Saturday, December 5, 2015

وضو کے درمیان کلی کرتے وقت خون آیا تو منہ ناپاک ہوگا یا نہیں ۔۔؟؟جواب :امام احمد رضا بریلوی

مسئلہ ۶: ف مرسلہ مولوی محمد یعقوب صاحب ارکانی ازریاست رامپور محلہ پنجابیاں مکان حافظ غلام شاہ صاحب۴شوال ۱۳۲۴ھ
بعون من قال فاسئلوا اھل الذکران کنتم لاتعلمونo فیامخدومنا الذی فاق فی الاشتھار علی الشمس فی رابعۃ النہار احتوت فضائلہ الاقطار احاطت مواھبہ الامصارما قولکم فی ان المتوضیئ رأی اثرا من الدم فی البزاق بعد المضمضۃ فاخرج مافی الفم من البزاق وغیرہ بالمص لیظھر مساواتہ ومغلوبیتہ فی البزاق فرأی بعدما اخرج ان الدم مساو للبزاق ففی ھذہ ھل ینجس فمہ ام لا،وماء المضمضۃ التی وقعت بعد ذلک الاخراج نجس ام لا ففی صورۃ النجس ان الید التی مضمض بھا اخذ بتلک الید الاناء الذی فیہ الماء وقعت قطرتہا ای قطرۃ تلک الید فی ذلک الاناء غالبالان تلک الید کانت مبلولۃ بماء المضمضۃ لانہ لاشک ان القدر القلیل من ماء المضمضۃ یصل فی الید عند المضمضۃ وایضا یبقی شیئ من ماء المضمضۃ فی الید فلا یدخل کل الماء فی الفم وذلک الباقی یلاقی الشفتین ففی ھذہ ان صارت الشفتان نجستین بورود الدم المساوی للبزاق عند دفع ذلک الدم عن الفم یکون مایلاقیھما ایضا نجسا فتکون الید نجسۃ وما وقع علیہ ماء الید یکون نجسا فیصیر الماء الموضوع فی الاناء الذی اخذہ بتلک الید نجسالان قطرۃ تلک الید وقعت فی الاناء غالباً فذلک المتوضی غسل یدیہ ووجہہ ورجلیہ بذلک الماء الذی وقعت فیہ قطرۃ تلک الید التی مضمض بھا بعد اخراج الدم المساوی للبزاق ثم وقع فی الشک فتوضا ثانیا فی المسجد الاٰخر لکن وقعت قطرۃ فی ماء الا ناء الذی یتوضأ بہ ثم توضأ فی الوقت الاٰخر فوقعت قطرات فی ماء الاناء ثم توضأ فی ماء الاناء عند غسل الیدین وکل قطرات وقعت فی ماء الوضوء انما وقعت فی اول کل مرۃ عند غسل الیدین فی ھذہ الاوقات الثلٰثۃ فبعد ذلک طھرت اعضاء وضوئہ ام لالیکتب فی ھذہ الباقیۃ من الصفحۃ مختصرًا، بینوا توجروا۔

اس کی مدد سے جس نے فرمایا: ''علم والوں سے پوچھو اگر تم نہ جانتے ہو"۔ تو اے ہمارے وہ مخدوم جو شہرت میں آفتابِ چاشت پر فائق ہیں جن کے فضائل تمام اطرافِ زمین کو حاوی ہیں، جن کی عطائیں شہروں کو محیط ہیں، آپ کا کیا ارشاد ہے اُس شخص کے بارے میں وضو کرتا تھاکلی کے بعد لعابِ دہن میں خون کا اثر دیکھا تو باقی لعاب وغیرہ خوب چُوس کر نکالا کہ ظاہر ہو کہ خون تھوک کے برابر ہے یا مغلوب ہے، نکالنے کے بعد معلوم ہوا کہ خون، برابرہے ، تو اس کا منہ ناپاک ہوا یا نہیں؟ اور اس کے بعد جو کلی کی اس کا پانی ناپاک ہے یا نہیں؟ اگر ناپاک ہے تو جس ہاتھ سے کُلی کی غالباً اس کا قطرہ برتن میں ٹپکا، کہ ہاتھ کلی کے پانی سے تر تھا اور شک نہیں کہ کلی کا کچھ پانی ہاتھ میں رہ جاتا ہے جو ناپاک شدہ ہونٹوں سے مل کرناپاک ہوگیا تو برتن کا پانی ناپاک ہوا، اسی سے اس نے تمام وضو کیا، پھر دل میں کچھ شک آیا تو دُوسری مسجد میں وضو کیا مگر یہاں بھی برتن میں قطرہ ٹپک گیا، پھر دوبارہ سہ بارہ ایسا ہی ہوا اور ہر بار وضو سے پہلے ہاتھ دھوتے ہی قطرہ، وضو کے برتن میں گرا تو اب اس کے اعضائے وضو پاک ہوگئے یا نہیں؟ بیان کیجئے اجر لیجئے۔(ت)

ف: مسئلہ منہ سے خون نکلا کلی کی اس کا پانی پاتھ سے ٹپک کر برتن میں گرا اس سے وضو کیا پھر تین وضو اور کیے اور ہر بار ہاتھ کی بوند وضو سے پہلے برتن میں ٹپکی اس میں کیا حکم ہے ۔

الجواب :نعم تنجس فمہ وماء المضمضۃ بعد ذلک الی ثلث نجس وکذلک الیہ التی تمضمض بھا فان قطرت قطرۃ من الید فی الاناء اعنی داخلہ فی الماء قبل تمام الثلث فقد تنجس ماء الاناء والتمضمض بہ بعد ذلک لایزید الفم والیدالا تنجسا ثم اذا توضأ بذلک الماء فقد عمت النجاسۃ اعضاء الوضوء وکل مااصابہ ذلک الماء من بدن اوثوب وکلما توضأ بما ء وقعت فیہ قبل الوضوء قطرۃ من یدہ المتنجسۃ فانہ تنجس والغسل بالنجس لایفید طہرا ولا خفۃ وان غسل الف مرۃ فاعضاؤہ وثیابہ کلہا الی الاٰن علی نجاستھا فانکانت القطرۃ التی قطرت اول مرۃ فی الماء من بقیۃ المضمضۃ الاولی یجب غسل کل مااصابہ ماء شیئ من الوضوءات ثلث مرات وانکانت من المضمضۃ الثانیۃ فمرتین اوالثالثۃ فمرۃ واحدۃ لان النجاسۃ تقبل التشکیک فقبل الغسل نجاسۃ لاتطھرالابتثلیث الغسل وبعد الغسل بمائع طاھر قالع مرۃ نجاسۃ تطھر بغسلتین تعد الغسل مرتین نجاسۃ تطہر بغسلۃ واحدۃ والماء المصیب شیئا نجسا انمایکتسب من النجاسۃ قدر مافی المصاب فماء الغسلۃ الا ولی نجس بالنجاسۃ الکاملۃ لایطھر مایصیبہ الابثلث غسلات وماء الغسلۃ الثانیۃ نجس بنجاسۃ تطھرھا غسلتان،فما یصیبہ یطھر بمرتین وفی ماء الثالثۃ نجاسۃ تطھر بغسلۃ فما اصابہ یطھر بمرۃ ھذا کلہ اذا تحقق وقوع القطرۃ فی الماء ومجرد بقاء شیئ من ماء المضمضۃ فی الید لایقضی بہ جزما لجواز ان لایقع مافیھا الاعلی الاناء من فوق فلا ینجس الاسطحہ الفوقانی اوفی الاناء فوق موضع الماء فلا تنجس الماء مالم یصبہ ر اکد او حنیئذ یطھرہ التوضی الثالث ان مرالماء کل مرۃ علی کل ما اصابہ الماء للمتنجس اذا تحقق وقوع القطرۃ فی الماء اول مرۃ لافی ھذہ المرات الثلث وان لم یتحقق حتی فی المرۃ الاولی فھوطا ھر من اول مرۃ کما لایخفی وقس علیہ واللّٰہ تعالٰی اعلم وعلمہ جل مجدہ اتم واحکم۔

ہاں اس کا منہ ناپاک ہوگیا اور اس کے بعد تین کلیوں تک کلی کا پانی ناپاک ہے، یوں ہی وہ ہاتھ جس سے کلی کی تھی ،تو اگر ہاتھ کی بوند برتن میں یعنی اس کے اندر پانی میں تین کلیاں پوری ہونے سے پہلے ٹپکی تو برتن کا پانی ناپاک ہوگیا۔ اور اب اس سے کلی کرنا ہاتھ اور منہ کی نجاست ہی بڑھائے گا، پھر جب اس پانی سے وضو کیا تو اب تمام اعضائے وضو اور جس جس بدن یا کپڑے کو پانی پہنچا سب ناپاک ہوگئے اور جتنی بار ایسے پانی سے وضو کیا جس میں پیش از وضو ناپاک ہاتھ کی بوند گری وہ پانی ناپاک ہوگیا اور ناپاک پانی سے دھونا تو پاک کرے نہ ناپاکی کم ہو اگرچہ ہزار بار دھوئے تو اس کے اعضاء اور کپڑے سب اب تک نجس ہیں، پس اگر وہ قطرہ کہ پہلی بار پانی میں ٹپکا پہلی کلی کے بقیہ سے تھا جب تو کسی بارے میں وضو کا پانی جس چیز کو لگا اُسے تین بار دھونا واجب ہے، اور اگر دوسری کلی کا تھا تو دوبار، اور تیسری کا تو ایک بار، اس لیے کہ نجاست ف کم وبیش ہونے کی قابلیت رکھتی ہے، دھونے سے پہلے تو وہ نجاست ہے کہ بغیر تین بار دھوئے پاک نہ ہوگی ،اور جب کسی پاک بہتی چیز سے جو لگی ہوئی چیز کو چھڑانے والی ہے ایک بار دھولیں تو اب وہ نجاست ہے کہ دوبار دھونے سے پاک ہوگی ،اور جب دوبار دھولیا تو اب وہ نجاست ہے کہ ایک ہی بار دھونے سے پاک ہوجائیگی اور جو پانی کسی چیز سے ملے اس میں اسی قدر نجاست آئیگی جو اس چیز میں تھی، تو پہلی بار کا دھوون پوری نجاست سے نجس ہے کہ جسے یہ پانی لگے گا وہ بغیر تین دفعہ دھوئے پاک نہ ہوگی ،اور دوسرا دھوون اس نجاست سے نجس ہے جسے دوبارہ دھونا پاک کردے گا، تو جس چیز کو یہ دھوون لگے وہ دو دفعہ دھونے سے پاک ہوجائیگی ،اور تیسرے دھوون میں وہ ناپاکی ہے جو ایک ہی بار دھونے سے پاک ہوجائیگی تو یہ جس چیز پر پہنچے وہ ایک ہی بار دھونے سے طہارت حاصل کرلے گی، یہ سب اس وقت ہے کہ اس پانی میں بوند کا ٹپکنا تحقیق ہو، فقط اتنی بات کہ کلی کا کچھ پانی ہاتھ میں رہ جاتا ہے پانی میں قطرہ گرنے کو مستلزم نہیں، ممکن ہے کہ ہاتھ کی بوند برتن کے اوپر ف گری ہو تو صرف اس کی سطحِ بالا ناپاک ہوگی یا برتن کے اندر جہاں تک پانی ہے اُس جگہ سے اوپر گری ہوتو پانی ناپاک نہ ہوگا جب تک ٹھہرے ہونے کی حالت میں اس بوند کی جگہ سے نہ ملے،ولہذااگرصرف پہلی بار ناپاک بوند کاپانی میں گرنا تحقیق ہوا اور اسکے بعد جو تین وضو اور کیے ان میں خاص پانی میں گرنا تحقیق نہ ہو تو پچھلا وضو اسے ناپاک کر دے گا،اگر تینوں با رآب وضو اس تما م موضع پر گزرا ہو جو اس ناپاک پانی سے نجس ہوا تھا ،اوراگر پہلی ہی باراس بوند کا پانی میں گرنا تحقیق نہ ہو جب تو دوسرے سے پاک ہے کما لا یخفی اوراسی پر اور صورتیں قیاس کر لو۔ واللہ تعالی اعلم ۱۲
ف:مسئلہ نجاست کہ تین پانیوں سے دھوئی جاتی ہے ،پہلا پانی جس چیزکو لگے وہ تین با ر دھونے سے پاک ہوگی اور دوسراپانی لگے تو دوبار، اور تیسرا تو ایک ہی بار دھونے سے پاک ہی ہو جائے گی ۔

ف:مسئلہ ناپاک بوندیں برتن کے اوپر گریں اوراندر پانی ہے یا اندر ہی بوند گری مگر جہاں پانی تھا اس جگہ سے اوپر گری تو پانی ناپاک نہ ہو گا جب تک ٹھہرے ہوئے ہونے کی حالت میں اندرکی بوند پر نہ گزرے ۔

فتاوی رضویہ ،ج۱،ص۶۰،سافٹ ویر 
مفتی :اعلی حضرت امام احمد رضا بریلوی

No comments:

Post a Comment

Join us on

Must click on Like Button

Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...