Saturday, December 5, 2015

فتوی:کس طرح سونے سے وضو ٹوٹتا ہے اور کس طرح نہیں۔۔؟؟ جواب از :امام احمد رضا خان بریلوی

رسالہ

نبہ القوم ان الوضوء من ایّ نوم(۱۳۲۵)

(قوم کو تنبیہ کہ کس نیند سے وضوء فرض ہوتا ہے )

بسم اللّٰہ الرحمن الرحیم

مسئلہ۱۱:        ۱۴ محرم الحرام ۱۳۲۵ھ :کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ کس طرح کے سونے سے وضو جاتا ہے اس میں قول مننقح کیا ہے؟ بینوا توجروا (بیان فرمائیے اجر پائیے ۔ت)


الجواب

بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم ط
الحمدللّٰہ الذی لاتأخذہ سنۃ ولا نوم وافضل الصلاۃ والسلام بعدد اٰنات کل یوم علٰی من لاینام قلبہ فما کان وضوؤہ لینتقض بالنوم وعلی اٰلہ وصحبہ الذین نبھوا فنبّھوا من نوم الغفلۃ غفلۃ القوم۔

تمام تعریفیں اللہ تعالی کے لئے ہیں جس پر نیند طاری نہیں ہوتی اور افضل درود و سلام ہر روز آنات کی تعداد کے مطابق اس ذات پر جس کا دل نہیں سوتا اور جس کا وضو نیند سے نہیں ٹوٹتا اور آپ کی آل پر اور آپ کے صحابہ پر جو بیدار ہوئے اور قوم کو خوابِ غفلت سے بیدار کیا ۔ (ت)

امام المدققین سیدی علاء الدین دمشقی حصکفی وعلامہ جلیل ابو الاخلاص حسن شرنبلالی ومحقق بالغ النظر سیدی ابرہیم حلبی ودیگر اکابر اعلام رحمۃ اللہ تعالٰی علیہم نے درمختار ونور الایضاح وغنیہ وصغیری وغیرہا میں بعد احاطہ اقوال جو اس باب میں قول منقح فہیم مستفید من القی السمع وھو شہید کیلئے افادہ فرمایا اس کا حاصل وعطر محاصل یہ ہے کہ 

 نیندفــــ۱ دو شرطوں سے ناقضِ وضو ہوتی ہے:


فـــ۱:نیند دو شرطوں سے ناقضِ وضو ہوتی ہے ان میں سے ایک بھی کم ہو تو وضو نہ جائے گا

اول یہ کہ دونوں سرین اس وقت خوب جمے نہ ہوں۔  دوسرے یہ کہ ایسی ہیأت پر سویا ہو جو غافل ہوکر نیند آنے کو مانع نہ ہو۔ جب یہ دونوں شرطیں جمع ہوں گی تو سونے سے وضو جائیگا اور ایک بھی کم ہے تو نہیں، مثلاً:
(۱)فـــ۲ دونوں سرین زمین پر ہیں اور دونوں پاؤں ایک طرف پھیلے ہوئے کرسی کی نشست اور ریل کی تپائی بھی اس میں داخل ہے۔

فـــ۲:مسئلہ سونے کی دس صورتیں جن سے وضونہیں جاتا۔

اقول:  مگر فـــ۳ یورپین ساخت کی کرسی جس کے وسط میں ایک بڑا سوراخ اسی مہمل غرض سے رکھا جاتا ہے اس سے مستثنٰی ہے اس کی نشست مانع حدث نہیں ہوسکتی۔

فـــ۳مسئلہ: کرسی مونڈھے پرپاؤں لٹکائے بیٹھا تھا ، سوگیا، وضونہ گیا۔ مگر یورپین ساخت کی کرسی جس کی وسط نشست گاہ میں ایک بڑا سوراخ رکھتے ہیں اس پر سونے سے جاتارہے گا

 (۲) دونوں سرین پر بیٹھا ہے اور گھٹنے کھڑے ہیں اور ہاتھ ساقوں پر محیط ہیں جسے عربی میں احتبا کہتے ہیں خواہ ہاتھ زمین وغیرہ پر ہوں اگرچہ سر گھٹنوں پر رکھا ہو۔
(۳) دو زانو سیدھا بیٹھا ہو۔   
(۴) چار زانو پالتی مارے ۔
یہ صورتیں خواہ زمین پر ہوں یا تخت یا چارپائی پر یا کشتی یا شقدف یا شبری یا گاڑی کے کھٹولے میں۔
(۵) گھوڑے فــ۱ یا خچر وغیرہ پر زین رکھ کر سوار ہے۔

فــ۱:مسئلہ گھوڑے پر زین ہے اس کی سواری میں سوگیا وضونہ جائے گا اگر چہ ڈھال میں اترتا ہو ۔

 (۶ و ۷) ننگی پیٹھ پر فــ۲سوار ہے مگر جانور چڑھائی پر چڑھ رہا یا راستہ ہموار ہے۔ ظاہر ہے کہ ان سب صورتوں میں دونوں سرین جمے رہیں گے لہٰذا وضو نہ جائیگا اگرچہ کتنا ہی غافل ہوجائے اگرچہ سر بھی قدرے جھک گیا ہو نہ اتنا کہ سرین نہ جمے رہیں اگرچہ فــ۳ دیوار وغیرہ کسی چیز پر ایسا تکیہ لگائے ہو کہ وہ شے ہٹالی جائے تو یہ گرپڑے یہی ہمارے امام رضی اللہ تعالٰی عنہ کا اصل مذہب وظاہر الروایۃ ومفتی بہ وصحیح ومعتمد ہے اگرچہ ہدایہ وشرح وقایہ میں حالت تکیہ کو ناقض وضو لکھا۔
(۸) کھڑے کھڑے سوگیا فــ۴۔
(۹) رکوع کی صورت پر۔

فــ۲:مسئلہ ننگی پیٹھ پر سوار ہے او رسوگیا تواگر راستہ ہموار یاچڑھائی ہے وضونہ جائے گا اُتارہے تو جاتا رہے گا
فـــ۳:مسئلہ اگر دیوار وغیرہ سے تکیہ لگائے ہے اور اتنا غافل سوگیا کہ وہ شے ہٹالی جائے تو گر پڑیگا فتوی اس پر ہے کہ یوں بھی وضو نہ جائے گا جب کہ دونوں سرین خوب جمے ہوں۔
فــ۴:مسئلہ قیام قعود رکوع سجود نماز کی کیسی ہی حالت پر سوجائے اگر چہ غیر نمازمیں اس ہیات پر ہو وضونہ جائے گا مگر قعود میں وہی شرط ہے کہ دونوں سر ین جمے ہوں اور سجود کی شکل وہ ہو جو مردوں کے لئے سنت ہے کہ بازو پہلوؤں سے جداہوں اور پیٹ رانوں سے الگ ۔

(۱۰) سجدہ مسنونہ مرداں کی شکل پر کہ پیٹ رانوں اور رانیں ساقوں اور کلائیاں زمین سے جدا ہوں اگرچہ یہ قیام وہیأت رکوع وسجود غیر نماز میں ہو اگرچہ سجدہ کی اصلاًنیت بھی نہ ہو ظاہر ہے کہ یہ تینوں صورتیں غافل ہوکر سونے کی مانع ہیں تو ان میں بھی وضو نہ جائے گا۔
(۱۱) اکڑوں بیٹھے سویا فــ۵ ۔

فــ۵:مسئلہ: سونے کی دس صورتیں ہیں جن سے وضو جاتارہتا ہے

 (۱۲، ۱۳، ۱۴) چت یا پٹ یا کروٹ پر لیٹ کر۔
(۱۵) ایک کہنی پر تکیہ لگا کر۔
(۱۶) بیٹھ کر سویا مگر ایک کروٹ کو جھکا ہوا کہ ایک یا دونوں سرین اُٹھے ہوئے ہیں۔
(۱۷) ننگی پیٹھ پر سوار ہے اور جانور ڈھال میں اتر رہا ہے۔
اقول:  فقیرفــ۱ گمان کرتا ہے کہ کاٹھی بھی ننگی پیٹھ کے مثل ہے اور وہ یورپین وضع کی کاٹھیاں جن کے وسط میں اسی لئے خلا رکھتے ہیں مانع حدث نہیں ہوسکتیں اگرچہ راہ ہموار ہو، واللہ تعالٰی اعلم۔

فـــ۱:مسئلہ ظاہراکاٹھی کاحکم بھی ننگی پیٹھ کی طرح ہے اوریورپین ساخت کی کاٹھی جس کے بیچ میں سوراخ ہوتاہے اس پر سونے سے مطلقاوضوجاتارہے گا۔

 (۱۸) دوزانو بیٹھا اور پیٹ رانوں پر رکھا ہے کہ دونوں سرین جمے نہ رہے ہوں۔
(۱۹) اسی طرح اگر چار زانو ہے اور سر رانوں یا ساقوں پر ہے۔
(۲۰) سجدہ غیرفــ۲ مسنونہ کی طور پر جس طرح عورتیں گٹھری بن کر سجدہ کرتی ہیں اگرچہ خود نماز یا اور کسی سجدہ مشروعہ یعنی سجدہ تلاوت یا سجدہ شکر میں ہو ان دس صورتوں میں دونوں شرطیں جمع ہونے کے سبب وضو جاتا رہے گا اور جب اصل مناط بتا دیا گیا تو زیادہ تفصیل صور کی حاجت نہیں ان دونوں شرطوں کو غور کرلیں جہاں مجتمع ہیں وضو نہ عــــہ رہے گا ورنہ ہے البتہ فتاوی امام قاضی خان میں فرمایا کہ تنورفــ۳کے کنارے اُس میں پاؤں لٹکائے بیٹھ کر سونے سے بھی وضو جاتا رہتا ہے کہ اُس کی گرمی سے مفاصل ڈھیلے ہوجاتے ہیں۔ ۱؎

 (۱؎ فتاوٰی قاضی خان    کتاب الطہارۃ، فصل فی النوم     نولکشور لکھنؤ        ۱ /۲۰)

فــ۲مسئلہ: خاص نماز کے سجدے میں بھی اگر اس پر سویا کہ کلائیاں زمین پر بچھی ہیں پیٹ رانوں سے لگائے پنڈلیاں زمین سے ملی ہیں جیسے عورتوں کا سجدہ ہوتا ہے تو وضو جاتارہے گا اسے یوں بھی تعبیر کرسکتے ہیں کہ عورت سجدے میں سوئے وضوساقط اور مرد سوئے توباقی۔
فــ۳:مسئلہ: گر م تنور کے کنارے اس میں پاؤں لٹکائے بیٹھ کر سوگیا تو مناسب ہے کہ وضو کرلے۔
عــہ: یہ بیس صورتیں کلمات علماء میں منصوص ہیں جو باقی صورت اور کوئی پائی جائے اُس کیلئے ضابطہ بتایا گیا ہے اگر اُس کا حکم کتابوں سے نہ ملے تو اس ضابطہ سے نکال لیں یا اختلاف پائیں تو جو قول اس ضابطہ کے مطابق ہو اُس پر عمل کریں کما سیاتی التصریح بہ عن الغنیۃ ان شاء اللّٰہ تعالٰی (جیسا کہ اس کی تصریح بحوالہ غنیہ آگے آرہی ہے)۱۲ منہ (م)

اقول:  مگر یہ اُس ضابطہ منقحہ کے خلاف ہے کہ سرین دونوں جمے ہیں لیکن یہ صورت بہت نادرہ ہے، تو احتیاطاً عمل کرلینے میں حرج نہیں، واللہ تعالٰی اعلم۔ اور صورت بستم میں اگرچہ خاص دربارہ سجدہ نماز یا سجدہ مشروعہ مطلقا نزاع طویل وہجوم اقاویل ہے مگر تحقیق احق فــ۱ یہی ہے کہ جملہ صور مذکورہ بستگانہ میں نماز وغیر نماز سب کا حکم یکساں ہے ،نماز میں بھی سونے سے وضو نہ جانے کیلئے دونوں سرین کا جما ہونا یا ہیأت کا مانع استغراقِ نوم ہونا ضرور ہے، ولہٰذا یہی اکابر تصریح فرماتے ہیں کہ اگر نماز میں لیٹ کر سویا وضو نہ رہے گا عام ازینکہ چت ہو یا پٹ یا کروٹ پر یا ایک کہنی پر تکیہ دیے، عام ازیں کہ قصداً لیٹا ہو یا سوتے میں لیٹ گیا اور فوراً فوراً جاگ نہ اُٹھا فــ۲حتی کہ اگر کوئی شخص بیماری کے سبب بیٹھ کر نماز نہ پڑھ سکتا ہو اُسے بھی اگر لیٹے لیٹے پڑھنے میں نیند آگئی وضو جاتا رہے گا۔ غرض پہلی دس فــ۳صورتیں جن میں وضو نہیں جاتا اگر نماز میں واقع ہوں جب بھی نہ جائے گا نہ نماز فاسد ہو اگرچہ قصداً سوئے، ہاں جو رکن بالکل سوتے میں ادا کیا اس کا اعتبار نہ ہوگا اُس کا اعادہ ضرور ہے اگرچہ بلا قصد سوجائے، اور جو جاگتے میں شروع کیا اور اُس رکن میں نیند آگئی اس کا جاگتے کا حصہ معتبر رہے گا، اور پچھلی دس صورتیں جن میں وضو جاتا رہتا ہے اگر نماز میں واقع ہوں جب بھی جاتا رہے گا ،پھر اگر ان صورتوں پر قصداً سویا تو نماز بھی گئی وضو کرکے سرے سے نیت باندھے اور بلاقصد سویا تو وضو نہ گیا نماز باقی ہے ،بعد وضو پھر اسی جگہ سے پڑھ سکتا ہے جہاں نیند آگئی تھی، پھر سب صورتوں میں سونے کی تخصیص اس لئے ہے کہ اونگھ ناقضِ فــ۴ وضو نہیں جبکہ ایسا ہوشیار رہے کہ پاس کے لوگ جو باتیں کرتے ہوں اکثر پر مطلع ہو اگرچہ بعض سے غفلت بھی ہوجاتی ہو، یونہی اگر بیٹھے

فــ۶بیٹھے جھوم رہا ہے وضو نہ جائے گا
فــ۱:مسئلہ تحقیق یہ ہے کہ نیند کی تمام صورتوں میں نماز وغیرنماز سب کا حکم یکساں ہے ۔
فــ۲:مسئلہ بیمار لیٹ کر نماز پڑھتا تھا نیند آگئی وضو نہ رہا۔
فــ۳:مسئلہ: نماز میں سونے کا کلیہ یہ ہے کہ اگر ان دس صورتوں پر سویا جن میں وضو نہیں جاتا تو نہ وضو جائے نہ نماز فاسد ہو ،ہاں جو رکن بالکل سوتے میں ادا کیا اس کا اعتبار نہ ہوگا اس کا اعادہ ضرور ہے، اور جوجاگتے میں شروع کیا اور اس رکن میں نیند آگئی اس کا جاگتے کا حصہ معتبر رہے گا اگر وہ بقدر ادا ئے رکن تھا کافی ہے ، ان احکام میں قصد اسونا اور بلا قصد سوجانا سب برابر ہے ، اور اگران دس صورت پر سویا جن میں وضو جاتا رہتا ہے تو وضو تو گیا ہی پھر اگر قصداً سویا تو نماز بھی فاسد ہوگئی ورنہ وضو کر کے جہاں سویا وہاں سے باقی نماز ادا کر سکتا ہے ۔
فــ۴: مسئلہ اونگھنے سے وضو نہیں جاتا جب کہ ہوشیاری کا حصہ غالب ہو۔
فــ۵: مسئلہ بیٹھے بیٹھے نیند کے جھونکے لینے سے وضو نہیں جاتا اگر چہ کبھی ایک سرین اٹھ جاتا ہو۔
اگرچہ جُھومنے میں کبھی کبھی ایک سرین اُٹھ بھی جاتا ہو بلکہ اگرچہ جھوم فــ۱کر گر پڑے جبکہ فوراً ہی آنکھ کھل جائے، ہاں اگر گرنے کے ایک ہی لمحہ بعد آنکھ کھُلی تو وضو نہ رہے گا۔
فــ۱: مسئلہ جھوم کر گر پڑا اگر معا آنکھ کھل گئی وضونہ گیا۔

اقول:  یہ قید ان سب صورتوں میں ہے جن میں وضو جانابیان ہوا کہ اُنہیں صورتوں پر سونا پایا جائے اور اگر سویافــ۲اُس شکل پر جس میں وضو نہ جاتا اور جسم بھاری ہو کر یہ شکل پیدا ہوئی جس سے جاتا رہتا مگر پیدا ہوتے ہی فوراً بلاوقفہ جاگ اُٹھا وضو نہ جائے گا جیسے سجدہ مسنونہ میں سویا اور کلائیاں زمین سے لگتے ہی آنکھ کھل گئی اور یہ بھی فــ۳یاد رہے کہ آدمی جب کسی کام مثلاً نماز وغیرہ کے انتظار میں جاگتا ہو اور دل اس طرف متوجہ ہے اور سونے کا قصد نہیں نیند جو آتی ہے اسے دفع کرنا چاہتا ہے تو بعض وقت ایسا ہوتا ہے کہ غافل ہوگیا جو باتیں اس وقت ہوئیں اُن کی خبر نہیں بلکہ دو دو تین تین آوازوں میں آنکھ کھلی اور وہ اپنے خیال میں یہ سمجھتا ہے کہ میں نہ سویا تھا اس لئے کہ اس کے ذہن میں وہی مدافعت خواب کا خیال جما ہوا ہے یہاں تک کہ لوگ اس سے کہتے ہیں تُو سو گیا تھا، وہ کہتا ہے ہرگز نہیں، ایسے خیال کا اعتبار نہیں جب معتمد شخص کہے تو غافل تھا، پکارا، جواب نہ دیا، یا باتیں پُوچھی جائیں اور یہ نہ بتاسکے تو وضو لازم ہے۔

فــ۲: مسئلہ ان دسوں صورتوں میں جن سے وضو جاتا ہے ، یہی قید ہے کہ انہیں صورتوں پر سونا پایا جائے ورنہ اگر سویا اس صورت پر کہ وضو نہ جاتا اور نیند میں اس شکل پر آگیا جس میں جاتا ہے مگر معاشکل پیدا ہوتے ہی بلا وقفہ جاگ اٹھا وضو نہ جائے گا۔
فـــ ۳مسئلہ ضروریہ آدمی بیٹھے بیٹھے کبھی غافل ہوجاتاہے اور سمجھتا یہ ہے کہ نہ سویا تھا اس کا ضروری بیان ۔

فی الحلیۃ النوم ان کان فی الصلاۃ فلیس بحدث الا ان یکون مضطجعا وقال قاضی خان اومتکئا ثم فی بعض شروح القدوری الاتکاء فــ۴عام والاستناد خاص وھو اتکاء الظھر لاغیر قلت لکن الظاھر ان مراد القاضی النوم علی احد و رکیہ فی الصلاۃ فان مقعدہ یکون متجافیا عن الارض فکان فی معنی النوم مضطجعا فی کونہ سببا لوجود الحدث بواسطۃ استرخاء المفاصل وزوال المسکۃ،

حلیہ میں ہے نیند بحالت نماز حدث نہیں ہے ، ہاں اگر کروٹ لیٹ کر ہو تو حدث ہے ۔ اور قاضی خاں نے اس میں ٹیک لگا کر سونے کو بھی شامل کیا ہے پھر قدوری کی بعض شرو ح میں ہے کہ اتکاء عام ہے اور استناد خاص ہے کیونکہ استناد میں صرف پیٹھ لگانا ہی ہوتا ہے ، میں سمجھتا ہوں کہ قاضی خان کی مراددونوں سرینوں میں سے ایک سرین کے بل نماز میں سونا ہے کیونکہ ایسی صورت میں اس کی مقعد زمین سے الگ ہوگی اور کروٹ لیٹ کر سونے کی طر ح ہوجائے گا یعنی جوڑوں کے ڈھیلا ہونے اور بندش کے ختم ہوجانے کے اعتبار سے یہ حدث کا سبب بن جائے گا ۔

فــ۴:فرق الاتکاء والاستناد

ولا یخالف ھذا مافی الخلاصۃ من عدم النقض بالنوم متورکا لانہ مفسر فیھا بان فــ۱یبسط قدمیہ من جانب ویلصق الیتیہ بالارض وھذا یخالف تفسیر صاحب البدائع وصاحب الاسرار فانہ قال فی تعلیل النقض انہا جلسۃ تکشف عن مخرج الحدث الا انہ وضع المسئلۃ خارج الصلٰوۃ والتعلیل یفید انہ وضع اتفاقی قال شیخنا فھذا اشتراک فی لفظ التورک ۱؎ اھ۔

یہ عبارت خلاصہ کی اس عبارت کے مخالف نہیں جس میں تورک کی حالت میں سونے کو ناقص وضو قرار نہیں دیا ہے ، کیونکہ خلاصہ میں اس کی تفسیر یہ ہے کہ نمازی اپنے دونوں پیر ایک طر ف کو پھیلا ئے اور اپنے سر ین زمین پر رکھے ، اور یہ بدائع اور صاحب اسرار کی تفسیر کے مخالف ہے ، کیونکہ انہوں نے وضو ٹو ٹ جانے کی وجہ بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ ایسی نشست ہے جو حدث کے مخرج کو کھول دیتی ہے ، مگر انہوں نے یہ مسئلہ بیرون نماز فرض کیا ہے ، لیکن جو علت بتائی ہے اس سے معلوم ہوتا ہے یہ مسئلہ دونوں صورتوں کو عام ہے ، ہمارے شیخ نے فرمایا کہ یہ '' تورک'' کے لفظ میں مشترک ہے اھ۔

 (۱؎ حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی)

فــ۱:للمتورک معنیان

اقول:  وکذا افاد فی البحر تبعا للفتح وللذ ھول فــ۲عن ھذا وقع فی المستخلص شرح الکنز ان نقل تحت قول الکنز ونوم مضطجع ومتورک تفسیر التورک ان یخرج رجلیہ من الجانب الایمن ویلصق الیتیہ علی الارض کذا فی المستصفی۱؎ اھ۔ولم یلق بالا ان ھذا تفسیر تورک الشافعیۃ فی الصلاۃ ولیس من نواقض الوضوء قطعا ثم قال فی الحلیۃ ویلحق بالنوم مضطجعا النوم مستلقیا علی قفاہ اومنبطحا علی وجہہ فان فی کل استرخاء المفاصل وزوال المسکۃ علی الکمال کالاضطجاع ثم لاخلاف عندنا فی عدم النقض للوضوء اذا کان فی الصلاۃ فی غیر ھذہ الحالات التی ذکرناھا اذا لم یکن متعمدا فان متعمدا ففی الخانیۃ ان تعمد النوم فی سجودہ تنتقض طہارتہ فی قولھم اھ قال شیخنا کانہ مبنی علی قیام المسکۃ فی الرکوع دون السجود ومقتضی النظران یفصل فی ذلک السجود ان کان متجافیا لایفسدو الا یفسد ۲؎ اھ مافی الحلیۃ۔

فتح کی پیروی میں بحر نے بھی یہی لکھا ہے اور چونکہ یہ بحث ذہن سے اتر گئی اس لئے کنز کی شرح مستخلص میں '' نوم متورک''کے تحت نقل کیا کہ تو رک کے معنی یہ ہیں کہ اپنے دونوں پیروں کو دائیں جانب سے نکالے اور اپنے دونوں سرین زمین پر لگائے ، جیسا کہ المستصفی میں ہے اھ۔ یہ خیال نہ کیا کہ یہ اس تورک کی تفسیر ہے جو شا فعیہ کے نزدیک نماز میں ہوتا ہے اور نواقص وضو سے قطعا نہیں ہے پھر حلیہ میں کہا کہ مضطجعا سونے کے حکم میں گدی کے بل سونا یا چہرے کے بل سونا بھی ہے کیونکہ ان تمام صورتوں میں جوڑڈھیلے ہوجاتے ہیں اور چستی ختم ہوجاتی ہے ، جیسے چت لیٹ کر سونے میں ہوتا ہے ۔ ہمارے نزدیک اگر مذکورہ حالات کے علاوہ نماز میں ہوتونا قض وضو نہیں او راس میں اتفاق ہے صرف ایک شرط ہے کہ قصد اور ارادہ نہ ہو ۔ خانیہ میں ہے کہ اگر کوئی ارادتا سجدہ میں سوگیا تو ان کے قول کے مطابق اس کی طہارت ختم ہوجائے گی اھ ہمارے شیخ فرماتے ہیں کہ اس کا مفہوم یہی ہے کہ حالت رکوع میں چستی برقرار رہتی ہے جبکہ سجود میں نہیں ۔ اگر بنظر غائر دیکھا جائے تو سجدہ میں یہ تفصیل کرنی چاہئے کہ اگر وہ زمین سے الگ ہے تو ناقض نہیں ورنہ ناقض ہے حلیہ کا بیان ختم ہوا ۔

فــ۲:تطفل علی المستخلص

 (۱؎ مستخلص الحقائق شرح کنزالدقائق   کتاب فی بیان احکام الطہارۃ   مطبع کا نشی رام پرنٹنگ پریس لاہور  ۱/۴۰)
(۲؎ حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی )

اقول:  عبارۃ فــ۱ الخانیۃ لونام ساجدا فی الصلاۃ لایکون حدثا فی ظاھر الروایۃ فان تعمد النوم فی سجودہ تنتقض طہارتہ  وتفسد صلاتہ ولو تعمد النوم فی قیامہ او رکوعہ لاتنتقض طہارتہ فی قولھم ۱؎ اھ فقولہ فی قولہم راجع الی مسألۃ القیام والرکوع دون السجود کما اقتضاہ اختصار الحلیۃ علی مافی نسختی کیف وعدم النقض ولو تعمد فی الصلاۃ ھو المعتمد وھو المذھب قال فی الہندیۃ ثم فی ظاھر الروایۃ لافرق بین غلبتہ وتعمدہ وعن ابی یوسف النقض فی الثانی والصحیح ما ذکر فی ظاھر الروایۃ ھکذا فی المحیط۲؎ اھ فکیف یجوز ان یکون قولھم وسیاتی عن نص الحلیۃ نفسہا۔

اقول:  خانیہ کی عبارت اگر بحالت سجدہ نماز میں سوگیا تو ظاہر روایت میں حدث نہ ہوگا کیونکہ قصدا سجدہ میں سوجانا طہارت کو بھی ختم کردیتا ہے اور نماز کو بھی ، جبکہ قصدا رکوع یا قیام میں سونا ہمارے ائمہ کے قول میں طہارت کو نہیں توڑ تا ہے اھ۔
اب اس عبارت میں '' فی قولھم''قیام ورکوع کے مسئلہ کی طر ف راجع ہے نہ کہ سجود کی طر ف ، جیسا کہ حلیہ کے اختصار میں میرے نسخہ کے مطابق ہے اور یہی درست ہے کہ قصدا بھی نماز کے اندر اگر ایسا کرے تو نہ ٹو ٹے گا ، یہی معتمد ہے اور مذہب ہے ہندیہ میں کہا کہ '' نیند  کے غلبہ یا قصدا سونے کے درمیان ظاہر الروایۃ کے مطابق کوئی فر ق نہیں ہے ، او رابو یوسف سے وضو ٹوٹنے کی روایت ہے ، لیکن صحیح وہی ہے جو ظاہر الروایۃ میں ہے ھکذا فی المحیط اھ ۔ اب یہ کیونکر درست ہوسکتا ہے کہ یہ ائمہ کا قول ہو ، اور آگےاس کا بیان خود حلیہ کی عبارت سے آرہا ہے ۔

فـــ۱:تطفل علی الحلیۃ

 (۱؎ فتاوٰی قاضی خان    کتاب الطہارت، فصل فی النوم         نولکشور لکھنؤ    ۱ /۲۰    )
(۲؎ فتاوی ہندیہ     کتاب الطہارت، الباب الاول ، الفصل الخامس    نورانی کتب خانہ پشاور    ۱ /۱۲)

ثم اقول:  لم یتعرض الامام قاضی خان ھھنا عن حکم الصلاۃ اذا تعمد النوم فی القیام اوالرکوع وعبارتہ فی مفسدات الصلاۃ ومن ثم نقل فی الفتح ھکذا اذا نام المصلی مضطجعا متعمدا فسدت صلاتہ ولو لم یتعمد فمال حتی اضطجع تنتقض طہارتہ ولا تفسد صلاتہ ولو نام فی رکوعہ او سجودہ ان لم یتعمد ذٰلک لاتفسد صلاتہ وان تعمد فسدت فی السجود ولا تفسد فی الرکوع ۱؎ اھ فانما محط کلامہ طرا ان النوم ان کان ناقض الطہارۃ کما فی الاضطجاع کان تعمدہ مفسدا للصلاۃ لان تعمد الحدث یمنع البناء والا لاکنوم قائم و راکع ولذا لما حکم علی نوم الساجد العامد بافساد الصلاۃ افاد فی الفتح ماافاد فلیحفظ فان لہ شانا ان شاء اللّٰہ تعالٰی۔

ثم اقول:  اس مقام پر قاضی خان نے قیام ورکوع کی حالت میں قصدا سونے کی صورت میں نماز کا حکم نہ بتایا ، مفسدات نماز میں ان کی عبارت یہ ہے وہیں سے فتح القدیر میں نقل کیا ہے '' جبکہ نمازی کروٹ قصدا سوگیا تو اس کی نماز فاسد ہوگئی ، اور اگر قصدا نہیں ہے اور اتنا جھکا کہ لیٹنے کی حد کو پہنچ گیا تو طہارت ٹوٹ جائے گی مگر نماز نہیں ٹوٹے گی ، اوراگر رکوع وسجود میں سوگیا تو اگر قصد ا نہیں ہے تو نماز فاسد نہ ہوگی اور اگر قصدا ہے تو سجود میں فاسد ہے رکوع میں نہیں اھ سو ان کے تمام کلام کا خلاصہ یہ ہے کہ نیندا اگر ناقض طہارت ہو جیسے کہ کروٹ لیٹنے کی صورت میں ہے تو قصدا ایسی نیند مفسد صلوۃ ہے ۔ اس لئے کہ کسی حدث کا قصدا ارتکاب نماز کی بناء کے منافی ہے اگر نیند ناقض طہارت نہ ہو جیسے رکوع یا قیام میں تو مفسد صلوۃ نہیں ۔ اس لئے جب سجدہ میں قصدا سوجانے کی بابت فساد نماز کا حکم کیا تو فتح میں وہ افادہ کیا جو اس میں موجود ہے تو اس کو محفوظ کرنا چاہئے کہ اس کے لئے ایک انوکھی شان ہے اگر اللہ تعالی چاہے ۔

 (۱؎ فتاوٰی قاضی خان     کتاب الصلوۃ، فصل فیما یفسد الصلوۃ     نولکشور لکھنؤ    ۱ /۶۴)

ثم قال فی الحلیۃ وذکر فی التحفۃ والبدائع ان النوم فی غیر حالۃ الاضطجاع والتورک فی الصلاۃ لایکون حدثا سواء غلبہ النوم اوتعمد فی ظاھر الروایۃ انتھی والعلۃ المعقولۃ فی کون النوم ناقضا استرخاء المفاصل و زوال المسکۃ وھذا لم یوجد فی ھذہ المذکورۃ والاسقط ھذا کلہ فی الصلاۃ وان کان خارج الصلٰوۃ مضطجعا اومتکئا بمعنی ان یکون معتمدا علی احد مرفقیہ کما ھو معنی التورک فی التحفۃ والبدائع ومحیط رضی الدین نقض بلا خلاف۱؎ اھ ملتقطا۔

پھر حلیہ میں فرمایا کہ تحفہ اور بدائع میں ذکر کیا کہ نماز میں کروٹ لیٹنے کی صورت کے  علاوہ سوجانا یا سرین پر بیٹھنے کی صورت کے علاوہ سوجانا حدث نہیں ہے خواہ اس پر نیند کا غلبہ ہوگیاہو یا قصدا ایسا کیا ہو ، ظاہر روایت میں یہی ہے اھ اور عقلی علت نیند کے ناقض ہونے میں جوڑوں کا ڈھیلا پڑجانا اور چستی وبندش کا ختم ہوجانا ہے ، اور یہ چیز مذکورہ صورت میں نہیں پائی گئی ورنہ وہ شخص گرجاتا  ، یہ سب صورتیں حالت نماز کی تھیں اور اگر نماز کے باہر کروٹ لیٹایا ٹیک لگائی بایں معنی کہ کسی کہنی پر ٹیک لگائے ہو جیسا کہ تورک کے یہی معنی تحفہ ، بدائع اور محیط رضی الدین میں ہیں ، تو بالاتفاق وضوٹوٹ جائے گا اھ ملتقطا

 (۱؎ حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی)

وفی ردالمحتار نام المریض وھو یصلی مضطجعا الصحیح النقض کما فی الفتح وغیرہ و زاد فی السراج وبہ ناخذ ۲؎ اھ

اور رد المحتا ر میں ہے کہ مریض چت لیٹ کر نماز پڑھ رہا تھا کہ سوگیا تو صحیح یہ ہے کہ وضو ٹوٹ گیا ، جیسا کہ فتح وغیرہ میں ہے ، اور سراج میں اتنا اضافہ ہے کہ ''ہم اسی کو اختیار کر تے ہیں اھ۔

 (۲؎ ردالمحتار،کتاب الطہارۃ ،دار احیاء التراث العربی بیروت ،۱ /۹۶)

وفی الخانیۃ ظاھر المذھب ان النوم فی الصلاۃ لایکون حدثا الا ان یکون مضطجعا اومتکئا والاضطجاء علی نوعین ان غلبت عیناہ فنام ثم اضطجع فی نومہ فھو بمنزلۃ مالو سبقہ الحدث یتوضأ ویبنی وان تعمد النوم فی الصلاۃ مضطجعا فانہ یتوضأ ویستقبل ومن عجز فصلی مضطجعا فنام ینقض ۳؎ اھ

اور خانیہ میں ہے کہ ظاہر مذہب یہ ہے کہ نماز کی حالت میں نیند صرف اضطجاع یا اتکاء کی صورت میں ناقض وضو ہے اور اضطجاع کی دو صورتیں ہیں ایک تو یہ کہ اس پرنیند کا غلبہ ہوگیا تو سوگیا پھر سونے کی حالت ہی میں لیٹ گیا تو اس کا حکم اس حدث کا ساہے جو بے اختیار ہوگیا ۔ ایسی صورت میں وضوکر کے نماز کی بناء کرے گا ۔ اور اگر قصدا نماز میں لیٹ کر سویا تو وضو کرے گا اور از سر نو نماز ادا کرے گا ۔ اور اگر کسی معذوری کے باعث نماز لیٹ کر پڑھ رہا تھا کہ سوگیا وضو ٹو ٹ جائے گا اھ

 (۳؎ فتاوی قاضی خاں     کتاب الطہارت ، فصل فی النوم          نولکشورلکھنو  ۱ /۲۰)

وفی متن نورالایضاح وشرحہ مراقی الفلاح فی فصل مالاینقض الوضوء (و) منہا (نوم مصل ولو راکعا اوساجدا) اذا کان (علی جہۃ السنۃ) فی ظاھر المذھب ۱؎اھ اورنور الایضاح کے متن اور اس کی شرح مراقی الفلاح میں فصل مالا ینقض الوضوء میں ہے : '' اور نواقض وضو میں نہیں ہے نمازی کا رکوع یا سجود میں سوجانا بشرطیکہ مسنون طریقہ کے مطابق ہوظاہر مذہب میں اھ''

 (۱؎ مراقی الفلاح شرح نور الایضاح مع حاشیۃ الطحطاوی، فصل عشرۃ اشیاء... الخ  دار الکتب العلمیۃ بیروت   ص۹۴)

وفی منحۃ الخالق عن النھرالفائق عن عقد الفرائد انما لایفسد الوضوء بنوم الساجد فی الصلاۃ اذا کان علی الھیاۃ المسنونۃ قید بہ فی المحیط وھو الصحیح ۲؎ اھ

اور منحۃ الخالق میں نہر الفائق سے منقول ہے انہوں نے عقد الفرائد سے نقل کیا کہ نماز کے سجدہ میں سوجانا وضو کو نہیں تو ڑ تا جبکہ مسنون طریقہ پرہو ، اس قید کا ذکر محیط میں ہے اوریہی صحیح ہے اھ۔

 (۲؎ منحۃ الخالق علی البحر الرائق     کتاب الطہارت      ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۱ /۳۸)

وقال المحقق الکبیر فی شرح المنیۃ الصغیر والمعتمد انہ ان نام علی الھیئۃ المسنونۃ فی السجود رافعا بطنہ عن فخذیہ مجافیا مرفقیہ عن جنبیہ لایکون حدثاوالا فھو حدث لوجود نہایۃ استرخاء المفاصل سواء کان فی الصلاۃ اوخارجہا وتمام تحقیقہ فی الشرح ۳؎ اھ

محقق کبیر نے شرح منیۃ الصغیر میں فرمایا ، اگر سجدہ میں ہیئت مسنونہ پر سویا کہ پیٹ رانوں سے اور بازو پہلو سے دور ہوں تو حدث نہیں ہوگا ورنہ بو جہ کشادگی مفاصل حدث ہے بحالت ایں نماز میں ہویا نہ ہو ، اس کی مکمل تحقیق شرح میں ہے اھ

 (۳؎ صغیر ی شرح منیۃ المصلی      فصل فی نواقض الوضوء     مطبع مجتبائی دہلی      ص ۷۸)

وفی التنویر والدر قام اوقرأ اورکع او سجد او قعد الاخیر نائما لا یعتد بہ بل یعیدہ ولو القراء ۃ اوالقعدۃ علی الاصح وان لم یعد تفسد ولو رکع اوسجد فنام فیہ اجزأہ لحصول الرفع منہ والوضع ۴؎ اھ

اور تنویر اور درمیں ہے ، اگر کسی نے قیام ، قراء ت ،رکوع ، سجود یا قعدہ بحالت نیند کیا تو اس کا اعتبار نہ ہوگا اس پر اس رکن کا اعادہ لازم ہے ، خواہ قراء ت یا قعدہ ہی کیوں نہ ہو ، اصح یہی ہے اور اگر اعادہ نہیں کیا تو نماز فاسد ہوگئی ۔ اور اگر رکوع کیا یا سجدہ کیا پھر اسی حالت میں سوگیا تو یہی کافی ہے کیونکہ اس حالت میں جانا اور اس سے واپس آنا پایا گیا اھ۔

 (۴؎ الدر المختار شرح تنویر الابصار     کتاب الصلوۃ ، باب صفۃ الصلوۃ      مطبع مجتبائی دہلی     ۱ /۷۱)

ولفظ المراقی وان طرأ فیہ النوم صح بما قبلہ منہ ۱؎ اھ اور مراقی الفلاح میں ہے کہ اگر کسی رکن میں نیند آگئی تو اس سے پہلے والا رکن صحیح رہا اھ۔

 (۲؎ مراقی الفلاح مع حاشیۃ الطحطاوی،باب شروط الصلوۃ وار کانہا،دار الکتب العلمیۃ بیروت ،ص۲۳۵ )

قلت وھو اوضح و اوجہ ، قلت یہی اوضح اور اوجہ ہے ۔

وفی الدر المختار ایضا ینقضہ حکما نوم یزیل مسکتہ بحیث تزول مقعدتہ من الارض وھو النوم علی احد جنبیہ او ورکیہ اوقفاہ او وجہہ والا یزل مسکتہ لاینقض وان تعمدہ فی الصلاۃ اوغیرھا علی المختار(نص علیہ فی الفتح وھو قید فی قولہ فی الصلاۃ قال فی شرح الوھبانیۃ ظاھر الروایۃ ان النوم فی الصّلاۃ قائما اوقاعدا اوساجدا لایکون حدثا سواء غلبہ النوم اوتعمدہ ش) کالنوم قاعدا اومستندا الی مالوازیل لسقط علی المذھب(ای ظاھر المذھب عن ابی حنیفۃ وبہ اخذ عامۃ المشائخ وھو الاصح کما فی البدائع ش وعلیہ الفتوی جواھر الاخلاطی) وساجد علی الھیاۃ المسنونۃ (بان یکون رافعا بطنہ عن فخذیہ مجافیا عضدیہ عن جنبیہ بحر قال ط وظاھرہ ان المراد الھیئۃ المسنونۃ فی حق الرجل لاالمرأۃ ش۔

اور درمختار میں ہے کہ نیز وضو کو حکما وہ نیند توڑدیتی ہے جو چستی کو زائل کردے ، اس طرح کہ اس کی مقعد زمین سے اٹھ جائے ، مثلا ایک پہلو پر سوگیا یا سرین پر سوگیا یا گدی یا چہرے کے بل سوگیا ، اور چستی زائل نہ کرتی ہو تو ناقض وضو نہیں خواہ وہ قصدا ہی سوگیا ہو نماز میں ہو نہ ہو ، مختار یہی ہے ( فتح میں اس کی تصریح ہے ، شرح وہبانیہ میں ہے کہ ظاہر الروایۃ میں ہے کہ نماز میں سونا کھڑے ہو کر ، بیٹھ کر ، یا سجدہ میں ۔حدث نہ ہوگا خواہ نیند کا غلبہ ہوگیا یا قصدا نیند آئی ہو ،ش) جیسے کسی ایسی چیز سے ٹیک لگا کرسوگیا کہ اگر اس کو ہٹایاجائے تو گر پڑے ، یا بیٹھ کر سوگیا(ابو حنیفہ سے ظاہر مذہب یہی ہے اور تمام مشائخ نے اسی کو لیاہے اور یہی اصح ہے جیسا کہ بدائع میں ہے ، ش)اور اس پر فتوی ہے جواہر الاخلاطی کا اور جو شخص مسنون حالت پر سوگیا ، یعنی اس کا پیٹ رانوں سے جداہوں،بازو پہلوؤں سے جداہوں ، بحر ۔ طحطاوی نے کہا کہ بظاہر اس سے مراد وہ مسنون ہیئت ہے جو مردو ں کے لئے ہے نہ کہ عورت کے لئے ، ش

اقول:  لیس فــ ھذا محل الاستظھار وقد صرح بہ السادۃ الکبار کقاضی خان وغیرہ علا انھم فــ لولم یصرحوا لکان ھو المتعین للارادۃ لان المقصود ھیاۃ تمنع الاستغراق فی النوم کما لایخفی) ولوفی غیر الصلاۃ علی المعتمد ذکرہ الحلبی اومتورکا(بان یبسط قدمیہ من جانب ویلصق الیتیہ بالارض فتح ش)اومحتبیا (بان جلس علی الیتیہ ونصب رکبتیہ وشدساقیہ الی نفسہ بیدیہ اوبشیئ یحیط من ظہرہ علیہما شرح المنیۃ ش ۔

اقول:   یہ استظہار کا مقام نہیں ہے اس کی تصریح بڑے بڑے علماء مثلا قاضی خان وغیرہ نے کی ہے ، علاوہ ازیں اگر وہ اس کی تصریح نہ بھی کرتے تو یہی متعین ہوتاکیونکہ اس سے مراد ایسی ہیئت ہے جو نیند میں مستغرق ہوجانے سے مانع ہو اور یہ ظاہر ہے) یہ صورت خواہ نماز کے علاوہ ہی کیوں نہ ہوئی ہو ، معتمد مذہب یہی ہے ، اس کو حلبی نے ذکر کیا یا بطور تورک (یعنی وہ اپنے دونوں قدم ایک طرف نکال لے اور اپنے سرین زمین سے چپکا دے ، فتح وش)''اومحتبیا'' یا اپنے سرین پر بیٹھ جائے اور اپنی دونوں پنڈلیاں اپنے دونوں ہاتھوں سے پکڑے یا کسی چیز سے پیٹھ سے باندھ دے شرح منیہ ش۔

فــ: معروضۃ علی العلامتین ط و ش۔     فــ: معروضۃ اخری علیھما

اقول:  ولا مدخل ھھنا لوضع الیدین فانما مطمح النظر تمکین الورکین ولذا عممت) وراسہ علی رکبتیہ (غیر قیدش وبالاولی اذا لم یکن رأسہ کذلک ط)اوشبہ المنکب (ای علی وجہہ وھو کما فی شروح الہدایۃ ان ینام واضعا الیتیہ علی عقبیہ وبطنہ علی فخذیہ ونقل عدم النقض بہ فی الفتح عن الذخیرۃ ایضا ش۔

اقول:  اس میں ہاتھ کی وضع کا کوئی دخل نہیں ہے اصل مقصود تو دونوں سرینوں کا جمانا ہے ، اس لئے میں نے اس کو عام رکھا ہے اور اس کا سر اس کے دونوں گھٹنوں پر ہو (یہ قیدنہیں ، ش، اور جب اس کا سر اس طر ح نہ ہو تو بطریق اولی ایسا ہوگا ، ط) یااوندھے کے مشابہ (یعنی چہرے کی بل سونے والے کی طر ح اوراس کی ہیئت جیسا کہ ہدایہ کی شروح میں ہے یہ ہے کہ وہ اپنے دونوں سرین اپنی دونوں ایڑیوں پر رکھے اور اپنا پیٹ اپنی دونوں رانوں پر رکھے اور اس میں نہ ٹوٹنا فتح میں ذخیرہ سے بھی منقول ہوا ، ش۔

قلت ونقل فی الہندیۃ عن محیط السرخسی انہ الاصح قال ش ثم نقل فی الفتح عن غیرھا لونام متربعا و رأسہ علی فخذیہ نقض قال وھذا یخالف مافی الذخیرۃ واختار فی شرح المنیۃ النقض فی مسألۃ الذخیرۃ لارتفاع المقعدۃ وزوال التمکن واذ ا نقض فی التربع مع انہ اشد تمکنا فالوجہ الصحیح النقض ھنا ثم ایدہ بما فی الکفایۃ عن المبسوطین من انہ لونام قاعدا او وضع الیتیہ علی عقبیہ وصارشبہ المنکب علی وجہہ قال ابو یوسف علیہ الوضوء  اھ

قلت ہندیہ میں محیط سرخسی سے منقول ہے کہ اصح یہی ہے ، ش نے کہا پھر فتح میں ذخیرہ کے علاوہ سے منقول ہے کہ اگر کوئی شخص پالتی مار کر بیٹھا اور اسی حال میں سوگیا اور اس کا سرا س کی دونوں رانوں پر ہے تو وضو ٹو ٹ گیا ، یہ ذخیرہ کے مخالف ہے اور شرح منیہ میں ذخیرہ کی بیان کر دہ صورت میں وضو کے ٹوٹ جانے کو پسند کیا ہے کیونکہ مقعد اٹھ گئی اور استقرار ختم ہوگیا ، اور جب پالتی مار کر بیٹھنے کی صورت میں وضو ٹو ٹ گیا حالانکہ اس میں استقرار زیادہ ہے تو صحیح بات یہ ہے کہ یہاں بھی ٹوٹنا چاہئے ، پھر کفایہ کی عبارت جو دونوں مبسوطوں سے منقول ہے سے تائیدکی ، اس میں یہ ہے کہ اگر بیٹھ کر سوگیا یا اپنی سر ین کو اپنی ایڑیوں پر رکھا اور اوندھا ہوگیا تو ابو یوسف فرماتے ہیں اس پر وضو لازم ہے اھ۔

اقول:  ومن عرف المناط عرف القول الفصل فمن حناراسہ بحیث لم یرفع عجزہ عن الارض لم ینقض وھو مراد الشارح ومن حنا حتی رفع نقض وھو مراد الغنیۃ ولذا عولت علی ھذا التفصیل) اوفی محمل او سرج اواکاف (حال الصعود وغیرہ منیۃ ش ) ولوالدابۃ عریانا فان حال الھبوط نقض (لتجافی المقعدۃ عن ظھر الدابۃ حلیہ ش) والا(بان کان حال الصعود والاستواء منیۃ ش) لاولو نام قاعدا یتمایل فسقط ان انتبہ حین سقط (ای قبل ان یصیب جنبہ الارض ط حلیہ ش اوعند اصابۃ جنبہ الارض بلا فصل ط غنیہ ش) فلا نقض بہ یفتی (اما لواستقر ثم انتبہ نقض لانہ وجد النوم مضطجعا حلیہ ش) کناعس یفہم اکثر ما قیل عندہ(قال الرحمتی ولا ینبغی ان یغتر الانسان بنفسہ لانہ (بما یستغرقہ النوم ویظن خلافہ ش ) مزیدا مابین الاھلۃ منّی ومن ط وش )۔ ۱ ؎

اقول:  جو شخص مناط کو جانتا ہے ہے وہ فیصلہ کن قول کو سمجھ سکتا ہے ، جس شخص نے اپنا سر جھکا یا مگر اپنی سرین زمین سے نہ اٹھائی تو وضو نہ ٹو ٹے گا اور یہی مراد شارح کی ہے ، اور اگر سرین اٹھ گئے تو ٹو ٹ جائے گا ۔ اور غنیہ کی مراد یہی ہے اس لئے میں نے اس تفصیل پر اعتماد کیا ہے ، یا کسی محمل یا زین یانمدہ میں (چڑھنے کی صورت ہویا کوئی اور صورت ، منیہ ش) اور اگر سواری کے جانور پر زین وغیرہ نہ ہو تو اتر تے وقت وضو ٹو ٹ جائے گا ( کیونکہ سواری کی پشت سے مقعد ہٹ گئی ہوگی، حلیہ ش،) ورنہ ( مثلا یہ کہ چڑھنے یا بیٹھنے کی حالت میں ہو ، منیہ ش)تو وضو نہ ٹوٹے گا، اگر بیٹھے بیٹھے سوگیا اور ہچکولے کھاکر گر ا اور گر تے ہی بیدار ہوگیا( یعنی پہلو کے زمین پر لگنے سے قبل ط حلیہ ش یا پہلو کے زمین پر لگتے ہی بلا تاخیر گراط غنیہ ش) تو وضو نہ ٹوٹے گا یہی مفتی بہ قول ہے ، لیکن اگر ٹھہرگیا پھر بیدار ہوا تو وضوٹوٹ جائے گاکیونکہ کروٹ لینے کی حالت نیند میں پائی گئی حلیہ ش ) جیسے اونگھنے والا ، اکثر باتیں سمجھتا ہے(رحمتی نے کہا کہ انسان کو دھوکے میں نہ رہنا چاہئے ، کبھی اس پر نیند کا غلبہ ہوجاتا ہے اور وہ اس کے خلاف گمان کرتا ہے ، ش )ہلالوں کے درمیان جو کچھ ہے وہ عبارت درمختار پر میرا اور شامی وطحطاوی کا اضافہ ہے۔

 (۱؎ الدرالمختار    کتاب الطہارۃ    بحث نواقض الوضو        مطبع مجتبائی دہلی             ۱ /۲۶و۲۷)
(ردالمحتار     کتاب الطہارۃ     بحث نواقض الوضو        دار احیاء التراث العربی بیروت        ۱ /۹۵تا۹۷)
(حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمحتار    بحث نواقض الوضو        المکتبۃ العربیہ کوئٹہ             ۱ /۸۲)

افادات عدیدۃ مضیدۃ(مفیدۃ) سدیدۃ

الاولٰی:  فــ اعلم ان النوم علی وضع سجود فیہ خلف کثیر ونزاع ممدود وانا ارید ان شاء الکریم المجید ان اذکرہ علی وجہ حاصر یجلوبہ الحق کبدر زاھر وما توفیقی الا باللّٰہ علیہ توکلت والیہ انیب۔

چند درست نفع بخش افادات:

افادہ اولٰی :سجدے کی ہیات پر سونے کے مسئلہ میں بہت زیادہ اختلاف ونزاع پایا جاتا ہے ، بمشیت رب کریم میں اسے ایسی احاطہ کن صورت میں بیان کرناچاہتا ہوں جس سے حق بدر تابندہ کی طر ف روشن ہوجائے ۔ اور مجھے توفیق نہیں مگرخداہی کی طر ف سے ، اسی پرمیرا توکل ہے اور اسی کی طر ف رجوع لاتاہوں۔

فاقول: واستعین بالقریب المجیب ذلک الوضع الذی نام فیہ اماان یکون علی الھیاۃ المسنونۃ للرجال اوعلی غیرھاوکل امافی الصلاۃ ومنھا سجود السھو وسہامن نقل الخلاف فیہ کمانبہ علیہ فی الفتح او فی سجدۃ مشروعۃ خارجہا وھی سجدۃ التلاوۃ والشکرا وفی غیر ذلک ویدخل فیہ ماکان علی ھیاۃ ساجد ولم ینوھا اصلا فالصورست۔

فاقول: و رب قریب مجیب کی مدد لیتے ہوئے عرض پر داز ہوں ، سونے والا جس وضع سجدہ پرسویاہے وہ یاتومردوں کے لئے سجدہ کی مسنون ھیأت کے مطابق ہوگی یامسنون ھیأت نہ ہوگی ، دونوں صورتیں یا تو نماز میں ہوں گی ، اسی میں سجدہ سہو بھی شامل ہے اور جس نے اس سے متعلق اختلاف نقل کیااس سے سہو ہو اجیسا کہ فتح القدیر میں اس پر تنبیہ فرمائی ہے یا بیرون نماز کسی جائز ومشروع سجدہ میں ہوں گی ، یہ سجدہ تلاوت اور سجدہ شکرہے ، یا ان سب کے علاوہ میں ہوں گی اسی میں وہ بھی داخل ہے جو سجدہ کی ہیات پر ہو اور سجدہ کی کوئی نیت نہ ہو ، تویہ کل چھ صورتیں ہوئیں۔

وقد اجمعوا علی عدم النقض فی الاولی وھی السجود فی الصلاۃ علی الھیاۃ المسنونۃاماما وقع فی ردالمحتار ان النوم ساجدا فی الصلاۃ وغیرھا قیل یکون حدثا ای مطلقا سواء کان علی الھیاۃ المسنونۃ اولا لانہ ذکر ھذا التفصیل من بعد فی قول مقابل لہ قال وذکر فی الخانیۃ انہ ظاھر الروایۃ۔ ۱؎

پہلی صورت یہ کہ نماز میں مسنون طریقہ پر سجدہ ہو ، اس صورت پر سوجانے سے وضو نہ ٹوٹنے پر سب کا اجماع ہے  لیکن وہ جو رد المحتار میں واقع ہے کہ : بحالت سجدہ نماز میں اور بیرون نماز سوجانا کہا گیاکہ حدث ہے ، یعنی مطلقا خواہ مسنون طریقے پر ہو یا نہ ہو ، یہ اس لئے کہ علامہ شامی نے یہ تفصیل آگے اس کے مقابل ایک قول میں خود بیان کی ہے ،آگے لکھتے ہیں ، اور خانیہ میں ذکر کیا کہ یہی ظاہر الروایۃ ہے اھ۔

۱(؎ردالمحتار     ، کتاب الطہارۃ ،بحث نواقض الوضوء     دار احیاء التراث العربی بیروت،۱ /۹۶)

فاقول:  ھذا فــ۱ الاطلاق ان صدر عن احد فھو محجوج بنص الحدیث وتصریحات ائمۃ القدیم والحدیث وقد تقدم عن الحلیۃ ان لاخلاف عندنا فی ذلک اماالخانیۃ فــ۲فلم تذکرہ بھذا الارسال وانما نصہا ھکذا ظاھر المذھب ان النوم فی الصلاۃ لایکون حدثا نام قائما او راکعا اوساجدا اما خارج الصلاۃ علی ھیاۃ الرکوع والسجود قال شمس الائمۃ الحلوانی رحمہ اللّٰہ تعالٰی یکون حدثا فی ظاھر الروایۃ وقیل ان کان ساجدا علی وجہ السنۃ بان کان رافعا بطنہ عن فخذیہ مجافیا عضدیہ عن جنبیہ بحیث یری من خلفہ عفرۃ ابطیہ لایکون حدثا وان کان ساجدا علی وجہ غیر السنۃ بان الصق بطنہ بفخذیہ وافترش ذراعیہ کان حدثا ۲؎اھ

اقول : یہ اطلاق (کہ نماز اور بیرون نماز مسنون یا غیر مسنون جس ہیات سجدہ پر بھی سوجائے وضو ٹو ٹ جائے گا ) اگر کسی سے صادر ہے اور کوئی اس کا قائل ہے تو اس کے خلاف نص حدیث اور عہد قدیم وجدید کے ائمہ کی تصریحات حجت ہیں حلیہ کے حوالے سے گزرچکا کہ اس بارے میں ہمارے یہاں کوئی اختلاف نہیں ، رہا خانیہ کا حوالہ جو علامہ شامی نے پیش کیا تو خانیہ نے اس اطلاق کے ساتھ اسے بیان ہی نہ کیا ۔ ملا حظہ ہو اس کی عبارت یہ ہے ظاہر مذہب یہ ہے کہ نماز کے اندر سونا حدث نہیں ہوتا ، قیام میں سوئے یا رکوع یا سجدے میں سوئے لیکن بیرون نماز اگر رکوع و سجود کی ہیات پر سوئے تو شمس الائمہ حلوانی رحمہ اللہ تعالی نے فرمایا کہ ظاہر روایت میں یہ حدث ہے ، اور کہا گیا کہ اگر سنت کے طور پر سجدہ کی حالت ہو اس طرح کہ پیٹ رانوں سے اٹھائے ہوئے ، بازو کروٹوں سے جدا کئے ہوئے ہو کہ پیچھے والا بغلوں کی سیاہی دیکھ لے تو حدث نہ ہوگا ، اور اگر خلاف سنت سجدہ ہو اس طر ح کہ پیٹ رانوں سے ملادیا ہو اور کلائیاں بچھادی ہو ں تو حدث ہوگا اھ۔

 (۲؎فتاوی قاضی خان     ،کتاب الطہارۃ ، فصل فی النوم،نولکشور لکھنو      ۱ /۲۰)

فــ۱: معروضۃ علی العلامۃ ش۔فـــ۲: معروضہ اخری علیہ

فـاین ھذا من ذاک فلیتنبہ نعم جاء ت خلافیۃ عن ابی یوسف فی تعمد النومی علی خلاف ظاھر الروایۃ الصحیحۃ المختارۃ ولا تختص فی تحقیقنا بالسجود بل تعم الصلاۃ کلہا کما سیاتی ان شاءاللّٰہ تعالٰی۔

بتائیے اس تفصیل کو اس اطلاق سے کیا نسبت ؟ تو اس پر متنبہ رہنا چاہئے ، ہاں قصدا سونے کے بارے میں امام ابو یوسف رحمۃ اللہ تعالی علیہ سے صحیح ، ترجیح یافتہ ظاہر الروایہ کے بر خلاف ایک اختلافی روایت آئی ہے اور وہ ہماری تحقیق میں حالت سجدہ ہی سے خاص نہیں بلکہ پوری نماز کو شامل ہے ، جیسا کہ ان شاء اللہ تعالی ذکر ہوگا

واجمعوا علی النقض فی السادسۃ وھی کونہ علی ھیاۃ سجود غیر مسنونۃ من غیرنیۃ اوفی سجدۃ غیر مشروعۃ اما ما وقع فی ردالمحتار ان النوم ساجدا قیل لایکون حدثا فی الصلاۃ وغیرھا وصححہ فی التحفۃ وذکر فی الخلاصۃ انہ ظاھر المذھب وفی الذخیرۃ ھو المشھور ۱؎ اھ۔

چھٹی صورت یہ کہ سجدہ غیر مسنون طریقہ پر ہوا اورسجدہ کی نیت بھی نہ ہو یا کسی ایسے سجدہ کی نیت ہو جو مشروع نہیں اس صورت میں سونے سے وضو ٹوٹ جانے پر اجماع ہے لیکن وہ جو رد المحتار میں واقع ہوا کہ'' سجدہ کرتے ہوئے سوجانا کہا گیا کہ یہ نماز میں اور بیرون نمازبھی حدث نہیں اسی کو تحفہ میں صحیح کہا ۔ اور خلاصہ میں ذکر کیا کہ یہی ظاہر مذہب ہے ۔ اور ذخیرہ میں ہے کہ یہی مشہور ہے اھ''

 (۱؎رد الحتار ،کتاب الطہارۃ بحث نواقض الوضوء،دار احیاء التراث العربی بیروت ، ۱ /۹۶)

فاقول: ان فــ اراد بالساجد الساجد الشرعی فعزو الحکم الی الخلاصۃ یصح لکنہ اذن لایتناول الا سجود الصلاۃ والسہو والتلاوۃ والشکر ویبقی کلامہ ساکتا عن حکم مااذا کان علی ھیاۃ سجود من دون سجود او فی سجود غیر مشروع کما یفعلہ بعض الناس عقیب الصلاۃ ولا شک ان کلام الخلاصۃ والخانیۃ والتحفۃ والبدائع والحلیۃ التی لخص منہا ھذا الفصل یشمل ھذہ الصور کلہا فلاوجہ لاخراجہا عن الکلام مع ان الحاجۃ ماسۃ الی ادراک حکمہا ایضاوان اراد من کان علی ھیاۃ سجود ولو لم ینوہ اولم یشرع فیجب ان یکون المراد الھیاۃ المسنونۃ للرجال لانھا المانعۃ عن الاستغراق فی النوم فکان کالنوم قائما او علی ھیاۃ رکوع اما ان یؤخذ العموم فی الساجد کما احاط بہ کلمات المنقول عنہم جمیعا وقد اشار الیہ فی الخلاصۃ حیث عبر فی الصلاۃ بلفظۃ ساجدا وفی خارجہا بلفظۃ علی ھیاۃ السجود وفی الھیاۃ ایضا کما ھو قضیۃ ردالمحتار حیث ذکر تفصیل الھیاۃ فی قول ثالث مقابل لہذا حتی یلزم ان لاینقض نوم من نام فی غیر سجود مشروع علی ھیاۃ سجود المرأۃ فلا یجوز ان یقول بہ احد فانہ حینئذ لیس الا کنوم المنبطح سواء بسواء بل ھو ھولا یفارقہ الا بقبض فی الایدی والارجل کما لایخفی۔

فاقول: اگر سجدہ کرنے والے سے شرعی سجدہ کرنے والا مراد لیا تو خلاصہ کا حوالہ صحیح ہے ،لیکن اس تقدیر پریہ صرف سجدہ نماز ، سجدہ سہو ، سجدہ تلاوت اور سجدہ شکر کو شامل ہوگا ، اور ان کاکلام اس صورت کا حکم بتانے سے ساقط رہ جائے گا جب بے نیت سجدہ محض ہیات سجدہ ہو یا کوئی غیر مشرو ع سجدہ ہو جیسا کہ بعض لوگ بعد نماز سجدہ کرتے ہیں ، حالاں کہ خلاصہ ، خانیہ ، تحفہ ، بدائع اور حلیہ جن سے اس فصل کی تلخیص کی گئی ہے سب کاکام ان ساری صورتوں کو شامل ہے تو مذکورہ صورتوں کو کلام سے خارج کرنے کی کوئی وجہ نہیں جب کہ ان صورتوں کا بھی حکم دریافت کرنے کی ضرورت موجود ہے ، اور اگر ساجد سے وہ مراد ہے جو ہیأت سجدہ پر ہو ا گرچہ سجدہ کی نیت نہ رکھتا ہو یا وہ سجدہ مشروع نہ ہو تو ضروری ہے کہ اس سے مراد وہ ہیات ہو جو مردو ں کے لئے مسنون ہے کیونکہ وہی حالت نیند کے استغراق سے روکنے والی ہے تو یہ ایسے ہی ہوا جیسے کھڑے کھڑے یا رکوع کی ہیات پر سوجانا ، لیکن یہ کہ ساجد میں عموم مراد لیا جائے ، جیساکہ ان حضرات کی عبارتیں اس کا احاطہ کرتی ہیں جن سے یہ احکام نقل کئے گئے ہیں ، اور خلاصہ میں بھی اس کی طر ف اشارہ ہے اس طر ح کہ اندرون نماز کی تعبیر لفظ ساجد سے کی ہے اور بیرون نماز کی تعبیر ہیات سجدہ سے کی ہے،او رہیات میں بھی عموم مراد لیا جائے،جیساکہ یہ کلام ردالمحتار کا مقتضا ہے اس لئے کہ انہوں نے ہیات کی تفصیل اس کے مقابل ایک تیسرے قول میں ذکر کی ہے اس پر یہ الزام آئے گا کہ جوکسی غیر مشرو ع سجدہ میں سجدہ عورت کی ہیات پر سوجائے تو اس کی نیند ناقض وضو نہ ہو ، تو اس کا کوئی قائل نہیں ہوسکتا۔ کیونکہ اس تقدیر پر یہ سونا بالکل منہ کے بل لیٹ کر سونے کی طرح ہوا بلکہ دونوں بالکل ایک ہوئے ، صرف ہاتھ پاؤں سمیٹنے کا فر ق رہا ، جیسا کہ پوشیدہ نہیں۔

 (یہاں مذکورہ کلام شامی کے تین معنی ذکر کئے اول مراد ہے توکلام ناقص او ربعض صورتو ں کے احاطہ سے قاصر ہوگا،دوم مراد ہو تو وہ خاص مسنون حالت پر سجدہ ہے ، سوم مراد ہو کہ کسی قسم کا بھی سجدہ کرنے والا ہے اور کسی بھی ہیات پر سجدہ کر رہا ہو اور سوجائے تو وضو نہ ٹوٹے گا اس کا کوئی قائل نہیں ہوسکتا ۱۲م)

فـــ: معروضۃ ثالثۃعلیہ۔

وراجعت الخلاصۃ فوجدت نصھا ھکذا فی الاصل قال لاینقض الوضوء النوم قاعدا او راکعا اوساجدا اوقائما ھذا فی الصّلاۃ فان نام خارج الصلاۃ قائما اوعلی ھیاۃ الرکوع والسجود فی ظاھر المذھب لافرق بین الصلاۃ وخارج الصلاۃ ۱؎ اھثم قال اذا نام فی سجود التلاوۃ لایکون حدثا عندھم جمیعا کما فی الصلٰوتیۃ وفی سجدۃ الشکر کذلک عند محمد و ھکذا روی عن ابی یوسف وسواء سجد علی ھیاۃ وجہ السنۃ او غیر السنۃ نحوان یفترش ذراعیہ ویلصق بطنہ علی فخذیہ وعند ابی حنیفۃ یکون حدثا وفی سجد تی السھو لایکون حدثا ؎۱ اھ فافاد ان عموم الھیا ۃ انما ھو فی السجود المشروع کسجود التلاوۃ والسھو عندا لکل والشکر عندھما۔لما لم تشرع سجدۃ الشکر عندہ قال بالنقض فیھا اذالم تکن علی ھیاۃ السنۃ۔

اور میں نے خلاصہ اٹھا کر دیکھا تو اس کی عبارت اس طر ح پائی'' اصل مبسوط میں ہے ، فرمایا: بیٹھ کر ، یا رکوع میں ، یا سجدہ میں یاقیام میں سونے سے وضو نہیں ٹوٹتا ۔یہ اندرون نماز کا حکم ہے اور اگر بیرون نماز کھڑے کھڑے یا رکوع وسجود کی ہیات میں سوگیا تو ظاہر مذہب میں نماز اور بیرون نماز کے درمیان کوئی فر ق نہیں ۔اور آگے فرمایا : سجدہ تلاوت میں سوجانا ان سبھی حضرات کے نزدیک حدث نہیں جیسے کہ سجدہ نماز میں اور سجدہ شکر میں بھی امام محمد کے نزدیک یہی حکم ہے اور ایسا ہی امام ابو سف سے مروی ہے خواہ مسنون طریقہ پر سجدہ یا ہو غیر مسنون طریقہ پر ، جیسے یوں کہ کلائیاں بچھا دے اور پیٹ کو رانوں سے ملادے اور سجدے میں سوجائے ، اور امام ابو حنفیہ کے نزدیک حدث ہوگا اور سجدہ سہو میں حدث نہ ہوگا اھ۔اس کلام سے افادہ فرمایا کہ صرف سجدہ مشرو ع میں ایسا ہے کہ کسی بھی ہیات پر ہو اس میں بندے سے و ضو نہ جائے گا ، سجدہ مشرو ع جیسے سجدہ تلاوت اور سجدہ سہو سب کے نزدیک اور سجدہ شکر صاحبین کے نزدیک ۔ اور سجدہ شکرچوں کہ امام اعظم کے نزدیک مشرو ع نہیں اس لئے وہ اس میں نیند کے ناقض ہونے کے قائل ہیں جب کہ مسنون ہیئت پر نہ ہو۔

 (۱؎ خلاصۃ الفتاوی     کتاب الطہارۃ     الفصل الثالث      مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ ۱ /۱۸)
 (۱؎ خلاصۃ الفتاوی،کتاب الطہارۃ ، الفصل الثالث،مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ  ،۱ /۱۹)

وفی الحلیۃ بعد ماقدمنا عنھا من الکلام علی النوم فی الصّلاۃ وان کان خارج الصلاۃ (فذکر الوجوہ الی ان قال) وان نام قائما او علی ھیاۃ الرکوع والسجود غیر مستند الی شیئ ففی البدائع العامۃ علی انہ لایکون حدثا لان استمساک فیھا باق وفی التحفۃ الاصح انہ لیس بحدث کما فی الصلاۃ وعلیہ مشی فی الخلاصۃ وذکرانہ ظاھر المذھب وعکس ھذا بالنسبۃ الی ھیاۃ الرکوع بالسجود فی الخانیۃ فذکرانہ حدث فی ظاھر الروایۃ والاول ھو المشھور کما فی الذخیرۃ ۱؎ اھ ملخصا

حلیہ کے حوالے سے اندرون نماز سونے سے متعلق جو کلام ہم نے پہلے نقل کیا اس کے بعد اس میں ہے '' اور اگر بیرون نماز ہو (اس کے بعد وہ صورتیں ذکر کیں۔ پھر کہا) اگر کھڑے کھڑے یا رکوع وسجود کی ہیات پر کسی چیز سے ٹیک لگائے بغیر سوگیا تو بدائع میں ہے کہ عامہ علماء اس پر ہیں کہ وضو نہ جائے گا اس لئے کہ ان صورتوں میں بندش باقی رہتی ہے ۔ اور تحفہ میں ہے کہ اصح یہ ہے کہ ایسی نیند حدث نہیں جیسے اندرون نماز اسی پر خلاصہ میں مشی ہے اور ذکر کیا کہ یہی ظاہر مذہب ہے اور ہیات رکوع وسجود سے متعلق خانیہ میں اس کے بر عکس یہ بتایا کہ وہ ظاہر الروایہ میں حدث ہے،اور اول ہی مشہور ہے ، جیسا کہ ذخیرہ میں ہے اھ ملخصا۔

 (۱؎حلیہ المحلی شرح منیۃ المصلی)

فافادان  فـ۱ کلامھم ھذا فی غیر الصلٰوۃ وافادفــ۲ ببقاء الاستمساک ان المراد ھیاۃ السجود المسنونۃ فھذا الذی یشم من عبارۃ ردالمحتار لیس مراد الخلاصۃ ولاالتحفۃ ولا الخانیۃ ولا الذخیرۃ ولا الحلیۃ فلیتنبہ۔

اس سے مستفادہوا کہ ان حضرات کا یہ کلام بیرون نماز سونے کی صورت میں ہے ۔ اور بندش باقی رہنے سے یہ افادہ کیا کہ سجدہ کی مسنون ہیأۃ مراد ہے ۔ تو یہ عموم جو ر د المحتار کی عبارت سے متر شح ہے نہ خلاصہ کی مراد ہے نہ تحفہ کی ، نہ خانیہ ، نہ ذخیرہ ، نہ حلیہ کی ، تو اس پر متنبہ رہنا چاہیئے ۔

فــ۱: معروضۃ رابعۃ علی العلا مۃ ش۔فــ۲: معروضۃ خامسۃ علیہ۔

بقیت اربع :
و(۱ )ھی الھیاۃ المسنونۃ خارج الصلوۃ فی السجدۃ المشروعۃ ا و(۲ )غیرھا(۳ ) وغیرالمسنونۃ فی السجدۃ المشروعۃ فی الصلوۃ او۴ غیرھا۔
فھذہ تجاذبت فیھا الاٰراء ووجدت ھھنا مما اعتمدہ المصنفون فی تصانیفھم المتداولۃ فی المذھب اربعۃ اقوال۔
الاول ان کان علی ھیأۃ المسنونۃ لاینقض ولوخارج الصلوۃ، وعلی غیرھاینقض ولوفیھا۔

اب چار صورتیں باقی رہیں:
(۱) سجدہ کی مسنون ہیات بیرون نماز کسی مشر وع سجدہ میں ہو (۲) یہ ہیات کسی غیر مشرو ع سجدہ میں ہو(۳) غیر مسنون ہیات سجدہ مشرو عہ میں اندرون نماز ہو (۴) یا (یہ ہییات سجدہ مشروعہ) میں بیرون نماز ہو۔
ان ہی چارصورتوں میں آراء کی کش مکش ہے اور یہاں مجھے چار اقوال ملے جن پر مصنفین نے اپنی متداول تصانیف مذہب میں اعتماد کیا ہے ۔
قول اول : سونا اگر سجدہ کی مسنون ہیاۃ پر ہو تو ناقض وضو نہیں اگر چہ بیرون نماز ہو ۔ اور غیر مسنون ہیات پر ہو تو ناقض وضو ہے اگر چہ اندون نماز ہو۔

وھو الذی عولنا علیہ وقدمنا نقلہ عن مراقی الفلاح والمحیط وعقد الفرائد وشرح المنیۃ الصغیر وفی مجمع الانھر لانوم ساجد فی الصلاہ اوخارجہا علی الصحیح عندنا وفی المحیط انما لاینقض نوم الساجد اذا کان رافعا بطنہ من فخذیہ جافیا عضدیہ عن جنبیہ وان ملتصقا بفخذیہ معتمدا علی ذراعیہ فعلیہ الوضوء ۱؎ اھ یہی وہ قول ہے جس پر ہم نے اعتماد کیا ور اسی کو ۱؎مراقی الفلاح ۲؎ محیط ۳؎ عقد الفرائد اور ۴؎منیہ کی شرح صغیر سے ہم نے پہلے نقل کیا، اور ۵؎ مجمع الانہر میں ہے : ناقض وضو نہیں سجدہ کرنے والے کی نیند ، نماز میں ہو یابیرون نما ز، اس قول پر جو ہمارے نزدیک صحیح ہے۔ اور محیط میں ہے سجدہ کرنیوالے کی نیند ناقض اس صورت میں نہیں جب پیٹ ران سے اٹھائے ہوئے بازو کر وٹو ں سے جدا کئے ہو ۔ اور اگر رانوں سے چپکا ہوا، کلائیوں کے سہارے پر رکا ہوا ہوتو اس پر وضو ہے اھ ۔

 (۱؎ مجمع الانہر شرح ملتقی الابحر،کتاب الطہارۃ ،دار احیاء التراث العربی بیروت، ۱ /۲۱)

وقال العلامۃ اکمل الدین البابرتی فی العنایۃ شرح الہدایۃ قولہ بخلاف النوم حالۃ القیام  والقعود و الرکوع والسجود فی الصلاۃ یعنی اذاکان علی ھیاۃ سجود الصلاۃ من تجافی البطن عن الفخذین وعدم افتراش الذر اعین اما اذا کان بخلافہ فینقض ۲؎ اھ

علامہ اکمل الدین با بر تی عنایہ شرح ہدایہ میں لکھتے ہیں ، عبارت ہدایہ ، بخلاف قیام ، قعود ،رکوع اور نماز میں سجدہ کی حالت پر سونے کے ( کہ یہ ناقض نہیں) مراد یہ ہے کہ جب سجدہ نماز کی ہیات پر سویا ہو کہ پیٹ رانوں سے الگ ہو اور کلائیاں بچھی نہ ہو ں لیکن جب اس کے بر خلاف ہو تو ناقض ہے اھ۔

 (۲؎ العنایۃ شرح الہدایۃ علی ہامش فتح القدیر ،کتاب الطہارات ، فصل فی نواقض الوضوء ،مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ، ۱ /۴۳)

وفی الرحمانیۃ عن العتابیۃ وعن اصحابنا ان النوم فی السجود انما لایفسد اذا کان علی الھیاۃ المسنونۃ ۳؎ اھ ۔

رحمانیہ میں عتابیہ سے نقل ہے :اور ہمارے اصحاب سے منقول ہے کہ سجدہ میں سونا صرف اس صورت میں مفسد نہیں جب مسنون ہیات پر ہو اھ۔

 (۳؎ الرحمانیہ )

وفی المعراجیہ کما نقل عنہا فی ذخیرۃ العقبی مانصہ عن الامام الثانی رحمہ اللّٰہ تعالٰی انہ لوتعمد النوم فی السجود ینقض والافلالان القیاس ان یکون ناقضا الا انا استحسناہ فی غیر العمد لان من یکثر الصلاۃ باللیل لایمکنہ الاحتراز عن النوم فیہ فاذا تعمد بقی علی اصل القیاس ۔

معراجیہ کی عبارت جیسا کہ اس سے ذخیرۃ العقبی میں نقل کیا ہے یہ ہے: امام ثانی رحمۃ اللہ تعالی سے روایت ہے کہ اگر سجدہ میں قصدا سوئے تو ناقض ہے ورنہ نہیں اس لئے کہ قیاس یہ ہے کہ اس سے وضو ٹوٹ جائے مگر بلاقصد نیند آنے کی صورت میں ہم نے استحسان سے کام لیا کیونکہ رات میں بکثرت نماز پڑھنے والے کے لئے نیند آنے سے بچنا ممکن نہیں پھر جب قصد سوائے تو حکم اصل قیاس پر باقی رہے گا

وجہ ظاھر الروایۃ ماروی انہ صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم قال اذا نام العبد فی سجودہ یباھی اللّٰہ تعالٰی بہ ملٰئکتہ فیقول انظروا الی عبدی روحہ عندی وجسدہ فی طاعتی وانما یکون جسدہ فیھا اذا بقی وضوء ہ وجعل ھذا الحدیث فی الاسرارعــہ من المشاھیر ولان الاستمساک باق فانہ لوزال لزال علی احد شقیہ ۱؎ اھ

ظاہر الروایہ کی دلیل وہ ہے جو حدیث میں وارد ہے کہ حضورصلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جب بندہ سجدے میں سوجاتا ہے تو اللہ تعالی اس پر ا پنے فرشتوں سے مفاخر ت کرتے ہوئے فرماتا ہے ، میرے بندے کو دیکھو اس کی رو ح میرے پاس ہے اور اس کا جسم میری طاعت میں ہے اس کا جسم طاعت میں اسی وقت ہوگا جب اس کا وضو بر قرار ہو ۔اس حدیث کو اسرار میں مشاہیر سے قرار دیا اوریہ وجہ بھی ہے کہ بندش باقی ہے اس لئے کہ یہ اگرختم ہوجاتی تو وہ ایک طر ف گر جاتا اھ۔

 (عــہ)اخرج معناہ البیہقی عن انس والدار قطنی عن ابی ھریرۃ وابن شاھین عنہ وعن ابی سعید الخدری رضی اللّٰہ تعالٰی عنھم کلہم عن النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم۔ (م)
اس کے ہم معنی بیہقی نے انس سے دارقطنی نے ابو ہریرہ سے ابن شاہین نے حضرت ابو ہریرہ اور ابو سعید خدری رضی اللہ تعالٰی عنہم اوریہ سب حضرات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روای ہیں۔ (ت)

 (۱؎ ذخیرۃ العقبی    کتاب الطہارۃ     بحث نواقض الوضوء      نولکشور کانپور (ہند)    ۱ /۲۵ )

وقــال اعنی العلامۃ یوسف چلپی قبلہ کان یختلج فی خلدی من عنفوان الشباب الی بلوغ درجۃ مطالعۃ معتبرات ھذا الفن ا ن النوم ساجدا ھو النوم مکبا علی الوجہ فما وجہ عدہ غیر ناقض مع وجود کمال الاسترخاء فیہ ثم دفعتہ بحملہ علی وضع سجدۃ الصلٰوۃ من تجافی البطن عن الفخذ وعدم افتراش الذر اعین کما ھو الظاھر من قولہ ساجدا۔

علامہ یوسف چلپی فرماتے ہیں:، اس سے قبل میرے دل میں آغاز شباب سے اس فن کی معتبر کتا بوں کے مطالعہ کے درجہ کو پہنچنے تک یہ خلجان رہتا کہ سجدہ کی حالت میں سونا تو یہی ہے کہ منہ کے بل اوندا سوئے پھر اسے غیر نا قض شمار کرنے کی کیا وجہ ہے جب کہ اس میں اعضا پورے طور سے ڈھیلے پڑجاتے ہیں ۔ پھر اس خلجان کو میں نے یوں دفع کیا کہ مطلب یہ ہے کہ سجدہ نماز کی حالت پر سوئے اس طر ح کہ پیٹ ران سے الگ ہوکلائیاں بچھی ہوئی نہ ہوں جیسا کہ لفظ ''ساجدا''سے ظاہر ہے ۔

ثم وجدت فی بعض الشروح ھذا التوھم مع الدفع بعینہ فقلت الحمدللّٰہ الذی وفقنی باٰراء الفضلاء ۲؎ اھ

پھر ایک شرح میں بعینہ یہی اعتراض وجواب میں نے دیکھا تو خدا کا شکر ادا کیا کہ اس نے مجھے فضلاء کے افکار وآراء کی تو فیق سے نوازا اھ۔

 (۲؎ ذخیرۃ العقبی    کتاب الطہارۃ     بحث نواقض الوضوء      نولکشور کانپور (ہند)    ۱ /۲۵ )

وستأتی ان شاء اللّٰہ تعالٰی عبارۃ شرح الملتقی للمصنف والمنح۱۳ والطحطاوی۱۴ والھدایۃ۱۵ والکافی ۱۶والفتح۱۷ والحلیۃ۱۸ والدرر۱۹ بل ونصوص المتون کمختصر القدوری۲۰ والبدایۃ۲۱ والوقایۃ۲۲ والنقایۃ۲۳ والکنز۲۴ والاصلاح والغرر۲۶ والملتقی ۲۷ والتنویر۲۸ ونور الایضاح ۲۹ وبہ جزم فی الدر المختار علی ماقرر فی ردالمحتار حیث قال علی قولہ المارو ساجدا علی الہیاۃ المسنونۃ ولو فی غیر الصلاۃ علی المعتمد ذکرہ الحلبی ۱؎ مانصہ قولہ ولو فی غیر الصلاۃ مبالغۃ علی قولہ علی الھیاۃ المسنونۃ لا علی قولہ وساجدا یعنی ان کونہ علی الھیاۃ المسنونۃ قید فی عدم النقض ولو فی الصلاۃ وبھٰذا التقریر یوافق کلامہ ماعزاہ الی الحلبی فی شرح المنیۃ کما سیظھر ۲؎ اھ

آگے ان شاء اللہ تعالی مصنف کی شرح ملتقی منح الغفار ہدایہ کافی فتح القدیرحلیہ دررالحکام کی عبارتیں آئیں گی۔ بلکہ مختصر قدوری بدایہ وقایہ نقایہ کنزالدقائق اصلاح غرر الاحکام ملتقی الابحر ، اور تنویر الابصار ، اور  نورالایضاح جیسے متون کے نصوص بھی آئیں گے اور اسی پر در مختار میں بھی جز م کیا ہے اس تقریر کے مطابق جو رد المحتار میں پیش کی ہے ۔ اس طرح کہ درمختار کی سابقہ عبارت : وہ نیند ناقض نہیں جو مسنون ہیات پر سجدہ کی حالت میں ہو، اگر چہ غیر نماز میں یہی معتمد ہے ، اسے حلبی نے بیان کیا '' پر رد المحتار میں یہ لکھا ہے ، ان کا قول '' اگرچہ غیر نماز میں'' ان کے قول '' مسنون ہیات '' پر مبالغہ کے لئے ہے ، اس سے ان کے قول ساجد ا(بحالت سجدہ) پر مبالغہ مقصود نہیں ۔ یعنی اس کا مسنون ہیات پر ہونا وضو نہ ٹو ٹنے کے لئے قید ہے '' اگر چہ نماز میں ہو '' اور کلام شارح کی یہی تقریر کی جائے جبھی ان کا کلام اس کے موافق ہوگا جس پر انہوں نے حلبی کی شرح منیہ کا حوالہ دیا ہے جیسا کہ آگے ظاہر ہوگا اھ ،

 (۱؎ الدر المختار    کتاب الطہارۃ     مطبع مجتبائی دہلی     ۱ /۲۶)
(۲؎ ردالمحتار     کتاب الطہارۃ     باب نواقض الوضوء     دار احیاء التراث العربی بیروت      ۱ /۹۶)

وما ظھر بعدھو قولہ عن الحلبی انہ اعتمد فی شرحہ الصغیر ماعزا الیہ الشارح من اشتراط الہیاۃ المسنونۃ فی سجود الصلاۃ وغیرھا ۳؎ اھ ۔

آگے علامہ شامی نے یہ بتا یا ہے کہ حلبی نے اپنی شرح صغیر میں اسی پر اعتماد کیا ہے کہ سجدہ نماز وغیر نماز دونوں ہی میں ہیات مسنونہ کی شرط ہے جیسا کہ شارح نے اسے ان کے حوالے سے بتا یا اھ۔

 (۳؎ ردالمحتار     کتاب الطہارۃ     باب نواقض الوضوء     دار احیاء التراث العربی بیروت      ۱ /۹۶)

ورأیتنی کتبت علیہ۔ میں نے دیکھا کہ رد ا لمحتار کے اس کلام پر میں نے یہ حاشیہ لکھا ہے ۔

اقول : فـ۱ اوردوا النص بلفظ لاوضوء علی من نام قائما اوقاعدا او راکعا او ساجدا کما فی الہدایۃ وغیرھا ولاقتران ھذہ الارکان تسبق الاذھان الی الصلاۃ وبہ استدل اصحابنا علی ان المراد فی اٰخر اٰیتی الحج رکوع الصلاۃ وسجودھا فلیس فیھا سجود التلاوۃ فیسری الی شمول الحدیث سجود غیر الصلاۃ نوع خفاء حتی قصر ذلک فی البدائع والتبیین وغیرھما علی الصلٰبیۃ قائلین ان النص انما ورد فی الصلاۃ کما سیاتی فاذن عدم الانتقاض بالنوم فی السجود اظھر فی الصلاۃ واشتراط الھیاۃ المسنونۃ لعدم النقض اظھر فی غیرھا لظاھر اطلاق النص فی الصلاۃ والمبالغۃ انما تکون بذکر الخفی فان فــ۲ نقیض مدخول الوصلیۃ یکون اولی بالحکم منہ۔

اقول: مصنفین اپنی عبارت ان الفاظ میں لائے کہ'' اس پر وضو نہیں جو قیام یا قعود یا رکوع یا سجود کی حالت میں سوجائے '' جیسا کہ ہدایہ وغیرہامیں ہے ان ارکان کے ایک ساتھ ہونے کی وجہ سے ذہن نماز کی طر ف جاتا ہے اور ساتھ ہونے ہی کی بنیاد پر ہمارے اصحاب نے یہ استدلال کیا ہے کہ سورہ حج کے آخر کے دونوں آیتوں میں نماز کا رکوع وسجود مراد ہے تو ان آیتوں میں سجدہ تلاوت نہیں ، جب ارکان مذکورہ کے ایک ساتھ بیان ہونے سے ذہن نماز کی طرف چلا جاتا ہے تو غیر نماز کے سجدے کو حدیث کے شامل ہونے میں ایک طر ح کا خفا آجاتا ہے یہاں تک کہ بدائع او رتبیین وغیرہما میں صرف سجدہ نماز کے ذکر پر اکتفاء کی ہے اور کہا ہے کہ نص صرف نماز کے بارے میں وارد ہے جیسا کہ آگے آئے گا ، جب یہ صورت حال ہے تو سجدہ میں نیند آنے سے وضو نہ ٹوٹنے کا حکم نماز کے بارے میں زیادہ ظاہر ہے اور وضو نہ ٹوٹنے کے لئے ہیأت مسنونہ کی شرط لگانا غیر نماز سے متعلق زیادہ ظاہر ہے کیونکہ نماز سے متعلق تو نص کا ظاہر ی اطلاق خود ہی موجود ہے اور مبالغہ خفی کو ذکر کر کے کیا جاتا ہے اس لئے کہ کلمہ شرط وصلیہ کے مدخول کی نقیض حکم سے متعلق مدخول سے زیادہ اولی ہواکر تی ہے ۔( مثلا کہا جائے تم اپنے بھائی کے ساتھ انصاف کرو اگر چہ تمہارے ساتھ ناانصافی کرے ، اس سے معلوم ہوجاتا ہے کہ اس کے انصاف کرنے کی صورت میں انصاف کا حکم بدرجہ اولی ہوگا ۱۲م)

فــ۱:معروضۃ علی العلامۃ ش۔فــ۲:نقیض مدخول لو وان الوصلیۃ یکون اولی بالحکم منہ۔

فان قیل ولو فی الصلاۃ یکن مبالغۃ علی قولہ الھیاۃ المسنونۃ کما ذکرہ المحشی رحمہ اللّٰہ تعالٰی لان اشتراط الھیاۃ ھوالخفی فی الصلاۃ لاعدم النقص فی السجودا مااذا قال الشارح رحمہ اللّٰہ تعالٰی ولو فی غیر الصلاۃ فالمبالغۃ علی قولہ ساجدا لاعلی قولہ الھیاۃ المسنونۃ لان اشتراط الھیاۃ فی غیر الصلاۃ امر ظاھر وانما الخفی عدم النقض لاجرم ان العلامۃ المحشی ما جعلہ مبالغۃ علی الھیاۃ لم یمکنہ تعبیرہ الا بلو فی الصلاۃ ولو لا نقلہ فی المقولۃ ولو غیر الصلاۃ کما ھو فی نسخ الدر بایدینا لظننت ان لفظۃ غیر من کلام الدر ساقطۃ من نسخۃ المحشی۔

تو اگر کہا جائے '' اگر چہ نماز میں '' تو یہ ان کے قول '' ہیات مسنونہ '' پر مبالغہ ہوگا ، جیسا کہ محشی رحمہ اللہ تعالی نے ذکر کیا ، اس لئے کہ نماز کے اندر ہیات کی شرط خفی ہے ، سجدے میں وضو نہ ٹوٹنے کا حکم خفی نہیں ، لیکن جب شارح نے فرمایا'' اگر چہ غیر نماز میں '' تو یہ ان کے قول ''ساجدا '' پر مبالغہ ہو ا، ہیات مسنونہ پر مبالغہ نہ ہوا ، اس لئے کہ غیر نماز میں ہیات کی شرط ہونا کھلی ہوئی بات ہے ، خفی صرف یہ حکم ہے کہ اس میں بھی وضو نہ ٹوٹے گا ، یہی وجہ ہے کہ جب علامہ محشی نے اسے ہیات پر مبالغہ قرار دے دیا تو نا چار انہیں یہ تعبیر کرنا پڑی کہ'' اگر چہ نماز میں ہو'' درمختار کے جو نسخے ہمارے پا س ہیں ان میں '' ولو فی غیر الصلوۃ''ہے اور حاشیہ لکھتے وقت علامہ شامی نے بھی اسی طرح نقل کیا '' قولہ ولو فی غیر الصلوۃ'' اگر ان کے حاشیے میں یہ نقل نہ ہوتا تو میں سمجھتا کہ ان کے پاس جو نسخہ درمختار تھا اس میں لفظ '' غیر '' ساقط تھا ۔

اما التشبث بذکر اعتماد الحلبی وانما اعتمد تعمیم اشتراط الھیاۃ سجود الصلاۃ ایضا۔

اب رہا علامہ شامی کااپنی تقریر کی تائید میں اعتماد حلبی کا تذکرہ، او ریہ کہ انہوں نے اسی پر اعتماد کیا ہے کہ وضو نہ ٹوٹنے کے لئے ہیات مسنونہ کی شرط میں سجدہ نماز بھی شامل ہے

فـاقـول لعلہ فــ لایتعین ھذا الاعتماد مرادا فانہ ذکر فی الغنیۃ قول ابن شجاع ان النوم ساجدا فی غیر الصلٰوۃ ناقض مطلقا ثم نقل عن الخلاصۃ والکفایۃ ان فی ظاھر المذھب لافرق بین الصلاۃ وخارج الصلاۃ وعن الہدایۃ انہ الصحیح ثم عن القمی التفصیل بالنقض ان کان علی غیر ھیاۃ السنۃ وعدمہ ان کان علیہا ثم حقق ان المناط وجود نہایۃ الاسترخاء وان القاعدۃ الکلیۃ المعتمدۃ کما سیجیئ ان شاء اللّٰہ تعالٰی۔

فاقول شارح کی مراد بھی یہی اعتماد ہے یہ متعین نہیں ، اس لے کہ شیخ حلبی نے غنیہ میں پہلے ابن شجاع کا یہ قول ذکر کیا ہے کہ '' غیر نماز میں بحالت سجدہ سونا مطلقا ناقض ہے '' پھر خلاصہ اور کفایہ سےنقل کیا ہے کہ ظاہر مذہب میں نماز اور بیرون نماز کا کوئی فر ق نہیں ۔ اور ہدایہ سے نقل کیا ہے کہ یہی صحیح ہے پھر علامہ قمی سے یہ تفصیل نقل کی ہے کہ '' اگر خلاف سنت طریقہ پر ہو تو وضو ٹو ٹ جائے گا اور بطریق سنت ہو تو نہ ٹوٹے گا'' پھر یہ تحقیق فرمائی ہے کہ مداراس پر ہے کہ انتہائی حد تک اعضاء ڈھیلے پڑجانے کی صورت پائی جائے اور معتمد قاعدہ کلیہ بیان کیاہے جیسا کہ آگے ان شاء اللہ تعالی آئے گا ۔

فــ: معروضۃ اخری علیہ۔

فافادان السجود علی ھیاۃ السنۃ غیر ناقض ولو خارج الصلاۃ وانہ المعتمد فصح العزومن ھذا الوجہ ایضا وحینئذ یکون کلام الشارح رحمہ اللّٰہ تعالٰی ساکتا عن حکم الساجد فی الصلاۃ علی غیر ھیاۃ السنۃ۔

تو انہوں نے یہ افادہ کیا کہ مسنون طریقہ پر سجدہ ناقض وضو نہیں اگر چہ بیرون نماز ہو اور یہ کہ یہی معتمد ہے تو اس طر ح بھی ان کی جانب شارح کا انتساب اور ان کا حوالہ صحیح ہوگیا اب یہ بات رہ جاتی ہے کہ اندرون نماز کا سجدہ اگر غیر مسنون طریقہ پر ہوا اور اس میں سوجائے تو کیا حکم ہے ؟ وضو ٹوٹے گا یا نہیں ؟ اس کے ذکر سے شارح کا کلام ( ہماری تقریر کے مطابق) ساکت ٹھہر ے گا ۔

فان قلت مدخول الوصلیۃ ونقیضہ یشترکان فی الحکم وان کان النقیض اولی بہ فیکون ھذا قیدا فی الصلاۃ ایضا۔

اگر یہ کہئے کہ کلمہ شرط وصلیہ کا مدخول اور اس کی نقیض دونوں ہی حکم میں شریک ہوتے ہیں اگرچہ نقیض حکم کے معاملہ میں اولی ہوتی ہے تو یہ قید نماز میں بھی ہوگی ( اور شارح کے کلام کا مطلب یہ ہوگا کہ نماز میں بھی عدم نقض کے لئے طریقہ مسنونہ کی شرط ہے )

قلت کلاّ وانما یفید ان الحکم بھذا القید یعم الصورتین ومفہومہ نفی العموم بغیر ھذا ماعموم النفی بدونہ فلا وذلک ان الواو فی الوصلیۃ کانھا عاطفۃ حذف المعطوف علیہ لظہورہ فقولہ تعالٰی یؤثرون علی انفسھم ولو کان بھم خصاصۃ کانہ قیل یوثرون ولو کان بھم خصاصۃ کما بینتہ فی المعتمد المستند شرح المعتقد المنتقد ۔

تو میں کہوں گا : ایسا نہیں اس کا مفادصرف یہ ہے کہ اس قید کے ساتھ ( عدم نقض کا)حکم ( نماز وغیر نماز) دونوں صورتوں کو عام ہے اور اس کا مفہوم یہ ہوگا کہ اس قید کے بغیر '' عدم نقض''کا حکم دونوں کو عام نہیں ، یہ مفہوم نہیں ہوسکتا کہ اس قید کے بغیر '' نقض ''کا حکم دونوں کو عام ہے وجہ یہ ہے کہ کلمہ شرط وصلیہ کے ساتھ '' واؤ'' گویا عاطفہ ہوتا ہے جس کا معطوف علیہ ظاہر ہونے کے باعث حذف کردیا جاتا ہے ، تو ارشاد باری تعالی یوثرون علی انفسھم ولو کان بھم خصاصۃ کا معنی یہ ہے کہ گویا فرمایا گیا یوثرون لولم تکن بھم خصاصۃ ولوکان بھم خصاصۃ اپنے اوپر ترجیح دیتے ہیں ، اگر انہیں سخت محتاجی نہ ہو '' او راگر انہیں سخت محتاجی ہو تو بھی جیساکہ میں نے اسے المعتقد المنتقد کی شرح المعتمد المستند میں بیان کیا ہے ۔

فالمعنی لاینقض النوم ساجدا علی الھیاۃ المسنونۃ لافی الصلاۃ ولا فی غیرھا ولا کذلک النوم علی غیر الھیاۃ ای فانہ ینقض فی احدھما دون الاٰخر اوفیہما معاً کل محتمل۔

اب عبارت شارح کا معنی یہ ہوگا کہ مسنون ہیات پر سجدے کی حالت میں سوجانا ناقض وضو نہیں ، نہ نماز میں اور نہ غیر نماز میں اور مسنون طریقے کے خلاف سونے کا یہ حکم نہیں ''یعنی وہ ناقض ہے صرف ایک میں دوسرے میں نہیں ، یا دونوں ہی میں ناقض ہے ، ہر ایک کا احتمال ہے ۔

وبعد اللتیا والتی لوقال الشارح ساجدا ولوفی غیر الصلاۃ علی الھیاۃ المسنونۃ ولو فیھا لکان اظھر وازھر ولاتی بالمبالغتین معاواللّٰہ تعالٰی اعلم بمراد عبادہ وسیستبین لک تحقیق ھذا القول المنیران شاء المولی القدیر سبحنہ وتعالٰی عن ندید ونظیر۔

اس بحث وتمحیص کے بعد عرض ہے کہ اگر شارح یوں فرماتے   ''ساجدا ولو فی غیر الصلوۃ علی الھیاۃ المسنونۃ ولو فیھا ''، ناقض نہیں حالت سجدہ میں سونا اگر چہ غیر نماز میں ہو ، بشرطیکہ مسنون ہیات پر ہو اگر چہ اندرون نماز ہو '' تو زیادہ واضح اور رو شن ہوتا اور دونوں ہی مبالغے حاصل ہوجاتے ( یعنی حالت سجدہ میں سونے سے غیر نماز میں بھی وضو نہیں ٹوٹتا مگر شرط یہ ہے کہ مسنون طریقے پر ہو اور یہ شرط نماز میں بھی ہے تو اگر غیر مسنون طریقے پر سجدہ نماز کی حالت میں بھی سوجائے تو وضو ٹوٹ جائے گا ۱۲م) اور خدائے بر تر ہی کو اپنے بندوں کی مراد کا خوب علم ہے آپ کے سامنے اس روشن کلام کی تحقیق آگے واضح ہوگی اگر رب قدیر کی مشیت ہوئی اسے پاکی ہے اور وہ ہر مقابل ونظیر سے بر تر ہے ۔

الثانی: ان کان فی الصلاۃ لاینقض اصلا وخارجہا ینقض ولو فی سجود مشروع بوجہ مسنون قدمنا نقلہ عن الخانیۃ عن الامام شمس الائمۃ الحلوانی وانہ ھو ظاھر الروایۃ عندہ ۔

قول دوم : سجدہ نماز میں سونا بالکل ناقض نہیں ، اور بیرون نماز ناقض ہے اگر چہ مسنون طریقے پر مشرو ع سجدے میں ہو ، اسے ہم خانیہ کے حوالے سے امام شمس الائمہ حلوانی سے نقل کر آئے ہیں او ریہ بھی نقل کیا ہے کہ یہی ان کے نزدیک ظاہر الروایہ ہے ۔

وقال فی المنیۃ ان نام فی الصلاۃ قائما او راکعا اوقاعدا اوساجدا فلا وضوء علیہ وان کان خارج الصلاۃ قام علی ھیاۃ الساجد ففیہ اختلاف المشائخ وظاھر المذھب انہ یکون حدثا ۱؎ اھ

اورمنیہ میں ہے اگر نماز کے اندر قیام یا رکوع یا قعود یا سجود کی حالت میں سوجائے تو اس پر وضو نہیں ، اور اگر سجدہ کرنے والے کے طریقے پر نماز کے باہر سوجائے تو اس کے بارے میں اختلاف مشائخ ہے اور ظاہر مذہب یہ ہے کہ اس سے وضو ٹو ٹ جائے گا اھ۔

 (۱؎ منیۃ المصلی،فصل فی نواقض الوضوء ،مکتبہ قادریہ جامعہ نظامیہ رضویہ لاہور ، ص ۹۴و۹۵)

وقال شارحہا العلامۃ ابراھیم قال ابن الشجاع لایکون حدثافی ھذہ الاحوال فی الصلاۃ اما خارج الصلاۃ فیکون حدثا والیہ مال المصنف حتی قال ظاھر المذھب ان یکون حدثا ۲؎ اھ

منیہ کے شارح علامہ ابراہیم حلبی فرماتے ہیں : ابن شجاع نے فرمایا ان حالتوں میں اندرون نماز سونے سے وضو نہ جائے گا اور بیرون نماز ہو تو وضو ٹوٹ جائے گا ، اور اسی کی طر ف مصنف بھی مائل ہوئے کہ انہوں نے فرمایا ظاہرمذہب یہ ہے کہ اس سے وضو ٹوٹ جائے گا

 (۲؎ غنیہ المستملی شرح منیۃ المصلی ،فصل فی نواقض الوضوء، سہیل اکیڈیمی لاہور  ،ص۱۳۸ )

وفی الفتاوی السراجیۃ اذا نام فی سجدۃ التلاوۃ انتقض وضوؤہ بخلاف سجدۃ الصلاۃ ۳؎ اھ اور فتاوی سراجیہ میں ہے :سجدہ تلاوت میں سوجائے تو وضو ٹو ٹ جائے گا بخلاف سجدہ نماز کے اھ ۔

 (۳؎ الفتاوی السراجیۃ ،کتاب الطہارۃ،باب یاینقض الوضوء نولکشور ،لکھنو ص ۳)

الثالث : لانقض فی الصلاۃ مطلقا اما خارجہا فبشرط ھیأۃ السنۃ والا نقض۔

قول سوم : نماز میں مطلقا وضو نہ ٹوٹے گا  اور بیرون نماز وضونہ ٹوٹنے کے لئے شرط ہے کہ سجدہ ہیئت سنت پر ہو  ورنہ ناقض ہے۔

قــال الامام الزیلعی فی التبیین النائم قائما او راکعا اوساجدا ان کان فی الصلاۃ لاینتقض وضوءہ لقولہ صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم لاوضوء علی من نام قائما او راکعا او ساجدا وان کان خارج الصلاۃ فکذلک فی الصحیح ان کان علی ھیاۃ السجود بان کان رافعا بطنہ عن فخذیہ مجافیا عضدیہ عن جنبیہ والا انتقض ۱؎ اھ

امام زیلعی تبیین الحقائق میں لکھتے ہیں : قیام یا رکوع یا سجود کی حالت میں سونے والا اگر نماز میں ہے تو اس کا وضو نہ ٹو ٹے گا اس لئے کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد ہے : ''اس پر وضو نہیں جو قیام یا رکوع یا سجدہ کی حالت میں سوجائے ''اور اگر بیرون نماز ہے تو بر قول صحیح یہی حکم ہے بشرطیکہ سجدہ کی ہیات پر ہو اس طر ح کہ پیٹ رانوں سے اٹھائے ہوئے ، بازو کرو ٹوں سے جداکئے ہوئے ، ورنہ وضو ٹوٹ جائے گا اھ

 (۱؎ تبیین الحقائق شرح کنز الدقائق ،کتاب الطہارۃ،دار الکتب العلمیۃ بیروت ،  ۱/ ۵۲و۵۳)

وفــی الحلیۃ بعد ماقدمنا عنہ ان ھذا کلہ فی الصلاۃ وان کان خارج الصلاۃ (فذکر الوجوہ الی ان ذکر النوم علی ھیاۃ السجود فقال) ذکر غیر واحد من المشائخ فی ھذہ المسألۃ عن علی بن موسی القمی انہ قال لانص فی ذلک ولکن یظھر ان سجد علی الوجہ المسنون لایکون حدثا وان سجد علی غیر وجہ السنۃ یکون حدثا قال فی البدائع وھو اقرب الی الصواب لان فی الوجہ الاول الاستمساک باق والاستطلاق منعدم وفی الوجہ الثانی بخلافہ الا اناترکنا ھذا القیاس فی حالۃ الصلاۃ بالنص قلت وقد ذکر رضی الدین فی المحیط ھذا التفصیل نقلا عن النوادر ۲؎ اھ

حلیہ کی عبارت جو پہلے ہم نے نقل کی اس کے بعد یہ ہے یہ سب نماز کے اندر ہے اگر بیرون نماز ہو ( اس کے بعد صورتیں بیان کیں ، یہاں تک کہ ہیات سجدہ پر سونے کا ذکر کیا تو فرمایا) متعدد مشائخ نے اس مسئلہ میں علی بن موسی قمی سے نقل کیا کہ انہوں نے فرمایا ، اس بارے میں کوئی نص نہیں لیکن ظاہر یہ ہے کہ اگر مسنون طریقے پر سجدہ کرے تو وضو نہ ٹو ٹے گا اور اگرغیر طریق سنت پر سجدہ کرے تووضو ٹوٹ جائے گا ، بدائع میں فرمایا ، یہ صواب سے قریب تر ہے اور اس لئے کہ پہلی صورت میں بندش باقی ہے اور آزادی ( ڈھیلا پن ) معدوم ہے ، اور دوسری صورت میں اس کے بر خلاف ہے لیکن ہم نے یہ قیاس حالت نماز میں نص کی وجہ سے ترک کردیا ، میں کہتاہوں ، رضی الدین نے محیط میں یہ تفصیل نوادر سے نقل کرتے ہوئے ذکر کی ہے اھ

 (۲ ؎ حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی)

وفی الغنیۃ فی مسائل النوم خارج الصلاۃ بعد ماذکر عن علی بن موسی مامر من التفصیل ھذا ھو مراد من صحح ھذا القول (ای عدم النقض بالنوم علی ھیاۃ ساجد خارج الصلاۃ) اما لوکان علی غیر الھیاۃ المسنونۃ فلا شک فی النقض لوجود نھایۃ استرخاء المفاصل المذکورفی الحدیث (ثم قال بعد نقل کلام نفیس عن الکافی حاصلہ ان المراد بقولہ صلی اللّٰہ تعالی علیہ وسلم انہ اذا اضطجع استرخت مفاصلہ کمال الاسترخاء فان اصلہ حاصل بنفس النوم ولو قائما) فجمیع کلام الشیخ حافظ الدین یفید ان المراد بالسجود الذی لاینتقض الوضوء بالنوم فیہ السجود الذی ھو مثل الرکوع والقیام فی عدم نہایۃ الاسترخاء وبقاء بعض التماسک وعدم السقوط واذا لم یکن السجود علی الھیاۃ المسنونۃ فقد حصل نھایۃ الاسترخاء ولم یبق بعض التماسک و وجد السقوط فالحاصل ان القاعدۃ الکلیۃ المعتمد علیہا فی النقض بالنوم وجود کمال الاسترخاء مع عدم تمکن المقعدۃ فبھذا ینبغی ان یؤخذ عندالاختلاف واشتباہ الحال الاانھم اخرجوا عن ھذہ القاعدۃ نوم الساجد علی غیر الھیاۃ المسنونۃ فی الصلاۃ ۱؎ اھ مزید امنا مابین الاھلۃ۔

اور غنیہ کے اند بیرون نماز نیند کے مسائل کے تحت علی بن موسی کے حوالے سے ذکر شدہ تفصیل کے بعدلکھتے ہیں '' جس نے اس قول کو صحیح کہا اس کی یہی مراد ہے (یعنی سجدہ کرنے والے کی ہیات پر بیرون نماز سونے سے وضو نہ ٹوٹے گا )لیکن اگر طریقہ مسنونہ کے بر خلاف ہو تو ا س میں کوئی شک نہیں کہ وضو ٹوٹ جائے گا اس لئے کہ جوڑوں کا انتہائی ڈھیلا پڑنا جو حدیث میں مذکور ہے وہ پالیا جائے گا ( اس کے بعد کافی کے حوالے سے ایک نفیس کلام رقم کیا جس کا حاصل یہ ہے کہ حضور صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کے ارشاد ''انہ اذا اضطجع استر خت مفاصلہ وہ جب کروٹ سے لیٹے گا تو اس کے جوڑ ڈھیلے پڑجائیں گے '' میں استر خاسے مراد کمال استر خا ہے یعنی ڈھیلے پڑنے کا مطلب کامل طور سے ڈھیلے پڑجانا اس لئے کہ اصل استر خا تو محض سونے ہی سے حاصل ہوجاتا ہے خواہ کھڑے کھڑے ہی سوئے ) آگے لکھتے ہیں: تو شیخ حافظ الدین نسفی (صاحب کافی) کے پورے کلام سے یہ مستفاد ہے کہ وہ سجدہ جس میں سونے سے وضو نہیں ٹوٹتا ، اس سے مراد وہی سجدہ ہے جو انتہائی ڈھیلاپن نہ ہونے ، کچھ بندش باقی رہنے ، اور ساقط نہ ہونے میں رکوع اور قیام کی طر ح ہو ، او رسجدہ جب مسنون طریقے پر نہ ہوگا تو انتہائی ڈھیلاپن موجود ہوگا ، تھوڑی بندش بھی باقی نہ رہ جائیگی او رگر بھی جائے گا ، تو حاصل یہ نکلا کہ نیند سے وضو ٹوٹنے کے معاملے میں قاعدہ کلیہ معتمد ہ یہ ہے کہ اعضاء پورے طور سے ڈھیلے پڑجائیں اور مقعد کو استقرار بھی حاصل نہ ہو ، اختلاف اور اشتباہ حال کی صورت میں اسی قاعدے کو لینا چاہئے ، مگر حضرات علماء نے نماز کے اندر مسنون طریقہ کے خلاف سجدہ کرنے والے کی نیند کو اس قاعدے سے مستثنی کردیا ہے اھ عبارت غنیہ ہلالین کے درمیان ہمارے اضافہ کے ساتھ ختم ہوئی

 (۱؎ غنیۃ المستملی شرح منیۃ المصلی      فصل فی نواقض الوضوء       سہیل اکیڈ یمی لاہور     ص۱۳۸و۱۳۹)

الرابع؛  کالثالث غیر الحاق کل سجود مشروع بسجود الصلاۃ فلا تشترط الھیاۃ الا فیما لیس سجودا مشروعا وقد قدمنا نص الخلاصۃ مع ایضاحہ وفی البحر الرائق قید المصنف بنوم المضطجع والمتورک لانہ لاینقض نوم القائم والقاعد والراکع والساجد مطلقا فی الصلاۃ وان کان خارجہا فکذلک الا فی السجود فانہ یشترط ان یکون علی الہیاۃ المسنونۃ لہ وھذا ھو القیاس فی الصلاۃ الا انا ترکناہ فیھا بالنص کذا فی البدائع وصرح الزیلعی بانہ الاصح وسجدۃ التلاوۃ فی ھذا کالصلبیۃ وکذا سجدۃ الشکر عند محمد خلافا لابی حنیفۃ وکذا فی فتح القدیر ۱؎ اھ

قول چہارم: یہ بھی قول سوم ہی کی طر ح ہے ( کہ سجدہ نماز میں کسی طر ح بھی ہونیند آنے سے وضو نہ ٹوٹے گا اور بیرون نماز عدم نقض کے لئے ہیات سنت پر ہونا شرط ہے ) فرق یہ ہے کہ اس میں ہر سجدہ مشرو ع کو سجدہ نماز ہی کے ساتھ ملادیا ہے تو ہیات کی شرط صرف اس میں ہے جو سجدہ مشرو ع نہ ہو ، اس بارے میں خلاصہ کی عبارت مع تو ضیح کے ہم پیش کر آئے ہیں ، اور البحر الرائق شرح کنزالدقائق میں ہے '' مصنف نے قید لگائی کہ کرو ٹ لیٹنے والے اور سرین پر بیٹھنے والے کی نیند ہو ( تو وضو ٹوٹے گا) اس لئے کہ قیام ، قعود ، رکوع او رسجود والے کی نیند نماز میں مطلقا ناقض نہیں اور بیرون نماز ہو تو بھی یہی حکم ہے مگر سجدہ سے متعلق یہ شرط ہے کہ مسنون ہیات پر ہو قیاس یہ تھا کہ نماز میں بھی یہ شرط ہو مگر ہم نے نماز کے بارے میں نص کی وجہ سے قیاس ترک کردیا ۔ ایسا ہی بدائع میں ہے اور زیلعی نے تصریح فرمائی ہے کہ یہی اصح ہے ۔ اور سجدہ تلاوت اس بارے میں سجدہ نماز کی طر ح ہے اور اسی طرح امام محمد کے نزدیک سجدہ شکر بھی ہے بخلاف امام ابو حنیفہ کے اور اسی طر ح فتح القدیر میں بھی ہے اھ ''

 (۱؎ البحر الرائق ، کتاب الطہارۃ ، ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ، ۱/ ۳۸)

اقول اولا: لم فـــ۱ یعتمدہ فی الفتح بل عقبہ بقولہ کذا قیل۔ اقول اولا: فتح القدیر میں اس پر اعتماد نہ کیا بلکہ اسے ذکر کرنے کے بعد یہ لکھا کذا قیل (ایسا ہی کہا گیا)

فــــ۱: تطفل علی البحر

وثانیا: فـــ۲  المشار الیہ بھذا فی قولہ وسجدۃ التلاوۃ فی ھذا فی عبارۃ الفتح غیرہ فی عبارۃ البحر فان البحر جعلہا کالصلبیۃ فی عدم اشتراط الھیاۃ والفتح لم یعرج علی ھذا اصلا بل اسقط من ھذا القیل الذی ھو لصاحب الخلاصۃ قولہ سواء سجد علی وجہ السنۃ او غیر السنۃ فالمشار الیہ فی قولہ ھو عدم النقض فی السجود علی ھیاۃ السنۃ ولذا قال بعد قولہ کذا قیل ردا علیہ مانصہ وقیاس ماقدمناہ من عدم الفرق بین کونہ فی الصلاۃ اوخارجہا یقتضی عدم الخلاف فی عدم الانتقاض بالنوم فیھا (ای فی سجدۃ الشکر وان کان بین الامام وصاحبیہ خلاف فی مشروعیتھا) نعم ینتقض علی مقابل الصحیح ھذا قول ابن شجاع بنقض مطلقا نقض خارج الصلوۃ اھ ۱؎ مزیدا منا مابین الاھلۃ ۔

ثانیا: عبارت '' سجدۃ التلاوۃ فی ھذا''  ( اس )کامشار الیہ فتح القدیر کی عبارت میں اور ہے بحر کی عبارت میں اور اس لئے کہ صاحب بحر نے سجدہ تلاوت کو ہیات کی شرط نہ ہونے کے بارے میں سجدہ نماز کی طر ح قرار دیا ہے اور صاحب فتح نے اس کا کوئی ذکر ہی نہ چھیڑابلکہ یہ قول جو صاحب خلاصہ کا ہے اس سے یہ عبارت '' سواء سجدعلی وجہ السنۃ اوغیر السنۃ ''  (خواہ بطور سنت سجدہ کرے یا خلاف سنت )ساقط کردی ، تو ان کو عبارت میں مشار الیہ '' ہیات سنت پر سجدہ کی صورت میں وضوکا ٹوٹنا ہے ''اسی لئے انہوں نے کذاقیل لکھنے کے بعد اس کی تردید میں یہ بھی لکھاپہلے جوہم نے ذکر کیا کہ اندرون نماز اور بیرون نماز ہونے کا کوئی فر ق نہیں اس پر قیاس کا تقاضایہ ہے کہ اس میں(یعنی سجدہ شکر میں) نیند آنے سے وضونہ ٹوٹنے میں اختلاف نہ ہو(اگر چہ اس کے مشروع ہونے سے متعلق امام اور صاحبین کے درمیان اختلاف ہے) ہاں اس میں سونا ناقض وضو ہے اس قول پر جو صحیح کے مقابل ہے (وہ ابن شجاع کاقول ہے کہ خارج نماز مطلقا وضو ٹوٹ جائے گا)اھ ، عبارت فتح ہلالین کے درمیان ہمارے اضافوں کے ساتھ ختم ہوئی ۔

 (۱؎ فتح القدیر ، کتاب الطہارات ، فصل فی نواقض الوضوء ،مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ، ۱/ ۴۵)

فــــ۲: تطفل اخر علیہ

وانما الذی قدم ھو قولہ تحت قول الہدایۃ بخلاف النوم فی الرکوع والسجود فی الصلاۃ وغیرھا ھو الصحیح ھذا اذا نام علی ھیاۃ السجود المسنون خارج الصلاۃ بان جافی اما اذا الصق بطنہ بفخذیہ فینقض ذکرہ علی بن موسی القمی ۲؎ اھ

صاحب فتح نے جو پہلے  ذکر کیا ہے وہ یہ کہ ہدایہ کی عبارت '' بخلاف رکوع وسجود میں سونے کے نماز میں بھی اور غیر نماز میں بھی یہی صحیح ہے ''اس کے تحت انہوں نے لکھاہے ''یہ اس وقت ہے جب بیرون نماز سجدہ مسنو ن کی ہیات پر سویا ہو اس طر ح کہ پیٹ اور رانوں وغیرہ کو الگ الگ رکھا ہو اگر پیٹ کر رانوں سے ملا دیا ہو تو سونے سے وضو ٹوٹ جائے گا اسے علی بن موسی قمی نے ذکر کیا ہے۲؂ ''اھ

 (۲؎ فتح القدیر ، کتاب الطہارات ، فصل فی نواقض الوضوء ،مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ، ۱/ ۴۳)

فمحصل کلام الفتح عدم النقض فی السجود المشروع خارج الصلاۃ بشرط الھیاۃ ویؤمی بطرف خفی بفحوی الخطاب الی الاطلاق فی سجود الصلاۃ فمرجعہ ان کان فالی القول الثالث لا ھذا الرابع الذی اختارہ فی البحر تبعا للخلاصۃ۔

تو کلام فتح القدیر کا خلاصہ یہ ہو اکہ بیرون نماز سجدہ مشروع میں سونے سے وضو نہ ٹوٹے گا بشرطیکہ سجدہ مسنون ہیئت پر ہو ، او رمضمون کلام سے خفی طو ر پر یہ ا شارہ بھی دے رہے ہیں کہ سجدہ نماز میں سونے سے مطلقا وضونہ ٹوٹے گا ، تو کلام فتح کامرجع الگ رہے تو قول سوم ہے یہ قول چہارم نہیں جسے صاحب بحر نے خلاصہ کی تبعیت میں اختیار کیا ہے ۔

بـل اقـول : ان کان الفتح انما زاد لفظۃ خارج الصّلاۃ لان کلام الامام علی بن موسی القمی انما کان فیہ ان لاروایۃ فیہ عن اصحابنا بخلاف سجود الصلاۃ فان الروایۃ فیہ مستفیضۃلاتنکر فاحب الفتح ان یاتی بکلامہ علی نحوہ فیبطل الفحوی ویلتئم مفادہ بمفاد متنہ الہدایۃ وھو القول الاول کما ستعلم ان شاء اللّٰہ تعالٰی بل ھو المراد قطعا لایجوز حمل کلامہ علی غیرہ لتصریحہ بالتفرقۃ فی سجود الصلاۃ بین المتجافی وغیرہ کما سیاتی ان شاء اللّٰہ تعالٰی ھذا ۔

بل اقول : ( بلکہ میں کہتا ہوں ) اگر فتح القدیر میں لفظ '' خارج الصلوۃ'' کا اضافہ اس لئے ہے کہ امام علی بن موسی قمی کا کلام اسی سے متعلق تھا کہ اس میں ہمارے اصحاب سے کوئی روایت نہیں بخلاف سجدہ نماز کے ، کہ اس میں روایت مشہور ، ناقابل انکار ہے تو صاحب فتح نے یہ چاہا کہ ان کا کلام ان ہی کے طو ر پر لائیں جب تو مضمون کلام کا مفاد باطل اور کلام فتح کا مفاد ، اپنے متن ہدایہ کے مفاد کے مطابق ہوجائے گا ، اور وہ قول اول ہے جیسا کہ آگے معلوم ہوگا ان شاء اللہ تعالی بلکہ قطعا یہی مراد ہے اس کلام کو کسی اور قول پر محمول کرنا رواہی نہیں ، اس لئے کہ انہو ں نے سجدہ نماز میں کروٹ جدا رکھنے اور نہ رکھنے کے درمیان فرق کیا ہے ، جیسا کہ آگے آئے گا ان شاء اللہ تعالی یہ بات تمام ہوئی ۔

وفی الغنیۃ بعدما مرعنہ فی القول الثالث نقل کلام الخلاصۃ ثم قال فتخصیص اختلافھم بسجدۃ الشکر فحسب وھی غیر مسنونۃ عند ابی حنیفۃ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ مع التصریح بکونہ علی وجہ السنۃ اولا دلیل علی عدم النقض اجماعا فی غیرھا سواء کان علی وجہ السنۃ اولا وکان وجہہ اطلاق لفظ ساجدا فی الحدیث فیترک بہ القیاس فیما ھو سجود شرعا فیتناول سجود الصّلاۃ والسہو والتلاوۃ وکذا الشکر عندھما ویبقی ماعداہ علی القیاس فینقض ان لم یکن علی وجہ السنۃ لتمام الاسترخاء مع عدم التمکن المقعدۃ ولاینقض ان کان علی ھیاۃ السنۃ لعدم نھایۃ الاسترخاء لا لانہ سجود داخل تحت اطلاق الحدیث واللّٰہ الموفق ۱؎ اھ

اور قول سوم میں غنیہ کی جو عبارت گزری اس کے بعد اس میں خلاصہ کی عبارت نقل کی ہے پھر لکھا ہے ، تو صرف سجدہ شکر سے متعلق ان کے اختلاف کو خاص بتانا ، سجدہ شکر امام ابو حنیفہ رضی اللہ تعالی عنہ کے نزدیک مسنون نہیں ساتھ ہی اس بات کی صراحت ہونا کہ وہ سجدہ بطریق سنت ہو یا نہ ہوا س پر دلیل ہے کہ سجدہ شکر کے علاوہ میں اجماعا وضو نہ ٹوٹے گا خواہ بطریق سنت ہو یا نہ ہو ، غالبا اس کی وجہ یہ ہے کہ حدیث میں لفظ ''ساجدا'' مطلق آیا ہے تو اس کی وجہ سے قیاس اس میں ترک کردیا جائے گا جو سجود شرعی ہے تو یہ سجدہ نماز ، سجدہ سہو، اور سجدہ تلاوت کو شامل ہوگا ، اسی طر ح صاحبین کے نزدیک سجدہ شکر کو بھی اور ان کے ماسوا سجدہ قیاس پر باقی رہے گا تو اس میں وضو ٹوٹ جائے گا اگر بطریق سنت نہ ہو اس لئے کہ ڈھیلاپن کا مل ہوگا اور مقعد کا زمین پر استقرار بھی نہیں اور بطریق سنت ہو تو وضو نہ ٹوٹے گا ، اس کی وجہ یہ ہے کہ انتہائی ڈھیلا پن نہ ہوگا یہ وجہ نہیں کہ وہ بھی ایسا سجدہ ہے جو اطلاق حدیث کے تحت داخل ہے واللہ الموفق اھ۔

 (۱؎ غنیہ المستملی شرح منیۃ المصلی،فصل فی نواقض الوضوء ، سہیل اکیڈیمی لاہور، ص ۱۳۹)

اقــول؛ وھذا منہ رحمہ اللّٰہ تعالٰی ابداء وجہ لذلک القول لااعتماد لہ الا تری انہ لما لخص شرحہ ھذا جزم بالنقض فی غیرھیاۃ السنۃ ولو فی الصلاۃ وجعلہ المعتمد واحال تمام تحقیقہ علی الشرح کما تقدم فلو ارادھنا الاعتماد لکانت الحوالۃ غیر رائجۃ بل حوالۃ علی المخالف ثم لما صنف متن الملتقی لم یلتفت ایضا الی ھذا التفصیل وتبع سائر المتون فی الاطلاق ثم لما شرح متنہ صرح ان الاطلاق ھو المعتمد کما سیاتی ان شاء اللّٰہ تعالٰی۔

اقول : یہ صاحب غنیہ شیخ حلبی رحمہ اللہ تعالی نے اس قول کی ایک وجہ ظاہر کردی ہے یہ نہیں کہ ان کا اسی پر اعتماد ہے یہی وجہ ہے کہ جب انہوں نے اپنی اس شرح کی تلخیص کی تو اس میں اس بات پر جز م کیا کہ اگر سجدہ خلاف سنت طور پر ہے تو اس میں سونے سے وضو ٹوٹ جائے گا اگر چہ نماز ہی میں ہو ، اسی کو معتمد بھی قرار دیا اور اس کی کامل تحقیق کے لئے اپنی شرح (حلیہ) کا حوالہ دیا جیسا کہ اس کی عبارت گزری تو اگر یہاں قول مذکور کی وجہ بیان کرنے سے اس پر اعتماد مراد ہو تو اس کا حوالہ نہ چل سکے گابلکہ مخالف حوالہ ہوگا پھر جب متن ملتقی تصنیف کیا اس وقت بھی اس تفصیل پر التفات نہ کیا اور ا طلاق میں دیگر متون کا اتباع کیا پھر جب اس متن کی شرح فرمائی تو تصریح بھی کردی کہ اطلاق ہی معتمد ہے ، جیسا کہ آگے آئے گا ان شاء اللہ تعالی ۔

الــثانیۃ: فی استخراج القول الراجح من ھذہ الاقاویل۔ افادہ ثانیہ : ان اقوال میں سے قول راجح کے استخراج کے بارے میں ۔

اقـول:  القول الاول علیہ المعول وھو الصحیح ولہ الترجیح وذلک لاربعۃ وجوہ: اقول:  قول اول ہی پر اعتماد ہے وہی صحیح ہے ، اسی کو ترجیح ہے ، اور اس کی چار وجہیں ہیں۔

الاول علیہ الاکثر کما یظھر لک ممامر و یاتی والقاعدۃفــــ العمل بما علیہ الاکثر کما نقلت علیہ نصوصا کثیرۃ فی فتاوٰی۔

وجہ اول اسی پر اکثر ہیں جیسا کہ گزشتہ وآئندہ صفحات سے ظاہر ہے ، اور قاعدہ یہ ہے کہ عمل اسی پر ہو جس پر اکثر ہوں ، جیسا کہ اس پر میں اپنے فتاوی میں کثیر نصوص نقل کر چکا ہو ں،

ف: القاعدۃ العمل بما علیہ الاکثر

الــثـانی: علیہ تظافرت المتون ولیس لہا الی غیرہ رکون ولا طباقہا شأن من اعظم الشیون فانھا الموضوعۃ لنقل المذھب المصون وذلک انہا من عند اٰخرھا لم تجنح الی تفرقۃ فی ھذا بین الصلاۃ وغیرھا انما ترسل الحکم ارسالا ۔

وجہ دوم ، اسی پر متون ہم نوا ومتفق ہیں کسی اور قول کی طر ف ان کا جھکاؤ بھی نہیں اور اتفاق متون کی شان بہت عظیم ہے اس لئے کہ متون مذہب محفوظ کی نقل ہی کے لئے وضع ہوئے ہیں وہ یہ ہے کہ شروع سے آخر تک تمام ہی متون اس بارے میں نماز اور غیر نماز کی تفریق کی طرف مائل نہیں حکم صرف بیان کرتے ہیں۔

قــال فی الکتاب والنوم مضطجعا اومتکئا اومستندا ۱؎ اھ کتاب میں ہے کروٹ لیٹ کر ، یاتکیہ لگا کر ، یا ٹیک لگا کر سونا اھ

 (۱؎ الہدایۃ، کتاب الطہارات    فصل نواقض الوضوء    المکتبۃ العربیہ کراچی    ۱/ ۱۰)

ومثلہ فی البدایۃ وقال فی الوقایۃ ونوم مضطجع ومتکئ اومستند الی مالوازیل لسقط لاغیر ۲؎ اھ اسی کے مثل بدایہ میں بھی ہے ، اور وقایہ میں ہے : اس کی نیند جو کروٹ لینے والا ، یا تکیہ لگانے والا ، یا ایسی چیز کی طرف ٹیک لگانے والا ہے جو ہٹادی جائے تو یہ گر جائے کوئی اور نیند نہیں اھ

 (۲؎ الوقایۃ (شرح وقایۃ)،کتاب الطہارۃ  النوم والاغماء الخ ، مکتبۃ امدادیہ ملتان،۱/ ۷۶)

وفی النقایۃ ونوم متکئ الی مالوازیل لسقط ۳؎ اھ نقایہ میں ہے ، اس چیز کی طرف تکیہ لگا نے والے کی نیند جو ہٹا دی جائے تو یہ گرجائے اھ

 (۳؎ النقایۃ(مختصر الوقایۃ فی مسائل الہدایۃ)،کتاب الطہارۃ،نور محمد کارخانہ تجارت کتب کراچی    ص۴)

وفی کنزالد قائق ونوم مضطجع ومتورک ۴؎ اھ کنز الدقائق میں ہے کروٹ لیٹنے والے اور سرین پر بیٹھ کر سونے والے کی نیند اھ

 (۴؎ کنز الدقائق        کتاب الطہارۃ ، ایچ، ایم سعید کمپنی کراچی    ص۸)

وفی الاصلاح ونوم متکئ ۵؎ وفی ملتقی الابحر ونوم مضطجع اومتکیئ باحد ورکیہ اومستند الی مالوازیل لسقط لانوم قائم اوقاعد او راکع اوساجد ۶؎ اھ اصلاح میں ہے تکیہ لگانے والے کی نیند اھ ملتقی الا بحر میں ہے اس کی نیند جو کروٹ لینے والے ، یا ایک سرین پر سہارا لینے والا ، یاایسی چیز کی طرف ٹیک لگانے والا ہو جو ہٹادی جائے تو یہ گر جائے قیام یا قعود یا رکوع یا سجود والے کی نیند نہیں اھ ۔

 (۵؎ الاصلاح والایضاح)   ( ۶؎ ملتقی الابحر   کتاب الطہارۃ ، المعانی الناقضۃ      موسسۃ الرسالۃ بیروت      ۱/ ۱۹ )

وفی الغرر ونوم یزیل مسکتہ والا فلا وان تعمد فی الصّلاۃ ۱؎ اھ غرر میں ہے ایسی نیند جو بندش ختم کردے اگر ایسی نہ ہو تو نہیں اگر چہ نماز میں اس کا قصد بھی کرے اھ ۔

 (۱؎ درر الحکام شرح غرر الاحکام،کتاب الطہارۃ،میر محمد کتب خانہ کراچی     ۱/ ۱۵)

وفی التنویر و نوم  یزیل مسکتہ والا لا ۲؎ اھ تنویر میں ہے ، وہ نیند جو اس کی بندش ختم کردے ورنہ نہیں اھ

 (۲؎ الدر المختار ، کتاب الطہارۃ ، مطبع مجتبائی دہلی ، ۱/ ۲۶)

وفی نور الایضاح ونوم لم تتمکن فیہ المقعدۃ من الارض لانوم متمکن ولو مستندا لی شیئ لو ازیل سقط ومصل ولو راکعا اوساجدا علی جہۃ السنۃ ۳؎ اھ ملتقطا۔ نورا لایضاح میں ہے ایسی نیند جس میں مقعد کا زمین پر قرار نہ ہ ،قرار والے کی نیند نہیں اگر چہ کسی ایسی چیز کی طر ف ٹیک لگائے ہو جو ہٹادی جائے تو گر جائے اور نماز پڑھنے والے کی نیند نہیں اگر چہ وہ رکوع میں یا سنت طریقے پر سجدے میں ہو ، اھ ملتقطا۔

 (۳؎ نور الایضاح     فصل عشرۃ اشیاء الخ     کتاب الطہارۃ      مطبع علیمی لاہور     ص ۹)

اقــول ومن فــــ۱ عاشر تلک العرائس النفائس اعنی المتون وعرف طرزھا فی رمزھا بالحواجب والعیون ایقن انہا انما ترمی عن قوس واحدۃ وھی ادارۃ الحکم علی ماھو المناط المحقق الثابت بالنقل والعقل اعنی زوال المسکۃ وعدم تمکن الورکین ۔

اقول جسے ان نفیس عروسوں یعنی متون ،کی رفاقت ومعاشرت میسر ہو اور چشم وابر و سے ان کے اشارہ کے انداز سے آشناہو وہ یقین کرے گا کہ یہ سب ایک ہی کمان سے نشانہ لگارہے ہیں وہ یہ کہ حکم کو اسی پر دائر رکھنا چاہتے ہیں جو تحقیقی طور پر نقل وعقل سے ثابت شدہ مدار ہے یعنی بندش کا ختم ہوجانا اور دونوں سرین کو جماؤنہ ملنا۔

ف:عادۃ الاوائل السذ اجۃ فی البیان وعدم الدنق فی العبارات ۔

وقد انقسمت فی بیان ذلک علی قسمین قسم مشوا علی عادتہم الشریفۃ من سذاجۃ البیان وعدم الدنق فی العبارات والدلالۃ بشیئ علی نظیرہ عن من عرف المناط وھم الاولون وھذا ماقال فی النھر کما نقلہ السید ابو السعود ان المراد من الاضطجاع مایوجب زوال المسکۃ بزوال المقعدۃ عن الارض ۱؎ اھ

مصنفین اس کے بیان میں دو قسموں پر منقسم ہیں ایک قسم ان حضرات کی ہے جو اپنی اسی عمدہ روش پر ہیں کہ بیان میں سادگی ہو، عبارتوں میں تدقیق کا تکلف نہ ہو ، اور ایک چیز کو ذکر کر کے آشنائے مناط کے لئے اس کی نظیر پر رہنمائی کردی جائے یہ حضرات متقدمین ہیں اسی کو نہر میں بتایا ہے جیسا کہ سید ابو السعود نے اس سے نقل کیا ہے کہ کروٹ لیٹنے سے مراد وہ نیند جس میں زمین سے مقعد الگ ہونے کی وجہ سے بندش ختم ہوجائے۔

اھ (؎ فتح المعین کتاب الطہارہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۴۷)
(النہر الفائق شرح کنز الدقائق کتاب الطہارہ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ / ۵۶)

وما قال فی البحر بعد نقلہ فروعا فیھا النقض مع عدم حقیقۃ الاضطجاع والتورک المقتصر علیہما فی الکنز وفی ھذہ المواضع التی یکون فیھا حدثا فھو بمعنی التورک فلم تخرج عن کلام المصنف ۲؎ اھ

اور یہی بحر میں بھی ہے ، اس میں پہلے چند جزئیات نقل کئے پھر فرمایا: ان سب میں وضو ٹوٹنے کا حکم ہے باوجودیکہ حقیقت اضطجاع وتورک نہیں جب کہ کنز میں ان ہی دونوں پراکتفا ہے ان مقامات میں جہاں نیند حدث ہوتی ہے وہ تو رک ( ایک سرین پر ٹیک لگا کر سونے ) کے معنی میں ہے تو یہ صورتیں کلام مصنف سے باہر نہیں اھ ۔

 (۲؎ البحرا لرائق کتاب الطہارہ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۳۸)

اقـــول وکان فــــ الامام القدوری احب التصریح بالمضطجع لورودہ خصوصا فی الحدیث المروی عن عبداللّٰہ بن عباس رضی اللّٰہ تعالٰی عنہما بالفاظ عدیدۃ عن النبی صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم کما سیاتی ان شاء اللّٰہ تعالٰی وبالمستند لمکان الخلف فیہ کما علمت وتبعہ فی الھدایۃ والملتقی والافالمتکیئ یعمھما ویعم المستلقی والمنبطح والمتورک ونظراء ھم جمیعا ولذا اقتصر علیہ فی النقایۃ وزاد الی مالو ازیل لاختیارہ ذلک القول ۔

اقول : اور امام قدوری نے کروٹ لیٹنے والے کی تصریح شاید اس لئے پسند فرمائی کہ یہ خاص طور سے اس حدیث میں وارد ہے جو حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما سے بالفاظ متعددہ نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم سے مروی ہے جیسا کہ آگے ان شاء اللہ تعالی اس کا ذکر ہوگا اور ٹیک لگانے والے کی صراحت اس لئے پسند فرمائی کہ اس میں اختلاف ہے جیسا کہ بیان ہوا اور ہدایہ وملتقی میں ان ہی کی پیروی کی ورنہ لفظ متکی ( تکیہ لگانے والا) ان دونوں کو شامل ہے اور چت لیٹنے والے ، چہرے کے بل لیٹنے والے سرین پر ٹیک لگانے والے ان کے امثال سب کو شامل ہے اسی لئے نقایہ میں اسی پراکتفا کی اور یہ بڑھا دیا کہ ایسی چیز کی طر ف ہو جو ہٹا دی جائے تو گر جائے کیونکہ ان کا مختار یہی قول ہے ۔

فــــ: منازع اختلاف عبارات العلماء مع قول المقصود واحدا۔

والـعـلامـۃ ابن کمال لما مشی علی ظاھر الروایۃ المعتمدۃ ان الاستناد الی مالوازیل لسقط ایضا لاینقض الا بمزایلۃ المقعد اقتصر علی لفظ المتکی فحسب والکنز اقام مقامہ المتورک ومحصلہما واحدا وبدأ بالمضطجع تبرکا بالمنصوص وترک المستند الخ تعویلا علی المذھب فھذہ منازعھم رحمہم اللّٰہ تعالٰی فی اختلاف عباراتھم وانما مقصودھم جمیعا ھو النوم المزیل للمسکۃ فکما ان الحدیث حصر الحکم فی المضطجع ولیس معناہ القصر علی من نام علی جنبہ فالنائم علی وجہہ وقفاہ مثلہ قطعا وانما المقصود التنبیہ علی صورۃ زوال المسکۃ کما دل علیہ قول صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم فانہ اذا اضطجع استرخت مفاصلہ۱؎ فکذلک ھولاء الکرام اقتفاء بالحدیث کما ارشد الیہ البحر والنھر۔

اور علامہ ابن کمال پاشا چونکہ ظاہر روایت معتمدہ پر گام زن ہیں کہ ایسی چیز جو ہٹادی جائے تو گر جائے اس سے ٹیک لگانا بھی ناقض اسی وقت ہے جب مقعد ہٹ جائے اس لئے انہوں نے صرف لفظ متکی پر اکتفا کی اور کنزمیں اس کی جگہ لفظ متورک رکھ دیا ، حاصل دو نوں کا ایک ہی ہے ، اور کنز نے منصوص سے تبرک کے لئے مضطجع سے ابتداء کی اور مستند الخ ، الخ ترک کر دیا کیونکہ ان کا اعتماد ظاہر مذہب پر ہے تو اختلاف عبارات میں ان حضرات رحمہم اللہ تعالی کی بنیاد یں یہی ہیں مقصود سبھی حضرات کا وہ نیند ہے جو بندش ختم کردینے والی ہے جیسے حدیث ہی کو دیکھئے کہ اس میں حکم کروٹ لینے والے کے بارے میں منحصر ہے مگر اس کا معنی یہ نہیں کہ حکم اسی پر محدود رہے گا جو کروٹ پر لیٹا ہو کیونکہ چہرے کے بل اور گدی پر یعنی چت لیٹنے والے بھی قطعا اسی کے مثل ہیں ، مقصود صرف اس صورت کی رہ نمائی ہے جس میں بندش کھل جاتی ہے جیسا کہ اس پر حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کایہ ارشاد گرامی دلالت کررہاہے ، کیونکہ جب وہ کروٹ لیٹ جائے گا تو اس کے جوڑ ڈھیلے پڑجائیں گے ، تو حدیث پاک کی اقتداء میں ان بزرگ حضرات کی بھی روش ہے جیسا کہ بحر ونہر نے اس طر ف رہ نمائی کی ۔

 (۱؎ سنن الترمذی،ابواب الطہارت،باب ماجاء فی الوضوء من النوم ،حدیث ۷۷،دار الفکر بیروت    ۱/ ۱۳۵)

وقـسم آخـر احب الضبط فاتی بالجامع المانع وھم الاخرون وقدوتھم العلامۃ مولی خسرو فلتضلعہ من العلوم العقلیۃ ایضا تعود بالتدنق وتبعہ المولی الغزی والشرنبلالی ۔

دوسری قسم ان حضرات کی جنہوں نے ضبط اور ساری صورتوں کا احاطہ پسند کیا تو جامع مانع الفاظ لے آئے ، یہ حضرات متاخرین ہیں اور ان کے پیشوا علامہ ملا خسرو ہیں وہ چونکہ علوم عقلیہ میں بھی تبحر رکھتے ہیں اس لئے تدقیق کے عادی ہیں ، اور علامہ غزی وعلامہ شرنبلالی ان کے پس رو ہیں۔

واعلی اللّٰہ مقامات مولنا صاحب الھدایۃ فی دارالسلام فباوجز لفظۃ کشف الظلام وجلا الاوھام اذ قال بخلاف النوم حالۃ القیام والقعود والرکوع والسجود فی الصلاۃ وغیرھا ھو الصحیح لان بعض الاستمساک باق اذ لو زال اسقط فلم یتم الاسترخاء ۱؎ اھ ۲؂

اور خدا صاحب ہدایہ کے درجات بلند فرمائے کہ مختصر ترین الفاظ میں انہوں نے تاریکی کا پردہ چاک کردیا اور اوہام دور کردئے ان کی عبارت یہ ہے :کہ'' بخلاف اس نیند کے جو قیام ، قعود ،رکوع او رسجود کی حالت میں ہو نماز میں بھی اور بیرون نماز بھی یہی صحیح ہے اس لئے کہ ان حالتو ں میں کچھ بندش باقی ہوتی ہے کیونکہ اگر ختم ہوجاتی تو گر پڑتا تو استر خاکامل نہ ہوا'' اھ

 (۱؎ سنن الترمذی       ابواب الطہارت     باب ماجاء فی الوضوء من النوم      حدیث ۷۷     دار الفکر بیروت     ۱/ ۱۳۵)
(۲؎ الہدایۃ      کتاب الطہارات       فصل فی نواقض الوضوء      المکتبۃالعربیہ کراچی      ۱ / ۱۰ )

فـقـد افاد ببقاء الاستمساک وبعدم السقوط ان المراد ھو السجود کالمسنون ازلولاہ بل الصق بطنہ بفخذیہ وافترش ذراعیہ فھو السقوط عینا وای بقاء بعدہ لاستمساک کما تقدم عن الغنیۃ وصرح بان الصلاۃ وغیرھا سواء فی الحکم فان کان الاستمساک باقیالم ینقض ولو خارج الصلاۃ والانقض ولو فیھا وھذا ھو القول الاول ۔

بند ش باقی رہنے اور ساقط نہ ہونے سے افادہ فرمایا کہ مقصود وہ سجدہ ہے جو مسنون طریقے پرہو ، اسلئے کہ اگر ایسا نہ ہو بلکہ پیٹ رانوں سے ملادے اور کلائیاں بچھا دے تو یہ بعینہ ساقط ہوجانا ہے ، او راس کے بعد پھر کو ن سی بندش باقی رہ جائے گی ، جیسا کہ غنیہ کے حوالہ سے گزرا ، اور صاحب ہدایہ نے یہ تصریح فرمادی کہ نماز اور غیر نماز اس حکم میں برابر ہیں ، اگر بندش باقی ہے تو ناقض نہیں اگر چہ بیرون نماز ہو ، ورنہ ناقض ہے اگر چہ اندرون نماز ہو اور یہ وہی پہلا قول ہے ۔

وکذلک افصح عنہ فی الدرر حیث قال (والا) بان کان حال القیام اوالقعود اوالرکوع اوالسجود اذا رفع بطنہ عن فخذیہ وابعد عضدیہ عن جنبیہ (فلا وان تعمد فی الصّلاۃ) ۱؎ اھ وعلیہ حط کلام الامام حافظ الدین النسفی کما تقدم وحولہ تدور الحلیۃ فیما اسلفنا من نصوصھا فانہ من اولہ لاٰخرہ انما بنی الامر علی وجود نہایۃ الاسترخاء وعدمھا وختم مسائل النوم فی الصلاۃ بقولہ والعلۃ المعقولۃ زوال المسکۃ کمامر۔

اسی طرح درر شرح غرر میں بھی اس کو صاف بتایا ، اس کے الفاط یہ ہیں ،(اور اگر ایسا نہیں) اس طر ح کہ قیام یا قعود یا رکوع کی حالت ہے یاسجدہ کی حالت ہے جب کہ پیٹ رانوں سے اوپر اور بازو کروٹوں سے دور رکھے ( تو ناقض نہیں) اگرچہ نماز میں قصدا سوجائے ) اھ امام حافظ الدین نسفی کے کلام کامو ر دبھی یہی ہے جیسا کہ گزرا اسی کے گرد حلیہ کی بھی وہ عبارتیں گردش کرر ہی ہیں جو ہم سابقہ صفحات میں نقل کر آئے ہیں کیوں کہ صاحب حلیہ نے شروع سے آخرتک بنائے کار کمال استر خاموجود ومعلوم ہونے پر رکھی ہے اور اندرون نماز نیند کے مسائل کو ان الفاظ پر ختم کیا ہے :اور عقلی علت بندش کا کھل جانا ہے جیسا کہ یہ عبارت گزرچکی ہے ۔

 (۱؎ درر الحکام شرح غرر الاحکام       کتاب الطہارۃ     بحث نواقض الوضوء      میر محمد کتب خانہ کراچی    ۱/ ۱۵)

الـثـالـث لہ صریح التصحیح کما اسلفنا عن المنحۃ عن النھر عن عقد الفرائد عن المحیط انہ الصحیح وعن الصغیری انہ المعتمد وقال العلامۃ الطحطاوی فی حاشیۃ الدر نقلا عن منح الغفار شرح تنویر الابصار للمصنف انہ قال فی الملتقی وشرحہ للمؤلف لاینقضہ نوم قائم اوقاعد اوراکع اوساجد علی ھیاۃ السجود المعتبرۃ شرعا فی الصلاۃ اوخارجہا علی المعتمد ۲؎ اھ

وجہ سوم، صریح تصحیح اسی قول کی ہے جیسا کہ منحۃ الخالق سے ،اس میں نہر سے ، اس میں عقد الفرائد سے ، اس میں محیط سے نقل گزری کہ '' یہی صحیح ہے'' اور صغیر ی کا حوالہ گزرا کہ '' وہی معتمد ہے'' اور علامہ طحطاوی نے حاشیہ درمختار میں منح الغفار شرح تنویر الابصار (اورمصنف تنویر ) کے حوالے سے نقل کیا کہ انہوں نے فرمایا ، ملتقی اور اس کے مولف کی شرح میں ہے کہ ناقض وضو نہیں اس کی نیند جو حالت قیام میں ہو یا سجدہ کی حالت میں سجدہ کی شرعا معتبر ہیات پر ہو نماز میں یا بیرون نماز ، بر قول معتمد اھ

 (۱؎ حاشیہ الطحطاوی علی الدر المختار     کتاب الطہارۃ المکتبۃ      العربیۃ کوئٹہ      ۱/ ۸۱و۸۲)

والاقــوال الباقیۃ لم ارشیئا منھا ذیل بتصحیح صریح وانما علینا اتباع مارجحوہ وما صححوہ کما لو افتونا فی حیاتھم اما قول البحر المار فی القول الرابع بعد ذکرہ کلام البدائع وصرح الزیلعی بانہ الاصح ۱؎۔

باقی اقوال میں سے کسی کے ذیل میں صریح تصحیح میں نے نہ دیکھی ۔ اور ہمارے ذمہ اسی کا تباع ہے جسے ان حضرات نے راجح وصحیح قرار دیا جیسے اگر وہ اپنی حیات میں ہمیں فتوی دیتے تو ہم ان کا اتباع کرتے ۔رہی عبارت بحر جو قول چہارم میں گزری کہ صاحب بحر نے بدائع کا کلام ذکر نے کے بعد فرمایا اور زیلعی نے تصریح فرمائی ہے کہ یہی اصح ہے ،

 (۲؎البحر الرائق     کتاب الطہارۃ     ایچ ایم سعید کمپنی کراچی     ۱/ ۳۸)

فــاقــول: قد اسمعناک نصہ تحت القول الثالث وتصحیحہ لایمس بعدم اشتراط الھیاۃ فی الصلاۃ انما ذکرہ فی عدم الانتقاض خارج الصلاۃ اذا کان علی الھیاۃ نفیا لقول ابن شجاع فھو تصحیح لاحد جزئی القول الاول کقول البدائع وھو اقرب الی الصواب فانہ ایضا راجع الی ذلک التفصیل الذی ذکرہ القمی فی السجود خارج الصلاۃ کما فی الحلیۃ ۔

فاقول: ہم امام زیلعی کی پوری عبارت قول سوم کے تحت پیش کرآئے ہیں ،ان کی تصحیح کو اندرون نماز مسنون ہیات کی شرط نہ ہونے سے کوئی مس نہیں۔انہوں نے توقول ابن شجاع کی تردید کے لئے ، بیرون نماز مسنون ہیات پر ہونے کی صورت میں عدم نقض سے متعلق یہ تصحیح ذکر کی ہے (قول اول کے دو جز ہیں ایک یہ کہ اگر مسنون ہیات پر ہے تو ناقض نہیں اگرچہ بیرون نماز ہو ۔دوسرا یہ کہ مسنون ہیات کے بر خلاف ہے تو ناقض ہے اگر چہ نماز میں ہو ۱۲) تو یہ قول اول کے جزاول کی تصحیح ہے جیسے بدائع کی عبارت وھو اقرب الی الصواب ، (درستی سے قریب تر ہے ) کیونکہ وہ بھی اسی تفصیل کی طر ف راجع ہے جو امام قمی نے بیرون نماز سجدہ سے متعلق ذکر کی جیسا کہ حلیہ میں ہے ۔

وذلک ان القول الاول یشتمل علی دعویین احدٰھما النقض عند عدم الھیاۃ ولو فی الصلاۃ وسائر الاقوال تخالفہ فی مابعد لو، والاخری عدم النقض مع الھیاۃ المسنونۃ ولو خارج الصلاۃ والقول الثالث یوافقہ فیھا اصلا ووصلا والتصحیح فیہ انما ورد علی ھذا الجزء الموافق دون المخالف ولذلک لما سبق الی ذھن العلامۃ عمر بن نجیم ان شیخہ واخاہ رحمھما اللّٰہ تعالی یدعی تصحیح الزیلعی للجزء المخالف نسبہ للسھو وعقبہ بتصحیح المحیط۔

تفصیل یہ ہے کہ قول اول دو دعووں پر مشتمل ہے ایک یہ کہ مسنون ہیات نہ ہونے کی صورت میں نیند ناقض ہے اگر چہ نماز میں ہو باقی تینوں قول '' اگر چہ'' کے مابعد میں قول اول کے مخالف ہیں(تینوں میں یہ قدر مشترک ہے کہ نماز میں مطلقا نقض وضو نہیں اگر چہ مسنون ہیات نہ ہو ۱۲) دوسرا دعوی یہ ہے کہ مسنون ہیات ہو تو وضو  نہ ٹوٹے گا اگر چہ بیرون نماز ہو قول سوم اس دعوے میں اصل اور وصل ( بشرط ہیات وضو نہ ٹوٹنا اور اگر چہ بیرون نماز) دونوں امر میں قول اول کے موافق ہے اورقول سوم کے اندر تصحیح اسی جز و موافق پر وارد ہے جز ومخالف پرنہیں ، یہی وجہ ہے کہ جب علامہ عمر بن نجیم صاحب نہر رحمہ اللہ تعالی کا ذہن اس طر ف چلاگیا کہ ان کے شیخ اور بر ادر صاحب نہر رحمہ اللہ تعالی جز و مخالف میں تصحیح زیلعی کے مدعی ہیں تو اسے صاحب بحر کا سہو قرار دیا اور اس کے بعد محیط کی تصحیح پیش کی ۔

قــال ط قال فی النھر مافی البحر من تصحیح الزیلعی لھذا فھو سہوبل فی عقد الفرائد انما لایفسد الوضوء نوم الساجد فی الصّلاۃ اذا کان علی الہیاۃ المسنونۃ قید بہ فی المحیط وھو الصحیح ۱؎ اھ

طحطاوی صاحب نہرسے ناقل ہیں ، وہ فر ماتے ہیں ''بحر میں اس پر جو تصحیح زیلعی مذکور ہے وہ سہو ہے بلکہ عقد الفرائد میں ہے کہ اندرون نمازسجدہ کرنے والے کی نیند وضو کو فاسد نہیں کرتی بشرطیکہ سجدہ مسنون ہیات پر ہو ۔ یہ قید محیط میں بیان کی ہے اور یہی صحیح ہے اھ

 (۱؎ حاشیۃ الطحطاوی،علی الدر المختار،کتاب الطہارۃ المکتبۃ العربیۃ کوئٹہ،۱/ ۸۱)

ثــم رأیت العلامۃ الشامی فی منحۃ الخالق حاول جواب النھر فنحانحو مانحوت ثم زلت قدم القلم حیث قال قول الشارح وصرح الزیلعی بانہ الاصح الضمیر المنصوب فیہ یعود الی قولہ وان کان خارجہا فکذلک الا فی السجود ۲؎ الخ

پھر میں نے دیکھا کہ علامہ شامی نے منحۃ الخالق میں صاحب نہر کا جواب دینا چاہا تو اسی راہ پر چلے جس پر میں چلا پھر قلم لغزش کھاگیا ان کی پوری عبارت ( ہلالین میں نقد وتبصرہ کے ساتھ۱۲) ملاحظہ ہو فرماتے ہیں :شارح کے الفاظ اور زیلعی نے تصریح فرمائی ہے کہ وہی اصح ہے اس میں ضمیر ان کے قول ''وان کان خارجھا فکذلک الا فی السجود الخ''  ( اگر بیرون نماز ہو تو بھی ایسا ہی ہے مگر سجدہ میں اس کے لئے مسنون ہیات پر ہونا شرط ہے)کی طرف راجع ہے۔

 (۲؎ منحۃ الخالق علی البحر الرائق     کتاب الطہارۃ     ایچ ایم سعید کمپنی کراچی     ۱/ ۳۸)

 (فـہـذا نحوما ذکرتہ ان التصحیح منسحب علی عدم النقض خارج الصلاۃ ایضا اذا کان علی ھیاۃ سنۃ ثم قال) خلاف مایوھمہ ظاھر العبارۃ من انہ راجع الی قولہ وھذا ھو القیاس اذھو اقرب ۱؎۔

 ( یہ وہی بات ہے جو میں نے بتائی کہ تصحیح اس پر منحصر ہے کہ بیرون نماز بھی ناقض نہیں جب کہ بطریق سنت ہو آگے لکھتے ہیں) بخلاف اس کے جس کاظاہر عبارت سے وہم ہوتا ہے کہ وہ تصحیح ان کے قول وھذا ھوالقیاس نماز میں بھی قیاس یہی ہے کہ ہیات کی شرط ہو مگر ہم نے نماز میں نص کی وجہ سے اسے ترک کردیا ایسا ہی بدائع میں ہے ، کی طرف راجع ہے اس لئے کہ یہ مرجع قریب تر ہے ۔

 (۱؎منحۃ الخالق علی البحر الرائق،کتاب الطہارۃ،ایچ ایم سعید کمپنی کراچی،۱/ ۳۸ )

اقــول لاھوفــ۱متبادر من العبارۃ ولا ھوفــ۲ـ مفہوم النہر ولا ھوفـــ۳ اقرب بل الاقرب قولہ الا اناترکناہ فیہا بالنص وھذا مافھم فی النھر ولذا عارضہ بتصحیح المحیط قال فی المنحۃ) والاحسن ارجاعہ الٰی قولہ کذافی البدائع لان مافی البدائع من التفصیل ھو ماذکرہ الزیلعی ۲؎۔

اقول نہ یہ عبارت سے متبادر ہے ، نہ ہی یہ نہر کا مفہوم ہے اور نہ ہی یہ اقر ب ہے ، بلکہ اقرب تو ان کا یہ قول ہے کہ مگر ہم نے نماز میں نص کی وجہ سے اسے ترک کردیا ، یہی وہ ہے جسے صاحب نہر نے سمجھ لیا او راس کے معارضہ میں محیط کی تصحیح پیش کی ، آگےمنحۃ الخالق میں فرماتے ہیں'' اور بہتر یہ ہے کہ ضمیران کے قول'' کذا فی البدائع ، ایسا ہی بدائع میں ہے '' کی طرف راجع ہو، اس لئے کہ بدائع میں جو تفصیل ہے وہی امام زیلعی نے ذکر کی ہے ۔

 (۲؎منحۃ الخالق علی البحر الرائق     کتاب الطہارۃ     ایچ ایم سعید کمپنی کراچی     ۱/ ۳۸)

ف۱: معروضۃ علی العلامۃ ش فی المنحۃ ف۲: معروضۃ اخری علیہ ف۳: معرو ضۃ ثالثۃ علیہ

(اقــول الذی حط فـــ۴  علیہ کلام البدائع التفصیل خارج الصلاۃ والاطلاق فی الصلٰوۃ فاذ ارجع الضمیر الی قولہ کذا فی البدائع یوھم ایہاما جلیا ان کل ھذا التفصیل والاطلاق صححہ الزیلعی وحینئذ یردا یراد النھر بحیث لامردلہ فان التصحیح انما ذکرہ الزیلعی فی التفصیل دون الاطلاق فھو تسلیم للایراد لا دفعہ وقد وقع فـــ۵ ھذا الایہام بابین وجہ فی کلامکم حیث ذکرتم کلام البدائع ثم قلتم وصحح الزیلعی مافی البدائع فلولا ان ذکرتم ثم نص الزیلعی لاستحکم الایہام ورسخ فی ذھن من لم یراجع التبیین قال فی المنحۃ) ومما یؤید ان الضمیر لیس راجعا الی ماھو القیاس قولہ الاٰتی مقتضی الاصح المتقدم الخ وبہ سقط نسبۃ السہو الی المؤلف التی ذکرھا فی النھر ۱؎ اھ

اقول: کلام بدائع کا موردبیرون نمازتفصیل اوراندرون نماز اطلاق پر ہے۔ تو جب ضمیر کذا فی البدائع کی طرف راجع ہوگی تو اس سے عیاں طور پر یہ وہم پیداہوگا کہ امام زیلعی نے اس تفصیل اورا طلاق سب کی تصحیح فرمائی ہے ایسی صورت میں صاحب نہر کا اعتراف اور زیادہ قوی ہوجائے گا جس کا کوئی جواب نہ ہوگا اس لئے کہ امام زیلعی نے تصحیح صرف تفصیل سے متعلق ذکر کی ہے اطلاق سے متعلق نہیں تو یہ مان کر آپ نے صاحب نہر کا جواب نہ دیا بلکہ ان کا اعتراض تسلیم کرلیا ، اور یہ ایہام آپ کی عبارت میں بہت واضح طور سے واقع ہے اس لئے کہ آپ نے پہلے بدائع کا کلام ذکر کیا پھر فرمایا کہ '' وصحح الزیلعی مافی البدائع '' اور امام زیلعی نے اس کی تصحیح فرمائی ہے جو بدائع میں ہے اگر وہاں آپ نے امام زیلعی کی اصل عبارت نہ ذکر کر دی ہوتی تو یہ ایہام مستحکم اور اس کے ذہن میں راسخ ہوجاتا جس نے خود تبین الحقائق ( للامام الزیلعی) کی مراجعت نہ کی ہو آگےمنحۃ الخالق میں فرماتے ہیں ) ماھو القیاس کی طر ف راجع نہ ہونے کی تائید ان کی اگلی عبارت مقتضی الاصح المتقدم الخ سے بھی ہوتی ہے اور اسی سے مولف کی جانب اس سہوکا انتساب ساقط ہوجاتا ہے جو نہر میں ذکر کیا ہے اھ

فـــ۴: معروضۃ رابعۃ علیہ ۔     فـــ۵: معروضۃ خامسۃ علیہ

 (۱؎منحۃ الخالق علی البحر الرائق،کتاب الطہارۃ،ایچ ایم سعید کمپنی کراچی، ۱/ ۳۸)

اقــول:  کل کلامہ رحمہ اللّٰہ تعالٰی مبتن علی انہ فھم فھم النھر رجوع الضمیر الی ماھو القیاس وقد علمت انہ غیر الواقع الا تری الی قولہ بل فی عقدالفرائد ولو کان کما فھمتم لقال نعم فی عقدالفرائد لکن فــــ ارشدتم الی وجہ اٰخر شید مبانی ایراد النھر فان البحر ذکر بعدہ مسألۃ تعمد النوم فی الصلاۃ وان ابا یوسف یقول فیہ بالنقض والمختار لاوان قاضی خان فصّل فجعلہ ناقضافی السجود دون الرکوع وان المحقق فی الفتح حملہ علی سجود لم یتجاف فیہ ثم قال البحر وقد یقال مقتضی الاصح المتقدم ان لاینتقض بالنوم فی السجود مطلقا ۱؎ اھ ای سواء کان متجافیا اولا فقد افصح انہ جعل الاطلاق فی الصّلاۃ ھو الاصح فظھرانہ رحمہ اللّٰہ تعالٰی اراد بالضمیر قولہ ترکناہ فیہا بالنص کما کان ھو اقرب المتبادر وایاہ فھم فی النھر وحینئذ ھو سھو لاریب فیہ ۔

اقول: علامہ شامی رحمہ اللہ تعالی کے سارے کلام کی بنیاد اس پر ہے کہ انہوں نے یہ سمجھ لیا کہ صاحب نہر نے ضمیر کا مرجع ماھوا لقیاس کو سمجھا ہے اور واضح ہوچکا کہ واقعہ ایسا نہیں صاحب نہر کے الفاظ دیکھئے وہ لکھتے ہیں بل فی عقد الفرائد (بلکہ عقد الفرائد میں ہے) کہ اندرون نماز سجدہ کر نے والے کی نیند وضو کو فاسد نہیں کرتی بشرطیکہ سجدہ مسنون ہیت پر ہو ) اگر ان کے فہم  میں وہ ہوتا جو ان سے متعلق آپ نے سمجھا تو وہ یوں کہتے نعم فی عقد الفرائد (ہاں عقد الفرائد میں ایسا ہے) لیکن آپ نے تو ایک دوسرے ہی رخ کی رہنمائی فرمائی جس نے صاحب نہر کے اعتراض کی بنیادیں اور زیادہ مضبوط کردیں ، اس لئے کہ صاحب بحر نے اس کے بعد نماز کے اندر قصدا سونے کا مسئلہ ذکر کیا ہے اور یہ کہ امام ابویوسف ایسی نیند کے ناقض وضو ہونے کے قائل ہیں اور مختار یہ ہے کہ ناقض نہیں ، اور یہ کہ امام قاضی خان نے تفصیل کی ہے انہوں نے اس نیند کو سجدے میں ناقض قرار دیا ہے اور رکوع میں نہیں اور یہ کہ حضرت محقق نے فتح القدیر میں اسے ایسے سجدے پر محمول کیا ہے جس میں کروٹیں جدا نہ ہو ں اس کے بعد صاحب بحر نے فرمایا ہے ''وقد یقال مقتضی الاصح المتقدم ان لا ینتقض بالنوم فی السجود مطلقا اھ''کہاجاتا ہے کہ اصح متقدم کا تقاضایہ ہے کہ مطلقا سجدہ میں نیند سے وضو نہ ٹوٹے ، یعنی کروٹیں جدا ہوں یا نہ ہوں اس نے تو اسے صاف واضح کردیا کہ نماز میں اطلاق ہی اصح ہے جس سے ظاہر ہوگیا کہ صاحب بحر رحمہ اللہ تعالی نے ضمیر سے اپنا قول'' ترکناہ فیھا بالنص نماز میں اس قیاس کو ہم نے نص کی وجہ سے ترک کردیا '' مراد لیاہے جیسا کہ قریب تر اور متبادر یہی تھا اور اسی کو صاحب نہر نے سمجھا بھی ایسی صورت میں تو بلا شبہ یہ سہو ہے ۔

 (۱؎البحر الرائق     کتاب الطہارۃ     ایچ ایم سعید کمپنی کراچی     ۱/ ۳۸)

ف: معروضۃ سادسۃ علیہ

وبالجملۃ تصحیح الزیلعی کالبدائع لامساس لہ بمخالفۃ مانرتضیہ ا ماما ذکر فی الخانیۃ ان النقض مطلقا فی السجود خارج الصلاۃ ظاھر الروایۃ ۱؎

بالجملہ بدائع کی طر ح تصحیح زیلعی کو بھی ہمارے پسند کردہ قول کی مخالفت سے کوئی مس نہیں لیکن وہ جو خانیہ میں مذکور ہے کہ بیرون نماز کے سجدے میں مطلقا ناقض ہونا ظاہر الروایہ ہے

 (۱؎ خلاصۃ الفتاوی،کتاب الطہارات،الفصل الثالث فی نواقض الوضوء ،امام النوم مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ   ۱/ ۱۸)

وقــدمـہ وھو فـــ یقدم الاظھر الاشھر وعبر عن قول التفصیل بالھیاۃ بقیل فافاد ضعفہ فاعلم انہ قال ذلک ولم یوافق علیہ بل جعل فی الخلاصۃ ظاھر المذھب عدم الفرق فی الصلاۃ وخارجہا وفی الحلیۃ عن الذخیرۃ انہ المشہور ۲؎

اور امام قاضی خاں نے اسی کو مقدم کیا ہے اوروہ اظہر اشہر ہی کو مقدم کرتے ہیں ، اور تفصیل والے قول کو انہوں نے قیل سے تعبیر کر کے اس کے ضعف کاافادہ کیا ہے تو واضح ہو کہ انہوں نے یہ کہا ہے مگر اس پر ان کی موافقت نہ ہو ئی بلکہ خلاصہ میں نماز اور بیرون نماز کے درمیان عدم فرق کو ہی ظاہر مذہب قرار دیا حلیہ میں ذخیرہ سے نقل ہے کہ یہی مشہور ہے

 (۲؎ رد المحتار بحوالہ الذخیرہ    کتاب الطہارۃ،بحث نواقض الوضوء،دار احیاء التراث العربی بیروت،۱/ ۹۶ )

وفیھا عن البدائع ان علیہ العامۃ ۳؎وفیھا عن التحفہ انہ الاصح ۴؎ وقال فی الھدایۃ ھوالصحیح ۵؎

اوراسی میں بدائع کے حوالے سے ہے کہ اسی پر عامہ علماء ہیں اسی میں تحفہ کے حوالے سے ہے کہ وہی اصح ہے  ہدایہ میں فرمایا ہے کہ وہی صحیح ہے

 (۳؎ حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی )
 (۴؎ حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی )
 (۵؎ الہدایۃ،کتاب الطہارات،فصل فی نواقض الوضوء، المکتبۃ العربیۃ کراچی       ۱/ ۱۰)

وقال فی العنایۃ الذی صححہ وھو ظاھر الروایۃ ۶؎ عنایہ میں فرمایا کہ صاحب ہدایہ نے جسے صحیح کہا وہی ظاہر الروایہ ہے

 (۶؎ العنایۃ شر ح الہدایۃ علے ہامش فتح القدیر  ،  فصل فی نواقض الوضوء،مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ،۱/ ۴۳)

وانما نسب العنایۃ وکتب اُخر الفرق الی ابن شجاع بل فی الحلیۃ عن الذخیرۃ عن الامام ابی الحسین القدوری انہ قال فیما عن ابن شجاع انہ اذا نام خارج الصلاۃ علی ھیاۃ الساجد ینقض وضوؤہ ھذا قولہ ولم یقل بہ احد من اصحابنا ۷؎ اھ

عنایہ اور دوسری کتابوں میں نماز بیرون نماز کی تفریق ابن شجاع کی جانب منسوب ہے بلکہ حلیہ میں ذخیرہ سے اس میں امام ابو الحسین قدوری سے منقول ہے کہ انہوں نے ابن شجاع سے مروی اس مسئلہ سے متعلق کہ جب سجدہ کرنے والے کی ہیات پر بیرون نماز سوجائے تو اس کا وضو ٹوٹ جائیگا ، یہ فرمایا کہ یہ ابن شجاع کا اپنا قول ہے ہمارے اصحاب میں سے کوئی اس کا قائل نہیں اھ

 (۷؎ حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی )

وفی ھذا مایکفینا للخروج عن عھدتہ وللّٰہ الحمد۔ اس تصریح میں اس قول سے ہماری سبکدوشی کے لئے سب کچھ موجود ہے ، وللہ الحمد۔

فاستبان ان القول الاول ھو المحتظی بصریح التصحیح۔الرابع ھو الاقوی من حیث الدلیل اعلم انہ اذقد تحقق ان القول الاول علیہ الاکثر وعلیہ المتون ولہ التصحیح ولو کان بعض ھذہ لمساغ لمثلی ان یتکلم عن الدلیل فکیف وقد اجتمعت۔ فالان اقول وبحول ربی احول اخرج الائمۃ احمد وابو داؤد والترمذی وابو بکر بن ابی شیبۃ فی مصنّفہ والطبرانی فی المعجم الکبیر والدار قطنی والبیہقی فی سننھما من طریق ابی خالد یزید بن عبدالرحمٰن الدالانی عن قتادۃ عن ابی العالیۃ عن ابن عباس رضی اللّٰہ تعالٰی عنہما انہ رأی النبی صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم نام وھو ساجد حتی غط او نفخ ثم قام یصلی فقلت یارسول اللّٰہ انک قدنمت قال ان الوضوء لایجب الا علی من نام مضطجعا فانہ اذا اضطجع استرخت مفاصلہ ھذا لفظ الترمذی ۱؎

تو یہ واضح وروشن ہوگیا کہ قول اول ہی صریح تصحیح سے بہرہ ور ہے ۔وجہ چہارم : دلیل کے لحاظ سے بھی قول اول ہی زیادہ قوی ہے واضح ہو کہ جب یہ تحقیق ہوگئی کہ قول اول ہی پر اکثر ہیں اسی پر متون ہیں اسی کی تصحیح ہے اور اگر ان باتوں میں سے ایک بھی ہوتی تو مجھ جیسے شخص کے لئے دلیل سے متعلق کلام کا جوا ز ہوجاتا پھر جب یہ سب جمع ہیں تو مجھے یہ حق کیوں نہ ہوگا ۔ تو اب میں کہتا ہوں اور اپنے ر ب ہی کی قدرت سے حرکت میں آتاہوں ، امام احمد ،ابوداؤد ، ترمذی ، ابوبکر بن ابی شیبہ اپنی مصنف میں ، طبرانی معجم کبیر میں ، دار قطنی اور بیہقی اپنی اپنی سنن میں بطریق ابو خالد یزید بن عبدالرحمن دالانی قتادہ سے وہ ابو العالیہ سے وہ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما سے راوی ہیں کہ انہوں نے دیکھا نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ ولسم کو سجدے میں نیند آئی یہاں تک کہ سونے میں دہن مبارک یا بینی مبارک کی آواز آئی پھر کھڑے ہو کر نماز پڑھنے لگے ، تومیں نے عرض کیا یا رسول اللہ! آپ کو تو نیند آگئی تھی ، فرمایا وضو واجب نہیں ہوتا مگر اسی پر جو کروٹ لیٹ کر سوجائے اس لئے کہ جب وہ کروٹ لیٹے گاتو اس کے جوڑ ڈھیلے ہوجائیں گے ، یہ ترمذی کے الفاظ ہیں ۔

 (۱؎ سنن الترمذی،ابواب الطہارۃ ،باب جاء فی الوضوء من النوم ،الحدیث ۷۷،دار الفکر بیروت،۱/ ۱۳۵)

وفی لفظ لاحمدان النبی صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم قال لیس علی من نام ساجدا وضوء حتی یضطجع فانہ اذا اضطجع استرخت مفاصلہ ۱؎ ولابی داؤد انما الوضوء علی من نام مضطجعا فانہ اذا اضطجع استرخت مفاصلہ۲؎

امام احمد کی ایک روایت کے الفاط یہ ہیں کہ نبی صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ، جو سجدے کی حالت میں سوجائے اس پر وضو  نہیں یہاں تک کہ کروٹ لیٹے کیونکہ جب وہ کروٹ لیٹ جائے گا تو اس کے جوڑ ڈھیلے ہوجائیں گے ابو داؤد کے الفاظ یہ ہیں وضو اسی پر ہے جو کروٹ لیٹ کر سوجائے کیونکہ جب وہ کروٹ لیٹے گا تو اس کے جوڑ ڈھیلے ہوجائیں گے ،

 (۱؎ مسند احمد بن حنبل        عن عبداللہ ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ        المکتب الاسلامی بیروت     ۱/ ۲۵۶)
(۲؎ سنن ابی داؤد          کتاب الطہارۃ        باب فی الوضوء من النوم           آفتا ب علم پریس لاہور         ۱/ ۲۷)

وللدار قطنی لاوضو علی من نام قاعدا انما الوضو علی من نام مضطجعا فان نام مضطجعا استرخت مفاصلہ اھ۳؎

دار قطنی کے الفاظ یہ ہیں ۔اس پر وضو نہیں جو بیٹھا ہوا سوجائے وضو اس پر ہے جو کہ کروٹ لیٹ کر سوئے اس لئے  کہ جو کرو ٹ لیٹ کر سوئے گا اس کے جوڑ ڈھیلے ہوجائیں گے ،

 (۳؎ سنن الدرا قطنی       باب فیما روی فیمن نام قاعدا    الخ    حدیث ۵۸۵      دار المعرفۃ بیروت     ۱/ ۳۷۶)

وللبہیقی لایجب الوضوء علی من نام جالسا اوقائما اوساجدا حتی یضع جنبہ فانہ اذا اضطجع استرخت مفاصلہ ۴؎ بیہقی کے الفاظ یہ ہیں اس پر وضو واجب نہیں جو بیٹھے بیٹھے ، یا کھڑے کھڑے ، یا سجدہ میں سوجائے یہاں تک کہ اپنی کروٹ زمین پر رکھ دے کیونکہ جب وہ کروٹ لیٹے گا تو اس کے جوڑ ڈھیلے پڑجائیں گے ،

 (۴؎السنن الکبری       کتاب الطہارۃ      باب ورد فی نوم المساجد       دارصادر بیروت         ۱/ ۱۲۱)

وذکر المحقق فی الفتح حدیثا اٰخر عن عمرو بن شعیب عن ابیہ عن جدہ فیہ مھدی بن ھلال واخر عن ابن عباس عن حذیفۃ بن الیمان رضی اللہ تعالی عنہم فیہ بحر بن کنیز (عــــــہ ۱ )السقاء (عــــــہ ۲ )ثم قال وانت اذا تأملت فیما اوردناہ لم ینزل عندک الحدیث عن درجۃ الحسن ۱؎ اھ

اور حضرت محقق نے فتح القدیر میں ایک دوسری حدیث بروایت عمر و بن شعیب عن ابیہ عن جدہ ذکر کی ہے اس میں ایک راوی مہدی بن ہلال ہے او رایک حدیث بروایت حضرت ابن عباس حضرت حذیفہ بن الیمان رضی اللہ تعالی عنہم سے ذکر کی ہے اس میں ایک روای بحرین کنیز سقاء ہے پھر فرمایا ہے : ہم نے حدیث جن طرق سے نقل کی ہے ان میں غور کرو گے تو حدیث تمہارے نزدیک درجہ حسن سے فروتر نہ ہوگی اھ

عــہ ۱ : بنون وزای ووقع فی نسخ الفتح و الغنیہ ونصب الرایۃ وغیرھا ا لمطبوعات کلھا کثیر بثاء وراء وھوتصحیف ۔
عــہ۱: نون اور زاسے اور فتح ، غنیہ ، نصب الرایہ وغیرہا کے سبھی مطبوعہ نسخوں میں ثا اور راسے کثیر چھپاہوا ہے یہ تصحیف ہے۔۱۲منہ(ت)
عـہ ۲ :کان یسقی الحجاج فسمی السقاء ۱۲ منہ۔  عــہ۲ : یہ حاجیوں کو پانی پلاتے تھے اس لئے سقاء نام پڑگیا ۱۲منہ(ت)

(۱؎ فتح القدیر    کتاب الطہارۃ،فصل فی نواقض الوضوء       مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر    ۱/ ۴۵)

قال فی الغنیۃ لما تقرران ضعف الراوی اذاکان بسبب الغفلۃ دون الفسق یزول بالمتابعۃ ویعلم بھا ان ذلک الحدیث مما اجاد فیہ ولم یھم فیکون حسنا ۲؎ اھ۔

غنیہ میں فرمایا ، اس لئے کہ یہ طے شدہ ہے کہ راوی کا ضعف جب فسق کی وجہ سے نہ ہو غفلت کی وجہ سے ہو تو وہ متابعت سے دور ہوجاتا ہے اور اس سے یہ معلوم ہوجاتاہے کہ روای نے اس میں عمدگی برتی ہے اور وہم کا شکار نہ ہواتو وہ حدیث حسن ہوجاتی ہے ، اھ

 (۲؎غنیہ المستملی شرح منیۃ المصلی،فصل فی نواقض الوضوء، سہیل اکیڈمی لاہور، ص۱۳۸)

اقول اما ف۱ ابن ھلال فلا(ف۲)یصلح متابعافقد کذّبہ یحیی بن سعید ۳؂ اقول ابن ہلال تو متا بعت کے قابل نہیں ، یحیی بن سعید نے اسے کا ذب کہا ۔

ف۱: تطفل علی الفتح والغنیۃ ۔ ف۲: طرح مھدی بن ھلال۔

 (۳؂ میزان الاعتدال    ترجمہ مہدی بن ہلال   ۸۸۲۷    دار المعرفۃ بیروت    ۴/ ۱۹۶)

وقال ابن معین یضع الحدیث ۱؎وقال ابن المدینی کان یتھم بالکذب۲؎ وقال الدار قطنی وغیرہ متروک۳؎

ابن معین نے کہا ، وہ حدیث وضع کرتا تھا ، ابن مدینی نے کہا ، مہتم بالکذب تھا ، دار قطنی اور ان کے علاوہ نے بھی کہا  متروک ہے ۔

 (۱؎ میزان الاعتدال    ترجمہ مہدی بن ہلال    ۸۸۲۷   دار المعرفۃ بیروت    ۴/ ۱۹۶)
( ۲ ؂ میزان الاعتدال    ترجمہ مہدی بن ہلال    ۸۸۲۷    دار المعرفۃ بیروت   ۴/ ۱۹۶)
(۳؂میزان الاعتدال    ترجمہ مہدی بن ہلال    ۸۸۲۷    دار المعرفۃ بیروت    ۴/ ۱۹۶)

واما فـــ ۱ ابن کنیز فقال النسائی والدار قطنی متروک ۴؎ وھو قضیۃ قول ابن معین لایکتب حدیثہ ۵؎ لکن الحافظ فی التقریب اقتصر علی انہ ضعیف تبعا ۶؎للبخاری وابی حاتم فکان یجب اسقاط الاول وما کان کبیر حاجۃ الی الاٰخر فان الحدیث بنفسہ لاینزل عن درجۃ الحسن علی اصولنا ان شاء اللّٰہ تعالٰی وکلام الاثرین ماش علی اصولہم من ردالمراسیل وعنعنۃ المدلسین مطلقا۔

رہاابن کنیز ، تو اس کے بارے میں نسائی اوردار قطنی نے کہا متروک ہے یہی ابن معین کے قول '' لایکتب حدیثہ''( اس کی حدیث نہ لکھی جائے) کا بھی تقاضا ہے لیکن حافظ ابن حجر نے تقریب التہذیب میں بہ تبعیت امام بخاری وابو حاتم اسے ضعیف بتانے پر اکتفاکی ، تو پہلی روایت ( روایت ابن ہلال )کو ساقط کر دینا واجب تھا اور دوسری (روایت ابن کنیز )کی بھی کوئی بڑی ضرورت نہ تھی ، اس لئے کہ اصل حدیث ہمارے اصول کی رو سے خود ہی درجہ حسن سے فروتر نہ ہوگی ان شاء اللہ تعالی اور محدثین کا کلام ان کے اپنے اصول پر جاری ہے کہ مرسل حدیثیں اور اہل تدلیس کا عنعنہ مطلقا نامقبول ہے ۔

 (ف: جرح بحربن کنیز السقاء)

 (۴؎ میزان الاعتدال ترجمہ     بحربن کنیز      ۱۱۲۷    دار المعرفۃ بیروت     ۱/ ۲۹۸)
(۴؎ میزان الاعتدال ترجمہ     بحربن کنیز      ۱۱۲۷    دار المعرفۃ بیروت        ۱/ ۲۹۸)
(۶؎ تقریب التہذیب ترجمہ     بحربن کنیز         ۶۳۸    دار الکتب العلمیۃ بیروت      ۱ /۱۲۱)

امافــــ الکلام فی الدا لانی وما افحش فیہ ابن حبان من القول کعادتہ فقال کثیر الخطاء فاحش الوھم لایجوز الاحتجاج بہ اذا وافق الثقات فکیف اذا تفرد عنھم بالمعضلات ۱؎ رہا دالانی سے متعلق کلام اور ان سے متعلق ابن حبان نے حسب عادت جو سخت کلامی کی اور کہا وہ کثیر الخطاء ، فاحش الوہم ہے جب ثقات کے موافق ہو تو اس سے استناد روا نہیں پھر معضلات میں جب ثقات سے متفرد ہو تو اس سے کیوں کر استدلال ہوگا ،

فــــ تمشیۃ یزید بن عبدالرحمن الدالانی ۔

(۱؎ نصب الرایۃ بحوالہ ابن حبان ،کتاب الطہارات ،فصل فی نواقض الوضوء نوریہ رضویہ پبلشنگ کمپنی لاہور،۱/ ۹۲)

فمردود بان البخاری قال فیہ ابو خالد صدوق لکنہ یھم بالشیئ ۲؎ تو یہ سب اس وجہ سے نامقبول ہے کہ امام بخاری نے ان کے بارے میں فرمایا ابو خالد صدوق ہیں لیکن انہیں کچھ وہم ہوتا ہے ۔

 (۲؎ نصب الرایۃ بحوالہ محمد بن اسمعیل      کتاب الطہارات    فصل فی نواقض الوضوء     نوریہ رضویہ پبلشنگ کمپنی لاہور    ۱/ ۹۲)

وقال احمد وابن معین والنسائی لاباس بہ ۳؎ امام احمد ، ابن معین اور نسائی نے کہا ، لاباس بہ ( ان میں کوئی حرج نہیں)

 (۳؎ نصب الرایۃ بحوالہ محمد بن اسمعیل      کتاب الطہارات    فصل فی نواقض الوضوء     نوریہ رضویہ پبلشنگ کمپنی لاہور    ۱/ ۹۲)

وقال ابو حاتم صدوق ۴؎ ابوحاتم نے کہا صدوق (بہت راست باز ) ہیں ۔

 (۴؎ میزان الاعتدال    ترجمہ یزید بن عبدالرحمن    ۹۷۲۳    دار المعرفۃ بیروت     ۴/ ۴۳۳)

وقال الذھبی فی المغنی مشہور حسن الحدیث ۵؎ ذہبی نے مغنی میں کہا مشہور حسن الحدیث ہیں۔

 (۵؎ المغنی فی الضعفاء    ترجمہ یزید بن عبدالرحمن     ۹۷۲۳    دار الکتب العلمیۃبیروت     ۲/ ۵۴۰)

وما فــــ ذکر ابو داؤد عن شعبۃ ھھناعــہ انہ لم یسمع قتادۃ من ابی العالیۃ الااربعۃ عـــہ۱؎ احادیث وحکی عـــہ۲؎ عن ابی داؤد نفسہ لم یسمع منہ الاثلثۃ احادیث۔

وہ کلام جو ابو داؤد نے یہاں امام شعبہ سے نقل کیا کہ قتادہ نے ابو العالیہ سے صرف چار حدیثیں سنی ہیں، اور خود ابو داؤد ہی سے یہ بھی حکایت کی گئی ہے کہ قتادہ نے ابوالعالیہ سے صرف تین حدیثیں سنی ہیں۔

 (ف: قالوا لم یسمع قتادۃ من ابی العالیہ الاربعہ اوثلثۃ)
عـــہ: ای فی باب الوضو من النوم لاکما یتوھم من کلام الامام الزیلعی المخرج انہ ذکر ھھنا مایدل علی ان قتادۃ لم یسمع ھذا الحدیث من ابی العالیۃ ونقل کلام من شعبۃ فی موضع اٰخر۔ (۱۲م)
یعنی نیند سے وضو کے باب میں ویسا نہیں جیسا کہ امام زیلعی مخرج حدیث (صاحب نصب الرایہ کے کلام سے وہم ہوتا ہے کہ انہوں نے یہاں وہ ذکر کیا جس سے پتا چلتا ہے کہ قتادہ نے یہ حدیث ابوالعالیہ سے نہ سنی ، اور امام شعبہ کا کلام ایک دوسرے مقام پر نقل کیا )
عـــہ۱؎ حدیث یونس بن متی وحدیث ابن عمر فی الصلاۃ وحدیث القضاۃ ثلثۃ وحدیث ابن عباس حدثنی رجال مرضیون منھم عمر وارضاھم عندی عمر ۱؎ اھ ابو داؤد ۱۲ منہ (م)
عہ۱؎ (۱) حدیث یونس بن متی(۲) حدیث ابن عمر دربارہ نماز(۳) حدیث القضاۃ ثلاثۃ(۴) حدیث ابن عباس ، مجھ سے پسندیدہ حضرات نے حدیث بیان کی جن میں عمر بھی ہیں ، اور ان میں میرے نزدیک سب سے زیادہ پسند یدہ عمر ہی ہیں اھ ابو داؤد(۱۲م۔ت)

 (۱؎ سنن ابی داؤد    کتاب الطہارۃ    باب الوضوء من النوم     آفتاب عالم پریس لاہور    ۱ /۲۷)

عـــہ۲؎ الحاکی الامام الزیلعی المخرج انہ ذکرہ ابو داؤد فی کتاب السنۃ فی حدیث لاینبغی لعبد ان یقول انا خیر من یونس بن متی قلت و راجعت ثلث نسخ من الکتاب فلم ارہ ذکر فی کتاب السنۃ شیئا من ھذا واللّٰہ تعالٰی اعلم ۱۲ منہ (م)
عہ۲؎:حکایت کرنے والے امام زیلعی مخرج حدیث ہیں کہ ابوداؤد نے یہ بات کتاب السنۃ میں ذکر کی ہے اس حدیث کے تحت کہ کسی بندے کو یہ کہنا مناسب نہیں کہ میں یونس بن متی سے بہتر ہوں قلت میں نے ابوداؤد کے تین نسخے دیکھے کسی میں نہ پایا کہ انہوں نے کتاب السنۃ میں اس سے کچھ ذکر کیا ہو۔ واللہ تعالی اعلم۱۲ منہ(ت)

فـاقـول وتلک شکاۃ ظاھر عنک عارھا فلو سلم لشعبۃ وابی داؤد شہادتہما علی النفی مع اضطراب اقوالہما فیہ فـــ مع انھا لم تقبل من الذین( عــہ) ھم اکبر واکثرمع کونھا مھم اکد(عـــہ۱ ) واظہر وذلک فی روایۃابن اسحٰق عن امرأۃ ھشام بن عروۃ فلیس غایتہ الا الارسال فکان ماذا فان المرسل مقبول عندنا وعند الجمھور مع انا فی غنی عن النظر فیہ فقداحتج بہ اصحابنا وقبلوہ من غیر نکیر۔

فاقول یہ ایسی شکایت ہے جس کا عار آپ ہی سے ظاہر ہے پہلی بات یہ ہے کہ قتادہ کے خلاف شعبہ اور ابوداؤد کی نفی سماع سے متعلق شہادت قابل تسلیم کیسے ہوگی جب کہ ان کے بارے میں ان کے اقوال بھی مضطرب ہیں اورایسی شہادت ان لوگو ں سے قبول نہ کی گئی جو ان سے بزرگ اور تعداد میں ان سے زیادہ ہیں جب کہ ان کی شہادت بھی ان سے زیادہ موکد اورزیادہ ظاہر ہے دوسری بات یہ کہ اگر تسلیم بھی کر لی جائے تو اس کامدعا زیادہ سے زیادہ یہ ہے کہ حدیث مرسل ہے تو اس سے کیا ہوا ؟ حدیث مرسل ہمارے نزدیک اور جمہور کے نزدیک مقبول ہے باوجودیکہ ہمیں اس حدیث میں نظر کی ضرورت نہیں اس لئے کہ ہمارے ائمہ نے اس سے استدلال کیا ہے اور بلا نکیر اسے قبول کیا ہے ۔

فــــ لم تقبل شہادۃ نفی سماع ابن اسحق من فاطمۃ بن المنذر من ائمۃ اجلۃ ۔
عـــہ ھم ھشام بن عروۃ وامام دارالھجرۃ مالک بن انس و الامام وھب بن جریر والامام یحیی بن سعید القطان اخرج ابن عدی عن ابی بشر الدولابی ومحمد بن جعفر بن یزید عن ابی قلابۃ الرقاشی ثنی ابو داؤد سلیمان بن داؤد قال قال یحیی القطان اشہد ان محمد بن اسحق کذاب قلت وما یدریک قال قال لی وھب فقلت لوھب مایدریک قال  لی مالک بن انس فقلت لمالک وما یدریک قال قال لی ھشام بن عروہ قلت لھشام بن عروۃ وما یدریک قال حدث عن امرأتی فاطمۃ بنت المنذر وادخلت علی وھی بنت تسع وما راھا رجل حتی لقیت اللّٰہ تعالٰی ۱؎حاول التفصی عند الذھبی فی المیزان فقال وما یدری ھشام بن عروۃ فلعلہ سمع منہا فی المسجد اوسمع منھا وھو صبی اودخل علیہا فحدثتہ من وراء حجاب فای شیئ فی ھذا الخ۱؎ وقد ضعفنا اعتذارہ فی کتابنا منیر العین فی حکم تقبیل الابھا مین مع ان المحقق عندنا ایضاً ھو توثیق ابن اسحاق وبذل الامام البخاری جہدہ فی الذب عنہ اذ اتی بحدیث القراء ۃ خلف الامام وان لم یرض بالاخراج لہ فی صحیحہ المسند ۱۲منہ۔ (م)

عہ: وہ حضرات یہ ہیں (۱) ہشام بن عروہ(۲) امام دارا لہجرۃ مالک بن انس (۳) وہب بن جریر (۴) امام یحیی بن سعید قطان، ابن عدی نے ابو بشر دولابی اور محمد بن جعفر بن یزید سے روایت کی ہے وہ ابوقلابہ رقاشی سے روای ہیں انہوں نے کہا مجھ سے ابو داؤد سلیمان بن داؤد نے بیان کیا کہ یحیی قطان نے کہا میں شہادت دیتا ہوں کہ محمد بن اسحق کذاب ہے میں نے کہا آپ کو کیسے معلوم ؟ کہا مجھ کو وہب نے بتایا اب میں نے وہب سے کہا آپ کو کیسے معلوم؟ انہوں نے کہا مجھے مالک بن انس نے بتایا میں نے مالک سے پوچھا آپ کو کیسے معلوم ؟ انہوں نے کہا مجھے ہشام بن عروہ نے بتایا میں نے ہشام بن عروہ سے دریافت کیا آپ کو کیسے معلوم ؟ انہوں نے کہا : اس نے میری بیوی فاطمہ بنت منذر سے حدیث روایت کی ، جب کہ وہ میرے یہاں نوسال کی عمر میں لائی گئی او رکسی مرد نے اسے دیکھا نہیں یہاں تک کہ وہ خدا کو پیاری ہوئی اس جرح سے چھٹکارے کی کوشش کرتے ہوئے میزان الاعتدال میں ذہبی نے کہا ہشام بن عروہ کو کیا پتہ ، ہوسکتا ہے ابن اسحق نے ان کی بیوی سے مسجد میں سنا ہو ، یا ان سے اپنے بچپن میں سنا ہو ، یا ان کے پاس گئے ہوں تو انہوں نے پردہ کی اوٹ سے حدیث سنائی ہو ، تو اس میں کیا بات ہے الخ ، ہم نے اپنی کتاب منیر العین فی حکم تقبیل الابھا مین میں ذہبی کا یہ اعتذار ضعیف قرار دیا ہے باوجودیکہ  ہمارے نزدیک بھی تحقیق یہی ہے کہ ابن اسحاق ثقہ ہیں اور امام بخاری نے ان کے دفاع میں پوری کوشش صرف کی ہے جہا ں جزء القراء ۃ میں قرأت خلف الامام کی حدیث ان سے روایت کی ہے اگر چہ اپنی صحیح مسند میں ان کی روایت لانا پسند نہ کیا ہو ۱۲منہ (ت)

عــہ ۱ : اکد للفظ اشھد واظہر لان الانسان بحال امرأتہ المخدرۃ اعلم۱۲منہ۔
عـہ: زیادہ موکد اس لئے کہ اس میں لفظ اشھد (میں شہادت دیتا ہو ں) ہے اور زیادہ ظاہر اس لئے کہ آدمی اپنی پردہ نشین بیوی کے حال سے زیادہ با خبر ہوگا ۱۲منہ(ت)

وانت علی علم ان الحکم لایختص بالمضطجع فقد اجمعنا علی النقض فی الاستلقاء والانبطاح لانا رأینا الحدیث ارشد الی المعنی فی ذلک وھو استرخاء المفاصل ولا یراد بہ مطلقہ لحصولہ فی کل نوم فیناقض اٰخرہ اولہ بل کمالہ کما تقدم عن الکافی فتحصل لنا من الحدیث ان المدار علی نھایۃ الاسترخاء فحیث وجد وجد النقض وحیث عدم عدم کما اشار الیہ المحققون فاستقرت الضابطۃ وانحلت العقدۃ عن کلتا الدعویین فی القول الاول فان خصوصیۃ الصلاۃ لادخل لہا فی منع الاسترخاء ولا لخارجہا فی احد اثہ بل الحدیث مطلق عن التقیید بالصلاۃ کما اعترف بہ فی البدائع قائلا فی النوم خارج الصلاۃ علی ھیاۃ السجود ان العامۃ علی انہ لایکون حدثا لماروی من الحدیث من غیر فصل بین الصلاۃ وغیرھا کما فی الحلیۃ فمن سجد خارجہا سجدۃ مشروعۃ واٰخر غیر مشروعۃ واٰخر لم ینو ا لسجود اصلا فلا یفترقون الافی النیۃ ولا اثرلہا فی ارخاء اومنعہ بداھۃ وانما ذلک الی ھیاۃ النوم کیفما وجدت فیجب ادارۃ الحکم علیہا ولا شک ان النوم علی ھیاۃ سجود السنۃ یمنع الاسترخاء التام اذالو کان لسقط کما افادہ فی الھدایۃ فوجب ان لاینقض حتی فی خارج الصلوۃ وان النوم علی غیرھا مفترش الذر اعین ملصق البطن بالفخذین لیس الا السقوط ھو ھوفوجب ان ینقض حتی فی الصّلاۃ۔

اور آپ کومعلوم ہے کہ کروٹ لیٹنے والے ہی سے حکم خاص نہیں چت لیٹنے اور منہ کے بل لیٹنے کی صورت میں بھی وضو ٹوٹنے پر ہمارا اجماع ہے اس لئے کہ ہم نے دیکھا کہ حدیث نے اس بارے میں بنیادی علت کی رہ نمائی فرمادی ہے وہ ہے استر خائے مفاصل ( جوڑوں کا ڈھیلے پڑجانا) اور اس سے مطلق استر خاء مراد نہیں یہ تو ہر نیند میں ہوتا ہے تو آخرحدیث ، ابتدائے حدیث کے بر خلاف ہوجائیگا بلکہ کامل استر خا مراد ہے جیسا کہ کافی کے حوالے سے بیان ہوا تو حدیث سے ہمیں یہ نتیجہ ملاکہ مدار کامل استر خا پر ہے جہا ں یہ موجود ہوگا وہاں وضو بھی ٹوٹ جائے گا اور جہاں یہ نہ ہوگا وہاں وضو بھی نہ ٹوٹے گا ، جیسا کہ محققین نے اس کی طر ف اشارہ فرمایا ہے تو ضابطہ مستقر ہوگیا اور قول اول کے دونوں دعووں سے متعلق عقدہ کھل گیا اس لئے کہ خصوصیت نماز کو نہ استرخا کے روکنے میں کوئی دخل ہے نہ خارج نماز کو استر خا پیدا کرنے میں کوئی دخل ہے بلکہ حدیث نماز کی تقییید سے مطلق ہے جیسا کہ بدائع میں اس کا اعتراف کیا ہے اور بیرون نماز ہیات سجدہ پر سونے کے بارے میں کہا ہے کہ عامہ علماء اسی پر ہیں کہ وہ حدث نہیں اس لئے کہ حدیث نماز اور غیر نماز کی تفریق کے بغیر وارد ہے جیسا کہ حلیہ میں ہے تو بیرون نماز مشروع سجدہ کرنے والا ،دوسرا غیر مشرو ع سجدہ کرنے والا ، تیسرا بغیر کسی نیت کے سجدہ کی حالت میں ہونے والا تینوں کے درمیان سوا نیت کے کسی بات کا فر ق نہیں اور بدیہی بات ہے کہ اعضاء کو ڈھیلا کرنے یا استر خاء کو روکنے میں نیت کا کوئی اثر نہیں اس کا مدار تو سونے کی ہیات پر ہے کہ وہ کس حال میں پائی جارہی ہے تو حکم کو اسی پر دائر رکھنا لازم ہے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ سجدہ سنت کی ہیات پر سونا کامل استرخا سے مانع ہے اس لئے کہ اگر کامل استر خاہوتو گرجا ئے جیسا کہ ہدایہ میں فرمایا تو ضروری ہے کہ یہ سوناناقض وضو نہ ہو یہاں تک کہ بیرون نماز بھی اور خلاف سنت طریقے پر کلائیاں بچھائے ہوئے پیٹ رانوں سے ملائے ہوئے سونا کیاہے پس گرپڑنا، اس کے سوا کچھ اور نہیں تو واجب ہے کہ وہ ناقض وضو ہو یہاں تک کہ اندرون نماز بھی ۔

اقول: وبہ ظھر الجواب عن استحسان البدائع والبحر والغنیۃ فان ذلک انما کان یسوغ لو ان النص لم یکن فیہ الانفی النقض عن الساجد فعلی التنزل وتسلیم ان لیس الظاھر فی کلام الشارع علیہ الصلٰوۃ والسلام ارادۃ الھیاۃ المسنونۃ المعھودۃ کان یمکن ان یدعی ان الشارع ناط ذلک بکل ماینطق علیہ اسم السجود کیفما کان ولیس کذلک بل النص نفسہ ارشدنا الی العلۃ بقولہ استرخت مفاصلہ فعلمنا ان الحکم معلول معقول وقد وجدت العلۃ فی سجود غیر السنۃ فلامعنی لعدم النقض علی خلاف القیاس والنص جمیعا نعم یترک ای لایجری ھھنا القیاس بالمعنی المصطلح علیہ لان فــــ العلۃ منصوصۃ فاجراؤھا لایکون قیاساولا یخص المجتہد کما بینہ خاتمۃ المحققین سیدنا الوالد قدس سرہ الماجد فی کتاب الجلیل المفاد اصول الرشاد لقمع مبانی الفساد۔

اقول: اسی سے بدائع ، بحر اور غنیہ کے استحسان کا جواب بھی ظاہر ہوگیا اس کی گنجائش محض اس صورت میں نکل سکتی تھی کہ نص میں سجدہ کرنے والے سے متعلق وضو ٹوٹنے کی نفی کے سوا کچھ اور نہ ہوتا اس صورت میں بطور تنزل یہ مان کر کہ شارع علیہ الصلوۃ والسلام کے کلام میں معہود ہیات مسنونہ کا مراد ہونا ظاہر نہیں یہ دعوی کیا جاسکتا تھا کہ شارع نے عدم نقض کا حکم ہر اس حالت سے وابستہ کر رکھا ہے جس پر نام سجدہ کا اطلاق ہوجائے چاہے جو بھی کیفیت ہو اور یہ صورت ہے نہیں بلکہ خود نص نے '' استر خت مفاصلہ'' کے لفظ سے علت کی جانب رہ نمائی وہدایت کردی ہے جس سے ہمیں معلوم ہوگیا کہ یہ حکم ایک علت پر مبنی ہے اور وہ علت ہماری عقل میں آنے والی بھی ہے اور خلاف سنت سجدے میں علت ( اعضا کا کامل استرخا) موجود ہے تو کوئی وجہ نہیں کہ قیاس اور نص دونوں ہی کے بر خلاف وضو ٹوٹنے سے بچ جائے ہاں قیاس بمعنی اصطلاحی یہاں متروک ہے یعنی جاری نہیں ہوتا اس لئے کہ علت منصوص ہے تو اسے جاری کرنا قیاس نہیں اور نہ ہی یہ کا م مجتہد سے خاص ہے جیسا کہ اسے خاتم المحققین سیدنا الوالد قد س سرہ الماجد نے اسے اپنی عظیم افادہ بخش کتاب اصول الرشاد لقمع مبانی الفساد میں بیان کیا ہے ۔

فــــ : اجراء العلۃ المنصوصۃ لایختص بالمجتہد۔

فاستقر بحمداللّٰہ تعالٰی عرش التحقیق علی القول الاول وانہ ھو الصحیح وعلیہ المعول والحمدللّٰہ فی الاٰخر والاول۔
الثالثۃ فــ۲ـ: تعمد النوم فی الصلاۃ لایفسدھا مطلقا بل اذا کان حدثا کما نبھنا علیہ وقد قدمنا عن الخانیۃ انہ ان تعمد النوم فی رکوعہ لاتفسد ۱؎ وفی الخلاصۃ لو نام فی رکوعہ اوسجودہ جازت صلاتہ لکن لایعتدبھما واعادھما اذالم یتعمد ذلک فان تعمد تفسد صلاتہ فی السجود دون الرکوع ۲؎ اھ واسلفنا عن الفتح ان مبناہ علی زوال المسکۃ فی السجود فلو سجد متجافیا ونام عامدا لم تفسد صلاتہ واثرہ فی الحلیۃ فاقرہ ونقلہ فی البحر و زاد علیہ انھا لاتفسد ولو غیر متجاف وذلک لما اختار ان النوم فی السجود المشروع لاینقض الوضوء مطلقا ولو علی غیر ھیاۃ السنۃ فسجود غیر المتجافی ایضا لما لم یکن النوم فیہ حدثا عندہ لم یجعل تعمدہ فیہ مفسدا۔

توبحمدہ تعالی عرش تحقیق قول اول ہی پر مستقر ہوا اور اس پر کہ وہی صحیح اور وہی معتمد ہے۔ اور اول وآخر تمام تر حمد اللہ ہی کے لئے ہے ۔

افادہ ثالثہ : نماز میں قصدا سونا مطلقا مفسد نما زنہیں بلکہ صرف اس صورت میں جب وہ ناقض وضو ہو جیسا کہ ہم نے اس پر تنبیہ کی اور خانیہ کے حوالے سے ہم نے نقل کیا کہ اگر رکوع میں قصد ا سوئے تو نماز فاسد نہ ہوگی اور خلاصہ میں ہے: اگر رکوع یا سجدے میں سوجائے تو اس کی نماز ہوجائے گی ، لیکن اس رکوع وسجود کا شمار نہ ہوگا اور ان کا اعادہ کرنا ہوگا ، یہ اس وقت ہے جب قصدا نہ سویا ہو اگر قصدا سویا تو سجدے میں ایساسونا مفسد نماز ہے رکوع میں نہیں اھ اور سابقہ ہم نے فتح القدیر کے حوالے سے نقل کیا کہ اس کی بنیاد سجدے میں بندش کھل جانے پر ہے تو اگر کر وٹیں جدا رکھ کر سجدہ کیا اور قصدا سوگیا تو نماز فاسد نہ ہوگی اسے حلیہ میں نقل کر کے بر قرار رکھا ہے اور بحر میں اسے نقل کر کے اس پر یہ اضافہ کیا ہے کہ '' اگر کروٹیں جدا نہ ہوں تو بھی نماز فاسد نہ ہو گی'' اس کی وجہ یہ ہے کہ صاحب بحر نے یہ اختیار کیا ہے کہ سجدہ مشروع میں سونا مطلقا ناقض وضو نہیں اگرچہ طریقہ سنت کے بر خلاف ہو ، تو سجدہ میں کروٹیں جدا نہ رکھنے والے کا سونا بھی چوں کہ ان کے نزدیک ناقض وضو نہیں اس لئے انہوں نے اس کے بالقصد سونے کو مفسد نماز قرار نہ دیا ۔

فـــــ۲( تحقیق مسئلۃ تعمد النوم فی الصلوۃ)

 (۱؎ فتاوی قاضی خان     کتاب الطہارۃ     فصل فی النوم     نولکشور لکھنو     ۱/ ۲۰)
(۲؎خلاصۃ الفتاوی    کتاب الصلوۃ     الفصل الثالث عشر     مکتبہ حبیبیہ کوئٹہ     ۱/ ۱۳۲)

ولنقص عبارۃ البحر لیکون تذکیرا لما عبر وتمہید الماغبر قال رحمۃ اللّٰہ تعالٰی واطلق فی الھدایۃ الصلاۃ (قلت یرید النوم فیھا فتجوز بحذف المضاف وبہ یسقط فـــ اعتراض المنحۃ علی البحر فیما تابع ھو فیہ الفتح قال البحر) فشمل ماکان عن تعمد وما عن غلبۃ وعن ابی یوسف اذا تعمد النوم فی الصلاۃ نقض والمختار الاول وفی فصل مایفسد الصلٰوۃ من فتاوی قاضی خان لونام فی رکوعہ او سجودہ ان لم یتعمد لاتفسد وان تعمد فسدت فی السجود دون الرکوع اھ کانہ مبنی علی قیام المسکۃ فی الرکوع دون السجود ومقتضی النظر ان یفصل فی السجود ان کان متجافیا لاتفسد والا تفسد کذا فی الفتح القدیر ، وقد یقال مقتضی الاصح المتقدم ( ان النوم فی السجود المشروع لاینقض مطلقا ولو غیر متجاف) ان لا ینتقض بالنوم فی السجود مطلقا وینبغی حمل مافی الخانیۃ علی روایۃ ابی یوسف ۱؎ اھ ما فی البحر مزید ا مابین الاھلۃ ۔

ہم عبارت بحر کا پورا قصہ بتا تے ہیں تاکہ سابق کی یاددہائی بھی ہوجائے اور باقی مباحث کی تمہید بھی صاحب بحر فرماتے ہیں (ہلالین میں صاحب فتاوی رضویہ کا اضافہ ہے ۱۲م) '' ہدایہ میں نماز کو مطلق رکھا ہے ''(قلت ان کی مراد یہ ہے کہ نماز میں نیند کو مطلق رکھا ہے تو مضاف حذف کر کے مجاز حذف کا طریقہ اپنایا ہے اس تو ضیح سے منحۃ الخالق کاوہ اعتراض ساقط ہوجاتا ہے جو البحر الرائق پر فتح القدیر کی متابعت کے معاملہ میں کیا ہے بحر میں آگے فرمایا) تو یہ اس نیند کو بھی شامل ہے جو قصدا ہو اور اسے بھی جو نیند کے غلبہ کی وجہ سے ہو اور امام ابو یوسف سے روایت ہے کہ نماز میں قصدا سونا ناقض وضو ہے اور مختار اول ہے اور فتاوی قاضی خان میں مفسدات نماز کی فصل میں ہے اگر رکوع یا سجدے میں سوگیا تو بلا قصد سونے کی صورت میں نماز فاسد نہ ہوگی اور اگر قصدا سویا تو سجدہ میں سونا مفسد نماز ہے رکوع میں نہیں اھ شاید یہ تفریق اس بناء پر ہے کہ رکوع میں بندش باقی ہوگی اور سجدے میں نہ ہوگی اور نظر کا تقاضایہ ہے کہ سجدے میں تفصیل کی جائے کہ اگر کر وٹیں جدا ہوں تو نماز فاسد نہ ہوگی ورنہ فاسد ہوجائے گی ایسا ہی فتح القدیر میں ہے او رکہا جاتا ہے کہ جو قول اصح پہلے گزرا (کہ مشروع سجدہ میں سونا مطلقا ناقض نہیں اگر چہ کروٹیں جدا ہوں ) اس کا تقاضایہ ہے کہ سجدہ میں سونے سے وضو مطلقا نہ جائے ۔اور کلام خانیہ کو امام ابو یوسف کی روایت پر محمول کرنا چاہئے اھ بحر کی عبارت ہلالین کے درمیان اضافوں کے ساتھ ختم ہوئی ۔

 (۱؎ البحرالرائق     کتاب الطہارۃ      ایچ ایم سعید کمپنی کراچی      ۱/ ۳۸)

قال فی منحۃ الخالق الذی تقدم من روایۃ ابی یوسف انہ اذا تعمد النوم فی الصلاۃ نقض وکذا فی الفتح وھی کما تری غیر مقیدۃ بالسجود تأمل ثم رأیت فی غایۃ البیان مانصّہ وروی عن ابی یوسف رحمہ اللّٰہ تعالٰی فی الاملاء انہ اذا تعمد النوم فی السجود ینقض وان غلبت عیناہ لاینقض اھ وبہ یترجح الحمل المذکور ویکون المراد حینئذ مما تقدم من قول فی الصلاۃ ای فی سجودھا فقط فافھم ۲؎ اھ

البحر الرائق کے حاشیہ منحۃ الخالق میں علامہ شامی فرماتے ہیں امام ابو یوسف کی روایت جو پہلے مذکور ہوئی یہ ہے کہ نماز میں قصدا سوناناقض وضو ہے اسی طر ح فتح میں منقول ہے یہ روایت جیسا کہ سامنے ہے ، حالت سجدہ سے مقید نہیں ، غور کرو ، پھر میں نے غایۃ البیان میں یہ عبارت دیکھی ، امام ابو یوسف رحمہ اللہ تعالی سے'' املا'' میں مروی ہے کہ سجدہ میں قصدا سونا ناقض وضو ہے اور اگر نیند کے غلبہ کی وجہ سے (بلا قصد) سوگیا تو وضو نہ ٹوٹے گا اھ ، اس روایت کی بنیاد پر کلام خانیہ کو اس پرمحمول کرنے کی بات کو ترجیح حاصل ہوجاتی ہے اور اس صورت میں امام ابو یوسف سے سابقا جو روایت بلفظ فی الصلوۃ ( نماز میں قصدا سونا ناقض ہے ) منقول ہوئی اس میں ''نماز میں ''سے مراد''صرف سجدہ نماز میں ''ہوگا تو اسے سمجھئے اھ

 (۲؎ منحۃ الخالق علی البحر الرائق    کتاب الطہارۃ     ایچ ایم سعید کمپنی کراچی   ۱/ ۳۸ و ۳۹)

اقول: اولا فـــ الحکم فی المقید لاینافی الحکم فی المطلق کما افادہ فی الفتح لاجرم ان ذکر فی التحفۃ والبدائع ان النوم فی غیر حالۃ الاضطجاع والتورک فی الصلاۃ لایکون حدثا سواء غلبہ النوم اوتعمد فی ظاھر الروایۃ و روی عن ابی یوسف رحمہ اللّٰہ تعالٰی انہ قال سالت ابا حنیفۃ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ عن النوم فی الصّلاۃ فقال لاینقض الوضوء ولا ادری سالتہ عن العمد او عن الغلبۃ وعندی انہ ان نام متعمدا انتقض وضوؤہ ۱؎

اقول: اولا مقید کے بارے میں حکم ، مطلق کے بارے میں حکم کے منافی نہیں جیسا کہ فتح القدیر میں افادہ فرمایا (توہوسکتا ہے کہ امام ابو یوسف سے دونوں روایت ہو ، خاص سجدہ میں قصدا سونا ناقض ہے او ریہ بھی کہ اندرون نماز کسی بھی رکن میں سونا ناقض ہے ۱۲م) یہی وجہ ہے کہ تحفہ اور بدائع میں ذکر کیا ہے کہ اندرون نماز کروٹ لیٹنے اور سرین پر ٹیک دے کر لیٹنے کے علاوہ حالت میں سونا حدث نہیں خواہ نیند کے غلبہ سے سوگیا ہو یا قصدا سویا ہو ظاہر الروایہ میں یہی ہے ، اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ تعالی سے روایت ہے انہوں نے فرمایا میں نے امام ابو حنیفہ رضی اللہ تعالی عنہ سے اندرون نماز نیند کے بارے میں سوال کیا تو فرمایا ناقض وضو نہیں ، میں نہیں جانتا کہ ان سے میں نے قصدا سونے کے بارے میں پوچھا تھا یانیند کے غلبہ سے سونے کے بارے میں پوچھا تھا اور میرے نزدیک یہ حکم ہے کہ اگر قصدا سویا تو اس کا وضو ٹوٹ جائے گا ،

 (فـــ معروضۃ اخری علیہ)

 (۱؎ بدائع الصنائع      کتاب الطہارۃ         فصل واما بیان ما ینقض الوضوء    دار الکتب العلمیہ بیروت           ۱/ ۲۵۲)

قال فی البدائع وجہ روایۃ ابی یوسف ان القیاس فی النوم حالۃ القیام والرکوع والسجود ان یکون حدثا لکونہ سببا لوجود الحدث الا اناترکنا القیاس لضرورۃ التہجد نظر ا للمجتہدین وذلک عند الغلبۃ دون التعمد ۱؎ اھ قال فی الحلیۃ بعد نقلہ ھذا یفید اطلاقہ انہ ینتقض عند ابی یوسف بالنوم راکعا اذا تعمدہ ۲؎ اھ ای وکذا قائما۔

بدائع میں کہا کہ روایت امام ابو یوسف کی وجہ یہ ہے کہ قیام ، رکوع اور سجود کی حالت میں سونا قیاس کی رو سے حدث ہے اس لئے کہ یہ وجود حدث کا سبب ہے لیکن ہم نے تہجد گزاروں کا لحاظ کرتے ہوئے ضرورت تہجد کے باعث قیاس ترک کردیا اور یہ ضرورت غلبہ نوم ہی کی صورت میں ہے قصدا سونے میں نہیں اھ حلیہ میں اسے نقل کرنے کے بعد کہا: اس کے اطلاق سے یہی مستفاد ہے کہ امام ابو یوسف کے نزدیک قصدا رکوع کی حالت میں سونے سے بھی وضو ٹوٹ جائے گا اھ۔مقصد یہ ہے کہ یوں ہی قیام میں بھی۔

 (۱؎ بدائع الصنائع    کتاب الطہارۃ    فصل واما بیان ما ینقض الوضوء   دار الکتب العلمیہ بیروت     ۱/ ۲۵۳ )
(۲؂ حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی )

اقول : انمافـــ الاطلاق فی تحفۃ الفقہاء اما فی البدائع فتنصیص صریح لقولہ ان القیاس فی النوم حالۃ القیام والرکوع الخ فافادان ابا یوسف عمل فی جمیعہا بالقیاس عند العمد والعالم ربما یسأل عن صورۃ خاصۃ فیجیب فتأتی الروایۃ عنہ مقیدۃ بصورۃ السؤال مع ان الحکم مطلق عندہ عرف ھذا من مارس الفقہ وعن فــــ ھذا قلنا ان المطلق یحمل علی اطلاقہ وان اتحد الحکم والحادثۃ مالم تدع الی التقیید ضرورۃ۔

اقول:  اطلاق صرف تحفۃ الفقہاء میں ہے ۔ بدائع میں تو صاف تصریح ہے قیام ، رکوع ، سجود ، کی حالت میں سونا قیاس کی رو سے حدث ہے جس سے یہ افادہ فرمایا کہ امام ابو یوسف قصد کی صورت میں تمام ہی حالتوں میں قیاس پر عامل ہیں ۔ اور بارہا ایسا ہوتا ہے کہ عالم سے کوئی خاص صورت پوچھی جاتی ہے وہ اس کے بارے میں جواب دے دیتا ہے تو اس کے حوالے سے روایت صورت سوال کے ساتھ مقید ہوکر نقل ہوتی ہے حالاں کہ اس کے نزدیک حکم مطلق ہوتا ہے ۔ فقہ کی مما رست اور مشغولیت والا اس سے اچھی طرح آشنا ہے ۔ اسی لئے ہم اس کے قائل ہیں کہ مطلق اپنے اطلاق پرمحمول ہوگا اگرچہ حکم اور معاملہ ایک ہی ہو ، جب تک تقیید کی جانب کوئی ضرورت داعی نہ ہو۔

ثم القیاس الذی ذکر فی البدائع لروایۃ ابی یوسف وقد ذکرہ فی الہدایۃ والتبیین ایضا فی مسئلۃ الاغماء فالجواب عنہ انا نمنع کون القیاس فیھا ذلک بل القیاس ایضا عدم النقض لعدم کمال الاسترخاء کما افادہ فی الفتح۔

اب رہاوہ قیاس جو بدائع میں امام ابویوسف کی روایت سے متعلق پیش کیا ہے اور اسے ہدایہ وتبیین میں بھی بیہوشی کے مسئلہ میں ذکر کیا ہے ۔ اس کا جواب یہ ہے کہ ہم نہیں جانتے کہ اس بارے میں قیاس نقض وضو ہے بلکہ قیاس بھی یہی ہے کہ وضونہ ٹوٹے اس لئے کہ پورے اعضاء ڈھیلے نہ ہوں گے ۔ جیسا کہ فتح القدیر میں اس کا افادہ کیا ہے ۔

وثانیا اطلاق فـــ روایۃ ابی یوسف لاینافی حمل کلام قاضی خان فی السجود علیہا لان ائمۃ الترجیح کما یختارون احد القولین کذلک ربما یفصلون فیختارون قولا فی صورۃ و اخر فی اخری فیکون المعنی ان مافی الخانیۃ مشی فی صورۃ السجود علی روایۃ ابی یوسف وای عتب فیہ ۔

ثانیا اگرچہ امام ابو یوسف کی روایت مطلق ہے ۔ اس میں خاص حالت سجدہ کی قید نہیں ۔ اور قاضی کا کلام خاص حالت سجدہ سے متعلق ہے لیکن اس کلام کو اس روایت پر محمول کیا گیا ہے تو یہ اس کے اطلاق کے منافی نہیں ۔ اس لئے کہ ائمہ ترجیح جیسے دوقولوں میں سے ایک کو اختیار کرتے ہیں ویسے ہی بعض اوقات صورتوں کی تفصیل کرکے ایک صورت میں ایک قول کواور دوسرے قول کو اختیار کرتے ہیں ۔ تو ( البحرالرائق میں کلام خانیہ کو روایت مذکورہ پر محمول کرنے کا ) معنی یہ ہوا کہ خانیہ میں جو حکم مذکور ہے وہ صورت سجدہ میں امام ابویو سف کی روایت پر جاری ہے اس پر کسی عتاب کا کیا موقع ہے !

فـــ:معروضۃ ثالثۃ علی العلامۃ ش۔

ثم اعترض ھذا الحمل العلامۃ الشیخ اسمٰعیل فی شرح الدرر بانہ لایلزم من فساد الصلاۃ انتقاض الوضوء لما فی السراج لوقرأ و رکع وسجد وھو نائم تفسد صلاتہ لانہ زاد رکعۃ کاملۃ لایعتد بھا ولا ینتقض وضوؤہ  اھ ولم یحکم فی الخانیۃ علی الوضوء بالنقض والظاھران فی البحر غفولا عن ذلک فتدبرہ ۱؎ اھ

پھر اس حمل پر علامہ شیخ اسمعیل نے شرح درر میں اعتراض کیا ہے کہ نماز فاسد ہونے سے وضو ٹوٹنا لازم نہیں آتا کیوں کہ سراج وہاج میں ہے کہ اگر سونے کی حالت میں قرأ ت کی اور رکوع و سجدہ کیا تو نماز فاسد ہوجائے گی اس لئے کہ کامل ایک رکعت ایسی زیادہ کردی جو قابل شمار نہیں ۔ اور وضو نہیں ٹوٹے گا اھ ( علامہ شامی نے منحہ میں اسے نقل کرکے لکھا ۱۲م ) اور خانیہ میں وضو سے متعلق ناقض ہونے کا حکم نہیں کیا ہے۔ ظاہریہ ہے کہ البحرالرائق میں اس نکتے سے غفلت ہوگئی ہے تو اس میں تدبر کرو ۔ اھ

 ( حاصل اعتراض یہ کہ روایت امام ابویوسف میں قصدا سونے سے '' وضو ٹوٹنے '' کا ذکر ہے اور کلام خانیہ میں سجدہ کے اندر قصدا سونے سے ''فساد نماز'' مذکور ہے ، ہوسکتا ہے کہ نمازفاسد ہو اور وضو نہ ٹوٹے تو کلام خانیہ کا روایت مذکورہ پر حمل کیسے درست ہوگا ؟ ۱۲م )

 (۱ ؂بحوالہ منحۃ الخالق علی حاشیۃ البحرالرائق بحوالہ شرح الشیخ اسمٰعیل کتاب الطہارۃ   ایچ ایم سعید کراچی   ۱/ ۳۹)

اقـول فـــ اولا رحم اللّٰہ العلامۃ الفاضل والسید الناقل الشیئ یبتنی علی ملزومہ لالازمہ لجواز عموم اللازم فلا یقضی بوجود الملزوم ولا شک ان نقض الوضوء یستلزم فساد الصلاۃ عند التعمد لکونہ حینئذ تعمد حدث وھو مفسد قطعا۔

اقول اولا علامہ فاضل اور سیدنا قل پر خدا کی رحمت ہو ---- شیئ اپنے ملزوم پر مبنی ہوتی ہے لازم پر نہیں، اس لئے کہ ممکن ہے لازم اعم ہو تو اس کے وجود سے ملزوم کا حکم نہیں ہو سکتا اور اس میں شک نہیں کہ قصدًا وضو توڑنے کو فسادِ نماز لازم ہے اس لئے کہ یہ عمدًا حدث کو عمل میں لانا ہے جو قطعاً مفسد نماز ہے ( نقض وضو با لعمد ملزوم ہے فساد نماز لازم ،لہذا جب بھی اول ہوگا ثانی ہوگا اورثانی کا اول پر حمل اس لحاظ سے بجا ہے اور برعکس صورت نہ یہاں ہے نہ ہوسکتی ہے ۱۲ م )

فـــ تطفل علی الشیخ اسمعیل شار ح الدرر والعلامۃ ش۔

وثانیا فـــ۱ الکلام فی فساد الصلاۃ لاجل تعمد النوم وما ذکر من الصورۃ فالفساد فیھا لیس لہ بل لزیادۃ رکعۃ تامۃ وحمل کلام الخانیۃ علی روایۃ الامام الثانی لایستلزم ان لاتفسد صلوۃ بشیئ قط مالم ینتقض الوضوء فالبحر عقول لاغفول ھذا ۔

ثانیًا کلام اس میں ہے کہ قصدًا سونے سے نماز فاسد ہوجائے گی اور جو صورت ذکر کی ہے اس میں فسادِنماز کا سبب یہ نہیں بلکہ کامل ایک رکعت کی زیادتی ہے----اور کلام خانیہ کوامام ثانی کی روایت پرمحمول کرنا اسے مستلزم نہیں کہ کوئی نماز کسی شئی سے اس وقت تک فاسد ہی نہ ہو جب تک وضو نہ ٹوٹ جائے ۔محقق بحر اسے خوب سمجھتے ہیں اس نکتے سے غافل نہیں ---یہ ذہن نشین رہے۔

فـــ ۱:تطفل اخر علیہما ۔

واجاب فی المنحۃ عن ھذا الاعتراض بان مافی الخانیۃ من الفساد مبنی علی نقض الوضوء لتفریقہ بین الرکوع والسجود تامل۱؎ اھ

اور منحۃ الخالق میں اس اعتراض کا یہ جواب دیا ہے کہ خانیہ میں جو فسا د مذکور ہے وہ نقض وضو پر مبنی ہے اس لئے کہ اُنہوں نے رکوع وسجود کے درمیان فرق رکھا ہے ۔اس میں غور کرو اھ۔

 (۱؎ منحۃ الخالق علی بحرالرائق     بحوالہ شرح الشیخ اسمٰعیل کتاب الطہارۃ     ایچ ایم سعید کمپنی کراچی     ۱/ ۳۹)

اقول فـــ ۲ رحم اللّٰہ الفاضلین السؤال والجواب کلاھما من وراء حجاب فان الخانیۃ قدنصت علی انتقاض الوضوء بہ فی نواقضہ حیث قال کما تقدم ان تعمد النوم فی سجودہ تنتقض طھارتہ وتفسد صلاتہ ولو تعمد النوم فی قیامہ اورکوعہ لاتنتقض طہارتہ فی قولھم ۱؎ اھ

اقول دونوں فاضلوں پر خدا رحم فرمائے۔ سوال اور جواب دونوں پردوں کے پیچھے سے ہو رہے ہیں ---اس لئے کہ قاضی خا ن نواقض  وضو کے بیان میں اس سے وضو ٹوٹنے کی تصریح فر ما چکے ہیں ۔ان کی عبارت جیسا کہ گزری اس طرح ہے :'' اگر سجدے میں قصدًا سویا تو اس کی طہارت ٹوٹ جائے گی اور نماز بھی فاسد ہوجائے گی اور اگر قیام یا رکوع میں قصدًا سویا تو حضرات ائمہ کے قول پر اس کی طہارت نہ جائے گی ۔''اھ

 (۱؎ فتاوی قاضی خان        کتاب الطہارۃ    فصل فی النوم    نو لکشور لکھنؤ    ۱/ ۲۰)

فـــ۲:تطفل ثالث علیھما ۔

والوجہ ان الفساد فی التعمد وانتقاض الوضوء متلازمان فایھما اثبت اثبت الاٰخر وایھما نفی نفی الاٰخر ولذا اقتصر فی الخانیۃ ھھنا اعنی فی مفسدات الصلٰوۃ علی فساد الصلاۃ وعدمہ ولم یتعرض للوضوء وثمہ ای فی نواقض الوضوء ذکرھما معافی السجود واقتصر علی ذکر عدم النقض فی الرکوع ولم یتعرض لعدم الفساد فاتی فی کل باب بما یحتاج الیہ وکیفما کان فقد صرح باجلی تصریح ان تعمد النوم لیس ممایفسد الصلٰوۃ مطلقا وکذلک الخلاصۃ وعلیہ مشی الفتح والحلیۃ وعنہ تکلم البحر۔

وجہ یہ ہے کہ تعمد کی صورت میں فسادِنماز اور وضو ٹوٹنا دونوں ایک دوسرے کو لازم ہیں تو ایک کے اثبات اور ایک کی نفی سے دوسرے کی نفی ہو جائے گی اسی لئے خانیہ نے یہاں بمعنی مفسداتِ نماز کے بیان میں صرف نماز کے فساد وعدمِ فساد کے ذکر پر اکتفا کی اور بیان وضو سے تعرض نہ کیا ---اور وہاں یعنی نواقض وضو میں سجود کے تحت دونوں کو ذکر کیا اور رکوع کے تحت عدمِ نقض کے ذکر پر اکتفا کی عدمِ فساد سے تعرض نہ کیا--تو ہر باب میں جس قدر حاجت تھی اس قدر بیان کردیا --اور جو بھی ہو اس بات کی تو روشن تصریح فرمادی کہ قصدًا سونا مطلقًا مفسدِنماز نہیں --اسی طرح صاحب خلاصہ نے بھی ذکر کیا ۔اور اسی پر صاحبِ فتح القدیر اور صاحب حلیہ بھی چلے --اور اسی سے متعلق بحر نے بھی گفتگو کی ---

اقول وھو قضیۃ اطلاق المتون قاطبۃ فانھم یذکرون من صور الحدث الذی یمنع البناء مااذا جن اونام فاحتلم او اغمی علیہ فیفیدون ان النوم بمفردہ لیس بحدث ولا مانع للبناء مطلقا والالم یحتج الی ضم الاحتلام قال فی العنایۃ ثم البحر انما قال او نام فاحتلم لان النوم بانفرادہ لیس بمفسدعـــــہ الخ ۱؎

اقول یہی سارے متون کا بھی مقتضا ہے ---اس لئے ارباب متون مانع بنا حدث کی صورتوں میں سے یہ بھی ذکر کرتے ہیں کہ جب مجنون ہو جائے یا سو جائے تو احتلام ہوجائے یا بیہوش ہوجا ئے (تو وضو ٹوٹ جائے گا اور نماز از سر نو پڑھنی ہو گی جہاں چھوٹی اس کے آگے نہیں پڑھ سکتا )اس سے مستفاد ہوتا ہے کہ نیند تنہا حدث اور مطلقًا مانع بنا نہیں ورنہ نیند کے ساتھ احتلام کو ملانے کی کوئی ضرورت نہ تھی ---عنایہ پھر بحر میں ہے :'' نام فاحتلم سوئے تو احتلام ہو جائے '' کہا اس لئے کہ تنہا نیند مفسدِنماز نہیں اھ ۔

 (۱؎ البحرالرائق بحوالہ العنایۃ     کتاب الصّلٰوۃ     باب الحدث فی الصّلٰوۃ    ایچ ایم سعید کمپنی کراچی   ۱/ ۳۷۲)

عـہ: اعترضہ العلامۃ خیر الدین رملی کما نقل عنہ فی المنحۃ بانہ ذکر فی التتارخانیۃ اقوالا واختلاف تصحیح فی المسألۃ وکذلک ذکر فی الجوھرۃ فی نوم المضطجع والمریض فی الصلاۃ اختلافا والصحیح انہ ینقض وبہ ناخذ وفی التتارخانیۃ عن المحیط فی النوم مضطجعا الحال لا یخلو ان غلبت عیناہ فنام ثم اضطجع فی حالۃ نومہ فھو بمنزلۃ مالو سبقہ الحدث یتوضا ویبنی ولو تعمد النوم فی الصلاۃ مضطجعا فانہ یتوضأ ویستقبل الصّلٰوۃ ھکذا حکی عن مشائخنا اھ فراجع المنقول ولا تغتربما اطلقہ ھنا۱؎ اھ
اس پرعلامہ خیر الدین رملی کا یہ اعتراض ہے جیسا کہ علامہ شامی نے منحۃ الخالق میں ان سے نقل کیا ہے کہ : تاتار خانیہ میں اس مسئلہ کے تحت چند اقوال اور اختلاف تصحیح کا ذکرہے--- اسی طرح جوہرہ میں نماز کے اندر کروٹ لینے والے اور بیمار کی نیند سے متعلق اختلاف کا ذکر ہے اور یہ کہ صحیح ناقض ہونا ہے اور ہم اسی کو لیتے ہیں--- اور تاتارخانیہ میں محیط کے حوالے سے کروٹ لیٹ کر سونے سے متعلق ہے کہ اگر نیند کے غلبہ کی وجہ سے اسے نیند آگئی پھر سو نے ہی کی حالت میں وہ کروٹ لیٹ گیا تو ایسا ہی ہے جیسے بلا اختیار حدث ہو گیا وہ وضو کرے گا اور بناء کرے گا (نماز جہاں سے چھوٹی تھی وہیں سے پوری کرے گا) اور اگر نماز میں قصدًا کروٹ لیتا تو اُسے وضو کر کے از سر نو پڑھنا ہے ۔ ہمارے مشائخ سے ایسا ہی حکایت کیا گیا اھ تو منقول کی طرف رجوع کرو اور اس سے فریب خوردہ نہ ہو جو یہاں مطلق رکھا ہے اھ۔

(۱؎ منحۃ الخالق علی بحر الرائق  کتاب الصلوۃ   باب الحدث فی الصلوۃ    ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۱/ ۳۷۲)

اقول ،اولافـــ۱ اذا اختلف التصحیح فای اغترار فی الاقتصار علی  احد القولین ۔ وثانیا فــ ۲ مسئلۃ الجوھرۃ فی انتقاض الوضوء والکلام ھنا فی فساد الصلوۃ والانتقاض لایستلزم الفساد اذا لم یکن ھناک تعمد ۔ وثالثا فرع فــــ۳ المحیط لیس فیہ الفساد للنوم بانفرادہ بل لانضمام التعمد علی ھیات الحدث فما ھذہ الایرادت من مثل المحقق السامی والاعتماد علیہا من العلامۃا لشامی و باللہ التو فیق ۱۲منہ حفظہ ربہ جل وعلا۔

اقول اولا جب اختلاف تصحیح ہے تو ایک قول پر اکتفاء میں فر یب خورد گی کیا ؟ثانیا مسئلہ جو ہر ہ وضو ٹوٹنے کے بارے میں ہے اور یہاں پر فسادنماز کے بارے میں کلام ہے اور ٹوٹنا اس کو مستلزم نہیں کہ نماز بھی فاسد ہو جب کہ قصدا وضو توڑنے کی صورت نہ ہو۔
 ثالثا محیط کے جزئیہ میں تنہا نیند سے فساد نماز نہیں بلکہ اس وجہ سے کہ نیند کے ساتھ ہیات حدث کا قصدا ارتکاب بھی ہوگیا ہے پھر ایسے بلند محقق سے یہ اعتراض کیسے ؟ اور ان پر علامہ شامی کا اعتماد کیسا ؟ وباللہ التوفیق ۱۲ منہ رضی للہ تعالی عنہ (ت)
فــــ۱: تطفل علی العلامۃ الخیر الرملی وش ، فــــ۲: تطفل اخر علیھما،فــــ۳: تطفل ثالث علیھما

ثم ھم یرسلونہ ارسالا فیشمل العمد والغلبۃ وکذلک سکوتھم قاطبۃ عن عد تعمد النوم فی المفسدات دلیل علی ذلک لاسیما المتاخرین الذین جنحوانحو الا ستیعاب مھماحضرکالدر المختار ومراقی الفلاح نعم یفسد اذا تعمدہ علی ھیاۃ یکون بھا حدثا وھم قد ذکروا فی المفسدات تعمد الحدث فقد ترجح ماجزم بہ ھؤلاء الجلۃ علی ما فی جامع الفقہ ان النوم فی الرکوع والسجود لاینقض الوضوء ولو تعمدہ ولکن تفسدصلاتہ کما نقلہ فی البحر ۱؎ عن شرح منظومۃ ابن وھبان واعتمدہ ش ۔

پھر یہ حضرات نیند کو مطلق ذکر کرتے ہیں تو قصدا سونا اور نیند کے غلبہ سے سوجانادونوں ہی اس میں شامل ہوتے ہیں اسی طرح تعمد نوم کو مفسدات نماز میں شمار کرانے سے ان تمام اہل متون کا سکوت بھی اس پر دلیل ہے خصوصا متا خرین کا سکوت جن کا میلان اس طر ح ہوتاہے کہ جتنی صورتیں بھی مستحضر ہوں سب کا استیعاب اور احاطہ کرلیں جیسے درمختار اور مراقی الفلاح ، ہاں نیند مفسد اس وقت ہے جب ایسی ہیات پر قصدا سوئے جس پر سونا حدث ہے اور مفسدات نماز میں تعمد حدث مذکور ہے تو ترجیح اسی کو ملی جس پر ان بزرگوں کا جز م ہے جیسا کہ جامع الفقہ میں ہے ، رکوع وسجود میں سونا ناقض وضو نہیں اگر چہ قصدا سوئے لیکن اس کی نماز فاسد ہوجائے گی جیسا کہ اسے بحر میں منظومہ ابن وہبان کی شرح سے نقل کیا ہے اور علامہ شامی نے اس پر اعتماد کیا ہے ۔

 (۱ ؎ البحرالرائق بحوالہ جامع الفقہ کتاب الطہارۃ     ایچ ایم سعید کمپنی کراچی     ۱ /۳۸)

جئنا علی مااستدرک بہ ش علی العلامۃ العلائی قال فی الدر  یتعین الاستیناف لجنون اوحدث عمدا و احتلام بنوم ۱؎ الخ اب ہم اس پر آئے جو علامہ شامی نے علامہ علائی پر استدارک کیا ہے درمختار میں فرمایا ، از سر نوپڑھنا متعین ہے جنون کے با عث یا قصدا حدث کی وجہ سے نیند میں احتلام کے سبب الخ ۔

(۲؎ الدرالمختار         کتاب الصلوۃ    باب الاستخلاف     مطبع مجتبائی دہلی     ۱/ ۸۷)

قال الشامی افادان النوم بنفسہ غیر مفسد لکن ھذا اذا کان غیر عمد لمافی حاشیۃ نوح افندی النوم اما عمدا ولا فالاول ینقض الوضوء ویمنع البناء والثانی قسمان مالا ینقض ولایمنع البناء کالنوم قائما او راکعا او ساجدا وما ینقض الوضوء ولا یمنع البناء کالمریض اذا صلی مضطجعا فنام ینتقض وضوؤہ علی الصحیح ولہ البناء فغیر العمد لایمنع البناء اتفاقا سواء نقض الوضوء اولا بخلاف العمد اھ ملخصا ۱؎ اھ

اس پر علامہ شامی فرماتے ہیں ، افادہ ہو اکہ نیند کچھ مفسد نہیں لیکن یہ اس وقت ہے جب نیند بلا قصد ہو اس لئے کہ حاشیہ علامہ نوح آفندی میں ہے ، سونا یا تو قصدا ہوگا یا بلا قصد اول ناقض وضو اور مانع بناء ہے ثانی کی دو قسمیں ہیں ، ایک وہ جو نہ ناقض وضو ہے نہ مانع بناء جیسے قیام یا رکوع یا سجود کی حالت میں سونا ، دوسری وہ جو ناقض وضو ہے مانع بناء نہیں ہے ، جیسے مریض کر وٹ لیٹ کر نماز پرھتے ہوئے سوجائے تو صحیح قول پر اس کا وضو ٹوٹ جائے گا اور وہ بناء کرسکے گا ( نماز جہاں سے رہ گئی تھی وہیں سے پوری کرلے گا ) تو بلا قصدسونا بناء سے بالاتفاق مانع نہیں خواہ وضوٹوٹ جائے یا نہ ٹوٹے ، بخلاف قصدا سونے کے اھ ، ملخصا ۔

(۱؎ رد المحتار     کتاب الصلوۃ      باب الاستخلاف ،    داراحیاء التراث العربی بیروت     ۱/ ۴۰۶ )

اقـول ھذا ف ناطق بملأفیہ انہ ماش علی الروایۃ عن ابی یوسف الا تری انہ جعل نوم العمد مطلقا ناقض الوضوء وھذا خلاف ظاھر الروایۃ المعتمد المختارۃ کما قدم المحشی والشارح وقدمنا نقلہ مع تصحیح المحیط فما کان للعلامۃ ان یعتمد ھذا ھھنا سبحٰن من لاینسی۔

اقول یہ عبارت بآ واز بلند ناطق ہے کہ ان کی مشی امام ابو یوسف کی روایت پر ہے ، دیکھئے انھوں نے قصدا سونے کو مطلقاناقض وضو قرار دیا ہے او ریہ معتمد مختار ، ظاہر الروایہ کے خلاف ہے جیسا کہ محشی وشارح نے پہلے بیان کیا اور ہم اسے محیط کی تصحیح کے ساتھ نقل کر چکے تو علامہ شامی کو یہاں آکر اس پر اعتماد نہ کرنا تھا لیکن پاکی ہے اسی کے لئے جسے نسیان نہیں۔

ف :معروضۃ علی العلامۃ ش ۔

الــرابـعۃ مسألۃ التنورف مذکورۃ فی الخانیۃ وھی الاصل وعنہا نقل فی خزانۃ المفتین والہندیۃ وایاھا تبع فی الخلاصۃ والخلاصۃ فی البزازیۃ وعن الخلاصۃ اثر فی البحر قال الامام قاضی خان رحمہ اللّٰہ تعالٰی ان نام علی راس التنور وھو جالس قد ادلٰی رجلیہ کان حدثا لان ذلک سبب لاسترخاء المفاصل ۱؎ اھ

افادہ رابعہ: مسئلہ تنور خانیہ میں مذکورہے ، خانیہ ہی اصل ہے اسی سے خزانۃ المفتین اور ہندیہ میں نقل ہے اسی کی پیروی خلاصہ میں ہے اور خلاصہ کی پیروی بزازیہ میں ہے اور خلاصہ ہی سے البحر الرائق میں نقل کیا ہے ، امام قاضی خاں رحمہ اللہ تعالی نے فرمایا ، اگر تنور کے کنارے میں بیٹھا اس میں پاؤ ں لٹکائے سوگیا تو وضو جاتارہے گا اس لئے کہ یہ جوڑوں کے ڈھیلے پڑجانے کا سبب ہوتا ہے اھ۔

ف: تحقیق مسئلۃ النوم علٰی رأس التنّور۔

 (۱؎ فتاوی قاضیخان     کتاب الطہارۃ    فصل فی النوم     نولکشور لکھنؤ        ۱/ ۲۰)

وقد قدمنا انھا لاتلتئم علی الضابطۃ المؤیدۃ بالحدیث والقیاس الصحیح۔ اورہم پہلے بتا چکے ہیں کہ یہ مسئلہ حدیث اور قیاس صحیح سے تائید یافتہ ضابطے کے بر خلاف ہے ۔

قلت ولم ارلھا ما اشدھا بہ الاشیاء ابداہ المحقق فی الفتح توجیہا لمسألۃ مخالفۃ لظاھر الروایۃ واختیار الجمھور وھی مسألۃ المستند الی مالوازیل سقط حیث قال ظاھر المذھب عن ابی حنیفۃ عدم النقض بھذا الاستناد ما دامت المقعدۃ مستمسکۃ للا من من الخروج والانتقاض مختار الطحاوی واختارہ المصنّف والقدوری لان مناط النقض الحدث لاعین النوم فلما خفی بالنوم ادیر الحکم علی ماینتھض مظنۃ لہ ولذا لم ینقض نوم القائم والراکع والساجد ونقض فی المضطجع لان المظنۃ منہ مایتحقق معہ الاسترخاء علی الکمال وھو فی المضطجع لافیھا وقد وجد فی ھذا النوع من الاستناد اذ لا یمسکہ الا السند وتمکن المقعدۃ مع غایۃ الاسترخاء لایمنع الخروج اذقد یکون الدافع قویا خصوصا فی زماننا لکثرۃ الاکل فلا یمنعہ الامسکۃ الیقظۃ ۱؎ اھ واقرہ الحلبی فی الغنیۃ۔

قلت اس کی موافقت میں مجھے کوئی ایسی بات نہ ملی جس سے اس کو تقویت دے سکوں مگر ایک بات جو حضرت محقق نے فتح القدیر میں ظاہر الروایہ اور اختیار جمہور کے مخالف ایک مسئلہ کی تو جیہ میں پیش کی ہے وہ مسئلہ اس کی نیند سے متعلق ہے جو ایسی چیز کی طر ح ٹیک لگائے ہوئے ہے کہ اگر وہ ہٹادی جائے تو گر جائے ، وہ لکھتے ہیں ، امام ابو حنیفہ رضی ا للہ تعالی عنہ سے منقول ظاہر مذہب یہی ہے کہ اس ٹیک لگانے سے وضو نہ ٹوٹے گا جب تک مقعد جمی ہوئی رہے اس لئے کہ خروج ریح سے بے خوفی ہوگی اور اس سے وضو ٹوٹ جانے کا حکم امام طحاوی کا مختار ہے اسی کو مصنف اور امام قدوری نے اختیار کیا اس لئے کہ وضو ٹوٹنے کا مدار حدث پر ہے خود نیند پر نہیں چونکہ نیند کی وجہ سے حدث مخفی رہ جائے گا اس لئے حکم کا مدار اس پر رکھا گیا جو وجود حدث کے گمان غالب کا موقع بن سکے ، اسی لئے قیام ، رکوع او رسجود والے کی نیند ناقض ہے ۔ اس لئے کہ گمان حدث کا محل وہ نیند ہے جس کے ساتھ استرخاء کامل طور پر متحقق ہو اور یہ کروٹ لیٹنے والے کی نیند میں ہوتا ہے ، ان سب میں نہیں ہوتا اور استرخاء اس طر ح ٹیک لگانے کی صورت میں بھی موجود ہے اس لئے کہ صرف ٹیک نے اس کو روک رکھا ہے اور کمال استرخاء ہوتے ہوئے مقعد کا مستقر ہونا خروج ریح سے مانع نہیں اس لئے کہ ہمارے زمانے میں ، کیوں کہ کھانا زیادہ کھایا کرتے ہیں تو اس کے لئے مانع صرف بیداری کی بندش ہی ہوگی اھ-- اس کلام کو حلبی نے بھی غنیہ میں بر قرار رکھا ۔

 (۱؎ فتح القدیر      کتاب الطہارۃ      فصل فی نواقض الوضوء     مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر     ۱ /۴۳)

اقول وقولہ لایمنعہ الامسکۃ الیقظۃ ای عند وجود نھایۃ الاسترخاء بخلاف القائم والراکع والساجد علی ھیاۃ السنۃ فلا یرد ان ھذا التقریر یوجب النقض بالنوم مطلقا وھو خلاف مااجمعنا علیہ۔

اقول ان کے قول اس کے لئے مانع صرف بیداری کی بند ش ہی ہوگی ، کا معنی یہ ہے کمال استرخاء کی صورت میں مانع صرف یہی ہوگی بخلاف اس کے جو قیام یا رکوع یا سنت طریقہ پر سجدہ کی حالت میں ہو تو یہ اعتراض نہیں کیا جاسکتا کہ اس تقریر پر تو مطلقا ہر نیند ناقض وضو ہوگی ، اوریہ ہمارے اجماع کے بر خلاف ہے ۔

لکنی اقـول کمال فــــ۱ الاسترخاء مظنۃ الخروج وتمکن المقعدۃ مظنۃ منعہ فیتعارضان ولا یثبت النقض بالشک ولا نسلم ان قوۃ الدافع بحیث لایقاومہ التمکن بلغ من الکثرۃ مایعدبہ غالبا ولامظنۃ الابالغلبۃ وکیفما کان فمخالفتہ للمذھب ولجمھور اھل الاختیار عَلَم کاف علی تقاعدہ عن الحجیۃ۔

لیکن میں کہتاہوں کمال استرخا گمان خروج کی جگہ ہے او رمقعد کا استقرار منع خروج کے گمان کی جگہ ہے اس لئے دو نوں میں تعارض ہوگا اور شک سے نقض کا ثبوت نہ ہوگا اور یہ ہمیں تسلیم نہیں کہ دافع کی اتنی قوت کا استقرار اس کی مقاومت نہ کرسکے کثر ت کی اس حد کو پہنچ گئی ہے کہ اس کو غالب واکثر شمار کر لیاجائے اور جائے گمان کا ثبوت غالب واکثر ہونے ہی سے ہوتا ہے اور جو بھی ہو مذہب اور جمہور اہل ترجیح کے مخالف ہونا ہی اس کی بات کی کافی علامت ہے کہ وہ حجت بننے کے قابل نہیں ،۔

فـــ۱: تطفل علی الفتح۔

بل اقول وباللّٰہ التوفیق مسئلۃ التنور لاتلتئم علی ھذا ایضا لان تحقیق فــ۲ ھذا القول علی ماالھمنی ذوالطول ان الحالات ثلث وذلک ان نفس وجود الاسترخاء لازم النوم مطلقا ثم یبقی معہ بعض الاستمساک مالم یستغرق فاما غالبا کالنوم قائما او راکعا اوعلی ھیاۃ السنۃ ساجدا فان بقاء ہ علی تلک الھیات دلیل واضح علی غلبۃ الاستمساک اومغلوبا کالنوم قاعدا او راکبا وینتفی اصلا فی صورۃ الاضطجاع والاسترخاء ونحوھما فالاول لاینقض مطلقا والثالث ینقض من دون فصل ومنہ المتکیئ الی مالو ازیل سقط لان عدم سقوطہ لیس لبقاء شیئ من المسکۃ فیہ بل للسند کمیت یسند الی شیئ والثانی یفصل فیہ فان کان متمکن المقعدۃ لم ینقض لان التمکن یعارض غلبۃ الاسترخاء والانقض والنوم علی راس التنور جالسا متمکنا مدلیا من القسم الثانی قطعا دون الثالث اذلو انتفی التماسک لسقط بل کون الجلوس علی راس وطیس حام ربما یوجب تیقظ القلب اکثر مما لو کان حیث لامخافۃ فی السقوط فیکون التمکن مانعا للنقض وھو الموافق للضابطۃ ۔

بلکہ میں کہتا ہوں اور تو فیق خداہی کی طر ف سے ہے-- تنور کا مسئلہ اس سے بھی موافقت نہیں رکھتا -- اس کے لئے اس قول کی تحقیق-- جیسا کہ رب کریم نے میرے دل میں القا کی -- -یہ ہے کہ تین حالتیں ہوتی ہیں وہ یوں کہ نفس استرخاء تو نیند کے لئے مطلقا لازم ہے پھر استرخاء کے ساتھ کچھ بندش باقی رہتی ہے جب تک کہ استغراق نہ ہو ، اب یہ بندش یا تو غالب ہوتی ہے جیسے قیام یا رکوع یاسنت طریقہ پر سجدہ کی حالتوں میں سونا کیونکہ سونے والے کا ان حالتوں پر بر قرار رہنا اس بات کی کھلی ہوئی دلیل ہے کہ بندش غالب ہے ---یا یہ بندش مغلوب ہوتی ہے جیسے بیٹھے ہوئے یا سوار ہونے کی حالت میں سونا اور کروٹ لیٹنے ، چت لیٹنے اور ان دونوں جیسی صورتوں میں بندش بالکل ہی ختم ہوجاتی ہے پہلی صورت مطلقا ناقض نہیں ، اور تیسری صورت بغیرکسی تفصیل کے ناقض ہے اور اسی قسم میں وہ شخص داخل کیاجائے تو وہ گرپڑے ، کیونکہ اس کا نہ گرنابندش کے باقی رہ جانے کے باعث نہیں بلکہ محض ٹیک کی وجہ سے ہے جیسے مردے کو سہارے سے کھڑا کردیا جائے ، اور دوسری صورت میں تفصیل ہے اگر مقعد کو پوری طر ح جماؤ حاصل ہے تو ناقض نہیں اس لئے کہ استقرار غلبہ استرخاء کے معارض ہے ، اور ایسا نہ ہو تو ناقض ہے ، اورتنور کے کنارے بیٹھ کر اس میں پیر لٹکائے استقرار مقعد کے ساتھ سونا قطعا قسم دوم سے ہے قسم سوم سے نہیں اس لئے کہ بندش اگر ختم ہوجاتی تو گر جاتا بلکہ گرم تنور کے سرے پر بیٹھنا ایسی جگہ سے زیادہ بیدار قلبی کا موجب ہے جہاں گرنے کا اندیشہ نہ ہو تو بہ استقرار نقض وضو سے مانع ہوگا یہی ضابطہ کے مطابق ہے ۔

فـــ۲:تحقیق مناط النقض بالنوم علی مختارالھدایۃ

ولکن ھیبۃ تلک الکتب الکبار کانت تقعد فی عن الاجتراء علی انکارھذا الفرع حتی رأیت الامام ابن امیر الحاج الحلبی رحمہ اللّٰہ تعالٰی اوردہ فی الحلیۃ عن الخانیۃ ثم قال وھو غیر ظاھر بل الاشبہ عدم النقض لان مظنۃ الحدث من النوم مایتحقق معہ الاسترخاء علی وجہ الکمال والظاھر عدم وجود ذلک والا لسقط لفرض عدم المانع من استناد اوغیرہ ۱؎ اھ ومع ذلک احببت ان یجدد الوضوء ان وقع ذلک لانھا صورۃ نادرۃ فلا علینا ان نعمل فیھا بالاحتیاط بمعنی الخروج عن العہدۃ بیقین وان کان حقیقۃ الاحتیاط ھو العمل باقوی الدلیلین۔

لیکن ان بڑی بڑی کتابوں کی ہیت اس جزئیہ کے انکار کی جسارت سے مجھے روکتی تھی یہاں تک کہ میں نے امام ابن امیر الحاج حلبی رحمہ اللہ تعالی  کو دیکھا کہ حلیہ میں یہ جزئیہ خانیہ سے نقل کیاپھر لکھا ، یہ غیر ظاہرہے بلکہ اشبہ ناقض نہ ہونا ہے اس لئے کہ مظنہ حدث (گمان حدث کا محل) وہ نیند ہے جس کے ساتھ استرخاء کامل طور پر متحقق ہو اور ظاہر یہ ہے کہ ایسا استرخاء کامل طور پر متحقق ہو او ر ظاہر یہ ہے کہ ایسا استرخامتحقق نہ ہوگا ورنہ گرجائے گا کیونکہ فرض یہ کیا گیا ہے کہ ٹیک لگانا یا اس طر ح کا اور کوئی مانع نہیں ہے ،اھ اس کے باوجود میں نے پسندیہ کیا کہ اگر یہ صورت واقع ہوجائے تو تجدید وضو کرلے کیونکہ یہ ایک نادر صورت ہے تو اس میں کوئی حرج نہیں کہ ہم احتیاط پر عمل کرلیں ، احتیاط کامعنی یہ کہ یقینی طور پر عہد بر آہوجائیں اگر چہ حقیقت احتیاط یہی ہے کہ قوی تر دلیل پر عمل ہو۔

 (۱؎ حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی)

ثم الذی سبق منہ الی ذھن الحلیۃ ان سبب الاسترخاء نفس الادلاء حیث قال فالقیاس علی ھذا یفید انہ لورکب علی اکاف علی الدابۃ فادلی رجلیہ من الجانبین کما یفعلہ بعضھم انہ ینقض وھو غیر ظاھر ۲؎ الخ

پھر اس جزئیہ سے صاحب حلیہ کا ذہن اس طر ف گیا کہ استرخا کا سبب خود پاؤں لٹکانا ہے اس طر ح کہ وہ فرماتے ہیں ، اس پر قیاس سے یہ مستفاد ہوتا ہے کہ اگر کسی جانور کے پالان پر سوار ہو کر دونوں جانب سے دونوں پاؤں لٹکالئے ، جیسا کہ بعض لوگ کرتے ہیں تو وضو ٹوٹ جائے اور یہ غیر ظاہرہے الخ۔

 (۲؎ حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی)

قلت : ھکذا فی نسختی وھی سقیمۃ جدا والظاھر فادلی رجلیہ من احد الجانبین لان ھذا ھو الذی یفعلہ البعض دون العامۃ وھو المشابہ للا دلاء فی التنویر فسقط لفظ احد من قلم الناسخ۔

قلت  : میرے نسخہ حلیہ میں اسی طر ح ہے اور یہ نسخہ بہت سقیم ہے ، ظاہر یہ ہے کہ عبارت اس طر ح ہوگی ، فادلی رجلیہ من احد الجانبین ، ایک جانب سے اپنے دونوں پاؤں لٹکائے ، اس لئے کہ اکثر کے بر خلاف بعض لوگ اسی طر ح کرتے ہیں اور یہی تنور میں پاؤں لٹکائے کے مشابہ بھی ہے تو کاتب کے قلم سے لفظ '' احد ''چھوٹ گیا ہے ۔

اقول : لکن یرد علیہ ان فـــ۱ الادلاء ان کان سببہ فالادلاء من الجانبین اولٰی لزیادۃ انفراج یحصل بہ فی المقعدۃ مع ان المصرح بہ فی الخانیۃ نفسھا والکتب قاطبۃ انہ ان نام علی ظھر الدابۃ فی سرج اواکاف لاینتقض وضوؤہ لعدم استرخاء المفاصل ۱؎۔اھ

اقول  :  لیکن اس پر دو اعتراض وارد ہوتے ہیں اول اگر استرخاکا سبب پاؤں لٹکانا ہے تو دو نوں جانب سے پاؤں لٹکانا بدرجہ اولی اس کا سبب ہوگا اس لئے کہ اس سے مقعد کو زیادہ کشادگی مل جاتی ہے باوجودیکہ خود خانیہ میں اور تمام کتابوں میں اس کی تصریح موجود ہے کہ اگر جانور کی پشت پر زین یا پالان میں سوگیا تو وضو نہ ٹوٹے گا اس لئے کہ استرخائے مفاصل نہ ہوگا (جوڑ ڈھیلے نہ پڑیں گے )اھ

فـــ۱:تطفل علی الحلیۃ

 (۱؎ فتاوی قاضی خان،تاب الطہارۃ ،صل فی النوم     نو لکشور لکھنؤ     ۱/ ۲۰ )

وثانیا قد قال فــ۲فی الخلاصۃ وغیرھا ان نام متربعا لاینقض الوضوء وکذا لونام متورکا وھو ان یبسط قدمیہ عن جانب ویلصق الیتیہ بالارض ۲؎ اھ

دوم خلاصہ وغیرہا میں ہے اگر چار زانو بیٹھ کر سوگیا تو وضو نہ ٹوٹے گا اسی طر ح اگر بطور تو رک بیٹھ کر سوگیا ، تورک کی صورت یہ ہے کہ دونوں پاؤں ایک طرف کو پھیلا دے اور سر ینوں کو زمین سے ملادے اھ۔

فـــ۲: تطفل اٰخر علیھا۔

 (۲؎خلاصۃ الفتاوی     کتاب الطہارۃ     الفصل الثالث     مکتبہ حبیبیہ کویٹہ     ۱ /۱۹)

فلا یدخل الادلاء المذکور فی ھذا التفسیر بل ھو امکن للمقعدۃ من بسط القدمین علی محل مستوکما لایخفی۔ تو کیا تنور میں پاؤں لٹکانے کی مذکورہ صورت اس صورت میں داخل نہ ہوگی بلکہ اس میں مقعد کو زیادہ قرار ہوگا بہ نسبت اس کے کہ دونوں پاؤں کسی ہموار جگہ پھیلا ئے جائیں ، جیسا کہ واضح ہے ۔

بل الوجہ عندی ان المراد تنورحام فیہ شیئ من الجمرات اوبقیۃ من حرارۃ الایقاد کما اومأت الیہ فان الحر یوجب الارخاء ولذا عبروا بالتنور دون الکرسی مع کون الجلوس علی التنور بھذا الوجہ فی غایۃ الندور علی الکرسی معھود مشہور واللّٰہ تعالٰی اعلم۔

بلکہ میرے نزدیک وجہ یہ ہے کہ مراد ایسا گرم تنور ہے جس میں کچھ انگارے ہیں یا بھڑ کانے سے جو گرمی پیدا ہوئی تھی کچھ باقی رہ گئی ہے جیسا کہ میں نے اس کی طر ف اشارہ کیا اس لئے کہ گرمی اعضامیں ڈھیلا پن لانے کا سبب ہوتی ہے اسی لئے تنور سے تعبیر کی گئی ہے کرسی سے تعبیر نہ ہوئی باوجود یکہ تنور پر اس اندازسے بیٹھنا انتہائی نادر ہے اور کرسی پر بیٹھنا معروف ومشہور ہے واللہ تعالی اعلم

الخامسۃ النوم فــ۱ لیس بنفسہ حدثا بل لما عسی ان یخرج وعلیہ العامۃ بل حکی فی التوشیح الاتفاق علیہ وھو الحق لحدیث ان العین وکاء السہ ۱؎ ولذا لم ینتقض فـــ۲ وضوؤہ صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم بالنوم کما ثبت فی الصحیحین ۱؎ عن ابن عباس رضی اللّٰہ تعالٰی عنھما

افادہ خامسہ: نیند بذات خود حدث نہیں بلکہ خروج ریح کا گمان غالب ہونے کی وجہ سے حدث ہے اسی پر عامہ علماء ہیں بلکہ تو شیح میں اس پر اجماع واتفاق کی حکایت کی ہے او ریہی حق ہے اس لئے کہ حدیث میں ہے کہ آنکھ مقعد کا بندھن ہے اسی لئے حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کا وضو نیند سے نہیں ٹوٹتا جیسا کہ صحیحین (بخاری ومسلم) میں حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما سے ثابت ہے ۔

ف ۱:مسئلہ ، نیند خود ناقض وضو نہیں بلکہ اس وجہ سے کہ سوتے میں خروج ریح کا ظن غالب ہے ۔
ف۲:مسئلہ ، انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کا وضوسونے سے نہ جاتا ۔

 (۱؎ تاریخ بغداد     ترجمہ بکر بن یزید ۳۵۲۷    دار الکتاب العربی بیروت     ۷ /۹۲
(   سنن الدار قطنی باب فیما روی فیمن نام قاعدا الخ حدیث ۵۸۶    دار المعرفہ بیروت        ۱ /۳۷۷)
 (۱ ؎ صحیح البخاری کتا ب الوضوء     ۱/ ۲۷و۳۰    و کتاب الاذان     ۱/ ۱۱۹ وابواب الوتر ۱/ ۱۳۵  قدیمی کتب خانہ کراچی
مسند احمد بن حنبل     عن ابن عباس     المکتب الاسلامی بیروت     ۱/ ۲۸۳)
صحیح مسلم کتاب صلوۃ المسافرین         باب صلوۃ النبی صلی اللہ تعالی علیہ ودعائہ باللیل     قدیمی کتب خانہ کراچی     ۱/ ۲۶۰)

وذلک لقولہ ف صلی اللّٰہ علیہ تعالٰی علیہ وسلم ان عینی تنامان ولاینام قلبی رواہ الشیخان ۲؎عن ام المؤمنین رضی اللّٰہ تعالٰی عنہا وعدوہ من خصائصہ صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم کما فی الفتح عن القنیۃ ۳؎

اور اس کا سبب حضور اکرم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کا یہ ارشاد ہے بیشک میری آنکھیں سوتی ہیں اور دل نہیں سوتا اسے شخین ( بخاری ومسلم) نے ام المومنین رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت کیا ااور اسے علماء نے رسول اکرم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کے خصائص سے شمار کیا ہے جیسا کہ فتح القدیر میں قنیہ سے منقول ہے ۔

ف: انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کی آنکھیں سوتی ہیں دل کبھی نہیں سوتا ۔

 (۲؎ صحیح مسلم کتاب صلوۃ المسافرین     باب صلوۃ اللیل وعدد رکعات النبی صلی اللہ تعالی علیہ ودعائہ باللیل    قدیمی کتب خانہ کراچی     ۱/ ۲۵۴)

قلت ای بالنسبۃ الی الامۃ والا فالا نبیاء جمیعا کذلک علیھم الصلاۃ والسلام لحدیث الصحیحین عن انس رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ قال قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم الانبیاء تنام اعینھم ولاتنام قلوبھم ۱؎ فاندفع فــــ مافی کشف الرمز ان مقتضی کونہ من الخصائص ان غیرہ صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم من الانبیاء علیھم الصلاۃ والسلام لیس کذلک ۲؎ اھ

قلت یعنی امت کے لحاظ سے سرکار کی یہ خصوصیت ہے ورنہ تمام انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کا یہی وصف ہے اس لئے کہ صحیحین میں حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد ہے انبیاء کی آنکھیں سوتی ہیں دل نہیں سوتے ، تو (خصوصیت بہ نسبت امت مراد لینے سے ) وہ شبہ دور ہوگیا جو کشف الرمز میں پیش کیا ہے کہ اس امر کے خصائص سرکار سے ہونے کا متقضایہ ہے کہ سرکار اقد س صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کے علاوہ دیگر انبیاء علیہم الصلوۃ السلام کا یہ حال نہیں اھ

فــــ ۱: تطفل علی العلامۃ المقدسی۔

 (۱؎ صحیح البخاری کتاب المناقب باب کان النبی صلی اللہ علیہ وسلم تنام عینہ الخ  قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۵۰۴
کنز العمال بحوالہ الدیلمی عن انس حدیث ۳۲۲۴۸ مؤسسۃ الرسالہ بیروت ۱۱ / ۴۷۷)
(۲؎ فتح المعین بحوالہ کشف الرمز کتاب الطہارۃ    ایچ ایم سعید کمپنی کراچی ۱ / ۴۷)

وھل یجوز ان فــــ۲ یکون ذلک لاحد من اکابر الامۃ وراثۃ منہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم قال المولی ملک العلماء بحرالعلوم عبدالعلی محمد رحمہ اللّٰہ تعالٰی فی الارکان الاربعۃ ان قال احد ان کان فی اتباع رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم من بلغ رتبۃ لایغفل فی نومہ بقلبہ انما تغفل عیناہ بیمن اتباعہ صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم کالشیخ الامام محی الدین عبدالقادر الجیلانی قدس سرّہ وغیرہ ممن وصل الی ھذہ الرتبۃ وان لم یصل مرتبتہ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ لم یکن قولہ بعیدا عن الصواب فافھم ۱؎ اھ

کیایہ ہوسکتا ہے کہ سرکار اکرم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کی وارثت کے طور پر ان کی امت کے اکابر میں سے کسی کو یہ وصف مل جائے ؟
ملک العلمابحر العلوم مولانا عبدالعلی محمد رحمۃ اللہ تعالی ارکان اربعہ میں لکھتے ہیں : اگر کوئی یہ کہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کے متبعین میں سے کوئی اس رتبہ کو پہنچ گیا تھا کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کی اتباع کی برکت سے نیند میں اس کا دل غافل نہ ہوتا صرف اس کی آنکھیں غافل ہوتیں ، جیسے امام محی الدین شیخ عبدالقادر جیلا نی قدس سر ہ اور ان کے علاوہ وہ اکابر جن کا یہ وصف رہا ہو اگر چہ غوث اعظم رضی اللہ تعالی عنہ کے مرتبے تک ان کی رسائی نہ ہو، تو یہ قول حق سے بعید نہ ہوگا ، فافہم اھ۔

فــ۲: ملک العلماء بحر العلوم مولنا عبدالعلی نے فرمایا کہ اگر کہا جائے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کی وراثت سے حضور سیدنا غوث اعظم رضی اللہ تعالی عنہ کو بھی یہ مرتبہ تھا کہ حضور کا وضو سونے سے نہ جاتا ، آنکھیں سوتیں دل بیدار رہتا ، اور اکابر اولیاء جو اس مرتبہ تک پہنچے ہوں اگر چہ حضور غوث اعظم کے مراتب تک نہیں پہنچ سکتے تو یہ کہنا حق سے بعید نہ ہوگا ، اور مصنف کا حدیث سے اس کی تائید کرنا ۔

 (۱؎ رسائل الارکان ، الرسالۃ الاولی فی الصلوۃ ، فصل فی الوضو، مکتبہ اسلامیہ کوئٹہ ، ص۱۸)

اقـول لیس من الشرع حجر فی ذلک انہ لایجوز الا لنبی والامرفیہ وجد انی یعلمہ من یرزقہ فلاوجہ للانکار وقداخرج الترمذی وقال حسن عن ابی بکرۃ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ قال قال رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم یمکث ابو الدجال وامہ ثلثین عاما لایولد لھما ولد ثم یولد لہما غلام اعوراضر شیئ واقلہ منفعۃ تنام عیناہ ولاینام قلبہ ۲؎ الحدیث۔

اقول شریعت سے اس بارے میں کوئی روک نہیں کہ یہ نبی کے سوا اور کے لئے نہیں ہوسکتا ۔ یہ معاملہ وجدان کا ہے جسے یہ نصیب ہو وہی اس سے آشنا ہوگا تو انکار کی کوئی وجہ نہیں- ترمذی نے حسن بتاتے ہوئے -حضرت ابوبکرۃ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کی ہے انہوں نے فرمایا رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد ہے: دجال کا باپ اور اس کی ماں تیس سال تک اس حال میں رہیں گے کہ ان کے ہاں کوئی بچہ پیدانہ ہوگا پھر ان کے ایک لڑکا پیدا ہوگا جو ایک آنکھ کا ہوگا ہر چیز سے زیادہ ضرر والا اور سب سے کم نفع والا ، اس کی آنکھیں سوئیں گی اور اس کادل نہ سوئے گا ۔ الحدیث ۔

 (۲ ؎ رسائل الارکان الرسالۃ الاولی فی الصلوۃ فصل فی الوضو مکتبہ  اسلامیہ کوئٹہ ص ۱۸)

وفیہ ولادۃ ابن صیادو قول والدیہ الیھودیین ولدلنا غلام اعوراضر شیئ واقلہ منفعۃ تنام عیناہ ولاینام قلبہ ۱؎
وفیہ قولہ عن نفسہ نعم تنام عینای ولا ینام قلبی۲؎

اور اس حدیث میں ابن صیاد کے پیدا ہونے اور اس کے یہودی ماں باپ کے یہ کہنے کا بھی ذکر ہے کہ ہمارے ہاں ایک لڑکا پیدا ہوا ہے جو ایک آنکھ کا ہے ہر چیز سے زیادہ ضرر والا اور سب سے کم نفع والا ، اس کی آنکھیں سوتی ہیں او راس کا دل نہیں سوتا - اور اس میں خود ابن صیاد کا اپنے متعلق یہ قول مذکورہے کہ ہاں میری آنکھیں سوتی ہیں اور میرا دل نہیں سوتا ۔

 (۱ ؎ سنن الترمذی   کتاب الفتن     باب ماجاء فی ذکر ابن صیاد      حدیث ۲۲۵۵     دار الفکر بیروت     ۴ /۱۰۹)
(۲؎ سنن الترمذی    کتاب الفتن    باب ماجاء فی ذکر ابن صیاد     حدیث ۲۲۵۵     دار الفکر بیروت    ۴/ ۱۰۹)

قال القاری قال القاضی رحمھما اللّٰہ تعالٰی ای لاتنقطع افکارہ الفاسدۃ عنہ عند النوم لکثرۃ وساوسہ وتخیلاتہ وتواتر مایلقی الشیطان الیہ کما لم یکن ینام قلب النبی صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم من افکارہ الصالحۃ بسبب ماتواتر علیہ من الوحی والالہام ۳؎اھ

مولانا علی قاری لکھتے ہیں کہ قاضی عیاض رحہما اللہ تعالی نے فرمایا ، یعنی سونے کے وقت بھی اس کے فاسد خیالات کا سلسلہ اس سے منقطع نہ ہوگا کیونکہ اس کے لئے وسوسوں اور خیالات کی کثرت ہوگی متواتر و مسلسل شیطان اسے یہ سب القاکرتا رہے گا جیسے نبی صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کا قلب ان کے صالح وپاکیزہ افکار سے خوابیدہ نہ ہوتا کیونکہ مسلسل ان پر وحی والہام ہوتا رہتا اھ۔

 (۳ ؎ مرقاۃ المفاتیح   کتاب الفتن   باب قصہ ابن صیاد  تحت الحدیث ۵۵۰۳     المکتبۃ الحبیبہ کوئٹہ    ۹/ ۴۳۴)

اقول لقدثقلت فـــ ھذہ الکاف علی واحسن منہ قول مرقاۃ الصعود ان ھذا کان من المکربہ لیستیقظ القلب فی الفجور والمفسدۃ لیکون ابلغ فی عقوبتہ بخلاف استیقاظ قلب المصطفٰی صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم فانہ فی المعارف الالھٰیۃ ومصالح لاتحصی فھو رافع لدرجاتہ ومعظم لشانہ ۱؎ اھ

اقول یہ'' جیسے'' مجھ پر گراں گزررہاہے ، اس سے بہتر مرقاۃ الصعود میں اما م جلال الدین سیوطی کی عبارت ہے وہ لکھتے ہیں :''یہ اس کے ساتھ خفیہ تدبیر تھی کہ فساد وفجور میں اس کا دل بیدار رہے تا کہ اس کاعقاب بھی سخت تر ہو بخلاف قلب مصطفی صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کی بیدار ی کے کہ وہ معارف الہیہ اور مصالح بے حد و شمارمیں ہوتی  وہ ان کے درجات کی بلندی اور شان گرامی کی عظمت کا سبب تھی اھ۔

فـــــ: تطفل علی الامام القاضی عیاض والعلامۃ علی القاری ۔

 (۱؎ مرقاۃ الصعود الی سنن ابی داؤد للسیوطی)

وبالجملۃ اذا جاز ھذا للدجال ولابن صیاد استد راجالھما فلان یجوز لکبراء الامۃ بوراثۃ المصطفٰی صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم اولی واحری۔

الحاصل جب یہ بطور استدراج دجال اور ابن صیاد کے لئے ہوسکتا ہے تو مصطفی صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کی وراثت میں ان کی امت کے بزرگوں کے لئے بدرجہ اولی ہوسکتاہے ۔

ثم رأیت العارف باللّٰہ سیدی عبدالوھاب الشعرانی قدس سرّہ الربانی نقل فی المبحث الثانی والعشرین من کتاب الیواقیت والجواھر عن سیدی الشیخ محمّد المغربی رحمہ اللّٰہ تعالٰی انہ کان رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ یقول ان من ادعی رؤیۃ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم کما رأتہ الصّحابۃ فھو کاذب وان ادعی انہ یراہ بقلبہ حال کون القلب یقظانا فھذا لایمنع منہ وذلک لان من بالغ فی کمال الاستعداد بتنطیف القلب من الرذائل المذمومۃ حتی من خلاف الاولی صار محبوباللحق تعالٰی واذا احب الحق تعالٰی عبدا کان فی نومہ من کثرۃ نورانیۃ قلبہ کانہ یقظان ۱؎ الخ

پھر میں نے دیکھا کہ عارف باللہ سیدی عبدالوہاب شعرانی قدس سرہ الربانی نے اپنی کتاب'' الیواقیت والجواہر فی عقائد الاکابر'' کے بائیسویں مبحث میں سیدی شیخ محمد مغربی رحمہ اللہ تعالی سے نقل کیا ہے کہ یہ حضرت شیخ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے تھے کہ جو یہ دعوی کرے کہ اس نے رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کو اس طر ح دیکھا ہے جیسے صحابہ کرام نے دیکھا تو وہ جھوٹا ہے- اور اگریہ دعوی کرے کہ وہ قلب کے بیدار ہونے کی حالت میں اپنے قلب سے حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کو دیکھتا ہے تو اس سے انکار نہیں کیا جاسکتا ۔ اور اس لئے کہ جو شخص بری عادات یہاں تک کہ خلاف اولی سے بھی دل کو صاف ستھراکر کے کمال استعداد پیدا کرلے وہ حق تعالی کا محبوب بن جاتا ہے اور جب حق تعالی کسی بندے کو محبوب بنالیتا ہے تو وہ اپنی نورانیت قلب کی فراوانی کی وجہ سے خواب کی حالت میں بھی گویا بیدار ہوتا ہے الخ۔اھ۔

 (۱؎ الیواقیت والجواھر    المبحث الثانی والعشرون      دارا حیاء التراث العربی بیروت       ۱/ ۲۳۹)

ثم رأیت وللّٰہ الحمد ماھو اصرح قال سیدنا الشیخ الاکبر رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ فی الباب الثامن والتسعین من الفتوحات المکیۃ من شرط الولی الکامل ان لاینام لہ قلب بحکم الارث لرسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم وذلک لان الکامل مطالب بحفظ ذاتہ الباطنۃ عن الغفلۃ کما یحفظ ذاتہ الظاھر۲؎ اھ ونقلہ المولی الشعرانی فی الکبریت۳؎ الاحمر مقرا علیہ واللّٰہ تعالٰی اعلم

پھرمیں نے اس سے بھی زیادہ صریح دیکھا ۔ وللہ الحمد- سیدنا شیخ اکبر رضی اللہ تعالی عنہ فتوحات مکیہ کے باب ۹۸میں لکھتے ہیں: ولی کامل کی شرط یہ ہے کہ بحکم وراثت رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم اس کا قلب نہ سوئے اس لئے کہ کامل سے اس امر کا مطالبہ ہے کہ وہ اپنی ذات با طن کو غفلت سے محفوظ رکھے جیسے اپنی ذات ظاہر کو بیداری کے ذریعہ محفوظ رکھتاہے اھ- اسے امام شعرانی نے کبر یت احمر میں نقل کر کے بر قرار رکھا ہے واللہ تعالی اعلم

 (۲؎الفتوحات المکیۃ   الباب الثامن والتسعون فی معرفۃ مقام السھر    دار احیاء التراث العربی بیروت    ۲/ ۱۸۲)
(۳؎ الکبریت الاحمر مع ا لیواقیت والجواہر     داراحیاء التراث العربی بیروت     ۱/ ۲۲۸و۲۲۹)

ثم وقع فـــــ الخلف بینھم فی سائر النواقض سوی النوم ھل تکون ناقضۃ من الانبیاء علیھم الصّلٰوۃ والسلام ام لا۔ پھر ان حضرات کے درمیان یہ اختلاف ہوا کہ نیند کے سوا دیگر نواقض سے انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کا وضو جاتا یا نہیں ؟

فــــ: مسئلہ نیند کے سوا باقی اور نواقض سے بھی انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کا وضو جاتا یا نہیں ، اس میں اختلاف ہے ، علامہ قہستانی وغیرہ نے فرمایا انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کا وضو کسی طرح نہ جاتا اور مصنف کی تحقیق کہ نواقض حکمیہ مثل خواب و غشی سے نہ جاتا اور نواقض حقیقیہ مثل بول وغیرہ سے ان کی عظمت شان کے سبب جاتا رہتا ۔

اقول ای ماامکن منھا علیھم لاکجنون فـــــ۱ اوقھقھۃفـــــ۲ فی الصلاۃ وماضاھا ھما ممافـــــ۳ ھو محال علیھم صلوات اللّٰہ تعالٰی وسلامہ علیھم ففی الدر المختار العتہ فـــــ۴ لاینقض کنوم الانبیاء علیھم الصلاۃ والسلام وھل ینقض اغماؤھم وغشیھم ظاھر کلام المبسوط نعم ۱؎ اھ واعترضہ السید علی الازھری بعبارۃ القہستانی لانقض من الانبیاء علیھم الصلاۃ والسلام فلاحاجۃ الی تخصیص النوم بعدم النقض وحینئذ یکون وضوؤھم تشریعا للامم۲؎ اھ۔

اقول مراد وہ نواقض ہیں جو حضرات انبیاء علیہم السلام کے لئے ممکن ہیں وہ نہیں جوان کے لئے محال ہیں صلوات اللہ تعالی وسلامہ علیہم ، جیسے جنون یا نماز میں قہقہہ اور اس کے مثل- درمختار میں ہے عتہ ( جنون سے کم درجہ کا ایک دماغی خلل) کسی کے لئے ناقض وضو نہیں ، جیسے انبیاء علیہم الصلوہ والسلام کی نیند ناقض وضو نہیں - ان حضرات کے لئے اغماء اور بیہوشی ناقض ہے یا نہیں ؟ مبسوط کا کلام اثبات میں ہے اھ - اس پر سید علی ازہری نے قہستانی کی یہ عبارت پیش کی :''انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کا وضو کسی طر ح نہ جاتا''- اور درمختار پر اعتراض کیا کہ جب حکم عام ہے تو نیند کے ساتھ خاص کرنے کی کوئی ضرورت نہیں- اور اس صورت میں ان حضرات کا وضو فرمانا امتوں کے لئے شریعت جاری کرنے اور قانون بنانے کے لئے تھا ''اھ۔

فــــ۱:مسئلہ جنون سے وضو جاتا رہتا ہے ۔
فــــ۲:مسئلہ نماز جنازہ کے سوا اور نماز میں بالغ آدمی جاگتے میں ایسا ہنسے کہ اور وں تک ہنسی کی آواز پہنچے تو وضو بھی جاتا رہے گا ۔
فــ۳:مسئلہ بعض نواقض وضو ء انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کے لئے یوں ناقض نہیں کہ ان کا وقوع ہی ان سے محال ہے جیسے جنون یا نماز میں قہقہہ ۔
فـ۴:مسئلہ بوہر اہو جانا یعنی دماغ میں معاذ اللہ خلل پیدا ہو رہے فاسد ہوجائے آدمی کبھی عاقلوں کی سی باتیں کرے کبھی پاگلوں کی سی ، مگر مجنون کی طر ح لوگوں کو مارتا گالیاں دیتا نہ ہوتو اس حالت کے پیدا ہونے سے وضو نہیں جاتا ۔

 (۱؎الدرالمختار       کتاب الطہارۃ        مطبع مجتبائی دہلی       ۱/ ۲۷)
(۲؎ ؎ حاشیہ الطحطاوی علی الدر المختار       کتاب الطہارت      المکتبۃ العربیۃ کوئٹہ    ۱/ ۸۲
فتح المعین     کتاب الطہارت    ایچ ایم سعید کمپنی کراچی        ۱/ ۴۷)

وتبعہ ولدہ السید ابو السعود لکن استثنی الاغماء والغشی بدلیل ماعن المبسوط قال واصرح منہ ماوجدتہ بخط شیخنا (ای ابیہ) حیث قال ونوم الانبیاء لاینقض واغماؤھم وغشیھم ناقض ۱؎ اھ قال والحاصل ان ماذکرہ القھستانی من تعمیم عدم النقض بالنسبۃ لما عدا الاغماء والغشی والایلزم ان یکون کلامہ منافیا لما سبق عن المبسوط۲؎ اھ

اس کلام پر ان کے فرزند سید ابو السعود نے بھی ان کا تباع کیا مگر عبارت مبسوط کے پیش نظر اغماء اور غشی کا استثنا ء کیا اور فرمایا اس سے زیادہ صریح وہ ہے جو میں نے اپنے شیخ یعنی اپے والد کی تحریر میں پایا انہوں نے لکھا ہے کہ انبیاء کی نیند ناقض نہیں اور ان کا اغما اور غشی ناقض ہے اھ- انہوں نے کہا کہ حاصل یہ ہے کہ قہستانی نے وضو نہ جانے کا حکم جو عام بتایا  ہے وہ اغما و غشی کے ماسوا کے لئے ہے ورنہ لازم آئے گا کہ ان کا کلام مبسوط کی سابقہ عبارت کے مخالف ہو ا ھ۔

 (۱؎ فتح المعین     کتاب الطہارۃ    ایچ ایم سعید کمپنی کراچی     ۱/ ۴۷)
(۲؎ فتح المعین    کتاب الطہارۃ     ایچ ایم سعید کمپنی کراچی    ۱/ ۴۷)

ورأیتنی کتبت علیہ اقول اولافــــــ۱ لاغروفی المنافاۃ بعد اختلاف الروایات وثانیا لایظھر ولن یظھر فــــ۲وجہ اصلایفید النقض بالغشی والاغماء لابالفضلات بل الظاھر ان الغشی والاغماء لابالفضلات بل الظاھر ان الغشی والاغماء مثل النوم لان النقض بھما انما ھو حکما لما عسی ان یخرج فالظاھر عدم نقض وضوئھم صلی اللّٰہ تعالٰی علیھم وسلم بھما مثلہ وان قیل بالنقض بمثل البول لالانہ منھم نجس حقیقۃ بل لانہ نجس فی حقہم خاصۃ لعظم شانھم وعلو مکانھم علیھم الصلاۃ والسلام ابدا من رحمانھم۱؎ اھ۔

میں نے اس پر یہ حاشیہ لکھا ہے اقول ،اولا روایات میں اختلاف ہونے کی صورت میں اگر منافات ہوگئی تو کوئی حیرت کی بات نہیں ثانیا کوئی ایسی وجہ ظاہر نہیں اور نہ ہرگز کبھی ظاہر ہوگی جویہ افادہ کر ے کہ فضلات سے تو وضو نہ جائے اور غشی واغما سے چلا جائے بلکہ ظاہر یہ ہے کہ غشی اور اغما نیند کی طر ح ہیں اس لئے کہ ان دونوں سے وضو ٹوٹنے کا حکم خروج ریح کے گمان غالب کے باعث ہے تو ظاہر یہ ہے۔ کہ نیند کی طر ح ان دونوں سے بھی حضرات انبیاء صلی اللہ تعالی علیہم  وسلم کا وضو نہ جائے ، اگر چہ پیشاب جیسی چیز سے وضوجانے کا حکم کیا جائے اس وجہ سے نہیں کہ ان سے یہ حقیقۃً نجس ہے بلکہ ان کی عظمت شان او ر بلندی مرتبت کی وجہ سے خاص ان کے حق میں حکما نجس ہے ان پر ان کے رب رحمن کی طر ف سے دائمی درود و سلام ہو۔ اھ حاشیہ ختم

فـــ۱: تطفل علی سید ابو السعود ۔  فــــ۲: تطفل اخر علیہ۔

 (۱؎ حواشی فتح المعین للامام احمد رضا    قلمی فوٹو  ص۱)

ثم رأیت العلامۃ ط نقل فی حاشیۃ المراقی بعد جزمہ ان لانقض من الانبیاء علیھم الصّلاۃ والسلام (ماینحو منحی بعض ماذکرت حیث قال) بحث فیہ بعض الحذاق بانہ اذا کان الناقض الحقیقی المتحقق غیر ناقض فالحکمی المتوھم اولی علی ان مافی المبسوط لیس بصریح ولوسلم فیحمل علی انہ روایۃ ۲؎ اھ واعتمد فی حاشیۃ الدر مامشی علیہ ابو السعود قال ''وظاھرہ ان الاغماء والغشی نفسھما ناقضان لاما لایخلوان  عنہ والا لکانا غیرناقضین فی حقھم ایضا۳؎ اھ''

پھر میں نے دیکھا کہ علامہ طحطاوی نے مراقی الفلاح کے حاشیہ میں پہلے تو اس پر جز م کیا کہ کسی چیز سے انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کا وضو نہ جاتا پھر کچھ ویسا ہی کلام ذکر کیا جو میں نے لکھا ،وہ فرماتے ہیں اس میں بعض ماہرین نے بحث کی ہے کہ جب ناقض حقیقی متحقق ناقض نہیں تو حکمی متوہم بدرجہ اولی نہ ہوگا علاوہ ازیں مبسوط کی عبارت صریح نہیں اگر چہ مان بھی لی جائے تو اس پر محمول ہوگی کہ وہ ایک روایت ہے اھ اور انہوں نے درمختار کے حاشیہ میں اس پر اعتماد کیا ہے جس پر ابو السعود گئے ، لکھتے ہیں ،'' اور ظاہر یہ ہے کہ اغما وغشی بذات خود حدث ہیں اس ظن ریح کے با عث نہیں جس سے یہ دونوں خالی نہیں ہوتے ورنہ ان حضرات کے حق میں یہ دونوں بھی  ناقض نہ ہوتے ۔اھ''

 (۲؎حاشیہ الطحطاوی علی مراقی الفلاح       فصل ینقض الوضوء         دار الکتب العلمیہ بیروت      ص۹۰و۹۱ )
(۳؎ ؎ حاشیۃ الطحطاوی علی الدر المختار      کتاب الطہارۃ          المکتبۃ العربیۃ کو ئٹہ       ۱/ ۸۲)

اقول ھذا فــــــ ان تم یصلح جوابا عن بحث بعض الحذاق لکن فــــــ۱ الذی علیہ کلمات العلماء عدھما کالنوم من النواقض الحکمیۃ وھو مفاد الھدایۃ حیث علل الاغماء بالاسترخاء ونقل العلامہ ش عن ابن عبدالرزاق عن المواھب اللدنیۃ نبہ السبکی علی ان اغماء ھم فــــــ۲ علیھم الصلاۃ والسلام یخالف اغماء غیرھم وانما ھو عن غلبۃ الاوجاع للحواس الظاھرۃ دون القلب وقد ورد تنام اعینھم لاقلوبھم فاذا حفظت قلوبھم من النوم الذی ھو اخف من الاغماء فمنہ بالاولی ۱؎ اھ وبہ یتجہ البحث۔

اقول یہ کلام اگر تام ہو تو بعض ماہرین کی اس بحث کا جواب ہوسکتا ہے - لیکن کلمات علماء جس پر ہیں وہ یہی ہے کہ ان دونوں کا شمار نواقض حکمیہ میں ہے یہی ہدایہ کا بھی مفاد ہے اس لئے کہ اغما کے ناقض ہونے کی علت -استر خا بتا ئی علامہ شامی نے ابن عبدالرزاق کے حوالے سے مواہب لدنیہ سے نقل کیا ہے کہ علامہ سبکی نے اس پر تنبیہ فرمائی کہ انبیاء علیہم السلام کو غش آنا دوسروں کے بر خلاف ہے ان کا اغما قلب پر نہیں بلکہ صرف حواس ظاہر ہ پر درد وتکلیف کے غلبہ سے ہوتا ہے اور حدیث میں وارد ہے کہ ان کی آنکھیں سوتی ہیں اور دل نہیں سوتے تو جب ان کے قلب اغما سے ہلکی چیز نیند سے محفوظ رکھے گئے تو اغما سے بدرجہ اولی محفوظ ہوں گے اھ اس سے اس بحث کی وجہ اور دلیل ظاہر ہوجاتی ہے ۔

فــــــ:معروضۃ علی العلامۃ ط ۔
فــــــ۱:مسئلہ ، غشی وبیہوشی سے وضو جاتا ہے مگر یہ خود ناقض وضو نہیں بلکہ اسی ظن خروج ریح وغیرہ کے سبب سے ۔
فــــ۲ : غشی انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کے جسم ظاہری پر بھی طاری ہوسکتی دل مبارک اس حالت میں بھی بیدار وخبر دار رہتا ۔

 (۱؎ردالمحتار      کتاب الطہارۃ      مطلب نوم الانبیاء غیر ناقض     دار احیاء التراث العربی بیروت    ۱/ ۹۷)

قلت والعجب فــــــ۳ ان السید ط ذکرہ ھذا الاستظھار عاد فاورد البحث ثم قال ھذا ینا فی ما ذکرہ الملا علی القاری فی شرح الشفاء من الاجماع علی انہ صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم فی نواقض الوضوء کالامۃ الا ماصح من استثناء النوم لانہ کان صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم تنام عیناہ ولاینام قلبہ وقد حکی فی الشفاء قولین بالطھارۃ والنجاسۃ فی الحدثین منہ صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم ۱؎ اھ۔

قلت عجب یہ کہ سید طحطاوی اس استظہار کے بعد پلٹ کر پھر وہی بحث لائے ، پھر کہا:'' یہ اس کے منافی ہے جو ملا علی قاری نے شرح شفا میں بیان کیا ہے کہ اس پر اجماع ہے کہ حضور صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نواقض وضو کے حکم میں امت کی طر ح ہیں مگر نیند کااستثنا ء بطریق صحیح ثابت ہے کیونکہ حضور صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کی آنکھیں سوتی تھیں اور دل نہ سوتا -اور شفا میں حضور صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کے دونوں حدث سے متعلق دونوں قول طہارت اور نجاست کے حکایت کئے ہیں اھ۔

فــــ۳ : معروضۃ اخری علی العلامۃ ط

 (۱؎حاشیۃ الطحطاوی علی الدر المختار     کتاب الطہارۃ      المکتبۃ العربیہ کوئٹہ     ۱/ ۸۲)

اقول والقول الفصل عندی ان لانقض منھم صلی اللّٰہ تعالٰی علیھم وسلم بالنوم والغشی ونحوھما مما یحکم فیہ بالحدث لمکان الغفلۃ، واما النواقض الحقیقیۃ منافتنقض منھم ایضا صلوات اللّٰہ تعالٰی علیھم وسلامہ علیھم لالانھا نجسۃ کلا بل ھی فــــــ طاھرۃ بل طیبۃ حلال الاکل والشرب لنا من نبینا صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم کما دل علیہ غیر ماحدیث بل لانھا نجاسۃ فی حقہم صلی اللّٰہ تعالٰی علیہم وسلم لرفعۃ مکانھم ونھایۃ نزاھۃ شانھم کما اشرت الیہ فھذا مانختارہ ونرجوا ن یکون صوابا ان شاء اللّٰہ تعالٰی ۔

اقول میرے نزدیک قول فیصل یہ ہے کہ نیند ، غشی اور ان دونوں جیسی چیز یں جن میں جائے غفلت کے باعث حدث کا حکم ہوتا ہے ایسی چیزوں سے انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کا وضو نہ جاتا ، لیکن ہمارے حق میں جونواقض حقیقیہ ہیں وہ ان حضرات صلوات اللہ تعالی و سلامہ علیہم کے حق میں بھی ناقض ہیں اس وجہ سے نہیں کہ نجس ہیں ہرگز نہیں بلکہ یہ طاہر بلکہ طیب ہیں ہمارے لئے اپنے نبی صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم سے ان کا کھانا پینا حلال ہے ، جیسا کہ متعد د حدیثوں سے ثابت ہے ، بلکہ اس لئے ناقض ہیں کہ ان چیزوں کے لئے ان حضرات کے حق میں حکم نجاست ہے جس کا سبب ان کی رفعت مکان او رانتہائی نزاہت شان ہے جیسا کہ میں نے اس کی طر ف اشارہ کیا ، یہی وجہ ہے جسے ہم اختیار کرتے ہیں اور امید رکھتے ہیں کہ ان شاء اللہ تعالی حق یہی ہوگا۔
فـ : مسئلہ حضو ر سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کے فضلات شریفہ مثل پیشاب وغیرہ سب طیب وطا ہر تھے جن کا کھانا پینا ہمیں حلال وبا عث شفا وسعادت مگر حضور کی عظمت شان کے سبب حضو رکے حق میں حکم نجاست رکھتے ۔

والعجب ان العلامۃ القھستانی مع تصریحہ بما مرجعل ھذا البحث مستغنی عنہ فقال ولا نقضاء زمن الانبیاء علیھم الصلاۃ والسلام لایحتاج فی ھذا الکتاب الی ان یقال ان نومھم غیر ناقض ۱؎ اھ

اور تعجب ہے کہ علامہ قہستانی نے سابقہ تصریح کے باوجود یہ کہا کہ اس بحث کی ضرورت نہیں ان کے الفاظ یہ ہیں :'' چوں کہ انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کا زمانہ گزرگیا اس لئے اس کتاب میں یہ لکھنے کی ضرورت نہیں کہ ان کی نیند ناقض نہیں ''اھ۔

 (۱ ؎ جامع الرموز     کتاب الطہارۃ     مکتبہ اسلامیہ گنبد قاموس ایران      ۱/ ۳۷)

اقول فــــــ۱ بلی لیوشکن ان ینزل عیسی بن مریم علیھما الصلوۃ والسلام علا ان العلم بخصائھم ومناقبھم علیھم الصلاۃ والسلام مطلوب مرغوب وکانہ یشیر الی الجواب عن ھذا بقولہ فی ھذا الکتاب ای ان محلہ کتب الفضائل دون الفقہ۔

اقول کیوں نہیں ، عنقریب عیسٰی بن مریم علیہما الصلوۃ والسلام نزول فرمانے والے ہیں علاوہ ازیں انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کے خصائص ومناقب سے آشنائی مطلوب و مرغوب ہے ، شاید اس کے جواب کی طر ف'' اس کتاب میں ''کہہ کر وہ اشارہ کر رہے ہیں کہ اس کے بیان کا موقع کتب فضائل میں ہے کتب فقہ میں نہیں۔

فــــ ! :معروضۃ علی العلامۃ القھستانی ۔

وفیہ فــــــ۲ ان الطالب ربما یطلع علی حدیث الصحاح انہ صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم حتی نفخ فاتاہ بلال فاٰذنہ بالصّلاۃ فقام وصلی ولم یتؤضا۲؎ فینبغی اعلامہ ان ھذا من خصائصہ صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلم۔

مگر اس پر یہ کلام ہے کہ طالب علم صحاح کی اس حدیث سے آشنا ہوگا کہ: حضور صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کو نیند آئی یہاں تک کہ سونے کی آواز آئی پھر حضرت بلال نے حاضر ہو کر نماز کی اطلاع دی تو سرکار نے اٹھ کر نماز ادا کی اور وضو نہ فرمایا ،تو اسے یہ بتانا چاہئے کہ یہ حضور صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کےخصائص میں سے ہے ۔

فــــ ۲ : معروضۃ اخری علیہ۔

 (۲؎صحیح البخاری      کتاب الوضوء       باب التخفیف فی الوضوء      قدیمی کتب خانہ کراچی      ۱/ ۲۶)
(صحیح البخاری     کتاب الاذان    باب وضوء الصبیان الخ     قدیمی کتب خانہ کراچی     ۱/ ۱۱۹)

ثـم من فــــــ المتفرع علی ان النوم نفسہ لیس ناقض ما فی حاشیۃ العلامۃ احمد ابن الشلبی علی التبیین سئلت عن شخص بہ انفلات ریح ھل ینتقض وضوؤہ بالنوم فاجبت بعدم النقض بناء علی ماھو الصحیح ان النوم نفسہ لیس بناقض وانما الناقض مایخرج ومن ذھب الی ان النوم نفسہ ناقض لزمہ نقض وضوء من بہ انفلات الریح بالنوم واللّٰہ تعالٰی اعلم ۱؎ اھ ۔

پھر اس مسئلہ پر کہ نیند بذات خود ناقض نہیں ، علامہ احمد ابن الشلبی کے حاشیہ تبیین الحقائق کا یہ کلام متفر ع ہے وہ لکھتے ہیں : مجھ سے اس شخص کے بارے میں سوال ہوا جوانفلات ریح ( برابر ہوا چھوٹتے رہنے) کا مریض ہے کہ نیند سے اس کا وضو ٹوٹے گا یا نہیں ؟ میں نے جواب دیا کہ نہ ٹوٹے گا اس بنیاد پر کہ صحیح یہی ہے کہ نیند خود ناقض نہیں ، ناقض وہی خارج ہونے والی ریح ہے اور جس کا مذہب یہ کہ نیند خود ناقض ہے اس کو اس کا قائل ہونا لازم ہے کہ جو انقلات ریح کا مریض ہے اس کا وضو نیند سے ٹوٹ جائے گا ، واللہ تعالی اعلم اھ۔

فـــ:مسئلہ جسے ریح کا عارضہ حد معذوری تک ہو اس کا وضو سونے سے نہ جانا چاہیئے۔

 (۱ ؎ حاشیۃ الشلبی علی تبیین الحقائق      کتاب الطہارۃ      دار الکتب العلمیۃ  بیروت      ۱/ ۵۳)
(حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح       کتاب الطہارۃ      فصل ینقض الوضوء     دار الکتب العلمیۃ بیروت     ص ۹۰)

ونقلہ ط علی مراقی الفلاح فاقرلکن قال فی النھر ینبغی ان یکون عینہ ای النوم ناقضا اتفاقا فیمن فیہ انفلات ریح اذمالا یخلو عنہ النائم لوتحقق وجودہ لم ینقض فالمتوھم اولی ۱؎ اھ نقلہ ش۔

اسے علامہ طحطاوی نے مراقی الفلاح کے حاشیہ میں نقل کر کے بر قرار رکھا ۔ لیکن النہر الفائق میں ہے کہ جسے انفلات ریح کا مرض ہے اس کے حق میں خود نیند کے ناقض ہونے کا حکم  بالاتفاق ہونا چاہئے اس لئے کہ سونے والا (بطور ظن) جس چیز سے خالی نہیں ہوتا اگر اس کا وجو د متحقق ہوتو ناقض نہیں پھر متوہم تو بدرجہ اولی نہ ہوگا اھ۔ اسے علامہ شامی نے نقل کیا ۔

 (۱؎ النہر الفائق      کتاب الطہارۃ       قدیمی کتب خانہ کراچی      ۱/ ۵۶)
(رد المحتار      کتاب الطہارۃ        مطلب نوم من بہ انفلات ریح        دار احیاء التراث العربی بیروت       ۱/ ۹۵)

اقول ظاھرہ فـــ یشبہ المتناقض فان مفاد التعلیل عدم النقض اذلما علمنا ان النوم لاینقض بنفسہ بل لما یتوھم فیہ وھھنا محققہ لاینقض فماظنک بالموھوم وجب الحکم بعدم النقض لکن محط نظرہ رحمہ اللّٰہ تعالٰی استبعاد ان یصلی الرجل العشاء فی اول الوقت فینام ولا یزال مستغرقا فی النوم طول اللیل الی قبیل الصباح ثم یقوم کما ھو فیجعل یصلی التھجد ولا یمس ماء فاضطر الی الحکم بجعل النوم نفسہ ناقضافی حقہ۔

اقول اس کلام کا ظاہر گویا تنا قض کاحامل ہے حامل ہے اس لئے کہ ( مدعایہ ہے کہ ناقض ہو اور ) تعلیل کا مفاد یہ ہے کہ ناقض نہ ہو ، کیوں کہ جب ہمیں معلوم ہے کہ نیند بذات خو د ناقض نہیں بلکہ اس کی وجہ سے جو نیند کی حالت میں متوہم ہے ، او ریہاں وہی چیز جب تحقیقی طور پر موجود ہے او رناقض نہیں تو موہوم کے بارے میں کیا خیال ہے ؟ ضروری ہے کہ ناقض نہ ہونے ہی کا حکم ہو ۔ لیکن صاحب نہر رحمہ اللہ تعالی عنہ کا مطمع نظر اس امر کو بعید قرار دینا ہے کہ وہ شخص اول وقت میں عشا کی نماز ادا کر کے سوجائے اور رات بھر صبح کے ذ را پہلے تک نیند میں مستغر ق رہے پھر اٹھ کر ویسے ہی نماز تہجد پڑھنے لگے اور پانی کو ہاتھ بھی نہ لگائے اس کے لئے ناچار اس کے حق میں نیند کو ناقض قرار دینے کا حکم کیا ۔

فـــــ : تطفل علی النھر

اقول کیف یعدل عن حق معول لمجرد استبعاد لاجرم ان قال الشامی بعد نقلہ'' فیہ نظر والاحسن مافی فتاوی ابن الشلبی ۱؎ اھ''۔

اقول محض ایک استبعا د کے باعث حق معتمد سے انحراف کیسے ہوسکتا ہے؟ اسی حقیقت کے پیش نظر علامہ شامی نے کلام نہر نقل کرنے کے بعد اسے محل نطر بتا یا :''اور کہا کہ احسن وہ ہے جو ابن شلبی کے فتاوی میں ہے ''اھ۔

 (۱؎رد المحتار   کتاب الطہارۃ      مطلب نوم من بہ انفلات ریح      دار احیاء التراث العربی بیروت     ۱/ ۹۵)

اقــول ولا تظن ان النوم مظنۃ الانتشار والانتشار مظنۃ خروج المذی فان المظنۃ الثانیۃ غیر مسلمۃ لعدم الغلبۃ ولذا قال فی الحلیۃ اذالم یکن الرجل مذأ فالانتشار لایکون مظنۃ تلک البلۃ ۲؎ اھ

اقول یہ خیال نہیں ہونا چاہئے کہ نیند میں انتشار آلہ کا غالب گمان ہوتا ہے اور انتشار میں مذی نکلنے کا گمان ہوتا ہے (اس گمان کی بنا پر اس کی نیند کو ناقض ہونا چاہئے ، مگر یہ خیال درست نہیں ) اس لئے کہ دوسرا مظنہ (خروج مذی کا گمان) قابل تسلیم نہیں کیوں کہ غالب و اکثر اس کا عد م وقوع ہے ، اسی لئے حلیہ میں فرمایا جب مرد کثیر المذی نہ ہو تو انتشار آلہ اس تری کا مظنہ نہیں اھ۔

 (۲؎؎ حلیۃ المحلی شرح منیۃ المصلی)

ولذا صرحوا بعدم سنیۃ الاستنجاء من النوم کما فی الدر وغیرہ فالاظھر ماذکر ابن الشلبی ولیتأمل عندالفتوی فانہ شیئ لانص فیہ عن الائمۃ واللّٰہ المرجو لکشف کل غمۃ ولنسم ھذا التحریر ''نبہ القوم ان الوضوء من ای نوم'' والحمدللّٰہ علی ماعلم وصلی اللّٰہ تعالٰی علی سیدنا واٰلہٖ وصحبہ وسلم واللّٰہ سبحٰنہ وتعالٰی اعلم۔

اسی لئے نیند سے استنجاکے مسنون نہ ہونے کی تصریح کی گئی ہے جیسا کہ درمختار وغیر ہ میں ہے ، تو اظہر وہی ہے جو ابن الشلبی نے ذکر کیا، مگر وقت فتوی اس پر تامل کی ضرورت ہے کیو ں کہ یہ ایک ایسی بات ہے جس کے بارے میں ائمہ سے کوئی نص نہیں ، اور خداہی سے ہر مشکل کے ازالہ کی امید ہے مناسب ہے کہ ہم اس تحریر کو نبہ القوم ان الوضوء من ای نوم ،۱۳۲۵ ھ(آسانی سے دستیاب لوگو ں کی وہ گم شدہ چیز کہ وضو کس نیند سے لازم ہوتا ہے ) سے موسوم کریں ، اور خداہی کا شکر ہے اس پر جو اس نے تعلیم فرمائی ،اور اللہ تعالی کی رحمت اور سلامتی نازل ہو ہمارے آقا اور ان کی آل واصحاب پر ، واللہ سبحانہ وتعالی اعلم ،(ت)

رسالہ
نبہ القوم ان الوضوء من ایّ نوم ختم ہوا
ختم ہوا

جلد اول کا حصّہ اول ختم ہوا
حصہ دوم رسالہ '' خلاصۃ تبیان الوضوء'' سے شروع ہو رہا ہے

فتاوی رضویہ ،ج۱ ،سوال نمبر ۱۱
مفتی اعلی حضرت امام احمد رضا خان بریلوی

No comments:

Post a Comment

Join us on

Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...