Sunday, December 20, 2015

نماز کے متعلق چند احادیث (جھنم میں لے جانے والے اعمال )کتاب سے ما خوذ (یہ امام ابن حجر ہیتمی کی کتاب الزواجر کا اردو ترجمہ ہے )جو دعوت اسلامی نے کیا ہے


کتاب الصلٰوۃ
نماز کا بیان
کبيرہ نمبر76:        جان بوجھ کر نماز چھوڑ دينا

    اللہ عزوجل نے جہنميوں کے بارے ميں ارشاد فرمايا:

مَا سَلَکَکُمْ فِیۡ سَقَرَ ﴿42﴾قَالُوۡا لَمْ نَکُ مِنَ الْمُصَلِّیۡنَ ﴿ۙ43﴾وَ لَمْ نَکُ نُطْعِمُ الْمِسْکِیۡنَ ﴿ۙ44﴾وَ کُنَّا نَخُوۡضُ مَعَ الْخَآئِضِیۡنَ ۙ﴿45﴾

ترجمۂ کنز الایمان:تمہيں کيا بات دوزخ ميں لے گئی وہ بولے ہم نماز نہ پڑھتے تھے اور مسکين کو کھانا نہ ديتے تھے اوربيہودہ فکر والوں کے ساتھ بيہودہ فکريں کرتے تھے۔(پ29، المدثر:42تا45)
(1)۔۔۔۔۔۔سیدناامام احمد بن حنبل رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے روایت کیا ہے کہ شہنشاہِ خوش خِصال، پیکرِ حُسن وجمال صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''آدمی اور کفر کے درميان نماز کوچھوڑنے کا فرق ہے۔'' (مسند احمد بن حنبل،الحدیث:۱۵۱۸۵،ج ۵،ص۹۹ ۱)

(2)۔۔۔۔۔۔سیدناامام مسلم رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کی روایت یوں ہے کہ دافِعِ رنج و مَلال، صاحب ِجُودو نوال صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''آدمی اور شرک یا کفر کے درمیان فرق نماز کوچھوڑنا ہے۔''

( صحیح مسلم،کتاب الایمان ،باب بیان اطلاق اسم الکفر۔۔۔۔۔۔الخ، الحدیث:۲۴۶،ص۶۹۲)

(3)۔۔۔۔۔۔سیدناامام ابو داؤد اورسیدنا امام نسائی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہما کی روایت اس طرح ہے کہ رسولِ بے مثال، بی بی آمنہ کے لال صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''آدمی اور کفر کے درمیان نماز چھوڑنے کا فرق ہے۔''

(سنن النساءی،کتاب الصلوٰۃ،باب الحکم فی تارک الصلاۃ،الحدیث:۴۶۵،ص۲۱۱۷)

(4)۔۔۔۔۔۔سیدناامام ترمذی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ نے یوں روایت کیا ہے کہ سیِّدُ المُبلِّغین، رَحْمَۃٌ لّلْعٰلَمِیْن صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے کہ ''کفر اور ايمان کے درميان نماز چھوڑنے کا فرق ہے۔''

(جامع الترمذی ،ابواب الایمان ، باب ماجاء فی تر ک الصلاۃ،الحدیث ۲۶۱۸،ص۱۹۱۶)

(5)۔۔۔۔۔۔سیدناامام ابن ماجہ رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کی روایت یوں ہے کہ خاتَم ُالْمُرْسَلین، رَحْمَۃٌ لّلْعٰلمین صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''بندے اور کفر کے درمیان فرق نماز کوچھوڑنا ہے۔''

( سنن ا بن ماجہ ،ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا ، باب ماجاء فیمن تر ک الصلوٰۃ الحدیث ، ۱۰۷۸ ، ص ۲۵۴۰)
(6)۔۔۔۔۔۔شفیعُ المذنبین، انیسُ الغریبین، سراجُ السالکین صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''ہمارے اور کفار کے درميان پہچان نماز ہے، لہٰذا جس نے نماز کو ترک کيا اس نے کفر کيا۔''

( سنن ابن ماجہ ،ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا،باب ماجاء فیمن ترک الصلوٰۃ الحدیث،۱۰۷۹،ص۲۵۴۰)

(7)۔۔۔۔۔۔مَحبوبِ ربُّ العلمین، جنابِ صادق و امین عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''جس نے جان بوجھ کر نماز ترک کی تو اس نے کھلم کھلا کفر کیا۔''

             ( المعجم الاوسط ،الحدیث ۳۳۴۸ ، ج ۲ ، ص ۲۹۹)

 (8)۔۔۔۔۔۔ رحمتِ کونين، ہم غريبوں کے دل کے چین صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے کہ ''بندے اور کفر یا شرک کے درمیان فرق نمازکو چھوڑنا ہے لہذا جب اس نے نماز چھوڑ دی تو اس نے کفر کیا۔''

 (مسندابی یعلٰی الموصلی،الحدیث ۴۰۸۶،ج۳،ص۳۹۷)

 (9)۔۔۔۔۔۔ تاجدارِ رسالت، شہنشاہِ نُبوت صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''بندے اور شرک کے درمیان سوائے نماز ترک کرنے کے کچھ فرق نہیں لہذا جب اس نے نماز چھوڑ دی تو اس نے شرک کیا۔''

 (سنن ابن ماجہ ،ابواب اقامۃ الصلوات والسنۃ فیھا،باب ماجاء فیمن ترک الصلاۃ الحدیث،۱۰۸۰، ص۲۵۴۰)

 (10)۔۔۔۔۔۔مَخْزنِ جودوسخاوت، پیکرِ عظمت و شرافت صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''اسلام کا تاج اوردين کے قواعد (یعنی بنياديں) تين ہيں جن پر اسلام کی بنياد ہے، جس نے ان ميں سے کسی ايک کو چھوڑا وہ اس کا منکر ہے اور اس کا خون حلال (یعنی قتل جائز)ہے: (۱)اللہ عزوجل کی وحدانيت کی گواہی دینا (۲)فرض نماز اور (۳)رمضان کے روزے۔''

 ( مسند ابی یعلیٰ الموصلی ، الحدیث ۲۳۴۵ ، ج ۲ ، ص ۳۷۸ بدون''ولا یقبل منہ صرف ولا عدل '')

 (11)۔۔۔۔۔۔ مَحبوبِ رَبُّ العزت، محسنِ انسانیت عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''جس نے ان تينوں(یعنی توحید،فرض نماز اور رمضان کے روزے) ميں سے ايک کو چھوڑا وہ اللہ عزوجل کا منکر ہوا اور اس کی فرض عبادت قبول ہو گی نہ نفل، بلکہ اس کا خون اور مال حلال ہو گئے۔''

 (المرجع السابق،الحدیث:۲۳۴۵،ج۲،ص۳۷۸،بدون''ولا یقبل منہ صرف ولا عدل '')

 (12)۔۔۔۔۔۔حضرت سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ تعالیٰ عنہ ارشاد فرماتے ہيں کہ ميرے خليل صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے مجھے سات کاموں کی وصيت کی اور ارشاد فرمايا :''کسی چيز کو اللہ عزوجل کا شريک نہ ٹھہراؤ اگرچہ تمہيں ٹکڑے ٹکڑے کر ديا جائے يامحروم کر ديا جائے يا پھانسی پر لٹکا ديا جائے، جان بوجھ کر نماز نہ چھوڑنا کيونکہ جو جان بوجھ کر نماز چھوڑے گا وہ ملت سے خارج ہو جائے گا، نافرمانيوں پر کمر نہ باندھو کيونکہ يہ اللہ عزوجل کی ناراضگی والے کام ہيں اور شراب نہ پیؤکيونکہ يہ تمام برائیوں کی جڑہے۔''

(13)۔۔۔۔۔۔سیدناامام ترمذی رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ روایت کرتے ہیں :''سرکار مدينہ، راحت قلب و سينہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے صحابہ کرام علیہم الرضوان نماز چھوڑنے کے علاوہ کسی عمل کے چھوڑنے کو کفر نہ سمجھا کرتے تھے۔''

 (جامع التر مذی ،ابواب الایمان ، باب ماجاء فی ترک الصلاۃ،الحدیث:۲۶۲۲، ص ۱۹۱۶)

 (14)۔۔۔۔۔۔شہنشاہِ مدینہ،قرارِ قلب و سینہ صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''بندے اور کفر وایمان کے درمیان فرق نماز ہے، لہذا جس نے اس کو چھوڑا اس نے شرک کیا۔''

 ( جامع الترمذی ،ابواب الایمان ، باب ماجاء فی ترک الصلاۃ ، الحدیث:۲۶۲۰ ،۱۸ ۲۶،ص۱۹۱۶،بدون''من ترکہافقد أشرک'')

 (15)۔۔۔۔۔۔صاحبِ معطر پسینہ، باعثِ نُزولِ سکینہ، فیض گنجینہ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا :''جس کی نماز نہيں اس کا اسلام ميں کوئی حصہ نہيں اور جس کا وضو نہيں اس کی نماز نہيں۔''

 ( کنزالعمال،کتاب الصلاۃ ، التر ھیب عن ترک الصلاۃ،الحدیث:۱۹۰۹۴،ج۷ ، ص۱۳۳)

 (16)۔۔۔۔۔۔نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''جس کی امانت نہيں اس کا کوئی ايمان نہيں، جس کی طہارت نہيں اس کی کوئی نماز نہيں اور جس کی نماز نہيں اس کا کوئی دين نہيں کيونکہ نماز کا دين ميں وہی مقام ہے جو سر کا جسم ميں ہے۔''

               ( المعجم الاوسط ، الحدیث ۲۲۹۲، ج۱ ، ص ۶۲۶)

 (17)۔۔۔۔۔۔حضرت سیدنا ابو درداء رضی اللہ تعالیٰ عنہ ارشاد فرماتے ہيں:''ميرے خليل صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے مجھے وصيت فرمائی کہ ''کسی کو اللہ عزوجل کا شريک نہ ٹھہرانا اگرچہ تمہيں ٹکڑے ٹکڑے کر ديا جائے يا جلا ديا جائے، فرض نماز جان بوجھ کر نہ چھوڑنا کيونکہ جو جان بوجھ کر نماز چھوڑ ديتا ہے اس سے امان اٹھا لی جاتی ہے اور شراب ہرگز نہ پينا کيونکہ يہ ہر برائی کی جڑ ہے۔''

 ( سنن ابن ماجہ ،ابواب الاشربۃ ، با ب الخمر مفتا ح کل شر، الحدیث ۴۰۳۴، ص۲۷۲۰)

 (18)۔۔۔۔۔۔حضرت سیدنا ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما ارشاد فرماتے ہيں کہ جب ميری آنکھوں کی سياہی باقی رہنے کے باوجود ميری بينائی جاتی رہی تو مجھ سے کہا گيا :''ہم آپ کا علاج کرتے ہيں کيا آپ کچھ دن نماز چھوڑ سکتے ہيں؟'' تو ميں نے کہا :''نہيں، کیونکہ دوجہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَرصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے:''جس نے نماز چھوڑی تو وہ اللہ عزوجل سے اس حال میں ملے گا کہ وہ اس پر غضب فرمائے گا۔''

 ( مجمع الزوائد،کتاب الصلاۃ،باب فی تارک الصلاۃ،الحدیث:۱۶۳۲،ج ۲،ص ۲۶)

 (19)۔۔۔۔۔۔ايک شخص نے سرکارِ والا تَبار، ہم بے کسوں کے مددگارصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کی بارگاہ ميں حاضر ہوکر عرض کی''يارسول اللہ عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم! مجھے کوئی ايسا عمل بتائیے جسے ميں کروں تو جنت ميں داخل ہو جاؤں۔'' تو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا :''کسی کو اللہ عزوجل کا شريک نہ ٹھہراؤ اگرچہ تمہيں عذاب ديا جائے يا جلا ديا جائے، اپنے والدين کی اطاعت

کرو اگرچہ وہ تمہيں مال اور تمہاری ہر چيز سے محروم کر ديں اور جان بوجھ کر نماز نہ چھوڑو کيونکہ جو جان بوجھ کرنماز چھوڑتا ہے وہ اللہ عزوجل کے ذمۂ کرم سے بری ہو جاتا ہے۔''

         ( المعجم الاوسط ، الحدیث ۷۹۵۶ ، ج ۶، ص ۴۹)

 (20)۔۔۔۔۔۔شفیعِ روزِ شُمار، دو عالَم کے مالک و مختارباِذنِ پروردْگار عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا''اللہ عزوجل کے ساتھ کسی کو شريک نہ ٹھہراؤ اگرچہ تمہيں قتل کر ديا اور جلا ديا جائے، اپنے والدين کی نافرمانی ہرگز نہ کرو اگرچہ وہ تمہيں تمہارے مال اور گھر والوں (یعنی اہل وعيال ) سے دور ہو جانے کا حکم ديں، جان بوجھ کر فرض نماز ہرگز نہ چھوڑو کيونکہ جو شخص جان بوجھ کر فرض نمازچھوڑتا ہے اللہ عزوجل کا ذمۂ کرم اس سے اُٹھ جاتا ہے، شراب ہرگز نہ پےؤ کيونکہ شراب نوشی تمام بدکاريوں کی جڑ ہے، گناہ سے بچتے رہو کيونکہ گناہ اللہ عزوجل کی ناراضگی کو حلال کرتا ہے(يعنی اس کا سبب بنتا ہے )، ميدان جہاد سے بھاگنے سے بچو اگرچہ لوگ ہلاک ہو جائيں اگرچہ لوگوں کو موت آگھيرے مگر تم ثابت قدم رہو، اپنی طاقت کے مطابق اپنے گھر والوں پر خرچ کرو، ادب سکھانے کے لئے ان سے اپنی لاٹھی دور نہ کرو اور اللہ عزوجل کے معاملے ميں انہيں خوف دلاتے رہو۔''

 (مجمع الزوائد ،کتاب الوصایا ، باب وصیۃ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ و سلَّم ، الحدیث ۷۱۱۰، ج۴ ، ص ۳۹۱)

 (21)۔۔۔۔۔۔حسنِ اخلاق کے پیکر،نبیوں کے تاجور، مَحبوبِ رَبِّ اکبر عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا :''بادل والے دن نماز جلدی ادا کر لیا کرو کیونکہ جس نے نماز ترک کر دی اس نے کفر کیا۔''

 (صحیح ابن حبان ،کتاب الصلاۃ ، باب الوعید علی ترک الصلاۃ ، الحدیث ۱۴۶۱ ، ج۳ ، ص ۱۳)

 (22)۔۔۔۔۔۔حضرت سیدتنا اُمیمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی ہے کہ میں سرکار ابد قرار، شافع روز شمار صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کو وضو کرانے کے لئے پانی ڈال رہی تھی کہ ایک شخص آیا اور عرض کی :''مجھے کچھ وصیت کریں۔'' تو آپ صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا :''اللہ عزوجل کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ اگرچہ تمہیں ٹکڑے ٹکڑے کر دیا جائے اور جلا دیا جائے، اپنے والدین کی نافرمانی نہ کرو اگر وہ تمہیں اپنے اہل یعنی بیوی اور دنیوی مال ومتاع سے جدا ہونے کا حکم دیں تو سب کچھ چھوڑ دو، شراب ہر گز نہ پیؤ کیونکہ یہ ہر برائی کی جڑ ہے اور جان بوجھ کر ہر گز کوئی نماز ترک نہ کرو کہ جس نے ایسا کیا تو اس سے اللہ عزوجل اور اس کے رسول صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا ذمہ ختم ہو جائے گا۔''

     ( المعجم الکبیر ، الحدیث ۴۷۹ ، ج ۲۴ ،ص ۱۹۰)

 (23)۔۔۔۔۔۔شاہ ابرار، ہم غريبوں کے غمخوار صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''جو جان بوجھ کر نماز چھوڑے گا اللہ عزوجل اس کا نام جہنم کے دروازے پر لکھ دے گا جس سے وہ داخل ہو گا۔''

 ( کنز العمال ،کتاب الصلاۃ ، التر ھیب عن ترک الصلاۃ ،ا لحدیث ۱۹۰۸۶، ج۷، ص ۱۳۲)

 (24)۔۔۔۔۔۔رسول انور، صاحب کوثر صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے:''جس نے نماز چھوڑی اس نے اپنے اہل وعیال

اور مال کو گھٹا ديا۔''

 ( کنز العمال ،کتاب الصلاۃ ، التر ھیب عن ترک الصلاۃ ، الحدیث ۱۹۰۸۵ ، ج۷، ص ۱۳۲ )

 (25)۔۔۔۔۔۔حسنِ اخلاق کے پیکر،نبیوں کے تاجور، مَحبوبِ رَبِّ اکبر عزوجل وصلَّی ا للہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''اے گروہ قریش! خدا کی قسم! تم ضرور نماز قائم کرو گے اور زکوٰۃ ادا کرو گے يا پھر ميں تم پر ايسے شخص کو بھيجوں گا جو دين کی خاطر تمہاری گردنيں مارے گا۔''

 ( المستدرک ،کتاب الایمان والنذور ، باب من قال انا بر ی من الاسلام فھو کما قال ، الحدیث ۷۸۸۹، ج۵ ، ص ۴۲۵)

 (26)۔۔۔۔۔۔نبی مُکَرَّم،نُورِ مُجسَّم صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ مُعظَّم ہے :'' اسلام میں اس کا کوئی حصہ نہیں جس کی نماز نہیں اور اس کی کوئی نماز نہیں جس کا وضو نہیں۔''

(التر غیب والتر ھیب،کتاب الصلاۃ،الترھیب من ترک الصلاۃ،الحدیث ۸۱۶،ج۱،ص ۲۵۸)

 (27)۔۔۔۔۔۔رسولِ اکرم، شہنشاہ ِبنی آدم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ و سلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے کہ:'' اللہ عزوجل نے اسلام ميں چارچيزوں کوفرض فرمايا ہے، لہٰذا جو ان ميں سے تين پر عمل کریگا وہ اس کے کسی کام نہ آئيں گی جب تک کہ ان سب پر عمل نہ کرے اور وہ نماز، زکوٰۃ،رمضان کے روزے اور بيت اللہ شریف کا حج ہيں۔''  ( المسند للامام احمد بن حنبل ، الحدیث ۱۷۸۰۴ ، ج۶، ص ۲۳۶)

 (28)۔۔۔۔۔۔حضور نبئ پاک ، صاحبِ لَولاک، سیّاحِ افلاک صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''جس نے جان بوجھ کر نماز چھوڑدی اللہ عزوجل اس کے عمل برباد کر دے گا اور اللہ عزوجل کا ذمہ اس سے اٹھ جائے گا جب تک کہ وہ توبہ کے ذريعے اللہ عزوجل کی بارگاہ ميں رجوع نہ کرے۔''

         (المعجم الکبیر ،الحدیث ۲۳۳،ج۲۰،ص۱۱۷،مختصرًا)

 (29)۔۔۔۔۔۔اللہ کے مَحبوب، دانائے غُیوب ، مُنَزَّہٌ عَنِ الْعُیوب عزوجل وصلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا :''جس نے نماز ترک کی اس نے اعلانيہ کفر کيا۔''

         ( المعجم الاوسط ، الحدیث:،۳۳۴۸ ،ج۲،ص ۲۹۹)

 (30)۔۔۔۔۔۔شہنشاہِ خوش خِصال، پیکرِ حُسن وجمال صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''جان بوجھ کر نماز نہ چھوڑوکيونکہ جس نے جان بوجھ کر نماز چھوڑی اللہ عزوجل اور اس کے رسول صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا ذمہ اس سے اٹھ جائے گا۔''

 (المعجم الکبیر،الحدیث:۱۳۰۲۳،ج۱۲،ص۱۹۶بدن''لاتترک الصلوٰۃمتعمدًا'')

 (31)۔۔۔۔۔۔حضرت سيدناعلی کَرَّمَ اللہُ تَعَالیٰ وَجْہَہُ الْکَرِیْم سے مروی ہے :''جس نے نماز نہ پڑھی وہ کافر ہے۔''  ( کنزالعمال،کتاب الصلوۃ ،الباب الاول فی فضلھا ووجوبھا ، الحدیث ۲۱۶۴۹ ،ج۸، ص ۸)

 (32)۔۔۔۔۔۔حضرت سيدنا ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے مروی ہے :''جس نے نماز چھوڑدی اس نے کفر کيا۔''  ( مجمع الزوائد،کتاب الصلاۃ،باب فی تارک الصلوۃ ، الحدیث ۱۶۳۸،ج۲ ، ص۲۷ )

(33)۔۔۔۔۔۔حضرت سيدنا ابن مسعودرضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے :''جس نے نماز چھوڑی اس کا کوئی دين نہيں۔''

 ( الترغیب والترھیب ،کتاب الصلاۃ ، الترھیب من ترک الصلاۃ تعمد ا ۔۔۔۔۔۔الخ ،الحدیث۲ ۸۳ ، ج ۱ ، ص ۲۶۱ )

 (34)۔۔۔۔۔۔حضرت سيدنا جابررضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے :''جو نماز نہ پڑھے وہ کافر ہے۔''

 ( کنزالعمال ،کتاب الصلوۃ ، الباب الاول فی فضلھا ووجوبھا ، الحدیث ۲۱۶۴۹ ، ج ۸ ، ص۸)

 (35)۔۔۔۔۔۔حضرت سيدناابودرداء رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے :''جو نماز نہ پڑھے اس کا کوئی ايمان نہيں اور جو وضو نہ کرے اس کی کوئی نماز نہيں۔''

     (کنزالعمال، کتاب الصلوۃ ،ا لباب الاول فی فضلھا ووجوبھا ،الحدیث ۲۱۶۴۲ ، ج۸ ، ص ۷)

 (36)۔۔۔۔۔۔دافِعِ رنج و مَلال، صاحب ِجُودو نوال صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے :''جس نے نماز چھوڑی اس نے کفر کيا۔''

         ( صحیح ابن حبان،کتاب الصلاۃ ، باب الوعید علی تر ک الصلاۃ ، الحدیث ۱۴۶۱ ، ج ۳، ص۱۳)

 (37)۔۔۔۔۔۔حضرت سیدنا محمد بن نصر ارشاد رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہيں کہ ميں نے حضرت سیدنا اسحاق رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ رسولِ بے مثال، بی بی آمنہ کے لال صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم سے صحيح سند کے ساتھ يہ بات مروی ہے :''تارکِ نماز کافر ہے۔''

 ( الترغیب والترھیب ،کتاب الصلاۃ ، الترھیب من ترک الصلاۃ تعمد ا ۔۔۔۔۔۔الخ الحدیث ۸۳۴ ، ج ۱ ، ص ۲۶۱)

    خاتَمُ الْمُرْسَلین، رَحْمَۃٌ لّلْعٰلمین صلَّی  اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم کے عہد مبارک ميں اہلِ علم کی يہی رائے تھی کہ بغير عذر کے جان بوجھ کر نماز کو اتنا مؤخر کرنے والا کہ نماز کا وقت ہی چلا جائے کافر ہے۔حضرت سیدنا ايوب رحمۃاللہ تعالیٰ علیہ ارشاد فرماتے ہيں کہ ''نماز تر ک کرنا ايسا کفر ہے جس ميں کسی کا اختلاف نہيں۔''۱؎

۱؎ :''بہار شریعت'' میں ہے: ''نماز کی فرضيت کا منکر کافر اورجو قصداً چھوڑے اگرچہ ايک ہی وقت کی وہ فاسق ہے اور جو نماز نہ پڑھتا ہو قيد کيا جائے يہاں تک کہ نمازپڑھنے لگے۔''( بہار شريعت،ج۱،حصہ۳،ص۹)


No comments:

Post a Comment

Join us on

Must click on Like Button

Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...