Saturday, December 5, 2015

فتوی امام اعظم ابو حنیفہ ہی کے قول پر ہے امام احمد رضا بریلوی کا رسالہ

رسالــــہ
اَجلَی الاِعلام اَنّ الفتوٰی مُطلقاًعلٰی قولِ الاِمام
۳۴ ۱۳ھ
(روشن تر آگاہی کہ فتوٰی قولِ امام پر ہے)

فـــ
بسم اللہ الرحمن الرحیم

فـــ : رسالہ جلیلہ اس امر کی تحقیق عظیم میں کہ فتوٰی ہمیشہ قول امام پر ہے اگر چہ صاحبین خلاف پر ہوں اگرچہ خلاف پرفتوٰی دیا گیا ہو ، اختلاف زمانہ ضرورت وتعامل وغیرہا جن وجوہ سے قول دیگر پر فتوٰی مانا جاتا ہے وہ درحقیقت قول امام ہی ہوتا ہے ۔

الحمد للہ الحفی، علی دینہ الحنفی، الذی ایدنا بائمۃ یقیمون الاود، ویدیمون المدد، باذن الجواد الصمد، وجعل من بینھم امامنا الاعظم کالقلب فی الجسد،والصّلوۃ والسلام علی الامام الاعظم للرسل الکرام الذی جاء نا حقا من قولہ المأمون، استفت عـــہ قلبک وان افتاک المفتون،وعلیہم وعلی اٰلہ واٰلھم وصحبہ وصحبھم وفئا مہ وفئامھم، الی یوم یدعی کل اناس بامامھم، اٰمین

ہر ستا ئش خدا کے لئے جو دین حنفی پر نہایت مہربان ہے ، جس نے ہمیں ایسے ائمہ سے قوت دی جو جو د وسخا والے بے نیاز رب کے اذن سے کجی درست کرنے والے او ر ہمیشہ مدد پہنچا نے والے ہیں ، او ران کے درمیان ہمارے امام اعظم کو یوں رکھاجیسے جسم میں قلب کو رکھا،اور درودو سلام ہو معز ز رسولوں کے امام اعظم پر جن کا یہ ارشاد گرامی بجا طور پر ہمیں ملا،کہ اپنے قلب سے فتوٰی دریافت کر اگر چہ مفتیوں کا فتوٰی تجھے مل چکا ہے ۔ اور (درود و سلام ہو) ان رسولو ں پر یوں ہی سرکارکے آل واصحاب وجماعت پر اورحضرات رسل کے آل واصحاب اور جماعت پر بھی اس روز تک جبکہ ہر گر وہ کو اس کے امام و پیشوا کے ساتھ بلایا جائے گا الہٰی ! قبول فرما ،

عـــہ جعل الامام الاعظم کالقلب ثم ذکر ھذا الحدیث (استفت قلبک وان افتاک المفتون، فاکرم بہ من براعۃ استھلال، والحدیث رواہ الامام ۱؎ احمد والبخاری فی تاریخہ عن وابصۃ بن معبد الجھنی رضی اللہ تعالی عنہ بسند حسن بلفظ استفت نفسک۲؎ وروی احمد بسند صحیح عن ابی ثعلبۃ الخشنی رضی اللہ تعالی عنہ عن النبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم البر ما سکنت الیہ النفس واطمأن الیہ القلب والاثم مالم تسکن الیہ النفس ولم یطمئن الیہ القلب وان افتاک المفتون ۳؎ ا ھ منہ غفرلہ۔  ( پہلے امام اعظم کو قلب کی طرح قرار دیا پھر یہ حدیث ذکر کی '' اپنے قلب سے فتوٰی طلب کر اگر چہ مفتیوں کا فتوٰی تجھے مل چکا ہو'' اس میں کیا ہی عمدہ براعت استہلال ہے( یعنی یہ اشارہ ہوجاتا ہے کہ قلب امام اعظم کا فتوٰی راجح ہوگا اگرچہ دو سرے فتوے اس کے بر خلاف ہوں حدیث مذکور امام احمد نے مسند میں اور امام بخاری نے تا ریخ میں وابصہ بن معبد جہنی رضی اللہ تعالٰی عنہ سے بسند حسن روایت کی ہے اس کے الفا ظ میں '' استفت نفسک''ہے یعنی خود اپنی ذات سے فتوٰی طلب کر اور امام احمدنے بسند صحیح ابو ثعلبہ خشنی رضی اللہ تعالی عنہ کے ذریعہ نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم سے یوں روایت کی ہے نیکی وہ ہے جس میں نفس کو سکون اور قلب کو اطمینا ن ملے اور گناہ وہ ہے جس سے نفس کو سکون او ر قلب کو اطمینان نہ ہو اگر چہ فتوٰی دینے والے(اس کی درستی کا ) فتوٰی  دے دیں ) (ت)

 (۱؎ مسند احمد بن حنبل عن وابصۃ بن معبد رضی اللہ تعالی عنہ المکتب الاسلامی بیروت ۴ / ۲۸۸
(اتحاف السادۃ المتقین الباب الثانی دارالفکر بیروت ا / ۱۶۰ )
(۲؎ التاریخ البخاری ترجمہ ۴۳۲ محمد ابوعبداللہ الاسدی دارالباز مکۃ المکرمۃ ۱ /۱۴۵
الجامع الصغیر حدیث۹۹۱ دارالکتب العلمیہ بیروت ۱ / ۶۶)
(۳؎ مسند احمد بن حنبل حدیث ابی ثعلبۃ الخشنی المکتب الاسلامی بیروت ۴ / ۱۹۴)

اعلم رحمنی اللہ تعالی وایاک، وتولی بفضلہ ھدای وھداک، انہ قال العلامۃ المحقق البحر فی صدر قضاء البحر بعد ما ذکر تصحیح السراجیۃ ان المفتی یفتی بقول ابی حنیفۃ علی الاطلاق ۱؎

آپ کو معلوم ہو ، خدا مجھ پر اور آپ پر رحم فرمائے ، اور اپنے فضل سے مجھے اور آپ کو راہ راست پر چلائے ، کہ علامہ محقق صاحب بحر رائق نے البحر الرائق کتاب القضاء کے شرو ع میںپہلے یہ دو تصحیحین ذکر کیں (۱) تصحیح سراجیہ ،مفتی کو مطلقا قول امام پر فتوی دینا ہے ،

(۱؎ بحر الرائق کتاب القضاء    فصل فی التقلید   ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۶ /۲۶۹)

وتصحیح حاوی القدسی،اذاکان الامام فی جانب وھمافی جانب ان الاعتبار لقوۃ المدرک ۲؎ مانصہ فان قلت کیف جاز للمشائخ الافتاء بغیر قول الامام الاعظم مع انھم مقلدون قلت قد اشکل علی ذلک مدۃ طویلۃ ولم ارفیہ جوابا الاما فھمتہ الاٰن من کلامھم وھو انھم نقلو ا عن اصحابنا عــہ انہ لایحل لاحد ان یفتی بقولنا حتی یعلم من این قلنا حتی نقل فی السراجیۃ ان ھذا سبب مخالفۃ عصام للامام وکان یفتی بخلاف قولہ کثیرا لانہ لم یعلم الدلیل وکان یظھرلہ دلیل غیرہ فیفتی بہ،

(۲)
 تصحیح حاوی قدسی اگر امام اعظم ایک جانب ہوں او رصاحبین دو سری جانب تو

قوت دلیل کا اعتبار ہوگا ، اس کے بعد وہ یوں رقم طراز ہیں : اگر یہ سوال ہو کہ مشائخ کو یہ جواز کیسے ملا کہ وہ امام اعظم کے مقلد ہوتے ہوئے ان کا قول چھوڑ کر دو سرے کے قول پر فتوٰی دیں ؟ تو میں کہوں گا کہ یہ اشکال عرصہ دراز تک مجھے در پیش رہا او راس کا کوئی جواب نظر نہ آیا ، مگر اس وقت
ان حضرات کے کلام سے اس اشکال کا یہ حل سمجھ میں آیا کہ حضرات مشائخ نے ہمارے اصحاب سے یہ ارشاد نقل فرمایا ہے کہ کسی کے لئے ہمارے قول پر فتوی دینا روا نہیں جب تک اسے یہ علم نہ ہو جائے کہ ہمارا ماخذا ور ہمارے قول کی دلیل کیا ہے ، یہاں تک کہ سراجیہ میں منقول ہے کہ اسی وجہ سے شیخ عصام سے امام اعظم کی مخالفت عمل میں آئی ، ایسا بہت ہو تا کہ وہ قول امام کے بر خلاف فتوٰی دیتے کیونکہ انہیں دلیل امام معلوم نہ ہوتی اور دو سرے کی دلیل ان کے سامنے ظاہر ہوتی تو اسی پر فتوٰی دیتے،

 (۲؎ بحر الرائق کتاب القضاء    فصل فی التقلید   ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۶ /۲۶۹)

عــہ قال الرملی ھذا مروی عن ابی حنیفۃ رضی اللہ تعالٰی عنہ وکلامہ ھنا موھم ان ذلک مروی عن المشائخ کما ھو ظاھر من سیاقہ ۱؎ اھ اقول:  ای فـــ۱ حرف فی کلامہ یوھم روایتہ عن المشائخ وای سیاق یظھرہ انما جعل خلاف المشائخ لانھم منھیون عن الافتاء بقول الاصحاب مالم یعرفوا دلیلہ فھم منھیون لانا ھون اما الاصحاب فــــ۲ فنعم روی عنھم کما روی عن الامام رضی اللہ تعالی عنھم فی مناقب الامام للامام الکردری عن عاصم بن یوسف لم یرمجلس انبل من مجلس الامام وکان انبل اصحابہ اربعۃ زفرو ابو یوسف وعافیۃ واسد بن عمرو وقالوا لا یحل لاحد ان یفتی بقولنا حتی یعلم من این قلنا ولا ان یروی عنا شیئا لم یسمعہ منا وفیھا عن ابن جبلۃ سمعت محمدا یقول لایحل لاحد ان یروی عن کتبنا الا ما سمع اویعلم مثل علمنا۲؂ ۱۲ منہ غفرلہ۔ (م) یہا ں خیر الدین رملی اعتراض فرماتے ہیں کہ یہ با ت اما م ابو حنیفہ رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے ، اور کلام بحر سے یہ وہم پیداہوتا ہے کہ یہ بات حضرات مشائخ سے مروی ہے جیسا کہ اس کے سیاق سے ظاہر ہےاقول:  میں کہتا ہوں  کلام بحر کے کس حرف سے یہ وہم پیدا ہوتا ہے او رکس سیاق سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ قول حضرات مشائخ سے مروی ہے ؟ بحرنے تو بس یہ بتا یا ہے کہ مخالفت مشائخ کی وجہ یہ ہے کہ انہیں معرفت دلیل کے بغیر قول اصحاب پر فتو ی دینے سے ممانعت تھی جس سے معلوم ہوا کہ مشائخ اس کا م سے ممنوع تھے نہ یہ کہ وہ خود مانع تھے اب رہی یہ بات کہ قول مذکور نہ صرف  امام اعظم بلکہ ان کے اصحاب سے بھی منقول ہے تو ہاں واقعہ یہی ہے حضرات اصحاب سے بھی اسی طر ح منقول ہے جیسے حضرت امام سے منقول ہے رضی اللہ تعالی عنہم ، امام کردری کی تصنیف مناقب امام اعظم میں عاصم بن یوسف سے یہ روایت ہے کہ  امام اعظم کی مجلس سے زیادہ معزز کوئی مجلس دیکھنے میں نہ آئی ، اور ان کے اصحاب میں زیادہ معزز و بزرگ چار حضرات تھے (۱) زفر (۲) ابو یوسف(۳) عافیہ(۴) اسد بن عمرو ان حضرات نے فرمایا : کسی کے لئے ہمارے قول پر فتوی دینا اس وقت تک روا نہیں جب تک اسے یہ نہ معلوم ہوجائے کہ ہم نے کہا ں سے کہا ہے ، نہ ہی اس کے لئے یہ روا ہے کہ ہم سے کوئی ایسی بات روایت کرے جو ہم سے سنی نہ ہو اسی کتاب میں ابن جبلہ کا یہ بیان مروی ہے کہ میں نے امام محمد کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ کسی کے لئے ہماری کتابوں سے روایت کرنا روا نہیں مگر وہ جو خود اس نے سنا ہو یا وہ جو ہماری طرح علم رکھتا ہو ۱۲منہ (ت)

فــ۱تطفل علی العلامہ الرملی والشامی
فــ ۲تطفل علیہما

(۱؎ منحۃ الخالق علی بحرا لرائق     فصل یجوز تقلید من شاء    ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۶ /۲۶۹)

 (۱؎ المناقب الکردری ذکر عافیتہ بن یزید الاودی الکوفی مکتبہ اسلامیہ کوئٹہ ۲ / ۲۱۴)
(۲؎ المناقب الکردری اقوال الامام الشافعی فی تعظیم الامام محمد بن الحسن مکتبہ اسلامیہ کوئٹہ ۲ / ۱۵۲)

 فاقول ان ھذا الشرط کان فی زمانھم اما فی زماننا فیکتفی بالحفظ کمافی القنیہ وغیرھا فیحل الافتاء بقول الامام بل یجب وان لم نعلم من این قال وعلی ھذا فما صححہ فی الحاوی مبنی علی ذلک الشرط وقد صححوا ان الافتاء بقول الامام فینتج من ھذا انہ یجب علینا الافتاء بقول الامام وان افتی المشائخ بخلافہ لانھم انما افتوا بخلافہ لفقد شرطہ فی حقھم وھوالوقوف علی دلیلہ واما نحن قلنا الافتاء وان لم نقف علی دلیلہ،

(صاحب بحر فرماتے ہیں ) میں کہتا ہوں یہ شرط حضرات مشائخ کے زمانے میں تھی لیکن ہمارے زمانے میں بس یہی کافی ہے کہ ہمیں امام کے اقوال حفظ ہوں جیسا کہ قنیہ وغیرہ میں ہے تو اب اگر چہ ہمیں قول امام کی دلیل معلوم نہ ہو ، قول امام پر فتوی دینا جائز بلکہ واجب ہے اس تفصیل کے پیش نظر تصیح حاوی کی بنیا د وہی شرط ہے جو حضرات مشائخ کے لئے اس زمانے میں تھی اور اب علماء نے اسی کو صحیح قرار دیا کہ قول امام پر ہی فتوٰی ہوگا جس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ ہم پر یہی لازم ہے کہ قول امام پر فتوٰی دیں اگر چہ مشائخ اس کے پر خلاف فتوی دے چکے ہوں اس لئے کہ اس کے خلاف افتا ئے مشائخ کی وجہ یہ ہے کہ خود قول اما م پر فتوٰی دینے کے لئے اس کی دلیل سے باخبر ہونے کی جو شرط ان کے حق میں تھی وہ مفقود تھی ( وہ اس کی دلیل سے با خبر نہ ہوسکے اس لئے اس پر فتوٰی نہ دے سکے ) اور ہمارے لئے یہ شرط نہیں ، ہمیں قول امام پر ہی فتوی دینا ہے اگرچہ ا سکی دلیل سے آگاہی نہ ہو،

وقد وقع للمحقق ابن الھمام فی مواضع الرد علی المشائخ فی الافتاء بقولھما بانہ لا یعدل عن قولہ الا لضعف دلیلہ وھو قوی فی وقت العشاء لکونہ الاحوط وفی تکبیر التشریق فی اٰخر وقتہ الی اٰخرھا ذکرہ فے فتح القدیر ولکن ھو اھل للنظر فی الدلیل ومن لیس باھل للنظر فیہ فعلیہ الافتاء بقول الامام والمراد بالاھلیۃ ھنا ان یکون عارفا ممیزا بین الاقاویل لہ قدرۃ علی ترجیح بعضھا علی بعض ۱؎ ا ھ

 او رمحقق ابن ہمام نے تو متعد د جگہ قول صاحبین پر فتوٰی دینے سے متعلق مشائخ پر رد کیا ہے اور فرمایا ہے کہ قول امام سے بجز اس کے اس کی دلیل ضعیف ہو انحراف نہ ہوگا اور وقت عشا سے متعلق قول امام کی دلیل قوی ہے اس لئے کہ اسی میں زیادہ احتیاط ہے ۔ اسی طر ح تکبیر تشریق کے آخری وقت کی تعیین میں بھی قوت دلیل اس طر ف ہے اس کے آگے فتح القدیر میں مزید بھی ہے لیکن امام ابن الہام کو دلیل میں نظر وفکر کی اہلیت حاصل تھی ، جو دلیل میں نظر کی اہلیت نہیں رکھتا اس پر تو یہی لازم ہے کہ قول امام پر فتوی دے ۔ یہاں اہلیت کا مطلب یہ ہے کہ اقوال کی معرفت اور ان کے مراتب میں امتیاز کی لیاقت کے ساتھ ایک کو دوسرے پر ترجیح دینے کی قدرت حاصل ہو۔

(۱؎ بحرالرائق   کتاب القضاء  فصل فی  التقلید   ۶ /۲۶۹، ۲۷۵)

وتعقبہ العلامۃ ش فی شرح عقودہ بقولہ لایخفی علیک مافی ھذا الکلام من عدم الانتظام ولھذا اعترضہ محشیہ الخیر الرملی بان قولہ یجب علینا الافتاء بقول الامام وان لم نعلم من این قال مضاد لقول الامام لا یحل لاحد ان یفتی بقولنا حتی یعلم من این قلنا اذھو صریح فی عدم جواز الافتاء بغیر اھل الاجتھاد فکیف یستدل بہ علی وجوبہ فنقول مایصدر من غیر الاھل لیس بافتاء حقیقۃ وانما ھو حکایۃ عن المجتھد انہ قائل بکذا واعتبار ھذا الملحظ تجوز حکایۃ قول غیرالامام فکیف یجب علینا الافتاء بقول الامام وان افتی المشاْئخ بخلافہ ونحن انما نحکی فتوٰیھم لاغیر فلیتأمل انتھی ،

اس کلام بحر پر علامہ شامی نے شرح عقود میں یوں تنقید کی ہے اس کلام کی بے نظمی ناظرین پر مخفی نہیں ۔ اسی لئے اس کے محشی خیر الدین رملی نے اس پر اعتراض کیاہے کہ ایک طر ف ان کا کہنایہ ہے کہ ''ہمیں قول امام پرفتوٰی دینا واجب ہے اگرچہ اس قول کی دلیل او رماخذہمارے علم میں نہ ہو ''دوسری طر ف امام کا ارشاد یہ ہے کہ '' کسی کے لئے ہمارے قول پر فتوی دینا حلا ل نہیں جب تک اسے یہ علم نہ ہوجائے کہ ہم نے کہا ں سے کہا ۔'' یہ دونوں میں تضاد ہے اس لئے کہ قول امام سے صراحۃ واضح ہے کہ اہلیت اجتہاد کے بغیر فتوٰی دینا جائز نہیں ۔ پھر اس سے اس شرط کے بغیر وجوب افتا ء پر استدلال کیسے ہوسکتا ہے؟تو ہم یہ کہتے ہیں کہ غیر اہل اجتہاد سے جو حکم صادر ہوتا ہے وہ حقیقۃ افتا ء نہیں ، وہ تو امام مجتہد سے صرف اس بات کی نقل وحکایت ہے کہ وہ اس حکم کے قائل ہیں جب حقیقت یہ ہے تو غیر امام کے قول کی نقل وحکایت بھی جائز ہے پھر ہم پر یہ واجب کیسے رہا کہ قول اما م ہی پرفتوٰی دیں اگر چہ مشائخ نے اس کے بر خلاف فتوٰی دیا ہو ، حالانکہ کہ ہم تو صرف فتوائے مشائخ کے ناقل ہیں او رکچھ نہیں یہاں تامل کی ضرورت ہے ، انتہی ،(کلام  رملی ختم ہوا )

 (وتوضیحہ) ان المشائخ اطلعوا علی دلیل الامام وعرفوا من این قال واطلعو اعلی دلیل اصحابہ فیرجحون دلیل اصحابہ علی دلیلہ فیفتون بہ ولا یطّن بھم انھم عدلوا عن قولہ لجہلھم بدلیلہ فانا نرٰہم قدشحنو اکتبھم بنصب الادلۃ ثم یقولون الفتوی علی قول ابی یوسف مثلا وحیث لم نکن اھلا للنظر فی الدلیل ولم نصل الی رتبتھم فی حصول شرائط التفریح والتاصیل فعلینا حکایۃ ما یقولونہ لانھم ھم اتباع المذھب الذین نصبوا انفسھم لتقریرہ وتحریرہ باجتھادھم (وانظر) الی ما قدمناہ من قول العلامۃ قاسم ان المجتھدین لم یفقدوا حتی نظروا فی المختلف ورجعوا وصححوا الی ان قال فعلینا اتباع الراجع والعمل بہ کمالو افتوا فی حیاتھم (وفی) فتاوی العلامۃ ابن الشلبی لیس للقاضی ولا للمفتی العدول عن قول الامام الا الا اذا صرح احد من المشائخ بان الفتوی علی قول غیرہ فلیس للقاضی ان یحکم بقول غیرا بی حنیفۃ فی مسئلۃ لم یرجح فیھا قول غیرہ ورجحوا فیھا دلیل ابی حنیفۃ علی دلیلہ فان حکم فیھا فحکمہ غیر ماض لیس لہ غیرالا نتقاض انتھٰی ۱؎ اھ کلامہ فی الرسالۃ ۔

علامہ شامی فرماتے ہیں : اس کی توضیح یہ ہے کہ مشائخ کو دلیل امام سے آگاہی حاصل ہوئی ،انھیں علم ہواکہ امام نے کہاں سے فرمایا ،ساتھ ہی اصحاب امام کی دلیل سے بھی وہ آگاہ ہوئے ،اس لیے وہ دلیل اصحاب کو دلیل امام پر ترجیح دیتے ہوئے فتوی دیتے ہیں ۔اور ان کے بارے میں یہ گمان نہیں کیا جاسکتا کہ انھوں نے قول امام سے انحراف اس لیے اختیار فرمایا کہ انھیں ان کی دلیل کا علم نہ تھا ۔اس لیے کہ ہم دیکھ رہے ہیں کہ حضرات مشائخ نے دلائل قائم کرکے اپنی کتابیں بھر دی ہیں اس کے بعد بھی یہ لکھتے ہیں کہ فتوی مثلا امام ابویوسف کے قول پر ہے ۔اور ہمارا حال یہ ہے کہ نہ دلیل میں نظر کی اہلیت ،نہ تاسیس اصول وتخریج فروع کی شرائط کے حصول میں رتبہ مشائخ تک رسائی ،تو ہمارے ذمہ یہی ہے کہ حضرات مشائخ کے اقوال نقل کر دیں اس لیے کہ یہی حضرات مذہب کے ایسے متبع ہیں جنھوں نے اپنے اجتہاد کی قوت سے مذہب کی تقریر وتحریر (اثبات وتوضیح ) کی ذمہ داری اٹھا رکھی ہے ۔ملاحظہ ہو علامہ قاسم کی عبارت جو ہم پہلے پیش کر آئے ،وہ فرماتے ہیں :مجتہدین پیداہوتے رہے یہاں تک کہ انھوں نے مقام اختلاف میں نظر فرما کر ترجیح وتصحیح کا کام سر انجام دیا تو ہمارے اوپر اسی کی پیروی اور اسی پر عمل لا زم ہے جو راجح قرار پایا جیسے ان حضرات کے اپنی حیات میں فتوی دینے کی صورت میں ہوتا علامہ ابن شلبی کے فتاوی میں مرقوم ہے کہ :قاضی یا مفتی کو قول امام سےانحراف کی گنجائش نہیں مگر اس صورت میں جب کہ مشائخ میں سے کسی نے یہ صراحت فرمائی ہو کہ فتوی امام کے  سواکسی اور کے قول پر ہے ۔تو قاضی کو امام کے سوا دوسرے کے قول پر کسی ایسے مسئلہ میں فیصلہ کرنے کا حق نہیں جس میں دوسرے کے قول کو ترجیح نہ دی گئی ہو اور خود امام ابوحنیفہ کی دلیل کو دوسرے کی دلیل پر ترجیح ہو،اگر ایسے مسئلہ میں قاضی نے خلاف امام فیصلہ کر دیا تو اس کا فیصلہ نافذ نہ ہو گا بے ثباتی کی وجہ سے آپ ہی ختم ہو جائے گا ۔انتہی کلام ابن الشلبی اھ رسالہ شامی کی عبارت ختم ہوئی

 (۱؎ شرح عقود رسم المفتی رسالہ من رسائل ابن عابدین سہیل اکیڈمی لاہور ۱ / ۲۹)

وذکر نحوہ فی ردالمحتار من القضاء وزاد فی منحۃ الخالق انت تری اصحاب المتون المعتمدۃ قد یمشون علی غیر مذھب الامام و اذا افتی المشائخ بخلاف قولہ لفقد الدلیل فی حقہم فنحن نتبعھم اذ ھم اعلم وکیف یقال یجب علینا الافتاء بقول الامام لفقد الشرط وقد اقر انہ قد فقد الشرط ایضا فی حق المشائخ فھل تراھم ارتکبوا منکرا والحاصل ان الانصاف الذی یقبلہ الطبع السلیم ان المفتی فی زماننا ینقل ما اختارہ المشائخ وھو الذی مشی علیہ العلامۃ ابن الشلبی فی فتاواہ حیث قال الاصل ان العمل علی قول ابی حنیفۃ رضی اللہ تعالی عنہ ولذا ترجع المشائخ دلیلہ فی الاغلب علی دلیل من خالفہ من اصحابہ ویجیبون عما استدل بہ مخالفہ وھذا امارۃ العمل بقولہ وان لم یصرحوا بالفتوی علیہ اذا الترجیع کصریح التصحیح لان المرجوع طائح بمقابلتہ بالراجح وحینئذ فلا یعدل المفتی ولا القاضی عن قولہ الا اذا صرح ۱؎ الی اٰخر ما مر،

اسی طر ح کی بات علامہ شامی نے رد المحتار کتا ب القضاء میں ذکر کی ہے او رمنحۃ الخالق حاشیۃ البحر الرائق میں مزید بر آں یہ بھی لکھا ہے کہ : آپ دیکھتے ہیں کہ متونِ مذہب کے مصنفین بعض اوقات مذہب امام کے سوا کوئی اور اختیار کرتے  ہیں اور جب مشائخ مذہب نے اس دلیل کے فقدان کی وجہ سے جو ان کے حق میں شرط ہے ، قول امام کے خلاف فتوی دے دیا تو ہم ان ہی کا اتباع کریں گے اس لئے کہ انہیں زیادہ علم ہے یہ بات کیسے کہی جاتی ہے کہ ہمارے اوپر قول امام پر ہی فتوی دینا واجب ہے ا س لئے کہ ہمارے حق میں(قول امام پر افتاکی) شرط مفقود ہے ، حالاں کہ یہ بھی اقرار ہے کہ وہ شرط مشائخ کے حق میں بھی مفقود ہے توکیا یہ خیال ہے کہ ان حضرات نے کسی ناروا امر کا ارتکاب کیا ؟ حاصل یہ کہ طبع سلیم کے لئے انصاف کی قابل قبول بات یہ ہے کہ ہمارے زمانے کے مفتی کا کام یہی ہے کہ مشائخ نے جو فتوی دیا ہے اسے نقل کردے ۔اسی بات پر علامہ ابن شلبی اپنے فتا وی میں گام زن ہیں ، وہ فرماتے ہیں ، اصل یہ ہے کہ امام ابو حنیفہ رضی اللہ تعالی عنہ کے قول پر عمل کیا جائے اسی لئے مشائخ اکثر ان ہی کی دلیل کو ان کے مخالف کی دلیل پر ترجیح دیتے ہیں اور مخالف کے استدلال کا جواب بھی پیش کرتے ، یہ اس بات کی علامت ہے کہ عمل قول امام پر ہوگا اگرچہ ایسی جگہ حضرات مشائخ نے یہ صراحت نہ فرمائی ہو کہ فتوی قول امام پرہے ، اس لئے کہ ترجیح خود صراحۃ تصحیح کا حکم رکھتی ہے ،کیونکہ مرجوع راجح کے مقابلے میں بے ثبات ہوتا ہے ۔ جب معاملہ یہ ہے تو قاضی یا مفتی کو قول امام سے انحراف کی گنجائش نہیں مگر اس صورت میں جب کہ مشائخ میں سے کسی نے یہ صراحت فرمائی ہو (آخر عبارت تک جو فتاوی ابن شلبی کے حوالے سے پہلے گزری )

 (۱؎ منحۃ الخالق علی بحرا لرائق    کتاب القضاء  فصل یجوز تقلید من شاء     ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۶ /۲۶۹)

قال وھو الذی مشی علیہ الشیخ علاء الدین الحصکفی ایضا فی صدر شرحہ علی التنویر حیث قال واما نحن فعلینا اتباع ما رجحوہ وصححوہ کما افتوا فی حیاتھم فان قلت قد یحکون اقوالا بلا ترجیح وقد یختلفون فی التصحیح قلت یعمل بمثل ما عملوا من اعتبار تغیرالعرف واحوال الناس وما ھوا لارفق وما ظہر علیہ التعامل وما قوی وجہہ ولا یخلو الوجد ممن یمیز ھذا حقیقۃ لا ظنا وعلی من لم یمیز ان یرجع لمن یمیز لبراء ۃ ذمتہ اھ واللہ تعالی اعلم اھ ۲؎ ۔

آگے علامہ شامی لکھتے ہیں ، یہ ہی وہ ہے جس پر شرح تنویر کے شرو ع میں شیخ علاء الدین حصکفی بھی گام زن ہیں ، وہ رقم طراز ہیں ، لیکن ہم پر تو اسی کی پیروی لازم ہے جسے حضرات مشائخ نے راجح وصحیح قرار دیا جیسے وہ اپنی حیات میں اگر فتوی دیتے تو ہم اسی کی پیروی کرتے ۔ اگریہ سوال ہو کہ حضرات مشائخ کہیں متعدد اقوال بلا ترجیح نقل کردیتے ہیں اور کبھی تصحیح کے معاملے میں ایک دوسرے سے اختلاف رکھتے ہیں ، ان مسائل میں ہم کیا کریں ؟ تو ہمارا جواب یہ ہوگا کہ جیسے ان حضرات نے عمل کیا ویسے ہی ہمارا عمل ہوگا یعنی لوگو ں کے حالات اور عرف کی تبدیلی کا اعتبار ہوگا ، یوں ہی اس کا اعتبار ہوگا جس میں زیادہ آسانی اور فائدہ ہو یا جس پر لوگو ں کا عمل در آمد نمایاں ہو یا جس کی دلیل قوی ہو ، اور بزم وجود کبھی ایسے افراد سے خالی نہ ہوگی جو محض گمان سے نہیں بلکہ واقعی طو ر پر اقوال کے درمیان اتنی تمیز رکھنے والے ہوں گے اور جس میں تمیز کی لیاقت نہ ہو اس پر عہد ہ بر آہونے کے لئے یہ لازم ہے کہ صاحب تمیز کی جانب رجوع کر ے، واللہ تعالی اعلم

 (۲؎ منحۃ الخالق علی بحرا لرائق    کتاب القضاء  فصل یجوز تقلید من شاء     ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۶ /۲۶۹)

اقول وتلک شکاۃ طاھر عنک عارھا، ولنقدم لبیان الصواب مقدمات تکشف الحجاب یہ ایسی شکایت ہے جس کاعا ر آپ سے دور ہے بیان حق کے لئے ہم پہلے چند مقامات پیش کرتے ہیں جن کے باعث حقیقت کے رخ سے پردہ اٹھ جائے گا ۔

الاولی فـــ۱ لیس حکایۃ قول افتاء بہ فانا نحکی اقوالا خارجۃ عن المذھب ولا یتوھم احد انا نفتی بھا، انما الافتاء ان تعتمد علی شیئ وتبین لسائلک ان ھذا حکم الشرع فی ما سألت وھذا لا یحل لاحد من دون ان یعرفہ عن دلیل شرعی و الاکان جزافا وافتراء علی الشرع ودخولا تحت قولہ عزوجل ام تقولون علی اللہ مالا تعلمون ۱؎ وقولہ تعالی قل اٰللہ اذن لکم ام علی اللہ تفترون ۲؎

مقدمہ اول : کسی قول کی نقل وحکایت اور کسی قول پر افتا دو نوں ایک نہیں ، ہم ایسے بہت سے اقوال بیان کرتے ہیں جو ہمارے مذہب سے باہر کے ہیں اور کسی کو یہ وہم نہیں ہوتا کہ ہم ان اقوال پر فتوی دے رہے ہیں افتا یہ ہے کہ کسی بات پر اعتماد کر کے سائل کو بتا یا جائے کہ تمہاری مسئولہ صورت میں حکم شریعت یہ ہے ۔ یہ کام کسی کے لئے بھی اس وقت تک حلال نہیں جب تک اسے کسی دلیل شرعی سے اس حکم کا علم نہ ہوجائے ، ورنہ جزاف (اٹکل سے بتانا ) اور شریعت پر افترا ہوگا اور ان ارشاد ات کا مصداق بھی بننا ہوگا (۱) کیا تم خدا پر وہ بولتے ہو جس کا تمہیں علم نہیں (۲) فرماؤ کیا اللہ نے تمہیں اذن دیا یا تم خدا پر افتر ا کرتے ہو ۔

فـــ۱ : معنی الافتا وانہ لیس حکایۃ محضۃ وانہ لایجوز الا عن دلیل

 (۱؎ القرآن     ۲ /۸۰ ) ( ۲؎ القرآن ۱۰ /۵۹)

الــثـانـیۃ فـــــ۲ الدلیل علی وجھین اما تفصیلی ومعرفتہ خاصۃ باھل النظر والاجتھاد فان غیرہ وان علم دلیل المجتھد فی مسألۃ لا یعلمہ الا تقلیدا کما یظہر مما بیناہ فی رسالتنا المبارکۃ ان شاء اللہ تعالی "الفضل الموھبی فــ۱ فی معنی اذا صح الحدیث فھو مذھبی" فان قطع تلک المنازل التی بینا فیھا لا یمکن الا لمجتھدو اشارالی بعض قلیل منہ فی عقود رسم المفتی اذنقل فیھا ان معرفۃ الدلیل انما تکون للمجتہد لتوقفھا علی معرفۃ سلامتہ من المعارض وھی متوقفۃ علی استقراء الادلۃ کلہا ولا یقدر علی ذلک الاالمجتہد اما مجرد معرفۃ ان المجتھد الفلانی اخذ الحکم الفلانی من الدلیل الفلانی فلا فائدۃ فیھا ۱؎ اھ

مقدمہ دو م : دلیل دو طر ح کی ہوتی ہے (۱) تفصیلی اس سے آگا ہی اہل نظر و اجتہاد کا خاص حصہ ہے دو سرے کو اگر کسی مسئلے میں دلیل مجتہد کا علم ہوتا بھی ہے تو تقلیدا ہوتا ہے، جیسا کہ یہ اس سے ظاہر ہے جو ہم نے اپنے رسالہ ''الفضل الموھبی فی معنی اذا صح الحدیث فہو مذھبی'' میں بیان کیا (خدا نے چاہا تو یہ رسالہ بابر کت ثابت ہوگا ) اس لئے کہ اس رسالہ میں جو منزلیں ہم نے بتائی ہیں انہیں طے کرنا سوائے مجتہد کے اور کسی کے بس کی بات نہیں، اس میں سے کچھ تھوڑی سی مقدار کی جانب'' عقود رسم المفتی'' میں بھی اشارہ ہے اس میں یہ نقل کیا ہے کہ دلیل کی معرفت مجتہد ہی کو ہوتی ہے اس لئے کہ یہ اس امر کی معرفت پر موقوف ہے کہ دلیل ہر معارض سے محفو ظ ہے اور یہ معرفت تمام دلائل کے استقراء اور چھان بین پر موقوف ہے جس پر بجز مجتہد کسی کو قدرت نہیں ہوتی ، اور صرف اتنی واقفیت کہ فلاں مجتہد نے فلاں حکم فلاں دلیل سے اخذ کیا ہے تو اتنے سے کوئی فائدہ نہیں ۔ ا ھ

فــ۲ :الدلیل دلیلان تفصیلی خاص معرفتہ بالمجتہد واجمالی الابد منہ حتی للمقلد
فــــ : رسالــــہ الفضل الموھبی فتاوی رضویہ مطبوعہ رضا فاونڈیشن جلد ۲۷ ص ۶۱ پر ملاحظہ ہو ۔

 (۱؎ شرح عقود رسم المفتی رسالہ من رسائل ابن عابدین سہیل اکیڈمی لاہور۱ /۳۰)

اواجمالی کقولہ سجنہ فاسئلوا اھل الذکر ان کنتم لا تعلمون ۲؎ وقولہ تعالی اطیعو اللہ واطیعوا الرسول و اولی الامرمنکم ۳؎ فانھم العلماء علی الاصح وقولہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم الا سألوا اذلم یعلموا فانما شفاء العی السؤال۴؎

 (۲) اجمالی ، جیسے باری تعالی کا ارشاد ہے ذکر والوں سے پو چھو اگر تمہیں علم نہیں اور ارشاد ہے ، اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کی اطاعت کر و اور ان کی جو تم میں صاحب امر ہیں ، یہ اصحاب امر بر قول اصح حضرات علماء کرام ہیں ، اور سرکار اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد ہے '' جب انہیں معلوم نہ تھا تو پوچھا کیوں نہیں ، عاجز کا علاج یہی ہے کہ سوال کرے ۔''

 (۲؎ القرآن    ۱۶ /۴۳ )،(   ۳؎ القرآن ۴ /۵۹)(۴؎ سنن ابی داؤد،باب المجذور یتیم،مجتبائی دہلی ،۱ /۴۹)

وعن ھذا فـــ نقول ان اخذنا با قوال امامنا لیس تقلیدا شرعیا لکونہ عن دلیل شرعی انما ھو تقلید عرفی لعدم معرفتنا بالدلیل التفصیلی اما التقلید الحقیقی فلا مساغ لہ فی الشرع وھو المراد فی کل ماورد فی ذم التقلید والجھال الضلّال یلبسّون علی العوام فیحملونہ علی التقلید العرفی الذی ھو فرض شرعی علی کل من لم یبلغ رتبۃ الاجتھاد۔

اسی لئے ہم کہتے ہیں کہ اپنے امام کے اقوال کو تسلیم وقبول کر نا تقلید شرعی نہیں ، بس تقلید عرفی ہے اس لئے کہ دلیل تفصیلی کی ہمیں معرفت نہیں، اور تقلید حقیقی کی تو شریعت میں کوئی گنجائش ہی نہیں اور مذمت تقلید میں جو کچھ وارد ہے اس میں تقلید حقیقی ہی مراد ہے اہل جہالت وضلالت عوام پر تلبیس کر کے اسے تقلید عرفی پر محمول کر تے ہیں جب کہ یہ ہر اس شخص پر فر ض شرعی ہے جو رتبہ اجتہاد تک نہ پہنچا ہو ۔

فـــــ : الفرق بین التقلید الشرعی المذموم والعرفی الواجب وبیان ان اخذنا باقوال امامنالیس تقلید فی الشرع بل بحسب العرف وھو عمل بالدلیل حقیقۃ وبیان تلبیس الوھابیہ فی ذالک۔

قال المدقق البھاری فی مسلم الثبوت التقلید العمل بقول الغیر من غیر حجۃ کا خذ العامی والمجتہد من مثلہ فالرجوع الی النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم او الی الاجماع لیس منہ و کذا العامی الی المفتی والقاضی الی العدول لا یجاب النص ذلک علیھما لکن العرف علی ان العامی مقلد للمجتھد قال الامام وعلیہ معظم الاصولیین ۱؎ اھ

مدقق بہاری مسلم الثبوت میں فرماتے ہیں تقلید یہ ہے کہ دوسرے کے قول پر بغیر کسی دلیل کے عمل ہو ، جیسے عامی اور مجتہد کا اپنے جیسے سے اخذ کرنا تو نبی صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کی جانب
یا اجماع کی جانب رجوع لانا تقلید نہیں اسی طر ح عامی کا مفتی کی جانب اور قاضی کا گو اہان عادل کی جانب رجوع ، اس لئے کہ یہ ان دونوں پرنص نے واجب کیا ہے ، لیکن عرف یہ ہے کہ عامی مجتہد کا مقلد ہے ، امام نے فرمایا اسی پر بیش تر اہل اصول ہیں۔

 (۱؎ مسلم الثبوت الاصل الرابع القیاس فصل فی التعریف التقلید الخ مطبع انصاری دہلی ۲۸۹)

وشرحہ المولی بحر العلوم فی فواتح الرحموت ھکذا ( التقلید العمل بقول الغیر من غیر حجۃ ) متعلق بالعمل والمراد بالحجۃ حجۃ من الحجج الاربع والا فقول المجتھد دلیلہ وحجۃ (کاخذ العامی) من المجتہد (و) اخذ (المجتھد من مثلہ فالرجوع الی النبی علیہ) واٰلہ واصحابہ (الصّلٰوۃ والسّلام والی الاجماع لیس منہ) فانہ رجوع الی الدلیل (وکذا) رجوع (العامی الی المفتی والقاضی الی العدول ) لیس ھذا الرجوع نفسہ تقلید وان کان العمل بما اخذ وابعدہ تقلیدا ( لا یجاب النص ذالک علیھما ) فھو عمل بحجۃ لا بقول الغیر فقط (لکن العرف) دل (علی ان العامی مقلد للمجتہد ) بالرجوع الیہ ( قال الامام ) امام الحرمین ( وعلیہ معظم الاصولیین ) وھوالمشتھر المعتمد علیہ ۱؎ اھ

مولانا بحر العلوم نے فواتح الرحموت میں اس کی شرح یوں کی ہے ، (قوسین کے درمیان متن کے الفا ظ ہیں )تقلید ، دو سرے کے قول پر عمل ، بغیر کسی دلیل کے یہ عمل سے متعلق ہے اور دلیل سے مراد ادلہ اربعہ (کتاب سنت ، اجماع ، قیاس) میں سے کوئی دلیل ہے ، ورنہ مجتہد کا قول ہی اس کی دلیل اور حجت ہے (جیسے عامی کا اخذ کرنا )مجتہد سے (اور مجتہد کا اپنے مثل سے) اخذ کرنا (تو نبی علیہ ) وآلہ واصحابہ (الصلوۃ والسلام یا اجماع کی جانب رجوع تقلید نہیں) اس لئے کہ یہ تو دلیل کی جانب رجوع ہے ، (اور اسی طر ح عامی کا مفتی ، او رقاضی کا گواہان عادل کی جانب ) رجوع کرنا ،کہ خو د یہ رجوع تقلید نہیں اگر چہ بعد رجوع جو اخذ کیا اس پر عمل ، تقلید ہے (کیونکہ یہ دونوں پر خود نص نے واجب کیا ہے) تو یہ ایک دلیل پر عمل ہے (لیکن عرف اس پر دلالت کرتی ہے) کہ عامی مجتہد کا مقلد ہے کیونکہ وہ اس کی طرف رجوع کرتا ہے (امام نے فرمایا) امام الحرمین نے (اوراسی پر اکثر اہل اصول ہیں) اور یہی مشہور ہے جس پر ا عتماد ہے۔

 (۲؎ فواتح الرحموت بذیل المستصفی الاصل الرابع فصل فی تعریف التقلید الخ مطبعۃ منشورات الرضی قم ایران     )

اقول :  فیہ نظر من وجوہ
فاولا فـــ۱ : لافرق فی الحکم بین الاخذ والرجوع حیث لا رجوع الا للاخذ اذلم یوجبہ الشرع الا لہ ولو سأل العامی امامہ ولم یعمل بہ کان عابثا متلا عباوالشرع متعال عن الامر بالعبث فان لم یکن الرجوع تقلید الوجوبہ بالنص لم یکن الاخذ ایضا من التقلید قطعا لوجوبہ بعین النص،

اقول :  یہ شرح چند و جہوں سے محل نظرہے :
اولا : اخذ اور رجوع کے حکم میں کوئی فر ق نہیں۔ اس لئے کہ رجوع اخذہی کے لئے ہوتا ہے کیونکہ شریعت نے اخذ ہی کے لئے رجوع واجب کیا ہے اگر عامی اپنے امام سے پوچھے اور اس پر عمل نہ کرے تو عبث اورکھیل کرنے والا قرار پائے گا اور شریعت اس سے بر تر ہے کہ عبث کا حکم فرمائے ۔ تو رجوع اگر اس وجہ سے تقلید نہیں کہ وہ نص سے واجب ہے تو اخذ بھی ہر گز تقلید نہیں کیونکہ یہ بھی بعینہ اسی نص سے واجب ہے ،

فــــ۱ :معروضۃ علی العلامۃ بحرا لعلوم

وثانیا فــــ۲ـ : الاٰیۃ الاولی (۲) اوجبت الرجوع والثانیۃ الاخذ فطاح الفرق

ثانیا: پہلی آیت ''فاسئلوا '' نے رجوع وجواب کیا ، اور دوسری '' اطیعوا'' نے اخذ و اجب کیا ، تواخذ ورجوع کے حکم میں فر ق بیکار ہوا ،

فــــ۲ـــــــ :معروضۃ علیہ

وثالثا: فــــ۳ـــ : حیث اتحد ماٰل الرجوع والاخذ فعلی تقریر الشارح یتناقض قولہ التقلید اخذ العامی من المجتہد وقولہ لیس منہ رجوع العامی الی المفتی فان المفتی ھو المجتہد کمافی المتن متصلا بما مر۔

ثالثا: جب رجوع اور اخذ دونوں کا ماٰل ایک ہے تو بر تقر یر شا رح متن کی ان دو نوں عبارتو ں میں تنا قض لازم آئے گا (۱) عامی کا مجتہد سے اخذ کر نا تقلید ہے (۲)عامی کا مفتی کی جانب رجوع کرنا تقلید نہیں ، اس لئے کہ مفتی وہی ہے جو مجتہد ہو جیسا کہ متن میں عبارت مذکورہ سے متصل ہی گز ر چکا ہے ۔

فــــ۳ـــــــ :معروضۃ علیہ

ورابعا: ان ارید فــــ۱ـــ : بحجۃ من الاربع التفصیلیۃ اعنی الخاصۃ بالجزئیۃ النازلۃ بطل قولہ فالرجوع الی النبی صلی اللہ علیہ وسلم اوالا جماع لیس منہ فانہ لایکون عن ادراک الدلیل التفصیلی وان ارید الاجمالیۃ کالعمومات الشرعیۃ بطل جعلہ اخذ العامی من المجتہد تقلید افانہ ایضا عن دلیل شرعی،

رابعا :حجت ودلیل کی تو ضیح میں شارح نے '' ادلہ اربعہ میں سے کوئی دلیل ''کہا اگر اس سے مراد دلیل تفصیلی ہے یعنی وہ خاص دلیل جو پیش آمدہ جزئیہ ومسئلہ سے متعلق ہے (اسے جانے بغیر دو سرے کا قول لے لینے کا نام تقلید ہے) تو یہ کہنا باطل ہے کہ نبی صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم یا اجماع کی طر ف رجوع تقلید نہیں ، اس لئے کہ یہ رجوع دلیل تفصیلی کا علم ادراک نہیں ، او اگر اس سے مراد دلیل اجمالی ہے جیسے عام ارشادات شرعیہ تو مجتہد سے عامی کے اخذ کو تقلید کہنا با طل ہے کیوں کہ یہ بھی ایک دلیل شرعی کے تحت ہے ۔

فــــ۱ـــــــ :معروضۃ علی المولی بحرا لعلوم

خامسا: اذقد حکم فــــ۲ـــ : اولا ان اخذ العامی عن المجتھد تقلید فما معنی الاستدراک علیہ بقولہ لکن العرف الخ

خامسا: جب ابتداء یہ فیصلہ کردیا کہ عامی کا مجتہد سے اخذ کرنا تقلید ہے تو بعد میں بطور استدراک یہ عبارت لانے کاکیا معنی ؟'' لیکن عرف اس پر ہے کہ عامی ، مجتہد کا مقلد ہے ۔''

فــــ۲ـــــــ :معروضۃ علیہ

وسادسا: لیس فــــ۳ـــ : نفس الرجوع تقلیدا قط والا لکان رجوعنا الی کتب الشافعیہ لنعلم ما مذھب الامام المطلبی فی المسألۃ تقلید الہ ولا یتوھمہ احد،

سادسا: نفس رجوع تقلید ہر گز نہیں،ورنہ کسی مسئلے میں امام شافعی مطلبی علیہ الرحمہ کا مذہب معلوم کرنے کے لئے کتب شافعیہ کی جانب ہمارا رجوع کرنا امام شافعی کی تقلید ٹھہرے ، حالانکہ کسی کو یہ وہم بھی نہیں ہوسکتا۔

فــــ۳ـــــــ :معروضۃ علیہ

وسابعا :مثلہ فــــ۱ـــ : اوا عجب منہ جعل اخذ القاضی بشھادۃ الشہود تقلیدا منہ لھم فانہ تقلید لا یعرفہ عرف ولا شرع ومن یتجاسر فـــــ۲ــــ ان یسمی قاضی الاسلام ولوایا یوسف عـــــہ مقلد ذمیین اذا قضی بشھادتھما علی ذمی بل الحق فی حل المتن مارأیتنی کتبت علیہ ھکذا (التقلید) الحقیقی ھو (العمل بقول الغیر من غیر حجۃ) اصلا (کاخذ العامی) من مثلہ وھذا بالا جماع اذلیس قول العامی حجۃ اصلا لا نفسہ ولا لغیرہ (و) کذا اخذ (المجتھد من مثلہ) علی مذھب الجمہور من عدم جواز تقلید مجتھد مجتھدا اٰخر وذلک لانہ لما کان قادرا علی الاخذ عن الاصل فالحجۃ فی حقہ ھوا لاصل وعدولہ عنہ الی ظن مثلہ عدول الی مالیس حجۃ فی حقہ فیکون تقلیدا حقیقیا فالضمیر فی مثلہ الی کل من العامی والمجتھد عـــــہ لا الی المجتھد خاصۃ،

سابعا : اسی کے مثل یا اس سے بھی زیادہ حیرت خیز بات یہ ہو ئی کہ اگر قاضی نے گواہوں کی شہادت لے لی تو اسے یہ ٹھہرایا کہ قاضی نے گواہوں کی تقلید کرلی ، ایسی تقلید سے نہ کوئی عرف آشنا ہے نہ شریعت میں کہیں اس کانام ونشان کسے جرات ہے کہ قاضی اسلام کو خواہ وہ امام ابو یوسف ہی ہوں ایسے دو ذمیوں کا مقلد کہہ دے جن کی شہادت پر اس نے کسی ذمی کے خلاف فیصلہ کر دیا ہو ؟

بلکہ متن مذکور کے حل میں حق وہ ہے جو ا س عبارت پر خود میں نے کبھی لکھا تھا وہ اس طر ح ہے (قوسین میں متن کے الفاظ ہیں ۱۲م) (تقلید) حقیقی (دوسرے کے قول پر )اصلا کسی بھی( دلیل کے بغیر عمل کرنا ، جیسے عامی کا اخذ کرنا) اپنے ہی جیسے عامی سے ،یہ بالاجماع ہے ، اس لئے کہ عامی کا قول سرے سے دلیل ہی نہیں ، نہ خود اس کے لئے نہ کسی اور کے لئے (اور)اسی طرح(مجتہد کا اپنے ہی جیسے شخص سے) اخذ کرنا۔یہ حکم اس مذہب جمہور پرہے کہ ایک مجتہد کے لئے دوسرے مجتہد کی تقلید جائز نہیں ، یہ اس لئے کہ جب وہ اصل سے اخذ کرنے پر قادر ہے تو اس کے حق میں حجت وہی اصل ہے ، اسے چھوڑ کر اپنے ہی جیسے شخص کے گمان کی جانب رجوع کرنا ایسی چیز کی طرف رجوع ہے جو اس کے حق میں حجت نہیں ، تو یہ بھی تقلید حقیقی ہوگی ،اس سے معلوم ہو اکہ '' مثلہ'' میں ضمیر عامی او ر مجتہد ہر ایک کی جانب راجع ہے ، صرف مجتہد کی طرف نہیں،

فــــ۱ـــــــ :معروضۃ علیہ
فــــ۲ـــــــ :معروضۃ علیہ

عــــہ بل وامراء المؤمنین الخلفاء الراشدین رضی اللہ تعالی عنھم وانت تعلم فـــ۳ـــ انہ لیس الاثقۃ بقول الشہود فیما اخبروا بہ عن واقعۃ حسیۃ شھدوھا ولو کان ھذا تقلیدا لم یسلم من تقلید احادالناس امام ولا صحابی ولا نبی وفی مسلم قولہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم حدثنا تمیم الداری اھ منہ غفرلہ۔ (م) بلکہ کوئی شخص جرات کرسکتا ہے کہ خلفائے راشدین کو ذ میوں کا مقلد کہے ؟ اور آپ جانتے ہیں کہ قاضی تو صرف گواہوں کے اس قول سے وثوق حاصل کرتا ہے اس معاملہ میں جس واقعہ حسیہ کا انہوں نے مشاہد ہ کیا ہو اگر اس چیز کا نام تقلید ہے تو کوئی امام صحابی اورنبی تقلید سے سالم نہ رہے گا اور مسلم شریف میں حضور صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کا قول ہے کہ ہمیں تمیم داری نے حدیث بیان کی ا ھ۔

فــــ۳ :معروضۃ علیہ
عــــہ کما لا یخفی فــ۔ـــ علی کل ذی ذوق فضلا عن النظر الی ما یلزم ۱۲ منہ۔ (م) جیسا کہ ہر صاحب ذوق پرظاہر ہے ، قطع نظر اس خرابی سے جو صرف مجتہد کی جانب راجع ٹھہرانے میں لازم آتی ہے ،
فــــ :معروضۃ علیہ

واذا عرفت ان التقلید الحقیقی یعتمد انتفاء الحجۃ رأسا (فالر جوع الی النبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم اوالٰی الاجماع) وان لم نعرف دلیل ماقالہ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم اوقالہ اھل الاجماع تفصیلا (لیس منہ) ای من التقلید الحقیقی لوجود الحجۃ الشرعیۃ ولو اجمالا (وکذا) رجوع (العامی) من لیس مجتھدا (الی المفتی) وھوالمجتھد (و ) رجوع القاضی الی الشہود (العدول) واخذھما بقولھم لیس من التقلید فی شیئ لانفس الرجوع ولاالعمل بعدہ (لا یجاب النص) ذلک الرجوع والعمل (علیھا) فیکون عملا بحجۃ ولو اجمالیۃ کما عرفت ھذا ھو حقیقۃ التقلید (لکن العرف) عــــہ مضی (علی ان العامی مقلد للمجتھد فجعل عملہ بقول من دون معرفۃ دلیلہ التفصیلی تقلیدا لہ وانکان انما یرجع الیہ لانہ مامور شرعا بالرجوع الیہ والاخذ بقولہ فکان عن حجۃ لابغیرھا وھذا اصطلاح خاص بھذہ الصورۃ فالعمل بقول النبی صلی تعالی علیہ وسلم وبقول اھل الاجماع لا یسمیہ العرف ایضا تقلیدا (قال الامام) ھذا عرف العامۃ (و) مشی (علیہ معظم الاصولیین) والاصطلاحات سائغۃ لا محل فیھا للتذییل بان ھذا ضعیف وذاک معتمد کمالا یخفی ھذا ھو التقریر الصحیح لھذا الکلام واللہ تعالی ولی الانعام

جب یہ معلوم ہوگیا کہ تقلید حقیقی کا مدار اس پر ہے کہ سرے سے کوئی دلیل نہ ہو(تو نبی صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم یا اجماع کی طر ف رجوع ) اگر چہ ہمیں تفصیلی طور پر اس کی دلیل معلوم نہ ہو جو رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا یا جو اہل اجماع نے کہا (اس سے نہیں) یعنی تقلید حقیقی نہیں ا سلئے کہ حجت شرعیہ موجود ہے اگرچہ اجمالا ہے (اسی طرح عامی) جو مجتہدنہیں (کامفتی )مفتی ، وہی ہے جو مجتہد ہو (کی طر ف ) رجوع ( اور قاضی کا عادل) گواہوں (کی طر ف ) رجوع ، اور ان کا قول لینا کسی طر ح تقلید نہیں ، نہ ہی نفس رجوع اور نہ ہی اس کے بعد عمل ، کوئی بھی تقلید نہیں،(اس لئے کہ ان دو نوں پر ) یہ رجوع و عمل(نص نے واجب کیا ہے ) تو یہ ایک دلیل پر عمل ہوگا اگرچہ اجمالی دلیل پر جیسا کہ معلوم ہوا تقلید کی حقیقت تو یہی ہے (لیکن عرف اس پر ) جاری (ہے کہ عامی ، مجتہد کا مقلد ہے) قول مجتہد کی دلیل تفصیلی سے آشنائی کے بغیر اس پر عامی کے عمل کو اس کی تقلید قرار دیا گیا ہے ، اگر چہ مجتہد کی طر ف عامی اسی لئے رجو ع کرتا ہے کہ اسے شرعا اس کی جانب رجوع کرنے اور اس کا قول لینے کا حکم دیا گیا ہے ، تو یہ رجوع دلیل کے تحت ہے بلا دلیل نہیں ،  یہ ایک اصلاح ہے جو اسی صورت سے خاص ہے او رقول رسول صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم اور قول اہل اجماع پر عمل کو تو عرف میں بھی تقلید نہیں کہا جاتا (امام نے فرمایا) یہ عرف عام ہے (اور اسی پر اکثر اہل اصول) گام زن (میں) اصطلاح کوئی بھی قائم کرنے لگے گنجائش ہوتی ہے تو سبھی اصطلاحیں روا ہوتی ہیں ان سے متعلق یہ نوٹ لگانا بے محل ہے کہ فلاں اصطلاح ضعیف ہے او رفلاں معتمد ہے ، جیسا کہ مخفی نہیں ، یہ ہے کلام مذکور کی صحیح تقریر، او رخدائے تعالی ہی فضل وانعام کا مالک ہے ،

عــــہ تقدیرہ اولی من تقدیر دل کمالا یخفی اھ منہ غفرلہ۔ (م) یہ لفظ مقدر ماننا لفظ دلالت مقدر ماننے سے اولی ہے جیسا کہ ظاہر ہے ۱۲منہ (ت)

فــــ :معروضۃ علیہ

الثالثۃ اقول:  حیث علمت ان الجمھور علی منع اھل النظر من تقلید غیرہ وعندھم اخذہ بقولہ من دون معرفۃ دلیلہ التفصیلی یرجع الی التقلید الحقیقی المحظور اجماعا بخلاف العامی فان عدم معرفتہ الدلیل التفصیلی یوجب علیہ تقلید (المجتہد والالزم التکلیف بما لیس فی الواسع او ترکہ سدی ظھران عدم معرفۃ الدلیل التفصیلی لہ اثران تحریم التقلید فی حق اھل النظر وایجابہ فی حق غیرھم ولا غر وان یکون شیئ واحد موجبا ومحرما معالشیئ اٰخر با ختلاف الوجہ فعدم المعرفۃ لعدم الاھلیۃ موجب للتقلید ومعھا محرم لہ،

مقدمہ سوم اقول معلوم ہوچکاہے کہ جمہور کا مذہب یہ ہے کہ اہل نظر و ا جتہاد کے لئے یہ جائز نہیں کہ دوسرے کسی مجتہد کی تقلید کر ے او ر وہ اگر دو سرے کا قول اس کی دلیل تفصیلی سے آگاہی کے بغیر لے لیتا ہے تو جمہور کے نزدیک یہ تقلید حقیقی میں شامل ہے جو بالا جماع حرام ہے ، عامی کا حکم اس کے بر خلاف ہے اس لئے کہ دلیل تفصیلی سے نا آشنائی اس پر واجب کرتی ہے کہ وہ مجتہد کی تقلید کرے ورنہ لازم آئیگا کہ اسے ایسے امر(دلیل تفصیلی سے آگاہی) کا مکلف کیا جائے جو اس کے بس میں نہیں یا یہ کہ اسے بیکار چھوڑ دیا جائے ، اس سے ظاہر ہوا کہ دلیل تفصیلی سے نا آشنائی کے دو اثر ہیں(۱) صاحب نظر کے لئے و ہ تتقلید کو حرام ٹہراتی ہے (۲) اور غیر اہل نظر کے لئے وہ ہی نا آشنائی تقلید کو واجب قرار دیتی ہے ، اوریہ کوئی حیرت کی بات نہیں کہ ایک ہی چیز کسی دو سری چیز کو الگ الگ وجہوں کے تحت واجب بھی ٹھہرائے اور حرام بھی ، تو یہی ناآشنائی فقدان اہلیت کے باعث تقلید کو واجب قرار دیتی ہے ۔
اور اہلیت ہوتے ہوئے تقلید کو حرام قرار دیتی ہے ۔

الرابعۃ فـــ الفتوی حقیقۃ وعرفیۃ فالحقیقۃ (۱) ھوالافتاء عن معرفۃ الدلیل التفصیلی واولٰئک الذین یقال لھم اصحاب الفتوی ویقال بھذا افتی الفقیہ ابو جعفر والفقیہ ابو اللیث واضرابھما رحمھم اللہ تعالی والعرفیۃ (۲) اخبار العالم با قوال الامام جاھلا عنھا تقلیدالہ من دون تلک المعرفۃ کما یقال فتاوی ابن نجیم والغزی والطوری والفتاوی الخیریۃ وھلم تنزلازمانا ورتبۃ الی الفتاوی الرضویۃ جعلھا اللہ تعالی مُرضیۃ مرضیۃ اٰمین

مقدمہ چہارم: ایک حقیقی فتوٰی ہوتا ہے ، ایک عرفی فتوائے حقیقی یہ ہے کہ دلیل تفصیلی کی آشنائی کے ساتھ فتوٰی دیاجائے۔ ایسے ہی حضرات کو اصحاب فتوٰی کہاجاتا ہے اور اسی معنی میں یہ بولا جاتا ہے کہ فقیہ ابو جعفر ، فقیہ ابو اللیث اور ان جیسے حضرات رحمہم اللہ تعالی نے فتوٰی دیا ، اور فتوائے عرفی یہ ہے کہ اقوال امام کا علم رکھنے والا اس تفصیلی آشنائی کے بغیر ان کی تقلید کے طور پر کسی نہ جاننے والے کو بتائے ۔ جیسے کہا جاتا ہے فتا وی ابن نجیم، فتا وی غزی ،فتا وی طوری،فتا وی خیریہ، اسی طرح زمانہ و رتبہ میں ان سے فروتر فتا وٰی رضویہ تک چلے آیئے ، اللہ تعالی اسے اپنی رضا کا باعث اور اپنا پسندیدہ بنائے ، آمین!

فــ : الفتوٰی قسمان حقیقۃ مختصۃ بالمجتھدو عرفیۃ ۔

الخامسۃ فـــ۔ـــــ اقول وباللہ التوفیق القول قولان صوری وضروری فالصوری ھو المقول المنقول والضروری مالم یقلہ القائد نصابالخصوص لکنہ قائل بہ فی ضمن العموم الحاکم ضرورۃ بان لو تکلم فی ھذا الخصوص لتکلم کذا و ربما یخالف الحکم الضروری الحکم الصوری وح یقضی علیہ الضروری حتی ان الاخذ بالصوری یعد مخالفۃ للقائل والعدول عنہ الی الضروری موافقۃ اواتباعا لہ کأن کان زید صالحا فامر عمرو خدامہ باکرامہ نصاجھا راوکرر ذلک علیھم مرارا، وقد کان قال لھم ایاکم ان تکرمو افاسقا ابدا فبعد زمان فسق زید علانیۃ فان اکرمہ بعدہ خدامہ عملا بنصہ المکرر المقرر کانوا عاصین وان ترکوا اکرامہ کانوا مطیعین

مقدمہ پنجم: اقول وباللہ التو فیق، قول کی دو قسمیں ہیں(۱) قول صوری (۲) قول ضروری-- قول صوری  وہ جو کسی نے صراحۃ کہا اور اس سے نقل ہوا ، اور قول ضروری وہ ہے جسے قائل نے صراحۃ اور خاص طو ر پر نہ کہا ہو مگر وہ کسی ایسے عموم کے ضمن میں اس کا قائل ہو جس سے ضروری طو ر پر یہ حکم برآمد ہوتا ہے کہ اگر وہ اس خصوص میں کلام کرتا تو اس کا کلام ایسا ہی ہوتا ، کبھی حکم ضروری ، حکم صوری کے خلاف بھی ہوتا ہے ، ایسی صورت میں حکم صوری کے خلاف حکم ضروری راجح وحاکم ہوتا ہے یہاں تک کہ صوری کو لینا قائل کی مخالفت شمار ہوتا ہے اور حکم صوری چھوڑ کر حکم ضروری کی طر ف رجوع کو قائل کی موافقت یا اس کی پیروی کہا جاتا ہے، مثلا زید نیک اور صالح تھا تو عمر و نے اپنے خادموں کو صراحۃ علانیۃ زید کی تعظیم کا حکم دیا اور بار بار ان کے سامنے اس حکم کی تکرار بھی کی ، اور اس سے ایک زمانہ پہلے ان خدام کو ہمیشہ کیلئے کسی فاسق کی تکریم سے ممانعت بھی کر چکا تھا ۔ پھر کچھ دنوں بعد زید    فا سق معلن ہوگیا ، اب اگر عمر و کے خدام اس کے مکرر ثابت شدہ صریح حکم پر عمل کرتے ہوئے زید کی تعظیم کریں توعمر و کے نافرمان شمار ہوں گے اور اگر اس کی تعظیم ترک کر دیں تو اطا عت گزار ٹھہریں گے۔
فــ : القول قولان صوری و ضروری وھو یقتضی علی الصوری ولہ ستۃوجوہ۔

ومثل ذلک یقع فـــ۔ـــــ فی اقوال الائمۃ اما لحدوث ضرورۃ او حرج اوعرف او تعامل او مصلحۃ مھمۃ تُجلب اومفسدۃ مـلمۃ تُسلب وذلک لان استشناء الضرورات ورفع الحرج ومراعاۃ المصالح الدینیۃ الخالیۃ عن مفسدۃ تربو علیھا ودرء المفاسد والاخذ بالعرف والعمل بالتعامل کل ذلک قواعد کلیۃ معلومۃ من الشرع لیس احد من الائمۃ الا مائلا الیھا وقائلا بہا ومعولا علیھا فاذا کان فی مسألۃ نص الامام ثم حدث احد تلک المغیرات علمنا قطعا ان لوحدث علی عھدہ لکان قولہ علی مقتضاہ لا علی خلافہ و ردہ ،فالعمل بقولہ الضروری الغیر المنقول عنہ ھو العمل بقولہ لا الجمود علی المأثور من لفظہ،

اسی طر ح اقوال ائمہ میں بھی ہوتا ہے (کہ ان کے حکم صوری کے خلاف کوئی حکم ضروری پالیا جاتا ہے) اس کے درج ذیل اسباب پیدا ہوتے ہیں (۱) ضرورت(۲) حرج(۳) عرف (۴) تعامل(۵)کوئی اہم مصلحت جس کی تحصیل مطلوب ہے (۶) کوئی بڑا مفسد ہ جس کا ازالہ مطلوب ہے ،

یہ اس لئے کہ صورتوں کا استثنا، حرج کا دفعیہ ، ایسی دینی مصلحتو ں کی رعایت جو کسی ایسی خرابی سے خالی ہوں جو ان سے بڑھی ہوئی ہے ، مفاسد کو دور کرنا ، عرف کا لحاظ کرنا ، اور تعامل پر کار بند ہونا یہ سب ایسے قواعد کلیہ ہیں جو شریعت سے معلوم ہیں ، ہر امام ان کی جانب مائل ان کا قائل اور ان پر اعتماد کرنے والا ہی ہے۔ اب اگر کسی مسئلے میں امام کا کوئی صریح حکم رہا ہو پھر حکم تبدیل کرنے والے مذکورہ امور میں سے کوئی ایک پیدا ہو تو ہمیں قطعا یہ یقین ہوگا کہ یہ امر اگر ان کے زمانے میں پیدا ہو تا تو ان کا قول اس کے تقاضے کے مطابق ہی ہوتا اسے رد نہ کرتا اور اس کے بر خلاف نہ ہوتاایسی صورت میں ان سے غیر منقول قول ضروری پر عمل کرنا ہی در اصل ان کے قول پر عمل ہے ، ان سے نقل شدہ الفاظ پر جم جانا ان کی پیروی نہیں،

فــ: چھ باتیں ہیں جن کے سبب قول امام بدل جاتا ہے لہذا قول ظاہر کے خلاف عمل ہوتا ہے اور وہ چھ باتیں : ضرورت ، دفع حرج ، عرف ، تعامل ، دینی ضروری مصلحت کی تحصیل ، کسی فساد موجود یا مظنون بظن غالب کا ازالہ ، ان سب میں بھی حقیقۃقول امام ہی پر عمل ہوتا ہے ۔

وقد عد فی العقود مسائل کثیرۃ من ھذا الجنس ثم احال بیان کثیر اُخر علی الاشباہ ثم قال ( فھذہ )کلھا قد تغیرت احکامھا لتغیر الزمان اما للضرورۃ واما للعرف واما لقرائن الاحوال قال وکل ذلک غیر خارج عن المذھب لان صاحب المذھب لو کان فی ھذا الزمان لقال بھا ولحدث ھذا التغیر فی زمانہ لم ینص علی خلافھا، قال وھذا الذی جرأ المجتھدین فی المذھب واھل النظر الصحیح من المتأخرین علی مخالفۃ المنصوص علیہ من صاحب المذھب فی کتب ظاھر الروایۃ بناء علی ماکان فی زمنہ کما تصریحھم بہ ۱؎ الخ

عقود میں ایسے بہت سے مسائل شمار کرائے اور بکثرت دیگر مسائل کے لئے اشباہ کا حوالہ دیا، پھر یہ لکھاکہ یہ سارے مسائل ایسے ہیں جن کے احکام تغیر زمان کی وجہ سے بدل گئے یا تو ضرورت کے تحت ، یا عرف کی وجہ سے ، یا قرائن احوال کے سبب ، فرمایا: اور یہ سب مذہب سے باہر نہیں ، اس لئے کہ صاحب مذہب اگر اس دور میں ہوتے تو ان ہی کے قائل ہوتے ، اور اگر یہ تبدیلی ان کے وقت میں رونما ہوتی تو ان احکام کے بر خلاف صراحت نہ فرماتے ، فرمایا ، اسی بات نے حضرات مجتہدین فی المذہب اور متا خرین میں سے اصحاب نظر صحیح کے اندر یہ جرات پیدا کی کہ وہ اس حکم کی مخالفت کر یں جس کی تصریح خود صاحب مذہب سے کتب ظاہر الروایہ میں موجود ہے ، یہ تصریح ان کے زمانے کے حالات کی بنیاد پر ہے جیسا کہ اس سے متعلق ان کی تصریح گزرچکی ہے الخ۔

 (۱؎ شرع عقود رسم المفتی رسالہ من رسائل ابن عابدین سہیل اکیڈمی لاہور ۱/ ۴۵ )

اقول: بل ربما یقع نظیر ذلک فیٖ نص الشارع صلی اللہ تعالی علیہ وسلم فقدفــــــــــ قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اذا استأذنت احدکم امرأتہ الی المسجد فلا یمنعنھا رواہ احمد والبخاری۱؎

اقول: بلکہ اس کی نظیر خود نص شارع علیہ الصلوۃ والسلام میں بھی ملتی ہے خود حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے جب تم میں سے کسی کی بیوی مسجد جانے کی اجازت مانگے تو وہ ہر گز اسے نہ روکے ، (احمد ، بخار ی ، مسلم ، نسائی )

ف : انہیں وجوہ صحیح اور مؤکد احادیث کا خلاف کیا جاتا ہے اور وہ خلاف نہیں ہوتا جیسے عورتوں کا جماعت اور جمعہ و عیدین میں حاضر ہونا کہ زمانہ رسالت میں حکم تھا اور اب مطلقا منع ہے۔

 (۱؎ صحیح للبخاری کتاب الاذان باب الاستیذان المرأۃ لزوجہا الخ    قدیمی کتب خانہ کراچی    ۱ /۱۲۰)
(صحیح مسلم کتاب الصلوۃ باب خروج النساء الی المسجد قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۱۸۳ )
(مسند احمد بن حنبل عن ابن عمر المکتب الاسلامی بیروت ۲ / ۷)
(سنن النسائی کتاب المساجد النہی عن منع النساء الخ نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی ۱ / ۱۱۵)

ومسلم والنسائی وفی لفظ لاتمنعوا اماء اللہ مساجد اللہ رواہ احمد۲؎ ومسلم کلھم عن ابن عمر رضی اللہ تعالی عنھما وبالثانی رواہ احمد وابو داود وعن ابی ھریرۃ رضی اللہ تعالی عنہ عن النبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم بزیادۃ ولیخرجن تفلات۳؎

اور ایک روایت کے الفاط یہ ہیں : اللہ کی بندیوں کو مسجدوں سے نہ روکو ، اس کے راوی اما م احمد ومسلم ہیں اور یہ سبھی حضرات ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہما سے راوی ہیں ، اور بلفظ دوم : ولیخرجن تفلات (اور وہ خوشبو لگائے بغیر نکلیں )کے اضافے کے ساتھ امام احمد وابوداؤد نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے انہوں نے نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم سے روایت کی۔

 ( ۲؎ صحیح مسلم کتاب الصلوۃ باب خروج النساء الی المساجد قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۱۸۳)
(مسند احمد بن حنبل عن ابن عمر المکتب لاسلامی بیروت ۲ / ۱۶)
(۳ ؎سنن ابی داؤد کتاب الصلوۃ باب ماجاء خروج النساء الی المساجد آفتاب عالم پریس لاہور ۱ / ۸۴ )
(مسند احمد بن حنبل عن ابی ہریرہ مکتب الاسلامی ۲ / ۴۳۸، ۴۷۵، ۵۲۸)

وقد امر صلی اللہ تعالی علیہ وسلم باخراج الحیض وذوات الخدوریوم العیدین فیشھدن جماعۃ المسلمین ودعوتھم وتعتزل الحیض المصلی قالت امرأۃ یا رسول اللہ احدٰنا لیس لھا جلباب قال صلی اللہ تعالی علیہ وسلم تلبسھا صاحبتھا من جلبا بھا ۱؎ رواہ البخاری ومسلم واٰخرون عن ام عطیۃ رضی اللہ عنھا ،

رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے یہ بھی حکم دیا کہ رو ز عیدین حیض والی اور پردہ نشین عورتوں کو باہر لائیں تا کہ وہ مسلمانوں کی جماعت ودعا میں شریک ہوں اور حیض والی عورتیں عید گاہ سے الگ رہیں ، ایک خاتون نے عرض کیا یا رسول اللہ ! ہماری بعض عورتوں کے پاس چادر نہیں حضور صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا ساتھ والی عورت اسے اپنی چادر کا ایک حصہ اڑھا دے ، اسے بخاری ومسلم اور دیگر محدثین نے حضرت ام عطیہ رضی اللہ تعالی عنہا سے روایت کیا

 (۱؎ صحیح البخاری کتاب الحیض باب شہود الحائض العیدین قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۴۶ )
(صحیح مسلم کتاب العیدین فصل فی اخراج العواتق و ذوات الخدور الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۲۹۱ )

ومع فـــ ذلک نھی الائمۃ الشواب مطلقا والعجائز نھارا ثم عمموا النھی عملا بقولہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم الضروری المستفاد من قول ام المؤمنین الصدیقۃ رضی اللہ تعالی عنہا لو ان رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم رأی من النساء مارأینا لمنعھن من المسجد کما منعت بنو اسرائیل نساء ھارواہ احمد والبخاری ۱؎ ومسلم ،

اس کے با وجود ائمہ کرام نے جوان عورتوں کو مطلقا اور بوڑھی عورتوں کو صرف دن میں مسجد جانے سے منع فرمایا ، پھر سب کے لئے ممانعت عام کردی ، یہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کے اس قول ضروری پر عمل کے تحت کیا جو ام المومنین حضرت صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا کے درج ذیل بیان سے مستفاد ہے :اگر رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم ان عورتوں کا وہ حال مشاہدہ کر تے جو ہم نے مشاہدہ کیا تو انہیں مسجد سے روک دیتے جیسے بنی اسرائیل نے اپنی عورتوں کو روک دیا ، (احمد ، بخاری ، مسلم)

 (۱؎ صحیح بخاری کتاب الاذان باب خروج النساء الی المساجد باللیل قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۱۲۰ )
(صحیح مسلم کتاب الصلوۃ باب خروج النساء الی المساجد باللیل قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۱۸۳ )
(مسند احمد بن حنبل عن عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا المکتب الاسلامی بیروت ۶ / ۹۱، ۱۹۳، ۲۳۵)

فـــــــــ : مسئلہ رات ہو یا دن ، عورت جوان ہو یا بوڑھی ، جمعہ ہو یا عید ، یا جماعت پنج گانہ یا مجلس وعظ مطلقا عورت کا جانا منع ہے ۔

قال فی التنویر والدر (یکرہ حضور ھن الجماعۃ) ولو لجمعۃ وعید وعظ (مطلقا) ولو عجوز الیلا (علی المذھب) المفتی بہ لفساد الزمان واستثنی الکمال بحثا العجائز المتفانیۃ ۲؎اھ

تنویر الابصار اور اس کی شرح در مختار میں ہے (قوسین میں متن کے الفاظ ہیں ۱۲م) (جماعت) اگر چہ جمعہ یا عید اور وعظ کی ہو (عورتوں کی حاضری مطلقا) اگر چہ بڑھیا ہو ا گرچہ رات ہو (مکروہ ہے ہمارے مذہب پر) اس مذہب پر جس پر فساد زمان کی وجہ سے فتوٰی ہے اور کمال ابن الہمام نے بطور بحث فنا کے قریب پہنچنے والی بوڑھی عورتوں کااستثنا کیا ہے اھ،

 (۲؎ الدر المختار شرح تنویر الابصار کتاب الصلوۃ باب الامامۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۸۳ )

والمراد بالمذھب مذھب المتاخرین ولمارد علیہ البحر بان ھذہ الفتوی مخالفۃ لمذھب الامام وصاحبیہ جمیعا فانھما اباحا للعجائز الحضور مطلقا والامام فی غیر الظھر والعصر والجمعۃ فالافتاء بمنع العاجز فی الکل مخالف للکل فالمعتمد مذھب الامام اھ بمعناہ اجاب عنہ فی النھر قائلا فیہ نظر بل ھو ماخوذ من قول الامام وذلک انہ انما منعھا لقیام الحامل وھو فرط الشھوۃ بناء علی ان الفسقۃ لا ینتشرون فی المغرب لانھم بالطعام مشغولون وفی الفجر والعشاء نائمون فاذا فرض انتشارھم فی ھذہ الاوقات لغلبۃ فسقھم کما فی زماننا بل تحریھم ایاھا کان المنع فیھا اظھر من الظھر اھ قال الشیخ اسمٰعیل وھو کلام حسن الی الغایۃ اھ ش ۱؎

مذہب سے مراد مذہب متا خرین ہے اس پر صاحب بحر نے یوں رد کیا ہے کہ یہ فتوی حضرات امام وصاحبین سبھی کے مذہب کے خلاف ہے اس لئے کہ صاحبین نے بوڑھی عورتوں کے لے مطلقا جواز رکھا ہے اور امام نے ظہر ، عصر اور جمعہ کے علاوہ میں جائز کہا ہے ، تو بوڑھی عورتوں کے لئے بھی نمازوں میں مما نعت کا فتوی دینا سبھی کے خلاف ہے معتمد مذہب امام ہے اھ،

نہر میں اس تردید پر جوابا یہ تحریر ہے ، یہ محل نظر ہے اس لئے کہ زیر بحث فتوی قول امام سے ہی ماخوذ ہے وہ اس لئے کہ  امام نے جن اوقات میں منع فرمایا ہے اس کا سبب یہ ہے کہ با عث منع موجود ہے وہ ہے زیادتی شہوت ، اس لئے کہ فساق کھانے میں مشغولیت کی وجہ سے مغرب کے وقت راہوں میں منتشر نہیں رہتے اور فجر وعشا کے وقت سوئے ہوتے (اور دیگر اوقات میں منتشر رہتے ہیں ) تو جب فر ض کیا جائے کہ وہ غلبہ فسق کی وجہ سے ان تینوں اوقات میں بھی منتشر رہتے ہیں جیسے ہمارے زمانے کا حال ہے  بلکہ وہ خاص ان ہی اوقات میں نکلنے کی تا ک میں رہتے ہیں ، توان اوقات میں عورتوں کے لئے ممانعت ، ظہر کی ممانعت سے زیادہ ظاہر و واضح ہوگی ، اھ شیخ اسمعیل فرماتے ہیں ، یہ نہایت عمدہ کلام ہے اھ۔(شامی)

 (۱؎ ردالمحتار کتاب الصلوۃ باب الامامۃ دار احیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۳۸۰)
(البحر الرائق باب الامامۃ ۱ / ۳۵۹ ونہر الفائق باب الامۃ الخ ۱ / ۲۵۱)

الــسـادسۃ فـــــــ حامل اٰخر علی العدول عن قول الامام مختص باصحاب النظر وھو ضعف دلیلہ۔اقول ای فی نظرھم وذلک لانھم مأمورون باتباع مایظھر لھم قال تعالی " فاعتبروا یاولی الابصار۱؎ " ولا تکلیف الا بالوسع فلا یسعھم الا العدول ولا یخرجون بذلک عن اتباع الامام بل متبوعون لمثل قولہ العام اذا صح الحدیث فھو مذھبی، ففی شرح الھدایۃ لابن الشحنۃ ثم شرح الاشباہ لبیری ثم ردالمحتار "اذا صح الحدیث وکان علی خلاف المذھب عمل بالحدیث ویکون ذلک مذھبہ ولا یخرج مقلدہ عن کونہ حنفیا بالعمل بہ فقد صح عنہ انہ قال اذا صح الحدیث فھو مذھبی ۲؎ ھ

مقدمہ ششم : قول امام چھوڑ نے کا ایک اور با عث ہے جو اصحاب نظر کے لئے خاص ہے ۔ وہ یہ ہے کہ اس کی دلیل کمزور ہو ، اقول یعنی  ان حضرات کی نظر میں کمزور ، ان کے لئے یہاں قول امام چھوڑنے کا جواز اس لئے ہے کہ انہیں اسی کی اتباع کا حکم ہے جو ان پر ظاہر ہو ،باری تعالی کا ارشاد ہے : اے بصیرت والو! نظر و اعتبار سے کام لو۔ اور تکلیف بقدر وسعت ہی ہوتی ہے، تو ان کے لئے چھوڑنے کے سوا کوئی گنجائش نہیں ۔ اور وہ اس کے باعث اتباع امام سے باہر نہ ہونگے ، بلکہ امام کے اس طرح کے قول عام کے متبع رہیں گے ، اذا صح الحدیث فھو مذھبی جب حدیث صحیح ہوجائے تو وہی میرا مذہب ہے ابن شخنہ کی شرح ہدایہ ، پھر بیری کی شرح اشباہ پھر رد المحتار میں ہے جب حدیث صحیح ہو اور مذہب کے خلاف ہو تو حدیث پر عمل ہوگا اور وہی امام کا بھی مذہب ہوگا اس پر عمل کی وجہ سے ان کا مقلد حنفیت سے باہر نہ ہوگا اس لئے کہ خود امام سے بروایت صحیح یہ ارشاد ثابت ہیں کہ جب حدیث صحیح مل جائے تو وہی میرا مذہب ہے اھ،

 (۱؎ القرآن     ۵۹ /۲)(۲؎ ردالمحتار     مقدمۃ الکتاب مطلب صح عن الامام انہ قال اذا صح الحدیث الخ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۴۶ )

ف : العدول عن قولہ بدعوی ضعف دلیلہ خاص بالمجتہدین فی المذھب و ھم لایخرجون بہ عن المذھب .

اقول:  (۱) یریدفـــ الصحۃ فقھا ویستحیل معرفتھا الا للمجتہد لاالصحۃ المصطلحۃ عندالمحد ثین کما بینتہ فی الفضل الموھبی بدلائل قاھرۃ یتعین استفاد تھا قال ش فاذ ا نظر اھل المذھب فی الدلیل وعملوا بہ صح نسبتہ الی المذھب لکونہ صادرا باذن صاحب المذھب اذ لا شک انہ لو علم ضعف دلیلہ رجع عنہ واتبع الدلیل الاقوی ولذارد المحقق ابن الھمام علی بعض المشائخ (حیث) افتوا بقول الامامین بانہ لایعدل عن قول الامام الالضعف دلیلہ اھ۱؎

اقول : یہاں صحت سے صحت فقہی مراد ہے جس کی معرفت غیر مجتہد کے لئے محال ہے اصطلاح محدثین والی صحت مراد نہیں ، جیسا کہ میں نے الفضل الموھبی میں اسے ایسے قاہر دلائل سے بیان کیا ہے جن سے آگاہی ضروری ہے۔  علامہ شامی فرماتے ہیں ، جب اہل مذہب نے دلیل میں نظر کی او ر اس پر کار بند ہوئے تو مذہب کی جانب اسے منسوب کرنا بجا ہے اس لئے کہ یہ صاحب مذہب کے اذن ہی سے ہوا کیونکہ انہیں اگر اپنی دلیل کی کمزوری معلوم ہوتی تو یقینا وہ اس سے رجوع کر کے اس سے زیادہ قوی دلیل کی پیروی کرتے اسی لئے جب بعض مشائخ نے صاحبین کے قول پر فتوی دیا تو محقق ابن الہمام نے ان کی تردید فرمائی کہ امام کے قول سے انحراف نہ ہوگا سوا اس صورت کے کہ اس کی دلیل کمزور ہو۔

 (۱؎ ردالمحتار مقدمۃ الکتاب مطلب صح عن الامام انہ قال اذا صح الحدیث الخ دار احیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۴۶)

فـ: المراد فی اذا صح الحدیث فھو مذھبی ھی الحجۃ الفقھیۃ و لاتکفی الاثریۃ

اقول:  ھذا فــــ غیر معقول ولا مقبول وکیف یظھر ضعف دلیلہ فی الواقع لضعفہ فی نظر بعض مقلدیہ وھؤلاء اجلۃ ائمۃ الاجتھاد المطلق مالک والشافعی واحمد ونظراؤھم رضی اللہ تعالی عنہم یطبقون کثیرا علی خلاف الامام وھو اجماع منھم علی ضعف دلیلہ ثم لا یظھر بھذا ضعفہ ولا ان مذھب ھؤلاء مذھبہ فکیف بمن دونھم ممن لم یبلغ رتبتھم نعم ھم عاملون فی نظرھم بقولہ العام فمعذرون بل ماجورون ولا یتبدل فــــــ بذلک المذھب الاتری ان تحدیدا الرضاع بثلثین شھرا دلیلہ ضعیف بل ساقط عند اکثرالمرجحین ولا یجوز لاحدان یقول الاقتصار علی عامین مذھب الامام وتحریم حلیلۃ الاب والابن رضاعا نظر فیہ الامام البالغ رتبۃ الاجتھاد المحقق علی الاطلاق وزعم ان لا دلیل علیہ بل الدلیل قاض بحلھما ولم ارمن اجاب عنہ وقد تبعہ علیہ ش فھل یقال ان تحلیلھما مذھب الامام کلابل بحث  من ابن الھمام ،

اقول:  یہ ناقابل فہم اور ناقابل قبول ہے بعض مقلدین کی نظر میں دلیل کے کمزور ہونے سے دلیل امام کا فی الواقع کمزور ہونا کیسے ظاہر ہوسکتا ہے ؟ اجتہاد مطلق کے حامل یہ بزرگ ائمہ مالک ، شافعی ، احمد اور ان کے ہم پایہ حضرات رضی اللہ تعالی عنہم بار ہا مخالفت امام پر متفق نظر آتے ہیں یہ ان حضرات کا اس بات پر اجماع ہے کہ اس جگہ دلیل امام کمزور ہے ، پھر بھی اس سے واقعۃ اس کا کمزور ہونا ثابت نہیں ہوتا ، نہ ہی یہ ثابت ہوتا ہے کہ ان حضرات کا جو مذہب ہے وہی امام کا بھی مذہب ہے ، جب ان کا یہ معاملہ ہے تو ان کا کیا حکم ہوگا جو ان سے فر و تر ہیں جنہیں ان کے منصب تک رسائی حاصل نہیں؟  ہاں وہ اپنی نظر میں امام کے قول عام پر عامل ہیں اس لئے معذور بلکہ ماجورا ور مستحق ثواب ہیں مگراس وجہ سے مذہب امام بدل نہ جائے گا ، دیکھئے مدت رضاعت تیس ماہ ٹھہرانے کی دلیل اکثر مرجحین کے نزدیک ضعیف بلکہ ساقط ہے پھر بھی کوئی یہ نہیں کہہ سکتاکہ دوسال پر اکتفا کرنا ہی مذہب امام ہے ، یوں ہی رضاعی باپ اور رضاعی بیٹے کی بیوی کے حرام ہونے کے حکم میں رتبہ اجتہاد تک رسائی پانے والے امام محقق علی الاطلاق کو کلام ہے ، ان کا خیال ہے کہ اس پر کوئی دلیل نہیں بلکہ دلیل یہ حکم کرتی ہے کہ دو نوں حلال ہیں ، میں نے اس کلام کا جواب کسی کتاب میں نہ دیکھا ، علامہ شامی نے بھی انہی کی پیروی کی ہے ، پھر بھی کیا یہ کہا جا سکتا ہے کہ ان دونوں کی حلت ہی مذہب امام ہے ؟ہر گز نہیں ! بلکہ یہ صرف ابن الہمام کی ایک بحث ہے ۔

ف : معروضۃ علی العلامۃ ش
ف:لایتبدل المذھب بتصحیحات المرجحین خلافہ

ولیس فـــ۱ فیما ذکر عن ابن الھمام المام الی ما ادعی من صحۃ جعلہ مذھب الامام انما فیہ جواز العدول لھم اذا استضعفوا دلیلہ واین ھذا من ذاک نعم فی الوجوہ السابقۃ تصح النسبۃ الی المذھب لاحاطۃ العلم بانہ لو وقع فی زمنہ لقال بہ کما قال فی التنویر لمسألۃ نھی النساء مطلقا عن حضور المساجد علی المذھب وھذہ نکتۃ غفل فـــ۲ منھا المحقق ش ففسر المذھب مذھب المتأخرین ھذا واما نحن فلم نؤمر لابا عتبار کاولی الابصار بل بالسؤال والعمل بما یقولہ الامام غیر باحثین عن دلیل سوی الاحکام فان کان العدول للوجوہ السابقۃ اشترک فیہ الخواص والعوام اذ لا عدول حقیقۃ بل عمل بقول الامام وانکان لدعوی ضعف الدلیل اختص بمن یعرفہ و لذا قال فی البحر قد وقع للمحقق ابن الھمام فی مواضع الرد علی المشائخ فی الافتاء بقولہما بانہ لایعدل عن قولہ الا لضعف دلیلہ لکن ھو (ای المحقق) اھل للنظر فی الدلیل ومن لیس باھل للنظر فیہ فعلیہ الافتاء بقول الامام اھ ۱؎

علامہ شامی نے جو دعوی کیا کہ صاحب نظر جس پر عمل کر لے اسے مذہب امام قرار دینا بجا ہوگا اس کا امام ابن الہمام سے نقل کردہ کلام میں کوئی اشارہ بھی نہیں اس میں تو بس اس قدر ہے کہ اہل نظر کو جب قول امام کی دلیل کمزورمعلوم ہو تو ان کے لئے اس سے انحراف جائز ہے ، کہاں یہ ، اور کہاں وہ ؟ہاں سابقہ چھ صورتوں میں مذہب امام کی طر ف انتساب بجا ہے اس لئے کہ وہاں اس با ت کو پورے طور سے یقین ہے کہ وہ حالت اگر ان کے زمانے میں واقع ہوتی تو وہ بھی اسی کے قائل ہوتے ، جیسا کہ تنویر الابصارمیں مسجدوں کی حاضر ی سے عورتو ں کی مطلقا ممانعت کے مسئلے میں '' علی المذہب''(بر بنائے مذہب) فرمایا محقق شامی کو اس نکتے سے غفلت ہوئی اس لئے انہوں نے مذہب کی تفسیر میں '' مذہب متاخرین '' لکھ دیا ، یہ ذہن نشین رہے ۔ اوپر کی گفتگواہل نطر سے متعلق تھی ، رہے ہم لوگ تو ہمیں اہل نظر کی طر ح نظر و اعتبار کا حکم نہیں بلکہ ہم اس کے مامور ہیں کہ احکام کے سوا کسی دلیل کی جستجو اور چھان بین میں نہ جاکر صرف قول امام دریافت کریں اور اس پر کاربند ہوجائیں ، اب اگر قول امام سے عدول و انحراف سابقہ چھ وجہو ں کے تحت ہے تو اس میں خواص وعوام سب شریک ہیں کیونکہ حقیقۃ یہاں انحراف نہیں بلکہ قول امام پر عمل ہے اور اگر ضعف دلیل کے دعوے کی وجہ سے انحراف ہو تو یہ اہل معرفت سے خاص ہے ، اسی لئے بحر میں رقم طراز ہیں کہ محقق ابن الہما م کے قلم سے متعد د مقامات پر قول صاحبین پر فتوی دینے کی وجہ سے مشائخ کا رد ہو اہے وہ لکھتے ہیں کہ قول امام سے انحراف نہ ہوگا بجز اس صورت کے کہ اس کی دلیل کمزور ہو ، لیکن وہ محقق موصوف دلیل میں نظر کی اہلیت رکھتے ہیں ، جو اس کا اہل نہ ہو اس پر تو یہی لازم ہے کہ قول امام پر فتوے دے اھ۔

فـــ ۱ : معروضۃ علیہ
فـــ ۲ : معروضۃ علیہ

 (۱؎ بحرالرائق کتاب القضاء فصل یجوز تقلید من شاء الخ    ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۶ /۲۷۰)

السابعۃ فـاذا اختلف التصحیح تقدم قول الامام الاقدم فی ردالمحتار قبل ما یدخل فی البیع تبعا اذا اختلف التصحیح اخذ بما ھو قول الامام لانہ صاحب المذھب ۱؎ اھ

جب تصحیح میں اختلاف ہو تو امام اعظم کا قول مقدم ہوگا ''رد المحتا ر'''' مایدخل فی البیع تبعا''  (بیع میں تبعا داخل ہونے والی چیزوں کا بیان ) سے پہلے یہ تحر یر ہے : جب تصحیح میں اختلاف ہو تو اسی کو لیا جائے گا جو امام کا قول ہے اس لئے کہ صا حب مذہب وہی ہے اھ

 (۱؎ ردالمحتار کتاب البیوع دار احیاء التراث العربی بیروت ۴ / ۳۳)

ف : عند اختلاف تصحیح یقدم قول الامام،

وقال فی الدر فی وقف البحر وغیرہ متی کان فی المسألۃ قولان مصححان جاز القضاء والافتاء باحدھما ۲؎ اھ د ر مختار میں ہے کہ، البحر الرائق کتاب الوقف وغیرہ میں لکھا ہوا ہے کہ جب کسی مسئلہ میں دو قول تصحیح یا فتہ ہوں تودونوں میں سے کسی پر بھی قضا وافتا جائز ہے اھ ،

 (۲؎ الدر المختار رسم المفتی مطبوعہ مجتبائی دہلی ۱ / ۱۴)

فقال العلامۃ ش لا تخییر لوکان احدھما قول الامام والاٰخر قول غیرہ لانہ لما تعارض التصحیحان تساقطا فرجعنا الی الاصل وھو تقدیم قول الامام بل فی شہادات الفتاوی الخیریۃ المقرر عندنا انہ لایفتی ولا یعمل الا بقول الامام الاعظم ولا یعدل عنہ الی قولہما او قول احدھما او غیرھما الالضرورۃ کمسألۃ المزارعۃ وان صرح المشائخ بان الفتوی علی قولھما لانہ صاحب المذھب والامام المقدم ۳؎ اھ

اس پر علامہ شامی نے لکھا کہ یہ تخییر اس صورت میں نہیں جب دونوں قولوں میں ایک قول امام ہو اور دوسرا کسی اور کا قول ہو. اسلئے کہ جب دو نوں تصحیحوں میں تعا رض ہوا تو دونوں ساقط ہوگئیں اب ہم نے اصل کی جانب رجوع کیا ، اصل یہ ہے کہ قول امام مقدم ہوگا بلکہ فتا وی خیر یہ کتاب الشہادات میں ہے کہ  ہمارے نزدیک طے شدہ امر یہ ہے کہ فتوی او ر عمل امام اعظم ہی کے قول پر ہوگا اسے چھوڑ کر صاحبین یا ان میں سے کسی ایک ، یا کسی اور کا قول اختیار نہ کیا جائے گا بجز صورت ضرورت کے ، جیسے مسئلہ مزار عت میں ہے ، اگرچہ مشائخ نے تصریح فرمائی ہو کہ فتو ی قول صاحبین پر ہے ، اس لئے کہ وہی صاحب مذہب اور امام مقدم ہیں اھ،

 (۳؎الدر المختار رسم المفتی دار احیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۴۹  )

ومثلہ فی البحر وفیہ یحل الافتاء بقول الامام بل یجب وان لم یعلم من این قال ۱؎ اھ اسی کے مثل بحر میں بھی ہے ، اس میں یہ بھی ہے کہ قول امام پر افتا جائز بلکہ واجب ہے اگر چہ یہ معلوم نہ ہو کہ ان کی دلیل اور ماخذ کیا ہے اھ

 (۱؎ البحرالرائق کتاب القضاء فصل یجوز تقلید من شاء الخ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۶ / ۲۶۹)

اذا عرفت ھذا وضح لک کلام البحر وطاح کل ماردبہ علیہ وان شئت التفصیل المزید، فالق السمع وانت شھید ان مقدمات وتفصیلا ت سے آگاہی کے بعد آغا ز رسالہ میں نقل شدہ کلام بحر کا مطلب روشن وواضح ہوگیااور جو کچھ اس کی تردید میں لکھا گیا بیکار و بے ثبات ٹھہرا مزید تفصیل کا اشتیاق ہے تو بگوش ہوش سماعت ہو ۔ قول ش رحمہ اللہ تعالی لا یخفی علیک مافی ھذا الکلام من عدم الانتظام ۱؎ علامہ شامی رحمہ اللہ تعالی کے اس کلام کی بے نظمی ناظر ین پر مخفی نہیں ۔

 (۱؎ البحرالرائق کتاب القضاء فصل یجوز تقلید من شاء الخ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۶ / ۲۶۹)

اقول : بل ھو متسق النظام اٰخذ بعضہ بحجز بعض کما ستری ،

اقول:  نہیں بلکہ پورا کلام مربو ط و مبسوط ، ایک دوسرے کی گرہ تھامے ہوئے ہے جیسا کہ ابھی عیاں ہوگا

قول العلامۃ الخیر قولہ مضاد لقول الامام ۲؎

قول علامہ خیر رملی ، اس کلام او رکلام امام میں تضا د ہے۔

 (۲؎ شرح عقود رسم المفتی رسالہ من رسائل ابن عابدین سہیل اکیڈمی لاہور ۱ / ۲۹ )

اقول: تعرف فــــ بالرابعۃ ان قول الامام فی الفتوی الحقیقۃ فیختص باھل النطر لامحمل لہ غیرہ والا کان تحریما للفتوی العرفیۃ مع حلہا بالا جماع وفی قضاء منحۃ الخالق عن الفتاوی الظھیریۃ روی عن ابی حنیفۃ رضی اللہ تعالی عنہ انہ قال لا یحل لاحد ان یفتی بقولنا مالم یعلم من این قلنا وان لم یکن من اھل الاجتہاد لایحل لہ ان یفتی الابطریق الحکایۃ ۱؎ اھ

اقول : مقدمہ چہارم سے معلوم ہوا کہ قول امام فتوے حقیقی سے متعلق ہے ، تو وہ قول صرف اہل نظر کے حق میں ہے ، اس کے سوا ان کے کلام کا اور کوئی معنی ومحمل نہیں ورنہ لازم آئیگا کہ امام نے فتوے عرفی کو حرام کہا ، حالاں کہ وہ بالاجماع جائز وحلال ہے ، منحۃ الخالق کتاب القضا ء میں فتاوی ظہیریہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا کسی کے لئے ہمارے قول پر فتوی دینا روا نہیں جب تک یہ نہ جان لے کہ ہم نے کہا ں سے کہا ، اور اگر اہل اجتہا د نہ ہو اس کے لئے فتوی دینا جائز نہیں مگر نقل وحکایت کے طور پر فتوی دے سکتا ہے ۔

 (۱؎ منحۃ الخالق علی البحرا لرائق کتاب القضاء فصل یجوز تقلید من شاء الخ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۶ /۲۶۹)

فـــــ : تطفل علی العلامۃ الخیر الرملی وعلی ش۔

وقول البحر فی الفتوی العرفیۃ لامحمل لہ سواہ لقولہ اما فی زماننا فیکتفی بالحفظ وقولہ وان لم نعلم وقولہ یجب علینا الافتاء بقول الامام وقولہ اما نحن فلنا الافتاء فاین التضاد ولم یردا موردا واحدا۔

اور بحر کا کلام فتوائے عرفی سے متعلق ہے ، اس کے سوا اس کا کوئی اور معنی ومحمل نہیں ، دلیل میں ان کے یہ الفا ظ دیکھیں (۱)لیکن ہمارے زمانے میں بس یہی کافی ہے کہ ہمیں امام کے اقوال حفظ ہوں (ب) اگر چہ ہمیں دلیل معلوم نہ ہو (ج)قول اما م پر فتو ی دینا ہم پر واجب ہے (د) اما نحن فلنا الافتاء ،مگر ہم فتوے دے سکتے ہیں الخ، اب بتائے جب دونوں کلام کا مورد و محل ایک نہیں ہے تو تضا د کہا ں سے ہوا؟

قولہ ھو صریح فی عدم جوازالافتاء لغیر اھل الاجتہاد فکیف یستدل بہ علی وجوبہ۲؎ خیر رملی ، قول امام سے صراحۃ واضح ہے کہ اہلیت اجتہاد کے بغیر فتوی دینا ناجائز ہے ، پھر اس سے وجوب افتا ء پر استدلال کیسے ؟

 (۲؎ شرح عقود ر سم المفتی رسالہ من رسائل ابن عابدین سہیل اکیڈمی لاہور ۱ / ۲۹)

اقول : نعم صریح فــــــ فی عدم جواز الحقیقی ونشوء الحرمۃ والجواز معاعن شیئ واحد فرغنا عنہ فی الثالثہ َ ہاں اس سے فتوے حقیقی کا عدم جواز صراحۃ واضح ہے (اور بحر میں فتوائے عرف کا وجوب مذکور ہے )اب رہا یہ کہ ایک ہی چیز سے دوسری چیز کی حرمت وحلت دونوں کیسے پیداہوسکتی ہیں ؟ اس کی تحقیق ہم مقدمہ سوم میں کر آئے ہیں

فـــــ : تطفل علی الخیر وعلی ش

قولہ فنقول ما یصدر من غیر الاھل لیس بافتاء حقیقۃ ۱؎

خیر رملی ، ہم یہ کہتے ہیں کہ غیر اہل اجتہاد سے جو حکم صادر ہوتا ہے وہ حقیقۃ افتا نہیں ۔

 (۱؎ شرح عقود ر سم المفتی رسالہ من رسائل ابن عابدین سہیل اکیڈمی لاہور ۱ / ۲۹)

اقول :  فــــ ۱فیہ کان الجواب عن التضاد لو ا لتفتم الیہ ۔ ۤآپ کی اسی عبارت میں اعتراض کا جواب بھی تھا ، اگر آپ نے التفا ت فرمایاہوتا ،

فــــ ۱ : تطفل علی الخیر وعلی ش

قولہ وانما ھو حکایۃ عن المجتھد    ۲؎ خیر رملی ،وہ تو امام مجتہد سے صرف نقل و حکایت ہے ۔

 (۲؎ شرح عقود ر سم المفتی رسالہ من رسائل ابن عابدین سہیل اکیڈمی لاہور ۱ / ۲۹)

اقول :  فــــ ۲ لاوانظر الاولی ایسا نہیں ملاحظہ ہو مقدمہ اول

فـــــ ۲ : تطفل علی الخیر وعلی ش

قولہ تجوز حکایۃ قول غیر الامام ۳؎ خیر رملی : غیر امام کے قول کی نقل وحکایت بھی جائز ہے۔

 (۳؎ شرح عقود ر سم المفتی رسالہ من رسائل ابن عابدین سہیل اکیڈمی لاہور ۱ / ۲۹)

اقول :  فــــ ۳ لاحجر فی الحکایۃولوقولا خارجا عن المذھب انماالکلام فی التقلید والمجتھد المطلق احق بہ ممن دونہ فلم لا تجیزون الافتاء باقوال الائمۃ الثلثۃ بل ومن سوی الاربعۃ رضی اللہ تعالٰی عنھم فان اجزتم ففیم التمذھب وتلک المشاجرات بل سقط المبحث رأساوانھدام النزاع بنفس النزاع کما سیأتی بیانہ ان شاء اللہ تعالی ۔

نقل وحکایت سے کوئی رکاوٹ نہیں اگر چہ مذہب سے باہر کسی کا قول ہو ، یہاں گفتگو تقلید سے متعلق ہے ، اور مجتہد مطلق اپنے سے فر و تر حضرات سے زیادہ اس کا مستحق ہے کہ اس کی تقلید کی جائے ، پھر آپ ائمہ ثلاثہ (مالک وشافعی واحمد رحمہم اللہ تعالی) بلکہ ائمہ اربعہ رضی اللہ تعالی عنہم کے علاوہ دیگر ائمہ کے اقوال پر فتوٰی دینے کو جائز کیوں نہیں کہتے ؟ اگر آپ اجازت دیتے ہیں تو مذہب امام کی پابندی کس بات میں ؟ اور یہ سارے اختلافات کیسے ؟ بلکہ صرف اس نزاع ہی سے سارا نزاع ختم اور وہ پوری بحث ہی سرے سے ساقط ہوگئی ، جیسا کہ اس کی وضاحت ان شاء اللہ تعالی آگے آئے گی۔

فــــــ ۳ : تطفل علی الخیر وعلی ش

قولہ فکیف یجب علینا الافتاء بقو ل الا مام ۔ خیررملی تو قول امام پر فتوی دینا ہم پر واجب کیسے ؟

اقول:  لانا فــــ ۱ قلدناہ لامن سواہ وقد اعترف فـــ ۲ بہ السید الناقل فی عدۃ مواضع منھا صدر ردالمحتار قبیل رسم المفتی اناالتزمنا تقلید مذھبہ دون مذھب غیرہ ولذا نقول ان مذھبنا حنفی لایوسفی ونحوہ ۱؎ اھ ای الشیبا نی نسبۃ الی ابی یوسف او محمد رضی اللہ تعالی عنھم وقال فی شرح العقود الحنفی انما قلد ابا حنیفۃ ولذانسب الیہ دون غیرہ ۲؎ اھ

اس لئے کہ تقلید ہم نے انہی کی کی ہے دوسرے کی نہیں ، اور سید ناقل (علامہ شامی)نے تو متعد د مقامات پر خود اس کا اعتراف کیا ہے ، ان میں دو مقام یہ ہیں ، (۱) رسم المفتی سے ذرا پہلے شرو ع رد المحتار میں لکھتے ہیں ، ہم نے انہی کے مذہب کی تقلید کا التزام کیا ہے دو سرے کے مذہب کا نہیں ۔ اسی لئے ہم کہتے ہیں کہ ہمارا مذہب یعنی شیبانی بھی نہیں ، یہ امام ابو یوسف اور امام محمد رضی اللہ تعالی عنہما کی طر ف نسبت ہے ، حنفی ہے ، یوسفی وغیرہ نہیں ،

فـــــــ ۱ : علی الخیر وعلی ش
فـــــــ : علامہ شامی فرماتے ہیں ہم نے صرف تقلید امام اعظم اپنے اوپر لازم کی ہے، نہ کسی اور کی ولہذا ہمارا مذہب حنفی کہا جاتا ہے نہ یوسفی وغیرہ امام ابویوسف وغیرہ کی نسبت سے

 (۲) شرح عقود میں لکھتے ہیں ، حنفی نے بس امام ابو حنیفہ کی تقلیدکی ہے ، اسی لئے وہ انہی کی طر ف منسوب ہوتا ہے کسی اور کی طر ف نہیں ،

 (۱؎ رد المحتار مطلب صح عن الامام اذا صح الحدیث الی الخ دارا حیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۴۶)
( ۲؎ شرح عقود ر سم المفتی رسالہ من رسائل ابن عابدین سہیل اکیڈمی لاہور ۱ / ۲۴)

قولہ وانما نحکی فتواھم لاغیر۳؎۔ خیر رملی حالاں کہ ہم تو صرف فتوائے مشائخ کے ناقل ہیں کچھ اور نہیں ۔

 (۳؎ شرح عقود ر سم المفتی رسالہ من رسائل ابن عابدین سہیل اکیڈمی لاہور ۱ / ۲۴  )

اقول:  سبحن اللہ فـــ ۱ بل انما نقلد امامنا لاغیر ثم فـــ ۲ لیس افتاؤنا عندکم الاحکایۃ قول غیرنا فمن ذالذی حرم علینا حکایۃ قول امامنا و اوجب حکایۃ قول غیرہ من اھل مذھبنا فانکانوا مرجحین بالکسر فلیسوا مرجحین علی الامام بالفتح قول ش المشائخ اطلعوا علی دلیل الامام وعرفوا من این قال۔۱؎

سبحان اللہ! بلکہ ہم صرف امام اعظم کے مقلد ہیں کچھ اور نہیں ، پھر آپ کے نزدیک ہمارے افتا ء کی حقیقت کیا ہے ؟ صرف دو سروں کے اقوال کی نقل و حکایت ! تو وہ کو ن ہے جس نے ہم پر اپنے امام کے قول کی حکایت حرام کردی اور اہل مذہب میں سے دیگر حضرات کے قول کی حکایت واجب کردی ؟اگر وہ ترجیح دینے والے حضرات ہیں تو وہ امام پر تر جیح یافتہ نہیں ہوسکتے ۔ علامہ شامی ، مشائخ کو ''دلیل امام'' سے آگاہی ہوئی او رانہیں یہ معرفت حاصل ہوئی کہ قول امام کا ماخذ کیا ہے !

فـــ ۱ــــ : تطفل علی الخیر وعلی ش
فــــ ۲ : تطفل علی الخیر وعلی ش

 (۱؎ شرح عقود ر سم المفتی رسالہ من رسائل ابن عابدین سہیل اکیڈمی لاہور ۱ / ۲۹ )

اقول : فــــ۱ من این عرفتم ھذا وبای دلیل اطلعتم علیہ انما المنقول فــــ۲ عن الامام المسائل دون الدلائل واجتھد الاصحاب فاستخرجوا لھا دلائل کل حسب مبلغ علمہ ومنتھی فہمہ ولم یدرکو اشاوہ ولا معشارہ ولر بما لم یلحقوا غبارہ فان قلتم فقولوا اطلعوا علی دلیل قول الامام ولا تقولوا علی دلیل الامام ورحم اللہ سیدی ط اذقال فی قضاء حواشی الدرقد یظھر قوۃ قولہ (ای لاھل النظر فی قول خلاف قول الامام) بحسب ادراکہ ویکون الواقع بخلافہ اوبحسب دلیل ویکون لصاحب المذھب دلیل اٰخر لم یطلع علیہ ۱؎ اھ

اقول : یہ آپ کو کہا ں سے معلوم ہو ا؟ او رکس دلیل سے آپ کو اس کی دریافت ہوئی؟ امام سے توصرف مسائل منقول ہیں دلائل منقول نہیں اصحاب نے اجتہاد کر کے ان مسائل کی دلیلوں کا استخراج کیا ، یہ بھی ہر ایک نے اپنے مبلغ علم اور منتہائے فہم  کے اعتبار سے کیا اور کوئی بھی امام کی منزل کو نہ پاسکا بلکہ ان کے دسویں حصے کو بھی نہ پہنچا ، او ر زیادہ تر تو یہ ہے کہ یہ حضرات ان کی گر دپا کو بھی نہ پاسکے ۔ اگر کہنا ہے تو یوں کہئے کہ ہاں مشائخ کو '' قول امام کی دلیل'' سے آگاہی ملی یہ نہ کہئے کہ '' امام کی دلیل'' سے آگاہ ہوئے سیدی طحطاوی پر خدا کی رحمت ہو وہ حواشی درمختار کتاب القضا ء میں رقم طراز ہیں قول امام کے خلاف کسی قول میں اہل نظر کو کبھی قوت نظر آتی ہے ، یہ اس صاحب نظر کے علم وادراک کے لحاظ سے ہوتا ہے اور واقع میں اس کے بر خلاف ہوتا ہے ، یا کسی ایک دلیل کے لحاظ سے اسے ایسا معلوم ہوتاہے جبکہ صاحب مذہب کے پاس کوئی اوردلیل ہوتی ہے جس سے یہ آگا ہ نہیں ۔ اھ

فـــــ۱ : معروضۃ علی العلامۃ ش۔
فــــ ۲ : فائدہ : امام سے مسائل منقول ہیں دلائل مشائخ نے استنباط کیے ہیں ان کا ضعف اگرثابت بھی ہو تو قول امام کا ضعف لازم آنا درکنار دلیل امام کا بھی ضعف ثابت نہیں ہوتا ، ممکن کہ امام نے اور دلیل سے فرمایا ہو ۔

 (۱؎ حاشیہ الطحطاوی علی الدرالمختار    کتاب القضاء    المکتبۃ العربیہ بیر وت     ۳ /۱۷۶)

قولہ ولا یظن بھم انھم عدلوا عن قولہ لجھلھم بدلیلہ ۲؎

علامہ شامی ، حضرات مشائخ کے بارے میں یہ گمان نہیں کیا جاسکتا کہ انہوں نے قول امام سے انحراف اس لئے اختیار کیا کہ انہیں ان کی دلیل کا علم نہ تھا ۔

 (۲؎ شرح عقود ر سم المفتی رسالہ من رسائل ابن عابدین سہیل اکیڈمی لاہور ۱ / ۲۹ )

اقول:  اولا فـــ۱افبظن بہ انہ لم یدرک ما ادرکوا فاعتمدشیئا اسقطوہ لضعفہ فیا للانصاف ای الظنین ابعد۔

تو کیا حضرت امام کے متعلق یہ گمان کیا جاسکتا ہے کہ انہیں وہ دلیل نہ مل سکی جو مشائخ کو مل گئی، اس لئے انہوں نے ایک ایسی چیز پر اعتماد کرلیا جسے مشائخ نے ضعیف ہونے کی وجہ سے ساقط کر دیا ؟ خدارا انصاف ! دو نوں میں سے کون ساگمان زیادہ بعید ہے ؟

فـــــ۱ : معروضۃ علیہ

ثانیا:  لیس فیہ فـــــ ۱ ازراء بھم ان لم یبلغوا مبلغ امامھم وقد ثبت فـــ ۲ ذلک عن اعظم المجتھدین فی المذھب الامام الثانی فضلا عن غیرہ فی الخیرات ؎۱ الحسان للامام ابن حجرا لمکی الشافعی روی الخطیب عن ابی یوسف مارأیت احدا اعلم بتفسیرا لحدیث ومواضع النکت التی فیہ من الفقہ من ابی حنیفۃ وقال۲؎ ایضا ماخالفتہ فی شیئ قط فتدبرتہ الارأیت مذھبہ الذی ذھب الیہ انجی فی الاٰخرۃ وکنت ربما ملت الی الحدیث فکان ھو ابصر بالحدیث الصحیح منی وقال ۳؎کان اذا صمم علی قول درت علی مشائخ الکوفۃ ھل اجد فی تقویۃ قولہ حدیثا او اثرا ؟ فر بما وجدت الحدیثین والثلثۃ فاتیتہ بھا فمنھا ما یقول فیہ ھذا غیر صحیح او غیر معروف فـاقـول لہ وما علمک بذلک مع انہ یوافق قولک؟ فیقول انا عالم بعلم اھل الکوفۃ ،

یہ مشائخ اگر اپنے امام کے مبلغ علم کو نہ پاسکے تو اس میں ان کی کوئی بے عزتی نہیں اس پایہ بلند تک نارسائی تو مجتہدین فی المذہب میں سب سے عظیم شخصیت امام ثانی قاضی ابو یوسف سے ثابت ہے ، کسی او رکا کیا ذکر وشمار ؟
امام ابن حجر مکی شافعی کی کتاب '' الخیرات الحسان ''میں ہے
(۱) خطیب اما م ابو یوسف سے روای ہیں کہ مجھے کوئی ایسا شخص نظر نہ آیا جو ابو حنیفہ سے زیادہ حدیث کی تفسیر ، اور اس میں پائے جانے والے فقہی نکات کی جگہوں کا علم رکھتا ہو ۔
(۲)  یہ بھی فرمایا کسی بھی مسئلے میں جب میں نے ان کی مخالفت کی پھر اس میں غور کیا تو مجھے یہی نظر آیا کہ امام نے جو مذہب اختیار کیا وہی آخرت میں زیادہ نجات بخش ہے ، بعض اوقات میرا میلان حدیث کی طر ف ہوتا تو بعد میں یہی نظر آتا کہ امام کو حدیث کی بصیرت مجھ سے زیادہ ہے ۔
(۳)یہ بھی فرمایا جب امام کسی قول پر پختہ حکم کر دیتے تو میں مشائخ کوفہ کے پاس دورہ کرتا کہ دیکھوں ان کے قول کی تائید میں کوئی حدیث یا کوئی اثر ملتا ہے یا نہیں ؟ بعض مرتبہ دو تین حدیثیں مل جاتیں ، میں لے کر امام کے پاس آتا تو ان میں سے کسی حدیث کے بارے میں وہ فرماتے کہ یہ صحیح نہیں یا غیر معروف ہے ،میں عرض کرتا یہ آپ کو کیسے معلوم ہوا ، یہ تو آپ کے قول کے موافق بھی ہے ؟ وہ فرماتے میں اہل کوفہ کے علم سے اچھی طر ح با خبر ہوں

فـــ۲ : معروضۃ علیہ    
فـــــ : فائدہ جلیلہ : اجلہ اکابر ائمہ دین معاصران امام اعظم وغیرہم رضی اللہ تعالی عنہ وعنھم کی تصریحات کہ امام ابوحنیفہ کے علم و عقل کو اوروں کا علم وعقل نہیں پہنچتا ، جس نے ان کا خلاف کیا ان کے مدارک تک نارسائی سے کیا۔

وکان۴؎ عندالاعمش فــــ فسئل عن مسائل فقال لابی حنیفۃ ماتقول فیھا؟ فاجابہ قال من این لک ھذا؟ قال من احادیثک التی ردیتھا عنک وسردلہ عدۃ احادیث بطرقھا فقال الاعمش حسبک ماحدثتک بہ فی مائۃ یوم تحدثنی بہ فی ساعۃ واحدۃ ما علمت انک تعمل بھذہ الاحادیث یا معشر الفقھاء انتم الاطباء ونحن الصیاد لۃ وانت ایھا الرجل اخذت بکلا الطرفین اھ ۱؎

(۴) امام اعمش کے پاس حاضر تھے ، حضرت اعمش سے کچھ مسائل دریافت کئے گئے ، انہوں نے امام ابو حنیفہ سے فرمایا ، تم ان مسائل میں کیا کہتے ہو ؟ امام نے جواب دیا ، حضرت اعمش نے فرمایا ، یہ جواب کہاں سے اخذ کیا ؟ عرض کیا آپ کی انہی احادیث سے جو آپ سے میں نے روایت کیں ، اور متعدد حدیثیں مع سند وں کے پیش کردیں ، ا س پر حضرت اعمش نے فرمایا کافی ہے ، میں نے سو دنوں میں تم سے جو حدیثیں بیان کیں وہ تم ایک ساعت میں مجھے سنائے دے رہے ہو ، مجھے علم نہ تھا کہ ان احادیث پر تمہارا عمل بھی ہے ، اے فقہا! تم طبیب ہو او رہم عطار ہیں ، اور اے مرد کمال ! تم نے تو دونوں کنارے لئے ۔

 (۱؎ الخیرات الحسان الفصل الثلاثون ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص ۱۴۳ اور ۱۴۴)

ف : استاد المحدثین امام اعمش شاگرد حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ و استاذ امام اعظم نے امام سے کہا : اے گروہ فقہا تم طبیب ہو اور ہم محدثین عطار ، اور اے ابو حنیفہ تم نے دونوں کنارے لئے،

اقول: وانما قال ما علمت الخ لانہ لم یرفی تلک الاحادیث موضعا لتلک الاحکام التی استنبطھا منھا الامام فقال ما علمت انک تاخذ ھذہ من ھذہ وقد قال الامام الاجل فــــ ۱ سفیٰن الثوری لامامنا رضی اللہ تعالی عنہما انہ لیکشف لک من العلم عن شیئ کلنا عنہ غافلون ۱؎

'' مجھے معلوم نہ تھا کہ ان احادیث پر تمہارا عمل بھی ہے '' امام اعمش نے یہ اس لئے فرمایا کہ احادیث میں انہیں امام کے استنباط کر دہ احکام کی کوئی جگہ نظر نہ آئی تو فرمایا کہ مجھے علم نہ تھا کہ یہ احکام تم ان احادیث سے اخذ کرتے ہو ۔(۵)امام اجل حضرت سفیان ثوری نے ہمارے امام رضی اللہ تعالی عنہ سے فرمایا آپ پر تو وہ علم منکشف ہوتا ہے جس سے ہم سبھی غافل ہوتے ہیں ۔

 (۱؎ الخیرات الحسان    الفصل الثانی        ایچ ایم سعید کمپنی     ص ۱۱۴)

فـــــ ۱ : امام اجل سفیٰن ثوری نے ہمارے امام سے کہا آپ کو وہ علم کھلتا ہے جس سے ہم سب غافل ہوتے ہیں اور فرمایا ابوحنیفہ کا خلاف کرنے والا اس کا محتاج ہے کہ ان سے مرتبہ میں بڑا اور علم میں زیادہ ہو اور ایسا ہونا دور ہے ۔

وقال(۶) ایضا ان الذی یخالف ابا حنیفۃ یحتاج الی ان یکون اعلی منہ قدراواوفر علما وبعید مایوجد ذلک ۲؎

 (۶) یہ بھی فرمایا جو ابو حنیفہ کی مخالفت کرے اسے اس کی ضرورت ہوگی کہ مرتبہ میں ابو حنیفہ سے بلند اور علم میں ان سے زیادہ ہو ، اور ایساہونا بہت بعید ہے ،

 (۲؎ الخیرات الحسان الفصل الثالث     مطبع استنبول ترکیہ    ص ۱۶۰)

وقال (۷)لہ ابن شبرمۃ عجزت النساء ان یلدن مثلک ماعلیک فی العلم ۳؎ کلفۃ وقال ابو سلیمٰن کان ابو حنیفۃ رضی اللہ تعالی عنہ عجبا من العجب وانما یرغب عن کلامہ من لم یقو علیہ ۴؎

ابن شبرمہ نے امام سے کہا ، عورتیں آپ کا مثل پیدا کرنے سے عا جز ہیں ، آپ کو علم میں ذرا بھی تکلف نہیں ابو سلیمان نے فرمایا : ابو حنیفہ ایک حیرت انگیز شخصیت تھے ، ان کے کلام سے وہی اعراض کرتا ہے جسے اس کی قدرت نہیں ہوتی۔

(۳؎ الخیرات الحسان     الفصل الثانی      ایچ ایم سعید کمپنی     ص ۱۰۹)
(۴؎ الخیرات الحسان     الفصل الثالث      ایچ ایم سعید کمپنی     ص ۸۲)

وعن علی بن فــــ ۲عاصم قال لووزن عقل ابی حنیفۃ بعقل نصف اھل الارض لرجح بھم ۱؎ ۔ ا ورعلی(۹) بن عاصم نے فرمایا: اگر نصف اہل زمین کی عقلوں کے مقابلے میں امام ابو حنیفہ کی عقل تولی جائے تو یہ ان سب پر بھاری پڑجائے ۔

 (۱؎ الخیرات الحسان      الفصل العشرون      ایچ ایم سعید کمپنی کراچی     ص۱۰۲ )

فـــــ ۲ : امام شافعی نے فرمایا تمام جہاں میں کسی کی عقل ابو حنیفہ کے مثل نہیں۔ امام علی بن عاصم نے کہا " اگر ابو حنیفہ کی عقل تمام روئے زمین کے نصف آدمیوں کی عقلوں سے تولی جائے ابو حنیفہ کی عقل غالب آئے۔ امام بکر بن حبیش نے کہا : اگر ان کے تمام اھل زمانہ کی مجموع عقلوں کے ساتھ وزن کریں تو ایک ابو حنیفہ کی عقل ان تمام ائمہ و اکابرو مجتہدین و محدثین و عارفین سب کی عقل پر غالب آئے ۔

وقال الشافعی رضی اللہ تعالی عنہ ماقامت النساء عن رجل اعقل من ابی ۲؎ حنیفۃ وقال بکر بن حبیش لوجمع عقلہ وعقل اھل زمنہ لرجح عقلہ علی عقولھم۳؎ الکل من الخیرات الحسان۔ امام شافعی(۱۰) رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا ، ابو حنیفہ سے زیادہ صاحب عقل عورتوں کی گو د میں نہ آیا یعنی جہاں میں کسی کی عقل ان کے مثل نہیں بکر (۱۱)بن حبیش نے کہا : اگر ابو حنیفہ کی عقل او ران کے زمانے والوں کی عقل جمع کی جائے تو ان سب کی عقلوں کے مجموعہ پر ان کی عقل غالب آجائے یہ سبھی اقوال الخیرات الحسان سے نقل ہوئے۔

 (۲؎ الخیرات الحسان،الفصل العشرون ،ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ،ص۱۰۲ )
 (۲؎ الخیرات الحسان،الفصل العشرون ،ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ،ص۱۰۲ )

وعن محمد بن رافع عن یحیی بن ادم قال ماکان شریک و داؤد الا اصغر غلمان ابی حنیفۃ ولیتھم کانوا یفقھون مایقول۴؎ محمد بن رافع راوی ہیں کہ یحیی بن آدم فرماتے ہیں ، شریک اور دواؤد حضرت ا بو حنیفہ کی بارگاہ کے سب سے کمسن طفل مکتب ہی تو تھے ، کاش لوگ ان کے اقوال کو سمجھ پاتے،

 (۴؎ مناقب الامام اعظم للکردری مقولہ الامام جعفر الصادق الخ      مکتبہ اسلامیہ کوئٹہ     ص ۱ / ۹۸ )

وعن سہل بن مزاحم وکان من ائمۃ مرو انما خالفہ من خالفہ لانہ لم یفھم ۵؎ قولہ ھذان عن مناقب الامام الکردری، (۱۳)مروکے امام بزرگ سہل بن مزاحم فرماتے ہیں جس نے بھی ان کی مخالفت کی ، اس کا سبب یہی ہے کہ ان کے اقوال کو سمجھ نہ سکا ، یہ دونوں قول مناقب امام کر دری سے منقول ہیں،

 (۵؎مناقب الامام اعظم للکردری مقولہ الامام جعفر الصادق الخ      مکتبہ اسلامیہ کوئٹہ     ص ۱ / ۹۸)

وفی میزان الشریعۃ الکبری لسیدی العارف الامام الشعرانی سمعت سیدی فــ۱علیا الخواص رضی اللہ تعالی عنہ یقول مدارک الامام ابی حنیفۃ دقیقۃ لایکاد یطلع علیھا الا اھل الکشف من اکابرالاولیاء اھ ۱؎

سیدی (۱۴)عارف باللہ امام شعرانی کی میزان الشریعۃ الکبری میں ہے ، میں نے سیدی علی خواص کو فرماتے سنا کہ امام ابو حنیفہ کے مدارک اتنے دقیق ہیں کہ اکابر اولیا میں سے اہل کشف کے سوا کسی کو ان کی اطلاع نہیں ہو پاتی ، اھ ۔

(۱؎ میزان الشریعۃ الکبریٰ فصل فیما نقل عن الامام احمدمن ذمۃ الرای الخ دار الکتب العلمیہ بیروت ص ۱ / ۷۶)

فـــــ ۱ : امام شعرانی شافعی اپنے پیرو مرشد حضرت سیدی علی خواص شافعی سے راوی کہ امام ابوحنیفہ کے مدارک اتنے دقیق ہیں کہ اکابر اولیاء کے کشف کے سوا کسی کے علم کی وہاں تک رسائی معلوم نہیں ہوتی.

قولہ شحنوا کتبھم بنصب الادلۃ۲؎ علامہ شامی : حضرات مشائخ نے دلائل قائم کر کے اپنی کتابیں بھردی ہیں ۔

 (۲؎ شرح عقود رسم المفتی رسالہ من رسائل ابن عابدین سہیل اکیڈمی لاہور ۱ /۲۹)

اقول : درایۃ فـــ۲ لاروایۃ واین الدرایۃ من الدرایۃ۔ ساری دلیلیں درایۃ قائم کی ہیں ، روایۃ نہیں ، اب ان کی درایت کو امام کی درایت سے کیا نسبت؟

فــــ ۲ : معروضۃ علی العلامۃ ش

قولہ ثم یقولون الفتوی علی قول ابی یوسف مثلا ۳؎ علامہ شامی: اس کے بعد بھی یہ لکھتے ہیں کہ فتوٰی مثلا امام ابو یوسف کے قول پر ہے

 (۳؎ شرح عقود رسم المفتی رسالہ من رسائل ابن عابدین سہیل اکیڈمی لاہور ۱/ ۲۹)

اقول:  لانھم فــــــ ۳لم یظھر لھم ما ظھر للامام وھم اھل النظر فلم یسعھم الااتباع ماعن لھم وذلک قول الامام لایحل لاحد ان یفتی الخ ولو ظھر لھم ما ظھر لہ لا توا الیہ مذعنین اقول:  یہ اس لئے کہ ان پر وہ دلیل ظاہر نہ ہوئی جو امام پر ظاہر تھی ، اور یہ حضرات اہل نظر ہیں اس لئے انہیں اسی دلیل کی پیروی کرنی تھی جو ان پر ظاہر ہوئی ، کیونکہ خود امام کاارشاد ہے کہ ہمارے ماخذ  کی دریافت کے بغیر کسی کو ہمارے قول پر افتاء روا نہیں ۔ اگر ان مشائخ پر بھی وہ دلیل ظاہر ہوتی جو امام پر ظاہر ہوئی تو بلا شبہ یہ تا بعدار ہو کر حاضرہوتے ۔

فــــ ۳ : معروضۃ علیہ

قولہ فعلینا حکایۃ ما یقولونہ ۱؎ علامہ شامی: تو ہمارے ذمے یہی ہے کہ حضرات مشائخ کے اقوال نقل کردیں۔

 (۱؎ شرح عقود رسم المفتی رسالہ من رسائل ابن عابدین سہیل اکیڈمی لاہور ۱/ ۲۹)

اقول:  فــ ۱ ھذا علی من ترک تقلیدہ الی تقلیدھم اما من قلدہ فعلیہ حکایۃ ما قالہ والاخذ بہ ۔ اقول:  یہ اس کے ذمے ہوگا جس نے امام کی تقلید چھوڑکر مشائخ کی تقلیداختیار کرلی ہو ،مقلد امام کے ذمے تو وہی نقل کرنا اور اسی کو لینا ہے جو امام نے فرمایا۔

فــــ ۱ : معروضۃ علیہ

قولہ لانھم ھم اتباع المذھب ۲؎ علامہ شامی : اس لئے کہ یہی حضرات مذہب کے متبع ہیں۔

 (۲؎ شرح عقود رسم المفتی رسالہ من رسائل ابن عابدین سہیل اکیڈمی لاہور ۱/ ۲۹)

اقول: فالمتبوع فـــ ۲ احق بالاتباع من الاتباع قولہ نصبوا انفسھم لتقریرہ ۳؎ اقول: ایسا ہے تو متبو ع ، تا بع سے زیادہ مستحق اتباع ہے ۔علامہ شامی: ان حضرات نے مذہب کے اثبات و تقریر کی ذمہ داری اٹھا رکھی ہے ۔

 (۳؎ شرح عقود رسم المفتی رسالہ من رسائل ابن عابدین سہیل اکیڈمی لاہور ۱/ ۲۹)

فــــ ۲ : معروضۃ علیہ

اقول علی الرأس فـــ ۳ والعین وانما الکلام فی تغییرہ۔ اقول بہ سر و چشم ! یہا ں تو کلام تغییر مذہب سے متعلق ہے ۔

فــــ ۳ : معروضۃ علیہ

قولہ عن العلامۃ قاسم کما لو افتوا فی حیاتھم ۱؎ علامہ شامی: بقول علامہ قاسم جیسے ان حضرات کی اپنی حیات میں فتوی دینے کی صورت میں ہوتا ۔

 (۱؎ شرح عقود رسم المفتی رسالہ من رسائل ابن عابدین سہیل اکیڈمی لاہور ۱/ ۲۹)

اقوال : اولا رحمک اللہ فـــ ۱ ارأیت انکان الامام حیا فی الدنیا وھؤلاء احیاء وافتی وافتوا ایاکنت تقلد اقول : اولا خدا آپ پررحم فرمائے ، بتائے اگر امام دنیا میں باحیات ہوتے اور یہ حضرات بھی با حیات ہوتے ، پھر امام بھی فتوی دیتے اور یہ بھی فتوی دیتے تو آپ کس کی تقلید کرتے ؟

فــــ ۱: معروضۃ علیہ

وثانیا (۲) انما کلام العلامۃ فیما فیہ الرجوع الی فتوی المشائخ حیث لاروایۃ عن الامام اواختلف الروایۃ عنہ او وجد شیئ من الحوامل الست المذکورۃ فی الخامسۃ فانہ عین تقلید الامام۔

علامہ قاسم کا کلام صرف ان مسائل سے متعلق ہے جن میں فتوے مشائخ کی جانب ہی رجوع کرنا ہے اس لئے کہ ان مسائل میں امام سے کوئی روایت ہی نہیں ، یا امام سے روایت مختلف آئی ہے ،یا ان چھ اسباب میں سے کوئی سبب موجود ہے جن کا ذکر مقدمہ پنجم میں گزرا کہ یہ تو خود اما م ہی کی تقلید ہے ۔

فــــ ۲ : معروضۃ علیہ

وانا آت فــ۳ علیہ ببینۃ عادلۃ منکم ومن نفس العلامۃ قاسم فھو اعلم بمرادہ قلتم فی شرح فــ۴ عقودکم قال العلامۃ المحقق الشیخ قاسم فی تصحیحہ ان المجتھدین لم یفقدوا حتی نظر وافی المختلف و رجحو او صححوا فشہدت مصنفاتھم بترجیح قول ابی حنیفۃ والاخذ بقولہ الافی مسائل یسیرۃ اختاروا الفتوی فیھا علی قولھما او قول احدھما وانکان الاٰخر مع الامام کما اختاروا قول احمدھما فیما لانص فیہ للامام للمعانی التی اشار الیھا القاضی بل اختاروا قول زفرفی مقابلۃ قول الکل لنحو ذلک وترجیحا تھم وتصحیحا تھم باقیۃ فعلینا اتباع الراجح والعمل بہ کما لوافتوافی حیاتھم اھ ۱؎

میں اس پر آپ ہی کی اور خود علامہ قاسم کی شہادت عادلہ پیش کرتا ہوں انہیں اپنی مراد کا زیادہ علم ہے شرح عقود میں آپ رقم طر از ہیں کہ علامہ محقق شیخ قاسم نے اپنی تصحیح میں لکھا ہے مجتہدین ہمیشہ ہوتے رہے یہاں تک کہ انہوں نے مقام اختلاف میں نظر کر کے تر جیح وتصحیح کاکام سرانجام دیا ، ان کی تصنیفات شاہد ہیں کہ تر جیح امام ابو حنیفہ ہی کے قول کو حاصل ہے اور ان ہی کا قول ہر جگہ لیا گیا ہے ؛مگر صرف چند مسائل ہیں جن میں ان حضرات نے صاحبین کے قول پر ، یا صاحبین میں سے کسی ایک کے قول پر ، اگرچہ دوسرے صاحب امام کے ساتھ ہوں فتوٰی اختیار کیا ہے جیسے انہوں نے صاحبین میں سے کسی ایک کا قول اس مسئلے میں اختیار کیا ہے جس میں امام سے کوئی صراحت وارد نہیں ، اس اختیار کے اسباب وہی ہیں جن کی جانب قاضی نے اشارہ کیا ، بلکہ کسی ایسی ہی وجہ کے تحت انہوں نے سب کے قول کے مقابلہ میں امام زفر کا قول اختیار کیا ہے ، ان حضرات کی ترجحیں اور تصحیحیں آج بھی باقی ہیں تو ہمارے ذمے یہی ہے کہ راجح کی پیر وی کریں او راسی پر کا ربند ہوں جیسے ان حضرات کے اپنی حیات میں ہمیں فتوے دینے کی صورت میں ہوتا ،اھ

 (۱؎ شرح عقود رسم المفتی،رسائل ابن عابدین،سہیل اکیڈمی لاہور    ۱ /۲۷)

فــــ ۳ : معروضۃ علیہ فــــ ۴: معروضۃ علیہ

وکلام الامام القاضی سیأتی عند سرد النقول بتوفیق اللہ تعالی صرح فیہ ان العمل بقولہ رضی اللہ تعالی عنہ وان خالفاہ الالتعامل بخلافہ او تغیرالحکم بتغیر الزمان فتبین وللہ الحمد ان قول العلامۃ قاسم علینا اتباع مارجحوہ انما ھو فیما لانص فیہ للامام ویلحق بہ ما اختلف فیہ الروایۃ عنہ اوفی احدے الحوامل الست فاحفظہ حفظا جیدا ففیہ ارتفاع الحجب عن آخرھا وللہ الحمد حمدا کثیرا طیبامبارکا فیہ ابدا وھذہ عبارۃ العلامۃ قاسم التی اوردھا السید ھھنا ملتقطا من اولہا واٰخر ھا لو تأملھا تما مالما کان لیخفی علیہ الامر وکثیرا ما تحدث امثال الامور لاجل الاقتصار وباللہ العصمۃ ۔

امام قاضی کا کلام جلد ہی بیان نقول کے سلسلے میں بتو فیقہ تعالی آرہا ہے ، اس میں یہ تصریح ہے کہ عمل قول امام رضی اللہ تعالی عنہ پر ہوگا اگرچہ صاحبین ان کے خلاف ہو ں مگر اس صورت میں جب کہ تعامل اس کے بر خلاف ہو یا تغیر زمان کی وجہ سے حکم بدل گیا ہو تو بحمد ہ تعالی یہ روشن ہوگیا کہ علامہ قاسم کا ارشاد (ہمارے ذمہ اسی کی پیروی ہے جسے ان حضرات نے راجع قرار دے دیا ) صرف اس صورت سے متعلق ہے جس میں امام سے کوئی صراحت وارد نہ ہو ، او ر اسی سے ملحق وہ صورت بھی ہے جس میں امام سے روایت مختلف آئی ہو یا ان چھ اسباب میں سے کوئی ایک موجود ہو اسے خوب اچھی طر ح ذہن نشین کر لینا چاہئے اس لئے کہ اس سے سارے پردے بالکل اٹھ جاتے ہیں ، اور خدا ہی کے لئے حمد ہے کثیر ، پاکیزہ ، بابرکت ، دائمی حمد ۔علامہ قاسم کی عبارت جو علامہ شامی نے اس مقام پر اول آخر سے التقاط کر کے نقل کی ہے اگر ان کی کامل عبارت پر غور کر لیتے تو حقیقت امر ان پرپو شیدہ نہ رہ جاتی ، با رہا اس طر ح کا خلل محض اقتصار کی وجہ سے پیدا ہوجاتا ہے ، وباللہ العصمۃ ، اور محفو ظ رکھنا خدا ہی سے ہے ،

وثالثا علی فــــ۱ فرض الغلط لواراد العلامۃ قاسم ما تریدون لکان محجوجا بقول شیخہ المحقق حیث اطلق الذی نقلتموہ وقبلتموہ من ردہ مرارا وعلی المشائخ افتاء ھم بقولھا قائلا انہ لایعدل عن قولہ الالضعف دلیلہ۔

وثالثا بفرض غلط اگر علامہ قاسم کا مقصود وہی ہوتاجو آپ مراد لے رہے ہیں تو یہ ان کے استا د محقق علی الاطلاق کے اس ارشاد کے مقابلہ میں مرجوع ہوتا جسے آپ نے بھی نقل کیا او رقبول کیا کہ انہوں نے قول صاحبین پر افتا کے باعث بارہا مشائخ کا رد کیا ہے اور فرمایا ہے کہ: قول امام سے عدول نہ ہوگا سوا اس صورت کے کہ اس کی دلیل کمزور ہو ۔

فــــ ۳ : معروضۃ علیہ

قولہ عن العلامۃ ابن الشلبی الا اذا صرح احد من المشائخ بان الفتوی علی قول غیرہ ۱؎ ۔ قولہ علامہ شامی: علامہ ابن شلبی سے نقل کرتے ہوئے مگر اس صورت میں جب کہ مشائخ میں سے کسی نے یہ صراحت کر دی ہو کہ فتوی امام کے سوا کسی اور کے قول پر ہے ،

 (۱؎ شرح عقود رسم المفتی    رسائل ابن عابدین    سہیل اکیڈمی لاہور    ۱ /۲۷)

اقول:  اولا فــــ۱سائرھم موافقون لھذا المفتی اومخالفون لہ اوساکتون فلم یرجحوا شیئا حتی فی التعلیل والجدل ولا بوضعہ متنا اوالاقتصار اوالتقدیم او غیر ذلک من وجوہ الاختیار اقول اولا : (۱) دیگر مشائخ اس مفتی کے موافق ہیں(۲) یا اس کے مخالف ہیں (۳) یا ساکت ہیں کہ انہوں نے کسی قول کو ترجیح نہ دی، یہاں تک کہ کسی قول کی نہ علت پیش کی، نہ اس پر بحث کی ، نہ اسے اپنی تصنیف میں متن بنا یا ، نہ کسی ایک پر اقتصار کیا ، نہ وجوہ اختیار و تر جیح میں سے کوئی او رصورت اپنائی ،

فــــ ۱ : معروضۃ علی العلامۃ ش

الثالث لم یقع والثانی ظاہر المنع وکیف یعدل عن قول الامام المرجح من عامۃ اصحاب الترجیح بفتوی رجل واحد قال فی الدر فی تنجس البئر قالا من وقت العلم فلا یلزمھم شیئ قبلہ قیل وبہ یفتی ؎۱ اھ

یہ تیسری صورت (سکوت ) واقع ہی نہیں اور دوسری صورت میں کلام ابن شلبی پر منع ظاہر ہے (یہ وہ صورت ہے کہ ایک شخص نے قول امام کے بجائے قول دیگر پر فتوی دیا باقی تمام حضرات قول امام ہی پر فتوے دیتے ہیں اور اس مفتی کے مخالف ہیں) تمام اصحاب تر جیح کی جانب سے تر جیح یافتہ قول امام سے محض ایک شخص کے فتوے کے باعث انحراف کیوں ہو گا ؟  در مختار کے اندر کنواں ناپاک ہونے کے مسئلے میں صاحبین فرماتے ہیں جب سے علم ہوا اس وقت سے ناپاک مانا جائے گا تو اس سے قبل لوگوں کو کچھ لازم نہ ہوگا کہا گیا : اسی پر فتوی ہے ۔اھ

 (۱؎ الدرالمختار کتاب الطہارۃ فصل فی البئر دار احیاء التراث العربی بیروت۱ / ۱۴۶)

قال ش قائلہ صاحب عــــہ الجوھرۃ وفی فتاوی العتابی قولھما ھو المختار اھ۲؎ علامہ شامی فرماتے ہیں ، اس کے قائل صاحب جو ھرہ ہیں ، فتاوی عتابی میں ہے قول صاحبین ہی مختار ہے ۔ اھ

عــہ : اقول لم ارہ فیھا لعلہ فی سراجہ الوہاج ، واللہ تعالٰی اعلم ۱۲ منہ ؂ ۔ اقول : میں نے جوہرہ میں اسے نہ دیکھا ، شاید یہ ان کی سراج وہاج میں ہو ۱۲ منہ

(۲؎ الدرالمختار کتاب الطہارۃ فصل فی البئر دار احیاء التراث العربی بیروت۱ / ۱۴۶)

قال ط وانما عبر بقیل لرد العلامۃ قاسم لہ لمخالفتہ لعامۃ الکتب فقد رجح دلیلہ فی کثیر منھا وھو الاحوط نھراھ۳ ؎ طحطاوی فرماتے ہیں : قیل (کہا گیا ) سے تعبیر اس لئے فرمائی کہ علامہ قاسم نے اس کی تردید کی ہے کیونکہ یہ عامہ کتب کے خلاف ہے کثیر کتا بو ں میں دلیل اما م کو ترجیح دی گئی ہے وہی احوط بھی ہے ، نہر ، اھ

 (۳؎ حاشیہ طحطاوی علی الدرالمختار فصل فی البئر المکتبۃ العربیہ کوئٹہ ۱ / ۱۴۶)

بل قال فی الدر لاحد بشبھۃ العقد عندالامام کوط ء ۲ محرم نکحھا وقالا ان علم الحرمۃ حد و علیہ الفتوی خلاصۃ لکن المرجح فی جمیع الشروح قول الامام فکان الفتوی علیہ اولی قالہ قاسم فی تصحیحہ لکن فی القھستانی عن المضمرات علی قولھما الفتوی اھ۱؎

بلکہ درمختار میں ہے : امام کے نزدیک شبہ عقد کی وجہ سے حد نہیں جیسے اس محرم سے وطی کی صورت میں جس سے نکاح کرلیا ہو ، صاحبین فرماتے ہیں اگر حرمت سے آگا ہ ہے تو حد ہوگی ، اسی پرفتوی ہے ، خلاصہ لیکن تمام شروح میں تر جیح یافتہ قول امام ہی ہے تو اس پر فتوی اولی ہے ،یہ علامہ قاسم نے اپنی تصحیح میں لکھا لیکن قہستانی میں مضمرات سے نقل ہے کہ صاحبین ہی کے قول پر فتوی ہے۔

 (۱؎ الدرالمختار کتاب الحدود باب الوط ء الذی یوجب الحد الخ مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۳۱۹)

قال ش استدراک علی قولہ فی جمیع الشروح فان المضمرات من الشروح وفیہ ان مافی عامۃ الشروح مقدم۲؎ اھ علامہ شامی فرماتے ہیں انکے لفظ '' تمام شروح'' پر یہ استدارک ہے اس لئے کہ مضمرات بھی شرو ح میں سے ہے ، اس پر کلام یہ ہے کہ جو عامہ شرو ح میں ہے مقدم وہی ہوگا ۔

 (۲؎ ردالمحتار کتاب الحدود باب الوط ء الذی یوجب الحد الخ دار احیاء التراث العربی بیروت ۳ / ۱۵۴)

فھھنا جعلت الفتاوی علی قولھما الفتوی و وافقھا بعض الشروح المعتمدۃ ولم یقبل لان عامۃ الشروح رجحت دلیلہ بقی الاول وھو مسلم ولا شک ولا یوجد الا فی احدی الصور الست وح یکون عدولا الی قولہ لاعنہ کما علمت

یہا ں کتب فتاوی نے فتوی قول صاحبین پر رکھا ، بعض معتمد شروح نے بھی ان کی موافقت کی مگر اسے قبول نہ کیا گیا اس لئے کہ عامہ شروح نے دلیل امام کو ترجیح دی ۔ رہ گئی پہلی صورت (کہ دیگر مشائخ بھی اس مفتی کے ہم نوا ہیں جس نے بتایا کہ فتوی امام کے علاوہ کسی اور کے قول پر ہے ) یہ بلا شبہ مسلم ہے ، اور اس کا وجود ان ہی چھ صورتوں میں سے کسی ایک میں ہوگا ، اس صورت میں خود قول امام کی جانب رجوع ہوتا ہے ، اس سے انحراف نہیں ہوتا جیسا کہ معلوم ہوا ۔

وثــــانـــــیا بوجہ فــــ اٰخر ارأیت ان قال الامام قولا وخالفہ احد صاحبیہ ولا روایۃ عن الاٰخر فافتی احد من المشائخ بقول الصاحب فان وافقہ الباقون فقد مر اوخالفوہ فظاھر وکذا ان خالف بعضھم ووافق بعضھم لمامر فی السابعۃ

وثــــانـــــیا : بطرز دیگر ، بتائے کہ اگر امام نے کوئی با ت کہی او رصاحبین میں سے ایک نے ان کی مخالفت کی ، دو سرے سے کوئی روایت نہ آئی اب مشائخ میں سے کسی نے اس ایک صاحب کے قول پر فتوی دیا ، تو اگر باقی مشائخ نے بھی موافقت فرمائی تو اس کا بیان گزرا یا د یگر حضرات نے مخالفت فرمائی تو اس کا حال ظاہر ہے ۔ یوں ہی اگر بعض نے مخالفت کی اور بعض نے موافقت کی ، وجہ مقدمہ سابعہ میں بیان ہوئی ،

فــــ ۳ : معروضۃ علیہ

اما ان لم یرد عن الباقیین شیئ وھی الصورۃ التی انکرنا وقوعھا فھل یجب ح اتباع تلک الفتوی ام لا علی الثانی این قولکم علینا اتباع ما صححوہ کمالو افتوا فی حیاتھم فان فتوی الحیاۃ واجبۃ العمل علی المستفتی وانکان المفتی واحدا لم یخالفہ غیرہ ولیس لہ التوقف عن قبولھا حتی یجتمعوا اویکثروا وعلی الاول لم یجب العدول عن قول الامام الی قول صاحبہ الا لترجح رأی صاحبہ بانضمام رأی ھذا المفتی الیہ اذلیس ھذا الافتاء قضاء یرفع الخلاف بل ولا افتاء مفت لمن اتاہ من مستفت انما حاصلہ ان الرأی الفلانی ارجح عندی ، فاذن ترجح رأی احد الصاحبین بانضمام رأی الاٰخرا علی واعظم لان کلامنھما اعلم واقدم من جمیع من جاء بعدھما من المرجحین فکل ما خالف فیہ الامام صاحباہ وجب فیہ ترک قولہ الی قولھما وھو خلاف الاجماع ،

لیکن اگر با قی حضرات سے کچھ وارد ہی نہ ہو ا یہی وہ صورت ہے جس کے وقوع سے ہم نے انکار کیا ، تو اس وقت اس فتوے کا اتباع واجب ہے یا نہیں ؟ بر تقدیر ثانی آپ کا وہ قول کہاں گیا کہ ہمارے ذمہ اسی کی پیروی ہے جسے مشائخ نے صحیح قرار دے دیا جیسے اس صورت میں ہوتا جب وہ ہمیں اپنی حیات میں فتوی دیتے اس لئے کہ زندگی کا فتوی مستفتی پر واجب العمل ہے اگرچہ مفتی ایک ہی ہو ، جس کا دوسرا کوئی مخالف نہ ہو ، اور مستفتی کو یہ حق حاصل نہیں کہ اس فتوے کو قبول کرنے سے تو قف کر ے یہاں تک کہ سب فتوی دینے والے مجتمع ہوجائیں یا کثیر ہوجائیں تب مانے۔

بر تقدیر اول (یعنی قول امام کو چھوڑ کر دیگر کو ترجیح دینے والے فتوے کی اتباع واجب ہے ) قول اما م چھوڑ کر ان کے شاگرد کے قول کو لینا کیوں واجب ہوا؟صرف اس لئے کہ ان کے شاگرد کی رائے اس مفتی کی رائے سے مل کر راجح ہوگئی ، کیونکہ یہ فتوی کوئی اختلاف ختم کرنے والا فیصلہ قاضی نہیں، بلکہ اس کی حیثیت اس افتا کی بھی نہیں جو آکر سوال کرنے والے کسی مستفتی کے لئے کسی مفتی سے صادر ہوا ، اس فتوے کا حاصل صرف اس قدر ہے کہ فلاں رائے میرے نزدیک زیادہ راجح ہے جب ایسا ہے تو اگر صاحبین میں سے ایک صاحب کی رائے کے ساتھ دو سرے صاحب کی رائے بھی مل جائے تو اس کا راجح ہونا (کسی بعد کے مفتی کی رائے ملنے والی صورت کی بہ نسبت) زیادہ بالا تر اور عظیم تر ہوگا ، اس لئے کہ صاحبین میں سے ہر ایک اپنے بعد آنے والے تمام مرجحین سے زیادہ علم والے اور زیادہ مقدم ہیں تو یہ کہئے کہ جہاں بھی صاحبین نے امام کی مخالفت کی ہو وہاں امام کا قول چھوڑ کر صاحبین کا قول لینا واجب ہے ، یہ خلاف اجماع ہے (کوئی اس کا قائل نہیں )

وثــــــالـثا علی فــــ التسلیم معکم ابن الشلبی وانظرو امن معنا اٰخر الکلام وثــــــالـثا : بر تقدیر تسلیم آپ کے ساتھ صر ف ابن ا لشلبی ہیں ، او رآخر کلام میں دیکھئے ہمارے ساتھ کون لوگ ہیں۔

فــــ : معروضۃ علیہ

قولہ فلیس للقاضی ان یحکم بقول غیرا بی حنیفۃ فی مسألۃ لم یرجح فیھا قول غیرہ ورجحوا فیھا دلیل ابی حنیفۃ علی دلیلہ۔

علامہ شامی : قاضی کو غیر امام کے قول پر کسی ایسے مسئلہ میں فیصلہ کرنے کا حق نہیں جس میں غیر امام کے قول کو تر جیح نہ دی گئی ہو او رخود امام ابو حنیفہ کی دلیل کو دوسرے کی دلیل پر تر جیح ہو ۔

اقــول :  فــــ ۱ ھذا تعد فوق مامر فان مفادہ ان مالم یرجح فیہ دلیل الامام فللقاضی ومثلہ المفتی العدول عنہ الی قول غیرہ وان لم یذیل ایضا بترجیح فانہ بنی الحکم بعدم العدول علی وجود وعدم وجود ترجیح دلیلہ وعدم ترجیح قول غیرہ فمالم یجتمعا حل العدول ولم یقل باطلاقۃ الثقات العدول فانہ یشمل مااذارجعا اولم یرجع شیئ منھما والعمل فیھما بقول الامام لاشک مر ا لاول فی السابعۃ (۲) وقال سیدی فــ ۲ط فی زکاۃ الغنم مسألۃ صرف الہالک الی العفو من المعلوم انہ عند عدم التصحیح لا یعدل عن قول صاحب المذھب۱؎

اقول : پہلے جو گز ر چکا یہاں اس سے بھی آگے تجاوز کیا ، کیوں کہ اس کا مفاد یہ ہے کہ جہاں دلیل امام کو تر جیح نہ دی گئی وہاں قاضی اور اسی طرح مفتی کو قول امام سے دوسرے کی قول کی طر ف عدول جائز ہے اگرچہ اس دوسرے پر بھی ترجیح کا نشان نہ ہو ، یہ مفاد اس طر ح ہو ا کہ انہوں نے عدم عدول کے حکم کی بنیادایک وجود او رایک عدم پر رکھی ہے  (۱) دلیل امام کی ترجیح کا وجود ہو (۲) او رقول غیر کی ترجیح کا عدم ہو ، تو جب تک دو نوں چیز یں جمع نہ ہوں عدول جائز ہوگا ، حالانکہ ثقات عدول (معتمد و مستند حضرات ) اس اطلاق کے قائل نہیں ، کیوں کہ ان دو صورتوں کو بھی شامل ہے (۱) قول امام اور قول غیر دونوں کو ترجیح ملی ہو (۲) دو نوں میں سے کسی کو ترجیح نہ دی گئی ہو بلاشبہ ان دونوں صورتوں میں قول امام پر ہی عمل ہوگا ، اول کا بیان مقدمہ ہفتم میں گزرا ، دو م سے متعلق ملاحظہ ہو ، سیدی طحطاوی باب زکاۃ الغنم میں مسئلہ صرف الہالک الی العفو کے تحت رقم طراز ہیں معلوم ہے کہ عدم تصحیح کی صورت میں صاحب مذہب کے قول سے عدول نہ ہوگا ،

(۱؎ حاشیہ الطحطاوی علی الدر المختار    کتاب زکوٰۃ باب زکوۃ الغنم    المکتبۃ العربیہ کوئٹہ ۱ /۴۰۲)

فــــ ۱ : معروضۃ علیہ و علی العلامۃ ابن الشبلی
فــــ ۲ : فائدہ : حیث لا تصحیح لایعدل عن قول الامام۔

قــولـہ فی المنحۃ اصحاب المتون قدیمشون علی غیر مذھب الامام۱؎ قولہ علامہ شامی: منحۃ الخالق میں متون مذہب کے مصنفین بعض اوقات مذہب امام کے سوا کوئی اور اختیار کرتے ہیں۔

 (۱؎ منحۃ الخالق علی بحرالرائق کتاب القضاء فصل یجوز تقلید من شاء الخ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۶ /۲۶۹)

اقول :  نعم فــــ ۱فی احدی الوجوہ الستۃ وھو عین قول الامام اما فی غیرھا فـــ ۲ فان مشی بعضھم لم یقبل کما سیأتی فی مسألۃ الشفق ومثلھا تفسیرا لمصر کما یعلم من الغنیۃ شرح المنیۃ وقد فصلناہ فی فتاونا بما لا مزید علیہ اما ان یمشوا قاطبۃ علی خلاف قولہ من دون الحوامل الست فحاشا ، و من ادعی فلیبرز مثالا لہ ولو واحدا۔

ہاں چھ صورتوں میں سے کسی ایک میں ایسا کرتے ہیں ، یہ بعینہ قول امام ہوتا ہے ان کے علاوہ صورتوں میں اگر کوئی مصنف کسی دوسرے مذہب پر چلے تو قبول نہ کیا جائے گا ، جیسا کہ مسئلہ شفق میں اس کا بیان آرہا ہے ، اسی طر ح تفسیر '' مصر '' کا مسئلہ ہے جیسا کہ غنیہ شرح منیہ سے معلوم ہوتا ہے ، اور ہم نے اپنے فتا وی میں اسی کی اتنی تفصیل کی ہے جس پر اضافے کی گنجائش نہیں اب رہی یہ صورت کہ ان چھ اسباب کے بغیر تمام اصحاب متون قول امام کی مخالفت پر گام زن ہوں تو ایسا نہیں ہوسکتا ، اگر کوئی دعوی رکھتا ہے تو اس کی کوئی ایک ہی مثال پیش کردے،

فــــ ۱ : معروضۃ علیہ و علی العلامۃ ش
فــــ ۱ : فائدہ مشی متون علی خلاف قول الامام لا یقبل ۔

قولہ واذا افتی المشائخ بخلاف قولہ لفقد الدلیل فی حقھم فنحن نتبعھم اذھم اعلم۲؎۔ قولہ : علامہ شامی ، جب مشائخ مذہب نے اس دلیل کے فقدان کی وجہ سے جو ان کے حق میں شرط ہے، قول اما م کے خلاف فتوی دے دیا تو ہم ان ہی کا اتباع کریں گے اس لئے کہ انہیں زیادہ علم ہے

 (۲؎ منحۃ الخالق علی بحرالرائق کتاب القضاء فصل یجوز تقلید من شاء الخ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۶ /۲۶۹)

اقول: اولا ھو اعلم فــــ ۱ منھم ومن اعلم من اعلم من اعلم منھم فای الفریقین احق بالا تباع۔ امام کو ان سے بھی زیادہ علم ہے او ران سے اعلم سے اعلم سے بھی زیادہ ، تو زیادہ قابل اعتماد کون ہے ؟

فــــ ۱ : معروضۃ علیہ

وثـــانــیا انظر الثانیۃ فــــ ۲ الدلیل فی حقھم التفصیلی وقد فقدوہ فی حقنا الاجمالی وقد وجدناہ فکیف نتبعھم ونعدل من الدلیل الی فقدہ ۔ مقدمہ دوم ملاحظہ ہو، ان کے حق میں دلیل تفصیلی ہے جو انہیں نہ ملی ، اور ہمارے حق میں اجمالی ہے جو ہمارے پاس موجود ہے تو کیسے ہم ان کی پیروی کریں اور دلیل چھوڑ کر فقدان دلیل کی طرف جائیں ؟

فــــ ۲ : معروضۃ علیہ

قولہ کیف یقال یجب علینا الافتاء بقول الامام لفقد الشرط وقد اقرانہ فقد الشرط ایضا فی حق المشائخ۱؎ علامہ شامی : یہ بات کیسے کہی جاتی ہے کہ ہمارے اوپر قول امام  پر ہی فتوی دیناواجب ہے اس لئے کہ ہمارے حق میں (قول امام پر افتا ء کی) شرط مفقود ہے حالاں کہ یہ بھی اقرار ہے کہ وہ شرط مشائخ کے حق میں بھی مفقود ہے ۔

 (۱؎ منحۃ الخالق علٰی بحرالرائق کتاب القضاء فصل یجوز تقلید من شاء الخ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۶ /۲۶۹)

اقول شبھۃ فـــ۳ــ ۱ کشفناھا فی الثالثۃ۔ اقول : یہ محض ایک شبہ ہے جسے ہم مقدمہ سوم میں منکشف کر آئے ہیں ۔

فــــ ۳ : معروضۃ علیہ

قولہ فھل تراھم ارتکبوا منکرا۲؎۔قولہ : علامہ شامی : توکیا یہ خیال ہے کہ ان حضرات نے کسی ناروا امر کا ارتکاب کیا ؟

 (۱؎ منحۃ الخالق علٰی بحرالرائق کتاب القضاء فصل یجوز تقلید من شاء الخ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۶ /۲۶۹)

اقول :  فــــ ۴ مبنی علی الذھول عن فرق الموجب فی حقنا وحقھم وان شئت الجمع مکان الفرق فالجامع ان کل من فارق الدلیل فقد اتی منکرا فدلیلنا قول امامنا وخلافنا لہ منکر ودلیلھم ماعن لھم فی المسألۃ فمصیرھم الیہ لاینکر ۔

اقول:  واجب کرنے والی چیز ہمارے حق میں اور ہے ان کے حق میں اور ، اعتراض مذکور اسی فرق سے ذہول پر مبنی ہے ، اگر مقام فر ق کو جمع کرنا چاہیں تو جامع یہ ہے کہ جو بھی دلیل سے الگ ہوا وہ منکر وناروا کا مرتکب ہوا ، اب ہماری دلیل ہمارے اما م کا قول ہے او رہمارے لئے اس کی مخالفت ناروا ہے ، اور ان حضرات کی دلیل وہ ہے جو کسی مسئلہ میں ان پر منکشف ہو، تو اس دلیل کی طرف ان کا رجوع نارو ا نہیں ۔

فــــ ۴ : معروضۃ علیہ

قولہ وقد مشی علیہ الشیخ علاؤالدین۱؎۔قولہ : علامہ شامی: اسی پر شیخ علاء الدین گام زن ہیں

 (۱؎ منحۃ الخالق علی حاشیہ بحرالرائق  کتاب القضاء فصل یجوز تقلید من شاء الخ   سعید کمپنی کراچی    ۶ /۲۶۹)

اقول :  انما فـــ ۱ مشی فی صدرالکتاب وفی کتاب القضاء معا علی ان الفتوی علی قول الامام مطلقا کما سیأتی وقولہ اما نحن فعلینا اتباع مارجحوہ فما خوذ من التصحیح کما افد تموہ فی ردالمحتار۲؎ وقد کان صدر کلام الدر ھذا وحاصل ماذکرہ الشیخ قاسم فی تصحیحہ۳؎ الخ وقد علمت ماھو مراد التصحیح الصحیح والحمد للہ علی حسن التنقیح ۔

اقول : در مختار کے شروع میں اور کتاب القضاء میں دونوں جگہ وہ اسی پر گام زن ہیں کہ فتوی مطلقا قول امام پر ہے جیساکہ آگے ان کا کلام آرہا ہے ، رہی ان کی یہ عبارت '' اما نحن فعلینا اتباع مار جحوہ ، ہمیں تو اسی کی پیروی کرنی ہے جسے ان حضرات نے راجح قرار دیا '' تو یہ تصحیح علامہ قاسم سے ماخوذ ہے جیسا کہ رد المحتار میں آپ نے افادہ فرمایا خود درمحتار ابتدائے کلام اسی طر ح ہے اور اس کا حاصل جو شیخ قاسم نے انپی تصحیح میں بیان کیا الخ  عبارت تصحیح کا صحیح مطلب کیا ہے یہ پہلے معلوم ہوچکا ہے ، اس خوبی تنقیح پر ساری حمد خداہی کے لئے ہے ۔

فــــ۱ : معروضۃ علیہ

 (۲؎ ردالمحتار خطبۃ الکتاب    احیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۵۳)
(۳؎ الدرالمختار خطبۃ الکتاب    مطبع مجتبائی دھلی ۱ / ۱۵)

اتینا علی ماوعدنا من سرد النقول علی ماقصدنا۔ اب ہم اپنے مقصودوموعود ، ذکر نقول ونصوص پر آتے ہیں۔

اقــــول : وباللہ التوفیق، ما ھوالمقرر عند ناقد ظھر من مباحثنا وتفصیلہ ان المسألۃ اما ان یحدث فیھا شیئ من الحوامل الست اولا علی الاول الحکم للحامل وھو قول الامام الضروری المعتمد علی الاطلاق سواء کان قولہ الصوری بل وقول اصحابہ وترجیحات المرجحین موافقالہ اولا علما منا ان لوحدث ھذا فی زمانھم لحکموا بہ فقول الامام الضروری شیئ لانظر معہ الی روایۃ ولا ترجیح بل ھوالقول الضروری للمرجحین ایضا فــــــ ولا یتقید ذلک بزمان دون زمان قال فی شرح العقود فان قلت العرف یتغیر مرۃ بعد مرۃ فلو حدث عرف اٰخرلم یقع فی الزمان السابق فھل یسوغ للمفتی مخالفۃ المنصوص واتباع المعروف الحادث؟ قلت نعم فان المتأخرین الذین خالفوا المنصوص فی المسائل المارۃ لم یخالفوہ الا لحدوث عرف بعد زمن الامام فللمفتی اتباع عرفہ الحادث فی الالفاظ العرفیۃ وکذا فی الاحکام التی بناھا المجتہد علی ما کان فی عرف زمانہ وتغیر عرفہ الی عرف اٰخر اقتداء بھم لکن بعد ان یکون المفتی ممن لہ رأی ونظر صحیح ومعرفۃ بقواعد الشرع حتی یمیز بین العرف الذی یجوز بناء الاحکام علیہ وبین غیرہ۱؎

اقول : وباللہ التو فیق، ہمارے نزدیک جو مقرراور طے شدہ ہے وہ ہماری بحثوں سے ظاہر ہوگیا ، اس کی تفصیل یہ ہے کہ مسئلہ میں ان چھ اسباب تغیر سے کوئی رونما ہے یا نہیں ،اور برتقدیر اول حکم اس سبب کے تحت ہوگا ، اور یہ امام کاقول ضروری ہوگا جس پر مطلقا اعتماد ہے خواہ ان کا قول صوری ، بلکہ ان کے اصحاب کا قول اور مرجحین کی ترجیحات بھی اس کے موافق ہوں یا نہ ہوں کیونکہ ہمیں یہ معلوم ہے اگر یہ سبب ان حضرات کے زمانے میں رونما ہوتا وہ بھی اسی پر حکم دیتے ، اما م کا قول ضروری ایسا امر ہے جس کے ہوتے ہوئے نہ روایت پر نظر ہوگی نہ تر جیح پر بلکہ وہی مرجحین کا بھی قول ضروری ہے اس میں کسی زمانے کی پابندی بھی نہیں (فلاں زمانے میں سبب رونما ہو تو قول ضروری ہوگا اور فلاں زمانے میں نہ ہوگا ) علامہ شامی کی شر ح عقود میں ہے ، اگر یہ سوال ہو کہ عرف با ربار بدلتا رہتا ہے ، اگر کوئی ایسا عرف پیدا ہوجو زمانہ سابق میں نہ تھا تو کیا مفتی کے لئے یہ رواہے کہ منصوص کی مخالفت کرے اور عرف جدید کا اتبا ع کر ے ؟ میں جواب دو ں گا کہ ہا ں اس لئے کہ گزشتہ مسائل میں جن متا خرین نے منصوص کی مخالفت کی ہے ان کی مخالفت کی وجہ یہی ہے کہ زمانہ امام کے بعد کوئی اور عرف رونما ہوگیا ، تو ان کی اقتدا ء میں مفتی کا بھی یہ حق ہے کہ عرفی الفاظ میں اپنے عرف جدید کا اتباع کرے اسی طر ح ان احکام میں بھی جن کی بنیاد مجتہد نے اپنے زمانے کے عرف پر رکھی تھی او ر وہ عرف کسی اور عرف سے بدل گیا ، لیکن یہ حق اس وقت ملے گا جب مفتی صحیح رائے و نظر اور قواعد شرعیہ کی معرفت کا حامل ہو تا کہ یہ تمیز کرسکے کہ کس عرف پر احکام کی بنیاد ہوسکتی ہے اور کس پر نہیں ہوسکتی ۔

 (۱؎ شرح عقود  رسم المفتی من رسائل ابن عابدین    سہیل اکیڈمی لاہور    ۱ /۴۵)

فــــ : حدث وحکم ضروری لاحدی الحوامل الست لایتقید بزمان ۔

قال وکتبت فی ردالمحتارفی باب القسامۃ فیما لوادعی الولی علی رجل من غیر اھل المحلۃ وشھد اثنان منھم علیہ لم تقبل عندہ وقالا تقبل الخ نقل السید الحموی عن العلامۃ المقدسی انہ قال توقفت عن الفتوی بقول الامام ومنعت من اشاعتہ لما یترتب علیہ من الضرر العام فان من عرفہ من المتمر دین یتجاسر علی قتل النفس فی المحلات الخالیۃ من غیر اھلھا معتمدا علی عدم قبول شہادتھم علیہ حتی قلت ینبغی الفتوی علی قولھما لاسیما والاحکام تختلف باختلاف الایام انتھی ۱؎

فرماتے ہیں :میں نے رد المحتار باب القسامۃ میں ، اس مسئلہ کے تحت کہ اگر غیر اہل محلہ کے کسی شخص پر قتل کا دعوی ہوا اور اہل محلہ میں سے دو مردوں نے اس پر گواہی دی تو حضرت امام کے نزدیک یہ گواہی قبول نہ کی جائے گی ، اور صاحبین فرماتے ہیں کہ قبول کی جائے گی الخ ، یہ لکھا ہے کہ سید حموی ، علامہ مقدسی سے نقل فرماتے ہیں کہ ان کابیان ہے کہ میں نے قول امام پر فتوی دینے سے تو قف کیا اور اس قول کی اشاعت سے منع کیا ، کیوں کہ اس سے عام نقصان وضرر پیدا ہوتا ، اس لئے کہ جو سر کش اسے جان لے گا وہ ان محلوں میں جو غیر اہل محلہ سے خالی ہوں جان مارنے میں جری اور بے باک ہوجائے گا اس اعتماد پر کہ اس کے خلاف خود اہل محلہ کی شہادت قبول نہ ہوگی ، یہاں تک کہ میں نے یہ کہا کہ فتوی قول صاحبین پر ہونا چاہئے خصوصا جب کہ احکام زمانے کے بد لنے سے بدل جاتے ہیں ، انتہی۔

(۱؎ شرح عقودرسم المفتی رسالہ من رسائل ابن عابدین    سہیل اکیڈمی لاہور    ۱ /۴۷)

وقالوا اذا زرع صاحب الارض ارضہ ما ھو ادنی مع قدرتہ علی الاعلی وجب علیہ خراج الاعلی قالوا وھذا یعلم ولا یفتی بہ کیلا یتجرأ الظلمۃ علی اخذ اموال الناس قال فی العنایۃ و رد بانہ کیف یجوز الکتمان ولواخذوا کان فی موضعہ لکونہ واجبا، واجیب بانا لوافتینا بذلک لادعٰی کل ظالم فی ارض لیس شأنھا ذلک انھا قبل ھذا کانت تزرع الزعفران مثلا فیاخذ خراج ذلک وھو ظلم وعدوان۲؎ انتھی

ائمہ نے فرمایا : جب زمین والا اپنی زمین کے اندر اعلٰی چیز کی کاشت پر قدرت رکھنے کے با وجود ادنی چیز کی کا شت کرے تو اس کے اوپر اعلٰی کا خراج واجب ہوگا ، علماء نے فرمایا: یہ حکم جاننے کا ہے ، فتوی دینے کا نہیں تاکہ ظالم حکام لوگو ں کا مال لینے کی جرات نہ کریں عنایہ میں ہے اس قول پر یہ رد کیا گیا ہے کہ علم کا چھپا نا کیونکر جائز ہوگا جب کہ وہ اگر لے ہی لیں تو بجا ہوگا کیوں کہ یہی واجب ہے ، ا س کے جواب میں یہ کہا گیا کہ اگر ہم اس پر فتوی دے دیں تو ہر ظالم ایسی زمین جو اعلی کے قابل نہ ہو یہ دعوی کرتے ہوئے کہ پہلے تو اس میں زعفران وغیرہ کی کاشت ہوتی تھی ، زعفران کا خراج وصول کرلے گا اور یہ ظلم وعدوان ہوگا ، انتہی ۔

 (۲؎ شرح عقودرسم المفتی رسالہ من رسائل ابن عابدین         سہیل اکیڈمی لاہور    ۱ /۴۶ ،و ۴۷)

وکذا فی فتح القدیر قالوا لایفتی بھذا لما فیہ من تسلط الظلمۃ علی اموال المسلمین اذ یدعی کل ظالم ان الارض تصلح لزراعۃ الزعفران ونحوہ وعلاجہ صعب انتھی فقد ظھرلک ان جمود المفتی او القاضی علی ظاھر المنقول مع ترک العرف والقرائن الواضحۃ والجھل باحوال الناس یلزم منہ تضییع حقوق کثیرۃ وظلم خلق کثیرین۱؎ اھ

اسی طرح فتح القدیر میں ہے کہ اس پر فتوی نہیں دیا جاتا کیو نکہ اس کے تحت مسلمانوں کے مال پر ظالموں کی چیرہ دستی ہوگی اس لئے کہ ہر ظالم دعوی کرے گا کہ یہ زمین زعفران وغیرہ بوئے جانے کی صلاحیت رکھتی ہے ، او ر اس ظلم کاعلاج دشوارہے ۔ انتہی اس تفصیل سے واضح ہوگیا کہ اگر مفتی یا قاضی عرف او رقرائن واضحہ چھوڑ کر او رلوگو ں کے حالات سے بے خبر ہو کر نقل شدہ حکم کے ظاہر پر جمود اختیار کر لے تو اس سے بہت سے حقوق کی بر بادی اور بے شمار مخلوق پر ظلم وزیادتی لازم آئے گی اھ۔

 (۱؎ شرح عقودرسم المفتی رسالہ من رسائل ابن عابدین،سہیل اکیڈمی لاہور    ۱ /۴۷)

اقــول:  ومن ذلک افتاء فــــــــ السید بنقل انقاض مسجد خرب ما حولہ واستغنی عنہ الی مسجد اٰخر قال فی ردّالمحتار وقد وقعت حادثۃ سئلت عنھا فی امیر اراد ان ینقل بعض احجار مسجد خراب فی سفح قاسیون بدمشق لیبلط بھا صحن الجامع الاموی فافتیت بعدم الجواز متابعۃ للشر نبلالی ثم بلغنی ان بعض المتغلبین اخذ تلک الاحجار لنفسہ فندمت علی ما افتیت بہ ۱؎ اھ

اقول : اسی میں سے یہ بھی ہے کہ علامہ شامی نے فتوی دیا کہ ایسی مسجد جس کے ارد گر د آبادی نہ رہی اور اس کے سامان بے کار ہو گئے جن کی اب ضرورت نہ رہی تو وہ دوسری مسجدمیں دی جاسکتے ہیں ۔رد المحتار میں فرماتے ہیں: ایک نیا مسئلہ درپیش آیا جس سے متعلق مجھ سے یہ استفتاہوا کہ دمشق کے اندر جبل قاسیون کے دامن میں ایک ویران مسجد ہے جس کے کچھ پتھرو ں کو امیر جامع اموی کے صحن میں فر ش بنانے کی خاطر لے جانا چاہتا ہے میں نے علامہ شرنبلالی کی متا بعت میں فتوی دیاکہ ناجائز ہے کچھہ دنوں بعدمجھے معلوم ہواکہ ایک چیرہ دست ظالم ان پتھروں کو اپنے لئے اٹھالے گیا یہ سن کر اپنے فتوے پر ندامت ہوئی اھ۔

فـ : مسئلہ : جو مسجد ویران ہو اور اس کی آبادی کی کوئی صورت نہ ہو اور اس کے آلات کی حفاظت نہ ہو سکے تو اب فتوی اس پر ہے کہ اس کے کڑی تختے وغیرہ دوسری مسجد میں دیے جاسکتے ہیں ۔

(۱؎ ردالمحتار کتاب الوقف دار احیاء التراث العربی بیروت ۳ / ۳۷۲)

ومـن ذلک فـــ افتاء جد المقدسی بجواز اخذ الحق من خلاف جنسہ حذار تضییع الحقوق قال فی ردالمحتار قال القھستانی وفیہ ایماء الی ان لہ ان یأخذ من خلاف جنسہ عند المجانسۃ فی المالیۃ وھذا اوسع فیجوز الاخذ بہ وان لم یکن مذھبنا فان الانسان یعذر فی العمل بہ عندالضرورۃ کما فی الزا ھدی اھ قلت وھذا ما قالوا انہ لامستندلہ لکن رأیت فی شرح نظم الکنز للمقدسی من کتاب الحجر قال ونقل جد والدی لامہ الجمال الاشقر فی شرحہ للقدوری ان عدم جواز الاخذ من خلاف الجنس کان فی زمانھم لمطاوعتھم فی الحقوق والفتوٰی الیوم علی جواز الاخذ عند القدرۃ من ای مال کان لا سیما فی دیارنا فی مداومتھم للعقوق ۱؎ اھ

اسی میں سے یہ بھی ہے کہ علامہ مقدسی کے نانا نے بربادی حقوق سے بچانے کے لئے یہ فتوی دیاکہ صاحب حق اپنا حق خلاف جنس سے لے سکتا ہے (مثلا کسی ظالم نے کسی کے سو روپے دبالئے اور ملنے کی امید نہیں تو مظلوم بجائے سو روپے کے اتنے ہی کی کوئی او رچیز جو ظالم کے مال سے ہاتھ آئے لے سکتا ہے ) رد المحتار میں ہے ،قہستانی نے کہا اس میں یہ اشارہ ہے کہ وہ خلاف جنس سے بھی لے سکتا ہے جب کہ مالیت یکسا ں ہو ، اس حکم  میں زیادہ گنجائش ہے تو ہمارے مذہب میں اگرچہ یہ حکم نہیں مگر اسے لیا جاسکتا ہے اس لئے کہ انسا ن وقت ضرورت اس پر عمل کرلینے میں معذور ہے ، جیساکہ زاہد ی میں ہے اھ ، میں کہتا ہوں اس حکم سے متعلق لوگو ں نے کہا کہ اس کی کوئی سند نہیں ، لیکن میں نے علامہ مقدسی کی شرح نظم الکنز ،کتاب الحجر میں دیکھا ، وہ لکھتے ہیں کہ میرے والد کے نانا جمال اشقر نے اپنی شرح قدوری میں نقل کیا ہے کہ ، خلاف جنس سے نہ لینے کاحکم ان حضرات کے دور میں تھا کیوں کہ اس وقت حقوق کے معاملے میں شریعت کی فرمانبرداری ہوتی تھی اور آج فتوی اس پر ہے کہ جب قدرت مل جائے تو کسی بھی مال سے لینا جائز ہے خصوصا ہمارے دیا ر میں۔کیونکہ اب پیہم نافرمانی ہو رہی ہے اھ۔

 (۱؎ ردالمحتار کتاب السرقۃ داراحیاء التراث العربی بیروت     ۳ /۲۰۰)

ف :مسئلہ جس کے کسی پر مثلا سو روپے آتے ہوں اور اس نے دبالئے یا اور کسی وجہ سے ہوئے اور اسے اس سے روپیہ ملنے کی امید نہیں تو سو روپے کی مقدار تک اس کا جو مال ملے لے سکتا ہے آج کل اس پر فتوٰی دیا گیا ہے مگر سچے دل سے بازار کے بھاؤ سے سو روپے ہی کا مال ہو زیادہ ایک پیسہ کا ہو تو حرام در حرام ہے ۔

ومن ذلک فـــ۱ـ افتائی مراراً بعدم انفساخ نکاح امرأۃ مسلم بارتدادھا لما رأیت من تجاسرھن مبادرۃ الی قطع العصمۃ مع عدم امکان استرقاقھن فی بلادنا ولا ضربھن وجبرھن علی الاسلام کما بینتہ فی السیر من فتا وینا وکم لہ من نظیر وعلی الثانی ان لم تکن فیھا روایۃ عن الامام فخارج عما نحن فیہ ولا شک ان الرجوع اذ ذاک المجتہدین فی المذھب وانکانت فاما مختلفۃ عنہ اولا علی الاول الرجوع الیھم وکیف ماکان لایکون خروجا عن قولہ رضی اللہ تعالی عنہ ولا اعنی بالاختلاف مجیئ النوادر علی خلاف الظاھر فان ماخرج فــــ۲ـ عن ظاھر الروایۃ مرجوع عنہ کما نص علیہ البحر والخیر والشامی ۱؎ وغیرھم وما رجع عنہ لم یبق قولا لہ فتثبت ۔

اسی میں سے یہ بھی ہے کہ میں نے با رہا فتوی دیا کہ کسی مسلمان کی بیوی مرتد ہوجائے تونکاح سے نہ نکلے گی کیوں کہ میں نے یہ دیکھا کہ رشتہ نکاح منقطع کرنے کی جانب پیش قدمی میں ان کے اندر ارتداد کی جسارت پیدا ہوجاتی ہے اور ہمارے بلاد میں نہ انہیں با ند ی بنایا جاسکتا ہے نہ مار پیٹ کر اسلام لا نے پر مجبور کیا جاسکتا ہے ، جیسا کہ اسے ہم نے اپنے فتاوی کی کتاب السیرمیں بیان کیا ہے ، اس کی دوسری بہت سی نظیریں ہیں ۔
برتقدیر ثانی : (اس مسئلہ میں اسباب ستہ میں سے کوئی سبب نہیں) اگر اس میں امام سے کوئی روایت ہی نہ آئی تو یہ صورت ہمارے مبحث سے خارج ہے ، اور بلاشبہ اس صورت میں مجتہدین فی المذہب کی جانب رجوع ہوگا ، اگر روایت ہے تو اما م سے روایت مختلف آئی ہے یا بلا اختلاف آئی ہے پہلی صورت میں رجوع ان ہی حضرات کی جانب ہوگا ، اور جیسے بھی ہو قول امام رضی اللہ تعالی عنہ سے خروج نہ ہوگا ۔ او راختلاف سے میری مراد یہ نہیں کہ روایات نوادر ، ظاہر الروایہ کے خلاف آئی ہو اس لئے کہ جو ظاہرالروایہ سے خارج ہے مرجوع عنہ ہے (اس سے خود امام نے رجوع کرلیا )جیسا کہ بحر ، خیر رملی ، شامی وغیرہ نے اس کی تصریح فرمائی ہے ، او رامام نے جس سے رجوع کرلیا وہ ان کا قول نہ رہ گیا ، اس تحقیق پر ثابت قدم رہو۔

 (۱؎ ردالمحتار مقدمۃ الکتاب داراحیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۴۶)

ف۱ : مسئلہ اب فتوی اس پر ہے کہ مسلمان عورت معاذاللہ مرتد ہوکر بھی نکاح سے نہیں نکل سکتی وہ بدستور اپنے شوہر مسلمان کے نکاح میں ہے مسلمان ہوکر یا بلااسلام دوسرے سے نکاح نہیں کرسکتی ۔    
فــــ۲ـفائده: ماخرج عن ظاھر الروایۃ فھو مرجوع عنہ

وعلی الثانی اما وافقہ صاحباہ اواحدھما اوخالفاہ علی الاول العمل بقولہ قطعا ولا یجوز لمجتھد فی المذھب ان یخالفھم الا فی صور الثنیا اعنی الحوامل الست فانہ لیس خلافھم بل فی خلافہ خلافھم وکذلک علی الثانی کما نصوا علیہ ایضا ۔

بصورت دوم(جب کہ روایت، امام سے بلا اختلاف آئی ہے) (۱)ــــ یا تو صاحبین امام کے موافق ہوں گے (۲)یا صرف ایک صاحب موافق ہوں گے (۳) یا دو نوں حضرات مخالف ہونگے ۔  پہلی صورت میں قطعا قول امام پر عمل ہوگا اور کسی مجتہد فی المذہب کے لئے ان حضرات کی مخالفت رو ا نہیں ، مگراستثنا یعنی اسباب ستہ والی صورتوں میں کہ یہ ان حضرات کی مخالفت نہیں ، بلکہ اس کے خلاف جانے میں ان کی مخالفت ہے ۔یہی حکم دوسری صورت کا بھی ہے ، جیسا کہ اس کی بھی مذکور ہ حضرات نے تصریح فرمائی ہے ۔

وعلی الثالث اما ان یتفقا علی شیئ واحد او خالفا وتخالفا۔ علی الثانی العمل بقولہ مطلقا وعلی الاول اما ان یتفق المرجحون علی ترجیح قولھما او قولہ اولا ولابان یختلفوا فیہ اولا یأتی ترجیح شیئ منھما ۔

بصورت سوم ، (۱) یا تو صاحبین کسی ایک حکم پر متفق ہوں گے (۲) یاامام کے مخالف ہونے کے ساتھ باہم بھی مختلف ہوں گے بصورت دوم ، مطلقا قول امام پر عمل ہوگا ، اور بصورت اول (۱) یا تو مرجحین قول صاحبین کی تر جیح پر متفق ہونگے (۲) یاقول امام کی تر جیح پر متفق ہوں گے (۳) یا یہ دونوں صورتیں نہ ہوں گی ، اس طر ح کہ ترجیح کے معاملے میں وہ با ہم اختلاف رکھتے ہوں یاسر ے سے کسی کی تر جیح ہی نہ آئی ہو۔

الاول: لاکان ولا یکون قط ابدا الا فی احدی الحوامل الست وحینئذ نتبعھم لانہ قول امامنا بل ائمتنا الثلثۃ رضی اللہ تعالی عنھم صوریا لھما وضروریا لہ، وان جھد احد غایۃ جہدہ ان یستخرج فرعا من غیر الست اجمع فیہ المرجحون عن اٰخرھم علی ترک قولہ واختیار قولھما فلن یجدنہ ابدا وللہ الحمد۔

پہلی صورت: (صاحبین امام کے مخالف ، با ہم متفق ہوں اور تمام مرجحین بھی ان ہی کی ترجیح پر متفق ہوں) نہ کبھی ہوئی نہ کبھی ہوسکتی ہے مگر ان ہی چھ اسباب میں سے کسی ایک سبب کی صورت میں اگر ایسا ہے تو ہم مرجحین کا اتباع کریں گے ، کیونکہ یہی ہمارے امام کا بلکہ ہمارے تینوں ائمہ رضی اللہ تعالی عنہم کا قول ہے ، صاحبین کا قول صوری بھی ہے ، اور امام کا قول ضروری ، اور اگر کوئی اپنی انتہائی کوشش اس بات کے لئے صرف کر ڈالے کہ اسباب ستہ والی صورتوں کے علاوہ کوئی ایک جزئیہ ایسا نکال لے جس میں سب کے سب مرجحین نے قول امام کے ترک اور قول صاحبین کی تر جیح پر اجماع کر رکھا ہو تو ہر گز ہرگز کبھی ایسا کوئی جزئیہ نہ پاسکے گا ، وللہ الحمد۔

الثانی: ظاھران العمل بقولہ اجماعا لا ینبغی ان ینتطح فیہ عنزان فالمسائل الی ھنا لا خلاف فیھا وفیھا جمیعا العمل بقول الامام مھما وجد۔ بقی الثالث وھو ثامن ثمانیۃ من ھذہ الشقوق فھو الذی اتی فیہ الخلاف فقیل ھنا ایضا لا تخییر حتی المجتھد بل یتبع قول الامام وان ادی اجتہادہ الی ترجیح قولھما وقیل بل یتخیر مطلقا ولو غیر مجتہد والذی اتفقت کلماتھم علی تصحیح التفصیل بان المقلد یتبع قول الامام واھل النظر قوۃ الدلیل ۔

دوسری صورت: (صاحبین مخالف امام ہیں ، مرجحین قول امام کی تر جیح پر متفق ہیں) میں ظاہر ہے کہ قول امام پر عمل ہوگا بالاجماع اس میں کسی دو فرد کا بھی باہم نزاع نہیں ہوسکتا ، یہا ں تک جو مسائل بیان ہوئے ان میں کوئی اختلاف نہیں اور سب میں یہی ہے کہ عمل قول امام ہی پر ہے جہان بھی قول امام موجود ہو۔
تیسری صورت رہ گئی ، یہ ان شقوں کی آٹھ صورتو ں میں سے آٹھویں صورت ہے ، اسی میں اختلاف وارد ہے ، ایک قول ہے کہ یہاں بھی کوئی تخییر نہیں یہاں تک کہ مجتہد کے لئے بھی نہیں ، بلکہ اسے قول امام ہی کی پیروی کرنا ہے اگرچہ اس کا اجتہاد قول صاحبین کو ترجیح دیتا ہو ، ایک قول ہے کہ مطلقا تخییر ہے اگر چہ غیر مجتہد ہو ، اور کلمات علماء جس کی تصحیح پر متفق ہیں وہ یہ ہے کہ مجتہد اور غیر مقلد کا حکم یہاں الگ الگ ہے ۔ مقلد قول امام کی پیروی کرے گا ، اور صاحب نظر قوت دلیل کی پیروی کرے گا ۔

مسئلہ اختلافیہ

    

فقد التأمت الکلمات الصحیحۃ المعتمدۃ جمیعا علی ان المقلد لیس لہ الا تقلید الامام وان افتی بخلافہ مفت او مفتون، فان افتاء ھم جمیعا بخلافہ فی غیر صور الثنیا ماکان وما یکون۔ والحمد للہ رب العٰلمین وصلاتہ الدائمۃ علی عالم ماکان وما یکون وعلی اٰلہ وصحبہ وابنہ وحزبہ افضل ماسأل السائلون۔ ھذا ما تلخص لنا من کلما تھم وھوا المنھل الصافی الذی وردہ البحر فاستمع نصوص العلماء کشف اللہ تعالی بھم العماء وجلابھم عنا کل بلاء وعناء۔

تو تمام صحیح معتمد کلمات اس پر متحد ثابت ہوئے کہ مقلد کو بہر صورت امام ہی کی تقلید کرنا ہے اگرچہ کسی ایک مفتی یا چند مفتیوں نے اس کے خلاف فتوی دیا ہو کیونکہ سب کے سب مفتیوں کا خلاف امام افتا بجز صور استثنا ۔۔۔۔۔ نہ کبھی ہوا ہے نہ ہوگا ۔ اور تمام تر ستائش خدا کے لئے جو سارے جہانوں کا پرور دگار ہے ، اوراس کا دائمی درود ہو عالم ماکان ومایکون پر ، اور ان کی آل ، اصحاب فرزند اور گروہ پر ، ان درو دوں میں سب سے افضل درود جن کا سائلوں نے سوال کیا،
یہ ہے وہ جو کلمات علما ءکی تلخیص سے ہمیں حاصل ہوا اور یہی وہ چشمہ صافی ہے جس پر '' بحر'' اتر ے ۔
اب علماء کے نصوص ملاحظہ ہو ں ، ان حضرات کے طفیل اللہ تعالی نابینائی زائل کرے اور ان کے صدقے میں ہم سے ہر تکلیف وبلا دور کرے ،

خمسۃ واربعون نصا علی المدعی

فــی محیط(۱)الامام السرخسی ثم الفتاوی(۲) الھندیۃ لابد من معرفۃ فصلین احدھما انہ اذا اتفق اصحابنا فی شیئ ابو حنیفۃ وابویوسف ومحمد رضی اللہ تعالی عنھم ینبغی للقاضی ان یخالفھم برأیہ والثانی ا ذا اختلفوا فیما بینھم قال عبداللہ  (۳) بن المبارک رحمہ اللہ تعالی یؤخذ بقول ابی حنیفہ رضی اللہ تعالی عنہ لانہ فـــ کان من التابعین و زاحمھم فی الفتوی ۱؎ اھ

مد عا پر ۴۵ نصوص

 (۱۔۔۔۔۔۔۳) امام سر خسی کی محیط پھر فتاوی ہندیہ میں ہے ، ان دو ضابطوں کی معرفت ضروری ہے اول یہ ہے کہ جب ہمارے اصحاب ابو حنیفہ ، امام ابو یوسف اور امام محمد کسی بات پر متفق ہوں تو قاضی کو یہ نہیں چاہئے کہ اپنی رائے سے ان کی مخالفت کرے ، دوم یہ کہ جب ان حضرات میں باہم اختلاف ہو تو عبداللہ بن مبارک رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں کہ امام ابو حنیفہ کا قول لیا جائے گا ، اس لئے کہ وہ تا بعین میں سے تھے اور تا بعین کے مقابلہ میں فتوی دیا کرتے تھے اھ۔

 (۱؎الفتاوی ہندیہ، بحوالہ محیط السرخسی کتاب اد ب القاضی الباب الثالث نورانی کتب خانہ پشاور    ۳ /۳۱۲)

ف: امامنا رضی اللہ تعالٰی عنہ من التابعین وقد زاحم ائمتہم فی الفتوی

زاد العلامۃ (۴) قاسم فی تصحیحہ ثم (۵) الشامی فی ردالمحتار فقولہ اسد واقوی مالم یکن اختلاف عصر وزمان ۱؎ اھ  (۴۔۔۔۔۔۵) یہاں علامہ قاسم نے تصحیح میں پھر علامہ شامی نے رد المحتار میں یہ اضافہ کیا : تو ان کا قول زیادہ صحیح اور زیادہ قوی ہوگا جب کہ عصر وزمانہ کا اختلاف نہ ہو ۔

 (۱؎ ردالمحتار مقدمۃ الکتاب مطلب رسم المفتی داراحیاء التراث العربی بیرو ت ۱ / ۴۸)

اقول : وقول السرخسی برأیہ یدل ان النھی للمجتھد ولا ینبغی ای لا یفعل بدلیل قولہ لابد فلا یقال للمستحب لابد من معرفتہ اذا مالا یحتاج الی فعلہ لا یحتاج الی معرفتہ انما العلم للعمل۔ وفی (۶) فتاوی الامام الاجل فقیہ النفس قاضی خان المفتی فی زماننا من اصحابنا اذا استفتی فی مسألۃ وسئل عن واقعۃ انکانت المسألۃ مرویۃ عن اصحابنا فی الروایات الظاھرۃ بلا خلاف بینھم فانہ یمیل الیھم ویفتی بقولھم ولا یخالفھم برأیہ وانکان مجتہدا متقنا لان الظاھر ان یکون الحق مع اصحابنا ولا یعدوھم واجتھادہ لایبلغ اجتھادھم ولاینظر الی قول من خالفھم ولاتقبل حجتہ لانھم عرفوا الا دلّۃ ومیزوا بین ماصح وثبت وبین ضدہ ۔

اقول:   امام سرخسی کا لفظ '' اپنی رائے سے'' یہ بتاتا ہے کہ ممانعت مجتہد کے لئے ہے ، اور '' نہیں چاہئے '' کا معنی یہ ہے کہ '' نہ کرے '' اس کی دلیل ان کا لفظ '' لابد ضروری ''ہےکیوں کہ مستحب سے متعلق یہ نہ کہا جائے گا کہ '' اس کی معرفت ضروری ہے '' اس لئے کہ جس کا ذکر کرنا ضروری نہیں اس کا جاننا بھی ضروری نہیں علم تو عمل ہی کے لئے ہوتا ہے ۔ (۶) امام اجل فقیہ النفس قاضی خاں کے فتاوی میں ہے ،ہمارے دور میں جب ہمارے مسلک کے مفتی سے کسی مسئلہ میں استفتا او رکسی واقعہ پر سوال ہو تو اگر وہ مسئلہ ہمارے ائمہ سے ظاہر الروایہ میں بلا اختلاف باہمی مروی ہے تو ان ہی کی طرف مائل ہو ، ان ہی کے قول پر فتوی دے اور اپنی رائے سے ان کی مخالفت نہ کرے ، اگرچہ وہ پختہ کار مجتہد کیوں نہ ہو ، اس لئے کہ ظاہر یہی ہے کہ حق ہمارے ائمہ کے ساتھ ہے اور ان سے متجاوز نہیں ، اور اس کا اجتہاد ان کے اجتہاد کو نہیں پاسکتا ۔ اور ان کے مخالف کے قول پر نظر نہ کرے نہ اس کی حجت قبول کرے اس لئے کہ وہ دلائل سے آشنا تھے اور انہوں نے ثابت وصحیح اور غیر ثابت و صحیح کے درمیان امتیاز بھی کردیا ۔

فانکانت المسألۃ مختلفا فیھا بین اصحابنا فانکان مع ابی حنیفۃ رحمہ اللہ تعالی احد صاحبیہ یؤخذ بقولھما لوفور الشرائط واستجماع ادلۃ الصواب فیھما وان خالف ابا حنیفۃ رحمہ اللہ تعالی صاحباہ فی ذلک فانکان اختلافھم اختلاف عصروزمان کا لقضاء بظاھر العدالۃ یأخذ بقول صاحبیہ لتغیر احوال الناس وفی المزارعۃ والمعاملۃ ونحو ھما یختار قولھما لاجتماع المتاخرین علی ذلک وفیما سوی ذلک قال بعضھم یتخیر المجتھد ویعمل بما افضی الیہ رأیہ وقال عبداللہ بن المبارک یأخذ بقول ابی حنیفۃ رحمہ اللہ تعالی ۱؎ اھ

 (۲)اگر مسئلہ میں ہمارے ائمہ کے درمیان اختلاف ہے تواگر امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ تعالی کے ساتھ ان کے صاحبین میں سے کوئی ایک ہیں تو ان ہی دو نوں حضرات (امام اور صاحبین میں سے ایک ) کا قول لیا جائے گا کیوں کہ ان میں شرطیں فراہم ، اور دلائل صواب مجتمع ہیں  (۳)اور اگر اس مسئلہ میں صاحبین امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ تعالی کے بر خلاف ہیں تو یہ اختلاف اگر عصر و زمان کا اختلاف ہے جیسے گو اہ کی ظاہری عدالت پر فیصلہ کاحکم ، تو صاحبین کا قول لیا جائے گا کیونکہ لوگوں کے حالات بدل چکے ہیں ، او رمزار عت ، معاملت اور ایسے ہی دیگر مسائل میں صاحبین کا قول اختیار ہوگا کیونکہ متا خرین اس پر اتفاق کر چکے ہیں ،(۴) اور اس کے ماسوا میں بعض نے کہا کہ مجتہد کو اختیار ہوگا اور جس نتیجے تک اس کی رائے پہنچے وہ اس پر عمل کرے گا ، اور عبداللہ بن مبارک نے فرمایا کہ ابو حنیفہ رحمہ اللہ تعالی کا قول لے گا ۔اھ

 (۱؎ فتاوٰی قاضی خان     فصل فی رسم المفتی    نو لکشور لکھنؤ    ۱ /۲)

اقول : ولوجہ ربنا الحمد اتی بکل ما قصدناہ فاستثنی التعامل وما تغیر فیہ الحکم لتغیر الاحوال فقد جمع الوجوہ الستۃ التی ذکرناھا، ونص ان اھل النظر لیس لھم خلاف الامام اذا وافقہ احد صاحبیہ فکیف اذا وافقاہ ثم ما ذکر من القولین فیما عداھا لاخلف بینھما فی المقلد فالاول بتقیید التخییر بالمجتھد افاد ان لاخیار لغیرہ والثانی حیث منع المجتھد عن التخییر فھو للمقلد امنع فاتفق القولان علی ان المقلد لایتخیر بل یتبع الامام وھو المرام وفی (۷) الفتاوی السرا جیۃ و(۸) النھرالفائق ثم   (۹) الھندیۃ (۱۰) الحموی وکثیر من الکتب واللفظ للسراجیۃ الفتوی علی الاطلاق علی قول ابی حنیفۃ ثم ابی یوسف ثم محمد ثم زفـــــر عـــہ والحسن۱؎ ولفظ النہر ثم الحسن۔ ۱؎

اقو ل:ُ ہمارے رب ہی کی ذات کے لئے حمد ہے ، امام قاضی خاں نے ہمارے مقصود سے متعلق سب کچھ بیان کردیا ، تعامل اور اس مسئلے کا جس میں حالات کے بدلنے سے حکم بدل گیا ہے ، استثنا کر کے ہمارے ذکر کردہ اسباب ستہ کو جمع کردیا ، یہ صراحت بھی فرمادی کہ صاحبین میں سے کوئی ایک جب امام کے موافق ہوں تو اصحاب نظر کے لئے امام کی مخالفت ر وا نہیں ، اگر دو نوں ہی ان کے موافق ہیں تو کیونکر روا ہوگی؟  پھر ما سوا مسائل میں جو دو قول بیان کئے ہیں ان کے درمیان مقلد کے بارے میں کوئی اختلاف نہیں قول اول میں تخییر کو مجتہد سے مقید کر کے یہ افادہ کر دیا کہ غیر مجتہد کو اختیار نہیں ۔ اور قول دوم میں جب مجتہد کو تخییر سے منع کیا تو مقلد کو تو اور زیادہ منع کریں گے ، اس طر ح دو نوں قول اس بات پر متفق ٹھہرے کہ مقلد کو تخییر نہیں بلکہ اسے امام ہی کا تباع کرنا ہے ، یہی مقصود ہے ،
( ۷۔۔۔۔۱۰ ) فتاوی سراجیہ ، النہر الفائق ، پھر ہندیہ وحموی اور بہت سی کتا بو ں میں ہے الفا ظ سراجیہ کے ہیں ۔
فتوی مطلقا قول امام ابو حنیفہ پر ہوگا ، پھر امام ابو یوسف ، پھر امام محمد پھر اما زفر ، اورامام حسن کے قول پر اور نہر میں ثم الحسن ہے (پھر امام حسن)۔

عـــہ ھکذا نقل عنھا فی شرح العقود وغیرہ والحسن بالواو وھو مفاد الدر لکن فی نسختی السراجیۃ ثم الحسن واللہ تعالی اعلم ۱۲ منہ غفرلہ۔ سراجیہ سے شرح عقود وغیرہ میں" والحسن " واو کے ساتھ نقل کیا ہے ۔ یہی درمختار کا بھی مفاد ہے ۔ لیکن میرے نسخے سراجیہ میں ثم الحسن  ہے ۔ واللہ تعالی اعلم ۱۲غفر لہ

 (۱؎ الفتاوی السراجیہ کتاب ادب المفتی والتنبیہ علی الجواب مطبع نو لکشور لکھنو ص ۱۵۷)
(۱؎ الدرالمختار بحوالہ النہر کتاب القضاء         مطبع مجتبا ئی دہلی ۲ /۷۲)
(النہر الفائق شرح کنزالدقائق      کتاب القضاء قدیمی کتب خا نہ کرا چی۳ /۵۹۹)

اقول:  وھو حسن فان مکانۃ زفر ممالا ینکر لکن قال ش الواوھی المشہورۃ فی الکتب اھ ۱؎ ومعنی الترتیب ای اذ الم یجد قول الامام ثم رأیت الشامی (۱۱) صرح بہ فی شرح عقودہ حیث قال اذالم یوجد للامام نص یقدم قول ابی یوسف ثم محمد الخ قال والظاھر ان ھذا فی حق غیر المجتھد اما المفتی المجتھد فیتخیر بما یتر جع عندہ دلیلہ ۲؎۔

اقو ل:  لفظ نہر ''ثم الحسن''عمدہ ہے کیونکہ امام زفر کی ان سے برتری ناقابل انکار ہے لیکن علامہ شامی لکھتے ہیں کہ'' واو''ہی کتا بو ں میں مشہور ہے اھ اور تر تیب مذکور اس صورت میں مقصود ہے جب امام کا قول نہ ملے ،
(۱۱) پھر میں نے دیکھا کہ علامہ شامی نے شرح عقود میں اس کی صراحت بھی فرمائی ہے وہ فرماتے ہیں : جب امام کی کوئی نص نہ ملے تو امام ابو یوسف کا قول مقدم ہوگا پھر امام محمد کا۔ الخ ، اور فرماتے ہیں ، ظاہر یہ ہے کہ یہ غیر مجتہد کے حق میں ہے ، رہا مفتی مجتہد تو یہ اسے اختیار کر ے گا جس کی دلیل اس کے نزدیک راجح ہو اھ

 (۱؎ رد المحتار          کتاب القضاء      مطلب یفتی بقول الامام علی الاطلاق ۴ /۳۰۲)
(۲؎ شرح عقود رسم المفتی رسالہ من رسائل ابن عابدین     سہیل اکیڈ می لاہور        ۱ /۲۷)

اقول:  ای اذالم یجد قول الامام لایتقید بالترتیب فیتبع قول الثانی وان ادی رأیہ الی قول الثالث کما کان لا یتخیر اتفاقا اذا کان مع الامام صاحباہ اواحدھما والذی استظھرہ ظاھر ثم قالا اعنی السراجیۃ والنھر وقیل اذاکان ابو حنیفۃ فی جانب وصاحباہ فی جانب فالمفتی بالخیار والاول اصح اذالم یکن المفتی مجتھدا ۱؎ اھ

اقو ل: یعنی جب امام کا قول اسے نہ ملے تو وہ تر تیب کا پابند نہیں کہ امام ثانی ہی کے قول کی پیروی کرے اگر چہ اس کا اجتہاد امام ثالث کےقول  پر جائے ، جیسے اس صورت میں بالاتفاق اسے اختیار نہیں جب امام کے ساتھ صاحبین یا ان میں سے ایک ہوں ، اور علامہ شامی نے جس کو ظاہر کہہ کر بیان کیا وہ ظاہر ہے پھر سرا جیہ اور نہر میں یہ بھی ہے: کہا گیا کہ جب امام ابو حنیفہ ایک طر ف ہوں او رصاحبین دوسری طرف تو مفتی کو اختیار ہے اور قول اول اصح ہے جب کہ مفتی صاحب اجتہاد نہ ہواھ

 (۱؎ الفتاوی السراجیۃ کتاب ادب المفتی والتنبیہ علی الجواب مطبع لکنشور لکھنو ص ۱۵۷)
(النھرالفائق شرح کنز الدقائق کتاب القضاء قدیمی کتب خانہ کراچی ۳ / ۵۹۹)

وفی (۱۲) التنویر (۱۳) والدر (یأ خذ) القاضی کالمفتی (بقول ابی حنیفۃ علی الاطلاق) وھو الاصح منیۃ (۱۴) وسراجیۃ وصحح فی الحاوی اعتبار قوۃ المدرک والاوّل اضبط (۱۵) نھر (ولا یخیر الا اذاکان مجتھدا   ۲؎) اھ

تنویر الا بصار اور درمختار میں ہے (عبارت تنویر قوسین میں ہے۱۲م) مفتی کی طر ح قاضی بھی ( مطلقا قول امام کو لگا ) یہی اصح ہے منیہ وسراجیہ ، اور حاوی میں قوت دلیل کے اعتبار کو صحیح کہا ہے ۔ او رقول اول زیادہ ضبط والا ہے نہر (اور تخییر نہ ہوگی مگر جب کہ وہ صاحب اجتہاد ہو)

 (۲؎ الدر المحتار کتاب القضاء مطبع مجتبائی دہلی ۲ / ۷۲)

وفی صدر (۱۶) ط ما ذکرہ المصنف صححہ فی ادب(۱۷) اطفال۳؎ اھ (۱۶۔۔۔۔۔۱۷) طحطاوی کے شرو ع میں ہے ، مصنف نے جو ذکر کیا ہے اسی کو ادب المقال میں صحیح کہا ہے اھ

 (۳؎ حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار مقدمۃ الکتاب المکتبۃ العربیہ کوئٹہ۶/ ۴۸)

وفی البحر(۱۸) کما مرقد صححوا ان الافتاء بقول الامام ۴؎ اھ بحر میں ہے ، جیسا کہ گزرا ، علماء نے اسی کو صحیح قرار دیا ہے کہ فتوی قول امام پر ہوگا،

 (۴؎ البحر الرائق کتاب القضاء فصل یجوز تقلید من شاء ایچ ایم سعید کمپنی     ۱ /۲۶۹)

وقال ش قولہ وھو الا صح مقابلہ مایأتی عن الحاوی وما فی جامع الفصولین من انہ لو معہ احد صاحبیہ اخذ بقولہ وان خالفاہ قیل کذلک وقیل یخیر الا فیما کان الاختلاف بحسب تغیرالزمان کالحکم بظاھر العدالۃ وفیما اجمع المتأخرون علیہ کالمزارعۃ والمعاملۃ فیختارقولھما ۱؎ اھ

علامہ شامی لکھتے ہیں عبارت درمختار ''وھو الاصح''کا مقابل وہ ہے جو حاوی کے حوالے سے آرہا ہے اور وہ جو جامع الفصولین میں ہے کہ اگر صاحبین میں سے کوئی ایک ،ا مام کے ساتھ ہوں تو قول امام لیا جائے گا ، اور اگر صاحبین مخالف امام ہوں تو بھی ایک قول یہی ہے دوسرا قول یہ ہے کہ تخییر ہوگی مگر اس مسئلے کے اندر جس میں تبدیلی زمانہ کی وجہ سے اختلاف پیدا ہوا ہو جیسے ظاہر عدالت پر فیصلہ کرنے کا مسئلہ اور مزار عت ومعاملت جیسے وہ مسائل جن میں متا خرین کا اجماع ہوچکاہے کہ ان سب میں قول صاحبین اختیار کیا جائے گا ۔

 (۱؎ رد المحتار          کتاب القضاء      مطلب یفتی بقول الامام علی الاطلاق  داراحیاء التراث العربی بیرو ت ۴ /۳۰۲)

وفی صدر الدر الاصح کما فی السراجیۃ وغیرھا انہ یفتی بقول الامام علی الاطلاق وصحح فی الحاوی القدسی قوۃ المدرک ۲؎اھ درمختار کے شرو ع میں ہے جیسا کہ سراجیہ وغیرہا میں مذکور ہے اصح یہ ہے کہ مطلقا قول امام پر فتوی دیا جائے گا ، اور حاوی قدسی میں قوت دلیل کے اعتبار کو صحیح کہا ہے.

 (۲؎الدرالمختار ،رسم المفتی، مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۴)

قال ط قولہ والاصح مقابلہ قولہ بعد وصحح فی الحاوی ۳؎ اھ طحطاوی لکھتے ہیں در مختار میں مذکور''اصح'' کا مقابل وہ ہے جو بعد میں'' صحح فی الحاوی'' حاوی نے اعتبار دلیل کو صحیح کہا '' لکھ کر بیان کیا ہے۔

 (۳؎ حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار     المکتبۃ العربیہ کوئٹہ ۱ / ۴۹)

وقال ش بعد نقل عبارۃ السراجیۃ مقابل الاصح غیر مذکور فی کلام الشارح فافھم ۴؎ اھ یرید بہ التعریض علی ط۔ علامہ شامی سراجیہ کی عبارت نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں اصح کا مقابل کلام شارح میں مذکور نہیں،فافہم (تو سمجھو ) اس لفظ سے طحطاوی پر تعریض مقصود ہے .

 (۴؎ ردالمحتار،رسم المفتی،داراحیاء التراث العربی بیرو ت ۱ / ۴۸)

اقول: ھھنا امور لا بدمن التنبیہ لھا:
فاولا: اقـحم فـــ ۱ الدر ذکرفی التصحیحین قبل قول المصنّف ولا یخیر الخ فاوھم الاطلاق فی الحکم الاول حتی قال فـــ ۲ قولہ صحح فی الحاوی مقابل الاطلاق الذی فی المصنف ۱؎ اھ مع ان صریح نص المصنف تقییدہ بما اذالم یکن مجتہدا۔

اقول: یہاں چند امور پر متنبہ ہونا ضروری ہے ،
اولا:صاحب تنویر کا قول '' مطلقا قول امام کو لے گا '' غیر مجتہد سے خاص ہے ۔ مگر شارح نے عبارت متن'' اور تخییر نہ ہوگی الخ''سے پہلے دونوں تصحیحوں کا تذکرہ درمیان میں رکھ دیا جس سے یہ وہم پیدا ہوا کہ حکم اول (اخذ قول امام) میں اطلاق ہے ، یہاں تک کہ سید طحطاوی نے یہ سمجھ لیا کہ شارح کا قول'' صحح فی الحاوی'' اسی اطلاق کا مقابلہ ہے جو کلام مصنف میں ہے حالاں کہ مصنف کی عبارت میں صراحۃ وہ اس سے مقید ہے کہ '' جب کہ وہ صاحب اجتہاد نہ ہو''

 (۱؎ حاشیۃ الطحطاوی علی الدر المختار    کتاب القضاء        المکتبۃ العربیہ کوئٹہ ۳ /۱۷۶)

فـــ ۱: تطفل علی الدرالمختار
فــــ۲: معروضۃ علی العلامۃ ط

وثانیا: ما صححہ فی الحاوی عین ما صححہ فی السراجیۃ والمنیۃ وادب المقال وغیرھا وانما الفرق فی التعبیر فھم قالوا الاصح ان المقلد لا یتخیر بل یتبع قول الامام وھو قال الاصح ان المجتہد یتخیر لان قوۃ الدلیل انما یعرفھا ھو فیستحیل فــ ۱  ان یکون مقابل الاصح ما صححہ فی الحاوی بل مقابلہ التخییر مطلقا اذا خالفاہ معاکما ھو مفاد الاطلاق القیل المذکور فی السراجیۃ والتقیید بقول الامام مطلقا وان خالفاہ معا والمفتی مجتہد کما ھو مفاد اطلاق ماصدر بہ فیھا فلاوجہ فــــ ۲ ۔ لترجیح الاول علیہ بانہ اضبط وقد قال ح ط ش فی التوفیق بین ما فی السراجیۃ والحاوی ان من کان لہ قوۃ ادراک قوۃ المدرک یفتی بالقول القوی المدرک والا فالترتیب ۱؎اھ قال ش یدل علیہ قول السراجیۃ والاول اصح اذالم تکن المفتی مجتھدا ۲؎ اھ

ثا نیا: حاوی میں جس قول کو صحیح کہا ہے بعینہ وہی ہے جسے سراجیہ ، منیہ ، ادب المقال وغیرہامیں صحیح کہا ہے،  فر ق صرف تعبیرکا ہے ۔ ان حضرات نے یوں کہا کہ مقلد کو تخییر نہیں بلکہ اسے قول امام ہی کی پیروی کرنی ہے ،او رحاوی نے یوں کہا کہ اصح یہ ہے کہ مجتہد کو تخییر ہوگی اس لئے کہ دلیل کی قوت سے آشنا وہی ہوگا ، جب حقیقت یہ ہے تو محال ہے کہ اصح کا مقابل وہ ہو جسے حاوی میں اصح کہا ، بلکہ اس کا مقابل یہ ہے کہ (۱) مطلقا تخییر ہوگی جب کہ صاحبین مخالف امام ہوں ، جیسا کہ سراجیہ میں مذکور قیل، کہا گیا '' کا مفاد ہے ،(۲) اور یہ کہ مطلقا قول امام کی پابند ی ہے اگر چہ صاحبین ان کے مخالف اور مفتی صاحب اجتہاد ہو ، جیسا کہ یہ اس کلام کے اطلاق کا مفا د ہے جسے سراجیہ کے اندر شرو ع میں ذکرکیا ۔[اس میں پہلے یہ کہا کہ'' فتوی مطلقا قول امام پر ہے''۔ پھر یہ لکھا '' کہا گیا کہ جب امام ایک جانب اور صاحبین دو سری جانب ہوں تو مفتی کو اختیار ہے ''۔ اس کے متصل یہ کہا کہ :" اول اصح ہے جب کہ مفتی صاحب اجتہاد نہ ہو'' آغاز کلام سے پتا چلا کہ مجتہد غیرمجتہد سب کے لئے قول امام کی پابندی ہے ، درمیانی قول سے معلوم ہوا کہ مخالفت صاحبین کی صورت میں سب کے لئے تخییر ہے آخر والی تصحیح سے معلوم ہو ا کہ غیر مجتہد کے لئے تو مطلقا قول امام کی پابندی ہے او رمجتہد کے لئے مخالفت صاحبین کی صورت میں اختیار ہے۔۱۲م] جب ایسا ہے تو اول کو '' زیادہ ضبط والا '' کہہ کرتصحیح حاوی پر اسے ترجیح دینے کا کوئی معنی نہیں[ تصحیح حاوی اور تصحیح اول تو بعینہ ایک ہیں ۔۱۲م](۱۹۔۔۔—۲۱) حضرات حلبی ، طحطاوی وشا می نے کلام سراجیہ او رکلام حاوی میں تطبیق کے لئے یہ کہا :کہ جس کے پاس مدرک ودلیل کی قوت سے آگاہی کی قدرت ہو وہ اپنے دریافت کر دہ قوی قول پر فتوی دے گا ورنہ وہی ترتیب ہوگی ۔شامی فرماتے ہیں ، اس پر سراجیہ کی یہ عبارت دلالت کررہی ہے ، او راول اصح ہے جب کہ مفتی صاحب اجتہاد نہ ہو ۔

ف ۱ : معروضۃعلیہ وعلی العلا مۃ ش
ف ۲: تطفل علی النھر وعلی الدر

 (۱؎ حاشیۃ الطحطاوی علی الدر المختار    رسم المفتی        المکتبۃالعربیہ کوئٹہ    ۱ /۴۹
ردالمحتار رسم المفتی داراحیاء التراث العربی بیروت۱ / ۴۸ )
(۲؎ ردالمحتار رسم المفتی داراحیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۴۸ )

اقول : فرق التعبیر فـــــ۱ لایکون خلافا حتی یوفق وبالجملۃ فتوھم المقابلۃ بینھما اعجب واعجب منہ فـــــ ۲ ان العلامۃ ش تنبہ لہ فی صدر الکتاب ثم وقع فیہ فی کتاب القضاء فسبحٰن من لا ینسی ۔

اقو ل : فرق تعبیرکوئی معنوی اختلاف ہے ہی نہیں کہ تطبیق دی جائے الحاصل ان دو نوں تصحیحوں میں مقابلہ کا تو ہم بہت عجیب ہے او ر اس سے زیادہ عجیب یہ کہ علامہ شامی شرو ع کتاب میں اس پر متنبہ ہوئے پھر کتا ب القضاء میں جاکر اس وہم میں پڑ گئے ۔تو پاکی اس ذات کے لئے جسے فراموشی و نسیان نہیں۔

ف ۱ :معروضۃعلیہ وعلی العلا مۃ ح و علی ط وعلی ش
ف ۲:معروضۃ علی ش

ثالثا: کذلک فـــــ ۱ لا یقابلہ ما فی جامع الفصولین فانہ عین مافی الخانیۃ وانما نقلہ عنہا برمز خ وفیہ تقیید التخییر بالمجتہد فالکل و ردوا موردا واحدا وانما ینشؤا لتوھم لاقتصار وقع فی النقل عنہ  فان۲۲ نصہ لو مع  ح رضی اللہ تعالی عنہ احد صاحبیہ یأخذ بقولھما ولو خالف ح صاحباہ فلو کان اختلافھم بحسب الزمان یأخذ بقول صاحبیہ وفی المزارعۃ والمعاملۃ یختار قولھما لاجماع المتأخرین وفیما عدا ذلک قیل یخیر المجتہد وقیل یأخذ بقول  ح رضی اللہ تعالی عنہ ۲؎ اھ فانکشفت الشبھۃ۔

ثالثا: اسی طر ح اس کا مقابل وہ بھی نہیں جو جا مع الفصولین میں ہے اس لئے کہ اس کا کلام تو بعینہ وہی ہے جو خانیہ کا ہے ، اسی سے ''خ'' کا ر مزدے کر نقل بھی کیاہے ، اس اختیارکو اس سے مقید کیا ہے کہ مفتی مجتہد ہو تو سب نے ایک موقف اختیار کیا ہے او روہم اس اختیار سے پیدا ہوا ہے جو نقل میں واقع ہوا ہے ۔جامع کی عبارت اس طر ح ہے اگر امام ابو حنیفہ رضی اللہ تعالی عنہ کے ساتھ ان کے صاحبین میں سے کوئی ایک ہوں تو ان ہی دونوں ( امام اور وہ ایک صاحب) کے قول کو لے ، اور اگر صاحبین '' ح'' کے مخالف ہو تو اگر ان حضرات کا اختلاف بلحاظ زمان ہے ، تو صاحبین ہی کا قول لے ۔اور مزارعت ومعاملت میں صاحبین ہی کا قول  اختیار کر ے کیوں کہ اسی پر اجماع متا خرین ہے ، ان صورتوں کے ماسوا میں ایک قول یہ ہے کہ مجتہد کو تخییرہے اور ایک قول یہ ہے کہ امام ''ح '' رضی اللہ تعالی عنہ کا ہی قول لینا ہے ۔ اس سے شبہہ منکشف ہوگیا ۔

 (۲؎ جامع الفصولین،الفصل الاول فی القضاء الخ اسلامی کتب خانہ کراچی ،۱ /۱۵)

ف :معروضۃعلیہ

و رابــعــا: اھم فـــــ ۲من الکل دفع ما اوھمہ عبارۃ الدر من ان تصحیح الحاوی اعتبار قوۃ المدرک مطلق لا قتصارہ من نصہ علی فصل واحد ولیس کذلک ففی الحاوی ۲۳ القدسی متی کان قول ابی یوسف ومحمد موافق قولہ لا یتعدی عنہ الا فیما مست الیہ الضرورۃ وعلم انہ لوکان ابو حنیفۃ رأی مارأو ا لا فتی بہ وکذا اذا کان احدھما معہ فان خالفاہ فی الظاھر عـــــہ قال بعض المشائخ یأخذ بظاھر قولہ وقال بعضھم المفتی مخیر بینھما ان شاء افتی بظاھر قولہ وان شاء افتی بظاھر قولھما والاصح ان العبرۃبقوۃ الدلیل ۱؎ اھ

رابعا : سب سے اہم اس وہم کو دور کرنا ہے جو عبارت در مختار نے پیدا کیا کہ حاوی کے نزدیک قوت دلیل کے اعتبار کو اصح قرار دینا مطلقا ہے یہ وہم پیدا ہونے کی وجہ یہ ہے کہ درمختار میں عبارت حاوی کے صر ف ایک ٹکڑے پر اقتصار ہے ۔ حقیقت یوں نہیں ۔کیوں کہ حاوی قدسی کی پوری عبارت یہ ہے :جب امام کے موافق ہو تو اس سے تجاوز نہ کیا جائے گا مگر اس صورت میں جب کہ ضرورت در پیش ہو اور معلوم ہو کہ اگر امام ابو حنیفہ بھی اسے دیکھتے جو بعد والوں نے دیکھا تو اسی پر فتو ی دیتے ،یہی حکم اس وقت بھی ہے جب صاحبین میں سے کوئی ایک ، امام کے ساتھ ہو ، اگر دونوں ہی حضرات ظاہر میں مخالف امام ہوں تو بعض مشائخ نے فرمایا کہ ظاہر قول امام کو لے ، او ربعض مشائخ نے فرمایاکہ مفتی کو دو نوں کا اختیار ہے اگر چاہے تو ظاہر قول امام پر فتوی دے ، اور اصح یہ ہے کہ اعتبار ، قوت دلیل کا ہے اھ،(حاوی قدسی)

 (۱؎ شرح عقود رسم المفتی  رسالہ من رسائل ابن عابدین    سہیل اکیڈمی لاہور    ۱ /۲۶)

عـــہ المراد بالظاھر فی المواضح الاربعۃ ظاھر الروایۃ ۱۲ منہ  چاروں جگہ لفظ "ظاھر " سے مراد ظاہرالروایہ ہے ۱۲ منہ ( ت)

فھذا کما تری عین مافی الخانیۃ لا یخالفھا فی شیئ فقد الزم اتباع قول الامام اذا وافقہ صاحباہ وکذا اذا وافقہ احدھما وانما جعل الاصح العبرۃ بقوۃ الدلیل اذا خالفاہ معالا مطلقا کما او ھمہ الدرو معلوم ان معرفۃ قوۃ الدلیل وضعفہ خاص باھل النظر فوافق تقدیم الخانیۃ تخییر المجتھد لانہ انما فـــــ۱ یقدم الاظھر الاشھر

دیکھئے بعینہ وہی بات ہے جو خانیہ میں ہے ذرا بھی اس کے خلاف نہیں کیوں کہ حاوی نے بھی امام کے ساتھ موافقت صاحبین کی صورت میں ، اسی طرح صرف ایک صاحب کی موافقت کی صورت میں قول امام ہی کاا تباع لازم کیا ہے ، اور قوت دلیل کے اعتبار کو اصح صرف اس صورت میں قرار دیا ہے جب دو نوں ہی حضرات ، مخالف امام ہوں اسے مطلقا اصح نہ ٹھہرایا جیسا کہ عبارت درمختار نے وہم پیدا کیااور معلوم ہے کہ دلیل کی قوت اور ضیعف کی معرفت خاص اہل نظر کا حصہ ہے تو یہ تصحیح اسی کے مطابق ہے جسے خانیہ نے مقدم رکھا ، یعنی یہ کہ مجتہد کے لئے تخییر ہے اس لئے کہ قاضی خاں اسی کو مقدم کرتے ہیں جو اظہر واشہر ہو ۔

فــــ۱ : ما قدم الامام قاضی خان فھو الاظھر الاشھر ۔

وقد علمت ان لا خلف فاحفظ ھذا کیلا تزل فی فھم مرادہ حیث ینقلون عنہ القطعۃ الا خیرۃ فقط ان العبرۃ بقوۃ الدلیل فتظن عمومہ للصور وانما ھو فی ما اذا خالفاہ معا،

معلوم ہوچکا کہ دونوں میں کوئی فر ق و اختلاف نہیں تو اسے یاد رکھنا چاہئے تا کہ مراد حاوی سمجھنے میں لغزش نہ ہو کیوں کہ لوگ ان کا صرف آخر ی ٹکڑا '' اعتبار ، قوت دلیل کا ہے'' نقل کرتے ہیں ، جس سے خیال ہوتا ہے کہ ان کا یہ حکم تمام ہی صورتوں کے لئے ہے ۔ حالاں کہ یہ صرف اس صورت کے لئے ہے جب دو نوں حضرات مخالف اما م ہوں

وبامثال فـــــــ ۲ ماوقع ھھنا فی نقل ش کلام جامع الفصولین ونقل الدرکلام الحاوی وما وقع فیھما من الاقتصار المخل یتعین انہ ینبغی مراجعۃ المنقول عنہ اذا وجد فربما ظھر شیئ لا یظھر مما نقل وان کانت النقلۃ ثقات معتمدین فاحفظ وقد قال فی شرح ۲۴ العقود بعد نقلہ مافی الحاوی الحاصل انہ اذا اتفق ابو حنیفۃ وصاحباہ علی جواب لم یجز العدول عنہ الالضرورۃ وکذا اذا وافقہ احدھما واما اذا انفرد عنھما بجواب وخالفاہ فیہ فان فــــــ انفرد کل منھا بجواب ایضا بان لم یتفقا علی شیئ واحد فالظاھر ترجیح قولہ ایضا ۱؎۔

یہاں علامہ شامی سے کلام جامع الفصولین کی نقل میں اور صاحب در سے کلام حاوی کی نقل میں جو واقع ہوا ور دو نوں میں جو اختصار مخل در آیا ایسی ہی باتوں کے پیش نظر یہ متعین ہوجاتا ہے کہ منقول عنہ کے موجود اور دستیاب ہونے کی صورت میں اس کی مراجعت کرلینا چاہئے ہوسکتا ہے کہ اس سے کوئی ایسی بات منکشف ہو جو نقل سے ظاہر نہیں ہوتی اگر نقل کر نے والے ثقہ ومعتمد ہیں ، اسے یاد رکھیں ۔شرح عقود میں حاوی کا کلام نقل کرنے کے بعد تحریر ہے : حاصل یہ کہ جب امام ابو حنیفہ اور صاحبین کسی حکم پر متفق ہو ں تو اس سے عدو ل جائز نہیں مگر ضرورت کے سبب یوں ہی جب صاحبین میں سے ایک ان کے موافق ہوں ۔لیکن جب امام کسی حکم میں صاحبین سے علیحدہ ہوں اور دونوں حضرات اس میں امام کے بر خلاف ہوں تو اگر یہ بھی الگ الگ ایک ایک حکم رکھتے ہوں اس طر ح کہ کسی ایک بات پر متفق نہ ہو ں تو ظاہر یہی ہے کہ تر جیح قول امام کو ہوگی۔

 (۱؎ شرح العقود رسم المفتی بحوالہ الحاوی القدسی رسالہ من رسائل ابن عابدین    سہیل اکیڈمی لاہور    ۱ /۲۶)

ف ۲ ـ لیجتنب النقل بالواسطۃ مھما امکن ۔
ف : الترجیح لقول الامام ای بلا خلاف اذا خالفا وتخالفا ۔

اقول وھذہ نفیسۃ افادھا وکم لہ من فوائد اجادھا والا مرکما قال لقول الخانیۃ یأخذ بقول صاحبیہ وقولھا یختار قولھما وقول السراجیۃ وغیرھا وصاحباہ فی جانب (عہ۱)

اقول:یہ ایک نفیس نکتہ ہے جس کا افادہ فرمایا اور ان کے ایسے عمدہ افادات بہت ہیں ، اور حقیقت وہی ہے جو انہوں نے بیان کی ، اس لئے کہ خانیہ میں ہے ، صاحبین کا قول لیا جائے گا ، اور یہ بھی ہے صاحبین کا قول اختیار ہوگا اور سرا جیہ وغیرہا میں ہے کہ اور صاحبین ایک طر ف ہوں ۔

 (عہ۱) خانیہ کی دونوں عبارت اس صورت سے مقید ہے جب صاحبین ہم راے ہونے کے ساتھ خلاف امام ہوں اور ان کا یہ اختلاف اصحاب ستہ کی صورتوں میں سے تغیر زماں و عرف کی حالت میں ہو اس کا مفہوم یہ ہے کہ جب اصحاب ستہ کی بناء پر اختلاف نہ ہو اور صاحبین مخالف امام ہونے کے ساتھ ایک رائے پر نہ ہو ں تو ان کا قول نہیں لیا جائے گا بلکہ قول امام کا اتباع ہوگا ۔۔ اسی طرح سراجیہ وغیرہ میں تخییر مفتی کا حکم اسی صورت میں مذکور ہے جب صاحبین ایک ساتھ ہوں ۔ اس کا مفہوم یہ ہے کہ اگر مخالفت امام کے ساتھ ان میں باہم اتفاق نہ ہو تو مفتی کے لئے تخییر نہیں بلکہ قول امام ہی کی پابندی ہے ۱۲ م محمد احمد مصبا حی ۔

قال واما اذا خالفاہ واتفقا علی جواب واحد حتی صار ھو فی جانب وھما فی جانب فقیل یترجع قولہ ایضا وھذا قول الامام عبداللہ بن المبارک وقیل یتخیر المفتی وقول السراجیۃ والاول اصح اذالم یکن المفتی مجتھدا یفید اختیار القول الثانی ان کان المفتی مجتھدا ومعنی تخییرہ انہ ینظر فی الدلیل فیفتی بما یظھر لہ ولا یتعین علیہ قول الامام وھذا الذی صححہ فی الحاوی ایضا بقولہ والا صح ان العبرۃ لقوۃ الدلیل لان اعتبار قوۃ الدلیل شأن المفتی المجتھد فصار فیما اذا خالفہ صاحباہ ثلاثۃ اقوال الاول (۱) اتباع قول الامام بلا تخییر الثانی (۲) التخییر مطلقا الثالث (۳) وھو الاصح التفصیل بین المجتھد وغیرہ وبہ جزم قاضی خان کما یأتی والظاھر ان ھذاتوفیق بین القولین بحمل القول باتباع قول الامام علی المفتی الذی ھو غیر مجتھد وحمل القول بالتخییر علی المفتی المجتھد ۱؎ اھ

علامہ شامی آگے لکھتے ہیں لیکن جب صاحبین امام کے مخالف ہو ں او ربا ہم ایک حکم پر متفق ہوں یہا ں تک کہ امام ایک طرف ہوگئے ہوں اور صاحبین ایک طر ف ، تو کہا گیا کہ اس صورت میں قول امام کو ہی ترجیح ہوگی ، یہ امام عبداللہ بن مبارک کا قول ہے ، اور کہا گیا کہ مفتی کو اختیار ہوگا ، اور سراجیہ کا کلام '' اول اصح ہے جب کہ مفتی صاحب اجتہاد نہ ہو'' ۔ یہ مفتی کے مجتہد ہونے کی صورت میں قول ثانی کی ترجیح کا افادہ کر رہا ہے ، تخییر مفتی کا معنی یہ ہے کہ دلیل میں نظر کرنے کے بعد اس پر جو منکشف ہو اسی پر فتوی دے گا ور اس پر قول امام کی پابندی متعین نہ ہوگی اسی کی حاوی میں تصحیح کی ہے، ان الفاظ سے '' اصح یہ ہے کہ اعتبار قوت دلیل کا ہوگااس لئے کہ قوت دلیل کا اعتبارکرنا مفتی مجتہد ہی کا کام ہے ، تو صاحبین کے مخالف امام ہونے کی صورت میں تین قول ہوگئے : اول یہ کہ بلا تخییر قول امام ہی کا اتباع ہوگا دو م یہ کہ مطلقا تخییر ہوگی سوم ، او روہی اصح ہے ، یہ کہ مجتہد اور غیر مجتہد کے درمیان تفریق ہے ( مجتہد کے لئے تخییر ، غیر کے لئے پابندی امام) اسی پر امام قاضی خاں نے بھی جزم کیا جیسا کہ آرہا ہے او رظاہر یہ ہے کہ یہ پہلے دونوں قولوں میں تطبیق ہے اس طر ح کہ اتباع امام والے قول کو اس مفتی پر محمول کیا جو غیر مجتہد ہو او رتخییر والے قول کو اس مفتی  پر محمول کیا جو مجتہد ہو،

 (۱؎ شرح العقود رسم المفتی بحوالہ الحاوی القدسی رسالہ من رسائل ابن عابدین    سہیل اکیڈمی لاہور    ۱/ ۲۷،۲۶)

ثم قال وقد علم من ھذا انہ لاخلاف فی الاخذ بقول الامام اذا وافقہ احدھما ولذا قال الامام قاضی خان وانکانت المسئلۃ مختلفا فیھا بین اصحابنا ۲ ؔالٰی آٰخر ماقدمنا عنھا۔

آگے فرمایا ، اس سے معلوم ہوگیا کہ صاحبین میں سے کسی ایک کے موافق امام ہونے کی صورت میں قول امام کی پابندی کے حکم میں کوئی اختلاف نہیں اسی لئے امام قاضی خاں نے فرمایا اگر مسئلہ میں ہمارے ائمہ کے درمیان اختلاف ہے یہاں سے آخر عبارت تک جو ہم پہلے (نص ۶کے تحت) نقل کر آئے ۔

 (۲ ؎ شرح العقود رسم المفتی بحوالہ الحاوی القدسی رسالہ من رسائل ابن عابدین    سہیل اکیڈمی لاہور    ۱/ ۲۷،۲۶)

فقد اعترف رحمہ اللہ تعالی بالصواب فی جمیع تلک الابواب غیرانہ استدرک علی ھذا الفصل الاخیر بقولہ لکن قدمنا ان ما نقل عن الامام من قولہ اذا صح الحدیث فھو مذھبی محمول علی مالم یخرج عن المذھب با لکلیۃ کما ظھر لنا من التقریر السابق ومقتضاہ جواز اتباع الدلیل وان خالف ما وافقہ علیہ احد صاحبیہ ولھذا قال فی البحر عن التتارخانیۃ اذاکان الامام فی جانب وھما فی جانب خیر المفتی وان کان احدھما مع الامام اخذ بقو لھما الا اذا اصطلح المشائخ علی القول الاٰخر فیتبعھم کما اختار الفقیہ ابو اللیث قول زفرفی مسائل ۱؎ انتھی ۔

علامہ شامی رحمۃ اللہ علیہ ان تمام ابو اب و ضوابط میں درستی وصواب کے معترف ہیں سوا اس کے کہ اس اخیر حصے پریوں استدراک فرمایا ہے لیکن ہم پہلے بتا چکے کہ امام سے نقل شدہ ان کا ارشاد '' جب حدیث صحیح ہو تو وہی میرا مذہب ہے '' اس پر محمول ہے جو مذہب سے بالکلیہ خارج نہ ہو ،جیسا کہ تقریر سابق سے ہم پر منکشف ہوا ۔اور اس کا مقتضی یہ ہے کہ دلیل کا اتباع اس صورت میں بھی جائز ہے جب دلیل امام کے ایسے قول کے مخالف ہو جس پر صاحبین میں سے کوئی ایک ، حضرت امام کے موافق ہوں ۔ اسی لئے بحر میں تاتار خانیہ سے نقل کرتے ہوئے لکھا ہے کہ جب امام ایک طر ف ہوں اور صاحبین دو سری طرف تو مفتی کو تخییر ہے اوراگر صاحبین میں سے ایک، امام کے ساتھ ہوں تو ان ہی دونوں حضرات (امام اور ایک صاحب) کا قول لیا جائے گا مگر جب کہ قول دیگر پر مشائخ کا اتفاق ہوجائے تو حضرات مشائخ کا اتباع ہوگا ۔ جیساکہ فقیہ ابو اللیث نے چند مسائل میں امام زفر کا قول اختیار کیا ہے ۔

 (۲ ؎ شرح العقود رسم المفتی بحوالہ الحاوی القدسی رسالہ من رسائل ابن عابدین    سہیل اکیڈمی لاہور    ۱/ ۲۷)

وقال (۲۵) فی رسالتہ المسماۃ رفع الغشاء فی وقت العصر والعشاء لایرجح قول صاحبیہ او احدھما علی قولہ الا لموجب وھو ا ما ضعف دلیل الامام واما للضرورۃ والتعامل کترجیح قولھما فی المزارعۃ والمعاملۃ واما لان خلافھما لہ بسبب اختلاف العصر والزمان وانہ لوشاھد ما وقع فی عصرھما لوافقھما کعدم القضاء بظاھر العدالۃ  ویوافق ذلک ماقالہ (۲۶)العلامۃ المحقق الشیخ قاسم فی تصحیحہ فذکر ماقدمنا من کلامہ فی توضیع مرامہ وفیہ ان الا خذ بقولہ الافی مسائل یسیرۃ اختار والفتوی فیھا علی قولھما اوقول احدھما وانکان الاٰخر مع الامام ۱؎ اھ وھو محل استشھادہ۔

علامہ شامی اپنے رسالہ '' رفع الغشاء فی وقت العصر والعشاء'' میں رقم طراز ہیں صاحبین یا ایک کے قول کو قول امام پر ترجیح نہ ہوگی مگر کسی موجب کی وجہ سے ۔ وہ یا تو دلیل امام کا ضعف ہے ، یا ضرورت اورتعامل جیسے مزار عت ومعاملت میں قول صاحبین کی ترجیح یا یہ ہے کہ صاحبین کی مخالفت عصر و زمان کے اختلاف کے باعث ہے اگر امام بھی اس کا مشاہد ہ کرتے جو صاحبین کے دور میں رو نما ہوا تو ان کی موافقت ہی کرتے ۔ جیسے ظاہر عدالت پر فیصلہ نہ کرنے کا مسئلہ ۔ اسی کے مطابق وہ بھی ہے جو علامہ محقق شیخ قاسم نے اپنی تصحیح میں فرمایا اس کے بعد ان کا وہ کلام ذکر کیا ہے جو ہم مقصود کلام کی تو ضیح میں پہلے نقل کر آئے ہیں ، اس میں یہ عبارت بھی ہے ہر جگہ امام ہی کا قول لیا گیا ہے مگر صرف چند مسائل ہیں جن میں ان حضرات نے صاحبین کے قول پر ، یا صاحبین میں سے کسی ایک کے قول پر ۔ اگرچہ دو سرے صاحب ، امام کے ساتھ ہوں ۔ فتوی اختیار کیا ہے اھ ۔ یہی حصہ یہاں علامہ شامی کا محل استشہاد ہے (کلام بالا سے مطابقت کے ثبوت میں یہی عبارت وہ پیش کرنا چاہتے ہیں )

 (۱؎ شرح العقود     رسالہ من رسائل ابن عابدین    سہیل اکیڈمی لاہور    ۱ /۲۷)

اقول : قد علمت فــــ ان کلام العلامۃ قاسم فیما یخالف فیہ قولھم الصوری جمیعا فضلا عما اذا خالف احدھم وکذاکلام فــــ ۱ التاترخانیۃ فانہ انما استثنی مااجمع فیہ المرجحون فــــ ۲ علی خلاف الامام ومن معہ من صاحبیہ ولا یوجد قط الا فی احد الوجوہ الستۃ وح لا یتقید بوفاق احد من الائمۃ الثلثۃ رضی اللہ تعالی عنہم الا تری فـــــ ۳ : الی ذکر اختیار قول زفر۔

اقول : یہ معلوم ہوچکا کہ علامہ قاسم کا کلام مذکور اس صورت سے متعلق ہے جو ان سبھی حضرات کے قول صوری کے بر خلاف ہو ، کسی ایک کے برخلاف ہونا تو درکنا ر یہی حال کلام تا تا ر خانیہ کا بھی ہے ۔ کیوں کہ اس میں استثنا اس صورت کا ہے جس میں امام اور امام کے ساتھ صاحبین میں جو ہیں دو نوں کی مخالفت پر مر جحین کا اجماع ہو ۔ او راس صورت کا سوا ان چھ صورتوں کے کبھی وجو د ہی نہ ہوگا اس صورت کے لئے یہ قید بھی نہیں کہ تینوں ائمہ میں سے کسی ایک کے موافق ہی ہو دیکھ لیجئے ایسی صورت میں تینون ائمہ کو چھوڑ کر امام زفر کا قول اختیار کرنے کا ذکر گزر چکا ہے ۔

۱؎ معروضۃ علیہ ۲؎ معروضۃ علیہ ۳؎ معروضۃ علیہ

ا ما حدیثا اذا صح الحدیث فـــ ۴وضعف الدلیل فـــ ۵ فشا ملان ما یخالف الثلثۃ رضی اللہ تعالی عنہم الا تری ان الامام الطحاوی خالفھم جمیعا فی عدۃ مسائل منھا تحریم الضب والمحقق حیث اطلق فی تحریم حلیلۃ الاب والا بن رضاعا فکیف یخص الکلام بما اذا وافقہ احدھما دون الاٰخر۔

اب رہا اذا صح الحدیث اور ضعیف دلیل کا معاملہ تو یہ دونوں بھی اس صورت کو شامل ہیں جو تینوں ہی ائمہ رضی اللہ تعالی عنہم کے بر خلاف ہو دیکھئے امام طحاوی نے متعد د مسائل میں ان سبھی حضرات کی مخالفت کی ہے ان ہی میں سے حرمت ضب (ایک جانور ) کا مسئلہ ہے ۔ اور محقق علی الاطلاق نے رضاعی باپ اور رضاعی بیٹے کی بیوی کی حرمت میں سب کی مخالفت کی ہے ۔ تو کلام اسی صورت سے خاص کیوں رکھا جائے جس میں صاحبین میں سے کوئی ایک موافق امام ہوں ؟

۴؎ معروضۃ علیہ ۵؎ معروضۃ علیہ

فان قلت اذا وافقاہ فلا خلاف عندنا ان المجتھد فی مذھبھم لایسعہ مخالفتھم فلاجل ھذا الا جماع یخص الحدیثان بما اذا خالفہ احدھما۔ اگریہ کہئے :کہ جب صاحبین موافق امام ہو ں تو ہمارے یہاں اس بارے میں کوئی اختلاف نہیں کہ مجتہد فی المذہب کے لئے ان حضرات کی مخالفت روانہیں اسی اجماع کی وجہ سے اذا صح الحدیث اور ضعیف دلیل کے معاملے کو اس صورت سے خاص رکھا جائے گا جس میں صاحبین میں سے کوئی ایک مخالف امام ہوں۔

قلت کذا لا خلاف فیہ عندنا اذا کان معہ احد صاحبیہ رضی اللہ تعالٰی عنہم کما اعترفتم بہ تصریحا۔ تو میں کہوں گا : اسی طرح ہمارے یہا ں اس بار ے میں اس صورت میں بھی کوئی اختلاف نہیں جب صاحبین میں سے کوئی ایک موافق امام ہوں جیسا کہ آپ نے صراحۃ اس کا اعتراف کیا۔

 [ الحاصل تفصیل بالاسے یہی ثابت ہوا کہ اذاصح الحدیث اور ضعف دلیل والی صورتوں میں مجتہد کے لئے جواز ہے کہ وہ اپنی دستیاب حدیث اور اپنی نظر میں قوی دلیل کی رو سے تینوں ائمہ کے خلاف جاسکتا ہے۔ لیکن اس تحقیق پر یہ اعتراض ضرور پڑے گا کہ اس کے لئے تینوں حضرات کی مخالفت کا جواز کیسے ہوسکتا ہے جبکہ علماء نے بالاتفاق یہ قاعدہ رکھاہے کہ جب تینوں ائمہ متفق ہوں یا امام کے ساتھ صاحبین میں سے کوئی ایک متفق ہوں تو ان کے اتباع سے قدم باہر نکالنے کی گنجائش نہیں ۔ یہ اجماع مطلقا مجتھد اور غیر مجتھد دونوں کے حق میں ہے ۔ اختلاف ہے تو اس صورت میں جبکہ صاحبین باہم متفق اور امام کے مخالف ہوں اگر وہ تحقیق درست ہے تو اس اجماعی ممانعت کا معنی کیا ہے ؟ اور اس کھلے ہوئے تضاد کا حل کیا ہے ؟ ۔۔۔۔ اسی کا حل رقم کرتے ہوئے امام احمد رضا خان علیہ الرحمہ آگے فرماتے ہیں ۱۲ م ]

فالاوجہ عندی ان معنی نھی المجتھد عنہ نھی المقلد ان یتبعہ فیہ نھیا وفاقیا بخلاف مااذا خالفاہ فان فیہ قیلا ان التخییر عام کما سبق فلأن یتبع مرجحا رجح قولھما اولی وربما یلمح الیہ قول المحقق فـــ حیث اطلق فی مسألۃ الجھر بالتأ مین لو کان الی فی ھذا شیئ لوفقت بان روایۃ الخفض یرادبھا عدم القرع العنیف وروایۃ الجھر بمعنی قولھا فی زیر الصوت وذیلہ ۱؎ الخ فلم یمتنع عن ابداء ما عن لہ وعلم انہ لا یتبع علیہ فقال لوکان الی شیئ واللہ تعالی اعلم۔

تو بہتر جواب اورحل: میرے نزدیک یہ ہے کہ اس مخالفت سے مجتہد کی ممانعت کا مطلب مقلد کو اس بارے میں مجتہد مخالف کی متا بعت سے باز رکھنا ہے (یعنی الفاظ تو یہ ہیں کہ مجتہد مخالفت نہ کرے مگر مقصود یہ ہے کہ مقلد ایسی مخالفت کی پیروی نہ کر ے ۔ رہا مجتہد تو جب اس کے خیال میں ائمہ ثلاثہ کے خلاف حدیث صحیح موجود ہے ، یا ان کے مذہب کے بر خلاف قوی دلیل عیاں ہے تو اسے ا پنے اجتہاد کو کام میں لانے اور ائمہ کے خلاف جانے سے رو کا نہیں جاسکتا ۔ اگر اسے روکا گیا ہے تو اس سے مقصود مقلد ہے کہ وہ تینوں یا ان دواماموں کی مخالفت کی صورت میں اس مجتہد کی پیروی نہ کرے ۱۲مترجم) بخلاف اس صورت کے جس میں صاحبین باہم متفق او رامام کے مخالف ہوں (کہ اس میں مقلد کے لئے مجتہد مخالف کی پیروی سے بالاجماع ممانعت نہیں) کیونکہ اس صورت میں ایک قول یہ بھی ہے کہ تخییر عام ہے ۔ یعنی مجتہد وغیر مجتہد ہر ایک کو مخالفت کا اختیار ہے ، جیسا کہ گزرا ، تو اگر مقلد کسی ایسے مرجح کی پیروی کر لے جن نے قول صاحبین کو تر جیح دی ہو تو بدرجہ اولی اس کااسے اختیار ہوگا اس کا کچھ اشارہ امین بالجہر کے مسئلے میں محقق علی الاطلاق کے اس کلام میں بھی جھلکتا ہے ، وہ فرماتے ہیں : اگر اس بارے میں مجھے کچھ اشارہ ہوتا تو یوں تطبیق دیتا کہ آہستہ کہنے والی روایت سے مراد یہ ہے کہ کرخت آواز نہ ہو اور جہر والی کی روایت کا معنی یہ ہے کہ آواز کے انداز اور اور آواز کے ذیل میں ادا کرے یہاں محقق علیہ الرحمہ اپنی رائے کے اظہار سے باز نہ رہے اور انہیں معلوم تھا کہ اس بارے میں ان کی متابعت نہ ہوگی اس لئے یہ بھی فرمایا کہ" اگر مجھے کچھ اختیار ہوتا" واللہ تعالی اعلم ۔

 (۱؎ فتح القدیر     کتاب الصلوۃ باب صفۃ الصلوۃ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر     ۱ /۲۵۷)

فــ : امام محقق علی الاطلاق نے باوصف مرتبہ اجتہاد مسئلہ جہر آمین میں مخالفت مذہب کی جراء ت نہ کی اور فرمایا مجھے کچھ اختیار ہوتا تو میں یوں دونوں قولوں میں اتفاق کراتا کہ نہ زور سے ہو نہ بالکل آہستہ مسلمانو ! انصاف ، ان اکابر کی تو یہ کیفیت ، اور جاہلان بے تمیز کہ ان اکابر کا کلام بھی نہ سمجھ سکیں وہ امام کے مقابلہ کو تیار ۔

ومجیئ النھی علی ھذا فــــ الاسلوب غیر مستنکران یتوجہ الی احد والمقصود بہ غیرہ قال تعالی فلا یصدنک عنھا من لا یؤمن بھا ۱؎ وقال عزوجل ولا یستخفنک الذین لا یوقنون ۲؎ ای لا تقبل صدہ ولا تنفعل با ستخفافہم واللہ تعالی اعلم ۔

اور اس طر ز پر نہیں آنا کہ تو جہ کسی کی جانب ہو اور مقصود کوئی اور ہو، کوئی اجنبی ونامعروف چیز نہیں باری تعالی کا ارشاد ہے '' تو ہر گز تجھے اس کے (قیامت کے) ماننے سے وہ نہ روکے جو اس پر ایمان نہیں لاتا '' او ر رب  عزوجل کا فرمان ہے :'' اور تمہیں سبک نہ کردیں وہ جو یقین نہیں رکھتے '' پہلی آیت میں نہی ان کے لئے ہے جو ایمان نہیں رکھتے مگر '' مقصود یہ ہے کہ ان کی رکاوٹ تم قبول نہ کرو '' اسی طرح دوسری آیت میں کہ وہ سبک نہ کریں اور مقصود یہ ہے کہ'' تم ان کے استخفاف کا اثر نہ لو ''

 (۱؎ القرآن    ۲۰/۱۶) (۲؎ القرآن    ۳۰/۶۰)

فـــ : قد ینھی زید والمقصود نھی عن غیرہ۔

وفی کتاب التجنیس والمزید للامام الاجل صاحب الھدایۃ ثم ط من اوقات الصلوۃ الواجب عندی ان یفتی بقول ابی حنیفۃ علی کل حال ۳؎ اھ امام بزرگ صاحب ہدایہ کی کتاب التجنیس والمزید پھر طحطاوی اوقات الصلاۃ میں ہے میرے نزدیک واجب یہ ہے کہ ہر حال میں امام ابو حنفیہ کے قول پر فتوی دیا جائے ۔ اھ

 (۳؎ حاشیہ طحطاوی علی الدر المحتار بحوالہ التجنیس کتاب الصلوۃ المکتبۃ العربیہ کوئٹہ ۱ /۱۷۵)

وفی ط منھا قد تعقب نوح افندی (۲۸) ماذکر فی الدررمن ان الفتوی علی قولھما (ای فی الشفق) بانہ لایجوز فـــ ۱ الاعتماد علیہ لانہ لایرجع قولہما علی قولہ الالموجب من ضعف دلیل او ضرورۃ او تعامل اواختلاف زمان ۱؎ اھ

طحطاوی اوقات الصلاۃ میں یہ بھی ہے : در ر میں جو ذکر کیا ہے کہ شفق کے بارے میں فتوی قول صاحبین پر ہے ،کہ اس پر علامہ نوح آفندی نے یہ تعاقب کیا ہے کہ : اس پر اعتماد جائز نہیں اس لئے کہ قول امام پر قول صاحبین کو تر جیح نہیں دی جاسکتی مگر ضعف دلیل ، یا ضروت ، یا تعامل ، یا اختلاف زمان جیسے کسی موجب کے سبب ۔ اھ

ف : ۱؎ مسئلہ: دربارہ وقت عشا جو قول صاحبین پر بعض نے فتوی دیا علامہ نوح نے فرمایا اس پر اعتماد جائز نہیں

 (۱؎ حاشیہ طحطاوی علی الدر المحتار بحوالہ التجنیس کتاب الصلوۃ المکتبۃ العربیہ کوئٹہ ۱ /۱۷۵)

ومــر ردالمحقق حیث اطلق علی المشائخ فتوٰھم بقولھما فی مواضع من کتابہ وانہ قال لا یعدل عن قولہ الا لضعف دلیلہ ۲؎ اھ

یہ گزر چکا کہ محقق علی الاطلاق نے قول صاحبین پر افتا کے با عث مشائخ پر اپنی کتاب کے متعد د مقامات پر ردکیا ہے اور انہوں نے فرمایا کہ قول امام سے عدول نہ ہوگا سو ااس صورت کے کہ اس کی دلیل کمزورہو ۔ اھ

 (۲؎ شرح عقو د رسم المفتی رسالہ من رسائل ابن عابدین        سہیل اکیڈمی لاہور    ۱ /۲۴)

وقــد نقلہ (۳۰) ش واقرہ کالبحر (۳۱) اقول ولم یستثن ما سواہ لما علمت ان ذلک عین العمل بقول الامام لاعدول عنہ فمن فـــ ۲ استثناھا کالخانیۃ والتصحیح وجامع الفصولین والبحر والخیر ورفع الغشاء ونوح وغیرھم نظر الی الصورۃ ومن ترک نظر الی المعنی فان استثنی ضعف الدلیل کالمحقق فنظرہ الی المجتھد وان لم یستثن شیئا کالامام صاحب الھدایۃ والامام الاقدم عبداللہ بن المبارک فقولہ ماش علی ارسالہ فی حق المقلد ۔ اسے علامہ شامی نے بھی بحر کی طرح نقل کیا ہے اور بر قرار رکھا ہے ۔  محقق علی الاطلاق نے ضعف دلیل کی صورت کے علاوہ او رکسی صورت کا استثنا نہ کیا اس کی وجہ معلوم ہوچکی ہے اور صورتوں میں در اصل بعینہ قول امام پر عمل ہے جس سے عدو ل نہیں ہوسکتا تو جن حضرات نے استثنا کیا ہے جیسے خانیہ ، تصحیح ، جامع الفصولین ، بحر ، خیر ، رفع الغشاء ، علامہ نوح وغیرہم ۔ انہوں نے ظاہر صورت پر نظر کی ہے۔ اور جنہوں نے استثنا ء نہیں کیا انہوں نے معنی کا لحاظ کیا ہے ۔ پھر اگر ضعف دلیل کا استثنا کردیا ۔ جیسے محقق علی الاطلاق نے اس میں مجتہد کا اعتبار کیا ہے ۔ اور اگر کچھ بھی استثنا نہ کیا جیسے امام صاحب ہدایہ اور امام اقدم عبداللہ بن مبارک تو یہ مقلد کے حق میں حکم اطلاق پر جاری ہے ۔

ف۲؎ توفیق نفیس من المصنف بین عبارات الائمۃ فی تقدیم قول الامام المختلفۃظاھرا۔

فظھر وللہ الحمد ان الکل انما یرمون عن قوس واحدۃ ویرومون جمیعا ان المقلد لیس لہ الااتباع الامام فی قولہ الصوری ان لم یخالفہ قولہ الضروری والاففی الضروری وفی شرح (۳۲) العقود رأیت فی بعض (۳۳) کتب المتأخرین نقلا عن (۳۴) ایضاح الاستدلال علے ابطال الا ستبدال لقاضی القضاۃ شمس الدّین الحریری احد شراح الھدایۃ ان صدر الدین (۳۵) سلیمن قال ان ھذہ الفتاوی ھی اختیارات المشائخ فلا تعارض کتب المذھب قال وکذا (۳۶) کان یقول غیرہ من مشائخنا وبہ اقول۱؎ اھ وتقدم قول الخیر (۳۷) ثم ش (۳۸) المقرر عندنا انہ لایفتی ولا یعمل الا بقول الامام الاعظم الا لضرورۃ وان صرح المشائخ ان الفتوی علی قولھما۲؎ اھ

بحمد ہ تعالی اس تفصیل وتطبیق سے روشن ہوا کہ سبھی حضرات ایک ہی کمان سے نشانہ لگا رہے ہیں اور سب کا یہ مقصود ہے کہ مقلد کے لئے صرف اتباع امام کاحکم ہے یہ اتباع اما م کے قول صوری کا ہوگا اگر قول ضروری اس کے خلاف نہ ہو ، ورنہ قول ضروری کا اتباع ہوگا ۔ (۳۲۔۔۔۔۔۳۶) شرح عقود میں ہے میں نے بعض کتب متاخرین میں قاضی القضاۃ شمس الدین حریری شارح ہدایہ کی کتاب '' ایضاح الاستدلال علی ابطال الاستبدال '' سے منقول یہ دیکھا کہ صد رالدین سلیمان نے فرمایا ان فتا وی کی حیثیت یہی ہے کہ یہ مشائخ کی تر جیحات اور ان کے اختیار کر دہ اقوال واحکام ہیں تو یہ کتب مذہب کے مقابل نہیں ہوسکتے ''فرماتے ہیں کہ یہی بات ہمارے دو سرے شیوخ بھی فرماتے اور میں بھی اسی کا قائل ہوں ۔ خیر یہ پھر شامی کاکلام گزرچکا کہ ہمارے نزدیک مقر ر اور طے شدہ یہی ہے کہ صورت ضرورت کے سوا فتوی او رعمل امام اعظم ہی کے قول پر ہوگا ۔ اگرچہ مشائخ تصریح فرمائیں کہ فتوی صاحبین کے قول پر ہے ۔ اھ

 (۱؎ شرح عقود رسم المفتی رسالہ من رسائل ابن عابدین    سہیل اکیڈمی لاہور    ۱ /۳۶)
(۲؎ ردالمحتار     مطلب اذا تعارض التصحیح دار احیا ء التراث العربی بیروت     ۱ /۴۹
الفتاوی الخیریہ کتاب الشہادات دارالمعرفۃ بیروت ۲ / ۳۳)

وایضا قول (۳۹) البحر ثم ش (۴۰) یجب الافتاء بقول الامام وان لم یعلم من این قال ۳؎ اھ بحر پھر شامی کا یہ کلام بھی گز رچکا کہ قول امام پر ہی افتا واجب ہے اگرچہ یہ معلوم نہ ہو کہ ان کا ماخذاور دلیل کیا ہے۔ اھ

 (۳؎ البحر الرائق کتاب القضاء فصل یجوز تقلید من شاء الخ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۶ / ۲۶۹)
(ردالمحتار     اذا تعارض التصحیح دار احیاء التراث العربی بیروت     ۱ /۴۹)

وفــی ردالمحتار (۴۱) قد قال فی البحر (۴۲) لایعدل عن قول الامام الی قولھما او قول احدھما الالضرورۃ من ضعف دلیل او تعامل بخلافہ کالمزارعۃ وان صرح المشائخ بان الفتوی علی قولھما  ۴؎ اھ وھکذا اقرہ (۴۳) فی منحۃ الخالق ۔

رد المحتار میں بحر سے نقل ہے قول امام سے قول صاحبین کی جانب ضعف دلیل یا قول امام کے خلاف صورت مزارعت جیسے تعامل کی ضرورت کے سوا عدول نہ ہوگا اگرچہ مشائخ کی صراحت یہ ہو کہ فتوی صاحبین کے قول پر ہے اھ علامہ شامی نے منحۃ الخالق میں بھی اس کلام بحر کو اسی طر ح بر قرار رکھا ہے ۔

 (۴؎ ردالمحتار     کتاب الصلوۃ دار احیاء التراث العربی بیروت     ۱ /۲۴۰)

وفــیــہ (۴۴) من النکاح قبیل الولی فی مسألۃ دعوی النکاح منہ او منھا ببینۃ الزور  وقضاء القاضی بھا عند قول الدر تحل لہ خلافا لھما وفی الشرنبلا لیۃ عن المواھب وبقولھما یفتی۱؎ ما نصہ قال الکمال قول الامام اوجہ قلت وحیث کان الاوجہ فلا یعدل عنہ لما تقرر انہ لایعدل عن قول الامام الا لضرورۃ او ضعف دلیلہ کما اوضحناہ فی منظومۃ رسم المفتی و شرحھا۲؎ اھ

درمختار کتاب النکاح میں باب الولی سے ذرا پہلے یہ مسئلہ ہے کہ مرد یا عورت نے دعوی کیا کہ اس سے میرا نکاح ہو چکا ہے اس دعوے پر جھوٹے گواہ بھی پیش کردئے اور قاضی نے ثبوت نکاح کا فیصلہ بھی کردیا توعورت اس مرد کے لئے حلال ہوجائے گی اور صاحبین کے قول پر حلال نہ ہوگی شرنبلالیہ میں مواھب کے حوالے سے یہ لکھا ہے کہ صاحبین ہی کے قول پر فتوی ہے ۔ اس کے تحت رد المحتار میں یہ کلام ہے کمال نے فرمایا قول امام اوجہ ہے (بہتر وبادلیل ہے ) میں کہتا ہوں جب قول امام اوجہ ہے تو اس سے عدول نہ کیا جائے گا کیونکہ یہ امر طے شدہ ہے کہ ضرورت یا قول امام کی دلیل ضعیف ہونے کے سوا اور کسی حال میں قول امام سے عدول نہ ہوگا جیسا کہ منظومہ رسم المفتی او را س کی شرح میں ہم واضح کرچکے ہیں ۔

 (۱؎ الدر المختار        کتاب النکاح فصل فی المحرمات مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۱۹۰)
(۲؎ ردالمحتار     کتاب النکاح فصل فی المحرمات مطبع دار احیاء التراث العربی بیروت         ۲ /۲۹۴)

وفــیــہ (۴۵) من ھبۃ المشاع حیث علمت انہ ظاھر الروایۃ ونص علیہ محمد و رووہ عن ابی حنیفۃ ظھر انہ الذی علیہ العمل وان صرح بان المفتی بہ خلافہ ۳؎ اھ

اسی (رد المحتار ) میں ہبہ مشاع کے بیان میں ہے جب یہ معلوم ہوگیا کہ یہی ظاہر الروایہ ہے، اسی پر امام محمد کا نص ہے او راسی کو ان حضرات نے امام ابو حنیفہ سے روایت کیا ہے توظاہر ہوگیا کہ عمل اسی پر ہوگا اگر چہ یہ صراحت کی گئی ہو کہ مفتی بہ اس کے خلاف ہے ۔

 (۳؎ ردالمحتار     کتاب الہبہ مطبع دار احیاء التراث العربی بیروت         ۴ /۵۱۱)

ھـذہ نصوص العلماء رحمھم اللہ تعالی و رحمنابھم وھی کما تری کلھا موافقۃ لما فی البحر ولم یتعقبہ فیما علمت الا عالمان متأخران کل منھما عاب واٰب وانکر و اقرو فارق و رافق وخالف و وافق وھما العلامۃ خیر الرملی والسید الشامی رحمھما اللہ تعالی ولا عبرۃ بقولٍ مضطرب وقد علمت ان لا نزاع فی سبع صور انما ورد خلاف ضعیف فی الثامن  وھی ما اذا خالفہ صاحباہ متوافقین علی قول واحد ولم یتفق المرجحون علی ترجیح شیئ منھما فعند ذاک جاء قیل ضعیف مجہول القائل بل مشکوک الثبوت" ان المقلد یتبع ماشاء منھما" والصحیح المشہور المعتمد المنصور انہ لایتبع الاقول الامام والقولان کما تری مطلقان مرسلا ن لانظر فی شیئ منھما لترجیح او عدمہ۔

یہ ہیں علماء کے نصوص اور ان کی تصریحات اللہ تعالی ان پر رحمت نازل فرمائے اور ان کے طفیل ہم پر بھی رحمت فرمائے ۔ آپ دیکھ رہے ہیں کہ یہ تمام نصوص کلام بحر کے موافق ہیں او رمیرے علم میں کسی نے بھی اس پر کوئی تعاقب نہ کیا  سوا دو متا خر عالموں کے ، دونوں حضرات میں سے ہر ایک نے عیب بھی لگایا اور رجوع بھی کیا ، انکار بھی کیا اوراقرار بھی ، مفارقت بھی کی اور مرافقت بھی مخالفت بھی اور موافقت بھی یہ ہیں علامہ خیر الدین رملی اور سید امین الدین شامی رحمہما اللہ تعالی ، اور کسی مضطرب کلام کا یوں ہی کوئی اعتبار نہیں۔  یہ بھی معلوم ہوچکا کہ اس مسئلہ کی سات صورتوں میں کوئی نزاع نہیں ، ایک ضعیف اختلاف صرف آٹھویں صورت میں آیا ہے ۔ وہ صورت یہ ہے کہ صاحبین باہم ایک قول پر متفق ہوتے ہوئے  امام کے خلاف ہوں او رمرجحین دونوں قولوں میں سے کسی کی ترجیح پر متفق نہ ہوں ، بس اسی صورت میں ایک ضعیف قول آیا ہے جس کے قائل کا پتا نہیں ، بلکہ اس کے وجود میں بھی شبہ ہے ، وہ قول یہ ہے کہ مقلد دونوں میں سے جس کی چاہے پیرو ی کرے ، صحیح مشہور معتمد منصور قول یہ ہے کہ مقلد قول امام کے سوا کسی کی پیروی نہ کرے ، یہ دونوں قول جیسا کہ آپ کے سامنے ہے ، مطلق اور ہر طر ح کی قید سے آزاد ہیں ۔ کسی میں ترجیح یا عدم ترجیح کا کوئی لحاظ نہیں رکھا گیا ہے (ضعیف میں مطلقا اختیار دیا گیا ہے اور صحیح میں مطلقا پابند امام رکھاگیا ہے )

لکـن المحقق الشامی اختار لنفسہ مسلکا جدیدا لا اعلم لہ فیہ سندا سدیدا و ھو ان المقلد لالہ التخییر ولا علیہ التقیید بتقلید الامام بل علیہ ان یتبع المرجحین۔ قال فی صدر ردالمحتار قول السراجیۃ الاول اصح اذا لم یکن المفتی مجتھدا فھو صریح فی ان المجتھد یعنی من کان اھلاً للنظر فی الدلیل یتبع من الاقوال ماکان اقوی دلیلا والا اتبع الترتیب السابق وعن ھذا ترٰھم قدیرجحون قول بعض اصحابہ علی قولہ کما رجحوا قول زفر وحدہ فی سبع عشرۃ مسألۃ فنتبع مارجحوہ لانھم اھل النظر فی الدلیل ۱؎ اھ

لیکن محقق شامی نے اپنے لئے ایک نیا مسلک اختیار کیاہے جس کی کوئی صحیح سند میرے علم میں نہیں وہ مسلک یہ ہے کہ مقلد کو نہ اختیار ہے نہ تقلید امام کی پابندی بلکہ اس پر یہ ہے کہ مرجحین کی پیروی کرے
رد المحتار کے شر وع میں لکھتے ہیں سراجیہ کی عبارت '' اول اصح ہے جب کہ وہ صاحب اجتہادنہ ہو '' ، اس بارے میں صریح ہے کہ مجتہد یعنی وہ جو دلیل میں نظر کا اہل ہو ، اس قول کی پیروی کرے گا جس کی دلیل زیادہ قوی ہو ورنہ ترتیب سابق کا اتباع کرے گا ۔ اسی لئے دیکھتے ہو کہ مرجحین بعض اوقات امام صاحب کے کسی شاگر د کے قول کو ان کے قول پر ترجیح دیتے ہیں جیسے سترہ مسائل میں تنہا امام زفر کے قول کو ترجیح دی ہے تو ہم اسی کی پیروی کریں گے جسے ان حضرات نے تر جیح دے دی کیوں کہ وہ دلیل میں نظر کے اہل تھے ۔ اھ

 (۱؎ ردالمحتار     مطلب رسم المفتی     دار احیاء التراث العربی بیروت     ۱ /۴۸)

وقال فی قضائہ لا یجوز لہ مخالفۃ الترتیب المذکور الا اذا کان لہ ملکۃ یقتدر بھا علی الاطلاع علی قوۃ المدرک وبھذا رجع القول الاول الی ما فی الحاوی من ان العبرۃ فی المفتی المجتھد لقوۃ المدرک نعم فیہ زیادۃ تفصیل سکت عنہ الحاوی فقد اتفق القولان علی ان الاصح ھو ان المجتھد فی المذھب من المشائخ الذین ھم اصحاب الترجیح لایلزمہ الاخذ بقول الامام علی الاطلاق بل علیہ النظر فی الدلیل وترجیح مارجح عندہ دلیلہ ونحن نتبع ما رجحوہ واعتمدوہ کمالو افتوا فی حیاتھم کما حققہ الشارح فی اول الکتاب نقلا عن العلامۃ قاسم ویأتی قریبا عن الملتقط انہ ان لم یکن مجتھدا فعلیہ تقلیدھم واتباع رأیھم فاذا قضی بخلافہ لا ینفذ حکمہ وفی فتاوٰی ابن الشلبی لایعدل عن قول الامام الا اذا صرح احد من المشائخ بان الفتوی علی قول غیرہ وبھذا سقط ما بحثہ فی البحر من ان علینا الافتاء بقول الامام وان افتی المشائخ بخلافہ ۱؎ اھ

اور رد المحتار کتاب القضاء میں لکھا : اس کے لئے تر تیب مذکور کی مخالفت جائز نہیں مگر جب کہ اسے ایسا ملکہ ہو جس سے قوت دلیل پروہ آگا ہ ہونے کی قدرت رکھتا ہے ، اسی سے پہلے قول کامال وہی ٹھہرا جو حاوی میں ہے کہ صاحب اجتہاد مفتی کے حق میں قوت دلیل کا اعتبار ہے۔ ہاں اس میں کچھ مزید تفصیل ہے جس سے حاوی نے سکوت اختیار کیا ۔ تو دونوں قول اس پر متفق ہوگئے کہ اصحاب تر جیح مشائخ میں سے مجتہد فی المذہب پر مطلقا قول امام لینا ضروری نہیں بلکہ اس کے ذمہ یہ ہے کہ دلیل میں نظرکرے اور جس قول کی دلیل اس کے نزدیک راجح ہو اس سے ترجیح دے ، اور ہمیں اس کی پیروی کرنا ہے جسے ان حضرات نے ترجیح دے دی اور جس پر اعتماد کیا جیسے وہ اگر اپنی حیات میں کہیں فتوے دیتے تو یہی ہوتا جیسا کہ شروع کتاب میں علامہ قاسم سے نقل کرتے ہوئے شارح نے اس کی تحقیق کی ہے ، او رآگے ملتقط کے حوالے سے آرہا ہے کہ اگر قاضی صاحب اجتہاد نہ ہو تو اسے مرجحین کی تقلید اور ان کی رائے کا اتباع کرنا ہے اس کے خلاف فیصلہ کردے تو نافذ نہ ہوگا ، اورفتا وی ابن الشلبی میں ہے کہ قول امام سے عدول نہ ہوگا مگر اس صورت میں جب کہ مشائخ میں سے کسی نے یہ تصریح کردی ہو کہ فتوی کسی اور کے قول پر ہے ، اسی سے بحر کی یہ بحث ساقط ہوجاتی ہے کہ ہمیں قول امام پر ہی فتوی دینا ہے اگر چہ مشائخ نے اس کے خلاف فتو ی دیاہو۔

 (۱؎ ردالمحتار کتاب القضاء     مطلب یفتی بقول الامام علی الاطلاق داراحیاء التراث بیروت ۴ /۳۰۲و ۳۰۳)

اقول اولا فـــــــــ ۱ ھذا کما تری قول مستحدث  ۔ اقول اولا : یہ جیسا آپ دیکھ رہے ہیں ایک نیا قول ہے ۔

فــــ ۱: معروضۃ علی العلامۃ ش

وثانیا فــــــــــــ۲ زاد احداثا باتباع الترجیح المخالف لاجماع ائمتنا الثلثۃ رضی اللہ تعالی عنھم وقد سمعت صرائح النصوص علی خلافہ نعم نتبع القول الضروری حیث کان وجد مع ترجیح او لابل ولو وجد الترجیح بخلافہ کما علمت فلیس الاتباع فیہ للترجیح بل لقول الامام۔

ثانیا : مزید نئی بات یہ بڑھائی کہ اس ترجیح کا بھی اتباع کرنا ہے جو ہمارے تینوں ائمہ رضی اللہ تعالی عنہم کے اجماع کے بر خلاف ہو ، حالاں کہ صریح نصوص اس کے خلاف ہیں،جیسا کہ ملاحظہ کر چکے، ہاں قول ضروری کا ہم اتباع کریں گے جہاں امام کا قول ضروری ہو، خواہ اس کے ساتھ تر جیح ہویا نہ ہو ، بلکہ ترجیح اس کے بر خلاف ہو جب بھی ، جیسا کہ معلوم ہوا تو اس میں ترجیح کی پیر وی نہیں بلکہ قول امام کی ہے ۔

فــــ ۲: معروضۃ علیہ

وثالثا فیہ فــــــــــ ۳ ذھول عن محل النزاع کما علمت تحریرہ بل فوق ذلک لان فـــــــ۴ــ ماخالف فیہ صاحباہ ینقسم الاٰن الی ستۃ اقسام اما یتفق المرجحون علی ترجیح قولہ او قولھما او یکون ارجح الترجحین لکثرۃ المرجحین او قوۃ لفظ الترجیح لہ اولھما او یتساویان فیہ او فی عدمہ ولا یستا ھل لخلاف السید الاالرابع ان یکون ارجح الترجحین لھما فاذن ھو عاشر عشرۃ (عہ۱) وقد تعدیٰ الی ماھوا عم من المقسم ایضا وھو اتباع الترجیح سواء خالفہ صاحباہ او احدھما اولا احد۔

ثالثا: محل نزاع جس کی پوری وضاحت آپ کے سامنے گزری یہاں اس سے بھی ذہول ہے بلکہ اور بھی زیادہ ہے اس لئے کہ (محل نزاع صرف وہ صورت ہے ) جس میں صاحبین باہم ایک قول پر متفق ہونے کے ساتھ امام کے مخالف ہوں اب اس کی چھ قسمیں ہوں گی ،(۱) مرجحین قول امام کی ترجیح پر متفق ہوں(۲) یا قول صاحبین کی ترجیح پر( گزرچکا کہ یہ صورت نہ کبھی ہوئی نہ ہوگی )(۳) مرجحین کی کثرت یالفظ ترجیح کی قوت کے با عث دو نوں ترجیحوں سے ارجح ، قول امام کے حق میں ہو (۴) یا قول صاحبین کے حق میں ہو(۵) دو نوں قول تر جیح میں برابر ہو ں (۶) یا عدم ترجیح میں برابر ہوں، ان میں سے علامہ شامی کے اختلاف کے قابل صرف چوتھی قسم ہے وہ یہ کہ دونوں ترجیحوں میں سے ارجح، قول صاحبین کے حق میں ہو مگر اب یہ دس قسموں میں سے دسویں قسم بن جاتی ہے ، او ر اس حد تک تعدی ہوجاتی ہے جو مقسم سے بھی اعم ہے وہ یہ کہ بہر حال ترجیح کی پیروی ہوگی خواہ مخالف امام دونوں حضرات ہوں یا ایک ہی ہوں ، یا کوئی بھی مخالف نہ ہو۔

فــــ ۳: معروضۃ علیہ  فــــ ۴: معروضۃ علیہ
 (عہ۱) وہ اس طرح کہ امام کے مخالف صاحبین ہیں یا ایک یا کوئی نہیں (۱۔۔۔۲) اور ترجیح یا عدم ترجیح میں سب برابر ہیں (۳) اتفاق قول امام کی ترجیح پر ہے (۴) قول صاحبین پر (۵) ایک صاحب کے قول پر (۶) اس پر جو کسی کا قول نہیں (۴۔۔۔۶) کبھی واقع ہوئیں  نہ ہونگی (۷) ارجح ترجیحات قول امام کے حق میں ہے ۔ (۸) قول صاحبین کے حق میں (۹) ایک صاحب کے حق میں (۱۰) اس کے حق میں جو کسی کا قول نہیں ۔ محمد احمد مصباحی

و رابعا:  ان کان لہذا القول المحدث اثر فی الزبر کان قول التقلید بتقلید الامام مرجحا علیہ و واجب الاتباع بوجوہ ،

رابعا: بالفر ض اس نوپیدا قول کا کتا بوں میں کوئی نام ونشان ہو جب بھی تقلید امام کی پابندی والا قول اس پر ترجیح یا فتہ اور واجب الاتباع ہوگا ۔ اس کی چند وجہیں ہیں ۔

الاوّل فـــــــ ۱انـہ قول صاحب الامام الاعظم بحر العلم امام الفقھاء والمحدثین والاولیاء سیدنا عبداللہ بن المبارک رضی اللہ تعالی عنہ ونفعنا ببرکاتہ العظیمۃ فی الدین والدنیا والاٰخرہ فقد فــــــ ۲ قال فی الحاوی القدسی ونقلتموہ انتم فی شرح العقود متی لم یوجد فی المسألۃ عن ابی حنیفۃ روایۃ یؤخذ بظاھر قول ابی یوسف ثم بظاھر قول محمد ثم بظاھر قول زفر والحسن وغیرھم الاکبر فالاکبر الی اخر من کان من کبار الاصحاب ۱؎ اھ

وجہ اول : یہ امام اعظم کے شاگرد ، بحر علم فقہا ، محدثین اور اولیا کے امام سیدنا عبداللہ بن مبارک رضی اللہ تعالی عنہ کا قول ہے ، خدا ہمیں دین ،دنیا او رآخرت میں ان کی عظیم بر کتو ں سے فائدہ پہنچا ئے ، حاوی قدسی میں ہے : اور آپ نے شرح عقود میں اسے نقل بھی فرمایا ہے کہ جب مسئلہ میں امام ابو حنیفہ سے کوئی روایت نہ ملے تو ظاہر قول امام ابو یوسف ، پھر ظاہر قول امام محمد ، پھر ظاہر قول امام زفر و حسن وغیرہم لیا جائے گا ( ظاہر سے مراد وہ جو ظاہر الروایہ میں ہو جیسا کہ حاشیہ مصنف میں گزرا ۱۲ م) بزرگ تر پھر بزرگ تر ، یوں ہی کبار اصحاب کے آخری فرد تک ۔)

فــــ ۱: معروضۃ علیہ
فــــ ۲: مــسئلہ : جب کسی مسئلہ میں امام کا قول نہ ملے امام ابو یوسف کے قول پر عمل ہو، ان کے بعدامام محمد ، پھر امام زفر ، پھر امام حسن بن زیاد وغیرہم مثل امام عبداللہ بن مبارک و امام اسد بن عمرو و امام زاہد و لیث بن سعد و امام عارف داؤد طائی وغیرہم اکابر اصحاب امام رضی اللہ تعالی عنہ کے اقوال پرعمل  ہو ۔

 (۱؎ شرح عقود رسم المفتی رسالہ من رسائل ابن عابدین    سہیل اکیڈمی لاہور       ۱ /۲۶)

الثانی فــــــ۳ علیہ الجمھور والعمل بما علیہ فــــــ ۴ الاکثر کما صرحتم بہ فی ردالمحتار والعقود الدریۃ واکثرنا النصوص علیہ فی فتاوٰنا وفی فصل القضاء فی رسم الافتاء ۔

وجہ دوم : اسی پر جمہور ہیں ، او رعمل اسی پر ہوتا ہے جس پر اکثر ہوں ، جیسا کہ آپ نے خود رد المحتار اور العقود الدریہ میں اس کی تصریح کی ہے اور ہم نے اس پر اپنے فتاوی اور فصل القضا ء فی رسم الافتا ء میں بکثر ت نصوص جمع کردئے ہیں۔

فــــ ۳: معروضۃ علیہ  فــــ ۴:العمل بما فیہ الاکثر

 (۱؎ رد المحتار باب المیاہ فصل فی البئر دار احیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۱۵۱)

الـثالث فـــــ ھوالذی تواردت علیہ التصحیحات واتفقت علیہ الترجیحات فان وجب اتباعھا وجب القول بوجوب تقلید الامام وان خالفہ مطلقا وان لم یجب سقط البحث رأسا فانما کان النزاع فی وجوب اتباع الترجیحات فظھر ان نفس النزاع یھدم النزاع و ای شیئ اعجب منہ۔

وجہ سوم : یہی وہ قول ہے جس پر تصحیحات کا توارد اور ترجیحات کا اتفاق ہے ، تو اگر ترجیحات کااتباع واجب ہے ، تو اس کا قائل ہو نا بھی واجب کہ امام کی تقلید ضروری ہے اگر چہ صاحبین مطلقا ان کے مخالف ہوں ۔ او ر اگراتباع تر جیحات واجب نہیں توسرے سے بحث ہی ساقط ہوگئی، کیونکہ یہ سارا اختلاف ، تر جیحات کا اتباع واجب ہونے ہی کے بارے میں تھا ، اس سے ظاہر ہوا کہ خود نزاع ہی نزاع کو ختم کر دیتا ہے ۔اس سے زیادہ عجیب بات کیا ہوگی ؟

فــــ: معروضۃ علیہ

وخـامسا السید المحقق من الذین زعموا ان العامی لامذھب لہ وان لہ ان یقلد من شاء فیما شاء وقد قال فی قضاء المنحۃ فی نفس ھذا المبحث نعم ما ذکرہ المؤلف یظھر بناء علی القول بان من التزم مذھب الامام لایحل لہ تقلید غیرہ فی غیرما عمل بہ وقد علمت ما قدمناہ عن التحریر انہ خلاف المختار ۱؎ اھ۔

خامسا، سید محقق ان لوگو ں میں سے ہیں جن کا خیال یہ ہے کہ عامی کا کوئی مذہب نہیں او روہ جس بات میں چاہے جس کی چاہے تقلید کرسکتا ہے ۔ منحۃ الخالق کی کتاب القضاء میں خود اسی بحث کے تحت لکھتے ہیں ، ہاں مولف نے جو ذکر کیا ہے اس قول کی بنیاد پر ظاہر ہے کہ جس نے مذہب امام کا التزام کرلیا اس کے لئے دو سرے کی تقلید جن باتوں پر وہ عمل کر چکا ہے ان کے علاوہ میں بھی جائز نہیں ، اور تمہیں معلوم ہے کہ تحریر کے حوالے سے ہم لکھ آئے ہیں کہ یہ قول مختار کے بر خلاف ہے۔

 (۱؎ منحۃ الخالق علیٰ بحرالرائق کتاب القضاء فصل یجوز تقلید من شاء ،ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۶ /۲۶۹)

اقول : فـــــ ۱ وھذا وانکان قیلا باطلا مغسولا قد صرح ببطلانہ کبار الائمۃ الناصحین، وصنف فی ابطالہ زبر فی الاولین والاٰخرین، وقد حدثت منہ فتنۃ عظیمۃ فی الدین، من جھۃ الوھابیۃ الغیر المقلدین، واللہ لایصلح عمل المفسدین۔

اقول:  یہ اگر چہ ایک باطل وپامال قول تھا ، بزرگ ، ناصح وخیر خواہ ائمہ نے اس کے بطلان کی تصریح بھی فرمادی ہے اور اس کے ابطال کے لئے اولین و آخرین میں متعد د کتا بیں تصنیف ہوئی ہیں ،ا س کی وجہ سے وہابیہ غیر مقلدین کی جانب سے دین میں عظیم فتنہ بھی پیدا ہوا ہے اور خدا مفسدو ں کا کام نہیں بناتا ۔

فــــ ۱ : مسئلہ : تقلید شخصی واجب ہے اور یہ بات کہ جس مسئلہ میں جس مذہب پرچاہو عمل کرو باطل ہے ، اکابر ائمہ نے اس کے باطل ہونے کی تصریح فرمائی اس کے سبب غیر مقلد وہابیوں کا دین میں ایک بڑا فتنہ پیدا ہوا۔

ولعمری ھؤلاء المبیحون فــــمن العلماء غفراللہ تعالی لنا بھم ان سبرتھم واختبر تھم لوجدت قلوبھم عـــــہ اٰبیۃ عما یقولون، وصنیعھم شاھدا انھم لا یحبونہ ولا یریدون، ولا یجتنبونہ بل یحتنبون، ویقولون فی مسائل ھذہ تعلم وتکتم کیلا یتجاسر الجھال علی ھدم المذھب ثم طول اعمارھم یتمذھبون لامامھم ولایخرجون عن المذھب فی افعالھم واقوالھم ویصرفون العمر فی الانتصار لہ والذب عنہ وھذا فتح القدیر لصاحب التحریر ماصنف الاجد لا وکذلک فی مذھبنا والمذاھب الثلثۃ الباقیۃ دفاتر ضخام فی ھذا المرام فلولا التمذھب لامام بعینہ لازما وکان یسوغ ان یتبع من شاء ماشاء لکان ھذا کلہ اضاعۃ عمر فی فضول واشتعالا بمالا یعنی وقد اجمع علیہ علماء المذاھب الاربعۃ واھلھا ھم الائمۃ بل المناظرۃ فی الفروع وذب کل ذاھب عما ذھب الیہ جاریۃ من لدن الصحابۃ رضی اللہ تعالی عنھم بدون نکیر فاذن یکون الاجماع العملی علی الاھتمام بمالایعنی واستحسان الاشتغال بالفضول وای شناعۃ اشنع منہ۔

یہ جائز کہنے والے علماء خدائے تعالی ان کے سبب ہماری مغفرت فرمائے ، بخدا اگر ان کو جانچا اور آزما یا جائے تو ان کے قلوب ان کے قول سے منکر ، اور ان کے اعمال اس پر شاہد ملیں گے کہ وہ اسے نہ پسند کرتے ہیں نہ اس کا ارادہ رکھتے ہیں اور وہ اسے اچھا نہیں جانتے بلکہ اس سے کنارہ کش رہتے ہیں ، بس بحث کے طور پر اسے لکھ گئے اور بحث ہی تک بات رہ گئی اعتقاد وعمل کوئی اس کا ہم نوا نہ ہوا بہت سے مسائل میں خود کہتے ہیں کہ یہ بس جاننے کے قابل ہیں بتانے کے لائق نہیں کہیں جاہلوں میں مذہب کے گرانے کی جرات نہ پید اہو ، پھر یہ زندگی بھر اپنے ایک امام کے مذہب پر رہ گئے اور افعال و اقوال میں سبھی مذہب سے باہر نہ ہوئے ۔ اسی کی تائید اور اسی کے دفاع میں عمر یں صر ف کردیں ۔ یہ صاحب تحریر کی فتح القدیر ہی کو دیکھ لیجئے صرف مناظرہ کے طور پر لکھی گئی ہے ، اسی طر ح ہمارے مسلک میں اور باقی تینوں مذاہب میں اس مقصد کے تحت بڑے بڑے دفتر تصنیف ہوئے ۔ اگر ایک امام معین کے مذہب کی پابندی لازم نہ ہوتی اور یہ روا ہوتا کہ جو  چاہے جس کی چاہے پیروی کرے یہ سب ایک لایعنی کارروائی اور فضول چیز میں عمر عزیز کی بربادی ہوتی حالانکہ یہ اس کام پر مذاہب اربع  کے علماء اورمذاہب کے ماننے والے ان ہی ائمہ کا اتفاق ہے بلکہ فروع میں مناظرہ اور اپنے اپنے مذہب کی حمایت تو زمانہ صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم سے ہی بلانکیر جاری ہے مذہب کی پابندی کوئی چیز نہ ہو تو لازم آئے گا کہ ایک لایعنی کام کے اھتمام اور فضول قسم کی مشغولیت کو اچھا سمجھنے پر اس وقت سے اب تک کے ائمہ و علماء کا عملی اجماع قائم رہا ، اس سے بدتر کون سی شناعت ہوگی ؟

فــــ ۱ : ترجمہ فائدہ جلیلہ :بعض علما بحث کی جگہ لکھ تو گئے ہیں کہ آدمی جس قول پر چاہے عمل کرے مگر یہ بحث ہی تک کہنے کی بات ہے ، دل ان کے بھی اسے پسند نہیں کرتے بلکہ برا جانتے ہیں جابجا جس کسی مسئلہ میں بے قیدی عوام کا اندیشہ سمجھتے ہیں صاف فرمادیتے ہیں کہ اسے عوام پرظاہر نہ کیا جائے کہ وہ مذہب کے گرانے پر جرأت نہ کریں پھر یہی علماء اپنے کو حنفی شافعی مالکی اورحنبلی کہلاتے رہےکبھی مذہب سے بے قیدی نہ برتی ، عمریں اپنے اپنے مذہب کی تائید میں صر ف کیں اور اس میں بڑے بڑے دفتر تصنیف ہوئے اور تمام علماء امت نے اس پر اجماع کیا بلکہ اپنے اپنے مذہب کی تائید میں مناظر ہ تو زمانہ صحابہ کرام سے چلا آتا ہے ، اگر مذہب کوئی چیز نہ ہوتا اور آدمی کو عمل کے لئے سب برابرہوتے تو یہ سب کچھ مناظر ے اور ہزار ہا کتا بیں اور ائمہ واکابر کی عمر وں کی کارروائیاں سب لغو و فضول میں وقت وعمر و مال بر باد کرنا ہوتا اس سے بد تر کون سی شناعت ہے ۔

عـــــہ : اقول والوجہ فیہ ان للشیئ حکما فی نفسہ مع قطع النظر عن الخارج وحکما بالنظر الی ما یعرضہ عن خارج فالاول ھو البحث والثانی علیہ العمل عن المفاسد وان لم یکن انبعاثھا عن نفس ذات الشیئ کمالا یخفی اھ ۱۲ منہ غفرلہ (م)
عـــــہ :اقول اس کا سبب یہ ہے کہ کسی شے کاایک حکم تو اس کی نفس ذات کے اعتبار سے ہوتا ہے جس میں خارج سے قطع نظرہوتی ہے ، اور ایک حکم ان با توں کے سبب ہوتا ہے جو خارج سے پیش آتی ہیں ، تو ان علماء نے جوبحث میں فرمایا وہ پہلا حکم ہے اور جس پر عمل رکھا وہ دوسرا کہ مفسدوں سے بچنا واجب ہے اگرچہ وہ شے کی نفس ذات سے پیدا نہ ہوں ۔ جیسا کہ مخفی نہیں، اھ ۱۲ منہ غفرلہ۔

لکن سَل فـــــ۱ السید اذالم یجب التقید بالمذھب وجاز الخروج عنہ بالکلیۃ فمن ذا الذی اوجب اتباع مرجحین فی مذھب معین رجحوا احد قولین فیہ ھذا اذا اتفقوا فکیف فـــــ۲ وقد اختلفو اوفی احد الجانبین الامام الاعظم المجتھد المطلق الذی لم یلحقوا غبارہ ولم یبلغ مجموعھم عشر فضلہ ولا معشارہ ھل ھذا الا جمعا بین الضب والنون (عہ۱) اذ حاصلہ ان الامام واصحابہ واصحاب الترجیح: فی مذھبہ اذا اجمعوا کلھم اجمعون علی قول لم یجب علی المقلدین الاخذ بہ بل یأخذون بہ او بما تھوی انفسھم من قیلات خارجۃ عن المذھب لکن اذا قال الامام قولا وخالفہ صاحباہ ورجح مرجحون کلا من القولین وکالترجیح فی جانب الصاحبین اکثر ذاھبا او اٰکد لفظا فح یجب تقلید ھؤلاء ویمتنع تقلید الامام ومن معہ بل فـــــ ۳ ان اجمع الامام وصاحباہ علی شیئ ورجع ناس من ھؤلاء المتأخرین قیلا مخالفا لا جماعھم، وجب ترک تقلید الائمۃ الی تقلید ھؤلاء واتباعھم، ھذا ھوالباطل المبین، لادلیل علیہ اصل من الشرع المتین، والحمد للہ رب العالمین،

لیکن علامہ شامی فـــــ ۱ سے سوال ہوسکتا ہے کہ جب مذہب کی پابندی ضروری نہیں اور اس سے بالکلیہ باہر آنا روا ہے تو کسی معین مذہب کے حضرات مرجحین جنہوں نے اس مذہب کے دو قولوں میں سے ایک کوترجیح دی ، ان کی پیروی کیسے ضروری ہوگئی ؟یہ کلام تو ان حضرات کے متفق ہونے کی صورت میں ہے۔پھر اس صورت کا کیا حال ہوگا جب یہ باہم مختلف ہوں اورایک طرف مجتہد مطلق امام اعظم بھی ہوں یہ جن کی گرد پا کو بھی نہ پاسکے اور ان سب حضرات کا مجموعی کمال بھی ان کے فضل وکمال کے دسویں حصے کو نہ پہنچ سکا۔ یہ ضب اور نون کو جمع کرنے کے سوا کیا ہے ؟ اس لئے کہ اس کا حاصل یہ ہوتا ہے کہ حضرت امام، ان کے اصحاب او ران کے مذہب کے اصحاب تر جیح سب کے سب متفقہ طور پر جب کسی قول پر اجماع کرلیں تو مقلدین کے ذمہ اسے لیناضروی نہیں بلکہ انہیں اختیار ہے اسے لے لیں، یا اپنی خواہشات نفس کے مطابق مذہب سے خارج اقوال کو لے لیں، لیکن جب امام کوئی قول ارشاد فرمائیں ، اور ان کے صاحبین ان کے خلاف کہیں پھر دو نوں قولوں میں سے ہر ایک کو کچھ مرجحین ترجیح دیں او رصاحبین کی جانب ترجیح دینے والوں کی تعداد زیادہ ہو یا اس طر ف ترجیح کے الفاظ زیادہ موکد ہوں توایسی صورت میں ان مرجحین کی تقلید واجب  ہوجائے اور امام اور ان کے موافق حضرات کی تقلیدناجائز ہوجائے ، بلکہ اگر امام اور صاحبین کا کسی بات پراجماع ہو اور ان متا خرین میں سے کچھ افراد ان کے اجماع کے مخالف کسی قول کو ترجیح دے دیں توان ائمہ کی تقلید چھوڑ کر ان افراد کی تقلید اور پیروی واجب ہوجائے ، یہی وہ کھلا ہوا باطل خیال ہے جس پر شرع متین سے ہر گز کوئی دلیل نہیں، والحمد للہ رب العالمین۔

فـــ ۱ : معروضۃعلی العلامـۃ ش  فــــ۲ : معروضۃ علیہ فــــ۳ : معروضۃ علیہ
(عہ۱)ضب : گوہ ، جو جنگلی جانور ہے اور نون : مچھلی ، جو دریائی جانور ہے ۔ دونوں میں کیا جوڑ ، ایک عربی مثل سے ماخوذ ہے ۱۲ ،

بہ ظھر ان قول البحر وان کان مبنیا علی ذلک الحق المنصور المعتمد المختار، المأخوذ بہ قولا عند الائمۃ الکبار، وفعلا عندھم وعند ھؤلاء المناز عین الاخیار، لکن (۱) مازعم السید لایبتغی علیہ ولا علی مازعم انہ المختار، بل یخالفھما جمیعا بالاعلان والجھار، والحجۃ للہ العزیز الغفار، والصّلٰوۃ والسلام علی سید الابرار، واٰلہ الاطھار، وصحبہ الکبار، وعلینا معھم فی دارالقرار، آمین
قولہ قول السراجیۃ صریح ان المجتھد یتبع ماکان اقوی الاتبع الترتیب فنتبع مارجحوہ ۱؎۔

اسی سے ظاہر ہوا کہ بحر کا کلام تواس قول حق پر مبنی تھا جو منصور ، معتمد ، مختار ہے ، جسے قولا تمام ائمہ کبار نے لیا اور عملا ان کے ساتھ ان بزرگ مخالفین نے بھی لیا لیکن علامہ شامی کے خیال کی بنیاد نہ اس مختار پر قائم ہے نہ اس پر جس کو بزعم خویش مختار سمجھابلکہ وہ علانیہ و عیاں طور پردونوں ہی کے خلاف ہے اور حجت خدائے عزیز وغفار ہی کی ہے او ردرود و سلام ہو سید ابرار ، ان کی آل اطہار ،اصحاب کرام پر اوران کے ساتھ ہم پر بھی دار القرار میں الہی قبول فرما!
علامہ شامی سراجیہ کی عبارت اس بارے میں صریح ہے کہ مجتہد اس کی پیروی کرے گا جو زیادہ قوی ہو ، ورنہ ترتیب سابق کا اتباع کرے گا ، تو ہم اسی کی پیروی کریں گے جسے ان حضرات نے ترجیح دے دی۔

 (۱؎ ردالمحتار     مطلب رسم المفتی     دار احیاء التراث العربی بیروت     ۱ /۴۸)

اقـول رحمک اللہ قولک فـــــ ۲ فنتبع مارجحوہ ان کان داخلا فی ما ذکرت من مفاد السراجیۃ فتوجیہ القول بضدہ وردہ فان السراجیۃ توجب علی غیر المجتھد اتباع الترتیب لا الترجیح وان کان زیادۃ من عندکم فمخالف للمنصوص وتفریع للشیئ علی ما ھو تفریع لہ فانک ان کنت اھل النظر فعلیک بالنظر المصیب، اولا فعلیک بالترتیب، فمن این ھذا الثالث الغریب۔

اللہ آپ پررحم فرمائے ، تو ہم اسی کی پیروی کریں گے جسے ان حضرات نے ترجیح دے دی ، یہ عبارت اگر آپ نے کلام سراجیہ کے مفاد ومفہوم کے تحت داخل کر کے ذکر کی ہے تو یہ اس کلام کی توجیہ نہیں بلکہ اس کی مخالفت اور تردید ہے کیونکہ سراجیہ تو غیر مجتہد پر ترتیب کی پیروی واجب کرتی ہے نہ کہ ترجیح کی پیروی ۔اور اگر یہ عبارت آپ نے اپنی طر ف سے بڑھائی ہے تو یہ منصوص کے برخلاف ہے اور ایک چیز کی تفریح ایسی چیزپر ہے جو در اصل اس کی تردید ہے۔۔۔۔۔۔ کیوں کہ آپ اگر صاحب نظر ہیں توآپ کے ذمہ نظر صحیح ہے یا آپ اہل نظر نہیں تو آپ کے ذمہ اتباع ترتیب ہے ، پھر یہ تیسرا بیگا نہ و اجنبی کہاں سے آگیا؟

فــــ ۲: معروضۃ علیہ

قــولـہ لایجوز لہ مخالفۃ الترتیب الا اذاکان لہ ملکۃ فعلیہ ترجیح مارجح عندہ و نحن نتبع مارجحوہ۔۱؎

علامہ شامی: اس کے لئے ترتیب مذکور کی مخالفت جائز نہیں مگر جب اس کے پاس ملکہ ہو تو اس کے ذمہ یہ ہے اس کے نزدیک جو راجح ہو اسے تر جیح دے اور ہمیں اس کی پیروی کرنا ہے جسے ان حضرات نے ترجیح دے دی ۔

 (۱؎ ردالمحتار      کتاب القضاء مطلب یفتی بقول الامام علی الاطلاق دار احیاء التراث العربی بیروت     ۴ /۳۰۲)

اقول: رحمک اللہ فـــــ ھذا کذٰلک فحاصل کلامھم جمیعا ما ذکرت الی قولک ونحن اما ھذا فرد علیہ وخروج عنہ فان من لاملکۃ لہ لا یجوز لہ عندھم مخالفۃ الترتیب وانتم اوجبتموہ علیہ ادارۃ لہ مع الترجیح۔

اقول : اللہ آپ پر رحم فرمائے ۔یہ بھی اسی کی طر ح ہے ۔ کیونکہ ان تمام حضرات کے کلام کا حاصل وہی ہے جو آپ نے ''اور ہمیں'' تک ذکر کیا ۔۔۔۔۔۔ اور یہ اضافہ تو اس کی تردید اور اس کی مخالفت ہے ۔ کیوں کہ جس کے پاس ملکہ نہیں اس کے لئے ان حضرات کے نزدیک ترتیب کی مخالفت روا نہیں اور آپ نے تو اس پر یہ مخالفت واجب کردی ہے کیونکہ اسے آپ نے ترجیح کے ساتھ چکر لگانے کا پا بند کردیا ہے ۔

فــــ : معروضۃ علی العلامہ ش

قــولہ کما حققہ الشارح عن العلامۃ ۱؎ قاسم ۔علامہ شامی ، جیسا کہ علامہ قاسم سے نقل کرتے ہوئے شارح نے اس کی تحقیق کی ہے۔

 (۱؎ ردالمحتار،کتاب القضاء مطلب یفتی بقول الامام علی الاطلاق دار احیاء التراث العربی بیروت ۴ /۳۰۲)

اقــول علمت فـــــ ۱ ان لا موافقۃ فیہ لما لدیہ ولا فیہ میل الیہ قولہ ویأتی عن الملتقط ۲؎ معلوم ہوچکا کہ اس میں نہ تو اس خیال کی کوئی ہم نوائی ہے نہ اس کا کوئی میلان ۔ علامہ شامی،اور ملتقط کے حوالے سے آرہا ہے ۔

فــــ ۱: معروضۃ علی العلامہ ش

 (۲؎ ردالمحتار ،کتاب القضاء مطلب یفتی بقول الامام علی الاطلاق دار احیاء التراث العربی بیروت ۴ /۳۰۲)

اقول : اولا فـــــ ۲حاصل ما فیہ ان القاضی المجتہد یقضی برأی نفسہ والمقلد برأی المجتہدین ولیس لہ ان یخالفھم واین فیہ ان الذین یفتنونہ ان کانوا من مجتھدی مذھب امامہ فاختلفوا فی الافتاء بقولہ وجب علیہ ان یأخذ بقول الذین خالفوا امامہ وامامھم ان کانوا اکثر اولفظھم اٰکدو انما النزاع فی ھذا۔

اقول اولا: اس کاحاصل صرف یہ ہے کہ قاضی مجتہد خود اپنی رائے پر فیصلہ کر ے گا او ر قاضی مقلد مجتہدین کی رائے پر فیصلہ کرے گا اسے ان کی مخالفت کا حق نہیں۔ اس میں یہ کہاں ہے کہ جو لوگ اس قاضی مقلد کو فتوی دیں گے اگر وہ اس کے امام کے مذہب کے مجتہدین سے ہوں پھر قول امام پر افتا ء میں باہم مختلف ہوں تو اس پر واجب یہ ہے کہ ان لوگوں کا قول لے جو اس کے امام او راپنے امام کے خلاف ہوگئے ہوں بشرطیکہ تعداد میں وہ زیادہ ہوں یا ان کے الفا ظ زیادہ موکد ہوں حالاں کہ نزاع تو اسی بارے میں ہے ۔

فــ۲: معروضۃ علیہ

وثــانیــا المنع فـــــ۱من ان نخالفھم باٰرائنا اذ لارأی لنا ونحن لانخالفہم باٰرائنا بل برأی امامھم وامامنا۔

اگر ہم اپنی رائے لے کر ان کی مخالفت کریں تو اس سے ممانعت ہے کیونکہ ہماری کوئی رائے ہی نہیں لیکن ان کی مخالفت ہم اپنی رائے کے مقابل نہیں کرتے بلکہ ان کے امام اور اپنے امام کی رائے کو لے کر ان کی مخالفت کرتے ہیں۔

فــ۱: معروضۃ علیہ

وقد قال فی الملتقط فـــــ۲ فی تلک العبارۃ فی القاضی المجتھدقضی بما راہ صوابا لا بغیرہ الا ان یکون غیرہ اقوی فی الفقہ و وجوہ الاجتہاد فیجوز ترک رأیہ برأی ۱؎

او ر ملتقط کے اندر تو اسی عبارت میں قاضی مجتہد سے متعلق یہ لکھاہے کہ خود جسے درست سمجھے اس پر فیصلہ کرے دوسرے کی رائے پر نہیں لیکن دوسرا اگر فقہ اور وجوہ اجتہاد میں اس سے زیادہ قوی ہو تو اس کی رائے اختیار کر کے اپنی رائے ترک کردینا جائز ہے ۔ اھ

فــ۲: معروضۃ علیہ

 (۱؎ الدرالمختار     بحوالہ الملتقط کتاب القضاء مطبع مجتبائی دہلی ۲/۷۲)

فاذا جاز للمجتھد ان یترک رأیہ برأی من ھو اقوی منہ مع انہ مأمور باتباع رأیہ ولیس لہ تقلید غیرہ فان ترکنا اٰراء ھؤلاء المفتین ارأ ی امامنا وامامھم الاعظم الذی ھو اقوی من مجموعھم فی الفقہ ووجوہ الاجتہاد بل فضلہ علیھم کفضلھم علینا اوھو اعظم الاولی بالجواز واجدر ۔

جب مجتہد کے لئے اپنے سے اقوی کی رائے کو اختیار کر کے اپنی رائے ترک کرنا جائز ہے حالاں کہ اسے حکم یہ ہے کہ اپنی رائے کا اتباع کرے اور دوسرے کی تقلید اس کے لئے روا نہیں ، تو ہمارے اور ان مفتیوں کے امام اعظم جو فقہ اور وجوہ اجتہاد میں ان حضرات کی مجموعی قوت سے بھی زیادہ قوت رکھتے ہیں بلکہ ان پر امام کو اسی طرح فوقیت ہے جیسے ہم پر ان حضرات کو فوقیت ہے بلکہ اس سے بھی زیادہ تو اگر ہم ان کی رائے اختیار کر کے ان مفتیوں کی رائے ترک کریں تو یہ بدرجہ اولی جائز اور انسب ہوگا ۔

قـولـہ سقط ما بحثہ فی البحر ۱؎۔علامہ شامی : بحر کی بحث ساقط ہوگئی۔

 (۱؎ ردالمحتار      کتاب القضاء مطلب یفتی بقول الامام علی الاطلاق دار احیاء التراث العربی بیروت     ۴ /۳۰۳)

واقــول: سبحٰن اللہ فـــــ ۱ ھو الحکم الماثور، ومعتمد الجمھور، والمصحح المنصور، فکیف یصح تسمیتہ بحث البحر ھذا ۔ اقول : سبحان اللہ یہی تو حکم منقول ہے جمہور کا معتمد ا ور تصحیح وتائید یافتہ بھی ، پھر اسے بحر کی بحث کہنا کیوں کر درست ہے ؟

فــ۱: معروضۃ علیہ

واقـول: یظھر لی فی توجیہ فـــــ۲ کلامہ رحمہ اللہ تعالٰی ان مرادہ اذا اتفق المرجحون علی ترجیح قول غیرہ رضی اللہ تعالی عنہ ذکرہ ردا لما فھم من اطلاق قول البحر وان افتی المشائخ بخلافہ فانہ بظاھرہ یشمل مااذا اجمع المشائخ علی ترجیح قول غیرہ ۔ اقـول مجھے علامہ شامی رحمۃ اللہ تعالی کے کلام کی توجیہ میں یہ سمجھ آتا ہے کہ ان کی مراد وہ صورت ہے جس میں حضر ت امام رضی اللہ تعالی عنہ کے سوا کسی اور کے قول کی ترجیح پر مرجحین کا اتفاق ہو، اسے اس اطلاق کی تردید میں ذکر کیا جو بحر کی اس عبارت سے سمجھ میں آتا ہے کہ '' اگر چہ مشائخ نے اس کے خلاف فتوی دیا ہو '' کیوں کہ بظاہر یہ اس صورت کو بھی شامل ہے جس میں غیر امام کے قول کی ترجیح پر اجماع مشائخ ہو ۔

فــــ۲: السعی الجمیل فی توجیہ کلام العلامۃ الشامی رحمہ اللہ تعالی ۔

والدلیل علی ھذہ العنایۃ فی کلام ش انہ انما تمسک باتباع المرجحین وانھم اعلم وانھم سبروا الدلائل فحکموا بترجیحہ ولم یلم فی شیئ من الکلام الی صورۃ اختلاف الترجیح فضلا عن ارجحیۃ احد الترجیحین ولو کان مرادہ ذلک لم یقتصر علی اتباع المرجحین فانہ حاصل ح فی کلام الجانبین بل ذکر اتباع ارجح الترجیحین ۔

یہ مراد ہونے پر کلام شامی میں دلیل یہ ہے کہ انہوں نے اتباع مرجحین سے استدلال کیا ہے اور اس بات سے کہ وہ زیاد ہ علم والے ہیں او رانہوں نے دلائل کی جانچ کر کے اس کی ترجیح کا فیصلہ کیا ہے ، اور کلام کے کسی حصے میں اختلاف ترجیح کی صورت کو ہاتھ نہ لگایا ، دو ترجیحوں میں سے ایک کے ارجح ہونے کا تذکرہ تودر کنار ، اختلاف ترجیح کی صورت اگر انہیں مقصود ہوتی تو صرف اتباع مرجحین کے حکم پر اکتفا نہ کرتے کیونکہ اس صورت میں اتباع مرجحین تو دو نوں ہی جانب موجو د ہے ، بلکہ اس تقدیر پر وہ دونوں ترجیحوں میں سے ارجح کے اتباع کا ذکر کرتے ۔

ویـؤیدہ ایضا ما قدمنا فی السابعۃ من قولہ رحمہ اللہ تعالٰی لما تعارض التصحیحان تساقطا فرجعنا الی الاصل وھو تقدیم قول الامام ۱؎ اھ

اس کی تائید ان کے اس کلام سے بھی ہوتی ہے جسے ہم مقدمہ ہفتم میں نقل کر آئے ہیں کہ ، جب دونوں تصحیحوں میں تعا رض ہوا تو دونوں ساقط ہوگئیں اس لئے ہم نے اصل کی جانب رجوع کیا ، وہ یہ ہے کہ امام کا قول مقدم رہے گا اھ۔

 (۱؎ ردالمحتار     مطلب اذا تعارض التصحیح دار احیاء التراث العربی بیروت     ۱ /۴۹)

وھذا وان کان ظاھرہ فی ما استوی الترجیحان لکن ماذکرہ مترقیا علیہ عن الخیریۃ والبحریعین ان الحکم اعم۔

یہ اگرچہ بظاہر دنوں ترجیحیں برابر ہونے کی صورت میں ہے لیکن آگے اس پر ترقی کرتے ہوئے خیر یہ اور بحر کے حوالے سے جوذکر کیا ہے و ہ تعین کردیتا ہے کہ حکم اعم ہے ۔

ویؤیدہ ایضا ماجعل اٰخرا الکلام محصل جمیع کلام الدر فی المراد اذ قال قولہ فلیحفظ ای جمیع ما ذکرناہ وحاصلہ ان الحکم ان اتفق علیہ اصحابنا یفتی بہ قطعا والا فاما(۱) ان یصحح المشائخ احد القولین فیہ او (۲ )کلا منھما (۳ )اولا ولا ففی الثالث یعتبر الترتیب بان یفتی بقول ابی حنیفۃ ثم ابی یوسف الخ او قوۃ الدلیل ومرا لتوفیق وفی الاول ان کان التصحیح بافعل التفضیل خیر المفتی والا فلا بل یفتی بالمصحح فقط وھذا ما نقلہ عن الرسالۃ وفی الثانی اما ان یکون احدھما عــــہ بافعل التفضیل اولا ففی الاول قیل یفتی بالاصح وھوالمنقول عن الخیریۃ وقیل بالصحیح وھو المنقول عن شرح المنیۃ وفی الثانی یخیر المفتی وھو المنقول عن وقف البحر والرسالۃ افادہ ح ۱؎ اھ

اس کی تائید اس سے بھی ہوتی ہے جسے آخر کلام میں مقصود سے متعلق پوری عبارت درمختار کا حاصل قرار دیا کہ وہاں یہ لکھا ہے ،عبارت در'' فلیحفظ ، تو اسے یاد رکھا جائے '' کا معنی یہ ہے کہ وہ سب یاد رکھا جائے جو ہم نے ذکر کیا اور اس کا حاصل یہ ہے کہ جب کسی حکم پر ہمارے اصحاب کا اتفاق ہو تو قطعا اسی پر فتوی دیا جائے گا ورنہ تین صورتیں ہوں گی ، (۱) مشائخ نے دونوں قولوں میں سے صرف ایک کو صحیح قرار دیا ہو (۲) ہرایک کی تصحیح ہوئی ہو (۳) مذکورہ دونوں صورتیں نہ ہوں ۔تیسری صورت میں ترتیب کا اعتبارہوگا اس طر ح کہ امام ابو حنیفہ کے قول پر فتوی دیاجائے گا ، پھر امام ابو یوسف کے قول پر الخ ، یاقوت دلیل کا اعتبارہوگا ، اور ان دونوں میں تطبیق کا بیان گزر چکا ۔اور پہلی صورت میں اگر تصحیح افعل التفضیل کے صیغے (مثلا لفظ اصح) سے ہو تو مفتی کو تخییر ہوگی ورنہ (مثلا صرف لفظ صحیح ہو تو) نہیں ، بلکہ مفتی کو اسی پر فتوی دینا ہے جسے صحیح کہا گیا ،یہ وہ بات ہے جو انہوں نے رسالہ سے نقل کی، اور دو سری صورت میں کوئی ایک ترجیح بلفظ افعل التفضیل ہوگی یا نہ ہوگی ، برتقدیر اول کہا گیا کہ اصح پر فتوی دیا جائے گا ، یہ خیر یہ سے منقول ہے ، او رکہا گیا کہ صحیح پر فتوی ہوگا ، یہ شرح منیہ سے منقول ہے، برتقدیر دوم مفتی کو تخییر ہوگی یہ بحر کتاب الوقف او ر رسالہ سے منقول ہے ۔ یہ حلبی نے افادہ فرمایا ۔ اھ

عـــــــہ : اقول یشمل فــــ ما اذا کان کلاھما بہ ولا یتأتی فیہ الخلاف المذکور فکان ینبغی ان یقول احدھما وحدہ لیشمل قولہ اولا مااذا کان بافعل ۱۲ منہ غفرلہ (م)
یہ اس صورت کو بھی شامل ہے جس میں دونوں تر جحیں بلفظ افعل ہوں حالانکہ اس میں خلاف مذکور حاصل نہ ہوگا تو انہیں کوئی ایک کے بجائے '' احد ھما وحدہ''(صرف ایک) کہناچاہئے تھا ، تا کہ ان کا قول '' یا نہ'' اس صورت کو بھی شامل ہوجائے جس میں ہر ایک لفظ افعل ہو ۱۲منہ
فــــ : معروضۃ علی العلامہ ش

 (۱؎ ردالمحتار     مطلب اذا تعارض التصحیح دار احیاء التراث العربی بیروت     ۱ /۴۹)

فما ذکرہ فی الثالث عین مرادنا وکذا ما ذکرہ فی الاول اما استثناء ما اذاکان التصحیح بافعل فــاقـول یخالف فــــ نفسہ ولا یخالفنا فان الترجیح اذا لم یوجد الا فی جانب واحد کما جعلہ محمل الرسالۃ ومع ذلک خیر المفتی لم یکن علیہ اتباع مارجحوہ والتاویل بان افعل افادان الروایۃ المخالفۃ صحیحۃ ایضا کما قالاہ ھما وط ۔

تو تیسری صورت میں جوذکر کیا بعینہ وہی ہماری مراد ہے ، اسی طرح وہ بھی جو پہلی صورت میں ذکر کیا ، رہا اس صورت کا استثنا جس میں تصحیح بصیغہ اسم تفضیل ہو فاقول (تو میں کہتا ہوں) وہ خود ان کے خلاف ہے ہمارے خلاف نہیں ، کیوں کہ جب ترجیح صرف ایک طرف ہو ،جیسا کہ اسے رسالے کا محمل اور معنی مراد ٹھہرایا ، ا س کے با وجود مفتی کو تخییر ہو تو اس کے ذمہ اس کی پیر وی لازم نہ رہی جسے مشائخ نے ترجیح دی ، اور یہ تاویل کہ '' افعل''کامفاد یہ ہوگا کہ روایت خلاف بھی صحیح ہے ، جیسا کہ حلبی وشامی اور طحطاوی نے کہا ۔

فــــ : معروضۃ علیہ

فـاقـول اولا:  ھذا فــــ ۱ مسلم اذا قوبل الاصح بالصحیح اما اذا ذکروا قولین وقالوا فی احدھما وحدہ انہ الاصح ولم یلموا ببیان قوۃ مافی الاٰخر اصلا فلایفھم منہ الا ان الاول ھو الراجح المنصور ولا ینقدح فی ذھن احد انھم یریدون بہ تصحیح کلا القولین و ان للاول مزیۃ ما علی الاٰخر فافعل ھھنا من باب اھل الجنۃ خیر مستقرا واحسن مقیلا ولو سبرت کلماتھم فــــ۲ لوجد تھم یقولون ھذا احوط وھذا ارفق مع ان الاٰخر لارفق فیہ ولا احتیاط وھذا بدیھی عند من خدم کلامھم ۔

فاقول( تو میں کہتا ہوں)اولایہ بات اس صورت میں تسلیم ہے جب اصح کے مقابلے میں صحیح لایا گیا ہو۔ لیکن جب دو قول ذکر کریں اور صرف ایک کے بارے میں کہیں کہ وہ اصح ہے اور دوسرے میں جو قوت ہے اس کے بیان سے کچھ بھی تعرض نہ کرے تو ایسی حالت میں یہ ہی سمجھا جائے گا کہ اول ہی راجح اور تائید یافتہ ہے ۔ اور کسی کے ذہن میں یہ خیال نہ گزرے گا کہ وہ اول کو اصح کہہ کر دو نوں قولوں کو صحیح کہنا اور یہ بتانا چاہتے کہ اول کو دوسرے پر کچھ فضیلت ہے تو یہ افعل ''اھل الجنۃخیر مستقرا واحسن مقیلا'' جنت والے بہتر قرار گاہ اور سب سے اچھی آرام گاہ والے ہیں ، کے باب سے ہوگا ، اگر کلمات مشائخ کی تفتیش کیجئے تو یہ ملے گا کہ وہ حضرات فرماتے ہیں یہ احوط ( زیادہ احتیاط والا) ہے ، یہ ارفق ( زیادہ نرمی وفائدے والا ہے) با وجودیکہ دوسرے میں کوئی احتیاط اور کوئی آسانی نہیں ، یہ ان حضرات کے کلام کے خدمت گزاروں کے نزدیک بدیہی ہے ، اھ

فــــ ۱: معروضۃ علیہ وعلی العلامتین ح و ط
فـــــ ۲: ربما لایکون افعل فی قول الفقہاء ھذا اصح احوط ارفق اوفق وامثالہ من باب التفضیل ۔ ؂

ولذا فــــ ۳ قال فی الخیریۃ من الطلاق انت علی علم بانہ بعد التنصیص علی اصحیتہ لایعدل عنہ الی غیرہ ۱؎ اھ اسی لئے خیر یہ کتاب الطلاق میں فرمایا ، تمہیں خبر ہے کہ اس کے اصح ہونے کی تصریح ہوجانے کے بعد اس سے کسی اور کی جانب عدول نہ ہوگا، اھ

 (۱؎ فتاوٰی خیریۃ    کتاب الطلاق    دارالمعرفۃ بیروت    ۱ /۳۹)

فــــ ۳:اذا ثبت الاصح لایعدل عنہ ای اذا لم یوجد الاقوی منہ۔

بل قال فی صلحھا فی مسألۃ قالوا فیھا لقائل ان یقول تجوز وھو الاصح ولقائل ان یقول لاما نصہ حیث ثبت الاصح لایعدل عنہ ۲؎ اھ بلکہ خیر یہ کتاب الصلح میں جہاں یہ مسئلہ ہے کہ: لوگوں نے کہا اس میں کہنے والا کہہ سکتا ہے کہ جائز ہے ، اور وہی اصح ہے ، اورکہنے والا کہہ سکتا ہے جائز نہیں ، وہاں وہ لکھتے ہیں جب اصح ثابت ہوگا تو اس سے عدول نہ ہوگا ،

 (۲؎ فتاوٰی خیریۃ    کتاب الصلح     دارالمعرفۃ     بیروت    ۲ /۱۰۴)

وھذا مفادفــــ ۱متنہ العقود وان مال فی شرحہ الی ما ھنا فانہ قال: ؂ یہی ان کے متن عقود کا بھی مفاد ہے اگر چہ اس کی شرح میں وہ اس بات کی طرف مائل ہوگئے جو یہاں زیر بحث ہے کیوں کہ اس میں یہ لکھا ہے ،

فــــ ۱: معروضۃ علی العلامۃ ش

وحیثما وجدت قولین وقد صحح واحد فذاک المعتمد بنحو ذاالفتوی علیہ الا شبہ والاظھر المختار ذا والاوجہ ۳؎ جہاں تم کو دو قول ملیں ، جن میں ایک کی تصحیح اس طر ح کے الفاظ سے ہو ، اسی پر فتوی ہے ، یہ اشبہ ہے ، اظہر ہے ، مختار ہے ، اوجہ ہے ،تووہی معتمد ہے اھ۔

 (۳؎ شرح عقود رسم المفتی رسالہ من رسائل ابن عابدین،سہیل اکیڈمی لاہور  ،۱ / ۳۷)

فقد حکم بقصرالاعتماد علی ما قیل فیہ افعل ولم یصحّح خلافہ ۔

تو معتمد ہونے کا حکم اسی پر محدود رکھا جس کی تصحیح میں لفظ افعل آیا ہے اور اس کے مخالف قول کی تصحیح نہیں ہوئی ہے۔

ولما قال فــــ ۲ فی الدر فیمن نسی التسلیم عن یسارہ اتی بہ مالم یستدبر القبلہ ۱؎ فی الاصح ۔

در مختار کے اندر اس شخص سے متعلق جو بائیں جانب سلام پھیرنا بھول گیا یہ لکھا ہے جب تک قبلہ سے پیٹھ نہ پھیری ہو اس کی بجا آوری کرلے اصح مذہب میں،

فــــ ۲:مسئلہ نماز میں بائیں طرف کا سلام پھیرنا بھول گیا جب تک قبلہ سے نہ پھرا ہو کہہ لے۔

 (۱؎ الدر المختار     کتاب الصّلٰوۃ    فصل اذا اراد الشروع فی الصلوۃ مطبع مجتبائی دہلی    ۱ /۷۸ )

وکان فی القنیۃ انہ الصحیح۲؎ قال ش فــــ۱ عبرالشارح بالا صح بدل الصحیح والخطب فیہ سھل ۳؎ اھ اسی مسئلے کے تحت قنیہ میں لکھا تھا کہ یہی صحیح ہے ، تو اس پر علامہ شامی نے لکھا کہ شارح نے صحیح کی جگہ اصح سے تعبیر کی ، اورمعاملہ اس میں سہل ہے اھ۔

فــــ۱ : الصحیح والاصح متقاربان والخطب فیہ سھل ۔

 (۲؎ القنیۃ المنیہ تتمیم الغنیہ کتاب الصلوۃ باب فی القعدۃ والذکرفیہا کلکۃ انڈیا ص۳۱)
(۳؎ رد المحتار کتاب الصّلٰوۃ    فصل اذا اراد الشروع داراحیاء التراث العربی بیروت     ۱ /۳۵۲)

وکیف یکون سھلا فــــ ۲وھما عندکم علی طرفی نقیض فان الصحیح کان یفید ان خلافہ فاسد وافاد الاصح عندکم انہ صحیح فقد جعل الفاسد صحیحا۔ سہل کیسے ہوگا جب دو نوں آپ کے نزدیک ایک دوسرے کی بالکل نقیض اورضد ہیں ۔ کیوں کہ صحیح کا مفاد یہ تھا کہ اس کا تقابل فاسد ہے ۔ اور اصح کا مفاد آپ کے نزدیک یہ ہو ا کہ اس کا مقابل صحیح ہے تو آپ کے طور پر تو شارح نے فاسد کو صحیح بنادیا ؟

فــــ ۲: معروضۃ علی العلامۃ ش

وثــانــیا قدقلتم فــــ۳ علینا اتباع مارجحوہ ولیس بیان قوۃ للشیئ فی نفسہ ترجیحا لہ اذ لابد للترجیح من مرجح ومرجح علیہ فالمعنی قطعا ما فضلوہ علی غیرہ فلا شک انھم اذا قالو الاحد قولین انہ الاصح وسکتوا عن الاٰخر فقد فضلوہ و رجحوہ علی الاٰخر فوجب اتباعہ عندکم وسقط التخییر۔

ثانیا آپ نے فرمایا جسے ان حضرات نے تر جیح دے دی ہم پر اسی کی پیروی لازم ہے ، اور شے کی ذات میں پائی جانے والی کسی قوت کا بیان ، ترجیح نہیں ، کیونکہ ترجیح کے لئے مرجح اور مرجح علیہ ( جس کو راجح کہا گیا اور جس پر راجح کہا گیا) دونوں ضروری ہیں، تو قطعا یہ معنی ہوگا کہ جسے ان حضرات نے دوسرے سے افضل قراردیا اس کی پیروی ضروری ہے ، اب یہ قطعی بات ہے کہ جب انہوں نے دو قولوں میں سے ایک کو اصح کہا اور دوسرے سے متعلق سکوت اختیار کیا تو اسے انہوں نے دوسرے سے افضل اور راجح قرار دیا تو آپ کے نزدیک اس کا اتباع واجب ہو ااور تخییر ساقط ہوگئی۔

فــــ ۳: معروضۃ علی العلامۃ ش

فـالــوجہ عندی حمل کلام الرسالۃ علی مااذا ذیلت احدھما بافعل والاخری بغیرہ فیکون ثالث مافی المسألۃ عن الخیریۃ والغنیۃ من اختیار الاصح اوالصحیح وھو التخییر وھذا اولی من حملہ علی ما یقبل۔ تو میرے نزدیک مناسب طریقہ یہ ہے کہ رسالہ کا کلام اس صورت پر محمول کیا جائے جس میں ایک کے ذیل میں '' افعل '' سے ترجیح ہو اور دوسرے میں غیر افعل سے ، تو اس مسئلہ میں خیر یہ سے اصح کو اور غنیہ سے صحیح کو اختیار کرنے کا جو حکم منقول ہے اس کی یہ تیسری شق ہوجائے گی وہ یہ کہ تخییر ہے (کسی ایک کی پابندی نہیں صحیح یا اصح کسی کو بھی اختیار کرسکتا ہے) یہ معنی لینا اس معنی پر محمول کرنے سے بہتر ہے جو ناقابل قبول ہے ۔

لاسیما والرسالۃ مجھول لاتدری ھی ولامؤلفہا والنقل فــــــ عن المجھول لایعتمد وان کان عــــہ الناقل من المعتمدین کما افصح بہ ش فی مواضع من کتبہ وبیناہ فی فصل القضاء ۔ خصوصا جبکہ رسالہ مجہول ہے ، نہ اس کا پتا نہ اس کے مؤلف کا پتا، او رمجہول سے نقل قابل اعتماد نہیں اگرچہ ناقل معتمد ہوجیسا کہ یہ ضابطہ خود علامہ شامی نے اپنی تصانیف کے متعدد مقامات میں صاف طور پر بیان کیا ہے اور ہم نے بھی فصل القضاء میں اسے واضح کیا ہے ۔

ف : لایعتمد علی النقل عن مجھول وان کان الناقل ثقۃ۔
عـــہ : اقول وثم تفصیل یعرفہ الماھر باسالیب الکلام والمطلع علی مراتب الرجال فافھم اھ منہ
عــــہ : اقول یہاں کچھ تفصیل ہے جس کی معرفت اسالیب کلام کے ماہر اور مراتب رجال سے باخبر شخص سے ہوگی تو اسے سمجھ لیں ۔۱۲ منہ

وبالجملۃ فالثنیا تخالف ماقررہ اما انھا لاتخالفنا فلان فــــ مفادھا اذ ذاک التخییر وھو حاصل ما فی شقی الثانی لانہ لما وقع فی شقہ الاول الخلاف من دون ترجیح اٰل الی التخییر والتخییر مقید بقیود قد ذکرھا من قبل وذکّرھا ھنا بقولہ ولاتنس ماقدمناہ من قیود التخییر ۱؎ اھ

الحاصل وہ استثنا ء ان ہی کے طے کردہ اور مقررہ امر کے خلاف ہے ، رہا یہ کہ وہ ہمارے خلاف نہیں تو اس لئے کہ اس وقت اس کا مفاد تخییر ہے او ریہی اس کا حاصل ہے جو صورت دوم کی دونوں شقوں کے تحت مذکور ہے کیونکہ جب اس کی پہلی شق میں اختلاف ہوگیا ( کہ اصح کو اختیار کرے ، یا صحیح کو اختیار کرے ) اور ترجیح کسی کو نہیں تو مال یہ ہوا کہ تخییر ہے ، اور تخییر کچھ قیدوں سے مقید ہے جنہیں پہلے ذکر کیا ہے اور یہا ں بھی ان کی یاد دہانی کی ہے یہ کہہ کر کہ اور تخییر کی ان قیدوں کو فراموش نہ کرنا جو ہم پہلے بیان کرچکے اھ ،

ف : تحقیق ان ماذکر من حاصل کلام الدر فانہ لایخالفنا۔

 (۱؎ ردالمحتار مطلب اذا تعارض التصحیح دار احیاء التراث العربی بیروت ۱ / ۵۰)

من اعظمھا ان لایکون احدھما قول الامام فاذا کان فلا تخییر کما اسلفنا اٰنفا نقلہ، وقد قال فی شرح عقودہ اذ کان احدھما قول الامام الاعظم والاٰخر قول بعض اصحابہ عند عدم الترجیح لاحدھما یقدم قول الامام فلذا بعدہ ۱؎ اھ ای بعد ترجیح القولین جمیعا فرجع حاصل القول الی ان قول الامام ھو المتبع الا ان یتفق المرجحون علی تصحیح خلافہ۔

ان میں سے عظیم ترین قید یہ ہے کہ دونوں میں کوئی ایک ، قول امام نہ ہو ، اگر ایسا ہو ا تو تخییر نہ ہوگی جیسا اسے ہم ابھی نقل کرآئے ، او رعلامہ شامی نے اپنی شرح عقود میں لکھا ہے کہ جب دونوں میں سے ایک ، امام اعظم کا قول ہو اور دوسرا ان کے بعض اصحاب کا قول ہو تو کسی کی ترجیح نہ ہونے کے وقت قول امام کو مقدم رکھا جاتا ہے تو ایسے ہی اس کے بعد بھی ہوگا اھ، یعنی دونوں قولوں کی ترجیح کے بعد بھی ہوگا تو حاصل کلام یہی نکلا کہ اتباع قول امام ہی کا ہوگا مگر یہ کہ مرجحین اس کے خلاف کی ترجیح پر متفق ہوں۔

 (۱؎ شرح عقود رسم المفتی     رسالہ من رسائل ابن عابدین    سہیل اکیڈمی لاہور    ۴۰)

فــان قــلـــت فــــ الیس قد ذکر عشر مرجحات اُخر ونفی التخییر مع کل منھا: أکدیۃ التصحیح کونہ (۳) فی المتون والاٰخر فی الشروح اوفی(۳) الشروح والاٰخر فی الفتاوٰی او عللوہ (۴) دون الاٰخر اوکونہ (۵) استحسانا او ظاھر (۶) الروایۃ اوا نفع (۷) للوقف اوقول (۸) الاکثر او اوفق (۹) باھل الزمان او اوجہ زاد ھذین فی شرح عقودہ۔

اگر سوال ہو کہ کیا ایسا نہیں کہ اس میں دس مرجع او ربھی ذکر کئے ہیں او رہر ایک کے ساتھ تخییر کی نفی کی ہے (۱) تصحیح کا زیادہ موکد ہونا(۲) یا اس کا متون میں اور دوسرے کا شرو ح میں ہونا(۳) اس کا شروح میں اور دوسرے کا فتاوی میں ہونا(۴) ان حضرات نے اس کی تعلیل فرمائی دوسرے کی کوئی علت ودلیل نہ بتائی(۵) اس کا استحسان ہونا (۶) یا ظاہر الروایہ(۷)یا وقف کے لئے زیادہ نفع بخش(۸) یاقول اکثر(۹) یا اہل زمانہ سے زیادہ ہم آہنگ اورموافق (۱۰) یا اوجہ ہونا،ان دونوں کا شرح عقود میں اضافہ ہے ۔

فـــــ :ذکر عشر مر جحات لاحد القولین علی الاخر

قلت بلی ولا ننکرھاأفقال ان الترجح بھا اٰکد من الترجح بانہ قول الامام انما ذکر رحمہ اللہ تعالٰی ان التصحیح اذا اختلف وکان لاحدھما مرجح من ھذہ ترجح ولا تخییر ولم یذکر ماذا کان لکل منھما مرجح منھا۔

میں کہوں گا کیو ں نہیں ، ہمیں ان سے انکار نہیں ، بتائے کیا یہ بھی کہا ہے کہ ان سب وجہوں سے ترجیح پانا قول اما م ہونے کے سبب ترجیح پانے سے زیادہ موکد ہے ؟ انہوں نے تو صرف یہ ذکر کیا ہے کہ جب تصحیح میں اختلاف ہو اور ایک تصحیح کے ساتھ ان دس میں سے کوئی ایک مرجح ہو تو وہ ترجیح پاجائے گی اور تخییر نہ ہوگی ، اس صورت کا تو ذکر ہی نہ فرمایا جس میں ہر ایک تصحیح کے ساتھ ان میں سے کوئی ایک مرجح ہو۔

اقــول فــــ۱وقد بقی من المرجحات کونہ احوط اوارفق اوعلیہ العمل وھذا یقتضی الکلام علی تفاضل ھذہ المرجحات فیما بینھا وکانہ لم یلم بہ لصعوبۃ استقصائہ فلیس فی کلامہ مضادۃ لما ذکرنا۔

اقول : اور ابھی یہ مرجحات باقی رہ گئے اس کااحوط ، یا ارفق ، یا معمول بہ ہونا ( علیہ العمل) اور یہ اس کا متقضی ہے کہ ان تر جیحات کے باہمی تفاوت اورفرق مراتب پر کلام کیا جائے ، اس کی چھان بین دشوار ہونے کے با عث شاید اسے ہاتھ نہ لگایا ، تو ہم نے جو ذکر کیا اس کی کوئی مخالفت ان کے کلام میں نہیں۔

فــــــ ۱:ذکر ثلث مرجحات اخر ۔

وانــا اقــول  : فـــ ۲ الترجح بکونہ مذھب الامام ارجح من الکل التصریحات القاھرۃ الظاھرۃ الباھرۃ المتواترۃ ان الفتویٰ بقول الامام مطلقا وقد صرح الامام الاجل صاحب الھدایۃ بوجوبہ علی کل حال۔

وانا اقول  : ( اور میں کہتا ہوں) مذہب امام ہونے کے با عث ترجیح پانا سب سے ارجح ہے اس لئے کہ قاہر ظاہر باہر متواتر تصریحات موجود ہیں کہ فتوی مطلقا قول اما م پر ہوگا اور امام جلیل صاحب ہدایہ نے ہر حال میں قول امام پر افتا ء واجب ہونے کی تصریح فرمائی ہے ،

فــــــ ۲:الترجیح بکونہ قول الامام ارجح من کل مایوجد معارضا لہ ۔

وان بغیت التفصیل وجدت الترجیح بہ ارجح من جل ماذکر ممایو جد معارضالہ۔ فاقول :  القول لایکون الاظاھر الروایۃ ومحال ان تمشی المتون قاطبۃ علی خلاف قولہ وانما وضعت لنقل مذھبہ وکذا لن تجد ابدا ان المتون سکتت عن قولہ والشروح اجمعت علی خلافہ ولم یلھج بہ الا الفتاوٰی و الا نفعیۃ للوقف من المصالح الجلیلۃ المھمۃ وھی احدی الحوامل الست وکذا الاوفقیۃ لاھل الزمان وکونہ علیہ العمل وکذا الارفق اذا کان فی محل دفع الحرج والاحوط اذاکان فی خلافہ مفسدۃ والا ستحسان اذا کان لنحو ضرورۃ او تعامل اما اذاکان فـــــ لدلیل فمختص باھل النظر وکذا کونہ اوجہ واوضح دلیلا کما اعترف بہ فی شرح عقودہ۔

اور اگر تفصیل طلب کرو تو اس کے باعث ترجیح اس کے مقابل پائے جانے والے مذکورہ تقریبا سبھی مرجحات سے زیادہ راجح ملے گی ۔ فاقول :  تواس کی تفصیل میں ، میں کہتا ہوں ) (۱) وہ قول جب ہوگا ظاہر الروایہ ہی ہوگا (۲) اور یہ محال ہے کہ تمام متون قول امام کی مخالفت پر گام زن ہوں جب کہ ان کی وضع امام ہی کا مذہب نقل کرنے کے لئے ہوئی ہے (۳۔۴) اسی طر ح ہر گز کبھی ایسا نہ ملے گا کہ متون قول امام سے ساکت ہوں او ر شروح نے اس کی مخالفت پر اجماع کرلیا ہو ، صرف فتا وی نے اسے ذکر کیا ہو۔ (۵) اور وقف کے لئے انفع ہونا عظیم اہم مصالح میں شامل ہے او ریہ اسباب ستہ میں سے ایک ہے  (۶) اسی طر ح اہل زمان کے زیادہ موافق ہونا (۷) اور اسی پر عمل ہونا (۸) یوں ہی ارفق اور زیادہ آسان ہونا جب کہ دفع حرج کا مقام ہو (۹) اور احوط بھی ، جب کہ ا س کے خلاف کوئی مفسدہ اور خرابی ہو (۱۰) اور استحسان بھی جب کہ ضرورت یا تعامل جیسی چیز کے با عث ہو ، لیکن استحسان اگر دلیل کے با عث ہو تو وہ اہل نظر سے خاص ہے (۱۱۔۱۲) یوں ہی اس کا اوجہ اور دلیل کے لحاظ سے زیادہ واضح ہونا اہل نظر کا حصہ ہےجیسا کہ علامہ شامی نے شرح عقود میں اس کا اعتراف کیا ہے

فــــ :الاستحسان لغیرنحو ضرورۃ وتعامل لایقدم علی قول الامام ۔

وقد اعلمناک ان المقلد لا یترک قول امامہ لقول غیرہ ان غیرہ اقوی دلیلا فی نظری فاین النظر من النظر وانما یتبعہ فی ذلک تارکاتقلید امامہ من یسلم ان احدا من مقلدبہ ومجتھدی مذھبہ ابصر بالدلیل الصحیح منہ ۔

اور یہ ہم بتا چکے ہیں کہ مقلد اپنے امام کا قول کسی دوسرے کے قول کی وجہ سے ترک نہ کرے گا ، اگر دوسرا قول میری نظر میں دلیل کے لحاظ سے زیادہ قوت رکھتا ہے تو میری نظر کو امام کی نظر سے کیا نسبت؟ اپنے امام کی تقلید چھوڑ کر اس دوسرے کے قول کا اتباع وہی کرے گا جو یہ مانتا ہے کہ امام کے مقلدین اور ان کے مذہب کے مجتہدین میں سے کوئی فرد دلیل صحیح کی ان سے زیادہ بصیرت رکھتا ہے ۔

ولربما یکون قیاس یعارضہ استحسان یعارضہ استحسان اٰخر ادق منہ فکیف یترک القیاس القوی بالا ستحسان الضعیف وھذا ھو المرجو فی کل قیاس قال بہ الامام وقیل لغیرہ لالمثل ضرورۃ وتعامل انہ استحسان ولنحو ھذا ربما قدموا القیاس علی الا ستحسان وقد نقل فی مسألۃ فی الشرکۃ الفاسدۃ ش عن ط عن الحموی عن المفتاح ان قول محمد ھوالمختار للفتوی وعن غایۃ عـــہ البیان ان اقول ابی یوسف استحسان اھ فقال ش وعلیہ فھو من المسائل التی ترجح فیھا القیاس علی الاستحسان ۱؎ اھ

شاید ایسا ہوگا کہ کسی قیاس کے معارض کوئی ایسا استحسان ہو جس کے معارض اس سے زیادہ دقیق دوسرا استحسان موجود ہو تو قیاس قوی کو استحسان ضعیف کے باعث کیسے ترک کردیا جائے گا؟ امید ہے کہ یہی صورت ہر اس قیاس میں پائی جاتی ہوگی جس کے قائل امام ہیں ، اور جس کے مقابل دوسرے کو ،ضرورت وتعامل جیسے امور کے ماسوا میں ، استحسان کہا گیا ہو ایسے ہی نکتے کے باعث بعض اوقات قیاس کو استحسان پر مقدم کرتے ہیں ، علامہ شامی نے طحطاوی سے انہوں نے حموی سے ، انہوں نے مفتاح سے، شرکت فاسدہ کے ایک مسئلے میں نقل کیا ہے کہ امام محمد ہی کا قول فتوی کے لئے مختار (ترجیح یافتہ) ہے او رغایۃ البیان سے نقل کیا کہ امام ابو یوسف کا قول استحسان ہے اس پر علامہ شامی نے فرمایا ، اس کے پیش نظر وہ ان مسائل میں شامل ہے جن میں قیاس کو استحسان پر ترجیح ہوتی ہے ،اھ

عــہ قالہ الامام الکرخی فی مختصرہ وعنہ نقل فی غایۃ البیان ۱۲ منہ غفرلہ۔ (م)
اسے امام کرخی نے اپنی مختصر میں بیان کیا اسی میں غایۃ البیان سے منقول ہے ۱۲ منہ ۔ (ت)

 (۱؎ ردالمحتار کتاب الشرکۃ فصل فی شرکۃ الفاسدۃ     دار احیا ء التراث العربی بیروت     ۳ /۳۵۰)

فـافادان فـــــ ما علیہ الفتوی مقدم علی الاستحسان وکذا ضرورۃً علی ما عُلل فا لتعلیل من امارات الترجیح والفتوی اعظم ترجیح صریح وکذا لاشک فی تقدیمھا علی الاوجہ والارفق والا حوط کما نصوا علیہ فلم یبق من المرجحات المذکورۃ الا اٰکدیۃ التصحیح واکثریۃ القائلین ولذا اقتصرنا علی ذکرھما فیما مضی۔

اس بیان سے انہوں نے یہ افادہ کیا کہ (ما علیہ الفتوی) جس قول پر فتوی ہوتا ہے وہ استحسان پر مقدم ہوتا ہے( ۱۳) یوں ہی بدیہی وضروری طوپر یہ اس قول سے بھی مقد م ہوگا جس کی تعلیل ہوئی ہو ، اس لئے کہ تعلیل ترجیح کی صرف ایک علامت ہے او رفتوی سب سے عظیم ترجیح صریح ہے (۱۴۔۱۶) یوں ہی اوجہ ، ارفق اور احوط پر بھی اس کے مقدم ہونے میں کوئی شک نہیں ۔ا ب تصحیح کے زیادہ موکد ہونے اور قائلین کی تعداد زیادہ ہونے کے سوا مذکورہ مرحجات سے کوئی مر جح باقی نہ رہا ، اسی لئے سابق میں ہم نے صرف ان ہی دونوں کے ذکر پر اکتفاکی ،

فــــ ۱: ماعلیہ الفتوی مقدم علی الاستحسان ۔

و ای فـــــ ۲ اکثریۃ اکثر ممافی مسألتی وقت العصر والعشاء حتی ادعوا علی خلاف قولہ التعامل بل عمل عامۃ الصحابۃ فی العشاء ولم یمنع ذلک لاسیما فی العصر عن التعویل علی قول الامام ونقلتم عن البحر واقررتم انہ لایعدل عن قول الامام الالضرورۃ وان صرح المشائخ ان الفتوی علی قولھما کما ھنا ۱؎

اب بتائیے قائلین کی اکثریت کہیں اس سے زیادہ ہوگی جو وقت عصراور وقت عشاء کے مسئلوں میں امام کے مقابل موجود ہے ؟ یہاں تک کہ لوگوں نے قول امام کے بر خلاف تعامل بلکہ عشا میں عامہ صحابہ کا عمل ہونے کابھی دعوی کیا پھر بھی یہ اکثر یت ، خصوصا عصر میں ، قول امام پر اعتماد سے مانع نہ ہوسکی ، اورآپ ہی نے بحر سے یہ نقل کیا اور برقرار رکھا کہ قول امام سے بجز ضرورت کے عدول نہ ہوگا اگر چہ مشائخ نے تصریح فرمائی ہو کہ فتوی قول صاحبین پر ہے ، جیسے یہا ں ہے اھ۔

 (۱؎ بحرالرائق کتاب الصلوۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۱ /۲۴۶)

فـــــ ۲:عند قول الامام لاینظر الی کثرۃ الترجیح فی الجانب الاخر ۔

ونا ھیک فـــــ بہ جوابا عن اٰکدیۃ لفظ التصحیح وایضا قدمنا نصوص ش فی ذلک فی سردالنقول عن کتاب النکاح وکتاب الھبۃ وایضا اکثر فی ردالمحتار من معارضۃ الفتوی بالمتون وتقدیم ما فیھا علی ما علیہ الفتوی وما ھو الا لان المتون وضعت لنقل مذھب صاحب المذھب رضی اللہ تعالٰی عنہ۔

اور لفظ تصحیح کے زیادہ موکد ہونے سے متعلق جواب کے لئے بھی یہی کافی ہے اور اس بارے میں علامہ شامی کی صریح عبارتیں ذکر نقول کے تحت کتا ب النکاح او رکتا ب الہبہ سے ہم پہلے بھی نقل کرچکے ہیں ، اور انہوں نے رد المحتار میں بہت سے مقامات پر فتوی کے مقابلہ میں متون کوپیش کیا ہے اور متون میں جو مذکورہ ہے اسے ما علیہ الفتوی (اور قول جس پر فتوی ہے) پر مقد م قرار دیا ہے ، اوریہ اسی لئے کہ متون صاحب مذہب رضی اللہ تعالی عنہ کا مذہب نقل کرنے کے لئے وضع ہوئے ہیں ۔

فــــ: اذا رجع قول الامام وقول خلافہ کان العمل بقول الامام وان قالوا لغیرہ علیہ الفتوی ۔

فــمـنـھا الاسناد فی البئر الی یوم اوثلثۃ فی حق الوضوء والغسل والا قتصار فی حق غیرھما افتی بہ الصباغی وصححہ فی المحیط والتبیین واقرہ فی البحر والمنح واعتمدہ فی التنویر والدر فقلتم مخالف لاطلاق المتون قاطبۃ (الی قولکم) فلا یعول علیہ وان اقرہ فی البحر والمنح ۱؎

ان میں سے چند مقامات کی نشان دہی (۱) کنویں میں کوئی جانور مراد دیکھا گیا اور گرنے کا وقت معلوم نہیں تو اگر پھولا پھٹانہیں ہے تو ایک دن اورپھولاپھٹا ہے تو تین دن سے پانی نجس ماناجائے گا وضو اور غسل کے حق میں او ردوسری چیزوں سے متعلق جب سے دیکھا گیا اس وقت سے یعنی اب سے نجس مانا جائے گا پہلے سے نہیں ۔
اسی پر صباغی نے فتوی دیا ،محیط اورتبیین میں اسی کو صحیح کہا البحرالرائق اور منح الغفار میں اسی پر اعتماد کیا تو آپ نے فرمایا ،یہ تمام متون کے اطلاق کے بر خلاف ہے (یہاں تک کہ فرمایا) تو اس پر اعتماد نہ ہوگا اگرچہ بحر اور منح میں اسے بر قرار رکھا ۔

 (۱؎ ردالمحتار     باب المیاہ     فصل فے البئر    دار احیاء التراث العربی بیروت     ۱ /۱۴۶)

ومــنھــا وقف صدقۃً علی رجل بعینہ عاد بعد موتہ لورثۃ الواقف قال فی الاجناس ثم فتح القدیر بہ یفتی ۲؎ فقلتم انہ خلاف المعتمد لمخالفتہ لمانص علیہ محققوا المشائخ ولما فی المتون من انہ بعدموت الموقوف علیہ یعود للفقراء ۳؎

کوئی صدقہ ایک شخص معین پر وقف کیا تو یہ وقف اس شخص کی موت کے بعد واقف  کے ورثہ کی طر ف لوٹ آئے گا ، اجناس میں پھر فتح القدیر میں کہا بہ یفتی( اسی پر فتوی دیا جاتا ہے آپ نے فرمایا یہ خلاف معتمد ہے کیونکہ یہ اس کے خلاف ہے جس پر محققین مشائخ نے نص فرمایا او راس کے بھی جو متون میں مذکور ہے ، وہ یہ کہ موقوف علیہ کی موت کے بعد وہ فقراء پر لوٹ آئے گا ۔)

 (۲ ؎الدالمختار    بحوالہ الفتح کتاب الوقف     مطبع مجتبائی دہلی    ۱ /۳۷۹)
(۳؎ ردالمحتار     بحوالہ الفتح کتاب الوقف     دار احیاء التراث العربی بیروت     ۳ /۳۶۶)

ومــنھـا مااختار الامامان الجلیلان والکرخی من الغاء طلاق السکران وفی التفرید ثم التتار خانیہ ثم الدر الفتوی علیہ ۱؎ فقلتم مثل ح قد علمت مخالفتہ لسائر المتون ۲؎

امام جلیلین طحطاوی وکرخی نے اختیار فرمایا کہ نشہ والے کی طلاق بے کار ہے ، او رتفرید پھرتاتار خانیہ پھر درمختار میں ہے کہ فتوی اسی پر ہے آپ نے حلبی کی طرح فرمایا تمہیں معلوم ہے کہ سارے متون کے خلاف ہے ۔

 (۱؎ الدرالمختار   بحوالہ تاتارخانیہ کتاب الطلاق مطبع مجتبائی دہلی ۱ / ۲۱۷)
(۲؎ ردالمحتار کتاب الطلاق دار احیاء التراث العربی بیروت۲/ ۴۲۴و ۴۲۵)

ومــنـھـا قال محمد اذالم یکن عصبۃ فولایۃ النکاح للحاکم دون الام قال فی المضمرات علیہ الفتوی فقلتم کالبحر والنھر غریب للمخالفۃ المتون الموضوعۃ لبیان الفتوی۳؎

 (۴) امام محمد نے فرمایا ،جب کوئی عصبہ نہ ہو تو نکاح کی ولایت حاکم کو حاصل ہوگی ، ماں کو نہیں مضمرات میں لکھا ، اسی پر فتوی ہے آپ نے بحرونہرکی طر ح فرمایا ، یہ غریب ہے کیوں کہ بیان فتوی کے لئے وضع شدہ متون کے بر خلاف ہے ،

 (۳؎ ردالمحتار    کتاب النکاح باب الولی داراحیاء التراث العربی بیروت     ۲ /۳۱۲)

ومـنھـا قال محمد لا تعتبر الکفاءۃ دیانۃ وفی الفتح عن المحیط علیہ الفتوی وصححہ فی المبسوط فقلتم کالبحر تصحیح الھدایۃ معارض لہ فالافتاء بما فی المتون اولی ۴؎

 (۵) امام محمد نے فرمایا ، دین داری میں کفاء ت کا اعتبار نہیں فتح القدیر میں محیط کے حوالے سے لکھا ، اسی پر فتوی ہے او رمبسوط میں اسی کو صحیح کہا آپ نے بحر کی طر ف فرمایا ، ہدایہ کی تصحیح اس کے معارض ہے تو اسی پر افتا اولی ہے جو متون میں مذکور ہے ۔

 (۴؎ ردالمحتار کتاب النکاح     باب الکفاءۃ    دار احیاء التراث العربی بیروت ۲ /۳۲۰)

ومـنـھـا قال لھا اختاری اختاری اختاری فقالت اخترت الاولی اوالوسطی اوالاخیرۃ طلقت ثلثا عندہ وواحدۃ بائنۃ عندھما واختارہ الطحاوی قال فی الدر واقرہ الشیخ علی المقدسی وفی الحاوی القدسی وبہ نأخذ فقد افاد ان قولھما ھو المفتی بہ کذا یخط الشرف الغزی۱؎ فقلتم قول الامام مشی علیہ المتون واخر دلیلہ فــــ۱ فی الھدایۃ فکان ھو المعتمد۲؎۔

 (۶) شوہر نے بیوی سے کہا ، اختیارکر ، اختیار کر، اختیار کر ، تو بیوی نے کہا میں نے پہلی یا درمیانی یا آخری اختیار کی ، امام صاحب کے نزدیک اس پر تین طلاقیں پڑگئیں ، اور صاحبین کے نزدیک ایک طلاق بائن واقع ہوئی اور اسی کو امام طحاوی نے اختیار کیا ، درمختار میں ہے اور اسے شیخ علی مقدسی نے بر قرار رکھا ، اور حاوی قدسی میں ہے ، وبہ ناخذ ہم اسی کو لیتے ہیں تو یہ افادہ کیا کہ قول صاحبین ہی مفتی بہ ہے شرف غزی کی قلمی تحریرمیں اسی طرح ہے آپ نے فرمایا ، قول امام پر متون گام زن ہیں ، اور ہدایہ میں اسی کی دلیل موخر رکھی ہے تو وہی معتمد ہوا ۔

فــــ ۱ : تاخیر الھدایۃ دلیل قول دلیل اعتماد ہ

 (۱؎ الدرالمختار کتاب الطلاق     باب تفویض الطلاق مطبع مجتبائی دہلی         ۱ /۲۲۷)
(۲؎ ردالمحتار کتاب الطلاق     باب تفویض الطلاق باب داراحیاء التراث العربی بیروت         ۲ /۴۸۰)

ومــنھـا طلب القسمۃ من لا ینتفع بھا لقلۃ حصّتہ قال شیخ الاسلام خواھر زادہ یجاب قال فی الخانیۃ وعلیہ الفتوی فقال فی الدر لکن فـــــ۲ المتون علی الاول فعلیہ المعول ۳؎ واقرر تموہ انتم وط مع قولکم مرارا منھا فی ھبۃ ردالمحتار کن علی ذکرمما قالوا لا یعدل فــــ۳ عن تصحیح قاضی خان فانہ فقیہ النفس ۴؎ اھ

 (۷) تقسیم کا ایسے شخص نے مطالبہ کیا جو اس سے فائدہ نہیں اٹھا سکتا کیوں کہ اس کا حصہ بہت کم ہوگا شیخ الاسلام خواہر زادہ نے کہا ، تقسیم کردی جائے ، خانیہ میں کہا اسی پرفتوی ہے اس پر در مختار میں فرمایا ،لیکن متون اول پر ہیں تواسی پر اعتماد ہے اور اسے آپ نے اور طحطاوی نے بر قراررکھا ، با وجود یکہ آپ نے بارہافرمایا ان میں سے ایک موقع رد المحتار کتاب الہبہ کا بھی ہے کہ اسے یاد رکھنا جو علماء نے فرمایا ہے کہ امام قاضی خاں کی تصحیح سے عدول نہ کیاجائے گا کیونکہ وہ فقیہ النفس ہیں ۔ اھ

فـــ ۲: قول الامام مذکور فی المتون مقدم علی ما صححہ قاضی خان باکدالفاظ الفتوی۔
فــــ۳: لا یعدل عن تصحیحہ قاضی خان فانہ فقیہ النفس ۔

 (۳؎ الدر المختار کتاب القسمۃ مطبع مجتبائی دہلی ۲ / ۲۱۹)
(۴؎ رد المحتار کتاب الہبۃ داراحیاء التراث العربی بیروت ۴ / ۵۱۳ )

فـقـد ظھر وللہ الحمد ان الترجیح بکون القول قول الامام لایوازیہ شیئ واذا اختلف الترجیح وکان احدھما قول الامام فعلیہ التعویل وکذا اذالم یکن ترجیح فکیف اذا اتفقوا علی ترجیحہ فلم یبق الامااتفقوا فیہ علی ترجیح غیرہ ۔

اس تفصیل سے بحمدہ تعالی روشن ہوگیا کہ کسی قول کے قول امام ہونے کے باعث ترجیح پانے کے مقابل کوئی چیز نہیں اور جب اختلاف ترجیح کی صورت میں دوقولوں میں سے ایک قول امام ہو تو اسی پر اعتماد ہے اسی طر ح اس وقت بھی جب کوئی ترجیح ہی موجود نہ ہو ، پھر اس وقت کیا حال ہوگا جب سب اسی کی ترجیح پر متفق ہوں تو اب کوئی صورت باقی نہ رہی سوا اس کے جس میں دو سرے کی ترجیح پر سب متفق ہوں ۔

فــاذا حمل کلامہ علی ماوصفنا فلاشک فی صحتہ اذن بالنظر الی حاصل الحکم فانا نوافقہ علی انانا خذ ح بما اتفقوا علی ترجیحہ انما یبقی الخلاف بیننا فی الطریق فھو اختارہ بناء علی اتباع المرجحین ونحن نقول لایکون ھذا الا فی محل احدی الحوامل فیکون ھذا ھو قول الامام الضروری وان خالف قولہ الصوری بل عندنا ایضا مساغ ھھنا لتقلید المشائخ فی بعض الصور علی مایأتی بیانھا۔

تو اگر علامہ شامی کا کلام اس پر محمول کرلیا جائے جو ہم نے بیان کیا تو اس صورت میں وہ بلا شبہ حاصل حکم کے لحاظ سے صحیح ہوگا کیونکہ ہم بھی اس پر ان کی موافقت کرتے ہیں کہ ایسی صورت میں ہم اسی کو لیں گے جس کی ترجیح پر مشائخ کا اتفاق ہے البتہ ہمارے اور ان کے درمیان طریقے حکم کا فر ق رہ جاتا ہے ، انہوں نے اس حکم کو اتباع مرجحین کی بنیاد پر اختیار کیا ہے اور ہم یہ کہتے ہیں کہ ایسا اسباب ستہ میں سے کسی ایک کے پائے جانے ہی کے موقع پر ہوگا تو یہی امام کاقول ضروری ہوگا اگرچہ وہ ان کے قول صوری کے بر خلاف ہو بلکہ ہمارے نزدیک یہاں بعض صورتوں میں تقلید مشائخ کی بھی گنجائش ہے جیسا کہ ان کا بیان آرہا ہے ۔

ثــم لاشک انہ لایتقید ح بکونہ قول احد الصاحبین بل ندور مع الحوامل حیث دارت وانکان قول زفر مثلا علی خلاف الائمۃ الثلثۃ کما ذکر وما ذکر من سبرھم الدلیل وسائر کلامہ نشأمن الطریق الذی سلکہ وح یبقی الخلاف بینہ وبین البحر لفظیا فان البحر ایضا لا یابی عند ئذ العدول عن قول الامام الصوری الی قولہ الضروری کیف وقد فعل مثلہ نفسہ والوفاق اولی من الشقاق۔

پھر بلا شبہ ایسے وقت میں اس کی بھی پابندی نہیں کہ وہ دو سرا قول ، صاحبین ہی میں سے کسی کا ہو بلکہ مدار حوادث پر ہوگا وہ جہاں دائر ہوں اگر چہ تینوں ائمہ کے بر خلاف مثلا امام زفر ہی کا قول ہوجیسا کہ پہلے ذکر ہوا ۔اور وہ جو علامہ شامی نے ذکر کیا کہ مشائخ نے دلیل کی جانچ کر رکھی ہے اور باقی کلام ،یہ سب اس طر یق سے پیدا شدہ ہے جسے انہوں نے اپنایا ۔ اور اب ان کے اور بحر کے درمیان صرف لفظی اختلاف رہ جائے گا ۔ کیونکہ بحر بھی ایسی صورت میں امام کے قول صوری سے ان کے قول ضروری کی جانب عدول کے منکر نہیں ۔منکر کیسے ہوں گے ایسا تو انہو ں نے خود کیا ہے ۔ اور اتفاق ، اختلاف سے بہتر ہے ۔

ولـعـل مـراد ابن الشلبی ان یصرح احد من المشائخ الفتوی علی قول غیر الامام مع عدم مخالفۃ الباقین لہ صراحۃ ولا دلالۃ کا قتصارھم علی قول الامام او تقدیمہ او تأخیر دلیلہ اوالجواب عن دلائل غیرہ الی غیر ذلک مما یعلم انھم یرجحون قول الامام کما اشار ابن الشلبی الی التصحیح دلالۃ وح لابد ان یظھر منھم مخایل وفاقھم لذلک المفتی فیدخل فی صورۃ الثنیا ھذا فی جانب الشامی واما جانب البحر فرأیتنی کتبت فیما علقت علی ردالمحتار فی کتاب القضاء مانصہ۔

اور شاید ابن الشلبی کی مرادیہ ہے کہ مشائخ میں سے ایک نے غیر امام کے قول پر فتوی ہونے کی تصریح کی ہو اور دیگر حضرات نے صراحۃ اس کی مخالفت نہ کی ہواور نہ ہی دلالۃ مثلا یوں کہ قول امام پر اقتصار کریں ، یا اسے پہلے بیان کریں ، یا اس کی دلیل آخر میں لائیں ، یا دوسرے حضرات کی دلیلوں کا جواب دیں ، اسی طر ح کی اور باتیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ قول امام کو ترجیح دے رہے ہیں۔ جیسا کہ ابن الشلبی نے دلالۃ تصحیح کی جانب اشارہ کیا ہے ۔ او رایسی صورت میں دیگر حضرات سے اس مفتی کے ساتھ موافقت کے آثار و علامات نمودار ہونا ضروری ہے کلام ابن شلبی کی یہ مراد لی جائے تو یہ بھی استثنا ء والی صورت میں داخل ہوجائے گا ۔یہ گفتگو رہی شامی کے دفاع میں ، اب رہا بحر کا معاملہ تو رد المحتار پر جو میں نے تعلیقات لکھی ہیں ان ہی میں کتاب القضاکے تحت میں نے دیکھا کہ یہ عبارت رقم کر چکا ہوں ۔

اقــول:  محل کلام البحر حیث وجدالترجیح من ائمتہ فی جانب الامام ایضا کمافی مسألتی العصر والعشاء وان وجد اٰکد الفاظہ وھو الفتویٰ من المشائخ فی جانب الصاحبین ولیس یرید ان المشائخ وان اجمعوا علی ترجیح قولھما لایعبؤ بہ ویجب علینا الافتاء بقول الامام فان ھذا لایقول بہ احد ممن لہ مساس بالفقہ فکیف بھذا العلامۃ البحر ولن تری ابدا اجماع الائمۃ علی ترجیح قول غیرہ الا لتبدل مصلحۃ باختلاف الزمان وح لایجوز لنا مخالفۃ المشائخ (لانھا اذن مخالفۃ الامام عینا کما علمت) واما اذا اختلف الترجیح فرجحان قول الامام لانہ قول الامام ارجح من رجحان قول غیرہ لارجحیۃ لفظ الافتاء بہ (اواکثریۃ المائلین الی ترجیحہ) فھذا ما یریدہ العلامۃ صاحب البحر وبہ یسقط ایراد العلامتین الرملی والشامی اھ ماکتبت مع زیادات منی الاٰن مابین الاھلۃ۔

اقول:  کلام بحر کامحل وہ صورت ہے جس میں ائمہ ترجیح سے جانب امام بھی ترجیح پائی جاتی ہو جیسے عصر وعشاء کے مسئلوں میں ہے اگر چہ موکد ترین لفظ ترجیح مشائخ کا فتوی صاحبین کی جانب ہو بحر کی مراد یہ نہیں کہ مشائخ قول صاحبین کی ترجیح پر اجماع کر لیں تو بھی اس کا اعتبار نہیں اور ہم پر قول امام ہی پر فتوی دینا واجب ہے ۔ کیوں کہ کوئی بھی شخص جسے فقہ سے کچھ مس ہے ایسی بات نہیں کہہ سکتا تو یہ علامہ بحر اس کے قائل کیسے ہوں گے ؟ اور ہر گز کبھی غیر امام کے قول کی ترجیح پر ائمہ ترجیح کا اجماع نظر نہ آئے گا مگر ایسی صورت میں جہاں اختلاف زمانہ کی وجہ سے مصلحت تبدیل ہوگئی ہو۔، اور ایسی صورت میں ہمارے لئے مشائخ کے خلاف جانا روا نہیں (کیوں کہ یہ بعینہ امام کے مخالف ہوگی جیسا کہ معلوم ہوا ) لیکن جب تر جیح مختلف ہو تو قول امام کا اس وجہ سے رجحان کہ وہ قول امام ہے زیادہ راجح ہوگا اور اس کے مقابلہ میں دوسرے کے قول کا ،لفظ افتاء کی ارجحیت (یا اس کی ترجیح کی طر ف مائل ہونے والوں کی اکثریت ) کے باعث رحجان اس سے فر وتر ہوگا ۔ یہی علامہ صاحب بحر کی مراد ہے اور اسی سے علامہ رملی وعلامہ شامی کا اعتراض ساقط ہوجاتا ہے ۔ اھ حواشی رد المحتار سے متعلق میری عبارت ختم ہوئی ، اور ہلالین کے درمیان کی عبارتیں اس وقت میں نے بڑھائی ہیں ۔

فبــھــذا تلتئم الکلمات، وتأتلف الاشتات، والحمد للہ رب البریات، وافضل الصلوات، واکمل التسلیمات، علی الامام الاعظم لجمیع الکائنات، واٰلہ وصحبہ وابنہ وحزبہ اولی الخیرات، والسعود والبرکات، عدد کل مامضی وما ھو اٰت، آمین والحمد للّٰہ رب العٰلمین واللّٰہ سبحنہ وتعالٰی اعلم ۔

تو اس تو ضیح وتاویل سے تمام کلمات ایک دوسرے سے ہم آہنگ ہوجاتے ہیں اور مختلف باتیں باہم متفق ہوجاتی ہیں ۔ اور تمام تر ستائش خدا کے لئے جو مخلوقات کا رب ہے ۔ او ربہتر درود ، کامل ترین تسلیمات ساری کائنات کے امام اعظم اور خیرات ، سعادات ، برکات والے ان کے آل ، اصحاب ، فرزند ا ور جماعت پر ،ہر گزشتہ وآئندہ کی تعداد میں ۔ الہی ! قبول فرما ۔ اور تمام تعریف خدا کے لئے جو سارے جہانوں کا پر وردگار ہے اور پاکی وبر تری والے خدا کو ہی خوب علم ہے ۔

ورأیـــت الناس یتحفون کتبھم الی ملوک الدنیا وانا العبد الحقیر، خدمت بھذہ السطور، ملکا فی الدین، امام ائمۃ المجتہدین، رضی اللہ تعالی عنہ وعنھم اجمعین، فان وقعت موقع القبول، فذاک نھایۃ المسئول، ومنتھی المأمول، وما ذلک علی اللہ بعزیز ان ذلک علی اللہ یسیر، ان اللہ علی کل شیئ قدیر، وللہ الحمد والیہ المصیر، وصلی اللہ تعالی علی المولی الاکرم، واٰلہ وصحبہ و بارک وسلّم، اٰمین۔

میں نے دیکھا کہ لوگ شاہان دنیا کے دربار میں اپنی کتابوں کا تحفہ پیش کرتے ہیں اور بندہ حقیر نے تو ان سطور سے دین کے ایک بادشاہ ،ائمہ مجتہدین کے امام کی خدمت گزاری کی ہے ۔ اللہ تعالی ان سے اور ان سب مجتہدین سے راضی ہو ، تو یہ اگر مقام قبول پاجائیں تو یہی انتہائے مطلوب او رمنتہائے امید ہے اوراللہ پر یہ کچھ دشوار نہیں ، بلاشبہ یہ خدا پر آسان ہے ۔ یقینا اللہ ہر شے پر قادر ہے ۔اور اللہ ہی کے لئے حمد ہے اور اسی کی جانب رجوع ہے۔ اور اللہ تعالی درود وسلام نازل فرمائے آقائے اکرم اور ان کی آل اصحاب پر اور برکت و سلامتی بخشے ۔ الہی! قبول فرما۔

تـنبـیـہ اقول : فـــــ کون المحل محل احدی الحوامل انکان بینا لایلتبس فالعمل علیہ وما عداہ لانظر الیہ وھذا طریق لمی وانکان الامر مشتبہا رجعنا الی ائمۃ الترجیح فان رأیناھم مجمعین علی خلاف قول الامام علمنا ان المحل محلھا وھذا طریق انی وان وجدناھم مختلفین فی الترجیح اولم یرجحوا شیئا عملنا بقول الامام وترکنا ماسنواہ من قول وترجیح لان اختلافھم اما لان المحل لیس محلھا فاذن لاعدول عن قول الامام اولانھم اختلفوا فی المحلیۃ فلا یثبت القول الضروری بالشک فلا یترک قولہ الصوری الثابت بیقین الا اذا تبینت لنا المحلیۃ بالنظر فیما ذکروا من الادلۃ اوبنی العادلون عن قولہ الامر علیھا وکانوا ھم الاکثرین و فنتبعھم ولا نتھمھم اما اذا لم یبنوا الامر علیھا وانما حاموا حول الدلیل فقول الامام علیہ التعویل ھذا ما ظھرلی وار جوا ن یکون صوابا ان شاء اللّٰہ تعالٰی واللّٰہ اعلم۔

تنبیہ:اقول:  چھ اسباب میں سے کسی ایک کا محل ہونا اگر واضح غیرمشتبہ ہو تو اسی پر عمل ہوگا اور ماسوا پر نظر نہ ہوگی یہ لمی طریقہ ہے اور اگرمعاملہ مشتبہ ہو تو ہم ائمہ ترجیح کی جانب رجوع کریں گے ۔ اگر قول امام کے بر خلاف انہیں اجماع کئے دیکھیں تو یقین کرلیں گے کہ یہ بھی اسباب ستہ میں سے کسی ایک کاموقع ہے یہ ِانیِّ طریقہ ہے ۔۔۔۔۔۔ اور اگر انہیں ترجیح کے بارے میں مختلف پائیں یا یہ دیکھیں کہ انہوں نے کسی کو ترجیح نہ دی تو ہم قول امام پر عمل کریں گے اور اس کے ماسوا قول وترجیح کو ترک کر دیں گے کیوں کہ ان کااختلاف یا تو اس لئے ہوگا کہ وہ اسباب ستہ کا موقع نہیں ۔جب تو قول امام سے عدول ہی نہیں یا اس لئے ہوگا کہ اسباب ستہ کا محل ہونے میں وہ باہم مختلف ہوگئے ۔ تو قول ضروری شک سے ثابت نہ ہوپائے گا ۔ اس لئے امام کا قول صوری جو یقین سے ثابت ہے ترک نہ کیا جائے گا لیکن جب ہم پر اسباب ستہ کا محل ہونا ان حضرات کی بیان کر دہ دلیلوں میں نظرکرنے سے واضح ہوجائے ، یا قول امام سے عدول کرنے والے حضرات نے اسی محلیت پر بنائے کار رکھی ہو اور وہی تعداد میں زیادہ بھی ہوں تو ہم ان کی پیروی کریں گے اور انہیں متہم نہ کریں گے۔۔۔۔۔۔ لیکن جب انہوں نے بنائے کا ر محلیت پر نہ رکھی ہو ، بس دلیل کے گرد ان کی گردش ہو تو قول امام پر ہی اعتماد ہے۔۔۔۔۔ یہ وہ طریق عمل ہے جو مجھ پر منکشف ہوا اور امید رکھتا ہوں کہ ان شاء اللہ تعالی درست ہوگا، واللہ تعالی اعلم

فـــ : تنبہان جلیلان یتبین بھما ما یعمل بہ المقلد فی امثال المقام ۔

تـنبـیہ اقول:  ھذا کلہ اذا خالفوا الامام اما اذا فصلو ا اجمالا،او ضحوا اشکالا ، او قیدو ارسالا کداب الشراح مع المتون، وھم فی ذلک علی قولہ ماشون، فھم اعلم منا بمراد الامام فان اتفقوا والا فالترجیح بقواعدہ المعلومۃ وانما قیدنا بانھم فی ذلک علی قولہ ماشون لانہ تقع ھنا صورتان مثلا قال الامام فی مسألۃ باطلاق وصاحباہ بالتقیید فان اثبتوا الخلاف واختاروا قولھما فھذہ مخالفۃ وان نفوا الخلاف وذکروا ان مراد الامام ایضا التقیید فھذا شرح واللّٰہ تعالٰی اعلم ولیکن ھذا اٰخر الکلام، وافضل الصلاۃ والسلام، علی اکرم الکرام، واٰلہ وصحبہ وابنہ وحزبہ الی یوم القیام، والحمد للّٰہ ذی الجلال والاکرام۔

تنبیہ : اقول:  یہ سب اس وقت ہے جب وہ واقعی امام کے خلاف گئے ہوں لیکن جب وہ کسی اجمال کی تفصیل یا کسی اشکال کی تو ضیح ، یا کسی اطلاق کی تقیید کریں جیسے متون میں شارحین کا عمل ہوتا ہے ۔ اور وہ ان سب میں قول امام ہی پر گام زن ہوں تو وہ امام کی مراد ہم سے زیادہ جاننے والے ہیں ۔ اب اگر وہ باہم متفق ہوں تو قطعا اسی پر عمل ہوگا ورنہ تر جیح کے قواعد معلومہ کے تحت ترجیح دی جائے گی ۔ ہم نے یہ قید لگائی کہ'' وہ ان سب میں قول امام ہی پر گام زن ہوں '' اس کی و جہ یہ ہے کہ یہاں دو صورتیں ہوتی ہیں ، مثلاامام کسی مسئلے میں اطلاق کے قائل ہیں اور صاحبین تقیید کے قائل ہیں ، اب مرجحین اگر اختلاف کا اثبات کریں اور صاحبین کا قول اختیارکریں تو یہ مخالفت ہے اور اگر اختلاف کا انکار کریں اور یہ بتائیں کہ امام کی مراد بھی تقیید ہی ہے تو یہ شرح ہے واللہ تعالی اعلم ۔ یہی خاتمہ کلام ہونا چاہئے اور بہتر درودو سلام کریموں میں سب سے کریم تر سرکار پر اور ان کی آل ، اصحاب ، فرزند اور جماعت پر تاروز قیام۔ اور ہر ستائش بزرگی واکرام والے خدا کے لئے ہے ۔(ت)

فتاوی رضویہ ،ج۱ ،ص۱ تا ۳۴ سافٹ ویر

No comments:

Post a Comment

Join us on

Must click on Like Button

Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...