Monday, December 14, 2015

سوال : مسلمان کو نہانے کی حاجت ہو اُس حالت میں مسجد کے لوٹے وغیرہ کو ناپاک ہاتھ سے چھُونا جائز ہے یا نہیں؟ جواب از :امام احمد رضا خان بریلوی

مسئلہ ۲۰:        ۴ جمادی الآخرہ    ۱۳۱۴ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ مسلمان کو نہانے کی حاجت ہو اُس حالت میں مسجد کے لوٹے وغیرہ کو ناپاک ہاتھ سے چھُونا جائز ہے یا نہیں؟

الجواب
ہاتھ پر اگر کوئی نجاست لگی ہے کہ ہاتھ سے چھُوٹ کر لگ جائے گی تو چھونا جائز نہیں اگرچہ لوٹا نہ مسجد کا ہو نہ کسی دوسرے شخص کا بلکہ خود اپنی ملک ہو کہ بلا ضرورت فـــ پاک شے کو ناپاک کرنا ناجائز وگناہ ہے بحرالرائق بحث ماء مستعمل میں بدائع سے ہے تنجیس الطاھر حرام ۱؎  (پاک کو ناپاک کرنا حرام ہے۔ ت) اور اگر کوئی نجاست نہیں صرف نہانے کی حاجت ہے تو جائز ہے اگرچہ ہاتھ یا لوٹا تر ہو۔ واللہ تعالٰی اعلم

فــــ:مسئلہ بلاضرورت پاک چیز کو ناپاک کرنا حرام ہے۔

 (۱؎ البحرالرائق    کتاب الطہارۃ    ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۱ /۹۴)

فتاوی رضویہ ،سوال نمبر ۲۰
امام احمد رضا خان بریلوی رحمۃ اللہ علیہ

No comments:

Post a Comment

Join us on

Must click on Like Button

Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...