Friday, July 15, 2016

Rasool Allah (ale Salat o salam ) k Umi hony ki 2 Hikmaten


Rasool Allah ale Salam ka Seena mubarak 4 bar Chak kia gya Akhir kyo

Seerat e rasool ,seerat e mustafa ,Seerah of prophet,prophet of islam ,muhammad prophet of islam ,seerat un Nabi ,Seerat e rasool ,seerat e mustafa ,Seerah of prophet,prophet of islam ,muhammad prophet of islam ,seerat un Nabi ,Seerat e rasool ,seerat e mustafa ,Seerah of prophet,prophet of islam ,muhammad prophet of islam ,seerat un Nabi ,Seerat e rasool ,seerat e mustafa ,Seerah of prophet,prophet of islam ,muhammad prophet of islam ,seerat un Nabi ,Seerat e rasool ,seerat e mustafa ,Seerah of prophet,prophet of islam ,muhammad prophet of islam ,seerat un Nabi ,Seerat e rasool ,seerat e mustafa ,Seerah of prophet,prophet of islam ,muhammad prophet of islam ,seerat un Nabi ,

Syed Ahmed Shaheed aur Shah ismail Saheed k Halat e Zindagi


بسم اللہ الرحمن الرحیم
سید احمد شہید اور شاہ اسماعیل شہید :۔۔۔۔۔۔
پہلے یہ جان لیجیے کہ یہ حضرات کہاں پیدا ہوئے ،اور ان کا وطن کونسا تھا؟

دونوں حضرات ہندوستان میں پیدا ہوئے :۔۔۔۔۔۔
یہ دونوں حضرات ہندوستان میںپیدا ہوئے ،سید احمد صاحب بریلی میں پید اہوئے ،اورشاہ اسماعیل شہید صاحب دہلی میں پیدا ہوئے،اسی لیے انھیں اسماعیل دہلوی بھی کہتے ہیں ، ان دونوں حضرات کا وطن ہندوستان تھا ۔

اب ہم آپ کے سامنے ہندوستان کی مختصر تاریخ پیش کرتے ہیں ،تاکہ آپ کو حالات کو سمجھنے میںآسانی ہو ۔

ہندوستان کی مختصر تاریخ:۔۔۔۔۔۔
٧١٢ء میں سند ھ میںمحمد بن قاسم کے حملے سے ٩٠ سال قبل ہند میں اسلام پھیل چکا تھا ،اس کی تفصیل میں نہیں جاتے ،مختصربات یہ ہے کہ ہند وستان پر مسلمانوں نے ایک ہزار برس کی طویل حکومت کی ،مسلمان اعلی عہدوں پر فائز تھے ،سب کچھ مسلمانوں کے ہاتھوں میں تھا ،پھر ١٦٠٠ء میں ایسٹ انڈیا کمپنی ہندوستان آئی،اور اپنی عیاری ومکاری سے مختلف ریاستوں پر قابض ہو گئی ،پھر ١٧٦٥ء میں انھیں تمام دیوانی حقوق مل گئے ،جس سے کمپنی مزید مستحکم ہوگئی،مگر اس وقت بھی مسلمان اعلی عہدوں پر فائز تھے،اورسرکاری زبان بھی فارسی ہی تھی، لیکن ١٧٨٣ء میں بہت سے عہدے انگریزوں کیلئے مختص کر دیے گئے ،پھر کچھ عرصے بعد یہ کہا گیا ،کہ ہر شخص اپنی ملکیت کے کاغذات چیک کروائے ،اس بہانے بھی بے شمار مسلمانوں کی جائیدادیں ضبط کر لی گئی،پھر ١٨٣٧ء میں مسلمانوں کو ملازمتوںسے ہٹانے کیلئے فارسی کی جگہ انگریزی اور دیگر صوبائی زبانوں(آڑیہ،بنگالی،مراٹھی) میںدفتری کام شروع کر دیا گیا ،جس سے ہزاروں مسلمانوں کو ملازمت سے ہاتھ دھوناپڑے ،پھر اسلامی ضابطہ فوجداری کی جگہ تعزیرات ہند کے نفاذ نے تو رہی سہی مسلمانوں کی حالت بھی ختم کر دی ،انگر یز ہر بارمسلمانوں کی بربادی کا نیا منصوبہ لے کر آتے تھے،پھریہ بھی ستم تھا ،کہ انگریز برتن ،کپڑا ،گھوڑے وغیرہ انگلستان سے لاتے تھے ،اور ملک کی تمام پیداور کو خرید کر ،غلے کی قیمت اور سپلائی پر اجارہ داری قائم کر لیتے تھے ،تاکہ مخلوق خدا ان کی محتاج ہو جائے ،ایک بات بڑی قابل توجہ ہے،یاد رکھیں! دوسرے مذہب کے باشندوں پر حکومت کر نا کافی مشکل ہوتا ہے ،اس لیے انگریز نے مذہبی جذبے کو ختم کرنے کیلئے مختلف منصوبے بنائے ،مسلمانوں کو خنزیراور ہندؤں کو گائے کی چربی والے کارتوس دیے جاتے تھے،جو منہ سے کاٹنے پڑتے تھے،مسلمانوں کے ختنہ پر پابندی عائد کر دی گئی،اس کے علاوہ جو ظلم کے پہاڑ انھوں نے ہندوستانیوںاور بالخصوص مسلمانوں پر ڈھائے ،اس کی مثال نہیں ملتی ،زندہ مسلمانوں کو سور کی چربی میں سلوا کر گرم تیل میں پھینکوا دیا ،فتح پور مسجد سے لے کر قلعہ کے دروازے تک درختوں کی شاخوں پر مسلمانوں کی لاشوں کو لٹکا دیا ،علماء ،سرداروں اور نوابوں کی جائیدادیں ضبط کر کے انھیں تختہ دار پر لٹکا دیا گیا۔

علماء نے فتوی جہاد صادر کیے :۔۔۔۔۔۔
ایسے حالات نے مسلمانوں کے دلوں میں انگریز حکومت کے خلاف نفرت و کراہیت کے جذبات اورتیز کر دیا، علامہ فضل حق خیر آبادی اوردیگر علماء اسلام نے انگر یز حکومت کے خلاف فتوی جہاد صادر کیے،یوں توانگریز حکومت کے ہندوستان میں تسلط کے بعد ہی مسلمان ان کے خلاف بر سرپیکارتھے ،مگردن بدن اسکی شدت میں اضافہ ہو رہا تھا ۔

انگریز حکومت کا مسلمانوں سے سوتیلا رویہ :۔۔۔۔۔۔
انگریز حکومت کا مسلمانوں سے یہ سوتیلا رویہ صرف اس لیے تھا کہ وہ اپنے مذہبی امور پر سمجھوتہ کرنے کو تیار نہ تھے ،انگریز حکومت کے اعلی عہدیدار یہ محسوس کر چکے تھے ،کہ مسلمان انکی حکومت کیلئے سب سے بڑا خطرہ ہیں ،کیونکہ
١٧٥٧ء کی جنگ پلاسی اور١٧٥٩ء کی جنگ میسور کی قیادت بھی مسلمانوں ہی نے کی تھی ،اس لیے انھوں نے مسلمانوں میں سے ہی کچھ مذہبی لوگ اپنے ساتھ ملا لیے ،جو ایجنٹ کے طور پر ان کا کام کرتے تھے ،ان ایجنٹوں نے ایسے حالات میں مختلف اختلافی موضوعات پر کتابیں لکھی ،جس سے فرقہ واریت کو ہواملی، ،اور انکی قوت ٹوٹنے لگی ،ان ہی ایجنٹوں نے انگر یزی فوج کے راستے کی سنگلاخ چٹانوں میں شگاف ڈالے ،اور انگریز فوج کے لیے راستے صاف کیے،ہم ان لوگوں کا تذکرہ بھی ضرور کریں گے۔

اس دور میں سید احمد شہید اور شاہ اسماعیل شہید نے نمایاں کردار ادا کیا ،اللہ تعالی ان حضرات کو اس کی جزادے۔
آمین

سید احمد شہید کامختصر تعارف :۔۔۔۔۔۔
١٧٨٦ء میں پیدا ہوئے ،١٨٢١ء میں حج کیلئے گئے ،تین سال وہی قیام کیا ،١٨٢٤ء میںواپس آئے اور جہاد کی تیاری شروع کر دی ،وہاں تین سال میں ایسا کیا ہوا ،کہ واپس آتے ہیں جہاد کی تیاری شروع کر دی،اس دور میں حجاز میں کیا ہورہا تھا ،ان باتوں کو سمجھنے کیلئے،حجاز کے سیاسی پس منظر کو دیکھنا ضروری ہے،مگر ہم اپنی تحریر کو مختصر سے مختصر رکھنا چاہتے ہیں،اس لیے ہم اس کا ذکر نہیں کرتے ،١٨٣١ء میں سکھوں کے ہاتھوں قتل ہوئے ۔

ہم سید صاحب کی انگریز دشمنی اور جہاد کو آپ کے سامنے پیش کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔

سید صاحب کا انگریز کے خلاف اعلان جنگ : ۔۔۔۔۔۔
سید احمد صاحب نے کس جرات اور بہادری سے انگریز حکومت کے خلاف اعلان جنگ کر رکھا تھا ،ان ہی کے الفاظ میں ملاحظہ فرمائیں :
علامہ غلام رسول سعیدی صاحب لکھتے ہیں :سید صاحب نے (خود )یہ اعلان کررکھاتھا ،کہ سرکار انگریز سے ہمارا مقابلہ نہیں ،اورنہ ہمیں اس سے کچھ مخاصمت ہے (مقالات سعیدی ،ص
٤٨٨)
ناقابل تردید حوالہ جات دیکھنے کیلئے'' مقالات سعیدی ''ملاحظہ فرمائیں ،یہ کتاب ایک جلد میں فرید بک سٹال ،لاہور نے شائع کی ہے ۔

شاہ اسماعیل شہید کا انگریز کے خلاف اعلان جنگ :۔۔۔۔۔۔
آپ نے سید احمد شہید صاحب کا اعلان ملاحظہ فرمایا :اب ذرا شاہ اسماعیل شہید صاحب کا اعلان بھی ملاحظہ فرمائیں ۔
علامہ غلام رسول سعیدی لکھتے ہیں
مولوی اسماعیل صاحب نے اعلان کر رکھا تھا ،کہ انگریزی سرکا ر پر نہ جہاد مذہبی طورپر واجب ہے ،نہ ہمیں ان سے کچھ مخاصمت ہے (مقالات سعیدی ،ص
٤٩٣)

آ پ نے غور کیا ،شاہ اسماعیل شہید صاحب نے اعلان کیا تھا ،ہمیں انگریز سے کچھ مخاصمت نہیں ،ہو سکتا ہے ،مخاصمت کا لفظ کچھ لوگوں کو سمجھ نہ آیا ہو،تو لیجیے ہم مخاصمت کا معنی بتاتے ہیں:دشمنی ،مخالفت ،عداوت (فیروز اللغات )

نواب صدیق حسن کی شہادت :۔۔۔۔۔۔
نواب صدیق حسن صاحب لکھتے ہیں :حضرت شہید کا جہاد انگریزوں کے خلاف نہیں تھا (مقالات سعیدی ،ص
٤٩٨)

پھر ان کا جہاد کن کے خلاف تھا ،ان کے قریب کے زمانہ کے سرسید احمد خان کی زبانی سنیے:

سرسید احمد خان کی شہادت :۔۔۔۔۔۔
سرسید احمد خان لکھتے ہیں :
شاہ اسماعیل دہلوی ایک مرتبہ کلکتہ میں سکھوں پر جہاد کا وعظ فرما رہے تھے ،کہ اثنائے وعظ میں کسی شخص نے ان سے دریافت کیا ،کہ تم انگریزوں پر جہاد کرنے کا وعظ کیوں نہیں کرتے ،وہ بھی تو کافر ہیں ؟
اس کے جواب میں مولوی محمد اسماعیل نے فرمایا :انگریزوں کے عہد میں ہمیںکچھ اذیت نہیں ہوتی ،اور چونکہ ہم ان کی رعایا ہیں ،اس لیے ہم پر اپنے مذہب کی رو سے یہ بات فرض ہے کہ انگریزوں سے جہاد کر نے میں ہم شریک نہ ہو (مقالات سعیدی ،
٤٩٣)

سرسید احمد خان صاحب کے بیان سے واضح ہو گیا ،کہ ان کا جہاد انگریزوں کے خلاف نہیں تھا ،البتہ سرسید احمد خان کے
١١٧ سال بعد لوگوں نے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ،کہ ان کا جہاد انگریزوں کے خلاف تھا ۔

انگریز کے خلاف جہاد کا پختہ ثبوت :۔۔۔۔۔۔
سرسید احمد خان لکھتے ہیں :
ایک اور بڑا پختہ ثبوت اس بات کا کہ حضرت سید احمد اور آپ کے مجاہدین کی نیت یا ارادہ یا خیال ہر گز نہ تھا ،کہ انگریزوں سے جہاد کیا جائے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔(وہ یہ ہے کہ
١٨٥٧ء کی جنگ آزادی میں )سید احمد شہید کے گروہ کا ایک شخص بھی شریک نہ ہوا (مقالات سعیدی ،ص ٥٠٠)
یہ تو سر سید کی شہادت تھی ۔اب ہم سید احمد شہید کا اپنا خط پیش کرتے ہیں

وفات سے سال قبل سید احمد صاحب کا خط : ۔۔۔۔۔۔
سیداحمد صاحب کی وفات سے ایک سال پہلے کا خط ملاحظہ فرمائیں :
ہم صرف لمبے بال رکھنے والے سکھوں سے مقابلہ کا ارادہ رکھتے ہیں ،نہ کہ کلمہ گویان اسلام سے ،نہ سرکار انگریزی سے (مقالات سعیدی ،ص
٥٣٩)
فائدہ :۔۔۔۔۔۔
ان کا جہاد انگریز کے خلاف نہیں تھا ،بلکہ سکھوں اور سرحد کے مسلمان پٹھانوں کے خلاف تھا ،کیونکہ یہی دو سخت جنگجو تھے ،اور انگریز فوجوں کی راہ میں رکاوٹ تھے ، اور یہ دو حضرات ان فوجوں کا راستہ صاف کرنے پر مامور تھے ،جب ہی تو دہلی میں مشترکہ دشمن انگریز کو چھوڑکر دو ہزار میل دور سکھوں اور پٹھانوں سے لڑنے چلے گئے ۔

مزید کچھ باتیں قابل توجہ ہیں
انگریز کے وفادار :۔۔۔۔۔۔
انگریز کو ان کی وفاداری پر کس قدر بھروسہ تھا کہ ان کے جہاد کے چندہ جمع کرنے پر بھی پابندی نہیں لگائی

علامہ سعیدی لکھتے ہیں :انگر یزی سلطنت میں چندہ جمع ہوکر برابر مجاہدین کو پہنچتا رہا (مقالا ت سعیدی ،ص
٤٩٥)

اور یہ جہاد مسلمانوں کے لیے نہیں ،بلکہ صرف انگریز کیلئے تھا ،جب ہی توان ہی کے حکم سے شروع اور ختم ہوا ،اور اسلحہ بھی ان ہی کا استعمال ہوا ۔

انگریز کا سکھوں سے معاہدہ ہواتو:۔۔۔۔۔۔
علامہ سعیدی لکھتے ہیں
جب سید احمد کے جہاد سے سکھوں کا زور ٹوٹ گیا ،تو
١٨٤٨ء میں سکھوں اور انگریزوں کے درمیان معاہدہ ہو گیا ،تو انگریز نے مجاہدین کو جہاد سے روک دیا (مقالات سعیدی ،ص ٤٩٦)جو ہی انگریز کا حکم موصول ہوا ،سید صاحب اور اسماعیل شہید صاحب نے یک لخت جہاد موقوف کر دیا (مقالا ت سعیدی ،ص ٤٩٦)


جنگ بند کی تو کس نے دعوت کی ،کس نے انعام دیا ،خود ملاحظہ فرمائیں :

جہاد کے بعد ہتھیار کہا ں گئے :۔۔۔۔۔۔
علامہ سعیدی لکھتے ہیں :مجاہدین نے لڑائی بند کردی ،ہتھیار سرکار کے پاس جمع کروا دیے ،اور قیمت وصول کر لی ،انگریزوں سے شاندار استقبال کیا او رخوب دعوتیں کیں (مقالات سعیدی ،ص
٤٩٦)

ہم نے جان بوجھ کر مقالات سعیدی کا حوالہ دیا ،تاکہ عوام اس کتاب کی طرف رجوع کرے ،اگر ہم دوسروں کی کتب کے حوالے دیتے ،تو لوگ ان کی کتابیں پڑھتے ،اور ان کے طلسم میں آجاتے،ساتھ مذکورہ کتاب میں اصل حوالہ جات بھی ہیں ان پر وار د ہونے والے تمام شکوک و شبہات کے جوابات بھی ہیں ۔

شاہ اسماعیل شہید اور احمد رضا بریلوی :۔۔۔۔۔۔
ہم نے کافی تذکرہ سید احمد صاحب کا کر دیا ، اسماعیل دہلوی صاحب نے اس دور میں مسلمانوں میںافتراق اور انتشار پیدا کرنے کیلئے ،چند فتنہ انگیز کتابیں لکھیں ،جس سے مسلمان ٹکڑوں میں بٹ گئے ،یہ ہندوستان کے مسلمانوں میں فرقہ واریت عام کرنے والی پہلی کتاب تھی ،کمال کی بات یہ ہے کہ اسماعیل دہلوی صاحب کی وفات کے
٢٦ سال بعد امام احمد رضا خان صاحب پیدا ہوئے ،انھوں نے اسماعیل دہلوی صاحب کی کتابوں کے جوابات دیے ،اور اسماعیل دہلوی صاحب کیلئے جو حکم شرعی بنتا تھا ،وہ بیان فرمایا ،لیکن مشہور یہ کیا گیا کہ احمد رضا بریلوی نے مسلمانوں کو فرقوں میں تقسیم کر دیا ،پھر اسی پر بس نہیں کی ،بلکہ کہا وہ انگریز کے ایجنٹ بھی تھے ۔

انگریز کا ایجنٹ احمد رضا بریلوی :۔۔۔۔۔۔
ہم صرف دو باتیں آپ کے سامنے پیش کرتے ہیں ،جو صاحب انصاف کیلئے کافی ہیں
ہفت روزہ الفتح میں ہے :
(اعلی حضرت )وہ انگریز اور انکی حکومت کے اس قدر کٹر دشمن تھے ،کہ(خط کے) لفافے پر ہمیشہ الٹا ٹکٹ لگاتے تھے ،اور برملاکہتے تھے ،میں نے جارج پنجم کا سر نیچا کر دیا ،انہوں نے زندگی بھر انگریزوں کی حکمرانی کو تسلیم نہیں کیا ( ہفت روزہ الفتح ،
٢١مئی ١٩٧٦،ص١٧ )

میں انگریز حکومت کو ہی تسلیم نہیں کرتا :۔۔۔۔۔۔
انگریز عدالت نے انھیں طلب کیا ،مگر انھوں نے تو ہین عدالت کے باوجود حاضری نہ دی ،اور کہا میں انگریز حکومت کو ہی تسلیم نہیں کرتا ،اس کے عدل و انصاف کو کیسے تسلیم کر لوں (ہفت روزہ ،الفتح ،
٢١مئی ،١٩٧٦)

ہم چاہنے والوں کیلئے ایک اور بات لکھ دیتے ہیں

ساری حکومت سے بھی میرا ایمان نہیں خرید سکتا :۔۔۔۔۔۔
مدیر ''الحبیب ''لکھتے ہیں
ایک مرتبہ انگریز کمشنر نے
٣٥ مربع زمین کی پیش کش کی ،مگر اس مرد قلندر نے کہا ،انگریز اپنی تمام حکومت بھی دے دے ،تو میرا ایمان نہیں خرید سکتا (ماہنامہ ،الحبیب ،اکتوبر ،١٩٧٠)
طالب دعا غلام نبیؐ
GhulameNabi786.Blogspot.com
2-
june-2016


دونوں حضرات کی وفات :۔۔۔۔۔۔
سید احمد شہید
١٨٣١ء میں سکھوں کے ہاتھوں قتل ہوئے ،اور شاہ اسماعیل شہید کی وفات تقریبا ١٨٢٥ء میں معرکہ بالاکوٹ میں قتل ہوئے ۔





 

Friday, July 8, 2016

روزے اور رمضان کے فضائل پر چاند رات کو لکھی گئی تحریر Rozy aur Ramzan k fazail per Buhat si Ahadees e pak


پس منظر :

آج چاند رات ہے ،اور تاریخ چھ جولائی 2016ہے ،میں یہ رات عبادت میں گزارنا چارہا تھا ،(کیونکہ میں رمضان المبارک میں وہ کچھ نہیں کر سکا ،جو مجھے کرنا چاہیے تھا) میں کچھ دیر تک تو تسبیح پڑھتا رہا ،پھر خیال آیا کہ کیوں نہ  کسی کتاب سے روزے کے فضائل پڑھو،تاکہ احساس ہو کہ کیسا بہترین مہینہ ہم سے رخصت ہوگیا ہے ۔
اسی مقصد کے لیے میں نے " امام ابن حجرھیتمی مکی "(جن کی وفات995ھجری میں ہوئی )کی کتاب "اتحاف اھل الاسلام بخصوصیات الصیام " کا مطالعہ شروع کیا ۔
اس کے پہلے باب میں دو ٖفصلیں تھی ،پہلی فصل میں روزے کے فضائل اور دوسری فصل میں رمضان کے فضائل پر بہت سی احادیث تھی ۔
میں نے وہ احادیث پڑھی ،تو مجھے شدت سے احساس ہوا کہ بہت قیمتی مہینہ تھا ،جو ہم سے رخصت ہو گیا ہے ۔
میں آپ کے سامنےبھی  چند احادیث اس کتاب میں سے پیش کرتا ہوں ۔

کیسا عظیم مہینہ تھا ،جس میں اللہ تعالی روزانہ افطار کے وقت  بہت سے  لوگوں کی مغفرت فرماتا تھا
حدیث :
ان للہ تعالی عند کل فطر عتقاء من النار ،وذالک فی کل لیلۃ
بے شک اللہ تعالی ہر روز افطاری کےو قت لوگوں کو جھنم سے آزاد فرماتا ہے
(ابن ماجہ ،مسند احمد )


روزانہ افطار کے وقت روزہ دار کی دعا قبول ہوتی تھی  
حدیث :
ان للصائم عند فطرہ دعوۃ لاترد
روزہ دار کیلئے افطار کے وقت ایک ایسی دعا ہوتی ہے ،جو رد نہیں ہوتی ۔
(سنن ابن ماجہ ،مستدرک )

روزہ دار کے لیے افطار کے وقت ایک مقبول دعا ہوتی تھی
حدیث :
للصائم عند افطارہ دعوۃ مستجابۃ
روزہ دار کے لیے افطار کے وقت ایک مستجاب دعا ہوتی ہے
(اخرجہ ابودائود ،والطیالسی والبیھقی )
اس لیے افطار کے وقت ضرور دعا کرنی چاہیے

آپ سوچیے روزہ کیسی قیمتی عبادت ہے ،جس کے لیے اللہ تعالی نے جنت کا ایک دروازہ مختص کر دیا ہے
حدیث :
ان فی الجنۃ بابا ،یقال لہ الریان ،یدخل منہ الصائمون یوم القیامۃ
جنت میں ایک دروازہ ہے جسے ریان کہتے ہیں ،اس دروازے سے قیامت کے دن روزہ دار جنت میں داخل ہوں گے
(بخاری ،مسلم ،مسند احمد )

اس دروازے سے کوئی دوسری عبادت کرنے والا جنت میں داخل نہیں ہو سکے گا
حدیث :
لایدخل منہ احد غیرھم
اس دروازے سے کوئی دوسراشخص  داخل نہیں ہوگا
(بخاری ،مسلم ،مسند احمد )

جب آخری روزدار اس دروازے سے جنت میں داخل ہو جائے گا ،تو اس دروازے کو ہی بند کر دیا جائے گا

حدیث :
فاذادخل آخرھم اغلق
جب آخری روزہ دار جنت میں داخل ہو جائے گا تو باب الریان کو بند کر دیا جائے گا ۔
(سنن نسائی )

اس دروازے سے داخل ہونے والوں کو کیا ملے گا
حدیث :
من دخل فیہ شرب ومن شرب لم یظماابدا
جو اس دروازے سے داخل ہو گا ،وہ ایسا مشروب پیے گا ،جس سے اسے کبھی پیاس نہیں لگے گی
(سنن نسائی )


جنت کے ٹوٹل دروازے ہی آٹھ ہیں ،جس میں سے ایک دروازہ اللہ نے روزہ داروں کے لیے خاص کر دیا ہے
حدیث :
فی الجنۃ ثمانیۃ ابواب
جنت کے آٹھ دروازے ہیں
(صحیح بخاری )

قیامت کے دن روزے داروں کے لیے خصوصی اعلان ہوگا ۔
حدیث :
ینادی یوم القیامۃ :این الصائمون ؟ ھلموا الی باب الریان
قیامت کے دن اعلان ہو گا ،روزے دار کہاں ہیں ،؟ تم سب باب الریان کی طرف آجائو
(اخرجہ الھندی فی کنزالعمال وابن عساکر )


روزہ ایسی ڈھال ہے ،جو روزہ دار کوگناہوں اور جھنم سے بچاتی ہے ۔
حدیث :
الصیام جنۃ من النار ،کجنۃ احدکم من القتال ،مالم یخرقھا بکذب اوغیبۃ
روزہ جھنم سے بچانے والی ڈھال ہے ،جیسے جنگ میں ہتھیار سے بچنے کے لیے ڈھال ہوتی ہے ،
جب تک اس ڈھال کو جھوٹ یا غیبت کے ذریعے پھاڑ نہ دیا جائے
(سن نسائی ،سنن ابن ماجۃ ،مسند احمد )
یعنی وہ روزہ جھنم سے بچانے والا ہے ،جو قولا و فعلا معاصی سے محفوظ ہو ۔

رسول اللہ ﷺ نے قسم اٹھا کرروزے دار کی منہ کی بوکے متعلق ایک جملہ ارشادفرمایا
حدیث :
والذی نفس محمد بیدہ ،لخلوف فم الصائم اطیب عند اللہ من ریح المسک
اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں محمد ﷺ کی جان ہے ،روزہ دار کے منہ کی بو اللہ کے نزدیک کستوری کی خوشبو سے زیادہ اچھی ہے
(سنن نسائی )

روزےدار کے لیے اللہ تعالی خود فرماتا ہے ،اس نے میرےرضا کے لیے یہ کام کیے ہیں ۔
حدیث :
یقول اللہ عزوجل :انما ترک شھواتہ وطعامہ وشرابہ من اجلی
اللہ تعالی فرماتا ہے :روزہ دار نے صرف میرے لیے اپنی شھوات کو اور کھانے  پینے کو چھوڑ دیا ہے
(صحیح بخاری )

کیونکہ روزہ بڑی اخلاص پر مبنی عبادت ہے ،ا سی لیے اللہ تعالی نے فرمایا :
حدیث :
الصیام لی وانا اجزی بہ
روزہ میرے لیے ہے ،اور میں ہی اس کی جزادوں گا
(صحیح بخاری )

باقی اعمال کے ثواب کے لیے یہ قاعدہ ہے
حدیث :
کل حسنۃ بعشر امثالھا الی سبعمائۃ ضعف الاالصوم
روزے کے سوا ہر نیکی کا اجر دس سے لے کر سات سو گنا تک ہے
(بخاری ،مسلم ،سنن نسائی )
دوسری حدیث میں کچھ الفاظ کا اضافہ ہے ،جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالی بعض اعمال کا ثواب  سات سو گنا سے بھی زیادہ عطا فرماتے ہیں
حدیث :
الحسنۃ بعشر امثالھا الی سبعمائۃ ضعف الی ماشاء اللہ
نیکی  کا ثواب  دس گنا سے سات سو گنا تک ہوتا ہے پھر (بعض اوقات اس سے بھی اوپر )جہاں تک اللہ چاہے ،ثواب عطا فرما تا ہے
(بخاری ،نسائی ،ابن ماجہ )

روزہ دار کو حکم دیا گیا ہے ،جب تمہارا روزہ ہو تو یہ نہ کرو۔
حدیث :
واذا کان یوم صوم احدکم ،فلایرفث ولا یصخب
جب تم میں سے کسی کا روزہ ہو تو وہ گندی گفتگو نہ کرے اور نہ ہی شورشرابا کرے
(بخاری ،مسلم ،نسائی ،صحیح ابن حبان)
یہ دو باتیں خصوصیت کے ساتھ ذکر کی گئی ہیں ،مگر ہر گناہ اور بری بات سے روزے میں بچنا چاہیے

روزے دار کو حکم ہے جب کوئی جھگڑا کرنا چاہے ،تو اسے یہ کہہ کر الگ ہو جائے کہ،میں روزہ دار ہوں
حدیث :
وان امرءو قاتلہ او شاتمہ ،فلیقل انی صائم مرتین
جب کوئی روزہ دار سے لڑے یا اسے براکہے تو یہ دو مرتبہ یہ کہے میں روزہ دار ہوں ،میں روزہ دار ہوں
(صحیح بخاری ،مسند احمد )
اس طرح زبان سے اپنی کیفیت کو دہرانے کا فائدہ یہ ہوگا ،کہ آپ لڑائی جھگڑے اور گالی گلوچ سے بچ جائیں گے

روزے دار کے لیے دو خوشیاں ہیں
حدیث :
للصائم فرحتان ،یفرحھما :اذا افطر فرح بفطرہ ،واذا لقی ربہ فرح بصومہ
روزہ دار کے لیے دو خوشیاں ہیں ،وہ ان سے خوش ہو گا ،جب وہ افطار کر ے گا ،تو افطاری سے خوش ہو گا ،اور جب اپنے رب سے ملے گا ،تواپنے روزے (کی جزا)سے خوش ہوگا
(بخاری ،مسلم ،نسائی ،صحیح ابن حبان )
وضاحت :
افطار سے خوش اس لیے ہوگا ،کیونکہ انسان کا میلان طبعا اس طرف ہے
یا اس لیے وہ خوش ہوگا ،کہ اللہ تعالی نے اسے آج کا روزہ مکمل کرنے کی توفیق عنایت فرمائی ۔

روزہ وہ عبادت ہے جس میں دکھلاوا نہیں ہے
حدیث :
الصیام لا ریاء فیہ
روزے میں ریاکاری نہیں ہے
(ابن ماجہ ،شعب الایمان ،فتح الباری )

جس نے اللہ کے لیے خالص عبادت میں بھی ریاکاری کی ،تو اس نے شرک کیا
حدیث :
من صام یرائی فقد اشرک
جس دکھاوے کے لیے روزہ رکھا تو (گویا ) اس نے شرک کیا
(اخرجہ البیھقی )

روزہ نصف صبر ہے
حدیث :
الصیام نصف الصبر
روزہ نصف صبر ہے
(ترمذی ،ابن ماجہ )
وضاحت :
اور ایک حدیث میں ہے
الصبر نصف الایمان
صبر نصف ایمان ہے
(امام ہیثھمی فرماتے ہیں ،اس حدیث کی سند حسن ہے )
یعنی اس طرح  روزہ چوتھائی ایمان ہوا

ہر شی کی زکوۃ ہے
حدیث :
کل شی زکاۃ ،وزکوۃ الجسد الصوم
ہر شی کی زکوۃ ہے اور جسم کی زکوۃ روزہ ہے
(ابن ماجہ ،طبرانی کبیر )

جب روزہ دار کے سامنے کوئی کھاتا ہے ،تو روزہ دار کے لیے فرشتے دعا کر تے ہیں
حدیث :
الصائم اذا اکلت عندہ المفاطر ،صلت علیہ الملائکۃ
جب روزے دار کے سامنے کوئی ایسا  شخص کھاتا ہے ،جس کا اپنا روزہ نہیں ،تو روزہ دار (کے صبر کی وجہ سے ) فرشتے اس کے لیے دعا کرتے ہیں
(ترمذی ،ابن ماجہ)

روزے بھی قیامت کے دن شفاعت کرے گا
حدیث:
الصیام والقرآن یشفعان للعبد یوم القیامۃ
روزہ اور قرآن قیامت کے دن بندے کی شفاعت کریں گے
(مسند احمد ،مستدرک )

روزہ رکھو صحت مند ہو جائو گے
حدیث :
صومو ا تصحوا
روزہ رکھو ،صحت مند ہو جائو گے
(اخرجہ ابن سنی ،وابو نعیم فی الطب )

روزہ رکھو کیونکہ اس کی مثل کوئی عبادت نہیں
حدیث :
علیکم بالصوم لا مثیل لہ
تم روزہ رکھو ،کیونکہ اس کی مثل کوئی (عباد ت) نہیں
(سنن نسائی ،صحیح ابن حبان ،مسند احمد )

جس نے روزہ دار کا روزہ افطار کرایا ،اس کے لیے بھی روزہ دار جتنا ہی ثواب ہے
حدیث :
من فطر صائما ،کان لہ مثل اجرہ
جس نے کسی کا روزہ افطار کر ایا ،اس کے لیے بھی اتنا ہی اجر ہو گا
(مسند احمد ،ترمذی )

روزےداروں کے لیے اللہ تعالی کا خصوصی دسترخوان
حدیث :
ان للہ تعالی مائدۃ ،علیھا ما لا عین رات ،ولااذن سمعت ،ولاخطر علی قلب بشر ،لایقعد علیھا الا الصائمون
اللہ تعالی کا ایک دسترخوان ہے ،اس پر وہ کچھ ہے ،جو نہ کسی آنکھ نے دیکھا ،نہ کسی کان نے سنا ،اور نہ کسی دل پر ان چیزوں کا کبھی خیال آیا،اس دسترخوان پر روزے داروں کےسوا کوئی نہیں بیٹھے گا
(طبرانی اوسط )

الحمدللہ پہلی فصل مکمل ہوئی ،اب ہم رمضان کے مہینے کی فضیلت پر چند احادیث دوسری فصل سے آپ کے سامنے ذکر کرتے ہیں ۔

جب رمضان آتا ہے تو جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں
حدیث :
اذا جاء رمضان ،فتحت ابواب الجنۃ ،وغلقت ابواب النار
جب رمضان آتا ہے تو ،جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں ،اور جھنم کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں ۔
(بخاری ،مسلم )

اس مہینہ میں ایک روزہ اللہ کی رضا کے لیے رکھنے کا کس قدر اجر و ثواب ہے ۔
حدیث :
من صام رمضان ایمان و احتسابا غفرلہ ما تقدم من ذنبہ
جس نے رمضان کا روزہ ایمان اور اللہ کی رضا کے لیے رکھا ،تو اس کے پچھلے گناہ معاف کر دیے جائیں گے ۔
(بخاری ،مسلم ،ترمذی ،نسائی ،ابودائود ،ابن ماجہ ،مسند احمد )

اس مہینےکے پہلے دس دن ،دوسرے دس دن ،اور تیسرے دس دن کیسے ہیں ۔
حدیث :
اول شھر رمضان رحمۃ ،ووسطہ مغفرۃ ،وآخرہ عتق من النار
ماہ رمضان کا اول رحمت ،وسط مغفرت ،اور آخر جھنم سے آزادی ہے
(اخرجہ ابن ابی الدنیا والخطیب والدیلمی وابن عساکر )

خود جس مہینے کو حدیث میں برکت والا مہینہ فرمایا گیا ہو ،وہ کیسا بابرکت ہو گا ۔
حدیث :
شھر رمضان شھر مبارک
رمضان کا مہینہ برکت والا مہینہ ہے
(اخرجہ احمد فی المسند والبیھقی )

جیسے مہینے کو حدیث میں بہترین مہینہ فرمایا گیا ہو ،و ہ کیسا بہترین ہو گا ۔
حدیث :
نعم الشھر شھر رمضان
بہترین مہینہ رمضان کا مہینہ ہے
(اخرجہ الخطیب فی تاریخہ ،وابن النجار )

جس مہینے کی ہر رات میں یہ ندا دی جاتی ہو ۔
حدیث :
ھل من مستغفر یغفرلہ ؟
کیا کوئی بخشش طلب کرنے والا ہے جسے بخش دیا جائے ؟

ھل من تائب یتاب علیہ ؟
کیا کوئی توبہ کرنے والا ہے ،جس کی توبہ قبول کر لی جائے ؟

ھل من داع یستجاب لہ ؟
کیا کوئی دعا مانگنے والا ہے ،جس کی دعا کو قبول کر لیا جائے ۔

(اخرجہ الھندی فی کنز العمال ،والبیھقی )

جس ماہ کی تراویح اور روزوں سے ایسے گناہ دھل جاتے ہو ،جیسے آج اسے ماہ نے جننا ہو ۔
حدیث :
ان اللہ تعالی قد فرض صیام رمضان وسننت لکم قیامہ ،فمن صامہ و قامہ ایمانا واحتسابا خرج من ذنوبہ کیوم ولدتہ امہ
بے شک اللہ تعالی نے اس ماہ کے روزے فرض کیے ہیں ،اور میں نے اس کا قیام (یعنی تراویح ) کو سنت کیا ہے ،پس جس نے اس ماہ کے روزے رکھے اور تراویح پڑھی ،ایمان اور اللہ کی رضا کے لیے ،تو اس کے گناہ اس طرح معاف ہو جائیں گے ،جیسے آج اسے ما ں نے جننا ہو۔
(مسند احمد ،سنن نسائی ،سنن ترمذی )

اس مہینے میں ایک رات ہے ،جو ہزار مہینوں سے افضل ہے
حدیث :
وفیہ لیلۃ القدر خیر من الف شھر
اور رمضان میں لیلۃ القدر ہے جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے
(مسند احمد ،نسائی )

رمضان کو رمضان کیوں کہتے ہیں
حدیث :
انما سمی رمضان لانہ یرمض الذنوب
رمضان کو رمضان اس لیے کہتے ہیں کیونکہ یہ گناہوں کو جلا دیتا ہے
(الدر المنثور ،کنزالعمال ،اتحاف اھل الاسلام بخصوصیات الصیام )

رمضان کی عبادت معلق رہتی ہیں ،جب تک صدقہ فطر نہ ادا کیا جائے
حدیث :
شھر رمضان معلق بین السماء والارض ،لایرفع الی اللہ الا بزکاۃ الفطر
رمضان کا مہینہ (اپنی عبادتوں سمیت ) آسمان اور زمین کے درمیان معلق رہتا ہے ،یہ اللہ تعالی کی طرف اسی وقت پہنچتا ہے ،جب صدقہ فطر ادا کر دیا جائے
(اخرجہ ابن شاہین فی الترغیب ،والضیاء والھیثمی فی الاتحاف اھل الاسلام )

رمضان اللہ کا مہینہ ہے اور شعبان رسول اللہ کا مہینہ ہے
حدیث :
شھر رمضان شھر اللہ وشھر شعبان شھری
رمضان کا مہینہ اللہ کا مہینہ ہے اور شعبان کا مہینہ میرا مہینہ ہے
(اخرجہ ابن عساکر ،عن عائشۃ رضی اللہ عنھا )

شعبان پاک کرنے والا ہے اور رمضان مٹانے والا ہے
حدیث :
شھر شعبان المطھر ورمضان المکفر
شعبان کا مہینہ پاک کرنے والا ہے اور رمضان کا مہینہ مٹانے والا ہے
(ابن عساکر ،عن عائشۃ رضی اللہ عنھا )

یہ چند احادیث تھی ،جو ہم نے آپ کے سامنے ذکر کر دی ،اس کے علاوہ بہت سی احادیث اس کتاب میں موجود ہیں ۔
اس کتاب کے کل چار ابواب ہیں ،جن کے نام یہ ہیں
الباب الاول فی فضائل الصوم
الباب الثانی فی احکام الصیام
الباب الثالث فی رخص الفطر ،وفی القضاء ،وفی الفدیۃ وتوابع ذالک
الباب الرابع فی حکم صوم غیر رمضان استحبابا و کراھۃ وتحریما و غیرھا

مگر یاد رہے ،اس کتاب میں روزے کے  احکام فقہ شافعی کے مطابق بیان کیے گئے ہیں ۔ احناف کو چاہیے کہ وہ فقہ حنفی کے مطابق عمل کریں ۔
الحمدللہ یہ تحریر 7 جولائی 2016 کو رات دو بج کر اٹھاون منٹ پر مکمل ہوگئی ،آج عید کے دن کا بہت سا حصہ اسی تحریر کو لکھنے میں گزرا ،اللہ تعالی اسے مسلمانوں کے لیے نفع مند بنائے ۔
والسلام
Tages:Roza ,Ramzan and Hadith ,Hadees in urdu and arabic ,Hadees e pak in urdu ,Rozy k fazail ,ramzan k fazail ,Hadees aur Ramzan ,Roza aur Ramzan ,bukhari ,Muslim ,Tirmzai ,ibn e maja ,musnad ahmed ,tabrani hadees e pak in urdu ,islamic blog in unicode urdu ,
Tages:Roza ,Ramzan and Hadith ,Hadees in urdu and arabic ,Hadees e pak in urdu ,Rozy k fazail ,ramzan k fazail ,Hadees aur Ramzan ,Roza aur Ramzan ,bukhari ,Muslim ,Tirmzai ,ibn e maja ,musnad ahmed ,tabrani hadees e pak in urdu ,islamic blog in unicode urdu ,Tages:Roza ,Ramzan and Hadith ,Hadees in urdu and arabic ,Hadees e pak in urdu ,Rozy k fazail ,ramzan k fazail ,Hadees aur Ramzan ,Roza aur Ramzan ,bukhari ,Muslim ,Tirmzai ,ibn e maja ,musnad ahmed ,tabrani hadees e pak in urdu ,islamic blog in unicode urdu ,Tages:Roza ,Ramzan and Hadith ,Hadees in urdu and arabic ,Hadees e pak in urdu ,Rozy k fazail ,ramzan k fazail ,Hadees aur Ramzan ,Roza aur Ramzan ,bukhari ,Muslim ,Tirmzai ,ibn e maja ,musnad ahmed ,tabrani hadees e pak in urdu ,islamic blog in unicode urdu ,Tages:Roza ,Ramzan and Hadith ,Hadees in urdu and arabic ,Hadees e pak in urdu ,Rozy k fazail ,ramzan k fazail ,Hadees aur Ramzan ,Roza aur Ramzan ,bukhari ,Muslim ,Tirmzai ,ibn e maja ,musnad ahmed ,tabrani hadees e pak in urdu ,islamic blog in unicode urdu ,

Join us on

Must click on Like Button

Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...