Wednesday, May 24, 2017

نبی کریم علیہ السلام اور بچے

نبی کریم علیہ السلام جب بچوں سے ملتے ،تو شفقت سے اپنا دست مبارک ان کے رخسار پر پھیرتے.
بچے جب نبی کریم علیہ السلام کو دیکھتے، تو انکی طرف دوڑتے ہوئے آتے.
"صحیح مسلم"
#islam #prophet #bachy #seerat

Tuesday, May 23, 2017

شدید گرمی کے روزے کا ثواب

شدید گرمی کے روزے کا اجر
اور
صحابہ کرام کا جذبہ
ماخوذ از
تنبیہ الغافلین ،جلد دوم

حدیث پاک میں چھ بھترین عادتیں

حدیث پاک میں چھ بھترین عادتیں
ماخوذ از
تبنیہ الغافلین،جلد دوم

سعودی عرب میں ڈونلڈ ٹرمپ کا والہانہ استقبال

سعودی عرب میں ٹرمپ کا والہانہ استقبال دیکھا ،تو بھت سے سوالات ذھن کے دروازے پر دستک دینے لگے،ان کے مثبت جوابات تلاش کرنے کی بھت کوشش کی ،لیکن کامیاب نہ ہو سکا .
وہ چند سوالات یہ ہیں:
کیا شرعا ایسا مصافحہ کرنا جائز ہے..؟؟ 
کیا ٹرمپ جیسے اسلام دشمن اور مسلمان دشمن حکمران سے  اتنی محبت کا اظہار کرنا مناسب ہے..؟؟
کیا 110  ارب کے دفاعی معاہدہ سے مسلمانوں کو فائدہ ہو گا یا نقصان..؟؟
کیا اسلامی فوجی اتحاد امریکہ کی سربراہی میں بننے جا رہا ہے..؟؟
کیا حجاز مقدس پر قابض سعودی قوم کو مسلمانوں کے اجتماعی مفادات کی فکر ہے یا نہیں..؟؟

اللہ کا اسم اعظم

اسم اعظم:
حدیث شریف میں ہے:
ایک آدمی مسجد میں یوں دعا کر رہا تھا
"اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ بِأَنَّ لَكَ الْحَمْدَ، لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ الْحَنَّانُ الْمَنَّانُ بَدِيعُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ، يَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ، يَا حَيُّ يَا قَيُّومُ، أَسْأَلُكَ"
نبی کریم علیہ السلام نے اسے سنا تو فرمایا:
" دَعَا اللَّهَ بِاسْمِهِ الْأَعْظَمِ الَّذِي إِذَا دُعِيَ بِهِ أَجَابَ، وَإِذَا سُئِلَ بِهِ أَعْطَى"
اس نے اللہ کو اسم اعظم کے ساتھ پکارا ہے،جب اس کے ذریعے دعا کی جائے ،تو قبول ہوتی ہے،جب اس کے ذریعے سوال کیا جائے تو اللہ عطا فرماتا ہے.
"سنن ترمذی،سنن نسائی،سنن ابن ماجہ"

پھلے عالم بنو پھر صوفی

پھلے عالم بنو پھر صوفی:
اہل نظر کھتے ہیں:پھلے عالم بنو اس کے بعد صوفی
یعنی پھلے علم شریعت حاصل کرو ،اسکے بعد علم طریقت کے اسرار و رموز سے آگاہی حاصل کرو.
آج کے دور کا مسئلہ یہ ہے کہ علم شریعت سے عاری لوگ طریقت پر بات کر رہے ہیں.

مختلف انبیاء کرام کے نفلی روزوں کا معمول

مختلف شخصیات کے نفلی روزوں کا معمول
حضرت داؤد ،حضرت سلیمان ،حضرت عیسی ،حضرت مریم علیھم السلام اور نبی کریم علیہ السلام کے نفلی روزوں کا معمول یہ تھا.
کتاب " تنبیہ الغافلین " سے ماخوذ

قانون ناموس رسالت میں ترمیم کے لیے احناف کے موقف کا سہارا :علامہ محمد خلیل الرحمن قادری


قانون ناموس رسالت ،فقہ حنفی اور فقہائے احناف 

ماہنامہ: سوئے حجاز 

مئی 2017

Monday, May 22, 2017

تقوی کا معنی ،متقین کے مراتب و فضائل

تقوی کا صیغہ اور  لغوی و اصطلاحی معنی
تقوی اور متقین کے متعلق احادیث
متقین کے مراتب
تفسیر تبیان القرآن ،جلد اول
علامہ غلام رسول سعیدی صاحب

Tuesday, May 16, 2017

کتابیں اور جوتے

جب شیشے کی الماری میں رکھ کر جوتے بیچے جائیں اور کتابیں فٹ پاتھ پر بکتی ہوں
تو سمجھ لو کہ اس قوم کو علم کی نہیں
بلکہ"جوتوں کی ضرورت هے :(

ھجرت کب فرض ،کب مباح اور کب حرام ہے:



ھجرت کب فرض ،کب مباح اور کب حرام ہے:

دار الحرب سے دار الاسلام کی طرف ھجرت فرض ہے :
قرآن کریم میں ہے :
کچھ لوگ یہ عذر پیش کریں گے ،ہم تو دار الحرب میں سکونت کی وجہ سے ، اقامت دین پر قادرنہ تھے ،تو فرشتے ان سے کھیں گے :
"الم تکن ارض اللہ واسعۃ فتھاجروا فیھا "
کیا اللہ کی زمین کشادہ نہیں تھی ،تم اس میں ھجرت کر جاتے ۔
(تفصیل کے لیے سورت النساء کی آیت نمبر ۹۷،۹۸ بمع تفسیر پڑھ لیں )

دار الاسلام سے ھجرت کا حکم نہیں
حدیث شریف میں ہے:
لا ھجرۃ بعد الفتح
فتح مکہ کے بعد ھجرت نہیں ہے ۔
(کیونکہ وہ دار الاسلام بن چکا ہے )

مزید تفصیل ملاحظہ فرماءیں :
ھجرت کی دو قسمیں ہیں:
ھجر ت عامہ اور ھجرت خاصہ

ھجرت عامہ:یہ ہے کہ تمام اہل وطن ،وطن چھوڑ کر چلے جاءیں ۔
دارالاسلام سے ھجرت عامہ حرام ہے ۔
کیونکہ اس میں مساجد کی ویرانی ،قبور مسلمین کی بربادی اور عورتوں اور بچوں کی تباہی ہے ۔

ھجرت خاصہ :یہ ہے کہ خاص اشخاص ھجرت کریں ۔
اس کی تین صورتیں ہیں :
اول :
اگر کوءی شخص کسی وجہ سے کسی خاص مقام پر اپنے دینی فراءض پورے نہ کر سکے ،جبکہ دوسری جگہ ممکن ہوتو ،اس پر فرض ہے کہ یہ مقام چھوڑ کر دوسرے مقام پر چلا جاءے ۔
اگر مکان میں معذور ہو ،تو مکان بدلے
محلہ میں معذور ہو ،تو محلہ بدلے
شہر میں معذور ہو ،تو شھر بدلے
ملک  میں معذور ہو ،تو ملک بدلے

دوم:
ایک شخص کسی مقام پر اپنے مذھبی فراءض بجالانے سے عاجز نہیں ،اور اس کے ضعیف ماں یا باپ ہیں ،یا بیوی یا بچے ہیں ،جن کا نفقہ اس پر فرض ہے ،یہ چلا جاءے گا ،تو وہ بے وسیلہ رہ جاءیں گے ،تو اس کو دار الاسلام سے ھجرت کرنا حرام ہے ۔
حدیث شریف میں ہے:
کفی بالمرء اثما ان یضیع من یقوت
کسی آدمی کے گناہ گار ہونے کے لیے اتنا ہی کافی ہے ،کہ جن کا نفقہ اس کے ذمے ہے ،انھیں ضاءع کر دے ۔
(سنن ابوداءود ،مسند احمد )

سوم :
تیسرے وہ ہیں کہ نہ یھاں فراءض سے عاجز ہے ،نہ اسکی یھاں ضرورت ہے ،تو ایسے شخص کے لیے ھجرت مباح ہے ،یعنی اسے اختیار ہے ،رہے یا چلا جاءے ،جو اسکے لیے بھتر ہو ۔
تحریر :احسان اللہ کیانی
16-5-2017


ڈاکٹر اشرف آصف جلالی صاحب ایک مشھور سنی عالم دین

سنی بھائیوں یہ زندہ ھیں ،ابھی انکی قدر کر لو،ان سے جو سیکھنا ھے ،سیکھ لو ،پھر ان جیسا عالم ڈھونڈو گے،تو  نھیں ملے گا .
ان کے بیانات کو عام کرو ،انکی کتب کو عوام تک پہنچاو.
ڈاکٹر اشرف آصف جلالی صاحب
#AshrafJalali

Monday, May 15, 2017

مجھے میرے دوستوں سے بچاؤ :کالم مفتی منیب الرحمن صاحب

مجھے میرے دوستوں سے بچاؤ :کالم مفتی منیب الرحمن صاحب

بریلوی مسلک میں علامہ غلام رسول سعیدی صاحب کی نا قدری

بریلوی مسلک نے جیتے جی اس شخص کی قدر نھیں کی،ساری زندگی یہ محتاجوں کی طرح زندگی گزارتا رھا ،نہ اس کی اولاد تھی ،نہ رشتہ دار تھے،جو اس کا خیال رکھتے.
اللہ بھلا کرے ،مفتی منیب الرحمن صاحب کا ،جو انھیں اپنے ساتھ جامعہ نعیمیہ ،کراچی لے گئے .
اور ان کے ساتھ بھرپور تعاون کیا
پھر انھوں نے سات جلدوں میں شرح صحیح مسلم لکھی
بارہ جلدوں میں تفسیر تبیان القرآن لکھی
سولہ جلدوں میں نعمۃ الباری کے نام سے صحیح بخاری کی شرح لکھی
دعا ھے،اللہ علامہ غلام رسول سعیدی صاحب کی بخشش و مغفرت فرمائے
اور مفتی منیب صاحب کو اجر عظیم عطا فرمائے .

سڑک پر بنی مختلف لائنوں کا مطلب

کیا آپ نے کبھی غور کیا ہے کہ سڑکوں پر بنی ہوئی زرد اور سفید حاشیے یا لائنز کا کیا مطلب ہے؟ بہت کم لوگ ان کا مطلب جانتے ہیں۔

صرف سفر کے شوقین افراد سڑک پر بنے مختلف سائنز (نشانات) سے اچھی طرح آشنا ہوتے ہیں۔ انہیں علم ہوتا ہے کہ کس سائن کا کیا مطلب ہے۔

دراصل ہم میں سے اکثر افراد اپنے تعلیمی اداروں اور دفاتر میں جانے کے لیے تقریباً روز ہی سفر کرتے ہیں لیکن ہم میں سے بہت کم افراد سگنل کی لال، زرد، سبز بتی کے علاوہ کسی اور سائن پر غور کرتے ہوں گے۔

تو ہم آپ کو بتاتے ہیں کہ سڑک پر بنی ان زرد اور سفید دھاریوں کا کیا مطلب ہے۔

:تقسیم شدہ سفید لائن

کچھ سڑکوں پر سفید رنگ کی ٹوٹی ہوئی یا تقسیم شدہ لائنز بنی ہوتی ہیں۔ یہ عموماً ان سڑکوں پر ہوتی ہیں جو مرکزی شاہراہ سے ذیلی سڑک میں تبدیل ہو رہی ہوتی ہیں اور ان پر بہت کم ٹریفک ہوتی ہے۔

ان پر بنی سفید لائنز کا مطلب ہے کہ آپ احتیاط کے ساتھ اپنی لین تبدیل کرسکتے ہیں یعنی ایک قطار سے دوسری قطار میں جا سکتے ہیں۔ لیکن احتیاط کو ملحوظ خاطر رکھیں۔

:غیر تقسیم شدہ سفید لائن

غیر تقسیم شدہ سیدھی سفید لائنوں کا مطلب ہے کہ آپ اپنی لین کسی صورت تبدیل نہیں کر سکتے۔ یہ لائن شہر کی مرکزی اور مصروف شاہراہوں پر بنی ہوتی ہے تاکہ جلدی میں لوگ لین بدلنے سے باز رہیں اور سڑک پر کوئی حادثہ رونما نہ ہو۔

:تقسیم شدہ زرد لائن

ٹوٹی ہوئی زرد لائنوں کا مطلب ہے کہ آپ اپنی آگے والی گاڑی کو کراس کرسکتے ہیں لیکن ایسا کرنے سے پہلے آس پاس کے ٹریفک اور راہ گیروں کا خیال رکھیں۔

:غیر تقسیم شدہ ایک زرد لائن

کسی سڑک پر ایک سیدھی زرد لائن آپ کو غیر معمولی احتیاط کے ساتھ گاڑی کراس کرنے کی ہدایت دیتی ہے۔

:دو زرد لائنیں

سڑک پر دو سیدھی زرد لائنیں آپ کو اپنی لین میں سیدھا گاڑی چلانے کا انتباہ کرتی ہیں۔ اس لائن کا مطلب ہے کہ گاڑیوں کو کراس کرنے کی کوشش ہرگز مت کریں۔

:ایک سیدھی اور ایک تقسیم شدہ زرد لائن

ان دو لائنوں کا مطلب ہے کہ اگر آپ تقسیم شدہ لائن کے ساتھ چل رہے ہیں تو آپ اگلی گاڑی کو کراس کر سکتے ہیں۔

Translate in your Language

Follow by Email

LinkWithin

Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...

Join us on