Wednesday, August 16, 2017

الفرق بين because of و because

الفرق بين because of و because

ربما قد يتساءل متعلم اللغة الانجليزية هل هناك فرق؟وكيف ذلك؟

حسنا،،من ناحية المعنى لافرق بينهما فكلاهما يستخدم للتعبير عن سبب ما بمعنى

"لأن ، بسبب".

ولكن الفرق بينهما كبير من ناحية الاستخدام والتركيب السليم في الجمل.

because اداة ربط
because of حرف جر

because لابد ان يتبعها جملة مكونه من ( فاعل و فعل)
it is followed by a subject and a verb

مثال :
I passed the exam because I studied hard

I<<< فاعل
studied <<<الفعل

مثال آخر،،
Because Ahmed was feeling ill,he didn't go to school

Ahmed الفاعل
was feeling الفعل
-------------------

because of فلابد أن يتبعها اسم أو Gerund أو ضمير
it is followed by a noun or a gerund or a pronoun

مثال:
Because of his illness,Ahmed didn't go to school

his illness (اسم)

نفس المثال بشكل آخر يتوافق مع تركيبة because of
Because of feeling ill,Ahmed didn't go to school

feeling ill (Gerund)= verb+ing

مثال :
I have changed because of you,him,her

you ضمير
----------------------------

مقارنة :

I'm happy because I met you
I'm happy because of you

Saturday, August 12, 2017

امت کے موجودہ حالات

میں امت کے موجودہ حالات کو دیکھتے ہوئے،سب سے پہلے  اپنے آپ سے مسلکی چھاپ کو اتارتا ہوں،میں واضح اعلان کرتا ہوں
میرا کوئی مسلک نہیں
میں بریلوی ہوں نہ دیوبندی نہ شیعہ نہ اہل حدیث
میں ایک عام مسلمان ہوں
میں خدا کی قسم اٹھا کر کہتا ہوں
فرقہ بندی نے اسلام اور مسلمانوں کو بہت نقصان پہنچایا ہے،اس فرقہ بندی نے بھائی کو بھائی کا دشمن بنا دیا ہے ،اب تو نفرت و عداوت کی دیواریں اس قدر بلند و مضبوط ہو چکی ہیں ،کہ انھیں ختم کرنا انتہائی دشوار ہو گیا ہے.
لیکن میں اسے ختم کرنے کی ہمیشہ کوششیں کرتا رہوں گا.
اب میں مسلمان بن کر ہی سوچوں گا،مسلمان بن کر ہی لکھوں گا.
آپ مجھے گمراہ سمجھیں یا کافر
مجھے کوئی پرواہ نہیں
کیونکہ
اللہ تعالی دلوں کے حال جانتا ہے.

از
#احسان_اللہ کیانی
12-اگست-2017

Friday, August 11, 2017

تفسیر ضیاء القرآن سے چند اقتباسات



موسی علیہ السلام کا توکل :
موسی علیہ السلام کے توکل علی اللہ کی شان ملاحظہ ہو ،انھیں بھی نظر آرہا ہے کہ سامنے بحرِ بیکراں ہے ،جس کی تند و تیز موجیںساحل سے آکر ٹکر ا رہی ہیں ۔
اور ادھر فرعون ہے ،جو غیض و غضب سے دیوانہ ہورہا ہے ،لیکن کیا مجال کہ ان کے بظاہر حوصلہ شکن حالات میں بھی کلیم علیہ السلام کی پیشانی پر شکن تک پڑا ہو یا دل میں گبھرائٹ کا گزر تک ہوا ہو۔
گبھرائے ہوئے ساتھیوں کو تسلی دیتے ہوئے فرماتے ہیں
ـ''ہمیں وہ ہرگز نہیں پکڑ سکتا ،میرے ساتھ میرا رب ہے''،میں اس کے حکم سے تمہیں لے کر نکلا ہوں وہ ضرور ہماری رہنمائی فرمائے گا ۔
کتنا پختہ ہے آپ کا یقین ،کتنا پختہ ہے آپ کا توکل اور کیا جلال ہے آپ کے اس جملے میں ۔
نبوت کی عظمت ایسے ہی نازک حالات میں پوری آب وتاب سے جلوہ نماہوتی ہے ۔
(ضیاء القرآن ،جلد سوم ،ص ٣٩٥)

نبی کریم علیہ السلام کی تبلیغ :
نبی رؤف رحیم صلی اللہ علیہ وسلم شب و روز تبلیغ اسلام میں مصروف ہیں ،دن بھر اپنی قوم کو سمجھاتے ہیں ،ان کے شکوک کا ازالہ اور انکے اعتراضات کے جواب دیتے ہیں ۔
قرآن کریم کی آیات پڑھ پڑھ کر انھیں سناتے ہیں ،اور جب رات کی تاریکی پھیل جاتی ہے اور ہر طرف سناٹا چھا جاتا ہے ۔
تو یہ رسول مکرم بارگاہ الہی میں حاضر ہوتے ہیں ،کبھی دست بستہ کھڑے ہو کر اور کبھی سر بسجود ہو کر بڑے سوز و گداز سے اپنی قوم کی ہدایت کیلئے التجائیں کرتے ہیں ۔
جب زبان مصروف دعا ہوتی ہے تو آنکھوں سے آنسو ٹپ ٹپ گرنے لگتے ہیں ،یوں معلوم ہوتا ہے کہ آمین آمین کہہ رہے ہیں ۔
یوں دن بسر ہو رہے ہیں ،یوں راتیں گزررہی ہیں ۔
لیکن کفار کی ہٹ دھرمی اور بہتان تراشی میں اضافہ ہی ہوتا چلا جارہا ہے ،جس سے طبعیت اداس رہتی ہے اور خاطر عاطر پر غم کے بادل چھا ئے رہتے ہیں ۔
اللہ تعالی تسلی دیتے ہوئے فرماتے ہیں :
''اے مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم !
تم یوں رنجیدہ خاطر اور ملول کیوں رہتے ہو ،آپ نے اپنا فرض ادا کردیا ،یہ انکی عقل کا قصور ہے کہ وہ حق کو قبول نہیںکر رہی ۔
تمہارا شفیق دل تو یہی چاہتا ہے کہ ان میں سے کوئی بھی گمراہ نہ رہے ،سب ہدایت یافتہ ہو جائیں ۔
اور ایسا کرنا ہمارے لیے کوئی مشکل نہیں ،ہم انہیں ایسی نشانی دکھانے پر قادر ہیں ،جس کو دیکھ کر ان کی گردنیں جھک جائیں اور اسلام قبول کرنے کے سوا ان کیلئے کوئی چارہ کار نہ رہے ،لیکن جبر و اکراہ سے انھیں راہ حق پر گامزن کرنا ہماری حکمت کے بھی خلاف ہے اور شرفِ انسانی بھی اس کا تقاضہ نہیں کرتا ۔
(تفسیر ضیاء القرآن ،جلد سوم ،ص ٣٨١)

گھر :
گھر ہی وہ مدرسہ ہے ،جہاں اخلاق و کردار کی جو قدریں اچھی یا بری ،بلند و پست لوح ِدل پر لکھ دی جاتی ہیں ،ان کے نقوش کبھی مدھم نہیں پڑتے ۔
(تفسیر ضیاء القرآن ،جلد اول ،ص ٣١١)

حکمت الہی :
قدرت نے ان کے دل میں ایسی بات ڈال دی کہ خود فرعون اپنے وزراء و امراء کو ہمراہ لے کر اپنی ساری فوجوں کے ساتھ نکل کھڑا ہوا ،اس میں حکمت یہ تھی کہ جب عذاب الہی آئے ،توسب نابکار ایک جگہ اکٹھے ہوں اور ایک ضرب سے ہی ان کا کام تمام کر دیا جائے۔
(تفسیر ضیاء القرآن ،جلد سوم ،ص ٣٩٤)

از
احسان اللہ کیانی 
11۔8۔2017

Wednesday, August 9, 2017

انگلش کے آسان جملے

آسان جملے:
i am driver
میں ڈرائیور ہوں
i was driver
میں ڈرائیور تھا
i have a driver
میرا ایک ڈرائیور ہے
i had a driver
میرا ایک ڈرائیور تھا
i am with driver
میں ڈرائیور کے ساتھ ہوں
i was with driver
میں ڈرائیور کے ساتھ تھا
--------

توجہ طلب:
am (ہوں)

was (تھا)

with (ساتھ)

از
#احسان_اللہ کیانی

Monday, August 7, 2017

Translate in your Language

LinkWithin

Related Posts Plugin for WordPress, Blogger...

Join us on