Wednesday, December 5, 2018

مولانا طارق جمیل اور بڑھتی ہوئی آبادی سمپوزیم:

مولانا طارق جمیل اوربڑھتی ہوئی آبادی سمپوزیم:
سٹیج پر عمران خان صاحب اور جسٹس ثاقب نثار صاحب  تشریف فرما تھے
مولانا طارق جمیل صاحب نے داخل ہونے کی اجازت چاہی
خان صاحب اور جسٹس صاحب نے کھڑے ہو کر سلام کیا
مولانا مائیک کی طرف تشریف لے گئے
خطاب کا آغاز کچھ قرآنی آیات اور ایک حدیث مبارکہ سے کیا
ہمیشہ کی طرح مولانا کا یہ خطاب بھی موضوع کی قید سے آزاد ہی دکھائی دیا
مولانا نے اپنے خطاب میں عمران خان کی تعریف کرتے ہوئے کہا
یہ پہلا شخص ہے جس نے ریاست مدینہ کا تصور پیش کیا ،مجھے لگتا ہے اس کی نیت اچھی ہے
مولانا نے چیف جسٹس کے متعلق کہا
یہ وہ وہ کام کر رہے ہیں ،جو ان کے ذمے بھی نہیں ہیں ،میں انہیں سلام پیش کرتا ہوں
مزید مولانا نے ایک حدیث سے استدلال کرتے ہوئے کہا
میری ساری زندگی کی عبادت اور جسٹس صاحب کا ایک دن کا عدل برابر ہے
مولانا نے جسٹس کھوسہ صاحب کو کہا ،میں اور آپ  ایک ہی جگہ پڑھتے تھے
ساتھ ہی مسکراتے ہوئے شعر کا یہ مصرعہ پڑھ دیا
تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو

آبادی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے
مولانا نے کہا
ہمارے ملک میں بچے زیادہ پیدا ہونے کیوجہ جہالت ہے
کیونکہ
بچہ نے ہونے پر ساس بہو کو طعنے دیتی ہے
مولانا نے مسکراتے ہوئے کہا
شوہر کو  دوست کہتے ہیں،یار تو نامرد لگتا ہے
پھر کہتے ہیں
اسی لیے سارے ملک میں شباب آور گولیوں کے اشتہار لگے نظر آتے ہیں

مولانا نے کہا
غریب اس لیے زیادہ بچے پیدا کرتا ہے ،تاکہ وہ اسے مزدوری کرکے کھلائیں
اور
اسکی زندگی سکون سے گزرے
مولانا نے ایک واقعہ سناتے ہوئے کہا
حکمران کی نیت خراب ہو جائے اور وہ ہر چیز پر ٹیکس لگانے کا ارادہ کر لے ،تو پیداوار میں بھی کمی ہو جاتی ہے
تبصرہ:
مولانا تبلیغی جماعت سے تعلق رکھتے ہیں
جن کی پالیسی ہے
کسی کو برا اور غلط نہیں کہنا چاہیے
اس وجہ سے مولانا نے ان دونوں حضرات کی غلطیاں انہیں نہیں بتائی ،
صرف انکے اچھے کاموں کو بیان کیا اور اسی پر انکی تعریف کر دی
اس سے فائدہ یہ ہوا کہ یہ لوگ آئندہ بھی ایسے علماء کو اپنی مجالس میں بلایا کریں گے
اور
ان سے خطاب کروایا کریں گے
جس سے دین کا کچھ نہ کچھ فائدہ ہوگا
لیکن
اس سے نقصان بھی بہت ہوا
لوگ سمجھیں گے
آبادی کو کنٹرول کرنا
اور
" بچے دو ہی اچھے"
والا نعرہ بالکل درست ہے
کیونکہ
مولانانے بظاہر اسکی حمایت کی ہے
کل کو لوگ بطور دلیل کہا کریں گے
مولانا نے  جن لوگوں کی تعریفیں کی ہیں
یقینا وہ بڑے اعلی درجے کے لوگ  ہوں گے
کیونکہ
کوئی عالم کسی غلط آدمی کی تعریف نہیں کر سکتا
کیونکہ
حدیث میں آتا ہے
فاسق کی مدح سے عرش بھی کانپ جاتا ہے
امام غزالی نے لکھا ہے
جو شخص یہ پسند کرتا ہوں کہ
سب لوگ اس سے راضی رہیں اور  اس سے محبت کریں
وہ شخص کبھی احتساب (نھی عن المنکر ) نہیں کر سکتا
حضرت کعب الاحبار کہتے ہیں
جو شخص احتساب (نھی عن المنکر ) کرے گا ،وہ اپنی قوم میں ذلیل و خوار ہو گا
از
احسان اللہ کیانی
2۔دسمبر۔2018

Tuesday, November 27, 2018

عمران خان کے پیچھے برطانیہ ہے:احسان اللہ کیانی

عمران خان کے پیچھے برطانیہ ہے :
انیل مسرت برطانیہ میں مقیم امیر ترین ایشیائی باشندے ہیں
انکی عمر تقریبا پچاس سال ہے ،بچپن میں ان کا پڑھائی میں دل نہیں لگتا تھا ،انھوں نے اپنے تایا سے پراپرٹی کا بزنس سیکھا
اور
گھر کرائے پر دینے لگے
رفتہ رفتہ کاروبار پھیلنے لگا
اور
اب پورے برطانیہ میں ان کا کاروبار پھیلا ہوا ہے
یہ فقط کاروباری شخصیت ہی نہیں ہیں
بلکہ
ان کے برطانوی حکمرانوں کے ساتھ بھی بڑے قریبی تعلقات ہیں
ٹونی بلئیر اور ڈیوڈ کیمرون تک ان سے ملتے نظر آتے ہیں
آپ کو حیرت ہوگی
برطانوی فوج کے کمانڈر مسٹر نِک کے ساتھ بھی ان کی بات چیت ہے
پچھلے چند سالوں سے یہ پاکستان کے اہم ترین لوگوں کے ساتھ بھی نظر آرہے ہیں
بظاہر ایسا لگتا ہے
تبدیلی کے پیچھے دراصل ان ہی کا ہاتھ ہے
یہ دھرنوں کے ماسٹر مائنڈ ڈاکٹر طاہرالقادری صاحب سے بھی مل چکے ہیں
اور
عمران خان کے دھرنے کے دوران ان کے سٹیج پر بھی موجود تھے
آپ انکی پہنچ کا اندازہ اس بات سے لگا سکتے ہیں
جب یہ دھرنے کے دوران  پاکستان آنے لگے
تو یہ خود براہ راست  برطانوی وزیر اعظم سے ملے
جس کے بعد برطانوی حکومت نے یہ یقینی بنایا کہ کوئی شخص پاکستان میں انھیں گرفتار نہیں کر سکتا
حیرت کی بات یہ ہے 
یہ پاکستانی آرمی چیف سے بھی تعلقات رکھتے ہیں
اس سے بڑھ کر حیران کن بات یہ ہے
چیف جسٹس آف پاکستان ثاقب نثار صاحب اپنے  دورہ برطانیہ میں انہیں کے پاس رکے
انھوں نے عمران خان کی الیکشن کمپین میں خوب پیسہ لگایا تھا،اب یہ پاکستان میں پچاس لاکھ گھر بنا کر دیں گئے
اور
ڈیم فنڈ مہم میں بھی یہ پیش پیش ہیں
آپ دھرنوں سے لے کر اب تک کے حالت کا اس زاویے سے جائزہ لیں
بہت سے حقائق سامنے آ جائیں گے
از
احسان اللہ کیانی
27-نومبر۔2018