Sunday, December 20, 2015

امام مالک رحمۃ اللہ علیہ کا مختصر تعارف

(۔۔۔۔۔۔امام مالک رحمۃ اﷲ علیہ۔۔۔۔۔۔)
کو ایک مرتبہ درس حدیث کے دوران بچھو نے کئی بار ڈنگ مارا ،مگر آپ نے حدیث کے ادب کی وجہ سے نہ پہلو بدلا ،نہ ہی درس موقوف کیا،
حلیۃ الاولیاء میں ہے امام مالک فرماتے ہیں کوئی رات ایسی نہیں گزری جس میں مجھے حضور کی زیارت نہ ہوئی ہو
،زمانہ طالب علمی میں آپ غریب تھے ،مگر کتب کے مطالعے کا بہت شوق تھا ،کتابیں خریدنے کے لیے آپ نے مکان کی چھت توڑی ،اور اس کی کڑیاں فروخت کیں ،اور کتابیں خریدیں ،
امام زرقانی فرماتے ہیں آپ نے اپنے ہاتھ سے ایک لاکھ احادیث تحریر فرمائی ،
شہر رسول کا ادب اس قدر تھا کہ قضائے حاجت کے لیے تمام عمر حرم مدینہ سے باہر جاتے تھے
،عشق رسول کا یہ عالم تھا ،کہ آپ کبھی بھی مدینہ شریف میں کسی سواری پر نہیں بیٹھے،
جب آپ کے سامنے رسول اللہ ؐ کا ذکر کیا جاتا تو آپ کے چہرے کا رنگ بدل جاتا ،اور آپ بے اختیار تعظیما جھک جاتے
،آپ نے انگوٹھی میں ''حسبنا اﷲ ونعم الوکیل ''کندہ کروایا ہوا تھا ،،آپ مدینہ میں جہاں رہتے تھے،
وہ عبد اللہ بن مسعود کی رہائش گاہ تھی ،مسجد نبوی میں وہاں بیٹھتے تھے جہاں حضرت عمر بیٹھا کرتے تھے
،وہ سب سے پہلے شخص ہیں ،جو دنیائے علم میں بیک وقت حدیث اور فقہ کے امام کہلائے ،
فن حدیث میں سب سے پہلے انھوں نے باقاعدہ ایک کتاب لکھی (موطا امام مالک)
،آپ درس حدیث کے لیے غسل ،عمدہ لباس ،خوشبوکا اہتمام فرماتے،
آپ کی ولادت ٩٣ھ میں ہوئی آپ نے تقریبا ٩٠٠سے زیادہ مشائخ سے علم حاصل کیا
،آپ کا قددراز ،بدن فربہ ،رنگ سفید مائل بہ زردی ،آنکھیں بڑی ،ناک بلند ،سر پر برائے نام بال تھے عام طور پر سفید کپڑے پہنتے ،خوشبو لگاتے ،فتوی لکھنا اس وقت شروع کیا جب ستر علماء نے ان کی اہلیت کی گواہی دی
،امام مالک کے ایک فتوی سے اس زمانے کے حاکم نے اختلاف کیا اور انھیں اونٹ پر سوار کر کے شہر میں پھرایا
،یحیی بن یحیی مصمودی قرطبہ سے آئے اور ایک سال امام مالک کی خدمت کی ،اور واپس جاکر موطا امام مالک اور فتاوی امام مالک کی تبلیغ و اشاعت کی
،امام مالک نے اپنی وفات کے وقت فرمایا :میں اہل علم کو اولیاء اللہ گردانتا ہوں ،میری ساری زندگی علم کی تحصیل و تعلیم میں گزری ،پھر فرمایا :کسی شخص کو نماز کے مسائل بتا دینا ،تمام زمین کی دولت صدقہ کرنے سے بہتر ہے ،کسی شخص کی دینی الجھن دور کر دینا ،سوحج کرنے سے افضل ہے ،آپ رحمۃ اللہ علیہ کی وفات ١٧٩ھ ہے ۔( تذکرۃ المحدثین ،علامہ غلام رسول سعیدی ،ص ٩٣تا ١٠٣،ملخصا ،ضیاء القران ،کراچی )


No comments:

Post a Comment

Join us on

Must click on Like Button

Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...