Saturday, December 5, 2015

فتوی :کیا زکام جاری ہونے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے؟؟جواب :اعلی حضرت امام احمد رضا خان بریلوی

رسالہ
لمع الاحکام ان لاوضوء من الزکام(۲۴ ۱۳ھ)
(روشن احکام کہ زکام سے وضو نہیں)

بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم

مسئلہ ۷ف        غرہ ذی القعدہ ۱۳۲۴ھ :کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زکام جاری ہونے سے وضو جاتا ہے یا نہیں ۔ بینوا توجروا(بیان کیجیے اجر لیجیے ۔ت)ف:مسئلہ زکام کتناہی بہے وضو نہیں جاتا۔

الجواب :الحمد للّٰہ الذی حمدہ نور وذکرہ طہور والصلاۃ والسلام علی سید کل طیب طاہر واٰلہ وصحبہ الاطائب الاطاھر

تمام تعریف خدا کے لئے ،جس کی حمد نور ہے اور جس کا ذکر ، طہور ہے، اور درود و سلام ہو ہر طیب و طاہر کے سردار اور ان کی اطیب و اطہر آل و اصحاب پر ۔ (ت)
زکام کتنا ہی جاری ہو اس سے وضو نہیں جاتا کہ محض بلغمی رطوبات طاہرہ ہیں جس میں آمیزش خون یا ریم کا اصلاً احتمال نہیں ۔
اقول ۶۵: ہمارے علماء تصریح فرماتے ہیں کہ بلغم کی قے کسی قدر کثیر ہو ، ناقضِ وضو نہیں ـــــــ -

ف:مسئلہ بلغم کی قے کتنی ہی کثیر ہو وضو نہ جائے گا ۔

درمختار میں ہے: لاینقصہ قیئ من بلغم علی المعتمد اصلا ۱؎۔ قولِ معتمد کی بنیاد پر بلغم کی قے اصلاً ناقضِ وضو نہیں۔ (ت)

 (۱؎الدرالمختار کتاب الطہارۃ مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۲۶)

حاشیہ علامہ طحطاوی میں ہے: شامل للنازل من الرأس والصاعد من الجوف وقولہ علی المعتمد راجع الی الثانی لان الاول بالاتفاق علی الصحیح ۲؎۔ یہ حکم سر سے اترنے والے اور معدہ سے چڑھنے والے دونوں قسم کے بلغم کو شامل ہے اور ان کا قول ''علی المعتمد'' (قول معتمد کی بنیاد )دوم (معدہ والے ) کی طرف راجع ہے کیونکہ صحیح یہ ہے کہ اول میں وضو نہ ٹوٹنے کا حکم بالاتفاق ہے ۔ (ت)

(۲؎حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختارکتاب الطہارۃ المکتبۃ العربیہ کوئٹہ۱ /۷۹)

ردالمحتار میں ہے: اصلا ای سواء کان صاعدامن الجوف اوناز لامن الراس ح خلافا لا بی یوسف فی الصاعد من الجوف الیہ اشار بقولہ علی المعتمد ولو اخرہ لکان اولی ۳؎ اھ ای لان تقدیمہ یوھم ان فی عدم النقض بالبلغم خلافا مطلقا ولیس کذلک فی الصحیح۔ ''اصلاً''یعنی معدہ سے چڑھنے والا ہو یا سر سے اُترنے والا __ ح__اور معدہ سے چڑھنے والے میں امام ابو یوسف کا اختلاف ہے ۔ اس کی طرف لفظ ''علی المعتمد'' سے اشارہ کیا ہے ، اگر اسے '' اصلاً'' کے بعد رکھتے تو بہتر تھا ا ھ۔ یعنی اس لئے کہ اسے پہلے رکھ دینے سے یہ وہم ہوتا ہے کہ بلغم سے وضو ٹوٹنے میں مطلقاً اختلاف ہے حالاں کہ بر قولِ صحیح ایسا نہیں ہے ۔ (ت)

 (۳؎ردالمحتار کتاب الطہارۃ مطلب فی نواقض الوضوءداراحیاء التراث العربی بیروت۱ /۹۴)

نور الایضاح ومراتی الفلاح میں ہے: عشرۃ اشیاء لاتنقض الوضوء منھا قیئ بلغم ولوکان کثیرالعدم تخلل النجاسۃ فیہ وھو طاھر۔ ۱؎ دس چیزیں ناقضِ وضو نہیں ہیں ان میں سے ایک بلغم کی قے ہے اگرچہ زیادہ ہو ، اس لئے کہ نجاست اس کے اندر نہیں جاتی اور وہ خود پاک ہے ۔ (ت)

 (۱؎مراقی الفلاح مع حاشیۃ الطحطاوی،کتاب الطہارۃ     فصل عشرۃ اشیاء لا تنقض الوضوء،دارالکتب العلمیہ بیروت،ص۹۳۔۹۴)

یہ تصریحاتِ جلیہ ہیں کہ بلغم جو دماغ سے اُترے بالاجماع ناقضِ وضو نہیں اور ظاہر ہے کہ زکام کی رطوبتیں دماغ ہی سے نازل ہیں تو ان سے نقضِ وضو کسی کا قول نہیں ہو سکتا ، حکمِ مسئلہ تو اسی قدر سے واضح ہے مگر یہاں علامہ سید طحطاوی ف۱ رحمۃ اللہ علیہ کو ایک شبہہ عارض ہوا جس کا منشا یہ کہ ہمارے علماء نے فرمایا : جو سائل چیز ف۲ بدن سے بوجہِ علت خارج ہو ناقضِ وضو ہے مثلاً آنکھیں دُکھتی ہیں یا جسے ڈھلکے کا عارضہ ہو یا آنکھ، کان ، ناف وغیرہ میں دانہ یا ناسور یا کوئی مرض ہو ان وجوہ سے جو آنسو ، پانی بہے وضو کا ناقض ہوگا ۔

ف۱: معروضۃ۱۴  علی العلامۃ ط۔
ف۲:مسئلہ آنکھیں دکھنے یا ڈھلکے میں جو آنسو ہے یا آنکھ ، کا ن ،چھاتی ،ناف وغیرہ سے دانے ناسور خواہ کسی مرض کے سبب پانی بہے وضو جاتا رہے گا۔

درمختار باب الحیض میں ہے : صاحب عذر من بہ سلس بول او استحاضۃ اوبعینہ رمد اوعمش اوغرب وکذا کل ما یخرج بوجع ولو من اذن او ثدی وسرۃ ۲؎۔ عذر والا وہ ہے جسے بار بار پیشاب کا قطرہ آتا ہو یا استحاضہ ہو یا آنکھ میں رمد یا عمش یا غرب ہو ( آشوب یا چندھا پن یا کوئی پھنسی ہو ) اور اسی طرح ہر وہ چیز جو کسی بیماری کی وجہ سے نکلے اگرچہ کان یا پستان یا ناف سے ہو ۔ (ت)

 (۲؎ الدرالمختار کتاب الطہارۃ باب الحیض مطبع مجتبائی دہلی ۱ /۵۳)

ردالمحتار میں ہے: قولہ رمدای ولیسیل منہ الدمع قولہ عمش ضعف الرؤیۃ مع سیلان الدمع فی اکثر الاوقات، قولہ غرب،قال المطرزی ھو عرق فی مجری الدمع یسقی فلا ینقطع مثل الباسور عن الاصمعی بعینہ غرب اذا کانت تسیل ولا تنقطع دموعھا والغرب بالتحریک ورم فی الماٰقی اھ ۱؎ قولہ ''آشوب ہو '' یعنی اس سے پانی بھی بہتا ہو ----- قولہ عمش یعنی اکثر اوقات پانی بہنے کے ساتھ ، بصارت کی کمزوری ہو----- قولہ غرب -----مطرزی نے کہا : یہ آنسو بہنے کی ایک رگ ہوتی ہے جو بہنے لگتی ہے تو بند نہیں ہوتی جیسے بواسیر---- اصمعی سے منقول ہے : ''بعینہ غرب'' اس وقت بولتے ہیں جب آنکھ بہتی رہتی ہو اور اس کے ساتھ آنسو تھمتے نہ ہوں۔ اور غَرَب----- را پر حرکت کے ساتھ ---- آنکھ کے کویوں میں ایک ورم ہوتا ہے ۔ (ت)

 (۱؎ردالمحتار کتاب الطہارۃ با ب الحیض داراحیاء التراث العربی بیروت۱/ ۲۰۲)

اس پر علامہ طحطاوی نے فرمایا: ظاھرہ یعم الانف اذا زکم ۲؎۔ یعنی ظاہراً یہ مسئلہ ناک کو بھی شامل ہے جب زکام ہو ۔

(۲؎ حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار کتاب الطہارۃ باب الحیض المکتبۃ العربیہ کوئٹہ۱ /۱۵۵)

علامہ شامی نے اُس پر اعتراض کیا کہ ہمارے علما ء تصریح ف ۱فرما چکے ہیں کہ سوتے آدمی کے مُنہ سے جو رال بہے اگرچہ پیٹ سے آئے اگرچہ بدبودار ہو پاک ہے،

قول سید طحطاوی نقل کرکے فرماتے ہیں: لکن صرحوا بان ماء فم النائم طاھر ولو منتنا فتأمل۔ ۳؎ لیکن ہمارے علماء نے تصریح فرمائی ہے کہ سونے والے کے منہ کی رال اگرچہ بدبو دار ہے، پاک ہے۔ تو تأمل کرو ۔ (ت)

 (۳؎ردالمحتار کتاب الطہارۃ باب الحیض داراحیاء التراث العربی بیروت۱/ ۲۰۲)

ف۱:مسئلہ سوتے میں جو رال بہے اگرچہ پیٹ سے آئے اگرچہ بدبودار ہوپاک ہے۔

اقول۶۶: علامہ طحطاوی کی طرف سے اس پر دو۲ شبہے وارد ہوسکتے ہیں :اوّل کلام ف۲ اس پانی میں ہے کہ مرض سے بہے اور سوتے میں رال نکلنا مرض نہیں، نہ اس کی بو دلیلِ علت ہے ، جیسے آخر روز میں بوئے دہان صائم کا تغیر۔

ف۲ :معروضۃ علی العلامۃ ش

دوم : عوارض ف۱ مکلف میں ادھر سے کلیہ ہے کہ جو حدث ف۲ نہیں نجس نہیں اور اس کا عکس کلی نہیں کہ جو نجس نہ ہو حدث بھی نہ ہو، نیند جنون  بیہوشی کو نجس نہیں کہہ سکتے اور ناقض وضو ہیں ،اور سب سے بہتر مثال ریح

ف ۳ہے کہ صحیح ومعتمد مذہب پر طاہر ہے اور بالاجماع حدث ہے تو آپ دہان نائم کی طہارت سے استدلال جائے مجال مقال ہوگا۔
ف۱ معروضۃ  اخرٰی علیہ
ف ۲: مسئلہ بدن مکلف سے جو چیز نکلے اوروضو نہ جائے وہ نا پاک نہیں مگر یہ ضرور نہیں کہ جو ناپاک نہ ہو اس سے وضو نہ جائے۔
ف۳: مسئلہ صحیح یہ ہے کہ ریح جوانسان سے خارج ہوتی ہے پاک ہے۔

درمختار میں ہے : کل مالیس بحدث لیس بنجس وھو الصحیح۔۱؎ ہر وہ جو حدث نہیں، نجس بھی نہیں ، یہی صحیح ہے ۔ (ت)

 (۱؎الدر المختار کتاب الطہارۃمطبع مجتبائی دہلی۱/ ۲۶)

ردالمحتار میں درایہ سے ہے: انھا لا تنعکس فلا یقال مالا یکون نجسا لایکون حدثا لان النوم والجنون والاغماء وغیرھا حدث ولیست بنجسۃ۔ ۲؎۔ اس کلیہ کا عکس نہ ہو گا تو یہ نہ کہا جائے گا کہ جو نجس نہ ہو گا وہ حدث بھی نہ ہو گا ۔ اس لئے کہ نیند ، جنون ، بیہوشی وغیرہ حدث ہیں اور نجس نہیں ۔ (ت)

 (۲؎ردالمحتار کتاب الطہارۃ دارا حیاء التراث العربی بیروت۱ /۹۵)

حاشیہ طحطاوی میں ہے: فیلزم من انتفاء کونہ حدثاانتفا ء کونہ نجسا ولا ینعکس فلا یقال مالایکون نجسا لایکون حدثا فان النوم والاغماء والریح لیست بنجسۃ وھی احداث ۳؎ اھ۔ حدث نہ ہونے کو، نجس نہ ہونا لازم ہے اور اسکے برعکس نہیں ۔تو یہ نہیں کہا جا سکتا کہ جو نجس نہ ہو گا وہ حدث بھی نہ ہو گا اس لئے کہ نیند ، بیہوشی اور ریح نجس نہیں اوریہ سب حدث ہیں ۔ ا ھ

 (۳؎حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار کتاب الطہارۃ المکتبۃ العربیہ کوئٹہ ۱ /۸۱)

اقول: وھھنا وھم عرض فی فھم القضیۃ وفھم العکس العلامۃ الشامی فی ردالمحتار نبھت علیہ فیما علقت علیہ ولعل لنا فی اٰخر الکلام عودا الیہ۔

اقول اور یہاں قضیہ اور اس کے عکس کو سمجھنے میں علامہ شامی کو رد المحتار میں ایک وہم در پیش ہوا ہے جس پر میں نے حاشیہ رد المحتار میں تنبیہ کی ہے۔ اور امید ہے کہ آخر کلام میں ہم اس طرف لوٹیں گے ۔ (ت)
اور اگر ثابت کر لیں کہ جو ظاہر رطوبت بدن سے نکلے اگرچہ سائل ہو ناقض نہیں تو اب اس تجشم کی حاجت نہ رہے گی کہ آب دہانِ نائم سے استدلال کیجئے خود آب بینی ف کی طہارت مصرح و منصوص ہے ۔

ف: مسئلہ صحیح یہ ہے کہ آب بینی پاک ہے ۔

در مختار مسائل قے میں ہے: المخاط کالبزاق۱؎  (ناک کی رینٹھ تھوک کی طرح ہے۔ ت)

 (۱؎الدر المختار کتاب الطہارۃمطبع مجتبائی دہلی۱ /۲۶)

خود علامہ طحطاوی پھر شامی فرماتے ہیں : وما نقل عن الثانی من نجاسۃ المخاط فضعیف ۲؎ اور امام ابو یوسف سے جو منقول ہے کہ رینٹھ نجس ہے وہ ضعیف ہے (ت)

 (۲؎ردالمحتار کتاب الطہارۃ دارا حیاء التراث العربی بیروت۱ /۹۴)
(حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار کتاب الطہارۃ المکتبۃ العربیہ کوئٹہ ۱ /۸۰)

تو مسئلہ قے بلغم سے استدلال جس طرح فقیر نے کیا اسلم واحکم ہے جس میں خود علامہ طحطاوی کو اقرار ہے کہ رطوبات بلغمیہ جب دماغ سے اتری ہوں بالاجماع ناقض وضو نہیں۔
ثم اقول۶۷: اب یہ نظر کرنی رہی کہ آیا کلیہ مذکورہ ثابت ہے کہ اگر ثابت ہوتو یہاں تک استظہار علامہ طحطاوی کے خلاف دو دلیلیں ہوجائیں گی۔ مسئلہ قے ومسئلہ آب بینی کہ فقیر نے عرض کئے اور علامہ شامی کے طور پر تین ، تیسری مسئلہ آبِ دہان نائم کہ وہ مثل بزاق یعنی لعابِ دہن ہے اور لعابِ دہن وبلغم جنس واحد ہیں اور انھیں کی جنس سے آبِ بینی ہے وہی رطوبات ہیں کہ قدرے غلیظ وبستہ ہوں تو بلغم کہلائیں رقیق ہو کہ منہ سے آئیں تو آبِ دہن غلیظ یا رقیق ہو کر ناک سے آئیں تو آبِ بینی۔

حلیہ میں ہے: فی شرح الجامع الصغیر لقاضی خاں ان قاء بزاقا لاینقض الوضوء بالاجماع والبزاق مالا یکون متجمدا منعقدا و البلغم مایکون متجمدا منعقدا ۱؎۔ امام قاضی خان کی شرح جامع صغیر میں ہے : اگر تھوک کی قے کی تو یہ بالاجماع ناقضِ وضو نہیں ---- تھوک وہ ہے جو جماہوا اور بستہ نہ ہو ، اور بلغم وہ ہے جو جامد اور بندھا ہوا ہو ۔ (ت)

 (۱؎حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی )

ہاں یہ کلیہ ف۱ مذکورہ ضرور ثابت ف۲ ہے و لہذا ایسی اشیاء میں علماء برابر ان کی طہارت سے حدث نہ ہونے پر استدلال فرماتے ہیں ۔

ف۱: :مسئلہ یہ کلیہ ہے کہ جو رطوبت بدن سے بہے اگر نجس نہیں توناقض وضو بھی نہیں۔
ف۲:معروضۃ اخرٰی علی لعلامۃ

حلیہ میں ہے : ان کان ای القیئ بلغما لاینقض لانہ طاھر ذکرہ فی البدائع وغیرہ ۲؎ اھ ملتقطا اگر بلغم کی قے ہو تو ناقضِ وضو نہیں اس لئے کہ وہ پاک ہے ، اسے بدائع وغیرہ میں ذکر کیا ا ھ ملتقطا۔ (ت)

 ( ۲؎حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی )

اُسی میں ہے: ثم فی البدائع وذکر الشیخ ابو منصور ان جوابھما فی الصاعد من حواشی الحلق واطراف الرئۃ وانہ لیس بحدث بالاجماع لانہ طاھر فینظران لم یصعد من المعدۃ لایکون نجسا ولا یکون حدثا۳؎ ۔ پھر بدائع میں ہے اور شیخ ابو منصور نے ذکر کیا ہے کہ طرفین کا جواب حلق کے اطراف اور پھیپھڑے کے کناروں سے چڑھنے والے بلغم کے بارے میں ہے اور یہ کہ وہ بالاجماع حدث نہیں ، اس لئے کہ وہ پاک ہے، تو دیکھا جائیگا کہ اگر وہ معدہ سے نہیں اٹھا ہے تو نجس نہ ہوگا تو حدث بھی نہ ہو گا ۔ (ت)

 ( ۳؎حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی )

اور اس کے نظائر کلامِ علماء میں کثیر ہیں کلیہ کی صریح تصریح لیجئے ،

خزانۃ المفتین میں ہے : الخارج من البدن علی ضربین طاھر ونجس فبخروج الطاھر لاینتقض الطہارۃ کالدمع والعرق والبزاق والمخاط ولبن بنی اٰدم ۱؎ الخ

بدن سے نکلنے والی چیز دو قسم کی ہے: پاک اور ناپاک ، پاک کے نکلنے سے طہارت نہیں جاتی ۔جیسے آنسو ، پسینہ ، تھوک ، رینٹھ ،انسان کا دودھ الخ (ت)

 (۱؎خزا نۃ المفتین ،کتاب الطہارۃ فصل فی نواقض الوضوء ،قلمی۱ /۴)

الحمد للہ ف ۱ اس تقریر فقیر سے ایک تحقیق منیر ہاتھ آئی کہ قابل حفظ ہے۔

ف۱: :حدث ونجس کی نسبتوں میں مصنف کی تحقیق منیر ۔

فاقول: حدث ونجس کو اگر مطلق رکھیں تو اُن میں نسبت عموم وخصوص من وجہ ہے ، نوم حدث ہے اور نجس نہیں، خمر نجس ہے اور حدث نہیں، دم فصد حدث ونجس دونوں ہے اور خارج ازبدن مکلف کی قید لگائیں لامن بدن الانسان فینتقض طرد او عکسا بخارج الجن والصبی (خارج از بدن انسان نہ کہیں کہ جن اور بچہ سے خارج ہونے والی ہر چیز کی وجہ سے کلیہ نہ جامع رہ جائے نہ مانع ، یعنی یہ لازم آئے کہ خارج از جن کا یہ حکم نہیں اور خارج از طفل کا بھی یہ حکم ہے حالاں کہ حکم میں جن شامل ہے اور بچہ شامل نہیں۔ ت)اور اس کے ساتھ نجس سے نجس بالخروج لیں یعنی وہ چیز کہ بوجہ خروج اسے حکمِ نجاست دیا جائے اگرچہ اس سے پہلے اسے نجس نہ کہا جاتا (جیسے خون ف۲ وغیرہ فضلات کا یہی حال ہے،

ف۲ :خو ن پیشاب وغیرہ فضلات جب تک ہاہر نہ نکلیں ناپاک نہیں ۔

پیشاب اگر پیش از خروج ناپاک ہو تو اس کی حاجت میں نماز باطل ہو۔اور خون تو ہر وقت رگوں میں ساری ہے  پھر نماز کیونکر ہوسکے) تو ان دو قیدوں کے ساتھ حدث عام مطلقا ہے یعنی بدنِ مکلف سے باہر آنے والا نجس بالخروج حدث ہے اور ہر حدث نجس بالخروج نہیں جیسے ریح

فان عینھا طاھرۃ علی الصحیح  (اس لئے کہ خود ریح ، بر قولِ صحیح ، پاک ہے ۔ ت) قضیہ مذکورہ میں علمائے کرام نے یہی صورت مرادلی ہے ولہٰذا عکس کلی نہ مانا، اور اگر قیود مذکورہ کے ساتھ رطوبات کی تخصیص کرلیں تو نسبت تساوی ہے ہر رطوبت کہ بدن مکلف سے باہر آئے اگر نجس بالخروج ہے ضرور حدث ہے اور اگر حدث ہے ضرور نجس ہے تو یہاں ہر ایک کے انتفاء سے دوسرے کے انتفاء پر استدلال صحیح ہے، لہٰذا آبِ بینی کہ نجس نہیں ہرگز ناقضِ وضو نہیں ہوسکتا وباللّٰہ التوفیق اور نجس میں نجس بالخروج کی قید ہم نے اس لئے زائد کی کہ اگر یہ نہ ہو اور صرف خروج از بدن مکلف کی قید رکھیں تو اب بھی نسبت عموم من وجہ ہوگی کہ ریح حدث ہے اور نجس نہیں، اور معاذ اللہ (ف ۱) اگر کسی نے شراب پی اور وہ قے ہوئی مگر تھوڑی کہ منہ بھر کر نہ تھی تو نجس ہے اور حدث نہیں یعنی وضو نہ جائے گا کہ قلیل ہے لیکن یہ اُس کی نجاست اپنی ذات میں تھی خروج کے سبب عارض نہ ہوئی۔

ف۱ :مسئلہ شراب کی قے بھی اگر منہ بھر نہ ہو ناقض وضو نہیں۔

درمختار میں ہے: ماء فم المیت ف۲ نجس کقیئ عین خمر او بول وان لم ینقض لقلتہ لنجاسۃ بالاصالۃ لابالمجاورۃ ۱؎۔ دہنِ میّت کا پانی نجس ہے جیسے عین شراب یا پیشاب کی قے نجس ہے اگرچہ قلیل ہونے کی وجہ سے ناقض نہیں کہ اس کی نجاست اصالۃً ہے کسی نجاست سے اتصال کی وجہ سے نہیں ہے ۔ (ت)

ف۲ : :مسئلہ میت کے منہ سے جو پانی نکلتا ہے ناپاک ہے ۔

 ( ۱؎ الدرالمختار کتاب الطہارۃ مطبع مجتبائی دہلی۱ /۲۶)

اور اگر رطوبات کی بھی قید بڑھا لیں تو اب نجس عام مطلقاً ہو جائے گا کہ مسئلہ ریح داخل نہ رہے گا اور مسئلہ خمر باقی ہو گا اب کہ نجس بالخروج کی قید لگائی مسئلہ خمر بھی خارج ہو گیا اور تساوی رہی۔

فان قلت ترد حینئذ مسألۃ الخمر علی الکلیۃ الثانیۃ القائلۃ ان کل حدث نجس بالخروج فانہ ان قاء الخمر ملاء الفم کان حدثا قطعا ولم یکن نجسا بالخروج فانھا نجسۃ العین۔

اگر یہ کہو کہ اس صورت میں مسئلہ شراب سے کلیہ دوم ----- ہر حدث ، نجس بالخروج ہے ----- پر اعتراض وارد ہو گا اس لئے کہ اگر منہ بھر کر شراب کی قے کی تو وہ مطلقاً محدث ہے اور نجس بالخروج نہیں کیوں کہ شراب تو نجس العین ہے ۔

قلت۶۶ :لا ف۳غرو ان یکتسب النجس بنجاسۃ اخری من خارج کخمر وقعت فی بول حتی لو تخللت لم تطھر وان ابیت فلیکن النجس اعم مطلقا وانتفاء العام یوجب انتفاء الخاص فبطھارۃ المخاط یثبت انہ لیس بحدث وفیہ المقصود واللّٰہ تعالٰی اعلم۔

قلت (میں کہوں گا)اس میں کوئی عجب نہیں کہ ایک نجس چیز اپنے باہر سے کوئی اور نجاست حاصل کر لے جیسے شراب جو پیشاب میں پڑ گئی ہو ، کہ اگر وہ سرکہ ہو جائے تو بھی پاک نہ ہو گی -----اور اگر اسے نہ مانو تو نجس عام مطلق ہی رہے۔ اور عام کے انتفا سے خاص کا انتفا بھی ضروری ہے تو رینٹھ کے پاک ہونے سے یہ ثابت ہو جائے گا کہ وہ حدث نہیں ۔اور اسی میں مقصود ہے --- واللہ تعالٰی اعلم (ت)

ف ۳ : نجس چیز دوبارہ نجس ہوسکتی ہے ولہذا اگر شراب پیشاب میں پڑ جائے  پھر سرکہ ہو جائے پاک نہ ہو گی ۔

ثم اقول ف۱ حقیقتِ امر ف۲ یہ ہے کہ درد و مرض سے جو کچھ بہے اسے ناقض ماننا اس بناء پر ہے کہ اس میں آمیزشِ خون وغیرہ نجاسات کا ظن ہے خود محرر مذہب رضی اللہ تعالی عنہ کے کلام مبارک میں اس کی تصریح ہے اور وہی ان فروع کا ماخذ صریح ہے تو زکام اس کے تحت میں آ ہی نہیں سکتا ۔

ف۱ :معروضۃ ثالثۃ علی العلامۃ ط۔
ف۲مسئلہ تحقیق یہ ہے کہ دردو مرض سے جوکچھ بہے اس وقت ناقض ہے کہ اس میں آمیزش خون وغیرہ نجا سات کا احتمال ہو۔

منیہ میں ہے : عن محمد اذا کان فی عینہ رمد ویسیل الدموع منھا اٰمرہ بالوضوء لانی اخاف ان یکون ما یسیل عنہ صدید ۱؎۔ امام محمد سے منقول ہے کہ فرماتے ہیں : جب آنکھ میں آشوب ہو اور اس سے آنسو بہتاہو تو میں وضو کا حکم دوں گا اس لئے کہ مجھے اندیشہ ہے کہ اس سے بہنے والا آنسو صدید (زخم کا پانی ) ہو ۔ (ت)

 (۱؎منیۃ المصلی بیان نواقض وضو مکتبہ قادریہ لاہور ص۹۱)

حلیہ میں ہے: کذا ذکرہ بنحوہ عنہ ھشام ۲؎  (اسی کے ہم معنی امام محمد سے روایت کرتے ہوئے ہشام نے نوادر میں ذکر کیا ہے ۔ت)

 (۲؎ حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی)

غنیہ میں ہے: لافرق فی ذلک بین العین وغیرھا بل کل مایخرج من علۃ من ای موضع کان کالاذن والثدی والسرۃ ونحوھا فانہ ناقض علی الاصح لانہ صدید ۱؎۔ اس بارے میں آنکھ اور آنکھ کے علاوہ میں کوئی فرق نہیں بلکہ جو بھی کسی بیماری کی وجہ سے خارج ہو ، کان ، پستان ، ناف وغیرہ جس جگہ سے بھی ہو وہ اصح قول پر ناقض ہے اس لئے کہ وہ زخم کا پانی ہے۔ (ت)

 ( ۱؎ غنیۃ المستملی شرح منیۃ المصلی     فصل فی نواقض الوضوء سہیل اکیڈمی لاہور     ص۱۳۳)

اسی میں مثل فتح القدیر ف ۱ تجنیس امام برہان الدین صاحبِ ہدایہ سے ہے : لوخرج من سرتہ ماء اصفر وسال نقض لانہ دم قد نضج فاصفر وصار رقیقا ۲؎۔

اگر ناف سے زرد پانی نکل کر بہے تو وضو جاتا رہے گا اس لئے کہ وہ خون ہے جو پک کر زرد اور رقیق ہو گیا ۔ (ت)

 ( ۲؎ غنیۃ المستملی شرح منیۃ المصلی فصل فی نواقض الوضوء  سہیل اکیڈمی لاہور ص۱۳۳)

ف۱ :مسئلہ ناف سے زرد پانی بہہ کر نکلے وضو جاتا رہے۔

کافی میں ہے: عن ابی حنیفۃ رحمہ اللّٰہ تعالٰی اذاخرج ف۲ (ای من النفطۃ) ماء صاف لاینقض فی شرح الجامع الصغیر لقاضی خان قال الحسن بن زیاد الماء بمنزلۃ العرق والدمع فلا یکون نجسا وخروجہ لایوجب انتقاض الطھارۃ والصحیح ماقلنا لانہ دم رقیق لم یتم نضجہ فیصیر لونہ لون الماء واذا کان دما کان نجسا ناقضا للوضوء ۱؎۔ امام ابو حنیفہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے کہ اگر آبلہ سے صاف پانی نکلے تو وہ ناقض نہیں۔ اور قاضی خاں کی شرح جامع الصغیر میں ہے کہ حسن بن زیاد نے کہا : یہ پانی پسینہ اور آنسو کی طرح ہے تو وہ نجس نہ ہو گا اور اس کے نکلنے سے طہارت نہ جائے گی۔ اور صحیح وہ ہے جو ہم نے کہا اس لئے کہ وہ رقیق خون ہے جو پورا پکا نہیں تو وہ پانی کے رنگ کا ہو جاتا ہے اور جب وہ خون ہے تو نجس اور ناقضِ وضو ہو گا ۔ (ت)

 ( ۱؎ الکافی شرح الوافی)

ف۲ : مسئلہ دانے کا پانی اگر چہ صاف نتھرا ہو صحیح یہ ہے کہ وہ بھی ناپاک و ناقض وضو ہے ۔

بحر میں ہے : لوکان فی عینیہ رمد یسیل دمعہا یؤمربالوضوء لکل وقت لاحتمال ان یکون صدیدا۲؎ اگرآنکھوں میں آشوب ہو کہ برابر آنسو بہتا رہتا ہے تو ہر وقت کے لئے وضو کا حکم ہو گا اس لئے کہ ہوسکتا ہے وہ زخم کا پانی ہو ۔(ت)

 (۲؎البحرالرائق   کتاب الطہارۃ   ایچ ایم سعیدکمپنی کراچی   ۱ /۳۲)

تبیین الحقائق میں ہے: لو کان بعینیہ رمد او عمش یسیل منھما الدموع قالوا یؤمر بالوضوء لوقت کل صلٰوۃ لاحتمال ان یکون صدیدا او قیحا۔۳؎ اگر آنکھوں میں آشوب یا عمش (چندھا پن) ہو کہ آنسو بہتے رہتے ہوں تو علماء نے فرمایا ہے کہ ہر نماز کے وقت اسے وضو کا حکم ہو گا اس لئے کہ یہ احتمال ہے کہ وہ زخم کا پانی یا پیپ ہو ۔ (ت)

 (تبیین الحقائق     کتاب الطہارۃ       دارالمعرفۃ بیروت      ۱ /۴۹)

خلاصہ میں ہے: تذکر الاحتلام و رأی بللا ان کان ودیا لایجب الغسل بلا خلاف وان کان منیا او مذیا یجب الغسل بالاجماع ولسنا نوجب الغسل بالمذی لکن المنی یرق باطالۃ المدۃ فکان مرادہ مایکون صورتہ المذی لاحقیقۃ المذی وعلی ھذا ف الاعمی ومن بعینیہ رمد سال الدمع ینبغی ان یتوضأ لوقت کل صلاۃ لاحتمال خروج القیح والصدید ۱؎۔

احتلام یاد ہے اور تری دیکھی اگر ودی ہو تو بلا اختلاف غسل واجب نہیں اور اگر منی یا مذی ہو تو بالاجماع غسل واجب ہے اور ہم مذی سے غسل واجب نہیں کہتے لیکن منی دیر ہو جانے سے رقیق ہو جاتی ہے تو اس سے مراد وہ ہے جو مذی کی صورت میں ہو ، حقیقت مذی مراد نہیں اور اسی بنیاد پر نابینا اور آشوب چشم والے کی آنکھ سے جب آنسو بہتا ہو تو اسے ہر نماز کے وقت کے لئے وضو کرنا چاہئے اس لئے کہ پیپ اور زخم کا پانی نکلنے کا احتمال ہے ۔ (ت)

ف مسئلہ :اندھے کی آنکھ سے جو پانی بہے وہ ناپاک اور ناقض وضو ہے ۔

 (۱؎ خلاصۃ الفتاوٰی کتاب الطہارات  الفصل الثانی    مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ    ۱ /۱۳)

وجیز امام کردری میں ہے: احتلم ولم یربللا لاغسل علیہ اجماعا ولو منیا اومذیا لزم لان الغالب انہ منی رق بمضی الزمان وعن ھذا قالوا ان الاعمی اومن بہ رمد اذا سال الدمع یتوضؤ لوقت کل صلاۃ لاحتمال کونہ قیحا اوصدیدا ۲؎۔ خواب دیکھا اور تری نہ پائی تو اس پر بالاجماع غسل نہیں اور اگر منی یا مذی دیکھی تو لازم ہے، اس لئے کہ غالب گمان یہ ہے کہ وہ منی ہے جو وقت گزرنے سے رقیق ہو گئی ، اسی وجہ سے علماء نے فرمایا کہ  نابینا اور آشوب والے کا جب آنسو برابر بہے تو وہ ہر نماز کے وقت کے لئے وضو کرے اس لئے کہ یہ احتمال ہے کہ وہ آنسو در اصل پیپ یا زخم کا پانی (صدید) ہو ۔ (ت)

 (۲؎الفتاوی البزازیہ علی ھامش الفتاوی الہندیہ    کتاب الطہارۃ   الفصل الثانی نورانی کتب خانہ پشاور  ۴ /۱۰و۱۱)

بالجملہ مجرد رطوبت کہ مرض سے سائل ہو مطلقاً فی نفسہا ہرگز ناقض نہیں بلکہ احتمال خون و ریم کے سبب ولہٰذاامام ابن الہمام کی رائے اس طرف گئی کہ مسائل مذکورہ میں امام محمد کا حکم وضو استحبابی ہے اسلئے کہ خون وغیرہ ہونا محتمل ہے اور احتمال سے وضو نہیں جاتا مگر یہ کہ خبر اطباء یا علامات سے ظنِ غالب ہوکہ یہ خون یا ریم ہے تو ضرور وجوب ہوگا۔

فتح میں قبیل فصل فی النفاس فرمایا: فی عینہ رمد یسیل دمعھا یؤمر بالوضوء لکل وقت لاحتمال کونہ صدیدا واقول ھذا التعلیل یقتضی انہ امر استحباب فان الشک والاحتمال فی کونہ ناقضا لا یوجب الحکم بالنقض اذا لیقین لایزول بالشک واللّٰہ اعلم نعم اذا علم من طریق غلبۃ الظن باخبار الاطباء اوعلامات تغلب ظن المبتلی یجب ۱؎۔

ایسا آشوب چشم ہو کہ برابر آنسو بہتا رہتا ہو تو ہر وقت کے لئے وضو کا حکم ہو گا اس لئے کہ صدید(زخم کا پانی) ہونے کا احتمال ہے ، میں کہتا ہوں اس تعلیل کا تقاضا یہ ہے کہ یہ حکم استحبابی ہو اس لئے کہ اس کے ناقض ہونے میں شک و احتمال حکم نقض کا موجب نہیں اس لئے کہ یقین شک سے زائل نہیں ہوتا واللہ تعالٰی اعلم ہاں وجوب اس وقت ہو گا جب غلبہ ظن کے طور پر علم ہو جائے اطبا ء کے بتانے یا ایسی علامات کے ذریعہ جن سے مبتلا کو غلبہ ظن حاصل ہو ۔ (ت)

 (۱؎فتح القدیر کتاب الطہارات فصل فی الاستحاضۃ مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر۱ /۱۶۴)

اسی طرف ان کے تلمیذ ارشد امام ابن امیر الحاج نے میل کیا اور اس کی تائید میں فرمایا : یشھد لھذا مافی شرح الزاھدی عقب ھذہ المسئلۃ وعن ھشام فی جامعہ انکان قیحا فکالمستحاضۃ والافکا لصحیح ۲؎۔ اس پر شاہد وہ ہے جو شرح زاہدی میں ا س مسئلہ کے بعد ہے اور ہشام سے ان کی جامع میں روایت ہے کہ اگر پیپ ہو تو مستحاضہ کی طرح ورنہ تندرست کی طرح ہے ۔ (ت)

 (۲؎ حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی)

یونہی محققِ بحر نے بحر الرائق میں کلامِ فتح باب وضو میں بلا عزو ذکر کیا اور مقرر رکھا اور باب الحیض میں ھو حسن ۳؎ فرمایا اور  تحقیق ف  یہی  ہے کہ حکم  استحبابی  نہیں  بلکہ احتیا ط  ایجابی ہے ، مشائخ  مذہب سے تصریح ِ وجوب منقول ہے ۔

ف:مسئلہ تحقیق یہ ہے کہ درد یا علت سے جو رطوبت بہے اس میں صرف احتمال خون و ریم ہونا ہی وجوب وضو کو کافی ہے اگرچہ فتح وحلیہ میں استحباب مانا۔

(البحر الرائق کتاب الطہارۃ    باب الحیض    ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ /۲۱۶)

خود فتح القدیر فصل نواقض الوضوء میں فرمایا : ثم الجرح والنفطۃ وماء الثدی والسرۃ والاذن اذا کان لعلۃ سواء علی الاصح و علٰی ھذا قالوا من رمدت عینہ وسال الماء منھا وجب علیہ الوضوء فان استمر فلوقت کل صلاۃ وفی التجنیس الغرب فی العین اذا سال منہ ماء نقض لانہ کالجرح ولیس بدمع ۱؎ الخ۔

پھر زخم و آبلہ اور پستان ، ناف اور کا ن کا پانی جب کسی بیماری کی وجہ سے ہو تو بر قول اصح سب برابر ہیں ، اسی بنیاد پر علماء نے فرمایا : جسے آشوبِ چشم ہو اور آنکھ سے پانی بہے تو اس پر وضو واجب ہے اگر برابر بہے تو ہر نماز کے وقت کے لئے واجب ہے اور تجنیس میں ہے : آنکھ کی پھنسی سے جب پانی بہے تو وضو جاتا رہے گا اس لئے کہ وہ زخم کی طرح ہے آنسو نہیں ہے ۔ الخ(ت)

 (۱؎فتح القدیر    کتاب الطہارات     فصل فی نواقض الوضوء   مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر۱ /۳۴)

اور تقریر محقق علی الاطلاق ف۱ کا جواب ان عباراتِ جلیلہ سے واضح جو ابھی خلاصہ و بزازیہ سے منقول ہوئیں کہ جس طرح احتلام یاد ہو نے کی حالت میں صریح مذی کے دیکھنے سے بھی غسل بالاجماع واجب ہے حالانکہ مذی سے بالاجماع غسل واجب نہیں مگر احتیاطاً حکمِ وجوب ہوا ۔

ف۱ : تطفل ۴۶ علی الفتح ۔

خود محقق علی الاطلاق نے فتح القدیر میں نقل فرمایا: النوم مظنۃ الاحتلام فیحال بہ علیہ ثم یحتمل انہ کان منیا فرق بواسطۃ الھواء ۲؎۔ نیند گمان احتلام کی جگہ ہے تو اس تری کو اس کے حوالہ کیا جائے گا پھر یہ احتمال بھی ہے کہ وہ منی تھی جو ہوا کی وجہ سے رقیق ہو گئی۔(ت)

 (۲؎فتح القدیر کتاب الطہارات فصل فی الغسل مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر۱ /۵۴)

اسی طرح یہاں وجود مرض مظنہ خروج خون و ریم ہے تو امر عبادات میں احتیاطاً حکم وجوب ہوا ۔

منحۃ الخالق میں ہے : قولہ وھذا التعلیل یقتضی انہ امر استحباب الخ ردہ فی النھر بان الامر للو جوب حقیقۃ وھذا الاحتمال راجح وبان فی فتح القدیر صرح بالوجوب وکذا فی المجتبی قال یجب علیہ الوضوء والناس عنہ غافلون ۳؎ اھ مافی المنحۃ۔ قول محقق ''اس تعلیل کا تقاضا یہ ہے کہ یہ حکم استحبابی ہو '' اسے نہر میں یہ کہہ کر رد کر دیا ہے کہ امر حقیقۃً وجوب کے لئے ہے اور یہ احتمال راجح ہے اور یہ کہ خود فتح القدیر میں وجوب کی تصریح ہے اسی طرح مجتبٰی میں ہے کہ اس پر وضو واجب ہے اور لوگ اس سے غافل ہیں ۔ ا ھ منحہ کی عبارت ختم ہوئی۔ (ت)

 (۳؎منحۃ الخالق علی البحرالرائق  کتاب الطہارۃ  ایچ ایم سعید کمپنی کراچی۱ /۳۳۔۳۲)

اقول۷۱: والاولی ف۲ ان یقول ان الوجوب منصوص علیہ کما نقلہ فی فتح القدیر وذلک لما علمت ان المحقق انما نقلہ فی النواقض بلفظۃ قالوا وبحث بنفسہ فی الحیض ان لاوجوب مالم یغلب علی الظن بامارۃ او اخبار طبیب۔

اقول: اولٰی یہ کہنا ہے کہ وجوب پر نص موجود ہے جیسا کہ اسے فتح القدیر میں نقل کیا ہے اس لئے کہ ناظر کو معلوم ہے کہ حضرت محقق نے تصریح وجوب بلفظ قالوا ( مشائخ نے فرمایا ) نقل کی ہے اور باب حیض میں خود بحث کی ہے کہ جب تک کسی علامت یا طبیب کے بتانے سے غلبہ ظن نہ حاصل ہو ، وجوب نہیں ۔ (ت)

ف۲ : تطفل علی النہر۔

اخیر میں صاحبِ بحر نے بھی کلامِ فتح  پر استدراک فرما کر مان لیا کہ یہ حکم وجوب کے لئے ہے ۔  باب الحیض میں فرمایا : وھو حسن لکن صرح فی السراج الوھاج بانہ صاحب عذر فکان الامر للایجاب ۱؎۔ یہ بحث اچھی ہے لیکن سراج وہاج میں تصریح ہے کہ وہ صاحبِ عذر ہے تو امر برائے ایجاب ہے ۔ (ت)

 (۱؎البحرائق کتاب الطہارۃ   باب الحیض  ایچ ایم سعید کمپنی کراچی۱ /۲۱۶)

غرض فریقین تسلیم کئے ہوئے ہیں کہ مدار اس رطوبت کے خون و ریم ہونے پر ہے قول تحقیق میں احتیاطاً احتمال دم پر ایجاب کیا اور خیال محقق و تلمیذ محقق میں جب تک دم کا غلبہ ظن نہ ہو استحباب رہا ۔

ولہذا اشکِ رمد میں محقق ابن امیر الحاج نے بحثاً یہ قید بڑھائی کہ اس کا رنگ متغیر ہو جس سے احتمال خون ظاہر ہو ۔
حلیہ میں فرمایا : وعلی ھذا فما فیہ (ای فی المجتبی) ان من رمدت عینہ فسال منھا ماء بسبب رمد ینتقض وضوئہ انتھی ینبغی ان یحمل علی مااذا کان الماء الخارج من العین متغیر بسبب ذلک ۲؎ اھ مختصرا۔ اس بنیاد پر کلامِ مجتبیٰ ''جس کی آنکھ میں آشوب ہو اور اس کی وجہ سے آنکھ سے پانی بہے تو وضو جاتا رہے گا '' انتہی۔ اس صورت پر محمول ہونا چاہئے جب آنکھ سے نکلنے والا پانی اس کی وجہ سے بدلا ہوا ہو ۔ ا ھ مختصراً(ت)

 (۲؎حلیۃا لمحلی شرح منیۃ المصلی)

اقول۷۲: اور تحقیق ف وہی ہے کہ وجود مرض مظنہ دم ہے اس کے ساتھ شہادت صورت کی حاجت نہیں جس طرح مسئلہ مذی میں معلوم ہوا ۔

ف: تطفل علی الحلیۃ

ولہذا امام برہان الدین صاحبِ ہدایہ نے کتاب التجنیس والمزید میں ناف سے جو پانی نکلے اس کے زرد رنگ ہونے کی شرط لگائی کہ احتمال دمویت ظاہر ہو کما قدمنا نقلہ ( جیسا کہ ہم اس کی عبارت پہلے نقل کر چکے۔ ت)
اقول ۷۳: اور یہ منافی تحقیق نہیں کہ امام ممدوح کا یہاں کلام صورت وجودِ مرض میں نہیں اور بلا مرض بلاشبہ حکمِ دمویت کے لئے شہادت صورت کی حاجت۔
ولہٰذا امام حسن بن زیادف نے فرمایا اور وہ ایک روایت نادرہ ہمارے امام اعظم رضی اللہ تعالٰی عنہ سے بھی ہے اور جوہرہ و ینا بیع وغیرہما بعض کتب میں اُس پر جزم کیا اور امام حلوانی نے خارش اور آبلے والوں کیلئے اُسی میں وسعت بتائی کہ دانوں سے جو صاف نتھرا پانی نکلے نہ ناپاک ہے نہ ناقضِ وضو کہ رنگت کی صفائی احتمالِ خون و ریم کو ضعیف کرتی ہے۔

ف:مسئلہ دانے سے جو صاف ستھرا پانی نکلے متعدد روایات میں پاک ہے اور اُس سے وضو نہیں جاتا۔کھجلی والوں کو اس میں بہت وسعت ہے بحال ضرورت اس پر عمل کرسکتے ہیں اگر چہ قول صحیح اس کے خلاف ہے۔

کما تقدم نقلہ وذکر الطحطاوی نفسہ فی حاشیتہ علی مراقی الفلاح مانصہ عن الحسن ان ماء النفطۃ لاینقض قال الحلوانی وفیہ وسعۃ لمن بہ جرب اوجدری اومجل وفی الجوھرۃ عن الینا بیع الماء الصافی اذا خرج من النفطۃ لاینقض (الی قولہ) قال العارف باللّٰہ سیدی عبدالغنی النابلسی وینبغی ان یحکم بروایۃ عدم النقض بالصافی الذی یخرج من النفطۃ فی کی الحمصۃ وان ما یخرج منھا لاینقض اذاکان ماء صافیا ۱؎۔

جیسا کہ اس کی نقل گزر چکی اور خود سید طحطاوی نے اپنے حاشیہ مراقی الفلاح میں یہ لکھا ہے : حسن بن زیاد سے روایت ہے کہ آبلہ کا پانی ناقضِ وضو نہیں ، امام حلوانی نے فرمایا : خارش ، چیچک اور آبلے والوں کے لئے اس میں وسعت ہے اور جوہرہ میں ینابیع سے نقل ہے کہ جب آبلے سے صاف پانی نکلے تو ناقض نہیں ( الی قولہ) عارف باللہ سیّدی عبدالغنی نابلسی نے فرمایا : کیّ الحمصہ میں آبلے سے نکلنے والے صاف پانی کی وجہ سے عدمِ نقض کی روایت پر حکم ہونا چاہئے اور یہ کہ اس سے جو نکلتا ہے وہ ناقض نہیں جب کہ صاف پانی ہو۔(ت)

 ( ۱؎ حاشیۃ الطحطاوی علٰی مراقی الفلاح فصل فی نواقض الوضوء دار الکتب العلمیۃ بیروت ص۸۷ و ۸۸)

جوہرہ نیرہ کی عبارت یہ ہے: العرق المدمی ف۱ اذا خرج من البدن لاینقض لانہ خیط لامائع واما الذی ف۲یسیل منہ ان کان صافیا لاینقض قال فی الینابیع الماء الصافی الخ ۲؎ عرق مدمی (ناروکا ڈورا) بدن سے نکلے تو وضو نہ جائے گا اس لئے کہ وہ کوئی سیال چیز نہیں بلکہ ایک دھاگا ہے اور بدن سے جو بہتا ہو اگر صاف ہے تو ناقض نہیں ۔ ینابیع میں کہا : صاف پانی الخ۔ (ت)

 (۲؎ الجوہرۃ النیرہ     کتاب الطہارۃ     مکتبہ امدادیہ ملتان         ۱ /۸)

ف۱:مسئلہ بدن سے ناروکا ڈورا نکلنے سے وضو نہ جائے گا۔
ف۲:مسئلہ نارو سے رطوبت بہے تو وضو جاتارہے اگرچہ صاف سفید پانی ہو۔

یہاں بھی اگرچہ صحیح وہی ہے کہ صاف پانی بھی ناقض مگر نہ اس لئے کہ مطلقًا جو رطوبت مرض سے نکلے ناقض ہے بلکہ اُسی وجہ سے کہ دانوں آبلوں کے پانی میں ظن راجح یہی ہے کہ خون و ریم رقیق ہوکر پانی ہوگئے کما اسلفنا عن الامام فقیہ النفس قاضی خاں (جیسا کہ  امام فقیہ النفس قاضی خان سے نقل گزری ۔ ت)

بالجملہ اُن کے کلمات قاطبۃً ناطق ہیں کہ حکمِ نقض احتمال وظنِ خون وریم کے ساتھ دائر ہے نہ کہ زکام سے ناک بہی اور وضو گیا بحران ف۳ میں پسینہ آیا اور وضو گیا پستان کی قوت ماسکہ ضعیف ہونے سے دودھ بہا اور وضو گیا ہرگز نہ اسکا کوئی قائل نہ قواعد مذہب اس پر مائل۔

ف۳:مسئلہ بحران کے پسینہ سے وضو نہیں جاتا۔

اقول: ۷۴: ان تمام ف۴دلائل قاہرہ و حل بازغ کے بعد اگر کچھ بھی نہ ہوتا تو یہ استظہار آپ ہی واجب الردتھا

ف۴:معروضۃ۴۹ رابعۃ علی العلامۃ ط۔

زکام ایک عام چیز ہے غالباً جیسے دنیا بنی کوئی فرد بشر جس نے چند سال عمر پائی ہو اُسے کبھی نہ کبھی اگرچہ جاڑوں ہی کی فصل میں زکام ضرور ہوا ہوگا یقین عادی کی رُو سے کہا جاتا ہے کہ صحابہ کرام وتابعین اعلام وائمہ عظام رضی اللہ تعالٰی عنہم کو خود بھی عارض ہوا ہو ایسی عموم بلوی کی چیز میں اگر نقض وضو کا حکم ہوتا تو ایک جہان اُس سے مطلع ہوتا مشہور ومستفیض حدیثوں میں اس کی تصریح آئی ہوتی، کتب ظاہر الروایۃ سے لے کر متون وشروح وفتاوٰی سب اُس کے حکم سے مملو ہوتے نہ کہ بارہ سو برس کے بعد ایک مصری فاضل سید علامہ طحطاوی بعض عبارات سے اُسے بطور احتمال نکالیں اور خود بھی اُس کے اصل موضع بیان یعنی نواقض وضو کے ذکر تک اُس کی طرف اُن کا ذہن نہ جائے حالانکہ آبِ رمد وغیرہ کا مسئلہ درمختار میں وہاں بھی مذکور تھا، باب الحیض میں جاکر خیال تازہ پیدا ہو ایسا خیال زنہار قابل قبول نہیں ہوسکتا تمام اصول حدیث واصول فقہ اس پر شاہد ہیں ہاں جسے رُعاف ف یعنی ناک سے خون جانے کا مرض ہے اور اسی حالت میں اُسے زکام ہوا اور خون نکلنے کے غیر اوقات میں جو ریزش زکام کی آتی ہے سرخی لیے متغیر اللون آتی ہے جس سے آمیزش خون مظنون ہے تو اس صورت میں نقضِ وضو کا حکم ظاہر ہے۔

ف:مسئلہ جسے ناک سے خون جاتاہو اسی حالت میں اُسے زکام ہو اور ریزش سرخی لئے نکلے اگرچہ اس وقت خون بہنا معلوم نہ ہو اس کی یہ ریزش بھی ناقض وضو ہے۔

وانما شرطنا ھھنا تغیر اللون المذکور لان العلۃ وان کانت موجودۃ فالمخاط لایحدث منھا اعنی من الرعاف فاذا کان صافیا کان من محض الزکام ، واذا تغیر استند تغیرہ الی الرعاف بناء علی الظاھر وان امکن استنادہ الی اسباب اخر، ھذا ماعندی وارجو ان یکون صوابا ان شاء اللّٰہ تعالٰی ورأیتنی کتبت علی ھامش نسختی الغنیۃ عند قولہ ناقض علی الاصح لانہ صدید مانصہ۔

یہاں ہم نے رنگ مذکور کے بدل جانے کی شرط رکھی اس لیے کہ بیماری اگرچہ موجود ہے مگر اس سے یعنی نکسیر سے رینٹھ نہیں آتی تو اگر وہ صاف ہے تو خالص زکام سے ہے اور رنگ بدلا ہوا ہے تو ظاہر پر بنا کرتے ہوئے اس کے تغیر کی نسبت نکسیر کی جانب ہو گی، اگرچہ دوسرے اسباب کی جانب بھی استناد ممکن ہے،یہ وہ ہے جو میرے نزدیک ہے اور امید رکھتا ہوں کہ درست ہوگا اگر اللہ نے چاہا۔ اور میں نے دیکھا کہ اپنے نسخہ غنیہ کے حاشیہ پر اس کی عبارت ''ناقض علی الاصح لانہ صدید''  (برقول اصح وہ ناقض ہے اس لئے کہ وہ زخم کا پانی ہے ) کے تحت میں نے یہ لکھا ہے : 

قلت تعلیلہ النقض بانہ صدید یبعد استظہار الطحطاوی النقض بالزکام لکونہ ماء سال من علۃ وتعقبہ الشامی بما صرحوا بان ماء فم النائم طاھر وان کان منتنا۔

قلت صدید (زخم کا پانی) ہونے سے نقض کی تعلیل علامہ طحطاوی کے اس استظہار کو بعید قرار دیتی ہے جو زکام کے ناقض وضو ہونے سے متعلق انہوں نے لکھا ہے اس لئے کہ وہ ایک بیماری سے بہنے والا پانی ہے اور علامہ شامی نے اس پر علماء کی اس تصریح سے تعاقب کیا ہے کہ سونے والے کے منہ کا پانی پاک ہے اگرچہ بدبو دار ہو ۔

اقول: لکن فیہ ان النوم یرخی والمکث ینتن فلم یلزم کونہ من علۃ وانما الناقض مامنھا فافھم ۔ اقول :لیکن اس پر یہ کلام ہے کہ نیند کی وجہ سے اعضاء ڈھیلے ہو جاتے ہیں (اس لئے منہ کا پانی باہر آ جاتا ہے) اور دیر گزرنے سے بدبو پیدا ہو جاتی ہے تو یہ لازم نہ آیا کہ وہ پانی کسی بیماری کی وجہ سے نکلا ہے اور ناقض وہی ہے جو کسی بیماری سے ہو---- تو اسے سمجھو ۔

لکنی اقول الزکام امر عام ولعلہ لم یکن انسان الاابتلی بہ فی عمرہ مرارا ومتیقن انہ وقع فی کل قرن وکل طبقۃ بل کل عام وفی عھد الرسالۃ و زمن الصحابۃ وایام الائمۃ بل لعلھم زکموا بانفسھم ایضا فلوکان ناقضا لوجب ان یشتھر حکمہ ویملأ الاسماع ویعم البقاع، ویتدفق منہ بحار الاسفار قدیما وحدیثا لاان لایذکر فی شیئ من الکتب ویبقی موقوفا الی ان یستخرجہ العلامۃ الطحطاوی علی وجہ الاستظہار فی القرن الثالث عشر،و قد علمت ف۱ان ماکان ھذا شانہ لایقبل فیہ حدیث روی اٰحادا لان الاٰحادیۃ مع توفر الدواعی امارۃ الغلط ۔

لکنی اقول (لیکن میں کہتا ہوں) زکام ایک عام سی چیز ہے،شاید کوئی انسان ایسا نہ گزرا ہو جسے اپنی عمر میں چند بار زکام نہ ہوا ہو اور یقین ہے کہ ہر قرن ہر طبقہ بلکہ ہر سال واقع ہوا ہے اور عہدِ رسالت، زمانہ صحابہ اور دورِ ائمہ میں بھی ہوا ہے بلکہ خود ان حضرات کو بھی زکام ہوا ہو گا،اگر یہ ناقضِ وضو ہوتا تو ضروری تھا کہ اس کا حکم مشہور ہو ، لوگوں کے کان اس سے خوب خوب آشنا ہوں کہ سارے علاقوں میں پھیل جائے اور فقہ و حدیث کی قدیم و جدید کتابیں اس کے ذکر سے لبریز ہوں----نہ یہ کہ کسی کتاب میں اس کا کوئی ذکر نہ ہو اور تمام سابقہ صدیاں یوں ہی گزر جائیں یہاں تک کہ تیرھویں صدی میں علامہ طحطاوی بطورِ استظہار اس کا استخراج کریں،جب کہ معلوم ہے کہ جو ایسا عام معاملہ ہو اس میں بطریق آحاد روایت کی جانے والی حدیث بھی قبول نہیں کی جاتی اس لئے کہ کثرتِ اسباب و دواعی کے باوجود آحاد سے مروی ہونا غلطی کی علامت ہے ۔

ف۱: لایقبل حدیث الاٰ حاد فی موضع عموم البلوٰی فکیف برأی عالم متأخر۔

والذی۷۵ یظنہ ف ۲ العبد الضعیف ان ماکان خروجہ معتادا ولا ینقض لاینقض ایضا اذا فحش وان عد حینئذ علۃ فیما یعد الاتری ان العرق لاینقض فاذا فحش جداکما فی بحران المحموم اوبعض الامراض لم ینقض ایضا وکذلک الدمع واللبن والریق فکذا المخاط ومن ادل دلیل علیہ ما اجمعوا علیہ ان من قاء بلغما فان نازلا لاینقض وان ملأ الفم ومعلوم انہ لا اختلاف فی البلغم وماء الزکام فی الحقیقۃ وما یملؤ الفم کثیر فوجب عدم النقض بالزکام ھذا ماظھرلی واللّٰہ تعالٰی اعلم ۱؎اھ ماکتبت علیہ ونقلتہ کما اشتمل علی بعض فوائد واللّٰہ سبحانہ ولی التوفیق وبہ الوصول الی ذری التحقیق والحمد للّٰہ علی ماعلم وصلی اللّٰہ تعالٰی علی سیدنا واٰلہ وسلم سبحنہ وتعالٰی اعلم ۔

اور بندہ ضعیف کا خیال یہ ہے کہ جو چیز عادۃً نکلتی ہے اور ناقض نہیں ہوتی وہ بہت زیادہ نکلے تو بھی ناقض نہ ہو گی اگرچہ ایسی صورت میں اسے کسی بیماری کے دائرے میں شمار کیا جائے ۔ دیکھئے پسینہ ناقضِ وضو نہیں اگر یہ بہت زیادہ آئے جیسے بخار کے بحران یا بعض امراض میں ہوتا ہے تو بھی ناقض نہیں۔ اسی طرح آنسو ، دودھ ، تھوک ، اور اس کی سب سے بڑی دلیل یہ ہے جس پر اجماع ہے کہ بلغم اگر سر سے آنے والا ہے تو اس کی قے منہ بھر کر ہو جب بھی ناقض وضو نہیں ۔اور معلوم ہے کہ در حقیقت بلغم اور آب زکام میں کوئی اختلاف نہیں اور اتنی مقدار جس سے منہ بھر جائے ، کثیر ہے، تو ضروری ہے کہ زکام سے بھی وضو نہ جائے ۔یہ وہ ہے جو مجھ پر ظاہر ہوا ، واللہ تعالٰی اعلم ۔ میرا حاشیہ ختم ہوا ----- اسے اس وجہ سے میں نے نقل کر دیا کہ بعض فوائد پر مشتمل ہے------ اور خدائے پاک ہی مالکِ توفیق ہے اور اسی کی مدد سے تحقیق کی بلندی تک رسائی ہے اور خدا ہی کا شکر ہے اس پر جو اس نے تعلیم فرمایا -----اور ہمارے آقا اور ان کی آل پر خدائے برتر کا درود و سلام ہو۔واللہ سبحٰنہ و تعالٰی اعلم۔

ف۲:مسئلہ مصنف کی تحقیق کہ جو چیز عادۃً بدن سے بہا کرتی ہو اور اس سے وضو نہ جاتاہو جیسے آنسو ،پسینہ ،
ودھ،بلغم،ناک کی ریزش وہ اگرچہ کتنی ہی کثرت سے نکلے ناقض وضو نہیں اگرچہ اس کی کثرت بجائے خود ایک مرض گنی جاتی ہو۔

 (۱؎ حواشی امام احمد رضا علٰی غنیۃ المستملی قلمی ص ۱۴۰و۱۴۱)

فتاوی رضویہ ،ج۱ ،ص۶۶،سافٹ ویر 
فتوی یہاں ختم ہوا 
آن لاءن فتوی 
مفتی امام احمد رضا خان بریلوی  ،

۶۶

No comments:

Post a Comment

Join us on

Must click on Like Button

Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...