Saturday, December 5, 2015

مسواک اگر ایک بالشت سے بڑی ہو تو اس پر شیطان بیٹھتا ہے یہ حدیث ہے یا بزرگ کا قول ۔؟جواب :امام احمد رضا بریلوی

مسئلہ:۲


 مسواک کتنی لمبی ہونی چاہیے ؟

 ''سنا ہے  اگر بالشت بھر سے زائد مسواک ہے تو وہ شیطان کی سواری ہے ، امید کہ اس کی سند لکھی جائے گی ،؟؟)

الجواب :یہ قول امام عارف باللہ حکیم الامہ سیدی محمد بن علی ترمذی قد س سر ہ سے منقول ہے ، درمختار میں ہے ۔ لایزاد علی الشبر والا فالشیطان یرکب علیہ۱؎  (مسواک ایک بالشت سے زیادہ نہ ہو ورنہ اس پر شیطان بیٹھتا ہے ۔ت)


 (۱؎ الدر المختار    کتاب الطہارۃ    مطبع مجتبائی دہلی     ۱ /۲۱)

حاشیہ طحطاویہ علٰی مراقی الفلاح میں ہے : یکون طول شبرعــــــہ مستعملہ لان الزائد یرکب علیہ الشیطان۱؎ مسواک جو استعمال کرنے والاہے اس کی بالشت بھرہونی چاہئے اس لئے کہ جو زیادہ ہو اس پر شیطان بیٹھتا ہے ۔(ت)

 (۱؎ حاشیۃ طحطاوی علی مراقی الفلاح،کتاب الطہارۃ ،فصل فی سنن الوضوء، دار الکتب العلمیہ بیروت۱ /۴۰)

عـــہ ھل المراد شبر المستعمل اوالوسط تر دد فیہ  ط فی حاشیۃ الدرر وقال یحرر۳؎ اھ وقال ش الظاھر الثانی لانہ محمل الاطلاق غالبا۴؎ اھ
استعمال کرنے والے کی بالشت مراد ہے یا متوسط بالشت ؟ اس بارے میں سید طحطاوی نے حاشیہ درمختار میں تر د د ظاہر کیا ہے اور فرمایا ہے کہ اس کی تنقیح کی ضرورت ہے اھ اور علامہ شامی نے کہا ہے کہ ظاہر ، ثانی ہے اس لئے کہ مطلق بولنے کے وقت عموما وہی مراد ہوتا ہے اھ ۔

 (۳؎ حاشیہ طحطاوی علی الدر المختار    کتاب الطہارۃ     مکتبہ العربیہ کوئٹہ     ۱ /۷۰)   
 (۴؎ردالمحتار     کتاب الطہارۃ     دار احیاء التراث العربی بیروت     ۱ /۷۸)

اقول نقل العلامۃ نفسہ فی حاشیہ المراقی ھذا الذی نراہ لکنہ نسبہ الی بعضہم فان کان ذالک البعض ممن یعتمد علی قولہ فہذا نص فی الباب والافالظاھر مع ش واللہ تعالی اعلم ۱۲منہ دام فیضہ ۔

اقول خود علامہ طحطاوی نے مراقی الفلاح کے حاشیہ میں یہ عبارت نقل کی ہے جو پیش نظر ہے لیکن اسے '' بعض'' کی طرف منسوب کیا ہے اور '' بعض '' اگر کوئی ایسی شخصیت ہے جس کے قول پر اعتماد کیا جاتا ہے جب تو یہ اس باب میں نص ہے ورنہ ظاہر علامہ شامی کے ساتھ ہے ، اور خدائے بزرگ و بر تر ہی کو خوب علم ہے ۱۲منہ فیضہ ( ت)

شرح نقایہ علامہ قہستانی میں ہے : قال الحکیم الترمذی لایزاد علی الشبر والا فالشیطان رکب علیہ ۲؎  (حکیم ترمذی نے فرمایا:مسواک ایک بالشت سے زیادہ نہ کی جائے ورنہ اس پر شیطان بیٹھتا ہے)

 (۲؎ جامع الرموز    کتاب الطہارۃ     مکتبہ اسلامیہ گنبدقابوس ایران     ۱ /۲۹)

اقول۴۴ شک نہیں ف کہ ظاہر حقیقت ہے جب تک کوئی صارف نہ ہو ولا مانع منھا فالشیطان موجود ورکوبہ ممکن واللّٰہ اعلم بحقیقۃ الحال ۔
(اوراس سے کوئی مانع نہیں اس لئے کہ شیطان موجود ہے اور اس کا بیٹھنا ممکن ہے اور حقیقت حال خدا ہی خوب جانتا ہے ۔ت )

 (ف:معروضۃ علی العلامۃ ط۔)

اگر چہ علامہ طحطاوی نے حاشیہ در میں فرمایا : لعل المراد من ذلک انہ ینسیہ استعمالہ اویوسوس لہ اھ ۱؎ شاید اس سے مرادیہ ہے کہ وہ اسے استعمال کرنا بھلادیتا ہے یا اسے وسوسہ میں مبتلا کرتا ہے اھ ۔

 ( ۱؎ حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار         کتاب الطہارۃ مکتبۃ العربیۃ کوئٹہ ۱ /۷۰)

اقول ۴۵ظاھرہ فــــــ انہ فھم رجوع ضمیر علیہ الی المستاک وانما ھو الی السواک کما یفصح عنہ مانقل ھو نفسہ فی حاشیۃ المراقی واللّٰہ تعالٰی اعلم۔

اقول ۔ اس عبارت سے ظاہر یہ ہوتا ہے کہ ''علیہ ''(اس پر ) کی ضمیر کا مرجع انہوں نے مسواک کرنے والے کو سمجھاہے حالانکہ وہ ضمیر مسواک کی طر ف لوٹ رہی ہے جیسا کہ حاشیہ مراقی کی وہ عبارت اسے صاف بتارہی ہے جو انہوں نے خود نقل کی ہے ۔ اور خدائے بر تر ہی کو خوب علم ہے ۔ ت)

فــــ: معروضۃ ۲۷ اخری علیہ

فتاوی رضویہ ،ج۱،ص۵۲،سافٹ ویر 
مفتی :اعلی حضرت امام احمد رضا بریلوی

1 comment:

  1. اگر اردو پڑھنے میں مشکل ہو رہی ہو تو کمنٹ میں بتادیں

    ReplyDelete

Join us on

Must click on Like Button

Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...