Saturday, December 5, 2015

فتوی :سخت زکام و سردرد میں بخار کا یقین ہو تو ،کیا غسل جنابت میں سر کا صرف مسح کرسکتے ہیں ۔۔؟؟ جواب از : امام احمد رضا خان بریلوی

مسئلہ۱۳:        ۷شعبان ۱۳۱۳ھ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید کو زکام ہوا اور بسبب اُس کے دردِسر ہے اسی حالت میں اس کو حاجتِ غسل ہوئی اُس نے اس خیال سے کہ اگر میں سر سے نہاؤں گا تو مرض میں ترقی ہوکر اور عوارض مثل بخار وغیرہ کے پیدا ہوجائیں گے اور زید کو ترقی مرض کا پورا یقین اور تجربہ ہے، اس سبب سے اُس نے سر کو چھوڑ کر باقی جسم سے نہالیا اور تمام سر کا خوب مسح کرلیا تو (کیا )غسل اُس کا صحیح (ہوا )اور نماز اُس کی یا جس نے اُس کے پیچھے پڑھی درست ہوگی یا نہیں؟یاایسی حالت میں اس کو تیمم کا حکم تھا؟ بینوا توجروا۔


الجواب

صورت مستفسرہ میں اس کی نماز، امامت سب درست وصحیح ہوئی غریب الروایۃ پھر کتاب الفیض الموضوع لنقل ماھو المختار للفتوی پھر منحۃ الخالق علی البحرالرائق میں ہے: المرأۃ لوضرھا غسل رأسھا فی الجنابۃ اوالحیض تمسح علی شعرھا ثلث مسحات بمیاہ مختلفۃ وتغسل باقی جسدھا ۱؎۔

اگر عورت کو جنابت یا حیض کے غسل میں سر دھونے سے ضرر ہو تو تین الگ الگ پانیوں سے تین بار اپنے بالوں پر مسح کرلے اور باقی جسم دھوئے (ت)

(۱؎ منحۃ الخالق علی حاشیۃ بحرالرائق    کتاب الطہارۃ باب المسح علی الخفین ایچ، ایم سعید کمپنی کراچی    ۱/ ۱۶۴)

حلیہ شرح منیہ میں ہے: ان کان اکثرا عضائہ صحیحا بان کانت الجراحۃ علی راسہ وسائرجسدہ صحیح فانہ یدع الرأس ویغسل سائر الاعضاء ۲؎۔

اگر اکثر اعضاء ٹھیک ہوں (مثلاً) اس طرح کہ سر میں زخم ہو اورباقی جسم صحت مند ہو تو سر چھوڑ کر دیگر اعضاء کو دھولے ۔(ت)

(۲؎ حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی )

درمختار میں ہے: صح اقتداء غاسل بماسح ولو علی جبیرۃ ۳؎۔ جو اعضاء کو دھونے والا ہے وہ مسح کرنے والے کی اقتداء کرسکتا ہے اگرچہ زخم کی پٹی پر ہی مسح کرنے والا ہو۔(ت)

(۳؎ الدرالمختار    کتا ب الصلوٰۃ     باب الامامۃ    مطبع مجتبائی دہلی        ۱/ ۸۵)

اصل فــ کلی یہ ہے کہ غسل میں اگر بعض جسم پر پانی ڈالنا مضر ہو تو کثرت کا اعتبار ہے، اگر اکثر جسم وہی ہے جس پر پانی پہنچنا ضرر دے گا خواہ یوں کہ عارضہ خود اُسی جسم میں ہو یا یوں کہ اُس پر پانی ڈالنے سے پانی ایسی جگہ پہنچے گا جہاں پہنچنے سے ضرر ہے تو تیمم کرے اور اگر اکثر جسم سالم ہے تو جس قدر میں مضرت ہے وہاں مسح کرلے باقی پر پانی بہالے۔
ف:مسئلہ جب بدن کے بعض حصہ پر پانی ضرر دیتاہو اور بعض پر نہیں تو اکثر کااعتبار ہے ۔

درمختار میں ہے: (تیمم لواکثرہ مجروحا) اوبہ جدری اعتبار اللاکثر (وبعکسہ یغسل) الصحیح ۴؎۔

(۴؎ الدرالمختار         کتاب الطہارۃ     (آخر باب التمیم)    مطبع مجتبائی دہلی    ۱/ ۴۵)

ردالمحتار میں ہے: لکن اذا کان یمکنہ غسل الصحیح بدون اصابۃ الجریح والاتیمم حلیۃ ۱؎۔

لیکن جب صحت مند حصے کو اس طرح دھونا ممکن ہوکہ زخمی حصے پر پانی نہ جائے تودھوئے ورنہ تیمم کرے ۔ حلیہ  (ت)

(۱؎ردالمحتار        کتاب الطہارۃ     (آخر باب التیمم)    داراحیاء التراث العربی بیروت    ۱/ ۱۷۱)

ظاہر ہے کہ متن میں لفظ زخم یاشرح میں لفظ خارش کوئی قید نہیں مدار ضرر پر ہے کسی وجہ سے ہو کمالایخفی ھذا(جیساکہ پوشیدہ نہیں یہ ذہن نشین رہے ۔ت)

واعلم ان المدقق العلائی ذکر فی الدرالمختار اٰخر التیمم مانصہ(من بہ وجع راس لایستطیع معہ مسحہ)محدثاولا غسلہ جنباففی الفیض عن غریب الروایۃ تیمم وافتی قارئ الہدایۃ انہ(یسقط) عنہ(فرض مسحہ) وکذا یسقط غسلہ فیمسحہ ۲؎ اھ ملخصا

واضح ہو کہ مدقق علائی رحمہ اﷲ تعالٰی نے درمختار با ب التیمم کے آخر میں یہ کیاہے [ ہلالین کے درمیان متن تنویر الابصار کے الفاظ ہیں ۱۲م](جس کے سر میں ایسی بیماری ہے کہ اس کے ہوتے ہوئے مسح نہیں کرسکتا) جب بے وضو ہے۔ اور نہ دھوسکتاہے جب حالت جنابت میں ہے۔ تو فیض میں غریب الروایہ سے نقل ہے کہ وہ تیمم کرے۔اور قاری ہدایہ نے فتوی دیاکہ ( اس سے فرض مسح ساقط ہے ) اور اسی طرح اس کا دھونا ساقط ہے توو ہ مسح کرے گا اھ ملخصًا۔

(۲؎ردالمحتار        کتاب الطہارۃ     (آخر باب التیمم)    مطبع مجتبائی دہلی    ۱/ ۴۶)

قال الشامی وماافتی بہ نقلہ فی البحر عن الجلابی ونظمہ العلامۃ ابن الشحنۃ فی شرحہ علی الوھبانیۃ اھ وقال تحت قولہ وکذا یسقط غسلہ ای غسل الرأس من الجنابۃ ۱؎ اھ

علامہ شامی نے کہا: قاری ہدایہ نے جو فتوی دیا ہے اسے البحر الرائق میں جلابی سے نقل کیا ہے اور اسی کو علامہ ابن الشحنہ نے وہبانیہ کی شرح میں نظم کیا ہے اھ۔ اور علامہ شامی نے عبارت درمختار ''اسی طرح اس کادھوناساقط ہے'' کے تحت لکھا ہے یعنی جنابت سے سر دھونا ساقط ہے اھ۔(ت)

(۱؎ردالمحتار        کتاب الطہارۃ     (آخر باب التیمم)    داراحیاء التراث العربی بیروت    ۱ /۱۷۳)

اقول فھذا الذی افتی بہ العلامۃ سراج الدین قاری الھدایۃ شیخ المحقق ابن الھمام موافق لما افتی بہ العبد الضعیف وھوالماشی علی الاصل المار الذی تظافرت علیہ کلماتھم جمیعاولم ازل اتعجب ممانقل عن غریب الروایۃ فی مسألۃ الجنابۃ من الامربالتیمم لاجل الضرر فی الرأس وحدہ ثم رأیت منحۃ الخالق فوجدت انہ نقل عن الفیض عن الغریب مافی الدرولصیقابہ ماقدمت من مسألۃ المرأۃ فزدت عجبافان فرع المرأۃ یخالف الفرع الاول صریحا ولذا قال فی الفیض عقیب نقلہ وھو عجیب کما فی المنحۃ۲؎ایضا

اقول ( میں کہتا ہو ں) علامہ سراج الدین قاری الہدایہ شیخ محقق ابن الہام نے جو فتوی دیا بندہ ضعیف کے فتوے کے مطابق ہے اور یہی اس قاعدے پر جاری ہے جس پر تمام علماء متفق ہیں اور اُس پر برابر مجھے تعجب رہا جو غریب الروایہ سے فیض میں منقول ہے کہ صرف سر میں ضرر کی وجہ سے تیمم کا حکم ہے  پھرمیں نے منحۃ الخالق میں دیکھا کہ بحوالہ فیض غریب الراویہ سے وہی مسئلہ نقل کیا ہے جو درمختار میں ہے اور اس کے بعد بالکل متصل ہی وہ جزئیہ ہے جو عورت سے متعلق میں نے اس فتوے کے شروع میں پیش کیا۔یہ دیکھ کر مجھے اور زیادہ تعجب ہوا اس لئے کہ جزئیہ عورت ، جزئیہ اول کے صراحۃ مخالف ہے۔ اسی لئے فیض میں اسے نقل کرنے کے بعد کہا ''یہ عجیب ہے '' جیسا کہ منحۃ الخالق ہی میں ہے۔

(۲؎ منحۃ الخالق علی البحر الرائق    کتاب الطہارۃ باب المسح علی الخفین     ایچ ایم سعید کمپنی کراچی۱ /۱۶۴)

ثم ان المولی فـــ سبحنہ وتعالی فتح بمااوضح المرام وازاح العجب فان عبارۃ غریب الروایۃ علی مافی المنحۃ عن الفیض عنہ ھکذا من برأسہ صداع من النزلۃ ویضرہ المسح فی الوضوءاو الغسل فی الجنابۃ یتیمم والمرأۃ لوضرھا۱؎ الخ فتحدس فی خاطری وللّٰہ الحمدان الغسل ھھنا بضم الفاء دون فتحہافلیس فــ المراد غسل الرأس کما اوھمہ عبارۃ الدر بل المعنی ضرہ الغسل واسالۃ الماء علی بدنہ ولو بترک الرأس لماتصعد بہ الابخرۃ الی الدماغ فیزداد بہ ضررافی بعض الصورکماعلم فی الطب وھذاحکم صحیح لاغبار علیہ ولاخلاف فیہ للاصل السابق ولا للفرع اللاحق وانماخص المرأۃ بالذکرلیعلم حکم الرجل بالاولی فانہ اذاامر بمسح الشعرالنازل الذی لایکون ضررغسلہ کضررغسلہ نفس الرأس فنفسہ اجدر بالحکم ھذاکلہ بالغسل واماالوضوء فمن المعلوم ان من بلغ بہ النزلۃ مبلغا یضرہ مسح ربع راسہ بید مبتلۃ فیضرہ غسل الوجہ والیدین والرجلین من باب اولی فان البردالذی یصل الی الدماغ باسالۃ الماء علی الاطراف اشدمن بردعسی ان یصل باصابۃ یدمبتلۃ بعض الرأس فلاجل ھذاامربالتیمم ھذاغایۃ مایوجہ بہ کلامہ فکان الاحری بالمولی المحقق المدقق العلائی ان یوجہہ ھکذا والا ترکہ اصلا کیف ومثل الحکم عن غریب الروایۃ غیرغریب کماقالہ فی الحلیۃ فی مسألۃ اخری نقلہاعنہ مخالفاللجمیع والالم یعزہ للفیض الذی ھو موضوع لنقل المذھب کیلا یکون تنویھا بھا والا اتم نقل کلام الفیض فانہ قال عقبیہ وھو عجیب ھذاکلہ ماظھر للعبد الضعیف واللہ تعالی اعلم ۔

پھر مولٰی سبحانہ  و تعالٰی نے وہ امر منکشف فرمایا جس نے مقصد واضح کردیا اور تعجب جاتا رہا ۔ اس لئے کہ غریب الراویہ کی اصل عبارت اس طرح ہے جیسا کہ منحۃ الخالق میں بحوالہ فیض اس سے نقل کیا ہے : ''جس کے سر میں نزلہ کی وجہ سے چکر آتا ہے اور اسے وضو میں مسح اور جنابت میں غسل ضرر دیتا ہے وہ تیمم کرے، اور اگر عورت کو جنابت یا حیض کے غسل میں سر دھونے سے ضرر ہو الخ۔ تو میرے دل میں یہ خیال گذرا وﷲ الحمد کہ لفظ ''غسل'' یہاں زبر سے نہیں بلکہ پیش سے ہے ، اس سے مراد سردھونا نہیں جیسے کہ درمختار کی عبارت سے وہم ہوتا ہے بلکہ معنی یہ ہے کہ اسے غسل اور سر چھوڑ کر بھی بدن پر پانی بہانے سے ضرر ہوتا ہے کیونکہ بخارات دماغ کی طرف چڑھتے ہیں جس سے بعض صورتوں میں تکلیف اور بڑھ جاتی ہے جیسا کہ فنِ طب میں مذکور و معلوم ہے اور یہ حکم بالکل صحیح بے غبار ہے جس میں سابقہ قاعدے اور مابعد جزئیے کی کوئی مخالفت نہیں اور بعد والے جزئیے میں خاص عورت کاذکر اس لئے ہے کہ اس سے مرد کا حکم بطریقِ اولٰی دریافت ہوجائے۔ اس لئے جب یہ حکم ہے کہ عورت اپنے لٹکے ہوئے بالوں کا مسح کرلے جب کہ اس کے دھونے میں وہ ضرر نہیں ہوگا جو خود سر دھونے میں ہوتا ہے تو (مرد کے لئے) خود سر کے مسح کا حکم بدرجہ اولی ہوجائے گا

 یہ ساری گفتگو تو غسل سے متعلق ہوئی اب رہا وضو کا معاملہ ، تو یہ معلوم ہے کہ

 جس کا نزلہ اس حد کو پہنچ گیا ہے کہ اس کے سر کے صرف چوتھائی حصہ بھیگا ہوا ہاتھ پھیرناضرر پہنچاتا ہے تو چہرہ اور دونوں ہاتھ پاؤں دھونے میں بدرجہ اولٰی ضرر ہوگا اس لئے کہ ان اعضاء پر پانی بہانے سے دماغ تک پہنچنے والی ٹھنڈک اس ٹھنڈک کی بہ نسبت زیادہ سخت ہوگی جو سر کے ایک حصہ بھیگا ہوا ہاتھ لگنے سے پہنچتی ہے اسی وجہ سے اس شخص کو تیمم کا حکم ہوا یہ انتہائی توجیہ ہے جو اس کلام سے متعلق ہوسکتی ہے ۔ تو علامہ محقق مدقق علاء الدین کے لئے مناسب یہ تھا کہ کلام کی یہ توجیہ بھی پیش کردیتے،ورنہ سرے سے اس کاذکر ہی چھوڑ دیتے کیونکہ غریب الروایہ میں ایسا حکم مذکور ہونا کوئی عجیب و غریب بات نہیں۔جیساکہ حلیہ میں یہی بات ایک دوسرے مسئلہ سے متعلق کہی ہے جو سب کے برخلاف غریب الروایہ سے نقل کیا ہے ۔تیسری صورت یہ تھی کہ اس مسئلہ پر فیض کا حوالہ نہ دیتے کیوں کہ یہ نقل مذہب کے لئے لکھی گئی ہے اس کی جانب انتساب سے اس مسئلہ کی اہمیت کا اظہار ہوتا ہے۔اور اگر فیض کا حوالہ دیا تو اس کے بعد فیض کا ریمارک ''وھو عجیب'' بھی نقل کرکے اس کا کلام مکمل کردینا چاہئے تھا۔ یہ سب وہ ہے جو بندہ ضعیف پر ظاہر ہوا ۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔(ت)

فــ:توجیہ نفیس لمافی غریب الروایۃ ۔
فــ:تطفل علی الدر۔

(۱؎ منحۃ الخالق علی البحرالرائق         کتاب الطہارۃ     باب التیمم     ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱/ ۱۶۴)

فتاوی رضویہ،ج۲،سوال نمبر ۱۳
مفتی :اعلی حضرت امام احمد رضا بریلوی

No comments:

Post a Comment

Join us on

Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...