Saturday, December 5, 2015

فتوی:کیا ستر دیکھنے ،دوڑنے ،کودنے یا گرنےسے وضو ٹوٹ جاتا ہے ۔۔؟؟ جواب از :امام احمد رضا خان بریلوی

مسئلہ۹        دہم محرم الحرام ۱۳۲۵ھ:کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلے میں کہ اپنے گھٹنے کھُل جانے یا اپنا پرایا ستر بلا قصد یا بالقصد دیکھنے یا دوڑنے یا بلندی پر سے کُودنے یا گرنے سے وضو جاتا ہے یا نہیں، بینوا توجروا( بیان فرمائیےاجر پائیے ۔ت)


الجواب:ان میں کسی بات سے وضو نہیں جاتا ۔ سترفـــ۱ــ کھُلنے یا دیکھنے سے وضو جانا کہ عوام کی زبان زد ہے محض بے اصل ہے، علماء فـــ۲ــ نے سترِ عورت کو آدابِ وضو سے گنا اگر کشف سے وضو جاتا تو فرائض وضو سے ہوتا۔


فـــ۱ــ: مسئلہ گھٹنے یا ستر کھلنے یا اپنا یا پرایا ستر دیکھنے سے وضو نہیں جاتا ۔
فـــ۲ــ: مسئلہ وضو کا ادب یہ ہے کہ ناف سے زانو کے نیچے تک سب ستر چھپا کر ہو بلکہ استنجے کے بعد فوراً ہی ستر ہو لینا چاہئے کہ بلا ضرورت برہنگی منع ہے ۔

منیہ وغنیہ میں ہے: اٰداب الوضوء ان یستر عورتہ حین فرغ من الاستنجاء ۱؎ اھ ملتقطا۔ آدابِ وضو میں ہے کہ استنجاء سے فراغت کے بعد ستر چھپا لے اھ ملتقطاً (ت)

 (۱؎ غنیہ المستملی شرح منیۃ المصلی آدا ب الوضو سہیل اکیڈمی لاہور ،ص ۳۱)

اور تصریح فرماتے ہیں کہ اگر صرف فـــ۳ــ ایک جبہ پہن کر نماز پڑھی جس سے گھٹنوں تک رکوع سجود وغیرہما ہر حال میں ستر حاصل ہے اور اُس کا گریبان فــ۱ــ اتنا کشادہ ہے کہ گریبان سے اپنے ستر تک نظر جاسکتی ہے اور اس نے دیکھا تو کراہت ہے مگرنماز ہوگئی اگر وضو جاتا رہتا نماز کیونکر ہوتی۔ ـٍ

فـــ۳ــ: صرف ایک جبہ پہن کر نماز پڑھی جس سے رکوع و سجود وغیر ہ کسی حالت میں زانو کا حصہ بھی ظاہر نہیں ہوتا کچھ حرج نہیں ۔
فـــ۱ــ:مسئلہ ایسے جبے کا اگر گریبان اتنا وسیع ہے کہ اس کے اندر سے اپنے ستر تک نظر جا پڑی کچھ حرج نہیں ،ہاں قصداً دیکھنا مکروہ ہے نماز یا وضو فاسد جب بھی نہ ہوں گے ۔

درمختار میں ہے: الشرط سترھا عن غیرہ لانفسہ بہ یفتی فلورأھا من زیقہ لم تفسد وان کرہ ۱؎۔ اسے دوسرے سے چھپانا شرط ہے خود سے نہیں اسی پر فتوی ہے تو اگر گلے کے چاک سے اپنا ستر دیکھا تو نماز نہ جائے گی اگرچہ مکروہ ہے ۔ (ت)

 (۱؎الدرالمختار        کتاب الصلوۃ     باب شروط الصلوۃ     مطبع مجتبائی دہلی     ۱ /۶۶)

اور تصریح فرماتے ہیں کہ اگر عورت فـــ۲ــ کو طلاق رجعی دی تھی ہنوز عدت نہ گزری تھی یہ نماز میں تھا کہ عورت کی فرج پر نظر پڑگئی اور شہوت پیدا ہوئی رجعت ہوگئی اور نماز میں فساد نہ آیا اور اگر قصداً بھی ایسا کرے تو مکروہ ضرور ہے مگر نماز فاسد نہیں۔

فـــ۲ــ: مسئلہ عورت کو رجعی طلاق دی تھی یہ نماز پڑھ رہا تھا اتفاقاً عورت کی فرج داخل پر نظر بشہوت جا پڑی رجعت ہو گئی اور نماز و وضو میں کچھ خلل نہیں ہاں قصداً ایسا کرے گا تو کراہت ہے ۔

خلاصہ و ردالمحتار میں ہے: لو نظر الی فرج المطلقۃ رجعیا بشہوۃ یصیر مراجعا ولا تفسد صلاتہ فی روایۃ ھو المختار۲؎ اھ جس عورت کو طلاق رجعی دی تھی اگر شہوت کے ساتھ اس کی شرمگاہ کی طرف دیکھا تو رجعت کرنے والا ہو جائے گا اور اس کی نماز فاسد نہ ہو گی ایک روایت میں جو مختار ہے اھ ۔

 (۲؎ ردالمحتار کتاب الصلوۃ باب ما یفسد الصلوۃ وما یکرہ فیہا دار احیاء التراث العربی بیروت ۱ /۴۲۲)

ثم الفساد علی الاخری انما ھولان النظرالی الفرج بشہوۃ من داعی الجماع فصارکما لوقبلت فـــ۳ــ المصلی امرأتہ وھو فی الصلاۃ فاشتھی فسدت لصیر ورتہ باشتہائہ فی معنی الجماع والجواب مذکور فیھماان ھذا فی الدواعی التی ھی فعل غیر النظر والفکر لتعذر التحرز عنہما۔

پھر دوسری روایت پر فساد نماز اسی لئے ہے کہ شرم گاہ کی طرف شہوت سے دیکھنا جماع کے دواعی میں سے ہے تو ایسا ہی ہوا جیسے نماز پڑھنے والے کو جب وہ نماز میں تھا اس کی عورت نے بوسہ دیا جس سے اس کو شہوت پیدا ہوئی تو اس کی نماز فاسد ہو گئی کیونکہ یہ شہوت کی وجہ سے معنی جماع میں ہو گیا اور ان دونوں میں جواب مذکور ہے کہ یہ ان دواعی میں ہے جو نظر و فکر کے علاوہ کوئی اور عمل ہیں کیونکہ دیکھنے ، سوچنے سے بچنا متعذر ہے ۔(ت)

فـــ۳ــ:مسئلہ مرد نماز میں تھا عورت نے اس کا بوسہ لیا اس سے مرد کو خواہش پیدا ہوئی نماز جاتی رہی اگرچہ یہ اس کا اپنا فعل نہ تھا اور عورت نماز پڑھتی ہو مرد بوسہ لے عورت کو خواہش پیدا ہو عورت کی نماز نہ جائے گی ۔

اور منکوحہ کی بھی تخصیص نہیں زنِ فـــ۱ــ بیگانہ کا بھی یہی حکم ہے ، یہاں بجائے رجعت حرمت مصاہرت ثابت ہو گی ،

فـــ۱ــ: مسئلہ نماز میں اگر بیگانہ عورت کی شرم گاہ پر نظر جا پڑے جب بھی نماز و وضو میں خلل نہیں مگر عورت کی مائیں ، بیٹیاں اس پر حرام ہو جائیں گی جب کہ فرج داخل پر نظر بشہوت پڑی ہو اور اگر قصداً ایسا کرے تو سخت گناہ ہے مگر نماز و وضو جب بھی باطل نہ ہوں گے ۔

مراقی الفلاح میں ہے: لاتبطل صلاتہ بنظرہ الی فرج المطلقۃ اوالا جنبیۃ یعنی فرجہا الداخل ۱؎ ۔ مطلّقہ یا اجنبیہ کی شرمگاہ یعنی فرج داخل کی طرف دیکھنے سے نماز باطل نہ ہو گی۔

 (۱؎ مراقی الفلاح کتاب الصلوۃ فصل فیما لا یفسد الصلوٰۃ دارالکتب العلمیہ بیروت ص ۳۴۲)

قال ط فی حاشیتہا وتثبت بہ حرمۃ المصاھرۃ فی الاجنبیۃ۔ ۲؎ طحطاوی نے حاشیہ مراقی میں لکھا :اور اجنبیہ میں اس کی وجہ سے حرمتِ مصاہرت ثابت ہو جائے گی (ت)

 (۲؎ حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح  کتاب الصلوۃفصل فیما لا یفسد الصلٰوۃ دارالکتب العلمیہ بیروت  ص ۳۴۳)

دوڑنے فـــ۲ــ کودنے گرنے میں بھی کوئی وجہ نقض وضو نہیں جب فـــ۳ــ تک گرنے سے بیہوشی نہ ہو یا خون نہ نکلے بحال بقائے فـــ۴ــ ہوش فقط یہ خیال کہ طبیعت دوسری طرف متوجہ اور اپنے حال سے غافل ہوتی ہے کافی نہیں ورنہ مطالعہ کتب بلکہ مراقبہ یادِ الٰہی بھی ناقض وضو ہو ۔

فـــ۲ــ:دوڑنے یا کودنے سے وضو نہیں جاتا ۔
فـــ۳ــ:مسئلہ کتنی ہی بلندی پر سے گر پڑے وضو نہ جائے گا مگر یہ کہ خون وغیرہ کچھ خارج ہو یا بیہوش ہو جائے ۔
فـــ۴ــ:مسئلہ جب تک ہوش باقی ہیں طبیعت کسی قدر کسی کام میں مشغول ہو وضو نہ جائے گا جیسے کتاب کا مطالعہ یادِ الٰہی کا مراقبہ ۔

نعم وقع فی حاشیۃ السید العلامۃ ط علی مراقی الفلاح مانصہ فی الہندیۃ عن المحیط عد من النواقض سقوطہ من اعلی اھ قال بعض الفضلاء ولعلہ لعدم خلوہ عن خروج خارج غالبا وھو لایشعر ۱؎ اھ ۔ ہاں علامہ سید طحطاوی کے حاشیہ مراقی الفلاح میں یہ عبارت ہے : ہندیہ میں محیط سے نقل ہے کہ بلندی سے گرنے کو نواقض میں شمار کیا گیا ہے اھ، بعض فضلاء نے کہا :شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ عموماً یہ اس سے خالی نہیں ہوتا کہ اس کی بے خیالی میں اس سے کچھ نقل کیا جائے اھ۔

 (۱؎ حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح کتاب الصلاۃ فصل نواقض الوضوء دار الکتب العلمیہ بیروت ص ۸۶)

اقول:  فـــ۱ــ رحمہ اللّٰہ السید والفاضل انما نص الہندیۃ ھکذا المذی ینقض الوضوء وکذا الودی والمنی اذا خرج من غیر شہوۃ بان حمل فـــ۲ــ شیئا فسبقہ المنی اوسقط من مکان مرتفع یوجب الوضوء کذا فی المحیط ۲؎ اھ بلفظھا ۔

اقول:  سیّد اور فاضل ( بعض فضلا ) پر خدا کی رحمت ہو . ہندیہ کی عبارت اس طرح ہے : مذی ناقضِ وضو ہے ، اسی طرح ودی بھی اور منی جب کہ بلا شہوت نکلی ہو اس طرح کہ کوئی وزنی چیز اٹھائی جس کی وجہ سے منی نکل آئی ، یا کسی اونچی جگہ سے گر پڑا تو وہ وضو واجب کرتی ہے ایسا ہی محیط میں ہے اھ عبارت انہی الفاظ کے ساتھ ختم ہوئی

 (۲؎ الفتاوی الھندیہ کتاب الصلوۃ الفصل الخامس فی نواقض الوضوء نورانی کتب خانہ پشاور ۱ /۱۰)

فـــ۱ــ: معروضۃ علی العلامۃ ط و من نقل عنہ ۔
فـــ۲ــ: مسئلہ بوجھ اٹھانے یا گر پڑنے یا کسی وجہ سے منی بے شہوت اپنے محل سے جدا ہو کر نکل گئی وضو واجب ہو گا غسل نہیں ۔

فقولہ المنی مبتدأ خبرہ یوجب والضمیر فیہ للمنی وقولہ سقط معطوف علی حمل وھو تصویر اخر لخروج المنی بلاشہوۃ لامعدود فی الموجبات بنفسہ وعبارۃ الامام قاضی خان تزیل الوھم قال فی الخانیۃ''خروج المنی لاعن شہوۃ بان سقط من مکان مرتفع اومااشبہ ذلک لایوجب الغسل وینقض الوضوء ۱؎ الخ فسبحن من لایزل ولا ینسی واللّٰہ تعالٰی اعلم۔

تو لفظ '' المنی '' مبتدا ہے جس کی خبر یوجب ( واجب کرتی ہے ) ہے اور اس میں ضمیر لفظ منی کی طرف راجع ہے اور لفظ ''سقط '' ( گرپڑا ) حمل (اٹھانا ) پر معطوف ہے اور اس سے بلا شہوت خروج منی کی ایک اور صورت پیش کی ہے یہ (اونچی جگہ سے گرنا ) خود موجباتِ وضو کے شمار میں نہیں ہے اور امام قاضی خاں کی عبارت سے یہ وہم دور ہو جاتا ہے ، خانیہ میں ان کے الفاظ یہ ہیں : منی کا بلاشہوت نکلنا اس طرح کہ کسی اونچی جگہ سے گر پڑا یا ایسی کوئی صورت ہو ، موجبِ غسل نہیں اور ناقضِ وضو ہے ،۔الخ تو پاکی ہے اس ذات کے لئے جسے لغزش اور نسیان نہیں ، واللہ تعالٰی اعلم (ت)

 (۱؎ فتاوی قاضی خان کتاب الصلوۃ فصل فیما ینقض الوضوء نولکشور لکھنؤ ۱ /۱۸)

فتاوی رضویہ ،ج۱،،سوال نمبر ۹
مفتی اعلی حضرت امام احمد رضا بریلوی 

No comments:

Post a Comment

Join us on

Must click on Like Button

Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...