Sunday, June 25, 2017

Learning videos Quran with tajveed

Ahsan ul Qawaid videos
From Lesson 1 to 29

Lessons on Ahsanul Qawaa'id: http://www.youtube.com/playlist?list=PLkhP3kAiQPbHAFAR0PDGC7xPS_CFsORfU

Click Here to Go

Screenshot of Videos

Saturday, June 24, 2017

نماز تھجد کیلئے سونا شرط ہے:

نماز تھجد کیلئے سونا شرط ہے:
حدیث شریف میں ہے:
إِنَّمَا التَّهَجُّدُ الصَّلَاةُ بَعْدَ رَقْدَةٍ
تھجد وہ نماز ہے ،جو سونے کےبعد ادا کی جائے.
(طبرانی کبیر:۸۶۷۰)

طالب دعا:
#احسان_اللہ کیانی

تصویر اور نماز:

تصویر اور نماز:
جس کپڑے پر جاندار کی تصویر ہو، اسے پہن کر نماز پڑھنا، مکروہ تحریمی ہے۔
نماز کے علاوہ بھی ایسا کپڑا پہننا، ناجائز ہے۔
(بھار شریعت)

یوہی مصلّی کے سر پر یعنی چھت ميں ہو یا معلّق ہو، یا محل سجود میں ہو، کہ اس پر سجدہ واقع ہو، تو نماز مکروہ تحریمی ہوگی

یوہی مصلّی کے آگے، یا  داہنے، یا بائیں تصویر کا ہونا، مکروہ تحریمی ہے

  اور پسِ پُشت ہونا بھی مکروہ ہے
(بھارشریعت)

اگر تصویر غیر جاندار کی ہے، جیسے پہاڑ دریا وغیرہا کی، تو اس میں کچھ حرج نہیں۔
(عامۂ کتب)

اگر تصویر ذلت کی جگہ ہو، مثلاً جوتیاں اُتارنے کی جگہ يا اور کسی جگہ فرش پر کہ لوگ اسے روندتے ہوں يا تکیے پر کہ زانو وغیرہ کے نیچے رکھا جاتا ہو، تو ایسی تصویر مکان میں ہونے سے کراہت نہیں
نہ اس سے نماز میں کراہت آئے، جب کہ سجدہ اس پر نہ ہو۔  (درمختاروغیرہ)

جس تکیہ پر تصویر ہو، اسے منصوب  کرنا پڑا ہوا نہ رکھنا، اعزاز تصویر میں داخل ہوگا اور اس طرح ہونا نماز کو بھی مکروہ کردے گا۔
(درمختار)

اگر ہاتھ میں یا اور کسی جگہ بدن پر تصویر ہو، مگر کپڑوں سے چھپی ہو
یا
انگوٹھی پر چھوٹی تصویر منقوش ہو، یا آگے، پیچھے، دہنے، بائیں، اوپر، نیچے کسی جگہ چھوٹی تصویر ہو یعنی اتنی کہ اس کو زمین پر رکھ کر کھڑے ہو کر دیکھیں تو اعضا کی تفصیل نہ دکھائی دے، یا پاؤں کے نیچے، یا بیٹھنے کی جگہ ہو، تو ان سب صورتوں میں نماز مکروہ نہیں۔
(درمختار)

تصویر سر بریدہ یا جس کا چہرہ مٹا دیا ہو، مثلاً کاغذ یا کپڑے یا دیوار پر ہو تو اس پر روشنائی پھیر دی ہو یا اس کے سر یا چہرے کو کھرچ ڈالا یا دھو ڈالا ہو، کراہت نہیں۔  (ردالمحتار)

مٹانے میں صرف چہرہ کا مٹانا کراہت سے بچنے کے ليے کافی ہے
(ردالمحتار)

تھیلی یا جیب میں تصویر چھپی ہوئی ہو، تو نماز میں کراہت نہیں۔
(درمختار)

تصویر والا کپڑا پہنے ہوئے ہے اور اس پر کوئی دوسرا کپڑا اور پہن لیا کہ تصویر چھپ گئی، تو اب نماز
مکروہ نہ ہوگی۔
(ردالمحتار)

یوں تو تصویر جب چھوٹی نہ ہو اور موضع اہانت میں نہ ہو، اس پر پردہ نہ ہو، تو ہر حالت میں اس کے سبب نماز مکروہ تحریمی ہوتی ہے
مگر
سب سے بڑھ کر کراہت اس صورت میں ہے، جب تصویر مصلّی کے آگے قبلہ کو ہو.
(ردالمحتار، عالمگيری)

طالب دعا:
#احسان_اللہ کیانی

سوشل میڈیا اور سمجھنے کی صلاحیت:

سوشل میڈیا اور سمجھنے کی صلاحیت:

سوشل میڈیا سائٹس جیسے فیس بک یا ٹوئٹر وغیرہ پر شیئرنگ کرنا صارف کی چیزوں کو سمجھنے کی صلاحیت پر اثرانداز ہوتا ہے۔

یہ دعویٰ چین میں ہونے والی ایک تحقیق میں سامنے آیا۔

پیکنگ یونیورسٹی اور کارنیل یونیورسٹی کی مشترکہ تحقیق کے مطابق سوشل میڈیا کی شیئر ہونے والی پوسٹ پر لوگ فوری طور پر ردعمل ظاہر کرنے کی کوشش کرتے ہیں جس کے نتیجے میں ان کے لیے موصول ہونے والی معلومات کو گہرائی میں جاکر سمجھنے کی صلاحیت متاثر ہوتی ہے

از
#احسان_اللہ کیانی

Friday, June 23, 2017

سعودی عرب اور باقی عربوں کی موجودہ صورت حال کے متعلق اوریا مقبول جان صاحب کا بہترین کالم ویل للعرب

سعودی عرب اور باقی عربوں کی موجودہ صورت حال کے متعلق
اوریا مقبول جان صاحب کا بہترین کالم
ویل للعرب

رات کو بلائیں اور خزانے نازل ہوتے ہیں

رات:
رات کو بلائیں اور خزانے نازل ہوتے ہیں
حدیث شریف میں ہے:
"أن النبي صلى الله عليه وسلم استيقظ ليلة فقال:‏ سبحان الله ماذا أنزل الليلة من الفتنة ،‏‏‏‏ ماذا أنزل من الخزائن"

نبی کریم علیہ السلام ایک رات جاگے تو فرمایا
سبحان اللہ!
آج رات کیا کیا بلائیں اتری ہیں
اور (رحمت اور عنایت کے) کیسے کیسے خزانے نازل ہوئے ہیں۔
(صحیح بخاری،کتاب التھجد)

طالب دعا:
#احسان_اللہ کیانی

تَھَجُّد کا سجدہ:

تَھَجُّد کا سجدہ:
تَھَجُّد کی نماز میں لمبے لمبے سجدہ کرنے چاہییں کیونکہ یہ نبی کریم علیہ السلام کی سنت مبارکہ ہے

بخاری شریف میں ہے
"يسجد السجدة من ذلك قدر ما يقرأ أحدكم خمسين آية قبل أن يرفع رأسه"
نبی کریم علیہ السلام کا سجدہ اتنا طویل ہوتا تھا  کہ تم ان کے سر اٹھانے سے پہلے پچاس آیات پڑھ سکتے ہو.
(صحیح بخاری ،کتاب التھجد)

طالب دعا:
#احسان_اللہ کیانی
23 جون 2017

رلانے والے چہرے اور دعا

یا اللہ
ہم اپنے تمام گناہوں پر نہایت شرمندہ ہیں،ہمیں معاف فرما

راستہ

راستہ:
روزانہ ہم  نماز میں دعا مانگتے ہیں
یا اللہ !

غَیۡرِ الۡمَغۡضُوۡبِ عَلَیۡہِمۡ
وَ لَا الضَّآلِّیۡنَ

ہمیں ان دو کے راستے سے بچا
لیکن
پھر ہم ان ہی کے راستے پر چل رہے ہیں.
آخر کیوں..؟؟

(مغضوب علیھم) سے مراد یھودی ہیں
جبکہ ( الضالین )سے مراد عیسائی ہیں

تفسیر الجلالین میں ہے
{غَيْر الْمَغْضُوب عَلَيْهِمْ} وَهُمْ الْيَهُود {وَلَا} وَغَيْر {الضَّالِّينَ} وَهُمْ النَّصَارَى

تحریر:
#احسان_اللہ کیانی

نماز میں یہ یہ مکروہ تحریمی ہے

نماز میں یہ یہ مکروہ تحریمی ہے

کپڑے یا داڑھی یا بدن کے ساتھ کھیلنا
  کپڑا سمیٹنا، مثلاً سجدہ میں جاتے وقت آگے یا پيچھے سے اٹھا لینا
اگرچہ گرد سے بچانے کے ليے کیا ہو
اور اگر بلا وجہ ہو تو اور زیادہ مکروہ ہے
کپڑا لٹکانا
مثلاً
سر یا مونڈھے پر اس طرح ڈالنا کہ دونوں کنارے لٹکتے ہوں، یہ سب مکروہ تحریمی ہيں۔
(عامۂ کتب)

رومال یا شال  یا چادر کے کنارے دونوں مونڈھوں سے لٹکتے ہوں
یہ ممنوع و مکروہ تحریمی ہے
اور ایک کنارہ دوسرے مونڈھے پر ڈال دیا اور دوسرا لٹک رہا ہے تو حرج نہیں
اور اگر ایک ہی مونڈھے پر ڈالا اس طرح کہ ایک کنارہ پیٹھ پر لٹک رہا ہے دوسرا پیٹ پر، جیسے عموماً اس زمانہ میں مونڈھوں پر رومال رکھنے کا طریقہ ہے
تو یہ بھی مکروہ ہے۔
(درمختار، ردالمحتار)

کوئی آستین آدھی کلائی سے زیادہ چڑھی ہوئی، یا دامن سميٹے نماز پڑھنا بھی مکروہ تحریمی ہے، خواہ پیشتر سے چڑھی ہو یا نماز میں چڑھائی۔
(درمختار)

شدت کا پاخانہ پیشاب معلوم ہوتے وقت، یا غلبہ ریاح کے وقت نماز پڑھنا، مکروہ تحریمی ہے.
(درمختار)

نماز شروع کرنے سے پیشتر اگر ان چیزوں کا غلبہ ہو تو وقت میں وسعت ہوتے ہوئے شروع ہی ممنوع و گناہ ہے
قضائے حاجت مقدم ہے
اگرچہ
جماعت جاتی رہنے کا اندیشہ ہو
اور
اگر دیکھتا ہے کہ قضائے حاجت اور وضو کے بعد وقت جاتا رہے گا تو وقت کی رعایت مقدم ہے
نماز پڑھ لے
اور
اگر اثنائے نماز  میں یہ حالت پیدا ہو جائے اور وقت میں گنجائش ہو تو توڑ دینا واجب
اور
اگر اسی طرح پڑھ لی، تو گناہ گار ہوا۔
(ردالمحتار)

جوڑا باندھے ہوئے نماز پڑھنا مکروہ تحریمی
اور
نماز میں جوڑا باندھا، تو فاسد ہوگئی۔
(بہار شریعت)

کنکرياں ہٹانا مکروہ تحریمی ہے
مگر
جس وقت کہ پورے طور پر بروجہ سُنت سجدہ ادا نہ ہوتا ہو، تو ایک بار کی اجازت ہے
اور بچنا بہتر ہے
اور اگر بغیر ہٹائے واجب ادا نہ ہوتا ہو تو ہٹانا واجب ہے اگرچہ ایک بار سے زیادہ کی حاجت پڑے۔
(درمختار، ردالمحتار)

اُنگلیاں چٹکانا

انگلیوں کی قینچی باندھنا یعنی ایک ہاتھ کی انگلیاں دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں ڈالنا، مکروہ تحریمی ہے۔  (درمختار وغیرہ)

نماز کے ليے جاتے وقت اور نماز کے انتظار میں بھی یہ دونوں چیزیں مکروہ ہیں
اور اگر نہ نماز میں ہے، نہ توابع نماز میں تو کراہت نہیں، جب کہ کسی حاجت کے ليے ہوں۔
(درمختار وغیرہ)

کمر پر ہاتھ رکھنا مکروہ تحریمی ہے
نماز کے علاوہ بھی کمر پر ہاتھ رکھنا نہ چاہیے۔
(درمختار)

اِدھر اُدھر مونھ پھیر کر دیکھنا مکروہ تحریمی ہے، کل چہرہ پھر گیا ہو یا بعض
اور
اگر مونھ نہ پھیرے، صرف کنکھیوں سے اِدھر اُدھر بِلا حاجت دیکھے، تو کراہت تنزیہی ہے اور نادراً کسی غرض صحیح سے ہو تو اصلاً حرج نہیں
نگاہ آسمان کی طرف اٹھانا بھی مکروہ تحریمی ہے۔
(بہار شریعت)

مرد کا سجدہ میں کلائیوں کو بچھانا

کسی شخص کے مونھ کے سامنے نماز پڑھنا، مکروہ تحریمی ہے۔
یوہیں دوسرے شخص کو مصلّی کی طرف مونھ کرنا بھی ناجائز و گناہ ہے
یعنی اگر مصلّی کی جانب سے ہو تو کراہت مصلّی پر ہے، ورنہ اس پر۔
(درمختار)

کپڑے میں اس طرح لپٹ جانا کہ ہاتھ بھی باہر نہ ہو مکروہ تحریمی ہے
علاوہ نماز کے بھی بے ضرورت اس طرح کپڑے میں لپٹنا نہ چاہیے
اور
خطرہ کی جگہ سخت ممنوع ہے۔
(درمختار)
اعتجار یعنی پگڑی اس طرح باندھنا کہ بیچ سر پر نہ ہو مکروہ تحریمی ہے
نماز کے علاوہ بھی اس طرح عمامہ باندھنا مکروہ ہے۔

یوہیں ناک اور مونھ کو چُھپانا،  اور بے ضرورت کھنکار نکالنا، یہ سب مکروہ تحریمی ہیں۔
(درمختار، عالمگیری)

نماز میں بالقصد جماہی لینا مکروہ تحریمی ہے
اور خود آئے تو حرج نہیں
مگر
روکنا مستحب ہے
اور
اگر روکے سے نہ رُکے تو ہونٹ کو دانتوں سے دبائے اور اس پر بھی نہ رُکے تو داہنا یا بایاں ہاتھ مونھ پر رکھ دے یا آستین سے مونھ چھپالے
قیام میں دہنے ہاتھ سے ڈھانکے اور دوسرے موقع پر بائیں سے۔
(مراقی الفلاح)

جس کپڑے پر جاندار کی تصویر ہو، اسے پہن کر نماز پڑھنا، مکروہ تحریمی ہے۔
نماز کے علاوہ بھی ایسا کپڑا پہننا، ناجائز ہے۔

یوہیں مصلّی  کے سر پر یعنی چھت ميں ہو یا معلّق ہو، یا محل سجود  میں ہو
کہ اس پر سجدہ واقع ہو، تو نماز مکروہ تحریمی ہوگی
یوہیں مصلّی کے آگے، یا داہنے، یا بائیں تصویر کا ہونا، مکروہ تحریمی ہے
اور
پسِ پُشت  ہونا بھی مکروہ ہے، اگرچہ ان تینوں صورتوں سے کم
اور
ان چاروں صورتوں میں کراہت اس وقت ہے کہ تصویر آگے پیچھے دہنے بائیں معلق ہو، یا نصب ہو یا دیوار وغیرہ میں منقوش ہو، اگر فرش میں ہے اور اس پر سجدہ نہیں، تو کراہت نہیں۔
اگر تصویر غیر جاندار کی ہے، جیسے پہاڑ دریا وغیرہا کی، تو اس میں کچھ حرج نہیں۔
(عامۂ کتب)

اگر تصویر ذلت کی جگہ ہو، مثلاً جوتیاں اُتارنے کی جگہ يا اور کسی جگہ فرش پر کہ لوگ اسے روندتے ہوں يا تکیے پر کہ زانو وغیرہ کے نیچے رکھا جاتا ہو، تو ایسی تصویر مکان میں ہونے سے کراہت نہیں، نہ اس سے نماز میں کراہت آئے، جب کہ سجدہ اس پر نہ ہو۔
(درمختاروغیرہ)

طالب دعا:
احسان اللہ کیانی

Wednesday, June 21, 2017

روزہ کے فضائل اور رمضان کے فضائل احادیث کی روشنی میں

2016 کی میری ایک تحریر:

پس منظر :

آج چاند رات ہے ،اور تاریخ چھ جولائی 2016ہے ،میں یہ رات عبادت میں گزارنا چارہا تھا ،(کیونکہ میں رمضان المبارک میں وہ کچھ نہیں کر سکا ،جو مجھے کرنا چاہیے تھا) میں کچھ دیر تک تو تسبیح پڑھتا رہا ،پھر خیال آیا کہ کیوں نہ  کسی کتاب سے روزے کے فضائل پڑھو،تاکہ احساس ہو کہ کیسا بہترین مہینہ ہم سے رخصت ہوگیا ہے ۔
اسی مقصد کے لیے میں نے " امام ابن حجرھیتمی مکی "(جن کی وفات995ھجری میں ہوئی )کی کتاب "اتحاف اھل الاسلام بخصوصیات الصیام " کا مطالعہ شروع کیا ۔
اس کے پہلے باب میں دو ٖفصلیں تھی ،پہلی فصل میں روزے کے فضائل اور دوسری فصل میں رمضان کے فضائل پر بہت سی احادیث تھی ۔
میں نے وہ احادیث پڑھی ،تو مجھے شدت سے احساس ہوا کہ بہت قیمتی مہینہ تھا ،جو ہم سے رخصت ہو گیا ہے ۔
میں آپ کے سامنےبھی  چند احادیث اس کتاب میں سے پیش کرتا ہوں ۔

کیسا عظیم مہینہ تھا ،جس میں اللہ تعالی روزانہ افطار کے وقت  بہت سے  لوگوں کی مغفرت فرماتا تھا
حدیث :
ان للہ تعالی عند کل فطر عتقاء من النار ،وذالک فی کل لیلۃ
بے شک اللہ تعالی ہر روز افطاری کےو قت لوگوں کو جھنم سے آزاد فرماتا ہے
(ابن ماجہ ،مسند احمد )

روزانہ افطار کے وقت روزہ دار کی دعا قبول ہوتی تھی 
حدیث :
ان للصائم عند فطرہ دعوۃ لاترد
روزہ دار کیلئے افطار کے وقت ایک ایسی دعا ہوتی ہے ،جو رد نہیں ہوتی ۔
(سنن ابن ماجہ ،مستدرک )

روزہ دار کے لیے افطار کے وقت ایک مقبول دعا ہوتی تھی
حدیث :
للصائم عند افطارہ دعوۃ مستجابۃ
روزہ دار کے لیے افطار کے وقت ایک مستجاب دعا ہوتی ہے
(اخرجہ ابودائود ،والطیالسی والبیھقی )
اس لیے افطار کے وقت ضرور دعا کرنی چاہیے

آپ سوچیے روزہ کیسی قیمتی عبادت ہے ،جس کے لیے اللہ تعالی نے جنت کا ایک دروازہ مختص کر دیا ہے
حدیث :
ان فی الجنۃ بابا ،یقال لہ الریان ،یدخل منہ الصائمون یوم القیامۃ
جنت میں ایک دروازہ ہے جسے ریان کہتے ہیں ،اس دروازے سے قیامت کے دن روزہ دار جنت میں داخل ہوں گے
(بخاری ،مسلم ،مسند احمد )

اس دروازے سے کوئی دوسری عبادت کرنے والا جنت میں داخل نہیں ہو سکے گا
حدیث :
لایدخل منہ احد غیرھم
اس دروازے سے کوئی دوسراشخص  داخل نہیں ہوگا
(بخاری ،مسلم ،مسند احمد )

جب آخری روزدار اس دروازے سے جنت میں داخل ہو جائے گا ،تو اس دروازے کو ہی بند کر دیا جائے گا

حدیث :
فاذادخل آخرھم اغلق
جب آخری روزہ دار جنت میں داخل ہو جائے گا تو باب الریان کو بند کر دیا جائے گا ۔
(سنن نسائی )

اس دروازے سے داخل ہونے والوں کو کیا ملے گا
حدیث :
من دخل فیہ شرب ومن شرب لم یظماابدا
جو اس دروازے سے داخل ہو گا ،وہ ایسا مشروب پیے گا ،جس سے اسے کبھی پیاس نہیں لگے گی
(سنن نسائی )

جنت کے ٹوٹل دروازے ہی آٹھ ہیں ،جس میں سے ایک دروازہ اللہ نے روزہ داروں کے لیے خاص کر دیا ہے
حدیث :
فی الجنۃ ثمانیۃ ابواب
جنت کے آٹھ دروازے ہیں
(صحیح بخاری )

قیامت کے دن روزے داروں کے لیے خصوصی اعلان ہوگا ۔
حدیث :
ینادی یوم القیامۃ :این الصائمون ؟ ھلموا الی باب الریان
قیامت کے دن اعلان ہو گا ،روزے دار کہاں ہیں ،؟ تم سب باب الریان کی طرف آجائو
(اخرجہ الھندی فی کنزالعمال وابن عساکر )

روزہ ایسی ڈھال ہے ،جو روزہ دار کوگناہوں اور جھنم سے بچاتی ہے ۔
حدیث :
الصیام جنۃ من النار ،کجنۃ احدکم من القتال ،مالم یخرقھا بکذب اوغیبۃ
روزہ جھنم سے بچانے والی ڈھال ہے ،جیسے جنگ میں ہتھیار سے بچنے کے لیے ڈھال ہوتی ہے ،
جب تک اس ڈھال کو جھوٹ یا غیبت کے ذریعے پھاڑ نہ دیا جائے
(سن نسائی ،سنن ابن ماجۃ ،مسند احمد )
یعنی وہ روزہ جھنم سے بچانے والا ہے ،جو قولا و فعلا معاصی سے محفوظ ہو ۔

رسول اللہ ﷺ نے قسم اٹھا کرروزے دار کی منہ کی بوکے متعلق ایک جملہ ارشادفرمایا
حدیث :
والذی نفس محمد بیدہ ،لخلوف فم الصائم اطیب عند اللہ من ریح المسک
اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں محمد ﷺ کی جان ہے ،روزہ دار کے منہ کی بو اللہ کے نزدیک کستوری کی خوشبو سے زیادہ اچھی ہے
(سنن نسائی )

روزےدار کے لیے اللہ تعالی خود فرماتا ہے ،اس نے میرےرضا کے لیے یہ کام کیے ہیں ۔
حدیث :
یقول اللہ عزوجل :انما ترک شھواتہ وطعامہ وشرابہ من اجلی
اللہ تعالی فرماتا ہے :روزہ دار نے صرف میرے لیے اپنی شھوات کو اور کھانے  پینے کو چھوڑ دیا ہے
(صحیح بخاری )

کیونکہ روزہ بڑی اخلاص پر مبنی عبادت ہے ،ا سی لیے اللہ تعالی نے فرمایا :
حدیث :
الصیام لی وانا اجزی بہ
روزہ میرے لیے ہے ،اور میں ہی اس کی جزادوں گا
(صحیح بخاری )

باقی اعمال کے ثواب کے لیے یہ قاعدہ ہے
حدیث :
کل حسنۃ بعشر امثالھا الی سبعمائۃ ضعف الاالصوم
روزے کے سوا ہر نیکی کا اجر دس سے لے کر سات سو گنا تک ہے
(بخاری ،مسلم ،سنن نسائی )
دوسری حدیث میں کچھ الفاظ کا اضافہ ہے ،جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالی بعض اعمال کا ثواب  سات سو گنا سے بھی زیادہ عطا فرماتے ہیں
حدیث :
الحسنۃ بعشر امثالھا الی سبعمائۃ ضعف الی ماشاء اللہ
نیکی  کا ثواب  دس گنا سے سات سو گنا تک ہوتا ہے پھر (بعض اوقات اس سے بھی اوپر )جہاں تک اللہ چاہے ،ثواب عطا فرما تا ہے
(بخاری ،نسائی ،ابن ماجہ )

روزہ دار کو حکم دیا گیا ہے ،جب تمہارا روزہ ہو تو یہ نہ کرو۔
حدیث :
واذا کان یوم صوم احدکم ،فلایرفث ولا یصخب
جب تم میں سے کسی کا روزہ ہو تو وہ گندی گفتگو نہ کرے اور نہ ہی شورشرابا کرے
(بخاری ،مسلم ،نسائی ،صحیح ابن حبان)
یہ دو باتیں خصوصیت کے ساتھ ذکر کی گئی ہیں ،مگر ہر گناہ اور بری بات سے روزے میں بچنا چاہیے

روزے دار کو حکم ہے جب کوئی جھگڑا کرنا چاہے ،تو اسے یہ کہہ کر الگ ہو جائے کہ،میں روزہ دار ہوں
حدیث :
وان امرءو قاتلہ او شاتمہ ،فلیقل انی صائم مرتین
جب کوئی روزہ دار سے لڑے یا اسے براکہے تو یہ دو مرتبہ یہ کہے میں روزہ دار ہوں ،میں روزہ دار ہوں
(صحیح بخاری ،مسند احمد )
اس طرح زبان سے اپنی کیفیت کو دہرانے کا فائدہ یہ ہوگا ،کہ آپ لڑائی جھگڑے اور گالی گلوچ سے بچ جائیں گے

روزے دار کے لیے دو خوشیاں ہیں
حدیث :
للصائم فرحتان ،یفرحھما :اذا افطر فرح بفطرہ ،واذا لقی ربہ فرح بصومہ
روزہ دار کے لیے دو خوشیاں ہیں ،وہ ان سے خوش ہو گا ،جب وہ افطار کر ے گا ،تو افطاری سے خوش ہو گا ،اور جب اپنے رب سے ملے گا ،تواپنے روزے (کی جزا)سے خوش ہوگا
(بخاری ،مسلم ،نسائی ،صحیح ابن حبان )
وضاحت :
افطار سے خوش اس لیے ہوگا ،کیونکہ انسان کا میلان طبعا اس طرف ہے
یا اس لیے وہ خوش ہوگا ،کہ اللہ تعالی نے اسے آج کا روزہ مکمل کرنے کی توفیق عنایت فرمائی ۔

روزہ وہ عبادت ہے جس میں دکھلاوا نہیں ہے
حدیث :
الصیام لا ریاء فیہ
روزے میں ریاکاری نہیں ہے
(ابن ماجہ ،شعب الایمان ،فتح الباری )

جس نے اللہ کے لیے خالص عبادت میں بھی ریاکاری کی ،تو اس نے شرک کیا
حدیث :
من صام یرائی فقد اشرک
جس دکھاوے کے لیے روزہ رکھا تو (گویا ) اس نے شرک کیا
(اخرجہ البیھقی )

روزہ نصف صبر ہے
حدیث :
الصیام نصف الصبر
روزہ نصف صبر ہے
(ترمذی ،ابن ماجہ )
وضاحت :
اور ایک حدیث میں ہے
الصبر نصف الایمان
صبر نصف ایمان ہے
(امام ہیثھمی فرماتے ہیں ،اس حدیث کی سند حسن ہے )
یعنی اس طرح  روزہ چوتھائی ایمان ہوا

ہر شی کی زکوۃ ہے
حدیث :
کل شی زکاۃ ،وزکوۃ الجسد الصوم
ہر شی کی زکوۃ ہے اور جسم کی زکوۃ روزہ ہے
(ابن ماجہ ،طبرانی کبیر )

جب روزہ دار کے سامنے کوئی کھاتا ہے ،تو روزہ دار کے لیے فرشتے دعا کر تے ہیں
حدیث :
الصائم اذا اکلت عندہ المفاطر ،صلت علیہ الملائکۃ
جب روزے دار کے سامنے کوئی ایسا  شخص کھاتا ہے ،جس کا اپنا روزہ نہیں ،تو روزہ دار (کے صبر کی وجہ سے ) فرشتے اس کے لیے دعا کرتے ہیں
(ترمذی ،ابن ماجہ)

روزے بھی قیامت کے دن شفاعت کرے گا
حدیث:
الصیام والقرآن یشفعان للعبد یوم القیامۃ
روزہ اور قرآن قیامت کے دن بندے کی شفاعت کریں گے
(مسند احمد ،مستدرک )

روزہ رکھو صحت مند ہو جائو گے
حدیث :
صومو ا تصحوا
روزہ رکھو ،صحت مند ہو جائو گے
(اخرجہ ابن سنی ،وابو نعیم فی الطب )

روزہ رکھو کیونکہ اس کی مثل کوئی عبادت نہیں
حدیث :
علیکم بالصوم لا مثیل لہ
تم روزہ رکھو ،کیونکہ اس کی مثل کوئی (عباد ت) نہیں
(سنن نسائی ،صحیح ابن حبان ،مسند احمد )

جس نے روزہ دار کا روزہ افطار کرایا ،اس کے لیے بھی روزہ دار جتنا ہی ثواب ہے
حدیث :
من فطر صائما ،کان لہ مثل اجرہ
جس نے کسی کا روزہ افطار کر ایا ،اس کے لیے بھی اتنا ہی اجر ہو گا
(مسند احمد ،ترمذی )

روزےداروں کے لیے اللہ تعالی کا خصوصی دسترخوان
حدیث :
ان للہ تعالی مائدۃ ،علیھا ما لا عین رات ،ولااذن سمعت ،ولاخطر علی قلب بشر ،لایقعد علیھا الا الصائمون
اللہ تعالی کا ایک دسترخوان ہے ،اس پر وہ کچھ ہے ،جو نہ کسی آنکھ نے دیکھا ،نہ کسی کان نے سنا ،اور نہ کسی دل پر ان چیزوں کا کبھی خیال آیا،اس دسترخوان پر روزے داروں کےسوا کوئی نہیں بیٹھے گا
(طبرانی اوسط )

الحمدللہ پہلی فصل مکمل ہوئی ،اب ہم رمضان کے مہینے کی فضیلت پر چند احادیث دوسری فصل سے آپ کے سامنے ذکر کرتے ہیں ۔

جب رمضان آتا ہے تو جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں
حدیث :
اذا جاء رمضان ،فتحت ابواب الجنۃ ،وغلقت ابواب النار
جب رمضان آتا ہے تو ،جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں ،اور جھنم کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں ۔
(بخاری ،مسلم )

اس مہینہ میں ایک روزہ اللہ کی رضا کے لیے رکھنے کا کس قدر اجر و ثواب ہے ۔
حدیث :
من صام رمضان ایمان و احتسابا غفرلہ ما تقدم من ذنبہ
جس نے رمضان کا روزہ ایمان اور اللہ کی رضا کے لیے رکھا ،تو اس کے پچھلے گناہ معاف کر دیے جائیں گے ۔
(بخاری ،مسلم ،ترمذی ،نسائی ،ابودائود ،ابن ماجہ ،مسند احمد )

اس مہینےکے پہلے دس دن ،دوسرے دس دن ،اور تیسرے دس دن کیسے ہیں ۔
حدیث :
اول شھر رمضان رحمۃ ،ووسطہ مغفرۃ ،وآخرہ عتق من النار
ماہ رمضان کا اول رحمت ،وسط مغفرت ،اور آخر جھنم سے آزادی ہے
(اخرجہ ابن ابی الدنیا والخطیب والدیلمی وابن عساکر )

خود جس مہینے کو حدیث میں برکت والا مہینہ فرمایا گیا ہو ،وہ کیسا بابرکت ہو گا ۔
حدیث :
شھر رمضان شھر مبارک
رمضان کا مہینہ برکت والا مہینہ ہے
(اخرجہ احمد فی المسند والبیھقی )

جیسے مہینے کو حدیث میں بہترین مہینہ فرمایا گیا ہو ،و ہ کیسا بہترین ہو گا ۔
حدیث :
نعم الشھر شھر رمضان
بہترین مہینہ رمضان کا مہینہ ہے
(اخرجہ الخطیب فی تاریخہ ،وابن النجار )

جس مہینے کی ہر رات میں یہ ندا دی جاتی ہو ۔
حدیث :
ھل من مستغفر یغفرلہ ؟
کیا کوئی بخشش طلب کرنے والا ہے جسے بخش دیا جائے ؟

ھل من تائب یتاب علیہ ؟
کیا کوئی توبہ کرنے والا ہے ،جس کی توبہ قبول کر لی جائے ؟

ھل من داع یستجاب لہ ؟
کیا کوئی دعا مانگنے والا ہے ،جس کی دعا کو قبول کر لیا جائے ۔

(اخرجہ الھندی فی کنز العمال ،والبیھقی )

جس ماہ کی تراویح اور روزوں سے ایسے گناہ دھل جاتے ہو ،جیسے آج اسے ماہ نے جننا ہو ۔
حدیث :
ان اللہ تعالی قد فرض صیام رمضان وسننت لکم قیامہ ،فمن صامہ و قامہ ایمانا واحتسابا خرج من ذنوبہ کیوم ولدتہ امہ
بے شک اللہ تعالی نے اس ماہ کے روزے فرض کیے ہیں ،اور میں نے اس کا قیام (یعنی تراویح ) کو سنت کیا ہے ،پس جس نے اس ماہ کے روزے رکھے اور تراویح پڑھی ،ایمان اور اللہ کی رضا کے لیے ،تو اس کے گناہ اس طرح معاف ہو جائیں گے ،جیسے آج اسے ما ں نے جننا ہو۔
(مسند احمد ،سنن نسائی ،سنن ترمذی )

اس مہینے میں ایک رات ہے ،جو ہزار مہینوں سے افضل ہے
حدیث :
وفیہ لیلۃ القدر خیر من الف شھر
اور رمضان میں لیلۃ القدر ہے جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے
(مسند احمد ،نسائی )

رمضان کو رمضان کیوں کہتے ہیں
حدیث :
انما سمی رمضان لانہ یرمض الذنوب
رمضان کو رمضان اس لیے کہتے ہیں کیونکہ یہ گناہوں کو جلا دیتا ہے
(الدر المنثور ،کنزالعمال ،اتحاف اھل الاسلام بخصوصیات الصیام )

رمضان کی عبادت معلق رہتی ہیں ،جب تک صدقہ فطر نہ ادا کیا جائے
حدیث :
شھر رمضان معلق بین السماء والارض ،لایرفع الی اللہ الا بزکاۃ الفطر
رمضان کا مہینہ (اپنی عبادتوں سمیت ) آسمان اور زمین کے درمیان معلق رہتا ہے ،یہ اللہ تعالی کی طرف اسی وقت پہنچتا ہے ،جب صدقہ فطر ادا کر دیا جائے
(اخرجہ ابن شاہین فی الترغیب ،والضیاء والھیثمی فی الاتحاف اھل الاسلام )

رمضان اللہ کا مہینہ ہے اور شعبان رسول اللہ کا مہینہ ہے
حدیث :
شھر رمضان شھر اللہ وشھر شعبان شھری
رمضان کا مہینہ اللہ کا مہینہ ہے اور شعبان کا مہینہ میرا مہینہ ہے
(اخرجہ ابن عساکر ،عن عائشۃ رضی اللہ عنھا )

شعبان پاک کرنے والا ہے اور رمضان مٹانے والا ہے
حدیث :
شھر شعبان المطھر ورمضان المکفر
شعبان کا مہینہ پاک کرنے والا ہے اور رمضان کا مہینہ مٹانے والا ہے
(ابن عساکر ،عن عائشۃ رضی اللہ عنھا )

یہ چند احادیث تھی ،جو ہم نے آپ کے سامنے ذکر کر دی ،اس کے علاوہ بہت سی احادیث اس کتاب میں موجود ہیں ۔
اس کتاب کے کل چار ابواب ہیں ،جن کے نام یہ ہیں
الباب الاول فی فضائل الصوم
الباب الثانی فی احکام الصیام
الباب الثالث فی رخص الفطر ،وفی القضاء ،وفی الفدیۃ وتوابع ذالک
الباب الرابع فی حکم صوم غیر رمضان استحبابا و کراھۃ وتحریما و غیرھا

مگر یاد رہے ،اس کتاب میں روزے کے  احکام فقہ شافعی کے مطابق بیان کیے گئے ہیں ۔ احناف کو چاہیے کہ وہ فقہ حنفی کے مطابق عمل کریں ۔
الحمدللہ یہ تحریر 7 جولائی 2016 کو رات دو بج کر اٹھاون منٹ پر مکمل ہوگئی ،آج عید کے دن کا بہت سا حصہ اسی تحریر کو لکھنے میں گزرا ،اللہ تعالی اسے مسلمانوں کے لیے نفع مند بنائے ۔
#احسان_اللہ کیانی

Translate in your Language

LinkWithin

Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...

Join us on