Saturday, December 5, 2015

فتوی:کس کس حال میں خون ناقض وضو نہیں ہے؟؟ جواب از امام احمد رضا خان بریلوی

رســـالـــــــہ

الطراز المعلم فیما ھو حدث من احوال الدم

(نشان زدہ نقش اس بیان میں کہ خون کس حال میں ناقضِ وضو ہے )

بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم ط

مسئلہ ۸ ف   دوم ذی القعدۃ الحرام ۱۳۲۴ھ :کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اگر خون چھنکا اور باہر نہ آیا تو وضو جائیگا یا نہیں، اور اگر کپڑا اُس خون پر بار بار مختلف جگہ سے لگ کر آلودہ ہوا کہ قدر درم سے زائد ہوگیا تو ناپاک ہوگا یا نہیں اور اگر خارش وغیرہ کے دانوں پر جو چپک پیدا ہوتی ہے اُس سے کپڑا اُسی طرح بھرا تو کیا حکم ہے؟ بینوا توجروا۔( بیان فرمائیے اجر پائیے ، ت)

 (ف:مسئلہ خون چھنکنے،اُبھرنے،بہنے کے فرق واحکام)

الجواب
بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم
الحمد للّٰہ وحدہ شھد بھا لحمی ودمی والصلاۃ والسلام علی الطیب الطاھر النبی الامی واٰلہ وصحبہ وسائر حزبہ ومن فی سبیلہ اَدمٰی اودمی۔

تمام تعریف خدائے یکتا کے لئے ہے میرے گوشت و خون نے اس کی شہادت دی اور درود و سلام ہو طیّب و طاہر نبی اُمّی پر اور ان کی آل ، ان کے اصحاب ، ساری جماعت اور ہر اس شخص پر جس نے ان کی راہ میں خون بہایا یا خود اس کا خون بہا ۔ (ت)

یہاں تین صورتیں ۳ ہیں:

اوّل: چھنکنا یعنی خون و ریم وغیرہ نے اپنی جگہ سے اصلاً تجاوز نہ کیا بلکہ اُس پر جو کھال کا پردہ تھا وہ ہٹ گیا، جس کے سبب وہ شے اپنی جگہ نظر آنے لگی پھر اگر وہ کسی چیز ف۱سے مس ہوکر اس میں لگ آئی مثلاً خون چھنکا اُسے انگلی سے چھُوا انگلی پر اس کا داغ آگیا یا خلال کیا یا مسواک کی یا انگلی سے دانت مانجے یادانت سے کوئی چیز کاٹی ان اشیاء پر خون کی رنگت محسوس ہوئی یا ناک انگلی سے صاف کی اُس پر سُرخی لگ آئی اور ان سب صورتوں میں اُس ملنے والی شے پر اثر آجانے سے زیادہ خود اُس خون کو حرکت نہ ہوئی تو یہ بھی جگہ سے تجاوز نہ کرنا نہ ٹھہرے گا کہ اُس میں آپ تجاوز کی صلاحیت نہ تھی اور اسی حکم ف۲میں داخل ہے یہ کہ دانہ آبلہ بدن کی سطح سے اُبھار رکھتا ہو۔ خون وریم اس کے باطن سے تجاوز کر کے اس کے منہ پر رہ جائے منہ سے اصلاً تجاوز نہ کرے کہ وہ جب تک دانوں یا آبلوں کے دائرے میں ہیں اپنی ہی جگہ پر گنے جائیں گے اگرچہ آبلے کے جرم میں حرکت کریں یہ صورت بالاجماع ناقضِ وضو نہیں ،نہ اس خون وریم کیلئے حکمِ ناپاکی ہے کہ مذہب صحیح ومعتمد میں جو حدث نہیں وہ نجس بھی نہیں، ولہٰذا اگر خارش ف۳کے دانوں پر کپڑا مختلف جگہ سے بار بار لگا اور دانوں کے منہ پر جو چیک پیدا ہوتی ہے جس میں خود باہر آنے اور بہنے کی قوت نہیں ہوتی اگر دیر گزرے تو وہ وہاں کی وہیں رہے گی اُس چپک سے سارا کپڑا بھر گیا ناپاک نہ ہوگا
ف۱:مسائل خون چھنکا انگلی سے چھوا اس پر داغ آگیا یاخلال یامسواک یادانت مانجھتے وقت انگلی میں لگ آیا یا کوئی چیز دانت سے کاٹی اس پر خون کااثر پایا یاناک انگلی سے صاف کی اس پر سرخی آگئی مگر وہ خون آپ جگہ سے ہٹنے کے قابل نہ تھا وضو نہ جائے گا اور وہ خون بھی پاک ہے۔

ف۲: مسئلہ خون یا ریم آبلے کے اندر سے بہہ کر آبلے کے منہ تک آکر رہ جائے تو وضو نہ جائے گا۔
ف۳:خارش وغیرہ کے دانوں پر خالی چپک ہے کپڑا اس سے بار بار لگ کر بہت جگہ میں بھر گیا ناپاک نہ ہوا نہ وضو گیا۔

یہی حالت ف۱خو ن کی ہے جبکہ اُس میں قوتِ سیلان نہ ہو یعنی ظنِ غالب سے معلوم ہوا کہ اگر کپڑا نہ لگتا اور اُس کا راستہ کھُلا رہتا جب بھی وہ باہر نہ آتا اپنی جگہ ہی پر رہتا ہاں اگرحالت یہ ہوف ۲ کہ خون بہنا چاہتا ہے اور کپڑا لگ لگ کر اُسے اپنے میں لے لیتا ہے تجاوز نہیں کرنے دیتا یہاں تک کہ جتنا خون قاصدِ سیلان تھا وہ اس کپڑے ہی میں لگ لگ کرپچھ گیا اور بہنے نہ پایا تو ضرور وضو جاتا رہے گا اور قدر درم سے زائد ہوا تو کپڑا بھی ناپاک ہوجائیگا کہ یہ صورت واقع میں بہنے کی تھی کپڑے کے لگنے نے اُسے ظاہر نہ ہونے دیا۔

ف۱:مسئلہ یہی حکم چھنکے ہوئے خون کا ہے کہ نہ اس سے کپڑا نجس ہو نہ وضو ساقط ۔
ف۲:مسئلہ خون یا ریم بہنے کے قابل ہو مگر کپڑے میں لگ لگ کر بہنے نہ پائے وضو جاتارہے گا اور درم بھر سے زائد ہو توکپڑا بھی نجس ہو جائے گا ۔

دوم: ابھرنا ف ۳ کہ خون و ریم اپنی جگہ سے بڑھ کر جسم کی سطح یا دانے کے منہ سے اوپر ایک ببولے کی صورت ہو کر رہ گیا کہ اس کا جرم سطح جسم وآبلہ سے اُوپر ہے مگر نہ وہاں سے ڈھلکا نہ ڈھلکنے کی قوت رکھتا تھا جیسے سُوئی چبھونے میں ہوتا ہے کہ خون کی خفیف بوند نکلی اور نقطے یا دانے کی شکل پر ہو کر رہ گئی آگے نہ ڈھلکی اور اسی قسم کی اور صُورتیں، ان میں بھی ہمارے علماء کے مذہب اصح میں وضو نہیں جاتا ،یہی صحیح ہے اور اسی پر فتوٰی اور اسی حکم ف ۴ میں داخل ہے یہ کہ خون یا ریم اُبھرا اور فی الحال اس میں قوتِ سیلان نہیں اُسے کپڑے سے پونچھ ڈالا دوسرے جلسے میں پھر اُبھرا اور صاف کردیا یوں ہی مختلف جلسوں میں اتنا نکلا کہ اگر ایک بار آتا ضرور بہہ جاتا تو اب بھی نہ وضو جائے نہ کپڑا ناپاک ہو کہ ہر بار اُتنا نکلا ہے جس میں بہنے کی قوت نہ تھی۔ ہاں جلسہ واحدہ میں ایسا ہوا تو وضو جاتا رہے گا کہ مجلس واحد کا نکلا ہوا گویا ایک بار کا نکلا ہوا ہے۔ یوں ہی اگر خون ف ۵ اُبھرا اور اُس پر مٹی وغیرہ ڈال دی پھر اُبھرا پھر ڈالی اسی طرح کیا تو وضو نہ ر ہے گا ۔ جب کہ ایک جلسے میں بقدر سیلان جمع ہوجاتا کہ یہ بہنے ہی کی صورت ہے اگرچہ عارض کے سبب صرف اُبھرنا ظاہر ہوا اور ایک جلسے ف۱ میں اتنا ہوتا یا نہ ہوتا اس کا مدار ٹھیک اندازے اور غلبہ ظن پر ہے۔

ف۳:مسئلہ سوئی چبھ کر خواہ کسی طرح خون کی بوند اُبھری اور ببولا سا ہوکررہ گئی ڈھلکی نہیں تو فتوی اس پر ہے کہ وہ پاک ہے وضو نہ جائے گا۔
ف۴:خون یا ریم اُبھرا اور ڈھلکنے کے قابل نہ تھا اُسے کپڑے سے پونچھ لیا ،دیر دیر کے بعد باربار ایسا ہی ہوا وضو نہ جائے گا اور کپڑا پاک رہا،ہاں اگر ایک ہی جلسے میں بار بار اُبھرا اور پونچھ لیا اور چھوڑ دیتے تو سب مل کر ڈھلک جاتا تو وضو نہ رہا اور وہ ناپاک ہے۔
ف۵:خون ابھرا اس پر مٹی ڈال دی پھر ابھرا پھر ڈالی وضو نہ رہا جبکہ ایک جلسے میں اتنا اُبھرا کہ مل کر بہہ جاتا۔
ف۱:مسئلہ ایک جلسے میں متفرق طور پر جتنا خون اُبھرا یہ جمع ہوکر بہہ جاتا یانہیں اس کا مدار اندازے پر ہے۔

سوم : بہنا کہ اُبھر کر ڈھلک بھی جائے یا کسی مانع کے باعث نہ ڈھلکے تو فی نفسہٖ اتنا ہو کہ مانع نہ ہوتا تو ڈھلک جاتا جس کی صُورتیں اُوپر گزریں یہ شکل ہمارے ائمہ کے اجماع سے ناقضِ وضو ہے اور کپڑا قدر درم سے زائد بھرے تو ناپاک۔ ہاں وہ بہنا کہ صرف باطنِ بدن میں ہو ناقض نہیں کہ باطن انسان میں تو خون ہر وقت دورہ کرتاہے آنکھوں کے ڈھیلے بھی شرعاً باطنِ بدن میں داخل ہیں۔ ولہٰذا وضو وغسل کسی میں یہاں تک کہ حقیقی نجاست ف ۲سے بھی اُن کے دھونے کا حکم نہ ہوا تو اگر آنکھ کے ف ۳ بالائی حصّے میں کوئی دانہ پھوٹا اور خون وریم اُس کے زیریں حصّے تک بہہ کر آیا مگر آنکھ سے باہر نہ ہوا وضو نہ جائیگا اور حسبِ قاعدہ معلومہ جب وہ حدث نہیں تو نجس بھی نہیں۔ پس اگر کپڑے سے اُسے پُونچھ لیا اور وہ کپڑا پانی میں گرا پانی ناپاک نہ ہوگا اور ناک کے ف ۴ سخت بانسے میں اختلاف ہے کہ اگر خون دماغ سے اتر کر اُس میں بہا اور نرم بانسے تک نہ پہنچا تو ناقض وضو ہوگا یا نہیں۔ مشہور تر یہ ہے کہ وضو نہ جائے گا کہ ناک کا سخت حصہ بھی اندر سے یقینا باطنِ بدن میں داخل ہے ولہٰذا وضو وغسل کسی میں اُس کا دھونا واجب نہیں، اور انسب یہ ہے کہ وضو کرلے کہ اس موضع کا دھونا اگرچہ واجب نہیں وضو وغسل دونوں میں سنّت تو ہے۔

ف۱: مسئلہ ایک جلسے میں متفرق طور پر جتنا خون ابھرا یہ جمع ہو کر بہہ جاتا یا نہیں اس کا مدار اندازے پر ہے ۔
ف۲:مسئلہ ناپاک سر مہ لگایا اور کوئی نجاست آنکھ کے ڈھیلے کو پہنچی اس کا دھونا معاف ہے ۔
ف۳: مسئلہ خون یاپیپ آنکھ میں بہا مگر آنکھ سے باہر نہ گیا تو وضو نہ جائے گا اسے کپڑے سے پونچھ کر پانی میں ڈال دیں توناپاک نہ ہوگا ۔
ف۴:مسئلہ ناک کے سخت بانسے میں خون بہا اور نرم حصے میں نہ آیا تو مشہور تر یہ ہے کہ وضو نہ جائے گا ۔

فتح القدیر میں ہے: الخروج فی غیر السبیلین ھو تجاوز النجاسۃ الٰی موضع التطھیر فلو خرج من جرح فی العین دم فسال الی الجانب الاخر منھا لاینقض لانہ لایلحقہ حکم ھو وجوب التطھیر اوندبہ بخلاف مالو نزل من الراس الی مالان من الانف لانہ یجب غسلہ فی الجنابۃ ومن النجاسۃ فینقض۔

غیر سبیلین میں خروج یہ ہے کہ نجاست تطہیر کی جگہ تک تجاوز کر جائے تو اگر آنکھ کے اندر کوئی زخم ہے جس سے خون نکل کر آنکھ ہی میں دوسری جانب کو بہہ گیا تو وہ ناقضِ وضو نہیں اس لئے کہ اسے تطہیر کے وجوب یا استحباب کا کوئی حکم لاحق نہیں ہوتا بخلاف اس کے جو سر سے اتر کر ناک کے نرم بانسے تک آ گیا ہو اس لئے کہ غسل جنابت میں اور نجاست لگنے سے اس حصہ کو دھونا واجب ہوتا ہے تو وہ خون ناقضِ وضو ہو گا۔

ولو ف ربط الجرح فنفذت البلۃ الی طاق لاالٰی الخارج نقض ویجب ان یکون معناہ اذا کان بحیث لولا الربط سال لان القمیص لوتردد علی الجرح فابتل لاینجس مالم یکن کذلک لانہ لیس بحدث ولو اخذہ من راس الجرح قبل ان یسیل مرۃ فمرۃ ان کان بحال لوترکہ سال نقض والا لاوفی المحیط حدالسیلان ان یعلم وینحدر عن ابی یوسف وعن محمداذا انتفخ علی راس الجرح وسار اکبر من راسہ نقض والصحیح لاینقض وفی الدرایۃ جعل قول محمد اصح ومختار السرخسی الاول وھو اولی وفی مبسوط شیخ الاسلام تورم راس الجرح فظھربہ قیح ونحوہ لاینقض مالم یجاوزا لورم لانہ لایحب غسل موضع الورم فلم یتجاوز الی موضع یلحقہ حکم التطھیر ۱؎۔

اور اگر زخم پر پٹی باندھ دی تو تری پٹی کی تہہ تک نفوذ کر آئی باہر نہ نکلی تو بھی وضو جاتا رہا ضروری ہے کہ اس کا معنی یہ ہو کہ ایسی صورت رہی ہو کہ اگر بندش نہ ہوتی تو خون بہہ جاتا اس لئے کہ کُرتا اگر زخم پر بار بار لگ کر تر ہو گیا تو نجس نہ ہو گا جب تک بہنے کے قابل نہ رہا ہو کیونکہ وہ حدث نہیں اور اگر بہنے سے پہلے اسے سر زخم سے بار بار لے لیا ، اگر ایسی حالت رہی ہو کہ چھوڑ دیتا تو بہہ جاتا تو وضو ٹوٹ گیا ورنہ نہیں اور محیط میں ہے کہ امام ابو یوسف سے مروی ہے کہ بہنے کی تعریف یہ ہے کہ اوپر جا کر نیچے ڈھلکے اور امام محمد سے روایت ہے کہ جب سرِ زخم پر پھول جائے اور سر زخم سے بڑا ہوجائے تووضو جاتا رہے گا اور صحیح یہ ہے کہ نہ جائے گا ، درایہ میں امام محمد کا قول اصح قرار دیا اور سرخسی کا مختار اول ہے اور وہی اولٰی ہے ، مبسوط شیخ الاسلام میں ہے : سرِ زخم ورم کر آیا اور اس میں پیپ وغیرہ نمودار ہوا تو وضو نہ ٹوٹے گا جب تک ورم سے تجاوز نہ کر جائے اس لئے کہ جائے ورم کو دھونا واجب نہیں ہوتا تو ایسی جگہ تجاوز نہ ہو اجسے تطہیر کا حکم لاحق ہوتا ہے ۔(ت)

ف:مسئلہ زخم پر پٹی بندھی ہے ا س میں خون وغیرہ لگ گیا اگر اس قابل تھا کہ بندش نہ ہوتی تو بہ جاتا تو وضو گیا ورنہ نہیں ،نہ پٹی ناپاک ۔

 (۱؎فتح القدیر کتاب الطہارۃ فصل فی نواقض الوضوء    مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر۱ /۳۴ )

درمختار میں ہے: لایجب غسل مافیہ حرج کعین وان اکتحل بکحل نجس ۲؎۔ جس میں حرج ہے اسے دھونا واجب نہیں ہے جیسے آنکھ ، اگرچہ اس میں نجس سرمہ لگا لیا ہو ۔(ت)

 (۲؎الدرالمختار ،کتاب الطہارۃ،مطبع مجتبائی دہلی     ۱ /۲۸)

اُسی میں ہے: المراد بالخروج من السبیلین مجرد الظھور وفی غیرھما عین السیلان ولوبا لقوۃ لما قالوا لومسح الدم کلما خرج ولو ترکہ لسال نقض والا لاکما لو سال فی باطن عین او جرح او ذکر ولم یخرج ف ۳؎۔ سبیلین سے نکلنے سے مراد محض ظاہر ہونا ہے اور غیر سبیلین میں خود بہنا اگرچہ بالقوۃ ہو اس لئے کہ علماء نے فرمایا ہے جب بھی خون نکلا پونچھ دیا اگر ایسا ہو کہ چھوڑ دیتا تو بہہ جاتا تو وہ ناقض ہے ورنہ نہیں جیسے اس صورت میں جب کہ آنکھ یا زخم یا ذکر کے اندر بہے اور باہر نہ آئے (ت)

ف مسئلہ: قطرہ اترآ یا خون وغیرہ ذکر کے اندر بہا جب تک اس کے سوراخ سے باہر نہ آئے وضونہ جائے گا اورپیشاب کا صرف سوراخ کے منہ پر چمکنا کافی ہے۔

(۳؎الدرالمختار     کتاب الطہارۃ     مطبع مجتبائی دہلی     ۱ /۲۵)

ردالمحتار میں ہے: اذا وضع علیہ قطنۃ اوشیئا اٰخر حتی ینشف ثم وضعہ ثانیا وثالثا فانہ یجمع جمیع مانشف فان کان بحیث لو ترکہ سال نقض وانما یعرف ھذا بالاجتھاد وغالب الظن وکذا لو القی علیہ رمادا اوترابا ثم ظھر ثانیا فتربہ ثم وثم فانہ یجمع قالوا وانما یجمع اذا کان فی مجلس واحد مرۃ بعد اخری فلو فی مجالس فلا تاترخانیۃ ومثلہ فی البحر اقول وعلیہ فما یخرج من الجرح الذی ینزّ  دائما ولیس فیہ قوۃ السیلان ولکنہ اذا ترک یتقوی باجتماعہ ویسیل عن محلہ فاذ انشفہ او ربطہ بخرقۃ وصار کلما خرج منہ شیئ تشربتہ الخرقۃ ینظران کان ماتشربتہ الخرقۃ فی ذلک المجلس شیئا فشیئا بحیث لوترک واجتمع لسال بنفسہ نقض والا لاولا یجمع ما فی مجلس الی مجلس اٰخر ۱؎۔

زخم پر روئی یا اور کوئی چیز رکھ دی تاکہ خون جذب کرے پھر دوسری ، تیسری بار بھی رکھی تو جتنا جذب ہوا ہے سب جمع کیا جائے گا اگر یہ صورت ہو کہ چھوڑ دیتا تو بہہ جاتا تو وہ ناقضِ وضو ہے ۔ اس کی معرفت اجتہاد اور غالب ظن سے ہوتی ہے یوں ہی اگر اس پر راکھ یا مٹی ڈال دی پھر دوسری بار ظاہر ہوا تو اس پر بھی مٹی ڈال دی ایسا ہی متعدد بار ہوا تو وہ سب جمع کیا جائے گا ---- علماء نے فرمایا : جمع اسی وقت کیا جائے گا جب ایک مجلس میں بار بار ایسا ہوا ہو۔ اگر چند مجلسوں میں ہوا تو جمع نہ کیا جائے گا ، تاتارخانیہ اوراسی کے مثل بحر میں بھی ہے ، میں کہتا ہوں : اس کے پیشِ نظر جو برابر رِسنے والے زخم سے نکلتا رہتا ہے اور اس میں بہنے کی قوت نہیں لیکن ایسا ہے کہ اگر چھوڑ دیا جائے تو یکجا ہو کر بہنے کی قوت پا جائے اور اپنی جگہ سے بہہ جائے تو جب اسے جذب کر لے یا کسی پٹی سے باندھ دے اور ایسا ہو کہ جب بھی اس سے کچھ نکلے تو اسے پٹی چوس لے دیکھا جائے گا اس مجلس میں جس قدر پٹی نے بار بار چوس لیا ہے اگر ایساہے کہ چھوڑ دیا جاتا اور یکجا ہوتا تو خودبہہ جاتا تو وہ ناقض ہے ورنہ نہیں اور ایک مجلس سے دوسری مجلس میں جو نکلا ہو وہ جمع نہ کیا جائے۔(ت)

 (۱؎ردالمحتار کتاب الطہارۃ مطلب نواقض الوضوء داراحیاء التراث العربی بیروت۱ /۹۱۔۹۲ )

اسی میں ہے: صرح فی غایۃ البیان بان الروایۃ مسطورۃ فی کتب اصحابنا انہ اذا وصل الی قصبۃ الانف ینتقض وان لم یصل الی مالان خلافالزفر وان قول الھدایۃ ینتقض اذا وصل الٰی مالان بیان لاتفاق اصحابنا جمیعا ای لتکون المسألۃ علی قول زفر ایضا لان عندہ لاینتقض مالم یصل الی مالان فھذا صریح فی ان المراد بالقصبۃ مااشتد ۱؎۔ غایۃ البیان میں تصریح ہے کہ ہمارے اصحاب کی کتابوں میں یہ روایت لکھی ہوئی ہے کہ جب خون ناک کے بانسے تک پہنچ جائے تو وضو ٹوٹ جائے گا اگرچہ نرم حصہ تک نہ پہنچے بخلاف امام زفر کے اور ہدایہ کی عبارت ''وضو ٹوٹ جائے گا جب نرم حصہ تک پہنچ جائے '' یہ اس صورت کا بیان ہے جس میں ہمارے تمام اصحاب کا اتفاق ہے۔ مقصد یہ ہے کہ مسئلہ امام زفر کے قول پر بھی ہو جائے اس لئے کہ ان کے نزدیک یہ ہے کہ جب تک نرم حصہ تک نہ پہنچے ناقض نہیں تو یہ اس بارے میں صریح ہے کہ بانسہ سے مراد اس کا سخت حصہ ہے۔(ت)

 (۱؎ردالمحتار  کتاب الطہارۃ  مطلب نواقض الوضوء  داراحیاء التراث العربی بیروت۱ /۹۱)

بحرالرائق میں ہے: ولیس ذلک الا لکونہ یندب تطہیرہ فی الغسل ونحوہ۲؎۔ اور وہ اسی لئے ہے کہ غسل وغیرہ میں اس کی تطہیر مندوب ہے ۔ (ت)

 ( ۲؎البحرائق کتاب الطہارۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ /۳۲)

اُسی میں ہے: قالوا لاینقض ماظھر من موضعہ ولم یرتق کالنفطۃ اذا قشرت ولا ماارتقی عن موضعہ ولم یسل کالدم المرتقی من مغرز الابرۃ والحاصل فی الخلال من الاسنان وفی الخبر من العض وفی الاصبع من ادخالہ فی الانف۔ ۳؎۔ علماء نے فرمایا : وہ خون ناقض نہیں جو اپنی جگہ سے ظاہر ہوا اور اوپر نہ چڑھا جیسے آبلہ ، جب اس کا پوست ہٹا دیا جائے اور وہ بھی ناقض نہیں جو اوپر چڑھ گیا اور بہا نہیں جیسے سُوئی چبھونے کی جگہ سے چڑھنے والا خون اور وہ بھی نہیں جو خلال میں دانتوں سے اور روٹی میں دانت لگانے سے اور انگلی میں اسے ناک کے اندر ڈالنے سے لگ جاتا ہے ۔ (ت)

 ( ۲؎البحرائق  کتاب الطہارۃ   ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ /۳۲)

اسی طرح جامع الرموز میں محیط سے ہے ۔عالمگیری میں ہے : المتوضیئ اذا عض شیئا فوجد فیہ اثر الدم اواستاک بسواک فوجد فیہ اثر الدم لا ینتقض مالم یعرف السیلان کذا فی الظھیرۃ ۱؎ اھ باوضو نے کسی چیز کو دانت سے کاٹا تو اس چیز میں خون کا نشان لگ گیا یا کسی مسواک سے دانت صاف کیا تو اس میں خون کا اثر دیکھا تو یہ ناقض نہیں جب تک کہ بہنے کا علم نہ ہو ، ایسا ہی ظہیریہ میں ہے۔ ا ھ (ت)

 (۱؎الفتاوی الہندیہ کتاب الطہارۃ الفصل الخامس نورانی کتب خانہ پشاور۱ /۱۱ )

تنبیہات عدیدۃ جلیلۃ مفیدۃ

الاوّل:  یقول ف العبد الضعیف لطف بہ المولی اللطیف لقد احسن المحقق البحر صاحب البحر فیما نقلنا عنہ انفا فی مسئلۃ الخلال والخبزاذ جزم بھذا المصرح بہ المنصوص علیہ من غیر واحد من المشائخ العظام ولم یرکن الی مایوھمہ ظاھر مافی التبیین حیث قال ذکر الامام علاء الدین ان من اکل خبز ا و رأی اثر الدم فیہ من اصول اسنانہ ینبغی ان یضع اصبعہ اوطرف کمہ علی ذلک الموضع فان وجد فیہ اثر الدم انتقض وضؤوہ والافلا ۱؎ اھ

متعدد تنبیہاتِ جلیلہ و مفیدہ

تنبیہ اوّل: بندہ ضعیف ، مولائے لطیف ا س پر لطف فرمائے ، کہتا ہے : صاحبِ بحر سے خلال اور روٹی کا مسئلہ جو ابھی ہم نے نقل کیا اس میں انہوں نے بہت خوب کیا کہ اس تصریح شدہ حکم پر جزم کیا جس پر متعدد مشائخ عظام سے نص موجود ہے اور اس وہم کی طرف مائل نہ ہوئے جو تبیین الحقائق کی ظاہر عبارت سے پیدا ہوتا ہے ، تبیین میں لکھا ہے : امام علاء الدین نے ذکر کیا کہ جو روٹی کھا رہا تھا اور اس میں خون کا اثر دیکھا جو اس کے دانتوں کی جڑ سے اس میں لگ آیا تو اسے چاہئے کہ اپنی انگلی یا آستین کا کنارہ اس جگہ رکھ کر دیکھے اگر اس میں بھی خون کا اثر ہے تو اب اس کا وضو ٹوٹ گیا ، ورنہ نہیں ا ھ (ت)

(۱؎تبیین الحقائق     کتاب الطہارۃ     دارالکتب العلمیۃ بیروت    ۱ /۴۸۔۴۹)

ف:مسئلہ فقط اتنی بات کہ مثلاناک یا دانت سے انگلی پر خون لگ آیا دوبارہ دیکھا پھر اثر پایا وضو جانے کو کافی نہیں جب تک اس میں خود بہنے کی قوت مظنون نہ ہو۔

ورأیتنی کتبت علیہ مانصہ۔
اقول ۷۶: ف لوکان ظھور اثر الدم علی شیئ بالاتصال ناقضا مطلقا فلم لم ینقض حین رأی الدم علی الخبز اولا بل الواجب ان تکون فی نفسہ قوۃ التجاوز من محلہ لاان یمسہ شیئ فلیتصق بہ وھذا اظھر من ان یظھر ولعلہ ھو المقصود ای یجرب ھل ھو سائل ام کان بادیا وانتقل الی الخبز بالمساس۔

 میں نے دیکھا کہ تبیین کے اس مقام پر میں نے یہ حاشیہ لکھا ہے : اقول : اگر کسی چیز کے مس ہونے کی وجہ سے اس پر خون کا اثر دکھائی دینا مطلقاً ناقضِ وضو ہے تو پہلی بار روٹی پر خون کا اثر دیکھنے ہی کے وقت وضو کیوں نہ ٹوٹا---- در اصل یہ بات نہیں بلکہ ضروری یہ ہے کہ خون میں بذاتِ خود اپنی جگہ سے تجاوز کرنے کی قوت ہو ، نہ یہ کہ کوئی چیز مس ہونے سے خون اس پر چپک جائے ۔ یہ اتنا زیادہ ظاہر کہ اظہار سے بے نیاز ہے---- شاید قول مذکور کا مقصود بھی یہی ہے یعنی یہ کہ جانچ کرے کہ وہ لگنے والا خون بہنے والا ہے یا صرف بادی (دکھائی دینے والا) تھا اور مس ہونے کی وجہ سے روٹی پر لگ آیا۔

ف:تطفل۵۰علی الامام الزیلعی۔

ولعل ظانا یظن ان البادی لقلتہ وعدم مددہ ینتشف بالمساس الاول فاذا وضع الاصبع اوالکم وظھر فیہ ظھر ان لہ مددا فلا یکون بادیا بل خارجا۔

شاید کسی کو یہ خیال ہو کہ محض دکھائی دینے والا خون ، کم ہونے اور اندر سے اضافہ نہ ملنے کے باعث پہلی بار مس ونے سے ہی خشک ہو جائے گا پھر جب اُنگلی یا آستین رکھی اور اس میں بھی ظاہر ہوا تو پتہ چل گیا کہ اس میں اندر سے اضافہ ہوتا رہتا ہے اس لئے وہ بادی نہیں بلکہ خارج ہے ۔

اقول:  ولیس بشیئ وکفٰی بالمشاھدۃ ردا علیہ وقد تقدم عن الفتح ان القمیص لو تردد علی الجرح فابتل لاینجس مالم یکن بحیث لوترک سال لانہ لیس بحدث ۱؎ اھ ماکتبت۔

اقول:  یہ خیال کچھ بھی نہیں ، مشاہدہ اس کی تردید کے لئے کافی ہے، اور فتح القدیر کے حوالے سے یہ صراحت بھی گزر چکی ہے کہ : اگر کُرتا زخم پر بار بار لگ کر تر ہو گیا تو نجس نہ ہو گا جب کہ خون اس قابل نہ رہا ہو کہ اگر چھوڑ دیا جاتا تو بہہ نکلتا کیونکہ وہ ( صرف لگ جانیوالا خون حدث نہیں ا ھ ، میرا حاشیہ ختم۔

 (۱؎حواشی لامام احمد رضا علی تبیین الحقائق)

ثم رأیت وللّٰہ الحمد ان جنح فی الحلیۃ الی تأویلہ بما ذکرت وھذا لفظہ الشریف م ولو عض شیئا فرأی علیہ اثر الدم فلاوضو علیہ ۲؎

پھر میں نے دیکھا کہ صاحبِ حلیہ بھی اسی تاویل کی جانب مائل ہیں جو میں نے ذکر کی وللہ الحمد ، ان کے الفاظ کریمہ یہ ہیں (م کے بعد متن منیہ کی عبارت ہے اور ش کے بعد شرح حلیہ کی عبارت ۱۲م) م: اگر کوئی چیز دانت سے کاٹی پھر اس پر خون کا اثر دیکھا تو اس پر وضو نہیں ۔

 (۲؎منیۃ المصلی کتاب الطہارۃ مکتبہ قادریہ لاہورص۹۰)

ش: وکذا لوخلل اسنانہ فرأی الدم راس الخلال لاوضوء علیہ لانہ لیس بدم سائل ذکرہ قاضی خان وغیرہ ۳؎ ش : اسی طرح اگر دانتوں میں خلال کیا پھر سرِ خلال پر خون نظر آیا تو اس پر وضو نہیں کیونکہ یہ بہنے والا خون نہیں ، یہ امام قاضی خان وغیرہ نے ذکر کیا ۔

 (۳؎حلیۃ المحلی شرح منیۃالمصلی )

م :وقال بعض المشائخ ینبغی ان یضع کمہ اواصبعہ فی ذلک الموضع ان وجد الدم فیہ نقض والا فلا ۱؎ م : اور مشائخ میں سے ایک بزرگ نے فرمایا کہ اس جگہ آستین یا انگلی رکھ کر دیکھنا چاہئے اگر اس میں خون پائے تو اس جسے وضو ٹوٹ جائے گا ورنہ نہیں ۔

 (۱؎ منیۃ المصلی کتاب الطہارۃ مکتبہ قادریہ لاہورص۹۰)

ش: ھذا ھو الشیخ الامام علاء الدین کما فی الذخیرۃ وغیرھا والا حسن لا ینقض مالم یعرف السیلان کما فی الفتاوی الظہیریۃ والظاھر انہ مرادا لکل ومن ثم قال فی خزانۃ الفتاوٰی عض علی شیئ واصابہ دم من بین اسنانہ او اصاب الخلال ان کان بحیث لوترک لایسیل لاینقض ۲؎ اھ ش: یہ بزرگ شیخ امام علاء الدین ہیں جیسا کہ ذخیرہ وغیرہ میں بتایا ہے اور احسن جیسا کہ فتاوٰی ظہیریہ میں کہا یہی ہے کہ جب تک سائل ہونے کا علم نہ ہو ناقض نہیں اور ظاہر یہ ہے کہ مقصود سب کا یہی ہے اسی لئے خزانۃ المفتین میں کہا : کوئی چیز دانت سے کاٹی اس پر دانتوں کے درمیان سے خون لگ گیا یا خلال پر خون لگ گیا اگر وہ اس قابل تھا کہ چھوڑ دیا جاتا تو نہ بہتا تب وہ ناقض نہیں ا ھ ۔

(۲؎ حلیۃ المحلی شرح منیۃالمصلی )

فالحمد للّٰہ علی کشف الغمۃ ثم راجعت الغنیۃ فرأیت ان الترجی الاٰخر الذی ترجیت بقولی ولعل ظانا یظن قدوقع فانہ رحمہ اللّٰہ تعالٰی قال بعد قول بعض المشائخ ''وھذا ھو الاحوط لانہ اذرأی الاثر یجب علیہ ان یتعرف ھل ذلک عن شیئ سائل بنفسہ ام لا فاذا ظھر ثانیا علی کمہ او اصبعہ غلب علی الظن کونہ سائلا والا فلاوفی الحاوی سئل ابراھیم عن الدم اذا خرج من بین الاسنان فقال انکان موضعہ معلوما وسال نقض وھو نجس وان لم یعلم وخرج مع البزاق فانہ ینظر الی الغالب ۱؎ اھ

تو اس مشکل دور ہونے پر خدا کا شکر ہے پھر میں نے غنیہ کی مراجعت کی تو دیکھا کہ وہ بعد والی توقع جس کا اظہار میں نے ''شاید کسی کو خیال ہو '' سے کیا تھا واقع ہو چکی ہے کیونکہ صاحبِ غنیہ نے اس میں بعض مشائخ کا قول ذکر کرنے کے بعد لکھا ہے اور یہی احوط ہے یعنی اس میں زیادہ احتیاط ہے کیونکہ جب اس نے خون کا اثر دیکھ لیا تو اس پر یہ دریافت واجب ہے کہ وہ از خود بہنے والے خون کا اثر ہے یا ایسا نہیں پھر جب اس کی آستین یا انگلی پر دوسری بار بھی وہ اثر نظر آیا تو غلبہ ظن حاصل ہو گیا کہ وہ بہنے والا ہے ، ورنہ نہیں ۔اور حاوی میں لکھا ہے کہ شیخ ابراہیم سے اس خون کے متعلق سوال ہوا جو دانتوں کے درمیان سے نکلے ، انہوں نے جواب دیا کہ اگر معلوم ہے کہ کس جگہ سے نکلا ہے اور بہنے والا ہے تو ناقض وضو اور نجس ہے، اور اگر اس کی جگہ معلوم نہیں تھوک کے ساتھ نکل آیا ہے تو دیکھا جائے گا کہ تھوک اور خون میں زیادہ کون ہے (جو زائد ہو اسی کا حکم ہو گا ) ا ھ ۔

 (۱؎ غنیۃ المستملی کتاب الطہارۃ فصل فی نواقض الوضو سہیل اکیڈمی لاہور ص۱۳۲۔۱۳۳)

وقد اصاب رحمہ اللّٰہ تعالٰی اولا ان الواجب تعرف سیلانہ بنفسہ واٰخرا حیث عقبہ بقول ابرھیم المدیر للحکم علی السیلان وانما الزلۃ فـــــــــ فی زعمہ ان بظہورہ علی الاصبع ثانیا یغلب علی الظن سیلانہ وقد قدمت مایکفی ویشفی ۔

صاحبِ غنیہ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ نے شروع میں صحیح لکھا کہ اس کے سائل ہونے کی دریافت واجب ہے اور آخر میں بھی ٹھیک کیا کہ شیخ ابراہیم کا کلام لائے جس میں سائل ہونے پر حکم کا مدار رکھا ہے لغزش صرف ان کے اس خیال میں ہے کہ دوسری بار انگلی پر اثر ظاہر ہونے سے سائل ہونے کا غلبہ ظن حاصل ہو جائے گا ۔ اس خیال کے رد میں کافی و شافی گفتگو ابھی ہو چکی ہے۔

فـــــ:تطفل۵۱ علی الغنیۃ۔

وقول الامام الاجل ظھیر الدین المرغینانی لقول الاکثرین انہ الاحسن مع ظھور وجہہ ومع انہ علیہ الاکثر وانہ جزم بہ الاکابر کقاضی خان وصاحب المحیط وغیرھما لایقاومہ قول الغنیۃ لخلافہ احوط مع عدم ظھور وجہہ بل ظہور وجہ عدمہ وانما الاحتیاط فـــ العمل باقوی الدلیلین کما فی الفتح والبحر وغیرھما لاجرم لم یعرج علیہ المحقق الشارح نفسہ فی شرحہ الصغیر الملخص من ھذا الکبیر انما اقتصر علی نقل قول ابرھیم وللّٰہ الحمد علی تواتر الاٰنہ علی عبدہ الاثیم۔

اب رہا یہ کہ غنیہ نے اسے احوط کہا تو امام جلیل ظہیر الدین مرغینانی نے قولِ جمہور کو احسن ۱کہا ، اس کی۲ وجہ بھی ظاہر ہے ، وہی اکثر مشائخ۳ کا مذہب بھی ہے ، اسی۴ پر امام قاضی خاں اور صاحبِ محیط وغیرہما جیسے اکابر نے جزم کیا تو اس کے خلاف قول کو صاحبِ غنیہ کا '' احوط '' کہنا کیا حیثیت رکھتا ہے۱ جب ۲کہ اس کی وجہ بھی ظاہر نہیں بلکہ اس ۳کے عدم کی وجہ ظاہر ہے رہا احتیاط تو احتیاط ۴اسی میں ہے کہ دو دلیلوں میں سے جوزیادہ قوی ہو اسی پر عمل کیا جائے جیسا کہ فتح القدیر ، البحر الرائق وغیرہما میں ہے--- آخر کار خود شارح محقق نے اس شرح کبیر کی تلخیص کر کے جو شرح صغیر لکھی ہے اس میں اس قول پر نہ ٹھہرے بس شیخ ابراہیم کا کلام نقل کرنے پر اکتفا کی--- خدا کا شکر ہے کہ اس نے اپنے بندہ گنہگار کو متواتر احسانات سے نوازا ۔

فـــ:الاحتیاط ھو العمل باقوی الدلیلین۔

الثانی:  عامۃ الرواۃ فی ماذکرنا من الخلاف فی حد السیلان انہ العلو والانحداد معا ام مجرد العلو علی نسبۃ الاول الی الامام الثانی والثانی الی الامام الشیبانی وقال فی الحلیۃ ظاھر البدائع انہ ای الاول قول علمائنا الثلثۃ رضی اللّٰہ تعالٰی عنھم ۱؎

تنبیہ دوم: سیلان کی تعریف میں ہم نے اختلاف ذکر کیا ، پہلا قول یہ کہ سیلان اوپر چڑھنے پھر نیچے ڈھلکنے کے مجموعے کا نام ہے دوسرا یہ کہ صرف اوپر چڑھنا ہی سیلان ہے،عامہ رواۃ نے قول اول امام ثانی (قاضی ابو یوسف ) کی طرف منسوب کیا اور قول دوم امام شیبانی کی طرف منسوب کیا ---- حلیہ میں یہ لکھا کہ : بدائع کے ظاہر کلام سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اول ہمارے تینوں ائمہ رضی اللہ تعالٰی عنہ کا قول ہے ا ھ ۔

 (۱؎ حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی)

وفی الفوائد المخصصۃ لسیدی العلامۃ ابن عابدین ''اشتراط السیلان فی نقض الطہارۃ فیہ خلاف وان الصحیح اشتراطہ وان اخذ اکثر من راس الجرح خلافا لمحمد وجعلھا فی الظھیریۃ روایۃ شاذۃ عن محمد وفی التتارخانیۃ عن المحیط شرط السیلان مذھب علمائنا الثلثۃ وانہ استحسان وقال زفر رحمہ اللّٰہ تعالٰی اذا علا فظھر علی رأس الجرح ینتقض وضوؤہ وھو القیاس ۱؎ انتھی۔

سیدی علامہ ابن عابدین کے '' فوائد مخصصہ میں ہے : ناقض طہارت ہونے میں خون کا بہہ جانا شرط ہے یا نہیں ؟ اس میں اختلاف ہے اور صحیح یہ ہے کہ بہہ جانا شرط ہے اگرچہ خون چڑھ کر سرِ زخم سے زیادہ جگہ لے لے بخلاف مذہب امام محمد کے--- اور اسے ظہیریہ میں امام محمد سے منقول ایک شاذ روایت قرار دیا-- اور تاتارخانیہ میں محیط سے نقل ہے کہ : بہہ جانے کی شرط ہمارے تینوں علماء کے مذہب پر ہے---- یہ استحسان ہے--- اور امام زفر رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ خون جب اوپر آیا پھر سرِزخم پر ظاہر ہوا تو وضو ٹوٹ جائے گا---- یہ قیاس ہے انتہی۔

 (۱؎ الفوائد المخصّصہ رسالہ من رسائل ابن عابدین     الفائدۃ الثانیۃ     سہیل اکیڈمی لاہور    ۱ /۵۷)

اقول ۷۸:قدعرف مذھب زفرفی الھدایۃ وغیرھا النقض بمجرد الظھور فقولہ علا ای من الباطن وقولہ ظھر بمعنی التبیین دون الصعود کیف و زفرلا یشترط الانتفاخ والصعود بعد الوصول الی رأس الجرح فلیعلم ذلک۔

اقول : ہدایہ وغیرہا سے معلوم ہو چکا ہے کہ امام زفر کا مذہب یہ ہے کہ محض ظاہر ہونے ہی سے وضو ٹوٹ جائے گا---- تو کلام بالا میں '' اوپر آیا '' کا معنی یہ ہو گا کہ اندر سے اوپر آیا اور'' ظاہر ہوا '' کا معنی چڑھنا نہیں بلکہ ''نمایاں ہونا'' ہو گا ----- وہ ہو گا بھی کیسے جب کہ امام زفر سرِ زخم تک پہنچ جانے کے بعد چڑھنے اور (دائرہ بنا کر ) پھول جانے کی شرط نہیں رکھتے -----یہ بات معلوم رہنی چاہئے ۔

ورأیت فی خلاصۃ الامام طاھر بن عبدالرشید والبخاری مانصہ فی بعض نسخ الجامع الصغیر الدم اذالم ینحدر عن رأس الجرح لکن علا فصارا اکبر عن رأس الجرح لا ینتقض وضوؤہ ۱؎

اور میں نے امام طاہر بن عبدالرشید بخاری کی کتاب خلاصہ میں یہ عبارت دیکھی : جامع صغیر کے بعض نسخوں میں ہے کہ :خون جب سرِ زخم سے ڈھلکے نہیں لیکن چڑھ کر سرِ زخم سے بڑا ہو جائے تو وہ ناقض وضو نہیں۔

 (۱؎ خلاصۃ الفتاوی     کتاب الطہارۃ    الفصل الثالث ،المکتبۃ الحبیبہ کوئٹہ،۱ /۱۷)

ثم رأیت فی وجیز الکردری جزم بعزوہ للجامع الصغیر کما سیاتی فاذن اطلاقہ القول یفید ظاھرا انہ مذھب علمائنا الثلثۃ رضی اللّٰہ تعالٰی عنھم ثم ھوالذی صححہ عامۃ ائمۃ الفتوٰی کقاضی خاں وغیرہ ممن قصصنا اولم نقص علیک ۔

پھر میں نے وجیز کردری میں دیکھا کہ عبارتِ بالا سے متعلق بالجزم جامع صغیر کا حوالہ دیا ہے جیسا کہ اس کی عادت آ رہی ہے تو یہاں جامع صغیر میں کلام مطلق رکھنے ( کسی ایک کا امام کا قول نہ بتانے ) سے بظاہر یہی مستفاد ہوتا ہے کہ یہ ہمارے تینوں علماء رضی اللہ تعالٰی عنہم کا مذہب ہے----- پھر عامہ ائمہ فتوی نے اسی کو صحیح کہا ہے جیسے امام قاضی خان اور ان کے علاوہ ائمہ جن کے نام ہم نے لئے اور جن کے نام نہ لئے۔

ووقع فــــــ ھھنا زلۃ قلم من المحقق البحر تبعہ علیہا العلامہ ط حیث قال فی البحر الرائق فی الدرایۃ جعل قول محمد اصح واختار السرخی وفی فتح القدیر انہ الاولٰی ۲؎ اھ

یہاں محقق صاحبِ بحر سے ایک لغزشِ قلم واقع ہوئی ہے جس پر طحطاوی نے بھی ان کا اتباع کر لیا ہے وہ یہ کہ البحر الرائق میں لکھتے ہیں : ''درایہ میں امام محمد کے قول کو اصح قرار دیا ، اسی کو امام سرخسی نے بھی اختیار کیا ہے اور فتح القدیر میں ہے کہ وہی اولٰی ہے ا ھ'' ۔

 (۲؎ البحرالرائق    کتاب الطہارۃ     ایچ ایم سعید کمپنی     ۱ /۳۲)

فـــ: تنبیہ علی سہو وقع فی البحر وتبعہ ط۔

وھو کما تری سہوظاھر وانما اختار السرخسی قول ابی یوسف وایاہ جعل فی الفتح اولی کما نقلنا لک نصہ رحمھم اللّٰہ تعالٰی جمیعا ورحمنا بھم اٰمین نبہ علیہ العلامۃ ش قائلا فاجتنبہ ۱؎ اھ

یہ جیسا کہ آپ دیکھ رہے ہیں ، کھلا ہوا سہو ہے ، امام سرخسی نے تو امام ابو یوسف کا قول اختیار کیا ہے اور اسی کو فتح القدیر میں بھی اولٰی قرار دیا ہے جیسا کہ فتح کی عبارت ہم نقل کر آئے ہیں ، اللہ تعالٰی ان سب حضرات پر رحمت فرمائے اور ان کے صدقے میں ہم پر بھی رحم فرمائے ۔ الٰہی ! قبول فرما ۔ اس سہو پر علامہ شامی نے متنبہ کیا اور فرمایا : فاجتنبہ (تو اس سے بچنا) ا ھ ۔

 (۱؎ ردالمحتار    کتاب الطہارۃ ،مطلب نواقض الوضوء     دار احیاء التراث العربی بیروت        ۱ /۹۱)

قلت۷۹: ونسبۃ تصحیح قول محمد للدرایۃ منصوص علیہا فی الفتح وتبعہ فـ۱علیہ من بعدہ حتی العلامۃ ش اذا نقل کلامہ ھذا فی ردالمحتار واقرہ علیہ لکنہ زعم فی منحۃ الخالق فــــــ۲ حاشیۃ البحر الرائق انہ ذکر فی الدرایۃ قول ابی یوسف ثم ذکر قول محمد ثانیا ثم قال والصحیح الاول فلیر اجع ۲؎ اھ۔

قلت اب بحر کی ایک بات رہ گئی کہ درایہ میں امام محمد کے قول کو اصح قرار دیا ہے ۔ اس کی صراحت پہلے فتح القدیر میں ہوئی اور بعد کے علماء نے اسی کااتباع کیا یہاں تک کہ علامہ شامی نے بھی یہی بات رد المحتار میں نقل کی اور برقرار رکھی --- لیکن انہوں نے البحرالرائق کے حاشیہ منحۃ الخالق میں یہ بتایا کہ:درایہ میں پہلے امام ابویوسف کاقول ذکر کیا پھر امام محمد کاقول بیان کیا پھرکہا کہ :صحیح اول ہے ۔''تواس کی مراجعت کرنا چاہئے اھ۔

فـــ۱:معروضۃ علی ش۔ فــ۲:تنبیہ علی سہو وقع فی الفتح علی ما زعم العلامۃ ش۔

 (۲؎منحۃ الخالق علی البحرا لر ائق     کتاب الطہارۃ    مطلب نواقض الوضوء    دار احیاء التراث العربی بیروت     ۱ /۹۱)

وھذا یقتضی انہ انقلب الامر علی الفتح ایضاکما انقلب علی البحر واذا صح ھذا بقیت التصحیحات کلہا راجعۃ الی قول ابی وسف وھو اسکن للقلب وامکن فلیراجع۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ صاحبِ فتح القدیر نے بھی بر عکس بتا دیا جیسا کہ بحر نے الٹا بیان کیا ----- اگر علامہ شامی کا بیان صحیح ہے تو تمام تصحیحات قولِ امام ابو یوسف کی طرف راجع ہو گئیں اور اس میں دل کے لئے زیادہ سکون و قرار زیادہ ہے----- تو اس کی طرف مراجعت ہونا چاہئے ۔

والعبد الضعیف لم یرھھنا تصریح احد بتصحیح قول محمد بل ولا ترجیحا مالہ واختیارہ۔ اور بندہ ضعیف نے یہاں قول امام محمد کی تصحیح سے متعلق کسی کی تصریح نہ دیکھی بلکہ اس سے متعلق کسی طرح کی کوئی ترجیح اور کسی کا اسے اختیار کرنا نہ پایا ۔

اللھم الامافی الفوائد المخصصۃ عن الذخیرۃ عن الفقیہ ابن جعفر عن محمد بن عبداللّٰہ رحمہ اللّٰہ تعالٰی انہ کان یمیل فی ھذا الی انہ ینتقض وضوؤہ و راٰہ سائلا (قال اعنی صاحب الذخیرۃ) وفی فتاوٰی النسفی ھکذا اھ ۱؎

  ہاں مگر (۱)جو فوائد مخصصہ میں ذخیرہ سے ، اس میں بروایتِ فقیہ ابو جعفر محمد بن عبداللہ رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ سے منقول ہے کہ اس بارے میں وہ اس جانب مائل تھے کہ وضو ٹوٹ جائے گا اور اسے انہوں نے بہنے والا سمجھا ، صاحبِ ذخیرہ نے فرمایا :اور فتاوٰی نسفی میں بھی اسی طرح ہے ا ھ ۔

 (۱؎الفوائد المخصصہ رسالۃ من رسائل ابن عابدین الفائدۃ الثامنۃ ،سہیل اکیڈمی لاہور ،۱ /۶۰)

والا مارأیت فی جواھر الفتاوی من الباب الرابع المعقود لفتاوی الامام الاجل نجم الدین النسفی مانصہ رجل توضأ فعض الذباب بعض اعضائہ فظھر منہ دم لاینتقض الوضوء لقلتہ ولو غرزفی عضوہ شوکا اوابرۃ فظھر الدم ولم یسل ظاھرا ینتقض وضوؤہ لان الظاھر انہ سال عن راس الجرح ۲؎ اھ وھذا ماکان اشار الیہ فی الذخیرۃ ان ھکذا فی الفتاوٰی النسفی۔

 (۲)اور وہ جو جواہر الفتاوی کے باب چہارم میں دیکھا---- یہ باب امام نجم الدین نسفی کے فتاوٰی کے لئے باندھا گیا ہے، اس کی عبارت یہ ہے : ایک شخص باوضو ہے اس کے کسی عضو پر مکھی نے کاٹ لیا جس سے کچھ خون ظاہر ہو گیا تو اس کا وضو نہ ٹوٹے گا کیونکہ یہ خون کم ہی ہو گا ------اور اگر اس نے اپنے عضو میں کانٹا یا سوئی چبھولی جس سے خون ظاہر ہوا اور کھل کر بہا نہیں تو اس کا وضو ٹوٹ جائے گا کیونکہ ظاہر یہ ہے کہ وہ سرِ زخم سے بہہ گیا ا ھ۔ یہی وہ ہے جس کی طرف ذخیرہ میں اشارہ کیا کہ فتاوٰی نسفی میں بھی اسی طرح ہے.

 (۲؎جواہر الفتاوٰی)

والامشیا علیہ فی مجموع النوازل نقلہ عنہ فی الخلاصۃ ثم عقب بما فی نسخۃ الجامع الصغیر ثم قال فعلی ھذا ینبغی ان لاینتقض اھ ۱؎

(۳) اور اس قول پر مجموع النوازل میں مشی ہے جسے خلاصہ میں اس سے نقل کیا ہے  پھر نسخہ جامع صغیر کی مذکورہ بالاعبارت لکھی ہے پھر فرمایا ہے :تو اس بنیاد پر اسے ناقض نہیں ہونا چاہئے۔

 (۱؎خلاصۃ الفتاوٰی ،کتاب الطہارۃ     الفصل الثالث فی نواقض الوضوء    مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ     ۱ /۱۷)

والا ماوقع فی الکفایۃ من قولہ بعض مشائخنا رحمھم اللّٰہ تعالٰی اخذوا بقول محمد رحمہ اللّٰہ تعالٰی احتیاطا وبعضھم اخذوا بقول ابی یوسف رحمہ اللّٰہ تعالٰی وھو اختیار المصنف ای (صاحب الہدایۃ ) رحمہ اللّٰہ تعالٰی رفقا بالناس خصوصا فی حق اصحاب القروح ۲؎ اھ

(۴) اورجو کفایہ میں درج ہے کہ :ہمارے بعض مشائخ رحمہم اللہ تعالٰی نے احتیاطاً امام محمد رحمۃاللہ تعالٰی علیہ کا قول لیا ہے اور بعض نے امام ابویوسف رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کا قول لیا ہے اور اسی کو لوگوں کی آسانی کے لئے خصوصاً پھوڑے پھنسی والوں کے حق میں نرمی کی خاطر مصنّف یعنی صاحبِ ہدایہ نے بھی اختیار فرمایا ہے ا ھ ۔

 (۲؎الکفایہ مع فتح القدیر     کتاب الطہارۃ     مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر     ۱ /۴۰و۴۱)

اقول:  وھذافـــ اغرب من الکل لانہ ربما یوھم ان الاختیارین متکا فئان۔

اقول:  یہ سب سے زیادہ غریب ہے کیونکہ اس سے یہ وہم ہوتا ہے کہ دونوں ترجیحیں بالکل ایک دوسرے کے برابر ہیں ۔

فـــ:تطفل ۵۳علی الکفایۃ۔

الاماوقع فی وجیز الامام الکردری حیث قال نوازل (ای قال فی مجموع النوازل) شاکہ شوکۃ او ابرۃ فاخرجہا وظھردم ولم یسل نقض وفی الجامع الصغیر لم ینحدر الدم عن راسہ لکنہ علاوصار اکثر من رأس الجرح لاینقض وھذا خلاف مافی النوازل والاول عن الامام الثانی والثانی عن محمد رحمہما اللّٰہ تعالٰی والنقض اقیس لان مزایلتہ عن مخرجہ سیلان اھ ۱؎

 (۵)اور وہ جو وجیز امام کردری میں واقع ہے وہ لکھتے ہیں : مجموع النوازل میں ہے :کوئی کانٹا یا سوئی چبھو کر نکالا خون ظاہر ہوا اور بہا نہیں ، تو یہ ناقض ہے--- اور جامع صغیر میں ہے : سرِ زخم سے خون ڈھلکا نہیں لیکن اوپر چڑھا اور سرِزخم سے زیادہ ہو گیا تو ناقض نہیں --- یہ اس کے برخلاف ہے جو مجموع النوازل میں ہے اور اوّل امام ثانی سے مروی ہے اور دوم امام محمد سے روایت ہے--- رحمہمااللہ تعالٰی اور ناقض ہونا زیادہ قرینِ قیاس ہے اس لئے کہ خون کا اپنے مخرج سے جدا ہونا سیلان ہے ا ھ ۔

 (۱؎ الفتاوٰی البزازیہ علی ھامش الفتاوی الھندیہ     کتاب الطہارۃ     نورانی کتب خانہ پشاور ۴ /۱۲)

قلت ۸۱: و انت تعلم ان قد انقلب علیہ الامر فی نسبۃ المذھبین الی حضرۃ الامامین۔ قلت ناظر پر عیاں ہے کہ وجیز میں دونوں مذہب ،دونوں اماموں کی جانب منسوب کرنے میں معاملہ اُلٹ گیا ہے ۔

اقول ۸۲ : وعجبافــــ منہ ان عزاما عزاللجامع الصغیر جاز ماثم قال والثانی ای عدم النقض عن محمد فان مافی الجامع الصغیر مطلقا ان لم یکن ظاھرہ انہ قول ائمتنا الثلثۃ رضی اللّٰہ تعالٰی عنھم فلا اقل من ان یکون قول محمد فکیف ینسبہ الیہ بعن۔ ثم لانظر الی قولہ اقیس مع مامر من تصحیحات عامۃ الائمۃ قول عدم النقض بلفظ ھو الصحیح والاصح والمختار وغیرھا ویقطع النزاع مارأیت فی جواھر الاخلاطی وفی الفوائد المخصصۃ عن الذخیرۃ والتتارخانیۃ،ثلثتھم عن فتاوٰی خوارزم وفی الھندیۃ عن المحیط واللفظ للاولی اذالم ینحدر عن رأس الجرح ولکن علافصار اکبر من رأس الجرح لاینتقض وضوؤہ والفتوی علی عدم النقض فی جنس ھذہ المسائل ۱؎ اھ واللّٰہ الموفق۔

اقول:  اور صاحبِ وجیز پر یہ بھی تعجب ہے کہ جامع صغیر کا حوالہ تو جزم کے ساتھ پیش کیا پھر بھی یہ لکھ دیا کہ ''والثانی عن محمد '' یعنی ناقض نہ ہونا امام محمد سے ایک روایت ہے حالانکہ جامع صغیر میں جو حکم مطلقاً بیان ہوا ہے ظاہر یہ ہے کہ وہ ہمارے تینوں ائمہ رضی اللہ تعالٰی عنہم کا قول اور مذہب ہے اگر ایسا نہ ہو تو بھی کم از کم وہ امام محمد کا قول ضرور ہے پھر امام محمد کی طرف اس کی نسبت بلفظ '' عن '' کیسے کر رہے ہیں ( جس کا معنی یہ ہوتا ہے کہ یہ ان کا قول اور مذہب نہیں بلکہ ان سے ایک روایت ہے ۱۲م ) پھر وجیز نے ناقض ہونے کو جو '' اقیس'' (زیادہ قرینِ قیاس ) کہا قابلِ التفات نہیں کیونکہ اس کے مقابلہ میں ناقض نہ ہونے کے قول کے متعلق ، صحیح ---- اصح ---- مختار وغیرہ الفاظ سے عامّہ ائمہ کی تصحیحات موجود ہیں جیسا کہ گزرا -----اور قاطع نزاع وہ ہے جو میں نے جواہر الاخلاطی۱ میں اور فوائد مخصصہ میں ذخیرہ ۲و تاتارخانیہ۳ کے حوالے سے دیکھا ، ان تینوں میں فتاوی خوارزم سے نقل ہے اور ہندیہ میں بھی دیکھا کہ محیط سے منقول ہے ، الفاظ اول کے ہیں : جب خون سرِزخم سے نہ ڈھلکے لیکن اوپر چڑھ کر سر زخم سے بڑا ہو جائے تو ناقضِ وضو نہیں اور''اس جنس کے مسائل میں فتوی عدمِ نقض پر ہی ہے ا ھ '' واللہ الموفّق۔

فــ:تطفل۵۴ علی البزازیۃ

 (۱؎جواہر الاخلاطی     کتاب الطہارۃ     فصل فی نواقض الوضوء     (قلمی)    ص۷)
(الفوائدالمخصصۃ     رسالۃ من رسائل ابن عابدین     الفائدۃ الثامنۃ     سہیل اکیڈمی لاہور     ۱ /۶۰)
(الفتاوی الھندیہ     کتاب الطہارۃ     الفصل الخامس     نورانی کتب خانہ پشاور     ۱ /۱۰)

الثالث ابو یوسف یجمع القیئ اذا اتحد المجلس ولا یعتبر السبب وعکس فـــ محمد وقولہ الاصح وتطابقت النقول ھھنا علی اعتبار المجلس قال فی الحلیۃ'' فعلی ھذا یحتاج محمد رحمہ اللّٰہ تعالٰی الی الفرق واللّٰہ تعالٰی اعلم بذلک ۱؎ اھ

تنبیہ سوم (قے اگر منہ بھر ہو تو ناقضِ وضو ہے لیکن تھوڑی تھوڑی قے چند بار کر کے اتنی مقدار میں آئی کہ اگر سب یکجا ہو تو منہ بھر ہو جائے اسے یکجا مان کر نقضِ وضو کا حکم ہو گا یا نہیں ؟) امام ابو یوسف کا قول یہ ہے کہ ایک نشست کے اندر چند بار میں جتنی قے آئی ہے سب یکجا مانی جائے گی خواہ ایک سبب یعنی ایک متلی سے آئی ہو یا چند سے اور امام محمد کے نزدیک اس کے بر عکس ہے ( ایک متلی سے چند بار میں جتنی آئی ہے یکجا نہ مانیں گے اگرچہ کئی مجلس اور کئی نشست میں ہو ) ----اصح امام محمد کا قول ہے لیکن یہاں (یعنی چند بار آئے ہوئے خون سے متعلق ) ساری روایات اس پر متفق ہیں کہ ایک مجلس کا اعتبار ہو گا (سبب ایک ہونے نہ ہونے کا کوئی ذکر و اعتبار نہیں )----- حلیہ میں فرمایا : اس بنیاد پر امام محمد کو دونوں مقام میں وجہ فرق بیان کرنے کی ضرورت ہو گی واللہ تعالٰی اعلم بذلک ا ھ ،
فــ:مسئلہ قے اگر منہ بھر کر ہو ناقض وضوہے ،پھر اگر چند بار تھوڑی تھوڑی آئے کہ سب ملانے سے منہ بھر کرہوجائے تواگر ایک ہی متلی سے آئی ہے وضو جاتارہے گااگرچہ مختلف جلسوں میں آئی ہو، اوراگر متلی تھم گئی تھی پھر دوسری متلی سے اور آئی تو ملائی نہ جائے گی اگرچہ ایک ہی مجلس میں آئی ہو۔

 (۱؎حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی )

واشار فی ردالمحتار الی مایحذ و حذو جوابہ فقال کانھم قاسوھا علی القیئ ولما لم یکن ھنا اختلاف سبب تعین اعتبار المجلس فتنبہ ۲؎ اھ( اور علامہ شامی نے ردالمحتار میں ایک ایسی بات کی طرف اشارہ کیا ہے جو اس اعتراض کے جواب کے طور پر جاری ہے وہ کہتے ہیں : ''گویا ان حضرات نے اسے قے پر قیاس کیا اور چونکہ یہاں اختلاف سبب کا وجود ہی نہیں اس لئے مجلس ہی کا اعتبار متعین ہے---- تو اس پر متنبہ ہونا چاہئے ا ھ ۔

۲؎ردالمحتار  ،کتاب الطہارۃ     باب نواقض الوضوء ، داراحیاء التراث العربی بیروت ۱ /۹۲)

اقول۸۳: ھذا عجیب فــــ فان من یعتبر السبب وھو الامام الربانی اذا وجد ماھو علۃ حکم الجمع عندہ لم لایحکم بہ ویعدل عنہ الی ماقد سقط اعتبارہ عندہ لاجل ان العلۃ دائمۃ ھھنا وان دوام العلۃ انما یقتضی دوام الحکم لاالغائھا واسنادہ الی غیرھا۔

اقول؛  یہ عجیب ہے ۔اس لئے کہ قے میں سبب کا اعتبار کرنے والے---- امام ربانی محمد بن شیبانی کو جب وہاں ایک ایسی چیز (یعنی مجلس و نشست ) مل رہی ہے جو ان کے نزدیک (ایک جگہ کے مسئلہ میں ) یکجائی کا حکم کرنے کی علّت ہے تو اسی پر حکم کیوں نہیں رکھتے اور اسے چھوڑ کر ایک ایسی چیز ( سبب اور متلی ) کو کیوں لیتے ہیں جس کا اعتبار ان کے نزدیک ساقط ہو چکا ہے (یعنی مسئلہ خون میں ۱۲ م )-- ( انہیں تو قے میں بھی مجلس کا اعتبار کرنا چاہئے ) اس لئے کہ علت یہاں دائمی ہے اور علت کا دائمی ہونا اسی کا مقتضی ہے کہ حکم بھی دائمی ہو ، نہ اس کا کہ اسے لغو اور بے اثر ٹھہرا کر حکم کو کسی اور علت سے وابستہ کر دیا جائے ۔

فـــــ :معروضۃ ۵۵علی ش۔

فان قیل قدیدوم السبب ھھنا شھورا ودھورا فکیف یجمع الاخر الی الاول۔ فان قیل

 ( اگر یہ جواب دیا جائے کہ ) یہاں ( مسئلہ خون میں ) سبب ( زخم ، پھوڑا وغیرہ ) کبھی مہینوں اور زمانوں تک لگاتار ر ہ جاتا ہے تو آخر کو اول کے ساتھ کیسے یکجا کیا جائیگا ؟

قلت ھذا اعتراف بان اتحاد السبب لایقوم باقتضائہ حکم الجمع فلم یکن فیہ دفع الایراد بل تسلیمہ ۔ قلت( میں کہوں گا )یہ تو اس بات کا اعتراف ہے کہ سبب کا ایک ہونا اس قابل نہیں کہ حکمِ جمع کا مقتضی ہو تو یہ میرے اعتراض کا جواب نہ ہوا بلکہ اس میں تو اسے تسلیم کر لیا گیا ۔

لکنی اقول:  یتخالج فـــ صدری مایدفع ھذا والا یراد جمیعا ان شاء اللّٰہ تعالٰی ۔ اقول:  ( میں کہتا ہوں ) میرے دل میں ایک بات گردش کر رہی ہے جو اس جواب اور اس اعتراض دونوں ہی کو رفع کر دینے والی ہے ان شاء اللہ تعالٰی۔

فـــ:تطفل ۵۶ علی الحلیۃ ومعروضۃ علی ش۔

وھوانالافـــ نسلم ھھنا اتحاد السبب بل الروح اذا احست بالم تتوجہ لدفاعہ فتتبعھا الریح والدم فلاجتما عھا یحدث الورم وتزداد الحرارۃ فیثقل اجتماع الدم ھھنا غیران الطبیعۃ تضن بالدم الصالح ان تدفعہ ولذلک اذا فصد المریض یتقدم الدم الفاسد خروجا وعن ھذا کانت الحجامۃ احب من الفصد لان الفصد یشق العرق فیثج الدم ثجافمع شدۃ تحفظ الطبیعۃ علی الدم الصالح تعجز عن امساکہ کلیا لانہ بانفتاح مجراہ یسیل بطبعہ سیلانا قویا،فمع حجز الطبیعۃ یخرج شیئ من الصالح قہرا علیھا بخلاف الحجامۃ فان الخروج فیھا ضعیف فتتقوی الطبیعۃ علی احراز الصالح کما ینبغی واذا کان الامر کذلک لاتنبعث للطبیعۃ داعیۃ دفع الدم المنتقل الی ھنا مع الروح الا اذا عملت فیہ الحرارۃ الملتھبۃ من اجتماع الثلاث الحارات فینسفد بنضج یحصل لہ بعد بلوغہ کمال صلاحہ وح تترک الطبیعۃ الظن بہ ویزداد التأذی فتحب دفعہ فتنفجر القرحۃ فیجعل الدم یخرج علی شاکلتہ فی الحجامۃ دون الفصد لان الانفتاح ھھنا ایضا فی الجلدلافی العرق فیکون خروجہ بضعف لابدفق شدید غیران القدر المتھیئ منہ للخروج وھو الذی تحول مزاجہ من الصلاح وعدل قوامہ للخروج اذا خرج خرج اعنی تتعاقب اجزاؤہ ولا ینبغی لبعضہ القعود خلف بعض حتی یحصل بین خروج ابعاضہ طفرات وتخللات انقطاع لان المقتضی موجود والمانع مفقود فلا یزال یخرج حتی ینتھی ثم اذا کان الاذی باقیا بعدلا تزال الروح تتوجہ الیہ فیعقب الخارج دم اٰخر صالح ویمکث حتی یعرض لہ ماعرض لسالفہ فیخرج کما خرج وھکذا۔

وہ یہ کہ ہم یہاں (مسئلہ خون میں ) اتحادِ سبب نہیں مانتے ۔۔بلکہ حقیقت یہ ہے کہ روح جب کسی تکلیف کا احساس کرتی ہے تو اس کے دفعیہ پر متوجہ ہوتی ہے۔ اس میں ہوا اور خون بھی ان کے تابع ہو جاتے ہیں تو ان سب کے مجتمع ہونے کی وجہ سے ورم پیدا ہو جاتا ہے اور حرارت بڑھتی ہے تو اس جگہ خون کا اجتماع ثقیل ہو جاتا ہے مگر یہ ہے کہ طبیعت صالح خون کو بچانا چاہتی ہے اور اسے دفع کرنا نہیں چاہتی----یہی وجہ ہے کہ جب مریض کو فصد لگائی جاتی ہے ( اس کی رگ کھول دی جاتی ہے ) تو پہلے فاسد خون باہر آتا ہے اسی لئے سنگی لگانا فصد لگانے سے بہتر ہوتاہے کیوں کہ فصد رگ کو پھاڑ دیتی ہے جس سے خون تیزی سے اُبل پڑتا ہے اور زور سے بہنے لگتا ہے اس وقت طبیعت صالح خون کے شدید تحفظ کے باوجود اسے کلّی طور پر روکنے سے بے بس ہو جاتی ہے کیوں کہ بہنے کی راہ کھل جانے کی وجہ سے خون طبعاً پوری قوت سے بہنے لگتا ہے اور طبیعت کے روکنے کے باوجود کچھ صالح خون اسے مغلوب کر کے باہر آ جاتاہے اور سنگی لگانے میں ایسا نہیں ہوتا ۔کیوں کہ خروج اس میں کمزور ہوتا ہے جس کی وجہ سے طبیعت صالح خون کو مناسب طور پر بچا لینے کی قوت پا جاتی ہے۔۔ جب معاملہ ایسا ہے تو طبیعت کے لئے یہاں روح کے ساتھ منتقل ہونے والے خون کو دفع کرنے کا کوئی داعیہ نہ پیدا ہو گا مگر جب اس خون میں تینوں حار چیزوں کے مجتمع ہونے سے بھڑک اٹھنے والی حرارت اثر انداز ہو گی تو وہ کچھ پک جانے کی وجہ سے خراب ہو جائے گا یہ پکنا خون کے کمال عمدگی و صلاح کی حد کو پہنچ جانے کے بعد ہو گا ۔ اب طبیعت اس کا تحفظ چھوڑ دے گی اور تکلیف بڑھے گی تو اسے دفع کرنا چاہے گی ، پھوڑا اس وقت پھٹ جائے گا جس کی وجہ سے خون باہر آنے لگا اسی انداز میں جو سِنگی لگانے کے وقت ہوتا ہے ۔ اس تیز روانی کے طور پر نہیں جو فصد لگانے میں ہوتی ہے۔ اس لئے کہ یہاں بھی جلد ہی کھلی ہے رگ نہیں کھلی ہے تو خروج آہستگی اور ضعف کے لئے ہو گا ---- شدت سے نہ ہو گا ---- ہاں یہ ہے کہ جس خون کا مزاج فاسد ہو چکا ہے اور اس کا قوام باہر آنے پر مائل اور اسی کے لائق ہو گیا ہے ، یہ اتنا خون جب نکلے گا تو نکلتا جائے گا یعنی اس کے سارے اجزاء پے در پے باہر نکلتے جائیں گے۔ اور طبعاً یہ نہیں ہونا چاہئے کہ ایک حصہ نکلنے کے بعد دوسرا حصہ اتنی دیر تھم رہے کہ ان اجزاء کے باہر آنے کی مدت میں متعدد بار انقطاع پیدا ہو اور درمیان میں خاصا توقف ہو جائے ، اس لئے کہ (فاسد خون کے سارے اجزاء میں خروج کا ) مقتضی موجود ہے اور مانع مفقود ہے تو یہ خون نکلتا ہی رہے گا یہاں تک کہ ختم ہو جائے ۔ پھر اگر تکلیف اب بھی باقی رہ گئی تو روح اس طرف متوجہ ہوتی رہے گی جس کے باعث دوسرا صالح خون اس نکلے ہوئے خون کے بعد مجتمع ہو کر ٹھہرے گا اس پر بھی وہ ساری حالتیں طاری ہوں گی جو اس کے پیش رو پر طاری ہوئی تھیں تو یہ بھی ایک وقت باہر نکلے گا جیسے وہ نکلا تھااور یوں ہی معاملہ رہے گا۔

فــ:تحقیق المصنف فی اعتبار محمد المجلس لجمع الدم والسبب لجمع القیئ۔

فظھران کل خروج بعد انقطاع من دون منع انما ینشؤ من سبب جدید فیجب ان لایجمع الا ماتلا حق شیئا فشیئا کما ذکرنا وھو المعنی ان شاء اللّٰہ تعالٰی باتحاد المجلس لان المجلس معتبر حتی اذا بدأ الدم فانتقل الانسان من فورہ لایجمع ماخرج ھنامع ماخرج اٰنفاً وان بقی جالساکما ھو طول النھار و خرج دم اول الصبح وانقطع ثم خرج شیئ عندالغروب یجمع ھذا مع الاول فان ھذا بعید من الفقہ کل البعد۔

اس تفصیل سے معلوم ہوا کہ انقطاع کے بعد بغیر رکاوٹ کے پایا جانے والا ہر خروج کسی سبب جدید ہی سے پیدا ہوتا ہے تو لازم ہے کہ صرف وہ خون جمع کیا جائے جو مسلسل تھوڑا تھوڑا باہر آیا ہے جیسا کہ ہم نے ذکر کیا ---اور اتحاد مجلس سے یہی مقصود و مراد ہے--- ان شاء اللہ تعالٰی --- یہ نہیں کہ بذاتِ خود مجلس کا اعتبار ہے یہاں تک کہ جب خون نکلنا شروع ہو اور آدمی فوراً جگہ بدل دے تو دوسری جگہ جو نکلے وہ پہلی جگہ نکلنے والے خون کے ساتھ جمع نہ کیا جائے    ( اور یہ کہا جائے کہ مجلس ایک نہ رہی ) ----اوراگر جہاں ہے وہیں دن بھر بیٹھا رہے اور کچھ خون صبح کے اول وقت نکل کر بند ہو جائے ۔پھر کچھ غروب کے وقت نکلے تو اس کو پہلے کے ساتھ جمع کیا جائے ( اور کہا جائے کہ مجلس تو ایک ہی رہی لہذا دونوں یکجا ہوں گے ) یہ تو فقاہت سے بالکل بعید ہے ۔

وبالجملۃ علامۃ اتحاد السبب ھھنا ھو التلا حق واختلافہ ھو تخلل الانقطاع طبعا لاقسرا بخلاف القیئ فان الطبیعۃ تحتاج فیہ الی دفع الثقیل الذی میلہ الطبع الی الاسفل علی خلاف طبعہ الی جہۃ الاعلی فربما لاتقدر علیہ الاتدریجا کما ھو مرئی مشاھد فمادام الطبیعۃ فی الھیجان فھو سبب واحد وان تخلل الانقطاع فاذا سکنت ثم ھاجت فھو سبب جدید ھذا ماظھر لفھمی القاصر فتأمل وتبصر فلعل بعضہ یعرف وینکر۔

مختصر یہ کہ یہاں اتحاد سبب کی علامت یکے بعد دیگرے مسلسل نکلنا ہے----- اور اختلاف سبب کی علامت نہ طبعاً -----نہ جبراً ---- انقطاع کے درمیان میں حائل ہوتا اور بیچ بیچ میں خون کا خود اپنی طبیعت سے بند ہو جانا ہے----- اور قے میں ایسا نہیں----- کیوں کہ اس میں وہ ثقیل جس کا طبعی میلان نیچے آنے کی طرف ہوتا ہے برخلافِ طبع طبیعت اسے اوپر کی جانب دفع کرنے کی حاجت مند ہوتی ہے طبیعت زیادہ تر اس پر تدریجاً ہی قدرت پاتی ہے جیسا کہ یہ دیکھا اور مشاہدہ کیا ہوا ہے۔ تو جب تک طبیعت ہیجان میں ہو یہ ایک سبب ہے اور اگر بیچ میں انقطاع ہو گیا تو طبیعت میں جب سکون ہو جائے تو یہ سبب جدید ہے----- یہ وہ ہے جو میرے فہم قاصر پر منکشف ہوا تو اس میں تامّل اور نگاہِ غور کی ضرورت ہے۔ ہو سکتا ہے اس میں کچھ معروف ہو اور کچھ نا معروف ۔

الرابع ف انما المنقول عن ائمۃ المذھب رضی اللّٰہ تعالٰی عنھم فی النجس الخارج من غیر السبیلین شرط السیلان لیس الا وفیہ خلاف زفر، وخلاف بینھم ان السیلان مجرد العلو اومع الانحدار کما سمعت کل ذلک علی ھذا کانت کلما تھم حتی جاء الامام ابو الحسین احمد بن محمد القدوری رحمہ اللّٰہ تعالٰی فزاد فی الکتاب قید التجاوز الی موضع یلحقہ حکم التطھیر ثم تظافرت عامۃ الکتب علی اتباعہ متونا وشروحا وفتاوٰی ۔

تنبیہ چہارم ائمہ مذہب رضی اللہ تعالٰی عنہم سے سبیلین ( پیشاب ، پاخانہ کے راستوں ) کے علاوہ سے نکلنے والی نجس چیز کے بارے میں صرف سیلان ( بہنے ) کی شرط منقول ہے اور اس میں صرف امام زفر کا اختلاف ہے اور ان کے درمیان ایک اختلاف یہ ہے کہ سیلان صرف  چڑھنے کا نام ہے یا چڑھنے اور ڈھلکنے دونوں کے مجموعے کا ---- جیسا کہ یہ سب آپ سُن چکے ---- فقہاء کے کلمات اسی حد تک تھے یہاں تک کہ امام ابو الحسین احمد بن محمد قدوری رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ آئے تو انہوں نے اپنی کتاب میں ایک قید یہ بڑھائی کہ خون ایسی جگہ تجاوز کر جائے جسے ( وضو یا غسل میں ) پاک کرنے کا حکم ہوتا ہے پھر متون ، شروح اور فتاوٰی کی تقریباً ساری ہی کتابیں ان کے اتباع میں ہم نوا ہو گئیں ۔

فــــ:مسلہ تحقیق شریف ان النقض بالخروج الی مایجب تطہیرہ لامایندب خلافا للفتح والحلیۃ والبحر و الشرنبلالی والطحطاوی والشامی۔

قال فی المنیۃ تفسیر السیلان ان ینحدر عن رأس الجرح واما اذا علاعن رأس الجرح ولم ینحدر لایکون سائلا وقال بعضھم اذا خرج وتجاوز الی موضع یلحقہ حکم التطہیر فھو سیلان یعنی اذا خرج الدم من راسہ الی انفہ اواذنہ ان سال الی موضع یجب تطھیرہ عند الاغتسال ینتقض والافلا ۱؎ اھ منیہ میں ہے :سیلان کی تفسیر یہ ہے کہ خون سرِ زخم سے ڈھلک آئے اور سرِ زخم سے اوپر چڑھے اور نیچے نہ ڈھلکے تو سائل ( بہنے والا ) نہ ہو گا اور بعض نے کہا جب نکل کر ایسی جگہ تجاوز کر جائے جسے پاک کرنے کا حکم ہوتا ہے تو یہ سیلان ہے ----یعنی جب خون (مثلاً) اس کے سر سے ناک یا کان کی طرف نکلے اگر وہ ایسی جگہ بہہ جائے جس کو غسل کے وقت پاک کرنا واجب ہوتا ہے تو وہ ناقض ہے ورنہ نہیں ا ھ ۔

(۱؎ منیۃ المصلی ،کتاب الطہارۃ ،بیان نواقض الوضوء ،مکتبہ قادریہ لاہور،ص۹۰)

قال المولی الحلبی فی شرحہ الحلیۃ ھذا البعض ھو الشیخ ابو الحسین القدوری ومن حذا حذوہ ۲؎ اھ شیخ حلبی نے اس کی شرح حلیہ میں فرمایا : یہ بعض  شیخ ابو الحسین قدوری اور ان کے متبع حضرات ہیں ا ھ ۔

 (۲؎ حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی)

ثم الذی کانت تتوار دعلیہ کلماتھم من بعد ان ا لمراد بحکم التطھیر ھو الوجوب ولو فی الغسل کما افصح عنہ فی المنیۃ وقال العلامۃ ابرھیم الحلبی فی شرحھا الغنیۃ (الی موضع یلحقہ حکم التطہیر) ای یجب تطہیرہ فی الجملۃ فی الوضوء اوالغسل او ازالۃ النجاسۃ الحقیقیۃ ۱؎ اھ

پھر اس کے بعد سبھی حضرات کے کلمات کا اس پر توارد تھا کہ حکمِ تطہیر سے مراد وجوب ہے اگرچہ غسل ہی میں ہو ، (۱) جیسا کہ منیہ میں اسے صاف طور پر کہا ،
(۲) علامہ ابراہیم حلبی نے اس کی شرح منیہ میں لکھا : ( ایسی جگہ جس کی تطہیر کا حکم ہوتا ہے ) یعنی فی الجملہ وضو یا غسل میں اسے پاک کرنا یا نجاست حقیقیہ ( اس پر لگ جائے تو اس ) کا دور کرنا واجب ہوتا ہے ا ھ ۔

 (۱؎ غنیۃ المستملی شرح منیۃ المصلی    کتاب الطہارۃ     فصل فی نواقض الوضوء سہیل اکیڈمی لاہور    ص ۱۳۱ )

وقال الحدادی فی الجوھرۃ النیرۃ شرح مختصر القدوری قولہ یلحقہ حکم التطہیر یعنی یجب تطہیرہ فی الحدث اوالجنابۃ حتی لوسال الدم الی مالان من الانف نقض الوضوء ۲؎ اھ  (۳) اور حدادی نے مختصر قدوری کی شرح جوہرہ نیرہ میں لکھا : عبارت متن : ''یلحقہ حکم التطہیر '' ( اسے تطہیر کا حکم لاحق ہوتا ہے ''یعنی اسے حدث یا جنابت میں پاک کرنا واجب ہوتا ہے یہاں تک کہ خون اگر ناک کے نرم حصے تک بہہ آیا تو وضوٹوٹ جائیگا ا ھ ۔

(۲؎ الجوہرۃ النیرۃ     کتاب الطہارۃ    مکتبہ امدادیہ ملتان    ۱ /۹)

وقال الامام صدر الشریعۃ فی شرح الوقایۃ (سال الی مایطھر) ای الی موضع یجب تطھیرہ فی الجملۃ اما فی الوضوء او فی الغسل ۳؎ اھ (۴) امام صدر الشریعہ نے شرح وقایہ میں فرمایا : (ایسی جگہ بہہ جائے جسے پاک کیا جاتا ہے ) یعنی ایسی جگہ جسے پاک کرنا فی الجملہ وضو یا غسل میں واجب ہوتا ہے ا ھ ۔

 (۳؎ شرح الوقای، کتاب الطہارۃ ،  نواقض الوضوء ،مکتبہ امدادیہ ملتان ،۱ /۷۰)

وقال سلطان الوزراء العلامۃ ابن کمال باشا فی ایضاح الاصلاح (سال الی مایطھر) ای الی موضع یجب ان یطھر فی الوضوء او فی الغسل بالغسل او بالمسح ۱؎ اھ (۵) سلطان الوزراء علامہ ابن کمال پاشا نے ایضاح الاصلاح میں لکھا : (ایسی جگہ بہہ جائے جسے پاک کیا جاتا ہے ) یعنی ایسی جگہ جسے وضو یا غسل میں دھونے یا مسح کرنے کے ذریعہ پاک کرنا واجب ہوتا ہے ا ھ ۔

 ( ۱؎ فتح المعین بحوالہ ابن کمال باشا    کتاب الطہارۃ    ایچ ایم سعید کمپنی کراچی     ۱ /۴۰)

وقال العلامۃ اکمل الدین البابرتی فی العنایۃ شرح الھدایۃ ''قولہ یلحقہ التطہیر المراد ان یجب تطہیرہ فی الجملۃ کما فی الجنابۃ حتی لو سال الدم من الرأس الی قصبۃ الانف انتقض الوضوء لان الاستنشاق فی الجنابۃ  فرض ۲؎ اھ

 (۶) علامہ اکمل الدین بابرتی نے عنایۃ شرح ہدایہ میں فرمایا : عبارت متن : ''اسے تطہیر لاحق ہوتی ہے '' مراد یہ ہے کہ اسے پاک کرنا فی الجملہ واجب ہو جیسے جنابت میں۔۔ یہاں تک کہ اگر خون سر سے ناک کے بانسے کی طرف بہہ آیا تو وضو ٹوٹ گیا کیونکہ جنابت میں استنشاق ( ناک میں پانی چڑھانا ) فرض ہے ا ھ ۔

 ( ۲؎ العنایۃ شرح الہدایۃ علی ہامش فتح القدیر کتاب الطہارۃ     مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ /۳۳و۳۴)

وقال الامام فخرالدین الزیلعی فی تبیین الحقائق ''غیر السبیلین اذا خرج منھا شیئ و وصل الی موضع یجب تطہیرہ فی الجنابۃ ونحوہ ینقض الوضوء ۳؎ اھ (۷) امام فخر الدین زیلعی نے تبیین الحقائق میں فرمایا : ''جب غیر سبیلین سے کوئی نجس چیز نکلے اور ایسی جگہ پہنچ جائے جس کی تطہیر جنابت وغیرہ میں واجب ہوتی ہے تو وضو ٹوٹ جائیگا ا ھ ۔

 (۳؎ تبیین الحقائق     کتاب الطہارۃ    دار الکتب العلمیۃ بیروت ۱ /۴۷)

وقال الامام السید جلال الدین الکرلانی فی الکفایۃ اذا کان فی عینہ قرحۃ ووصل الدم منھاا لی جانب اٰخر من عینہ فلاینقض وضوئہ لانہ لم یصل الی موضع یجب غسلہ ۴؎ اھ (۸) امام جلال الدین کرلانی کفایہ میں رقم طراز ہیں :''اگر آنکھ میں پھنسی ہو اور خون اس سے نکل کر آنکھ ہی کی جانب دوسری طرف پہنچ جائے تو وضو نہ ٹوٹے گا کیوں کہ وہ ایسی جگہ نہ پہنچا جسے دھونا واجب ہو ا ھ۔

 (۴؎ الکفایہ شرح الہدایہ کتاب الطہارۃ المکتبۃ النوریۃالرضویۃ سکھر    ۱ /۳۴)

وقال السید برھان الدین ابرھیم بن ابی بکر بن محمد بن الحسین الاخلاطی الحسینی فی جواھرۃ ''خروج الدم الی وسط الاذن بحیث یجب ایصال الماء الیہ فی الاغتسال ناقض الوضوء ۱؎ اھ (۹) سیّد برہان الدین ابراہیم بن ابی بکر محمد بن حسین اخلاطی حسینی جواہر میں لکھتے ہیں :''کان کے وسط میں جس جگہ تک غسل کے اندر پانی پہنچانا واجب ہوتا ہے وہاں تک خون نکل آنا ناقضِ وضو ہے ا ھ ۔

 ( ۱؎جو ا ہر الا خلاطی،تاب الطہارۃ فصل فی نو اقض الوضوء قلمی ص۶)

وقال العلامۃ عبدالعلی البرجندی فی شرح النقایۃ قولہ الی مایطھر ای الی موضع یجب تطہیرہ فی الغسل ۲؎ اھ  (۱۰) علامہ عبد العلی برجندی شرح نقایہ میں فرماتے ہیں : ''قولہ الی ما یطہر----- یعنی ایسی جگہ جس کی تطہیر غسل میں واجب ہے ''۔ ا ھ

 (۲؎شرح النقایۃ للبرجندی     کتاب الطہارۃ     مطبع عالی نولکشور    ۱ /۲۱)

وقال الامام شیخ الاسلام بکر خواھر زادہ فی مبسوطہ علی مانقلہ عنہ فی الفتح والبحر وغیرھما تورم رأس الجرح فظھر بہ قیح ونحوہ لاینقض مالم یجاوز الورم لانہ لایجب غسل موضع الورم فلم یتجاوز الٰی موضع یلحقہ حکم التطہیر ۳؎ اھ  (۱۱) امام شیخ الاسلام بکر خواہر زادہ اپنی مبسوط میں رقم فرماتے ہیں جیسا کہ اس سے فتح ، بحر وغیرہما میں نقل کیا ہے ''سرِ زخم ورم کر گیا اس میں پیپ وغیرہ ظاہر ہوا تو جب تک ورم سے وہ تجاوز نہ کرے ناقض نہیں تو ایسی جگہ تجاوز نہ پایا گیا جسے تطہیر کا حکم لاحق ہو '' ا ھ

(۳؎فتح القدیر     کتاب الطہارۃ     المکتبۃ النوریۃ الرضویہ     بسکھر ۱ /۳۴)

وقال المولی حسام الدین السغناقی فی النہایۃ اول شروح الہدایۃ علی مااثرعنہ فی الحلیۃ فی شرح قولہ الی موضع یلحقہ حکم التطہیر المراد ان یجب تطہیرہ فی الجملۃ کما فی الجنابۃ ۴؎ اھ  (۱۲) حسام الدین سغناقی ہدایہ کی سب سے پہلی شرح نہایہ میں جیسا کہ اس سے حلیہ میں نقل کیا ہے عبارت متن '' الی موضع یلحقہ حکم التطہیر '' کی شرح میں لکھتے ہیں :''مراد یہ ہے کہ اس کی تطہیر فی الجملہ واجب ہو جیسے جنابت میں '' اھ

 (۴؎ النہایہ )

وھذا ھو المستفاد من معراج الدرایۃ شرح الھدایۃ ومن الملتقط ومن الدرر ومن غیرھا وسترد علیک نقولھا ان شاء اللّٰہ تعالٰی۔  (۱۳) جیسا کہ معراج الدرایہ شرح ہدایہ (۱۴) ملتقط (۱۵) درر اور ان کے علاوہ کتابوں سے مستفاد ہے سب کی عبارتیں ان شاء اللہ تعالٰی آگے نقل ہوں گی ۔

وبہ جزم العلامۃ عمر بن نجیم فی النھر الفائق  (۱۶) اسی پر علامہ عمر بن نجیم نے النہر الفائق میں جزم کیا ۔

وقال العلامۃ السید ابو السعود الازھری فی فتح اللّٰہ المعین نقلا عن ابیہ السید علی الحسینی ان المراد بحکم التطھیر وجوبہ فی الوضوء والغسل ولو بالمسح ۱؎ اھ (۱۷) اور علامہ سید ابو السعود ازہری نے فتح اللہ المعین میں ۱۸اپنے والد سید علی حسینی سے نقل کرتے ہوئے لکھا ہے کہ :''حکم تطہیر سے مراد اس کا وضو وغسل میں واجب ہونا ہے اگرچہ مسح ہی کے ذریعے''۔

 (۱؎فتح اللہ المعین     کتاب الطہارۃ     ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۱/ ۴۱)

فھذا ما ارتکز فی اذھان العامۃ جیلا فجیلا غیران المحقق علی الاطلاق الامام الہام کمال الدین محمد بن الھمام زادالندب ایضا حیث یقول لو خرج من جرح فی العین دم فسال الی الجانب الاٰخر منھا لاینتقض لانہ لایلحقہ حکم وجوب التطہیر اوندبہ بخلاف مالو نزل من الراس الی مالان من الانف لانہ یجب غسلہ فی الجنابۃ ومن النجاسۃ فینتقض ۲؎اھ

یہی بات عامہ علماء کے ذہن میں نسل در نسل ثبت رہی مگر محقق علی الاطلاق ا مام ہمام کمال الدین محمد بن الہمام نے مندوب ہونے کا بھی اضافہ کیا ، وہ لکھتے ہیں : ''اگر آنکھ کے اندر کسی زخم سے خون نکل کر آنکھ ہی کی دوسری جانب بہا تو وضو نہ ٹوٹے گا اس لئے کہ اسے تطہیر کے وجوب یا ندب کا حکم لاحق نہیں ہوتا بخلاف اس صورت کے جب خون سر سے ناک کے نرم حصے میں اتر آئے کیوں کہ اسے جنابت میں اور کوئی نجاست لگنے سے دھونا واجب ہوتا ہے تو وہ ناقضِ وضو ہو گا ا ھ ''

 (۲؎فتح القدیر کتاب الطہارۃ ،فصل فی نواقض الوضوء     مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر     ۱ /۳۴)

وتبعہ تلمیذہ المحقق فی الحلیۃ قائلا بعد نقلہ مایاتی عن الاتقانی فعلی ھذا المرادان یتجاوز الی موضع یجب طہارتہ او تندب کما اشرنا الیہ اٰنفا ۱؎ اھ

اور ان کے تلمیذ محقق نے حلیہ میں ان کا اتباع کیا اور اتقانی کے حوالے سے آنے والی عبارت نقل کرنے کے بعد لکھا : ''تو اس بنا پر مراد یہ ہو گی کہ ایسی جگہ تجاوز کر جائے جس کی طہارت واجب یا مندوب ہوتی ہے جیسا کہ اس کی جانب ہم نے اشارہ کیا '' ا ھ

 (۱؎حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی)

قلت۸۶: والاشارہ فی قولہ الی موضع یلحقہ حکم التطہیرای شرع فی حقہ الحکم الذی ھو التطہیر اھ فان المشروع یعم المندوب۔۲؎

قلت اشارہ الی موضع یلحقہ حکم التطہیر کے تحت ان کی اس عبارت میں ہے یعنی اس کے حق میں مشروع ہے وہ حکم جو تطہیر ہے ا ھ'' اس لئے کہ مشروع ، مندوب کو بھی شامل ہے ۔

 (۱؎حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی)

اقول: و ربما یترشح ھذا التعمیم من النہایۃ ایضاً فانہ مع تصریحہ بان المراد الوجوب کما تقدم فرع علیہ بقولہ حتی '' لوسال الدم الی قصبۃ الانف انتقض الوضوء لان الاستنشاق فی الجنابۃ فرض وفی الوضوء سنۃ وکذلک فی المبسوط ۳؎ اھ'' فان الاستنان لو لم یکف لکان ذکرہ عبثا الاان یقال المراد انہ وان لم یکن فی الوضوء الا سنۃ لکنہ فی الغسل فرض فتحقق التجاوز الی مایجب تطھیرہ فی الجملۃ فتکون زیادۃ ھذہ الجملۃ تحقیقا لقولہ فی ماسبق فی الجملۃ وھذا ھوالذی یتعین حمل کلامہ علیہ کیلا یخالف اٰخرہ اولہ۔

اقول:  یہ تعمیم نہایہ سے بھی کچھ مترشح ہوتی ہے کیوں کہ انہوں نے وجوب مراد ہونے کی تصریح مذکور کے باوجود اس پر تفریع میں یہ لکھا ہے : '' یہاں تک کہ خون اگر ناک کے بانسے کی طرف بہہ آیا تو وضو ٹوٹ گیا کیونکہ استنشاق جنابت میں فرض اور وضو میں سنت ہے ---- ایسا ہی مبسوط میں ہے'' ا ھ ۔ اس لئے کہ سنت ہونا اگر کافی نہ ہوتا تواس کا تذکرہ عبث ہوتا مگر یہ کہا جا سکتا ہے کہ مطلب یہ ہے کہ وضو میں اگرچہ صرف سنّت ہے لیکن غسل میں فرض ہے تو ایسی جگہ تجاوز متحقق ہو گیا جس کی تطہیر فی الجملہ واجب ہے تو اس جملے ( وضو میں سنت ہے )کا اضافہ دراصل اس لفظ ''فی الجملۃ '' کی تحقیق قرار پائے گا جو پہلے ان کی عبارت میں آ گیا ہے ------ اسی معنی پر ان کے کلام کو محمول کرنا متعین ہے تا کہ اس کا آخری حصہ ابتدائی حصے کے مخالف نہ ہو ۔

(۳؎النہایہ )

اقول ۸۸ :فـــــ وکذلک لظاہر کلام المحقق حیث اطلق تجاذب فی الاول والاٰخر فانہ عمم الندب ثم ذکر النزول الی مالان وعللہ بوجوب غسلہ فی الغسل ومعلوم ان المفہوم معتبر فی کلمات العلماء ولو کان الحکم عندہ کذلک فی النزول الی مااشتد کان الظاھر ان یذکرہ ویعللہ بندب غسلہ فی الغسل والوضوء کی یکون مثالا لما زاد من الندب ولایوھم خلاف المرام ھلکنہ رحمہ اللّٰہ تعالٰی لم یر بُدّا من اتباع العامۃ فانھم انما صورو المسألۃ ھکذا کما ستعرفہ ان شاء اللّٰہ تعالٰی ۔

اقول:  اسی طرح محقق علی الاطلاق کے بھی ظاہر کلام کے اندر اول تا آخر کے درمیان کش مکش پائی جاتی ہے کیوں کہ پہلے انہوں نے حکم کو ندب کے لئے بھی عام کر دیا پھر ناک کے نرم حصے تک خون اتر آنے کا ذکر کیا اور غسل میں اس کا دھونا واجب ہونے سے علت بیان کی اور معلوم ہے کہ کلماتِ علماء میں مفہوم معتبر ہوتا ہے اگر ان کے نزدیک ناک کے سخت حصے تک اتر آنے کا حکم ایسا ہی ہوتا تو ظاہر یہ تھا کہ اسے ذکر کرتے اور غسل اور وضو میں اسے دھونے کے مندوب ہونے سے اس کی تعلیل فرماتے تاکہ جو لفظ ''ندب '' انہوں نے بڑھایا اس کی ایک مثال ہو جاتی اور خلاف مقصود کا وہم نہ پیدا ہوتا لیکن حضرت محقق رحمہ اللہ تعالٰی نے عامّہ علماء کے اتباع سے کوئی مفر نہ دیکھا کیونکہ انہوں نے مسئلہ کی صورت اسی طرح رکھی ہے جیسا کہ آگے ان شاء اللہ تعالٰی معلوم ہو گا ۔

فـــــ: تطفل۵۷ علی الفتح ۔

ثم لم ارمن تبعہ بعدہ غیر تلمیذہ حتی اتی المحقق البحر فشید ارکانہ فی بحرہ قائلا انما فسرنا الحکم بالاعم من الواجب والمندوب لان مااشتد من الانف لاتجب طہارتہ اصلا بل تندب لما ان المبالغۃ فی الاستنشاق لغیر الصائم مسنونۃ وقد صرح فی معراج الدرایۃ وغیرہ بانہ اذا نزل الدم الی قصبۃ الانف نقض وفی البدائع اذا نزل الدم الی صماخ الاذن یکون حدثا وفی الصحاح صماخ الاذن خرقہا ولیس ذلک الا لکونہ یندب تطہیرہ فی الغسل ونحوہ فقول بعضھم المراد ان یصل الی موضع تجب طہارتہ محمول علی ان المراد بالوجوب الثبوت وقول الحدادی اذا نزل الدم الی قصبۃ الانف لاینقض محمول علی انہ لم یصل الی ما یسن ایصال الماء الیہ فی الاستنشاق توفیقا بین العبارات وقول من قال اذا نزل الدم الی مالان من الانف نقض لایقتضی عدم النقض اذا وصل الی مااشتد منہ الا بالمفہوم والصریح بخلافہ وقد اوضحہ فی غایۃ البیان والعنایۃ والمراد بالوصول المذکور سیلانہ ۱؎ اھ

پھر ان کے بعد ان کی تبعیت کرنے والا ان کے تلمیذ صاحبِ حلیہ کے سوا کسی کو میں نے نہ دیکھا یہاں تک کہ محقق صاحبِ بحر آئے تو انہوں نے البحر الرائق میں اس کے ستون مضبوط کئے اور فرمایا : ''ہم نے حکم کی تفسیر اس سے کی جو واجب اور مندوب دونوں کو عام ہے اس لئے کہ ناک سے سخت حصے کی طہارت بالکل (یعنی وضو اور غسل کسی میں بھی ) واجب نہیں بلکہ مندوب ہے اس لئے کہ غیر روزہ دار کے لئے اشتنشاق میں مبالغہ (یعنی نرم حصے سے بڑھا کر سخت تک پانی چڑھا دینا ) مندوب ہے---- اور معراج الدرایہ وغیرہ میں تصریح ہے کہ خون جب ناک کے بانسے تک اُتر آئے تو ناقضِ وضو ہے اور بدائع میں ہے : خون جب صماخِ گوش ( کان کے سوراخ ) تک اُتر آئے تو حدث ثابت ہو جائے گا ، صحاح میں صماخِ اذن کا معنی کان کا شگاف لکھا ہے اور یہ اسی لئے ہے کہ اس کی تطہیر غسل وغیرہ میں مندوب ہے تو بعض حضرات کا یہ فرمانا کہ '' مراد ایسی جگہ پہنچنا ہے جس کی طہارت واجب ہے '' ----- اس پر محمول ہو گا کہ واجب ہونے کا مطلب ثابت ہونا ہے اور حدادی کی عبارت : ''اذا نزل الدم الی قصبۃالانف لا ینقض  (خون جب ناک کے بانسے تک اتر آئے تو ناقض نہیں ) ''اس پر محمول ہو گی کہ اس جگہ تک نہ پہنچے جہاں استنشاق میں پانی پہنچانا مسنون ہے تاکہ عبارتوں میں تطبیق ہو جائے اور بعض حضرات کے کلام میں آیا ہے کہ ''جب خون ناک کے نرم حصے تک اتر آئے تو ناقضِ وضو ہے '' اس کا تقاضا یہ نہیں کہ جب سخت حصے تک پہنچے تو ناقضِ وضو نہیں مگر یہ کہ اس کا مفہوم لیا جائے حالاں کہ صریح اس کے برخلاف ہے اور غایۃ البیان و عنایہ میں سے واضح طور پر لکھا ہے اور وصول (پہنچنا ) جو مذکور ہوا اس سے مراد سیلان (بہنا ) ہے ا ھ ۔

 (۱؎البحر الرائق کتاب الطہارۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی۱ /۳۱۔۳۲)

اقول:  فــــ تاویلہ کلام الحدادی فی السراج الوھاج کانہ یرید بہ ان ''الی'' فی کلامہ لاخراج الغایۃ ای نزل الدم من الراس وانتھی الی مبدء مااشتد من الانف من دون ان ینزل منہ شیئ فیہ ،وھذا کان محتملا لولا ان الحدادی صرح فی مختصر سراجہ ان المراد بالحکم الوجوب وفرع علیہ تقیید الانتقاض بالنزول الی مالان کما تقدم وسیأتی عنھا ماھو انص واجلی وردہ اخوہ وتلمیذہ العلامۃ عمر فی النھر الفائق بقولہ'' وھذا وھم وانی یستدل بما فی المعراج وقد علل المسألۃ بما یمنع ھذا الاستخراج فقال مالفظہ لونزل الدم الی قصبۃ الانف انتقض بخلاف البول اذا نزل الی قصبۃ الذکر ولم یظھر فانہ لم یصل الی موضع یلحقہ حکم التطھیر وفی الانف وصل فان الاستنشاق فی الجنابۃ فرض کذا فی المبسوط اھ وقد افصح ھذا التعلیل عن کون المراد بالقصبۃ مالان منھا لانہ الذی یجب غسلہ فی الجنابۃ ولذا قال الشارح (ای شارح الکنز یرید الامام الزیلعی) لو نزل الدم من الانف انتقض وضوؤہ اذا وصل الی مالان منہ لانہ یجب تطھیرہ وحمل الوجوب فی کلامہ عن الثبوت مما لاداعی الیہ وعلی ھذا فیجب ان یراد بالصماخ الخرق الذی یجب ایصال الماء الیہ فی الجنابۃ وبھذا ظھر ان کلامھم مناف لتلک الزیادۃ اھ ۱؎ کلام النھر۔

اقول:  حدادی کی عبارتِ سراج وہاج کی جو تاویل کی ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ صاحبِ بحر یہ مراد لے رہے ہیں کہ عبارت سراج میں لفظ '' الی '' غایت کو خارج کرنے کے لئے ہے یعنی خون سر سے اُترے اور ناک کے سخت حصے کے شروع تک پہنچے خود اس حصے میں ذرا بھی نہ اُترے ، یہ احتمال تو تھا اگر حدادی نے اپنی مختصر سراج میں یہ تصریح نہ کر دی ہوتی کہ حکم سے وجوب مراد ہے اور اس پر تفریع کرتے ہوئے وضو ٹوٹنے کو خون کے نرم حصے تک اُتر آنے سے مقید نہ کیا ہوتا جیسا کہ گزرا اور آگے ان کی اس سے بھی زیادہ صریح اور روشن و واضح عبارت آ رہی ہے ، صاحبِ بحر کی تردید میں ان کے برادر اور تلمیذ علامہ عمر نے النہر الفائق میں یہ لکھا ہے : یہ وہم ہے اور معراج کی عبارت سے استدلال کیسا ، جبکہ اس میں مسئلہ کی تعلیل ان الفاظ سے بیان ہوئی ہے جو یہ مطلب لینے سے مانع ہیں ، ان کے الفاظ یہ ہیں : خون اگر ناک کے بانسے تک اُتر آئے تو وضو ٹوٹ جائے گا برخلاف اس صورت کے جب پیشاب ذکر کی نالی تک اُتر آئے اور ظاہر نہ ہو ، اس لئے کہ یہ ایسی جگہ نہ پہنچا جسے تطہیر کا حکم ہے اور ناک میں ایسی جگہ پہنچ گیا اس لئے کہ جنابت میں استنشاق فرض ہے ، ایسا ہی مبسوط میں ہے ا ھ۔ اس تعلیل نے تو صاف بتا دیا کہ بانسے سے مراد اس کا نرم حصہ ہے اس لئے کہ یہی وہ ہے جسے جنابت میں دھونا فرض ہے ، اسی لئے شارح فرماتے ہیں (یعنی کنز الدقائق کے شارح مراد ہیں امام زیلعی ) : اگر خون ناک سے اترا تو وضو ٹوٹ جائے گا جب اس کے نرم حصے تک پہنچ گیا ہو اس لئے کہ اس کی تطہیر واجب ہے اور ان کے کلام میں لفظ وجوب کو معنی ثبوت پر محمول کرنے کا کوئی داعی نہیں ،اس بنا پر ضروری ہے کہ صماخ سے وہ شگاف مراد ہو جہاں جنابت میں پانی پہنچانا واجب ہے ، اسی سے واضح ہو گیا کہ ان حضرات کی عبارتیں اس اضافے (ندب ) کے منافی ہیں ا ھ نہر کی عبارت ختم ۔

 (۱؎ النہر الفائق     کتاب الطہارۃ     قدیمی کتب خانہ کراچی    ۱ /۵۲)

فـــــ:تطفل ۵۸ علی البحر۔

اقول:  کفی بابداء فـــ۱ التوفیق بین کلماتھم داعیا الیہ ان امکن وکلام المعراج فــــــــ ۲ان لم یثبت الزیادۃ فلا ینفیھا وکلام الشارح فـــــــــــــــ۳ انما ینا فی بلحاظ مفھوم المخالفۃ وقد اجاب عنہ البحر بان المفہوم لایعارض الصریح فیجب عندہ ان یراد المفہوم غیر مراد کی لاتتعارض کلمات الاسیاد۔

اقول:  داعی ہونے کے لئے ان حضرات کی عبارتوں میں بشرطِ امکان تطبیق پیدا کرنے کا مقصد کافی ہے۔اور معراج کی عبارت اگر اس اضافے کو ثابت نہیں کرتی تو اس کی تردید بھی نہیں کرتی اور شارح (امام زیلعی ) کے کلام میں مفہومِ مخالفت کا لحاظ کیا جائے جب ہی وہ اس کے منافی ہو گا ۔ صاحبِ بحر اس کا جواب دے چکے ہیں کہ مفہوم ، صریح کے معارض و مقابل نہیں ہوتا تو ان کے نزدیک ضروری ہے کہ مفہوم مراد نہ ہو تا کہ ان حضرات کے کلام میں تعارض نہ ہو سکے ۔

فــــ۱:تطفل۹ ۵ علی النھر  فــــ۲:تطفل ۶۰ اٰخر علیہ فــــ۳:تطفل ۶۱ ثالث علیہ

نعم فی الاستناد بالمعراج منع ظاھر فان ظاھر قولہ نزل الی قصبۃ الانف وان کان مفید التعمیم مااشتد وما لان فان بالنزول الی مااشتد یتحقق النزول الی القصبۃ قطعا وان لم یصل الی المارن لکن یکدرہ تعلیلہ اٰخرا بافتراض الاستنشاق کما ذکرہ فی النھر۔

ہاں معراج سے استناد پر کھلا ہوا منع وارد ہوتا ہے ، اس لئے کہ ان کا ظاہر کلام ''ناک کے بانسے تک اُترے '' اگرچہ سخت و نرم دونوں حصوں کی تعمیم کا افادہ کر رہا ہے کیونکہ سخت حصے میں اُترنے سے بھی بانسے میں اترنا قطعاً متحقق ہو جاتا ہے اگرچہ نرم حصے تک نہ پہنچے لیکن یہ تعمیم مکدّر اور نامعقول ہو جاتی ہے جب آخر میں وہ اس کی علّت استنشاق کی فرضیت سے بیان کرتے ہیں جیسا کہ نہر میں ذکر کیا ۔

اقول۹۳:لا سیمافــــــ۴ وقد ترک علی مانقل فی النھر من کلام المبسوط لفظۃ وفی الوضوء سنۃ کما تقدم نقلہ عن الحلیۃ عن النھایۃ عن المبسوط فلوکان مرادہ العموم لما ترک مایفیدہ واقتصر علٰی مالا یعطیہ۔

اقول؛  ایک خاص بات یہ بھی ہے کہ مبسوط میں یہ الفاظ بھی تھے کہ ''اور وضو میں سنّت ہے '' جیسا کہ حلیہ کی عبارت میں بواسطہ نہایہ ، مبسوط سے نقل گزری لیکن جیسا کہ نہر نے نقل کیا معراج میں مبسوط کے وہ الفاظ ترک کر دئیے ہیں تو اگر صاحبِ معراج کا مقصود عموم ہوتا تو اس کا افادہ کرنے والے الفاظ وہ ترک کر کے صرف اس قدر پر اکتفا نہ کرتے جو عموم کا معنی نہیں دیتی ۔

فــــ۴: تطفل ۶۲ اٰخر علی البحر بتائید کلام ا النھر۔

وانتصر العلامۃ الشامی للبحر الرائق فی منحۃ الخالق فقال یتعین ان یحمل قول المعراج فان الاستنشاق فی الجنابۃ فرض علی معنی ان اصل الاستنشاق فرض وان یبقی اول کلامہ علی ظاھرہ من غیر تاویل ۱؎ الخ

علامہ شامی نے منحۃ الخالق میں البحر الرائق کی حمایت کی ہے اور لکھا ہے کہ : عبارت معراج : استنشاق جنابت میں فرض ہے '' کو اصل استنشاق فرض ہو نے کے معنی پر محمول کرنا اور اس کی ابتدائی عبارت کو بغیر کسی تاویل کے ظاہر پر باقی رکھنا متعین ہے الخ۔

 (۱؎ منحۃ الخالق علی البحر الرائق     کتاب الطہارۃ،ایچ ایم سعید کمپنی کراچی۱ /۳۱و۳۲)

اقول۹۴: کیف فــــــ۱ یخالف بین محملیھما مع ان اخرہ علی اولہ دلیل قال'' لما سیأتی قریبا عن غایۃ البیان عن النقض بالوصول الی قصبۃ الانف قول اصحابنا وان اشتراط الوصول الی مالان منہ قول زفر ۲؎ الخ

اقول:  دونوں کے مطلب میں مخالفت کیسے ہو گی جبکہ آخر کلام کو اول کی دلیل بنایا ہے آگے اپنی تائید میں علامہ شامی یہ لکھتے ہیں : اس لئے کہ آگے غایۃ البیان کے حوالے سے آ رہا ہے کہ ناک کے بانسے تک خون پہنچ آنے سے وضو ٹوٹ جانا ہمارے اصحاب کا قول ہے اور نرم حصے تک پہنچنے کی شرط امام زفر کا قول ہے الخ ۔

فـــــ:معروضۃ ۶۳علی العلامۃ الشامی

 (۲؎ منحۃ الخالق علی البحر الرائق     کتاب الطہارۃ    ایچ ایم سعید کمپنی کراچی۱ /۳۲)

اقول۹۵: ھذا فـــ۱کان لہ محل لو ان المعراج کان ھو المتفرد بھذا فکان یجب ردکلامہ الی وفاق الجمہورمھما امکن لکن عامۃ الکتب مصرحۃ ھھنا بتقیید النقض بما لان کما ستسمعہ ان شاء اللّٰہ تعالٰی فجعلھم جمیعا غافلین عما حکی الاتقانی فی غایۃ البیان فی غایۃ البعد غایۃ الامر ان یحمل علی اختلاف الروایات فانی یجب رد مافی المعراج الی مافی الغایۃ۔

اقول:  اس کا موقع تھا اگر تنہا صاحبِ معراج اس خصوص کے قائل ہوتے ، ایسی صورت میں جہاں تک ہو سکے ان کے کلام کو جمہور کی موافقت کی جانب پھیرنا واجب ہوتا لیکن عامہ کتب نے وضو ٹوٹنے کونرم حصے تک پہنچنے سے صراحۃً مقید کیا ہے جیسا کہ ان شاء اللہ آگے ان کی عبارتیں پیش ہوں گی ----تو اتقانی نے غایۃ البیان میں جو حکایت کی ہے اس سے سب ہی کو غافل ٹھہرانا انتہائی بعید ہے ، زیادہ سے زیادہ یہ ہو سکتا ہے کہ اختلافِ روایات مانا جائے پھر عبارتِ معراج کو عبارتِ غایہ کی جانب پھیرنا کیسے ضروری ہو گا ۔

فــــ۱: معروضۃ ۶۴ اخری علی العلامۃ ش۔

ثم۹۶: علی فــــــــ۲ ھذا ایضا انما کان السبیل ان یحمل کلامہ اولا واٰخرا علی بیان مااذا نزل الی مالان والسکوت عما نزل الی مااشتد کما اختارہ البحرلا ان یجعل اٰخر کلامہ مخالفا لاولہ مع کونھما مطلبا ودلیلا قال۔'' وان قول من قال اذا وصل الی مالان منہ لبیان الاتفاق وکانّ صاحب النھر لم یطلع علی ذلک حتی قال ماقال ۱؎ اھ

پھر اس بنیاد پر بھی راہ یہی تھی کہ کلامِ معراج اوّل و آخر دونوں جگہ نرم حصہ تک خون اترنے سے متعلق حکم کے بیان اور سخت حصے تک اترنے سے متعلق سکوت پر محمول کیا جائے جیسا کہ بحر نے اختیار کیا ، نہ یہ کہ آخر کلام کو اول کے خلاف بنایا جائے باوجودیکہ ایک مدعا ہے دوسرا دلیل ۔علامہ شامی آگے فرماتے ہیں :اور جس نے یہ لکھا ہے کہ ''جب خون نرم حصے تک پہنچ جائے '' اس کا مقصد ایسی صورت رکھنا ہے جس پر امام زفر کا بھی اتفاق ہو--------شاید صاحبِ نہر اس (تصریح غایۃ البیان ) سے آگاہ نہ ہوئے اور وہ سب کہہ گئے ا ھ ۔

فـــ۲: معروضۃ ۶۵ ثالثۃ علیہ۔

 ( ۱؎منحۃالخالق علی البحر الرائق     کتاب الطہارۃ    ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۱ /۳۲)

اقول۹۷: ھذا انما یتمشی فی عبارۃ الھدایۃ وفیھا کلام الاتقانی دون سائر العبارات المتظافرۃ الافی بعضھا بتعسف شدید ھذا۔

اقول : یہ توجیہ صرف ہدایہ کی عبارت میں چل سکتی ہے اسی کے بارے میں اتقانی کی گفتگو بھی ہے ، دوسری بہت ساری عبارتوں میں یہ توجیہ نہیں ہو سکتی ہاں بعض میں شدید تکلف کے بعد ممکن ہے ۔ یہ بحث تمام ہوئی ۔

ولنأت علی ماذکر الاتقانی فاعلم ان الامام برھان الدین قال فی الھدایۃ فی صدر الفصل المعانی النا قضۃ للوضوء کل مایخرج من السبیلین والدم والقیح اذا خرجا من البدن فتجاوزا الی موضع یلحقہ حکم التطہیر ۲؎۔ثم ذکر مسائل القیئ الی ان ذکرقیئ الدم ثم قال ولو نزل من الرأس الٰی مالان من الانف نقض بالاتفاق لوصولہ الی موضع یلحقہ حکم التطہیر فیتحقق الخروج ۳؎ اھ

اب ہم اس پر آتے ہیں جو اتقانی نے ذکر کیا ۔ پہلے یہ جان لیجئے کہ امام برہان الدین نے فصل نواقض وضو کے شروع میں فرمایا : ہر وہ چیز جو سبیلین سے خارج ہو----- اور خون اور پیپ جب یہ دونوں ، بدن سے نکل کر کسی ایسی جگہ تجاوز کر جائیں جسے تطہیر کا حکم لاحق ہے '' ----پھر قے کے مسائل بیان کئے یہاں تک کہ خون کی قے کا ذکر کیا ، پھر فرمایا :'' اور اگر سر سے ناک کے اس حصے تک اُتر آئے جو نرم ہے تو بالاتفاق ناقضِ وضو ہے کیونکہ خون ایسی جگہ پہنچ گیا جس کی تطہیر کا حکم ہوتا ہے تو خروج متحقق ہو جائے گا ۔ '' ا ھ ۔

فــــ:معروضۃ رابعۃ علیہ ۔

 (۲؎ الہدایہ     کتاب الطہارۃ    فصل فی نواقض الوضوء     المکتبۃ العربیۃ کراچی         ۱ /۸)
(۳؎ الہدایہ    کتاب الطہارۃ    فصل فی نواقض الوضوء     المکتبۃ العربیۃ کراچی        ۱ /۱۰)

قال العلامۃ الاتقانی قولہ الی مالان من الانف ای الی المارن وما بمعنی الذی ،فان قلت لم قید بھذا القید مع ان الروایۃ مسطورۃ فی الکتب عن اصحابنا ان الدم اذا نزل الی قصبۃ الانف ینقض الوضوء ولاحاجۃ الی ان ینزل الی مالان من الانف فای فائدۃ فی ھذا القید اذن سوی التکرار بلا فائدۃ لان ھذا الحکم قد علم فی اول الفصل من قولہ والدم والقیح اذا خرجا من البدن فتجاوزا الی موضع یلحقہ حکم التطہیر قلت بیان لاتفاق اصحابنا جمیعا لان عند زفر لاینتقض الوضوء مالم ینزل الدم الی مالان من الانف لعدم الظہور قبل ذلک اھ (قال فی المنحۃ بعد نقلہ) وھو شاھد قوی علی ماقالہ (ای صاحب البحر)فلا تغتر بتزییف صاحب النھر واللّٰہ تعالٰی ولی التوفیق ۱؎ اھ

علامہ اتقانی لکھتے ہیں : ا ن کی عبارت ''الی ما لان من الانف -------ناک کے اس حصے تک اُتر آئے جو نرم ہے '' اس سے مراد ''مارن '' (نرمہ) ہے. اور ''ما '' بمعنی الذی ہے . اگر اعتراض ہو کہ قید کیوں لگائی جب کہ ہمارے اصحاب کی کتابوں میں روایت یوں لکھی ہوئی ہے کہ خون جب ناک کے بانسے تک اتر آئے تو ناقضِ وضو ہے. اور اس کی ضرورت نہیں کہ ناک کے نرم حصے تک اترے ایسی صورت میں اس قید کا کیا فائدہ ؟. سوا اس کے کہ بے سُود تکرار ہو کیونکہ یہ حکم تو وہیں معلوم ہو گیا جو شروع فصل میں فرمایا :اور خون اور پیپ جب یہ بدن سے نکل کر کسی ایسی جگہ تجاوز کر جائیں جسے تطہیر کا حکم لاحق ہے ''----تو میں کہوں گا یہ اس صورت کا بیان ہے جس میں ہمارے تمام اصحاب کا اتفاق ہے اس لئے کہ امام زفر کے نزدیک جب تک نرم حصے تک نہ اترے وضو نہیں ٹوٹتا اس لئے کہ اس سے پہلے ظہور ثابت نہیں ہوتا '' ا ھ ، اسے علامہ شامی نے منحۃ الخالق میں نقل کرنے کے بعد فرمایا : یہ صاحبِ بحر کے کلام پر قوی شاہد ہے تو صاحبِ نہر کی تردید سے دھوکے میں نہیں پڑنا چاہئے اور خدائے تعالٰی ہی توفیق کا مالک ہے ا ھ۔

 (۱؎منحۃالخالق علی البحر الرائق     کتاب الطہارۃ        ایچ ایم سعید کمپنی کراچی۱ /۳۲)

وذکر مثل کلامہ الذی نقلنا ھھنا مع قلیل زیادۃ فی رسالۃ الفوائد المخصصۃ واورد خلاصتہ فی ردالمحتار وختمہ بقولہ'' فھذا صریح فی ان المراد بالقصبۃ مااشتد فاغتنم ھذا التحریر المفرد ۱؎ الخ۔

اسی طرح کی بات علامہ شامی نے تھوڑے اضافے کے ساتھ اپنے رسالہ '' الفوائد المخصصہ ''میں بھی ذکر کی ہے------- اس کا خلاصہ ردالمحتار میں بھی لکھا ہے اور اسے اس عبارت پر ختم کیا ہے : ''تو یہ اس بارے میں صریح ہے کہ بانسے سے مراد اس کا سخت حصہ ہے ۔ اس منفرد تحریر کو غنیمت جانو ''۔ الخ

 (۱؎رد المحتار کتاب الطہارۃ مطلب نواقض الوضوء مکتبہ داراحیاء التراث العربی بیروت ۱ /۹۱)

اقول ۹۸: فــــ ۱نعم ھو صریح فی ان المراد فی تلک الروایۃ مااشتد اما عبارۃ المعراج التی فیھا کلام البحر والنھر فلا مساغ فیھا للحمل علی مااشتد للزوم الاختلاف بین الدلیل والمدعی کما علمت فالحق ان استناد البحر بھا لیس فی محلہ۔ اقول ہاں یہ اس بارے میں صریح ہے کہ اس روایت میں سخت حصہ ہی مراد ہے لیکن عبارتِ معراج جس میں بحر و نہر کی گفتگو ہے اسے ''سخت حصے '' پر محمول کرنے کی گنجائش نہیں اس لئے کہ دلیل اور دعوٰی کے درمیان اختلاف لازم آتا ہے ، جیساکہ معلوم ہو ا تو حق یہی ہے کہ اس سے بحر کا استناد بے جا ہے ۔

فــــ ۱:معروضۃ خامسۃ علیہ ۔

ثم اقول :  ان کان مراد الہدایۃ بالحکم الوجوب کما ھو المتبادر من کلامہ فانہ انما جعلہ واصلا الی مایلحقہ حکم التطھیر بعد نزولہ الی مالان فمعلوم ان المارن داخل من وجہ وخارج من وجہ یلحقہ حکم التطھیر فی الغسل ولا یلحقہ فی الوضوء فالتنصیص علی مثل ھذا لایعد عبثا ولا تکرارا فیسقط سؤال الغایۃ من رأسہ۔

ثم اقول اگر حکم سے ہدایہ کی مراد وجوب ہو جیسا کہ اس کی عبارت سے یہی متبادر ہے---- کیونکہ اس میں خون کو نرم حصے تک پہنچنے کے بعد ہی اس جگہ تک پہنچنے والا قرار دیا ہے جسے حکم تطہیر لاحق ہوتا ہے تو یہ معلوم ہے کہ نرمہ ایک طرح سے داخل ہے اور ایک طرح سے خارج ہے ، غسل میں اسے تطہیر کا حکم لاحق ہوتا ہے اور وضو میں لاحق نہیں ہوتا اس لئے ایسی چیز سے متعلق تصریح کر دینے کو بے فائدہ اور تکرار شمار نہ کیا جائے گا تو غایۃ البیان کا اعتراض ہی سرے سے ساقط ہے ۔

فـــ تطفل۶۷ علی العلامۃ الاتقانی

وعلی ف۱ ھذا فالعجب من العلامۃ صاحب العنایۃ رحمہ اللّٰہ تعالٰی حیث صرح ان المراد بالحکم الوجوب ثم تبع الغایۃ فی ایراد ھذا السؤال والجواب وزادان ''قولہ (ای قول الھدایۃ) لوصولہ الی موضع یلحقہ حکم التطہیر یعنی بالاتفاق لعدم الظہور قبل ذلک عند زفر ۱؎ اھ واعترضہ العلامۃ سعدی افندی فی حاشیتہ علیھا قائلا'' فیہ بحث ۲؎ اھ ولم یبین وجہہ۔

اس تفصیل کے پیشِ نظر علامہ صاحبِ عنایہ رحمہ اللہ تعالٰی پر تعجب ہے کہ انہوں نے حکم سے وجوب مراد ہونے کی تصریح کی پھر بھی یہ اعتراض و جواب ذکر کرنے میں غایۃ البیان کی پیروی کر لی اور مزید یہ لکھا کہ : عبارت ہدایہ ''لوصولہ الخ ----کیوں کہ خون ایسی جگہ پہنچ گیا جس کی تطہیر کا حکم ہوتا ہے اس سے مراد کہ ایسی جگہ پہنچ گیا جس کی تطہیر کاحکم بالاتفاق ہے۔ کیونکہ نرم حصے تک پہنچنے سے پہلے امام زفر کے نزدیک ظہور ثابت نہیں ہوتا اھ۔ اس پر علامہ سعدی آفندی نے اپنے حاشیہ عنایہ میں یہ کہہ کر اعتراض کیا کہ '' اس میں بحث ہے '' اور وجہ بحث بیان نہ کی ۔

ف۱ تطفل ۶۹ علی العنایۃ ۔

 (۱؎العنایہ شرح الہدایۃ علی ہامش فتح القدیر کتاب الطہارۃ فصل فی نواقض الوضوء مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر۱ /۴۲)
(۲؎ حاشیۃسعدی آفندی علی ہامش فتح القدیر کتاب الطہارۃ فصل فی نواقض الوضوء مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر۱ /۴۲)

اقول : وجہ ف۲التقریر علی ھذا التقدیران ائمتنا الثلثلۃ رضی اللّٰہ تعالٰی عنھم یعتبرون السیلان الی مایلحقہ حکم التطھیر ولو ندبا و زفر وان اجتزأ بمجردا لظھورلکن یجب عندہ الوصول الی ماھو ظاھر البدن اذلا ظھور قبل ذلک فما دام الدم فی ما اشتدت من الانف سائلا فیہ غیر واصل الی مالان یتحقق الناقض عند الائمۃ لندب غسلہ فی الغسل والوضوء لاعندالامام زفر لان مااشتد لیس من ظاھر البدن عند احد فلا یتحقق الظہور اما اذا تجاوز حتی وصل الی الحرف الاول مما لان فقد تحقق الناقض علی القولین اما علی قول الائمۃ فظاھر واما علی قول زفر فلظھورہ علی ظاھر البدن فیتحقق الخروج۔

اقول: اس تقدیر پر صورت تقریر یہ ہو گی کہ ہمارے تینوں ائمہ رضی اللہ تعالی عنہم اس جگہ بہنے کا اعتبار کرتے ہیں جسے تطہیر کا حکم ہو اگرچہ بطور ندب ہو۔اور امام زفر نے اگرچہ خون بہنے کے بجائے صرف ظاہر ہونے پر اکتفا کیا ہے لیکن ان کے نزدیک ایسی جگہ پہنچنا واجب ہے جو ظاہر بدن ہو کیونکہ ظہور اس سے پہلے ہو گا ہی نہیں تو خون جب تک ناک کے سخت حصے میں بہہ رہا ہے نرم حصے تک پہنچا نہیں ہے اس وقت ائمہ ثلاثہ کے نزدیک ناقض متحقق ہے اس لئے کہ غسل و وضو میں اس حصے کو دھونا مندوب ہے جبکہ امام زفر کے نزدیک ناقض متحقق نہیں کیونکہ سخت حصہ کسی کے نزدیک ظاہر بدن میں شمار نہیں تو ظہور ثابت نہیں لیکن جب ذرا آگے بڑھ کر نرم حصے کے پہلے کنارے تک پہنچ جائے تو دونوں ہی قول پر ناقض متحقق ہو گیا ۔ قولِ ائمہ پر تو ظاہر ہے اور قول امام زفر پر اس لئے کہ خون ظاہر بدن پر ظاہر ہو گیا تو خروج متحقق ہو جائے گا ۔

فــــ ۲ تطفل۷۰ علی العلامۃ سعدی آفندی

فقولہ لوصولہ الخ یعنی بالاتفاق فان مراد زفر بالوصول مجرد الظھور وبما یلحقہ حکم التطھیر ظاھر البدن ومراد الائمۃ بالوصول السیلان وبما یلحقہ التطھیر ماشرع تطھیرہ ولو ندبا فاذا وصل الی ھنا حصل الوصول بالمعنیین الی مایطھر علی القولین وھذا تقریر صاف واف لابحث فیہ ولا غبار علیہ۔

اب کلامِ عنایہ میں جو آیا کہ فقولہ لوصولہ الخ یعنی بالاتفاق اس کا مطلب واضح ہے اس لئے کہ پہنچنے سے امام زفر کی مراد محض ظاہر ہونا ہے اور ''جسے حکم تطہیر لاحق ہے '' سے ان کی مراد ظاہر بدن ہے۔ اور پہنچنے سے ائمہ کی مراد بہنا ہے اور "جسے حکم تطہیر لاحق '' سے ان کی مراد وہ جس کی تطہیر مشروع ہے اگرچہ ندب کے طور پر ہو تو خون جب نرم حصے تک پہنچ گیا تو دونوں قول کے مطابق جسے حکمِ تطہیر لاحق ہے اس تک پہنچنے کا دونوں معنی حاصل ہو گیا یہ---- صافی وافی تقریر ہے جس میں نہ کوئی بحث ہے اور نہ اس پر کوئی غبار ہے ۔

بقی الفحص عن الروایۃ اقول لانمتری ان صاحب الغایۃ ثقۃ الی الغایۃ وقد اعتمد کلامہ فی العنایۃ وجزم بہ فی الحلیۃ حتی حکم باعتمادہ علی صاحب المنیۃ وعلی من ھو اجل واکبر اعنی الامام برھان الدین محمود صاحب الذخیرۃ انھما مشیا ھھنا علی قول زفر۔ لکن الذی رأیتہ فیما بیدی من الکتب ھو المشی علی التقیید والحکم علیھم جمیعا انھم اغفلوا المذھب ومشوا علی قول زفرفی غایۃ الاشکال۔

اب رہی روایت کی تفتیش اقول ہم اس میں شک نہیں رکھتے کہ صاحب غایہ نہایت درجہ ثقہ ہیں ، ان کے کلام پر صاحبِ عنایہ نے اعتماد کیا اور اس پر صاحبِ حلیہ نے جزم کیا یہاں تک کہ ان پر اعتماد کر کے صاحبِ منیہ اور ان سے بھی برتر بزرگ امام برہان الدین محمود صاحبِ ذخیرہ کے خلاف فیصلہ کر دیا کہ یہ دونوں حضرات یہاں امام زفر کے قول پر چلے گئے ہیں ۔لیکن مجھے جو کتابیں دستیاب ہیں ان میں میں نے تقیید ہی پر مشی پائی اور سب کے خلاف یہ فیصلہ کرنا کہ یہ حضرات مذہب کو براہِ غفلت چھوڑ کر امام زفر کے قول پر چلے گئے ، انتہائی مشکل امر ہے ۔

وقد اسمعناک نصوص المنیۃ ۱والجوھرۃ۲ والتبیین۳ ومعراج الدرایۃ بل والفتح۵ والعنایۃ۶ والنھایہ۷ وفی الجوھرۃ ایضاً لو سال الدم الی مالان من الانف والانف مسدودۃ نقض اھ۱؎ وفیھا ایضا احترز بقولہ حکم التطھیر عن داخل العین وباطن الجرح وقصبۃ الانف ۲؎ اھ

ہم (۱) منیہ (۲) جوہرہ (۳) تبیین (۴) معراج الدرایہ (۵) بلکہ فتح القدیر (۶) عنایہ (۷) اور نہایہ کی عبارتیں پیش کر چکے ہیں اور جوہرہ میں دو یہ عبارتیں اور ہیں ۔ :(ا) اگر ناک بند ہے اور خون ناک کے نرم حصے تک بہہ آیا تو وضو ٹوٹ گیا ۔ (ب) حکمِ تطہیر کہہ کر آنکھ کے اندونی حصے ، زخم کے اندونی حصے اور ناک کے بانسے سے احتراز کیا ہے ا ھ ۔

 (۱ ؎الجوہرۃ النیرہ کتاب الطہارۃ مکتبہ امدادیہ ملتان ۱ /۹ )
(۲؎؎ الجوہرۃ النیرہ کتاب الطہارۃ مکتبہ امدادیہ ملتان ۱ /۹ )

وفی خزانۃ المفتین۸ للامام السمعانی رامزا علی مافی نسختی خ للخلاصۃ اذا دخل اصبعہ فی انفہ فدمیت اصبعہ ان نزل الدم من قصبۃ الانف نقض وانکان من داخل الانف لا ۳؎ اھ

 (۸) امام سمعانی کی خزانۃ المفتین میں جیسا کہ میرے نسخے میں ہے خلاصہ کے حوالہ کے لئے خ کا رمز دے کر نقل کیا ہے ''ناک میں انگلی ڈالی ، انگلی خون آلود ہو گئی ، اگر خون ناک کے بانسے سے اترا ہے توناقض اور اگر داخلی حصے سے اُترا ہے تو نہیں ''ا ھ

 (۴؎ خزانۃ المفتین کتاب الطہارۃ فصل فی نواقض الوضوء (قلمی ) ۱ /۴)

وفیھا رامزا ن للنوازل الرعاف اذا نزل الی مالان من الانف نقض ۱؎ اھ  (۹) اور اسی میں نوازل کے لئے ن کا رمز لگا کر نقل کیا ہے '' جب نرم حصے تک اتر آئے تو ناقض ہے '' ا ھ

 (۴؎ خزانۃ المفتین کتاب الطہارۃ فصل فی نواقض الوضوء (قلمی ) ۱ /۴)

وفی جامع ۱۰الرموز اذ انزل الدم الی الانف فسد مالان منہ حتی لاینزل فانہ لاینقض ۲؎ اھ  (۱۰) اور جامع الرموز میں ہے :''خون ناک کی طرف اترا تو نرم حصے کو کسی چیز سے بند کر دیا تاکہ اس میں نہ اتر آئے تو ایسی صورت میں وضو نہ ٹوٹے گا ا ھ ''

 (۲؎ جامع الرموز کتاب الطہارۃ مکتبۃ الاسلامیہ گنبد قاموس ایران۱ /۳۴ )

وقال الامام الاجل محمود فی الذخیرۃ علی مانقل عنھا فی الحلیۃ وعن ابی ھریرۃ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ انہ ادخل اصبعہ فی انفہ فلما اخرجہ رأی علی انملتہ دما فمسح ثم قام فصلی وتاویلہ عندنا اذا بالغ حتی جاوز مالان من انفہ الی ماصلب وکان الدم فیما صلب من انفہ وکان قلیلا بحیث لوترکہ لاینزل الی موضع اللین فمثلہ لیس بناقض ۳؎اھ

 (۱۱) امام محمود ذخیرہ میں فرماتے ہیں جیسا کہ حلیہ میں ذخیرہ سے نقل کیا ہے :''حضرت ابو ھریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے ناک میں انگلی ڈال کر نکالی تو پَورے پر خون نظر آیا اسے پونچھ دیا پھر اٹھ کر نماز ادا کی ، ہمارے نزدیک اس کا مطلب یہ ہے کہ جب انگلی ناک کے اندر داخل کرنے میں مبالغہ کیا یہاں تک کہ نرم حصے میں خون تھا اور اتنا قلیل تھا کہ چھوڑ دینے پر نرم حصے تک نہ اُترتا تو ایسی صورت میں وہ خون ناقض نہیں '' ا ھ

 (۳؎الذخیرۃ )

وکذلک صرح بہ الامام الشہید ناصر الدین محمدبن یوسف الحسینی فی الملتقط قال فی الہندیۃ لونزل الدم من الرأس الی موضع یلحقہ حکم التطھیر من الانف والاذنین نقض الوضوء کذا فی المحیط والموضع الذی یلحقہ حکم التطہیر من الانف مالان منہ کذافی الملتقط ۱؎ اھ  (۱۲) اسی طرح امام شہید ناصر الدین محمد بن یوسف حسینی نے ملتقط میں اس کی صراحت فرمائی ۔
(۱۳) ہندیہ میں ہے '' اگر خون سر سے ناک یا کانوں کی ایسی جگہ تک اُتر آیا جسے پاک کرنے کا حکم ہوتا ہے تو وضو ٹوٹ گیا ۔ ایسا ہی محیط میں ہے، اور ناک کی وہ جگہ جسے پاک کرنے کا حکم ہوتا ہے اس کا نرم حصہ ہے۔، ایسا ہی ملتقط میں ہے ا ھ ۔

 (۱؎ الفتاوی الہندیہ کتاب الطہارۃ الفصل الخامس نورانی کتب خانہ پشاور ۱ /۱۱)

وقال الامام الاجل فقیہ النفس فی الخانیۃ لو نزل الدم من الرأس الی مالان من الانف ولم یظھر علی الارنبۃ نقض الوضوء ۲؎اھ

 (۱۴) امام جلیل فقیہ النفس خانیہ میں فرماتے ہیں : خون اگر سر سے ناک کے نرم حصے تک اتر آیا اور بانسے کے اوپر نہ ہوا تو وضو ٹوٹ گیا اھ

 (۲؎ فتاوی قاضی خان     کتاب الطہارۃ فصل فیما ینقض الوضوء     نولکشور لکھنؤ    ۱ /۱۸ )

 (۱۵)وقال البرجندی مستشکلا عبارۃ النقایۃ سال الی مایطھر مانصہ یخدشہ انہ اذا خرج الدم من اقصی الانف وسال حتی بلغ مالان منہ ولم یسل علیہ ینبغی علی ھذا ان یکون ناقضا لانہ خرج الی مایطھر وسال ولیس کذلک الا ان یقال المراد من النجس النجس بالفعل ومثل ھذا الدم لیس بنجس بالفعل اویقال المراد انہ سال بعد الخروج الی مایطھر علی ماھو المتبادر من العبارۃ ۳؎ اھ

 (۱۵) برجندی نے عبارت نقایہ '' سال الی ما یطہر ، ایسی جگہ بہا جس کی تطہیر ہوتی ہے '' پر اشکا ل پیش کرتے ہوئے کہا : یہ اس بات سے مخدوش ہو رہی ہے کہ جب خون ناک کے آخری سرے سے نکلا اور بہہ کر نرم حصے تک پہنچا اور اس پر نہ بہا تو اس بنیاد پر چاہئے کہ وہ ناقض ہو اس لئے کہ وہ ایسی جگہ کی طرف نکلا اور بہا جس کی تطہیر ہوتی ہے حالاں کہ وہ ناقض نہیں ہے مگر یہ کہا جائے کہ نجس سے مرادنجس بالفعل ہے اورایسا خون بالفعل نجس نہیں یا یہ کہا جائے کہ وہ نکلنے کے بعد ایسی جگہ کی طرف بہا جس کی تطہیر ہوتی ہے جیسا کہ عبارت سے متبادر ہے ا ھ ۔

(۳؎شرح النقایہ للبرجندی کتاب الطہارۃ نولکشور لکھنؤ    ۱ /۲۱)

(۱۶) وقال العلامۃ مولی خسرو فی الدرر قولہ الی مایطھر احتراز عما اذا سال الدم الی مافوق مارن الانف بخلاف مااذا سال الی المارن لان الاستنشاق فی الجنابۃ فرض ۱؎ اھ

 (۱۶) علامہ مولی خسرو نے درر الحکام میں فرمایا : عبارت متن '' الی ما یطہر '' میں اس صورت سے احتراز ہے جب کہ خون ناک کے نرمے سے اوپر تک بہہ آئے بخلاف اس صورت کے کہ جب نرمے تک بہہ آئے اس لئے کہ استنشاق جنابت میں فرض ہے '' ا ھ

(۱؎الدررالحکام شرح غررالاحکام کتاب الطہارۃ نواقض الوضوء میر محمد کتب خانہ کراچی ۱ /۱۳)

اقول:  والعجب ف من العلامۃ الجلیل ابی الاخلاص حسن بن عمارا لشرنبلا لی حیث حاول فی غنیتہ تحویل ھذا التصریح الی مااختارہ تبعا للفتح والبحر من ان الحکم یعم الندب حیث قال فی مراقیہ ''السیلان فی غیر السبیلین بتجاوز النجاسۃ الی محل یطلب تطہیرہ ولو ندبا فلا ینقض دم سال داخل العین بخلاف ماصلب من الانف ۲؎ اھ

اقول:  علامہ جلیل ابو الاخلاص حسن بن عمار شرنبلالی پر تعجب ہے کہ انہوں نے اپنے حاشیہ غنیہ ذوی الاحکام میں اس کی تصریح کو فتح اور بحر کی تبعیت میں اپنے اختیار کردہ اس مسلک کی طرف پھیرنے کی کوشش کی ہے کہ حکم ، ندب کو بھی شامل ہے کیونکہ انہوں نے مراقی الفلاح میں لکھا ہے : '' سبیلین کے علاوہ میں سیلان کا معنی یوں ثابت ہو گا کہ نجاست ایسی جگہ تجاوز کر جائے جس کی تطہیر مطلوب ہوتی ہے اگرچہ ندب کے طور پر ہو تو آنکھ کے اندر بہنے والا خون ناقض نہیں بخلاف اس کے جو ناک کے سخت حصے میں بہے ا ھ

 (۲؎ مراقی الفلاح کتاب الطہارۃ نواقض الوضوء دار الکتب العلمیہ بیروت ص۸۷)

فــــ: تطفل علی العلا مۃ شرنبلالی

فقال رحمہ اللّٰہ تعالٰی قولہ عما اذا سال الدم الی مافوق مارن الانف یعنی اقصاہ لاماقریب من الارنبۃ فان غسلہ مسنون فینتقض الوضوء بسیلان الدم فیہ ۳؎ اھ

تو وہ عبارت درر کے تحت غنیہ میں یوں لکھتے ہیں :'' ان کا قول'' اس صورت سے احتراز ہے جب خون ناک کے نرمہ سے اوپر تک بہہ آئے '' اس سے مراد آخری سرا ہے وہ نہیں جو نرم حصے سے قریب ہے کیونکہ اس کا دھونا مسنون ہے تو اس کے اندر خون بہنے سے وضو ٹوٹ جائیگا '' اھ

 (۳؎ غنیۃ ذوی الاحکام علی ہامش دررالحکام کتاب الطہارۃ نواقض الوضوء میر محمد کتب خانہ کراچی ۱ /۱۳)

وانت تعلم ان ھذا تبدیل لاتاویل وبالجملۃ عامۃ الکتب علی ماتری نعم فی الخلاصۃ ان رعف فنزل الدم الی قصبۃ انفہ نقض وضوءہ ۱؎ اھ وفی البزازیۃ نزول الرعاف الی قصبۃ الانف ناقض ۲؎ اھ وظاھرہ کما قدمنا یعم ماصلب لکن البزازیۃ کانھا خلاصۃ الخلاصۃ کما یظھر علی من طالعھما واذا کان فی الخلاصۃ مانقل عنہ فی خزانۃ المفتین علی مافی نسختی ظھر مرادھا لکن لم اجدہ فی نسختی الخلاصۃ وقد وجدت نسخھا مختلفات بنقص و زیادۃ قلیلا وتقدیم وتاخیر کثیر افاللّٰہ تعالٰی اعلم۔

ناظر پر عیاں ہے کہ یہ تبدیل ہے تاویل نہیں ----- الحاصل عامہ کتب تقیید پر ہیں جیسا کہ سامنے ہے ، ہاں خلاصہ میں یہ لکھا ہے :'' اگر نکسیر  پھوٹی اور خون ناک کے بانسے تک اُتر آیا تو وضو ٹوٹ گیا '' اھ

اور بزازیہ میں ہے : ناک کے بانسے تک نکسیر اتر آنا ناقض وضو ہے ا ھ'' ان عبارتوں کا ظاہر جیسا کہ ہم نے پہلے بھی کہا سخت حصے کو بھی شامل ہے لیکن بزازیہ ، خلاصہ کا گویا خلاصہ ہے جیسا کہ دونوں کا مطالعہ کرنے والے پر ظاہر ہے اور جب خلاصہ میں وہ عبارت ہے جو خزانۃ المفتین میں اس سے نقل ہوئی جیسا کہ خزانہ کے میرے نسخہ میں ہے تو خلاصہ کی مراد ظاہر ہے لیکن یہ عبارت خلاصہ کے میرے نسخے میں نہ ملی اور میں نے اس کے نسخے بہت مختلف پائے ہیں جن میں کہیں کہیں کمی بیشی کا فرق ہوتا ہے اور تقدیم و تاخیر کا فرق تو بہت ملتا ہے واللہ تعالٰی اعلم۔

 (۱؎ خلاصۃ الفتاوی کتاب الطہارۃ الفصل الثالث مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ۱ /۱۵)
(۲؎الفتاوی البزازیہ علی ہامش الفتاوی الہندیہ کتاب الطہارۃالفصل الثالث نورانی کتب خانہ پشاور۴ /۱۲ )

ولعلک تقول ماالذی تحصل تلک النقول والام اٰل الامر فی اختلاف البحر والنھر وھل ثمہ مایکشف الغمہ۔اقول کان باب التوفیق مفتوحا کما اشرنا الی بعضہ لولا ان مع البحر روایۃ الاتقانی مع تبعیۃ العنایۃ وجزم الحلیۃ وھو مفسر لایقبل التاویل ویقرب منہ نص الفتح بتعمیم الندب ومع النھر مااسلفنا من کثرۃ النصوص فی کلتا المسألتین القصر علی الوجوب والتقیید بالمارن وفیھا سبعۃ نصوص مفسرات اٰبیات عن التاویل کلام الذ خیرۃ والملتقط والخزانۃ عن الخلاصۃ وثالث عبارات الجوھرۃ والبرجندی وجامع الرموز والدررفلا امکان للتطبیق والحمل علی اختلاف الروایۃ ایسر من نسبۃ احد الفریقین الی الخطاء والغلط والغفلۃ والشطط فالذی تحرر عندی ان ھھنا عن ائمتنا الثلثۃ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہم روایتین روایۃ النقض بالسیلان فی ماصلب وان لم یصل الی مالان وھی التی عرفناھاباعتماد اتقان الاتقانی وعلیھا یجب تعمیم الحکم الندب وھوالذی اختارہ فی الفتح والحلیۃ والبحر والمراقی وتبعھم الطحطاوی و ردالمحتار والاخری عدم النقض الا بالسیلان فیما لان وھی الروایۃ الشہیرۃ الشائعۃ فی الکتب الکثیرۃ وعلیھا یقتصرالحکم علی الوجوب ولایبقی داع اصلا الی تعمیم الندب وھو الذی مشی علیہ الاکثرون فاذن الثانی اکثرو اشھر واظھر وایسر غیر ان مراعاۃ الاول احوط کما قال السید الطحطاوی فی حاشیۃ الدر بعد نقل کلامی البحر والنھر ''اقول مافی البحر احوط فتامل ۱؎ اھ وصورۃ السیلان فیما اشتد مع عدم  النزول الی المارن نادرۃ لاعلینا ان نعمل فیھا بالاحوط فلذا جنحت الیہ جنوحا ماتبعا لھؤ لاء المحققین الجلۃ الکرام ۔

شاید آپ کہیں ان نقول کا حاصل اور بحر و نہر کے اختلاف میں انجام کار کیا ہوا ؟ کیا یہاں ایسی کوئی صورت بھی ہے جس سے یہ مشکل حل ہو ؟ اقول تطبیق کا دروازہ تو کھلا ہوا تھا ۔۔۔جیسا کہ ہم نے کچھ تطبیق کا اشارہ بھی کیا ۔۔ اگر بحر کی ہم نوائی میں اتقانی کی روایت نہ ہوتی جب کہ عنایہ نے بھی اس کی پیروی کی ہے اور حلیہ نے اس پر جزم کیا ہے یہ ایسی مفسَّر ہے جس میں تاویل نہیں ہو سکتی۔۔۔ اس سے قریب ندب کو شامل کرنے میں فتح کی تصریح ہے اور نہر کی موافقت میں وجوب پر اکتفا اور نرمہ کی تقیید دونوں ہی مسئلوں میں نصوص کی وہ کثرت ہے جو ہم ہیش کر چکے ، ان میں سات نصوص مفسَّر ناقابل تاویل ہیں عبارات (۱)ذخیرہ ،( ۲)ملتقط ،(۳) خزانۃ المفتین عن الخلاصہ ، (۴)جوہرہ کی تیسری عبارت ، (۵)برجندی ، (۶)جامع الرموز ،(۷) درر کی عبارتیں تو تطبیق کا کوئی امکان نہیں اب ایک فریق کی جانب غلطی و خطا اور زیادتی و غفلت کی نسبت کرنے سے آسان یہ ہے کہ اختلافِ روایت مان لیا جائے تو میرے نزدیک واضح بات یہ ہے کہ یہاں ہمارے تینوں ائمہ کرام سے دو روایتیں ہیں ایک روایت یہ کہ سخت حصے کے اندر پہنچنے سے وضو ٹوٹ جائیگا اگرچہ نرم حصے تک نہ پہنچے -----یہ وہ روایت ہے جو اتقانی کے اتقان اور پختہ کاری پر اعتماد سے ہمیں معلوم ہوئی ، اس کی بنیاد پر حکم میں ندب کو بھی شامل کرنا ضروری ہے اسی کو فتح القدیر ، حلیہ ، البحرالرائق اور مراقی الفلاح میں اختیار کیا اور ان ہی کا طحطاوی اور ردالمحتار نے اتباع کیا ، دوسری روایت یہ کہ جب تک نرم حصے میں نہ بہے وضو نہ ٹوٹے گا یہی روایت کثیر کتابوں میں عام اور مشہور ہے اس کی بنیاد پر حکم  وجوب تک محدود رہے گا اور ندب کو شامل کرنے کا بالکل کوئی داعی نہ رہ جائے گا ۔ اسی پر اکثر حضرات چلے ہیں ، ایسی صورت میں ثانی اکثر ، اشہر ، اظہر اور ایسر ہے مگر یہ کہ اول کی رعایت احوط ہے جیسا کہ سیّد طحطاوی نے حاشیہ در مختار میں بحر و نہر کی عبارتیں نقل کرنے کے بعد لکھا : میں کہتا ہوں جو بحر میں ہے وہ احوط ہے ، تو تامّل کرو اھ اور نرمے تک خون آئے بغیر صرف سخت حصے میں بہے یہ صورت بہت کم پیش آنیوالی ہے اس میں احوط پر عمل کر لینا کچھ ضروری نہیں اسی لئے ان بزرگ محققین کی پیروی میں اس کی جانب میرا کچھ میلان ہوا ۔

 (۱؎حاشیۃ الطحطاوی علی الدر المختار کتاب الطہارۃ المکتبۃ العربیۃ کوئٹہ۱ /۷۷)

اقول۱۰۴: والثانی و ان ظھر وجہہ فان الخروج الی ظاھر البدن شرط بالاتفاق قال صدرالشریعۃ المعتبر الخروج الی ما ھو ظاھر شرعا ۲؎ اھ وما صلب من الانف داخل فی الداخل خارج عن الخارج بالاتفاق ولذا لم یجب تطہیرہ فی الغسل ایضا فالاول ایضالہ وجہ وذلک انا لما رأینا الشرع ندب الی غسلہ فی الغسل والوضوء علمنا ان لہ وجہا الی الظاھر والالم یندب غسلہ کسائر الداخلات فاذا وجد السیلان فیہ اوجبنا الوضوء للاحتیاط نظر الی ذلک الوجہ ھذا ماظھر لی۔ واللّٰہ تعالٰی اعلم

اقول:  ثانی کی وجہ تو ظاہر ہے ----کیونکہ ظاہر بدن کی طرف نکلنا بالاتفاق شرط ہے --- صدر الشریعہ فرماتے ہیں : معتبر اس حصہ بدن کی طرف نکلنا ہے جو شرع میں ظاہر قرار دیا گیا ہے اھ ----- اور ناک کا سخت حصہ بالاتفاق داخلِ بدن میں داخل اور خارجِ بدن سے خارج ہے اسی لئے غسل میں بھی اسے پاک کرنا واجب نہیں ------مگر اول کی بھی ایک وجہ ہے وہ یہ کہ جب ہم نے دیکھا کہ شریعت نے غسل اور وضو میں اس کا دھونا مندوب رکھا ہے اور اس کی دعوت و ترغیب دی ہے تو اس سے ہمیں علم ہوا کہ اس کا ایک رُخ ظاہر کی جانب بھی ہے ورنہ اس کا دھونا مندوب نہ ہوتا ، جیسے دیگر داخلی حصوں کا حال ہے۔ تو جب اس سخت حصے میں سیلان پایا جائے تو اسی پر نظر کرتے ہوئے احتیاطاً ہم نے وضو واجب کہا یہ مجھ پر ظاہر ہوا اور خدائے برتر خوب جاننے والا ہے۔

(۲؎شرح الوقایۃ کتاب الطہارۃ کون المسائل الی ما یطہرنا قضا مکتبہ امدادیہ ملتان ۱ /۷۱ )

وبالجملۃ انا العبد الضعیف اجدنی امیل الی القول الثانی من حیث الدرایۃ وشھرۃ الروایۃ معالکن لاجل الاحتیاط وتلک الروایۃ الھائلۃ القائلۃ ان الوجوب ثمہ باتفاق ائمتنا الثلثۃ رضی اللّٰہ تعالٰی عنھم احببت میلاما الی الاول وعلی توفیق اللّٰہ المعول۔

الحاصل میں بندہ ضعیف اپنے کو درایت اور شہرت روایت دونوں کی وجہ سے قول ثانی کی طرف مائل پاتا ہوں لیکن احتیاط کی وجہ سے اور اس عظیم روایت کی وجہ سے ، جس میں یہ ہے کہ یہاں وجوب پر ہمارے تینوں ائمہ رضی اللہ تعالٰی عنہم کا اتفاق ہے میں نے اول کی طرف مائل ہونا پسند کیا اور خدا ہی کی توفیق پر بھروسہ ہے ۔

ثم اقول۱۰۵: ظھرلی الاٰن بتوفیق المنان علی تعمیم الحکم للندب نقضان احدھما ف۱ تظافر نصوص المذھب ان نزول ف۲ شیئ الی الفرج الداخل لاینقض طھرا قط مالم یجاوزہ الی الفرج الخارج مع ان الفرج ف الداخل قد لحقہ حکم التطھیر ندبا،

ثم اقول : ندب کے حکم کو عام کرنے پر خدا کی توفیق سے مجھ پر ابھی دو نقض منکشف ہوئے :

نقضِ اوّل : فرج داخل میں خون حیض وغیرہ کوئی نجاست اُتر آئے توناقضِ طہارت نہیں جب تک اس سے بڑھ کر فرج خارج تک نہ آ جائے حالانکہ فرج داخل کو بطور ندب تطہیر کا حکم ہوتا ہے ۔

ف۱ :تطفل ۷۲ علی الفتح والحلیۃ والبحر والمراقی وط وش۔
ف۲ : مسئلہ فرج داخل میں خون حیض وغیرہ کوئی نجاست اتر آئے جب تک اس کے منہ سے متجاوزکر کے فرج خارج میں نہ آئے گی غسل یا وضو کچھ واجب نہ ہوگا ۔
ف: مسئلہ زن حائضہ کو مستحب ہے کہ بعد فراغ حیض جب غسل کرے ایک پرانے کپڑے سے فرج داخل کے اندر سے خون کا اثر صاف کرلے۔

وذلک حدیث ام المؤمنین الصدیقۃ رضی اللّٰہ تعالٰی عنھا فی الصحیحین وغیرھما ان امرأۃ من الانصار سألت النبی صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم عن غسلھا من المحیض فامرھا صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم کیف تغتسل ثم قال خذی فرصۃ من مسک فتطھری بھا ۱؎ (وھو بفتح المیم ای من ادیم ورجحوہ علی روایۃ الکسر وفی روایات فرصۃ ممسکۃ ای خرقۃ خلقۃ قد امسکت کثیرا قال الامام التور پشتی ھذا القول امتن واحسن واشبہ بصورۃ الحال ولو کان المعنی علی انھا مطیبۃ لقال فتطیبی ولانہ صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم امرھا بذلک لازالۃ الدم عند التطھیر ولو کان لازالۃ الرائحۃ لامربھا بعد ازالۃ الدم وتمامہ فی المرقاۃ۱؎ لمولانا علی القاری) ۔

اس بارے میں ام المومنین صدیقہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کی حدیث صحیحین اور دوسری کتابوں میں آئی ہے کہ انصارکی ایک عورت نے اپنے غسل حیض کے متعلق نبی کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے سوال کیا تو اسے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ وہ کس طرح غسل کرے ، پھر فرمایا : خذی فرصۃ من مسک فتطہری بہا ( مَسْک میم کے زبر کے ساتھ یعنی صا ف کیا ہوا چمڑا ، حضرات علماء نے زیر والی روایت میں فرصۃ ممسکۃ ہے یعنی کوئی پرانا ٹکڑا جو زیادہ دنوں تک روکا گیا ہو امام تورپشتی نے فرمایا : یہ قول زیادہ مضبوط ، بہتر اور صورتِ حال سے زیادہ مناسب ہے اگر یہ معنی ہو کہ وہ ٹکڑا خوشبو آلود ہو تو فرماتے فتطیبی اس کے ذریعہ خوشبو مل لو ، دوسری وجہ یہ ہے کہ حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے انہیں یہ حکم پاک کرنے کے وقت خون دور کرنے کے لئے دیا ، اگر یہ حکم بُو دور کرنے کے لئے ہوتا تو خون صاف کر لینے کے بعد اسے کرنے کا حکم دیتے پوری بات مولانا علی قاری کی مرقاۃ میں ہے )۔

 (۱؎صحیح البخاری کتاب الحیض باب دلک المرأۃ نفسہا قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/۴۵)
(صحیح مسلم کتاب الحیض باب استحباب استعمال المغتسلۃ من الحیض قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/۱۵۰)
(مشکوۃ المصابیح باب الغسل الفصل الاول قدیمی کتب خانہ کراچی ص۴۸)
(۱؎مرقاۃ المفاتیح بحوالہ التورپشتی تحت الحدیث۴۳۷ المکتبۃ الحنفیہ کوئٹہ ۲ /۱۴۰)
(کتاب المیسرشرح مصابیح السنۃ تحت حدیث ۲۸۱ مکتبہ نزارمصطفی ٰالباز مکۃ المکرمہ۱ /۱۵۲)

فقال صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم تطھری بھا قالت کیف اتطھر بھا فقال صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم سبحان اللہ تطہری بہا ، قالت ام المؤمنین فاجتذبتھا الیّ فقلت تتبغی بھا اثرالدم ۲؎ اھ ای اجعلیھا فی الفرج وحیث اصابہ الدم للتنظیف ۳؎

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :چمڑے کا کوئی ٹکڑا لے کر اس سے پاکی حاصل کرو ، عرض کیا : کیسے پاکی حاصل کروں ؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : سبحان اللہ ، اس سے پاکی حاصل کرو ۔ امّ المومنین فرماتی ہیں :میں نے اس عورت کو اپنی طرف کھینچا اور کہا اس کے ذریعہ خون کے نشان تلاش کرو ا ھ یعنی اندون فرج اور دوسری جگہ جہاں خون لگ گیا ہو اس سے صاف کرو ،

 (۲؎صیح البخاری          کتاب الحیض باب دلک المرأۃ نفسہا الخ     قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۴۵)
(صحیح مسلم کتاب الحیض باب استحباب استعمال للغسلۃ من الحیض قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۵۰)
(مشکوۃ المصابیح باب الغسل قدیمی کتب خانہ کراچی ص۴۸ )
(۳؎مرقاۃ المفاتیح باب الغسل تحت الحدیث ۴۳۷ المکتبۃ الحبیبیہ کوئٹہ ۲ /۱۴۲)

فقد امر صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم المرأۃ تغتسل من محیضہا ان تطہر داخل فرجھا وتزیل عنہ الدم بفرصۃ ومعلوم ان حکم التطھیر یعم التطھیر من النجاسۃ الحقیقیۃ کالحکمیۃ وقد مرالتنصیص بہ فی قول الفتح فیما لان من الانف انہ یجب غسلہ فی الجنابۃ ومن النجاسۃ فینقض ۱؎ اھ وفی الغنیۃ او  فی ازالۃ النجاسۃ الحقیقیۃ ۲؎ اھ۔

تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حیض سے غسل کرنے والی عورت کو یہ حکم دیا کہ داخل فرج کو پاک کرو اور کسی ٹکڑے کے ذریعہ اس سے خون دور کرے اس سے معلوم ہوا کہ تطہیر کا حکم ، نجاستِ حکمیہ کی طرح نجاستِ حقیقیہ سے تطہیر کو بھی شامل ہے، اس سے متعلق فتح کی صراحت بھی گزر چکی اس میں ناک کے نرمہ سے متعلق ہے کہ اسے جنابت میں اور نجاست سے دھونا واجب ہے تو اس میں خون  اتر  آنا  ناقض  وضو ہے اھ ۔ غنیہ میں ہے : یانجاست حقیقیہ کے ازالہ میں ( حکمِ تطہیر ہو) اھ ۔

 (۱؎فتح القدیرکتاب الطہارۃ المکتبۃالنوریۃ الرضویۃبسکھر۱ /۳۴)
(۲؎غنیہ المستملی کتاب الطہارۃ فصل فی النواقض الوضوء سہیل اکیڈمی لاہور ص۱۳۱)

فی البحر مرادھم ان یتجاوز الی موضع تجب طھارتہ اوتندب من بدن وثوب ومکان ۳؎ اھ البحر الرائق میں ہے ایسی جگہ تجاوز کر جائے جس کی پاکی واجب یا مندوب ہے وہ جگہ بدن کی ہو یا کپڑے کی یا خارجی جگہ ا ھ۔

(۳؎ البحر الرائق کتاب الطہارۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی      ۱ /۳۱)

ولا شک ان مسح الدم من باطن الفرج لفرصۃ لیس الا لازالۃ النجاسۃ الحقیقیۃ ولذا عبر صلی اللّٰہ علیہ وسلم عنہ بالتطھیر فحکم التطہیرلایختص بالماء علا انا علمنا ان نظر الشارع ھھنا الی ازالۃ اثر الدم من الباطن فلاشک ان الماء ابلغ فیہ لاسیما بعد المسح بالخرقۃ کما عرف فی الاستنجاء بالماء بعد المسح بالحجر ولذافــــاتت الروایۃ عن محرر المذھب محمد رحمہ اللّٰہ تعالٰی فی اغتسال المرأۃ انھا ان لم تدخل اصبعھا فی فرجھا فلیس بتنظیف کما فی ردالمحتار۱؎ عن التاترخانیۃ، وفھم منہ الامر بالوجوب فجعل المختار خلافہ قال الشامی وھو بعید ۲؎ اھ

اور اس میں شک نہیں کہ باطن فرج سے کسی ٹکڑے سے خون پونچھنا نجاست حقیقۃً دور کرنے ہی کے لئے ہے ، اسی لئے حضور اقدس صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے تطہیر سے تعبیرفرمائی تو حکم تطہیر پانی ہی سے خاص نہیں علاوہ اس کے کہ جب ہمیں معلوم ہے کہ نظرِ شارع یہاں اندر سے خون کا اثر دورکرنے پر ہے تو پانی یقینا اس میں زیادہ کارگر ہو گا ، خصوصاً پارچہ سے پونچھنے کے بعد ، جیسا کہ پتھر سے پونچھنے کے بعد پانی سے استنجاء کے بارے میں معلوم ہے ۔ اسی لئے محررِ مذہب امام محمد رحمہ اللہ تعالٰی سے عورت کے غسل کے بارے میں روایت آئی کہ اگر وہ فرج میں انگلی نہ لے جائے تو تنظیف نہ ہو گی ۔ جیسا کہ ردالمحتار میں تاتارخانیہ سے نقل ہے اور صاحبِ تاتارخانیہ نے اس سے وجوب سمجھا اور مختار اس کے خلاف کو بتایا ۔ علامہ شامی نے کہا : وجوب کا معنی بعید ہے ا ھ ۔

فــــــ:غسل میں عورت کو مستحب ہے کہ فرج داخل کے اندر انگلی ڈال کر دھو لے ہاں واجب نہیں بغیر اس کے بھی غسل اتر جائے گا ۔

 (۱؎ رد المحتار    کتاب الطہارۃ      دار احیاء التراث العربی بیروت ۱/ ۱۰۳)
(۲؎ رد المحتار    کتاب الطہارۃ      دار احیاء التراث العربی بیروت ۱/ ۱۰۳)

قلت فانہ ان اراد الوجوب قال لیس بطہارۃ ولم یقلہ وانما قال لیس بتنظیف وما فی الدر وغیرہ لا تدخل اصبعھا فی قلبھا بہ یفتی۳؎ فمرادہ نفی الوجوب کمافی ردالمحتار۴؎ عن السید الحلبی عن العلامۃ الشرنبلالی لاجرم ان قال فی الفتح تغسل فرجھا الخارج لانہ کالفم ولا یجب ادخالھا الاصبع فی قبلھا وبہ یفتی ۵؎ اھ ونفی الوجوب لاینفی الندب۔ والاخر وھو الا قوی فـــ والاظھر۔

قلت: اس لئے کہ اگر وجوب مراد ہوتا تو یہ کہتے کہ طہارت نہ ہو گی ۔یہ انہوں نے نہ کہا بلکہ صرف یہ کہا کہ تنظیف نہ ہوگی اور درمختار وغیرہ میں جو لکھا ہے کہ:اپنی شرمگاہ میں انگلی نہ لے جائے گی ، اسی پر فتوی ہے اس کا مقصود وجوب کی نفی ہے یعنی اس پر یہ واجب نہیں ہے جیسا کہ ردالمحتار میں سید حلبی سے نقل ہے وہ علامہ شرنبلالی سے ناقل ہیں اسی لئے فتح میں ہے : عورت اپنی فرج خارج کو دھوئے اس لئے کہ اس کا حکم منہ کی طرح ہے اور اس کا شرمگاہ میں انگلی داخل کرنا واجب نہیں اور اسی پر فتوی ہے ا ھ اور وجوب کی نفی سے مندوبیت کی نفی نہیں ہوتی ۔ اور دوسرا قول  زیادہ قوی اور زیادہ ظاہر ہے۔

 (۳؎ الدرالمختار         کتاب الطہارۃ         مطبع مجتبائی دھلی     ۱ /۲۸)
(۴؎ رد المحتار          کتاب الطہارۃ     دار احیاء التراث العربی بیروت ۱/ ۱۰۳)
(۵؎ فتح القدیر     کتاب الطہارۃ فصل فی الغسل          مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر      ۱ /۵۰)

فــــ: تطفل اخر علی العلماء الستۃ ۔

اقول:  اجمعنافــــ۱ ان خروج شیئ الی الشرج لاینقض طھرا مالم یبرز وقد لحقہ حکم التطھیر ندبا فان فــــ۲ السنۃ للمستنجی ان یجلس افرج مایکون ویرخی کی یظھر فیطھر مایبقی کامنا لولا الانفراج والارخاء ۔

اقول :اس پر ہمارا اجماع ہے کہ مخرج کی اندونی سطح تک نجاست کا آ جانا ، ناقضِ طہارت نہیں جب تک کنارے پر ظاہر نہ ہو حالاں کہ ندباً اسے حکمِ تطہیر لاحق ہے اس لئے کہ پاخانے سے استنجا کرنے والے کے لئے سنّت یہ ہے کہ جہاں تک ہو سکے پاؤں کشادہ کر کے اور ڈھیلا ہو کر بیٹھے اور ڈھیلا پن نہ ہونے کی صورت میں جو کچھ چھپا رہتا سب ظاہر ہو کر پاک ہو جائے ۔

فــــ۱ـــ: مسئلہ نجاست اگر مخرج کی اندرونی سطح تک آ جائے وضو نہ جائے گا جب تک کنارے پر ظاہر نہ ہو ۔
فـــ۲ـــ: مسئلہ بڑے استنجے میں سنت یہ ہے کہ خوب پاؤں پھیلا کر بیٹھے اور سانس سے نیچے کو زور دے کہ جتنا حصہ مخرج کا ظاہر ہو سکے ظاہر ہو کر سب نجاست دھل جائے ۔

قال فی الحلیۃ اذا کان الاستنجاء بالماء من الغائط فلیجلس کأفرج مایکون مرخیا نفسہ کل الارخاء لیظھر مایدا خلہ من النجاسۃ فیزیلہ وان کان فـــ۳ صائما ترک تکلف الارخاء ۱؎

حلیہ میں ہے : ''جب پاخانہ سے استنجاء پانی کے ذریعہ کرنا ہو تو جہاں تک ہو سکے کشادہ ہو کر ، اپنے کو پورے طور سے ڈھیلا کر کے بیٹھے تا کہ اندر رہ جانے والی نجاست ظاہر ہو جائے اور اسے زائل کر دے ، اگر روزہ دار ہو تو ڈھیلا ہونے کا تکلف ترک کر دے ا ھ ''

 (۱؎ حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی)

فــــ۳ :مسئلہ یہ مسنون طریقہ کہ بڑے استنجے میں مذکور ہوا روزہ دار کے لئے نہیں وہ ایسا نہ کرے ۔

وقد بین المقدمتین معافی الدر المختار باوجز لفظ حیث قال فی اٰخر فصل الاستنجاء استنجی فــــ المتوضیئ ان علی وجہ السنۃ بان ارخی انتقض والا لا ۱؎ اھ ان دونوں باتوں کو درمختار میں مختصر ترین لفظوں میں بیان کیا ہے اس طرح کے کہ فصل استنجاء کے آخر میں کہا :''باوضو نے استنجاء کیا اگر بطور سنت ہو اس طرح کہ ڈھیلا رہے ، تو وضو ٹوٹ جائے گا ورنہ نہیں ا ھ ۔

(۱؎ الدر المختار      کتاب الطہارۃ     فصل الاستنجاء      مطبع مجتبائی دہلی     ۱ /۵۷)

فـــ:مسئلہ بڑا استنجاء ڈھیلوں سے کر کے وضو کر لیا اب یاد آیا کہ پانی سے نہ کیا تھا اگر پانی سے استنجاء اس مسنون طریقہ پر پاؤں پھیلا کر سانس کا زور نیچے کو دے کر وضو کرے گا جاتا رہے گا اور ویسے ہی کرے گا تو ہمارے نزدیک نہ جائے گا۔

فافاد بالجملۃ الاولی ان غسل داخل الدبر سنۃ و بالاخیرۃ ان النزول الیہ غیرناقض مالم یبرز و لا اعلم فی ھاتین خلافا لاحد من علمائنا فاستقر بحمد اللّٰہ تعالٰی عرش التحقیق علی ماکان علیہ الاکثرون کما ھو القاعدۃ المقررۃ ان الصواب مع الاکثر وقد تبین لک مما تقرر فوائد:

پہلے جملے سے افادہ کیا کہ مقام کے اندرونی کنارے کو دھو لینا سنت ہے اور بعد والے جملے سے یہ بتا دیا کہ وہاں نجاست اُتر آنے سے وضو نہ ٹوٹے گا جب تک کہ کنارے پر ظاہر نہ ہو ، میں نہیں جانتا کہ ان دونوں میں ہمارے علماء میں سے کسی کا کوئی اختلاف ہے تو بحمدہٖ تعالٰی عرش تحقیق اسی پر مستقر ہوا جس پر اکثر ہیں جیساکہ مقرر قاعدہ ہے کہ درستی و صواب اکثر کے ساتھ ہے تقریر ماسبق سے چند فوائد روشن ہوئے :

 (۱) مرادھم بحکم التطھیر ھو الوجوب وکلامھم مناف لزیادۃ الندب کما افاد فی النھر لالما قال بل لما افاض علی المھیمن المتعال۔

 (۱) حکم تطہیر سے ان حضرات کی مراد وجوب ہے اور ان کا کلام اضافہ ندب کے منافی ہے جیسا کہ نہر میں افادہ کیا اسکی وجہ وہ نہیں جو نہرمیں بیان ہوئی بلکہ وہ جس کا میرے اوپر رب نگہبان و برتر نے فیضان کیا ۔

(۲)لایشترط فی النقض بما من غیر السبیلین الاالخروج بالسیلان علی ظاھر البدن ولو بالقوۃ فلا یستثنی من الظاھر حساالا داخل عـــہ العین لانہ لیس من الظاھر شرعا اصلا ودخل المارن وخرجت القصبۃ وسیا تیک بعض مایتعلق بھذہ الفائدۃ فی التنبیہ الخامس ان شاء اللّٰہ تعالٰی وبقید القوۃ دخل مااذا افتصد فطار الدم ولم یتلوث رأس الجرح وما اذا ترب اواخذ بخرق اومص فـــ۱ علق اوقراد کبیر من دمہ مالو خرج لسال ولم یبق فـــ۲حاجۃ الی زیادۃ المکان فیما یطھرکما فعل فی الغنیۃ والبحر لادخال صورۃ الفصد فورد علیہ مالو سال الی نھر او وقع علی عذرۃ اوجلد خنزیر الی غیر ذلک وسقطت فـــ۳ المنازعات التی کانت مستمرۃ من زمن الامام صدرالشریعۃ الی عہد السید الشامی فی قولھم سال الی مایطہر،

 (۲) غیر سبیلین سے نکلنے والی نجاست سے وضو ٹوٹنے میں صرف خروج کی شرط ہے اس طرح کہ ظاہر بدن پر اس کا سیلان ہو اگرچہ بالقوہ ہو ، تو بدن کے ظاہر حسّی سے صرف اندرونِ چشم کا استثناء ہو گا،کیونکہ یہ ظاہر شرعی تو بالکل ہی نہیں اور ناک کا نرم حصہ ظاہر بدن میں داخل رہا اور سخت حصہ خارج ٹھہرا ، اس فائدہ سے متعلق کچھ باتیں ان شاء اللہ تنبیہ پنجم میں آئیں گی اور بالقوہ کی قید لگانے سے وہ صورت داخل ہو گئی کہ جب فصد لگائی تو خون اُڑا اور سرِزخم آلودہ نہ ہوا اور وہ صورت کہ خون پر مٹی ڈال دی یا کسی کپڑے میں جذب کر لیا یا کسی جونک یا بڑی کِلّی نے اس کا اتنا خون چوس لیا کہ اگر خود نکلتا تو بہتا اور ما یطہر کے تحت بیرونی جگہ کا اضافہ کرنے کی کوئی ضرورت نہ رہی جیسا کہ غنیہ اور بحر میں صورتِ فصد کو داخل کرنے کے لئے اضافہ کیا تھا تو اس پر ان صورتوں سے اعتراض ہوا جن میں خون جا کر کسی دریا میں بہا یا پاخانے پر یا خنزیر کی جلد پر گرایا اور ایسی کسی چیز پر پڑا اور وہ سارے نزاعات ساقط ہو گئے جو امام صدر الشریعہ کے زمانے سے علامہ شامی کے زمانے تک لفظ '' سال الی ما یطہر '' کے تحت چلے آ رہے تھے ۔

عــہ والیہ یشیر کلام الفاضل یوسف چلپی تلمیذ العلامۃ مولی خسرو فی ذخیرۃ العقبی حیث قال الخروج الی مایطھر ھو الانتقال من الباطن الی مایجب تطہیرہ وان یصل الیہ ولم یتلوث ھو بہ،والمقصود من اعتبار قید الی مایطھر الاحتراز عن الخروج الی مایعد من ظاھر البدن حسا ولا یعد منہ شرعا لحکمۃ شرعیۃ کداخل العین لانہ لایجب تطہیرہ فالذی یخرج من بدن الانسان الی باطن العلقۃ والقراد خارج الی مایجب تطہیرہ لا بمعنی انہ لم یبق فی باطنہ الحقیقی الذی ھو تحت الجلدۃ وباطنہ الشرعی الذی ھو داخل العین ۱؎ اھ فالکان فی قولہ اولا کداخل العین کاف الاستقصاء بدلیل اٰخر کلامہ وفیہ من الفوائد ان المراد بالحکم الوجوب ۱۲ منہ۔

اسی کی طرف علامہ مولٰی خسرو کے تلمیذ فاضل یوسف چلپی کی عبارت ذخیرۃ العقبی سے بھی اشارہ ہوتا ہے وہ فرماتے ہیں : خروج الٰی ما یطہر ''یہ ہے کہ اندر سے ایسی جگہ کی طرف منتقل ہو جس کی تطہیر واجب ہے اگرچہ اس جگہ تک نہ پہنچے اور وہ اس سے آلودہ نہ ہو ''الٰی ما یطہّر ''کی قید کے ذریعہ اس جگہ کی طرف خروج سے احتراز مقصود ہے جو حسّاً ظاہر بدن سے شمار ہو اور کسی شرعی حکمت کی وجہ سے ظاہر بدن سے نہ شمار ہو جیسے آنکھ کا اندرونی حصہ کیوں کہ اس کی تطہیر واجب نہیں تو بدن انسان سے نکل کر جونک اور کلّی کے پیٹ تک منتقل ہونے والا خون ایسی چیز کی طرف نکلنے والا ہے جس کی تطہیر واجب ہے نہ اس معنی کے لحاظ سے کہ وہ اپنے حقیقی باطن میں نہ رہا جو زیرِ جلد ہے اور نہ شرعی باطن میں رہا جو داخلِ چشم ہے ا ھ تو کاف ان کے پہلے لفظ کداخل العین میں کاف استقصا ہے جس پر دلیل ان کا آخر کلام ہے۔اس کلام سے ایک فائدہ یہ بھی حاصل ہوتا ہے کہ حکم سے مراد وجوب ہے ۱۲ منہ (ت)

 (۱؎ ذخیرۃ العقبی      کتاب الطہارۃ     نولکشور کانپور انڈیا     ۱ /۲۲)

فـــ۱:مسئلہ جونک یا بڑی کِلّی بدن کو لپٹی ، اگر اتنا خون چوس لیا کہ خود نکلتا تو بہہ جاتا تو وضو جاتا رہے گا اور تھوڑا چوسا یا چھوٹی کِلّی تھی تو وضو نہ جائے گا ، یوں ہی کھٹمل یا مچھر کے کاٹے سے وضو نہیں جاتا۔
فـــ۲:تطفل علی الغنیۃ والبحر ۔
فـــ۳:فصل منازعۃ طالت منذ مئین سنۃ۔

وصارت فـــ۱العبارۃ الحسنۃ الصافیۃ الوافیۃ بحمد اللّٰہ تعالٰی ما اقول:  ناقضہ من غیر السبیلین کل نجس خرج منہ وفیہ قوۃ سیلانہ علی ماھو ظاھر البدن شرعا۔

اور عمدہ ،بے غبار ، مکمل عبارت بحمدہٖ تعالٰی یہ ہوئی جو میں کہتا ہوں ''ناقض طہارت غیر سبیلین سے ہو وہ نجس ہے جو اس سے نکلے اور اسکے اندر اس پر بہنے کی قوت ہو جو شرعاً ظاہر بدن ہے ۔

فـــ۱:افادۃ المصنف عبارۃ حسنۃ فی بیان الناقض من غیر السبیلین ۔

 (۳) لیس فـــ۲ فی النزول الی ما صلب النقض روایۃ واحدۃ کما اوھم الاتقانی وتبعہ من تبعہ ولا عدم فـــ۳ النقض روایۃ واحدۃ کما زعم النھر بل ھما روایتان والثانی اشھر واظھر۔

 (۳) ناک کے سخت حصے کی طرف خون اتر آنے میں صرف یہی ایک روایت نہیں کہ وضو ٹوٹ جائے گا جیسا کہ علامہ اتقانی نے اپنے کلام سے یہ وہم پیداا کیا اور ان کی اتباع کرنے والوں نے ان کا اتباع کیا اور نہ یہی ایک روایت ہے کہ وضو نہ ٹوٹے گا جیسا کہ صاحبِ نہر کا خیال ہے۔بلکہ یہ دونوں روایتیں ہیں اور ثانی زیادہ مشہور اور ظاہر ہے ۔

فـــ۲:تطفل علی الاتقانی و من تبعہ۔
فـــ۳:تطفل علی النھر الفائق ۔

 (۴) لم فـــ۴ تمش المنیۃ ولا الذخیرۃ علی قول زفرکما زعم المحقق فی الحلیۃ بل مشیا علی الروایۃ الشہیرۃ۔

 (۴) منیہ اور ذخیرہ امام زفر کے قول پر گامزن نہیں جیسا کہ محقق حلبی کا حلیہ میں خیال ہے بلکہ دونوں روایت مشہورہ پر چلے ہیں ۔

فـــ۴:تطفل علی الحلیۃ۔

 (۵) لاداعی لحمل الوجوب علی الثبوت کما ارتکب البحر بل ھو المراد علی اشھر الروایات۔

 (۵) وجوب کو ثبوت پر محمول کرنے کا کوئی داعی نہیں جیسا کہ بحر نے اس تاویل کا ارتکاب کیا بلکہ اشہر روایات کے مطابق وجوب ہی مراد ہے ۔

 (۶) لامعنی لحمل القصبۃ فی کلام المعراج علی ماصلب کما فھم فی البحر وجزم بہ فی منحۃ الخالق و ردالمحتار بل مرادہ مالان کما افاد فی النھر۔

 (۶) کلامِ معراج میں ''بانسے '' کو سخت حصے پر محمول کرنے کا کوئی معنی نہیں جیسا کہ بحر میں سمجھا اور منحۃ الخالق و رد المحتار میں اس پر جزم کیا بلکہ اس سے مراد نرم حصہ ہے جیسا کہ نہر میں افادہ کیا ۔

 (۷) وقع الخلط بین القولین والمشی علی روایتین مختلفتین فی العنایۃ وشیئ منہ فی الفتح اما النھایۃ فاجبنا عنھا جوابا نفیسا۔

(۷) عنایہ میں دونوں قولوں کے درمیان تخلیط اور دونوں روایتوں پر مشی واقع ہوئی اور اس میں سے کچھ فتح القدیر میں بھی ہے۔ لیکن نہایہ سے متعلق ہم ایک نفیس جواب دے چکے ہیں ۔

(۸) لاوجہ لحمل کلام الحدادی علی ماقال فی البحر بل ھو ماش علی الروایۃ الشہیرۃ کما افصح عنہ فی الجوھرۃ النیرۃ۔

 (۸) حدادی کے کلام کو اس پر محمول کرنے کی کوئی وجہ نہیں جو بحر میں کہا ،بلکہ وہ روایت مشہورہ پر جاری ہے جیسا کہ جوہرہ نیرہ میں اسے صاف طور پر کہا ۔

 (۹)نفی فـــ۱النقض فیما صلب لیس بمحض المفھوم کما فھم البحر علیہ صرائح نصوص لامردلھا۔

 (۹) سخت حصے میں خون اترنے کی صورت میں وضو ٹوٹنے کی نفی محض مفہوم سے ثابت نہیں جیسا کہ بحر نے سمجھا بلکہ اس پر صریح ناقابل تردید نصوص موجود ہیں ۔

فـــ۱: تطفل علی البحر۔

 (۱۰) لایجب حمل کلام الہدایۃ علی ما ذکر الاتقانی والعنایۃ بل لہ محمل صحیح علی الروایۃ الشہیرۃ ایضا من دون لزوم العبث والتکرار ذلک من فضل اللّہ علینا والحمد للّٰہ العزیزالغفار۔

 (۱۰) ہدایہ کی عبارت کو اتقانی اور عنایہ کے ذکر کردہ معنی پر محمول کرنا لازم نہیں بلکہ روایت مشہورہ پر بھی اس کا ایک صحیح مطلب ہے جس میں نہ عبث لازم آتا ہے نہ تکرار ہوتی ہے ۔یہ ہم پر خدا کا فضل ہے اور خدائے عزیز و غفار کا شکر ہے ۔

الخامس فـــ۲ سبق الی خاطر بعض المتأخرین من الشراح والمحشین ان المراد بما یلحقہ حکم التطہیر مایؤمر المکلف بایقاع تطہیرہ بالفعل۔

تنبیہ پنجم :بعض متاخر شارحین و محشین کو یہ خیال ہوا کہ ''جسے حکم تطہیر لاحق ہے '' سے مراد یہ ہے کہ مکلف بالفعل جسے پاک کرنے کا مامور ہے ۔

فـــ۲:تحقیق شریف فی المراد بما یلحقہ حکم التطہیر۔

قلت ای علی فرض وقوع حدث او اصابۃ خبث اذ لولاہ نقض فصد المتوضئ لعدم خروجہ الی ماکان مامورا بتطھیرہ بالفعل، فان جعل مامورا بہ بھذا الفصل کان دورا کما لا یخفی ویتفرع علیہ انہ ان تورم موضع من بدنہ قدر کف مثلا وکان یضرہ اصابۃ الماء فانفجر من اعلاہ وسال علی الورم لاینقض مالم یجاوز موضع الورم لانہ لایؤمر بایقاع تطہیرہ بالفعل لمکان الضرر۔

قلت : ان کا مطلب یہ ہے کہ بالفرض اس وقت کوئی حدث واقع ہو یا کوئی نجاست لگ جائے تو اسے بروقت اس کو پاک کرنے کا حکم ہو اس لئے کہ اگر یہ نہ مانیں تو باوضو شخص کا فصد لگوانا ناقضِ وضو نہ ہو کیوں کہ ایسی جگہ کی طرف خون کا نکلنا نہ ہوا جسے پاک کرنے کا بالفعل اسے حکم رہا ہو ، اگر اسی فصد کے سبب اسے مامور مانیں تو دور لازم آئے گا جیسا کہ پوشیدہ نہیں ۔اسی خیال پر یہ بات متفرع ہوتی ہے کہ اگر اس کے بدن کی کسی جگہ مثلاً ہتھیلی برابر ورم ہو اور اس پر پانی لگنا ضرر رساں ہو وہ ورم اوپر سے پھوٹا اور خون یا پیپ ورم پر بہا تو وہ ناقضِ وضو نہ ہو جب تک کہ جائے ورم سے تجاوز نہ کر جائے کیونکہ ضرر کی وجہ سے بروقت اسے اس جگہ کو پاک کرنے کا حکم نہیں ہے

فی فتح اللّٰہ المعین عن حاشیۃ العلامۃ نوح افندی ''قال بعض الفضلاء فی شرح الوقایۃ یعنی ابن ملک یفھم من قولہ سال الی مایطھر انہ اذاکان لہ جراحۃ منبسطۃ بحیث یضر غسلھا فان خرج الدم وسال علی الجراحۃ ولم یتجاوز الی موضع یجب غسلہ لاینقض الوضوء کذا فی المشکلات ۱؎ اھ

فتح اللہ المعین میں حاشیہ علامہ نوح آفندی کے حوالے سے نقل ہے :'' بعض فضلا یعنی ابن ملک نے عبارۃ شرح وقایہ سے متعلق کہا لفظ '' سال الی ما یطہر '' اس جگہ کی طرف بہے جسے پاک کیا جاتا ہے '' سے سمجھ میں آتا ہے کہ اگر کسی کو پھیلی ہوئی جراحت ہے جس کا دھونا مضر ہے خون نکلا اور جراحت کے اوپر بہا ، کسی ایسی جگہ نہ بڑھا جسے دھونا واجب ہے تو وضو نہ ٹوٹے گا ، ایسا ہی مشکلات میں ہے ا ھ ۔

 (۱؎ فتح المعین      کتاب الطہارۃ ،ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ،۱ /۴۱)

والیہ یشیر کلامہ ابیہ السید علی حیث قال السید الازھری''المراد بحکم التطہیر وجو بہ فی الوضوء والغسل ولو بالمسح لینتظم مااذا کانت الجراحۃ منبسطۃ بحیث یضر غسلھا فان خرج الدم وسال علی الجراحۃ ولم یتجاوزھا الی موضع یجب غسلہ فانہ ینقض لانہ سال الی موضع یلحقہ حکم التطہیر بالمسح علیہ للعذر کذا بخط شیخنا وانظرحکم مالوضرہ المسح ایضا الخ۲؎ ثم نقل عن العلامۃ نوح افندی رد ما مرعن المشکلات بما سیاتی ان شاء اللّٰہ تعالٰی ثم قال ''وکلام القہستانی یشیر الی ما فی المشکلات ونصہ نزل الدم من الانف فسد مالان منہ ولم ینزل منہ شیئ اوتورم رأس الجرح فظھر بہ قیح اونحوہ ولم یتجاوز الورم لم ینقض۳؎ الخ

اسی کی طرف ان کے والد سید علی کے کلام سے بھی اشارہ ہو رہا ہے ، سید ازہری فرماتے ہیں : حکمِ تطہیر سے مراد وجوب تطہیر وضو و غسل ہیں ، اگرچہ مسح ہی کے ذریعہ ہو تاکہ اسے بھی شامل ہو جب جراحت پھیلی ہوئی ہو اس کے دھونے میں ضرر ہو اگر خون نکل کر جراحت پر بہا اور ایسی جگہ نہ بڑھا جسے دھونا واجب ہو تو یہ ناقض ہے کیونکہ یہ ایسی جگہ بہا جسے عذر کے باعث مسح کے ذریعہ پاک کرنے کا حکم لاحق ہے ایسا ہی ہمارے شیخ کی تحریر میں مرقوم ہے اس صورت کا حکم قابلِ غور ہے جس میں مسح بھی ضرر دیتا ہو الخ۔ پھر علامہ نوح آفندی سے مشکلات کے سابقہ مضمون کی تردید نقل کی ، یہ آگے ان شاء اللہ تعالٰی آئے گی پھر کہا : قہستانی کا کلام بھی مضمونِ مشکلات کی طرف اشارہ کر رہا ہے اس کی عبارت یہ ہے کہ : ناک سے خون اُترا تو اس کے نرم حصے کو بند کر دیا اور اس سے کچھ نیچے نہ آیا ، یا سرِ زخم میں ورم ہو گیا اس میں پیپ وغیرہ ظاہر ہوئی اور ورم سے آگے نہ بڑھی تو ناقض نہیں الخ۔

 (۲؎ فتح المعین      کتاب الطہارۃ     ایچ ایم سعید کمپنی کراچی     ۱ /۴۱)
(۳؎ فتح المعین      کتاب الطہارۃ     ایچ ایم سعید کمپنی کراچی     ۱ /۴۱ و ۴۲)

اقول اولا  فــ ان کان فی ھذا الکلام اشارۃ الی ذلک فاسنادہ للقہستانی من ابعاد النجعۃ فان الفرع مذکور فی البحر والفتح والمبسوط وغیرھا من جلۃ المعتمد ات وقد قدمنا کلام الفتح ان فی مبسوط شیخ الاسلام تورم رأس الجرح فظھر بہ قیح ونحوہ ولا ینقض مالم یجاوز الورم ۱؎ الخ

اقول اولاً :اگر اس کلام میں اس طرف اشارہ ہے تو قہستانی کی طرف اس کی اسناد خوراک کی تلاش میں بہت دور نکل جانے کی طرح ہے اس لئے کہ یہ جزیہ بحر ، فتح ، مبسوط وغیرہا معتمداتِ جلیلہ میں مذکور ہے ۔اور فتح کی یہ عبارت ہم پہلے نقل کر آئے ہیں کہ شیخ الاسلام کی مبسوط میں ہے : سرِ زخم پر ورم ہو گیا اس میں پیپ وغیرہ ظاہر ہوئی تو جب تک ورم سے تجاوز نہ کرے ناقض نہیں الخ۔

 (۱؎ فتح القدیر ، کتاب الطہارات ،فصل فی نواقض الوضوء ،مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر،۱ /۳۴)

فــــ:تطفل علی السید ابی السعود ۔

وثانیا : لااشارۃ فـــ۱ فانھم انما فرضوا تو رم رأس الجرح فالتجاوز عنہ یکون بالانحدار وھو شرط النقض علی الصحیح المفتی بہ ولیس فی کلامھم ذکر ورم بسیط وسیع ینفجر رأسہ فیسیل علی سطحہ ولا یجاوزہ الی الموضع الصحیح نعم انا اسعف فـــ۲ بذکرما وقفت علیہ من کلام من یذھب اویمیل الیہ ثم اذکر مایفتح المولی سبحٰنہ من لدیہ قال الامام الحلبی فی الحلیۃ ''اذا انحدر الخارج عن رأس الجرح لکنہ لم یجاوز المحل المتو رم وانما انحدر الی بعض ذلک المحل ومسحہ ایضا اما اذاکان لایضرہ احدھما فینبغی انہ ینقض لانہ یلحقہ حکم التطہیر اذ المسح تطہیر لہ شرعا کالغسل فلیتنبہ لذلک ۱؎ اھ

ثانیاً :اس میں کوئی اشارہ نہیں اس لئے ان حضرات نے سرِ زخم کا ورم کرنا فرض کیا ہے اس سے (خون کا ) تجاوز ڈھلکنے سے ہو گا ۔اور یہ صحیح مفتٰی بہ قول پر وضو ٹوٹنے کی شرط ہے ، ان کے کلام میں ایسے ورم کا ذکر ہی نہیں جو پھیلا ہوا کشادہ ہو جس کاسرا پھٹ جائے پھر خون یا پیپ اس کی سطح پر بہے اور اس سے تجاوز کر کے صحت والی جگہ نہ آئے ہاں میں ان حضرات کا ذکر کروں گا جن کے بارے میں مجھے علم ہوا کہ یہ ان کا مذہب ہے یا اس طرف ان کا میلان ہے
اس کے بعد وہ ذکر کروں گا جو اپنی طرف سے مولٰی تعالٰی منکشف فرمائے گا ، امام حلبی حلیہ میں لکھتے ہیں : سرِ زخم سے نکلنے والا ( خون یا پیپ ) ڈھلک آئے لیکن ورم کی ہوئی جگہ سے تجاوز نہ کرے بس اسی جگہ کے کسی حصے تک ڈھلک کر آیا ہو تو وضو نہ ٹوٹے گا جبکہ اس شخص کو اس جگہ کا دھونا اور مسح کرنا ضرر دیتا ہو اور اگر دھونے یا مسح کرنے میں ضرر نہ ہو تو اسے ناقض ہونا چاہئے اس لئے کہ اسے حکم تطہیر لاحق ہے کیونکہ مسح بھی دھونے کی طرح شرعاً اس کی تطہیر ہے تو اس پر متنبہ رہنا چاہئے اھ۔

 (۱؎ حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی۔)

ف۱:تطفل اٰخر علیہ۔
ف۲:مسئلہ ورم زیادہ جگہ میں پھیلا ہے اور اسے مسح بھی نقصان کرتا ہے اور وہ اوپر سے پھوٹا اور خون یا پیپ ورم، ورم پر بہاصحیح بدن کی طرف نہ بڑھا ، تو بعض کتب میں فرمایا وضو نہ گیا اور مصنف کی تحقیق کہ جاتا رہے گا اور اگر اس ورم کو غسل یا مسح کرسکتے ہوں تو بالاتفاق ناقض وضو ہوگا۔

وفی الفوائد المخصصۃ للعلامۃ الشامی عن المقاصد الممحصۃ فی بیان کی الحمصۃ لسیدی عبدالغنی انہ قال'' بعد نقلہ حد السیلان ومافیہ من الخلاف فالمفہوم من ھذہ العبارات ان الدم والقیح والصدید اذا علا علی الجرح ولم یسل عنہ الی موضع صحیح من البدن لاینقض الوضوء سواء کان الجرح کبیرا او صغیرا ۲؎ علامہ شامی کی فوائد مخصصہ میں سیدی عبدالغنی کی مقاصد ممحصہ کے حوالے سے آبلوں کے بیان میں ہے کہ انہوں نے سیلان کی تعریف اور اختلاف نقل کرنے کے بعد فرمایا : ان عبارتوں سے مفہوم یہ ہوتا ہے کہ خون ، پیپ پانی جب سر زخم پر چڑھے اور اس سے ہٹ کر بدن کی کسی صحتمند جگہ نہ بہے تو وضو نہ ٹوٹے گا ، خواہ زخم بڑا ہو یا چھوٹا۔

 (۲؎ الفوائدالمخصصہ ،رسالہ من رسائل ابن عابدین     سہیل اکیڈمی لاہور ،۱ /۶۳ )

 (ثم قال بعد کلام) ویؤید ھذا ما فی خزانۃ الروایات فی الجراحۃ البسیطۃ اذا خرج الدم من جانب وتجاوز الی جانب اٰخر لکن لم یصل الی موضع صحیح فانہ لاینقض الوضوء لانہ لم یصل الی موضع یلحقہ حکم التطہیر ۱؎ اھ  ( پھر کچھ عبارت کے بعد لکھا ) اس کی تائید پھیلی ہوئی جراحت سے متعلق خزانۃ الروایات کی اس عبارت سے ہوتی ہے : جب خون ایک جانب سے نکلے اور دوسری جانب تجاوز کرے لیکن کسی تندرست جگہ نہ پہنچے تو وہ ناقض وضو نہیں ، اس لئے کہ ایسی جگہ نہ پہنچا جسے حکم تطہیر لاحق ہو اھ ۔

 (۱؎ الفوائد المخصصۃ،رسالہ من رسائل ابن عابدین ،سہیل اکیڈمی لاہور  ، ۱ /۶۴)

وفی الارکان الاربعۃ للمولٰی ملک العلماء بحرالعلوم عبدالعلی اللکنوی اذا خرج القیح من رأس الجرح ولم یتجاوز ورم الجرح لاینتقض الطھارۃ ولایکون نجسا ۲؎ اھ ملک العلماء بحر العلوم مولٰنا عبد العلی لکھنوی کی ارکان اربعہ میں ہے :''جب سر زخم سے پیپ نکلے اور زخم کے ورم سے تجاوز نہ کرے تو طہارت نہ توڑیگا اور نہ نجس ہو گا ۔'' اھ

 (۲؎ رسائل الارکان کتاب الطہارۃ   نواقض الوضوء     مکتبہ اسلامیہ کوئٹہ ص ۱۶)

وفی ردالمحتار عن السراج عن الینا بیع الدم السائل علی الجراحۃ اذالم یتجاوز قال بعضھم ھو طاھر حتی لوصلی رجل بجنبہ واصابہ منہ اکثر من قدر الدرھم جازت صلاتہ وبھذا اخذ الکرخی وھو الاظھر وقال بعضھم ھو نجس وھو قول محمد ۳؎ اھ قال الشامی ومقتضاہ انہ غیر ناقض لانہ بقی طاھرا بعد الاصابۃ وان المعتبر خروجہ الی محل یلحقہ حکم التطہیر من بدن صاحبہ فلیتامل ۴؎ اھ

ردالمحتار میں سراج وہاج سے اس میں ینابیع سے نقل ہے : جراحت پر بہنے والا خون جب اس سے تجاوز نہ کرے تو بعض نے کہا وہ پاک ہے یہاں تک کہ اگر اس کے پہلو میں کوئی نماز پڑھ رہا ہے اسے درہم بھر سے زیادہ وہ خون لگ گیا تو اس کی نماز ہو گئی ، اسی کو امام کرخی نے اختیار کیا اور یہی امام محمد کا قول ہے اھ ، علامہ شامی کہتے ہیں : اس کا مقتضا یہ ہے کہ وہ ناقض بھی نہ ہو اس لئے کہ وہ لگنے کے بعد بھی طاہر رہا اور یہ کہ اعتبار اس کا ہے کہ صاحبِ زخم کے بدن سے ایسی جگہ کی طرف نکلے جسے حکمِ تطہیر لاحق ہے تو اس پر تامل کیا جائے اھ۔

 (۳؎ رد المحتار کتاب الطہارۃ    مطلب نواقض الوضوء     دار احیاء التراث العربی بیروت ۱ /۹۲)
(۴؎ رد المحتار کتاب الطہارۃ     مطلب نواقض الوضوء         دار احیاء التراث العربی بیروت     ۱ /۹۲)

وانا اقول:  وباللّٰہ التوفیق وبہ استھدی سواء الطریق ھھنا مسئلتان :

وانا اقول  : ( اور میں کہتا ہوں )اور توفیق خدا ہی سے ہے اور اسی سے راہِ راست کی ہدایت طلب کرتا ہوں ، یہاں دو مسئلے ہیں :

مسئلۃ الورم الغیر المنفجر الامن اعلاہ کما وصفنا ۔

 (۱) مسئلہ ورم ایسا ورم جو اپنے اوپری حصے سے ہی پھوٹا ہو ، جیسا کہ ہم نے بیان کیا ۔

ومسئلۃ الجرح اعنی تفرق الاتصال کما یحصل بالسلاح والانفجار وقد خلطھما فـــ۱ السید ابو السعود کما رأیت وسیظھر الفرق بعون رب البیت ۔

 (۲) مسئلہ زخم ، یعنی اتصال ختم ہو کر جدائی پڑ جانا جیسے ہتھیار سے اور پھٹنے سے ہوتا ہے ۔ دونوں مسئلوں میں سید ابو السعود نے خلط کر دیا جیسا کہ آپ نے دیکھا ، دونوں میں فرق بعونہٖ تعالٰی جلد ہی ظاہر ہو گا ۔

فــــ۱:تطفل ثالث علی السید الازھری ۔

اما الاولی: ففی غایۃ الاشکال ولا تحضرنی الاٰن مصرحۃ کذلک الامن الحلیۃ والارکان الاربعۃ وکذا ماتبتنی علیہ من ارادۃ مایکلف بایقاع تطہیرہ بالفعل وھذا ربما یشم من غیرھما ایضا کابن ملک وخزانۃ الروایات و ردالمحتار۔

پہلا مسئلہ:  ورم انتہائی مشکل ہے اور اس تصریح کے ساتھ بروقت مجھے صرف حلیہ اور ارکانِ اربعہ سے مستحضر ہے یوں ہی وہ جس پر اس مسئلے کی بنیاد رکھتے ہیں کہ مراد یہ ہے کہ وہ بر وقت اس کی تطہیر عمل میں لانے کا مکلّف ہو اور اس کی کچھ بو ان دونوں کے علاوہ ابن ملک ، خزانۃ الروایات اور ردالمحتار سے بھی آتی ہے ۔

فاقول اولا:  لایذھبن عنک ان المعنی فـــ۲ المؤثرفـــ۳ عندنا فی الحدث ھو خروج النجس من باطن البدن الی ظاھرہ لایحتاج معہ الی شیئ اٰخر غیران الخروج لایتحقق فی غیر السبیلین الا بالانتقال لان تحت کل جلدۃ دما و ھو مادام فی مکانہ لایعطی لہ حکم النجاسۃ۔

فاقول اولاً:  یہ بات ذہن سے نہ نکلے کہ ہمارے نزدیک حدث میں مؤثر معنی شے نجس کا باطن بدن سے ظاہر بدن کی طرف نکلنا ہے۔ مگر یہ ہے کہ غیر سبیلین میں نکلنا بغیر منتقلی کے متحقق نہیں ہوتا اس لئے کہ ہر جلد کے نیچے خون ہے اور وہ جب تک اپنی جگہ رہے اسے نجاست کا حکم نہ دیا جائے گا ۔

فـــ۲:تطفل علی الحلیۃ و بحر العلوم فی مسئلۃ الورم ۔
فـــ۳ :تحقیق المعنی المؤثر فی الحدث و وجہ اشتراط السیلان فی الخارج من غیر السبیلین ۔

قال الامام برھان الملۃ والدین فی الھدایۃ خروج النجاسۃ مؤثر فی زوال الطہارۃ غیر ان الخروج انما یتحقق بالسیلان الی موضع یلحقہ حکم التطہیر لان بزوال القشرۃ تظھرالنجاسۃ فی محلھا فتکون بادیۃ لاخارجۃ بخلاف السبیلین لان ذلک الموضع لیس بموضع النجاسۃ فیستدل بالظھور علی الانتقال والخروج ۱؎ اھ

 (۱) امام برہان الملۃ والدین ہدایہ میں فرماتے ہیں : خروج نجاست ، زوال طہارت میں مؤثر ہے مگر یہ کہ خروج ایسی جگہ جسے حکمِ تطہیر لاحق ہے بہنے ہی سے متحقق ہوتا ہے اس لئے کہ پوست ہٹنے سے نجاست اپنی جگہ ظاہر ہو جاتی ہے تو وہ بادی ( ظاہر ہونے والی ) ہو گی خارج نہ ہو گی ، سبیلین کا حال اس کے برخلاف ہے کیونکہ وہ جگہ نجاست کی جگہ نہیں تو ظاہر ہونے سے ہی منتقل اور خارج ہونے پر استدلال ہو گا اھ۔

 (۱؎ الہدایۃ ،کتاب الطہارۃ ، فصل فی نواقض الوضوء     مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ، ۱ /۳۹)

ومثلہ فی المستخلص نقلا عنہا وقال الامام فقیہ النفس فی شرح الجامع الصغیر الحدث للخارج النجس والخروج انما یتحقق بالسیلان ۲؎ الخ

 (۲) اسی کی مثل اس سے نقل کرتے ہوئے مستخلص میں ہے ۔ (۳) امام فقیہ النفس شرح جامع صغیر میں فرماتے ہیں : حدث ، خارج نجس کا نام ہے اور خروج سیلان ہی سے متحقق ہوتا ہے۔ الخ۔

(۲؎ شرح الجامع الصغیر للامام قاضی خان )

وقال الامام المحقق علی الاطلاق فی فتح القدیر ''خروج النجاسۃ مؤثر فی زوال الطہارۃ شرعا وھذا القدر فی الاصل معقول ای عُقل فی الاصل وھو الخارج من السبیلین ان زوال الطھارۃ عندہ انما ھو بسبب انہ نجس خارج من البدن اذلم یظھر لکونہ من خصوص السبیلین تاثیر، وقد وجد فی الخارج من غیرھما فیتعدی الحکم الیہ فالاصل الخارج من السبیلین وحکمہ زوال طھارۃ یوجبھا الوضوء وعلتہ خروج النجاسۃ من البدن والفرع الخارج النجس من غیرھما وفیہ المناط فیتعدی الیہ زوال الطھارۃ ۱؎ اھ

(۴) امام محقق علی الاطلاق فتح القدیر میں فرماتے ہیں : خروج نجاست شرعاً زوال طہارت میں مؤثر ہے ، اتنی مقدار اصل میں معقول ہے یعنی اصل جو خارج سبیلین ہے اس سے متعلق یہ بات عقل سے سمجھ میں آتی ہے کہ اس کے پائے جانے کے وقت زوال طہارت اسی سبب سے ہے کہ وہ بدن سے نکلنے والی ایک نجاست ہے کیونکہ خاص سبیلین سے خارج ہونے کا کوئی اثر کہیں ظاہر نہ ہوا اور یہ سبب غیر سبیل سے نکلنے والی چیز میں بھی موجود ہے تو حکم وہاں بھی پہنچے گا ، تو اصل خارج سبیلین ہے ، حکم اس طہارت کا ختم ہو جانا جو وضو سے ثابت ہوتی ہے علت ، نجاست کا بدن سے نکلنا ، فرع ، غیرسبیلین سے نکلنے والی نجس چیز اور اس پر مدار ہے تو زوال طہارت یہاں بھی متعدی ہو جائے گا اھ۔

 (۱؎ فتح القدیر     کتاب الطہارۃ   فصل فی نواقض الوضوء    مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر     ۱ /۳۹)

ومثلہ فی البحر الرائق وفیہ ایضا النقض بالخروج وحقیقتہ من الباطن الی الظاھر و ذلک بالظھور فی السبیلین یتحقق۲؎ وفی غیرھما بالسیلان الی موضع یلحقہ التطھیرلان بزوال القشرۃ تظھر النجاسۃ فی محلھا فتکون بادیۃ لاخارجۃ ۳؎ اھ

(۵) اسی کے مثل البحر الرائق میں بھی ہے اور اس میں یہ بھی ہے :'' نقض خروج سے ہوتا ہے اور اس کی حقیقت باطن سے ظاہر کی طرف نکلنا ہے ، یہ بات سبیلین کے اندر ظہور سے متحقق ہوتی ہے ۔اور غیر سبیلین میں ایسی جگہ بہنے سے جسے حکم تطہیر لاحق ہے اس لئے کہ پوست ہٹنے سے نجاست اپنی جگہ نظر آتی ہے تو وہ ظاہر کہلائے گی خارج نہ ہو گی ، اھ۔

 (۲؎ فتح القدیر     کتاب الطہارۃ    فصل فی نواقض الوضوء     مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر  ، ۱ /۳۹)
(۳؎ فتح القدیر     کتاب الطہارۃ    فصل فی نواقض الوضوء    مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر         ۱ /۳۸ و ۳۹)

وفی الفتح والحلیۃ والغنیۃ والبحر والطحطاوی والشامی جمیع الادلۃ المو ردۃ من السنۃ والقیاس تفید تعلیق النقض بالخارج النجس ۴؎ اھ

 (۶ تا ۹) فتح القدیر، حلیہ ، غنیہ ، بحر ، طحطاوی ، اور شامی میں ہے : سنّت اور قیاس سے لائی جانے والی تمام دلیلیں یہی افادہ کرتی ہیں کہ وضو ٹوٹنا خارج نجس سے وابستہ رہے گا اھ۔

 (۴؎ البحر الرائق کتاب الطہارۃ ،ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ، ۱ /۳۳)
(غنیۃ المستملی شرح منیۃ المصلی     فصل فی نواقض الوضوء     سہیل اکیڈمی لاہور     ص ۱۳۱)

وفی الغنیۃ اذا زالت بشرۃ کانت الرطوبۃ بادیۃ لامنتقلۃ ولا تکون منتقلۃ الا بالتجاوز والسیلان ۱؎ اھ

غنیہ میں ہے : جب جلد ہٹ جائے تو رطوبت نمایاں ہو گی وہ منتقل ہونے والی نہ ہو گی ، منتقل تو تجاوز اور سیلان ہی سے ہو گی اھ۔

 (۱؎ غنیۃ المستملی شرح منیۃ المصلی     فصل فی نواقض الوضوء     سہیل اکیڈمی لاہور     ص ۱۳۱)

وفی تبیین الامام الزیلعی ''الخروج انما یتحقق بوصولہ الی ما ذکرنا لان ماتحت الجلدۃ مملوء دما فبا لظھور لایکون خارجا بل بادیا وھو فی موضعہ ۲؎ اھ

(۱۰) امام زیلعی کی تبیین الحقائق میں ہے :خروج اس جگہ پہنچنے ہی سے متحقق ہو گا جو ہم نے بیان کی اس لئے کہ زیر جلد حصہ ، خون سے بھرا ہوا ہے تو صرف ظہور سے وہ خارج ہو گا بلکہ اپنی جگہ رہتے ہوئے دکھا ئی دینے والا ہوگا اھ

 (۲؎ تبیین الحقائق کتاب الطہارت     دارالکتب العلمیۃ بیروت     ۱ /۴۸)

وفی المحیط ثم الدرر ''حد الخروج الانتقال من الباطن الی الظاھر و ذلک یعرف بالسیلان من موضعہ ۳؎ اھ ''

 (۱۱ ، ۱۲ ) محیط پھر درر میں ہے : خروج کی تعریف ، باطن سے ظاہر کی طرف منتقل ہونا اور اس کی شناخت اپنی جگہ سے بہہ جانے سے ہو گی اھ۔

(۳؎ درر الحکام بحوالہ المحیط کتاب الطہارت میر محمد کتب خانہ کراچی ۱ /۱۳)

وفی شرح الوقایۃ للامام صدر الشریعۃ المعتبر الخروج الی ماھو ظاھر البدن شرعا ۴؎ اھ

 (۱۳) امام صدر الشریعہ کی شرح وقایہ میں ہے : اعتبار اس جگہ نکلنے کا ہے جو شرعاً ظاہر بدن ہے اھ۔

 (۴؎ شرح الوقایۃ کون السائل الٰی ما یطہر ناقصا مکتبہ امدادیہ ملتان ۱ /۷۱)

وقال الامام النسفی فی متن الکنز ینقضہ خروج نجس منہ ۵؎ اھ  (۱۴) امام نسفی ، متن کنزالدقائق میں فرماتے ہیں : ینقضہ خروج نجس منہ اھ اس سے کسی نجس کا نکلنا وضو توڑ دے گا ۔

 (۵؎ کنز الدقائق کتاب الطہارۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ص ۷)

واستحسنہ فی جامع الرموز فقال حق العبارۃ ناقضہ خروج النجس ۱؎ اھ

 (۱۵) جامع الرموز میں اسے پسند کیا اور کہا حق عبارت یہ ہے : ناقضہ خروج النجس ، ناقضِ وضو نجس کا نکلنا ہے اھ۔

 (۱؎ جامع الرموز کتاب الطہارۃ          مکتبۃ الاسلامیہ گنبدِ قاموس ایران     ۱ /۳۴)

وقال السید جلا ل الدین فی الکفایہ ''لایتحقق الخروج الا بالسیلان لان تحت کل جلدۃ رطوبۃ فاذا زالت کانت بادیۃ لاخارجۃ کالبیت اذا انھدم کان الساکن ظاھرا لا منتقلا عن موضعہ ۲؎ اھ  (۱۶) سید جلال الدین کرلانی کفایہ میں فرماتے ہیں : ''خروج بغیر بہنے کے متحقق نہیں ہوتا اس لئے کہ ہر جلد کے نیچے رطوبت ہے جب جلد ہٹ جائے تو رطوبت ظاہر ہو گی خارج نہ ہو گی جیسے گھر گر جائے تو اندر رہنے والا ظاہر ہو گا اپنی جگہ سے منتقل نہ ہو گا '' اھ۔

 (۲؎ الکفایۃ مع فتح القدیر کتاب الطہارۃ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر     ۱ /۳۸)

وقال العلامۃ الا کمل فی العنایۃ خروج النجس من بدن الانسان الحی ینقض الطہارۃ کیفما کان عندنا وھو مذھب العشرۃ المبشرۃ رضی اللّٰہ تعالٰی عنھم ۳؎ اھ

( ۱۷) علامہ اکمل الدین بابرتی عنایہ میں فرماتے ہیں :''زندہ انسان کے بدن سے نجس چیز کا نکلنا ہمارے نزدیک جس طرح بھی ہو ناقضِ طہارت ہے اور یہی عشرہ مبشرہ رضی اللہ تعالٰی عنہم کا مذہب ہے اھ۔

وفیھا ایضا شرط التجاوز الی موضع یلحقہ حکم التطہیر احتراز عما یبدو ولم یخرج ولم یتجاوز فانہ لایسمی خارجا فکان تفسیرا للخروج وردا لما ظن زفر ان البادی خارج ۴؎ اھ

اس میں یہ بھی ہے : جسے حکمِ تطہیر لاحق ہے اس جگہ تجاوز کی شرط اس صورت سے احتراز ہے جب نجس صرف نمودار ہو ، نہ نکلے ، نہ آگے بڑھے کیونکہ اسے خارج نہیں کہا جا تا۔ تو یہ شرط خروج کی تفسیر اور امام زفر کے اس گمان کی تردید ہے کہ ظاہر ہونے والا ، نکلنے والا ہے اھ۔

 (۳؎ العنایۃ شرح الہدایۃ مع فتح القدیر کتاب الطہارۃ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ /۳۳)
(۴؎ العنایۃ شرح الہدایۃ مع فتح القدیر کتاب الطہارۃ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۱ /۳۳)

وقد صرح المولی بحرالعلوم نفسہ فی ذلک الکتاب انہ ثبت ان علۃ انتقاض الطھارۃ خروج النجاسۃ فکلما خرج من النجاسۃ ینقض الطہارۃ ۱؎ اھ

(۱۸) خود مولانا بحر العلوم نے اسی کتاب میں صراحت کی ہے کہ ثابت ہو گیا کہ طہارت ٹوٹنے کی علّت خروجِ نجاست ہے تو جو نجاست بھی خارج ہو گی ناقض طہارت ہو گی اھ۔

 (۱؎ رسائل الارکان کتاب الطہارۃ بیان نواقض الوضوء مکتبہ اسلامیہ کوئٹہ ص ۱۶ )

ومن نظر الی تظافر ھذہ النصوص ایقن ان خروج النجس الی ظاھر البدن اذا تحقق لایتوقف بعدہ ثبوت الحدث وان تحققہ فی غیر السبیلین یحصل بانتقال ماعن موضعہ لایشترط فیہ ان یکون ذراعا اوشبرا مثلا،ولذلک لما ظھر لمحمد فیما روی عنہ ان بالعلو علی راس الجرح یحصل انتقال الدم من مکانہ حکم بالنقض من دون توقیف علی انحدار ایضا فضلا عن اشتراط امتداد مسافۃ واصحابنا جعلوا رأس الجرح من مکانہ فما دام علیہ ولم یجاوزہ لم ینتقل من مکانہ وان انتقل من تحت۔

جو ان نصوص کی کثرت اور باہمی موافقت دیکھے گا اس بات کا یقین کرے گا کہ ظاہر بدن کی طرف نجس چیز کا خروج جب متحقق ہو جائے تو اس کے بعد حدث کا ثبوت کسی اور بات پر موقوف نہیں رہتا اور یہ بھی یقین کرے گا کہ غیر سبیلین میں خروج کا تحقق اپنی جگہ سے کچھ ہٹ جانے سے ہو جاتا ہے اس میں یہ شرط نہیں کہ ایک ہاتھ یا ایک بالشت ہو مثلاً اسی لئے جیسا کہ روایت ہے جب امام محمد پر ظاہر ہوا کہ سر زخم پر چڑھنے سے خون کا اپنی جگہ سے منتقل ہونا حاصل ہو جاتا ہے تو انہوں نے وضو ٹوٹنے کا حکم کر دیا ،نیچے ڈھلکنے پر بھی موقوف نہ رکھا ، کسی مسافت میں پھیلنے کی شرط لگانا تو دور کی بات ہے اور ہمارے اصحاب نے سر زخم کو اس کی جگہ قرار دیا ہے جب تک خون اس پر رہے اور تجاوز نہ کرے تو وہ اپنی جگہ سے منتقل نہ ہوا اگرچہ نیچے سے اوپر گیا ہے ۔

قال فی الدرر عن المحیط بعد ما قدمنا وحد السیلان ان یعلو فینحدر عن رأس الجرح ھکذا فسر ابو یوسف لانہ مالم ینحدر عن رأس الجرح لم ینتقل عن مکانہ فان مایوازی الدم من اعلی الجرح مکانہ ۱؎ اھ۔

درر میں محیط کے حوالہ سے سابقاً نقل کردہ عبارت کے بعد ہے: اور سیلان کی حد یہ ہے کہ اوپر جا کر سر زخم سے ڈھلک آئے ، امام ابو یوسف نے اسی طرح تفسیر فرمائی ۔اس لئے کہ جب تک سر زخم سے نہ اترے وہ اپنی جگہ سے منتقل نہ ہوا اس لئے کہ خون کے مقابل زخم کا بالائی حصہ خون ہی کی جگہ ہے اھ۔

 (۱؎ درر الحکام شرح غرر الاحکام کتاب الطہارۃ ،بیان نواقض الوضوء،میر محمد کتب خانہ کراچی،۱ /۱۳)

فالورم المنبسط المنفجر من اعلاہ اذا انحدر القیح من راسہ تحقق الخروج والانتقال والسیلان قطعا لامحل فیہ لارتیاب فما ھی الا عبارۃ عن معنی واحد ولن یسبقن الی وھم احد ان الورم ان استوعب ید انسان من کتفہ الی رسغہ فانفجر من اعلی الکتف وجعل الدم یثج ثجا حتی ملأ الکتف ثم العضد ثم المرفق ثم الساعد لم یکن کل ھذا خروجا حتی یتجاوز الی الکف۔

تو پھیلا ہوا ورم جو اوپر سے پھوٹ جائے جب پیپ اس کے سر سے نیچے اُتر آئے تو خروج ، انتقال اور سیلان قطعاً متحقق ہو گیا جس میں کسی شک و شبہہ کی گنجائش نہیں کہ یہ سب ایک ہی معنی سے عبارت ہیں اور ہرگز کسی کو یہ وہم نہیں ہو سکتا کہ ورم اگر کسی انسان کے ہاتھ میں شانے سے گِٹّے تک کے حصے کو گھیر لے پھر شانے کے اوپر سے پھوٹے اور خون تیزی سے بہنے لگے یہاں تک کہ شانہ بھر جائے پھر بازو پھر کہنی پھر کلائی بھی بھر جائے ان سب کے باوجود خروج ثابت نہ ہو گا یہاں تک کہ خون تجاوز کر کے ہتھیلی پر آ جائے ۔

وعدم لحوق فــــ حکم التطہیر عند العذر ظاھر المنع بل قد لحق وتاخر طلب ایقاعہ بالفعل حتی یزول ولذا اذا زال ظھر فکان من باب الوجوب لانعقاد السبب وتأخر وجوب الاداء بخلاف داخل العین فانہ من باطن البدن شرعا فی باب التطھیر من کل وجہ لم یلحقہ قط حکم التطھیر ولن یلحقہ ابدا ما بقی فکیف یقاس علیہ ماکان ظاھر البدن قطعاحسا وشرعا ثم اعتری معتر اخر عنہ حکم اداء التطھیر موقتالوقت البرء ام کیف یجعل العارض کاللازم والحادث عن قریب الزائل عما قلیل کاللازب المستمر۔

عذر کے وقت حکمِ تطہیر لاحق نہیں اس پر منع ظاہر ہے۔ یہ ہمیں تسلیم نہیں بلکہ حکم لاحق ہے مگر عذر ختم ہونے تک بالفعل اسے عمل میں لانے کا مطالبہ مؤخر ہو گیا ہے ۔اسی لئے جب عذر ختم ہوجائے تو حکم ظاہر ہوتا ہے تو یہ اس باب سے ہوا کہ سبب متحقق ہونے کی وجہ سے وجوب ثابت ہے اور وجوب ادا مؤخر ہے اور داخل چشم کا معاملہ ایسا نہیں اس لئے کہ باب تطہیر میں وہ ہر طرح شرعاً باطن بدن سے شمار ہے اسے کسی وقت نہ حکمِ تطہیر لاحق ہوا اور نہ ہرگزکبھی لاحق ہو گا جب تک کہ وہ باقی ہے پھر اس پر اس کا قیاس کیسے ہو سکتا ہے جو حِسّاً اور شرعاً قطعی طورپر ظاہر بدن ہے پھر اس پر کوئی عارض در پیش ہوا جس نے اچھے ہونے تک کے لئے عارضی طور پر تطہیر کو عمل میں لانے کا حکم مؤخر کر دیا یا عارض کو لازم کی طرح کیسے قرار دیا جا سکتا ہے اور جلد ہی رونما ہونے والے کچھ دیر بعد زائل ہونے والے کو ہمیشہ لگے رہنے والے کی طرح کیسے کہا جا سکتا ہے !

فـــ:تطفل اٰخر علی الحلیۃ و ابن مالک فی اٰخرین۔

وثانیا:  انمافــــ المنقول عن ائمتنا رضی اللّٰہ تعالٰی عنھم شیئان اما النقض بمجرد العلو علی رأس الجرح وان لم ینحدر کما روی عن محمد والیہ مال الامام محمد بن عبداللّٰہ وعلیہ مشی فی مجموع النوازل والفتاوی النسفیۃ وجعلہ فی الوجیز اقیس وفی الدرایۃ اصح ۔

ثانیاً:  ہمارے ائمہ رضی اللہ تعالٰی عنہم سے منقول دو ہی چیزیں ہیں :
(۱) یا تو محض سر زخم پر چڑھ جانے سے وضو ٹوٹ جانا اگرچہ نیچے نہ اُترے جیسا کہ یہ امام محمد رحمۃاللہ تعالٰی علیہ سے مروی ہے ، اسی کی طرف امام محمد بن عبداللہ مائل ہوئے ، اسی پر مجموع النوازل اور فتاوٰی نسفیہ میں چلے ہیں ، اسی کو وجیز میں زیادہ قرین قیاس اور درایہ میں اصح کہا ہے ۔

فــــ:تطفل ثالث علیھم۔

واما بالانحدار عن رأس الجرح وھو المعتمد وعلیہ الفتوی ولم ینقل عن احد منھم قط ان الا نحدار عن الرأس ایضالا یکفی للنقض مالم یجاوز سطح ورم الجرح کلہ قدر ذراع کان او اکثر۔

 (۲)یا سر زخم سے نیچے اُتر آنے پر وضو ٹوٹنے کا حکم ہے یہی معتمد ہے اور اسی پر فتوی ہے اور ان حضرات میں کسی سے یہ کبھی بھی منقول نہیں کہ وضو ٹوٹنے کے لئے سر زخم سے نیچے اتر آنا بھی کافی نہیں جب تک کہ ورم زخم کی پوری سطح سے تجاوز نہ کر جائے وہ ایک ہاتھ ہو یا زیادہ۔

بل قد نطقت کتب المذھب قاطبۃ بان مجرد الا نحدار عن الرأس کاف فی النقض۔ بلکہ تمام تر کتبِ مذہب ناطق ہیں کہ سر زخم سے محض ڈھلک آنا وضو ٹوٹنے کے لئے کافی ہے ۔

وھذا محرر المذھب محمد رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ قائلا فی جامعہ الصغیر''محمد عن یعقوب عن ابی حنیفۃ رضی اللّٰہ تعالٰی جعنھم فی نفطۃ قشرت فسال منھا ماء اودم اوغیرہ عن رأس الجرح نقض الوضوء وان لم یسل لم ینقض ۱؎ اھ''۔

 (۱) یہ ہیں محرر مذہب امام محمد رضی اللہ تعالٰی عنہ جو جامع صغیر میں فرماتے ہیں :محمد راوی یعقوب سے وہ ابو حنیفہ سے رضی اللہ تعالٰی عنہم اس آبلہ کے بارے میں جس کا پوست ہٹا دیا گیا تو اس سے پانی یا خون یا اور کچھ سرِ زخم سے بہہ گیا تو وضو ٹوٹ جائے گا اور نہ بہا تو نہ ٹوٹے گا اھ۔

 (۱؎ الجامع الصغیر للامام محمد ،کتاب الطہارۃ   باب ما ینقض الوضوء ...الخ     مطبع یوسفی لکھنؤ     ص ۷ )

قال الامام الاجل قاضی خان فی شرحہ والسیلان ان ینحدر عن رأس الجرح وعن محمد رحمہ اللّٰہ تعالٰی اذا انتفخ علی رأس الجرح وصار اکثر من رأس الجرح انتقض والصحیح ماقلنا ۲؎ اھ

 (۲) امام اجل قاضی خان اس کی شرح میں فرماتے ہیں :بہنا یہ ہے کہ سرِ زخم سے ڈھلک آئے اور امام رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ سے روایت ہے کہ جب سرِ زخم پھول جائے اور سرِ زخم سے زیادہ ہو جائے تو وضو ٹوٹ جائیگا ۔اور صحیح وہ ہے جو ہم نے بیان کیا اھ۔

 (۲؎ شرح الجامع الصغیر للامام قاضی خان۔ )

وفی محیط الامام السرخسی ثم النھر ثم الہندیۃ حدالسیلان ان یعلو فینحدرعن رأس الجرح ؎۳؎ اھ  (۳ تا ۵) امام سرخسی کی محیط پھر نہر پھر ہندیہ میں ہے : بہنے کی تعریف یہ ہے کہ اوپر جا کر سر زخم سے ڈھلک آئے اھ۔

 (۳؎ الفتاوی الہندیۃ     الفصل الخامس       نورانی کتب خانہ پشاور      ۱ /۱۰)

وفی جواھر الفتاوی للامام الکرمانی فی الباب الثانی المعقود لفتاوی الامام جمال الدین البزدوی اما التی تخرج من غیر السبیلین ان جوقفت ولم تتعدد عن رأس الجرح فطاھرۃ ۱؎ اھ۔ (۶ و ۷) امام کرمانی کی جواہر الفتاوٰی کے باب دوم میں ہے جو امام جمال الدین بزدوی کے فتاوٰی کے لئے خاص کیا گیا ہے :''وہ جو غیر سبیلین سے نکلے اگر ٹھہر جائے اور سرِ زخم سے تجاوز نہ کرے تو پاک ہے ''اھ۔

 (۱؎ جواہر الفتاوی کتاب الطہارۃ،الباب الثانی،(قلمی فوٹو کاپی )،ص ۶ )

ثم اطال فی بیان حکمۃ فــــــ الفرق بین الخارج والبادی ملخصہ ان البادی الکائن تحت الجلدۃ ھو الذی انتقل عن طبیعۃ الدم الی طبیعۃ اللحم وانتھی نضجہ غیرانہ لم ینجمد بخلاف السائل۔

پھر خارج اور ظاہر کے درمیان فرق کی حکمت تفصیل سے بیان کی ، اس کا خلاصہ یہ ہے کہ زیر جلد پایا جانے والا ظاہر وہی ہے جو خون کی طبیعت سے گوشت کی طبیعت کی طرف منتقل ہو گیا اور جس کے پکنے کا عمل پورا ہو گیا ہے مگر وہ ابھی منجمد نہیں ہوا اور سائل ایسا نہیں ہوتا ۔

فـــ:حکمۃ الفرق بین السائل و البادی۔

وفی شرح الطحاوی للامام الاسبیجابی ثم ایضاح الاصلاح لابن کمال باشا قال اصحابنا اذا خرج وسال عن رأس الجرح نقض الوضوء وقال زفر ینقضہ سال اولم یسل وقال الشافعی لاینقضہ سال اولم یسل ۲؎ اھ

 ( ۸ و ۹) امام اسبیجابی کی شرح طحاوی پھر ابن کمال پاشا کی ایضاح الاصلاح میں ہے :ہمارے اصحاب نے فرمایا :جب خون نکلے اور سرِ زخم سے بہہ جائے تو وضو ٹوٹ جائے گا اور امام زفر فرماتے ہیں وضو ٹوٹ جائے گا بہے نہ بہے اور امام شافعی فرماتے ہیں نہیں ٹوٹے گا بہے یا نہ بہے اھ۔

 (۲؎ ایضاح الاصلاح )

وفی الخلاصۃ ان خرج من قرح بہ دم او صدید اوقیح فسال عن رأس الجرح نقض عندنا۳؎ اھ

 (۱۰) خلاصہ میں ہے : اگر پھوڑے سے خون ، پیپ یا پانی نکل کر سر زخم سے بہہ جائے تو ہمارے نزدیک ناقض ہے اھ۔

 (۳؎ خلاصۃ الفتاوٰی کتاب الطہارۃ ،الفصل الثالث     المکتبۃ الحبیبیہ کوئٹہ   ۱ /۱۵)

وفی المنیۃ ان سال عن رأس الجرح ینتقض وان لم یسل لا ینتقض وتفسیر السیلان ان ینحدر عن رأس الجرح۴؎ اھ

 (۱۱) منیہ میں ہے : اگرسرِ زخم سے بہہ جائے تو ناقض ہے اور نہ بہے تو ناقض نہیں اور بہنے کی تفسیر یہ ہے کہ سر زخم سے ڈھلک آئے اھ۔

 (۴؎ منیۃ المصلی     کتاب الطہارۃ ،بیان نواقض الوضوء     مکتبہ قادریہ لاہور ص ۹۰ )

وفی صدر الشریعۃ ''اذا سال عن رأس الجرح علم انہ دم انتقل من العروق فی ھذہ الساعۃ وھو الدم النجس اما اذا لم یسل علم انہ دم العضو ۱؎ اھ''یشیر الی الحکمۃ التی ذکرھا الامام جمال الدین۔

 (۱۲) صدر الشریعہ کی شرح وقایہ میں ہے :جب سرِ زخم سے بہہ گیا تو معلوم ہوا کہ وہ ایسا خون ہے جو اسی وقت رگوں سے منتقل ہوا اور وہ ناپاک خون ہے لیکن جب نہ بہے تو معلوم ہو گا کہ وہ عضو کا خون ہے اھ اسی حکمت کی طرف اشارہ ہے جو امام جلال الدین (جمال الدین)نے بیان کی ۔

(۱؎ شرح الوقایۃ کتاب الطہارۃ ،نجاسۃ الدم المسفوح... الخ مکتبہ امدادیہ ملتان ۱ /۷۵)

وفی جواھر الاخلاطی ان سال عن رأس الجرح نقض والا لا والسیلان الانحدار عن رأس الجرح ۲؎ اھ

 (۱۳) جواہر الاخلاطی میں ہے : اگر سرِ زخم سے بہہ جائے تو ناقض ہے ورنہ نہیں۔ اور بہنا سرِ زخم سے نیچے اتر آنا ہے اھ۔

 (۲؎ جواہر الاخلاطی کتاب الطہارۃ ،نواقض الوضوء     (قلمی ) ص ۷ )

وقال صاحب السراج نفسہ فی الجوھرۃ النیرۃ حد التجاوز ان ینحدر عن رأس الجرح واما اذاعلا ولم ینحدر لاینقض۳؎ اھ

 (۱۴) خود صاحبِ سراج وہاج ، جوہرہ نیرہ میں لکھتے ہیں :''تجاوز کی حد یہ ہے کہ سر زخم سے نیچے اتر آئے لیکن اوپر چڑھے اور نیچے نہ ڈھلکے تو ناقض نہیں اھ۔

(۳؎ الجوہرۃ النیرۃ     کتاب الطہارۃ مکتبہ امدادیہ ملتان ۱ /۸)

وھذاھو الموافق لما تقدم ان المعنی الخروج وظھورہ بالانتقال فاذن لااری ھذٰا القیل الا مستحدثا بعد ائمتنا علی خلاف مایعطیہ کلامھم جمیعا وعلی خلاف اطلاقات المتون وعامۃ الکتب المعتمدۃ وعلی خلاف ما ھو قضیۃ جمیع الادلۃ الموردۃ من السنۃ والقیاس کماعلمت۔

اور یہی اس کے مطابق ہے جو گزرا کہ مقصود خروج ہے اور اس کا ظہور انتقال سے ہوتا ہے تو ان سب کی روشنی میں ،میں یہی سمجھتا ہوں کہ یہ قول ( پھیلے ہوئے پورے ورم کی حد پار کرنا ضروری ہے ) ہمارے ائمہ کے بعد پیدا ہوا ہے جو ان سب حضرات کے مضمون کلام کے برخلاف ہے ، متون اور عامہ کتب معتمدہ کے اطلاعات کے خلاف ہے اور سنت و قیاس سے لائی جانے والی تمام دلیلوں کے تقاضے کے خلاف ہے جیسا کہ پہلے معلوم ہوا ۔

وثالثا: مع قطع فــــ ۱النظر عن کل ذلک ھذا یشبہ فرض محال فقد قدمنا عن الفتح والبحر والغنیۃ ان التطہیر یعم الطہارۃ من الخبث ومعلوم انہ یکون بکل مائع طاھر قالع ولا یشترط فیہ شدۃ الاسالۃ بل تکفی الازالۃ ولو بثلٰث خرق مبلولۃ وفی الدر ''تطھر اصبع وثدی تنجس بلحس ثلثا۱؎ اھ ولا اعلم ورما یضرہ المسح بخرقۃ بلت بعرق یناسبہ بل ربما ینفع فلعلہ فرض لا یقع۔

ثالثاً :ان سب سے قطع نظر یہ گویا فرض محال ہے اس لئے کہ ہم فتح القدیر ، البحر الرائق اور قنیہ(غنیہ) کے حوالے سے بیان کر آئے ہیں کہ تطہیر نجاست حقیقیہ سے طہارت کو بھی شامل ہے اور معلوم ہے کہ یہ تطہیر ہر بہنے ، پاک اور زائل کرنیوالی چیز ہو جاتی ہے اور اس میں تیزی سے بہانا شرط نہیں بلکہ زائل کرنا کافی ہے اگرچہ تین بھگوئے ہوئے پارچوں ہی سے ہو جائے ۔ درمختار میں ہے : ''انگلی اور سر پستان جو نجس ہے اسے کسی وجہ سے تین بار چاٹ لینے پر طہارت ہو جاتی ہے اھ'' میں نہیں جانتا کہ ایسا کوئی ورم ہو گا جسے اس کے مناسب عرق سے بھگوئے ہوئے پارچے سے پونچھنا ضرر دیتا ہو بلکہ ایسا تو نفع بخش ہی ہو گا تو شاید یہ ایسا مفروضہ ہے جو وقوع میں آنے والا نہیں ۔

فــــ۱:تطفل رابع علی الحلیۃ والارکان ۔

 (۱؎ الدر المختار باب الانجاس مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۵۳)

و رابعا: ان لزم صلوحہ لطلب ایقاع التطھیر بالفعل فاذا فـــــ۲ کان بالانسان والعیاذ باللّٰہ مایضرہ اصابۃ الماء فی شیئ من بدنہ فھذا ان افتصد لایکون حدثا وان اصابتہ شجۃ فی رأسہ فسال الدم من قرنہ الی قدمہ فھو علی وضوئہ ولم یتنجس بھٰذہ الدماء الفوارۃ بدنہ ولا ثیابہ بل لواخذ غیرہ تلک الدماء ولطخ بھا ثوبہ کان صیغا طیبا طاھرا لان مالیس یحدث لیس بنجس ولو کان المرض باحد شقیہ فان خرج من الشق السلیم دم قدر رأس ذباب بطل وضوؤہ وان افتصد من الشق الماؤف وخرج الدم ارطالا لم یضر وھو طاھر مع انہ ھو الدم المسفوح وھذا کلہ غیر معقول ولا منقول ولا متجہ ولا مقبول فلامریۃ عندی ان المراد کل ماھو ظاھر البدن شرعا وان تأخر طلب ایقاع تطھیرہ بالفعل الی زوال عذر ۔

رابعاً :اگر یہ ضروری ہے کہ اس قابل ہو کہ بالفعل تطہیر کو عمل میں لانے کا مطالبہ ہو تو جب انسان کو ، پناہ بخدا ایسی کوئی بیماری ہو جس کی وجہ سے اس کے جسم کے کسی حصے میں پانی لگنا مضر ہو ، یہ شخص اگر فصد لگوائے تو حدث نہ ہو اور اگر اس کے سر میں چوٹ لگ جائے جس سے خون اس کے سر سے پاؤں تک بہے جب بھی وہ باوضو رہے ۔اور اس جوش مارتے ہوئے خون سے نہ اس کا بدن نجس ہو نہ کپڑا بلکہ اگر کوئی دوسرا بھی اسے لے کر اپنے کپڑے میں لگا لے تو اچھا خاصا پاک و پاکیزہ رنگ ہو ، اس لئے کہ جو حدث نہیں وہ نجس بھی نہیں ،اگر اس کی دوجانبوں میں سے ایک میں بیماری ہو ایسی صورت میں تندرست جانب میں مکھی کے سر برابر خون نکل آئے تو اس کا وضو باطل ہو جائے اور ماؤف جانب اگر فصد لگوائے اور کئی رطل خون نکل آئے تو کچھ نہ بگڑے وہ پاک ہی رہے جب کہ یہ بہتا ہوا خون ہے ، یہ سب نہ معقول ہے نہ منقول ، نہ باوجہ نہ مقبول ، تو میرے نزدیک اس میں کوئی شک نہیں کہ مراد یہ ہے کہ ہر وہ جو شرعاً ظاہر بدن ہو اگرچہ بالفعل زوال عذر تک اس کی تطہیر عمل میں لانے کا مطالبہ مؤخر ہو گیا ہو ،

فـــــ۲ :تطفل خامس علی الحلیۃ و ابن ملک و من معھما۔

و رحم اللّٰہ العلامۃ ابن کمال باشا حیث قال فی الایضاح سال الی مایطھر ای الی موضع یجب ان یطھر بالغسل او مسح عند عدم عذر شرعی لابد من ھذا التعمیم حتی ینتظم الموضع الذی سقط عنہ حکم التطہیر بعذر ۱؎ اھ

خدا کی رحمت ہو علامہ ابن کمال پاشا پر وہ ایضاح میں فرماتے ہیں : '' سال الی ما یطہر '' یعنی ایسی جگہ بہے جسے دھونا یا مسح کرنا عذرشرعی نہ ہونے کے وقت واجب ہو ، یہ تعمیم ضروری ہے تاکہ حکم اس جگہ کو بھی شامل رہے جس سے کسی عذر کی وجہ سے حکمِ تطہیر ساقط ہو گیا ہے اھ

 (۱؎ فتح المعین  کتاب الطہارۃ  ایچ ایم سعید کمپنی کراچی  ۱ /۴۱)

وتبعہ السید العلامۃ الطحطاوی فی حاشیۃ مراقی الفلاح والعلامۃ الفھامۃ نوح افندی لما نقل مانقل عن المشکلات عقبہ بقولہ لکن قال بعض المحققین یرید ابن کمال فنقل کلامہ ثم قال وھذا مخالف لما فی المشکلات ولعل الحق ھذا ۱؎ اھ

ان کی پیروی علامہ سید طحطاوی نے بھی حاشیہ مراقی الفلاح میں کی اور علامہ فہامہ نوح آفندی نے جب منقولہ عبارتِ مشکلات نقل کی تو اس کے بعد یہ بھی فرمایا : لیکن بعض محققین ، مراد ابن کمال پاشا نے فرمایا، پھر ان کی عبارت نقل کی پھر فرمایا یہ اس کے برخلاف ہے جو مشکلات میں ہے اور امید ہے کہ حق یہی ہے اھ۔

(۱؎ فتح المعین کتاب الطہارۃ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ /۴۱)

اقول : اولا بل لک فـــ۱ان تقول فرق بین السقوط والتأخر کما علمت بل ان سقط لعذر فحقیقۃ عـــہ السقوط تعقب الثبوت فذلک یقرر اللحوق ویؤکدہ کما لایخفی۔

اقول: اولاً بلکہ آپ کو یہ فرمانا چاہئے کہ ساقط ہونے اور مؤخر میں فرق ہے جیسا کہ معلوم ہوا ،بلکہ اگر عذر کی وجہ سے ساقط ہوا تو سقوط کی حقیقت یہ ہے کہ اس کے بعد ثبوت ہو تو یہ حکم طہارت لاحق ہونے کو اور ثابت و مؤکد کرتا ہے جیسا کہ پوشیدہ نہیں ۔

فــــ۱ :تطفل علی العلامۃ ابن کمال باشا۔
عـــہ:ای حقیقتہ الرفع وان اطلق علی الدفع ۱۲منہ ۔
عـــہ:ـ یعنی اس کی حقیقت حکم کااُٹھا لینا ہے اگرچہ دفع کرنے پر بھی اطلاق ہوتا ہے ۱۲ منہ (ت)

وثانیا: لعبارۃ فـــ۲ المشکلات وجہۃ تنجیھا عن المشکلات فانھا فی الجرح وسیاتی بالشرح فلاتتعین للمخالفۃ۔

ثانیاً:  عبارتِ مشکلات کی ایک صورت ہے جو اسے مشکلات سے نجات دینے والی ہے کیونکہ وہ زخم سے متعلق ہے اور زخم کی تفصیل آگے آرہی ہے تو اس میں مخالفت متعین نہیں ۔

فــــ۲ :تطفل علی العلامۃ نوح افندی ۔

ھذا مایتعلق بمسئلۃ الورم وما بنیت علیہ واما مسألۃ الجرح فاقول یظھر للعبد الضعیف واللّٰہ تعالٰی اعلم ان فــــ۱الجرح المنبسط لہ ثلث صور:

یہ مسئلہ ورم سے متعلق ہے اور وہ جس پر میں نے بنیاد رکھی تھی ۔اب رہا مسئلہ زخم فاقول بندہ ضعیف کو یہ سمجھ میں آتا ہے اور خدائے برتر ہی کو خوب علم ہے کہ پھیلے ہوئے زخم کی تین صورتیں ہیں :

فـــ۱:تحقیق المصنف فی اقسام الجرح المنبسط و احکامھا۔

الاولی :  ان یکون انبساطہ فی الباطن فقد تفجر رأسہ وعلی سائرہ جلدۃ ولو متورمۃ ۔

پہلی صورت یہ کہ اس کا پھیلاؤ صرف اندر ہے اس کا سر اپھٹا ہوا ہے اور باقی زخم پر جلد ہے اگرچہ ورم زدہ ہے ۔

والثانیۃ:  بسیط منبسط علی ظاھر البدن لکنہ دقیق لاعرض لہ فلا یظھر للنظر الا کخط اوخیط۔

دوسری صورت یہ کہ زخم ظاہر بدن پر بسیط اور پھیلا ہوا ہے لیکن پتلا سا ہے جس میں چوڑائی نہیں ، نگاہ کو کسی خط یا دھاگے سا معلوم ہوتا ہے ۔

والثالثۃ:  بسیط عریض ظاھر غورہ مرئی قعرہ ۔ تیسری صورت یہ کہ بسیط و عریض ہے جس کا عُمق ظاہر ہے گہرائی نظر آ رہی ہے ۔

فباطن فـــ۲ الاول باطن قطعا حسا وشرعا فان اختلف الدماء فی باطنہ لم یضر وکان کنزول البول الی قصبۃ الذکر وھذا ماقدمنا علی الدر المختار من قولہ والا لاکمالو سال فی باطن عین او جرح اوذکر ولم یخرج ۱؎ اھ

تو پہلے زخم کا باطنی حصہ قطعاً باطن ہے حسّاً بھی شرعاً بھی ، تو اگر اس کے باطن میں خون آتے جاتے ہوں تو کوئی ضرر نہ ہو گا اور یہ ایسے ہی ہو گا جیسے ذَکر کی نالی میں پیشاب اُتر آنا ، اسی کو ہم نے پہلے درمختار کے حوالے سے بیان کیا کہ :''ورنہ نہیں جیسے وہ جو آنکھ یا زخم یا ذکر کے اندرونی حصے میں بہے اور باہر نہ آئے ''اھ۔

فــــ۲ــ: مسئلہ : زخم اگر جسم کے اندر دور تک پھیلا ہو صرف منہ ظاہر ہے تو اس کے گہراؤ میں خون وغیرہ بہتے رہیں کچھ حرج نہیں جب منہ پر آکر ڈھلکے گا وضو جاتا رہے گا اگرچہ زخم کی سطح سے آگے نہ بڑھے ۔

 (۱؎ الدر المختار کتاب الطہارۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۲۵)

ولا یبعد ان یحمل علیہ مامر عن الشامی عن السراج عن الینابیع فقولہ السائل علی الجراحۃ اذالم یتجاوز ای الذی فارمن قعرھا وسال فی غورھا وعلا علی راسھا ولم یتجاوز الراس لیوافق السراج خلاصۃ نفسہ الناصۃ ان حد التجاوز ان ینحدر عن راس الجرح کما تقدم ولا شک ان محمد اروی عنہ فی ھذہ النقض وان الماخوذ عدمہ فصح کل ماذکر السراج وان علمت علی رأسہ ثم انحدرت فلا شک فی انتقاض الوضوء وان لم یتجاوز سطح الورم لوجود الانحدار من الرأس الذی ھونا قض باجماع ائمتنا رضی اللّٰہ تعالٰی عنھم ۔

اور بعید نہیں کہ اسی پر اسے بھی محمول کر لیا جائے جو شامی کے حوالے سے ، سراج پھر ینابیع سے نقل ہوا ، تو ان کی عبارت '' السائل علی الجراحۃ اذا لم یتجاوز '' کا معنی یہ کہ جو جراحت کی تہہ سے اُبلا ، اس کی گہرائی میں بہا ، اس کے سرے پر چڑھا اور سر سے آگے نہ بڑھا تاکہ سراج اور خود اسی کے خلاصے میں موافقت ہو جائے جس میں یہ صراحت موجود ہے کہ تجاوز کی حد یہ ہے کہ سرِ زخم سے ڈھلک آئے جیسا کہ عبارت گزری اور شک نہیں کہ امام محمد سے اس صورت میں ایک روایت وضو ٹوٹنے کی بھی ہے اور مختار نہ ٹوٹنا ہے تو وہ سب درست ہو گیا جو سراج نے ذکر کیا اور اگر خون سرِ زخم کے اوپر جائے پھر ڈھلک آئے تو وضو ٹوٹنے میں مجھے کوئی شک نہیں اگرچہ سطح ورم سے تجاوز نہ کرے کیونکہ سر سے ڈھلکنا پا لیا گیا جو ہمارے ائمہ رضی اللہ تعالٰی عنہم کے نزدیک بالاجماع ناقض ہے ۔

واظن فــــ الثانی ایضا کذالک فان الاتصال ان تفرق ولم تبق جلدۃ تسترہ لکن لدقتہ لایظھر غورہ للنظر الابان یفرق الجانبان بعمل الید بالقبض والجبذ مثلا ومثل ھذا لایجعل الباطن ظاھرا کما تقدم فی الفرج والشرح فکان کباطنھما بل باطن صماخ الاذن فی البطون مع عدم غطاء من فوق فما سال فیہ ولم یظھر فانما یسیل فی الباطن وما ظھر فان علاولم ینحدر لم ینقض علی المفتی بہ ولو علا علی سطح الجرح کلہ لعدم تحقق الانحدار وھذا المحمل اقرب من الاول لعبارۃ السراج والینابیع،اما اذا نبع الدم علی رأسہ فقط ثم انحدر منہ سائلا علی سطحہ فلاشک انہ لعدم العرض فی الجراحۃ یاخذ شیا من الجسم الصحیح ایضا من جنبیھا فیتحقق التجاوز الی البدن الصحیح ایضا ولا یبقی محل للامتراء فی انتقاض الطھر۔

میں سمجھتا ہوں دوسری صورت کا حکم بھی اسی طرح ہے اس لئے کہ ملاپ اگرچہ ختم ہو گیا اور اسے چھپانے والی کوئی جلد نہ رہی لیکن باریک ہونے کی وجہ سے اس کی گہرائی نظر پر ظاہر نہیں ہوتی مگر جب کہ دونوں کناروں کو مثلاً ہاتھ سے سمیٹ کر اور کھینچ کر الگ الگ کیا جائے اور ایسی صورت باطن کو ظاہر نہ کر دے گی جیسا کہ فرج اور کنارہ مقام براز سے متعلق گزرا ، تو اس کا باطن ان ہی دونوں کے باطن کی طرح ہے بلکہ اوپر سے کوئی پردہ نہ ہوتے ہوئے چھپا ہوا ہونے میں سوراخ گوش کے باطن کی طرح ہے تو اس میں جو خون بہے اور ظاہر نہ ہو وہ باطن ہی میں بہنے والا ہے اور جو ظاہر ہو اگرچہ اوپر چڑھا اور نیچے نہ اُترا تو قول مفتی بہ پر ناقض نہیں اگرچہ پوری سطحِ زخم کے اوپر چڑھ جائے کیونکہ نیچے ڈھلکنا متحقق نہ ہوا ، سراج اور ینابیع کی عبارت کے لئے یہ محمل پہلے سے زیادہ قریب ہے لیکن جب خون صرف سرِزخم پر اُبل کر آئے پھر اس سے اسکی سطح پر بہتا ہوا ڈھلکے تو جراحت میں عرض نہ ہونے کی وجہ سے بلاشبہہ وہ اس کے دونوں کناروں سے صحت مند جسم کا کچھ حصہ بھی لے لے گا تو بدنِ صحیح تک بھی تجاوز متحقق ہو جائے گا اور طہارت ٹوٹنے میں کوئی جائے شک باقی نہ رہے گی ۔

فـــ:مسئلہ زخم اگر ظاہر جسم ہی پر دور تک پھیلا ہے مگر ایک خط یا ڈورے کی طرح دراز و باریک ہے کہ اس کی اندونی سطح باہر سے نظر نہیں آتی تو ظاہر یہ ہے کہ اس کا حکم بھی اُسی محض اندرونی زخم کی طرح ہو گا کہ خون اندر دورہ کرے تو مضائقہ نہیں اور اس کے کناروں تک آجائے تو مضائقہ نہیں جب تک ڈھلکے نہیں اور اگر اس کے بالائی کنارے تک اُبل کر بدن کی جلد پر ڈھلکا تو وضو نہ رہے گا اگرچہ زخم کی حد سے آگے نہ بڑھے ۔

واما الثالث : فـــ فمجال نظر فان الغور الذی ظھر کان من باطن البدن قطعا واذا ظھر ظھر ولم یتناولہ حکم التطھیر بعد فعسی ان یکون باقیا علی حکمہ الاصلی حتی یبرء فینزل علیہ حکم التطہیر ویلتحق بالظاھر شرعا ایضاکما التحق حسا وحینئذ یکون سیلان الدم فیہ سیلانا فی الباطن ویؤیدہ ماتقدم عن الدرر عن المحیط ان مایوازی الدم من اعلی الجرح مکانہ فقضیتہ ان لونبع الدم فیہ حتی یوازی حرفہ من کل جانب لم یضرلانہ علولا انحدار فیلزمہ ان لو نبع فی اعلاہ ثم انحدر فیہ ولم یجاوزہ لم ینقض لانہ منتقل فی مکانہ لاعن مکانہ ۱؎

لیکن تیسری صورت تو وہ جو لان گاہِ نظر ہے اس لئے کہ گہرائی جو ظاہر ہو گئی ہے یہ قطعاً پہلے باطن بدن میں شامل تھی اور جب ظاہر ہوئی تو اس حالت میں ظاہر ہوئی کہ ابھی اسے حکمِ تطہیر شامل نہیں تو شاید یہ اپنے اصلی حکم پر ( باطن بدن ہونے پر) باقی رہے ، یہاں تک کہ زخم اچھا ہو جائے تو اس پر حکمِ تطہیر وارد ہو اور یہ ظاہر شرعی میں شامل ہو جائے جیسے بروقت ظاہر حسّی میں شامل ہے ایسی صورت میں اس کے اندر خون بہنا باطن میں بہنا ہے اس کی تائید اس کلام سے ہوتی ہے جو بحوالہ درر محیط سے نقل ہوا کہ زخم کے بالائی حصے سے جو خون کے مقابل ہے وہ خون ہی کی جگہ ہے تو اس کا تقاضا یہ ہے کہ اگر اس میں خون اُبل کر ہر طرف سے اس کے کنارے کے مقابل ہو گیا تو مضر نہ ہو اس لئے کہ یہ چڑھنا ہے ڈھلکنا نہیں ، اس پر لازم آتا ہے کہ اگر بالائی حصے میں اُبلے پھر اس کے اندر ہی ڈھلک آئے اور اس سے باہر تجاوز نہ کرے تو ناقض نہ ہو اس لئے کہ وہ اپنی جگہ کے اندر منتقل ہونے والا ہے اپنی جگہ سے منتقل ہونے والا نہیں ۔

 (۱؎ درر الحکام شرح غرر الاحکام کتاب الطہارۃ ،نواقض الوضوء میر محمد کتب خانہ کراچی ۱ /۱۳)

فــ:مسئلہ کُھلا ہوا چوڑا گھاؤ جس کی اندرونی سطح باہر سے دکھائی دے ظاہر یہ ہے کہ جب تک اچھا نہ ہو باطن بدن کے حکم میں ہے ، اگر اس کے اندر خون وغیرہ اُبلے کہ اس کے کناروں تک آ جائے اسکے صرف بالائی حصے پر اُبل کر اس کے اندر اندر بہے باہر نہ نکلے تو وضو نہ جائے گا ، نہ وہ خون ناپاک ہو کہ ہنوز اپنے مقام ہی میں دورہ کر رہا ہے ۔

وکانّ ھذا ھو ملحظ مافی المشکلات وخزانۃ الروایات ولا ینافیہ مافی النھر والسراج وط علی المراقی ان فائدۃ ذکرالحکم دفع ورود داخل العین وباطن الجرح اذ حقیقۃ التطہیر فیہما ممکنۃ وانما الساقط حکمہ۱؎ اھ۔ گویا یہی مشکلات اور خزانۃالروایات کی عبارت کا مطمع نگاہ ہے اور نہر ، سراج اور طحطاوی علی مراقی الفلاح کی عبارت اس کے منافی نہیں :اس حکم کو بیان کرنے کا فائدہ داخل چشم اور باطن زخم سے وارد ہونے والے اعتراض کا دفعیہ ہے اس لئے کہ حقیقتِ تطہیر ان دونوں میں ممکن ہے صرف حکمِ تطہیر ساقط ہے اھ ۔

(۱؎ حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح کتاب الطہارۃ نواقض الوضوء ،دار الکتب العلمیۃ بیروت ص ۸۶)

فلیس ظاھرا فی جعلہ ظاھرا الا ظاھرا وھو ظاھر بخلاف ماکان ظاھرا ثم عرض عارض فانہ لایخرجہ عن الخروج الی الدخول کما علمت فلیس فیھا ان کل مالایطلب تطہیرہ بالفعل لعذر فالسیلان علیہ لایضرکما اوھم بعض وافہم بعض ۔

یہ عبارت بجز ظاہر حسی کے اُسے ظاہر بدن قرار دینے میں ظاہر نہیں اور ظاہر حسی ہونا توظاہر ہے بخلاف اس کے جو پہلے ظاہر بدن تھا پھر اس پر کوئی عارض در آیا کہ یہ اسے خروج سے نکال کر دخول میں نہ ملا دے گا جیسا کہ معلوم ہوا تو مشکلات میں یہ نہیں کہ ہر وہ جس کی تطہیر بالفعل کسی عذر کی وجہ سے مطلوب نہیں تو اس پر خون بہنا مضر نہیں جیسا کہ بعض نے اس کا وہم پیدا کیا اور بعض کی عبارت سے مفہوم ہوا ۔

وبالجملۃ ماکان ظاھرا لایصیر بالعذر باطنا کما افاد ابن الکمال وما کان باطنا لعلہ لایصیر ظاھرا مالم ینزل علیہ حکم التطہیر کما یفھم من المشکلات وخزانۃ الروایات او النھر والینابیع وطحطاوی المراقی وردالمحتار ایضا۔

مختصر یہ کہ جو پہلے ظاہر تھا وہ عذر کی وجہ سے باطن نہ ہو جائے گا جیسا کہ ابنِ کمال نے افادہ فرمایا اور جو باطن تھا امید یہی ہے کہ وہ ظاہر نہ ہو جائے گا جب تک کہ اس پر حکم تطہیر وارد نہ ہو۔ جیسا کہ مشکلات اور خزانۃالروایات سے مفہوم ہوتا ہے یا نہر ، ینابیع ، طحطاوی علی مراقی الفلاح اور ردالمحتار سے بھی ۔

فھذا مایترا ای لی ویحتاج الٰی زیادۃ تحریر فمن ظفر بہ من کلمات العلماء فلیسعفنا بالاطلاع علیہ لعل اللّٰہ یحدث بعد ذلک امرا ولا حول ولا قوۃ الاّ باللّٰہ العلی العظیم۔

یہ وہ ہے جو مجھے سمجھ میں آیا ہے اور اس میں مزید تنقیح کی ضرورت ہے جسے کلمات علماء سے دستیاب ہو وہ ہمیں مطلع کر کے حاجت روائی کرے ، شاید ا س کے بعد خدا کوئی اور امر ظاہر فرمائے اور طاقت و قوت نہیں مگر برتری و عظمت والے خدا ہی سے ۔

السادس:  تقدم ان الدم فی مجلس یجمع وھی الروایۃ الدوارۃ فی الکتب اجمع لکن قال فـــــ الامام الاجل برھان الملۃ والدین صاحب الہدایۃ رحمہ اللّٰہ تعالٰی فی کتابہ مختارات النوازل فی فصل النجاسۃ الدم اذا خرج من القروح قلیلا قلیلا غیر سائل فذاک لیس بمانع وان کثر وقیل لوکان بحال لوترکہ لسال یمنع ۱؎ اھ

تنبیہ ششم : گزر چکا کہ ایک مجلس میں تھوڑا تھوڑا چند بار آنے والا خون جمع کیا جائے گا یہی وہ روایت ہے جو تمام کتابوں میں متداول ہے لیکن امام اجل برہان الملۃ و الدین صاحبِ ہدایہ رحمہ اللہ تعالی نے مختارات النوازل فصل النجاسۃ میں لکھا ہے :''پھوڑے سے خون جب تھوڑا تھوڑا نکلے ، بہنے والا نہ ہو تو وہ مانع نہیں اگرچہ زیادہ ہو جائے اورکہا گیا کہ اگر اس کی یہ حالت رہی ہو کہ چھوڑ دیا جاتا تو بہتا تو وہ مانع ہے ''اھ

 (۱؎ الفوائد المخصصہ رسالہ من رسائل ابن عابدین الفائدۃ التاسعۃ سہیل اکیڈمی لاہور ۱ /۶۳)

فـــــ: مسئلہ صاحبِ ہدایہ نے ایک کتاب میں فرمایا کہ خون جو تھوڑا تھوڑا نکلے کہ کسی دفعہ کا نکلا ہوا بہنے کے قابل نہ ہو اگرچہ جمع کرنے سے کتنا ہی ہو جائے اصلاً ناقضِ وضو نہیں اگرچہ ایک ہی مجلس میں نکلے یہ قول خلاف مشہور و مخالف جمہور ہے بے ضرورت اس پر عمل جائز نہیں ، ہاں جو ایسے زخم یا آبلوں میں مبتلا ہو جس سے اکثر خون یا ریم قلیل نکلتا رہتا ہے کہ ایک بار کا نکلا ہوا بہنے کے قابل نہیں ہوتا مگر جلسہ واحدہ کا جمع کئے سے ہو جاتا ہے اور بار بار وضو اور کپڑوں کی تطہیر موجب ضیق کثیر ہے کہ معذوری کی حد تک نہ پہنچا اس کے لئے اس پر عمل میں بہت آسانی ہے ۔

ثم اعاد المسألۃ فی نواقض الوضوء فقال ولو خرج منہ شیئ قلیل ومسحہ بخرقۃ حتی لوترک یسیل لاینقض وقیل ۲؎ الخ۔ پھر ناقضِ وضو میں یہ مسئلہ دوبارہ لائے تو کہا :''اگر اس سے کچھ تھوڑا نکلے اور اسے کسی کپڑے سے پونچھ دے یہاں تک کہ اگر چھوڑ دیتا تو بہتا تو ایسا خون ناقض نہیں اور کہا گیا الخ۔''

 (۲؎ شرح عقود رسم المفتی رسالہ من رسائل ابن عابدین سہیل اکیڈمی لاہور ۱ /۴۹)

فھذا صریح فی ترجیح عدم الجمع مطلقا لکنہ متوغل فی الغرابۃ حتی قال العلامۃ الشامی لم ارمن سبقہ الیہ ولامن تابعہ علیہ بعد المراجعۃ الکثیرۃ فھو قول شاذ قال ولکن صاحب فــــ الھدایۃ امام جلیل من اعظم مشائخ المذھب من طبقۃ اصحاب التخریج والتصحیح فیجوز للمعذ ورتقلیدہ فی ھذا القول عند الضرورۃ فان فیہ توسعۃ عظیمۃ لاھل الاعذار قال وقد کنت ابتلیت مدۃ بکی الحمصۃ ولم اجد ماتصح بہ صلاتی علی مذھبنا بلامشقۃ الا علی ھذا القول فاضطررت الی تقلیدہ ثم لماعافانی اللّٰہ تعالٰی منہ اعدت صلاۃ تلک المدۃ وللّٰہ تعالٰی الحمد ۱؎ اھ ھذا کلامہ فی شرح منظومتہ فی رسم المفتی۲؎

تو یہ نہ جمع کئے جانے کے حکم کی مطلقاً ترجیح میں تصریح ہے لیکن یہ قول انتہائی غرابت رکھتا ہے یہاں تک کہ علامہ شامی نے فرمایا کہ بہت مراجعت اور جستجو کے باوجود مجھے کوئی ایسا نظر نہ آیا جس نے ان سے پہلے یہ قول کیا ہو اور نہ ان کے بعد کوئی ملا جس نے اس قول میں ان کی متابعت کی ہو تو وہ ایک شاذ قول ہے (آگے فرمایا ) لیکن صاحبِ ہدایہ عظیم تر مشائخ مذہب میں سے امام جلیل ، اصحابِ تخریج و تصحیح کے طبقہ سے ہیں تو وقتِ ضرورت معذور کے لئے اس قول میں ان کی تقلید روا ہے اس لئے کہ عذر والوں کے لئے اس میں بڑی وسعت ہے ۔۔۔۔۔۔ کہتے ہیں : میں ایک مدت تک آبلوں کی بیماری میں مبتلا تھا اور ایسی صورت نہ پاتا تھا جس میں ہمارے مذہب کے مطابق میری نماز بلامشقت درست ہو سکے ، سوا اس قول کے تو مجبوراً میں نے اس کی تقلید کی پھر جب اللہ تعالٰی نے مجھے اس سے عافیت بخشی تو اس مدت کی نمازوں کا میں نے اعادہ کیا ۔۔۔۔۔۔وللہ تعالٰی الحمد اھ یہ علامہ شامی کا وہ کلام ہے جو رسم المفتی میں اپنے منظومہ کی شرح میں انہوں نے لکھا ہے

فــــ: صاحب الہدایۃ امام جلیل من ائمۃ التخریج وا لترجیح یجوز تقلیدہ ۔

(۱؎ شرح عقود رسم المفتی رسالہ من رسائل ابن عابدین سہیل اکیڈمی لاہور ۱ /۴۹)
(۲؎ شرح عقود رسم المفتی رسالہ من رسائل ابن عابدین سہیل اکیڈمی لاہور ۱ /۴۹و ۵۰)

وقال فی الفوائد المخصصۃ صاحب الہدایۃ من اجل اصحاب الترجیح فیجوز للمبتلی تقلیدہ لان فیما ذکرناہ مشقۃ عظیمۃ فجزاہ اللّٰہ تعالٰی خیر الجزاء حیث اختار التوسیع والتسہیل الذی بنیت علیہ ھذہ الشریعۃ الغراء السہلۃ السمحۃ ۱؎ اھ

اور فوائد مخصصہ میں لکھتے ہیں : صاحبِ ہدایہ بزرگ تر اصحابِ ترجیح سے ہیں تو مبتلا کے لئے ان کی تقلید جائز ہے اس لئے کہ جو ہم نے ذکر کیا اس میں بڑی مشقت ہے تو خدائے تعالٰی انہیں جزائے خیر بخشے کہ وہ توسیع و تسہیل اختیار کی جس پر اس روشن ، سہل ، آسان شریعت کی بنیاد رکھی گئی ۔اھ

 (۱؎ الفوائد المخصصہ رسالہ من رسائل ابن عابدین الفائدۃ التاسعۃ سہیل اکیڈمی لاہور ۱ /۶۳)

اقول : جوزالامام الکبیر العلم الشہیر الخصاف تزویج الوکیل مؤکلتہ بغیبتھا من دون تسمیتھا قال فـــ۱ــ الامام شمس الائمۃ السرخسی الخصاف کان کبیرا فی العلم یجوز الاقتداء بہ فقال فی البحر فـــ۲ــ المختار فی المذھب خلاف ما قالہ الخصاف وان کان الخصاف کبیرا۲؎ اھ

اقول:  امام کبیر ، علم شہیر خصاف نے جائز قرار دیا ہے کہ وکیل اپنی مؤکلہ کا نکاح اس کی غیر موجودگی میں اس کا نام لئے بغیر کر دے ، امام شمس الائمہ سرخسی نے فرمایا : خصاف علم میں بزرگ تھے ، ان کی اقتداء ہو سکتی ہے اس پر بحر میں فرمایا : مذہب مختار اس کے برخلاف ہے جو خصاف نے فرمایا اگرچہ خصاف بزرگ ہیں اھ۔

فــــ۱ــ: الخصاف کبیر فی العلم یجوز اقتداؤہ ۔
فــــ۲ــ: العلم بما ھو المختار فی المذھب و ان کان قائل خلافہ اما ما کبیرا۔

 (۲؎ البحر الرائق کتاب النکاح فصل لابن العم ان یزوج الخ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۳ /۱۳۷)

وفی الدرعن تصحیح القدوری الحکم والفتیا بالقول المرجوح جہل وخرق للاجماع ۳؎ اھ اور درمختار میں تصحیح قدوری کے حوالے سے ہے قول مرجوح پر حکم اور فتوی جہالت اور اجماع کی مخالفت ہے اھ۔

 (۳؎ الدر المختار مقدمۃ الکتاب مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۱۵)

وفی عدۃ ردفـــ۳ــ المحتار التقلید وان جاز بشرطہ فھو للعامل لنفسہ لاللمفتی لغیرہ فلا یفتی بغیر الراجح فی مذھبہ ۱؎ اھ۔

ردالمحتار کے باب العدۃ میں ہے : تقلید اگرچہ جائز ہے مگر اس کے لئے جو خود عمل کرنے والا ہے اس کے لئے نہیں جو دوسرے کو فتوی دینے والا ہے وہ اس پر فتوی نہ دے گا جو اس کے مذہب میں غیر راجح ہو اھ۔

 (۱؎ رد المحتار کتاب الطلاق دار احیاء التراث العربی بیروت ۲ /۶۰۲)

نعم للمبتلی فیہ مافیہ من ترفیہ وھو ایسرفـــ۱ــ لہ من تقلید الامام الشافعی رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ فان النجاۃ من التلفیق شأو سحیق وباللّٰہ التوفیق۔ ہاں اس میں مبتلا کے لئے راحت و آسانی ہے اور یہ اس کے لئے امام شافعی رضی اللہ تعالٰی عنہ کی تقلید زیادہ سہل ہے اس لئے کہ تلفیق سے نجات حاصل کرنا دور کی راہ ہے ، وباللہ التوفیق ۔

فــــ۳ـــ: تقلید الغیر عند الضرورۃ و ان جاز بشروطہ فلعمل نفسہ اما الافتاء فلایکون الا فی الراجح فی المذھب۔
فـــ۱ــ: عند الضرورۃ تقلید قیل فی المذھب احسن من تقلید مذھب الغیر ۔

السابع:  قولھم فـــ۲ــ مالیس بحدث لیس بنجس قضیۃ نفیسۃ مفیدۃ افادھا الامام قاضی الشرق والغرب سیدنا ابو یوسف رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ وھی مذکورۃ کذلک فی متون المذھب وغیرھا وزاد الشراح نفی عکسھا فقالوا انھا لاتنعکس فلا یقال مالایکون نجسا لایکون حدثا کما فی الدرایۃ وغیرھا۔

تنبیہ ہفتم : قول علماء :''ما لیس بحدث لیس بنجس جو حدث نہیں وہ نجس نہیں '' ایک نفیس نفع بخش قاعدہ ہے جس کا افادہ قاضی شرق و غرب سیدنا ابو یوسف رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا اور متون مذہب وغیرہ میں یہ اسی طرح مذکور ہے شارحین نے اس کے عکس کی نفی کا اضافہ کیا اور فرمایا کہ اس کا عکس نہ ہو گا ، یہ نہیں کہا جا سکتا کہ جو نجس نہ ہو گا وہ حدث نہ ہو گا جیسا کہ درایہ وغیرہ میں ہے ۔

فـــ۲ـــ: تحقیق قولہم ما لیس بحدث لیس بنجس قضیۃ و عکسا ۔

قال العلامۃ الشامی یرید بہ العکس المستوی لانہ جعل الجزء الاول ثانیا والثانی اولا مع بقاء الصدق والکیف بحالھما وعزاہ۱؎ للشیخ اسمٰعیل والد سیدی عبدالغنی النابلسی رحمہم اللّٰہ تعالٰی۔

علامہ شامی نے کہا کہ اس سے عکس مستوی مراد ہے کیونکہ وہ جز اول کو ثانی اور ثانی کو اول کر دینے کا نام ہے اس طرح کہ صدق اور کیف اپنی حالت پر باقی رہیں اور اس کو سیدی عبدالغنی نابلسی کے والد شیخ اسمٰعیل رحمہم اللہ تعالٰی کی طرف منسوب کیا ۔

 (۱؎ رد المحتار کتاب الطہارۃ دار احیاء التراث العربی بیروت ۱ /۹۵)

اقول: ھذہ فـــ۱ــ زلۃ واضحۃ فانھم لوارادوا بہ العکس المنطقی لکان نفیہ نفی الاصل لان العکس من اللوازم ولم فــ۲ــ یلتفت رحمہ اللّٰہ تعالٰی الی قول نفسہ مع بقاء الصدق فاذا کان الصدق باقیا فکیف یصح بل الحق انھم انما یریدون فی امثال المقام نفی العکس العرفی وھو عکس الموجبۃ الکلیۃ کنفسھا تقول کل حلال طاھر ولا عکس ای لیس کل طاھر حلالا وھذا معہود متعارف فی الکتب العقلیۃ ایضا تراھم یقولون ارتفاع العام یستلزم ارتفاع الخاص ولاعکس ونفی اللازم یستلزم نفی الملزوم ولاعکس الی غیر ذلک وھذا اظہر من ان یظھر ثم اختلف نظر الفاضلین البر جندی والشیخ اسمٰعیل فی کیف ھذہ القضیۃ فجعلھا البرجندی موجبۃ وشارح الدر ر سالبۃ۔

اقول : یہ کھلی ہوئی لغزش ہے اس لئے کہ اگر عکس منطقی مراد ہوتا تو اس کی نفی سے اصل ہی کی نفی ہو جاتی اس لئے کہ عکس لازم قضیہ ہوتا ہے (اگر کوئی قضیہ ہے تو اس کا عکس بھی ضرور ہو گا ) انہوں نے خود اپنے قول ''مع بقاء الصدق ،ا س طرح کہ صدق باقی رہے '' کی طرف التفات نہ کیا جب صدق باقی رہے گا تو اس کی نفی کیسے صحیح ہو گی ؟ بلکہ حق یہ ہے کہ اس طرح کے مقامات میں عکس عرفی کی نفی مراد لیتے ہیں وہ یہ کہ موجبہ کلیہ کا عکس موجبہ کلیہ ہو آپ کہتے ہیں کل حلال طاہر و لا عکس ، ای لیس کل طاہر حلالا ہر حلال پاک ہے اور اس کا عکس نہیں یعنی ہر پاک حلال نہیں ، یہ کتب عقلیہ میں بھی معہود و متعارف ہے ، آپ دیکھیں گے کہ وہ کہتے ہیں کہ ارتفاعِ عام ارتفاعِ خاص کو مستلزم ہے (عام یہ ہو گا تو خاص بھی نہ ہو گا ) اور اس کا عکس نہیں ، نفی لازم نفی ملزوم کو مستلزم ہے اور اس کا عکس نہیں ، اس کی بہت ساری مثالیں ہیں اور یہ اتنا ظاہر ہے کہ محتاج اظہار نہیں پھر فاضل برجندی اور شیخ اسمٰعیل کے درمیان اس قضیہ کی کیفیت ( ایجاب و سلب ) میں اختلافِ نظر ہوا ، برجندی نے اسے موجبہ قرار دیا اور شارح درر نے سالبہ ٹھہرایا ۔

فــــ۱ــ: تطفل علی الشیخ اسمٰعیل النابلسی و العلامۃ ش ۔
فــــ۲ــ: تطفل اٰخر علیہما ۔
فـــ۳ــ: الفرق بین العکس المنطقی و العرفی و ان العرفی معروف حتی فی الکتب العقلیۃ والمنطقیۃ ۔

فی شرح النقایۃ مالیس بحدث لیس بنجس ای کل مالیس بحدث من الاشیاء الخارجۃ من السبیلین وغیرھما لیس بنجس ھذہ الکلیۃ السالبۃ الطرفین تنعکس بعکس النقیض الی قولنا کل نجس من الاشیاء المذکورۃ حدث ولا یستلزم ذلک ان یکون کل حدث نجسا وھذہ الکلیۃ لوجعلت متعلقۃ بمباحث القیئ لکان لہ وجہ وسلمت عن توھم الدور۱؎ اھ مختصرا۔

شرح نقایہ میں ہے : ما لیس بحدث لیس بنجس ، ای کل ما لیس بحدث من الاشیاء الخارجۃ من السبیلین و غیرہما لیس بنجس یعنی سبیلین اور غیر سبیلین سے نکلنے والی چیزوں میں سے ہر وہ جو حدث نہیں وہ نجس نہیں ، اس سالبہ الطرفین کلیہ کا عکس نقیض یہ ہو گا ۔ کل نجس من الاشیاء المذکورۃ حدث ۔ مذکورہ اشیاء سے ہر نجس حدث ہے اور یہ اس کو مستلزم نہیں کہ ہر حدث نجس ہو اور یہ کلیہ اگر قے کے مباحث کے متعلق کر دیا جاتا تو اس کی ایک صورت ہوتی اور دور کے وہم سے سلامت رہتا اھ مختصراً۔

 (۱؎ شرح النقایہ للبرجندی کتاب الطہارۃ نولکشور لکھنؤ    ۱ /۲۳)

اقول: ویرد علیہ اولا ان الاشیاء المذکورۃ اعنی الخارجۃ من بدن المکلف انما اریدت بما وھی من الموضوع دون المحمول فمن ان یاتی ھذا التقیید فی موضوع العکس وبدونہ یبقی کاذبا فیکذب الاصل۔

اقول: اس پر چند اعتراضات وارد ہوں گے اولاً اشیائے مذکورہ یعنی خارجہ من البدن المکلف ، ''ما '' سے مراد لی گئیں اور ما موضوع کا جز ہے محمول کا نہیں تو یہ قید عکس کے موضوع میں کہاں سے آ جائے گا ؟ اور اگر یہ قید نہ ہو تو عکس کاذب ہو جائے گا تو اصل بھی کاذب ہو جائے گی ۔

وثانیا : لیس موضوع الاصل لیس بحدث بل ماوالمراد بھا شیئ مخصوص وھو الخارج من بدن المکلف فانما یؤخذ نقیضہ بایراد السلب علی مالا بحذفہ من متعلق الموضوع وانتظر ماسنلقی من التحقیق واللّٰہ تعالٰی ولی التوفیق۔

ثانیاً : اصل کا موضوع ''لیس بحدث ''نہیں بلکہ '' ما '' ہے اور اس سے مراد ایک مخصوص چیز ہے یہ وہ ہے جو مکلف کے بدن سے نکلنے والی ہو تو اس کی نقیض '' ما '' ہی پر سلب کر لی جائے گی ، نہ یوں کہ '' ما '' کو متعلق موضوع سے حذف کر دیا جائے اور اس کا انتظار کیجئے جو تحقیق ہم پیش کر رہے ہیں اور خدائے برتر مالکِ توفیق ہے ۔

وثالثا:  تحررفـــ۱ــ مما تقرران السلب لیس جزء الموضوع فکیف تکون سالبۃ الطرفین

ثالثاً : تقریر سابق سے واضح ہوا کہ سلب جزء موضوع نہیں تو یہ سالبۃ الطرفین کیسے ہو گا ؟

فــ۱ــ: تطفل علی العلامۃ البرجندی ۔

وقال فی ردالمحتار ماذکرہ المصنف قضیۃ سالبۃ کلیۃ لامہملۃ لان ماللعموم وکل مادل فــ۲ــ علیہ فھو سورا لکلیۃ کما فی المطول وغیرہ فتنعکس بعکس النقیض الی قولنا کل نجس حدث لانہ جعل نقیض الثانی اولا ونقیض الاول ثانیا مع بقاء الکیف والصدق بحالہ وتمامہ فی شرح الشیخ اسمٰعیل ۱؎ اھ۔

علامہ شامی نے ردالمحتار میں کہا : مصنف نے جو ذکر کیا قضیہ سالبہ کلیہ ہے ، مہملہ نہیں ، اس لئے کہ '' ما '' عموم کے لئے ہے اور جو بھی عموم پر دلالت کرے وہ کلیہ کا سور ہو جائے گا جیسا کہ مطوّل وغیرہ میں ہے تو اس کا عکس نقیض یہ ہو گا کل نجس حدث ہر نجس حدث ہے اس لئے کہ عکس نقیض کی تعریف یہ ہے : نقیض ثانی کو اول اور نقیض اول کو ثانی کرنا ، اس طرح کہ صدق اور کیف اپنے حال پر باقی ہو اس کی تکمیل شیخ اسمٰعیل کی شرح میں ہے اھ۔

فـــ۲ــ: کل ما دل علی العموم کما و من فہو سور الکلیۃ ۔

(۱؎ رد المحتار کتاب الطہارۃ نواقضِ وضوء دار احیاء التراث العربی بیروت ۱ /۹۵ )

اقول: رحمہ اللّٰہ العلا متین شارحی الدرر والدر لوکانت القضیۃ سالبۃ۔

اقول:  دونوں حضرات شارح درر اور شارح در پر خدا کی رحمت ہو اس کلام پر چند اعتراض ہیں :

فاولا:  فـــ۱ــ لن تظھر کلیتھا بکون مامن صیغ العموم بل وان کان ھناک لفظۃ کل مکان مافان مااوکلایکون فی الموضوع ویرد السلب علی ثبوت المحمول لہ فیفید سلب العموم لاعموم السلب ولذا نصوا ان لیس کل سور السالبۃ الجزئیۃ۔

اول : اگر قضیہ سالبہ ہو تو اس کی کلیت ''ما '' کے صیغہ عموم ہونے سے ہرگز ظاہر نہ ہو گی بلکہ اگر یہاں '' ما ''کی جگہ لفظِ کل ہو اس لئے کہ ما یا کل موضوع میں ہو گا اور سلب موضوع کیلئے محمول کے ثابت ہونے پر وارد ہو گا تو سلب عموم (نفی کلیت ) کا فائدہ دے گا عموم سلب ( کلیت نفی ) کا نہیں اسی لئے لوگوں نے تصریح کی ہے کہ '' لیس کل '' سالبہ جزئیہ کا سور ہے ۔

فـــ۱ــ: تطفل ثالث علی الشیخ النابلسی و ش ۔

وثانیا: فـــ۲ــ علی فرض کلیتہا کیف تنعکس کلیۃ والسوالب انما تنعکس بعکس النقیض جزئیۃ علی دیدن الموجبات فی العکس المستقیم۔

دوم فرض کر لیا جائے کہ وہ کلیہ ہے تو اس کا عکس کلیہ کیسے آئے گا جب کہ سالبات کا عکس نقیض جزئیہ ہوتا ہے جیسے موجبات کا عکس مستوی جزئیہ ہوتا ہے ۔

فـــ۲ــ: تطفل رابع علیہما ۔

وثالثا:فـــ۳ــ اعجب منہ ایراد الموجبۃ فی عکسھا مع انھما رحمہما اللّٰہ تعالٰی قد ذکرا بانفسھما شرط بقاء الکیف ویخطر ببالی واللّٰہ تعالٰی اعلم سقوط لفظۃ المحمول بعد قولہ سالبۃ من قلم احدھما اوقلم الناسخین وکان اصلہ قضیۃ سالبۃ المحمول کلیۃ فاذن تکون موجبۃ وتندفع الایرادت الثلثۃ جمیعا۔

سوم:  اس سے عجیب تر یہ کہ سالبہ مان کر اس کا عکس موجبہ لیا باوجودیکہ دونوں حضرات نے کیف باقی رہنے کی شرط خود ہی ذکر کی ہے میرے دل میں خیال آتا ہے واللہ تعالٰی اعلم کہ لفظ سالبہ کے بعد لفظ محمول دونوں حضرات میں سے کسی کے قلم سے یا نقل کرنے والوں کے قلم سے ساقط ہو گیا ہے ، اصل الفاظ یہ تھے :'' قضیۃ سالبۃ المحمول کلیہ ہے اس صورت میں یہ موجبہ ہو گا اور تینوں اعتراضات دفع ہو جائیں گے ۔

فـــ۳ــ: تطفل خامس علیہما۔

اقول : لکن اذن یرد اولا ماورد علی البرجندی ثانیا وثانیا ینازع فی صدق العکس فرب نجس لیس بحدث کالاعیان النجسۃ الغیر الخارجۃ من بدن مکلف ۔

اقول :لیکن اب اولاً وہ اعتراض وار د ہو گا جو برجندی پر ثانیاً وارد ہوا ، ثانیاً عکس کے صادق ہونے میں نزاع ہو گا کہ بہت سے نجس ، حدث نہیں ہیں جیسے وہ نجس اعیان جو مکلف کے بدن سے نکلنے والے نہیں ۔

ھذا مایحکم بہ جلی النظر وعلیہ فالوجہ۔ مااقول تحتمل القضیۃ الایجاب والسلب الکلیین جمیعا اما الاول فیجعل ماللعموم والسلب الاخیر جزء المحمول والاول جزء متعلق الموضوع لانفسہ لما علمت فتکون موجبۃ کلیۃ معدولۃ المحمول فقط لاسالبۃ الطرفین والمراد بما کما علمت الخارج من بدن المکلف فیکون حاصلھا کل خارج من بدن مکلف غیر حدث فھو لانجس وقولنا غیر حدث حال من خارج ای ماخرج منہ ولم ینقض طھرا والان تنعکس بعکس النقیض موجبۃ کلیۃ قائلۃ ان کل نجس فھو لاخارج غیر حدث ای لیس بالخارج الذی لاینتقض بہ الطہارۃ ای لایجتمع فیہ الوصفان فان خرج نقض ولا بد وان لم ینتقض لم یکن خارجا من بدن المکلف وبالعکس المستوی موجبۃ جزئیۃ بعض اللانجس خارج منہ غیر حدث وھو ایضا صادق قطعا کالدمع والعرق والدم القلیل ۔

یہ وہ ہے جس کا فیصلہ بہ نظر جلی ہوتا ہے اس بنا پر وجہ درست وہ ہے جو میں کہتا ہوں قضیہ موجبہ کلیہ اور سالبہ کلیہ دونوں بن سکتا ہے ، اول اس طرح کہ '' ما '' عموم کے لئے رکھیں ، سلب اخیر کو جز و محمول بنائیں اور سلب اول کو بسبب معلوم خود موضوع کا نہیں بلکہ متعلقِ موضوع کا جز بنائیں تو موجب کلیہ معدولۃ المحمول ہو گا ، سالبۃ الطرفین نہ ہو گا اور جیسا کہ معلوم ہوا '' ما '' سے مراد وہ ہے جو بدن مکلف سے خارج ہو تو حاصلِ قضیہ یہ ہو گا : کل خارج من بدن مکلف غیر حدث ، فہو لا نجس ( ہر وہ جو بدنِ مکلف سے خارج ہو اس حال میں کہ حدث نہ ہو تو وہ لانجس ہے ) لفظ غیر حدث ، لفظ خارج سے حال ہے یعنی جو بدن سے نکلے اس حال میں کہ ناقضِ طہارت نہ ہو اب اس کا عکس نقیض یہ موجبہ کلیہ ہو گا کل نجس فہو لا خارج غیر حدث یعنی ہر نجس لاخارج غیر حدث ہے یعنی جو نجس ہے وہ ایسا خارج نہیں جس سے طہارت نہ ٹوٹے یعنی اس میں دونوں وصف جمع نہ ہونگے ، اگر خارج ہو گا تو ناقض ہونا ضروری ہے اور اگر ناقض نہ ہو گا توبدن مکلف سے خارج نہ ہو گا اور اس کا عکس مستوی یہ موجبہ جزئیہ ہو گا ، بعض اللانجس ، خارج منہ غیر حدث ( بعض لا نجس ، بدن سے اس حال میں خارج ہیں کہ حدث نہیں ) یہ بھی قطعاً صادق ہے جیسے آنسو ، پسینہ ، قلیل خون ۔

واما الثانی: فبتحصیل الطرفین وما لیست للعموم بل نکرۃ بمعنی شیئ دخلت فی حیزالنفی فعمت واذن یکون الحاصل لاشیئ من الخارج منہ غیر حدث نجسا وینعکس بعکس النقیض سالبۃ جزئیۃ لیس بعض اللانجس لاخارجا منہ غیر حدث وبورود السلب علی لاخارج یعود الی الاثبات فیؤل المعنی الی قولنا بعض مالیس نجسا خارج من بدن المکلف غیر حدث وبالمستقیم سالبۃ کلیۃ لاشیئ من النجس خارجا منہ غیر حدث و وجوہ صدقہ ماقدمنا ۔

دوم:  اس طرح کہ طرفین محصلہ ہوں اور '' ما '' عموم کے لئے نہیں بلکہ نکرہ بمعنی شیئ ہو حیز نفی میں داخل ہوا تو عام ہو گیا ، اس صورت میں حاصل یہ ہو گا : لا شیئ من الخارج منہ غیر حدث ، نجسا  ( بدن سے نکلنے والی اس حال میں کہ حدث نہ ہو کوئی بھی چیز نجس نہیں ) اس کا عکس نقیض یہ سا لبہ جزئیہ ہو گا ، لیس بعض اللا نجس ، لا خارجا منہ غیر حدث  ( بعض لا نجس ، غیر حدث ہونے کی حالت میں لاخارج نہیں ) لا خارج پر سلب وارد ہونے سے اثبات کی طرف لوٹ جائے گا ، تو معنی کا مآل یہ ہو گا : بعض ما لیس نجسا خارج من بدن المکلف غیر حدث  ( بعض وہ جو نجس نہیں بدن مکلف سے غیر حدث ہونے کی حالت میں خارج ہے ) اور عکس مستقیم یہ سالبہ کلیہ ہوگا : لاشی من نجس خارج منہ غیر حدث  (کوئی نجس ، غیر حدث ہوتے ہوئے بدن سے خارج نہیں ) اور اس کے صدق کی صورتیں وہی ہیں جو ہم نے پہلے بیان کیں ۔ وبالجملۃ حاصل العکسین علی الوجہین متعاکس فحاصل عکس النقیض علی جعلہا موجبۃ ھو حاصل المستوی علی جعلہا سالبۃ وبالعکس ھذا ما تحتملہ العبارۃ اما علماؤنا فانما ارادوا الوجہ الاول اعنی الایجاب ولم یریدوا عکس النقیض بل المستوی لکن لامنطقیا بل عرفیا کما عرفت ۔ بالجملہ دونوں وجہوں پر آنے والے دونوں عکسوں کا حاصل ایک دوسرے کا عکس ہو گا ، موجبہ بنانے پر جو عکس نقیض کا حاصل ہے وہ سالبہ بنانے پر عکس مستوی کا حاصل ہے اور اس کے برعکس ( سالبہ بنانے پر عکس نقیض کا حاصل موجبہ بنانے پر عکس مستوی کا حاصل ہے ) یہ وہ ہے جس کا عبارت میں احتمال ہے لیکن ہمارے علماء نے وجہ اول یعنی ایجاب مراد لیا ہے اور عکس نقیض نہیں بلکہ مستوی ، وہ بھی منطقی نہیں بلکہ عرفی مراد لیا ہے جیسا کہ معلوم ہوا ۔

واما النظر الدقیق فاقول ان کانت القضیۃ موجبۃ کما ارادوا فقد حکموا کلیا علی مالیس بحدث بلا نجس فیجب ان یکون اللانجس مساویا للخارج غیر حدث اواعم منہ مطلقا ونقیض المتساویین متساویان والاعم والاخص مطلقا مثلہما بالتعکیس فیجب ان یکون النجس مساویا للاخارج غیر حدث اواخص منہ مطلقا واللاخارج غیر حدث یصدق بوجہین ان لایکون خارجا اصلا اویکون خارجا حدثا والنجس ان ابقی علی ارسالہ یکون اعم منہ لما بینا فی رسالتنا لمع الاحکام ان قیئ قلیل الخمر والبول لیس بحدث فیصدق علیہ النجس ولا یصدق اللاخارج غیر حدث بل ھو خارج غیر حدث فوجب ان یراد بالنجس النجس بالخروج کما حققنا ثمہ وحینئذ یکون اخص من اللاخارج غیر حدث فان کل نجس بالخروج یصدق علیہ انہ لیس بخارج غیر حدث بل حدث ولا یصدق علی کل لاخارج غیر حدث انہ نجس بالخروج لجواز ان لا یکون خارجا اصلا فاذن تؤل القضیۃ الی قولنا کل خارج من بدن المکلف غیر حدث فھو لانجس بالخروج وعکس نقیضھا کل نجس بالخروج فھو لاخارج منہ غیر حدث واذا کان ذلک کذالک انتفی الوجہ الاول من مصداقی اللاخارج غیر حدث لان النجس بالخروج خارج لاشک فلم یبق الا ان یکون خارجا حدثا والخروج قد اعتبر فی الموضوع فلا حاجۃ الی عادتہ فی المحمول فیخرج فذلکۃ العکس ان کل نجس بالخروج حدث فتبین ان فیہ من این جاء التقیید بالاشیاء الخارجۃ من بدن المکلف فی موضوعہ وکیف خرج السلب الوارد علی ماوعلی الحدث من محمولہ حتی لم یبق فیہ الا لفظۃ حدث فارتفع الا یراد ان معا عن البر جندی والشیخ اسمعیل جمیعا انما بقی الاخذ علی اخذھا سالبۃ الطرفین وکانہ رحمہ اللّٰہ تعالٰی نظر الی وجود السلب ولو فی المتعلق ولیس فیہ کبیر مشاحۃ ھکذا ینبغی التحقیق واللّٰہ تعالٰی ولی التوفیق ۔

اب رہی نظر دقیق ،فاقول ( تو میں کہتا ہوں ) اگر قضیہ کلیہ ہو جیسا کہ علماء نے مراد لیا تو انہوں نے کلی طور پر ، اس پر جو حدث نہیں ہے لانجس ہونے کا حکم کیا ( اور کہا کہ ہر وہ جو خارج غیر حدث ہے وہ لانجس ہے )تو ضروری ہے کہ لانجس ، خارجِ غیر حدث کا مساوی ہو یا ا س سے اعم مطلق ہو اور متساویین کی نقیضیں متساویین ہوتی ہیں مگر بر عکس ( یعنی اخص اعم مطلق ) تو ضروری ہے کہ لانجس کی نقیض نجس ، خارجِ غیر حدث کی نقیض لاخارج غیر حدث کے مساوی ہو یا اس سے اخص ہو اور لا خارج غیر حدث کا صدق دو طرح کا ہو گا ، ایک یہ کہ سرے سے خارج ہی نہ ہو ، دوسرے یہ کہ خارج ہو مگر حدث ہو اور نجس اگر اپنے اطلاق پر (بلا قید ) باقی رکھا جائے اس سے اعم ہو گا جس کی وجہ ہم نے اپنے رسالہ لمع الاحکام میں بیان کی ہے کہ شراب اور پیشاب کی قے قلیل حدث نہیں تو اس پر نجس صادق ہو گا اور لاخارج غیر حدث صادق نہ ہوگا بلکہ وہ خارج غیر حدث ہے تو ضروری ہے کہ نجس سے نجس بالخروج مراد ہو جیسا کہ وہیں ہم نے تحقیق کی ہے اس صورت میں وہ لا خارج غیر حدث سے اخص ہو گا اس لئے کہ ہر نجس بالخروج پر یہ صادق آئے گا کہ وہ خارج غیر حدث نہیں بلکہ حدث ہے اور ہر لاخارج غیر حدث پر یہ صادق نہ ہو گا کہ وہ نجس بالخروج ہے اس لئے کہ ہو سکتا ہے کہ وہ سرے سے خارج ہی نہ ہو تو اب قضیہ کا مآل یہ ہو گا کہ '' ہر وہ جو بدن مکلف سے خارج غیر حدث ہے تو وہ لانجس بالخروج ہے '' اور اس کا عکسِ نقیض یہ ہو گا : ہر وہ جو نجس بالخروج ہے وہ لاخارج غیر حدث ہے اور یہ جب ایسا ہو گا تو لاخارج غیر حدث کے دو مصداقوں میں سے پہلی صورت منتفی ہو گئی اس لئے کہ نجس بالخروج بلاشبہہ خارج ہے تو صرف یہ صورت رہی کہ خارج حدث ہو اور خروج کا اعتبار موضوع میں ہو چکا ہے تو اسے محمول میں دوبارہ لانے کی کوئی ضرورت نہیں تو خلاصہ عکس یہ ہو گا کہ ہر نجس بالخروج حدث ہے اس سے واضح ہوا کہ اس میں موضوع کے اندر '' بدن مکلف سے نکلنے والی چیزوں '' کی قید کہاں سے آئی اور '' ما '' پر اور'' حدث '' پر وارد ہونے والا سلب اس کے محمول سے کیسے نکل گیا یہاں تک کہ صرف لفظ حدث رہ گیا تو برجندی اور شیخ اسمٰعیل سے دونوں اعتراض ایک ساتھ اُٹھ گئے ، صرف یہ مؤاخذہ رہ گیا کہ اسے سابقۃ الطرفین کیوں مانا ، گویا برجندی رحمۃ اللہ تعالی نے یہ دیکھا کہ سلب موجود ہے اگرچہ  متعلق ہی میں ہے اور اس میں کوئی بڑا حرج نہیں اسی طرح تحقیق ہونی چاہئے اور خدائے برتر ہی مالکِ توفیق ہے ۔

وکذلک ان کانت سالبۃ لابد ایضا من الحمل المذکور اذلا شک ان المراد الکلیۃ لان المقصود اعطاء ضابطۃ فقد سلبت النجاسہ کلیۃ عن الخارج غیر حدث فیکون النجس مباینالہ ولا یباینہ الابارادۃ النجس بالخروج اذ لولاھا لکانت اعم لمسألۃ قیئ الخمرا لمذکورۃ لکن مرادھم ھوا لایجاب کماعلمت ۔

یوں ہی اگر سالبہ ہو تو اس میں بھی حمل مذکور ضروری ہے کیونکہ اس میں شک نہیں کہ مراد کلیہ ہے اس لئے کہ مقصود ایک ضابطہ عطا کرنا ہے تو خارج غیر حدث سے نجاست کلی طور پر مسلوب ہوئی تو نجس اس کا مباین ہو گا اور مباین اسی صورت میں ہو گا جب نجس بالخروج مراد ہو اس لئے کہ اگر یہ مراد نہ ہو تو اعم ہوجائے گا جس کا سبب مذکورہ مسئلہ خمر ہے لیکن ان کی مراد ایجاب ہی ہے جیسا کہ آپ کو معلوم ہوا ،

اما قول البرجندی ھذہ الکلیۃ لوجعلت متعلقۃ بمباحث القیئ لکان لہ وجہ ۱؎۔ اب رہا برجندی کا یہ قول کہ اگر یہ کلیہ قے کے مباحث سے متعلق ہو تو اس کی ایک وجہ ہو گی ۔

 (۱؎ شرح النقایۃ للبرجندی کتاب الطہارۃ نو لکشور لکھنؤ ۱ /۲۳)

اقول: کیف وانھم جمیعا انما یذکرونھا تلومسائل القیئ وقولہ سلمت عن توھم الدور ۲؎۔ اقول:  اس سے متعلق کیسے نہیں جبکہ سبھی حضرات اسے مسائلِ قے کے بعد متصلاً ہی ذکر کرتے ہیں ، قول برجندی : دور کے توہّم سے سلامت رہتا ۔

 (۲؎ شرح النقایۃ للبرجندی کتاب الطہارۃ نو لکشور لکھنؤ ۱ /۲۳)

اقول:  وجہہ ان اعطاء القضیۃ انما ھو لیکتسب علم عدم النجاسۃ من علم عدم الحدثیۃ و علم عدم الحدثیۃیتوقف علی علم عدم النجاسۃ اذ لو کان نجسا لکان حدثا فیدور وانما قال توھم لان العلم بعدم الحدثیۃ یحصل بتصریح الفقہ فالمراد کلما سمعتموہ من علمائنا انہ لاینقض الطہارۃ فاعلموا انہ لیس بخروجہ نجسا فان لم یکن نجسا دخل من خارج فھو طاھر وھذا ظاھر وصلی اللّٰہ تعالٰی علی اطھر طیب واطیب طاھر وعلی اٰلہ وصحبہ الاطائب الاطاھر والحمدللّٰہ رب العٰلمین فی الاول والاٰخر والباطن والظاھر ولنسم ھذا التحریر المنیر المنفرد بھذا التحریر والتحبیر ''الطراز المعلم فیما ھو حدث من احوال الدم    (۱۳۲۴)'' وصلی اللّٰہ تعالٰی علی سیدنا واٰلہٖ وصحبہ وسلم والحمدللّٰہ علی ما علم واللّٰہ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ ضابطہ اسی لئے ہے کہ حدث نہ ہونے کے علم سے نجس نہ ہونے کا علم حاصل ہو جائے اور حدث نہ ہونے کا علم نجس نہ ہونے کے علم پر موقوف ہے اس لئے کہ اگر نجس ہو گا تو حدث ہوگا تو دور ہو گا ، توہّم دور اس لئے کہا کہ حدث نہ ہونے کا علم فقہ کی تصریح سے ہوتا ہے تو مقصد یہ ہے کہ جب ہمارے علماء سے سنو کہ وہ ناقضِ طہارت نہیں تو جان لو کہ وہ اپنے خروج سے نجس نہیں تو اگر وہ ایسا نجس نہیں جو خارج سے داخل ہوا ہو تو وہ طاہر ہے اور یہ ظاہر ہے اور اللہ تعالٰی رحمت نازل فرمائے سب سے پاک طیّب اور سب سے پاکیزہ طاہر پر اور ان کے اطیب و اطہر آل پر اور تمام تر حمد اللہ تعالٰی کے لئے جو سارے جہانوں کا پروردگار ہے ، حمد شروع میں بھی آخر میں بھی اور باطن میں بھی اور ظاہر میں بھی ۔ اور ہم اس تحریر منیر کو جو اس تنقیح و تزیین میں منفرد ہے الطراز المعلم فیما ھو حدث من الاحوال الدم (۱۳۲۴ھ) (نشان زدہ نقش خون کے ان احوال کے بیان میں جو حدث ہیں ) سے موسوم کریں اور خدائے برتر کا درود ہو ہمارے آقا ، ان کی آل اور ان کے اصحاب پر اور سلامتی ہو اور خدا کا شکر ہے اس پر جو اس نے تعلیم فرمایا اور خدائے پاک برتر ہی کو خوب علم ہے (ت)

                                             ( رسالہ الطراز المعلم فیما ہو حدث من احوال الدم ختم ہوا)

فتاوی رضویہ ،ج۱،ص ۹۴،سافٹ ویر 
مفتی :امام احمد رضا خان بریلوی 
آن لاءن فتوی

No comments:

Post a Comment

Join us on

Must click on Like Button

Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...