاد کی وجہ سے نہ ہو بلکہ کسی اور غرض کے تحت ہو۔اس لئے کہ کارعاقل کے لئے کوئی غرض ہونا ضروری ہے۔ تواگر اس کے اعتقادپر نہ چلیں تووہی ہونا چاہئے جو ان حضرات نے ذکر کیا(اب اگر اعتقاد کو بنیاد نہ مان کر مطلقاً اسراف کومکروہِ تحریمی کہتے ہیں۱۲م)تو یہ اس کو نہیں بتاتا کہ مدارِ کا راُس صورت پرہے جو ان حضرات نے پیش کی ورنہ شرح اورمشروح مخالفت لازم آئے گی اس لئے کہ مشروح نے توحکم کامدار اعتقاد پر رکھا ہے اور یہ صراحت کردی ہے کہ اگرتین باردھونے کوسنت مانتے ہوئے زیادتی یا کمی کی تووعید اسے لاحق نہ ہوگی جیساکہ بدائع سے نقل ہوا۔اورشرح حکم کو اس کے علاوہ کسی اورچیز سے وابستہ کرتی ہے۔الحاصل ہم یہ نہیں مانتے کہ شرحِ مفہوم کا کوئی دوسرا مفہوم ہوسکتاہے۔اگراسے تسلیم بھی کرلیا جائے تو اس کا مفہوم بدائع وغیرھا کے منطوق کے معارض ہے اورمنطوق مقدم ہوتاہے۔تو اسے سمجھو۔

فــ۱:معروضۃ ثالثۃ علیہ وعلی العلامۃط۔
فــ۲:معروضۃ رابعۃ علی ش واخری علی ط۔

رابعا جبکہ حدیث نے بے قید حال ومکان زیادت ونقص پر حکم اسأت وظلم وتعدی ارشاد فرمایا اور زیادت میں تعدی خاص مکان اضاعت میں ہے اور نقص میں خاص بحال عادت لہٰذا ہمارے علماء کرام رحمہم اللہ تعالٰی نے حدیث کو ایک منشاء ونیت یعنی اعتقاد سنیت پر حمل فرمایا جس سے بے قید حال ومکان مطلقاً حکم تعدی واسأت ہو۔

خامسا بدائع وغیرہ کی تصریح کہ اگر بے اعتقاد سنیت نقص وزیادت ہو تو وعید نہیں صحیح ونجیح ہے کہ عادت نقص یا اضاعت زیادت میں طوق وعید اس ضم ضمیمہ پر ہے تو فعل بجائے خود اپنے منشأ وغایت ومقصد نیت میں مواخذہ سے پاک ہے کما علمت ھکذا ینبغی التحقیق واللّٰہ تعالٰی ولی التوفیق  (جیسا کہ واضح ہوا ، اسی طرح تحقیق ہونی چاہئے ، اور خدا ہی مالکِ توفیق ہے۔ ت) الحمد للہ اس امر پنجم اعنی حکم اسراف آب کا بیان ایسی وجہ جلیل وجمیل پر واقع ہوا کہ خود ہی ایک مستقل نفیس رسالہ ہونے اور تاریخی نام

برکات السماء فی حکم اسراف الماء

رکھنے کے قابل والحمدللّٰہ علی نعمہ الجلائل وصلی اللّٰہ تعالٰی علی سید الا واخر والاوائل واٰلہ وصحبہ الکرام الافاضل۔

فائدہ مہمّہ: فــ۱:وضو میں پانی زیادہ نہ خرچ ہونے کیلئے چند امور کا لحاظ رکھیں:
(۱) وضو دیکھ فــ۲ دیکھ کر ہوشیاری واحتیاط کے ساتھ کریں، عوام میں جو یہ مشہور ہے کہ وضو بہت جلد کرناچاہئے اور اسی معنے پر کہتے ہیں کہ وضو نوجوان کا سا اور نماز بُوڑھوں کی سی،یہ غلط ہے بلکہ وضو میں بھی درنگ وترک عجلت مطلوب ہے۔ فتح وبحر وشامی شمار آداب وضوء میں ہے والتانی۱؎ (ٹھہر ٹھہرکر دھونا۔ ت)عالمگیریہ میں معراج الدرایہ سے ہے لایستعجل فی الوضوء  ۲؎ (وضو میں جلدی نہ کرے۔ ت)

فــ۱:فائدہ :وہ باتیں جن کے لحاظ سے وضومیں پانی کم خرچ ہو۔
فــ۲:مسئلہ وضومیں جلدی نہ چاہئے بلکہ درنگ واحتیاط کے ساتھ کریں ،عوام میں جویہ مشہورہے کہ وضوجوانوں کاسا،نمازبوڑھوں کی سی،یہ وضوکے بارے میں غلط ہے۔

 (۱؎ فتح القدیر        کتاب الطہارۃ     مکتبۃ نوریہ رضویہ سکھر        ۱ /۳۲
البحرالرائق        کتاب الطہارۃ    ایچ ایم سعید کمپنی کراچی     ۱ /۲۸)
(۲؎ الفتاوٰی الہندیہ    کتاب الطہارات     الفصل الثالث فی المستحبات نورانی کتب خانہ پشاور    ۱ /۹)

اقول ظاہر ہے کہ جس شے کیلئے شرع نے ایک حدباندھی ہے کہ اُس سے نہ کمی چاہئے نہ بیشی، تو اس فعل کو باحتیاط بجالانے ہی میں حد کا موازنہ ہوسکے گا نہ کہ لپ جھپ اناپ شناپ میں۔
(۲) بعض لوگ چُلّو لینے میں پانی ایسا ڈالتے ہیں کہ اُبل جاتاہے حالانکہ جو گرا بیکار گیااس سے احتیاط چاہئے۔
(۳) ہر چُلّو بھرا ہونا ضرور نہیں بلکہ جس کام کیلئے لیں اس کا اندازہ رکھیں مثلاً ناک میں نرم بانسے تک پانی چڑھانے کو پُورا چُلو کیاضرور نصف بھی کافی ہے بلکہ بھرا چُلو کُلی کیلئے بھی درکار نہیں۔
(۴) لوٹے کی ٹونٹی متوسط معتدل چاہئے نہ ایسی تنگ کہ پانی بدیر دے نہ فراخ کہ حاجت سے زیادہ گرائے اس کا فرق یوں معلوم ہوسکتا ہے کہ کٹوروں میں پانی لے کر وضو کیجئے تو بہت خرچ ہوگا یونہی فراخ ٹونٹی سے بہانا زیادہ خرچ کا باعث ہے اگر لوٹاایسا ہوتو احتیاط کرے پوری دھارنہ گرائے بلکہ باریک۔
(۵) بہت بھاری برتن سے وضو نہ کرے خصوصاً کمزورکہ پورا قابو نہ ہونے کے باعث پانی بے احتیاط گرے گا۔
(۶) اعضاء فــ دھونے سے پہلے اُن پر بھیگا ہاتھ پھیرلے کہ پانی جلد دوڑتاہے اور تھوڑا،بہت کا کام دیتا ہے خصوصاً موسم سرمامیں اس کی زیادہ حاجت ہے کہ اعضأ میں خشکی ہوتی ہے بہتی دھار بیچ میں جگہ خالی چھوڑ جاتی ہے جیسا کہ مشاہدہ ہے ۔

فــ:مسئلہ مستحب ہے کہ اعضاء دھونے سے پہلے بھیگاہاتھ پھیرلے خصوصاجاڑے میں ۔

بحرالرائق میں ہے: عن خلف بن ایوب انہ قال ینبغی للمتوضیئ فی الشتاء ان یبل اعضاء ہ بالماء شبہ الدھن ثم یسیل الماء علیھا لان الماء یتجافی عن الاعضاء فی الشتاء کذا فی البدائع ۱؎۔ خلف بن ایوب سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا:وضوکرنے والے کو چاہئے کہ جاڑے میں اپنے اعضاکو پانی سے تیل کی طرح ترکرے پھران پرپانی بہائے اس لئے کہ پانی جاڑے میں اعضا سے الگ رہ جاتاہے۔ ایسا ہی بدائع میں ہے۔(ت)

 (۱؎ البحرالرائق        کتاب الطہارت    ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۱ /۱۱)

فتح القدیر میں ہے: الاداب امرار الید علی الاعضاء المغسولۃ والتأنی والدلک خصوصاً فی الشتاء ۲؎ اھ ۔ وضو کے آداب میں یہ ہے کہ دھوئے جانے والے اعضا پرہاتھ پھیرلے،اورٹھہر ٹھہرکردھوئے، اور مَل لیا کرے خصوصاً جاڑے میں اھ۔(ت)

 (۲؎ فتح القدیر        کتاب الطہارۃ    مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر    ۱ /۳۲)

واعترضہ فی البحر بانہ ذکر الدلک من المندوبات وفی الخلاصۃ انہ سنۃ عندنا ۳؎ اھ اس پر بحر کااعتراض ہے کہ انہوں نے ملنے کو مندوبات میں شمارکردیاجب کہ خلاصہ میں یہ ہے کہ وہ ہمارے نزدیک سنت ہے،

 (۳؎ البحرالرائق         کتاب الطہارۃ     ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۱ /۲۹)

وقدمناہ فی التنبیہ الثالث وقال العلامۃ ش فی المنحۃ قولہ ذکر الدلک الخ یمکن ان یجاب عنہ بان مرادہ امرار الید المبلولۃ علی الاعضاء المغسولۃ لما قدمہ الشارح عندالکلام علی غسل الوجہ عن خلف بن ایوب (ای مانقلناہ اٰنفا قال) لکن کان ینبغی تقییدہ بالشتاء تامل ۴؎ اھ۔

اوریہ اعتراض ہم تنبیہ سوم میں ذکرکرچکے ہیں۔علامہ شامی منحۃ الخالق حاشیۃ البحر الرائق میں بحر کے اعتراض مذکور کے تحت لکھتے ہیں: اس کا یہ جواب دیاجاسکتاہے کہ صاحبِ فتح کی مراد یہ ہے کہ دھوئے جانے والے اعضاء پر بھیگا ہواہاتھ پھیرلیاجائے اس کی وجہ وہ ہے جو شارح نے غسل وجہ پرکلام کے تحت حضرت خلف بن ایوب سے نقل کی(وہی جواوپر ہم نے ابھی نقل کیا)لیکن انہیں اس کے ساتھ ''جاڑے'' کی قید لگادینا چاہئے تھا۔ تامل کرو۔ اھ۔

 (۴؎ منحۃ الخالق علی البحرالرائق    کتاب الطہارۃ     ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۱ /۲۹)

اقول اولا : ان فــ۱اراد انہ لایندب الیہ الا فی الشتاء فممنوع لان الماء وان کان یتجافی عن الاعضاء فی غیر الشتاء فلا شک ان البل قبل الغسل ینفع فی کل زمان فانہ یسہل مرور الماء ویقلل المصروف منہ کما ھو مجرب مشاھد فالنقل عن الامام خلف فی الشتاء لاینفیہ فی غیرہ انما یقتضی ان الحاجۃ الیہ فی الشتاء اشد وھذا قد صرح بہ المحقق حیث قال خصوصا فی الشتاء ۱؎۔

اقول اولا : اگر علامہ شامی کی مراد یہ ہے کہ وہ صرف جاڑے ہی میں مندوب ہے تویہ قابل تسلیم نہیں اس لئے کہ غیر سرمامیں پانی اگرچہ اعضا سے الگ نہیں ہوتا مگر اس میں شک نہیں کہ دھونے سے پہلے ترکرلینا ہر موسم میں مفید ہے کیوں کہ اس سے پانی بآسانی گزرتاہے اور کم صرف ہوتاہے۔جیسا کہ یہ تجربہ ومشاہدہ سے معلوم ہے ۔توامام خلف سے نقل اگرچہ خاص جاڑے کے لفظ کے ساتھ ہے مگراس سے غیرسرماکی نفی نہیں ہوتی اس کا تقاضا صرف یہ ہے کہ جاڑے میں ضرورت زیادہ ہے اور اس کی تو حضرت محقق نے تصریح کردی ہے اس طرح کہ انہوں نے لکھا:''خصوصاً جاڑے میں''۔

فــ۱:معروضۃ علی العلامۃ ش۔

 (۱؎فتح القدیر        کتاب الطہارۃ     مکتبۃ نوریہ رضویہ سکھر        ۱ /۳۲)

وثانیا :  امرار الید علی الاعضاء المغسولۃ قد افرزہ المحقق عن الدلک کما سمعت فکیف یحمل علیہ لکن التحقیق مااقول ان الامرار المذکور لہ ثلثۃ محتملات الاول الامرار بعد الغسل اعنی بعدفــ۲ماانحدر الماء لنشف الباقی کیلا یترشش علی الثیاب ۔

    ثانیاً : دھوئے جانے والے اعـضا پرہاتھ پھیرنے کو حضرت محقق نے دلک(اعضاکوملنے)سے الگ ذکرکیا ہے جیساکہ ان کی عبارت پیش ہوئی تواسے اس پرکیسے محمول کیاجائے گا؟۔لیکن تحقیق وہ ہے جو میں کہتاہوں کہ مذکورہ ہاتھ پھیرنے میں تین معنی کا احتمال ہے:۔ اول: دھولینے کے بعد ہاتھ پھیرنایعنی پانی گرجانے کے بعد باقی کو خشک کرنے کے لئے ہاتھ پھیرنا تاکہ کپڑوں پر نہ ٹپکے۔

فــ۲:مسئلہ ہرعضودھوکراس پرہاتھ پھیردیناچاہئے کہ پانی کی بوندیں ٹپکناموقوف ہوجائے تاکہ بدن یاکپڑے پرنہ ٹپکیں۔

    والثانی : مع الغسل ای حین کون الماء بعدُ مارا علی الاعضاء وھو عین الدلک المطلوب قال فی البحر خلف ماقدم عن خلفٍ الدلکُ لیس من مفہومہ (ای الغسل بالفتح) وانما ھو مندوب وذکر فی الخلاصۃ انہ سنۃ وحدہ امرار الید علی الاعضاء المغسولۃ ۱؎ اھ۔

    دوم: دھونے کے ساتھ ساتھ ہاتھ پھیرنا۔یعنی جس وقت پانی اعضا پر گررہا ہے اسی وقت ہاتھ پھیرتے جانا۔یہ بعینہ وہی دلک(اعضا کو ملنا) ہے جو مطلوب ہے۔بحر میں حضرت خلف سے نقل شدہ کلام کے بعد لکھا: دلک، غسل بالفتح۔دھونے۔کے مفہوم میں داخل نہیں۔وہ صرف مندوب ہے۔اور خلاصہ میں ذکرکیاکہ سنت ہے۔اور اس کی تعریف یہ ہے :دھوئے جانے والے اعضاء پر ہاتھ پھیرنا اھ۔

 (۱؎ البحرالرائق     کتاب الطہارۃ    ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۱ /۱۱)

    والثالث : قبل الغسل ویحتاج الی التقیید بالمبلولۃ والتجوز فی المغسولۃ بمعنی ماسیغسل اوما امر بہ ان یغسل فح قد یمکن ان یراد بالدلک الثالث کما زعم العلامۃ ش وبالا مرار الاول فلا ھو ینافی الافراز ولا یلزم عدم الثانی من المندوبات خلافا لما ھو المذھب المذکور فی الخلاصۃ ومن القرینۃ علیہ ان المحقق بحث فی کون الدلک خارجا عن حقیقۃ الغسل ومال الی ان المقصود بشرعیۃ الغسل لایحصل الابہ وقد اجاب عنہ فی الغنیۃ بما کفی وشفی فیبعد ان یدخلہ ھھنا فی مجرد ادب نازل عن الاستنان ایضا خلفۃ عن الافتراض وقد یؤیدہ ایضا لفظۃ خصوصا فی الشتاء لان الثانی صرحوا باستنانہ مطلقا وانما قیدوا بالشتاء الثالث فھذا غایۃ توجیہ ما فی المنحۃ وبہ یندفع ایراد البحر وان کان المتبادر من الدلک ھو الثانی ولذا مشی علیہ فی البحر واقتفینا اثرہ فیما مربل مشی علیہ ش نفسہ فی ردالمحتار واعترض علی الفتح بما اعترض فی البحر قائلا لکن قدمنا ان الدلک سنۃ قال ولعل المراد بما قبلہ (ای امرار الید) امرارھا علیہ مبلولۃ قبل الغسل تأمل ۱؎ اھ۔

    سوم: دھونے سے پہلے ہاتھ پھیرنا(فتح کی عبارت ہے : امر ار الید علی الاعضاء المغسولۃ اعضائے مغسولہ پر ہاتھ پھیرنا۱۲م)عبارت فتح کے اندر یہ معنی لینے کے لئے دوباتوں کی ضرورت ہے۔ایک یہ کہ ہاتھ کے ساتھ''تر'' کی قیدلگائی جائے۔دوسری یہ کہ ''مغسولہ'' میں مجاز مانا جائے اورکہاجائے کہ مغسولہ کا معنی یہ کہ وہ جودھوئے جائیں گے یا وہ جن کے دھونے کاحکم ہے۔ایسی صورت میں دلک(اعضا کو ملنا) سے تیسرا معنی مراد لیاجاسکتاہے جیسا کہ علامہ شامی کا خیال ہے اور''ہاتھ پھیرنے''سے پہلا معنٰی مراد ہوسکتا ہے۔یہ معنی اسے الگ ذکر کرنے کے خلاف نہ پڑے گا۔اوریہ بھی لازم نہ آئے گا کہ انہوں نے دوسرے معنی کوخلاصہ میں ذکرشدہ مذہب کے برخلاف،مندوبات میں شمار کردیا۔اوراس پر ایک قرینہ بھی ہے وہ یہ کہ حضرت محقق نے دلک (بمعنی دوم) کے حقیقتِ غسل سے خارج ہونے پر بحث کی ہے اوران کا میلان اس طرف ہے کہ دھونے کی مشروعیت کا جو مقصود ہے وہ اس کے بغیر حاصل نہیں ہوتا۔اس بحث کاصاحبِ غنیہ نے کافی وشافی جواب دے دیاہے(مگرجب وہاں دلک کو عینِ غسل اور نفسِ فرض قراردینے کی طرف مائل ہیں۱۲م) توبعید ہے کہ یہاں فرضیت کے بدلے ، مسنونیت سے بھی فروترصرف ایک ادب کے تحت اسے داخل کردیں۔اور ان کے لفظ''خصوصاًجاڑے میں'' سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے۔اس لئے کہ معنی دوم کے تو مطلقاً مسنون ہونے کی علماء نے تصریح فرمائی ہے۔ اورجاڑے کی قید صرف معنی سوم میں لگائی ہے۔ یہ منحۃ الخالق کے جواب کی انتہائی توجیہ ہے اور اسی سے بحر کا اعتراض بھی دفع ہوجاتاہے۔ اگرچہ لفظ دلک سے متبادر وہی معنی دوم ہے اسی لئے صاحبِ بحر اسی پرگئے ہیں اور سابق میں ہم نے بھی ان ہی کے نشانِ قدم کی پیروی کی ہے۔بلکہ خود علامہ شامی ردالمحتار میں اسی پر گام زن ہیں اور فتح پر وہی اعتراض کیاہے جو بحر نے کیا،وہ لکھتے ہیں: لیکن ہم پہلے ذکر کر چکے کہ دلک سنت ہے۔اورکہتے ہیں: شاید ماقبل (یعنی ہاتھ پھیرنے) سے مراد دھونے سے پہلے اعضا پر ترہاتھ پھیرنا ہے، تأمل کرو،اھ۔

 (۱؎ ردالمحتار    کتاب الطہارۃ     داراحیاء التراث العربی بیروت         ۱ /۸۵)

اقول قدفــ۱علمت ان ھذا اضعف احتمالا تہ واذا کان ھذا مرادہ فحمل الدلک علیہ یکون تکرار بلا شک فان قلت ذکر المحقق بعدہ من الاداب حفظ ثیابہ من المتقاطر ۲؎ فبحمل الامرار علی الاول یتکرر مع ھذا قلت امرار الید وان کان معلولا بالحفظ تعلیل الفعل بغایتہ فلیس علۃ کافیۃ لحصولہ بحیث لایحتاج بعدہ فی الحفظ الی احتراسٍ سواہ فلا یکون ذکرہ مغنیا عن ذکر الحفظ۔

    اقول واضح ہوچکا کہ اس لفظ میں یہ سب سے ضعیف احتمال ہے،اگر اس لفظ سے یہ ان کی مراد ہوتواس پر''دلک''کو محمول کرنے میں بلاشبہہ تکرار لازم آئے گی۔ اگر سوال ہوکہ حضرت محقق نے اس کے بعد آداب میں''ٹپکنے والے پانی سے کپڑوں کوبچانا''بھی شمارکیاہے۔توہاتھ پھیرنے سے اگرمعنی اول مراد لیاجائے تب بھی تویہاں آکر تکرار ہوجائے گی؟ تومیں جواباًکہوں گا اگرچہ ہاتھ پھیرنے کی علت ''کپڑوں کی حفاظت بتائی گئی ہے جیسے کسی فعل کی علت اس کی غایت کو بتایاجاتاہے مگر یہ ہاتھ پھیرنا بچاؤ حاصل ہونے کے لئے ایسی کافی علت نہیں ہے کہ اس کے بعد بچاؤ میں مزید کسی احتیاط اور ہوشیاری برتنے کی ضرورت ہی نہ ہوتوہاتھ پھیرنے کاذکر ہوجانے کے بعد بھی اس کی ضرورت رہ جاتی ہے کہ ٹپکنے والے پانی سے کپڑوں کے بچانے کو مستقلاً ذکر کیاجائے۔

فــ۱:معروضۃ علی ش۔

 (۲؎ فتح القدیر    کتاب الطہارۃ     مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر        ۱ /۳۲)

ثم اقول عجبافــ۲للبحر جزم ھھنا یندب الدلک ونسب الاستنان للخلاصۃ کغیر المرتضی لہ واعترض ثمہ علی المحقق بان فی الخلاصۃ انہ سنۃ عندنا۱؎۔

    ثم اقول صاحبِ بحر پر تعجب ہے کہ یہاں دلک کے مندوب ہونے پر جزم کیااور مسنون ہونے کوخلاصہ کی طرف یوں منسوب کیا جیسے یہ ان کا پسندیدہ نہیں، اور وہاں حضرت محقق پر یہی اعتراض کیاہے کہ خلاصہ میں لکھا ہے کہ وہ ہمارے نزدیک سنت ہے۔

فــ۲:تطفل علی البحر۔

 (۱؎ البحرالرائق    کتاب الطہارۃ     ایچ ایم سعید کمپنی کراچی         ۱ /۲۹)

 (۷) کلائیوں پر بال ہوں تو ترشوادیں کہ اُن کا ہونا پانی زیادہ چاہتا ہے اور مونڈنے سے سخت ہوجاتے ہیں اور تراشنا مشین سے بہتر کہ خوب صاف کردیتی ہے اور سب سے احسن وافضل نورہ ہے کہ ان اعضأ میں یہی سنت سے ثابت ابن ماجہ فــ ام المومنین ام سلمہ رضی اللہ تعالٰی عنہما سے راوی: ان النبی صلی اللّٰہ تعالی علیہ وسلم کان اذا طلی بدأ بعورتہ فطلاھا بالنورۃ وسائر جسدہ اھلہ ۲؎۔ رسول اللہ جب نورہ کا استعمال فرماتے تو ستر مقدس پراپنے دست مبارک سے لگاتے اور باقی بدن مبارک پر ازواج مطہرات لگادیتیں صلی اللہ تعالٰی علیہ وعلیہن وبارک وسلم۔

فــ:مسئلہ ہاتھ ،پاؤں،سینہ ،پشت ،پربال ہوں تونورہ سے دورکرنابہترہے ۔اورموئے زیرناف پربھی استعمال نورہ آیاہے ۔

 (۲؎ سنن ابن ماجۃ     ابواب الادب باب الاطلاء بالنورۃ    ایچ ایم سعید کمپنی کراچی     ص۲۷۴)

اور ایسا نہ کریں تو دھونے سے پہلے پانی سے خوب بھگولیں کہ سب بال بِچھ جائیں ورنہ کھڑے بال کی جڑ میں پانی گزر گیااور نوک سے نہ بہا تو وضو نہ ہوگا۔
(۸) دست وپاپر اگر لوٹے سے دھار ڈالیں تو ناخنوں سے کہنیوں یا گٹوں کے اُوپر تک علی الاتصال اُتاریں کہ ایک بار میں ہر جگہ پر ایک ہی بار گرے پانی جبکہ گر رہا ہے اور ہاتھ کی روانی میں دیر ہوگی تو ایک جگہ پر مکرر گرے گا۔
(۹) بعض لوگ یوں کرتے ہیں کہ ناخن سے کُہنی تک یا گٹے تک بہاتے لائے پھر دوبارہ سہ بارہ کیلئے جو ناخن کی طرف لے گئے تو ہاتھ نہ روکا بلکہ دھار جاری رکھی ایسا نہ کریں کہ تثلیث کے عوض پانچ بار ہوجائے گا بلکہ ہر بار کہنی یا گٹے تک لاکر دھار روک لیں اور رُکا ہوا ہاتھ ناخنوں تک لے جاکر وہاں سے پھر اجرا کریں کہ سنت یہی فــ۱ہے کہ ناخن سے کُہنیوں یا گٹوں تک پانی بہے نہ اس کا عکس، کما نص علیہ فی الخلاصۃ وغیرھا  (جیساکہ خلاصہ وغیرہ میں اس کی تنصیص کی ہے۔ ت)

فــ۱:مسئلہ سنت یہ ہے کہ پانی ہاتھ پاؤں کے ناخن کی طرف سے کہنیوں اورگٹوں کے اوپرتک ڈالیں اُدھرسے اِدھرکونہ لائیں ۔

 (۱۰) قول جامع یہ ہے کہ سلیقہ سے کام لیں سیدنا امام شافعی رضی اللہ تعالٰی عنہ نے کیا خوب فرمایا ہے: قد یرفق بالقلیل فیکفی ویخرق بالکثیر فلا یکفی ذکرہ الامام النووی فی شرح مسلم ۱؎ واوردہ الامام العینی فی شرح البخاری بلفظ قد یرفق الفقیہ بالقلیل فیکفی ویخرق الاخرق ولا یکفی ۲؎ ۔ یعنی سلیقہ سے اٹھاؤ تو تھوڑا بھی کافی ہوجاتاہے اوربدسلیقگی برتوتوبہت بھی کفایت نہیں کرتا(اسے امام نووی نے شرح مسلم میں ذکرکیااورامام عینی نے شرح بخاری میں ان الفاظ کے ساتھ بیان کیا:

 (۱؎ شرح صحیح مسلم للامام النووی    کتاب الحیض باب القدر المستحب من الماء    دارالفکربیروت    ۲ /۱۳۷۳
۲؎ عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری     کتاب الوضوء باب الوضو بالمد    تحت الحدیث ۶۴۔۲۰۱     دارالکتب العلمیہ بیروت۳ /۱۴۱)

    فائدہ :اوپر حدیث فــ۲ گزری کہ وَلَہان نام شیطان وضو میں وسوسہ ڈالتا ہے اُس کے وسوسہ سے بچو۔دفع وسوسہ کے لئے بہترین تدبیران باتوں کا التزام ہے:

 (فــ۲ :فائدہ جلیلہ :دفع وسواس کی دعائیں اورعلاج )۔

 (۱) رجوع الی اللہ واعوذ(۱) ولا حول(۲) وسورہ(۳) ناس کی قرأت اور(۴) اٰمَنْتُ بِاللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ ط کہنا (۵) اور ھُوَ الْاَوَّلُ وَالْاٰخِرُ وَالظَّاھِرُ وَالْبَاطِنُ ط وَھُوَ بِکُلِّ شَیْءٍ عَلِیمo۳؎ ان سے فوراً وسوسہ دفع ہوجاتا ہے۔اور (۶) سُبْحٰنِ الْمَلِک الْخَلَّاقِ ط اِنْ یشاْ یذھِبْکُمْ وَیاتِ بِخَلْقٍ جَدِید ط وَمَا ذٰلِکَ عَلَی اللّٰہِ بِعَزِیزo۱؎ کی کثرت اُسے جڑ سے قطع کردیتی ہے۔

(۳؎ القرآن الکریم     ۵۷ /۳)      (۱؎ القرآن الکریم     ۱۴ /۱۹)

حدیث(۷) میں ہے ایک صاحب نے خدمتِ اقدس میں حاضر ہو کر وسوسہ کی شکایت کی کہ نماز میں پتا نہیں چلتا دو پڑھیں یا تین۔ حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا: اذا وجدت ذلک فارفع اصبعک السبابۃ الیمنی فاطعنہ فی فخذک الیسری وقل بسم اللّٰہ فانھا سکین الشیطان رواہ البزار۲؎ والطبرانی عن والد ابی الملیح ورواہ ایضا الحکیم الترمذی۔ جب تُو ایسا پائے تواپنی دا ہنی انگشتِ شہادت اٹھا کر اپنی بائیں ران میں مار اوربسم اللہ کہہ کہ وہ شیطان کے حق میں چھُری ہے (اس کو بزار اور طبرانی نے ابو ملیح کے والدسے روایت کیاہے اورحکیم ترمذی نے بھی اسے روایت کیاہے۔ت)

 (۲؎ کنزالعمال بحوالہ طب والحکیم عن ابی الملیح     حدیث ۱۲۷۳    مؤسسۃ الرسالۃ بیروت    ۱ /۲۵۲
    المعجم الکبیر        حدیث ۵۱۲    المکتبۃ الفیصلیۃ بیروت    ۱ /۱۹۲
مجمع الزوائد بحوالہ الطبرانی والبزاز        کتاب الصلوۃ باب السہو فی الصلوٰۃ    دارالکتاب بیروت ۲ /۱۵۱)

 (۲) وسوسہ کی نہ سُننا اُس پر عمل نہ کرنا اس کے خلاف کرنا، اس بلائے عظیم کی عادت ہے کہ جس قدر اس پر عمل ہو اُسی قدر بڑھے اور جب قصداً اُس کا خلاف کیا جائے تو باذنہٖ تعالٰی تھوڑی مدّت میں بالکل دفع ہوجائے۔عمرو بن مُرّہ رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں: ماوسوسۃ باولع ممن یراھا تعمل فیہ ۔رواہ ابن ابی شیبۃ۳؎۔ شیطان جسے دیکھتاہے کہ میرا وسوسہ اس میں کارگرہوتاہے سب سے زیادہ اسی کے پیچھے پڑتاہے۔(اسے ابن ابی شیبہ نے روایت کیا۔ت)

 (۳؎ المصنف لابن ابی شیبۃ     کتاب الطہارات حدیث ۲۰۵۴    دارالکتب العلمیہ بیروت    ۱ /۱۷۹)

امام ابن حجر مکّی اپنے فتاوٰی میں فرماتے ہیں مجھ سے بعض ثقہ لوگوں نے بیان کیا کہ دو وسوسہ والوں کو نہانے کی ضرورت ہوئی دریائے نیل پرگئے طلوعِ صبح کے بعد پہنچے ایک نے دوسرے سے کہا تُو اتر کر غوطے لگا میں گنتا جاؤں گا اور تجھے بتاؤں گا کہ پانی تیرے سر کو پہنچا یا نہیں، وہ اُترا اور غوطے لگانا شروع کئے اور یہ کہہ رہا ہے کہ ابھی تھوڑی سی جگہ تیرے سر میں باقی ہے وہاں پانی نہ پہنچا ایک صبح سے دوپہر ہوگیا آخر تھک کر باہر آیا اور دل میں شک رہا کہ غسل اُترا نہیں۔ پھر اس نے دوسرے سے کہا اب تُو اُتر میں گنوں گا، اس نے ڈبکیاں لگائیں اور یہ کہتا جاتا ہے کہ ابھی سارے سر کو پانی نہ پہنچا یہاں تک کہ دوپہر سے شام ہوگئی مجبور وہ بھی دریا سے نکل آیا اور دل میں شُبہ کا شبہ ہی رہا، دن بھر کی نمازیں کھوئیں اور غسل اُترنے پر یقین نہ ہونا تھا نہ ہوا والعیاذ باللہ تعالٰی ذکرہ فی الحدیقۃ الندیۃ،۱؎  (اسے حدیقہ ندیہ میں بیان کیاگیا۔ت)یہ وسوسہ ماننے کا نتیجہ تھا۔

 (۱؎ الحدیقۃ الندیہ شرح الطریقہ المحمدیۃ        الباب الثانی النوع الثانی     مکتبہ نوریہ رضویہ فیصل آباد ۲ /۶۹۱)

اور صالحین میں سے ایک صاحب فرماتے ہیں مجھے دربارہ طہارت وسوسہ تھا راستہ کی کیچڑ اگر کپڑے میں لگ جاتی اُسے دھوتا (حالانکہ شرعاً جب تک خاص اُس جگہ نجاست کا ہونا ثابت ومتحقق نہ ہو حکم طہارت ہے) ایک دن نمازِ صبح کیلئے جاتا تھا راہ کی کیچڑ لگ گئی میں نے دھونا چاہا اور خیال آیا کہ دھوتا ہوں تو جماعت جاتی ہے ناگاہ اللہ عزوجل نے مجھے ہدایت فرمائی میرے دل میں ڈالا کہ اس کیچڑ میں لوٹ اور سب کپڑے سان لے اور یونہی نماز میں شریک ہوجا، میں نے ایسا ہی کیا پھر وسوسہ نہ ہوا ۔ ذکرہ فی الطریقۃ المحمدیۃ ۲؎  (اسے طریقہ محمدیہ میں نقل کیاگیا۔ت)یہ اس کی مخالفت کی برکت تھی۔

 (۲؎ الطریقہ المحمدیۃ    النوع الثالث فی علاج الوسوسۃالخ    مکتبہ حنفیہ کوئٹہ     ۲ /۲۳۰)

ابو ہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ کی حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں: اذا احدکم اذا کان فی المسجد جاء الشیطان فابسّ بہ کما یبسّ الرجل بدابتہ فان اسکن لہ وثقہ اوالجمہ۔ جب تم میں کوئی مسجدمیں ہوتا ہے شیطان آکر اس کے بدن پر ہاتھ پھیرتا ہے جیسے تم میں کوئی اپنے گھوڑے کو رام کرنے کے لئے اس پرہاتھ پھیرتا ہے پس اگروہ شخص ٹھہر ارہا یعنی اس کے وسوسہ سے فوراً الگ نہ ہوگیا تو اسے باندھ لیتا یا لگام دے دیتاہے۔

ابو ہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ نے اس حدیث کو روایت کرکے فرمایا: وانتم ترون ذلک اما الموثوق فتراہ مائلا کذا لایذکراللّٰہ واما الملجم ففاتح فاہ لایذکر اللّٰہ عزّوجل رواہ الامام احمد۱؎ ۔ یعنی حدیث کی تصدیق تم آنکھوں دیکھ رہے ہو وہ جو بندھا ہوا ہے اُسے تودیکھے گا یوُں جھکاہوا کہ ذکرِ الہٰی نہیں کرتا اور وہ جولگام دیاہوا ہے وہ منہ کھولے ہے اللہ تعالٰی کا ذکر نہیں کرتا(اسے امام احمد نے روایت کیا۔ت)

 (۱؎ مسند احمد بن حبنل     عن ابی ھریرۃرضی اللہ عنہ     المکتب الاسلامی بیروت    ۲ /۳۳۰)

رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں: واذا وجد احدکم فی بطنہ شیا فاشکل علیہ اخرج منہ شیئ ام لافلا یخرج من المسجد حتی یسمع صوتا اویجد ریحا رواہ مسلم والترمذی۲؎ عن ابی ھریرۃ۔ جب تم میں کوئی اپنے شکم میں کچھ محسوس کرے جس سے اس پر اشتباہ ہوجائے کہ اس سے کچھ خارج ہوا یا نہیں تووہ مسجد سے نہ نکلے یہاں تک کہ آواز سنے یا بو پائے۔اسے مسلم وترمذی نے حضرت ابوھریرہ سے روایت کیا۔

 (۲؎ صحیح مسلم    کتاب الحیض باب الدلیل علی ان من تیقن الطہارۃ    قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۱۵۸
سنن الترمذی    ابواب الطہارۃ باب ماجاء فی الوضوء من الریح    حدیث ۷۵ دارالفکربیر وت    ۱ /۱۵۸)

والا حمد والترمذی وابن ماجۃ والخطیب عنہ مختصرا بلفظ لاوضوء الامن صوت اوریح۳؎ اوران سے امام احمد ،ترمذی، ابن ماجہ اورخطیب نے مختصراً ان الفاظ میں روایت کیاہے:وضو نہیں مگر آواز یا بُو سے۔

 (۳ ؎ سنن الترمذی    ابواب الطہارۃ باب ماجاء فی الوضوءمن الریح    حدیث ۷۵        دارالفکربیر وت    ۱ /۱۳۴
سنن ابن ماجۃ     ابواب الطہارۃ باب لاوضو الامن حدث         ایچ ایم سعید کمپنی کراچی     ص۳۹
مسند احمدبن حنبل     عن ابی ھریرۃ رضی اللہ عنہ     المکتب الاسلامی بیروت    ۲ /۲۱۰و۴۳۵)

ولا حمد والشیخین وابی داؤد والنسائی وابناء ماجۃ وخزیمۃ وحبان عن عباد بن تمیم عن عمہ عــہ عبداللّٰہ بن زید بن عاصم قال شکی الی النبی صلی اللّٰہ تعالی علیہ وسلم الرجل یخیل الیہ انہ یجد الشیئ فی الصلٰوۃ قال لاتنصرف حتی تسمع صوتا اوتجد ریحا ۱؎ ۔

اورامام احمد،بخاری،مسلم،ابوداؤد، نسائی،ابن ماجہ،ابن خزیمہ اورابن حبان کی روایت عباد بن تمیم سے ہے، وہ اپنے چچا عبداللہ بن زید بن عاصم سے راوی ہیں وہ کہتے ہیں ایک شخص نے نبی کے پاس یہ شکایت عرض کی کہ اسے خیال ہوتاہے کہ نماز میں وہ کچھ محسوس کررہا ہے ۔سرکار نے فرمایا: نمازسے نہ پھرویہاں تک کہ آواز سنویا بُو پاؤ۔

 (عــہ)وقع ھھنا فی نسخۃ کنزالعمال المطبوعۃ بحیدراباد عن عمر مکان عن عمہ وھو تصحیف شدید فاجتنبہ اھ منہ۔
یہاں کنزالعمال کے نسخہ مطبوعہ حیدرآباد میں عن عمہ کی جگہ عن عمر چھپ گیا ہے اور یہ شدید قسم کی تصحیف ہے۔ اس سے ہوشیار رہنا چاہئے اھ منہ۔(ت)

 (۱؎صحیح البخاری     کتاب الوضو با ب لایتوضأمن الشک    قدیمی کتب خانہ کراچی     ۱ /۲۵
صحیح مسلم        کتاب الحیض الدلیل علی ان من تیقن الطہارۃ     قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۱۵۸
سنن النسائی     کتاب الطہارۃ     باب الوضومن الریح     نورمحمد کارخانہ تجارت کتب کراچی     ۱ /۳۷
سنن ابی داؤد     کتاب الطہارۃ     باب اذاشک فی الحدث     آفتاب عالم پریس لاہور    ۱ /۲۳
سنن ابن ماجۃ     ابواب الطہارۃ     باب لاوضوالامن حدث     ایچ ایم سعید کمپنی کراچی     ص۳۹)

ولا حمد وابی یعلی عن ابی سعید عن النبی صلی اللّٰہ تعالی علیہ وسلم ان الشیطان لیاتی احدکم وھو فی صلاتہ فیاخذ بشعرۃ من دیرہ فیمدھا فیری انہ قداحدث فلا ینصرف حتی یسمع صوتا اویجد ریحا ۲؎ ۔

اور امام احمد وابو یعلٰی حضرت ابو سعید سے وہ نبی  سے راوی ہیں کہ تم میںکوئی نماز میںہوتاہے اورشیطان اس کے پاس آکر اس کے پیچھے سے کوئی بال کھینچتاہے جس سے وہ یہ خیال کرنے لگتاہے کہ اس کا وضو جاتارہا، ایساہوتو وہ نمازسے نہ پھرے یہاں تک کہ آواز سنے یا بو پائے۔

 (۲؎ الجامع الصغیر بحوالہ حم ع    حدیث ۲۰۲۷    دارالکتب العلمیہ بیروت    ۱ /۱۲۴)

ورواہ عنہ سعید بن منصور مختصرا نحو المرفوع من حدیث عباد وللبراز عن ابن عباس عن النبی صلی اللّٰہ تعالی علیہ وسلم یاتی احدکم الشیطان فی الصلاۃ فینفح فی مقعدتہ فیخیل انہ احدث ولم یحدث فاذا وجد ذلک فلا ینصرف حتی یسمع صوتا اویجد ریحا ۱؎

اوراسے ان سے سعید بن منصور نے مختصراً حضرت عباد کی حدیث کے مرفوع الفاظ کے ہم معنی ذکر کیاہے۔ اوربزار حضرت ابن عباس سے وہ نبی ؐ سے راوی ہیں کہ تم میںکسی کے پاس نماز میں شیطان آکر اس کے پیچھے پھونک دیتا ہے جس سے اس کو خیال ہوتاہے کہ مجھے حدث ہوگیا حالانکہ اسے حدث نہ ہوا توکوئی ایسامحسوس کرے تونماز سے نہ پھرے یہاں تک کہ آواز سنے یا بوُپائے۔

 (۱؎ کشف الاستار عن زوائد البزار    باب مالاینقض الوضوء   موسسۃ الرسالۃ    بیروت    ۱ /۱۴۷)

ورواہ عنہ الطبرانی فی الکبیر مختصرا بلفظ من خیل لہ فی صلاتہ انہ قد احدث فلا ینصرفن حتی یسمع صوتا اویجد ریحا ۲؎ اور اسے طبرانی نے ان سے مختصراً ان الفاظ میں روایت کیاہے جسے نماز کے اندر ایسا خیال ہوکہ اسے حدث ہواتوہرگز وہ نماز سے نہ پھرے یہاں تک کہ آواز سنے یا بو پائے۔

 (۲ ؎المعجم الکبیر حدیث ۱۱۹۴۸ المکتبۃ الفیصلیہ بیروت ۱۱ / ۳۴۱ )

ولعبد الرزاق وابن ابی الدنیا عن عبداللّٰہ بن مسعود رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ قال ان الشیطان یطیف باحدکم فی الصلاۃ لیقطع علیہ صلاتہ فاذا اعیاہ ان ینصرف نفخ فی دبرہ یریہ انہ قداحدث فلا ینصر فن احدکم حتی یجد ریحا اویسمع صوتا ۳؎

اورعبدالرزاق وابن ابی الدنیا حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالٰی عنہ سے راوی ہیں، انہوں نے فرمایا: شیطان تم میں کسی کے گرد اس کی نماز توڑنے کے لئے گھیرا ڈال دیتا ہے،جب اس سے عاجز ہوجاتاہے کہ وہ اپنی نمازسے پھرے تواس کے پیچھے پھُونک دیتا ہے تاکہ اسے یہ خیال ہوکہ اسے حدث ہوگیا۔ایسا ہوتو ہرگز کوئی نماز سے نہ پھرے یہاں تک کہ بو پائے یا آواز سنے۔

 (۳؎ المصنف لعبدالرزاق    حدیث ۵۳۶ المکتبۃ الاسلامی بیروت ۱ /۱۴۱)

وفی روایۃ اخری عنہ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ حتی انہ یاتی احدکم وھو فی الصلاۃ فینفخ فی دبرہ ویبل احلیلہ ثم یقول قد احدثت فلا ینصر فن احدکم حتی یجد ریحا ویسمع صوتا ویجد بللا ۴؎

اورحضرت ابن مسعود رضی اللہ تعالٰی عنہ سے ہی ایک اورروایت میں یہ ہے کہ وہ نماز میں کسی کے پاس آکر اس کے پیچھے پھونک دیتاہے اوراس کے احلیل(ذکر کی نالی)کو ترکردیتاہے پھرکہتا ہے تو بے وضو ہوگیا۔ توہرگز کوئی نماز سے نہ پھرے یہاں تک کہ بو پائے اورآواز سنے اورتری پائے۔

 (۴؎ آکام المرجان بحوالہ عبداللہ بن مسعود باب ۱۲۰ مکتبہ خیر کثیر کراچی ص ۹۲)

ولعبد الرزاق وابن ابی شیبۃ فی مصنفیھما وابن ابی داؤد فی کتاب الوسوسۃ عن ابرھیم النخعی قال کان یقال ان الشیطان یجری فی الاحلیل وفی الدبرعـــہ فیری الرجل انہ قداحدث فلا ینصر فن احدکم حتی یسمع صوتا اویجد ریحا اویری بللا ۲؎

اور عبدالرزاق وابن ابی شیبہ اپنی اپنی مصنّف میں،اورابن ابی داؤد کتاب الوسوسۃ میں حضرت ابراہیم نخعی سے راوی ہیں انہوں نے فرمایا: کہا جاتاتھاکہ شیطان احلیل میں اور دُبر میں دوڑجاتا ہے ۔آدمی کو یہ خیال دلاتاہے کہ اسے حدث ہوگیا تو ہرگز کوئی نماز سے نہ پھرے یہاں تک کہ آواز سنے یا بو پائے یا تری دیکھے۔

عـہ فی نسختی لقط المرجان بین الواو وفی لفظۃ لم یقمہا الکاتب وھو ینفخ فی الدبر اونحوہ اھ منہ (م)
لقط المرجان کا جو نسخہ میرے پاس ہے اس میں واؤ او رفی کے درمیان ایک لفظ ہے جس کو کاتب نے نہیں لکھا اور وہ ینفخ فی الدبر یا اس کے ہم معنی کچھ ہو گا اھ منہ ۔ (ت)

 (۱؎ المصنف لعبدالرزاق باب الرجل یشتبہ علیہ فی الصلوۃ احدث الخ حدیث ۵۳۸ المکتب الاسلامی حدیث ۱/ ۱۴۲)

قلت ذکر ھذین الاثرین الامام الجلیل الجلال السیوطی فی لقط المرجان مقتصرا علیھما ھو وصاحبہ البدر فی اصلہ اٰکام المرجان مع ثبوتہ فی المرفوع کما علمت وقال عامر الشعبی من اجلاء علماء التابعین ان الشیطان بزقۃ یعنی بلۃ طرف الاحلیل۲؎ ذکرہ العارف فی الحدیقۃ الندیۃ۔

قلت یہ دونوں اثر ( اثر ابن مسعود واثرامام نخعی)امام جلال الدین سیوطی نے ''لقط المرجان'' میں ذکر کئے اورانہوں نے انہی دونوں پر اکتفا کی اسی طرح اس کی اصل آکام المرجان میں قاضی بدرالدین شبلی نے بھی ان ہی دونوں پر اکتفا کی ہے حالانکہ یہ مضمون مرفوع میں موجود ہے جیساکہ معلوم ہوا۔ اور اجلّہ علمائے تابعین میں سے امام عامر شعبی فرماتے ہیں: شیطان کبھی تھوک دیتا ہے ۔مراد یہ ہے کہ سرِ احلیل ترکردیتاہے۔ اسے عارف باللہ عبدالغنی نابلسی نے حدیقہ ندیہ میں ذکر کیا۔(ت)

 (۲؎ حدیقۃ الندیۃ الباب الثالث النوع الثانی مکتبہ نوریہ رضویہ فیصل آباد     ۲ /۶۸۸)

اِن حدیثوں ف کا حاصل یہ ہے کہ شیطان نماز میں دھوکا دینے کیلئے کبھی انسان کی شرمگاہ پر آگے سے تھوک دیتا ہے کہ اُسے قطرہ آنے کا گمان ہوتا ہے کبھی پیچھے پھُونکتا یا بال کھینچتا ہے کہ ریح خارج ہونے کا خیال گزرتا ہے اس پر حکم ہوا کہ نماز سے نہ پھرو جب تک تری یا آواز یا بُو نہ پاؤ جب تک وقوعِ حدث پر یقین نہ ہولے۔

ہمارے امام اعظم کے شاگرد جلیل سیدنا عبداللہ بن مبارک فرماتے ہیں: اذا شک فی الحدث فانہ لایجب علیہ الوضوءحتی یستیقن استیقانا یقدران یحلف علیہ ۱؎ ا۔ علقہ الترمذی فی باب الوضوء من الریح ـ

یعنی یقین ایسا درکار ہے جس پر قسم کھا سکے کو ضرور حدث ہوا اور جب قسم کھاتے ہچکچائے تو معلوم ہواکہ معلوم نہیں مشکوک ہے اورشک کا اعتبار نہیں کہ طہارت پر یقین تھا اور یقین شک سے نہیں جاتا۔(ترمذی نے باب الوضو من الریح میں اسے ابن مبارک سے تعلیقاً روایت کیاہے۔ت)

فـــــ : مسئلہ شیطان کے تھوک اور پھونک سے نماز میں قطرے اور ریح کاشبہ جاتا ہے حکم ہے کہ جب تک ایسا یقین نہ ہو جس پر قسم کھاسکے اس پر لحاظ نہ کرے ، شیطان کہے کہ تیرا وضو جاتا رہا تو دل میں جواب دے لے کہ خبیث تو جھوٹا ہے اور اپنی نماز میں مشغول رہے۔

 (۱؎ سنن الترمذی باب الطہارت حدیث ۷۶ دارالفکر بیروت         ۱ /۳۵)

اسی لئے ف ۲ سنت ہوا کہ وضو کے بعد ایک چھینٹا رومالی یا تہ بند ہو تو اس کے ا ندرونی حصّے پر جو بدن کے قریب ہے دے لیا کریں ثم لیقل ھو من الماء پھر اگر قطرہ کا شبہ ہوتو خیال کرلیں کہ پانی جو چھِڑکا تھا اُس کا اثر ہے۔

فــــ ۲: مسئلہ سنت ہے کہ وضو کے بعد رومالی پر چھنیٹادے لے ۔

 (۲؎ سنن ابن ماجہ ابواب الطہارہ باب ماجاء فی النضح بعد الوضوء ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص ۳۶ )

حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: اذا توضأت فانتضح۔ رواہ ابن ماجہ ۲؎ عن ابی ھریرۃ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ۔ جب تو وضو کرے تو چھینٹا دے لے (اسے ابن ماجہ نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی سے روایت کیا ۔ ) (ت)
بلکہ ارشاد فرماتے ہیں صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم:

عشرعــــہ۱من الفطرۃ قص الشارب واعفاء اللحیۃ والسواک واستنشاق الماء وقص الاظفار وغسل البراجم ونتف الابط وحلق العانۃ وانتقاض الماء ۔ دس باتیں قدیم سے انبیائے کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام کی سنت ہیں: لبیں کترنا، داڑھی بڑھانا، مسواک کرنا، وضو وغسل میں پانی سونگھ کر اوپر چڑھانا، ناخن تراشنا، انگلیوں کے جوڑ (یعنی جہاں جہاں میل جمع ہونے کا محل ہے اسے) دھونا،بغل اور زیر ناف بالوں سے صاف کرنا شرمگاہ پرپانی ڈالنا۔

عــہ ۱: قال المناوی من للتبعیض ولذا لم یذکر الختان ھنا اھ ۱ ؎ اقول کونھا فـــ للتبعیض لاشک فیہ فان الختان والمضمضۃ کلا من الفطرۃ کما یاتی فالزیادۃ علی العشر معلومۃ ولکن ماعلل بہ من عدم ذکر الختان ھنا لامحل لہ وکانہ نسی ان الراوی نسی العاشرۃ فما یدریک لعلہا الختان استظھرہ جمع کما سیاتی اھ منہ (م)
علامہ مناوی نے کہا من الفطرۃ میں من تبعیض کاہے۔ اسی لئے یہاں ختنہ کا ذکر نہ کیا اھ اقول من برائے تبعیض ہونے میں کوئی شک نہیں اس لئے کہ ختنہ اورکلی ہرایک کا شمار فطرت کے تحت ہے جیساکہ آرہا ہے تودس سے زیادہ ہونا معلوم ہے۔ لیکن من برائے تبعیض ہونے کی جو علت بیان کی ہے کہ''اسی لئے یہاں ختنہ کا ذکر نہیں'' اس کا کوئی موقع نہیں، شاید وہ یہ بھول گئے کہ راوی دسویں چیز بھول گئے ہیں۔ہوسکتاہے وہ ختنہ ہی ہوجیساکہ ایک جماعت نے اسے ظاہر کہاہے جیساکہ اگلے حاشیہ میں آرہا ہے ۱۲منہ۔(ت)
ف : دس باتیں قدیم سے سنت انبیاء علیھم الصلوۃ والسلام ہیں ۔

 (۱؎ التیسیر شرح الجامع الصغیر تحت الحدیث عشر من الفطرۃ مکتبۃ الامام الشافعی ریاض ۲ / ۱۳۲)

قـال الراوی ونسیت العاشرۃ الا ان تکون المضمضۃ رواہ احمد ۱؎ ومسلم والاربعۃ عن ام المومنین الصدیقۃ رضی اللّٰہ تعالی عنہا ۔

راوی نے کہادسویں میں بھول گیا شایدعــہ کُلّی ہو۔ امام احمد، مسلم اور اصحابِ سُنن اربعہ نے ام المومنین صدیقہ رضی اللہ تعالٰی عنہاسے روایت کیا۔(ت)

عــــہ : امام قاضی عیاض  پھر امام نووی نے استظہار فرمایا کہ غالبادسویں ختنہ ہوکہ دوسری حدیث میں ختنہ بھی خصال فطرت سے شمار فرمایا ہے ۲؎ انتہی ، یعنی حدیث احمد و شیخین ابوھریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے
خمس من الفطرت الختان والاستحداد وقص الشارب و تقلیم الاظافر و نتف الابط ۳؎
پانچ چیزیں انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام کی سنتِ قدیمہ سے ہیں: ختنہ اور اُسترا لینا اور لبیں اور ناخن تراشوانا اور بغل کے بال دورکرنا۔
اقول ایک حدیث میں کلی کو بھی خصال فطرت سے گناہے ۔ امام احمد و ابوبکر بن ابی شیبہ و ابوداؤد وابن ماجہ وعمار بن یاسر رضی اللہ تعالی عنھم سے راوی، رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
ان من الفطرۃ المضمضۃ والاستشاق ( الی قولہ ) والانتضاح بالماء و الاختنان واللہ تعالی اعلم ۱۲ منہ ۔
فطرت سے ہے کُلّی اورناک میں پانی ڈالنا(الی قولہ) شرم گاہ پر چھینٹا اور ختنہ۔ واللہ تعالٰی اعلم۔(ت)

 (۱؎ صحیح مسلم     کتاب الطہارۃ باب خصال الفطرۃ     قدیمی کتب خانہ کراچی    ۱ /۱۲۹
سنن ابی داؤد کتاب الطہارۃ باب السواک من الفطرۃ آفتاب عالم پریس لاہور ۱ /۸
سنن ابن ماجہ ابواب الطہارۃ باب الفطرۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص ۲۵
مسند احمد بن حنبل عن عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا المکتب الاسلامی بیروت ۶ /۱۳۷
سنن الترمذی کتاب الادب حدیث ۲۷۶۶ دارالفکر بیروت ۴ /۳۴۸
سنن النسائی کتاب الزینۃ باب من سنن الفطرۃ نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ۱ /۲۷۳و ۲۷۴
۲؎ شرح صحیح مسلم للنووی مع صحیح مسلم باب خصال الفطرۃ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ / ۱۲۹
۳؎ صحیح البخاری کتاب اللباس باب قص الشارب الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۸۷۵
صحیح مسلم کتاب الطہارۃ باب خصال الفطرۃ قدیمی کتب خانہ ۱ / ۱۲۸ و ۱۲۹
مسند احمد بن حنبل عن ابی ھریرہ رضی اللہ تعالی عنہ المکتب الاسلامی بیروت ۲ / ۲۲۹، ۲۳۹، ۲۸۳
۴؎ مسند احمد بن حنبل عن عمار بن یاسر المکتب الاسلامی بیروت ۲ / ۲۶۴
سنن ابن ماجہ ابواب الطہارۃ باب الفطرۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص ۲۶)

شرمگاہ پر پانی ڈالنے کی علماء نے دو تفسیریں کیں: ایک استنجأ رواہ مسلم عن وکیع ۱؎۔ دوسرے وہی چھینٹا اور اس کے مؤید ہے کہ ایک روایت عـــہ۱؎ میں بجائے انتفاض الماء لفظ والانتضاح آیا ہے جمہور علماء نے فرمایا انتضاح وہی چھینٹا ہے ذکرہ الامام النووی ۲؎۔ 
اور یہیں سے ظاہر ہوا کہ یہ چھینٹا خاص اہلِ وسوسہ ہی کیلئے نہیں بلکہ سب کیلئے سنت ہے کہ انبیائے کرام علیہم الصلوٰۃ والسلام سے وسوسہ کو کیا علاقہ ان عبادی لیس لک علیھم سلطٰن ۴؎  (بے شک میرے بندوں پر تیرا غلبہ اور تسلّط نہیں ہوسکتا۔(ت)ابو داؤد نسائی ابن ماجہ حٰکم بن سفین یا سفٰین بن حکم رضی اللہ تعالٰی عنہ سے راوی قال کان النبی صلی اللّٰہ تعالی علیہ وسلم اذا بال توضأ ونضح فرجہ ۴؎ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم جب پیشاب فرماتے وضو فرماتے اور شرمگاہِ اقدس پر چھینٹا دیتے۔ ابن ماجہ حضرت جابر رضی اللہ تعالٰی عنہما سے راوی قال توضأ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ تعالی علیہ وسلم فنضح فرجہ ۶؎ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے وضو فرما کر ستر مبارک پر چھینٹا دیا۔ احمد وابن ماجہ و دار قطنی وحاکم وحارث بن ابی اسامہ حضرت محبوب ابن المحبوب سیدنا وابن سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ تعالٰی عنہما وہ اپنے والد ماجد حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے راوی رسول اللہ صلی تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں: اتانی جبریل فی اول ما اوحی الی فعلمنی الوضوءوالصلاۃ فلما فرغ الوضوءاخذ غرفۃ من الماء فنضح بھا فرجہ ۱؎۔ یعنی اول اول جو مجھ پر وحی اتری ہے جبریل امین علیہ الصلاۃ والسلام نے حاضر ہو کر مجھے وضو ونماز کی تعلیم دی، جبریل نے وضو خود کرکے دکھایا جب وضو کر چکے ایک چُلّو پانی لے کر اپنی اُس صورت مثالیہ کے موضع شرمگاہ پر چھڑک دیا۔

ولفظ ق:
علمنی جبرئیل الوضوءوامرنی ان انضح تحت ثوبی لما یخرج من البول بعد الوضوء۲؎۔ جبریل علیہ السلام نے مجھے وضو کی تعلیم دی اور مجھے بلایا کہ زیر جامہ پانی چھڑکوں اس خدشہ کو ختم کرنے کیلئے کہ وضو کے بعد کوئی قطرہ نکلا ہو۔ (ت)

ترمذی عـــہ ابو ھریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے راوی رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں: جاء نی جبریل فقال یا محمد اذا توضأت فانتضح ۱؎۔ جبریل نے حاضر ہو کر مجھ سے عرض کی یا رسول اللہ جب حضور وضو فرمائیں چھینٹا دے لیا کریں۔

 عـــہ  وعزاہ الامام الجلیل فی جامعیہ الی ابن ماجۃ ایضا اقول لیس عندہ ف جاء نی جبریل فقال یا محمد انما عندہ ماقدمت ای عن ابی ھریرۃ قال قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم اذا توضأت فانتضح اھ منہ۔ (م)
امام جلال الدین سیوطی نے جامع صغیر وجامع کبیر میں اس حدیث کو ابن ماجہ کی طرف منسوب کیا ہے، میں کہتا ہوں ابن ماجہ کے نزدیک ان الفاظ کے ساتھ نہیں بلکہ وہ ہے جس کا ذکر میں نے ابی ھریرہ سے کیا ہے اذا توضات فانتضح اھ منہ (ت)
ف تطفل علی الامام الجلیل الجلال الدین السیوطی ۔

جبریل کا اپنی صورتِ مثالیہ کے ستر پر چھڑکنا حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے حضور طریقہ وضو عرض کرنے کیلئے تھا اور حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کا فعل تعلیم اُمت کیلئے۔ مرقاۃ میں ہے:نضح فرجہ ای ورش ازارہ بقلیل من الماء اوسرا ولہ بہ لدفع الوسوسۃ تعلیما للامۃ ۲؎ ستر مبارگ پر چھینٹا دیا یعنی تہبند یا پاجامے  پر بھی امت کو دفع وسوسہ کی تعلیم دینے لئے تھوڑا پانی چھڑک دیا ۔

 (۱؎ سنن دارقطنی     ماجاء فی النضح علی الفرج    نشر السنۃ ملتان    ۱ /۱۱
۲؎ سنن ابن ماجۃ    ماجاء فی النضح علی الفرج   مجتبائی دہلی        ص۳۶
۳؎ ترمذی         ماجاء فی النضح بعد الوضوء   امین کمپنی دہی        ۱ /۹)

معہذا اس میں اقویا کیلئے جن کو برودت مثانہ کا عارضہ نہ ہو ایک نفع اور بھی ہے کہ شرمگاہ پر سرد پانی پڑنے سے اس میں تکاثف واستمساک پیدا ہو کر قطرہ موقوف ہوجاتا ہے کما ارشد الیہ حدیث زید رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ عند ق عـــہ

عــــہ سیدنا امام محمد کتاب الآثار میں فرماتے ہیں:
اخبرنا ابو حنیفۃ عن حماد عن سعید بن جبیر عن ابن عباس رضی اللّٰہ تعالی عنہما قال اذا وجدت شیا من البلۃ فانضحہ مایلیہ من ثوبک بالماء ثم قل ھو من الماء قال حماد قال لی سعید بن جبیر انضحہ بالماء ثم اذا وجدتہ فقل ھو من الماء قال محمد وبھذا ناخذ اذا کان کثر ذلک من الانسان وھو قول ابی حنیفۃ۔ ۳
یعنی سیدنا امام اعظم حما د بن سلیمان سے وہ سعید بن جبیر سے وہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما سے روایت فرماتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا تری پاؤ تو شرمگاہ اور وہاں کے کپڑے پر چھینٹا دے لیا کرو پھر شبہ گزرے تو خیال کرو کہ پانی کا اثر ہے۔ امام حماد نے فرمایا کہ ایسا ہی سعید بن جبیر نے مجھ سے فرمایا امام محمد فرماتے ہیں ہم اسی کو اختیار کرتے ہیں جب آدمی کو شبہ زیادہ ہوا کرے تو یہی طریقہ برتے اور یہی قول امام اعظم کا ہے رضی اللہ تعالٰی عنہم اجمعین۔

اقول مگر یہاں فـــ ۱ اولا یہ ملحوظ رہے کہ مقصودِ نفی وسوسہ ہے نہ ابطال حقیقت تو جسے قطرہ اترنے کا یقین ہوجائے وہ پانی پر حوالہ نہیں کرسکتا یونہی جسے معاذ اللہ سلس البول کا عارضہ ہو اسے یہ چھینٹا مفید نہیں بلکہ بسا اوقات مضر ہے کہ پانی کی تری سے نجاست بڑھ جائے گی۔
ف : مسئلہ: اس چھینٹے میں چند عمل ملحوظ ہیں ۔
ثانیا: سفید کپڑا پانی پڑنے سے بدن سے چمٹ کر بے حجابی لاتا ہے اس کا خیال فرض ہے۔
ثالثا : یہ حیلہ اُسی وقت تک نافع ہے کہ چھڑکا ہوا پانی خشک نہ ہوگیا ہو ورنہ اُس پر حوالہ نہ کرسکیں گے۔

وجیز امام کردری میں ہے: رأی البلۃ بعد الوضوءسائلا من ذکرہ یعید الوضوء وان کان یعرض کثیرا ولا یعلم انہ بول اوماء لایلتفت الیہ وینضح فرجہ او ازارہ بالماء قطعا للوسوسۃ واذا بعد عھدہ عن الوضوءاوعلم انہ بول لاتنفعہ الحیلۃ ۱؎۔

وضو کے بعد ذکر سے تری بہتی دیکھی تو وضو کا اعادہ کرے اور اگر ایسا بہت پیش آتا ہو اور وہ نہ جانتا ہو کہ پیشاب ہے یا پانی، تو اس کی طرف التفات نہ کرے اور اپنی شرمگاہ یا تہمد پر قطع وسوسہ کے لئے پانی چھڑک دیاکرے۔ اور جب وضو کئے دیر گزرچکی ہواوراسے معلوم ہوکہ پیشاب ہے تویہ حیلہ اس کے لئے کارآمد نہ ہوگا۔(ت)

 (۱؎ الفتاوی البزازیہ علی ہامش الفتاوی الہندیہ کتاب الطہارہ الفصل الثالث نورانی کتب خانہ پشاور ۴ /۱۳)

اسی طرح خلاصہ وخزانۃ المفتین میں ہے: ولفظھما وینبغی ان ینضح فرجہ و ازارہ عــہ الخ ۱؎ ان کے الفاظ یہ ہیں: اپنی شرمگاہ اور تہبند پر پانی چھڑک لینا چاہئے۔(ت)

عــہ ای بالواؤ دون او اھ منہ ( یعنی دونوں پر ، یہ واوکے ساتھ ہے اَو (یا) کے ساتھ نہیں ۱۲منہ ۔ ت)

 (۱؎ خلاصہ الفتاوی     کتاب الطہارۃ الفصل الثالث نوع آخر مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ     ۱ /۱۸)

فائدہ: ہم نے فــــ ۲ زیر امر سوم آٹھ پانی گنائے تھے جو آب وضو کے شمار سے جدا ہیں یہ ان کانواں ہوا۔ اُن دیار میں رواج ایسے لوٹوں کا ہے جن میں جانب پشت بغرض گرفت دستے لگے ہوتے ہیں یہاں بھی ایسے لوٹے دیکھے مگر کم۔

ف ۲ : علاوہ ان آٹھ پانیوں کے دو پانی اور جو حساب آب وضو سے جدا ہے۔

علما فرماتے فــــ ۳ ہیں ادب یہ ہے کہ پانی ڈالتے میں لوٹے کے منہ پر ہاتھ نہ رکھے بلکہ دستہ پر۔اور جب بھیگے ہاتھ سے دستہ چھُوا جائے گا تو مستحب فــــ ۱ ہوا کہ وضو سے پہلے اُسے تین بار دھولے یہ دسواں پانی ہوا تلک عشرۃ کاملۃ۔

ف ۳: مسئلہ دستہ دار لوٹا ہو تو مستحب یہ ہے کہ پانی ڈالتے وقت اس کا دستہ تھامے اس کے منہ پر ہاتھ نہ رکھے
ف ۱: مسئلہ مستحب ہے کہ وضو سے پہلے لوٹے کا دستہ تین بار دھولے ۔

فتح القدیر وبحرالرائق وردالمحتار آدابِ وضو میں ہے: کون فـــ ۲ اٰنیتہ من خزف وان یغسل عروۃ الابریق ثلثا ووضع یدہ حالۃ الغسل علی عروتہ لاراسہ ۱؎۔ مستحب یہ ہے کہ وضو کا برتن مٹی کا ہو،اورلوٹے کا دستہ تین بار دھولے، اور دھوتے وقت ہاتھ دستے پر رکھے لوٹے کے منہ پرنہیں۔(ت)

ف۲: مسئلہ مستحب ہے کہ وضو مٹی کے برتن سے کرے ۔

 (۱؎ ردالمحتار    کتاب الطہارۃ مطلب فی تیمم المندوبات داراحیاء التراث العربی بیروت     ۱ /۸۴
فتح القدیر کتاب الطہارۃ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ / ۳۲
البحر الرائق کتاب الطہارۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۲۸)

 (۳) اگر شیطان فــــ ۳ حیلہ سے بھی نہ مانے اور وسوسہ ڈالے ہی جائے کہ تیرے وضو میں غلطی رہی یا تری نماز ٹھیک نہ ہوئی تو سیدھا جواب یہ ہے کہ خبیث تُو جھوٹا ہے۔

ف ۳ : ردّ وسوسہ کا تیسرا علاج

ابن حبان وحاکم حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالٰی عنہ سے راوی رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں: اذا جاء احدکم الشیطان فقال انک احدثت فلیقل انک کذبت ولابن حبان فلیقل فی نفسہ ۲؎۔

جب تم میں کسی کے پاس شیطان آکر وسوسہ ڈالے کہ تیرا وضو جاتارہا توفوراً اسے جواب دے کہ توجھوٹا ہے(اوراگر مثلاً نماز میں ہے تو) دل میں یہی کہہ لے، مطلب وہی ہے کہ وسوسہ کی طرف التفات نہ کرے۔

 (۲؎ المستدرک للحاکم کتاب الطہارۃ دار الفکر بیروت ۱ / ۱۳۴
۳؎ موارد الظمان     کتاب الطہارۃ حدیث ۱۸۷ المطبعۃ السلفیہ     ص۷۳)

اقول حالتیں تین ہوتی ہیں:
ایک تو یہ کہ عدو کا وسوسہ مان لیا اُس پر عمل کیا یہ تو اس ملعون کی عین مراد ہے، اور جب یہ ماننے لگا تو وہ کیا ایک ہی بار وسوسہ ڈال کر تھک رہے گا حاشا وہ ملعون آٹھ پہر اس کی تاک میں ہے جتنا جتنا یہ مانتا جائے گا وہ اس کا سلسلہ بڑھاتا رہے گا یہاں تک کہ نتیجہ وہی ہوگا دو دوپہر کامل دریا میں غوطے لگائے اور سر نہ دھلا۔
دوسرے یہ کہ مانے تو نہیں مگر اُس کے ساتھ نزاع وبحث میں مصروف ہوجائے یہ بھی اُس کے مقصد ناپاک کا حصول ہے کہ اُس کی غرض تو یہی تھی کہ یہ اپنی عبادت سے غافل ہو کر کسی دوسرے جھگڑے میں پڑ جائے اور پھر اس حیص بیص میں ممکن ہے کہ وہی خبیث غالب آئے اور صورت ثانیہ صورت اولی کی طرف عود کرجائے ۔ والعیاذ باللہ تعالٰی۔

لہٰذا نجات اس تیسری صورت میں ہے جو ہمارے نبی کریم حکیم علیم رؤف رحیم علیہ وعلی آلہٖ افضل الصلاۃ والتسلیم نے تعلیم فرمائی کہ فوراً اتنا کہہ کر الگ ہوجائے کہ تو جھوٹا ہے۔
اقول یعنی یہ نہیں کہ صرف اس معنے کا تصور کرلیا کہ یہ کافی نہ ہوگا بلکہ دل میں جمالے کہ ملعون جھوٹا ہے پھر اُس کی طرف التفات اور اُس سے بحث وبردومات کی کیا حاجت شاید اسی لئے فی نفسہ زیادہ فرمایا۔

تنبیہ فــــ ضروری سخت ضروری اشد ضروری : اقول ہمارے حضور پُرنور سید عالم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم جوامع الکلم عطا فرمائے گئے مختصر لفظ فرمائیں اور معانی کثیرہ پر مشتمل ہوں۔

شیطان دو قسم ہیں شیاطین الجن کہ ابلیس لعین اور اس کی اولاد ملاعین ہیں اعاذ نااللّٰہ والمسلمین من شرھم وشر الشٰیطین اجمعین  (اے اللہ! ہم کو اور تمام مسلمانوں کو ان کے شر اور تمام شیاطین کے شر سے پناہ دے۔ ت)

فــــــ :یہ ضروری ضروری سخت ضروری :آریوں ، پادریوں ، وغیرہم کے لکچر ندائیں سننے کو جانے سے قرآن عظیم سخت مما نعت فرماتا ہے

دوسرے شیاطین الانس کہ کفار و مبتدعین کے داعی ومنادی ہے ۔ لعنہ اللہ وخذلھم ابدا ونصرنا علیہم نصرا ابدا آمین بجاہ سید المرسلین صلی اللّٰہ تعالی علیہ وعلیھم اجمعین امین  (خدا ان پر لعنت فرمائے اوران کوہمیشہ بے سہارا رکھے اوران پر ہمیں دائمی نصرت عطا فرمائے الہٰی بطفیل سید المرسلین قبول فرما۔حضور پر اورتمام رسولوں پر خدائے برتر کا درود سلام ہو۔ آمین۔(ت)

ہمارا رب عزوجل فرماتا ہے: وکذلک جعلنا لکل نبی عدوا شیٰطین الانس والجن یوحی بعضھم الی بعض زخرف القول غرورا ۱؎۔ یوں ہی ہم نے ہر نبی کا دشمن کیا شیطان آدمیوں اور شیطان جنوں کو کہ آپس میں ایک دوسرے کے دل میں بناوٹ کی بات ڈالتے ہیں دھوکا دینے کیلئے۔

 (۱؎ القرآن    ۶ /۱۱۲)

حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے ابو ذر رضی اللہ تعالٰی عنہ سے فرمایا: اللہ کی پناہ مانگ شیطان آدمیوں اور شیطان جنوں کے شر سے۔ عرض کی: کیا آدمیوں میں بھی شیطان ہیں؟ فرمایا: ہاں۔ رواہ احمد ۲؎ وابن حاتم والطبرانی عن ابی امامۃ واحمد وابن مردویہ والبیھقی فی الشعب عن ابی ذر رضی اللّٰہ تعالی عنہما۔  (اس کی روایت احمد نے ابن حاتم اور طبرانی نے ابی امامہ سے اور احمد نے ابن مردویہ اور بیہقی نے شعب میں ابو ذر رضی اللہ تعالٰی عنہما سے کی۔ ت)

ائمہ دین فرمایا کرتے کہ شیطان آدمی شیطان جن سے سخت تر ہوتا ہے۔ رواہ ابن جریر عن عبدالرحمٰن بن زید۔  (اس کی روایت ابنِ جریر نے عبدالرحمن بن زید سے کی۔ ت)

 (۲؎ مسند احمد بن حنبل عن ابی ذر رضی اللہ تعالی عنہ     المکتب الاسلامی بیروت    ۵ /۱۷۸ و ۲۶۵
الدرالمنثور بحوالہ احمد و ابن ابی حاتم وغیرھا تحت الایہ ۶ / ۱۱۲ داراحیاء التراث العربی بیروت ۳ / ۳۰۷ و ۳۰۸ )

اقول آیہ کریمہ میں شیاطین الانس کی تقدیم بھی اس طرف مشیر، اس حدیث کریم نے کہ ''جب شیطان وسوسہ ڈالے اتنا کہہ کر الگ ہوجاؤ کہ تُو جھوٹا ہے''۔ دونوں قسم کے شیطانوں کا علاج فرما د یا شیطان آدمی ہو خواہ جن اُس کا قابو اُسی وقت چلتا ہے جب اُس کے سُنئے اور تنکا توڑ کر ہاتھ پر دھر دیجئے کہ تُو جھوٹا ہے تو خبیث اپنا سامنہ لے کر رہ جاتا ہے۔ آج کل ہمارے عوام بھائیوں کی سخت جہالت یہ ہے کہ کسی آریہ نے اشتہار دیا کہ اسلام کے فلاں مضمون کے رَد میں فلاں وقت لیکچر دیا جائے گا یہ سُننے کیلئے دوڑ ے جاتے ہیں۔ کسی پادری نے اعلان کیا کہ نصرانیت کے فلاں مضمون کے ثبوت میں فلاں وقت ندا ہوگی، یہ سننے کیلئے دوڑے جاتے ہیں۔

بھائیو! تم اپنے نفع نقصان کو زیادہ جانتے ہو یا تمہارا رب عزّوجل تمہارے نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم اُن کا حکم تو یہ ہے کہ شیطان تمہارے پاس وسوسہ ڈالنے آئے تو سیدھا جواب یہ دے دو کہ تو جھوٹا ہے نہ یہ کہ تم آپ دوڑ دوڑ کے اُن کے پاس جاؤ اور اپنے رب جل وعلا ، اپنے قرآن اپنے نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی شان میں کلمات ملعونہ سُنو۔

اقول:  یہ آیت جو ابھی تلاوت ہوئی اسی کا تتمہ اور ا س کے متصل کی آیات کریمہ تلاوت کرتے جاؤ دیکھو قرآن عظیم تمہاری اس حرکت کی کیسی کیسی شناعتیں بتا تا اور اُن ناپاک لکچروں نداؤں کی نسبت تمہیں کیا کیا ہدایت فرماتا ہے، آیہ کریمہ مذکورہ کے تتمہ میں ارشاد ہوتا ہے:

ولو شاء ربّک مافعلوہ فذرھم وما یفترون ۱؎o اور تیرا رب چاہتا تو وہ یہ دھوکے بناوٹ کی باتیں نہ بناتے پھرتے تو تو انہیں اور اُن کے بہتانوں کو یک لخت چھوڑ دے۔

 (۱؎ القرآن    ۶ /۱۱۲)

دیکھو اُنہیں اور اُن کی باتوں کو چھوڑنے کا حکم فرمایا یا اُن کے پاس سُننے کے لئے دوڑنے کا۔ اور سُنئے اس کے بعد کی آیت میں فرماتا ہے: ولتصغٰی الیہ افئِدۃ الذین لایؤمنون بالاٰخرۃ ولیرضوہ ولیقترفوا ماھم مقترفون ۲؎o اور اس لئے کہ اُن کے دل اس کی طرف کان لگائیں جنہیں آخرت پر ایمان نہیں اور اُسے پسند کریں اور جو کچھ ناپاکیاں وہ کر رہے ہیں یہ بھی کرنے لگیں۔

 (۲؎ القرآن    ۶ /۱۱۳)

دیکھو اُن کی باتوں کی طرف کان لگانا اُن کا کام بتایا جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے اور اس کا نتیجہ یہ فرمایا کہ وہ ملعون باتیں ان پر اثر کر جائیں اور یہ بھی اُن جیسے ہوجائیں والعیاذ باللہ تعالٰی۔ لوگ اپنی جہالت سے گمان کرتے ہیں کہ ہم اپنے دل سے مسلمان ہیں ہم پر اُن کا کیا اثر ہوگا
حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں: من سمع بالدجال فلینأمنہ فواللّٰہ ان الرجل لیأتیہ وھو یحسب انہ مؤمن فیتبعہ مما یبعث بہ من الشبھات ۱؎۔ رواہ ابوداؤد عن عمران بن حصین رضی اللہ تعالی عنہ و عن الصحابۃ جمیعا۔

جو دجال کی خبر سُنے اُس پر واجب ہے کہ اُس سے دُور بھاگے کہ خدا کی قسم آدمی اس کے پاس جائے گا اور یہ خیال کرے گا کہ میں تومسلمان ہوں یعنی مجھے اس سے کیانقصان پہنچے گا وہاں اس کے دھوکوں میں پڑکر اس کا پیروہو جائے گا(اسے ابوداؤد نے عمران بن حصین رضی اللہ تعالٰی عنہ اورتمام صحابہ سے روایت کیا۔ت)

 (۱؎ سنن ابی داؤد    کتاب الملاہم باب خروج الدجال آفتاب عالم پریس لاہور     ۲ /۲۳۷)

کیا دجال ایک اُسی دجال اخبث کو سمجھتے ہو جو آنے والا ہے حاشا تمام گمراہوں کے داعی منادی سب دجال ہیں اور سب سے دُور بھاگنے ہی کا حکم فرمایا اور اُس میں یہی اندیشہ بتایا ہے
رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں: یکون فی اٰخر الزمان دجّالون کذّابون یاتونکم من الاحادیث بمالم تسمعوا انتم ولا اٰباؤکم فایاکم وایاھم لایضلّونکم ولا یفتنونکم ۲؎۔

آخر زمانے میں دجّال کذّاب لوگ ہوں گے کہ وہ باتیں تمہارے پاس لائیں گے جو نہ تم نے سنیں نہ تمہارے باپ دادا نے، توان سے دور رہو اور انہیں اپنے سے دور رکھوکہیں وہ تمہیں گمراہ نہ کردیں کہیں تمہیں فتنہ میں نہ ڈال دیں(اسے مسلم نے ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت کیا۔ت)

 (۲؎ صحیح مسلم باب النہی عن الروایۃ عن الضعفا ء الخ     قدیمی کتب خانہ کراچی    ۱ /۱۰)

اور سُنئے اس کے بعد کی آیات میں فرماتا ہے: افغیر اللّٰہ ابتغی حکما وھو الذی انزل الیکم الکتٰب مفصلا والذین اتینٰھم الکتٰب یعلمون انہ منزل من ربک بالحق فلا تکونن من الممترین o وتمت کلمت ربک صدقا وعدلا لامبدل لکلمٰتہ وھو السمیع العلیم o وان تطع اکثر من فی الارض یضلوک عن سبیل اللّٰہ ان یتبعون الاالظن وان ھم الایخرصون o ان ربک ھو اعلم من یضل عن سبیلہ وھو اعلم بالمھتدین o ۱؎ تو کیا اللہ کے سوا کوئی اور فیصلہ کرنے والا ڈھونڈوں حالانکہ اُس نے مفصل کتاب تمہاری طرف اُتاری اور اہلِ کتاب خوب جانتے ہیں کہ وہ تیرے رب کے پاس سے حق کے ساتھ اُتری تو خبردار تو شک نہ کرنا اور تیرے رب کی بات سچ اور انصاف میں کامل ہے کوئی اُس کی باتوں کا بدلنے والا نہیں اور وہ شنوا و دانا ہے اور زمین والوں میں زیادہ وہ ہیں کہ تو ان کی پیروی کرے تو وہ تجھے خدا کی راہ سے بہکا دیں وہ تو گمان کے پیرو ہیں اور نری اٹکلیں دوڑاتے ہیں بیشک تیرا رب خوب جانتا ہے کہ کون اس کی راہ سے بہکے گا اور وہ خوب جانتا ہے ہدایت پانے والوں کو۔

 (۱؎ القرآن        ۶ /۱۱۴ تا۱۱۷)

یہ تمام آیات کریمہ انہیں مطالب کے سلسلہ بیان میں ہیں گویا ارشاد ہوتا ہے تم جو اُن شیطان آدمیوں کی باتیں سُننے جاؤ کیا تمہیں یہ تلاش ہے کہ دیکھیں اس مذہبی اختلاف میں یہ لکچرار یا یہ منادی کیا فیصلہ کرتا ہے ارے خدا سے بہتر فیصلہ کس کا! اُس نے مفصل کتاب قرآن عظیم تمہیں عطا فرمادی اُس کے بعد تم کو کسی لکچر ندا کی کیا حاجت ہے لکچر والے جو کسی کتاب دینی کا نام نہیں لیتے کس گنتی شمار میں ہیں! یہ کتاب والے دل میں خوب جانتے ہیں کہ قرآن حق ہے تعصب کی پٹی آنکھوں پر بندھی ہے کہ ہٹ دھرمی سے مکرے جاتے ہیں تو تجھے کیوں شک پیدا ہو کہ اُن کی سُننا چاہے تیرے رب کا کلام صدق وعدل میں بھرپور ہے کل تک جو اُس پر تجھے کامل یقین تھا آج کیا اُس میں فرق آیا کہ اُس پر اعتراض سننا چاہتا ہے کیا خدا کی باتیں کوئی بدل سکتا ہے، یہ نہ سمجھنا کہ میرا کوئی مقال کوئی خیال خدا سے چھُپ رہے گا وہ سنتا جانتا ہے، دیکھ اگر تُونے اُن کی سنی تو وہ تجھے خدا کی راہ سے بہکا دیں گے کیا یہ خیال کرتا ہے کہ ان کا علم دیکھوں کہاں تک ہے یہ کیا کہتے ہیں ارے اُن کے پاس علم کہاں وہ تو اپنے اوہام کے پیچھے لگے ہوئے اور نری اٹکلیں دوڑاتے ہیں جن کا تھل نہ بیڑا جب اللہ واحد قہار کی گواہی ہے کہ اُن کے پاس نری مہمل اٹکلوں کے سوا کچھ نہیں تو اُن کو سُننے کے کیا معنے سننے سے پہلے وہی کہہ دے جو تیرے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تعلیم فرمایا کہ کذبت شیطان تو جھوٹا ہے، اور اس گھمنڈ میں نہ رہنا کہ مجھ کو کیا گمراہ کریں گے میں تو راہ پر ہوں تیرا رب خوب جانتا ہے کہ کون اُس کی راہ سے بہکے گا اور کون راہ پر ہے تو پورا راہ پرہوتا ہے بے راہوں کی سُننے ہی کیوں جاتا حالانکہ تیرا رب فرما چکا ذرھم وما یفترون ۲؎o چھوڑ دے اُنہیں اور اُن کے بہتانوں کو۔

 (۲؎ القرآن    ۶ /۱۱۲ )

تیرے نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم فرما چکے ایاکم وایاھم۱؎ اُن سے دُور رہو اور ان کو اپنے سے دور کرو کہیں وہ تم کو بہکانہ دیں کہیں وہ تم کو فتنے میں نہ ڈال دیں۔

 (۱؎ صحیح مسلم      باب النہی عن الروایۃ عن الضعفاء الخ     قدیمی کتب خانہ کراچی    ۱ /۱۰)

بھائیو! ایک سہل بات ہے اسے غور فرمالو۔ تم اپنے رب عــہ۱جل وعلا اپنے قرآن اپنے نبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم پر سچّا ایمان رکھتے ہو یا معاذ اللہ کچھ شک ہے! جسے شک ہوا سے اسلام سے کیا علاقہ وہ ناحق اپنے آپ کو مسلمان کہہ کر مسلمانوں کو کیوں بدنام کرے۔ اور اگر سچا ایمان ہے تو اب یہ فرمائے کہ ان کے لکچروں نداؤں میں آپ کے رب عــہ۲ وقرآن ونبی وایمان کی تعریف ہوگی یا مذمت۔ ظاہر ہے کہ دوسری ہی صورت ہوگی اور اسی لئے تم کو بلاتے ہیں کہ تمہارے منہ پر تمہارے خدا عــہ۳ونبی وقرآن ودین کی توہین وتکذیب کریں۔

اب ذرا غور کرلیجئے ایک شریر نے زید کے نام اشتہار دیا کہ فلاں وقت فلاں مقام پر میں بیان کروں گا کہ تیرا باپ ولد الحرام اور تیری ماں زانیہ تھی، للہ انصاف، کیا کوئی غیرت والا حمیت والا انسانیت والا جبکہ اُسے اس بیان سے روک دینے باز رکھنے پر قادر نہ ہو اُسے سُننے جائے گا حاشا للہ کسی بھنگی چمار سے بھی یہ نہ ہوسکے گا پھر ایمان کے دل پر ہاتھ رکھ دیکھو کہ اللہ ورسول عــہ۴ وقرآن عظیم کی توہین تکذیب مذمّت سخت تر ہے یا ماں باپ کی گالی۔ ایمان رکھتے ہو تو اُسے اس سے کچھ نسبت نہ جانو گے۔ پھر کون سے کلیجے سے اُن جگر شگاف ناپاک ملعون بہتانوں افتراؤں شیطانی اٹکلوں ڈھکوسلوں کو سُننے جاتے ہو بلکہ حقیقۃًفـــ انصافاً وہ جو کچھ بکتے اور اللہ ورسول عــہ۵ وقرآن عظیم کی تحقیر کرتے ہیں ان سب کے باعث یہ سننے والے ہیں اگر مسلمان اپنا ایمان سنبھالیں اپنے رب عــہ۶وقرآن ورسول کی عزت عظمت پیش نظر رکھیں اور ایکا کرلیں کہ وہ خبیث لکچر گندی ندائیں سننے کوئی نہ جائے گا جو وہاں موجود ہو وہ بھی فوراً وہی مبارک ارشاد کا کلمہ کہہ کر تو جھوٹا ہے چلا جائے گا تو کیا وہ دیواروں پتھّروں سے اپنا سر پھوڑیں گے تو تم سُن سُن کر کہلواتے ہو نہ تُم سنو نہ وہ کہیں، پھر انصاف کیجئے کہ اُس کہنے کا وبال کس پر ہوا۔

عــہ۱ جل وعلا وصلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم     عــہ۲ جل وعلا وصلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم    
عــہ۳ جل وعلا وصلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم     عــہ۴ جل وعلا وصلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم    
عــہ۵ جل وعلا وصلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم     عــہ۶ جل وعلا وصلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم    
فــــ : اللہ ورسول و قرآن عظیم کی جتنی توہین آریہ و پادری اپنے لیکچروں میں کرتے ہیں ان سب کا وبال شرعا ان پر ہے جو سننے جاتے ایسے جلسوں میں شریک ہوتے ہیں .

علماء فرماتے ہیں ہٹّے کٹّے جوان تندرست جو بھیک مانگنے کے عادی ہوتے اور اسی کو اپنا پیشہ کرلیتے ہیں اُنہیں دینا ناجائز ہے کہ اس میں گناہ پر شَہ دینی ہے لوگ نہ دیں تو جھَک ماریں اور محنت مزدوری کریں۔ بھائیو! جب اس میں گناہ کی امداد ہے تو اس میں تو کفر کی مدد ہے والعیاذ باللہ تعالٰی قرآن عظیم فـــ کی نص قطعی نے ایسی جگہ سے فوراً ہٹ جانا فرض کردیا اور وہاں ٹھہرنا فقط حرام ہی نہ فرمایا بلکہ سُنو تو کیا ارشاد کیا۔رب عزوجل فرماتا ہے: وقد نزل علیکم فی الکتٰب ان اذا سمعتم اٰیت اللّٰہ یکفربہا ویستھزأبھا فلا تقعدوا معھم حتی یخوضوا فی حدیث غیرہ انکم اذا مثلھم ان اللّٰہ جامع المنٰفقین والکٰفرین فی جہنم جمیعا ۱؎o یعنی بے شک اللہ تم پر قرآن میں حکم اتار چُکا کہ جب تم سُنو کہ خدا کی آیتو ں سے انکار ہوتا اور اُن کی ہنسی کی جاتی ہے تو ان لوگوں کے پاس نہ بیٹھو جب تک وہ اور باتوں میں مشغول نہ ہوں اور تم نے نہ مانا اور جس وقت وہ آیات اللہ پر اعتراض کر رہے ہیں وہاں بیٹھے تو جب تم بھی انہیں جیسے ہو بیشک اللہ تعالٰی منافقوں اور کافروں سب کو جہنم میں اکٹھا کرے گا۔

فــــ : دیکھو قرآن فرماتا ہے ہاں تمہارا رب رحمان فرماتا ہے جو ایسے جلسوں میں جائے ایسی جگہ کھڑا ہو وہ بھی انہیں کافروں آریوں پادریوں کی مثل ہے

 (۱ القرآن الکریم         ۴ /۱۴۰)

آہ آہ حرام تو ہر گناہ ہے یہاں تو اللہ واحد قہاریہ فرما رہا ہے کہ وہاں ٹھہرے تو تم بھی انہیں جیسے ہو۔
مسلمانو! کیا قرآن عظیم کی یہ آیات تم نے منسوخ کردیں یا اللہ عزوجل کی اس سخت وعید کو سچّا نہ سمجھے یا کافروں جیسا ہونا قبول کرلیا۔ اور جب کچھ نہیں تو اُن جمگھٹوں کے کیا معنی ہیں جو آریوں پادریوں کے لکچروں نداؤں پر ہوتے ہیں اُن جلسوں میں شرکت کیوں ہے جو خدا عــہ ورسول وقرآن پر اعتراضوں کیلئے جاتے ہیں۔بھائیو! میں نہیں کہتا قرآن فرماتا ہے کہ : انکم اذا مثلھم ۲؎ تم بھی ان ہی جیسے ہو۔ ت)

عــہ جل و علا و صلی اللہ تعالی علیہ وسلم ۱۲ منہ

 (۲؎ القرآن     الکریم     ۴ /۱۴۰ )

اُن لکچروں پر جمگھٹ والے اُن جلسوں میں شرکت والے سب اُنہیں کافروں کے مثل ہیں وہ علانیہ بک کر کافر ہوئے یہ زبان سے کلمہ پڑھیں اور دل میں خدا عــہ ۱ورسول وقرآن کی اتنی عزّت نہیں کہ جہاں اُن کی توہین ہوتی ہو وہاں سے بچیں تو یہ منافق ہوئے جب تو فرمایا کہ اللہ انہیں اور انہیں سب کو جہنم میں اکٹھا کرے گا کہ یہاں تم لکچر دو اور تم سنو ذق انک انت العزیز الکریم ۱؎o ( کھولتے پانی کا عذاب چکھ ، ہاں ہاں توہی بڑا عزت والا کرم والا ہے ۔ ت)

عــــہ ۱ : جل وعلا وصلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم

(۱ القرآن        ۴۴ /۴۹)

الٰہی اسلامی کلمہ پڑھنے والوں کی آنکھیں کھول ولا حول ولا قوۃ الّا باللہ العلی العظیم، مسلمان اگر قرآن عظیم کی اس نصیحت پر عمل کریں تو ابھی ابھی دیکھیں کہ اعداء اللہ کے سب بازار ٹھنڈے ہوئے جاتے ہیں ملک میں ان کے شور وشر کا نشان نہ رہے گا جہنم کے کُندے شیطان کے بندے آپس ہی میں ٹکرا ٹکرا کر سر پھوڑیں گے، اللہ۲؎ ورسول وقرآن عظیم کی توہینوں سے مسلمانوں کا کلیجا پکانا چھوڑیں گے،

عــہ۲ : جل وعلا وصلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم

اور اپنے گھر بیٹھ کر بکے بھی تو مسلمانوں کے کان تو ٹھنڈے رہیں گے اے رب میرے توفیق دے وحسبنا اللّٰہ ونعم الوکیل وصلی اللّٰہ تعالٰی علی سیدنا محمد واٰلہٖ وصحبہ اجمعین۔

خیر ، بات دور پہنچی اور بحمداللہ تعالٰی بہت نافع وضرور تھی، کہنا یہ تھا کہ وسوسہ شیطان کا تیسرا علاج یہ ہے کہ خبیث تو جھُوٹا ہے امام ابو حازم کہ اجلّہ ائمہ تابعین سے ہیں، اُن کے پاس ایک شخص آکر شاکی ہوا کہ شیطان مجھے وسوسے میں ڈالتا ہے اور سب سے زیادہ سخت مجھ پر یہ گزرتا ہے کہ آکر کہتا ہے تو نے اپنی عورت کو طلاق دے دی امام نے فوراً فرمایا کیا تونے میرے پاس آکر میرے سامنے اپنی عورت کو طلاق نہ دی وہ گھبرا کر بولا خدا کی قسم میں نے کبھی آپ کے پاس اُسے طلاق نہ دی فرمایا جس طرح میرے آگے قسم کھائی شیطان سے کیوں نہیں قسم کھا کر کہتا کہ وہ تیرا پیچھا چھوڑے اخرجہ ابو بکر ابی داؤد فی کتاب الوسوسۃ ۲؎ ۔ ( ابوبکر بن ابو داؤد نے اسے کتاب الوسوسہ میں بیان کیا۔ ت )

 (۲؎ آکام المرجان بحوالہ ابن ابی داؤد الباب السابع والثمانون مکتبہ خیریہ کثیر کراچی ص ۱۶۵ )

 (۴) وسوسہ فـــــ کا اتباع اپنے حول وقوت پر نظر سے ہوتا ہے ابلیس خیال ڈالتا ہے کہ تونے یہ عمل کامل نہ کیا اس میں فلاں نقص رہ گیا یہ اُس تکمیل کے خیال میں پڑتا ہے حالانکہ جتنا رخصت شرعیہ کے مطابق ہوگیا وہ بھی کامل وکافی ہے اکملیت کے درجات اکملوں کے لائق ہیں دشمن سے کہہ کہ اپنی دلسوزی اٹھا رکھے مجھ سے تو اتنا ہی ہوسکتا ہے ناقص ہے تو میں خود ناقص ہوں اپنے لائق میں بجالایا میرا مولی کریم ہے میرے عجزو ضعف پر رحم فرما کر اتنا ہی قبول فرمالے گا اُس کی عظمت کے لائق کون بجا لاسکتا ہے ؎

بندہ ہمان بہ کہ زتقصیر خویش        عذر بدرگاہِ خدا آورد
ورنہ سزا وار خدا وندیش            کس نتواند کہ بجا آورد

 (بندہ وہی بہتر ہے کہ اپنے قصور کا عذر اللہ تعالٰی کی درگاہ میں کرے ورنہ خدا کی شان کے لائق کوئی شخص پورا نہیں کرسکتا۔ ت)

ف : دفع وسواس کے دو آخری علاج ۔

علامہ محمد زرقانی رحمہ اللہ تعالٰی شرح مواہب لدنیہ شریف میں فرماتے ہیں: قال فی النصائح الوسوسۃ من افات الطھارۃ واصلہا جھل بالسنۃ اوخبال فی العقل ومتبعھا متکبر مدل بنفسہ سیئ الظن بعبادۃ اللّٰہ معتمد علی عملہ معجب بہ وبقوتہ وعلاجہا بالتلھی عنھا ۱؎ الخ

نصائح میں فرمایا: وسوسہ طہارت کی ایک آفت ہے اور اس کی بنیادسنت سے بے خبری یا عقل کی خرابی ہے۔ اس کی پیروی کرنے والا تکبر، خود رائی، اللہ کی عبادت کے ساتھ سوء ظن، اپنے عمل پر اعتماد،اپنی ذات اوراپنی فریفتگی کا شکار ہے اور وسوسہ کا علاج یہ ہے کہ اس سے بے پروا ہوجائے۔(ت)

 (۱؎ شرح الزرقانی علی المواہب ا للدنیۃ    المقصد التاسع النوع الاول     دار المعرفہ بیروت     ۷ /۲۵۲)

مولانا شیخ محقق عبدالحق محدّث دہلوی رحمہ اللہ تعالٰی شرح سفر السعادۃ میں فرماتے ہیں: درد دفع آں خاطر تکلف ننما یندو درپے آن نروند وہم برخصت عمل کنند واگر شیطان بسیار مزاحمت دہد و گوید کہ ایں عمل کہ توکردی ناقص ونادرست ست  وپذیرائے درگاہِ حق نے برغم اوبگوید کہ تو برواز دست من زیادہ بریں نمی آید ومولائے من کریم ست تعالٰی ازمن ہمیں قدر پذیر دوفضل ورحمت وی واسع ست ۱؎۔

اس خیال کو دفع کرنے میں تکلیف نہ کرے اوراس کے پیچھے نہ پڑے اوررخصت پرعمل کرے۔اگر شیطان بہت مزاحمت کرے اور کہے کہ یہ عمل جو تونے کیا وہ ناقص ونادرست ہے اور بارگاہِ حق میں مقبول نہیں، اس کے برخلاف کہے: توجا، مجھ سے اس سے زیادہ نہیں ہوسکتااورمیرا مولا کریم ہے،مجھ سے اسی قدر قبول فرمالے گا، اس کا فضل اوراس کی رحمت بہت وسیع ہے۔(ت)

 (۱؎ شرح سفر السعادۃ باب در طہارت حضرت پیغمبر صلی اللہ تعالی علیہ وسلم مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ص ۳۰)

 (۵) اٰخر الدواء الکی واٰخر الحیل السیف (آخری دوا داغنا ہے اور آخری حیلہ تلوار۔ ت) یوں بھی گزرے تو کہے فرض کردم کہ میرا وضو نہ ہوا میری نماز نہ سہی مگر مجھے تیرے زعم کے مطابق بے وضو یا ظہر کی تین رکعت پڑھنی گوارا ہے، اور اے ملعون تیری اطاعت قبول نہیں۔ جب یوں دل میں ٹھان لی وسوسہ کی جڑ کٹ جائے گی اور بعونہٖ تعالی دشمن ذلیل وخوار پسپا ہوگا۔ یہی معنے ہیں اُس ارشاد امام اجل مجاہد تلمیذ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما کے کہ فرماتے: لان اصلی وقد خرج منی شیئ احب الی من ان اطیع الشیطان ۲؎۔ ذکرہ فی الحدیقۃ الندیۃ۔ مجھے بے وضو پڑھ لینی اس سے زیادہ پسند ہے کہ شیطان کی اطاعت کروں۔( اسے حدیقۃ الندیۃ میں بیان کیا گیا ہے)

 (۲؎ الحدیقۃ الندیہ الباب الثالث الفصل الاول النوع الثانی مکتبہ نوریہ رضویہ فیصل آباد ۲ / ۶۸۸)

امام اجل قاسم محمد بن بکر صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ سے ایک شخص نے شکایت کی کہ نماز میں مجھے بہت سہو ہوتا ہے سخت پریشان ہوتا ہوں، فرمایا: امض فی صلاتک فانہ لن یذھب ذلک عنک حتی تنصرف وانت تقول مااتممت صلاتی ۳؎۔ رواہ امام دار الھجرۃ رضی اللّٰہ تعالی عنہ فی مؤطاہ۔ اپنی نماز پڑھے جاکہ یہ شبہے دفع نہ ہوں گے جب تک تو یہ نہ کہے کہ ہاں میں نے نماز پوری نہ کی یعنی یونہی سہی مگرمیں تیری نہیں سنتا۔(اسے امام دارالہجرۃ رضی اللہ تعالٰی عنہ نے اپنی مؤطا میں روایت کیا۔ت)

 (۳؎ موطأ الامام مالک کتاب السہو العمل فی السہو میرمحمد کتب خانہ کراچی ص ۸۴)

مرقاۃ میں ہے: المعنی لاتذھب عنک تلک الخطرات الشیطانیۃ حتی تفرغ من الصّلٰوۃ وانت تقول للشیطان صدقت مااتممت صلاتی لکن ما اقبل قولک ولا اتمہا ارغا مالک ونقضا لما اردتہ منی وھذا اصل عظیم لدفع الوساوس وقمع ھواجس الشیطٰن فی سائر الطاعات والحاصل ان الخلاص من الشیطان انما ھو بعون الرحمن والاعتصام بظواھر الشریعۃ وعدم الالتفات الی الخطرات والوساوس الذمیمۃ ولاحول ولا قوۃ الا باللّٰہ العلی العظیم ۱؎۔

معنی یہ ہے کہ وہ شیطانی خیالات تم سے دور نہ ہوں گے جب تک ایسا نہ ہو کہ تم نماز سے فارغ ہوجاؤ اور شیطان سے کہو تو ٹھیک کہتا ہے میں نے اپنی نماز پوری نہ کی لیکن میں تیری بات نہیں مانتا اور تیری تحقیر کے لئے اور تیرے ارادہ کو شکست دینے کے لئے میں اسے پوری نہ کروں گا۔ یہ وسوسوں کے دفعیہ اور شیطانی خیالات کی بیخ کنی کے لئے تمام طاعات میں بہت عظیم بنیاد ہے۔ حاصل یہ کہ شیطان سے چھٹکارا اسی طرح ملے گا کہ خدا کی مدد ہو اور ظاہر شریعت کہ مضبوطی سے تھامے رہے، بُر ے خیالات اوروسوسوں کی طرف التفات نہ کرے۔ اور طاقت وقوت نہیں مگر برتری وعظمت والے خدا ہی سے۔(ت)

 (۱؎ مرقاۃ المفاتیح شرح مشکوٰۃ المصابیح کتاب الایمان باب الوسوسۃ حدیث ۷۸ المکتبہ الحبیبیہ کوئٹہ ۱ /۲۵۶ )

الحمدللہ یہ فتوٰی لاحول شریف پر تمام ہوا اس سوال کے متعلق کسی کتاب میں چند سطروں سے زائد نہ تھا خیال تھا کہ دو تین ورق لکھ دئے جائیں گے ولہٰذا ابتدا میں خطبہ بھی نہ لکھا مگر جب فیض بارگاہ عالم پناہ سید العالمین محمّد رسول اللہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم جوش پر آیا فتوی ایک مبسوط رسالہ ہوگیا عظیم وجلیل فوائد جزیل پر مشتمل جو اس کے غیر میں نہ ملیں گے والحمدللّٰہ رب العالمین بلکہ متعدد جگہ قلم روک لیا کہ طول زائد ہوتا اور اسی کے مضامین سے ایک مستقل رسالہ بسط الیدین جس کا ذکر اوپر گزرا جُدا کر لیا لہٰذا مناسب کہ اس کا تاریخی نام بارق النور فی مقادیر ماء الطھور نور کی تابش آب طہارت کی مقدار میں ۔ ت) ہو، اور خطبہ کہ  سابقاً نہ ہوا لاحقا مسطور ہو ۱۳۲۷ھ ہو کہ النھایۃ ھی الرجوع الی البدایۃ  (انتہا ابتدا کی طرف لوٹتی ہے۔ ت) اول بآخر نسبتے دارد (اول آخر سے نسبت رکھتا ہے۔ت)

فالحمدللّٰہ الذی انزل من السماء ماء طھورا لیذھب عنا الرجس ویطھرنا بہ تطھیرا ووضع المیزان وقدر کل شیئ تقدیرا کی نختار العدل ویجتنب طرفیہ اسرافا وتقتیرا واطھر الصلاۃ واطیب السلام علی من ارسل بشیرا ونذیرا وداعیا الی اللّٰہ باذنہ سراجا منیرا فطھرنا بمیاہ فیضہ الھامر لاماطر کثیرا غزیرا واذھب عنا ارجاس الکفر وانجاس الضلال بسحاب فضلہ المنھل ابدا کل حین واٰن ھلّا کبیرا فصلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وعلٰی اٰلہٖ وصحبہ وسلم تسلیما کثیرا کثیرا امین ۔

توساری تعریف خدا کے لئے جس نے آسمان سے پاک اور پاک کرنے والا پانی اتارا تاکہ اس سے ہماری پلیدی دور کرکے ہمیں خوب خوب پاک کردے۔ اورجس نے ترازو رکھی اور ہر چیز کی ایک مقدار متعین فرمائی تاکہ ہم عدل اختیار کریں اوراس کے دونوں کنارے، زیادتی اورکمی سے بچیں۔اورپاک تر درود، پاکیزہ ترسلام اُن پر جو مژدہ دینے والے ،ڈرسنانے والے بناکر بھیجے گئے، اور خدا کی طرف سے اس کے اذن سے دعوت دینے والے اور روشن چراغ بناکر مبعوث ہوئے۔ توانہوں نے ہمیں اپنے فیض کی فراواں،بھرپور،موسلادھار بارش سے پاک فرمایا اورہم اپنے فضل کے ہر لمحہ وہر آن خوب خوب برستے بادل کے ذریعہ ہم سے کفر کی پلیدی ،ضلالت کی ناپاکی دُور کردی۔ تو ان پر، ان کی آل پر اوران کے اصحاب پر خدا کی رحمت وبرکت اوراس کا زیادہ سے زیادہ سلام نازل ہو۔ الہٰی قبول فرما۔

ھذا ولاجل العجل اذکان تنمیقہ وطبع الفتاوی جارٍ والطبع مشغول بشیون اھّم عظیمۃ الاخطار مع ھجوم الھموم وجمود الذھن وخمود الافکار بقی خبایا المرام فی زوایا الکلام لاسیما اثنان

یہ رسالہ توپورا ہوا۔ اورچوں کہ عجلت درپیش تھی اس لئے کہ ایک طرف رسالہ لکھا جارہاتھا دوسری طرف ْطباعت ہوتی جارہی تھی اور طبیعت کچھ عظیم اہم معاملات میں مشغول تھی، ساتھ ہی پریشانیوں کا ہجوم ، ذہن کی بستگی، فکر کی فروماندگی بھی دامنگیر رہی اس طرح کلام کے گوشوں میں کچھ باتیں چھپی رہ گئیں۔ خصوصاً دو باتیں:

الاول فــــ حدیث الغرفۃ وقد علمت مافیہ من الاشکال فلو ارسلت الغرفۃ علی الجبہۃ کما ھو السنۃ فی فتاوی الامام قاضی خان وخزانۃ المفتین ان اراد غسل وجہہ یضع الماء علی جبینہ حتی ینحدر الماء الی اسفل الذقن ولا یضع علی خدہ ولا علی انفہ ولا یضرب علی جبینہ ضربا عنیفا ۱؎ اھ

اول چُلّو سے متعلق حدیث۔ اس میں جو اشکال ہے معلوم ہوچکا۔ سنت یہ ہے کہ چلّو پیشانی پر ڈالا جائے۔ فتاوٰی امام قاضیخاں اور خزانۃ المفتین میں ہے: جب چہرہ دھونا چاہے توپانی جبین پرڈالے تاکہ وہ اُترکر ٹھوڑی کے نیچے تک آئے اوررخسار پر یاناک پر نہ ڈالے اورنہ پیشانی پرزور سے دے مارے اھ

ف : مسئلہ منہ دھونے میں نہ گالوں پر ڈالے نہ ناک پر نہ زور سے پیشانی پر ۔ یہ سب افعال جہال کے ہیں بلکہ بآہستگی بالائے پیشانی سے ڈالے کہ ٹھوڑی سے نیچے تک بہتا آئے ۔

 (۱؎ فتاوٰی قاضی خاں    کتاب الطہارۃ،باب الوضوء والغسل    نولکشور لکھنؤ    ۱ /۱۶
خزانۃ المفتین    کتاب الطہارۃ،فصل فی الوضوء    قلمی    ۱/ ۲)

فمعلوم قطعا ان الماء لایستوعب جمیع اجزاء الوجہ وان استقبل الماء فی مسیلہ فاخذہ بالید وامرھا علی اطراف الوجہ لم یکن غسلا کما قدمت من قبل نفسی لوضوحہ بشھادۃ العقل والتجربۃ ثم رأیتہ منصوصا علیہ فی فـــ الخلاصۃ والخزانۃ اذ یقولان الغسل مرۃ فریضۃ عندنا وان توضأ مرۃ سابغۃ جاز وتفسیر السبوغ ان یصل الماء الی العضو ویسیل ویتقاطر منہ قطرات اما اذا افاض الماء علی راس العضو فقبل ان یصل الی المرفق اوالکعب یمسک الماء ویمد بکفہ الی اخرالعضو لایکون سبوغا ۱؎ اھ ھذا لفظ الخلاصۃ ولفظ خزانۃ المفتین الغسل مرۃ سابغۃ فریضۃ ۲؎ ثم ذکر مثلہ وزیادۃ ۔

اب اگر اس طرح پیشانی پرچُلّو ڈالے توقطعاً معلوم ہے کہ پانی چہرے کے تمام حصوں کا احاطہ نہ کرسکے گا۔اور بہتے ہوئے پانی پر بیچ میں ہاتھ لگاکر چہرے کے اور حصوں تک ہاتھ پھیردیا تو یہ دھونا نہ ہوا جیسا کہ پہلے اسے میں نے اپنی طرف سے لکھا تھا کیوں کہ یہ عقل وتجربہ کی شہادت کے مطابق بالکل واضح بات تھی پھر میں نے دیکھا کہ خلاصہ اورخزانہ میں اس کی تصریح موجود ہے۔ ان کی عبارتیں یہ ہیں: ایک بار دھونا ہمارے نزدیک فرض ہے اور اگرایک بارکامل وسابغ طور پر دھولیاتووضو ہوگیا۔اور سابع کا معنٰی یہ ہے کہ پانی عضو تک پہنچے اوراس سے اس طرح بہہ جائے کہ کچھ قطرے ٹپکتے جائیں، لیکن اگر عضو کے سرے پرپانی بہایا اورکہنی یاٹخنے تک پہنچنے سے پہلے پانی روک کرہتھیلی کے ذریعہ عضو کے آخر تک پھیلادیا تو سبوغ نہ ہوا، اھ یہ خلاصہ کے الفاظ ہیں۔اور کے الفاظ یہ ہیں:ایک بارسابغ (احاطہ کے) طور پر دھونا فرض ہے (آگے عبارت خلاصہ کے مثل ہے اورکچھ زیادہ ہے)۔

فـــ:مسئلہ ضروریہ خود پانی کا تمام عضو پر بہنا ضرور ہے اگر ہاتھ یا پاؤں کے پنجے پر پانی ڈالا کہنیوں گٹوں تک نہ پہنچاتھا کہ بیچ میں ہاتھ لگا کر آخر عضو تک پھیر دیا تو وضو نہ ہوگا کہ یہ بہانا نہ ہوا بلکہ چپڑنا ہوا۔

 (۱؎ خلاصۃ الفتاوٰی     کتاب الطہارات،الفصل الثالث        مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ    ۱ /۲۲
۲؎ خزانۃ المفتین    کتاب الطہارۃ،فصل فی الوضوء        قلمی        ۱ /۳)

والثانی روایۃ الحسن فی توزیغ الماء علی الاعضاء وما استظھرت فی توجیھہ قبیل الامر الرابع فیعکرہ بُعدان یحاسبوا سنۃ الاستنجاء ویترکوا ھذہ السنن التی کانھا للوضوء من الاجزاء لاسیما ولفظ الخلاصۃ فی اٰخر فصل الغسل والحاصل ان الرطل للاستنجاء والرطل للقدمین والرطل لسائر الاعضاء۳؎اھ ولفظ وجیز الکردری فی صدر فصل الوضوءرطل للاستنجاء واخر لغسل الرجل واخر لبقیۃ الاعضاء ۴؎ اھ فھذا ظاھر فی شمول الفم والانف فکذا الیدان الی الرسغین علی انک علمت بُعد التسویۃ بین مجموع نفس الوجہ والیدین وبین القدمین فلیتأمل لعل اللّٰہ یحدث بعد ذلک امرا وصلی اللّٰہ تعالٰی علی اعظم الانبیاء قدر اوفخرا وعلی اٰلہ وصحبہ واولیائہ وحزبہ اولی واخری وبارک وسلم واللّٰہ سبحانہ  وتعالٰی اعلم وعلمہ جل شانہ اتم واحکم۔

دوم اعضاء پر پانی کی تقسیم سے متعلق حسن بن زیاد کی روایت اورامر چہارم سے کچھ پہلے اس کی توجیہ میں، میں نے جو استظہارکیا اس پر یہ اعتراض ہوتاہے کہ ایسا بُعد ہے کہ سنت استنجا کوتوشمار کریں اور ان سنتوں کوجوگویاوضوکے جز کی حیثیت رکھتی ہیں،چھوڑجائیں۔ فصلِ غسل کے آخرمیں خلاصہ کے الفاظ یہ ہیں: حاصل یہ کہ ایک رطل استنجا کے لئے ،ایک رطل دونوں قدم کے لئے ، ایک رطل باقی اعضا کے لئے اھ۔ اورفصل وضو کے شروع میں وجیز کَردَرِی کے الفاظ یہ ہیں: ایک رطل استنجا کے لئے، ایک پیر دھونے کے لئے ،ایک اور بقیہ اعضاء کے لئے اھ۔ تو یہ منہ اورناک کو شامل ہونے میں ظاہر ہے ایسے ہی گٹوں تک دونوں ہاتھ بھی ہیں۔علاوہ اس کے یہ معلوم ہوچکا ہے کہ چہرے اور دونوں ہاتھوں کے مجموعے ،اور دونوں پیروں کے درمیان پانی کی مقدار برابر ہونا بعید ہے۔ توان باتوں پر تامل کی ضرورت ہے شاید خدا اس کے بعدکچھ اور ظاہر فرمائے۔اور خدا کا درودوسلام اوربرکت ہوا ن پر جو قدرو فخر میں تمام انبیا سے عظیم ہیں اور حضور کی آل واصحاب،ان کے اولیا وجماعت پربھی دنیا وآخرت میں۔اور خدائے پاک وبرترہی کو خوب علم ہے اور اس ذات بزرگ کا علم زیادہ تام اور محکم ہے۔(ت)

 (۳؎خلاصۃ الفتاوٰی     کتاب الطہارات،الفصل الثانی        مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ    ۱ /۱۴
۴؎الفتاوی البزازیۃ علی ہامش الفتاوی الہندیۃ    کتاب الطہارۃ،الفصل الثالث     نورانی کتب خانہ پشاور    ۴ /۱۱)

فتاوی رضویہ ،سوال نمبر ۱۷
مفتی امام احمد رضا خان بریلوی

No comments:

Post a Comment

Join us on

Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...